Translater

17 اگست 2024

ہنڈن برگ رپورٹ اور سیبی چیف !

امریکی ریسرچ کمپنی ہنڈن بر گ نے بازار ریگولیٹری سیبی کی چیئر پرسن مادھوی پوری بوچ پر ایک بار پھر سوال کھڑے کئے ہیں ۔ہنڈن برگ نے اپنے سرکار ی ایکس اکاو¿نٹ پر داستان ذوق کے ساتھ ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مادھوی کی صفائی والے بیان ہماری رپورٹ میں کہی گئی باتوں کا اقبال کیا گیا ہے اور اس سے کئی نئے اہم ترین سوال بھی کھڑے ہوئے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ سیبی اور اڈانی گروپ نے ہنڈن برگ کے الزامات کو بے بنیاد بتایا ۔ہنڈن برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیبی کی چیف مادھوی بوچ پر اڈانی گروپ نے سے جڑے غیر ملکی فنڈ میں حصہ داری ہونے کے الزامات کو مادھوی نے بے بنیاد اور کردار کشی کی کوشش بتایا ہے ۔ہنڈن برگ نے اپنے جواب میں کہا بوچ کے جواب سے تصدیق ہوتی ہے ان کی سرمایہ کاری برموڈہ ماریشش کے فنڈ میں تھا الزام ہے کہ گوتم اڈانی کا بھائی ونود اڈانی کے ذریعے شیئروں کی قیمت بڑھاتا تھا اسے مفادات کے ٹکراو¿ کا بڑا معاملہ مانا جارہا ہے ۔ہنڈن برگ نے کہا مادھوی بوچ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جو مشاورتی کمپنیاں قائم کیں جن میں بھارتیہ اور سنگھا پور کی یونٹ شامل ہے ۔وہ 2017 میں سیبی میں ان کی تقرری کے فوراً بعد بے اثر ہو گئی تھی ۔سال 2019 میں ان کے شوہر نے ذمہ داری سنبھال لی تھی لیکن دستاویزوں میں خلاصہ ہوا ہے کہ 31 مارچ 2024 تک کی شیئر پر مبنی فہرست کے مطابق اگورا ایڈوائزری لمٹڈ (انڈیا ) کی 99 فیصد بالادستی اب بھی مادھوی کے پاس ہے نا کہ ان کے شوہر کے پاس ۔یہ یونٹ حال ہی میں سرگرم ہے اور اس سے محصو ل حاصل کیا جارہا ہے بوچ میاں بیوی نیٹ ورتھ بہرحال 10 ملین ڈالر مانی گئی ہے ۔ہم یہ نہیں دعوی ٰ کررہے ہیں کہ ہم ہنڈن برگ کی رپورٹ صحیح ہے یا نہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ معاملے کی باریکی سے جانچ ہونی چاہیے ۔سرکار کو فوری کاروائی کرتے ہوئے یہ صاف کرنا چاہیے کہ اس سے کسی طرح کی ڈھلائی نہیں ہوئی ہے دوسرے جب تک جانچ پوری طرح نہیں ہو جاتی تب تک سیبی چیف کو ریگولیٹری سرگرمیوں سے الگ رکھا جائے ۔یہ معاملہ بے حد سنگین ہے ۔دیش کی ساکھ اور شیئر ہولڈروں کے بھروسہ کو کس طرح کی چوٹ نہیں پہنچنی چاہیے ۔اس دوران یہ معاملہ سپریم کورٹ چلا گیا ۔وکیل وشال تیواری نے سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں ہنڈن برگ کی نئی رپورٹ کا حوالہ دیا ۔عرضی میں الزام لگایا گیا ہے بھارتیہ پرتی بھوتی ریگولیٹری (سیبی کی چیئرمین ) مادھوی پوری بوچ اور ان کے شوہر نے آفشور فنڈ میں سرمایہ کاری کی تھی جو اڈانی گروپ کی کمپنیوں سے جڑے ہیں ۔نئی رپورٹ سے شبہہ کا ماحول پیدا ہوتا ہے اس لئے اڈانی گروپ کے بارے میں ہنڈن برگ کی 2023 کی رپورٹ پر سیبی کی التوا جانچ پوری کرنے اور جانچ کا نتیجہ عام کرنا بے حد ضروری ہے ۔سپریم کورٹ نے 3 جنوری 2023 کو سیبی کی جانچ میں رضامندی ظاہر کرتے ہوئے الزاموں کی ایس آئی ٹی اور سی بی آئی سے جانچ کرانے کی مانگ والی عرضی خارج کر دی تھی ۔اگر اس میں منصفانہ جانچ ہوتی ہے تو سچائی سامنے آجائے گی اگر یہ کوئی غیر ملکی سازش ہے تو بھی اس کا پردہ فاش ہو جائے گا ۔اور سرکار اور سیبی کلین چٹ کی حقدار ہوں گے اگر مادھوی بوچ اس میں ملوث پائی جاتی ہیں تو اس صورت میں قانون اپنا کام کرے گا ۔ (انل نریندر)

