Translater

22 ستمبر 2012

کیامنموہن سنگھ سرکار کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے؟


جناب پرنب مکرجی کو یوں ہی نہیں کہا جاتا تھا کہ وہ کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار کے سنکٹ موچک رہے۔انہیں صدر بنے ابھی دو مہینے کا وقت بھی نہیں گذراکہ کانگریس کی سرکار کی نیا ڈانواں ڈول ہوگئی ہے۔ پرنب دا کی غیرموجودگی میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے خود پارٹی اور سرکار کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے۔ یہ کتنی کامیاب نیتا ہیں دو مہینے میں پتہ چل گیا۔ اس دوران سرکار کا اور اپوزیشن کا صرف ٹکراؤ ہی بڑھا ہے۔ رہی بات وقت کی تو پتہ نہیں منموہن سنگھ نے کیا سوچ کر یکدم ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ ابھی جنتا اس سے سنبھلی نہیں تھی کہ خوردہ بازار میں ایف ڈی آئی کا نیا مسئلہ کھڑا کردیا گیا۔کیا ایف ڈی آئی اور ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں کو ایک ساتھ لانا ضروری تھا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تمام اپوزیشن متحد ہوگئی۔ بھارت بند نے یہ تو ثابت کردیا ہے کہ لوک سبھا میں اکثریتی ایم پی سرکار کے خلاف ہیں۔چاہے وہ بھاجپا ہو یا سپا یا پھر لیفٹ پارٹیاں سبھی آج حکومت کے خلاف کھڑی ہیں۔ ممتا نے آخر کار اپنے وزرا سے استعفیٰ دلوا کر یوپی اے سرکار سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ اس کے پیچھے ان کی مجبوریاں ہیں۔مغربی بنگال میں ان کا مقابلہ لیفٹ فرنٹ سے ہے۔ ممتاایک منٹ کے لئے ڈیزل کی قیمتوں پر سودے بازی کر سکتی تھیں لیکن ایف ڈی آئی پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی تھیں۔ اگر وہ کرتیں تو مغربی بنگال میں لیفٹ فرنٹ اس کا فائدہ اٹھا کر ممتا کے خلاف چناوی اشو بنا سکتا تھا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ پر کھلے الزام لگ رہے ہیں کہ وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے اصولوں کے زیر اثر فیصلے لے رہے ہیں۔ انہیں امریکہ کی زیادہ فکر ہے بہ نسبت ہندوستان کے۔ یوپی اے سرکار میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے اس لئے اسے سبھی پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر چلنا چاہئے ایسا لگتا ہے2004ء میں اتحادی حکومت چلانے کے باوجود کانگریس 8 سال بعد بھی اتحاد کی سیاست کو لیکر سنجیدہ نہیں ہوپائی ہے اور کبھی بھی اس کا غرور اس کے آڑے آجاتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ 1991ء کی نرسمہا راؤ سرکار اقلیت میں ہونے کے باوجود وہ ڈگمگا نہیں سکی اور اپنے اصول پر قائم رہی اور نمبروں کے جوڑ توڑ سے سرکار بچا لے جاتی تھی۔ پچھلی بار بھی اسے 205 سیٹیں ہی ملی تھیں اور وہ اتحادی پارٹیوں کی حمایت سے ہی چل سکتی ہے۔ اس کے باوجود کانگریس میں آج غرور اتنا حاوی ہے کہ وہ ضروری سے ضروری فیصلوں پر بھی اپنی اہم اتحادی پارٹیوں سے صلاح مشورہ نہیں کرتی اور یکطرفہ فیصلے لے کر امید کرتی ہے اتحادی پارٹیاں اس کی مدد کرنے کو مجبور ہوں گی۔ آج اگر سی بی آئی کا ہوا نہ ہوتا تو دونوں ملائم اور مایاوتی کانگریس کو اس کی صحیح اوقات دکھا دیتیں۔ ویسے بھی سپا اور بسپا قابل بھروسہ اتحادی نہیں مانے جاسکتیں اور فی الحال تو یہ دونوں سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ سرکار کو مغرور اور عوام مخالف بتا رہے ہیں۔ یوپی اے کے ساتھ ڈی ایم کے نے بھی جس طرح سے بھارت بند میں شامل ہوکر کانگریس کو جھٹکا دیا ہے اس کے فیصلے سے صاف ہے کہ حال ہی میں کوئی بھی پارٹی سرکار کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں ہے۔ بہتر ہو کے کانگریس کے پالیسی ساز اس بارے میں غور کریں کہ ایسی حالت کیوں بنی؟ کانگریس پر یہ کہہ کر عام جنتا اور اتحادی پارٹیوں کو متاثر نہیں کرسکتی۔ وہ اقتصادی اصلاحات کے تئیں عہد بند ہے اور ان سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر شپ والی یوپی اے سرکار نے حال ہی میں جو فیصلے لئے ہیں انہیں پورے طور پر اقتصادی اصلاحات کی تشبیہ دینا مشکل ہے۔ ڈیزل کے داموں میں اضافہ اور خوردہ کاروبارمیں غیر ملکی سرمائے کو اجازت دینے کے فیصلے کو حقیقتاً اقتصادی اصلاحات ماننا مشکل ہے۔ تیل کمپنیاں ڈیزل کے دام کے معاملے میں ابھی بھی سرکار کی محتاج ہیں۔ اسی طرح خوردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمائے کو اجازت دینے کا فیصلہ تب تک ادھورا ہے جب تک اس پر سیاسی اتفاق رائے نہیں بن جاتا۔ ہماری نظر میں بھارت بند کامیاب رہا۔ بھاجپا نے اس کی کامیابی کے لئے بہت محنت کی۔ بند کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی نے اپنے 50 لیڈروں کو الگ الگ شہروں میں بھیجا۔ بھارت بند میں گرفتاری دیتے وقت سپا چیف ملائم سنگھ یادو نے کہا فی الحال ان کی حمایت یوپی اے کے ساتھ ہے لیکن یہ کب تک رہے گی کہہ نہیں سکتے۔ اس کا مطلب ہے کہ بسپا کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ مایاوتی آنے والی10 اکتوبر کو آگے کی حکمت عملی کا اعلان کریں گی کیونکہ ملائم سنگھ سیاسی طور پر منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں اس لئے وہ نہیں چاہیں گے کے وہ مایا سے پہلے اپنے پتتے کھولیں۔ اتنا طے ہے کہ منموہن سنگھ سرکار کے مستقبل پر سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا تو یہاں تک ماننا ہے یوپی اے سرکار کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی شاطرانہ چال


