Translater

02 مئی 2020

ممبئی کی جھگی بستیاں بن رہی ہیں چنوتی

ممبئی میں کورونا وائرس انفکشن کو روکنے کی کوشش کے لئے شہر کی جھگی بستیاں بڑی چنوتی بن رہی ہیں جن میں ایک کروڑ بیس لاکھ کی کل آبادی والے اس شہر کی بڑھتی آبادی بے حد گنجان جگہوں اور گندے حالات میں رہتی ہے ۔خوابوں کی نگری کہی جانے والے اس شہر میں جہاں ایک طرف بڑی تعداد میں عرب پتی لوگ رہتے ہیں وہیں دوسری طرف اسی علاقے کی سب سے بڑی جھگی بستی دھاراوی بھی ہے جو کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہے یہ علاقہ 2.4مربع کلو میٹر علاقے میں پھیلا ہوا ہے لیکن اتنے سے علاقے میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں ٹاٹا گروپ کے چیئرمین رتن ٹاٹا نے ایک سیمینار کے دوران ڈبلپروں اور نقاشوں کے شہر میں موجود جھگی جھوپڑیوں کے ساتھ ایک سوتیلے پن کی طرح رویہ اپنانے پر ناراضگی ظاہر کی تھی انہوں نے کورونا وبا کے تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ان جھگی بستیوں کو بھی بتایا تھا سستے مکان اور جھگیوں کو ہٹانے کیلئے دو گروپ مسلسل مخالف رہے ہیں ہم لوگوں کو ناپسندیدہ حالات میںرہنے کے لئے انہیں وہاں سے ہٹا کر جھگیوں کو ہٹانا چاہتے ہیں ان لوگوں کو جہاں رہنے کی جگہ دی جاتی ہے وہ بھی شہر سے بیس بیس میل دور ہوتی ہے اور انہیں اپنی جگ سے اجاڑنے سے ان لوگوں کے پاس کوئی کام نہیں رہ جاتا ٹاٹا کا کہناتھا کہ لوگ مہنگا مکان بناتے ہیں جہاں کبھی جھگیاں ہوتی تھیں لیکن آج اس میٹرو شہر میں کوروناوائرس سے 10498مریض سامنے آچکے ہیں اور 450کی موت ہو چکی ہے ۔آج دھاراوی جھگی بستی میں 100سے 200مربع فٹ کے کمروں میں 8سے 10لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور ان کے ٹوئلٹ بھی ایک ہی ہے اور پانی کے لئے ایک ہی نل استعمال کرتے ہیں ایسے میں کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہے ۔ممبئی میٹر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیئرمین جی کے پاٹھک کہا کہنا ہے پالیسی سازی مین ناکامی نیتاو ¿ں اور بلڈروں کی کبھی ختم ناہونے والی توقعات کے سبب شہر جھگی بستی سے نجات نہیں پا رہا ہے ۔رئیل اسٹیٹ ڈیولپروں اور قومی میٹرو نائیکو کارپوریشن کے چئیرمین ہیرن اندانی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ممبئی کے لئے مناسب شہری بیداری کی کمی بھی کبھی نہیں پھیلائی گئی ہے اور ان جھگی بستیوں میں کورونا انفکشن روکنا بہت بڑی چنوتی ہے ۔
(انل نریندر)

ہنستے ہنستے چلا گیا ایک عظیم اداکار

غیر معمولی اداکاری کے ہنر کے بوطے پر عام آنکھ نکش والے عرفان خان نے ہر کسی کو اپنافین بنا لیا مقبول فلم پان سنگھ تومر ،مداری اور مکھیہ دھارا کی انگریزی میڈیم ،پی کو جیسی فلموں کے بوتے پر انہیں پرسکاروں کا وہ پیار حاصل ہو اہے جس کے لئے اداکار اور فلمی ستارے دونوں ہی ترستے ہیں ۔ہندی فلمی دنیا کے اس بین الاقوامی اداکار ی کے شہنشاہ عرفان خان ہمارے درمیان سے چلے گئے اور ان کو ممبئی میں ہی سپرد خاک کیاگیا ۔خاموش چہرے اور آنکھوں سے اداکاری سے مقبول 53سالہ عرفان خان نیورو اڈرو کائنڈ ٹیومر (کینسر ) تھا آنتوں میں انفکشن ہونے پر انہیں منگل کے روز اسپتال میں داخل کیاگیا تھا جہاں وہ اس دنیا کو الوداع کہہ گئے ۔چاردن پہلے ان کی والدہ سعیدہ بیگم کا بھی انتقال ہو گیا تھا ۔زندگی کے آخری لمحوں میں بھی اپنے کام سے زندہ رہنے کی خواہش عرفان خان میں تھی وہ زندگی کے سرکس کو باہر کھڑے ہوکر دیکھتے تھے جب ایک نامہ نگار نے ان سے پوچھا جب وہ علاج کر ا رہے ہیں تو شوٹنگ کیوں جاری رکھناچاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں مرا نہیں ہوں اور نا ۔۔۔۔تو مجھے جس کام سے پیار ہے وہ کرنے کے لئے زندہ رہنے دو۔عرفان خان کو 2018میں ٹیومر کینسر کا پتہ چلا تھا ان کے پریوار میں بیوی ستاپا اور دو بیٹے بابل اور عیاں ہیں۔عرفان خان نے صرف دیش میںہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ۔عرفان خان کو ممبئی کے کوکلہ بینک دھیرو بائی امبانی اسپتال میں انفکشن کی وجہ سے داخل کرایاگیاتھا جہاں وہ زندہ نا رہ سکے عرفان خان ایک مضبوط انسان تھے جنہوں نے اپنی بیماری سے آخر تک لڑائی لڑی اور اپنے سے ملنے والے ہر شخص کی رہنمائی کی ۔عرفان خان کو بدھوار کو ہی اپنی موت کا احساس ہو گیاتھا انہوں نے اسپتال کے کمرے میں اپنی بیوی سپاتا سکدر سے کہا کہ دیکھو اماں ان کی طرف بیٹھی ہے اور وہ انہیں لینے آئی ہے یہ سن کر ان کی بیوی رونے لگی اور کمرے سے باہر چلی گئی کیونکہ ان کی والدہ تین دن پہلے ہی اس دنیا سے چلی گئی تھی لیکن لاک ڈاو ¿ن کے چلتے وہ اپنی اماں کے جنازے میں شامل نہیں ہو پائے ۔عرفان کا آخری پیغام ۔میںآپ کے ساتھ ہوں بھی اور نہیں بھی میرا انتظار کرنا ہے لو بھائیوں ،بہنوں ۔نمشکار میں عرفان میں آج آپ کے ساتھ ہوں اور نہیں بھی میرے جسم کے اندر کچھ ان چاہے مہمان بیٹھے ہوئے ہیں ان سے بات چیت چل رہی ہے دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے جیسا بھی ہوگا آپ کو جانکاری دے دی جائےگی ۔جب عرفان کواس منہوس بیماری کا پتہ چلا تو انہوں نے اسپتا ل میں لکھا تھا کئی بار سفر ایسے بھی ختم ہوتا ہے ابھی تک میں بے حد الگ کھیل کا حصہ تھا اور میں ایک تیز بھاگتی ٹرین پر سوار تھا ۔میرے خواب تھے منصوبے تھے میں پور ی طرح مصروف تھا تبھی ایسا لگا جیسے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے روکا وہ ٹی سی تھا ۔بولا آپ کا اسٹیشن آنے والا ہے نیچے اترا ائیں میں پریشان ہوگیا نہیں نہیں میرا اسٹیشن نہیں آیا ۔اس نے کہا آپ کا سفر یہیں تک تھا کبھی کبھی سفرایسے ہی ختم ہوتا ہے بہرحال عرفان خان تو چلے گئے ان کی اداکاری ہمیشہ زندہ رہے گی وہ ایک نیک ملنسار اداکار تھے ۔ہمارا آخری سلام !
(انل نریندر)

