09 اگست 2014

بم بم بھولے کے نعروں سے گونجتی کشمیر وادی!

بم بم بھولے اور ہر ہر مہادیو کے نعروں کے ساتھ چھڑی مبارک یاترا امرناتھ کی پوتر گپھا کیلئے دھوم دھام سے سرینگر کے دشنامی اکھاڑے سے روانہ ہوئی۔ ہر سال منعقد ہونے والی اس یاترا کے تحت بھگوان شیو کے چاندی کے ڈنڈ کو مقامی رامیشور مندر سے امرناتھ لے جایاجاتا ہے۔چاندی کے ڈنڈ کی رکھوالی کرنے والے میہنت یوگیندر گری سمیت بڑی تعداد میں شردھالو تمام طرح کے خطرے کے باوجود یاترا میں شامل ہوئے۔ چھڑی مبارک 10 اگست کو پوتر گپھا پہنچی گی۔ اس کے ساتھ ہی بابا امرناتھ کی یاترا اختتام پذیر ہوجائے گی۔ ہر ہر مہادیو، جے کارا ویر بجرنگی اور جے بابا امرناتھ برفانی بھوکے کو ان پیاسے کو پانی کے نعروں سے جموں و کشمیر کی سرزمین پچھلے ڈیڑھ ماہ سے رونق افروز رہی۔ آنے والوں کے سیلاب میں بس ایک ہی جذبہ تھا کہ ان آتنکیوں کے خلاف اجتماعی یکجہتی کا ثبوت دینا، جو ہمیشہ یاترا پر خطرے کی شکل میں منڈراتے رہتے ہیں۔ پونے چار لاکھ کے قریب لوگ ابھی تک سالانہ امرناتھ یاترا میں شامل ہوچکے ہیں۔ نہ کوئی دھمکی نہ کوئی پابندی، نہ کوئی حادثہ اور نہ کوئی ٹریجڈی ان سب بڑھنے والوں کے قدموں کو روک پائی۔جہاں تک یاترا انتظام میں انتظامیہ کی پالیسیوں کے چلتے پھلنے والے سسٹم سے وہ دوچار ہوتے ہیں لیکن انہیں یہ بدنظمی بھی روک نہیں پائی جنہیں پارکر14500 فٹ کی اونچائی پر واقع پوتر امرناتھ گپھا میں درشن کرنے کیلئے پہنچنے والوں کے قدم نہیں رکے۔ اتنا ضرور تھا کہ پاؤں سے نہ چل پانے والے پالکی کے سہارے امرتو پانے کی چاہ میں ان گنجان پہاڑوں کی اونچائیوں کو ناپنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں کی چوٹی پر کھڑے ہوکر سانس لینا بھی مشکل تھا کیونکہ آکسیجن کی کمی سے سبھی دوچار ہوتے ہیں۔ یاترا میں حصہ لینا ویسے اس بار اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ شرائین بورڈ کی ہدایتوں کے چلتے رجسٹریشن ، ہیلتھ سرٹیفکیٹ اور عمر حد کی بندشیں بھی تھیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر حصہ لینے والے مسافروں کو اجازت پہلگام راستے کی لیتے ہیں اور چلے جارہے ہیں بال تال کے اس راستے میں جو خطرے سے بھرپور ہے لیکن ایک ہی دن میں اس راستے کا استعمال کر پوتر شیو لنک کے درشن کئے جاسکتے ہیں۔ ویسے یاترا میں ہونے والے حادثے ابھی تک40 لوگوں کی جانیں لے چکے ہیں۔ سبھی کی جانیں بدنظمی کے سبب گئیں تو ان کے ان دستاویزاتوں پر اندیشہ ہوا جو انہوں نے رجسٹریشن کرواتے وقت حکام کو دیکر کرایا تھا کہ وہ جسمانی طور پر یاترا میں حصہ لینے کے لئے ٹھیک ہیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یاترا میں حصہ لینے کے لئے اس شرط کو ضروری بنادینے کے بعد سے ہی جھوٹے میڈیکل سرٹیفکیٹ اور یاترا میں حصہ لینے والے پچھلے برس بھی بہت سے۔ جن میں سے کئی کی بعد میں موت ہوگئی۔ سچائی تو یہ ہے کہ امرناتھ یاترا کے دنوں کے گزرنے کے ساتھ ہی قومی اتحاد اور سلامتی کی یاترا کی شکل میں بھی سامنے آرہی ہے۔ یاترا میں شامل ہونے والے کسی ایک پردیش کے نہیں تھے بلکہ سارے دیش کے مختلف حصوں سے آنے والے شردھالو تھے۔ کئی کے دلوں میں یہ بھی جذبہ تھا کہ کشمیر بھارت کا ہے اور وہ امرناتھ یاترا میں حصہ لیکر اس جذبے کو ظاہر کرسکتے ہیں۔ جے برفانی بابا کی ،ہر ہر مہا دیو۔
(انل نریندر)