اپنے پرانے موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف منگل کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملوں میں مقدمہ چلانے کے لئے سوئس حکام کو خط لکھنے کو رضامند ہوگئے ہیں۔ پرویز اشرف کے اس یو ٹرن پر کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا اس کے لئے وزارت قانون کو ہدایت دی جاچکی ہیں۔ پاکستان سرکار اس معاملے میں طویل عرصے سے سوئس حکام کو خط لکھنے سے بچتی رہی ہے۔ کچھ لوگ اشرف کے اس موقف کو ایک اسمارٹ قدم مان رہے ہیں۔ سرکار کے پاس اب کل چار مہینوں کا وقت بچا ہے اور اس مرحلے پر سپریم کورٹ کی شرط ماننے سے صدر زرداری کو کوئی نقصان ہونے والا نہیں۔ خط میں کئی دن نکل جائیں گے ۔ پھر سوئس حکام بھی کسی دیش کے سربراہ مملکت کے خلاف اتنی تیزی سے کام کرنے سے تو رہی۔ اس حکومت کی میعاد2013ء میں ختم ہونے والی ہے اور اگر یہ حکومت تب تک چلی جاتی ہے تو یہ بھی ایک معجزہ ہی ہوگا۔ ایک منتخبہ حکومت پاکستان میں اپنی میعاد پوری کرلے۔ وزیراعظم اشرف نے اپنی سرکار کو اتنا وقت دلا دیا ہے کہ بری طرح سے پیچھے پڑی سپریم کورٹ کے پاس اب اس سرکار کو گھیرنے کا کوئی بہانا نہیں بچتا۔ اس قدم سے پاکستانی عدلیہ اور چنی ہوئی سرکار کے درمیان کافی عرصے سے جاری لڑائی میں کچھ دنوں کے لئے ٹھہراؤ کی گنجائش بن گئی ہے۔ عدالت نے اشرف کو خط کا مسودہ تیار کرنے کے لئے 25 ستمبر اور عدالت کی رضامندی ملنے کے بعد اسے سوئس حکام پہنچانے کے لئے2 اکتوبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے اس موقف کے بعد اس کے خلاف توہین عدالت کے معاملے کولیکر چل رہے مقدمے کی سماعت کا خط مضمون جمع کرنے کی تاریخ تک کے لئے ٹال دیا گیا ہے۔ پچھلے تین برسوں سے پاکستان کی سپریم کورٹ زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں جانچ کروانے کے لئے ہاتھ دھوکر پیچھے پڑی ہوئی تھی۔ سرکار کا موقف یہ تھا کہ دیش کے سب سے بڑے عہدیدار کی شکل میں انہیں کسی بھی جانچ سے مستثنیٰ رکھنے کا آئینی مخصوص اختیار حاصل ہے۔ گذشتہ جون میں سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا ذمہ دار مانتے ہوئے عہدے سے نا اہل قراردے دیا تھا۔ ان کی جگہ لینے والے راجہ پرویز مشرف بھی حال ہی تک گیلانی کے راستے پر بڑھتے نظر آرہے تھے لیکن اب شاید اپنی حکومت کی میعاد پوری ہوتے دیکھ کر حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی پارٹیوں نے عدالت سے ایک اور ٹکراؤ مول نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں آج تک کسی بھی منتخبہ مرکزی حکومت کو پانچ سال کی مقررہ میعاد پوری کرنے کا موقعہ نہیں ملا ہے۔ اس لہٰذا سے زرداری سرکار اگر اپنی میعاد پوری کر لیتی ہے تو یہ نہ صرف ایک تاریخی کارنامہ ہوگا بلکہ آنے والے چناؤ میں بھی پی پی پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔ پاکستان میں انتظامیہ اور عدلیہ کا ٹکراؤ بھی ٹلے گا۔ کل ملا کر اشرف کا یہ قدم شاطرانہ چال ہی مانا جائے گا۔
(انل نریندر)

21 ستمبر 2012

منزل ایک پر راستے الگ الگ: انا ہزارے


انا ہزارے نے صاف کردیا ہے کہ وہ سیاسی پارٹی بنانے کے اپنے ساتھی اروند کیجریوال کی تجویز سے متفق نہیں ہیں۔ اپنے گاؤں رالے گن سدھی میں انا نے جو اپنی تنظیم کرپشن مخالف عوامی تحریک کو سرگرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے بعد تحریک کی دو الگ الگ سمت طے ہوگئی ہیں۔ دوسری طرف اروند کیجریوال ہیں جو 2 اکتوبر کو ایک سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کرچکے ہیں تو انا اپنی پرانی غیر سیاسی تنظیم کو پھر سے سرگرم کرکے سیاست سے دور رہنے کا صاف اشارہ کرچکے ہیں۔ کرپشن مخالف عوامی تحریک انا ہزارے کی پرانی تنظیم ہے جس کے تحت انہوں نے مہاراشٹر میں کئی تحریکیں چلائیں تھیں۔ انا نے منگلوار کو کہا کیجریوال کے پارٹی بنانے کا مطلب ہوگا کرپشن سے پاک دیش بنانے کا یکساں مقصد پانے کے لئے الگ الگ راستہ اپنانا۔ انا ہزارے نے کہا میں نے طے کیا ہے کہ میں کسی سیاسی پارٹی کی تشکیل نہیں کروں گا اور چناؤ بھی نہیں لڑوں گا۔ انا سے پوچھا گیا تھا کیا کیجریوال کی نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل میں ان دونوں کے درمیان دراڑ آگئی ہے۔ ابھی تک ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ انا ہزارے سیاسی پارٹی کے نظریئے کے خلاف ہیں یا وہ سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہونا چاہتے۔ لیکن اب شاید وہ کہہ رہے ہیں کہ سیاسی پارٹی سے دور رہیں گے لیکن چناؤ میں ایماندار اور آزاد امیدواروں کو حمایت دے سکتے ہیں۔ کرپشن کے خلاف مورچے میں صرف یہ ہی دراڑ نہیں ہے اروند کیجریوال اور کرن بیدی کے درمیان بھی اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ انا کی ٹیم کے اہم ممبر بھی اپنی اپنی راہ پکڑ سکتے ہیں کیونکہ کرپشن مخالف احتجاج کے علاوہ دیگر اشوز پر ان کی رائے الگ الگ نظر آرہی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انا ہزارے ایک نیک نیت ،ایماندار اور محنتی شخص ہیں لیکن قومی اہمیت کے مسئلوں پر ان کا کوئی وسیع نظریہ نہیں ہے۔دوری طرف اروند کیجریوال ایک بہت زیادہ توقع رکھنے والے شخص ہیں جو عام طور پر لیفٹ کی زبان بولتے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے ایک سروے کرایا انڈیا اگینسڈ کرپشن کے ذریعے کئے گئے سروے میں نتیجہ نکلا کہ 737041 لوگوں میں سے 561701 نے ایک سیاسی پارٹی بنانے کی حمایت کی ہے۔ سروے میں 76 فیصدی نے پارٹی بنانے اور 24 فیصدی نے مخالفت میں اپنی رائے دی ہے۔ پنے میں سماجی رضاکاروں کی میٹنگ کے بعد انا شام کو نئی دہلی پہنچے۔ انہوں نے کہا جو لوگ چناؤ نہیں لڑنا چاہتے انہیں ایک بڑی تحریک شروع کرنی ہوگی جو پچھلے سال اگست میں رام لیلا میدان میں تحریک سے بھی بڑی ہو۔ انا نے تحریک کے بدلتے رنگ کو دیکھتے ہوئے جے پی تحریک کا بھی ذکر کیا۔ یہ بھی کہا کہ جے پرکاش نارائن کو کیا پتہ تھا کہ ان کی تحریک سے لالو پرساد جیسا لیڈر نکلے گا۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمارے پاس ایسے لوگ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا میری دلیل تو یہ ہے کہ چناؤ مت لڑو۔ جو لڑنا چاہتا ہے لڑے ،آخر ہماری منزل تو ایک ہی ہے ،بیشک راستے الگ الگ ہوں۔
(انل نریندر)