01 مئی 2020

بنگلہ صاحب گردوارے میں ہرجیت سنگھ کا شاندار سمان

یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے لاک ڈاو ¿ن میں ہمارے دیش کی پولیس قابل تحسین کام کررہی ہے یہ بھی کہ سکھوں اور گردواروں نے ہمارے لاکھوں لوگوں کو اس وبا کے دوران کھانا دیکر ان کو فاقہ کشی سے مرنے سے بچایا ۔لاک ڈاو ¿ن میں کوئی بھوکا نا رہے اس کے لئے گردواروں میں لنگر چل رہے ہیں دہلی پولیس نے بنگلہ صاحب گردوارے کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور پولیس کی جپسی اور بائک دستہ نے سائرن بجاتے ہوئے گردوارے کا چکرلگایا اور لنگر سیوا یک لاکھ سے زیادہ لوگوں تک کھانا پہوچاتی رہی ہے ۔پی ایم نے بھی ٹوئیٹ کیا کہ ہمارے گردوارے غیرمعمولی خدمت کر رہے ہیں ان کی مہربانی اور جذبہ قابل تعریف ہے وہیں پنجاب پولیس کے ہر جوان نے پیر کو دی میں وی ہو ہرجیت سنگھ کا نعرہ لگایا ۔پیر کو ڈی جی پی سمیت 80000جوانوں نے وردی آئی پر ایس آئی ہردیپ سنگھ ایس آئی کے نام کی پلیٹ لگا کر ڈیوٹی دی ۔ہرجیت سنگھ چنڈی گڑھ کے پی جی آئی اسپتال میں بھرتی ہیں ۔12اپریل کوکرفیو پاس مانگنے پربھڑکے نہنگیوں نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا تھا ۔بعد میں پی جی آئی چنڈی گڑ نے ان کے ہاتھ کو جوڑ دیا ۔ڈی جی پی دن کر گپتا نے کہا کہ پولیس کا یہ عمل ہرجیت سنگھ اور پولیس ملازمین کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش ہے ۔پی جی آئی میںبھرتی ہرجیت سنگھ نے بتایا کہ میں نے سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا کہ مجھ ایسا سمان ملے گا کبھی کسی نے ایسا سمان ملتے نہیں دیکھا سب کا شکریہ ۔
(انل نریندر)

ٹسٹنگ کٹ پر پابندی لگانے سے چین تلملایا

گھٹیا کووڈ19-کی جانچ کے لئے چینی کمپنیوں سے منگائے گئے ٹسٹنگ کٹ معاملے پہ بھارت اور چین نے ٹھنکی نظرآرہی ہے آئی سی ایم آر کی چین سے آئی ریپڈ استعمال نا کرنے اور اسے واپس کرنے کی صلاح کے بعد چین نے ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے اسے پہلے سے ایک سازش قرار دیا ہے ۔چینی کمپنیاں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ان کی کٹ کوالٹی میں گڑ بڑ ہے بلکہ اس نے بھارت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کٹ کی اسٹوریج استعمال اور ٹرانسپونٹیشن صحیح طریقے سے پروفیشنل لوگوں سے نا کیاجانا کٹ کی پرفورمنس کے نتیجے میں فرق آسکتا ہے۔بھارت نے کوالٹی کو لیکر کوئی سمجھوتہ نا کرنے کا پیغام چین کو دیا ہے وہیں ذرائع کی طرف سے کہا گیا ہے کہ گھٹیا کوالٹی والی کٹ لوٹائی جا سکتی ہے اور اس کا پیمنٹ روکا جا سکتا ہے ۔بھارت میں اس قدم پر نئی دہلی میںواقع سفارت خانے میں اس کٹ کو مستر دکئے جانے پر سخت ناراضگی جتائی ۔اور اس کو ایک منظم سازش قرار دیا وہیں بھارت کو ریپڈ اینٹی ووڈی ٹیسٹ کٹ دینے والی کمپنی وونڈ فو نے اس پر گہری ناراضگی جتائی اور کہا کہ وہ بھی اس کی جانچ کرے گی ۔چینی سفارت خانے کے ترجمان شی وونڈ نے پریس ریلیز جاری کرکے چین سرکار کا موقف رکھا جس میں بتایا گیا کہ آئی سی ایم آر نے چین کو جن دو کمپنیوں سے کٹ منگانے کا فیصلہ کیا تھا ان کٹ کو نیشنل پرٹیکشن ایڈمنسٹرینش لمٹڈ آف اور بھارت کے قومی وائرولوجی انسٹی ٹیوٹ سے منظوری ملی تھی اس وقت دونوں ادارے سبھی طرح کے بین الاقوامی ضابطوں کو پورا کرنے میں اہل ہے جن کمپنیوں نے بھارت کو یہ کٹ بھیجی ہے وہ یوروپ لاتینی امریکہ اور ایشیا کے دوسرے ملکوں کو بھی یہی کٹ بھیجی جارہی ہے ۔اس رد عمل پر سرکار ی ذرائع نے کہا کہ خرید سمجھوتہ کمپنیوں کے ساتھ ہوا ہے چین سرکار کے ساتھ نہیں کوئی گڑبڑی ہوئی ہے تو ان کمپنیوں کی سطح پر ہوئی ہے ۔فی الحال جن دو کمپنیوں کی کٹ میںگڑبڑی پائی گئی ہے اسے اب بھار ت میں کوئی خریدے گا نہیں ۔چین کی چرمراہٹ کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی ریپڈ اینٹی باڈی ٹسٹنگ کٹ پر بھارت جیسے بڑے دیش نے انگلی اٹھائی ہے ۔بھارت نے چین کی کمپنیوں سے بارہ لاکھ کٹ منگانے کا ٹھیکا دیا تھا پانچ لاکھ کٹ پہلے ہی پہونچ چکی ہے جسے لیکر اب سوال اٹھ رہے ہیں ۔آئی سی ایم آر نے کہا تھا کہ اس کٹ پر پابندی لگانے سے بھارت کو مالی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ ابھی تک اس کا پیمنٹ نہیں ہوا ہے ۔
(انل نریندر)

تنازعات میںپھر ارنب گوسوامی!

سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعہ کو رپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اینڈ چیف اور نامور صحافی ارنب گوسوامی کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے ۔فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے الزام میں گوسوامی کے خلاف دیش میں کئی جگہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔جسٹس دھرن جے چندر چور،جسٹس مکیش کمار شاہ کی بنچ نے کہا کہ ناگپور میں درج ایف ائی آر کو ممبئی ٹرانسفر کیا جاتا ہے ۔گوسوامی نے پال گھر ما ¿ب لنچنگ معاملے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کی خاموشی پر سوال کھڑے کرتے ہوئے ان کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اس سے ناراض کانگریس ورکروں نے دیش کے کئی حصوں میں گوسوامی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ تین ہفتہ کی میعادسے متعلق عدالت سے پیشگی ضمانت حاصل کرنے کے لئے عرضی دائر کر سکتا ہے ۔باقی سبھی ایف آئی پر روک لگی رہے گی ۔ارنب گوسوامی پر الزام ہے اس نے 21اپریل کو اپنے ٹی وی شو میں بالگھر میں سادھوو ¿ں کے قتل کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا اور دوفرقوں کے درمیان نفرت پیدا کی اس کے خلاف مہاراشٹر ،چھتیس گڑھ ،راجستھا ن ،مدھیہ پردیش ،تلنگانہ ،جھارکھنڈ اور جموں کشمیر میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ۔پیر کو ممبئی پولیس نے قریب 12گھنٹے تک گوسوامی سے پوچھ تاچھ کی اور ارنب پیر کو صبح 10بجے ممبئی کے این ایم جوشی مارگ تھانہ پولیس پہونچے تھے ۔تھانہ میں داخل ہونے سے پہلے اپنے ہی چینل کے دو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سچائی کی جیت ہوگی ۔پوچھ تاچھ لمبی کھچنے کے سبب ٹی وی چینل پر روز شام 7بجے آنے والی شو پوچھتا ہے بھارت بھی پیش نہیں کر پائے اس سلسلے میں ان کے چینل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ پوچھ تاچھ میں پولیس کو پورا تعاون کر رہے ہیں چینل نے ان پر حملہ کرنے والے لڑکوں کو 15ہزار کی ضمانت پر چھوڑنے پر گہرا افسوس جتایا ۔چینل نے پولیس کے ذریعے اس معاملے میں لیپا پوتی پر افسوس ظاہر کیا ۔بتادیں ارنب گوسوامی پر گھر لوٹتے ہوئے حملہ ہوا تھا اس وقت ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھی ۔پتر کار کے ساتھ چلے سکیورٹی عملے نے دونوں حملہ آوروں کو دبوچ کر پولیس کے حوالے کر دیا ۔اس معاملے نے کافی طول پکڑا ۔شوشل میڈیا میں تمام لوگوں نے اس معاملے پر کافی رائے زنی کی وہیں والی وڈ اسٹار کمال خان نے ارنب گوسوامی پر حملے پر تنز کرتے ہوئے ان کی نکتہ چینی کی ۔کمال خان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ارنب گوسوامی پر کئی سوال کھڑے کئے ان کا کہنا تھا کہ ایسا پہلی بار نہیں جب ارنب گوسوامی پرحملہ ہوا ہو اس سے پہلے بھی ان پر 2009کے درمیان حملہ ہو چکا ہے اس وقت یہ نریندر مودی اور بی جے پی کو کوسا کرتے تھے ایک بار پھر ارنب 2002میں ان پر کالا بھوت چڑ ھ گیا اب وہ سونیا گاندھی کو کوس رہے ہیں ۔کمال خان نے آگے کہا کہ ارنب بالکل جھونٹ بول رہے ہیں یہ ایسے انسان ہیں جن کی نا کوئی ذات ہے اور ناکوئی مذہب ۔یہ اپنا مفاد دیکھتے ہیں ۔ادھر بھجن کرنے لگتے ہیں اس وقت بی جے پی کی سرکار ہے یہ تو اس کے حق میں بول رہے ہیں اور جب کانگریس کی سرکار آجائےگی تو ا س کی چاپلوسی میں قصیدہ شروع کر دیں گے ۔بتا دیں کہ ایسا پہلی بار نہیں جب کمال خان نے ارنب پر نکتہ چینی کی ہو انہوں نے ایک دفعہ ایک ویڈیو وائر ل کیا تھا جس میں کہہ رہے ہیں کہ میرے پریہ ارنب گوسوامی میری آپ کی کانگریس سے جو لڑائی چل رہی ہے اس سے کچھ لینا دینا نہیں آپ برائے مہربانی ڈرامہ بند کریں ۔
(انل نریندر)

30 اپریل 2020

پاکستان میں نماز کے شرائط کی دھجیاں اڑیں،نگرانی فوج کے سپرد

پاکستا ن میں ماہ رمضان میں اجتماعی شرطوں کے ساتھ نماز کی اجازت دے دی گئی تھی ان میں سے کچھ کی تو پہلے رمضان کو ہی دھجیاں اڑ گئیں ۔پاکستا ن میں لا ک ڈاو ¿ن کے سبب مساجد میں اجتماعی نماز پرپابندی تھی لیکن علماءنے صاف کہا تھا کہ ہم رمضان میں یہ پابندیاں نہیں مانیںگے اس کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت اور دیش کے نامور عالم دین کی میٹنگ میں معاہدہ ہوا کہ کچھ شرطوں کی تعمیل کے ساتھ مساجد میں اجتماعی نماز پڑھی جا سکتی ہے ۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پٹن ڈبلپمنٹ آرگنائزیشن کے سروے میں صاف ہو اکہ پنجاب صوبہ میں اور قومی راجدھانی خطے کی 80فیصد مساجد میں سرکار اور علماءکے درمیان طے شرائط کا سنیچر کو جم کر خلاف ورزی ہوئی اس شرط کی تعمیل نہیں ہوئی کہ تراویح نماز سڑک یا فٹ پاتھ پر نہیں پڑھی جائے گی اور نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کی دوری کا بھی خیال نہیں رکھا گیا بہت سی مساجد میں بڑوں کے ساتھ بچے بھی نظر آئے جبکہ بچوں کو لانا منع کیاگیا تھا ۔ادھر وزیر اعظم عمران خان سرکار نے لاک ڈاو ¿ن کی تعمیل نا کرنے کا اختیار فوج کو دے دیا ہے ۔اب لاک ڈاو ¿ن توڑنے والے مولویوں اور دین انجمنوں پر کاروائی کرسکتی ہے ۔آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں عمران خان اور فوج کے چیف جنرل قمر جاوید واجوا ڈی جی فوج احمد اور کچھ وزراءاور مشیر کاروں کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیا ۔دیش میں اب تک کورونا کے 12ہزار مریض سامنے آئے ہیں اور 265افراد کی موت ہو چکی ہے ۔ادھر پاکستان میڈیکل ایسو شی ایشن نے کورونا کو لے کر سرکار کو آگاہ کیا ہے ۔کہ پی آئی ایم اے کے صدر افتخار برنی نے کہا کہ پاک میں مساجد کورونا وائرس کا اہم ذریعہ بن گئی ہیں ۔اور 100ڈاکٹروں سمیت 200میڈیکل اسٹاف کورونا کا شکا ر ہوچکے ہیں ۔مئی اور جون میں وائرس کے اور تیزی سے بڑھنے کا اندیشہ ہے ۔
(انل نریندر)

