Translater

08 فروری 2014

چوتھی مرتبہ تیسرا مورچہ، مقصداقتدار میں آنا اور مودی کو روکنا!

غیر کانگریس ،غیر بھاجپا پارٹیوں نے ایک مرتبہ پھر ایک مشترکہ محاذ بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں یا یوں کہیں ایک مرتبہ پھر تیسرا مورچہ وجود میں آنے لگا ہے اور اس میں شروعاتی طور پر 11 پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی سے چلنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں چاروں لیفٹ پارٹیوں کے علاوہ سماجوادی پارٹی، جنتا دل (یو)، جنتا دل (ایس)، انا ڈی ایم کے ، بیجو جنتادل ،آسام گن پریشد، جھارکھنڈ وکاس مورچہ وغیرہ شامل ہیں۔ جلد بازی میں درجنوں بل پاس کروانے کی سرکار کی منشا کو بھی یہ پارٹیاں ناکام کرنے کی پوری کوشش کریں گی۔ حال تک بھاجپا لیڈر شپ والے این ڈی اے کے کنوینر رہے شرد یادو اب نئے مورچے میں سرگرم کردار میں آگئے ہیں۔ بدھوار کو ان پارٹیوں کی میٹنگ کے بعد انہوں نے دعوی کیا کہ یہ سانجھیداری محض پارلیمانی عمل تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جلد ہی سبھی پارٹیوں کا مشترکہ پروگرام بھی سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا ہمارا پروگرام یہ یقینی کرنا ہے کہ لوگ کیسے اپنا گزر بسر کرسکیں۔ دیش کے سیکولرازم کے ڈھانچے کو کیسے محفوظ رکھا جا سکے اور کرپشن پر کیسے قابو پایا جائے۔ 15 ویں لوک سبھا کا یہ آخری اجلاس ہے جس کے ختم ہونے میں صرف دو ہفتے بچے ہیں۔ اگر موجودہ لوک سبھا میں ان 11 پارٹیوں کی طاقت کی بات کریں تو ان کے پاس 92 سیٹیں ہیں یہ مورچہ کیوں بنا ہے؟ جواب ہے 1996ء میں لوک سبھا چناؤ میں کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی تھی بھاجپا (161+26) 13دن کی ہی سرکار بنا سکی تھی۔کانگریس (140) نے کوشش نہیں کی ۔ ایسے میں جنتادل ،سپا، ٹی ڈی پی کے نیشنل فرنٹ (79) اور لیفٹ فرنٹ (52) نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر کانگریس کی حمایت سے سرکار بنائی۔ اس بار بھی ان پارٹیوں کو بھی ایسی امید ہے ان کا تجزیہ ہے کہ 2014ء لوک سبھا چناؤ میں بھی نہ تو بھاجپا کو نہ ہی کانگریس کو واضح اکثریت ملنے جارہی ہے۔ معلق پارلیمنٹ میں ان کا کردار اہم ہوجائے گا۔ کانگریس بھی یہ ہی چاہتی ہے بھاجپا کو دور رکھنا سبھی کا مقصد ایک ہی ظاہر ہوتا ہے۔ کانگریس تو جانتی ہے موجودہ ماحول میں اسے 100 سے کم سیٹیں ملنے کے امکان ہیں جبکہ بھاجپا200+ تک محدود ہوسکتی ہے۔ یہ کانگریس کااندازہ ہے۔ تیسرا مورچہ پہلے بھی بنا اور بری طرح فیل ہوا۔ 1989-90 میں نیشنل فرنٹ بنا اور وی ۔پی۔ سنگھ وزیر اعظم بنے۔ یہ سرکار سال بھر چلی ۔1996-97یونائیٹڈ فرنٹ بنا جس کے پاس192 سیٹیں تھیں اور ایچ ڈی دیوگوڑا پی ایم بنے یہ سرکار بھی سال بھر چل سکی۔1997-98 میں یونائیٹڈ فرنٹ 178 سیٹوں کے ساتھ اقتدار میں آگیا اور گجرال وزیر اعظم بنے اور یہ بھی سال بھر چلی۔ تاریخ گواہ ہے جب جب تیسرے مورچے کی سرکار بنی دیش کئی سال پیچھے چلا گیا۔ یہ صوبیدار اکھٹے تو ہوجاتے ہیں لیکن ان کا ایجنڈا قومی تو ہوتا ہے لیکن اس میں قومی ویژن نہیں ہوتا۔ دیو گوڑا کبھی بھی کرناٹک سے باہر نہیں نکلے۔ وی پی سنگھ صرف منڈل کمیشن لاگو کرنے کے لئے وزیر اعظم بنے۔ پھر ان لیڈروں میں ایک سے زیادہ پی ایم امیدوار ہیں۔ پی ایم کون بنے گا یہ طے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر کم از کم مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر کوئی متحدہ محاذ بنتا ہے تو وہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس میں پی ایم کون ہوگا یہ پہلے سے طے کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

پھر بوتل سے نکلا ’کیش فا رووٹ ‘ کا جن!

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنی کرپشن کے خلاف لڑائی میں ایک نیا باب جوڑ دیا ہے۔ سیاست کے سب سے بڑے گھوٹالوں میں شمار ’نوٹ کے بدلے ووٹ‘ معاملے کی نئے سرے سے جانچ کرانے اور کیس کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔جمعرات کو دہلی کے وزیر تعلیم منیش سسودیانے اس کی جانکاری دی۔دہلی سرکار اب اس معاملے کی اپیل دہلی ہائی کورٹ میں کرنے والی ہے۔ سرکاری وکیل کی مانیں تو اس معاملے میں موجود آڈیو ویڈیو ثبوت ہی کافی ہیں۔ سرکاری وکیل دیال کرشنن نے کہا اس کے باوجود ثبوت درکنار کیا گیا۔ نومبر2013ء میں دہلی کی نچلی عدالت نے امرسنگھ سمیت پانچ دیگر ملزمان کو چھوڑدیا تھا۔ دہلی سرکار کا ایسا خیال ہے کہ جو ثبوت ان کے ہاتھ لگے ہیں اس سے کئی بڑے لوگ شکنجے میں پھنس سکتے ہیں۔ اس لئے قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہا کہ2008ء میں پارلیمنٹ کے اندر نیوکلیائی معاہدے پر یوپی اے سرکار کو بچانے کے لئے بھاجپا ممبران کو رشوت دینے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ 22 جولائی 2008ء کو بھاجپا کے تین ایم پی اشوک ارگل،چھگن سنگھ کلستے، مہاویر سنگھ بھگوڑا، لوک سبھا میں ایک کرور روپے کے نوٹ کے بنڈل لہرائے تھے اور اس پورے منظر کو دنیا نے دیکھا تھا۔ ٹی وی پر یہ سیدھا دیکھا گیا تھا۔ بھاجپا نیتاؤں کا کہنا تھا کہ یہ رقم انہیں ایم پی امر سنگھ کی طرف سے منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار کو بچانے کے لئے پیشگی کے طور پر دی گئی تھی۔ نیوکلیائی اشو پر لیفٹ پارٹیوں نے یوپی اے سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی۔ اس دوران سرکار سنکٹ میں آگئی تھی۔ واقعے کے بعد اس وقت کی کانگریسی دہلی سرکار نے معاملے کو چنوتی دینا مناسب نہیں سمجھا۔ سینئر وزیر منیش سسودیا نے کہا کہ اس بات کو دھیان میں رکھ کر ہی ایک نچلی عدالت کے ذریعے ’نوٹ کے بدلے ووٹ‘ معاملے میں سماجوادی پارٹی کے سابق لیڈر امر سنگھ ،بھاجپا نیتا لال کرشن اڈوانی اور ان کے سابق معاون سدھیندر کلکرنی اسی پارٹی کے تین لیڈروں سمیت 7 لوگوں کو بری کرنے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سسودیا نے کہا ہم نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایل جی سے اپیل داخل کرنے کی سفارش کی ہے۔ ہمارے قانونی افسروں اور مخصوص سرکاری وکیل کی رائے ہے کہ معاملے میں اہم ثبوت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کے کیا آپ کی سرکار نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف کیوں اپیل کرنا چاہتی ہے۔ منتری نے کہا گھوٹالہ جمہوریت پر دھبہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں قصوروار سزا سے بچ گئے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں دہلی سرکار کچھ نئے ثبوت بھی پیش کرنے جارہی ہے۔ سرکار کے پاس پورے لین دین کی آڈیو ویڈیو ٹیپ موجود ہے۔ فورنسک لائسنس لیب نے بھی ان ریکارڈنگ کو صحیح بتادیا ہے۔ ملزمان کی بات چیت کی تصدیق کے لئے ان کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ فیروز شاہ روڈ پر سنجیو سکسینہ کے امر سنگھ کی جیپسی میں آنے کے ثبوت اور ایک نیوز چینل کے لوگوں کی موجودگی سکسینہ کی جانب سے ممبران پارلیمنٹ کو ایک کروڑ روپیہ دیا جانا شامل ہے۔ معاملے میں سکسینہ ۔امرسنگھ کے سلسلے میں ایک کالج پرنسپل سمیت دو کے بیان بھی دستیاب ہیں۔
(انل نریندر)