کیا امرسنگھ اور ملائم کی دوستی پروان چڑھ پائے گی؟

کبھی سماجوادی پارٹی کے سرکردہ لیڈروں میں شمار رہے امرسنگھ چار سال بعد منگل کے روز ایک بار پھر پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو کے ساتھ ایک اسٹیج پر نظر آئے۔ لکھنؤ میں چھوٹے لوہیا وادی جنیشور مشر پارک کے افتتاح کے موقعے پر آئے تھے۔ چار سال بعد ملائم کے ساتھ امرسنگھ کی موجودگی نے صوبے کے سیاسی گلیاروں میں قیاس آرائیوں کو ہوا دینا شروع کردیا ہے۔چار سال بعد ملائم سنگھ اور امرسنگھ کی دوسری پہلے کی طرح پروان چڑھے گی یا اسی تقریب تک سمٹ کر رہ جائے گی، یہ بھی وقت ہی بتائے گا لیکن سیاسی گلیاروں میں سرگرمی بڑھ گئی ہے۔ اس موقعے پر امرسنگھ نے ملائم سنگھ یادو کی تعریف کی اور انہیں اپنا بڑا بھائی بھی بتایا۔ امرسنگھ نے اتنے دن بعد ایک بار پھر ملائم سنگھ کے تئیں اپنی محبت چھلکاتے ہوئے کہا کہ میں ملائم وادی ہوں اور درد بھی بیان کیا اور کہا کہ بیچ راستے میں مجھے کوئی چھوڑگیا۔ پچھلے چار برسوں میں امرسنگھ نے اپنی سیاست برقرار رکھنے کے لئے کئی جگہ ہاتھ پاؤں مارے۔ سپا سے باہر جانے کے بعد اجیت سنگھ کی سربراہی والی آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر فتحپور سیکری سے لوک سبھا چناؤ لڑا ،لیکن وہ ہار گئے تھے۔ اس سال ان کی راجیہ سبھا کی ممبری کی میعاد بھی ختم ہونے والی ہے اور پچھلے کچھ دنوں سے امر سنگھ کے سماجوادی پارٹی میں پھر سے شامل ہونے کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ حالانکہ ملائم کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر امرسنگھ نے کہا میرے یہاں آنے کو لیکر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔جنیشور مشرا ہمارے پرانے دنوں کے ساتھی ہوا کرتے تھے، میں اس دعوت نامے کو نامنظور نہیں کرسکتا تھا۔ اگر میں یہاں آنے سے کسی کو ناراضگی ہوتی ہے تو یہ ملائم کو سوچنا چاہئے۔ تقریب میں سپا کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادواور وزیر اقلیتی امور و شہری ترقی اعظم خاں کی غیر موجودگی میں ان کی ناراضگی کا اظہار کردیا ہے تو باقی نیتا بھی اس امر پریم کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں۔ ملائم کے سماجواد کو کبھی پریوار واد کہہ کر کوسنے والے امرسنگھ نے تقریب میں خود کو ملائم وادی اعلان کیا تو وہاں موجودکئی سپائی چونک گئے۔ ملائم کے امر پریم سے سماجوادی پارٹی کے اندر سیاسی بھونچال آگیا ہے۔ اعظم خاں اور امر سنگھ میں 36 کا آنکڑا ہے ۔ اعظم پھر ناراض ہوگئے ہیں۔ ایسی قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں کہ اعظم خاں ایک بار پھر پارٹی کا دامن چھوڑ سکتے ہیں۔ سپا میں یہ بات بھی عام ہے کہ امر سنگھ کو راجیہ سبھا کی ممبری چاہئے تو ملائم کو ایک ایسا ساتھی جو قومی سیاست میں رول نبھانے میں مددگار بن سکے۔ اس لئے دوستی پروان چڑھے گی لیکن کچھ اس کے یہیں تک رہنے کی بات کررہے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ امر سنگھ کی موجودگی کے بعد اعظم خاں اور رام گوپال جیسے لیڈروں نے جس طرح سے تقریب سے دوری بنائی اس کے چلتے ملائم اور امر دوستی کی دوسری پاری ’’امر‘‘ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ امر سنگھ کے کٹر مخالف اعظم خاں ، پروفیسر رام گوپال یادو و نریش اگروال کی غیر موجودگی بہت کچھ کہتی ہے اور تقریب میں تذکرہ تھا کہ جنیشور کے بہانے ہی صحیح ’’دو دل مل رہے ہیں مگر چپکے چپکے۔۔۔‘‘
(انل نریندر)

08 اگست 2014

گینگ ریپ، تبدیلی مذہبی مدرسے کا سنگین معاملہ!