نیا بھاجپا صدر چننے میں اڑچنیں کیاہیں؟

بھارتیہ جنتا پارٹی کا نیا فل ٹائم صدر کون ہوگا؟ پارٹی صدر کے طور پر جگت پرکاش نڈا کے عہدے کی میعاد ختم ہو گئی ہے یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں ہرطرف اس سوال پر تذکرہ جاری ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کو دہلی میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے گھر پر اسے لیکر گہرا غور وخوض کیا گیا ۔رپورٹ کی مانیں تو اس میٹنگ میں راجناتھ سنگھ کے علاوہ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ ،بی جے پی جنرل سیکریٹری جی ایل سنتوش کےساتھ ساتھ آر ایس ایس کی طرف سے جنرل سکریٹری دتاترے حوض بلے اور جوائنٹ سکریٹری ارون کمار شامل رہے ۔حالانکہ نئے صدر کے لئے کئی ناموں پر غور ہوا لیکن کسی بھی نام پر رائے نا بن سکی ۔ایسے میں سوال یہی ہے کہ آخر بھاجپا کو اپنا صدر چننے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟آر ایس ایس چاہتا ہے کہ اس سال ہونے والے 4 ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ ختم ہونے کے بعد عام اتفاق رائے سے نیا صدر بنے ۔جبکہ بھاجپا چاہتی ہے کہ انتخابات سے پہلے نیا صدر پارٹی کی کمان سنبھال لے ۔چناو¿ میں دو ماہ کا وقت مشکل سے بچا ہے ۔ایسے میں بھاجپا صدر کے عہدے پر کسی نئے شخص کو لانے سے مشکلیں ہوں گے چونکہ انہیں بہت سی باتوں کو سمجھنے میں وقت لگے گا ۔پارٹی آئین کے مطابق کم سے کم 15 سال سے جوشخص پارٹی کا ممبر ہوگا وہی صدر بن سکتا ہے ۔بی جے پی علاقائی پارٹیوں کی طرح نہیں ہے ۔مایاوتی اکھلیش یادو ،اسٹالن جیسے لیڈروں کی پارٹیوں میں صدر کے لئے بوس کی طرح کام کرتا ہے ۔ایسا سنگھ اور بی جے پی میںاب نہیں ہونے دینا چاہتا ۔