دہلی میںکرائے کی ادھیڑ بن

لاک ڈاو ¿ن کے دوران کرایا دینے اور مکان کھالی کرانے کے دہلی سرکار کے روک لگانے کے احکامات کے باوجود ایسی شکایتیں مل رہی ہیں جیسا کہ اس مشکل کی گھڑی میں ایسے طلبہ اور مزدور جو کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ان سے مکان مالک زبردستی نا کریں اور نا ہی کرایہ وصول کر سکیں گے اور نا ہی مکان خالی کرا پائیںگے ۔چیف سکریٹری وجے دیو نے 29مارچ کوجاری ایک حکم کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ایسے معاملے سرکار کی نظر میں آرہے ہیں جن میں مکان مالک طالب علموں اور مزدوروں سے زبردستی کرایہ مانگ رہے ہیں یا پھر مکان خالی کرنے کے لئے دباو ¿ بنا رہے ہیں ۔آفت منجمنٹ قانون 2005میں ملے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اسٹیٹ ایگزیویٹو کمیٹی کے چیئرمین کے ناتے چیف سکریٹری وجے دیو نے ایک حکم جاری کرکے ڈی ایم کو حکم دیا ہے کہ وہ جن علاقوںمیں زیادہ مزدور یا بیرون مزدور رہتے ہیں یا طالب علم رہتے ہیں وہاں اس حکم کو لے کر بیداری مہم چلائی جائے ۔دہلی کے مکھرجی نگر لاڈو سرائے لکشمی نگر ،شکر پور ،ساو ¿تھ کیمپس کے آس پاس بڑی تعداد میں طالب علم کرائے پر رہتے ہیں ان علاقوں میں طالب علموں کے پا س پیسوں کی قلت ہونے کی صور ت میں مکان خالی کرنے کی شکایتیں آرہی تھیں اسی طرح دہلی کی کئی غیر منظور قالونیوں جن کے آس پا س صنعتی علاقے ہیں وہاں مزدوروں سے کرایہ مانگنے یا کرایہ نا چکانے پر مکان خالی کرانے کی شکایتیں آرہی تھیں ۔ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں یہ لوگ کرائے پر رہتے ہیں ۔مکان مالک نریش کاکہنا ہے کہ وہ 53سال کے ہوگئے ہیں بچوں کی پڑھائی سے لے کر گھر کے سبھی خرچے کرائے سے چلتے آئے ہیں ۔اس وبا کے دور میں ہماری کوشش ہے کہ کسی ضرورت مند کو پریشان نا کریں وہیں انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگوں نے اپنی دکانیں کرائے پر چلائی ہوئی ہیں ایک مہینہ سے دوکان بند ہے لیکن بجلی پانی کا بل تو آرہا ہے وہ تو انہیں دینا ہی ہوگا انہوں نے کرائے داروں سے کہاہے کہ وہ بجلی پانی کا بل تو دیں ۔اب جو کمائی تھی کرائے سے وہ بند ہے کمائی کا اور ذریعہ نہیں ہے سرکار کو مکان مالکوں کو بھی سہولت دینی چاہیے ۔ایسے دوسرے مکان مالک دیپک کا کہنا تھا کہ ویسٹ دہلی لال ڈورا ہے یہاں پر لوگوں کے لئے مکان کرائے پرچلانا ایک روزگار ہے ۔مکان مالکوں کے بارے میں سرکار کو سوچناچاہیے وہ بھی کرایہ نا ملنے سے پریشان ہیں ۔گھر کا خرچہ نکلنا مشکل ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں بجلی کا پانی بل دیتا ہوں جب کمائی نہیں ہوگی تو کہاں سے بھروں گا کل ملاکر کرائے کو لیکر مکان مالک ادھیڑ بن میں ہیں ۔دونوں فریقوں کی اپنی اپنی دلیلیں ہیں کس دلیل میںزیادہ دم ہے آپ ہی فیصلہ کریں۔
(انل نریندر)

کورونا پر ریاستوںمیں نئی جنگ

کورونا کو لے کر بڑھتے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے درمیان وائرس پھیلانے کو لیکر اب ریاستوں میں نیا ٹکراو ¿ شروع ہو جانا انتہائی افسوس ناک ہے ۔ہریانہ سرکار کے دہلی میں کام کرکے لوٹنے والے لوگوں سے کورونا پھیلنے کے الزام کے ساتھ دہلی آنے والی سبزی پر بھی روک لگا دی گئی ہے اس کے چلتے دہلی میں ہری سبزی کی قلت کے ساتھ دام بڑھ گئے ہیں آزاد منڈی کے آڑتی راجیو نے بتایا کہ لا ک ڈاو ¿ن کے وقت ہریانہ سے سبزیاں جیسے گھیا ،توری،بھنڈی،کریلہ ،کھیرا ،ککڑی وغیرہ کی تقریباً سو گاڑیا ں آرہی تھیں آزاد پو ر منڈی آرتی فروش یونین کے چیئیرمین عادل احمد خان نے بتایا کہ آزاد پور منڈی میں عام دنوں میں پھل و سبزیوں کی آمد جامد آٹھ ہزار ٹن رہتی ہے جو پیر کو گھٹ کر 7686ٹن رہ گئی ایسے میں آمد معمول کی رہی اس سے فی الحال داموں پر کوئی فرق نہیں پرا ۔ہریانہ کے وزیر صحت انل وج نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے کورونا کیرئیرس کو دہلی میں ہی رکھنے کی مانگ کی ہے دوسری طرف تمل ناڈو نے ناجائز طریقے سے لوگوں کے آمد و رفت روکنے کے لئے آندھرا پردیش کے دو ناقے بند کر وا دیے ہیں وج کا کہنا ہے کہ قومی راجدھانی میں کام کرنے والے بہت سے لوگ پاس کے ذریعے ہریانہ سے دہلی آجارہے ہیں ۔یہ ریاست میں کورونا کیرئیر بن گئے ہیں ۔پہلے تبلیغی جماعت کے کئی افراد دہلی سے آئے جن میں 120پازیٹو ملے ان کی وجہ سے ہریانہ میں وائرس متاثرین کی تعداد بڑھ گئی ۔ہم نے جماعت کے افراد کا علاج کیا جو دہلی کے راستے ہریانہ میں آئے تھے ۔وہیں دہلی کے وزیرصحت ستیندر جین نے ہریانہ کے وزیر صحت انل وج کے بیان پر پیر کو پلٹ وار کیا دہلی میں سبھی ہریانہ کے باشندوں کو کورونا کیرئیرس قرار دینا نامناسب ہے بہت سے لوگ دہلی میں رہتے ہوئے بھی راجدھانی کے سرحدی علاقوں میں کام کرتے ہیں اس کا الٹ بھی نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا کورونا سے ٹھیک ہو چکے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے خون دینے پر کہا کہ خون الگ الگ رنگ کا نہیں ہوتا کوئی بھی شخص خون دے سکتا ہے اور ہر مذہب سکھاتا ہے مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کی مدد کرو کسی سے نفرت نا کرو اور دوسروں کی جان بچانے کے لئے جو بنے کریں ۔روزانہ پاس لے کر آنے جانے والوں کی دکتیں بڑ ھ جائیں گی یہ افسوس ناک ہے کہ ہریانہ میں وائرس کے بڑھتے مریضوں کے لئے دہلی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔وج نے کہا کہ کیجریوال کو دہلی میں ملازمین کو ٹھہرانے کا انتظام کریں یہ مانگ صحیح نہیں ہے اور نا ہی دہلی میں انتظام نا ممکن ہے ۔جولو گ دہلی میں نوکری کرتے ہیں وہ ہریانہ میں رہتے ہیں اگر وج صاحب اپنی ضد پر اڑے رہے تو دہلی میں بہت سے دفتر ٹھپ ہونے کا امکان ہے چلتے کام پر اس طرح روک لگانا ملکی مفاد میں نہیں مانا جاتا امید ہے کہ ہریانہ کے وزیر صحت مسئلے کا کوئی بہتر حل نکالیں گے ۔
(انل نریندر)