07 فروری 2014

کیجریوال سرکار کب تک چلے گی؟

ہندی کی ایک فلم آئی تھی’’ یہ آگ کب بجھے گی‘‘ اسی طرز پر دہلی کی جنتا سوال پوچھ رہی ہے کہ کیجریوال سرکار کی عام آدمی پارٹی کی سرکار کب گرے گی؟ یہ اقلیتی ’’آپ‘‘ پارٹی کی حکومت تب ہی گرے گی جب کچھ ممبر اسمبلی حکومت سے حمایت واپس لے لیں گے۔ یہ دو ہی صورت میں ہوسکتا ہے پہلا اگر کانگریس کے پانچ ایم ایل اے حمایت واپس لے لیںیا پھر ’آپ‘ پارٹی کے 28 میں سے ایک تہائی ممبران حمایت واپس لیں۔ آزاد ممبر اسمبلی بھی اپنی حمایت واپس لے تو بھی سرکار خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پچھلے دنوں عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے ونود کمار بننی نے حکومت گرانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ جنتا دل (یو) کے ایم ایل اے شعیب اقبال، آزاد ممبر اسمبلی رامویر شوقین نے پہلے تو بننی کا ساتھ دیا پھر کیجریوال سے بات چیت کرنے کے بعد اعلان کردیا کے ہماری حمایت جاری رہے گی۔ رہی بات کانگریس کی تو کیجریوال کا سارا دارومدار اس کی حمایت پر ٹکا ہوا ہے۔ آئے دن کانگریسی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ہم اپنی حمایت واپس لے لیں گے لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ فی الحال کانگریس حمایت واپس لے گی۔ کانگریس یوں ہی کیجریوال پر تلوار لٹکائے رکھے گی۔ دہلی پردیش کانگریس پردھان اروندر سنگھ لولی اور کانگریس اسمبلی پارٹی کے لیڈر ہارون یوسف نے اعلان کیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار کو ہم آدھے گھنٹے میں جب چاہے گرا سکتے ہیں لیکن عوام کے مفاد کو دیکھتے ہوئے پارٹی چاہتی ہے کیجریوال سرکار چلے اور لوگوں کے بھلے کے لئے کام کرے۔ کانگریس مسلسل یہ بھی کہہ رہی ہے کہ وہ سرکار کے غیر قانونی کاموں میں اس کا ساتھ نہیں دے گی۔ اپنے اس نظریئے کو آگے بڑھاتے ہوئے پارٹی نے اسمبلی میں سرکار کے جن لوکپال بل کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف ’آپ‘ پارٹی سرکار کا کہنا ہے کہ اسے سرکار گرانے کی چنتا نہیں ہے وہ اپنے چناؤ منشور کو لاگوکرنے کی کوشش میں لگی رہے گی۔کانگریس ہر حال میں دوبارہ چناؤ کو لوک سبھا چناؤ تک ٹال رہی ہے۔ اسے خوف ہے کہ اگر دوبارہ چناؤ ہوئے تو جو سیٹیں اقلیتی ووٹوں کے بوتے پر کانگریس جیتی تھی وہ بھی ہار جائے گی لیکن بھاجپا نیتاؤں کا کہنا ہے یہ دلیل ٹھوس اس لئے نہیں لگ رہی ہے کہ کانگریس جیسی پارٹی دوچار سیٹوں کے دباؤ میں فیصلے نہیں بدلے گی اس لئے یہ بات زیادہ دمدار لگتی ہے کہ بغیر شرط حمایت دیتے وقت بھی کانگریس لیڈر شپ کے سامنے کیجریوال اینڈ کمپنی کے ساتھ بھاجپا کے وزیر اعظم امیدوار نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے سے روکنے کی کوشش بھی ہے۔ یہ الگ معاملہ ہے اس چکر میں کیجریوال اینڈ کمپنی کانگریس کو اتنا نقصان پہنچا دے کے راہل کے رہے سہے چانس بھی ختم ہوجائیں اور اگلے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے۔ جس رفتار سے کیجریوال پرانی فائلیں کھول رہے ہیں اس میں تو کانگریس ہی پھنسے گی۔ اس لئے نہیں لگتا کہ منفی حالات کے باوجود کانگریس مستقبل قریب میں اس سرکار سے اپنی حمایت واپس لے گی۔ لوک سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے یا پھر چناؤ نتائج کے بعد شاید کانگریس حمایت واپس لے لے ۔ بھاجپا کو بھی سرکار گرانے کی جلدی نہیں ہے کیونکہ وہ سرکار تبھی بنا سکتی ہے جب ’آپ‘ پارٹی میں بغاوت ہو اور ایک تہائی ممبران بھاجپا کی حمایت کریں جس کا امکان فی الحال نظر نہیں آرہا ہے۔ کیجریوال سرکار ابھی چلے گی۔
(انل نریندر)

پچھلے10برسوں میں یوپی اے سرکار کو مہنگائی کی فکر نہیں ہوئی!