وہ چاہتا ہے کہ سرکار اور پارٹی لیڈر شپ میں فرق ہو ۔سرکار کا کام ہے سرکار چلانا اور تنظیم کا کام الگ ہے جس کی لیڈر شپ ایسی ہونی چاہیے جو سرکارکی ہدایتوں پر کام نہ کرے اور آزادانہ طور سے پارٹی چلائے ۔آر ایس ایس چاہتا ہے گجرات لابی کو پارٹی میں حاوی نہ ہونے د ے ۔اس کا تھوپا ہوا صدر اب سنگھ کو قبول نہیں ہے ۔پچھلے دس سال سے پی ایم مودی نے موٹے طور پر اپنی مرضی سے پارٹی کے صدر طے کئے ہیں لیکن اب حالات بدلے ہوئے نظر ا ٓرہے ہیں ۔میٹنگ میں آر ایس ایس کے نگراں صدر دتاترے حوض بلے اور معاون سرس سنچالک ارون کمار کی موجودگی میں اگر صدر کے عہدے کو لیکر منتھن ہو رہا ہے تو سنگھ اپنے طریقے سے نئے صدر کو دیکھنا چاہتا ہے ۔حالانکہ آر ایس ایس کی کمی سیدھے طور پر اپنی طرف سے نام نہیں دیتا لیکن جو نام ملتے ہیں اس پر وہ اپنی رائے ضروری دیتاہے اور یہاں رائے کسی کے حکم سے کام نہیں کرتی بھاجپا کے گھٹتے مینڈیٹ کی وجہ سے اس مرتبہ سنگھ پارٹی صدر کو لے کر دباو¿ بنا رہا ہے ۔جو 4 جون 2024 سے پہلے وہ نہیں بنا سکتا تھا ۔چار ریاستوں کے چناو¿ نتیجہ نہ صرف مودی شاہ کے مستقبل کو طے کریں گے بلکہ کچھ حد تک موہن بھاگوت اور آر ایس ایس کے رول کو بھی طے کریں گے ۔اگر نتیجے امت شاہ اور نریندر مودی کے مطابق آئے تو بی جے پی صدر الگ ہوگا اور اگر ان کے مطابق نہیں آئے تو الگ ہوگا جس میں سنگھ کا پورا دخل ہوگا ۔میٹنگ میں مکمل صدر کے انتخاب سے پہلے ورکنگ صدر کے نام کا اعلان کئے جانے پر بھی غور ہونے کا امکان ہے ۔نگراں صدر کی دوڑ میں پارٹی جنرل سکریٹری ونود تاوڑے کا نام سب سے اوپر ہے ۔نئے صدر کے چناو¿ سے پہلے ممبر شپ مہم کم سے کم 50فیصد ی ریاستوں میں تنظیمی چناو¿ ضروری ہے ۔ (انل نریندر)

