Translater

19 جولائی 2014

اگر ایل جی بھاجپا کو حکومت بنانے کیلئے بلاتے ہیں تو۔۔۔

دہلی میں حکومت بنے گی یاپھر اسمبلی چناؤ ہوگا؟ اس سوال پر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ایک بات پکی ہے کہ کوئی بھی ایم ایل اے چاہے وہ بھاجپا کا ہو یا کانگریس کا یا عام آدمی پارٹی کا ہو،چناؤ نہیں چاہتا۔ وہ چناؤ کو ٹالنا چاہتا ہے اور اگر ممکن ہو تو سرکار بنانے کے حق میں ہے۔بی جے پی نے دہلی میں سرکار بنانے کے اشارے دئے ہیں۔ انتظار ہورہا ہے وزیر اعظم نریندر مودی کے برازیل سے لوٹنے کا۔ اب نریندر مودی وطن لوٹ آئے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ دہلی میں بھاجپا سرکار بنانے کو ہری جھنڈی دے دیں گے۔ حالانکہ ڈاکٹرہرش وردھن، نتن گڈکری جیسے پارٹی کے بڑے لیڈر اکثریت میں ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سرکار بنانے کی پہل کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ میڈیا میں حالانکہ دو تین دن سے خبریں آرہی ہیں بھاجپا خیمے کی طرف سے سرکار بنانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ بھاجپا کے نئے پردیش پردھان ستیش اپادھیائے نے بدھوار کو کہا پارٹی کے ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ میٹنگ میں رائے تھی کہ اگر لیفٹیننٹ گورنر سرکار بنانے کیلئے بلاتے ہیں تو غور کیا جاسکتا ہے۔ ممبر اسمبلی اور ایم پی بھی سرکار بنانے کے حق میں ہیں۔ بغیر سرکار کے اس وقت دہلی ایک طرح سے لاوارث ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی جواب دینے والا نہیں۔ افسروں پر دہلی کا دارومدار ہے۔ میری رائے میں بھاجپا کو اب موقعہ نہیں چونکنا چاہئے۔ انہیں سرکار بناکردہلی کے عوام کو اس دلدل سے نکالنا چاہئے۔ اروند کیجریوال نے بھی ایک طرح سے بغیر اکثریت کے سرکار چلائی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ اروند کیجریوال نے وزیر اعلی کے عہدے کو لات مار دی تھی۔ بھاجپا کے ذرائع کے مطابق کانگریس کے 8 میں سے6 ممبران سے دلبدل سیاست کے لئے سمجھداری بن گئی ہے۔ اگر کانگریس کے 6 ممبران اسمبلی پالا بدل لیتے ہیں تو بھاجپا جوڑ توڑ کی استادی دکھاکر آرام سے اکثریتی سرکار بنالے گی۔ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اقلیتی سرکار بھی بنانی پڑے تو بنا لینی چاہئے۔ دیکھیں گے بھاجپا کی اقلیتی سرکار کوگراکر کون چناؤ چاہے گا۔ ایک ہی شخص ہے جو چناؤ کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، وہ ہیں کیجریوال۔ لیکن وہ دن لد گئے جب کیجریوال کو لوگ سنجیدگی سے لیاکرتے تھے۔ قابل غور ہے کہ پچھلے سال دسمبر میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو 70 میں سے31 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ ایک سیٹ بھاجپا کی اتحادی اکالی دل نے جیتی تھی لیکن لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے تین ممبران اسمبلی لوک سبھا کے ممبر بن گئے تو اسمبلی میں ان کی تعداد گھٹ کر29 رہ گئی ہے۔ ایک ممبر اکالی دل کا ہے۔ ایسے میں بھاجپا کو محض پانچ اور ممبران اسمبلی کی حمایت چاہئے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ کانگریس میں اروند سنگھ لولی، ہارون یوسف کو چھوڑ کر باقی سبھی ممبر اسمبلی سرکار بنانے کے لئے بے چین ہوگئے ہیں۔ پچھلے دو دن سے پردیش پردھان ستیش اپادھیائے پارٹی کے ممبران اسمبلی سمیت کئی بڑے لیڈروں سے تبادلہ خیالات کرتے آرہے ہیں۔ ذرائع کا دعوی ہے پارٹی لیڈر شپ نے نئے وزیر اعلی کے لئے سینئر لیڈر جگدیش مکھی کا نام بھی طے کرلیا ہے۔ادھر عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ آپ کے کسی بھی ممبر اسمبلی کو خریدنے میں ناکام رہنے پر اب بھاجپا کانگریس کے 6 ممبران کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے۔ قیمت20 کروڑ روپے۔ دو وزیر اور چار چیئرمین کی پیشکش کی ہے۔بھاجپا نے کیجریوال کے اس بیان پر ہتک عزت کا مقدمہ بھی کردیا ہے۔ کیجریوال نے تو ایل جی کی وفاداری پر بھی سوال اٹھا دیا ہے۔ کیجریوال کا دعوی ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر بھاجپا کو سرکار بنانے کے لئے بلا سکتے ہیں اور بھاجپا اس کو قبول کرلے گی۔ اب معاملہ بھاجپا پردھان امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے پالے میں ہے۔ قابل ذکر ہے فروری سے دہلی صدر راج لاگو ہے۔ یہاں پر49 دن کی سرکار چلا کر کیجریوال نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دراصل بھاجپا نے سرکار بنانے کے لئے یو ٹرن اس لئے لیا کیونکہ اس کے سارے ممبران اسمبلی سرکار بنانے کے حق میں ہیں۔ مہنگائی بجلی، پانی جیسی بڑھتی پریشانیوں کے سبب آج دہلی کے باشندے کا دکھ درد کوئی بھی پوچھنے والا نہیں، حل کرنے والا نہیں۔ اگر اسمبلی ہوگی تو بہت ہی برننگ اشوز کا حل ممکن ہوسکتا ہے۔ لہٰذا دہلی میں سرکار بننی چاہئے۔
(انل نریندر)

ہندوستانی نوجوانوں کے آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کا اندیشہ!