چناؤ سے عین پہلے مہنگائی روکنے کے اقدامات کرتی دکھائی پڑ رہی یو پی اے سرکار اپنے 10 سال کے عہد میں اسے روکنے کی مکینزم کی بنیاد نہیں رکھ سکی۔ مسلسل برسوں تک عوام کو مہنگائی کے کوڑے لگانے والی کانگریس یوپی اے سرکار کو اب جب سر پر چناؤ ہیں دام گھٹانے کے بارے میں خیال آیا ہے۔ اس نے سی این جی و پی این جی کے دام گھٹانے کا اعلان کیا ہے۔ ابھی حال ہی میں رسوئی گیس کے رعایتی سلنڈروں کی تعداد 9 سے بڑھا کر12 کردی گئی تھی اب سی این جی اور پی این جی کے داموں میں راحت دیکر خاص کر بڑے شہروں کے صارفین کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیر کو وزیر پیٹرول و قدرتی گیس ویرپا موئلی نے جب سی این جی کے دام میں 30 فیصدی اور پی این جی کے دام میں20 فیصدی کمی کا اعلان کیا تو ان کے چہرے پر چناوی رنگ کی لکیریں صاف دکھائی پڑ رہی تھیں۔ اس کا مقصد عام آدمی کو راحت پہنچانا ہے لیکن یہ ہی فکر پچھلے دس سالوں میں اس سرکار کو کیوں نہیں ہوئی؟ سرکاری مشینری کی بے حالی کا عالم یہ ہے کہ غذائی پروڈکٹس کی مہنگائی انتہا پر پہنچ گئی ہے بازار کا حساب کتاب اتنا بگڑ گیا نہ تو مانگ بڑھنے کا فائدہ کسانوں کو مل رہا ہے اور نہ ہی ریکارڈ اناج کی پیداوار کا فائدہ عوام کو مل رہا ہے۔ مہنگائی روکنے کی ناکام کوششوں کی تنقید سرکار کی ایک رپورٹ میں کی گئی ہے۔ پلاننگ کمیشن کی سپلائی سیریز میں سرمایہ کاری موضوع پر ایک حالیہ رپورٹ یہ تسلیم کرتی ہے کہ سپلائی سیریز کے بنیادی ڈھانچے میں عدم توازن مہنگائی بڑھنے کی اہم وجہ رہا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ چناؤ سے ٹھیک پہلے آئی اس رپورٹ میں پلاننگ کمیشن کی کمیٹی نے اب اس ڈھانچے کو درست کرنے سے متعلق سفارشیں کی ہیں۔ پلاننگ کمیشن کے ممبر سومتر چودھری کی سربراہی والی کمیٹی نے مانا ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کے تھوک و خوردہ داموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بڑی منڈیوں میں پھلوں اور سبزیوں کے دام خوردہ بازار تک پہنچے پہنچے24سے40 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ پچھلے دو تین سال میں اس بات کی پرزور مانگ ہوتی رہی ہے کہ بڑی منڈیوں میں غذائی اجناس اور پھل سبزیوں کے کاروبار کو آسان بنایا جائے تاکہ مقابلہ جاتی ٹرینڈ لاکر ان کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جاسکے۔ مگر یوپی اے کی اہم اتحادی کانگریس کو اس کی یاد چناؤ سے ٹھیک پہلے آئی وہ بھی جب کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی نے سبھی کانگریس حکمراں ریاستوں میں منڈی میں ترمیم کرنے کو کہا۔ یوپی اے حکومت کے عہد میں غذائی اجناس کی مہنگائی شرح ریکارڈ 18فیصدی کو پار کر گئی۔ رہا سوال سی این جی اور پی این جی کے داموں میں کمی کا ۔ اس کا اثر صرف میٹرو شہروں میں نظر آئے گا۔ باقی عام آدمی کو راحت کیسے ملے گی اس کا جواب اس حکومت کے پاس نہیں ہے۔ دنوں دن استعمال کی چیزوں کے دام یقینی طور سے کم ہونے چاہئیں۔مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے دال 100روپے کلو بکی، کبھی پیاز کے دام100روپے ہوگئے، پورے دیش میں ہائے توبہ مچی رہی۔ جب جنتا کی طرف سے یا میڈیا کی طرف سے سوال اٹھائے گئے تو بڑے الٹے سیدھے جواب دئے گئے۔ وزیر اعظم نے کہا پیسے پیڑ پر نہیں اگتے، مفت کی رسوئی گیس پر سبسڈی کم کرنا معیشت کو آگے بڑھانے کیلئے ضروری ہے۔ وزیر خوراک کا بیان تھا وہ کوئی جیوتشی نہیں جو مہنگائی کم کرنے کی تاریخ بتا سکیں۔ اب جب چناؤ سر پر ہیں بنا کہے دام گھٹانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔پچھلے 10 سالوں میں عام آدمی کی پارٹی کو کوئی فکر نہیں ہوئی۔
(انل نریندر)

06 فروری 2014

راہل گاندھی بنام نریندر مودی بنام کیجریوال!