دیش میں بڑھتی آبروریزی کی وارداتیں 2012 میں 29.27 فیصدی اضافہ


دیش میں اور خاص کر راجدھانی دہلی میں عورتوں کی سلامتی کے لئے بھلے ہی سرکار کے ذریعے کتنے ہی انتظامات کئے گئے ہوں لیکن ان دعوؤں کی ہوا نیشنل کرائم بیورو کے اعدادو شمار نے نکال دی ہے۔ بیورو کے ریکارڈ چونکانے والے ہیں۔ اس کے مطابق آبروریزی جیسے گھناؤنے جرائم سال2012 ء میں29.27 فیصدی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق روزانہ تقریباً50 عورتوں کے ساتھ آبروریزی ہوتی ہے یعنی ایک گھنٹے میں دو عورتوں کی عصمت دری ہوتی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ اعدادو شمار سرکاری رپورٹ کی بنیاد پر مرتب ہیں لیکن بہت سے ایسے معاملے ہیں جن کو دبا دیا جاتا ہے جو بدنامی کی وجہ سے درج نہیں ہوپاتے۔ نیشنل کرائم بیورو کے مطابق 2011ء میں آبروریزی کے 7112 معاملے سامنے آئے۔ اس سے پہلے مارچ 2010ء میں 5484 معاملے درج کئے گئے۔ آبروریزی کے اعدادو شمار پر غور کریں تو ان معاملوں میں 29.7 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ آبروریزی کے معاملوں میں مدھیہ پردیش ریاست کا پہلامقام رہا۔ جہاں اس سال میں1262 معاملے درج ہوئے۔ دوسرے مقام پر1088 معاملوں میں اترپردیش ہے جبکہ 818 معاملوں میں مہاراشٹر ہے۔ قومی کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ دہلی آبروریزی کے معاملے میں اول ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں یہاں آبروریزی کے واقعات بڑھے ہیں۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی دوسرے جبکہ بھوپال تیسرے مقام پر ہے۔ اس معاملے میں پنے چوتھے مقام پر ہے جبکہ گلابی شہر جے پور ساتویں مقام پر ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق دہلی میں 2011ء میں آبروریزی کے 568 معاملے ، ممبئی میں 218 معاملے درج ہوئے۔ وہیں عالمی صحت تنظیم کے ایک مطالعہ کے مطابق بھارت میں ہر 54 منٹ میں ایک عورت کے ساتھ منہ کالا کیا جاتا ہے۔ اس درمیان راجدھانی دہلی میں سال 2011 ء کے مقابلے سال2012ء میں جرائم کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ قتل ،اقدام قتل اور زرفدیہ والے جرائم میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سڑک پر ہو رہی وارداتوں کو بھی روکا نہیں جاسکا۔ پولیس کا کہنا ہے ہر گھر کی سکیورٹی نہیں کی جاسکتی لیکن حال ہی میں ہوئی وارداتوں کو تو جرائم پیشہ لوگوں نے سڑکوں پر ہی انجام دیا ہے۔ دن دہاڑے سڑکوں پر ہورہی وارداتوں کو کیوں نہیں روکا جاسکتا؟ غور طلب ہے کہ جرائم پیشہ واردات کرنے کے بعد بھاگنے میں کیوں کامیاب ہوجاتے ہیں؟ کیوں نہیں انہیں روکا جاسکا۔ مثال کے طور پر راجدھانی کے بندا پور میں ایک سنکی عاشق نے پہلے دو لوگوں کو مارا اس کے بعد وہ موٹر سائیکل سوار ہوکر غازی آباد کی طرف بھاگا۔ اس دوران اسے کہیں بھی روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ دہلی پولیس کے جوان سڑکوں پر ناکے بندی کرکے جانچ کرتے ہیں لیکن سنکی روی بے خوف دہلی سے غازی آباد گیا ،وہاں بھی دو لوگوں کو مار ڈالا۔ اسی سلسلے میں راجدھانی کے سروپ نگر علاقے میں 7 ستمبر2012ء کو کچھ دیر تک گولیوں کی آواز گونجتی رہی اور پھر موت کا سناٹا چھا گیا۔ دو سنکی عاشقوں نے اپنی محبوباؤں کو اپنے ہاتھوں گولی ماردی۔ ان وارداتوں سے صاف ہے کہ دہلی میں سڑکوں پر بدمعاش آسانی سے وارداتیں کرتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔
(انل نریندر)

20 ستمبر 2012

دیش میں فرقہ وارانہ سدبھاؤ بگاڑنے کے پیچھے سازش


جس طریقے سے اترپردیش کے کچھ شہروں میں فساد ہورہا ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ کچھ طاقتیں دیش میں بدامنی، فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔ جمعہ کو غازی آباد کے مسوری علاقے کے ادھیاتمک نگر اسٹیشن کے پاس ایک مذہبی کتاب کے صفحے پر اعتراض آمیز الفاظ لکھے ہونے کی افواہ پھیلی۔ جس کی شکایت مسوری پولیس سے کی گئی۔ شام کو مسوری میں معاملہ درج کیا جارہا تھا کہ اسی درمیان بھاری تعداد میں اس فرقے کے لوگ تھانے پہنچے اور ہنگامہ شروع کردیا۔ مشتعل بھیڑ نے این ایچ 24 کو جام کردیا اور توڑ پھوڑ ،آتشزنی کی۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لئے طاقت کا استعمال کیا تو بھیڑ کی طرف سے پتھراؤ اور گولہ باری ہونے لگی۔ تب پولیس نے فائرننگ کی، دونوں طرف سے فائرنگ اور پتھراؤ میں 6 لوگ مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں ناہل کے باشندے آصف،پبلوڑا کے باشندے وحید اور مسوری کے وسیم کے طور پر ان کی شناخت ہوئی ہے۔ وسیم بی ٹیک کا طالبعلم تھا۔ فساد زدہ علاقے کے دورہ کے دوران ایس بھی دیہات جگدیش شرما، دروغہ رمیش چند، ہیڈ کانسٹیبل روپ چند، کانسٹیبل جنیشور سینی سمیت دوسرے فریق کے کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ فی الحال حالات قابو میں ہیں لیکن اس واردات پر جو سوال کھڑے ہوئے ہیں وہ ضرور بڑے ہیں اور اہم بھی ہیں۔ آسام تشدد ، پھر ممبئی میں جھگڑا اور اسی سلسلے میں شمال مشرق کے لوگوں کی ہجرت کے بعد اس بات کے پختہ اشارے تھے دیش کی آب و ہوا میں زہر پھیلانے کی کوشش جاری ہے۔ بعد میں دیش کے کئی حصوں میں خاص کر اترپردیش میں ایسے واقعات ہوئے جن سے یہ اندیشہ ہوا کہ کچھ طاقتیں دیش کے اندر اور باہر ایسی ہیں جو ہمارے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ پچھلے15 روز میں اترپردیش کی سرحد سے لگے دہلی کے میور وہار فیز I- میں معمولی جھگڑے کے بعد زبردست جھگڑا اور آتشزنی ہوئی۔ اب غازی آباد میں یہ جھگڑا ہوا۔ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ تمام پختہ احکامات کے بعد آخر کیا وجہ رہی کہ ایک چھوٹی سی چنگاری کو جان لیوا آگ میں بدلنے سے نہیں روکا جاسکا؟ سوال ہماری خفیہ ایجنسیوں پر بھی اٹھتا ہے کہ کیا وجہ ہے انہیں بروقت ان سازشوں کا پتہ نہیں ہوتا؟ ساتھ ہی مقامی انتظامیہ کیا سو رہی تھی؟ اسے اس ماحول کا پتہ نہیں چلا؟ سپا کی اکھلیش یادو کی حکومت ریاست میں لا اینڈ آرڈر بنائے رکھنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے اور ان عناصر کا پتہ چلانا انتہائی ضروری ہے جو دیش میں فرقہ وارانہ بھائی چارہ بگاڑنے کی پوری کوشش کررہی ہیں۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج جنتا میں زبردست ناراضگی ہے اور کوئی بھی موقعہ ملے وہ سرکار کے خلاف سڑکوں پر اترکر جھگڑا اور آگ زنی کرنے سے نہیں چوکتے کچھ حد تک پولیس کا خوف بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ پولیس کو بھی ہم قصور وار نہیں کہہ سکتے کیونکہ سیاستداں انہیں صاف حکم دینے سے کتراتے ہیں۔ اس ووٹ بینک کی سیاست نے دیش کو تباہ کردیا ہے۔ لگتا ہے کہ ہم ایک جوالہ مکھی پر بیٹھے ہوئے ہیں جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

اس بار ٹی۔20 ورلڈ کپ کسی کی بھی جھولی میں جا سکتا ہے!