اس بات کا اندیشہ پہلے سے ہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ عراق میں جاری خونی لڑائی میں کچھ ہندوستانی نوجوان بھی شامل ہوسکتے ہیں لیکن اب ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ یہاں کچھ نوجوان آئی ایس آئی ایس جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوکر وہاں تشدد میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کے چار مسلمان لڑکے زیارت کے لئے عراق گئے تھے۔ وہاں پہنچ کر چاروں لڑکے ان 22 لوگوں کے گروپ سے الگ ہوگئے جن کے ساتھ وہ عراق گئے تھے۔بتایا جاتا ہے یہ چاروں لڑکے آئی ایس آئی ایس کے جہاد کے نام پر خونی لڑائی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان میں سے ایک کے والد نے پولیس میں شکایت کرکے حکومت سے مدد مانگی ہے اور ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جن لوگوں نے اس کام کیلئے انہیں اکسایا ہے۔ممبئی سے ملحق علاقے کلیان کے باشندے اعجاز بدرالدین کا بیٹا عارف فیاض مجیدآئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے والے نوجوانوں میں سے ایک ہے۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عراق جانے سے پہلے گھر میں ایک خط چھوڑ گیا تھا جس میں اس نے لکھا تھا ’’میرے گھر کے پیچھے سورج غروب ہورہا ہے، میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ ہمیں اپنی عظیم سفر شروع کرنا ہے۔ یہ سفر میرے لئے خدا کی نعمت ہوگا کیونکہ میں اس ملک میں نہیں رہنا چاہتا ہوں۔ جب میری موت ہوگی تو خدا مجھ سے پوچھے گا کہ میں اللہ کی زمین پر کیوں نہیں گیا۔ اب آپ سے جنت میں ملاقات ہوگی۔‘‘ اعجاز نے یہ خط پولیس کو سونپ دیا ہے اور اپنے بیٹے کومحفوظ واپس بلانے کے لئے التجا کی ہے۔ اطلاع کے مطابق عارف اعجاز مجید 22 سال ، شاہین فاروق ٹاکی 24 سال، فحدشیخ25 اور امن نعیم پنڈیل 24، 23 مئی کو گھر سے نکل گئے تھے تینوں نے اپنے اپنے گھر والوں کے لئے خط چھوڑے ہیں۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر کی اے ٹی ایس ٹیم کا دستہ اور این آئی اے اور خفیہ ایجنسیاں سارے معاملے کی جانچ میں لگ گئی ہیں۔ اس درمیان یہ بھی خبر آئی ہے کہ بھارت کے قریب 18 لوگ عراق میں آئی ایس آئی ایس کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ لوگ تنظیم کی طرف سے جاری لڑائی میں شامل ہورہے ہیں۔ یہ ہی نہیں بھارت کے نوجوان آئی ایس آئی ایس میں شامل ہورہے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ عراق اور شام سے دہشت مچا رہی اسلامک اسٹریٹ آف عراق اینڈ سیریا کے دہشت گردوں سے ہندوستانیوں نے ٹریننگ لی ہے اور واپس لوٹ کر بھارت میں تباہی کے لئے نشانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ پچھلے دنوں پنے کے ایک پولیس تھانے کے پاس ہوئے بم دھماکے کے پیچھے کیا آتنکیوں کی اس نئی فوج کا ہاتھ ہے؟ پولیس نے ساؤتھ اور مغربی ہندوستان کے ایسے ڈیڑھ درجن نوجوانوں کی شناخت کی ہے جنہیں بہکاکر شام اور عراق لے جایا گیا ہے اور ان کو خون خرابے میں جھونک دیا گیا ہے۔ چنتا کی بات یہ بھی ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے مکھیا ابو بکر بغدادی نے خود کو اسلامی ملک کا خلیفہ اعلان کر جن دیشوں میں تباہی پھیلانے کا اعلان کیا ہے اس میں بھارت میں شامل ہے۔صرف بھارت ہی نہیں بلکہ یوروپی ممالک امریکہ اور آسٹریلیا میں بھی مسلمان لڑکوں کو انٹرنیٹ پر بہکایا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2014