29 اپریل 2020

کہیں گجرات دوسرا اٹلی فرانس نا بن جائے

گجرا ت میں کورونا وائرس کے انفکشن کے مریض مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں ریاست میں ان کی تعداد تین ہزار سے اوپر جاچکی ہے اور ریاست میں اس مرض سے اب تک 151لوگوں کی موت ہو چکی ہے حالانکہ ریاست کے افسر کمیونٹی ٹرانسفر سے انکار کر رہے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے جس خطرناک شکل میں ووہان میں تباہی دیکھنے کو ملی تھی اسی طرح گجرات میں بھی پھیل رہا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ وائرس ایلٹ انسٹرین جوکہ ووہان اٹلی ،فرانس اور امریکہ میں پایاگیا وہی گجرا ت میں بھی ہے جبکہ دوسرے حصوں میں وائرس کمزور شکل میںپھیل رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گجرات میں امریکہ اور یورپی ملکوں سے زیادہ لوگ آئے ہیں اس لئے یہاں ایڈ رین وائرس ہے ریاست کے پرنسپل ہیلتھ سکریٹری جینتی روی نے بتایا کہ گجرا ت میں پہلا مریض سامنے آنے کے 35دن بعد انفکشن معاملوں کی تعداد بڑھ کر 3071تک پہونچ گئی ہے اتنے ہی دنوںمیں اٹلی میں 80536فرانس میں 56972اور اسپین میں9410معاملے سامنے آئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ لاک ڈاو ¿ن بیرون ملک سے لوٹ رہے لوگوں کو فوراً آئی سلوشن میں رکھنے کی پالیسی کچھ حد تک کامیاب رہی ہے ۔جس نے بیماری کوپھیلنے سے روکنے میں مددکی ہے ۔وزیر اعلیٰ روپانی نے کہا ہم نے غیر ملی دورہ کرکے لوٹے تیس ہزار لوگوں کی پہچان کرلی ہے جب تک ہم دہلی میں تبلیغی جماعت کے پروگرام سے واپس لوٹے لوگوں کا پتہ لگاتے جب تک وہ دوسروں کے رابطے میں آچکے تھے اس سے تعداد میں اچانک اضافہ ہوگیا ۔
(انل نریندر)

چھوٹے اور منجھولی صنعتوں کیلئے مخصوص پیکج

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سنیچر کو وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ لاک ڈاو ¿ن نے مائکرو اسمال میڈیم انٹر پرائز سیکٹر کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا ہے ۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کی رہنمائی والی کانگریس کمیٹی ٹیم نے ایم ایس ایم ای سیکٹر کو بحران سے نکالنے کا ایک رول میپ تیار کیا ہے ۔پچھلے پانچ دنوںمیں اس سیکٹر سے وابسطہ لوگوںاور ماہرین سے آئی قریب ساٹھ ہزار تجاویز اور فیڈ بیک کی اسٹڈی کے بعد مشاورتی کمیٹی نے پانچ اہم تجاویز اور سفارشیں پیش کی ہیں ۔اور اس سیکٹر کو مخصوص مالی پیکج کی درخواست کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا لاک ڈاو ¿ن سے اس سیکٹر کو روز تیس ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہو رہا ہے ۔تشویش کی بات یہ ہے کہ اس سیکٹر میں گیارہ کروڑ سے زیادہ لوگوں کی نوکری چھن جانے کاخطرہ ہے ۔کانگریس کی طرف سے دی گئی تجاویز میں سب سے پہلی توجہ منجھولی درمیانی صنعتوں کو سیکٹر وائز پروٹیکشن دینا شامل ہے ۔تاکہ نوکریوں کو بچانے اور اقتصادی بحران کو دور کرنے میں مدد دی جاسکے کاروبار کی چنوتیوں کاحل نکالنے کے لئے ایک لاکھ کروڑ کے کریڈٹ گارنٹی فنڈ کی تجویز رکھتے ہوئے کہا گیا ہے اس سے فوری طور پر لکوڈڈٹی اور ضروری سرمایہ مل جائےگا ۔تیسری تجویزمیں کہا ہے کہ آربی آئی نے جو راحت کا اعلان کیا ہے اس پر بنیادی سطح پر عمل بینک کی طرف سے ہو اور اس سیکٹر کو آسان شرحوں پر بہت جلد قرض ملے آربی آئی کے کرنسی فیصلوں کو سرکار کے مختلف مالی اداروں کو فائدہ مل سکے ۔وزارت میں 24گھنٹے کی ایک مخصوص ایم ایس ایم ای مارگ درشن ہیلپ لائن شروع کی جائے ۔چوتھی تجویز میں رزرو بینک کی تین ماہ کی اعلان شدہ لون موروٹوریم کو اور بڑھانے کی تجویز کی ہے ۔ایم ایس ایم ای کو ٹیکس میں چھوٹ و کٹوتی و دیگر سیکٹر کا حل کے لئے راستہ نکالنے کو کہا ہے ۔پانچویں سفارش میں زیادہ پروٹرل کی وجہ سے ایم ایس ایم ای اداروں کو پر ملنے میں ہونے والی دقت کو دور کرنے کو کہا گیا ہے ۔پارٹی نے کہا ہے مارجن منی کی حد موجودہ حالت میں کچھ زیادہ ہے جس سے قرض میں مشکل ہو رہی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں یہ ساری تجاویز اچھی ہیں اسے مالی ماہرین نے اور سیکٹروں کے واقف کاروں کی صلاح کے بعد دی گئیں ہیں اب ان میں سے سرکار کیا مانتی ہے اور کتنا مانتی ہے یا خارج کرتی ہے یہ دیکھنا ہوگا ۔سرکار کے مالی ماہرین کو ان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔مالی حالات کے مطابق راحت پیکج جاری ہونا چاہیے اس میں کوئی شبہہ نہی کہ ان سیکٹروں میںمدد کی سخت ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)

دہلی ہائی کورٹ کا پرائیویٹ اسکولوں کو جو ن تک فیس نا لینے کا حکم!