15 اگست 2024

منی پور میں نارکتا تشدد!

پچھلے دنوں منی پور کے وزیراعلیٰ این ویرن سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست میں تشدد کی حالت آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے اور قتلوں میں روک لگی ہے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست میں ا پوزیشن خمیوں کی میٹنگیں بھی ہوئی ہیں جہاں امن کی بات ہوئی لیکن بنیادی حقیقت منی پور میں وہی ہے جو پچھلے کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کچھ بھی نہیں بدلا ہے ۔منی پور میں پچھلے سال مئی میں دنگا ایک بار پھر شروع ہوا جب رافیل گھاٹی میں مقیم میتئی اور پڑوسی پہاڑی علاقوں میں رہنے والے کوکی فرقہ کے درمیان ذاتی تشدد میں 200 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ۔منی پور میں دنگا رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ریاست کے تکنوپال رضاکاروں کے درمیان گولاباری میں 4 مسلح لوگوں کی موت ہو گئی ۔حکام نے اتوار کو یہ جانکاری دی پولیس نے بتایا کہ مولنوچ علاقہ میں مڈبھیڑ میں یونائٹڈ کوکی لبریشن فرنٹ کے ایک انتہا پسند اور ایک ہی فرقہ کے تین دیہاتیوں نے یوکے ایل ایف کے خود ساختہ چیف ایس ہاو¿کپ کے گھر کو پھونک دیا ۔حکام نے پیچھے کے علاقہ میں وصولی کی وجہ ہوسکتی ہے ۔ضلع میں سیکول کے سابق ممبر اسمبلی مستھنگن کی 59 سالہ دوسری بیوی سپچ چارو بالا کی ایک علاقہ میں موت ہو گئی ۔حکام نے بتایا کہ سنیچر کی رات کو 64 سالہ سابق ممبر اسمبلی کے گھر کے پاس واقع ایک گھر میں زبردست بم دھماکہ ہوا ہے ۔پولیس اس کی جانچ کررہی ہے ۔میتئی فرقہ سے اس گھر کا تعلق ہے جبکہ ہاو¿کپ کوکی جو فرقہ ہے وہ سابق ممبر اسمبلی نے پولیس کو لکھے ایک خط میں کہا کہ بم حملے سے گھر میں پڑا ہوا تھا ۔اور ان کی بیوی کے رابطہ میں آتے ہی یہ پھٹ گیا ۔سابق ممبر اسمبلی کی بیوی کے قتل کے معاملے میں آسم کانگریس نے اپنے ٹوئیٹر ہنڈل پر بھاجپا کو نشانہ پر لیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا برتاو¿ کررہی ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی دوسرے دیشوں کے لئے اڑان بھر سکتے ہیں لیکن اپنے ہی دیش کی ایک ریاست میں نہیں آسکتے ۔ادھر انڈین ہندوستانی فوج کے سلیپر کور کمانڈر کی میعاد سنیچر کو لیفٹننٹ جنرل امیجت ایس پودھار نے ذمہ داری سنبھال لی ہے ۔انہوں نے منی پور میں جاری ذاتی لڑائی کو ختم کرنے کو ترجیح دی ہے ۔انہوں نے مو¿ آرمی وار کالج کے کمانڈینٹ بنے لیفٹننٹ جنرل ہرجیت سنگھ جنرل ساہی کی جگہ لی ہے ۔ہندوستانی فوج کی سب سے بڑی اسپیئر کور منی پور سمیت شمال مشرق کے زیادہ تر علاقوں میں سیکورٹی کے لئے ذمہ دار ہے ۔پودارکر نے 1990 میں آسام رجمنٹ سے کمیشن حاصل کیا تھا اور 34 سال کی میعاد میں الگ الگ کمانڈ اور اسٹاف کے عہدوں پر کام کرتے رہے ۔منی پور کا سب سے بڑا مسئلہ فوج کی سختی سے شاید ختم نا ہو یہ ہم نے جموں کشمیر میں بھی دیکھا ہے ۔اس کا حل سیاسی طریقہ سے نکالا جاسکتا ہے ۔مرکز اور ریاستی سرکار کو مل کر سبھی متعلقہ پارٹیوں و گروپوں سے مل بیٹھ کر نظریات کے شیئر کرنے سے ہی کوئی حل نکل سکتا ہے لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب مرکزی سرکار اس مسئلے کو پوری ترجیح دے جو ابھی اس کے ایجنڈے میں نہیں لگتا۔ (انل نریندر)