ویدک بتائیں کس مقصد سے کی حافظ سعید سے ملاقات؟

بھارت کے انتہائی مطلوب دہشت گرد اور جماعت الدعوی کے سرغنہ حافظ سعید سے 2 جولائی کو ہندوستانی صحافی وید پرتاپ ویدک کی پاکستان میں ہوئی ملاقات سے دیش بھر میں بھاری ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ کہیں ویدک کا پتلا جلایا جارہا ہے تو کہیں ان پر بغاوت کا مقدمہ درج ہورہا ہے۔ ویدک جی نے صحیح کیا ،کیا ایک صحافی کوکسی بھی شخص بھلے ہی وہ دہشت گرد ہو، سے ملنے کا حق ہے یا نہیں ان سب پر رائے زنی کرنے سے پہلے میں کچھ اہم باتیں یہاں تحریر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مسٹر ویدک کی میں بہت عزت کرتا ہوں۔ان کا ساتھ ہمارے کنبہ جاتی رشتے بھی ہیں۔ میرے دادا جی مہاشے کرشن جی اورتاؤ جی ویریندر جی اور والد سورگیہ کے۔ نریندر جی سبھی کے ویدک جی سے تعلقات تھے۔ وہیں رشتے میرے بھی ہیں۔ مجھے بڑی تکلیف ہورہی ہے مسٹر ویدک کے بارے میں رائے زنی کرنے میں۔ لیکن یہاں سوال جان پہچان رشتے داری کا نہیں ، یہاں سوال دیش کے مفاد کا ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ایک صحافی کو کسی سے بھی ملنے پر چاہے وہ آتنکی ہی کیوں نہ ہو، کوئی پابندی نہیں۔ مجھے یاد ہے ویرپن، نکسلیوں سے صحافیوں کی ملاقات ہوتی رہتی ہے اور صحافیوں کو اس کے لئے قانونی لڑائی بھی لڑنی پڑی ہے۔ 
سپریم کورٹ تک یہ معاملہ گیا اور دیش کی سب سے بڑی عدالت نے صحافی کو صحیح مانا اور رہا کیا۔ انہوں نے ویرپن یا نکسلیوں سے جو بات چیت کی اس کی پوری تفصیل بھی شائع کی۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ویدک پرتاپ جی نے انڈیا کے انتہائی مطلوب ملزم شخص سے بات کی۔ اس کا نہ تو کوئی انٹرویو کسی اخبار میں شائع ہوا اور نہ ہی سعید کے ساتھ ہوئی بات چیت کی کوئی آڈیو،ویڈیو ٹیپ جاری کیا گیا۔ جب آپ نے نہ چھاپا اور نہ ہی ٹوئٹ کیا تو یہ کیسے پتہ چلے کہ آپ نے حافظ سعید سے کیا باتیں کیں اور کیوں کیں؟ آپ کا بات چیت کرنے کے پیچھے مقصد کیا تھا؟ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید سے کسی ہندوستانی صحافی کی ملاقات عام بات نہیں ہے۔ اس میں آئی ایس آئی کا رول بھی رہا ہوگا۔ کیونکہ حافظ سعید نہ صرف انڈیا کے انتہائی مطلوب ہے بلکہ امریکہ کی دہشت گردوں کی لسٹ میں بھی شامل ہے جس پر بھاری بھرکم انعام رکھا گیا ہے۔ حافظ سعید کی سکیورٹی پاکستانی فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کرتی ہے۔ آئی ایس آئی کی مرضی کے بغیر سعید کسی ہندوستانی یا کسی غیر ملکی صحافی سے نہیں مل سکتا۔ ویدک کی سعید سے ملاقات کرانے میں آخر کس کی کوشش رنگ لائی؟اس ملاقات کیلئے یا تو پاکستان کے سینئر صحافیوں نے کوشش کی ہوگی یا ہندوستانی ہائی کمیشن نے مدد کی ہوگی۔ کیونکہ ویدک کو انڈیا ہائی کمشنر کا اچھا خاصا پروٹوکول ملا ہوا تھا جو عام طور پر کسی صحافی کو نہیں ملتا۔ وہ کتنا بھی سینئر کیوں نہ ہو۔ اس ملاقات سے یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کیا ویدک نے سعید کو بھارت سرکار کا کوئی پیغام بھی دیایا سعید نے ویدک کے ذریعے بھارت سرکار کو کوئی پیغام بھیجا ہے؟ ہماری وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دوٹوک کہا کہ مسٹر ویدک ہندوستانی نمائندہ بن کر نہیں گئے اور نہ ہی سرکار کا اس سے کچھ لینا دینا ہے۔ویدک نے جانے سے پہلے بھارت سرکار کو بتایا نہ آنے کے بعد اس کے بارے میں کوئی جانکاری دی۔ خود مسٹر ویدک نے صفائی پیش کی ہے کہ میں سرکاری نمائندہ بن کر سعید سے نہیں ملا۔ وہ سرکار یا بابا رام دیو کے نوکر نہیں ہیں۔ ان کے سبھی صحافیوں سے تعلقات ہیں اور انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کیا کسی سے ملنے کے لئے وزیر اعظم یا صدر کی منظوری لینی پڑتی ہے ؟ پاکستان ٹی وی نیوز چینل نے ویدک کا ایک انٹرویو بھی دوبارہ ٹیلی کاسٹ کیا ہے۔ یہ انٹرویو چینل نے30 جون کو ویدک سے لیا تھا۔ اس میں کشمیر مسئلے پر ویدک نے کئی متنازعہ مشورے بھی دئے ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت پاکستان دونوں کشمیری حصوں کے لوگوں کے روز مرہ کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ یہاں دہائیوں سے امن چین نہیں ہے۔ کشمیر کے دونوں حصوں میں اگر آزادی کے لئے رائے بنے اور اس پر بھارت اور پاکستان راضی ہوں تو آزادی دینے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ویدک کے اس تبصرے پر پارلیمنٹ میں زور دار ہنگامہ ہوا۔ کانگریس کے نائب پردھان راہل گاندھی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ویدک آئی ایس آئی کے آدمی ہیں۔ ویدک نے اس بات کی بھی وکالت کی کہ پہلے دونوں کشمیروں کے بارڈر کھولے جائیں تاکہ دونوں دیشوں کے لوگوں میں آنا جانا بڑھے۔ میری تمنا ہے کہ دونوں حصوں کو ملا کر ایک وزیر اعلی بنے، ایک گورنر ہو۔ اس پر ٹی وی صحافی نے سوال داغا لیکن سسٹم پر کنٹرول کس دیش کا ہوگا۔ 
ویدک نے کئی طرح کے الٹے سیدھے متبادل پیش کئے۔ ٹی وی اینکر نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ ویدک نے یہ بھی کہا کہ وہ مودی کے قریبی ہیں۔ دہلی لوٹنے پر انہوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا میں نے نریندر مودی کو پی ایم بنوانے میں بھاری تعاون دیا ہے۔ بلا شبہ یہ گمراہ کن بات ہے لیکن کیا ایسا کوئی بھی قاعدہ قانون ہے جس سے ویدک اور ان کے جیسے لوگوں کے منہ پر پٹی باندھی جاسکے؟ ایک طرف تو وید پرتاپ ویدک نہ تو بھاجپا سے جڑے ہیں اور نہ ہی مودی سرکار سے اور دوسرے ان کی ایسی شخصیت بھی نہیں کہ وہ کسی بھی مسئلے پر کچھ بھی کہیں اور سارا دیش اس پر چنتا کرنے میں اور ڈیمیج کنٹرول کرنے میں جٹ جائے۔ مودی سرکار کے خودساختہ نمائندے و صحافی ویدک نے آتنکی حافظ سعید سے ملاقات کر اور خود سے ہی لیک کر اپنی اور سرکار کی فضیحت کروادی۔ بھاجپا اور مودی سرکار کا خیال ہے کہ انہوں نے سرخیوں میں آنے کے لئے جو بھی کچھ کیا اور کہا وہ سرکار کی پالیسی کا مذاق اڑانے والی حرکت ہے کہ وہ ممبئی بم کانڈ کے آتنکیوں کے خلاف سخت کارروائی چاہتی ہے۔ جس خطرناک آتنک وادی کے خلاف کروڑوں کا انعام اعلان ہو اور جس کی حوالگی کے لئے بھارت مسلسل پاکستان پر دباؤ بنا رہا ہو، اس کے ساتھ ویدک کی ملاقات اور اس کے خلاصے سے نہ صرف ویدک جی نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے بلکہ مودی سرکار کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ اب ویدک کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دیش کو بتائیں کہ ان کی حافظ سعید سے کیا بات ہوئی۔ اس کی پوری تفصیل سامنے لائیں اور ٹی وی صحافی کو اپنی بات چیت کا ٹیپ دستیاب کریں تاکہ دیش کو پتہ چل سکے کہ آپ نے کس مقصد سے یہ سب کچھ کیا؟
(انل نریندر)

17 جولائی 2014

بجلی کمپنیوں کی دادا گیری، سی اے جی نے اٹھائی انگلی!