ایک لڑکی کا اغوا کے بعدایک مدرسے میں گینگ ریپ اور زبردستی تبدیلی مذہب کا سنسنی خیز معا ملہ سامنے آیا ہے۔ تھانہ کھرکھودا علاقے میں واقع اس معاملے سے میرٹھ اور ہاپوڑ میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ معاملہ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران اٹھے معاملے نے دیش بھر میں طول پکڑ لیا ہے لیکن کیس میں کچھ تضاد نظر آرہا ہے۔ ابھی تک جسے گینگ ریپ کا معاملہ بتایا جارہا تھا اس میں لڑکی نے پولیس کو جو بیان قلم بند کروایا ہے اس میں صرف ریپ بتایا ہے۔ پولیس نے اسے اپر سول جج نیتو یادو کی عدالت میں پیش کیا جہاں اس نے سی آر پی سی کی دفعہ164 کے تحت بیان درج کروایا۔ اس سے پہلے عدالت کے باہر لوگوں کی بھاری بھیڑ کے درمیان متاثرہ لڑکی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ متاثرہ لڑکی کے وکیل اجے کمار تیاری نے بتایا کہ عدالت میں لڑکی نے اپنابیان درج کرادیا ہے۔ پولیس کے مطابق اب متاثرہ لڑکی کی انہدام نہانی کے تعلق ٹیسٹ کرایا جائے گا۔ہسپتال میں الٹراساؤنڈ اور ایکسرے بھی ہوا تھا جس میں کڈنی محفوظ نہیں دکھائی پڑنے سے رشتے دار اور متاثرہ کے وکیل نے اووری نکالنے کا اندیشہ جتایا تھا۔ اس پر ہسپتال کے ڈاکٹر نے اس ٹیسٹ میں میڈیکل کرانے کی صلاح دی ہے۔ قابل ذکر ہے کھرکھودا علاقے کی باشندہ ایک لڑکی کا 23 جولائی کو اغوا ہوا تھا۔ ایتوار کو وہ کسی طرح اغوا کاروں کے چنگل سے نکل بھاگی اور بعد میں اس نے بتایا تھا کہ اسے ہاپوڑ، گڑھ مکتیشور، مظفر نگر اور قریب کے ایک مدرسے میں قید رکھاگیا تھا جہاں اس سے اجتماعی آبروریزی ہوئی۔ تبدیلی مذہب کے متعلق حلف نامے پر اس سے زبردستی دستخط کرائے گئے۔ متاثرہ کے خاندان کی شکایت پر پولیس نے گرام پردھان نواب ثنا ء اللہ اور اس کی بیوی و دیگر 6 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ثنا ء اللہ اور اس کی بیوی ثمر جہاں اور بیٹی نشاد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ اس معاملے کا اہم ملزم حفیظ ابھی فرار ہے۔ پولیس اس کی تلاش کررہی ہے کیونکہ اس کیس کی بہت سی کڑیاں حفیظ سے پوچھ تاچھ کے بعد ہی سلجھ سکتی ہیں۔ اس معاملے میں ایک بات اور سامنے آئی ہے کہ لڑکی کے ساتھ ہوئی بدفعلی کے بعد جب وہ حاملہ ہو گئی تھی تو ملزمان نے مظفر نگر جاکر اس کا اسقاط حمل کرایا جس سے انہدام نہانی کو جوڑنے والی ایک نس نکال دی گئی۔ 
ابھی تک پولیس جس نتیجے پر پہنچی ہے اس کے مطابق لڑکی کو پہلے بہلا پھسلا کر ہاپوڑ کے ایک مدرسے میں لے جایا گیا جہاں اس کے ساتھ مسلسل بدفعلی ہوتی رہی۔ اس درمیان اسے لالچ اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس کا مذہب بھی تبدیل کرادیا گیا۔ پہلے سے سلگ رہے اترپردیش میں اس شرمناک واقعے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ تھانے سے لیکر کمشنری تک اکھلیش سرکار کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ بھاجپا اس اشو پربڑی تحریک چھیڑنے کی تیاری کررہی ہے۔ میرٹھ کے بھاجپا ایم پی راجندر اگروال نے وقفہ سوالات میں یہ معاملہ اٹھایا تو تمام ممبران نے ان کی حمایت میں اسے شرمناک حادثہ بتایا اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا کیونکہ اس معاملے میں مدرسے کا بھی ذکر ہورہا ہے اس لئے یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
(انل نریندر)

کانگریس کو ہار کے بعدایک سنجیونی کی ضرورت!

لوک سبھا چناؤ میں کراری ہار کے بعد صدمے سے کانگریس نکل نہیں پا رہی ہے۔ اس شکست کے بعدکانگریس لیڈر راہل گاندھی کے بارے میں طرح طرح کی باتیں زیر بحث ہیں۔یہاں تک کہا گیا کہ پتہ نہیں راہل گاندھی سیاست کے تئیں سنجیدہ ہیں بھی یا نہیں؟ شاید اس طرح کے سوال پارٹی کے اندر اس لئے زیر بحث آئے کیونکہ کئی خاص موقعوں پر راہل عام طور پر غائب ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ بدھوار کو لوک سبھا میں راہل گاندھی نے خاصہ ہنگامہ کیا۔ ان کے بارے میں پارٹی کے اندر کوئی بھی یہ نہیں بتا پاتا کہ وہ کہاں ہیں، کس کام سے گئے ہیں اور کب تک لوٹیں گے؟ بیچ بیچ میں وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں۔ اس لئے طرح طرح کی قیاس آرائیاں تیز ہوتی ہیں۔ راہل کئی کئی دنوں تک ایک غیر ملکی سرزمین پر کیا کرتے رہے؟ اس بار کانگریس کو لوک سبھا چناؤ میں زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی محض44 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ پارٹی کے ورکر اس کراری شکست کے لئے راہل اور ان کی منڈلی کو ذمہ دار مانتے ہیں۔حیران کن بات کانگریس کے لئے یہ ہے کہ راہل پر سے کانگریسی ورکروں اور لیڈروں کا بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ وہ مانتے ہیں راہل جو لیڈر شپ انہیں ملی ہے وہ پارٹی کو پھر سے اقتدار میں نہیں لا سکتے۔ سونیا گاندھی کو مجبوراً اب کمان سنبھالنی پڑ رہی ہے لیکن شاید ان کی صحت اب انہیں پارٹی میں زیادہ سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ الگ بات ہے کہ نہرو۔گاندھی خاندان اور پارٹی کے تئیں وفاداری دکھانے کے چکر میں زیادہ تر لوگ دل کی بات نہیں کہہ پاتے لیکن کچھ جو ظاہر کردیتے ہیں ان میں سے ایک پارٹی کے سینئر لیڈر جگمیت سنگھ بڑاڑ ہیں، جنہوں نے کانگریس لیڈر شپ پر تلخ حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پردھان سونیا گاندھی اور نائب پردھان راہل گاندھی کو دو سال کا بریک لے لینا چاہئے۔ بڑاڑ اس بیان سے ایک قدم اور آگے بڑھ گئے اور کہہ ڈالا کانگریس میں عام پارٹی ورکروں کے ساتھ آوارہ کتوں جیسے برتاؤ کیا جاتا ہے۔ سونیا اور راہل کو بھارت یاترا پرجانے کی صلاح دیتے ہوئے کہہ دیا کہ کانگریس کو چلانے کی کمان خزانچی موتی لال ووہرا کو سنبھالنی چاہئے کیونکہ اب پارٹی میں نئی جان ڈالنے کی ضرورت ہے۔ لیکن زیادہ تر کانگریسیوں کا خیال ہے پارٹی لیڈر شپ کو اگر نہرو۔ گاندھی خاندان نے نہیں سنبھالی تو پارٹی بکھر جائے گی اور ٹوٹ بھی سکتی ہے اس لئے اب ایک ہی متبادل بچا ہے ، وہ ہے سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا واڈرا کو سامنے لایا جائے۔ حالانکہ جگمیت سنگھ بڑاڑ پرینکا کو آگے لانے کے خلاف ہیں انہوں نے سونیا اور راہل کے ساتھ پرینکا گاندھی واڈرا پر بھی حملہ کیا ہے اور ان کو بڑی ذمہ داری دینے کے سوال پر کہا کہ سونیا اور راہل بہت چالاک ہیں۔ جب بھی کہیں ریاستی اور لیڈروں کے درمیانب بحران کھڑا ہوتا ہے تو پارٹی پرینکا کو آگے کردیتی ہے اور سونیا پردے کے پیچھے رہ کر سنکٹ کا حل نکالتی ہیں۔ بڑاڑ نے کہا خود انہیں اس کا ذاتی تجربہ ہے لیکن اس کا خلاصہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے سونیا ۔ راہل اور پرینکا تینوں دل اور دماغ سے ایک ہی طرح کے انسان ہیں۔ کل ملا کر کانگریس پارٹی ایسی دلدل میں پھنس گئی ہے کہ اسے باہر نکالنے کا راستہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ورکر الگ پریشان ہیں۔
(انل نریندر)