مشرقی وسطیٰ جنگ کے دہانے پر !

پچھلے کچھ مہینوں سے مشرقی ایشیا میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں ایک طرف اسرائیل اور امریکہ ہیں تو دوسری طرف ایران ،یمن ،عرازق ،حزب اللہ اور کئی عرب ملک ہیں ۔عرب طاقتوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے ہی مٹادیں گے ۔یاد رہے حال ہی میں اسرائیل پر الزام ہے کہ اس نے کئی خود ساختہ دہشت گرد سرغناو¿ں کو موت کے گھات اتارا ہے ۔اسماعیل ھنیہ کا تو ایران کی راجدھانی تہران میں انتہائی محفوظ زون میں مار گرایا اسی طرح حزب اللہ کے کمانڈر ،حماس کے بڑے لیڈر کو بھی مارڈالا گیا تھا ۔ایران اسی کابدلہ لینے کی قسم کھا چکا ہے ۔اور اسرائیل پر حملے کی تیاری میں ہے ۔اس دوران ایران نے اپنی حمایتی گروپوں حزب اللہ اور حوثیوں سے اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے بھی شروع کر دئیے ہیں ایران خود بھی کسی بھی وقت سیدھے اسرائیل کیخلاف جنگ میں اتر سکتاہے ۔اسرائیل پر امکانی بڑے حملے کو دیکھتے ہوئے امریکہ بھی اسرائیل کی حمایت میں چوکس ہو چکا ہے ۔امریکہ نے اپنے جنگی ہوائی بیڑے خلیج میں تعینات کر دئیے ہیں ۔حزب اللہ مسلسل اسرائیل پر راکٹوں میزائلوں سے حملے کررہا ہے جس میں اسرائیل کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔اسرائیل بھی غزہ اور لبنان یمن پر تابڑ توڑ جواب دے رہا ہے ۔اسرائیل اور حزب اللہ کے تعلقات میں اور کشیدگی کیا رنگ لے گی اس کا تجزیہ کرنے کے لئے سب سے پہلے لبنان میں موجود اس مسلح گروپ کی فوجی صلاحیتوں کو سمجھنا ہوگا ۔اس امکانی جنگ میں ایک اور اسرائیل کی ہوائی فوج اور انٹیلی جنس کی برتری ہے تو دوسری طرف حزب اللہ کے پاس میزائلوں کا امبار اور ڈرون ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کی ہوائی فوج کی طاقت حزب اللہ کے مقابلے میں زیادہ اور اس کے سبب لبنان میں بڑی تباہی ہو سکتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ غزہ میں اسرائیل اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑرہا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے فوجی دستے تھکان کی وجہ سے ریٹائر ہیں ۔حزب اللہ کو ایران کی مکمل حمایت مل رہی ہے ۔پچھلے برسوں میں سامنے آنے والی کئی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے پاس ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذریعہ ایران ہے۔اب یہ بھی خبرآئی ہے کہ روس بھی ایران کو خطرناک ہتھیار مہیا کروا رہا ہے ۔ایران یہ ہتھیار عراق اور شام کے ذریعے حزب اللہ کو پہنچا رہا ہے ۔ان ہتھیاروں میں الماستین اینٹی ٹینک میزائل بھی شامل ہیں ۔جو ایک جدید ایرانی ہتھیار ہے ۔حزب اللہ نے حال ہی میں میزائل کا استعمال کیا تھا وہ حزب اللہ نے اپنے ایک لیڈر کے نام پر رکھا ہوا ہے جو بھی 2015 میں شام میں ماراگیا تھا ۔حزب اللہ کے چیف نصر اللہ کئی بار کہہ چکے ہیں ان کی تنظیم کے پاس ایسی میزائل موجود ہیں جس میں اسرائیل کے سنٹرل زون تک پہنچنے کی صلاحیت ہے ۔تنظیم کے پاس شارٹ رینج کے بیلسٹک میزائل بھی ہیں جو 300 کلو میٹر تک مار کر سکتی ہے ۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان دوری کم ہے اس سے حزب اللہ کو فائدہ ہے کیوں کہ اس سے اسرائیلی فوج کو میزائل سے حملے سے نمٹنے کے لئے وقت بھی کم ملے گا ۔میزائلوں کے علاوہ اس کے پاس جنگ میں بڑی تبدیلی ہوگی ۔حزب اللہ کے پاس انتہائی جدید ترین ڈرون کا ذخیرہ بھی ہے جس سے وہ مسلسل حملے کررہا ہے یہ لڑائی بڑھنے کی پوری امید ہے اور پورے مشرقی وسطیٰ میں پھیل سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

13 اگست 2024

دھنکھڑ کو ہٹانے کے لئے پرستاو ¿ کی تیاری !