آخر انتظار ختم ہوگیا ہے ۔ کرکٹ کے شائقین اور پوری دنیا میں ایک بار پھر کرکٹ کا بخار چڑھنے لگا ہے۔ ٹی۔20 ورلڈ کپ 2012 کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس مرتبہ اس کا انعقاد سری لنکا میں ہورہا ہے۔ اگلے 20 دنوں تک 12 ٹیموں کے درمیان دلچسپی کی نئی داستاں لکھی جائے گی۔ ایک وکٹ سے میچ کا رخ بدلے گا تو ایک رن سے جیت کا فیصلہ ہوجائے گا۔ کچھ میچ سپر اوور تک بھی جاسکتے ہیں۔ گیند اور بلے کی جنگ میں گلیمر کا تڑکا بھی لگے گا۔ مطلب تفریح کی پوری گارنٹی ہوگی۔ کئی نئے ریکارڈ بنے ہیں کئی پرانے ٹوٹیں ہیں۔ اس برصغیر کی پچ ہمیشہ سے دلچسپ کرکٹ کے لئے مشہور رہی ہے۔ لہٰذا اس مرتبہ ٹی۔20 ورلڈ کپ بھی دلچسپ ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹی۔20 ورلڈ کپ کی ونر ٹیم کو10 لاکھ ڈالر ملیں گے اور رنر ٹیم کو5 لاکھ ڈالر۔ سیمی فائنل میں پہنچنے والی ٹیم کو2.50 لاکھ ڈالر ملیں گے۔ اس بار کا ٹی۔20 ورلڈ کپ شاید سب سے کھلا ٹورنامنٹ ہے۔ اس بارٹی۔20 ورلڈ کپ کا خطاب کون جیتے گا یا پھر کونسی دو ٹیمیں فائنل میں پہنچیں گی ، اس کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ویسے بھی ٹی۔20 کھیل میں کسی طرح کی قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی کیونکہ کھیل میں کئی دلچسپ اتار چڑھاؤ دیکھنے کوملتے ہیں۔ میچ کے دن کونسی ٹیم اچھا کھیل دکھا سکتی ہے اس پر اس دن ہار جیت منحصر کرتی ہے۔ کاغذوں میں بیشک آپ بہت مضبوط نظر آئیں لیکن اس دن آپ اچھا نہیں کھیلو گے تو ہار جاؤگے۔ پہلے چمپئن ٹیم انڈیا سری لنکا کی دھیمی پچوں میں ضرور ایک باپھر خطاب اپنے نام کرنے کی پوری کوشش کرے گی لیکن پاکستان کے ساتھ کھیلے پریکٹس میچ میں ایک بالر کی کمی محسوس ہوئی۔ سات بلے بازوں کو کھلانے کا کوئی تک نہیں تھا۔ ایک بلے باز کو کم کرکے ایک سپنر لینا بہتر ہوگا۔ پاکستانی ٹیم غیر متوقعہ کھیل دکھانے میں ماہر ہے۔محمد حفیظ کی ٹیم اس بار بہت اچھا کھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ آسٹریلیا کو ہراکر یہاں پہنچی اس ٹیم کا حوصلہ بڑھا ہوا ہے۔ بھارت کو پریکٹس میچ میں ہراکر بھی پاکستان کا حوصلہ بڑھا ہوگا۔ میزبان سری لنکا بھی ایک متوازن ٹیم ہے۔ اچھے دھنواں دھار گیند بازوں کے ساتھ ملنگا جیسا ٹی۔20 بالر بھی ان کے پاس ہے۔ ویسٹ انڈیز میں کرس گیل اگر چل گئے تو اس دن ان کے سامنے کئی بالر ، ٹیم ٹک نہیں سکتی۔ آسٹریلیا بھی اچھی ٹیم ہے۔ جارج بیلی کی کپتانی میں آسٹریلیائی ٹیم ابھی تک ٹی۔20 میں اپنا لوہا نہیں منوا سکی۔ چمپئن انگلینڈ کو پچھلے مین آف دی ٹورنامنٹ کے کیون پٹرسن کی کمی کھلے گی۔ تنازعوں سے گھرا رہنے والا یہ بگ ہٹر ٹی۔20 اور ون ڈے کرکٹ سے سنیاس لے چکا ہے۔ انگلینڈ کرکٹ نے ٹی۔20 کھیلتے رہنے کی اس کی گزارش کو ٹھکرادیا تھا۔اے بی ڈیبلیرس کی جنوبی افریقہ کی ٹیم نے ابھی تک ایک بھی آئی سی آئی ٹرافی نہیں جیتی۔ دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لئے بدنام ساؤتھ افریقہ اس بار چوکرس کا داغ دھونا چاہے گی۔ ویسٹ انڈیز اور نیوز لینڈ چھپے رستم ثابت ہوسکتے ہیں۔ کریبیائی ٹیم ضرور چاہے گی کہ کرس گیل آئی پی ایل فارم میں رہیں جس کے دم پر انہوں نے قومی ٹیم میں واپسی کی تھی۔ کریبیائی ٹیم منظم تھی لیکن جب سے گیل نے واپسی کی ہی ٹیم نے پچھلے کچھ مہینوں میں اچھے نتیجے دئے ہیں۔ نیوز لینڈ کے پاس ڈینیل وٹوری جیسے اسپنر ہیں جسے پچ سے مدد ملے گی۔ افغانستان ،آئرلینڈ کے علاوہ زمبابوے بھی اچھا کھیلیں گے۔ اب بات کرتے ہیں ٹیم انڈیا کی ۔ بھارتیہ ٹیم 2007 ء میں افتتاحی ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد سے امیدوں پر کھری نہیں اتری۔ بیشک ان کے پاس اچھے بلے باز ہیں جو ایک اچھا اسکور کھڑا کرسکتے ہیں لیکن ہماری بالنگ میں بھی تو اتنا دم ہو کہ ہم حریف ٹیم کو ان کے رنوں کو روک سکیں۔ پریکٹس میچ میں جس طریقے سے پاکستانی بلے بازوں نے رنوں کا پیچھا کیا ہم انہیں فاضل رن لینے سے نہیں روک سکے جودونوں ٹیموں کے درمیان ہار جیت کا فرق پیدا کرتے ہیں۔ یووراج ٹیم کا ٹیم میں لوٹنا بھارتیہ ٹیم کے لئے اچھا اشارہ ہے۔ یووی وہی کھلاڑی ہیں جنہوں نے انگلینڈ کے کھلاڑی اسٹووڈ براڈ کی چھ گیندوں میں چھ چھکے لگا کر میچ کا رخ پلٹ دیا تھا۔ براڈ اب انگلینڈ ٹیم کے کپتان ہیں۔ بھارت کو گروپ اے اسٹیج میں ہی انگلینڈ سے کھیلنا ہے اور یہاں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس بار براڈ کے پاس مسکرانے کا موقعہ ہوگا یا پھر یووراج پھر ان کی گیند پر چھکے اڑائیں گے؟ اس بار ٹورنامنٹ میں مقابلہ برابری کاہے۔ کوئی بھی دعویدار نہیں ہے اور کسی خاص دن کئے گئے ٹیم کا اچھا کھیل ہی اہمیت رکھتا ہے۔ نہ کہ ان کا وقار اور پیپر پر دعویداری۔
(انل نریندر)

19 ستمبر 2012

face tattoos on arm

face tattoos on arm

Tran's face on his arm! Joker Face Tattoo For Arm Left Arm Tattoo Celebrity Face Tattoo On Arm Inner Arm Virgin Mary. Face Chris Brown's Tattoo Of Memorial Gurn Face Tattoo face tattoo on arm face, arm, tattoos, outfit face; Tattoos: left arm, tattooed onto his forearm, Face Tattooed on His Arm add — tattooed on his arm. Jim Morrison Face Tattoo On Sombre Face Horror Arm Sleeve 1 TaT by Tattoo Description: Rap Black and Grey Pin Up Face Minaj's Face On His Arm Woman's Face Tattoo on arm 4rfv2ws7u face tattoos on arm - face tattoos on arm face tattoos on arm