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کو ایک طالب علم کے والد کی عرضی کا نپٹارہ کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ اسکولوں کو سخت ہدایت دے کہ وہ ٹیوشن فیس کے علاوہ کوئی دیگر فیس نا وصولیں اور فیس نا پانے والے طلبہ کے لئے بھی آن لائن کلاس کا فائدہ پہونچائیں ۔جسٹس پرتبھا ایم سنگھ نے اپنے حکم میں کہا اس مشکل وقت میں سبھی کی مالی حالت ڈامہ ڈول ہے اس لئے انہوں نے جون تک فیس نا وصولنے کا پبلک اسکولوں کوحکم دیا ہے ۔عدالت کا کہنا تھا جو ٹیوشن فیس نہیں دے سکتا اس سے پبلک اسکول زبردستی نا کریں اور انہون نے غور کیا کہ دہلی سرکار نے پبلک اسکولوں کو ٹیوشن فیس کے علاوہ دیگر کوئی فیس مانگنے سے روک دیا ہے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ٹیوشن فیس کی مانگ مناسب ہے کیونکہ ٹیچر کووڈ19-وبا کے سبب لاک ڈاو ¿ن کے دوران بھی آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں اور اپنا کام کررہے ہیں عدالت نے اس سلسلے میں ایک عرضی کا نپٹارہ کرتے ہوئے دہلی سرکار کے ایک حکم کا ذکر کیا جو طالب علم مالی مشکل کے سبب فیس دینے میں لاچار ہیں انہیں بھی آن لائن کلاسز کا فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جائے گی ۔ہائی کورٹ نے اپنی ہدایت کے تحت والدین کو بھی کہا ہے۔کہ اگر کوئی اسکول ٹیوشن فیس کے علاوہ دوسری فیس بھی مانگے تو اس کی شکایت دہلی سرکار کے محکمہ تعلیم سے کریں جس پر وہ فورا کاروائی کرے گا ۔ہائی کورٹ نے کہا کہ حکام نے اس مسئلے پر نوٹس لیا ہے اور یہ پالیسی ساز معاملہ ہے اسی لئے ہائی کورٹ اس میں مداخلت کرنے کا خواہش مند نہیں ہے ۔عرضی گزار رجت وتس کی دلیل تھی لاک ڈاو ¿ن کی میعاد کے دوران دہلی کے مختلف پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ کے ذریعے ٹرانسپورٹ فیس اور اینول سرگرمیوں کے لئے فیس اور دوسری فیس وغیرہ ادا نہیں کی جانی چاہیے ۔درخواست کی تھی کیونکہ اسکول کام نہیں کررہے ہیں اس لئے تعلیمی فیس کی ادائیگی بھی کچھ ماہ کے لئے ملتوی کی جانی چاہیے ۔کیونکہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے کافی والدین فیس دینے میں لاچار ہیں دہلی سرکار کے مستقل وکیل رمیش سنگھ نے ہائی کورٹ کو بتایا افسر عرضی میں اٹھائے گئے مسئلوں سے پوری طرح واقف ہے اور 17اپریل کو محکمہ تعلیم پہلے ہی حکم جاری کر چکاہے ۔تعلیمی فیس کو چھوڑ کر کوئی دیگر فیس نہیں لی جانی چااہیے وہ بھی اس لئے کیونکہ تعلیم گھر پر آن لائن کلاس لے کر اپنا درس دینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
(انل نریندر)

28 اپریل 2020

عجیب وغریب مشور ہ دیکر ٹرمپ مذاق کا موضوع بنے!

ایسا لگتا ہے کورونا وبا کے دوران امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ ڈاکٹر بھی بن گئے ہیں اور سائنسداں کے رول میں بھی آگئے ہیں وہ آئے دن کوئی نا کوئی اوٹ پٹانگ مشورہ دیتے رہتے ہیں جس کے سبب وہ مزاق کا موضوع بن جاتے ہیں اب ٹرمپ نے عجیب و غریب مشورہ دیکر اپنے آپ کو نکتہ چینی کا موضوع بنا لیا ہے ۔میں نے کورونا پر ریسرچ کی صلاح دی ہے کیا یہ جراثیمی انجیکشن یا الٹرا وائلٹ لائٹ سے کورونا کے مریضوں کا علاج ممکن ہو سکتا ہے انہوں نے یہ عجب صلاح سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے ایک ایگزیویٹو ولیم برائم کے ساتھ ایک تحقیقی مطالعہ جاری کرنے کے دوران دی تھی برائن کی اس اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ سورج کی روشنی میں آنے سے وائرس جلد ختم ہو سکتا ہے اس پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے ٹرمپ نے پوچھا کہ کیا کورونا سے متاثر شخص کے جسم میں انجیکشن کے ذریعے کیمیکل کو پہوچانا ممکن ہو سکتا ہے ۔ٹرمپ نے وائڈ ہاو ¿س میں ایک معمولاتی بات چیت میں اخبار نویشوں سے کہا کہ ا س امکان پر بھی غور کیا جائے کیا خطرناک وائرس کے انفکشن کے مقابلے کے لئے الٹرا وائلٹ لائٹ یا پیرا بیگنی کرنوں کا استعما ل کی جا سکتا ہے غور طلب ہے صدر ٹرمپ نے صلاح دی کہ کورونا وائرس کو مارنے کے لئے کیڑے مارنے والی دوا کے انجیکشن کی دوا پر ریسرچ کرنی چاہیے ۔کیڑے مار دوابنانے والی کمپنی کے مالک نے لوگوں سے کہا کہ کیڑے مار دوا پینے سے لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اور یہ کیڑے مار آئیسو پروپل الکوہل سے اسے 30سکنڈ میں مارتا ہے اور یہ صلاح وائٹ ہاو ¿س کے ایک افسر نے دی تھی ریکڈ بینکسر کمپنی نے کہا کہ ایک ذمہ دار کمپنی ہونے کے ناطے ہم صاف کہنا چاہتے ہین کہ کسی بھی حالت میں انسانوں کے جسم میں یا پھر کسی طرح کیڑے مار ڈوا نہیں ڈالنا چاہیے اس سے پہلے امریکی ماہر بھی پہلے ہی منع کر چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں ہونا چاہیے ہم سبھی کو پتہ ہے کہ ایسا کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔
(انل نریندر)

آخر کہاں ہیں مولانا سعد؟26دن بعد بھی ہاتھ خالی!

تبلیغی جماعت کے امیر مولانا محمد سعد تک دہلی پولیس 26دن بعد بھی نہیں پہونچ سکی ۔ساو ¿تھ دہلی کے اوکھلا میں واقع ذاکر نگرمیں ان کے کوارنٹائن ہونے کی خبر تھی جس کی میعاد ختم ہونے کے دس دن بعد بھی وہ سامنے نہیں آئے کرائم برانچ نے جمعرات کو شاملی میں چھاپہ ماری کی لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہیں لگا ۔ذرائع بتاتے ہیں کہ کرائم برانچ کے پا س مولانا سعد کے خلاف کوئی جانکاری نہیں ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ میوات میں ہیں ۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ دہلی پولیس کہہ رہی ہے کہ پہلے آپ کورونا کا ٹیسٹ کرائیے پھر گرفتار کریں گے اگرایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس کو مولانا سعد کے بارے میں معلومات ہے اور وہ کہاں ہیں اس لئے وہ ان پر جان بوجھ کر ہاتھ نہیں ڈال رہی ہے کہ کہیں ان کو کورونا نا ہو خبرا ٓئی ہے کہ مولا نا سعد نے کورونا ٹیسٹ کرا لیا رپورٹ آنے کے بعد سعد کرائم برانچ کو سونپیں گے ۔پچھلے ہفتہ کرائم برانچ نے انہیں ایمس یا پھر کسی سرکار ی اسپتال سے کورونا ٹیسٹ کرانے کو کہا تھا ۔کرائم برانچ نے جب ان کے گھر کی تلاشی لی تھی تو بیٹے کو بھی اس کے بارے میں کہا تھا کہ کورونا کی جانچ کرانے جائیں اور ہم جانچ کرا چکے ہیں ۔رپورٹ نہیں آئی ہے اور جیسے ہی رپورٹ آئے گی دہلی پولیس کرائم برانچ کو ا سکی جانکاری دی جائے گی ۔کرائم برانچ جو کہہ رہی ہے ہم اس کی تعمیل کررہے ہیں سعد ایک کے بعد ایک ویڈیو جاری کرچکے ہیں آیڈو کے ذریعے بھی وہ جماعتیوں کو کہہ رہے ہیں اور ان کو احتیاط برتنے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔واضح ہو کہ پچھلے مہینہ مرکز میں آئے ہزاروں لوگوں میں 4291جماعتی کورونا پوزیٹو ملے یہ دعویٰ وزارت صحت کا ہے ۔ان کی وجہ سے 23ریاستیں اور مرکز ی حکمراں ریاستیں کورونا سے متاثر ہیں جہاں لوگ ابھی تک کوارنٹائن مراکز میں ہیں اور بہر حال دیش بھر میں ایک ہزار سے زیادہ جماعتیوں کے ٹھکانوں میں پولیس اور انتظامیہ انجان ہیں ۔مولانا سعد کی گرفتاری کو لیکر ابھی بھی کئی سوال بنے ہوئے ہیں جانچ ایجنسیاں اور پولیس کورونا وائرس کی وبا سے پیدا حالات میں پہلے ہی سخٹ چیلنج کا سامنا کررہی ہے ۔
(انل نریندر)