راجیہ سبھا کے چیئرمین و نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے مبینہ جانب دارانہ رویہ سے ناراض اپوزیشن انہیں عہدے سے ہٹانے کا پرستاو¿ لانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن ان کے خلاف آئین کی دفعہ 67 کے تحت نوٹس دے سکتا ہے ۔چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کے لئے اس نوٹس پر 87 ممبران پارلیمنٹ نے دستخط بھی کر دئیے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 67(B) کے تحت نائب صدر کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کے طور پر سبھی اس وقت کے ممبران کے اکثریت سے پاس اور لوک سبھا میں رضامند کا پرستاو¿ پاس کرکے ہٹایا جاسکتا ہے ۔اس کے لئے کوئی بھی پرستاو¿ تب تک ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکتا جب تک پرستاو¿ پیش کرنے کے ارادے سے کم سے کم 14 دن کا نوٹس نا دیا گیا ہو ۔حالیہ راجیہ سبھا کی پارٹی کمیٹی کچھ ایسی ہے راجیہ سبھا میں ابھی 225 ممبران ہیں ۔بھاجپا کے 86 ممبروں سمیت این ڈی اے کے 101 ایم پی ہیں جبکہ انڈیا اتحاد کے 87 ممبر ہیں ایسے میں وائی ایس آر سی پی کے 11 بیجو جنتا دل کے 8 ۔اننا ڈی ایم کے کے 4 ممبروں کو ملا کر 32 ممبروں کا رول اہم ہوگا ۔حالانکہ 3 ستمبر کو راجیہ سبھا کی 12 سیٹوں کا چناو¿ ہے کم سے کم 10 سیٹیں بھاجپا کو ملنی چاہیے یعنی اس کی سیٹیں 96 ہو جائیں گی ۔اور این ڈی اے کی 112 ممبروں کے بٹنے سے 237 میں اکثریت کیلئے 119 پار ہو جائے گا ۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمراں سرکار کو راجیہ سبھا میں ہار کے ڈر کا امکان کے سبب ہی پارلیمنٹ سیشن تین دن پہلے ہی ختم کرنا پڑا ۔سارا ہنگامہ دراصل دھنکھڑ اور اپوزیشن کے درمیان لمبے وقت سے چلی آرہی تکرار ہے ۔بدھوار کو ایسے ہی ٹکراو¿ کے درمیان دھنکھڑ اپنی چیئر سے اٹھ گئے تھے راجیہ سبھا میں جمعہ کو سپا ایم پی جیا بچن اور چیئرمین دھنکھڑ کے لب ولہجہ پر اعتراض جتاتے ہوئے بھڑک گئیں جس کے بعد دھنکھڑ بھی تلملاتے ہوئے بولا کہ ان کی جیسی ہستی کو بھی مہذب رویہ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔جیا بچن نے کہا میں آرٹسٹ ہوں سر باڈی لنگویج سمجھتی ہوں ۔ایکسپریشن سمجھتی ہوں پر مجھے معاف کرئیے گا ،لیکن آپ کا لب و لہجہ جو ہے وہ ناقابل قبول ہے ۔ہم آپس میں کلیج ہیں بھلے ہی آپ چیئر پر بیٹھے ہیں اس پر دھنکھڑ جی نے کہا کہ آپ نے بہت عزت کمائی ہے آپ کو معلوم ہوگا کہ ایکٹر ،ڈائرکٹر کے کہنے پر چلتا ہے مجھے کسی سے پاٹھ نہیں پڑھنا ہے ۔آپ کہہ رہی ہیں میرا لب ولہجہ ٹھیک نہیں ہے ۔آپ کتنی بڑ ی سیلبرٹی ہوپارلیمنٹ میں قواعد کی تعمیل کرنی ہی ©پڑے گی ۔میں برداشت نہیں کروں گا ۔ایوان سے باہر آنے کے بعد پارلیمنٹ احاطہ میں جیا بچن نے کہا کہ وہ چیئرمین کے لب و لہجہ سے ناراض ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ملکا ارجن کھڑگے جی جب اپنی بات رکھ رہے تھے تو ان کا مائک بند کر دیا گیا اور اس سے اپوزیشن دکھی ہے ۔ایوان میں ٹکراو¿ کچھ دن پہلے ہی بھاجپا کے ممبر گھنشیام تیواری سے بحث ہوئی اور کچھ تبصروں کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں اور چیئرمین کے بیچ تلخ بحث ہو گئی تھی ۔دو دن پہلے راجیہ سبھا میں اجلاس کے دوران چیئرمین کے سبب اب اگلے سیشن میں اپوزیشن چیئرمین کےخلاف وجہ بتاو¿ نوٹس دے گا ۔تاکہ ان کے 14 دن بعد پرستاو¿ پیش ہو سکے ۔ (انل نریندر)

ونیش_ _ بھارت کا گولڈ تم ہی ہو!