چناؤ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آتی جارہی ہے سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقعہ نہیں گنوا رہے ہیں۔ اکثر کم بولنے والی کانگریس صدر سونیا گاندھی چناؤ میں ہر بار کمپین میں کوئی نہ کوئی تلخ بات نریندر مودی کے لئے ایسی بول دیتی ہیں جس کا ردعمل ہوتا ہے۔ اب تازہ واقعے میں سونیا گاندھی نے گلبرگ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا بھاجپا اور وزیر اعظم کے امیدوار نریندر مودی اقتدار کی بھوک کے لئے تشدد کو بھڑکانے اور زہر کی کھیتی جیسی تباہ کن سیاست میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا بھاجپا کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے اقتدار کے لئے لالچ۔ بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے کانگریس پردھان کو زبردست جواب دینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ میرٹھ میں ایک ریلی کو خطاب میں انہوں نے سونیا گاندھی کے زہر کی کھیتی والے بیان پر زوردار حملہ کیا۔ ان کا کہنا ہے یہ کانگریس ہی ہے جو مختلف فرقوں کو لڑوا کر زہر کے بیج بونے اور اس کی فصل کاٹنے کا کام کرتی آرہی ہے۔ میرٹھ میں ایتوار کو اپنی ریلی میں کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا میں سونیا گاندھی نے پوچھتا ہوں کے کسان خودکشی کیوں کررہے ہیں؟ زہر کی کھیتی کون کررہاہے؟ انہوں نے آگے کہا کہ راہل نے ایک بار پھر کانگریس کے جے پور اجلاس میں کہا تھا کہ’ماں بھی کہتی ہے کہ اقتدار ایک زہر ہے‘ لیکن اقتدار اگر زہر ہے تو 60 سال سے کانگریس اس زہر کو چکھ رہی ہے۔ کانگریس کے پیٹ میں زہر بھرا ہوا ہے۔ 
دراصل کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کے پاس اب کچھ کھونے کو نہیں ہے اس لئے وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔نریندر مودی کی رہنمائی والی بھاجپا لہر سے خوفزدہ سونیا۔ راہل گاندھی اپنی سیٹیں بچانے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق کانگریس نے اسکیم بنائی ہے کہ چاہے کچھ بھی کرنا پڑے 2014ء کے عام چناؤ میں کانگریس کی سیٹیں 100 سے نیچے ہی آنے والی ہیں۔ اور یہ95 سے بھی کم ہوسکتی ہیں۔ اگر کوئی دوسری پارٹی 2014ء لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے تب تو 10 سال میں کانگریس کی جڑ سوکھ کر ایک چوتھائی رہ جاتی لیکن دیش میں کانگریس اور بھاجپا کے بعد کوئی پارٹی فی الحال ایسی نہیں جس کی بنیاد پورے دیش میں ہو ۔ جو بھی علاقائی پارٹیاں ہیں ان کی بنیاد ایک سے دو ریاستوں تک محدود ہے۔ اسی کا فائدہ کانگریس کو مل رہا ہے اگر کئی ریاستوں میں موثر ڈھنگ سے علاقائی پارٹیاں آپس میں اتحاد کرکے چناؤ لڑتی ہیں تو وہ بعد میں یا تو کانگریس کی گود میں بیٹھ جاتی ہیں یا ان سے حمایت لے کر سرکار بنا لیتی ہیں جس کے چلتے کانگریس کو بھاجپا کے علاوہ کوئی تیسری بڑی چنوتی نہیں مل پارہی ہے۔ اس کی وجہ سے کانگریس کی سرکار جتنی بھی کرپشن میں ڈوبی رہے ایک بار ہارنے کے بعد دوسرے یا تیسرے چناؤ میں پھر سرکار بنا لیتی ہے۔ نئی سیاسی پارٹی عام آدمی پارٹی بھی قومی سطح پر چناؤ میدان میں کودنے کو تیار ہے دہلی کی کھینچ تان میں سیدھے بی جے پی اور اس کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کو گھسیٹ کر’ آپ‘ نے پیغام دے دیا ہے کے یہ مودی بنام ’آپ‘ پارٹی کی جنگ ہے۔ 
کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو’آپ‘ پہلے سے ہی نشانے پر لیتی رہی ہے لیکن پارٹی کی قومی کونسل کے بعد ’آپ‘ نے مودی پر سیدھے طور پر حملے شروع کردئے ہیں۔ عام چناؤ میں ’آپ‘ مودی کی گوڈ گورننس کے سامنے اپنی دہلی سرکار کے کام کاج کو رکھ کر اسے مودی بنام کیجریوال کے طور پر پیش کرسکتی ہے۔ اروند کیجریوال کی کرپٹ لیڈروں کی پہلی فہرست میں مودی کا نام نہیں تھا لیکن اگلے ہی دن ’آپ‘ مودی کو اس لسٹ میں شامل کر انہیں نفرت کی سیاست پھیلانے والا قراردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیدھے مودی پر حملہ کر ’آپ‘ لوک سبھا چناؤ کو اشو اس کے علاوہ مودی بنام کیجریوال کے طور پر بھی لڑ سکتی ہے۔ ایک اور بات یہ لگتی ہے کرپٹ لیڈروں کی لسٹ جاری کرکے کیجریوال اینڈ کمپنی نے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ ’آپ‘ پارٹی لوک سبھا کا چناؤ کرپشن کے اشو پر لڑے گی۔ ان کی ساری توجہ کرپشن ہٹانے اور مٹانے پر ہوگی۔
دہلی اسمبلی چناؤ کے جائزے میں پایا گیا کہ لوگوں نے ’آپ‘ کے امیدواروں کو نہیں بلکہ اروند کیجریوال کے نام پر ووٹ دیا۔ لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے اسی طرح ’آپ‘ بھی کیجریوال کے نام پر ووٹ مانگ سکتی ہے۔ مودی کے سامنے کیجریوال کے ایک یا دو مہینے کے کام کاج پر بھی بی جے پی کی گوڈ گورننس کے وار کی ہوا نکالنے کی پلاننگ کررہی ہے۔ ’آپ‘ نیتا سنجے سنگھ نے مودی کو چنوتی دیتے ہوئے کہا کہ چار ریاستوں میں ایک ساتھ سرکاریں بنی ہیں اور ان کے سی ایم دہلی کے سی ایم کے ساتھ بلا کر بحث کرائی جائے۔سرکار چلانا کسے آتا ہے؟ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی میں کامیابی کو ’آپ‘ پارٹی نیتا ہضم نہیں کرپارہے ہیں۔ نہ تو وہ زبان میں تحمل برت رہے ہیں اور نہ ہی برتاؤ میں۔ آج کل وہ مغروروں والی زبان بول رہے ہیں۔ عام آدمی کے بھروسے مند ذرائع کے مطابق اروند کیجریوال کے اچانک دہلی کے سی ایم بن جانے کے بعد اب وہ وزیر اعظم کی دوڑ میں بھی ہیں۔ پارٹی ورکروں کا خیال ہے لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کے بھروسے چناؤ لڑ رہی بھاجپا بڑی پارٹی کی شکل میں ابھرے گی اگر سرکار بنا لینے لائق اکثریت نہیں مل پاتی تو اس سمت میں بھاجپا کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے کانگریس دہلی اسمبلی کی طرح لوک سبھا میں بھی عام آدمی پارٹی کو حمایت دے کر کیجریوال کو وزیر اعظم بنا سکتی ہے۔ کانگریس کے ساتھ باقی کچھ پارٹیاں بھی حمایت دیں اس کے لئے ضروری ہے کیجریوال کسی بڑے لیڈر کو ہراکر لوک سبھا میں پہنچیں اسی وجہ سے ان کی نظر غازی آباد پر ہے جہاں سے بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ چناؤ لڑتے رہے ہیں۔این سی آر کے علاوہ اور کہیں جاکر کسی بڑے لیڈر کو چنوتی دینے کا خطرہ کیجریوال کبھی نہیں اٹھائیں گے لیکن سب کچھ ا س بات پر منحصرکرتا ہے کہ نریندر مودی اور بھاجپا کتنی لوک سبھا سیٹیں دلاپاتے ہیں؟
(انل نریندر)

05 فروری 2014

پاور کٹ اور بجلی کمپنیوں کا گورکھ دھندہ!