سب کی نگاہیں 3مئی کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی پر ٹکی ہیں!

ایک مہینہ سے اوپر کا وقت ہو گیا ہے جب زندگی کی رفتار تھم سی گئی ہے اور لوگوں کو زندگی میں اچھے برے تجربوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے پریوار دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ رشتوںمیں پھر سے تال میل بنایا جا رہاہے۔روز جب ان کی آنکھیں کھلتی ہیں اور حقیقت سے واستہ پڑتا ہے تو سبھی آنے والی 3مئی کی طرف دیکھتے ہیں ۔سبھی کی نگاہوں میں یہ سوال ہے کہ نریندر مودی آنے والی تین مئی کو کیا لاک ڈاو ¿ ن بڑھائیںگے یا پھر کوئی ڈھیل دیںگے ۔لوگوں کی بے چینی بڑھنے لگی ہے اور ان کی نگاہیں ان مودی پر لگی ہیں کہ وہ 3مئی کو لاک ڈاو ¿ن پر کیا فیصلہ لیتے ہیں ؟کورونا وائرس کے پھیلاو ¿ کو روکنے کے لئے کوشش میں لگے وزیر اعظم مودی کی طرف سے 24مارچ کی شام ملک گیر بند کے اعلان کے ایک دن بعد سے بھارت میں لاک ڈاو ¿ن لاگو ہے اس کے بعد سے اب تک گزرے دنوںمیں 1.3عرب ہندوستانی مرکزی مقامات اور دورس علاقوںمیں بسے امیر غریب سبھی نے دنیا بھر میں پھیلی اس وبا کے ڈر کا سامنا کیا ہے ۔3مئی تک بڑھائے گئے لاک ڈاو ¿ن کی بے چینی سے کوئی بھی اچھوتا نہیں ہے ۔نا تو شاندار کوٹھیوں میں رہ رہے رئیس ،کاروباری نا صرف گھروں میں بند ہیں اور کرائے کے چھوٹے چھوٹے گھر وں میں دیہاڑی مزدور بند ہیں ۔خوف کے حالات بھلے ہی سب کے لئے ایک جیسے ہیں لیکن ان کے درمیان نابرابری کا فرق بھی فوری طور پر دیکھنے کو ملا ۔گڑگاو ¿ ں کے پارس اسپتال کی کلینکل سائیکلوجی ڈاکٹر پریتی سنگھ کے مطابق اس لاک ڈاو ¿ن میں لوگوں کو ضرورت اور خواہشات کے درمیان فرق سکھایاہے اور انہیں اپنی ضرورتوں کو ترجیح دینے میں مدد کی ہے اور لوگوں کو احساس کرایا ہے کوئی بھی شخص معمولی ضرورتوں کے ساتھ اور دنیا میں پیدا حالات کے مطابق بھی گزارا کر سکتا ہے بلکہ ان دنوںکو لوگ زندگی بھر یا درکھیں گے اور اس میں سماجی دوری بنائے رکھنے پیش نظر سماجی بات چیت برتاو ¿ اور تہواروں کا جشن اور یہاں تک کہ غم منانے کے نئے طریقے بھی سیکھے ہیں کئی لوگوں نے مانا ہے کہ یہ ان کی طاقتوں کو پھر سے پرکھنے اور کئی معاملوں میںچھپے ہوئے ٹائلنٹ کو سامنے لانے کا موقع ہے مرکزی سرکار میں مختلف سطح پر ہو رہے ہیں جائزے میں لاک ڈاو ¿ن کو آگے بڑھانے میں غور ہورہا ہے ۔اب تک کسی ریاستی سرکار نے لا ک ڈاو ¿ن ختم کرنے کی بات نہیں کی ہے ۔بلکہ کچھ ریاستوں نے تو 3مئی کے بعد بھی کچھ عرصے کے لئے پابندی جاری رکھنے کے احکامات دئیے ہیں ۔حالات پرکنٹرول رکھنے کے لئے وزارت داخلہ مسلسل رعایت دینے کا اعلان کر رہا ہے جس سے لوگوں کی دکتیں کم ہوں ،چھوٹی سطح پر ہی صحیح اقتصادی سرگرمیوں کی شروعات ہونے سے مزدوروں کوکچھ راحت مل سکتی ہے اور دوکانیں کھلنے سے دیہی علاقوں میں ہو رہی پریشانیوں میں کمی آئیگی ۔ذرائع کا کہنا ہے وائرس سے متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاو ¿ن ختم کرنے سے زیادہ خطرہ ہے ایسے میں ریاستیں اور مرکزی سرکار اسے کچھ وقت کے لئے اور بڑھا سکتی ہے جن علاقوںمیں کورونا کے مریض کم ہوئے ہیں اور نئے کیس نہیں آئے وہاں تو ضرور چھوٹ ملنے کا امکان بہرحال پورے دیشن کی نگاہیں 3مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی پر ٹکی ہوئی ہیں کہ وہ کیا فیصلہ لیتے ہیں ۔
(انل نریندر)

26 اپریل 2020

جرمنی نے چین کو 149بلین یوروکا بل بھیجا!