پیرس اولمپک 2024 کے پہلے گولڈ میڈل کے لئے دیش کی 140 کروڑ امیدیں 100 گرام وذن تلے دب کر کچل گئی ۔بھارت کے پہلوان ونیش پھوگاٹ نے فائنل میچ کےلئے 50 کلو زمرے میں بدھوار کو صبح وذن کرایا تو 100 گرام زیادہ نکلا ۔اولمپک کے سخت قوائد کے چلتے وہ فائنل میں کھیلنے کے لئے نہ اہل ہو گئیں اور اس خبر سے جہاں 140 کروڑ دیش واسیوں کا دل ٹوٹ گیا ۔وہیں پورے دیش میں کہرام مچ گیا ۔ٹوکیوں اولمپک میں مایوس کن پرفارمنس دینے والی ونیش پھوگاٹ کی واپسی کی کہانی دل ٹوٹنے کے ساتھ ختم ہو گئی ۔جب ان کا وژن 50 کلوں سے 100 گرام زیادہ پایا گیا پھوگاٹ کو اس اندازہ پہلے سے ہی تھا کے وہ اس سال پہلے ہی اپریل میں کہہ چکی تھی کے وہ 50 کلو گرام کٹیگری کو دیکھتے ہوئے اگلے 4 مہینوں میں وژن بیلنس رکھنا چنوتی ہوگا مجھے اپنے وژن کو بہتر طریقہ سے کنٹرول میں رکھنا ہوگا ۔میں نے لمبے عرصے تک وژن کم کر 50 کلو تک کر لیا انہوںنے وژن میں تبدیلی اسلئے کی کے کیوں کے میرے پاس اور کوئی متبادل نیں بچا تھا میں خوش ہوں کے اولمپک میں کھیلنے کا موقع ملا ونیش چاہتی تھی کے 53 کلوں گرام کٹیگری میں کھیلیں لیکن انڈین کشتی فیڈریشن حکام نے کہا کے یا تو 50 کلو گرام میں لڑوں یا اولمپک میں حصہ نہ لو مجبوراً ونیش کو 53 کلوگرام کٹیگری میں لڑنا چھوڑنا پڑا اور وہ کیا لڑیں ۔لگاتار 3 مقابلے جیت کر وہ فائل میں پہنچی اس دوران انہوںنے ورلڈ چیمپئن ،اولمپک چیمپئن کو ہارایا یہاں کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں اس میں کوئی شوبہ نہیں کے ونیش 3 بار بائٹ جیتیںاگر وہ فائنل راﺅنڈ میں کشتی نہ لڑتی تو کہہ دےتی میں بیمرار ہوں اور کشتی لڑنے کے لائق نہیں ہوں تو انہیں خد با خد سلور میڈل جاتا ۔اس حساب سے تو سپورٹ اسٹاف نے غلطی کی انہیں فائنل میں نہیں اتارنا چاہئے تھا جب کے انہیں معلوم تھا کے وہ زیادہ وژن والی ہیں یہ جو سپورٹ اسٹاف شرارت بس کر گیا تھا یہ کیا پیرس میں پکنک پر گیا تھا ؟ونیش پھوگاٹ کا کیس نے تو ساتھ گئے حکام سے بھی تھیک طرح سے ہینڈل نہیں کیا اور نہ ہی نیتا امبانی جو آئی او سی کی ممبر تھیں ۔اگر وہ چاہتی تو زور لگا سکتی تھیں ۔خیر اب امید ہے جو اور آر بی ٹیٹر ٹربیونل ہے وہ ونیش پھوگاٹ کے حق میں فیصلہ دیں اور انہیں جوائنٹ سلور میڈل اب بھی مل جائیگا ونیش اس حادثہ کے بعد اتنی جزباتی ہو گئیں انہوںنے اپنی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے سندیش بھیجا کے میں کشتی کو الودع کہتی ہوں ماں میرے سے کشتی چیت گئی میں ہار گئی معاف کرنا آپکا سپنا میری ہمت سب ٹوٹ گئی ۔اس سے زیادہ طاقت نہیں رہی اب الوع کشتی 2001 - 2024 میں آپ کی پابند رہوں گی مجھے معاد کر دیجئے ادھر ٹوکیوں اولمپک کے ریسلر بجرنگ پونیا نے کہا کہ ونیش ہاری نہیںآپ کو ہرایاگیا ہے ۔ہمارے لئے آپ ہمیشہ وجیتا ہی رہیں گی آپ بھارت کی بیٹی کے ساتھ ساتھ بھارت کا ابھیمان بھی ہیں ۔وہیں ساکشی ملک نے کہا کہ ونیش کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ ہمارے دیش کی بیٹی کی ہار ہے ۔ونیش تم ہارنے والی نہیں ہو ۔یہ صرف تمہاری ہار نہیں بلکہ پورے دیش کی ہارہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...