راجدھانی کے کئی علاقوں میں بغیر کسی اطلاع کے 12-12 گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی نے عام آدمی کو رلادیا ہے۔ جمعہ کی رات سے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی نہ ہونے سے ناراض لوگوں کو کئی جگہ سڑکوں پر اترنا پڑا۔ مشرقی دہلی سے ساؤتھ دہلی تک سبھی جگہ کٹوتی سے لوگ بے حال ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ بجلی کمپنیاں اپنی دھاندلی سے باز نہیں آرہی ہیں۔ دہلی این سی آر ان دنوں پسینے سے تربتر ہے۔دن چڑھتے چڑھتے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ پسینے سے روتے بلکتے بچے، مرد ، عورتیں، بوڑھوں کو بس اگر امید ہے تو وہ ہے بارش کی، جس کی موسم محکمہ کے مطابق اگلے48 گھنٹوں تک کوئی امید نہیں ہے۔یوں تو بجلی کمپنیوں کی دادا گیری کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ جب تب ان کے خلاف جنتا آواز اٹھاتی رہی ہے اور نفع نقصان کا خیال کرتے ہوئے سیاسی پارٹیاں بھی اس اشو کو لپکتی رہتی ہیں۔ جب کبھی بھی ان کے کان کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ خود کو اس طرح بچا لیتی ہیں کہ یہ کون ہوتے ہیں کان کھینچنے والے۔ دہلی کی تینوں بجلی کمپنیوں کے خلاف جانچ کے احکامات پچھلے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو کیبنٹ میں دئے گئے اس حکم کے فیصلے کی کاپی ان کے پاس مہر لگانے کے لئے بھیجی تھی۔ کیجریوال کا اس بارے میں صاف کہنا ہے کہ بجلی کمپنیاں حساب کتاب اپنے اپنے طریقے سے کرتی ہیں اور زبردستی خسارہ دکھا کر سرکار اور عام جنتا پر رعب ڈالتی ہیں جبکہ حقیقت اس سے بالکل برعکس ہے۔ کمپنیوں میں 49 فیصد حصے داری والی دہلی سرکار کے نمائندگی کی بھی نہیں سنی جاتی اور سچ تو یہ بھی ہے کہ سرکاری افسر بھی اس مسئلے پر ہاتھ ڈالنے سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ اب حکومت ہند کے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی طرف سے ان پر کئی تلخ ریمارکس دئے گئے ہیں۔ سی اے جی نے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو خط لکھ کر صاف صاف الفاظ میں کہا ہے کہ بجلی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ دہلی سرکار کے افسر بھی انہیں تعاون نہیں دے رہے ہیں۔ سی اے جی کے چیف ششی کانت شرما نے دہلی سرکار کے تین بڑے افسران چیف سکریٹری آر کے شریواستو، پرنسپل سکریٹری (فائننس) ایم ایم کٹی و پرنسپل سکریٹری (بجلی) ارون گوئل کے نائر کا ذکر خط میں کیا گیا ہے اور کہنا ہے یہ افسر بجلی کمپنیوں کے بورڈ میں بطور ڈائریکٹر ہیں لیکن یہ تینوں آڈٹ میں ضروری دستاویز مہیا کرانے میں مدد نہیں کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سی اے جی نے 27 جنوری کو بجلی کمپنی کا آڈٹ کا کام شروع کیا تھا لیکن اس کام میں نہ تو بجلی کمپنیاں اور نہ ہی دہلی سرکار کے حکام سے تعاون مل رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تقریباً 6 مہینے کا وقت گزر چکا ہے لیکن سی اے جی کو ضروری دستاویز سمیت کمپنیوں کے حساب کتاب کی تفصیل نہیں مہیا کرائی گئی ہے۔ سی اے جی کے مطابق اب تک جس طرح کی مزید جانکاری دستیاب کرائی گئی ہے اس حساب سے ایک پائیدار آڈٹ ممکن نہیں ہے۔ آدھی ادھوری جانکاری کے سہارے آڈٹ کرنے میں انہوں نے لاچاری ظاہر کردی ہے۔
(انل نریندر)