دہلی میں بجلی جانے کی شکایتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ پاور کٹ سے جنتا پریشان ہے۔ دہلی سرکار اور بجلی کمپنیوں میں کھینچ تان جاری ہے۔ بجلی کمپنیاں کہتی ہیں کہ ہم گھاٹے پر چل رہے ہیں ریٹ بڑھاؤ نہیں تو ہم بجلی کی سپلائی میں کٹوتی کریں گے۔ کیا واقعی بجلی کمپنیوں کو خسارہ ہے؟ اگر ہم آر ڈبلیو اے تنظیم کی بات پر یقین کریں تو یہ تینوں کمپنیاں بی آر پی ایل ،ٹی پی ڈی ڈی ایل اوربی وائی جی ایل منافع کما رہی ہیں اور قطعی خسارے میں نہیں ہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق گذشتہ مالی سال تک بجلی کمپنیوں کو قریب900کروڑ سے زیادہ کا فائدہ ہوا ہے۔ آر ڈبلیو اے نے اس بارے میں بجلی کمپنیوں کے دستاویزات کی بنیادپر ہی یہ انکشاف کیا ہے جنہوں نے ڈی ای آر سی میں جمع کرائے ہیں وہ دستاویز کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ آر ڈبلیو اے انجمنوں نے بجلی کمپنیوں کے ہی دستاویزات دیکھے ہیں جن کے مطابق بی ایس ای ایس جمنا کو چھوڑ کر باقی دونوں کمپنیاں منافع میں ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق بی ایس ای ایس راجدھانی کو ہی قریب 654کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزوں میں بجلی کمپنیوں نے جو جانکاری دی ہے اس میں یہ کمپنیاں بجلی تقسیم سے کروڑوں کی کمائی کررہی ہیں۔ یونائیٹڈ ریزیڈینٹس آف دہلی کے جنرل سکریٹری بتاتے ہیں کہ ممکنہ خرچ کی بنیاد پر ہی بجلی کی شرحیں بڑھائی جارہی ہیں اور صارفین سے بجلی کے دام وصولے جاتے ہیں باجود اس کے بجلی کمپنیوں نے این ٹی پی سی کو ادائیگی نہیں کی اس کے چلتے ہی دہلی میں بجلی بحران کھڑا ہونے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔2008ء سے2011ء تک پاور فائننس کارپوریشن کی بیلنس شیٹ میں دہلی کی سبھی بجلی کمپنیوں کو منافع میں دکھایا گیا تھا۔ ان پر ڈی ای آر سی نے بھی ہاتھ کھڑے کئے تھے۔ سرکار نے کمپنیوں کے سی اے جی سے جانچ کرانے کے احکامات دئے ہوئے ہیں اور جانچ بھی چل رہی ہے باوجود اس کے بجلی کے دام پھر بڑھا دئے گئے ہیں۔ ادھر این پی ٹی سی نے بجلی کمپنیوں کو 10 دن کی مہلت دی ہو لیکن اس قدم سے دہلی میں بجلی کا امکانی بحران ابھی ٹلا نہیں ہے۔ اگر بجلی کمپنیوں نے دی گئی میعاد میں بقایا رقم نہیں چکائی تو راجدھانی میں بجلی کی کٹوتی کی جائے گی حالانکہ سرکار دعوی کررہی ہے کہ پیر تک اس مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔این ٹی پی سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بجلی کمپنیوں نے60 دن کی مہلت مانگی تھی لیکن یہ ہمارے لئے ممکن نہیں تھا ہم نے صرف10 دن کا وقت دیا ہے جبکہ این ٹی پی سی کا دعوی ہے کہ بی وائی پی ایل کو 811 میگاواٹ ، بی آر پسٹل کو 1261 میگاواٹ،ٹی پی ڈی ڈی ایل کو 837 میگاواٹ ، این ڈی ایم سی کو 216 میگاواٹ ، ای ایم ای ایس کو 550 میگاواٹ اوسطاً697کروڑ روپے مہینے کا بل بنتا ہے۔ دہلی بجلی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) نے بی ایس ای ایس اور اینٹی پی سی سے کہا ہے کہ وہ دونوں مل کر راستہ نکالیں تاکہ دہلی کی جنتا کو راحت دی جاسکے۔ ڈی ای آر سی کے چیئرمین پی ڈی سدھاکر نے کہا کہ ہم نے کمپنی کو ایک متعین رقم جاری کرنے کو کہا ہے تاکہ این ڈی پی سی بجلی نہ کاٹے۔ دہلی کے وزیر اعلی نے بجلی کمپنیوں کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ یا تو بجلی کی سپلائی صحیح سے کرو نہیں تو ہم آپ کا لائسنس منسوخ کردیں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ سی اے جی جانچ رپورٹ سے ہی ان بجلی کمپنیوں کے گورکھ دھندے کا پردہ فاش ہوگا اور دہلی کے شہریوں کو بجلی کٹوتی سے راحت ملے گی۔
(انل نریندر)

12 سال بعدآخر کار ہریش راوت کا بنواس ختم!

مرکزی وزیر ہریش راوت کا سنیچر کے روز 12 سال کا بنواس آخر تب ختم ہوگیا جب دہرہ دون میں کانگریس ممبر اسمبلی کی میٹنگ میں کافی جدوجہد کے درمیان ہریش راوت کے نام پر اتفاق رائے بن گیا۔ گھنٹوں انتظار کے بعد آخر کار میڈیا سے روبرو ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری جناردن دویدی نے بتایا کے وجے بہوگنا نے نئے وزیر اعلی کے طور پر ہریش راوت کے نام کی تجویز رکھی گئی جس پر عام اتفاق رائے سے انہیں اسمبلی پارٹی کا نیتا چن لیا گیا۔ اس کے بعد شام کو راج بھون میں گورنر عزیز قریشی نے انہیں عہدہ راز داری کا حلف دلایا۔ اس وقت کے وزیر اعلی وجے بہوگنا کے استعفے کے بعد ان کے جانشین کے لئے دوڑ تیز ہوگئی تھی۔ مقابلہ ہریش راوت اور ستپال مہاراج و اندرا ہردمیش میں تھا۔ یہاں تک بتایا گیا کہ ستپال مہاراج کو 22 ممبران اسمبلی کی حمایت تھی اس سے پہلے اندرا کے حق میں زوردار لابنگ ہورہی تھی۔ اس کے پیچھے دلیل دی جارہی تھی کہ کسی ایم ایل اے کو ہی نیا وزیر اعلی بنایا جانا چاہئے۔ اس بات کی بھی دہائی دی گئی کے راہل گاندھی کہہ چکے ہیں کانگریس حکمراں ریاستوں میں وزیر اعلی کا عہدہ خاتون کو ہی ملے گا تو اب موقعہ ہے اس تجربے کی شروعات اتراکھنڈ سے کردی جائے۔وزیر اعلی عہدے کے لئے اندرا ہردمیش کو دے دیا جائے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ راہل گاندھی ،ہریش راوت کی حمایت میں آئے اور ہریش کی مضبوط دعویداری کے باوجود وجے بہوگنا کو وزیر اعلی بنا دیا گیا تھا۔ وجے بہوگنا کے عہد میں ریاست کے اندر کانگریس کا گراف گرتا چلا گیا۔ تمام میڈیا جائزوں نے دکھایا کہ کیدارناتھ ٹریجڈی کے بعد بہوگنا سرکار نے راحت رسانی کے کام ٹھیک طرح سے نہیں کئے۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق پارٹی کا خیال ہے کیدارناتھ ٹریجڈی کے بعد ریاستی سرکار کو ہر طرح کی مدد دی گئی لیکن وہ اس مدد کو لوگوں تک پہنچانے میں ناکام رہے۔ وجے بہوگنا کا اپنا الگ برتاؤ اور ان کی مقبولی شخصیت لوگوں کو ان سے دور کرتی گئی۔ سرکار اور تنظیم میں بہتر تال میل بٹھانے میں بھی وجے بہوگنا ناکام رہے۔ پارٹی کو ہار کا ڈر ستانے لگا ہے اس کا اثر آنے والے لوک سبھا چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ انہی وجوہات سے راہل گاندھی نے پیغام بھیجا نئے وزیر اعلی ہریش راوت ہی ہوں گے۔ وجے بہوگنا کو ہٹانے کے پیچھے کانگریس اعلی کمان کا مقصد یہ بھی تھا کہ کانگریس حکمراں دوسرے وزراء اعلی کو بھی صاف پیغام مل جائے کہ وہ اچھا کام دکھائیں یا پھر جائیں۔ راڈار پر اس وقت ہماچل کے وزیر اعلی بھوون چندر کھنڈوری اور ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا بھی ہیں۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی لوک سبھا چناؤ کے لئے کسی ایک لیڈر کو کھلی چھوٹ دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ویر بھدر کو کہا گیا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر سبھی گروپوں میں تال میل بنائیں۔ وہیں ہریانہ میں پارٹی بھوپندر سنگھ ہڈا مخالفین کو لوک سبھا چناؤ میں پوری توجہ دینے کے موڈ میں ہے۔ ہماچل میں پارٹی کا ایک طبقہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے وزیر اعلی بدلنے کا دباؤ بدستور لیڈر شپ پر بنا رہا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ پردیش میں پارٹی کو سخت میسج دینا ہے تو نیا چہرہ سامنے لانا چاہئے۔ مسٹر ہریش راوت کا فیصلہ صحیح ہے وہ ایک وفادار ،صاف ستھری ساکھ کے لیڈر ہیں جن کا حق بھی بنتا تھا۔ یہ کام 2002ء میں ہی ہو جانا چاہئے تھا لیکن جب نارائن دت تیواری نے روڑا اٹکا دیا تھا اور2012ء میں وجے بہوگنا کا غلط فیصلہ ہوگیا۔ ہریش راوت کو مبارکباد ۔امید کی جاتی ہے کہ وہ راہل گاندھی کے بھروسے پر کھرا اتریں گے۔
(انل نریندر)