ملائم۔ ممتا کا ڈرامہ :یہ بادل گرجتے ہیں برستے نہیں


کرپشن اور مہنگائی، ایف ڈی آئی کے ریٹیل کے مدے پر منموہن سرکار کے ناکارہ ثابت ہونے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریں وسط مدتی چناؤ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ بھاجپا امیدرکھے ہوئے ہے کہ یوپی اے کی اتحادی پارٹیاں دیر سویر اس سرکار سے حمایت واپس لے لیں گی اور یہ سرکار گر جائے گی لیکن ہمیں نہیں لگتا ایسا ہوگا۔ ممتا بنرجی، ملائم سنگھ یادو، مایاوتی اور کروناندھی سبھی ایک ساتھ ایک جھٹکے میں حمایت واپس لے لیں تو سرکار کو صحیح معنی میں خطرہ ہوسکتا ہے لیکن تب بھی سرکار فوراً گرنے کے آثار نہیں ہیں۔ سرکار ایک منٹ کے لئے گربھی جائے تو کسی اور کی سرکار بننے کے آثار نہیں ہیں۔ ان سب کے پیش نظر بھی کانگریس اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت خطرہ مول لیا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یوپی اے کی کوئی اتحادی پارٹی سرکار گرانے کے حق میں نہیں ہے۔ پھر بھی حمایت واپسی کا من بنا لیا جاتا ہے تو سرکار کی طاقت کی آزمائش پارلیمنٹ میں ہی ہوسکتی ہے۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ابھی تین مہینے دور ہے۔ پہلے سیشن اگر بلانا ہے تو ممتا، ملائم ، مایا اور کروناندھی کے لیڈروں کی پارٹیوں کو مل کر صدر سے درخواست کرنی پڑے گی۔ کیا لیفٹ پارٹیاں اور سماجوادی پارٹی فرقہ پرست بی جے پی کے ساتھ کھڑی ہوں گی، کیا ممتا لیفٹ کا ساتھ دیں گی، کیا بسپا۔ سپا ایک خیمے میں ہوں گے؟ اتنے سارے سوال سرکار کو گرانے سے بچا سکتے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ نہ تو ممتا حمایت واپس لینے والی ہیں اور نہ ہی سپا۔ ہاں این ڈی اے یہ ضرور امید رکھے ہوئے ہے کہ سرکار گر سکتی ہے۔ سپا چیف ملائم سنگھ یادو ہمیشہ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ یاد ہے کہ ایٹمی معاہدے اور صدارتی چناؤ کا قصہ دونوں نے بار بار دھمکی دی اور بعد میں یوپی اے کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ لوکپال پر بھی سرکار کو بحران سے نکال لے گئے تھے۔ دراصل کھیل تو 2014ء کی کرسی کا ہے۔ ملائم سرکار گرانے کے بعد 2014ء کا انتظار کرنا چاہیں گے۔ اس درمیان یوپی اور تھرڈ فرنٹ کے درمیان اپنی طاقت بڑھاتے رہیں گے تب تک منموہن سرکار سے پیسے کی سودے بازی کرکے زیادہ سے زیادہ پیسہ لیتے رہیں گے۔یہ ہی انہوں نے صدارتی چناؤ کے دوران کیا۔ پہلے دھمکی دیناپھر نرم ہوجانا ممتا بنرجی کی پرانی عادت ہے۔ فی الحال کئی ایسی وجوہات نظر آرہی ہیں کہ جن کے چلتے وہ منموہن سرکار کو گرانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ ان کے اپنے ہی ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ ترنمول کے 19 ممبر پارلیمنٹ ہیں لیکن کبیر سمن اور دنیش ترویدی ہمیشہ الگ سمت میں چلے ہیں۔ ترویدی کو اسی کے چلتے ریل وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔پھر ممتا کر ملائم پر اب بھروسہ نہیں رہا۔ صدارتی چناؤ میں ملائم پہلے تو ممتا سے کہتے رہے کہ پرنب کے نام کی مخالفت کرو لیکن بعدمیں خود ہی پرنب دادا کے لئے راضی ہوگئے۔ ممتا کی ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ وہ تھرڈ فرنٹ میں نہیں جاسکتیں۔ ممتا کسی بھی قیمت پر لیفٹ کو ساتھ نہیں لے سکیں۔ بھاجپا لیڈر شپ والے این ڈی اے میں جاکر ممتا مسلم ووٹ بینک کو کھونا نہیں چاہتیں۔ ممتا کی پہلی ترجیح بنگال ہے اور اپنی سرکار چلانے کے لئے پیسوں کی ضرورت دہلی سے ہی پوری ہوسکتی ہے۔ ایسے میں یوپی اے ایک واحد متبادل بچتا ہے۔ اسی سال ستمبر میں بنگال میں پنچایت چناؤ ہیں ان میں اکیلے چناؤ لڑنے والی ہیں۔ جیت کے قوی امکانات ہیں۔ وہ لیفٹ کو مضبوط ہونے کا موقعہ دینا نہیں چاہتیں۔ اب بات کرتے ہیں بہن جی کی۔ مایاوتی کی پہلی ترجیح ان کا اپنا ووٹ بینک ہے۔ مایاوتی نے کہا ہے وہ اپنے موقف کے بارے میں اکتوبر میں فیصلہ کریں گی۔ بس یہ ہی بات چونکانے والی تھی کیونکہ مایا خود اورفوراً فیصلے کرتی ہیں۔ کسی سے پوچھ کر نہیں۔ ایٹمی معاہدے اور لوکپال پر سرکار کو بچانا اس کی مثال ہے۔ وہ پہلے دیکھنا چاہتے ہیں کہ ملائم کیا فیصلہ لیتے ہیں۔ ایف ڈی آئی کبھی بھی مایاوتی کا اشو نہیں رہا۔ ایف ڈی آئی سے ان کا تجزیہ ہے اس سے نئے روزگار کا بڑا حصہ کمزور طبقوں کو ملے گا۔ مایا اپنے بنیادی مینڈیٹ کے مفادات کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے رہیں، اب آگے کیا ہوگا؟ سودے بازی زوروں پر ہے۔ سرکار کچھ رعایت دے سکتی ہے۔ 6 ایل پی جی گیس سلنڈروں کی جگہ 8 کر سکتی ہے۔ ڈیزل میں بھی دو ایک روپے گھٹا سکتی ہے۔ دونوں ملائم اور ممتا کو نئے پیکیج مل سکتے ہیں۔ یہ بادل یوں ہی گرجتے رہیں گے برستے نہیں۔
(انل نریندر)