16 جولائی 2014

الوداع برازیل ! اب 2018ء میں روس میں ملاقات ہوگی

برازیل کے شہر ریوڈیجنیریو میں بنے اسٹیڈیم ڈی مراکن میں جب فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں جرمنی اور ارجنٹینا کی ٹیمیں ایک دوسرے سے مقابلے کیلئے تیار ہورہی تھیں تو گلوب کے دوسرے سرے پر موجودہ ہندوستان میں فٹبال کے لاکھوں شائقین اپنے گھروں اور کلبوں میں ریستورانوں میں اسی جوش اور جنون سے باقی دنیا کے فٹبال شائقین کے ساتھ اس مقابلے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ہندوستانی فٹبال شائقین نے اس بار فائنل میچ کے دوران ایک انوکھا ریکارڈ بنایا۔ اندازے کے مطابق بھارت میں ورلڈ کپ فٹبال کا فائنل دیکھنے والوں کی تعداد 7.5 سے8 کروڑ کے درمیان تھی جو ہندوستانی ٹی وی صنعت میں اب تک کی سب سے بڑی ٹی آرپی ہوگی۔ 
اتنا ہی نہیں مہینے بھر چلے اس ٹورنامنٹ کے دوران برازیل کے بعد ہندوستانیوں کی سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مصروفیت رہی اور فٹبال کی بڑھتی مقبولیت نے دیش میں ان لوگوں کی امیدوں کو تقویت دی ہے جو جنون کی حدتک کرکٹ کو پسند کرنے والے اس ملک میں فٹبال کو پرموٹ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فیفا ورلڈ کپ فائنل میں میزبان برازیل کو سیمی فائنل میں 7-1 سے مات دے کر ارادے جتانے والی جرمنی کی ٹیم نے آخر کار24 سال بعد فٹبال کا ورلڈ کپ خطاب جیت لیا۔ برازیل کے ریوڈیجنیریو شہر میں کھیلا گیا فائنل میچ مقررہ وقت تک گول نہ پڑنے سے برابری پر چھوٹا اور فیصلہ مزید وقت میں ہوا۔ 112 منٹ میں جرمنی کے ماریو گوئٹس کا گول فیصلہ کن ثابت ہوا۔ حالانکہ کیل میں 7 منٹ تھے لیکن میسی اور ان کی ٹیم ارجنٹینا گول نہیں مار پائی اور جرمنی کی طرف سے گول کرنے والے ماریو گوئٹس راتوں رات جرمنی کے ہیرو بن گئے۔ بدقسمتی دیکھئے میچ شروع ہونے پر انہیں ٹیم میں نہیں اتارا گیا۔ ایک متبادل کھلاڑی کے طور پر بعد میں انہیں میدان میں اتارا گیا۔ 
میدان میں آنے سے پہلے ان کے جرمنی کے کوچ نے کہا تھا کہ تم صرف کھیلنے نہیں جارہے ہو تمہیں ثابت کرنا ہے کہ تم ارجنٹینا کے لیونیل میسی سے اچھے کھلاڑی ہو۔ اس حوصلہ افزائی کا اثر ایسا ہوا کہ فاضل ٹائم میں ماریو گوئٹس نے ارجنٹینا کے چھکے چھڑادئے اور ان کے گول سے جرمنی پہلی یوروپین ٹیم بن گئی جس نے ساؤتھ امریکہ میں اپنا جھنڈا لہرادیا۔ ونر ٹیم جرمنی کو 207 کروڑ روپے کا انعام ملا جبکہ رنر ارجنٹینا کو148 کروڑ روپے ، تیسری ٹیم نیدرلینڈ کو 130 کروڑ اور چوتھی ٹیم میزبان برازیل کو120 کروڑ روپے کے انعام ملے۔ 84 کروڑ کوائٹر فائنل میں ہاری ہر ایک ٹیم کو دئے گئے۔ 54 کروڑ پری کواٹر فائنل میں ہاری ہر ایک 8 ٹیموں کو ملے۔
برازیل ورلڈ کپ کے انعقاد پر اندازہ ہے کہ8 ہزار ارب روپے سے زیادہ خرچہ آیا ہے۔ اس ورلڈ کپ کو 2 ارب لوگوں نے سیدھے دیکھا۔ یہ ورلڈ کپ جہاں برازیل کی شرمناک ہار کے لئے یاد رہے گا وہیں اروگوے کے سواریج کے ذریعے اٹلی کے چیلینی کو دانت سے کاٹنے کے لئے یاد رکھا جائے گا۔ یہ ورلڈ کپ اس لئے بھی یاد رہے گا کہ اس میں برازیل کے اسٹرائکر نیمار کی ریڑھ کی ہڈی کولمبیا کے ایک کھلاڑی نے توڑ دی۔ میکسیکو کے ایک کھلاڑی کا پاؤں بھی ٹوٹا۔ 6 گول مار کر جرمنی کے ورلڈ لپ میں سب سے زیادہ گول مارنے والے بنے۔14 گول میزبان برازیل نے کھا کر نیا ریکارڈ بنایا۔ ایتوار کو فائنل میچ سے پہلے شکیرا اور دیگر گلوکاروں نے سماں باندھ دیا تھا۔ اب بات کرتے ہیں ایتوار کوکھیلے گئے فائنل میچ کے بارے میں۔ 
یہ سبھی کو لگ رہا تھا جرمنی کی ٹیم بہت مضبوط ہے اور وہ پورے ٹورنامنٹ میں بہت اچھی کھیلی ہے لیکن میسی اور ارجنٹینا سے بہت امیدیں تھیں لیکن ارجنٹینا اگر ہارا ہے تو اپنی غلطیوں کی وجہ سے۔ دونوں ہی ٹیموں نے موقعے تو خوب بنائے لیکن ان کی فنیشنگ خراب رہی اور مقررہ وقت میں ایک بھی گول نہیں کرسکی۔ فیصلہ فاضل وقت تک ٹل گیا ۔ ارجنٹینا کو زبردست کئی موقعے ملے۔ آٹھویں منٹ میں میسی قریب ہاف لائن سے گیند لیکر آگے بڑھے اور حریف کھلاڑی کے پینلٹی ایریا میں گھس گئے لیکن ان کے کراس کو لینے کے لئے کوئی دوسرا رجنٹینا کا کھلاڑی وہاں موجود نہیں تھا۔ 21 ویں منٹ میں ارجنٹینا کے پاس کافی بڑھت حاصل کرنے کا موقعہ تھا۔ جب گیند کے ساتھ گوئیجالو ہگون جرمنی کے پینلٹی ایریا میں تھے تو سامنے گول پوسٹ میں صرف گول کیپر نائر کھڑے تھے لیکن وہ شارٹ گول پوسٹ کے باہر مار بیٹھے۔32 ویں منٹ میں ہیگون نے اپنی غلطی ٹھیک کرتے ہوئے لاویج کے پاس گیند کو گول پوسٹ کے اندر پہنچادیا۔ارجنٹینا ٹیم اور پرستار خوشی سے پاگل ہوگئے ، جشن منانے لگے لیکن کچھ ہی لمحوں میں انہیں احساس ہوا کہ ریفری نے آف سائٹ کی ہری جھنڈی اٹھا رکھی ہے اور گول نہیں مانا جائیگا۔
اگر ارجنٹینا پہلا گول کر لیتی تو شاید میچ کا رخ ہی اور ہوتا۔ ارجنٹینا112 منٹ تک جرمنی کوروکتا رہا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنا اچھا ڈیفنس کھیلے لیکن گول کرنے میں چوک گئے۔ اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ موقعہ گول کیپروں کو ملا۔گول کیپروں کو پینلٹی کی شکل میں ورلڈ کپ کے دوران اچھی گیندیں ملیں جس پر 4 سال پہلے استعمال کی گئی جابولانی کی مناسب میں بہتر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جرمنی کے مینول نائر موجودہ وقت میں دنیا کے سب سے اچھے گول کیپروں میں شمار ہیں۔ ارجنٹینا کے ریوڈیجنیریو اور میکسیکو میں گوئیلارچو اور کوستارکا کے نواس امریکہ کے کرت ہوارڈ اور نیدر لینڈ کے صرف ایک منٹ کھیلنے والے گول کیپر ٹم کرول نے اپنی چھاپ چھوڑی۔ جرمنی نے ہی سیمی فائنل میں برازیل کو7-1 سے ہرایا تھا لیکن اس کے باوجود میزبان ٹیم کے پرستارو نے کہا کہ وہ اپنے پڑوسی دیش ارجنٹینا کے بجائے جرمنی کو ورلڈ کپ اٹھاتے دیکھنا چاہیں گے۔ فائنل میچ میں برازیل کے لوگوں نے جرمنی کے لئے چیئر بھی کیا۔ کل ملاکر بہت اچھا رہا ورلڈ کپ۔ الوداع برازیل اب 2018ء میں ماسکو میں ملاقات ہوگی۔
(انل نریندر)

15 جولائی 2014

چلو بلاوا آیا ہے ،اوبامہ نے بلایا ہے!

