Translater

09 ستمبر 2022

ڈاکٹروں کو ایک ہزار کروڑ کے تحفے !

بخار سے نمٹنے کیلئے عام آدمی کے استعمال میں آرہی گولی ڈولیٹ 650گولی کا استعمال کرتا ہے ۔ ڈاکٹر اس کو کھانے کیلئے لکھ کر دیتے ہیں فارما کمپنیوں کی مارکیٹنگ اور غیر اخلاقی طریقوں کو کنٹرول کرنے کی مانگ کر ہی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں کہا کہ وہ سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹوریٹ ٹیکسیز نے پایا ہے کہ بخار کی رائج دوا ڈولو بنانے والی فارما کمپنی نے نسخے میں گولی لکھنے کیلئے ڈاکٹر وں کو ایک ہزار کروڑ روپے کے تحفے بانٹنے ہیں ۔ اس پر عدالت نے کہا کہ مرکزی سرکار اس مفاد عامہ کی عرضی پر دس دن میں جواب داخل کریں ۔ جج ڈی وائی چندر چوڑ کا کہنا تھا کہ کووڈ ہونے پر بھی انہیں ڈولو 650دی گئی تھی ۔ کمپنیاں زیادہ منافع کمانا چاہتی ہیں ۔ اس لئے ڈاکٹروں کو تحفے دیکر گولی مریضو کو دینے کیلئے راغب کر رہی ہیں ۔ اس غیر اخلاقی طریقے سے گولیوں کے لکھنے سے انسان کی صحت پر سنگین اثر پڑ سکتاہے ۔ بنچ نے اڈیشنل سالیسیٹر جنرل کے ایم نٹراج کو دس دن میں سرکار کا مو قف رکھنے کو کہا ہے معاملے کی الگی سماعت 29ستمبر کو ہوگی ۔ (انل نریندر)

جج کے قاتلوں کو آخری سانس تک جیل !

جھارکھنڈ میں دھنباد کے جج اتم آنند کے قتل کے معاملے میں سی بی آئی اسپیشل عدالت نے قصورواروں کی سز ا کی اعلان کر دیا ہے جس سے قصوروار لکھن ورما اور راہل ورما کو آخری سانس تک جیل میں رہنے کی سزا سنائی ہے 28جولائی کو دونوں کو جج اتم آنند کیس میں ثبوتوں کی بنیاد پر قتل کرنے اور ثبوت چھپانے کا قصور وار مانا تھا کورٹ نے دونوں کو دفعہ 302اور 201کے تحت قصوروار مانا تھا ۔ سی بی آئی اسپیشل عدالت کے جج رجنی کانت پاٹھک نے قصور وار آٹو رکشہ ڈرائیور لکھن ورما اور اس کے معاون راہل ورما کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ دونوں قصورواروں کو آخری سانس تک جیل میں رکھا جائے ۔ اس سزا کے اعلان پر متوفیٰ جج کے بہنوئی نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن دونوں قصورواروں کو عمر قید نہیں پھانسی ہونی چاہئے تھی۔ اوراپر عدالت میں پھانسی کی سزا دلانے کیلئے اپیل کریں گے۔ بتادیں کہ پچھلے برس 28جولائی کو جج اتم آنند کے قتل کے بعد ریاستی حکومت نے ایس آئی ٹی بنائی تھی لیکن بعد میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کے بعد اس کی جانچ 4اگست 2021کو سی بی آئی کو سونپ کی گئی تھی ۔معاملے کی جانچ کی نگرانی خود ہائی کورٹ کر رہی تھی۔اتم آنند کے قتل کے ٹھیک ایک سال بعد یہ فیصلہ آیا ہے ۔ واضح ہو کہ جج اتم آنند کو چہل قدمی کرتے ہوئے آٹو سے ٹکر مار کر منظم طریقے سے مار ڈالا گیا تھا۔ (انل نریندر)

بھاجپا مکت بھارت !