07 اگست 2014

مودی کے دورے سے ہند نیپال اشتراک کی نئی شروعات ہوگی!

وزیراعظم نریندر مودی کے نیپال دورے سے دونوں ملکوں کے آپسی تعلقات میں ایک نئی شروعات ہوئی ہے۔ اس دورے سے بھارت کی پڑوسی پالیسی میں بنتے گئے خلع کو بھرنے کی شروعات ہوئی ہے۔ بھارت کے کسی وزیراعظم کا نیپال کاجانا اب 17سال بعد ہوا ہے وزیراعظم نریندر مودی کے نیپال جانے سے کچھ دن پہلے وزیرخارجہ سشما سوراج وہاں گئیں تھیں اور تب ہی خارجہ پالیسی میں نیپال کی ا ہمیت کے بڑھنے کے اشارے مل گئے تھے۔ یوپی اے حکومت نے کبھی بھی نیپال کو وہ اہمیت نہیں دی جو دی جانی چاہئے تھی۔ شاید اس کی ا یک وجہ یہ رہی ہو کہ نیپال میں پشوپتی ناتھ مندر میں کانگریس پردھان سونیا گاندھی کو درشن کرنے سے روکا گیا تھا۔ کیونکہ وہ غیر ملکی نثراد تھیں یوپی اے کے لیڈروں نے کبھی اس بارے میں سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اپنے سبھی پڑوسی ملکوں سے ہمارے رشتے تلخی بڑھے کیوں ہوتے جارہے ہیں۔غنیمت نئے وزیراعظم شروع سے ہی اس پہلو کو لیکر فکر مند تھے کہ رشتوں کو پٹری پر لانے کے لئے وہ اپنی ڈپلومیٹک کوشش کررہے ہیں۔ یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہونا چاہئے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سرکاری طور پر نیپال کادورہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے انہوں نے نیپالی پارلیمنٹ کو خطاب کیا اور ان کی تقریر متوازن اور نپی تلی رہی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھارت نیپال کے رشتوں میں ہمیشہ سے جو ایک لچیلے پن خوشی کا لمحہ شامل رہتا آیا ہے عرصے کے بعد نریندرمودی نے پھر سے برقرار رکھا ہے۔ ساون کے آخری پیر کو نریندرمودی نے دنیا کے مشہور پشو پتی ناتھ مندر میں جل ابھیشیک اور رودر میشک کیا۔مودی سے پہنچنے سے پہلے ہی یہاں پر ان کی پوجا کے لئے خاص انتظامات کئے گئے تھے۔چیف پجاری گنیش بھٹ نے جل ابھیشیک اور دیگر خانہ پوری مذہبی رسم رواج کے ساتھ پوری کرائی۔ ساون کے مہینے میں پوجا کی خاص اہمیت مانی گئی ہے۔ نریندرمودی مندر میں ایک منفرد شردھالوؤں کے پوشاک میں نظر آئے۔ گلے میں وہاں کی ایک بڑی مالا ڈال رکھی تھی۔ اس موقعے پر نریندر مودی نے مندر کو 2500سوکلو چندن کی لکڑی بھینٹ کی جس کی قیمت 3کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ وزیراعظم مودی کے نیپال دورے کی کامیابی محض نیپال کے ساتھ ہوئے معاہدوں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے ردعمل کو دیکھنا چاہئے پہلی بار بھارت کے کسی وزیراعظم کا نیپال کی آئین سبھا کو خطاب کرنا جتنا قابل ذکر تھا اس سے کئی گناہ زیادہ اہمیت بڑھ گئی تھی اس خطاب میں انہوں نے نیپال کے لوگوں کا دل جیتنے اور اسے برابری کادرجہ دینا کاجذبہ شامل تھا۔ مودی بھارت کی دھارمک راجدھانی وارانسی سے نمائندگی کرتے ہیں۔ جسے ہندو بابا وشواناتھ کی نگری کی شکل میں بھی مانا جاتا ہے۔ نیپال کی راجدھانی کاٹھمنڈو بھی دھارمک اور ثقافتی شہر ہے یہاں بھگوان پشوناتھ موجود ہے۔ کاشی اور کاٹھمنڈ کا رشتہ بھارت نیپال کی مشترکہ وراثت میں ایک کلچرل پل کا کام کرتا ہے۔ اس لئے دورے کے دوسرے دن جو ساون کاآخر پیر تھا انہوں نے بھگوان پشوپتی ناتھ کا ابھیشیک کاپوجن کیا۔
دوسرے سابقہ حکومتوں خاص کر یوپی اے سرکاروں کی بے توجہی سے دیگر پڑوسیوں کی طرح بھی نیپال کے رشتے بہت اچھے نہیں رہے۔ علاقائی توازن کی نقطہ نظر سے یہ بھارت کے لئے فائدہ مند نہیں۔ ہماری فراغ دلی کا فائدہ اٹھا کر چین اور پاکستان نیپال میں اپنی بیڈ بنا لی اور چین کی تو ہر کوشش رہی ہے کہ اقتصادی اور دیگر لالچ کے ذریعے نیپال کو اپنے بھارت مخالف کیمپ میں شامل کیا جائے۔ پاکستان نے بھی آئی ایس آئی جڑیں پچھلے دس سالوں میں مضبوط کرلی ہے۔ نیپال کے لئے ذریعے چاہے وہ آتنکی وادی ہو یا نقلی کرنسی ہو پاکستان بھارت کو نقصان پہنچاتا رہا ہے۔ پچھلے کافی عرصے سے نیپال کے تئیں ہمارا بڑتاؤ بڑے بھائی جیسا رہا ہے۔ اس کے ساتھ رشتوں کی سمت طے کرتے ہوئے کئی بار ہماری سرکاریں افسر شاہوں پر بھروسہ کرتیں آئیں ہے۔ نریندر مودی نے یہ روایت توڑ دی ہے انہوں نے کچھ باتیں صاف صاف کہی ہے جسے نیپال کے اندرونی معاملے میں بھارت دخل نہیں دے گا۔ نئی دہلی کاٹھمنڈ و کی ترقی میں بھروسہ کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کاخواہش مند ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے خطاب نے پارٹی لائن سے الگ ہٹ کر وہاں کے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی بے حد متاثر کیا ہے۔ بھارت نیپال رشتوں میں یقینی طور سے ایک نئے دور کاآغاز ہوا ہے وزیراعظم کی پڑوسی ملکوں سے رشتوں میں اہمیت اور جذبات بھرے طریقے کار متعلقہ ملکوں کے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے عوام کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ اس کاثبوت نیپال کے ماؤوادی لیڈر پشپ کمل دہل پرچنٹ کے بیانوں سے ملتا ہے۔ دھرمل پاور سیاحت اور ہربل دوائیں جیسے کئی سیکٹر میں نیپال کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے بھارت نے اس کی مدد کی ہے جو اس نے بھروسہ دیا ہے وہ بھی کم اہم نہیں ہے اسی طرح کوسی ندی طغیانی سے نیپال کے ساتھ مل کر بہار میں سیلاب کا جو خوفناک خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ وہ فی الحال ٹل گیا ہے اس پر بھی دونوں ملکوں نے نظر رکھنے کاوعدہ کیاتھا۔ صرف دوطرفہ رشتوں میں توانائی پیدا کرنے کے لحاظ سے نریندر مودی کا یہ دورہ ڈپلومیٹک طور پر کامیاب رہا۔ بھوٹان کے بعد نیپال کو غیرملکی دورے کے لئے چن کوانہوں نے اپنے پڑوسی ملکوں کوچین سے دھیان ہٹانے کی اپنی کوشش میں وہ کامیاب ہوتے دکھائی دیئے ہیں نیپال کی عوام نے مودی کا جو شاندار خیرمقدم کیا ہے وہ بھی ناقابل بیاں تھا نیپال کے وزیراعظم پروٹوکول کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کاخیرمقدم کرنے کے لئے ایئرپورٹ پر آئے اور پہلی بار کسی وزیراعظم کو توپوں کی سلامی ملی۔ پہلے وزیراعظم کی شکل میں وہاں کی پارلیمنٹ کو خطاب کیا اس سے رشتوں کی گرم جوشی کااندازہ لگتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دو طرفہ وعدوں پر عمل کیاجائے مودی کے اس دورے سے امید ہے کہ بھارت نیپال رشتوں میں ا یک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ جو دونوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
(انل نریندر)