بھارت میں نئی سرکار کو بنے ابھی مشکل سے ڈیڑھ مہینہ ہوا ہے اور نئے نظام کے آنے کے بعد بھارت میں شروع ہوئی اقتصادی ہلچل میں حصہ داری کے امکانات تلاشنے میں دنیا کے بڑے دیش پیچھے نہیں چھوٹنا چاہتے لہٰذا محض6 ہفتے پرانی مودی سرکار سے رابطہ بنانے کے لئے امریکہ، چین ، روس ،فرانس ،سنگاپور سمیت کئی ملک اپنے نمائندے بھیج کر وزیر اعظم نریندر مودی کے وکاس کے ایجنڈے کو اشتراک کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں۔ ساتھ ہی جاپان، چین، جرمنی اور امریکہ مودی کو اپنے اپنے ملکوں کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دے چکے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ستمبر میں امریکہ دورہ کرنے کے لئے باقاعدہ دعوت بھجوادی ہے۔ مودی کو اوبامہ کا دعوت نامہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ولیم برنس نے تب دیا جب انہوں نے یہاں مودی سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اوبامہ نے اپنے خط میں مودی کو ستمبر میں واشنگٹن دورہ کرنے کے لئے اپنا دعوت نامہ دوہرایا ہے اورصاف یہ بھی کہا کہ وہ بھارت ،امریکہ کے رشتوں کو 21 ویں صدی کے ایک فیصلہ کن سانجھیداری کی شکل دینے کے لئے ان کے ساتھ قربت کے ساتھ کام کرنے کے لئے خواہشمند ہیں۔ مودی نے یہ دعوت نامہ فوراً قبول کرتے ہوئے اوبامہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ستمبر میں نتائج آمیز سفر کا انتظار رہے گا۔ ہماری رائے میں شری نریندر مودی کو امریکی صدر کا دعوت نامہ فوراً قبول نہیں کرنا چاہئے تھا۔ پچھلے9 برسوں سے یہی امریکہ نریندر مودی کو ویزا نہ دیکر بے عزت کرتا رہا ہے۔ اب ان کے وزیر اعظم بنتے ہی امریکی حکام کا ہندوستان آنا جانا اتنا تیز ہوگیا۔ براک اوبامہ امریکہ سے بھارت کے اچھے تعلقات ہونے چاہئے تھے اس لحاظ سے مودی کا پہلا امریکہ دورہ کافی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ جو دورہ ہورہا ہے یہ امریکی دورہ نہیں۔ ستمبر میں ویسے بھی مودی کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانا تھا۔ وہاں سے وہ اب واشنگٹن جائیں گے تو یہ دورہ اتفاقاً ہوگا کیونکہ نیویارک تو جانا ہی ہے اس لئے چلو واشنگٹن بھی گھوم آئیں؟ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے امریکہ ایک بہت خودغرض ملک ہے۔ تھوک کے چاٹنے میں انہیں کوئی پرہیز نہیں۔ آج بھارت امریکہ کیلئے ایم(مودی) مجبوری بن گیا ہے۔ بھارت کے وسیع بازارکو امریکہ نظرانداز نہیں کرسکتا۔ امریکہ میں یہ بھی بے چینی ہورہی ہوگی کہ برطانیہ، جاپان، جرمنی سبھی بھارت کو پٹانے میں لگے ہیں۔ ایسے میں امریکہ پیچھے نہ چھوٹ جائے اس لئے اوبامہ نے آناً فاناً میں دعوت دے دی۔ بات بھارت کے ضمیر کی ہے۔ پچھلے دس سال میں ہم نے دیکھا کس طرح منموہن سنگھ سرکار امریکہ کی پچھل پنگو بن کر چلی۔ مودی سے دیش امید کرتا ہے کہ وہ بھارت کے ضمیر اور امریکہ کی مجبوری کو دھیان میں رکھ کر کوئی ایسا کام و سمجھوتہ نہیں کریں گے جو ملک کے مفاد کے خلاف ہوگا۔ کیا مودی پچھلے9 سالوں سے امریکہ کے ذریعے کی گئی بے عزتی کو اتنی جلدی بھول گئے؟ بہتر ہوتا کہ وزیر اعظم امریکہ کو تھوڑا لٹکاتے۔ ان میں ان کی عزت بنی رہتی۔
(انل نریندر)

ہر حالت میں سونیا گاندھی کو چاہئے لیڈر اپوزیشن کا عہدہ!

لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے چھٹ پٹا رہی کانگریس کبھی صدر کے دربار میں پہنچ رہی ہے تو کبھی عدالت میں جانے کی بات کررہی ہے۔ ویسے کانگریس نے خانہ پوری کے طور پر لوک سبھا اسپیکر کے سامنے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ لوک سبھا میں 10 فیصد سیٹ جیتنے میں ناکام رہی کانگریس نے اسپیکر کو 60 ممبران پارلیمنٹ کے دستخط والا ایک میمورنڈم دیا ہے لیکن اسپیکر کی عدالت میں اپنا دعوی پیش کرنے میں کانگریس کی جانب سے جو وقت لگا اس سے صاف ہے کانگریس کا کیس کمزور ہے۔ دراصل آزاد بھارت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ55سیٹوں میں سے کم تعداد والی کسی سیاسی پارٹی کو لوک سبھا میں لیڈر اپوزیشن کا عہدہ حاصل ہوا ہو۔ چناؤمیں سب سے شرمناک کارکردگی کے بعد لوک سبھا میں لیڈر اپوزیشن کے عہدے کے لائق بھی حیثیت تو کانگریس بچا نہیں سکی پھر بھی وہ اس عہدے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالت تو یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے چیئرمین کے عہدے تک کیلئے کانگریس کو لابنگ کرنی پڑ رہی ہے۔ موجودہ44 لوک سبھا ممبران کے حساب سے کانگریس کے کھاتے میں لوک سبھا کے تین پارلیمانی کمیٹیوں کی چیئرمینی آتی ہے مگر لوک سبھا میں لیڈر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ چار پارلیمانی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کیلئے سرکار پر دباؤ بنا رہی ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلینے لوک سبھا میں لیڈر اپوزیشن کا عہدہ کانگریس کو دینے سے صاف منع کردیا ہے۔ کانگریس پارلیمانی تاریخ کو بھول رہی ہے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کے عہد میں کسی اپوزیشن پارٹی کو یہ عہدہ حاصل نہیں ہوا۔ 1969 ء میں کانگریس کی تقسیم کے بعدکانگریس سے اوکے رام سمگر سنگھ کو یہ عہدہ پہلی بار 10 فیصدممبری کی بنیاد پر حاصل ہوا تھا۔ ابھی کانگریس اپنی دعویداری کے حق میں جس 1977 ایکٹ کا ذکر کررہی ہے اس میں لیڈر اپوزیشن کے بھتوں اور تنخواہوں کا تو ذکر ہے لیکن لیڈر اپوزیشن کے سلیکشن کے پیمانے کی تشریح نہیں ہے۔ پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر 1977ء کا ایکٹ حال ہی میں کانگریس کی دعویداری کی تصدیق کرتا ہے تو خود کانگریس نے 1980 اور1984ء میں بنی لوک سبھاؤ میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کو لیڈر اپوزیشن کا عہدہ کیوں نہیں دیا؟ مرکز میں مودی سرکار کے تاناشاہ رویئے سے ناراض کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اپنے حکمت عملی سازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے اپنی پوری طاقت جھونک دیں۔ اس کیلئے بھلے ہی پارلیمنٹ کے باہر انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی کیوں نہ پڑے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اسپیکر صاحبہ ان کی مانگ پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گی۔ مسٹر شرما نے مودی سرکار پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ جمہوری تقاضوں کو توڑ مروڑنے پرتلی ہوئی ہیں اس لئے لوکپال، سی وی سی وغیرہ اہم عہدوں کی تقرری میں وہ اپوزیشن کو شامل نہیں کرنا چاہتیں تاکہ وہ اپنی مرضی اور اپنی منمانی چلا سکیں سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے۔ کچھ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارت جیسی بڑی جمہوریت میں لیڈر اپوزیشن کا عہدہ خالی نہیں ہونا چاہئے لہٰذا سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے سے کانگریس کو یہ عہدہ ملنا چاہئے۔ سرکاری طور پر اس دلیل میں دم تو نظر آتا ہے یہ بات تب جائز ہوتی جب کانگریس کے ممبروں کی تعداد دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے مقابلے بہت زیادہ ہوتی لیکن ایسا بھی نہیں کہ ابھی اگر 44 ممبران پارلیمنٹ والی کانگریس کو یہ عہدہ دیا جاتا ہے تو ایسا کرنا اس سے معمولی طور پر پیچھے رہی 37 ممبران پارلیمنٹ والی انا ڈی ایم کے اور34 ممبروں والی ترنمول کانگریس کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ اگر پھر بھی لیڈر اپوزیشن کی کرسی بھرنی ہے تو یہ اس پارٹی کو ملنا چاہئے جس میں سب سے زیادہ اپوزیشن ممبر ان کو حمایت حاصل ہو۔ اگر ضروری ہوا تو اس کے لئے اپوزیشن ممبروں میں پولنگ بھی کروائی جانی چاہئے۔ بیشک ایسی کوئی روایت نہیں رہی ہے لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ حالیہ برسوں میں کسی دوسری بڑی پارٹی کی حالت اتنی پتلی نہیں رہی۔ امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی یہ معاملہ سلجھ جائے گا۔
(انل نریندر)

