Translater

06 مارچ 2021

کنگنا رنوت سپریم کورٹ پہونچی !

فلم اداکارہ کنگنا رنوت اور ان کی بہن رنگولی چندیل نے ممبئی سے لے کر شملا تک کی مختلف عدالتوں میں اپنے خلاف ملزمانہ مقدمات کو منتقل کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے ممبئی کی ایک عدالت کی طرف سے کنگنا کے خلاف ضمانتی وارنٹ جاری کئے جانے کے اگلے دن ہی کنگنا نے یہ قدم اٹھایا ممبئی کی عدالت نے یہ وارنٹ موسیقار نگمہ نگار جاوید اختر نے ایک معاملے میں عدالت میں پیش نہ ہونے پر جاری کیاتھا ۔سپریم کورٹ میں کنگنا اور اس کی بہن نے دلیل دی ہے کہ اگر مقدمہ ممبئی میں چلے گا تو وہاں ان کی جان کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔چونکہ شیو سینا کے نیتا ان سے ذاتی رنجش رکھتے ہیں عرضی میں مہاراشٹر کی سیو سینا سرکار پر بھی پریشان کرنے کا الزام لگایا ہے اور شیو سینا کے نیتا سنجے راوت کے بیان کا بھی ذکر کیا ۔جنہوں نے انہیں مبینہ طور پر حرام خور لڑکی سے تشبیہ دی تھی اور ان کے بنگلے کا کچھ حصہ بھی کاروائی کی بنیاد بنایا گیا ۔کنگنا کے وکیل نیرج شیکھر نے ممبئی میں جاری تینوں مقدمون کو شملا کی عدالت میں منتقل کرنے کی فریاد کی ہے ۔واضح ہو اندھیری میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے ایک فروری کو ثمن جاری کرکے ایک مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا ذکر کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئی جس پر عدالت نے ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے سماعت کی اگلی تاریخ 26مارچ طے کر دی ہے ادھر جاوید اختر نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں اپیل کی تھی کہ اداکارہ کنگنا رنوت ان کی بہن رنگولی کے خلاف ممبئی سے شملا عدالت میں مقدمہ منتقل کئے جائیں ۔اور ان کی عرضی پر سماعت سے پہلے ان کا موقف سنا جائے ۔ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اس طرح کی عرضی ڈالی جاتی ہے تاکہ وہ اس کا موقف سنے بنا اس کے خلاف کوئی نگیٹو حکم پاس نہ کیا جائے ۔ (انل نریندر)

نوٹ بندی سے بے روزگاری شباب پر ہے !

بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہراقتصادیات و سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ویسے تو بہت کم بولتے ہیں جب بولتے ہیں تو ان کی باتوں کو بڑے غور سے سنا جاتا ہے ۔اقتصادی معاملوں کے تھنگ ٹین راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈولپمنٹ اسٹڈیز کے ذریعے ڈیجیٹل ایک ڈولپمنٹ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کئی باتیں کہیں ۔انہوں نے کہا کہ 2016 میں بھاجپا کے ذریعے بغیر سوچے سمجھے نوٹ بندی کے فیصلے سے دیش میں بے روزگاری انتہا پر ہے اور غیر رسمی سیکٹر خوشحال ہے اور ریاستوں سے باقاعدہ مشورہ نہ لے کر لئے گئے فیصلے کیلئے مرکزی سرکار کی تنقید کی تھی انہوں نے کہا بڑھتے مالی بحران کو چھپانے کے لئے بھارت سرکار اور رزرو بینک کے ذریعے اٹھائے گئے غیر مستحکم اقدامات کے چلتے قرض سے چھوٹی اور درمیانی سیکٹر کے کارخانے متاثر ہو سکتے ہیں اور اس حالت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ۔انہوں نے اپنے میں خطاب میں کہا بے روزگاری انتہا پر ہے ۔انہوں نے کہا کئی ریاستوں میں پبلک مالیاتی حالت اتھل پتھل ہے جس کے چلتے ریاستوں کو زیادہ تعداد میں قرض لینا پڑا ہے ۔اور اس سے مستقبل کے بجٹ پر ناقابل برداشت بوجھ بڑھ گیا ہے سابق وزیراعظم نے کہا فیڈرل ازم اور ریاستوں کے ساتھ باقاعدہ رائے مشورہ بنیادی ہندوستانی معیشت اور سیاسی غور خوض کی بنیاد کا ستون ہے جو آئین میں کہا گیا ہے ۔لیکن موجودہ مرکزی حکومت نے اس سے منھ موڑ لیا ہے ۔نہوں نے کہا دیش کو مالی طور پر آگے کئی اڑچنیں آنے والی ہیں جنہیں ریاست کو پار کرنا ہوگا دوتین سال میں عالمی معیشت میں سستی و کووڈ بیماری کے چلتے اور بڑھ گئی ہے جس کا کیرل پر بھی اثر پڑا ہے ۔اور اس سے سیاحتی سیکٹر بھی بری طرح متاثرہوا ہے ۔انہوں نے کہا پرواسیوں کے ذریعے بھیجے گئے پیسہ سے دیش کی زرعی مبادلہ کے اثر میں اضافہ ہوا ہے ۔جس کے چلتے ریل اسٹیٹ شیکٹر میں اچھال آیا ۔سروس سیکٹر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔سابق وزیر اعظم نے ریاستی اسمبلی چناو¿ کے لئے چناو¿ منشور میں انصاف جیسے اشوز شامل کرنے کو لیکر کیرل کی کانگریس یوڈی ایف سرکار کے فیصلے کی تعریف کی ہے ۔ (انل نریندر)

ضمنی چناو ¿ نتائج بھاجپا کےلئے خطرے کی گھنٹی!