06 اگست 2014

بائے بائے گلاسگو! 2018 میں گولڈ کوسٹ میں ملیں گے

بہترین اور شاندار اختتامی تقریب کے ساتھ ہی 20 ویں دولت مشترکہ کھیل یعنی گلاسگو کھیل ختم ہوگئے ہیں۔جس میں گلوکارہ کائلی منوج سمیت کئی ستاروں نے اپنا جلوہ دکھایا ۔ اس کے ساتھ ہی اسکاٹ لینڈ کی میزبانی میں ہوئے سب سے بڑے کھیل کے اس مہا کمبھ کا اختتام ہوگیا۔ اب چار سال بعد آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں 21 ویں کامن ویلتھ گیم ہوں گے۔ اسکاٹ لینڈ کے سب سے بڑے شہر گلاسگو میں 11 دن تک چلے کھیلوں میں 71 ملکوں کے 4947 ایتھلیٹ261 طلائی تمغوں کیلئے مقابلہ آرا ہوئے۔ اسکاٹ لینڈ 28 برسوں کے لمبے خلا کے بعد آسٹریلیا کوچوٹی کے مقام سے معزول کر میڈل ٹیلی میں پہلے نمبر پر رہا۔ اسکاٹ لینڈ نے58 طلائی،59 سلور اور 57 تامبا سمیت کل 174 میڈل جیتے۔ بھارت نے15 طلائی، 30 سلور،19 تانبے کے میڈل سمیت64 میڈل جیتے اور وہ پانچویں مقام پر رہا۔ چار سال پہلے دہلی کامن ویلتھ گیمز میں میڈل ٹیلی کی سینچری لگانے والے ہندوستانی کھلاڑی گلاسگو میں صرف 64 ہی میڈل جیت سکے۔ بیشک کچھ مقابلوں میں ہندوستانی کھلاڑی امیدوں پر کھرے نہیں اترسکے۔ کل ملاکر میں ہندوستانی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر مانتا ہوں۔ طلائی میڈل جیتنے کے مقصد کے ساتھ کامن ویلتھ گیمز میں رنگ میں اترے ہندوستانی مکے بازوں کو سفر نے سلور تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیا۔ اسٹار مکے باز ویجندر سنگھ سمیت فائنل میں پہنچے چاروں ہندوستانی مکے بازوں کو سب سے اہم مقابلے میں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ سشیل کمار اور یوگیشور کھر دت کی رہنمائی میں ہندوستانی پہلوانوں نے توقعات پر کھرا اترتے ہوئے 20 ویں کامن ویلتھ گیمز میں بہترین کھیل دکھا کر پانچ طلائی تمغوں سمیت13 میڈل جیتے تھے۔ دیپیکا پلیکل اور جارونا نندھا نے تاریخی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسے کھیل میں گولڈ میڈل جیتا جس میں آج تک بھارت پہلے کبھی نہیں جیتا تھا، میں بات کررہا ہوں اسکوائش کی ۔ ہندوستانی جوڑی نے انگلینڈ کی بالادستی توڑتے ہوئے فائنل میں جینیو ڈنواک اور لاؤرا مسارو کی جوڑی کو مسلسل کھیلوں میں شکست دے کر نہ صرف گولڈ میڈل جتایا بلکہ اس کھیل میں یہ پہلی بار تھا کہ جب بھارت نے گولڈ میڈل جیتا ہو کامن ویلتھ گیمز کے آخری تل پاؤپلی نے بیڈ منٹن کے سنگل مقابلے میں بھارت کو 32 سال بعد طلائی تمغہ دلایا۔ کشیپ دیش کے تیسرے کھلاڑی ہیں جنہوں نے یہ طلائی تمغہ حاصل کیا۔ بھارت نے اس بار ایک ایسے کھیل میں گولڈ جیتا جو شاید پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ بھارت کو ڈسکس تھرو ور وکاس گوڑا پانچ جولائی کو 31 سال کے ہوگئے انہوں نے63.64 میٹر کے ساتھ طلائی میڈل جیتا۔ پہلوانوں نے سب سے زیادہ پانچ میڈل جیتے جبکہ نشانے بازوں نے چار اور بھارت کے کھاتے میں تین طلائی تمغے آئے۔ مکے بازوں سے ہندوستان کو سب سے زیادہ امیدیں تھیں لیکن سبھی نے مایوس کیا۔ لندن اولمپک کے سلور میڈل اور دہلی کھیلوں میں تین طلائی تمغے جیتنے والے نشانے باز وجے کمار اور حنا سدھو کا نشانہ چوک گیا تو گگن نارنگ نے بھی سلور اور کانسے کے میڈل پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ ایتھلیٹ کرشنا پھنیا نے بھی مایوس کیا۔ کامن ویلتھ گیمز میں ایک بار پھر ہریانہ کے کھلاڑیوں کا دبدبہ رہا۔ ہریانہ نے ان کھیلوں میں 5 طلائی، 11 سلور اور 3 تانبے کے میڈل سمیت کل19 تمغے اپنی جھولی میں ڈالے۔ اس کا جہاں سہرہ کھلاڑیوں کو جاتا ہے وہیں ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے کھیلوں کی اسکیموں کو فروغ دینے کو بھی جاتا ہے۔ اب2018 ء میں آسٹریلیا میں ملیں گے۔
