Translater

24 ستمبر 2011

سابق افغان صدر ربانی کے قتل نے سبھی کی تشویشات بڑھائیں



Published On 24th September 2011
انل نریندر
افغانستان میں امریکہ کے ذریعے جاری قیام امن کی کوششوں کو زبردست دھکا لگا ہے۔ افغانستان کے سابق صدر برہان الدین ربانی کا ایک فدائی حملہ آور نے قتل کردیا ہے۔ اس حملہ آور نے اپنی پگڑی میں دھماکہ خیز مادہ چھپایا ہوا تھا۔ ربانی کا قتل کرنے والے حملہ آور کے اس واقعہ میں ربانی کے چار محافظ بھی مارے گئے۔71 سالہ ربانی کا قتل شورش کے حالات سے گذر رہے افغانستان میں جاری قیام امن کی کوششوں کو ایک زبردست جھٹکا مانا جارہا ہے۔ ان کے قتل کے بعد صدر حامد کرزئی اپنا دورہ امریکہ بیچ میں چھوڑ کر وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔ کابل پولیس کے مطابق حملہ آور کو ربانی کے کابل میں واقع مکان میں شام کوبلایا گیا تھا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی ڈپلومیٹ ہے جو طالبان کا خاص پیغام لیکر آیا ہے۔ ربانی سے گلے ملتے ہی حملہ آور نے پگڑی میں رکھے بم سے دھماکہ کردیا۔
مسٹر ربانی کے قتل سے صاف ہے کہ امریکہ کی قیادت والی نیٹو افواج کے افغانستان سے رخصت ہونے کے بعد طالبانی اور کتنی بڑی چنوتی پیدا کرسکتے ہیں۔ ربانی راجدھانی کابل کے انتہائی سکیورٹی زون میں علاقے میں رہتے تھے جہاں امریکہ کا سفارتخانہ بھی قائم ہے۔ ربانی کو حامد کرزئی سرکار نے پچھلے قریب ایک سال سے اپنی ہائی پاور امن کونسل کا سربراہ بنایا تھا۔ انہیں امن کی کوششوں میں کوئی خاص کامیابی تو نہیں ملی۔ اب ان کے قتل سے تو میل ملاپ کے رہے سہے امکانات بھی مدھم ہونے لگے ہیں۔ جس طرح طالبان نے گھر میں گھس کر ربانی کا قتل کیا تھا اسی طرح کچھ مہینے پہلے حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی ولی کرزئی کو ان کے ہی ایک ساتھی سے ملنے پر قتل کردیا گیا تھا ۔ اس کے بعد طالبانی بندوقچیوں نے ایک سابق گورنر جان محمد خاں کو مار ڈالا تھا۔ جب سے امریکہ اورمغربی ممالک کی بالا دستی والی کرزئی سرکار بنی ہے طالبان اس پر حملے کررہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک قتل سے صاف ہے کہ طالبان مصالحت کے حق میں نہیں ہے۔ طالبان کی تربیت کبھی پاکستانی مدرسے میں ہوئی تھی اور آج بھی پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا طالبان کے مختلف گروپوں پر دبدبہ ہے۔ افغانستان میں طالبانی حکومت ہونے سے پاکستان کو بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں کافی مدد ملتی اس لئے پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان میں ایسی کوئی سرکار ہو جو بھارت کی دوست بنے۔ ربانی کو ہندوستان کا دوست مانا جاتا تھا۔ طالبان کو ایسا بھی کوئی شخص پسند نہیں ہے جو امریکہ، ہندوستان اور مغربی ممالک کا دوست ہو۔
مسٹر ربانی کے قتل کے ساتھ ناگزیں حالات سے گذر رہے پڑوسی ملک افغانستان کے حالات کو لیکر بھارت کی تشویشات کا بڑھنا فطری ہے۔ نئی دہلی کی تشویش افغانستان میں امن اور بحالی اعتماد کا پرچم اٹھانے والے نیتاؤں کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں کو لیکر ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ اس واقعے سے گہرا دھکا پہنچا ہے اور بھارت مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کرزئی کو لکھے خط میں وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں مختلف گروپوں کے درمیان جاری امن عمل کی رہنمائی کررہے ربانی کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہی ہوگا کہ ہم ان کے کام کو آگے بڑھائیں۔ ربانی کے قتل نے امریکہ اور نیٹو فوج کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ربانی کے قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امن عمل جاری رہے گا۔ افغانستان کے سابق صدر ربانی کا قتل کرنے والے حملہ آور کی پہچان عصمت اللہ کی شکل میں کر لی گئی ہے۔ وہ طویل عرصے سے ربانی کو قتل کرنے کے موقعے کی تلاش میں تھا۔ طالبان کے اس فدائی حملے سے ایک بات توصاف ہے کہ اگر امریکہ و نیٹو اتحادیوں کو افغانستان سے باہر نکالنا ہے تو انہیں افغانستان سے سیدھی بات چیت کرنی ہوگی لیکن مشکل یہ بھی ہے کہ طالبان کے اندر کئی گروپ ہیں اور بات کس کے ذریعے سے ہو؟ پھر آئی ایس آئی بھی ہے ان کے اپنے مفاد بھی ہیں ، وہ افغانستان میں ایسی سرکار چاہئیں گے جو پاکستان کی پٹھو بننے کو تیار ہو۔ اوبامہ کا آگے کا راستہ کانٹوں بھرا ہے لیکن پھر بھی امریکہ تو بری طرح سے پھنس گیا ہے۔ اس کے لئے ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔
Afghanistan, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Taliban, Vir Arjun,