سن 2024میں بھاجپا کو بڑی چنوتی دینے کیلئے اپوزیشن اتحاد کی نئے سرے کوششیں شروع ہو چکی ہے اتحاد کی دھار تیز کرنے کیلئے کمان اب لگتا ہے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے سنبھال لی ہے پچھلے دنوں نتیش کے دھماکو بیان آ رہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ 2024کے لوک سبھا چناو¿ میں بھارتیہ جنتا پارٹی 50سیٹو پر سمٹ جائے گی تو کبھی کہتے ہیں کہ دیش کے سارے مسائل کیلئے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے اس لئے بھاجپا مکت بھارت کا نعرہ دیتے ہیں ۔ تلنگانا کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راو¿ نے اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کے تحت نتیش کمار سے ملاقات کی ہے ۔ مرکزی سطح پر بھاجپا کو چنوتی دینے کیلئے اپوزیشن اتحاد سبھی پارٹیوں سے ایک اسٹیج پر آنے کی اپیل کی ۔ کے سی آر اور نتیش کمار دیش کے سب سے سینئر اور اہم لیڈروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ پٹنہ میں میڈیا سے رو برو کے درمیان چندر شیکھر راو¿ اس سوال کو ٹال گئے کہ اپوزیشن متحدہ کی قیادت کون کرےگا ؟ کیا کانگریس کو شامل کیا جائے گا۔ جے ڈی یو کے این ڈی اے سے الگ ہونے کے بعد اس بحث کو تقویت ملی ہے کہ اپوزیشن کو 2024لوک سبھا چنا و¿ کیلئے ایک چہرہ مل گیا ہے اس کے بعد سے نئے سرے سے اپوزیشن اتحاد کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار خود بھی کہہ چکے ہیں کہ اگلی مرتبہ تھررڈ فرنٹ نہیں بلکہ مین فرنٹ بنے گا۔لیکن کیا حقیقت میں یہ ہوگا ؟ کہنے سننے میں اپوزیشن اتحاد اور اپوزیشن کے چہرے کی بات جتنی آسان لگتی ہے اتنی ہی ٹیڑھی کھیر بھی ہے سیاسی مبصرین کی مانیں تو صرف اپوزیشن کے پاس چہرہ ہونا اور اپوزیشن کا متحد ہونا ہی این ڈی اے یا نریندر مودی کو ہرانے کیلئے کافی نہیں ہے بلکہ اپوزیشن کو اس کیلئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں خاص کر علاقائی پارٹیوں کو جو اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں انہیں یہ بات بھی دھیا ن میں رکھنی چاہئے کہ اسمبلی چنا و¿میں وہ جیت جاتے ہیں تو لوک سبھا چناو¿ میںان کی پرفارمنس کیوں خراب رہتی ہے ۔ لوک سبھا چناو¿ میں ابھی وقت ہے اپوزیشن پارٹیوں کو دعویداری کے بجائے کام کرنے چاہئے ۔ جو ایک اپوزیشن پارٹی کو کرنے ہوتے ہیں سرکار کی خامیوں کو جنتا کے بیچ لے جائے لیکن یہ سب کرنے کے بجائے دعویداری کی جارہی ہے ۔ جس کا آج کی تاریخ میں کوئی جواز نہیں ہے ۔ اپوزیشن اتحاد پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگتا ہے چاہے اختلاف لیڈر شپ کو لیکر ہو یا سیٹوں کے بٹواے کو لیکر ہو جس میں اپوزیشن اتحا دنظر نہیں آتا جس کا فائدہ کسی وجہ سے فائدہ بھاجپا کو ہوتا ہے ووٹوں کا بٹوارہ ہو جاتا ہے جس سے سیدھا فائدہ بھاجپا کو ہو جاتا ہے ۔ فی الحال ہمیں کوئی ایسا امکان نظر نہیں آتا کہ بھاجپا مکت بھارت کا خواب پورا ہوگا۔ (انل نریندر)

06 ستمبر 2022

صحافی دہشت گرد نہیںہے !

سپریم کورٹ نے زر فدیہ کے ایک معاملے میں جھارکھنڈ پولیس کے ایک مقامی ہندی صحافی اروپ چٹر جی کے گھر پر رات پہنچنے اور انہیں گرفتار کرنے سے پہلے بیڈ روم سے گھسیٹ کر باہر لانے کے واقعے کی مذمت کی ہے عدالت نے کہا کہ صحافی دہشت گرد نہیں ہے ۔ دیش کی بڑی عدالت نے پولیس کاروائی کو ریاست کی زیادتی بتاتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جھارکھنڈ میں پوری طرح انارکی پھیلی ہوئی ہے ۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے صحافی کو انترم ضمانت دینے کے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم میں دخل اندازی سے انکار کر دیا بنچ نے کہا کہ ہم نے معاملے کے حقائق کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس کیا ہے کہ جھارکھنڈ میں پوری طرح انارکی پھیلی ہوئی ہے ۔ کورٹ نے واردات پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جھارکھنڈ کے اڈیشنل سولیسٹر جنرل ارون چودھری نے کہا کہ آپ آدھی رات کو ایک صحافی کا دروازہ کھٹکھٹا تے ہیںاور اسے بیڈ روم سے باہر نکالتے ہیں یہ حرکت بہت ہی زیادہ ہے آپ ایسا ایک ایسے شخص کے ساتھ کر رہے ہیں جو صحافی ہے اور وہ آتنک وادی نہیںہے بڑی عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے صحیح طرح سے ایک مفصل حکم کے ذریعے صحافی کو انترم ضمانت دی جس میں کسی کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے ۔ ججوں نے معاملے کانپٹارہ کرتے ہوئے سرکاری وکیل چودھری سے کہا کہ ،معاف کریں ہم آپ کی عرضی پر غور نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ انترم حکم ہے اور معاملہ وہاں التویٰ میں ہے آ پ ہائی کورٹ جاکر بات کریں ۔ سرکار ی وکیل چودھری کا الزام تھا کہ صحافی اروپ چٹر جی بلیک میل کرنے ،زبردستی وصولی جیسی سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں اور ان کے خلاف ملزمانہ کیس درج کیا گیا تھا ۔ اس بنچ نے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ تین دن میں باہر آگئے ورنہ ان کے جیسے لوگوں کو ضمانت سے پہلے دوتین مہینے جیل میں رہنا پڑتا ہے ۔ ہائی کورٹ کے ذریعے 19جولائی کو صحافی کو دی گئی ضمانت کے خلاف جھارکھنڈ حکومت نے بڑ ی عدالت سے رجوع کیا تھا ۔ اروپ چٹر جی کی بیوی اور چینل کی ڈائریکٹر بے بی چٹر جی نے ہائی کورٹ کارخ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کے شوہر کو 16،17جولائی 20اور 22کی درمیانی رات کو رانچی میں ان کے گھر سے رات 12:20بجے گرفتار کیا گیا تھا ۔ جو سزا عمل آئین کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔ (انل نریندر)