(انل نریندر)

مفلسی کا داغ مٹانا مودی حکومت کیلئے چنوتی ہے!

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق دہلی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر بن گیا ہے۔ دنیا بھر کی میٹرو سہولیات سے وابستہ ہے۔2014ء کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے 3.8 کروڑ کی آبادی والا جاپان کا شہر ٹوکیو اکلوتا ایک ایسا شہر ہے جو دہلی (2.5 کروڑ) سے آگے ہے۔ دیش کا دوسرا سب سے بڑا شہر ممبئی ہے اور یہ فہرست میں چھٹے مقام پر ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق سال 2010ء میں دنیا کے غریب ترین لوگوں کی 1.2 ارب آبادی کا 32.9 فیصد حصہ بھارت میں تھا۔برازیل میں منعقدہ برکس چوٹی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی جب بڑے فخر سے دنیا کو بھارت کی وسیع ترین نوجوان آبادی کے فائدے بتا رہے تھے تب ایک بہتر مستقبل کے تصور سے پورے دیش کا سینا چوڑا ہورہاتھا۔ آبادی کے لحاظ سے چین کے بعد ہم دنیا کا سب سے بڑا ملک ہیں اور محض ڈیڑھ دہائی کی بات ہے جب کم سے کم اس معاملے میں ہم ان سے پچھڑتے دکھائی دیں گے۔ ابھی پچھلے دنوں دنیا میں’’ یوم عالمی آبادی ‘‘ منایا گیا تھا جس میں ہندوستانی کی آبادی سوا ارب سے زیادہ بتائی گئی تھی۔ بتایا گیا تھا کہ اس میں آدھے لوگ 25 برس سے کم عمر کے ہیں جبکہ دو تہائی کی عمر 35 سے نیچے ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ واقعی تشویش کی بات ہے کہ دنیا کے بہت غریب لوگوں کا ایک تہائی حصہ ہمارے ملک میں آباد ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں بچوں کی اموات شرح سب سے زیادہ ہے۔ 2012ء میں 14 لاکھ بچوں کی موت پانچ برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ہوجاتی ہے۔ دنیا بھر میں انتہائی مفلسی میں سسکتے ہوئے جینے والے سب سے زیادہ لوگ بھی ہندوستان میں ہی ہیں۔ جنوبی ایشیا اور افریقہ میں ایسے لوگوں کی سوا ارب آبادی ہے اس کے لئے زندگی کسی ابھیشاپ سے کم نہیں۔ ان میں سے ایک تہائی لوگ ہندوستان میں زندگی کاٹ رہے ہیں۔ ہمارے بعد چین کا نمبر آتا ہے جو اپنے معجزاتی اقتصادی ترقی کے باوجود بھی آج بھی ایسی 13 فیصد آبادی کا بوجھ رہا ہے۔ ان دونوں کے ساتھ اگر نائیجریا ،بنگلہ دیش اور کانگو نام جوڑ دئے جائیں تو ان پانچوں ملکوں میں ہی دنیا بھر کے دو تہائی غریب ترین لوگوں کا ٹھکانا تلاش کیا جاسکتا ہے۔ دراصل ہندوستان نے آبادی کے بعد سرمایہ داری ترقی پالیسی اپنانے سے دیہی معیشت کو جو جھٹکا دیا ہے اس کی بھرپائی نہیں ہوسکی ہے۔ ایک طرف تو شہروں کی ترقی ہورہی ہے لیکن دیہات میں روزگار کے وسائل ختم ہوتے گئے۔ حکومت ہند نے انسداد غربت کے لئے جو اسکیمیں چلائی ہیں ان کا مقصد غریبوں کو کسی طرح زندہ رکھنا ہے۔ ان کے روزی روٹی کے لئے مستقل وسائل قائم کرنا نہیں۔ ان پر مشکل یہ ہے کہ ان اسکیموں میں بھی کرپشن کا گھن لگا ہوا ہے۔ انتظامیہ کے نچلے سطح پر بدعنوانی کی وجہ سے اس کا فائدہ عام غریبوں تک نہیں پہنچ سکا۔ چاہے وہ عوامی تقسیم نظام ہو یا منریگا ہو ، سبھی میں دھاندلیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ہر شہری کے لئے بنیادی سہولیتیں دستیاب کرنا سرکار کی جوابدہی ہے۔
(انل نریندر)