13 جولائی 2014

مستقل بڑھتے بلاتکار کے معاملے!

یہ ہمارے سماج کوکیا ہوگیا ہے؟بلاتکار کے اتنے حادثات ہورہے ہیں کہ سمجھ میں ہیں نہیں آرہا کہ اس پر روک کیسے لگے؟گذشتہ دنوں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ اعدادو شمار آئے ہیں جو چونکانے والے ہیں۔صرف ایک سال کے اندر ملک میں ریپ کے واقعات میں حیرت انگیز35.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔2012ء میں جہاں ریپ کے 24923 معاملات درج کئے گئے تھے وہیں 2013ء میں بڑھ کریہ تعداد33707 ہوگئی۔ریاستوں کے حساب سے دیکھیں تو سب سے زیادہ بلاتکار کے واقعات مدھیہ پردیش میں ہوئے۔ وہاں2012ء کے 3425 کے مقابلے2013ء میں 4335 ریپ درج کئے گئے لیکن شہروں کے حساب سے دہلی اب بھی اول ہے۔ یہاں2012ء میں 706 ریپ کے واقعات درج ہوئے تھے جو 2013ء میں دوگنے سے بھی زیادہ بڑھ کر1636 ہوگئے۔آج کل تو ایسے معاملے سامنے آرہے ہیں کہ دل سن کردہل جاتا ہے۔ آخر ہم کس طرف جارہے ہیں۔ دہلی کے ویسٹ ڈسٹرکٹ کے ایک پارک میں محض7 سال کی بچے سی دن دہاڑے گین ریپ کا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ شرمسار کرنے والی ان واردات کو انجام دینے والے بھی بچی کی عمر کے 3 لڑکے ہیں۔یہ بچی کو دسہری آم کھلانے کے بہانے لے گئے۔ الزام ہے کہ تینوں نے ریپ کے علاوہ اورل سیکس، ان نیچرل سیکس بھی کیا۔یہ واقعہ پشچم وہار کے میرا باغ کے نزدیک میرا پارک کا ہے۔بڑا پارک ہونے کی وجہ سے اس میں اندر کی طرف گھنا جنگل ہے۔ قریب سات سال کی بچی کا ریپ تین لڑکوں جن کی عمر9,12 اور14 سال کی ہے ، نے کیا۔ایک دیگر معاملے میں اتری دہلی میں 12 سالہ گھریلو نوکرکے ساتھ بدفعلی کے الزام میں پولیس نے ایک 77 سالہ بزرگ ٹرانسپورٹر کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم بڑے ٹرانسپورٹروں میں شامل ہے وہ کئی ٹورسٹ بسوں کا مالک ہے۔ سبزی منڈی تھانے میں اس کے خلاف بدفعلی، پاسکو وجوئینائل ایکٹ وغیرہ معاملوں میں کیس درج کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ دسمبر2012ء میں نرملا کانڈ کے بعد راجدھانی دہلی سمیت تمام بڑے شہروں میں جس طرح مظاہرے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے لگ رہا تھا کہ ہندوستانی سماج میں پہلے سے زیادہ بیداری آئی ہے لیکن اب ایک سا ل کے یہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ پہلے سے حالات زیادہ بدتر ہوگئے ہیں۔ راجدھانی میں بلاتکاریوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں نہ تو خاکی وردی کا کوئی ڈر رہا ہے نہ سماج میں بے عزت ہونے کا۔بیورو سے پتہ چلتا ہے کہ کل33707 میں سے31087 معاملوں میں بلاتکاری اور متاثرہ ایک دوسرے کو جانتے پہچانتے ہیں۔539 معاملوں میں ملزم خاندان کا ممبر تھا۔2315 واقعات میں وہ رشتے دار تھا اور 10782 معاملے ایسے رہے جن میں ملزم پڑوسی تھا۔ صاف ہے کہ انجانے لوگوں کے ذریعے ریپ کے واقعات15-16 میں ایک ہیں۔ زیادہ تر معاملوں میں لڑکیوں کی جان کے دشمن وہی ہیں جنہیں وہ الگ الگ روپ میں جانتی پہچانتی ہیں۔وزارت داخلہ کی ریاستی وزیرکرن رجیجو نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ سال درج بلاتکار کے 33707 معاملوں میں 42115 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 37056 لوگوں پر الزام طے کئے گئے اور 6892 لوگوں کو ملزم ٹھہرایاگیا۔ انہوں نے بتایا کہ2013ء میں بلاتکار کے درج معاملوں میں مجرم ثابت کرنے کی شرح27.1 رہی۔ بہت سے معاملوں میں ریپ کی شکایت درج ہی نہیں ہوپاتی۔ لڑکی کو اپنی حوس کا شکار بنانے والے اس کے قریبی لوگ جرم کے بعد اسے دھمکاکر یا بہلا پھسلاکر اسے پولیس کے پاس بھی نہیں بھٹکنے دیتے۔ یہی وہ وجہ ہے جہاں یہ آنکڑے امید میں بدلتے نظر آتے ہیں۔ ریپ کے اعدادو شمار میں بڑھوتری اس بات کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان مہلاؤں میں اپنے خلاف ہوئے ظلم کی شکایت درج کروانے کی ہمت آئی ہے لیکن بیشک سرکار، پولیس نے کئی قدم مہلاؤں کے تحفظ کیلئے اٹھائے ہیں پھر بھی جب تک ہمارے سماج میں بیداری نہیں آتی ان کی ذہنیت نہیں بدلتی تب تک یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں۔ 16 دسمبر2012ء کو نربھیا کانڈ ہوا تھا۔ اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی ملزموں کو سزا ابھی تک نہیں مل سکی۔ ہماری عدالتوں میں بھی بلاتکار کے ملزمین کو جلد سے جلد سزا دینے کیلئے مناسب تبدیلی کرنا ہوگی۔اس بار بلاتکاری کوپھانسی لگ جائے تب جاکر شاید ان بلاتکاریوں میں تھوڑا خوف پیدا ہو۔
(انل نریندر)