دہلی میونسپل کارپوریشن پانچ شیٹوں پر ہوئے چناو¿ نتیجہ میں صاف کر دیا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی )کو اس مرتبہ ایم سی ڈی میں قبضہ بنائے رکھنے کے لئے بڑے دنگل میں اترنا ہوگا نتیجوں سے بھاجپا کو گھبراہٹ ہونا فطری ہی ہے ۔کاو¿نٹنگ سے پہلے بڑی بڑی باتیں کررہی بھاجپا کا صفایا ہوگیا اور بی جے کو پانچ شیٹوں پر زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔عام آدمی پارٹی سے کوئی شیٹ چھیننا تو دور الٹا بھاجپا اپنی روایتی شالیمار باغ شیٹ بھی گنوا بیٹھی ہے ۔اس چناو¿ کو اگلے برس ہونے والے ایم سی ڈی چناو¿ کا سیمی فائنل مانا جارہا تھا ۔اور ان انتخابات نے بھاجپا نیتاو¿ں کو پارٹی کو دہلی میں حقیقت بتا دی ہے ۔چناو¿ کاروائی شروع ہونے سے پہلے بھارتی جنتا پارٹی زبردست امید افزاءنظر آرہی تھی اس کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ سیاسی طور سے بھلے ہی ہم پانچ شیٹوں پر جیت کا دعویٰ کررہے ہوں لیکن حقیقت میں ہم چوہان بانگر شیٹ کو چھوڑ کر سبھی شیٹیں جیت رہے ہیں ۔تریلوک پوری ،کلیانپوری شیٹ کو تو وہ اپنے قبضہ میں آئی مان چکے تھے کلیان پوری میں تو بھاجپا نے اپنی پوری طاقت جھونک رکھی تھی۔ یہاں ایم پی گوتم گمبھیر سے لیکر ایم سی ڈی کے تمام لیڈر لگے ہوئے تھے ۔اس شیٹ پر عام آدمی پارٹی کے دھریندر کمار بنٹی نے 7043ووٹوں سے کامیابی حاصل کر بھاجپا کی غلط فہمی دور کردی ہے ۔اسی طرح تریلوکپوری شیٹ عآپ کے روحت مہرولیا نے پچھلی بار 3049ووٹوں سے جیتی تھی ۔اس مرتبہ عآپ کے امیدوار وجے کمار ووٹوں کا فرق بڑھاتے ہوئے 4986ووٹوں سے جیت درج کی ہے ۔چوہان بانگر شیٹ پر بھی پارٹی دعویٰ کررہی تھی کہ اس بار اچھا پرفارمنس دے گی لیکن وہ بھی کچھ نہی کر پائی بھاجپا کونسلر رینو جاجو کی مو ت سے کھالی ہوئی سالیمار باغ شیٹ سے بھاجپا کو بڑی امید تھی اور وہ بڑے فرق سے جیتے گی اور وہاں اس نے ہمدردی لہر چلانے کے لئے رینو جاجو کے بیٹے کی بہو کو ہی ٹکٹ دیا تھا لیکن پارٹی اس شیٹ کو بھی گنوا بیٹھی روہنی شیٹ پر تو بھاجپا ورکر جیت کی شرطیں بھی لگانے لگے تھے لیکن وہاں بھی نتیجوں نے بھاجپاکی غلط فہمی دور کر دی ۔میونسپل چناو¿ میں 4شیٹ جیتنے کے باوجود عآپ پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے اس نے اپنے سابق ممبر اسمبلی اشراق خان کو چوہان بانگر سے امیدوار بنانے کے باوجود مسلم اکثریتی علاقہ میں عآپ کی ہار مسلم ووٹوں میں اس کے تئیں بے توجہی کا اشارہ کررہی ہے ۔قابل ذکر ہے یہ شیٹ عآپ کونسلر عبدالرحمن کے ممبر اسمبلی چنے جانے سے خالی ہوئی تھی ۔اس شیٹ پر کانگریس کی جیت اس کے لئے سنجیونی جیسی ثابت ہوئی ہے ۔وہیں یہ نتجیہ بھاجپا لیڈر شپ پر بھی سوال کھڑے کررہا ہے مسلم ووٹ بینک کے دم پر اسمبلی چناو¿ میں کانگریس کا صفایا کرنے والی عام آدمی پارٹی بھلے ہی چار شیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی لیکن چوہان بانگر میں اس کی ہار نے دہلی کی سیاست میں بڑی تبدیلی کے اشارے دے دئیے ہیں ظاہر ہے مسلم ووٹر عآپ پارٹی سے ناراض ہیں انہوں نے اپنا ووٹ کانگریس کو دینا بہتر سمجھا کانگریس نے اس شیٹ پر پانچ بار ممبر اسمبلی رہے چودھری متین کے بیٹے زبیر احمد کو میدان میں اتارا تھا ۔جبکہ عآپ سے پہلی بار متین احمد کو ہرانے والے سابق ممبر اسمبلی اشراق خان کو ٹکٹ دیا تھا ۔دہلی میں اقتدار کا کمل کھلانے میں کامیاب نہیں ہو پائی الزام لگ رہے ہیں پارٹی لیڈر شپ خود گروپ بندی کا حصہ بن گئی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے جس پارٹی کے مرکزی وزیر داخلہ نے حیدرآباد ایم سی ڈی چناو¿ میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط کر دی اس پارٹی کی دہلی لیڈر شپ اپنا گڑ بچانے میں ناکام رہی ہے ۔ (انل نریندر)

04 مارچ 2021

ہار میں شراب پر پابندی جاری رہے گی ، کسی طرح کی کوتاہی نہیں ہوگی

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ بہار میں شراب کی ممانعت جاری رہے گی اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔ کمار نے یہ بات بہار ملٹری پولیس 5 کیمپس میں واقع میتھلیش اسٹیڈیم میں منعقدہ پولیس ویک 2021 کے پروگرام میں کہی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے صحت سے متعلق 2018 کے سروے میں بتایا ہے کہ ایک سال میں ہونے والی 5.3 فیصد اموات شراب پینے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ کمار نے کہا کہ پولیس اور محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جو شراب کی نظربندی کی مہم میں غفلت برت رہے ہیں۔ کل 619 افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔ 186 افراد کو برخاست اور 60 پولیس افسران کو تھانے کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پولیس فورس کا کردار اہم ہے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ اتحاد کی فضا کو برقرار رکھنے میں بھی پولیس کا اہم کردار ہے۔ بہار میں ممانعت کے تسلسل نے شاید اس لت سے چھٹکارا پانے میں فرق پیدا کیا ہو ، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے گا کہ بہار میں شراب اب بھی دستیاب ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک سو روپے کی بوتل 400 سے 500 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ پڑوسی ملک نیپال سے شراب سمگلنگ کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ جب تک یہ اسمگلنگ بند نہیں ہوجاتی ، پوری شراب کو قید نہیں کیا جاسکتا ۔ (انل نریندر)

جی23-باغیوں کی گاندھی پریوار کو چیلنج!

سونیا گاندھی کو خط لکھ کر ، کٹھگرے میں کھڑا کرچکے کانگریس کے کئی سرکردہ لیڈروں نے جنہیں جی23کے نام سے جانا جاتا ہے ایک بار پھر پارٹی ہائی کمان کو براہ راست چیلنج کرنے کے موڈ میںنظر آرہے ہیں۔ یہ مسئلہ ہفتہ کے روز جموں میں گاندھی عالمی فیملی امن کانفرنس کی گئی ، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ نشانہ گاندھی خاندان تھا۔ اگلے ہی دن ، پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد ، 23 رہنماو¿ں ، جنھیں کانگریس سے عدم اطمینان قرار دیا جارہا ہے ، نے جموں میں پارٹی ہائی کمان پر شدید حملہ کیا اور اس کے کارخانے پر سوال اٹھائے۔ مقررین نے کانگریس کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائدین کو فائیو اسٹار کلچر ترک کرنا پڑے گا۔ ان رہنماو¿ں نے سوالات اٹھانے کے لئے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا جب کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی تمل ناڈو کا دورہ کررہے ہیں ، بنگال میں بائیں بازو کے محاذ کی شراکت میں پارٹی اپنی سرزمین کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور آسام ، پڈوچیری اور کیرل میں سیاسی چیلینج کا سامنا ہے اس تقریب میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے پوسٹر بھی نہیں تھے۔ پروگرام کے اسٹیج پر گاندھی گلوبل لکھا گیا تھا۔ غلام نبی آزاد اور راجبر کے علاوہ دیگر مرکزی وزرائ جن میں سابق مرکزی وزرائ آنند شرما ، کپل سبل ، منیش تیواری ، وویک ٹنکھا اور بھوپندر سنگھ ہوڈا شامل تھے۔ غلام نبی آزاد اس گاندھی گلوبل فیملی این جی او کے سربراہ ہیں۔ اس کے بینر تلے آزاد راجیہ سبھا سے سبکدوشی ہونے پر اسے اعزاز سے نوازا گیا تھا…. اس ایونٹ میں تمام کانگریس قائدین کو بھگوا تقریب میں دیکھا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے رہنما مل رہے ہیں؟ اس موقع پر کپل سبل نے کہا ، سچ کہنے کا موقع ہے اور آج صرف سچ بولیں گے۔ ہم یہاں کیوں جمع ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی ہمیں کمزور کرتی جارہی ہے۔ ہمیں اسے اکٹھا کرنا اور مضبوط کرنا ہے۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ غلام نبی آزاد صاحب پارلیمنٹ سے آزادی حاصل کریں۔ غلام نبی آزاد کے کام کو گنتے ہوئے ، انہوں نے کہا ، مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ کانگریس پارٹی اپنا تجربہ استعمال کرنے کے قابل کیوں نہیں ہے۔ سابق مرکزی وزیر آنند شرما نے کہا ، کانگریس گذشتہ 10 سالوں میں کمزور ہوئی ہے۔ اگر یہ بھائی مختلف نظریات رکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دور ہوجائیں گے۔ راجبر نے کہا ، لوگ کہتے ہیں کہ جی -23 ، میں کہتا ہوں ، گاندھی 23۔ اس ملک کے قوانین اور آئین مہاتما گاندھی کے اعتماد ، عزم اور سوچ کے ساتھ تشکیل دیئے گئے تھے۔ کانگریس اس کو آگے لے جانے کے لئے مضبوط کھڑی ہوگی۔ جی 23 چاہتا ہے کہ کانگریس مضبوط ہو۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کانگریس میں اختلاف رائے رکھنے والا گروہ راہول گاندھی کے شمال جنوب کی سیاست پر حالیہ تبصرے سے ناخوش ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کانگریس کے یہ رہنما غلام نبی آزاد کو راجیہ سبھا میں دوبارہ نامزد نہ ہونے پر ناراض ہیں۔ غلام نبی آزاد نے اپنے خطاب میں کہا ، میں سیاست سے نہیں ، راجیہ سبھا سے ریٹائر ہوا ہوں۔ کانگریس رہنما منیش تیواری نے کہا کہ آزاد کانگریس کے ایک پرعزم رہنما ہیں۔ آزاد کانگریس کو سمجھنے والے رہنماو¿ں میں سے ایک ہیں۔ کانگریس اور ملک دونوں کو غلام نبی آزاد کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ پچھلے سال اگست میں ، سونیا گاندھی کو لکھے گئے خط میں ، جی -23 رہنماو¿ں نے پارٹی میں فوری اصلاح کا مطالبہ کیا تھا۔ اس میں ، نچلی سطح سے کانگریس ورکنگ کمیٹی تک تنظیم کے لئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ (انل نریندر)

سیاستداں موٹی چمڑی کے ہوتے ہیں،موٹی سوئی لگانا!

دیش کو کورونا سے نجات دلانے کے ٹارگیٹ کے ساتھ ہیلتھ کیئر اور فرنٹ لائن ورکرس کو ٹیکہ لگنے کے بعد پیر کے روز عام لوگوں کو کورونا ویکسین انجیکشن لگنا ضروری ہے ہوگیا ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے خود انجیکشن لگواتے ہوئے اس مرحلے کا آغاز کر دیا ۔اس مرحلے میں ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے سبھی لوگوں اور 45سال سے زائد عمر کے سنگین امراض میں مبتلا لوگوں کو ٹیکہ لگایا جائے گا ۔پڈوچیری کی باشندہ ایمس نرسنگ افسر پی نویدا نے وزیراعظم کو انجیکشن کی پہلی ڈوز دی گلے میں آسامی گمچھا ڈالے پی ایم نے ٹیکہ لگواتے وقت اپنی مسکراہٹ سے یہ اشارہ دیا کہ ٹیکہ سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے ٹیکہ لگانے والی نرس سے کہا کہ ٹیکہ لگا دیا پتہ بھی نہیں چلا وزیر اعظم نریندر مودی صبح سویرے چھ بجے بنا لاو¿ لشکر کے اور بغیر روٹ کے چپ چاپ ایمس پہونچے ۔ویکسین لگوانے کے وقت بھی پی ایم مودی نے نرس سے کہا کہ نیتا موٹی چمڑی کے ہوتے ہیں موٹی سوئی لگانا ۔ماحول کو ذرا خوش نما کرنے کے لئے نرس سے پوچھا آپ کا نام کیا ہے آپ کہاں سے ہیں اس کے بعد مودی نے ہنسی مزاق کرتے ہوئے پوچھا کیا وہ جانوروں کے لئے استعمال کرنے والی سوئی کا استعمال کریں گی ۔اور اس کے بعد انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی چمڑی بہت موٹی ہوتی ہے اس لئے ان کے لئے کچھ خاص موٹی سوئی کا استعمال نہیں کرنے والی ہیں اس پر نرس ہنس پڑی ۔ پی ایم کو جب ٹیکہ لگ گیا تو انہوں نے نرس سے کہا مجھے پتہ نہیں چلا ۔کوویکسین ٹیکہ انڈین کونسل آف ریسرچ کے استراق سے ملک کی کمپنی بھارت بائیوٹیک نے تیار کیا ہے ۔ڈرگس کنٹرولر جنرل نے ٹرائل موڈ میں اس کی ایمرجنسی استعمال کی منظوری دے دی ہے اس ٹیکہ کو منظوری ملنے پر اس کے اثرات اور حفاظت کو لیکر کچھ لوگوں نے سوال اٹھائے تھے ۔فی الحال وزیراعظم کووویکسین ڈوز لے کر سبھی خدشات کو بے بنیاد کر دیا ۔مودی جی قریب 30منٹ ویکسین لگوانے کے لئے آبزرویشن کے لئے ایمس میں رکے بعد میں وزیراعظم نے شوشل میڈیا پر فوٹو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کورونا کے خلاف عالمی جنگ کو مضبوط کرنے میں ہمارے ڈاکٹر اور سائنسدانوں نے جس تیزی سے کام کیا وہ غیر معمولی ہے ۔میں سبھی اہل لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ویکسین لگائیں ہمیں ساتھ مل کر دیش کو کورونا سے نجات دلانی ہے ۔ایسی قدرتی آفت کے وقت جب کسی مہم کو لے کر لوگوں کا بھروسہ نہیں بن پاتا تو بڑی لیڈر شپ کو آگے آنے سے حوصلہ ملتا ہے اور کسی طرح کا ڈر نہیں ہے ۔وزیر اعظم نے یہ پیغام دے کر راستہ دکھا دیا اس سے یقینی طور سے ویکسی نیشن تیزی پکڑے گی ۔تو پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی ویکسین دستیاب کرا دی گئی ہے اور قیمت بھی 250روپے کر دی گئی ہے اس طرح جو لوگ ویکسی نیشن مرکز میں جانے سے ہچکچاتے ہیں یا بھیڑ بھاڑ سے بچنے کے لئے پرائیویٹ اسپتالوں میں جا سکتے ہیں ۔کورونا ٹیکہ مہم میں تیزی لانا بہت ضروری ہے اسلئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیکہ لگوا کر پہل کر دی ہے ۔ (انل نریندر)

03 مارچ 2021

شبنم کا ڈیٹھ وارنٹ رکا

اترپردیش کے رام پور ضلع میں بند امروہہ کے باون کھیدی قتل عام کے مجرم شبنم کی پھانسی منگل کے روز رک گئی۔ اس وقت اسے کچھ دن ملتوی ہوگئے ہیں۔ رحم کی درخواست ان کے وکیل نے گورنر کے ساتھ دائر کیایک ڈھال بنائی گئی ہے۔ جب تک کہ اس درخواست کو نمٹا نہیں کیا جاتا اس کے ڈیتھ وارنٹ جاری نہیں کیے جائیں گے۔ 15 اپریل 2008 کو ، شبنم نے اپنے پریمی سلیم کے ساتھ مل کر حسن پور کے گاو¿ں باونخھیڈی میں اپنے والدین ، ??دو بھائیوں ، بہنوں ، اس کی بھابھی اور معصوم بھتیجے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس معاملے میں ، سلیم اور شبنم کو سیشن عدالت نے 15 جولائی 2010 کو سزائے موت سنائی تھی۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی دونوں کی سزا کو برقرار رکھا۔ یہاں تک کہ ان کی رحم کی درخواست کو صدر نے مسترد کردیا۔ اس کے بعد ان دونوں نے ایک بار پھر سپریم کورٹ میں ازسر نو غور کی درخواست دائر کی ، لیکن اس کی بھی سماعت نہیں ہوئی۔ سلیم کی درخواست اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ شبنم سلیم سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ وہ سلیم کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ قتل کیس میں شبنم اور سلیم کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ شبنم کے ڈیتھ وارنٹ فوری طور پر رام پور جیل سے متھرا جیل منتقل کردیئے جائیں گے۔ اسے متھرا جیل میں پھانسی دی جائے گی۔ میتھرا جیل ، اترپردیش میں انگریزوں کے ذریعہ تعمیر کیا گیا واحد خواتین پھانسی والا گھر ہے۔ بس اس کا انتظار اس کے لٹکائے رکھنا ہے۔ انل نریندر

ٹک ٹاک اسٹار پوجا چوہان کی خودکشی کا معاملہ

پونے کی ٹک ٹاک اسٹار پوجا چوہان کی خودکشی کے بعدتنازعہ میں گھرے شیو سینا کے وزیر سنجے راٹھور نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ راٹھور نے استعفیٰ دینے سے پہلے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے سے ان کے گھر ملاقات کی۔ استعفیٰ کے بعد ، انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف نے دھمکی دی ہے کہ جس طرح اسمبلی اجلاس نہیں چلنے دیں گے اس کے پیش نظر میں اس معاملے سے دستبردار ہوں۔ میں اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتا ہوں۔ راٹھور نے بتایا کہ بنجارہ معاشرے کی ایک لڑکی فوت ہوگئی ہے۔ اپوزیشن گندی سیاست کر میرے 30سال سے زیادہ سیاسی کرئیر کو خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ اس سے بنجارا معاشرے کی بھی بدنامی ہو رہی ہے۔ تنازعہ میں گھرنے کے بعد راٹھور پبلک طور پر دکھائی نہیں دے رہے ۔ تاہم ، پانچ دن پہلے (منگل) کو ، وہ ضلع وشم ضلع کے ایک مندر پہنچ گئے۔ یہاں اس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ سنجے راٹھور کا نام پونے سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ ٹیٹوک اسٹار پوجا چوہان کی خودکشی کے معاملے میں سامنے آیا ہے۔ تب سے ، ادھوھ ٹھاکرے پر راٹھور سے استعفی دینے کا دباو¿ تھا۔ بی جے پی نے راٹھور کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے 28 فروری کو ریاست بھر میں مظاہرہ کیا تھا۔ یہ تنازعہ بڑھتا ہوا دیکھ کر ، سی ایم ادھو ٹھاکرے نے 24 فروری کو وزیر سنجے کو طلب کیا۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے الزام لگایا تھا کہ سنجے راٹھڈ کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ چنانچہ وہ ایک ماہ تک زندہ بچ گیا۔ تمام شواہد کے باوجود پولیس نے اس کے خلاف اندراج نہیں کیا۔ پولیس اب بھی اسے خودکشی قرار دے رہی ہے۔ لہذا ، کیس کی تفتیش کرنے والے افسر کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ فڈنویس نے کہا کہ اگرچہ راٹھور نے استعفی دے دیا ہے ، لیکن بی جے پی اس معاملے کو ترک نہیں کرے گی۔ بیڈ ضلع کے پتلی کی رہائشی 22 سالہ پوجا چوہان نے 8 فروری کو پونے کے علاقے ونواڑی میں ایک عمارت سے کود کر خودکشی کرلی تھی۔ پوجا کی موت کے بعد راٹھور کے ساتھ ان کی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ تاہم پوجا کے اہل خانہ کو کسی پر شبہ نہیں تھا۔ پولیس اسے خودکشی کا معاملہ بھی سمجھ رہی ہے۔ (انل نریندر)

کسان ٹس سے مس نہیں، آندولن لمبا کھیچنے کے آثار!

احتجاجی کسانوں نے بات چیت کیلئے وزیر قانون نریندر سنگھ تومر کے ڈیڑ ھ سال تک قانون ملتوی رکھنے اور مشترکہ کمیٹی کے ذریعے تنازعہ حل کرنے کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ اس میں کوئی ترمیم ہونے والی نہیں۔ اب ممتاز رہنما مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات میں جائیں گے اور زرعی قانون کے حامیوں کو ہٹانے کے لئے نعرے لگائیں گے۔ کہ زرعی قانون کے حمایتوں کو ہٹاو¿ نئے زرعی قوانین کے خلاف تین مہینہ سے اوپر جاری آندولن کررہے کسان اب بھی اپنی مانگوں پر اڑے ہوئے ہیں۔ بارڈرپرڈٹے کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہیں ہولی کا دہن کریں گے اور ہولی بھی منائیں گے۔ ایسی صورتحال میں ، احتجاج لمبا کھچتا دکھائی رے رہا ہے ۔ کسان قائدین کا کہنا ہے کہ چاہے اس میں کتنا ہی عرصہ لگے ، کسان اپنے مطالبات پر یقین دئے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔ ایک ہی وقت میں ، تحریک کا مرکز تکری اور غازی پور بارڈر بن گیا ہے۔ بارڈر پر کاشتکاروں کی تعداد میں اضافے اور گرمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ، بڑے بڑے پنڈال لگائے جارہے ہیں تاکہ کاشتکاروں کو گرمی سے پریشانی نہ ہو۔ اگرچہ غازی پور سنگھو بارڈر پر پہلے کی طرح ہجوم نہیں ہے ، یہاں آنے والے کسان دو تین دن رکنے کے بعد واپس آ رہے ہیں۔ لیکن کسانوں کا تسلسل بدستور جاری ہے۔ ہولی تک کسانوں کی بڑی تعداد میں مجمع اکٹھا کرنے کے سلسلے میں کسانوں کی تنظیموں میں تعاون شروع ہوچکا ہے۔ اس کے ل they ، وہ دیہات کے کسانوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ کسان تنظیموں کے ریل اسٹاپ پروگرام کے بعد سے ہی دہلی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز بھی گشت کررہی ہیں۔ وہاں نقل و حرکت کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ لہذا ٹریفک پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جام راستوں کا استعمال کریں۔ غازی پور بند ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کو آنند وہار ، چلہ ، ڈی این ڈی ، اپسارا ، بھوپورہ اور لونی بارڈر استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ مشتعل افراد نے اپنی تحریک کو آگے بڑھانے اور مضبوط بنانے کے لئے مہاپنچایتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سے بی جے پی میں ہلچل بڑھ گئی ہے۔ بی جے پی زمینی سطح پر ان کوششوں کا جواب دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم ، پارٹی میں ایک طبقے میں بےچینی ہے کہ جاٹ بیلٹ میں اس تحریک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے ، لوک سبھا کی 40-45 نشستیں ضائع ہوسکتی ہیں۔ دریں اثنا ، مشتعل کسان قائدین نے چار جاٹ اکثریتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں بھی مہپنچایتوں کی تیاری کرلی ہے۔ راکیش ٹکائٹ نے بنگال میں بھی مہپنچایت کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے لمبائی میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ ممبران اسمبلی ، ممبران اسمبلی اور اترپردیش ، ہریانہ ، راجستھان وغیرہ کے دیگر اہم قائدین سے رائے لی گئی ہے۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر ، وزیر مملکت سنجیو بالیان اور دیگر رہنما بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔ آرائ بھی مختلف ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کے ایک رہنما نے کہا کہ لال قلعے کے واقعہ اور ملک دشمن تاروں میں شامل ہونے کے انکشافات کی وجہ سے عام کسان اس تحریک سے دور ہوگئے ہیں۔ ایک اور رہنما نے کہا کہ اگر یہاں حالات کو نہ سنبھالا گیا تو خاص طور پر جاٹ بیلٹ میں بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ تاہم ، ہریانہ میں غیر جاٹ وزیر اعلی بننے کی طویل ناراضگی نے ابھی بھی وہاں کی حکومت کو نیچے نہیں لایا؟ دوسری طرف ، بی جے پی کا ایک طبقہ بھی اس معاملے کو جلد حل کرنے کی وکالت کر رہا ہے تاکہ اس سے جو نقصان ہوسکتا ہے اسے قابو کیا جاسکے۔ (انل نریندر)

02 مارچ 2021

جوبائیڈن کی فوجی کاروائی !

امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے بین الاقوامی کاروائی کرتے ہوئے شام پر بم گرائے اور امریکہ نے ان حملوں میں امریکی سروس سے وابسطہ ایک ٹھیکیدار بھی مارا گیا ۔بائیڈن انتظامیہ کی کاروائی پر پچھلے دنوں چین کی چلنجوں کو ذہن میں رکھا گیا ۔شام پر ہوائی حملوں کے فوراً بعد امریکہ کے وزیر دفاع لائڈ آشٹن نے اخبار نویسوں سے کہا کہ ہمیں بھروسہ ہے کے شیعہ دہشت گردوں کے ذریعہ ان ٹھکانوں سے جو سرگرمیاں جاری تھیں امریکہ نے انہیں ختم کرنے کے لئے ہوائی حملے کئے ہیں ۔اور انہوںنے بائیڈن کو اس کاروائی کے لئے سفارش کی تھی ۔اس سے پہلے پینٹاگان کے ترجمان جون کبری نے امریکی کاروائی ایک جدید فوجی رد عمل تھا ۔جو اتحادی ساتھیوں کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد ممکن ہوا ۔صدر جوبائیڈن کی ہدایت پر امریکی فوجی فورس سے مشرقی شام میں یہ حملہ کیا جس میں آتنکی گروپوں کے کئی اڈے تباہ ہوگئے امریکی صدر بائیڈن نے شروعات میں ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ چین سے پیش آنے والی چنوتیوں پر توجہ دیں گے ۔شیریا انسانی حقوق تنظیم نے ان حملوں میں کئی درجن سے زیادہ ایرانی لڑاکوں کے مرنے کی بات کہی ہے ۔سیرین آبزرویشن ہیومن رائٹس کے ڈائرکٹر رمی عبدال نے بتایا کہ امریکی حملوں میں جان و مال کا نقصان پہونچا ہے ۔امریکی جہازوں نے سات اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے کئی بم گرائے ۔جنگجوو¿ں کا ٹھکانہ ایران شام سرحد بھی ہے اس کا استعمال ہتھیار سامان لانے میں ہوتا تھا ۔اس میں کتائب ہذب اللہ اور کتائب سید الہوادہ جیسے دہشت گرد گروپ شامل ہیں ۔ (انل نریندر)

مکیش امبانی کو نشانہ بنانے کی سازش!

صنعتکار اور نامور صنعتکار مکیش امبانی کے گھر کے قریب دھماکوںسامان سے بھری ایک اسکارپیو کار ملنے سے سنسنی پھیل گئی ہے یہ کار کس نے کھڑی کی اور کیوں کی اس کے بارے میں جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا ۔پولیس کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ امبانی کے گھر کے سامنے کار چوری کی تھی ایک ہفتہ پہلے چرائی گئی تھی گاڑی میں ایک خط بھی ملا تھا اس میں امبانی اور ان کی بیوی نیتا امبانی اور گھر والوں کو دھمکی دی گئی ہے یا آگے ہونے والے واقعہ کا ٹریلیر ہے اگلی مرتبہ دھماکہ سامان پوراہوگا ۔ممبئی پولیس نے بتایا کہ ڈرائیور کے بغل والی شیٹ پر نیلے رنگ کابیگ پایا گیا تھا ۔اس پر ممبئی انڈینس لکھا تھا ۔اسی میں یہ خط ملا غور طلب ہے جمع کو اس کارپیو کار مشتبہ حالت میں امبانی کے گھر کے سامنے کھڑی ملی تھی اس کے اندر ملے سامان دھماکوں جیلٹن کی چھڑیں ملی تھیں اور کار کا نمبر کھود کر مٹایا اور اس کے اندر سے کچھ اور نمبر پلیٹیں ملی تھیں اس درمیان اسکارپیو کے مالک بھی سامنے آئے ان کانام ہے ۔ہرین منسوکھ دوپہر کو پولیس کمشنر کے دفتر پہونچے اور بتایا کہ ان کی کار 17فروری کو ایرولی ملونڈ برج کے پاس سے چوری ہوگئی تھی وہ اپنے رشتہ دار کے یہاں جارہے تھے ۔منسکھ نے ٹی وی پر دیکھا کہ امبانی کے گھر کے پاس ملی گاڑی ان کی جیسی ہے ۔سولر انڈسٹریز کے مالک ستیہ نارائن نووال نے بیان جاری کرکے کہا دھماکہ ایکٹ 2008کے تحت کمپنی کے ذریعے دھماکوں کے پروڈکشن آفروں سبھی ڈیٹا دھماکہ محکمہ اور پولیس کو سونپ دئیے گئے ہیں ۔مہارشٹر کے وزیرداخلہ نے ٹوئیٹ کیا ہے ممبئی میں صنعتکار مکیش امبانی کے گھر کے قریب ملی دھماکوں سامان سے لدی اسکارپیو کیس ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کو سونپ دیا گیا ہے ۔اور جلد ہی جانچ کا نتیجہ سامنے آجائے گا پولیس نے بتایا کہ مکیش امبانی کے گھر کے سامنے کھڑی کرنے والے شخص کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھاگیا وہ منھ پر ماسک لگائے ہوئے تھا ۔اور اوپری حصہ کو ڈھکا ہوا تھا اس وجہ سے اس کی پہچان نہیں ہو سکی بھاجپا نیتا کریٹ سمیا نے کہا کہ اس واقعہ سے ممبئی پولیس کی ناکامی کا پتہ چلتا ہے دہلی میں جاری نئے زرعی قوانین آندولن کے درمیان کانگریس سمیت کچھ نیتاو¿ں نے امبانی اڈانی کو نشانہ پر لیا ہوا ہے اور کسان آندولن کے دوران پنجاب میں ریالائنس کے موبائل ٹاروں کو نقصان پہوچانے کا معاملہ بھی سامنے آچکا ہے ۔ (انل نریندر)

کوکن بنام کوئلہ !

کوئلہ اور کوکن میں کیا یکسانیت ہے ؟ اس سوال کا سیدھا جواب ہے ....کچھ نہیں سوائے اس کے کہ دونوں کے نام تین الفاظ کے ہیں اور کاف سے شروع ہوتے ہیں لیکن اگر مغربی بنگال کی سیاست کے سلسلے میں تو اس سوال کا جوا ب کافی پیچیڈ ہے ۔اسمبلی چناو¿ سے عین پہلے یہ دونوں نام حکمراں ترنمول کانگریس اور اقتدار کی سب سے بڑی دعویدار ہونے کا دعویٰ کررہی بھاجپا کے چیف اہم پکچر بن چکے ہیں ۔اس مسئلے پر دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو کٹھگھرے میں کھڑا کرنے میں لگی ہیں ۔کس کے دعووں میں کتنا دم ہے اس کا انکشاف تو لمبی تفتیشی عمل کے پورا ہونے کے بعد ہی ہو پا ئے گا ۔لیکن ان دونون واقعات کئی ٹائمنگ کچھ سوال شبہہ ضرور پید اکرتے ہیں کولکاتہ پولیس نے ایک بارسوخ اطلاع کی بنا پر پچھلے دنوں مینٹرو شہر سے بی جے پی کے یوتھ مورچہ کے نیتا اور ماڈلنگ سے وابستہ رہی پامیلا گوسوامی اور ان کے ساتھی پردیپ کمار ڈے کو قریب دس لاکھ روپے کی کوکنگ کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ اس کے ٹھیک تیسرے دن کوئلہ کی ناجائز کھدائی اور فروخت کے معاملے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کے بھتیجے اور ایم پی وشیش بینرجی کی بیوی روجیا بینرجی سے پوچھ تاچھ کی اور نوٹس دینے گھر پہونچ گئی پامیلا کے بیان کی بنیاد پر منگل کی دیر رات مغربی بنگال سے باہر فرار ہونے کی کوشش کررہے بھاجپا نیتا راکیش سنگھ کو بھی بردوان سے گرفتار کر لیا گیا اس سے پہلے دن میں ان کے گھر پہونچی پولیس نے کام کاج میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں راکیش کے دونوں لڑکوں کو بھی گرفتار کیا ۔ہائی کورٹ نے راکیش سنگھ کی ایک عرضی خارج کر دی جس میں انہوں نے اس معاملے میں پولیس کاروائی روکنے کی اپیل کی تھی نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ اور فروخت کے معاملے میں گرفتاری سے بیک فٹ پر بی جے پی آگئی ہے حالانکہ پارٹی کے نیتا اسے سازش قرار دے رہے ہیں دوسری طرف سی بی آئی نے کوئلہ معاملے میں ابھیشیک کی بیوی روجیرا سے قریب ایک گھنٹہ تک پوچھ تاچھ کی لیکن وہ افسر ان کے جواب سے مطمئن نہیں ہے اور پھر ان سے دوبارہ پوچھ تاچھ کر سکتے ہیں پامیلا کو ان کے ایک دوست پرویر کماراور ان کے سکوڑٹی گارڈ کے ساتھ جمع کو کولکاتہ کے نیو علی پور علاقہ سے گرفتار کیا تھا ۔پولیس کے مطابق پامیلا کے تھیلے میں اور کار میں دس لاکھ روپے مالیت کی 90گرام کوکن بر آمد کی گئی تھی ۔ یہ پورا واقعہ بی جے پی کا اصلی چہرہ دکھاتا ہے ۔پارٹی کے جنرل سکریٹری پارتھ چٹرجی کے مطابق اس سے پہلے بی جے پی ایک نیتا بچوں کی اسمگلنگ معاملے میں گرفتار ہوئی تھی اب دوسری نیتا ڈرگس معاملے میں گرفتا ر ہوئی ہے لیکن بی جے پی اس کو بدلے کی سیاست قرار دے رہی ہے ۔بی جے پی کے پردیش کمیٹی کے ممبر راکیش سنگھ نے اپنی گرفتار کے بعد صحافیوں سے کہا کہ حکمراں اور ٹی ایم سی پولیس ان کے خلاف سازش رچ رہی اور انہوں نے پامیلا کو سکھا پڑھا دیا ہے سنگھ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک سال سے زیادہ وقت سے پامیلا کے رابطے میں نہیں تھے اور کسی بھی جانچ کا حصہ بننے کو تیار ہیں مغربی بنگال کے وکیل کشور دت نے منگل کے روز راکیش کی عرضی پر سماعت کے دوران بتایا تھا کہ راکیش خطرناک بدمعاش ہیں ان کے خلاف 56مجرمانہ مقدمہ در ج ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ چناو¿ میں کوکن بھاری پڑتا ہے یا کوئلہ معاملہ؟ (انل نریندر)

28 فروری 2021

گورنر اور حکومتوں کے مابین تنازعات میں اضافہ

حقوق کو لے کر گورنر اور ریاستی حکومتوں کے مابین تنازعہ کی خبر آتی ہے۔ بہت سے غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں ، تنازعات کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے۔ کچھ وزرائے اعلیٰ کا الزام ہے کہ گورنر حکومت کے کام میں زیادہ مداخلت کررہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ، گورنر کا کہنا ہے کہ غلط فیصلوں کو منظور نہیں کیا جائے۔ سابق لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی اور سابق وزیر اعلی نارائناسامی کے درمیان حال ہی میں پڈوچیری کے مابین چار سالہ پرانے تنازعہ کی تازہ مثال اس کی مثال ہے۔ اسی طرح مغربی بنگال ، مہاراشٹر اور دہلی میں بھی دونوں فریقوں کے حقوق کے حوالے سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں۔ مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکھر اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کے درمیان کھل کر متعدد اختلافات سامنے آئے ہیں۔ گورنر اکثر ریاست اور لاس پر ممتا بنرجی حکومت کے دباو¿ میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ، گورنر نے پریس کانفرنس کرکے ممتا حکومت کو قائدین پر حملے کے واقعات پر بھی متنبہ کیا تھا۔ دونوں کے درمیان کورونا سے نمٹنے کے لئے زبانی جنگ ہوتی ہے۔ مہاراشٹرا میں ، وزیر اعلی ادھوو ٹھاکرے ، گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سرکاری طیارے کے ذریعہ ریاست سے باہر کا سفر نہیں کرتے تھے ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں کے مابین کتنا فاصلہ پڑا ہے۔ حکومت نے راج بھون میں تعمیر ہیلی پیڈ کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل ، ادھو ٹھاکرے حکومت نے نو ماہ قبل قانون ساز کونسل میں گورنر کوٹا کی 12 نشستوں کے نامزدگی کے لئے کاغذات نامز بھیجے تھے ، جن کو ابھی تک راج بھون نے منظور نہیں کیا ہے۔ کنگنا رناوت سے لے کر دیگر تمام امور تک ، دونوں کے مابین لڑائی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف ، اگر ہم دارالحکومت دہلی کی بات کریں تو ، انیل بیجل کے گورنر اور سی ایم اروند کیجریوال کے مابین لڑائی اکثر منظر عام پر آتی ہے۔ تصادم دونوں کے مابین سابق فوجیوں کے معاوضے سے شروع ہوا۔ دہلی حکومت نے نو مشیروں کی برطرفی پر بھی اختلاف کیا۔ محلہ کلینک سے فائل منسلک کرنے کے لئے عام آدمی پارٹی (آپ) کے اراکین اسمبلی سات گھنٹے انیل بیجل کے دفتر میں بیٹھے رہے۔ دونوں میںتنازعہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے درمیانی راستے سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ سے کیجریوال اور بیجل میں کچھ دیر کے لئے امن قائم ہوا ، لیکن یہ صرف تھوڑی دیر تک جاری رہا۔ صورت حال پھر خود وہاں پہنچ گئی۔ چیف منسٹر کیجریوال کا ماننا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر مرکز میں بی جے پی حکومت کے ایما پر کام کرتے ہیں اور اکثر اپنے ترقی پسند اقدامات روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ درجنوں فائلیں بیج دبانے بیٹھی ہیں۔ اگلے سال دہلی میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ اس تصادم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ مرکز میں بی جے پی حکومت نہیں چاہتی کہ آپ پارٹی کی دہلی حکومت زیادہ مقبولیت حاصل کرے۔ گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کے مابین تصادم پرانا ہے اور جاری رہے گا۔ کیونکہ ہمارے آئین میں بہت ساری چیزیں واضح نہیں ہیں ، خاص طور پر گورنر ، لیفٹیننٹ گورنر اور منتخب حکومت کے مابین حقوق کی کوئی واضح تقسیم نہیں ہے۔ انل نریندر

مودی اسٹیڈیم کہیں ، موٹیرا نہیں

سیاسی جھنجھٹ نے موتیرا کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر رکھنا شروع کردیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ آج مودی کی طاقت اور تکبر اتنا بڑھ گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف جیت لیا اور اپنا نام اسٹیڈیم میں ڈال دیا بلکہ انہوں نے سردار پٹیل کا نام ختم کرکے ان کا نام لکھا ہے۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اسٹیڈیم کا نام بدلتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ، "اس اسٹیڈیم کا نام نریندر مودی ہے۔" اس کے دو اختتام ہیں۔ ایک اڈانی ہے ، دوسرا ریلائنس سبب جئے شاہ کی نگرانی میں ہے۔ تو ، ہم نے مجھے ایسا کرنے نہیں دیا۔ کانگریس نے کہا کہ مودی نے سب سے پہلے آزادی کے شایان شانوں کے درمیان لڑنے کی کوشش کی۔ اب ، انہوں نے سردار پٹیل کی وراثت پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا ، "ٹرمپ کی طرح ، کسی دوسرے سربراہ مملکت کے استقبال کی پیشگی بکنگ یقینی بنائی گئی ہے یا لیبلنگ کے ذریعے اپنی میراث کی تعمیر کا آغاز کیا گیا ہے۔" مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے لکھا ، "جو لوگ جمل لہراتے ہیں ، وہ زندہ رہتے ہوئے اپنے نام پر ورثہ کا نام دیتے رہتے ہیں۔ انل نریندر

نیرو مودی کی حوالگی کےلئے راہ ہموار

پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) کے تقریبا 14 14 ہزار کروڑ گھوٹالے کے مرکزی ملزم سے نیرو مودی کی حوالگی کا راستہ آخر کار صاف ہوگیا ہے۔ نیرو مودی جمعرات کو حوالگی کے خلاف اپنا مقدمہ ہار گئے۔ لندن کی ایک عدالت نے کروڑوں انفیکشن ، خراب صحت ، کمزور شواہد ، انصاف کا خوف اور بھارتی جیلوں میں خراب حالات جیسے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے نریو مودی کے حوالگی کی اجازت دی ہے۔ تاہم ، نیروا کے پاس ہائی کورٹ میں عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اختیار ہے۔ ضلعی جج سموئیل گوجی نے نیرو مودی کی حوالگی کے خلاف درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیرو مودی کی حوالگی مکمل طور پر انسانی حقوق کے دائرے میں ہے۔ بھارت میں انصاف نہ ملنے کے امکان کی تصدیق کے لئے کوئی پختہ ثبوت موجود نہیں ہے۔ صرف یہی نہیں ، جج نے فیصلے میں کہا کہ لائن آف کریڈٹ کو فائدہ پہنچانے میں بینک عہدیدار سمیت ملزم کی ملی بھگت کے مضبوط ثبوت موجود ہیں۔ یہاں تک کہ خود نیرو مودی نے بھی پی این بی کو خط لکھ کر بھاری واجبات کو قبول کرتے ہوئے اسے جلد ادائیگی کی ہے۔ جج نے نیرو اور اس کی کمپنی کے جائز کاروبار کے دعوو¿ں پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نیرو کو اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہے۔ لیکن اس سے پہلے برطانیہ کے سکریٹری برائے امور داخلہ (وزیر داخلہ) اس پر غور کریں گے۔ نیرو مودی وزیر کے فیصلے کے 14 دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ جنوری 2018 میں ، نیرو مودی فیملی سمیت بیرون ملک فرار ہوچکے تھے ، جس کے بعد پی این بی کے لائن آف کریڈٹ کے ذریعے 14 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا انکشاف ہوا تھا۔ ان کے خلاف سی بی آئی اور ای ڈی نے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا تھا۔ دسمبر 2018 میں ، نیرو مودی کے ہولیا کے لندن میں چھپے رہنے کی تصدیق ہوگئی۔ مارچ 2018 میں ، انہیں لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح ، اس گھوٹالے کا دوسرا ملزم ، مہر چوکسی ، اینٹیگا گیا تھا۔ حکومت ان کے حوالے کرنے کے لئے سفارتی کوششوں میں بھی مصروف ہے۔ نیرو مودی کے حوالگی کیس میں ، برطانیہ کی ایک عدالت نے کہا کہ ان کی ذہنی حالت مناسب ہے کہ وہ لندن کی جیل سے ممبئی کی آرتھر روڈ جیل بھیجے جائیں۔ نیرو کی قانونی ٹیم نے دلیل دی تھی کہ نیروا اور اس کے اہل خانہ افسردہ تھے اور انہوں نے خودکشی کرلی۔ جج نے اعتراف کیا کہ لندن کی جیل میں رہنے سے ان کی ذہنی حالت متاثر ہوئی ہے۔ لیکن یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ وہ حوالگی کی وجہ سے خودکشی کرے گا۔ انل نریندر

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...