05 اگست 2014

مسلسل بڑھتی چینی دراندازی پر حکمت عملی کیا ہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نئی حکومت سرحدی تنازعے کو دیکھتے ہوئے اقتدار سنبھالنے کے بعد پڑوسی ممالک سے رشتے بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے، خاص کر چین سے۔ لیکن چین اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ چین کے ذریعے مسلسل اکسائے جانے کی کارروائی سے وزیر اعظم کی ساری کوششوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ برکس کانفرنس میں چینی صدر شی زن پنگ کی مودی سے ملاقات کے باوجود رشتوں پر چھائی عدم اعتماد کی پرچھائی ہٹتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ دراندازی کے واقعات کو بھارت معمولاتی واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ حقیقی کنٹرول لائن کو لیکر الگ الگ تصورات کو لیکر ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لداخ میں چین کی دراندازی کی بات مانتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے صاف کیا ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان فلیگ میٹنگ کے بعد چینی لوگ اس جگہ سے واپس چلے گئے۔ فوج نے جمعرات کو پہلی بار پچھلے سال لداخ خطے کی دوپسان وادی میں قبضہ کرنے کی بات قبول کی اور کہا کہ ایسے واقعات کنٹرول لائن کے بارے میں الگ الگ نظریات کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ چین کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل گینگ یونشنگ نے کہا کہ پچھلے سال سرحدی علاقوں میں کچھ واقعات ہوئے تھے۔ سارے اشو بات چیت کے ذریعے مناسب طریقے سے حل کرلئے جائیں گے۔ چین نے پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں اپنے ملازمین کی موجودگی کو یہ کہتے ہوئے بچاؤ کیا کہ وہ کسی دیش کے خلاف نشانہ نہیں ہے بلکہ اشتراک پر مبنی سرگرمیوں میں لگی ہے تاکہ مقامی لوگوں کی روزمرہ کی زندگی میں بہتری لائی جاسکے۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی کے پارلیمنٹ میں دئے گئے تبصرے پر کے بھارت نے پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں چینی جوانوں کی موجودگی کے بارے میں اپنی تشویشات سے چین کو واقف کرادیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے بیجنگ میں کہا کہ تاریخ کا چھوٹا ہوا اشو ہے اور اس کا حل بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونا چاہئے۔ چین ترقیاتی اسکیموں کے ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے گوادر بندرگاہ کو اپنے شیانگ ویانگ صوبے سے پاکستان کے قبضے والے کشمیر کے ذریعے جوڑنے کے لئے ایک اقتصادی گلیارہ بنانے کی اسکیم کو سرگرمی سے آگے بڑھا رہا ہے۔اربوں ڈالر کے اس پروجیکٹ میں قومی شاہراہ، ریل اور پائپ لائن اور ڈولپمنٹ شامل ہیں۔ مسٹرجیٹلی نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک تحریری سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں چینی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھتی ہے اور اس نے چین کو اپنی تشویشات سے بھی آگاہ کردیا ہے اور اس سے ایسی سرگرمیاں بند کرنے کوکہا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس برس جون تک ملک کے مختلف سرحدی علاقوں سے دراندازی کے662 واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت۔ چین سرحد سے ملحق علاقوں میں لوگوں کوبسانے کی حکمت عملی کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے وزارت داخلہ اور قومی سکیورٹی مشیر اجیت ڈومال سے ایکشن پلان تیار کرنے کوکہا ہے۔ اس میں فوج اور ہم تبت پولیس کی مدد لینے کو کہا ہے تاکہ اروناچل پردیش، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں چینی سرحد سے لگے علاقوں میں بسی آبادی ہجرت رک سکے اور لوگ یہاں بسنے میں دلچسپی لیں۔ اس کے لئے مالی پیکیج کے ذریعے مدد دینے کی بات کہی گئی ہے۔ حکومت کی اس معاملے میں سنجیدگی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت۔ چین سرحد سے لگے علاقوں سے لوگوں کی ہجرت روکنے اور وہاں بسنے کیلئے حوصلہ افزائی کے طور پر پانچ ہزار کروڑ روپے کی مالی مدد مختص کی گئی ہے۔ چین کی مسلسل دراندازی پریشانی کی بات ہے اور ہم عام واقعہ مان کر چپ نہیں بیٹھ سکتے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری کا کہنا ہے کہ جب سے نئی حکومت آئی ہے تبھی سے چین کی دراندازی بڑھی ہے لیکن اب سرکار نے کیوں آنکھ کان بند کئے ہوئے ہیں؟ آخر ان کی جارحانہ پالیسی کہاں گئی جس کا وہ اعلان کیا کرتے تھے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا چینی فوج ہمیشہ کہتی رہی ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ آبادی والے علاقے نہیں ہیں ایسے معاملوں میں سرکار کچھ نہیں کرتی صرف میڈیا میں ہیں بحث چلتی ہے۔ چینی فوجیوں کی ایسی حرکتوں کو برداشت کرنا خطرناک ہوگا۔ ایک دو مہینے میں چینی فوج بڑی گھس پیٹھ کر سکتی ہے ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔
(انل نریندر)

سنڈیکیٹ بینک کا سی ایم ڈی 50 لاکھ رشوت کے الزام میں گرفتار!

سنیچر کو سی بی آئی نے سنڈیکیٹ بینک کے چیئرمین و منیجنگ ڈائرکٹر ایس کے جین کو بینک قاعدوں کو درکنار کر کچھ کمپنیوں کی کریڈٹ حد بڑھانے کے لئے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ پانچ دیگر کو بھی ان کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔ جین پر دو کمپنیوں سے 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام ہے۔ دونوں کمپنیاں کوئلہ گھوٹالے میں بھی ملزم ہیں۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا نے بتایاکہ ایس۔کے۔جین کے خلاف شکایتیں مل رہی تھیں۔ چھ ماہ سے ان کی نگرانی ہورہی تھی۔ آخر کار بنگلورو میں انہیں گرفتار کرہی لیا گیا۔ سی بی آئی نے بین کے خلاف دو مقدمے درج کئے ہیں۔ ایک مقدمہ جان بوجھ کر قواعد کی خلاف ورزی کرنے کا ہے تو دوسرا رشوت خوری کا ہے۔ جین اپنے سالے ونت اور پنت کے ذریعے پیسے لیتے تھے۔ دونوں کو بھوپال سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ونت پیشے سے وکیل اور کانگریس کا سابق ترجمان ہے جبکہ پنت بلڈر ہے۔ بھوپال کے تاجر وجے پاہوجہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سی بی آئی نے نئی دہلی، ممبئی، بنگلورو، بھوپال سمیت دیش کے 20 مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے۔ ذرائع کے مطابق چھاپہ ماری میں رشوت کی شکل میں لئے گئے 50 لاکھ روپے برآمد کر لئے گئے ہیں۔ سی بی آئی کے مطابق جین کے پاس سے 21 لاکھ نقد سمیت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ کے زیورات اور 63 لاکھ کی ایف ڈی ملی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی جائیداد کے کاغذات اور کئی ضروری دستاویزات بھی برآمدہوئے ہیں۔ معاملہ بنگلورو کی ڈیفالٹر کمپنی بھوشن اسٹیل لمیٹڈ سے وابستہ ہے۔ اس کمپنی سے پہلے ہی بینک کا 100 کروڑ روپے کا قرضہ ہے اس کے لئے کمپنی ڈیفالٹر اعلان کی جاچکی ہے۔ کمپنی کے مالک نیرج سنگھل اور سی ایم ڈی وید پرکاش اگروال کی کریڈٹ لمٹ بڑھا کر100 کروڑ روپے کا قرضہ لینا چاہ رہے تھے۔ اس کے بدلے جین نے ان سے رشوت مانگی تھی۔ اسی طرح کے معاملے میں دہلی کی کمپنی پرکاش انڈسٹریز کے مالک وپل اگروال کو بھی ملزم بنایاگیا ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم جمعہ کی شام سے ہی بھوپال میں گودھا بندھوؤں کے مالوی نگر میں واقع وردمان ہاؤس پر نظر لگائی ہوئی تھی۔ جمعہ کی رات وجے پاہوجہ کالے رنگ کا بیگ لیکر وہاں پہنچا۔ کچھ دیر بعد پنت بیگ کو اپنی کار کی ڈکی میں رکھا اور اسی وقت سی بی آئی نے انہیں دبوچ لیا۔ بیگ میں 33 لاکھ روپے نقد ملے ہیں۔ کچھ دیر بعد ونت بھی وہاں اپنی کار سے پہنچے ان کی کار میں رکھے ایک بیگ سے 17 لاکھ روپے ملی۔ یہ اپنی طرح کا پہلا معاملہ ہے جب ایک ہائی پروفائل شخص جو قومی بینک کا چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر رشوت خوری میں گرفتار ہوا ہے تو ظاہر سی بات ہے سی بی آئی اور سرکاری بینکوں کے ان سے نچلے افسران پر نظر رکھ رہی ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ جو سنڈیکیٹ بینک اتنی کڑی محنت سے پائی پائی جمع کرکے بینک کو کھڑا کیا اس کی ساکھ کو آج کچھ افسران نے مٹی میں ملا دیا ہے۔ یہ بینک ایک ایک پیسہ لیکر قائم ہوا۔ اس بینک نے اتنے چھوٹے سطح سے بینک کو ترقی دی کہ بینکوں میں ، خاص کر سرکاری میں بہت کرپشن آگیا ہے۔ یہ تو شروعات ہے آگے دیکھو کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)