گری راج سنگھ کے گھر سے برآمدرقم کا راز؟

بی جے پی کو ووٹ نہ دینے والے لوگوں کو پاکستان بھیج دئے جانے کی متنازعہ صلاح دینے والے ممبر پارلیمنٹ گری راج سنگھ گذشتہ کچھ دنوں سے چرچہ میں ہیں۔ بہار کے نوادہ پارلیمانی حلقے سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ گری راج سنگھ کا پٹنہ میں ایک فلیٹ ہے سوموار کو اس فلیٹ میں چوری ہوگئی تھی۔ پولیس نے چوری کے چار گھنٹے بعد چوری ہوی نقدی و زیور وغیرہ برآمد کرلئے۔پولیس نے مال برآمد کیا تو1 کروڑ14 لاکھ روپے ، 600 ڈالر و زیورات ملے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی منومہاراج نے بتایا کہ پولیس نے اپارٹمنٹ کے گارڈ اور ایک آٹو رکشا ڈرائیور کو اس سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ سوموار رات ہوئی چوری میں شامل اپارٹمنٹ کے سکیورٹی گارڈ مان سنگھ عرف ویریندر کمار و بدنام زمانہ جرائم پیشہ دنیش کمار عرف گڈو کو واقعہ کے چار گھنٹے کے اندر گرفتار کرلیا گیا۔ وریندر کے مطابق گری راج سنگھ کے نوکر لکشمن نے چوری کا پلان بنایا تھا۔ اس میں نوکر سدانند کے علاوہ دو دیگر لوگ شامل تھے۔ پوچھ تاچھ جاری ہے ۔ اس سے پہلے سوموار دوپہر 3 بجے آنند پوری علاقے کے شیوم اپارٹمنٹ میں گری راج سنگھ کے فلیٹ نمبر2C میں چوری ہونے کی اطلاع پر پولیس محکمے میں ہڑکمپ مچ گیا تھا۔ اسے شام آٹو سے اٹیچی میں روپئے لے جارہے دنیش کو ٹریفک پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس کی نشاندہی پر پولیس نے جہان آباد ضلع کے مخدوم پور نواسی ویریندر کو بھی دبوچ لیا۔یہاں آتا ہے کہانی میں چونکانے والا موڑ۔ پولیس نے مال برآمد کیا تو ایک کروڑ14 لاکھ روپے اور600 ڈالر کی نقدی ملی۔ ایس ایس پی منو مہاراج نے بتایا کہ کیش کے ساتھ پولیس نے 6 ہائی اینڈ لگژری کلائی گھڑیاں جیولری اور ایک کیم کوڈر بھی برآمدکیا۔ منو مہاراج نے کہا کہ اس بات کی جانچ ہورہی ہے کہ برآمد رقم سانسد کی ہے یا نہیں؟ حالانکہ گرفتار لوگوں نے بیان دیا ہے کہ انہوں نے سانسد کے فلیٹ میں چوری کی تھی۔ اس سلسلے میں جو ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کتنی رقم چوری ہوئی۔ گری راج سنگھ کے گھر سے چوری ہوئے 1.14 کروڑ روپے ، 600 امریکی ڈالر اورسونے چاندی کے زیورات کی برآمدگی پر جنتادل (یو) راجد اور کانگریسی ممبروں نے بہار ودھان سبھا کے دونوں سدنوں میں جم کر ہنگامہ کیا اور سدن کے گیٹ پر مظاہرے اور نعرے بازی کی۔بہار ودھان سبھا کی کارراوئی شروع ہوتے ہی جنتادل (یو) راشٹریہ جنتادل اور کانگریس کے ممبران سدن کے بیچ آکر گری راج کے خلاف کڑی کارروائی کی مانگ کرنے لگے۔ بعد میں سدن سے باہر آنے پر مکھیہ منتری جیتن رام مانجھی نے اپنے کمرے میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ سرکار نے گری راج سنگھ کے گھر سے بڑی رقم اورڈ الر و جیولری کی برآمدگی پر سنگیان لیا ہے اور اس معاملے میں قانون اپنا کام کرے گا۔ سابق مکھیہ منتری نتیش کمار نے اتنی بڑی مقدا میں نقدی اور ڈالر کی برآمدگی پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے پٹنہ پولیس شاباشی کی اہل ہے کیونکہ انہوں نے بہت ہی کم وقت میں چوری کے اس معاملے کو سلجھایا اور چوری گئی جائیداد کوبرآمد کرنے کے ساتھ ساتھ واقعے میں ملوث لوگوں کو گرفتار بھی کرلیا۔ گری راج سنگھ کو لیکر ایک سوال کے جواب میں نتیش نے کہا کہ جتنی بڑی مقدا ر میں رقم برآمدہوئی اس سے سوال تو ضرور اٹھتا ہے اور قانون اس معاملے میں اپنا کام کرے گا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...