دلی یونیورسٹی چناؤ میں این ایس یو آئی کی دھماکے دار جیت


دلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے چناؤ میں کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی کو شاندار کامیابی ملی ہے اور بھاجپا کی یونٹ اے وی بی پی کا صفایا ہوگیا ہے۔ این ایس یو آئی چاروں سیٹوں میں سے تین جیت گئی ہے۔ 2007 ء کے بعد دلی کی سیاست میں لگاتار کمزور پڑ رہی این ایس یو آئی کو سنجیونی مل گئی ہے۔ این ایس یو آئی اچھے خاصے فرق سے پریسڈنٹ ، وائس پریسڈنٹ اور سکریٹری کے عہدے پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔دوسو کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہواہے کہ کسی عہدے پر مقابلہ ٹائے رہا۔ جوائنٹ سکریٹری کے لئے ہوئے چناؤ میں دونوں تنظیموں کو برابر ووٹ ملے۔ چناؤ نتائج نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو پوری طرح سے سکتے میں ڈال دیا ہے اور وہ سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ آخر طلبا نے یہ کیسا مینڈیٹ دیا ہے کے تمام منفی اشوز کے ہونے کے باوجود بھی ان کی حمایتی اے بی وی پی کو نہ صرف زبردست شکست ملی بلکہ اس تنظیم کا صفایا بھی ہوگیا۔ موجودہ حالات میں پارٹی کو یہ ہضم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسری طرف این ایس یو آئی کی اس جیت نے کانگریس ورکروں میں نئی سنجیونی کا کام کیا ہے اور انہیں یہ کہنے کا موقعہ مل گیا ہے کہ دلی کے نوجوانوں نے صاف سندیش دے دیا ہے کہ وہ کانگریس پارٹی اور اسکی پالیسیوں کے ساتھ ہے۔ راجدھانی میں انا ہزارے کے ذریعے کرپشن کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں بھاری تعداد میں اس وقت لڑکوں نے ہی شرکت کی تھی جسے لیکر بھاجپا بہت زیادہ گد گد تھی اور اسے لگ رہا تھا کانگریس مخالف نوجوانوں میں لہر ہے اس کا فائدہ انہیں ملے گا اور اس بات کو وہ پکا مان کر چل رہی تھی کہ دوسو چناؤ میں تو ان کا پرچم لہرانا طے ہے۔ اے بی وی پی کو لگا کہ جس طرح دیش میں کرپشن، مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں اس کے چلتے دوسو چناؤ میں لوگ این ایس یو آئی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ووٹنگ کے کچھ گھنٹے پہلے ہی جب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو یہ پختہ یقین تھا کہ این ایس یو آئی نے بہتر حکمت عملی کے تحت چناؤ لڑا اور قومی اشو کو اس چناؤ میں حاوی ہونے نہیں دیا۔ اے بی وی پی کو کوئی خاص مدد نہیں ملی جبکہ کئی سینئر کانگریسی لیڈر چناؤ میں کود پڑے اور ہر سطح پر طلبا یونٹ کو مدد دی۔اس میں پیسہ بھی پانی کی طرح بہایا گیا۔ کورٹ آف کنڈیکٹ کے مطابق کوئی امیدوار پانچ ہزار سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا لیکن پارٹی نے یہ کبھی پوری کردی۔ بتایا جارہا ہے کہ اس بارکانگریس نے چناؤ کے لئے کروڑوں روپے کا بچت اور امیدواروں کو پیسے کی کمی نہیں ہونے دی جبکہ اے بی وی پی کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ انہیں بی جے پی سے کوئی مدد نہیں ملی۔ کانگریس نے اس چناؤ کو بہت سنجیدگی سے لیا اور اپنی پوری طاقت جھونک دیا۔ ممبر اسمبلی، کونسلر اور وزیر اعلی سبھی نے مورچہ سنبھال رکھا تھا۔ دلی یونیورسٹی میں ریزرو کیٹگری کی خالی سیٹوں کا بھی اشو گرمایا ۔ ان سیٹوں کو اس بار جنرل کیٹگری میں تبدیل نہیں ہونے دیا گیا۔ ایچ آر ڈی وزارت کے حکم پر کالجوں کو زیادہ داخلے دینے پڑے۔ اس کا اثر دیکھنے کو ملا۔ ووٹنگ فیصد بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گیا۔ مانا جارہا ہے کہ اس سے کافی فائدہ این ایس یو آئی کوملا۔این ایس یو آئی کے ترجمان کا کہنا ہے اے بی وی پی نے ڈوسو چناؤ میں قومی اشوز کو اچھالا اور طلبا کے مفادات والے مسئلے پیچھے رہ گئے جبکہ طلبا نے قومی اشوز کو اہمیت نہیں دی۔ خاص بات یہ ہے کہ ڈوسو چناؤ میں پہلے سال کے طلبا زیادہ ووٹ کرتے ہیں اور انہیں اپنے حمایت میں لانے میں اے بی وی پی ناکام رہی۔ دلی کی وزیراعلی شیلا دیکشت نے ہاتھوں ہاتھ اس جیت کو بھی بھنا لیا۔ انہوں نے و ان کے حمایتیوں نے وزیر اعلی دیکشت کے شفاف انتظامیہ کا نتیجہ بتاتے ہوئے طلباء کا جنادیش بتایا۔ ان کا کہنا ہے بھاجپا نے اس چناؤ میں بھی گھٹیا ہتھکنڈے اپنائے اور جھوٹ کے سہارے چناؤ جیتنے کا خواب دیکھا تھا جسے طلبا نے چکنا چور کردیا۔ اب اسے بہانوں کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ اس جیت سے وزیر اعلی شیلا دیکشت کا قد بڑھا ہے۔ خود وزیر اعلی کی پیٹھ پارٹی صدر سونیا گاندھی نے تھپتھپائی ہے کیونکہ کانگریس مخالف ماحول میں اسے روشنی کی کرن مان رہے ہیں۔
(انل نریندر)

18 ستمبر 2012

فلم تو بہانہ ہے بنیادی مسئلہ تو امریکہ ہے


امریکہ کی خارجہ پالیسی خاص کر مشرقی وسطیٰ کو لیکر آج سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔آج تقریباً پورا مشرقی وسطیٰ امریکہ کے خلاف صف آراء ہوچکا ہے۔ امریکہ مخالف احتجاج پورے مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں پھیلتا جارہا ہے۔ پیغمبر حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخی کر فلم بنانے والا ایک امریکی ہی ہے۔ اس بیہودہ اوربکواس فلم کا نام ہے ’انوسینس آف مسلمس‘ ایسی بیہود بکواس فلم بنانے کا نہ تو کوئی تک تھا اور نہ ضرورت۔ ہندوستان کو بغیر سوچے اس بکواس فلم پر پابندی لگا دینی چاہئے۔ اس فلم کو بنانے والا اسرائیلی نژاد امریکن سیم کیسل روپوش ہوگیا ہے۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق دو گھنٹے کی اس فلم کو بنانے کیلئے سیم نے 100 یہودیوں سے تقریباً 25 کروڑ روپے کا چندہ اکٹھا کیا تھا۔ سیم نے کہانی لکھنے کے ساتھ ہی اس فلم کی ہدایت بھی کی تھی۔ انوسینس آف مسلمس فلم کا 14 منٹ کا ٹریلر یو ٹیوب پر جاری کیا گیا تھا جس کے بعد سارا مسلم ورلڈ جل اٹھا۔ یہ فلم بنیادی طور سے انگریزی میں بنائی گئی ہے جسے عربی میں بھی ڈپ کیا گیا ہے۔ جنہوں نے یہ ٹیلر دیکھا ہے ان کا دعوی ہے کہ یہ فلم بہت برے خیالات اور بد نیتی سے بنائی گئی ہے۔ اس کا مقصد محض پیغمبرؐ حضرت کی شان میں گستاخی کرنا تھا۔ بیشک یہ فلم مشرقی وسطیٰ میں آگ لگانے کا سیدھا بہانہ بن گئی لیکن بنیادی طور سے ان ملکوں میں امریکی مخالفت بہت دنوں سے جاری تھی۔ بین غازی کا واقع اسی کڑی میں سوچی سمجھی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے جہاں راکٹ لانچروں اور ایسے ہی بھاری ہتھیاروں سے مسلح لوگوں میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا۔ انہوں نے امریکی سفارتخانے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ سفارتخانے کی عمارت چھوڑ کر کسی محفوظ مقام پر جانے والے تھے۔ خیال رہے مسلح آتنک وادیوں کو اس محفوظ مقام کا بھی پتہ تھا ایک بات تو صاف ہے کرنل معمر قذافی کو بھلے ہی مار دیا گیا ہو لیکن کوئی متبادل حکومتی نظام لیبیا میں نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے قذافی کے خلاف مغربی مدد لیکر لڑائی لڑی وہ کوئی جمہوری حمایتی تنظیم نہیں تھی بلکہ ایسے قبیلے تھے جو روایتی طور سے قذافی مخالف تھے۔ مغربی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں موجودہ حکمرانوں کے خلاف ناراضگی ضرور ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ طویل یکطرفہ حکمرانی کی وجہ سے وہاں تو نہ تو جمہوری ادارہ ہے نہ ہی اس قسم کی سیاسی طاقتیں ہیں۔ امریکہ نے قذافی اور صدام کو ہٹا کر کچھ دوسرے دیشوں میں حکمرانوں کو ہٹانے میں جو جلد بازی دکھائی اسی کا ایک نتیجہ آج اس کے سامنے آرہا ہے۔ امریکہ حقیقت میں یہ بھول گیا کہ موجودہ نظام کے تہس نہس ہونے سے بد امنی پھیل جائے گی۔ ان ملکوں میں جمہوریت کی کسی روایت کو قائم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ امریکہ نے ہمیشہ شیخوں سے تعلق رکھا ،وہاں کی عوام سے نہیں۔ عوام بنیادی طور پر شیخوں کے خلاف بھی رہی ہے اور امریکہ کے خلاف بھی۔ اب بھی امریکہ کو دلچسپی یہاں جمہوریت کے قیام کی نہیں بلکہ اس میں ہے کہ نیا اقتدار اسکے مطابق کام کرے۔ شاید اسلام مخالف فلم تو ایک بہانہ ہے اور چلتی بیار میں نئے طاقت کے توازن کا ایک دھماکہ تھا۔ آج سے تقریباً25 سال پہلے پاکستان نے امریکی سفیر آرنولڈ رافل کو قتل کیا گیا تھا اور تب امریکہ نے اس میں افغانستان ۔پاکستان میں مذہبی کٹر پسند دہشت گردوں کے فروغ کی وارننگ کو نہیں دیکھا تھا۔ بین غازی میں ہوئی قتل کی وارداتیں صرف بھیڑ کی ناراضگی کی علامت نہیں ہیں ممکن ہے وہ ایک نئے خطرے کا الارم بھی ہیں۔
(انل نریندر)