چین کے شہر ووہان کی لیبورٹری کورونا وائرس کی وجہ سے آج کل سرخیوں میںچھائی ہوئی ہے ۔میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کی اسی لیب انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے کورونا پھیلا ہے اب ا س لیب کی کچھ تصویریں سامنے آئی ہیں جس میں کورونا وائرس کے کچھ نمونے رکھنے والے ایک دروازے کی سیل ٹوٹی ملی ہے ان تصویروں کو پچھلے مہینے ٹوئٹر پر ڈالا گیا تھا بعد میں انہیں ڈیلیٹ کر دیا گیا ۔پچھلے ہفتہ برطانیہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ووہان کی اس لیب میں چمگادڑوں پر تجربہ کرنے کے لئے یونان سے ایک ہزار میل دور سے انہیں پکڑا تھا ادھر فرانس کے نوبل ایوارڈ ونر لک مانٹیگنئیر نے بھی دعویٰ کیا کہ چین کی ووہان لیب سے کورونا سے وائرس پھیلا ۔لیب میں ایڈس کی دوا تیار کرنے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن وہاں اچانک حادثہ ہو گیا جس سے یہ وائرس لیبورٹری سے باہر پھیل گیا ۔جن میں امریکہ بھی شامل ہے اس میں چین کی سازش بتائی جارہی ہے امریکہ نے تو دھمکی تک دے ڈالی ہے اور اب جرمنی نے تو چین سے بھاری بھرکم جرمانہ دینے کی مانگ کر ڈالی ہے کورونا کے خالق مانے جانے والے چین کے پیچھے دنیا پڑ گئی ہے اور جرمنی میں اب تک قریب ڈیڑ ھ لاکھ مریض بھر چکے ہیں اور4500سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں ۔کورونا متاثر دیشو ںمیں امریکہ اٹلی ،اسپین ،اور فرانس کے بعد جرمنی 5نمبر پر ہے ۔مانو نا مانو جرمنی میں بھی وائرس نے بھاری تباہی مچائی ہے اس سے ناراض جرمنی نے چین سے حساب کتا ب چکتا کرنے کو کہا ہے جرمنی نے چین کو 149بلین کا بل بھیج دیا ہے تاکہ کورونا وائرس سے ہوئے نقصان کی بھرپائی کی جا سکے ۔27بلین یورو ٹوریزیم سے ہوئے نقصان اور 700بلین یورو ،جرمن ائیر لائنس اور دوسرے کاروبارکو 50بلین یورو کے نقصان کا بل چین کوبھیج دیا ہے جرمنی نے باقاعدہ اپنا پورا نقصان بتایا ہے جرمنی نے تو جہاں بل بھیجاہے تو امریکہ جانچ ٹیم بھیجنے کو تیار ہے ۔وائٹ ہاو ¿س میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ووہان سے وائرس کا آغاز ہوا ہم چین سے خوش نہیں ہیں امریکہ اس بات کی جانچ کر رہا ہے کہ کیا یہ جان لیوا وائرس چین کی لیب سے پیدا کیاگیا ہے اس کے لئے ہم چین سے جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر چین کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار پایا گیا تو اسے یادرکھنا چاہیے کہ اسے اس کے نتیجے بھگتنے پڑیںگے ۔چین بار بار صفائی دے رہا ہے کہ وہ اس وائرس کے لئے ذمہ دار نہیں ہے ۔امریکہ کے ذریعے جانچ ٹیم ووہان بھیجنے کی مانگ کو بھی چین نے ٹھکرا دیا ہے ۔جرمنی نے معاملے کی شروعات کر دی ہے اور جلد ہی دنیا کے دیش بھی چین پر کورونا وائرس سے ہوئے نقصان کا دعویٰ ٹھوکیں گے ۔
(انل نریندر)

لاک ڈاو ¿ن :اگنی پرکچھا کے تین دن !

2دن پہلے ایک قارئین پریتی پانڈے کا یہ مسج سامنے آیا پیش ہے کچھ اس کے حصے لاک ڈاو ¿ن کے 30دن پورے ہوچکے ہیں اور 3مئی کو پتہ چلے گا کہ لاک ڈاو ¿ن آگے بڑھے گا یا نہیں ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ شاید وہ آگے بڑھے گا یہ ہو سکتا ہے کچ علاقوں میں جہاں وائرس نہیں کے برابر ہے یا جو علاقہ پوری طرح کلین چٹ ہو چکے ہیں وہاں تھوڑی ڈھیل دی جائے اس لاک ڈاو ¿ ن میں آپ نے اپنا دن کیسا گزارا ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ پچھلے ایک مہینہ میں صبح اٹھ کر ہم سب سے پہلا کام باتھروم جا کر فریش ہو کر ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور نیوز چینلوں کو دیکھنا ہماری ہر صبح کاآغازپہلا کام بن گیا ہے اوریہ پتہ لگانا کہ کہاں کتنے لوگوں کو کورنا ہوا ہے اور کتنے لوگ مرے اور کتنے علاقے سیل ہوئے ،کیا کھلا اور کیا بند ہوا ؟انہیں معاملوں کے آس پاس ہماری زندگی گھوم رہی ہے ۔وہائٹ سپ ،ٹوئیٹر ،فیس بک ،اور ٹک ٹاک اوریہاں تک کہ کچھ جوک کچھ بھی دیکھ لو ہرجگہ بس کورونا ہی کورونا کا ذکر نظرآتا ہے کوئی کورونا پر اپنی معلومات کو بڑھا رہا ہے اور آپ اسے سمیٹنے میں سوچیے جب دن کی صبح تھی موت کے خو ف کے ساتھ صدمہ میں ہو تو آپ کا دن کیسا گزرے گا ۔خبریں دیکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔یقینا ہمارے آس پاس کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں ہمیں پتہ ہونا چاہیے ۔آنکھیں بند کر لینے سے ہم سچائی سے نہیں بھاگ سکتے لیکن ہر وقت خبروں میں رہنا اور وہی سنتے رہنا آپ کو دماغی طور سے پریشان کر سکتا ہے ۔آج کل کسی بھی نیوز چینل کی پہلی اور آخری خبر کورونا سے شروع ہو کر کورونا پر ہی ختم ہو رہی ہے کیونکہ دیش میں فی الحال اس سے بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ہمیں کورونا سے ڈرنا نہیں بلکہ ہمیں چوکس رہنا ہے آج بدقسمتی سے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ لوگوں کے چہروں پر ایک دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے جو اچھا اشارہ نہیں مانا جا سکتا اگر آپ دماغی طور سے مضبوط ہیں تو آپ بڑے سے بڑے مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں ۔آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ آپ جب اکثر نگیٹو باتیں سنتے اور لاتے ہیں تو اس سے ہمارے دماغ میں ایک منفی نظریہ قائم ہو جاتا ہے اس کا اثریہ ہوتا ہے کہ آپ دماغی طور پر الجھن میں آجاتے ہیں اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ دماغ پر آپ کا بوجھ بیماری سے لڑنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ کوشش کریں کہ کشیدگی سے آزاد رہیں اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کورونا وائرس ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا ہمیں زندگی میں ہمیں پہلی بار تجربہ ہوا ہے اور کوئی بھی دیش اس سے اچھوتا نہیں ہے یہ مسئلہ کب تک رہے گا پتہ نہیں پھر بھی آپ اوپر والے کاشکریہ اداکریں اور مست رہیں اور لاک ڈاو ¿ن کی سختی سے تعمیل کریں سماجی دوری بنائے رکھیں اس کا جتنا گھر میں رہنا ضروری ہے اتنا ہی آپ ذہنی کشیدگی سے آزاد رہ سکتے ہیں اور اپنے خاندان کو اسلئے اپنے گھر میں خوش گوار ماحول بنائے رکھیں سچ تو یہ ہے کہ آپ کے نیوز دیکھنے یا نا دیکھنے سے اعداد و شمار پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے مریض تو اتنے ہی ہوںگے جتنے دکھائے جارہے ہیں لیکن بار بار دیکھنے سے آپ کے دل و دماغ پر برا اثر پڑتا ہے ۔یہ پریشانی کا باعث ضرور ہے اسی لئے اپنے دل دماغ کو سمھائیے کہ دماغ کو مصروف رکھیں اور دل سے کہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...