ایل جی بنا م عآپ !

شراب پالیسی ،اسکول کلاس رو م گھوٹالے میں سی بی آئی اور انٹی کرپشن برانچ کو جانچ دینے کے بعد دہلی کے لیفٹیمنٹ گورنر وی کے سکسینہ اور عام آدمی پارٹی کے نیا آمنے سامنے آ گئے ہیں نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا پر سی بی آئی کے چھاپے کے بعد اب عام آدمی پارٹی لیڈروں کے ذریعے لیفٹننٹ گورنر سکسینہ کو بھی نشانے پر کچھ دنوں سے لیا جا رہا ہے ۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی اور بھاجپا کے الزام در الزام میں ایل جی کو بھی گھسیٹا جا رہا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی درگیش پاٹھک نے ایل جی سکسینہ پر نوٹ بندی کے دوران 1400کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگا یا ہے ۔ در گیش پاٹھک کے الزام کو سور بھ بھاردواج اور درگیش پاٹھک اور جیشمن شاہ سمیت دیگر کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی بات کہی ہے ۔ دہلی کے ایل جی سکسینہ نے کہا ہے کہ وہ عآ پ کے کئی نیتاو¿ں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے جا رہے ہیں جنہوں نے مجھ پر کرپشن کے الزام لگائے ہیں۔ ان کے خلاف بے حد توہین آمیز اور کرپشن کے جھوٹے الزا م ہے ۔ ایل جی سکسینہ کے دفتر کے مطابق سی بی آئی نے جانچ میں پایا کہ جی بی نئی دہلی کھاتے میں 1707,000روپے دوسری کرنسی کے نوٹوں کی شکل میں جمع کئے گئے تھے ۔ جیسا کہ سی وی او کے ذریعے رپورٹ دی گئی تھی ادھر عام آدمی پارٹی نے ایک بیان جاری کر کہا کہ ہر کوئی مانتا ہے کہ ایل کی سربراہی میں کے بی آئی سی بڑی منی لانڈرنگ گھوٹالہ ہوا تھا دو گواہوں نے اپنا دستخطی بیان دیا ہے ۔ پھر بھی سی بی آئی نے انہیں کبھی بھی ملزم بنا یا اور جانچ کیلئے ایک بار بھی نہیں بتایا ہماری مانگ ہے کہ اس گھوٹالے ان کے رول کی جانچ ہواور انکوائری جاری رہنے تک انہیں ایل جی عہدے میں استعفیٰ دے دینا چاہئے ،قانون سب کے لئے یکساں طور سے لاگو ہونا چاہئے ۔ کیا معاملہ :راج نیواس کے ذرائع نے بتایا کہ 8نومبر 2016کو بھارت سرکار نے 1000اور 500روپے کے نوٹ کے چلن پابندی لگائی تھی ۔ 9نومبر کو کے بی آئی سی کی طرف سے اس سلسلے میں سرکولر جاری کر دیا گیا بعد میں نوٹس میں بھی آیا کہ کھادی گرام ادھیوگ بھون کے کھاتے میں الگ الگ تاریخوں میںکچھ نوٹ بندی والے نوٹ جمع کئے گئے ۔ چیف ویجیلنس افسر نے سی بی آئی کو اس کی جانکار ی دی اور اسی بنیاد پر دوںنو ں ایجنسیوں نے اپریل 2017میں اچانک جانچ پڑتال کی ۔ ابتدائی جانچ پڑتال میں قصور وار پائے جانے والے کھادی گرام ادھیوگ بھون کے چار افسران کو معطل اور تبادلہ کر دیا گیا۔ (انل نریندر )

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ...