Translater

15 جنوری 2022

عام آدمی پارٹی کو چار ریاستوں سے بڑی امید!

دیش میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے چنا و¿کی تاریخوں کے اعلان کے بعد عام آدمی پارٹی نے بھی اپنی چنا وی کمپین تیز کر دی ہے ۔ ان ریاستوں میں پارٹی اپنے دہلی ویکاس ماڈل کے سہارے آگے بڑھ رہی ہے ۔دیگر ریاستوں میں پارٹی مفت سہولیات دینے کو ہی جیت کیلئے اپنا اہم ہتھیا ر بنا رہی ہے۔ اب پارٹی جلد ہی چار ریا ستوں کیلئے رضا کار تیار کرے گی ۔ جو پنجاب ،گو ا ،اتراکھنڈ و اتر پردیش میںمسلسل 30دن تک اپنی سیوائیں دیں گے۔ اس مرتبہ چنا و¿ کمیشن نے بھی صا ف کیا کہ چنا و¿ کمپین کی اہم کڑی سوشل میڈیا ہوگا ۔ اس فیصلے کے بعد عآپ نے یہ نئی پہل شروع کی ہے۔ پارٹی کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے جنتا کو دہلی کے ماڈل سے جوڑا جائے گا۔ اور اسی طرز پر چنا و¿ میں عام آدمی سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی جائے گی۔ 14فروری کو ہونے والی پولنگ کوپہلے ہی پارٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے سے اپنی مہم سے جوڑ دیا ہے اسے پارٹی کیلئے فائدے کا سودا بتایا جا رہا ہے کیوں کہ اس دن ہی عام آدمی پارٹی بنی تھی ۔ چنا و¿ والی ریاستوں میںعآپ پارٹی نے چار محاذوں کو اپنا ہتھیا ر بنا یا ہے۔ ان میں بچوں کو اچھی تعلیم،روزگار کیلئے اچھے موقعے ،اور اچھے اسپتال ،عورتوں کی حفاظت شامل ہے ۔وہیں پنجاب ریاست میں پارٹی ویکاس ماڈل کو لیکر میدان میں ہے پارٹی کا دعوی ٰ ہے کہ گزشتہ برسوں میں سیا سی پارٹیوں نے پنجاب کی ترقی کو روکا ہے۔ یوپی کیلئے پہلے ہی اپنا ماڈل کارڈ جنتا کے سامنے رکھ چکی ہے اس کے تحت سرکار بننے کے بعد 18برس کے عمر کی عورتوں کو ہر مہینے ایک ہزار روپے مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ (انل نریندر)

چناو ¿ کمیشن نے شروع کی دہلی میونسپل چنا و ¿ کی تیاری!

دہلی اسٹیٹ چنا و¿ کمیشن نے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے چناو¿ کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔اس سلسلے میں کمیشن نے تینوں کارپوریشنوں میں وارڈ ریزرو کرنے کے سلسلے میں سیا سی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی ہے اس دوران بھاجپا ،عآپ پارٹی اور کانگریس کے لیڈروں نے جلد سے جلد وارڈ ریزرو کرنے کی مانگ کی ۔اس پر کمیشن نے اس بارے ضروری کاروائی پوری کرنے کا یقین دلایا میٹنگ میں الیکشن کمشنر ایس کے سریواستو کے علاوہ کئی افسر اور عام آدمی پارٹی کی ممبر اسمبلی آتشی اور کانگریس لیڈر وجئے کانت سابق کانسلر کرشنا مولاری جاٹو و بھا جپا کے سابق کاو¿نسلر سبھاس آریہ وغیرہ شامل ہوئے ۔میٹنگ میں حکام نے بتایا کہ تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں نئے فیصلے تحت سیٹ ریزر و کئے جائیں گے۔ان میں درج فہرست جاتوں اور عورتو ں کیلئے ریزرو ہونے والے وارڈ بدلے جائیں گے کیوں کہ پچھلی مر تبہ اس فارمولے پر اعتراض جتا یا تھا اور کہا تھا کہ اس مرتبہ کسی بھی حلقے کے سھبی وارڈ درج فہر ست برادری کیلئے محفوظ نہیں کئے جانے چاہیے ۔اس مرتبہ زیادہ آبادی کے معاملے میں نمبر دووالے وارڈوں کو درج فہرست ذا ت کیلئے محفوظ کیا جائے ۔اس کا فائدہ عام لوگوں کو ملے گا۔ موجودہ سبھی سیا سی نمائندوں نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک اسمبلی میں دو سے زیا دہ ایس سی وارڈ ریزرو نہ ہوں تاکہ جنرل کیٹیگری کے لوگوں کو بھی برابر کے موقع ملے اور وارڈوں کا ریزرو یشن جتنی جلدی ہو کیاجائے تاکہ اسی حساب سے سبھی پارٹیاں اپنی چنا وی تیاریاں شروع کر سکیں ۔ (انل نریندر)

فرنٹ لائن ورکرس میں بڑھتا اومیکرون کا قہر!

دہلی میں پھیلے کورونا کے اومیکرون ویریئنٹ سے فرنٹ لائن ورکر بھی بچ نہیں پا رہے ہیں چاہے وہ ہیلتھ ورکر ہوں یا دہلی پولیس کے ملازم ہوں ۔ایک اندازے کے مطابق 2000سے 2500ہیلتھ ورکر اب تک اس نئے ویریئنٹ سے متاثر ہو چکے ہیں ۔ 1200سے 6500ڈاکٹر 700سے 800نر سنگ اسٹا ف 400سے 500پیرا میڈیکل اسٹاف بھی انفیکشن کا شکار ہو چکے ہیں ۔دیش کے سب سے بڑے اسپتال دہلی میں ایمس 500اسٹا ف ممبر انفیکشن میں مبتلا ءہیں جن میں سینئر ڈاکٹرس ،ریزیڈنٹ ڈاکٹر س اور نر س ،نان میڈیکل اسٹا ف شامل ہیں ۔ایمس میں ڈائریکٹر آفس میں بھی 7سے 8اسٹاف کورونا سے متاثر ہیں ان ڈرائیور بھی شامل ہے یہی حالت آر ایم ایل اسپتال میں بھی ہے جہاں کئی ڈاکٹر و اسٹاف انفیکشن کا شکار ہیں ۔ایک ریزیڈنٹ ڈاکٹر نے بتا یا کہ تقریبا ً 35فیصدی سینئر و جونیئر ڈاکٹر س وائرس کا شکار ہیں ۔اسپتال کے اسٹاف میں بڑھتے کو رونا کی وجہ سے انتظامیہ اس کو لیکر ایس او پی جاری کیا ہے اس میں انتظا میہ اثرات ملنے پر ہی ہیلتھ ملازمین کو خو د کو الگ تھلگ ہونے کی صلاح دیتی ہے ۔ پانچ دن تک اثرات پر نگاہ رکھیں اور جانچ کرائیں ۔ ادھر راجدھا نی میں تیزی سے بڑھتے معاملوں کے بیچ دہلی پولیس کے پی آر او ایڈشنل کمشنر چنمے بسوال سمیت ایک ہزار ملازمین کورونا انفیکشن سے متاثر پائے گئے ہیں ۔ پولیس ہیڈ کوارٹر کے مطابق یہ صر ف 9دن میں ہی متاثر ہوئے ہیں اور انفیکشن سے متا ثر پولیس ملازمین آئیسو لیٹ ہیں وار پوری طرح ٹھیک ہونے کے بعد ڈیوٹی پر آئیں گے ۔حال ہی میں دہلی پولیس کے کمشنر راکیس استھانہ میں پولیس ملازمین کے درمیان وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے گائڈ لائن پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کی تھی جس کے مطابق پولیس ملازمین کو پوری ڈیوٹی کے دوران ماسک لگانا ،ایک دوسرے سے دوری بنائے رکھنا اور ہا تھوں منا سب طریقے سے سینٹائز کرنا چاہیے ۔وہیں خبر ہے کہ سی بی آئی کے افسرا ن بھی کورونا پازیٹو ملے ہیں۔ (انل نریندر)

14 جنوری 2022

اتراکھنڈ میں سرکاریں ادلا بدلی کی تاریخ رہی ہے !

اتراکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے ۔اب تک صوبہ میں اقتدار باری باری بھاجپا اور کانگریس میں منتقل ہوتا رہا ہے ۔اب ایک بار پھر یہ دونوں پارٹیاں چناوی میدان میں آمنے سامنے ہیں ۔اتراکھنڈ کی چناوی تاریخ بتاتی ہے کہ ریاست کی جنتا اقتدار کی روٹی توے میں الٹتی پلٹتی رہی ہے کہ روٹی جل نہ جائے ۔صوبہ کی چناوی تاریخ بتاتی ہے کہ ریاست میں اقتدار مخالف لہر ہی سیاسی حریفوں کو اقتدار کے سیڑھی پر کھڑا کردیتی ہے اور اتار دیتی ہے ۔2002 سے پہلے اور 2017 اسمبلی چناو¿ کو چھوڑنے تو بھاجپا اور کانگریس کو کبھی مکمل اکثریت نہیں ملی دونوں پارٹیوں نے جوڑ توڑ سے ہی سرکاریں بنائیں ۔2007 میں بھاجپا نے آزاد ممبران اور کچھ علاقائی ممبروں سے مل کر 2012 میں کانگریس نے وسپا اور آزاد کی مدد سے سرکار بنائی ۔اور 2022 میں ابھی صوبہ میں زبردست اکثریت کی بھاجپا سرکار قائم ہے ۔اور وہ اتراکھنڈ میں ہر پانچ سال میں تبدیل اقتدار میں لگی رہی ۔اور اس مرتبہ بھی وہ ساٹھ کے پار کا نعرہ دے رہی ہے تو ہیں کانگریس اقتدار مخالف لہر کے گھوڑے پر سوار ہو کر اقتدار میں واپسی کی امید لگائے ہوئے ہے ۔صوبہ میں ارکندر و بسپا نے بھی اقتدار میں ساجھیداری کی ہے لیکن اس مرتبہ عام آدمی پارٹی بھی پورے دم خم سے چناوی میدان میں ہے ۔یہ بات اور ہے کہ وہ لوک سبھا چناو¿ میں وہ کچھ خاص نہیں کرپائی تھی ۔وہیں بسپا سپا یو کے ڈی و لیفٹ پارٹیوں کا مینڈیٹ مسلسل کھسکتا رہا ہے ۔دیکھنا یہ ہے اب باری کس کی ہے ۔کیا ہرپانچ سال میں تبدلی کا جو دور بھاجپانے توڑا تھا وہ پھر سے دہرا سکتی ہے ۔کانگریس کو بھی بامید ہے کہ وہ اس بار بازی مار لے گی ۔وہیںعام آدمی پارٹی بھی چھاتی ٹھوک کر دعویٰ کررہی ہے اب کی بار ہم سرکار بنائیںگے دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ (انل نریندر)

سوامی پرساد موریہ کا چھوڑنا کتنا بڑا جھٹکا؟

دہلی میں چناوی حکمت عملی بنا رہی بھاجپا کو منگلوار کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب یوپی کیبنیٹ وزیر سوامی پرساد موریہ نے بھاجپا سرکار دلتوں پسماندہ طبقوں ، کسانوں اور بے روزگاروں وچھوٹی صنعتوں کی زبردست نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کیب نیٹ سے استعفیٰ دے دیا ۔موریہ نے اپنے تین حمایتی ممبران اسمبلی برجیش پرجاپتی ،بھگوتی ساگر ،روشن لال ورما کے ساتھ بھاجپا کو چھوڑ دیا ۔انہوں نے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سے ملاقات کی اور چودہ جنوری کو یہ سبھی سپا کی ممبر شپ حاصل کریں گے ۔اس کے علاوہ دارسنگھ اور جمعرات کے روز سینی نے وزیر کے طور پر کیب نیٹ سے استعفیٰ دے دیا اس کے ساتھ ہی اب تک پارٹی چھوڑنے والے ممبران اسمبلی کی تعداد 12تک پہونچ چکی ہے ۔تذکرہ چل رہا ہے کہ وہ بھی سائیکل پر سوار ہونے جا رہے ہیں یوگی سرکار میں وزیر محنت و سروس وزیر سوامی پرساد موریہ نے منگل کو سوشل میڈیا پر استعفیٰ کا اعلان کیااور پھر پارٹی لیڈر شپ کو استعفیٰ بھیج دیا اس کے بعد 12:15بجے انہوں نے تینوں ممبران اسمبلی کے ساتھ جنیشور مشر ٹرسٹ میں اکھلیش یادو سے ملاقات کی ۔گھنٹے بھر چلی ملاقات کے بعد وہاں سے وہ باہر نکلے ۔موریہ نے کہا میری کسی سے شخصی دشمنی نہیں ہے ۔بھاجپا میں سماجی انصاف کی لڑائی نہیں لڑی جا رہی ہے سرکار نظرانداز کررہی ہے ۔پسماندہ طبقہ کے لوگوں کو انصاف نہیں مل پا رہا ہے ۔ایسے میں ان کا بھاجپا کے ساتھ بنے رہنا ممکن نہیں ہے ۔سپا سے امید ہے اس لئے اس کے ساتھ جارہا ہوں ۔موریہ کا دعویٰ ہے آگے کی دھار اور دوار دیکھتے رہیے ابھی دس سے 12 ممبران اسمبلی استعفیٰ دیںگے۔موریہ کے استعفیٰ پر مبصرین نے ایک تجزیہ کیا ہے کہ سوامی پرساد موریہ کے استعفیٰ سے صوبہ کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ کے خلاف اس مشن کو تقویت ملے گی اتر پردیش میں اونچی برادریوں کی سرکار ہے ۔بی جے پی نے منگلوار کو دہلی میں اتر پردیش اسمبلی چناو¿ کو لیکر میٹنگ کی تھی ۔اس میں یوگی آدتیہ ناتھ نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے بی جے پی پردیش صدر سوتنتر دیو سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ پارٹی کے دیگر سینئر لیڈر موجود تھے ۔لیکن سوامی پرساد موریہ کا استعفیٰ میٹنگ میں ساری پلاننگ پر بھاری پڑ گیا ۔پارٹی کے نیتاو¿ں کا کہنا ہے کہ یوپی میں بی جے پی کو اپنی چناوی مہم پر پھر سے غور کرنا ہوگا چونکہ موریہ کے جانے سے پسماندہ برادریوں کا ایک اہم ساتھ چلا گیا ۔ابھی تک یوپی میں پی ایم مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ بی جے پی کے چناو¿ مہم کا چہرے رہے ہیں ۔بی جے پی کی پریشانی بھی بڑھی ہے کہ موریہ کے سبب سماجوادی پارٹی کو اکثریت ملنے کا امکان ہے ۔سپااپنے بھروسہ مند ووٹ بینک یادو ،مسلم کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے ۔اکھیلیش سپا کے ساتھ غیر یاد و او بی سی پسماندہ طبقوں کو بھی جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اتر پردیش میں غیر یادو او بی سی ایک اثر دار ووٹر ہے ۔ایک اندازہ کے مطابق 35 فیصدی سے زیادہ ہے ۔چناو¿ سے عین پہلے بی جے پی چھوڑنے والے سوامی پرساد موریہ سب سے کافی بڑے نیتا ہیں ۔موریہ 2016 میں بی ایس پی سے بی جے پی میں آئے تھے بسپا تک ان کی حیثیت مایاوتی کے بعد نمبر دو پر تھی ۔رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے نیتاو¿ںنے موریہ کے پارٹی چھوڑنے کو بہت اہمیت نہیں دی ہے ۔اور کہا وہ لمبے وقت سے موقع کی تلاش میں تھے وہ اپنے بیٹے اتکرشٹ کے لئے ٹکٹ مانگ رہے تھے ۔جسے پارٹی نے منع کردیا اور وہ اسی وجہ سے ناراض تھے ۔موریہ کی بیٹی سنگ متراموریہ بدایوں لوک سبھا شیٹ سے بی جے پی کی ایم پی ہے انہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کا پارلیمنٹ میں سمرتھن کیا تھا ۔منگلوار کو سوامی پرساد موریہ کے بی جے پی چھوڑنے پر پارٹی کی طرف سے سرکاری طور پر خاموشی رہی ۔لیکن انہوں نے پبلک طور سے ٹوئیٹ کیا اور اپیل کی کہ آدرنیہ موریہ جی نے کن اسباب سے استعفیٰ دیاہے میں نہیں جانتا ۔اب اپیل ہے کہ وہ بیٹھ کر بات کریں جلد بازی میں لئے گئے فیصلے اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں ۔ (انل نریندر)

13 جنوری 2022

شراب کھولنے کا کام رکا !

کورونا کے بڑھتے معاملوں کے درمیان دہلی میں شراب کی دوکانیں کھولنے کاسلسلہ اب رک گیا ہے ۔راجدھانی میں ابھی تک 515شراب کی دوکانیں چالو ہو گئی ہیں ۔باقی قریب 100دوکانوں کی ویری فکیشن کا کام بڑھتے کورونا کے سبب رک گیا ہے ۔بتایا جا رہا ہے کہ محکمہ لیکر (شراب ) کی ٹیم کورونا پروٹوکال کا ضلعوں کا انتظامیہ بھی کورونا پروٹوکول کی تعمیل کرنے میں لگے ہیں جس کے چلتے نئی دوکانوں کی ویر ی فکیشن کا کام نہیں ہو پا رہا ہے ۔دہلی میں ابھی قریب 650 لائسنس جاری ہوئے ہیں لیکن ان میں سے قریب 125دوکانیں شخصی ویری فکیشن نہ ہونے ودوکان کھولنے کو لیکر جاری تنازعہ کی وجہ سے لٹکی ہوئی ہیں ۔دسمبر کے آخیر تک دہلی سرکار نے ضلع انتطامیہ کو ھدایت دی تھی کہ اب محکمہ شراب کے ساتھ مل کر دوکانیں کھولنے میں آرہی پریشانیوں اور شخصی ویری فکیشن کے کام کوترجیح کے ساتھ کرائیں ۔اس کے بعد دہلی میں تیزی سے دوکانیں کھلنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔جس کے بعدقریب 150دوکانیں کھل پائی ہیں لیکن کورونا نے پھر سے پریشانی بڑھا دی ہے ۔نئی لیکر پالیسی کے تحت دہلی میں 17 نومبر 2021 کو راجدھانی کے 272 واڈوں میں 849دوکانیں کھلی تھیں جن میں ہر ایک وارڈ کے اندر تین دوکانیں ضروری طور سے کھولی جانی تھیں لیکن دوکانیں کھولنے میںکافی دکتیں آئیں دہلی کانگریس نے دہلی سرکار کی شراب پالیسی پر احتجاج کیا ہے اور کئی جگہوں پر لوگوں کے احتجاج میں دوکانیں بند کرنی پڑی ہیں کافی جگہوں پر لوگوں نے رہائشی علاقہ اسکول مندر وں کے قریب بتا کر احتجاج کیا کچھ دوکانوں کو قاعدہ کے برعکس کھولے جانے پر این ڈی ایم سی کے ذریعے سیل کر دیاگیا ۔انہیں وجوہات کے چلتے 300 سے زیادہ دوکانیں نہیں کھل پائیں جبکہ لائسنس جاری ہونے کے بعد 150دوکانوں کا فزیکلی ویری فکیشن ہونا باقی ہے ۔اسی وجہ سے بہت سی دوکانیں کھلنا باقی ہیں ۔ (انل نریندر)

پی ایم سیکورٹی میں چوک کی جانچ مختار کمیٹی کرے گی !

پنجاب میں وزیر اعظم کی سیکورٹی میں چوک کے معاملے میں دیش کی سپریم کورٹ کارول اہم ہوگیا ہے ۔عدالت نے سابق جج کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے جو منصفانہ جانچ کے لئے بڑی عدالت نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی مختار کمیٹی بنائے گی ۔اس میں چنڈی گڑھ پولیس کے ڈائرکٹر جنرل قومی تفتیشی ایجنسی کے آئی جی ،پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل اور پنجاب کے اپر ڈائرکٹر جنرل(سیکورٹی ) کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔حالانکہ چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس شوریہ کانت و جسٹس ہماکوہلی پر مشتمل بنچ نے پیر کو اس کا ذکر نہیں کیا ۔عدالت البتہ یہی کہا کہ اس معاملے میں جلد حکم جاری کر دیاجائے گا ۔بنچ نے مرکز اور پنجاب دونوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے پینل کے ذریعے کی جا رہی جانچ پر روک لگائیں ۔کیوں کہ عدالت سرکار کی کاروائی پر مطمئن نہیں ہے ۔سماعت کے دوران جج صاحبان نے مرکزی سرکار کی پیروی کررہے سرکار ی وکیل تشار مہتا پوچھا کہ اگر مرکزی سرکار وجہ بتاو¿ نوٹس سے پہلے ہی سب کچھ نتیجہ نکال رہی ہے تو عدالت میں آنے کا کیا مطلب ہے ۔بنچ نے کہا کہ جب آپ نے نوٹس جاری کیا تو یہ ہمارے حکم سے پہلے تھا اس کے بعد ہم نے اپنا حکم پاس کیا ۔کہ آپ ان سے 24گھنٹے میں جواب دینے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔یہ آپ سے توقع نہیں ہے آپ کو پورا من بنا کر آئے ہیں ۔آپ کی دلیلیں بتاتی ہیں کہ آپ سب کچھ پہلے ہی طے کرچکے ہیں تو پھر اس عدالت میں کیوںآئے ہیں ۔آپ کا نوٹس آنے کے ساتھ اس میں تزاد ہے ۔جبکہ تشار مہتا کا کہنا تھا کہ عدالت مرکز کی رپورٹ کا جائزہ لے سکتی ہے ۔تو اس پر چیف جسٹس نے کہا پھر تو پنجاب کی جانچ کمیٹی کو کام کرنے دیتے ہیں مہتا پنجاب کی کمیٹی میں دکتیں ہیں ۔چیف جسٹس : بنچ نے وزیراعظم کی سیکورٹی سے وابسطہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیاہے ۔سوال بس اتنا ہے کہ جانچ کس طرح کی ہو؟ کیا کسی کو سزا دینے کے لئے ہو اگر ایسا ہے تو اسے اس سے عدالت کا کیا کام ہے ؟ مان لیجئے کہ آپ کی جانچ میں کسی کو ذمہ دار مان لیا گیا تو ہم اس میں کیا کریں گے ۔وزیراعظم کی حفاظت کا معاملہ ہے ایسے نہیں کہ ہم اسے ہلکے میں لے رہے ہیں ۔پنجاب سرکار کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے انہیں منصفانہ سماعت کا موقع نہیں ملا ہے اگر افسرقصوروار جو بھی نکلتا ہے تو اسے ٹانگ دیا جائے ۔پنجاب سرکار کے وکیل ڈاکٹر پٹواریہ نے معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ اگر سپریم کورٹ چاہتی ہے تو اس معاملے میں الگ سے جانچ کمیٹی بنا دے ہم اس کمیٹی سے پورا تعاون کریں گے لیکن ہماری سرکار اور ہمارے حکام پر ابھی الزام نہ لگایا جائے ۔کل ملا کر جلدی جانچ ہو اور دودھ کا دودھ پانی کاپانی سامنے آسکے تاکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی آگے کے لئے سبق ملے ۔یہ ممکن ہے کہ جانچ کے کہیں نہ کہیں راز سامنے نہ آئیں لیکن دیش کم سے کم ایسی چوک مستقبل میں کبھی نہ دیکھے یقینی کرنا چاہیے اب سرکاروں یا سیاست دانوں کو اس سنگین معاملے میں رائے زنی یا اپنی رائے دینے سے گریز کرنا چاہیے ۔جو بھی ذمہ دار ہیں ان پر جلد سے جلد آنچ آئے تو بات بنے ۔ (انل نریندر)

12 جنوری 2022

مختلف پرسنل لاءملک کے اتحا د کی توہین !

مر کزی سرکار نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے متعلق شہریوں کی وراثت اور شادی سے متعلق علیحدہ علیحدہ قوانین کی تعمیل کر نا دیش کے اتحا دکی توہین ہے۔اور یونیورسل سول کوڈ سے بھار ت کا اتحاد ہو گا یکساں شہر ی قانون نافذ کئے جانے کی درخواست کرنے والی عرضی کے جواب میں مرکزی سرکار نے کہاکہ وہ آئینی کمیشن کی رپورٹ ملنے کے بعد قانون بنانے کے معاملے پر متعلقین کے ساتھ تبادلہ خیال کرکے اس کی تفتیش کرے گا ۔ سرکار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم اور حسا س ہے اور اس کے لئے دیش کے مختلف فرقوں کے پرسنل لاءکا گہرا مطالعہ کئے جانے ضرورت ہے مرکز نے اپنے وکیل اجے دکپال کے ذریعے داخل حلف نامے میں شہریوں کیلئے یونیورسل سول کوڈ پر آئین کی سیکشن 44مذہب کو سماجی رشتوں اور پرسنل لاءسے الگ کر تا ہے الگ الگ مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے شہری اثاثے اور شادی سے متعلق قوانین کی تعمیل کرتے ہیں جو دیش کے اتحاد کی توہین ہے اس نے جانکا ری دی کہ یو سی سی سے متعلق مختلف معاملوں کا جائزہ لینے اور اس کے بعد سفارش کرنے کی اس کی درخواست کی بنیا دپر 21ویں آئین کمیشن نے وسیع غو ر وخوض کیلئے اپنی ویب سائٹ پر ہر پریوار قانون میں اصلاحات پر ایک مشاورتی خط ڈالا تھا اس مسئلے پر آئینی کمیشن کی رپورٹ ملنے کے بعد سرکا رمعاملے میں شامل مختلف فرقوں کے ساتھ غو روخوض کے بعد آگے فیصلہ کرے گی ۔ اس معاملے کی اہمیت اور حساسیت کے مسئلے پر مر کزنے یونیورسل سول کوڈ سے متعلق مختلف معاملوں کا جائزہ لینے اور بھار ت آئینی کمیشن سے درخواست کی تھی ۔عدالت نے مئی 2019میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیتا اور وکیل وشونی کما ر اپادھیائے کی کمیٹی نے کرمز کا رد عمل مانگا ہے ۔ (انل نریندر)

2024سے پہلے اقتدار کا سیمی فائنل !

دیش کی سب سے بڑی ریا ست اتر پر دیش سمیت پانچ ریا ستوں میں اسمبلی انتخا بات کا بگل بج چکا ہے ۔کو رونا وبا کی چنوتیوں کے درمیان ہورہے یہ چنا و¿ کئی معنوں میں اہم ترین ثابت ہوں گے۔ 10مارچ کو پتا چل جائے گا کہ 2024سے پہلے اقتدار کے سیمی فائنل کے بعد دیش کی سیا ست کس سمت میں مڑتی دکھائی دے رہی ہے ۔ اتنا طے ہے کہ ان پانچ ریا ستوں کے چناو¿کے اثر کا بنیا دی سے لیکر دور رس اثر ہوں گے ۔ دیش کی سیا ست پر بھی یہ اثر دیکھنے کو ملے گا۔اس چنا و¿ میں حکمراں اور اپوزیشن فریق کی ساکھ داو¿ پر رہے گی دیش کی سیا ست کو چنا و¿ نتیجے ان پانچ مورچوں پر فوری طور پر متاثر کر سکتے ہیں ۔ چنا و¿ نتیجوں کا سب سے پہلے اثر اس سال جولائی میں ہونے والے صدارتی چنا و¿ پر بھی پڑے گا ۔اگر پانچ ریا ستوں کے نتیجے پچھلی مر تبہ کی طرح آئے تو حکمراں بی جے پی اپنی پسند کا صدر جمہوریہ آسانی سے چن لے گی لیکن اگر رد وبدل ہوئی یا قریبی معاملے چلتے رہے تو بھاجپا کو اس مرتبہ دقت آ سکتی ہے کیوں کہ پچھلے کچھ برسوں سے بی جے پی کا تمام اسمبلی انتخابات میں پر فارمنس توقع سے کمزور رہی ہے ۔ کئی بڑی ریا ستوں میں بی جے پی کے پاس ممبران اسمبلی کے نمبر نہیں ہیں ۔اسی سال راجیہ سبھا کی صورت بھی بدلے گی ۔ اس جولائی تک راجیہ سبھا کی 73سیٹوں پر چنا و¿ ہوں گے یہ سیٹیں کل سیٹوں کی ایک تہائی ہوں گی ۔جن ریاستوں میں چنا و¿ ہو رہے ہیں اس حساب سے کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں کو اس بار بی جے پی کے سامنے ہلکی اکثریت مل سکتی ہے ایسے میں ان پانچ ریا ستوں کے نتیجے پارلیمنٹ کے بالائی ایوان کی تصویر طے کریں گے ۔بی جے پی کیلئے صدارتی چناو¿ میں اپنی پسند کے امیدوار کو چننے کے علاوہ راجیہ سبھا میں بھی دبدبہ رکھنے کیلئے موجودہ اسمبلی انتخابات میں پرانی پر فارمنس کو دہرانے کا دباو¿ ہوگا وہیں اپوزیشن سے بی جے پی کو کمزور کر نا چاہے گی2019میں عام چنا و¿ میں بڑی جیت ملنے کے بعد سے بی جے پی الگ الگ محاذ پر مشکل میں رہی ہے ۔چاہے گورننس کا معاملہ ہو یا سیا ست کی پچ بی جے پی کیلئے اتار چڑھا و¿ بھرے اشارے رہے ہیں ۔ویسے میں 2022کی شروعا ت میں ہونے والے اس چنا و¿ سے بی جے پی دکھانا چاہے گی کہ اب بھی دیش کی سیا ست مرکز میں ہے اور نریندر مودی کی قیا دت میں پارٹی 2024سے پہلے اپنے فطری فائدے کی شکل میں اپنی شروعات کرئے گی ۔پانچ ریاستوں کے نتیجے علاقائی طاقتیں فروغ پسند حسرتوں کی حقیقت دکھائے گی ۔ عام آدمی پارٹی پنجاب کے علاوہ گوا ،اترکھنڈ اور اتر پر دیش میں بھی اتری ہے تو گوا میں ٹی ایم سی بھی قسمت آزمائے گی۔ اگر اروند کیجریوال اور ممتا بنر جی کی پارٹی نے اپنی چھاپ چھوڑی تو اس کا اثر دیش کی سیا ست پر دیکھنے کو مل سکتا ہے لیکن اگر وہ کچھ اچھا کرنے میں ناکام رہی تو ان پر بھی سوال اٹھیں گے پانچ ریا ستوں کے چنا و¿ کا سب سے زیا دہ اثر کانگریس پر بھی دیکھا جا سکتاہے کانگریس کے اندرونی حساب کتا ب اور گاندھی خاندان کیلئے یہ چنا و¿ 2019کے چنا و¿ سے زیا دہ اہمیت کا حامل ہے ۔ اگر کانگریس کیلئے اس با ر توقع کے مطابق نتیجے نہیں آئے تو پارٹی کے اندر بغا وت دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔اس لئے ہر لحاظ سے ان انتخا بات کے 2024سے پہلے اقتدا ر کا سیمی فائنل کہا جا ئے تو شاید غلط نہ ہو گا۔ (انل نریندر)

11 جنوری 2022

ہم ڈورنڈ لائن پر باڑ ھ بندی کی اجا ز ت نہیں دیںگے !

افغا نستا ن کی طالبان حکومت نے کہا ہے کہ وہ ڈورنڈ لائن پر پاکستان کو کسی بھی طرح کی گڑ بڑی کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ سرحد پر باڑھ لگا نے کے مسئلے کو لیکر دونوں پڑوسی ملکوں میں بڑھ رہی کشید گی کے درمیان افغا نستا نے پاکستان کو سخت وارننگ دے دی ہے ۔ اطلا عات کے مطا بق طالبان کمانڈر مولوی ثنا ءاللہ نے افغا نستا ن کے تولبے نیوز میں بدھ وار کو کہا کہ ہم (طالبان )پاکستان کو اپنی سرحد میں کسی بھی طریقے سے باڑھ بندی کی اجا زت نہیں دیں گے ۔پاکستا ن نے پہلے جو کیا وہ کر لیا اب ہم آگے کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی گڑبڑی ہونے دیں گے۔ کمانڈر کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان کے وزیر خارجہ محمود قریشی نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ معاملے کو سفارتی اور پر امن طریقے سے سلجھا لیا جائے گا۔ قریشی نے جمعہ کو اسلام آباد نے اخبار نویسوں سے کہا تھا کہ شرپسند عنا صر ان مسئلوں کو بلا وجہ اچھا ل رہے ہیں لیکن ہم اس پر غور کر رہے ہیں ۔ ہم افغا نستا ن سر کار کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔ غور طلب ہے کہ ڈورنڈ لائن افغا نستا ن اور پاکستا ن کے درمیان 2670کلومیٹر لمبی بین الاقوامی سرحد ہے دونوں دیشو ں کی فوجوں کے درمیان اس جگہ پر ہلکی پھلکی جھڑپ کے واقعات ہو چکے ہیں پاکستان نے قابل کی من مانیوں کے باوجود اس سرحد پر تار بندی کا کام نوے فیصد پور ا کر دیا ہے ۔ افغا نستا ن کا کہنا ہے کہ انگریزوں نے اس سرحد بندی کے ذریعے دونوں طرف کے خاندانوں کو بانٹ دیا ہے۔ (انل نریندر)

پبلک چھٹی کااخلاقی حق نہیں ہے !

چھٹیوں کی سہولیت اس لئے رکھی گئی تھی کہ لوگ روز مر ہ کی بھاگ دوڑ سے چھٹکا را پاکر اپنے ڈھنگ سے زندگی گزار سکیں اور اپنے تیو ہاروں پر خوشی منا سکیں ۔ مگر دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمار ے دیش میں چھٹی کو بہت سے لوگوں نے اپنا قانونی حق مان لیا ہے ۔تو کئی لوگ اسے لیکر سیا سی روٹیا ں بھی سینکنے کی کوشش کرتے دیکھے جاتے ہیں ۔ کئی ریا ستوں میں بہت ساری چھٹیا ں اس لئے غیر ضروری طور سے فہر ست میں شامل ہوتی گئی ہیں جنہیں سیا سی پارٹیوں نے ہی مختلف طبقات کو اپنے حق میں کر نے کی غرض سے لاگو کرایا ۔ بمبے ہائی کورٹ نے کہا کہ سرکار ی چھٹی کا اخلا قی حق نہیں ہے ۔ ویسے بھی ہما رے دیش میں کافی عام چھٹیا ں ہیں ممکنہ طور پر ان چھٹیوں کی تعدا د بڑھا نے کے بجائے ان کو کم کر نے کا وقت آگیا ہے ۔ کسی دن کو پبلک چھٹی ڈکلیئر کرنا یا اسے آر ایچ بنا نا سرکا ر کی پالیسی کا معاملہ ہے ایسے میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کسی دن کو پبلک چھٹی کرنے سے کسی کے اخلاقی حق کی عدولی ہوتی ہے ۔ جسٹس گوتم پٹیل و جسٹس مادھو مجمدار کی ڈیویزن بنچ نے یہ بات لبا سہ کے باشندے کشن مائی پھٹیا کی طرف سے دائر عرضی کو خارج کرتے ہوئے جمعرات کو کہی عرضی میں مانگ کی گئی تھی کہ دو اگست کو پبلک چھٹی دی جانی چاہئے ۔کیوں کہ اسی دن 1954میں مر کزی حکمراں ریا ست دادر و نگر حویلی نے سابقہ انتظا میہ سے آزادی حاصل کی تھی ۔ اس سے پہلے 29جولائی 2021کو دو اگست کی پبلک چھٹی کو ختم کر دیا گیا تھا ۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ 15اگست کو دیش کا یوم آزادی ہونے کے ناطے پبلک چھٹی کی جا سکتی ہے تو دو اگست کو کیوں نہیں ہو سکتی ۔ بنچ نے اس دلیل کو نا منظور کر دیا اور کہا کہ پبلک چھٹی کا کوئی اخلا قی حق نہیں ہے ۔ بھار ت ایک ترقی پذیر دیش ہے جہاں پروڈکشن بڑھا نا انتہائی ضروری ہے ویسے بھی ہما رے پاس بہت چھٹیا ں ہوتی ہیں ۔ان میں کٹوتی ہونی چاہئے ۔چھٹیا ں بڑھا نے کا تو سوال ہی نہیں۔ (انل نریندر)

وزیر اعظم کی سیکورٹی بہت سخت اور کئی گھیروں والی ہوتی ہے!

بھار ت کے وزیر اعظم کی حفاظت کو لیکر آج کل سیا سی جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔پنجاب سرکار کٹگھرے میں کھڑی ہے بتادیں کہ وزیر اعظم کی حفاظت بہت سخت اور کئی سیکورٹی گھیروں والی ہوتی ہے اس کا اہم دار ومدار ایس پی جی پر ہوتا ہے ۔ دیگر ایجنسیوں سے تعاون بھی ملتی ہے اس میں این ایس جی کمانڈو، پولیس ،پیر املیٹری فورس کی ٹکڑی اور فوج مر کز اور ریا ستی خفیہ ایجنسیوں کو بھی شامل کیا جا تا ہے ۔وزیر اعظم کے قافلے میں دو بختر بند بی ایم ڈبیلیو7-اور چھ بی ایم ڈبلیو x5اور ایک مرسڈیز گاڑیا ں ایمبو لنس کے ساتھ ایک درجن سے زیا دہ گاڑیاں شامل ہوتی ہیں ۔ ان سب کے علاوہ ،ایک ٹا ٹا سفاری جیمر بھی قافلے کے ساتھ چلتا ہے ۔ وزیر اعظم کے قافلے کے ٹھیک آگے اور پیچھے پولیس کے سیکورٹی جوانوں کی گاڑیا ں ہوتی ہیں ۔ بائیں اور دائیں طرف دو گاڑیا ں ہو تی ہیں اور بیچ میں وزیر اعظم کی بلٹ پروف کا ر ہوتی ہے ۔ روٹ کا پروٹوکا ل بھی طے ہے ۔ ہمیشہ کم سے کم دو روٹ طے ہوتے ہیں کسی کو روٹ کی پہلے سے جانکاری نہیں ہوتی ۔ آخری لمحے پر ایس پی جی روٹ طے کر تی ہے ۔ کسی بھی وقت ایس پی جی روٹ بدل سکتی ہے ۔ ایس پی جی اور ریا ستی پولیس میں تال میل رہتا ہے ۔ ریا ستی پولیس سے روٹ کی کلیئرنس مانگی جاتی ہے ۔پور ا روٹ پہلے سے ہی صا ف کیا جا تا ہے وزیر اعظم کہیں بھی جاتے ہیں ایس پی جی کے پختہ نشانہ بازوں کو ہر قدم پر تعینا ت کیا جا تاہے یہ شوٹر ایک سیکنڈ میں دہشت گردوں کو مار کر گرا سکتے ہیں ۔ ان جوانوں کو امریکہ کے سیکریٹ سر وس کے گائڈ لائنز کے مطابق ٹریننگ دی جاتی ہے حملہ آ وروں کو گمرا ہ کر نے کیلئے قافلے میں وزیر اعظم کی کار کے برا بر دو ڈمی کاریں شامل ہوتی ہیں ۔ اور جیمر گاڑی کے اوپر کئی انٹینا ہو تے ہیں جو سڑ کو ں دونوں طرف امکانی بموں کو سو میٹر کی دوری پر ہی نا کارہ کر نے میں کارگر ہوتے ہیں ۔ ان سبھی کاروں پر این ایس جی کے ماہر نشا نہ با زوں کا قبضہ ہو تاہے ۔ سیکورٹی کے مقصد سے وزیر اعظم کے ساتھ تقریبا سو لوگوں کی ایک ٹیم ہوتی جب وزیر اعظم چلتے ہیں تب بھی وہ وردی کے کلر سول ڈریس میں این ایس جی کے کمانڈوں سے گھیرے ہوتے ہیں اسی لئے وزیر اعظم تک کسی بھی دہشت گرد کا پہونچنا مشکل ہے جب تک وی وی آئی پی سیکورٹی گھیرے سے با ہر نہ نکلے ۔ (انل نریندر)

09 جنوری 2022

بلی بائی ایپ کا ماسٹر مائنڈ آسام کا بی ٹیک کا طالب علم !

بلی بائی ایپ کا ماسٹر مائنڈ اور نیرج بشنوئی کو آسام کے زورہاٹ علاقہ سے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے گرفتار کیا اور وہ اسے دہلی لے آئی ۔اکیس سالہ انجینئرنگ کے طالب علم نے ایپ بنانے میںاپنے رول کا اعتراف کر لیا ہے ۔ممبئی پولیس نے بھی اس معاملے میں اہم ملزم اتراکھنڈ کی سویتا سمیت تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔ممبئی پولیس کا دعویٰ ہے سویتا نے بلی بائی نام سے ٹوئیٹر پیج بنایا بلی بائی ایپ میں سینکڑوں مسلم عورتوں کی تصویریں نیلامی کے لئے لگائی گئیں ۔نیرج کوبھی ویلور انسٹی ٹیوٹ سے بھی نکال دیاگیا ہے ۔بھوپال کے ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طالب علم نیرج نے بلی ایپ بنایا تھا ۔دہلی پولیس کی انٹیلی جینس یونٹ اوراسٹریجک آپریشنس برانچ نے آسام پولیس کے ساتھ 12گھنٹے چلی کاروائی میں نیرج کو زوہارٹ سے گرفتار کیااور اس کا لیپ ٹاپ بھی ضبط کر لیا ہے ۔اسے پرموٹ کرنے کے لئے ٹوئیٹر پر بلی بائی انڈر اسکور نام سے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ بنایا ۔پھر اسے سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ شیئر کیا ۔پکڑے جانے کے بعد پوچھ تاچھ میں اس نے بتایاکہ ایپ بنانے کے بعد اسے سوشل میڈیا پر پرموٹ کرنے کے لئے پروپیگیٹرس کو دیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے ان کا پروپیگنڈہ ہونے لگا ۔نیرج نے ایسا کام کیوں کیا اور ساتھ اور کون کون شامل ہیں اس کاپتہ لگایا جارہا ہے ۔اس کے پاس سے ملے موبائل اور لیپ ٹاپ سے پولیس کے ہاتھ کئی اہم سراغ ملے ہیں ۔پولیس ملزم کو ریمانڈ میںلے کر اس سے پوچھ تاچھ کررہی ہے تاکہ اس کی اس حرکت میں دیگر لوگوں کو پکڑا جا سکے ۔ (انل نریندر)

وزیراعلیٰ کو شکریہ کہنا ، میں زندہ لوٹ پایا!

بھٹنڈہ -پنجاب میں وزیراعظم نریند ر مودی کا قافلہ میں سیکورٹی نے بڑی چوک ہونے کے سبب 20منٹ تک کچھ لوگ مظاہرہ اور کسانوں کے جام میں پھنسا رہا ۔قافلہ کو بیچ میں روک کر بھٹنڈہ ایئر پورٹ لوٹنا پڑا، وہاں پہونچنے پر وزیراعظم نے افسران سے کہا ،کہ اپنے سی ایم کو شکریہ کہنا کہ میں زندہ لوٹ پایا ہوں ۔وزارت داخلہ نے اسے بڑی وسنگین چوک بتاتے ہوئے پنجاب سرکار سے رپورٹ مانگی وزیراعظم نریندر مودی کی سیکورٹی میں ہوئی چوک سے پورا دیش حیران رہ گیا ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا اپنے ہی دیش میں وزیراعظم کے ساتھ ایسا ناگزیں واقعہ رو نما ہو سکتا ہے کہ ان کے قافلے کو کسی فلائی اوور پر بیس منٹ کے لئے رکنا پڑے ۔اگر یہ کسی طرح کی قتل کرنے کی کوشش تھی تو اس کی سبھی کو تشویش ہونی چاہیے ۔میں کسی ایک واقعہ کے جواب میں دوسرے وواقعہ کو یاد کرکے جواب دینے کاحمایتی نہیں ہوں مگر جمہوریت میں جب احتجاج کو جب سازش اورخطرہ کہا جانے لگے تو کچھ باتیں تاریخ کے اوراق سے نکالناچاہیے ۔بات 26اپریل 2009کی ہے جب دیش کے اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ گجرات کے احمد آباد میں تھے جہاں ا ن پر جوتا پھینکا گیا تھا یہ بھی پی ایم کی سیکورٹی میں چوک تھی کہنے کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں جوتے کی جگہ بم بھی ہو سکتا تھا چونکہ چھ ماہ پہلے ہی بھارت پرایک بڑا آتنکی حملہ ہواتھا۔اور جس طرح سے حالات میں دھرم سنسد میں ایک دھارمک نیتا نے کہا کہ اگر میں ایم پی ہوتاتو اور میرے پاس بندوق ہوتی تومیں ڈاکٹرمنموہن سنگھ کوگولی ماردیتا تواس سے صاف ہوتا ہے کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کے دشمن کم نہیں تھے ۔جوتا پھیکنے کے واقعہ کے بعد پی ایم منموہن سنگھ نے نا تو گجرات کی مودی سرکار پر الزام لگایااور یہی کہا کہ میں شکریہ کہنا چاہتا ہوں کہ سی ایم کو میں زندہ بچ گیا ۔کیوں کہ وہ اوچھی اور بدنیتی کی سیاست میں یقین نہیںکرتے سب سے اچھی بات یہ تھی کہ منموہن سنگھ نے اس لڑکے کو معاف کرتے ہوئے کہا اس نوجوان پر کسی طرح کا کیس درج نہ کیا جائے ۔یہ دورہ ہے اور جمہوریت میں نڈراورمضبوط وزیراعظم کی بات سے یاد آیا کہ فروری 1967 کے چناو¿ کی بات ہے تب کی وزیراعظم اندرا گاندھی دیش بھر میں چناو¿ کمپین کررہی تھی ۔وہ دیش کی دور دراز حصوں میں جا رہی تھیں ۔لاکھوں کی بھیڑ اور خود بخودان کی تقریر سننے کے لئے اکٹھا ہوا کرتی تھیں ایسے ہی کمپین کے سلسلے میں جب وہ اڑیشہ کی راجدھانی بھونیشور گئی تھیں وہاں بھیڑ میں سے کچھ شرپسندی تھے وہ جذبات پر بول رہی تھیں کہ شرپسندوں نے پتھراو¿ شروع کر دیا ۔لیکن اندرا گاندھی بھی ڈٹی رہیں اور اسی پتھراو¿ کے درمیان ایک پتھر کا ٹکڑا ان کی ناک پر آلگا اور ناک سے خون بہنے لگا سیکورٹی جوان انہیں اسٹیج سے ہٹا لینا چاہتے تھے ،مقامی کانگریس ورکر بھی یہی درخواست کرنے لگے کہ وہ اسٹیج کے پچھلے حصہ میں جاکر بیٹھ جائیں ،مگراندرا جی نے کسی کی نہیں سنی اور خون سے لت پت ناک کو رومال سے دبایا اور نڈر ہو کر آگ بگولہ بھیڑ کے سامنے کھڑی رہیں اور اپنی تقریر پوری کی ۔اپنے اسٹاف اور کانگریسی ورکروں سے کہا کہ وزیراعظم ہونے کے ناطہ میں دیش کی نمائندگی کرتی ہوں میرا بھاگنا دیش اور دنیا میں غلط سندیش پہونچائے گا اس کے بعد اپنی تقریر پوری کرنے کے بعد وہ اگلے اسمبلی حلقہ کے لئے کولکاتہ روانہ ہو گئیں ۔اوراسی زخمی ناک پر پٹی دبا کر کولکاتہ میں تقریر کی ۔لیکن انہوں نے یہ کہیں نہیں کہا کہ جان بچ گئی اور زندہ لوٹ آئی ہوں ۔پی ایم مودی کے واقعہ باریکی سے جانچ ہونی چاہیے اور قصورواروں کی لاپرواہی اور جوابدہی ہونی چاہیے ۔اس طرح کی لاپرواہی اور چوک کی گہری جانچ ہونی چاہیے تاکہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہ ہو ۔وزیراعظم کا اس طرح بیس منٹ تک سڑک پر پھنسے رہنا ایس پی جی کے رول پر شبہہ کی انگلی کھڑا کرتا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...