جاپان اور چین کے درمیان مشرقی چینی جزیروں کو لیکرتنازعہ کھڑا ہوا


چین اور جاپان کے درمیان مشرقی ساگر کے جزیروں کو لیکر تنازعہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ چین نے جمعہ کو دعوی کیا کہ اس نے 6 نگرانی بحری بیڑے علاقے میں بھیجے ہیں۔ جاپان نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور چینی آبدوز کو علاقہ چھوڑنے کی وارننگ دی ہے۔ مشرقی چین کے ساگر کے ان جزیروں کو چین میں دیو جبکہ جاپان میں ناکابو کہا جاتا ہے۔ جھگڑا کیا ہے؟ مشرقی چین ساگر میں جھگڑا پانچ جزیروں اور تین بیرن چٹان کو لیکر ہے۔ ان جزیروں کا 42 مربع میٹر رقبہ ہے۔ تینوں دیش جاپان، چین اور تائیوان ان پر اپنی ملکیت جتاتے ہیں۔ ان جزیروں کے آس پاس کے سمندری علاقے میں مچھلیوں کے بڑے ذخائر ہیں۔ 1968 میں کئے گئے ایک مطالع میں یہاں تیل کے ذخائر ہونے کے بھی ثبوت ملے تھے۔ یہ تنازعہ نیا نہیں ہے 100 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ یہ تنازعہ 1995ء میں چین سے جنگ کے دوران جاپان نے ان جزیروں کو اوکی نابا صوبے سے جوڑ لیا تھا۔ 1945ء میں عالمی جنگ کے بعد جب جاپان ہار گیا تو ان پر امریکہ کا قبضہ ہوگیا۔ 1971ء میں چین نے سرکاری طور سے ان جزیروں پر اپنا دعوی پیش کردیا۔ 1972 میں امریکی نے ان جزیروں کا اختیار پھر سے جاپان کو سونپ دیا۔ جاپان اکیلا دیش نہیں جس سے چین کا اس علاقے میں جھگڑا ہے۔ جنوبی چین ساگر میں اپنی بالادستی پر بھی چین کے ساتھ ویتنام، برونئی وغیرہ ملکوں کا جھگڑا بھی چل رہا ہے۔ اس میں ہندوستانی کمپنی کو تیل نکالنے کے ویتنام سے ملے ٹھیکے پر بھی بیجنگ اعتراض جتا چکاہے۔
چین کے گشتی بیڑے جمعہ کو ریامو جزیرے کے آس پاس پہنچ گئے اور بیڑوں نے گشت اور قانون کی خلاف ورزی کا اپنا کام شروع کردیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق بیجنگ کے ذریعے جیاؤ جزیروں و اس سے لگے ٹاپوؤں کے سمندری علاقے کی بنیاد پر نکتوں و سائز کے بارے میں پیر کو اعلان کئے جانے کے بعد چینی گشتی بیڑے پہلی بار علاقے میں پہنچے ہیں۔ سرکار کے ذریعے جاری ایک بیان کے مطابق تبدیلی قانون اور گشت کی یہ سرگرمیاں دیااویو جزیروں پر چین کی بالادستی جتانے اور دیش کے سمندری مفادات کو یقینی بنانے کے مقصد سے یہ سرگرمی جاری ہے۔ یہ جزیرہ سمندری بیڑے کے ایک اہم راستے پر پڑتا ہے اور یہاں ہائیڈرو کاربن کا وسیع ذخیرہ بھی ہے۔ چین کے آبی بیڑے بھیجنے کے دعوے کی تصدیق جاپان نے کردی ہے۔ جاپان کے ساحلی فورس نے جمعہ کو بتایا چینی آبدوزوں کو جاپانی آبی سرحد سے باہر نکلنے کو کہا گیا ہے۔وارننگ کے بعد چین کے تین آبدوز باہر چلے گئے ہیں لیکن تین اب بھی متنازعہ علاقے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ ادھر چین کے میڈیا اور چین کے مرکزی فوجی کمیشن کے ڈپٹی چیف کیوکارو نے فوجیوں کو ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہنے کو کہا ہے۔ کیو نے یہ تبصرہ جمعرات کو شائسی صوبے میں فوجی یونٹ کے معائنے کے دوران کی تھی۔ چینی میڈیا نے بھی جاپان کے خلاف جم کر ہلا بول دیا ہے۔ میڈیا نے کہا کہ جاپان کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ جاپان نے منگلوار کو انہیں (جزیروں کو) خرید لیا تھا۔ چین کے گلوبل ٹائمس نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے ’’چین اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ اچھے رشتے بنانے میں لگا ہوا ہے۔ لیکن جاپان نے پچھلے کچھ برسوں میں چین کے لئے کئی مشکلیں کھڑی کی ہیں۔‘‘ اداریئے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور روس نے جاپان کے ساتھ جو کیا ہے وہ چین نہیں دوہرا سکتا لیکن اسے سبق سکھانا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