04 فروری 2014

پی ایم ان ویٹنگ کی دوڑ میں اب جے للتا بھی شامل!

عام طور پر وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں نریندر مودی۔ راہل گاندھی کا ہی نام لیا جاتا ہے لیکن ایک طرف ایک اور پی ایم ویٹنگ بھی ہیں،وہ ہیں انا ڈی ایم کے کی لیڈر اور وزیر اعلی جے للتا۔تاملناڈو کی سیاست میں آیا نیا موڑ جے للتا کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ڈی ایم کے میں اندرونی کھٹ پٹ جاری ہے۔ اس صورت میں انا ڈی ایم کے لوک سبھا چناؤ میں اہم کردار نبھا سکتی ہے۔ جے للتا خیمے میں امید بڑھ گئی ہے کہ پارٹی 2014ء لوک سبھا چناؤ میں تاملناڈو اور پونڈوچیری کی40 سیٹوں میں زیادہ تر جیت کر اگلے پی ایم کی دوڑ میں شامل ہوسکتی ہیں۔ جے للتا نے بھی صاف کردیا ہے کہ وہ لیفٹ پارٹیوں کو چھوڑ کر کسی بھی دوسری قومی پارٹی کے ساتھ چناؤ سے پہلے اتحاد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایتوار کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے جے للتا نے آنے والے لوک سبھا چناؤسے پہلے مارکسوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کردے۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں اے ۔بی وردھن اور سدھاکر ریڈی کے ساتھ انا ڈی ایم کے چیئرمین اور تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے چنئی میں اپنی رہائشگاہ پر اخبار نویسوں سے کہا کہ انا ڈی ایم کے اور مارکسی پارٹی نے لوک سبھا چناؤ کا مقابلہ مل کر کرنے کے لئے اتحاد بنانے کا فیصلہ کیاہے۔ کمیونسٹ لیڈر بردھن نے کہا کے جے للتا نے جوکہا میں اس کی حمایت کرتا ہوں اور ہمارا اتحاد جیتے گا، ہم کامیاب ہوں گے۔ جے للتا کو پی ایم کا امیدوار بنانے کی انا ڈی ایم کے ورکروں کی مانگ کے بارے میں پوچھے جانے پر مارکسوادی لیڈر نے کہا کہ اگر ہم چناؤ میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا تھا امکانات کھلیں گے۔ جے للتا نے بیچ میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا یہ سب بعد میں پتہ چلے گا۔ ہمارا مقصد تاملناڈو اور پونڈوچیری کی سبھی40 سیٹیں جیتنے کا ہے۔ 2009ء میں لوک سبھا چناؤ میں انا ڈی ایم کے کو تاملناڈو سے 9 سیٹیں ملی تھیں اور 6.89فیصد ووٹ 2004 سے کم ووٹ ملے تھے اور دوسری پارٹی ڈی ایم کے کو18 سیٹیں ملی تھیں اور2004ء کے مقابلے اس کو 0.49 فیصدی ووٹ زیادہ ملے تھے لیکن اسمبلی چناؤ میں انا ڈی ایم کے نے ڈی ایم کے کا صفایا کردیا اور ڈی ایم کے کی سیاسی حالت تو گری ہی ہے لیکن خاندان کی اندرونی رسہ کشی کا بھی کوئی خاتمہ نہیں نظر آرہا ہے۔ ڈی ایم کے کا اندرونی کنبہ جاتی بحران تقریباً ساڑھے تین سال سے چل رہا ہے ایسے میں مانا جارہا ہے کہ جے للتا کی وزیر اعظم بننے کی خواہش اس بار پروان چڑھ سکتی ہے۔مارکسوادی پارٹی سے اتحاد سے جے للتا نے بھاجپا اور نریندر مودی کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ انہوں نے اپنے شخصی دوست نریندر مودی کو ساؤتھ میں پاؤں جمانے کا کوئی موقعہ نہ دینے کے لئے قطعی قباحت نہیں کریں گی۔ جے للتا نے کہا کہ بھاجپا کی پیٹھ میںیہ دوسری بار چھرا گھونپا ہے۔ یاد ہے جب سبرامنیم سوامی نے جے للتا سے مل کر این ڈی اے سرکار کو گرادیا تھا؟ جے للتا کی بہرحال ایک پریشانی ہے کہ وہ ٹیکس رٹرن نہ بھرنے والے شخص کو جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے ایسے ہی ایک معاملے میں جے للتا کے خلاف مقدمہ چلانے کے احکامات دئے ہیں۔ انہوں نے1992-94 ء کے دوران رٹرن نہیں جمع کرائی تھی۔ جسٹس ایس۔ رادھا کرشنن اور اے ۔ کے سیکری پر مشتمل بنچ نے جمعرات کو جے للتا کی اس دلیل کو خارج کردیا کہ آمدنی نہ ہونے پر انکم ٹیکس رٹرن نہ بھرنا جرم نہیں ہے۔ وزیر اعلی کو اگر سزا ہوتی ہے تو انہیں تین ماہ سے لیکر تین سال تک کی جیل و جرمانہ ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

الفا لیڈرپریش بروا کو موت کی سزا !

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے دیش کی تاریخ میں ہتھیاروں کی سب سے بڑی برآمدگی کے10 سال پرانے معاملے میں جمعرات کو جماعت اسلامی کے سربراہ اور بھارت کی علیحدگی پسند تنظیم الفا کے سینئرلیڈر سمیت 14لوگوں کو موت کی سزا سنائی ہے۔جج ایس۔ ایم مجیب الرحمان نے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پرہجوم عدالت میں یہ فیصلہ سنایا۔ خیال رہے یہ فیصلہ ہتھیاروں سے بھرے10 ٹرکوں کو 2 اپریل 2004ء کو ضبط کرنے کے قریب ایک دہائی بعد آیا ہے۔ان ٹرکوں کو بنگلہ دیش کے ذریعے بھارت کے شمال مشرقی الفا ٹھکانوں پر بھیجا جانا تھا۔ ٹرکوں میں لدے قریب 1500 بکس میں اے۔کے47 ، چائنیز پستولیں، کاربائن، راکٹ لانچ،27ہزار دستی بم اور1.1 کروڑ گولیوں کو برآمد کیا گیا تھا۔ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) کی فوجی برانچ کے چیف پریش بروا کو اس کی غیر موجودگی میں موت کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے چیف مطیع الرحمن نظامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔ فیصلہ آنے کے بعد بی ایم پی کے حمایتی وکیلوں نے عدالت کے باہر نعرے بازی کی۔ اسے سیاسی اغراز پر مبنی فیصلہ بتایا۔ بنگلہ دیش میں الفا جیسی ہندوستانی دہشت پسند تنظیموں کے لئے 2004ء میں جو 10 ٹرک ہتھیاروں کی اسمگلنگ و دیگر تنظیموں کے ساتھ ہی پاکستان کی خفیہ ایجنسی کی پول کھل گئی۔ اس میں آئی ایس آئی نے بھی مبینہ طور سے کردار نبھایا تھا۔ ’دی ڈیلی اسٹار‘ اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی جانچ میں پایا گیا تھا کہ اس میں صرف مقامی اسمگلر اور مزدور شامل ہیں۔ لیکن2009ء کی ایک دوسری جانچ میں انکشاف ہوا کہ مقامی اور غیرملکی خفیہ ایجنسیاں اور بھارت کی ایک علیحدگی پسند تنظیم نے اسمگلنگ کے منصوبے کو انجام دیا تھا۔ آئی ایس آئی کا اس میں خاص کردار رہا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں ہتھیار صرف وہی دے سکتی تھی پھر اس میں کروڑوں روپیہ لگا ہوگا؟ وہ کہاں سے آیا؟ پریش بروا الفا میں شامل ہونے سے پہلے ایک اچھے فٹبال کھلاڑی تھے۔ ریلوے میں نوکری کے دوران وہ ریلوے کی مقامی ٹیم میں ڈفینڈر کے طور پر کھیلا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ الفا میں شامل ہوگئے اور آزاد آسام کی مانگ کو لیکر الفا بنائی وہ فی الحال الفا انڈیپینڈنٹ گروپ کے کمانڈر انچیف ہیں۔دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے الفا ناگا باغیوں اور میانمار کے کداچن باغیوں سے ہی تعاون لے رہی ہے۔ ہندوستانی ایجنسیوں نے دعوی کیا کہ بروا بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر چین میں بھی رہا ہے۔ حالانکہ جیسے چین کی عادت ہے اس نے اس سے انکار کیا۔2011ء ستمبر میں یہ خبر آئی تھی کہ میانمار کی فوج کو دیش میں بروا کے ہونے کی رپورٹ ملی ہے۔ 2010ء میں جنوری میں الفا نے بھارت سرکار سے بات چیت کرنے کے لئے آسام کی آزادی کی مانگ چھوڑدی اور3 ستمبر 2011ء بھارت سرکار اور آسام سرکار اور الفا کے درمیان سہ فریقی جنگ بندی معاہدہ ہوا۔ اس فیصلے سے جہاں آئی ایس آئی ایک بار پھر بے نقاب ہوئی ہے وہیں ان لوگوں کو مناسب سزا مل گئی جو بنگلہ دیش کو ایک آتنکی دیش کی شکل میں بدلنا چاہتے تھے۔ اس سے بھارت کو بھی تھوڑی راحت ملی ہے۔ نارتھ ایسٹ میں ہتھیاروں کی کتنی زبردست اسمگلنگ ہوتی ہے اس کا بھی پتہ چلتا ہے۔
(انل نریندر)

02 فروری 2014

ایک غلط بیان سے راہل خود بھی پھنسے اور پارٹی کو بھی پھنسایا!

1984ء کے سکھ مخالف دنگوں پر راہل گاندھی کے بیان سے 30 سال پرانا یہ معاملہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے ایک بار پھر گرماگیا ہے۔ اس سے کانگریس جہاں بیک فٹ پر ہے وہیں دوسری راجنیتک پارٹیوں کو کانگریس پر حملہ کرنے کا ایک سنہری موقعہ مل گیا ہے۔ بھاجپا اور اکالی دل (بادل) دنگا متاثرین کو انصاف دلانے کی مانگ کو لیکر سڑکوں پر اترآئے ہیں۔ وہیں سکھ دنگوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کے لئے دہلی کی ’آپ‘ سرکار نے خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کرنے کی پہل کردی ہے۔ جس کا اکالی دل اور بھاجپا بھی سمرتھن کررہے ہیں۔ اس ہلچل کے مدنظر اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں ایک طرف بھاجپا کو یہ فائدہ ہورہا ہے کہ 2002ء کے گجرات دنگوں پر کانگریس کی مہم کو دھکا لگا ہے وہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں دہلی میںیہ معاملہ اور طول پکڑے گا۔ ٹی وی چینلوں میں ایک بار پھر آپریشن بلو اسٹار پر بحث چھڑ گئی ہے۔ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔گذشتہ10 سالوں سے لگاتار دیش کی حکومت چلا رہی کانگریس کو ان دنوں اس کہاوت کی ٹیس ستارہی ہوگی۔ راہل گاندھی کو تیاری سے ٹائمس ناؤ ٹی وی چینل پر انٹرویو کے لئے اتارا گیا تھا۔ پارٹی کو امید رہی ہوگی کہ یہ انٹرویو دیش بھر میں بحث کا موضوع بنے گا اور اس میں پردھان منتری کی دعویداری کے لئے راہل کی چھوی کو پختہ شکل ملے گی۔ بیشک انٹرویو تو خاصہ موضوع بحث بنا لیکن راہل نے ہچکتے ہوئے ان الزامات کو قبول کرتے ہوئے پارٹی کیلئے ایک نیا طوفان کھڑا کردیا ہے۔ 
دہلی میں 30 سال پہلے ہوئی دیوی اندرا گاندھی کی ہتیا کے بعد ہوئے سکھ مخالف دل دہلا دینے والے دنگوں میں کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں کا ہاتھ تھا۔ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے لیکن راہل نے ان الزامات کو قبول کرکے دنگوں کے زخموں کو پھر سے تازہ کردیا ہے۔الزامات درالزامات کے درمیان کانگریس کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر بحث ہورہی ہے اور کانگریس مبصرین کو جواب دینا بھاری پڑ رہا ہے۔ رہی سہی کثر دنگوں کے وقت دیش کے راشٹرپتی گیانی زیل سنگھ کے اس وقت کے پریٹ سکریٹری ترلوچند سنگھ نے پوری کردی ہے۔ ترلوچند سنگھ نے تو راہل گاندھی کے اس دعوے کی دھجیاں اڑادی ہیں کہ راجیو گاندھی کی رہنمائی میں اس وقت کی کانگریس سرکار نے دنگوں پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ترلوچند سنگھ کا سنگین الزام ہے کہ دنگوں پر مشوش راشٹرپتی گیانی زیل سنگھ کا فون تک راجیو گاندھی نے ریسیو نہیں کیا۔ سنگھ نے راہل کی اس بات کی پرزور الفاظ میں تردید کی کے گجرات دنگوں کے دوران مودی کا سرکار کا رخ بھی کم وبیش ایسا ہی تھا۔ مودی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے راہل کے ترکوں پر سب سے سنگین حملہ تو کانگریس کے سب سے نزدیکی سہیوگی شرد پوار کی قیادت والی این سی پی نے کی ہے۔این سی پی نے مودی کو گھیرنے والے راہل کے ترکوں کی بخیہ ادھیڑ دی ہے اور کہا ہے کہ جب تمام عدالتوں نے گجرات کے مکھیہ منتری کو کلین چٹ دے دی تب ایسے حملوں کا کیا مطلب بنتا ہے؟ یوں تو پردھان منتری منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی سکھ مخالف دنگوں کے لئے عوامی طور سے معافی مانگ چکے ہیں مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ دنگے بھڑکانے کے لئے جن نیتاؤں کو ذمہ دار مانا جاتا ہے انہیں کانگریس ہمیشہ بچانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔راجیو گاندھی نے تو ان دنگوں کو یہ کہہ تک ہلکا کرنے کی کوشش کی تھی کہ جب کوئی بڑا پیڑ گرتا ہے تو دھرتی ہلتی ہی ہے۔ ان دنگوں کے دوران دہلی میں قریب پونے تین ہزاراموات ہوئی تھیں۔ جن میں سے 400 ہتیاؤں کے معاملے درج ہوئے۔ سی بی آئی اور دہلی پولیس نے ان کی گہرائی سے چھان بین کی، الگ الگ وقت پر 8 جانچ کمیشن قائم ہوئے مگر کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچ سکے جس سے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم لگایا جاسکے۔پختہ ثبوتوں کی کمی سے 180 معاملے خارج ہوگئے۔ ابھی تک صرف20 لوگوں کو سزا سنائی جاسکی ہے۔ یہ ٹیس سکھ فرقے کو تکلیف دے رہی ہے۔راہل گاندھی اپنے سیدھے سادھے سوبھاؤکی وجہ سے پھنس گئے۔ انہوں نے یہ قبول کرلیا کے سکھ دنگوں میں کچھ کانگریسی نیتاؤں کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ پوری طرح سے غیر سیاسی بیان تھا۔ پارٹی کے حکمت عملی سازوں کا ماننا ہے کہ یہ کانگریس کے نائب صدر کے سچائی سے بھرے بیان کو الٹ کر دیکھنے کا معاملہ ہے کیونکہ کانگریس پارٹی خود کئی بار ان دنگوں کیلئے سنسد سے لیکر سڑک تک معافی مانگ چکی ہے۔ حالانکہ راہل گاندھی کے پاس بھی یہ موقعہ تھا کہ وہ بھی ان دنگوں کے لئے دوبارہ معافی مانگ سکتے تھے اور پوری کہانی گجرات دنگوں کی طرف پلٹ سکتے تھے مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ سیاسی طور سے راہل گاندھی کی یہ نا اندیشی تھی کہ ایک طرف کانگریس کے کچھ نیتاؤ کا دنگوں میں ہاتھ ہونا بھی قبول کریں اور پارٹی کے نائب صدر ہونے کے ناطے اس پر کھید ظاہر نہ کریں۔ 
(انل نریندر)

آندھرا پردیش کی تقسیم کا معاملہ نئے ٹکڑاؤ کی طرف بڑھ رہا ہے!

آندھرا پردیش ودھان سبھا نے تلنگانہ کے قیام سے متعلق بل کو ایک آواز میں خارج کر کانگریس رہنماؤں کے لئے بے چینی کی حالت پیدا کردی ہے۔پردیش کے دونوں ایوانوں نے آندھرا پردیش پنر گھٹن ایکٹ 2013 کو خارج کردیا اور اس سلسلے میں پیش پرستاؤ کو ایک آواز میں قبول کرلیا۔ایک ڈرامائی پیش رفت کے درمیان ودھان سبھا ادیکش ناویندلا منوہر نے راجیہ کے وزیر اعلی این کرن کمار ریڈی کی جانب سے پیش سرکار کے پرستاؤ کو پیش کیا ہے جس میں ایکٹ کو خارج کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس پرستاؤ کو سوتی طور پر پاس کردیا گیا۔ اس معاملے پر لمبے وقت تک بھولنے کے بعدکانگریس کی مرکزی سرکار نے ریاست کے قیام کے بل کو سیدھے سنسد میں لاکر مسئلے کا مستقل حل ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے شاید ہی اندازہ رہا ہوگا کے راجیہ کا سیاسی سمی کرن اس طرح پلٹا کھائے گا۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی کرن ریڈی نے راشٹرپتی پرنب مکھرجی سے ایکٹ کو سنسد میں نہ بھیجے جانے کا انورودھ بھی کیا ہے۔ پرستاؤ میں کہا گیا ہے کہ راجیہ کا وبھاجن بنا کسی سہمتی اور ٹھوس وجہ سے کیا جارہا ہے اور ایسا کرتے ہوئے لسانی اور ثقافتی یکسانیت اور معاشی اور انتظامیہ جیسے پہلوؤں کی اندیکھی کی گئی ہے۔ اصل میں سی ایم کے سامنے کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا کیونکہ 157 ودھایکوں نے پہلے ہی حلف نامہ دے رکھا تھا کہ وہ آندھرا پردیش کے بٹوارے کے خلاف ہیں۔ کیندر سرکار چاہتی تھی کہ یہ بل فروری میں ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں پاس ہوجائے۔ اس کے پیچھے کانگریس کی منشا تلنگانہ راجیہ کے قیام کو عام چناؤ میں بھنانے کی تھی لیکن اپنی ہی ریاستی سرکار نے اس کے کئے کرائے پر پانی پھیردیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ آندھرا پردیش ودھان سبھا کی جانب سے پرستاؤ کو خارج کرنے سے نئی ریاست کے قیام کا معاملہ معلق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ (ایکٹ) خارج نہیں ہوا ہے۔ 
تلنگانہ ایکٹ پر (ودھان سبھا میں) وزیر اعلی کی جانب سے پیش کیا گیا ایک پرستاؤ سوتی ووٹ سے پاس ہوا ہے۔ ایکٹ پر ووٹ نہیں ہوا ہے۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ راشٹرپتی کی جانب سے یہ ایکٹ اسے بھیجا گیا تھا اور جمعرات کو یہ ایکٹ راشٹرپتی کو لوٹایا جائے گا۔ اس سے آندھرا پردیش ودھان سبھا سے صفائی حاصل کرنے کی آئینی پابندی پوری ہوگئی ہے۔ اب یہ بھارت سرکار پر ہے کہ وہ ودھان سبھا کی جانب سے کی گئی سفارشوں اور سجھاؤں پر کیبنٹ کے غور کرنے کے بعد کسے پارلیمنٹ میں پیش کرے۔ ایسے میں جو لوگ تلنگانہ راجیہ کے قیام کی آس لگائے تھے انہیں اپنی منزل دور سرکتی نظر آرہی ہے اور ڈر تو اس بات کا ہے کہ اس چناوی ماحول میں آنے والے دنوں میں کہیں ریاست تقسیم کے حامیوں اور مخالفین میں ٹکراؤ کا نیا دور نہ شروع ہوجائے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...