16 ستمبر 2012

کوئلہ گھوٹالے سے توجہ ہٹانے اور بے عملی کا داغ مٹانے کیلئے اٹھائے گئے قدم


ہمیں لگتا ہے کہ منموہن سنگھ سرکار اور کانگریس پارٹی نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ بغیر کسی کی پرواہ کئے وہ سارے قدم اٹھائیں گے جو انہیں ضروری لگتے ہیں اور وہ کئی وجوہات سے نہیں اٹھا پارہے تھے۔ پہلے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ، اگلے دن خوردہ بازار میں ایف ڈی آئی کا فیصلہ۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے عوامی ردعمل سے سرکار اور کانگریس واقف نہیں تھی؟ کیا اسے معلوم نہیں تھا کہ اس سے جنتا میں ہائے توبہ مچے گی؟ اسے معلوم تھا لیکن پھر بھی اس نے ایسا کیوں کیا؟ ہمیں لگتا ہے اس کے پیچھے ایک بہت بڑا مقصد سرکار کا اور کانگریس پارٹی کا کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے پر لگی جنتا کی توجہ ہٹانا تھا اور اس کے لئے یہ ضروری تھا کوئی ایسا قدم اٹھایا جائے جس سے جنتا نئے مسئلے میں الجھ کر رہ جائے اور کوئلہ گھوٹالے کو بھول جائے۔ سرکار پر بے عملی کا بہت بڑا الزام لگ رہا تھاتمام ملکی غیر ملکی میڈیا کھل کر کہنے لگا تھا کہ یہ سرکار بالکل پنگو ہوچکی ہے اور اس میں آگے بڑھنے کی نہ کوئی قوت ارادی ہے اور نہ ہی حوصلہ۔ وزیر اعظم ناکارہ ہوچکے ہیں۔ پالیسی ساز فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے الزامات کو مٹانے کے لئے منموہن سرکار نے پہلے ڈیزل اور پھر ایل پی جی میں آگ لگادی اور اس آگ میں گھی ڈالنے کے لئے خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرلیا۔ اس طرح سے اقتصادی اصلاحات کی رفتار بڑھانے کے لئے سخت اشارے دینے کے ساتھ ساتھ سرکار اب کچھ اور سخت فیصلے لینے کے لئے کمر کس چکی ہے۔ ڈیزل اور رسوئی گیس کے جھٹکے سے اپوزیشن ہی نہیں یوپی اے سرکار کی کئی اتحادی پارٹیوں کو بھی فیصلہ ناگوار گذرا ہے۔ خاص طور پر ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو ان کے خلاف احتجاج ضروری لگتا ہے۔ کیا ممتا کو یہ معلوم نہیں تھا کہ سیاسی معاملوں کی کیبنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں ڈیزل ، ایل پی جی کے دام بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ میٹنگ کا ایجنڈا ممتا کو بھی بھیجا گیا تھا اس کے باوجود ممتا نے دام بڑھانے کا الزام سرکار پر لگادیا ہے کہ اس نے اس فیصلے سے پہلے انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ممتا کے اس بیان پر بھروسہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے کہ منموہن سرکار اقتصادی سستی کو توڑتے ہوئے بازار کو سہارا دینے کی آخری کوشش کررہی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ بازار کی حالت دیکھتے ہوئے سرکار نے صحافیوں کو تھوڑا بھروسے میں لیتے ہوئے ان کے احتجاج کو برداشت کرنے کا بھی فیصلہ لے لیا ہے۔ چاہے وہ ممتا ہوں ، چاہے ملائم یا کروناندھی ، سبھی نے دکھاوے کے لئے احتجاج کیا ہے۔ ان کے تیوروں میں کوئی تلخی دکھائی نہیں دی۔ سرکار اور کانگریس اس بات سے اچھی طرح واقف تھیں کہ ڈیزل ۔ ایل پی جی پر ہائے توبہ مچے گی۔ اس کا ایک ثبوت ہے منگل کو وزیر اعظم کی رہائشگاہ پر ہوئی کور گروپ کی وہ اہم میٹنگ جس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی، منموہن کے علاوہ کور گروپ کے مستقل ممبر اے کے انٹونی، سشیل کمار شنڈے، پی چدمبرم اور سونیا کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل کے علاوہ وزیر پیٹرول جے پال ریڈی خاص طور سے بلائے گئے تھے۔ بتاتے ہیں کہ وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اضافے کی نہ صرف کھل کر مخالفت کی ہے بلکہ بگڑتی ساکھ پر جم کر حملے کئے اور سونیا ۔ منموہن چپ چاپ سنتے رہے لیکن آخر میں گروپ نے وہ ہی کیا جو پہلے سے طے تھا۔ کور گروپ کے اجلاس میں ڈیزل ایل پی جی کے دام بڑھانے کے فیصلے کو ٹالنے کے لئے انٹونی نے سب سے زیادہ دباؤ بنایا تھا۔ یہ پہل تو وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے سمیت کئی لیڈروں نے اس کی زوردار حمایت کی لیکن وزیر اعظم جے پال ریڈی، پی چدمبرم جو قیمتیں بڑھانے کی وکالت زور شور سے کررہے تھے آخر میں وہ ہی حاوی رہے اور دام بڑھا دئے گئے۔ ہمیں تو اب لگتا ہے یہ سرکار پوری طرح سے مایوس ہوچکی ہے اور ’کرو یا مرو‘ کی پالیسی پر اتر آئی ہے۔ ممکن ہے کے آنے والے دنوں میں وہ مزید سخت فیصلے لے۔ 
(انل نریندر)

اگر دیوگوڑا وزیر اعظم بن سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟


یہ کہنا ہے سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کا۔ سپا کی کولکتہ میں قومی ایگزیکٹو کے دو روزہ اجلاس کے بعد ملائم سنگھ یادو نے کہا تیسرے مورچے کی تشکیل چناؤ بعد ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہہ کر سنسنی پھیلا دی جب دیو گوڑا وزیر اعظم بن سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں۔ لیکن پارٹی اس بات کا پروپگنڈہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا وہ سیاست میں ہیں اور سیاست کررہے ہیں کوئی سادھو سنت نہیں اور سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔ سماجوادی پارٹی نے کولکتہ میں منعقدہ اپنی قومی کانفرنس کے ذریعے سیاسی طبقے کو اپنی حیثیت کا احساس کرانے کی بھی کوشش کی ہے۔ اترپردیش سے باہر کانفرنس کرکے انہوں نے یہ سندیش دینا چاہا کہ وہ ایک قومی پارٹی ہے جس کی بنیاد دیگر ریاستوں میں ہے۔ ملائم نے جس طرح بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سے اپنی قربت کا اظہار کیا اور جوتی بسو کے عہد کی تعریف کی اس سے ان کی رائے ظاہر ہے کہ وہ یوپی اے اور این ڈی اے اتحادی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ لیفٹ سے بھی اچھے تعلقات بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مرکز کے اقتدار میں پہنچنے کے لئے سارے متبادل کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ اقتدار کی سیاست میں اترپردیش ہمیشہ فیصلہ کن کردار نبھاتا رہا ہے۔ لوک سبھا کے لئے80 سیٹوں کے تجزیئے بدل سکتی ہے۔ پھر بہار، بنگال ، مہاراشٹر، آندھرا ، کرناٹک کا ساتھ مل جائے تو کوئی بھی پارٹی مرکز میں اقتدار سنبھال سکتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملائم اپنی سائیکل کو ممبئی سے کولکتہ دوڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اترپردیش کی باگ ڈور اپنے صاحبزادے اکھلیش یادو کو سونپ کر اب وہ لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کا خواب لے کر قومی سیاست میں ہر داؤں کھیل رہے ہیں۔ وہ لوک سبھا چناؤ بھی2014ء سے پہلے یعنی جلد سے جلد کروانا چاہتے ہیں کیونکہ فی الحال اترپردیش میں ان کے پیر مضبوط ہیں۔ اترپردیش میں 50 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا نشانہ بنا کر وہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، چندرا بابو نائیڈو کی تیلگودیشم اور دیگر علاقائی پارٹیوں کے ساتھ تال میل کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ مہنگائی اور کرپشن کے اشو پر وہ مرکز کی کانگریس سرکار کے خلاف مسلسل مہم جاری رکھ سکتے ہیں۔ لیفٹ فرنٹ کے ساتھ نظریاتی رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں اور سیکولر ساکھ بنا کر مرکز میں ضرورت پڑنے پر کانگریس کا ساتھ لینے کا امکان بنائے رکھے ہیں۔ یقینی طور سے ملائم کانگریس اور بھاجپا کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ تیسرے مورچے کا نام وہ ابھی نہیں لینا چاہتے کیونکہ اقتدار کے تجزیئے چناؤ نتائج کی بنیاد پر ہی بننے والے ہیں۔ لگتا ہے ملائم نے بھانپ لیا ہے کہ اب کانگریس کے ساتھ جڑے رہنے سے انہیں سیاسی طور پر ڈوبنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایسے میں نئے تجزیئے کے تول مول کا دور تیز ہوسکتا ہے۔ ملائم اب بھانپ چکے ہیں کہ کانگریس جنتا کے درمیان ناپسندیدہ ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف بھاجپا اپنے آپ کو کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھی تک قائم نہیں کرپائی ہے۔ ایسے میں اگر یوپی اے اور این ڈی اے میں پریشانی محسوس کررہیں اتحادی پارٹیوں کو وہ اپنے ساتھ لا سکیں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...