چدمبرم حکومت اور پارٹی دونوں کے لئے لائبلٹی بن گئے ہیں



Published On 24th September 2011
انل نریندر
پونے دو لاکھ کروڑ روپے کے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ایک اہم موڑ آگیا ہے۔ اب اس گھوٹالے کے گھیرے میں اس وقت کے وزیر مالیات اور موجودہ وزیر داخلہ پی چدمبرم آگئے ہیں۔ ان پرالزام اپوزیشن یا جانچ ایجنسی سی بی آئی نے نہیں بلکہ موجودہ وزیر پرنب مکھرجی کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ پرنب مکھرجی کی جانب سے25 مارچ2011 کو وزیر اعظم کے دفتر کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ روک سکتے تھے لیکن انہوں نے 30 جنوری 2008 کو اے راجہ سے ملاقات میں انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم کرنیں بیچنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا میں اب اینٹری فیس یا ریوینیو شیرینگ کی شرحوں کو ریوزٹ یعنی جائزہ نہیں لینا چاہتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو اسپیکٹرم کی پہلے آؤ اور پہلے پاؤں کی جگہ مناسب قیمت پر نیلامی کی جاسکتی تھی۔ گیارہ صفحات پر مبنی یہ خط آنے والے وقت میں چدمبرم کے لئے مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ خط آر ٹی آئی کے تحت وویک گرگ نے حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے یہ خط سپریم کورٹ میں جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ کے سامنے دستاویز کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزارت مالیات میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور ڈاکٹر پی جی ایس راؤ نے وزیر اعظم کے دفتر میں جوائنٹ سکریٹری ونی مہاجن کو25 مارچ 2011 کو یہ خط بھیجا تھا۔ اس خط سے صاف ہے کہ پرنب مکھرجی یہ اشارہ دینا چاہ رہے ہیں کہ اگر پی چدمبرم اڑ جاتے تو شاید ٹیلی کام گھوٹالے کے چلتے دیش کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان نہ ہوتا۔ وزارت پی ایم او کو بھیجے ہوئے خط میں کہتی ہے کہ وزارت مالیات 31 دسمبر2008 تک کے لائسنس 2001 کے دام پر بیچنے کے لئے تیار ہوگئی۔
چدمبرم پر سیدھا الزام لگتا ہے کہ اے راجہ جو کچھ کررہے تھے ان کو وزیر داخلہ کی رضامندی حاصل تھی۔ یہ ہی نہیں 30 جنوری2008 کو انہوں نے اے راجہ سے میٹنگ کرکے انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم بیچنے کی اجازت دی۔ اے راجہ بھی شروع سے یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ پی ایم او اور وزارت داخلہ کی منظوری اور علم میں لاکر کیا۔ اب یہ الزام تو کچھ سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے۔ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی جگہ زیادہ قیمت پر اسپیکٹرم کی نیلامی کی جاسکتی تھی لیکن پی چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کمپنیوں کو دئے گئے یو اے ایس لائسنس کی سہولیت 5.1 سرکار کو لائسنس کی شرائط کو کسی بھی وقت بدلنے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ یہ مفاد عامہ میں ہو یا سلامتی کے لئے ضروری ہو لیکن چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وزارت مالیات نے ٹیلی کام سیکٹر میں پیداوار کی تناسب فیس طے کرنے کی بات کی تھی۔ راجہ اس سے متفق نہیں تھے۔ چدمبرم نے اس کی بھی مخالفت نہیں کی۔ وزارت مالیات 4.4 میگا ہارٹس سے اوپر کی اسپیکٹرم کرنوں کو بازار کے بھاؤ بیچنا چاہتی تھی۔ راجہ نے یہ حد 6.2 میگا ہارٹس کردی۔ چدمبرم اسی پر مان گئے لیکن کسی بھی کمپنی کو6.2 میگاہارٹس سے اوپر اسپیکٹرم کرنیں نہیں دی گئیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ سرکار4.4 میگاہارٹس سے اوپر کی نیلامی والے موقف پر قائم رہتی اور کمپنیوں سے نئے داموں پر پیسہ وصولتی لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ یوپی اے کے اندر ایک طرح سے چھڑی خانہ جنگی سے وزیر اعظم کا پریشان ہونا فطری ہی ہے۔ وزیراعظم آج کل امریکہ میں کار فرماں ہیں۔ منموہن سنگھ نے پرنب مکھرجی اور چدمبرم دونوں سے فون پر بات چیت کی ہے۔ جمعرات کی شام وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک بیان جاری کر دونوں لیڈروں سے بات ہونے کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا میں نے وزیر اعظم کو پورے معاملے سے باآور کیا ہے کہ جب تک وہ غیر ملکی دورے سے لوٹتے ہیں میں اس موضوع پر کوئی بیان نہیں دوں گا۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 27 ستمبر کو نیویارک سے بھارت واپس آئیں گے۔ ادھر وزیر خزانہ نے بھی نیویارک سے میڈیا سے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ وزیر مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا کہ چدمبرم پر سوال نہیں کھڑے کئے جاسکتے ہیں۔ وہ سرکار کی حمایت کے حقدار ہیں۔ مرکزی وزیر اطلاعات امبیکا سونی نے بھی سرکار میں دراڑ کے پیدا ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا جو بھی رپورٹیں آرہی ہیں ان میں سچائی نہیں ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ کرنے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ چدمبرم فوراً استعفیٰ دیں یا انہیں برخاست کیا جائے۔ سی پی ایم نے چدمبرم کے کردار کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے کہا کہ چدمبرم ٹو جی کیس میں ملوث ہیں اور یہ صاف ہوچکا ہے۔ نیویارک سے وزیر اعظم نے کہا انہیں چدمبرم پر پورا بھروسہ ہے۔ چوطرفہ پریشانیوں سے گھری یہ یوپی اے حکومت کے لئے وقت دن بدن مشکلوں بھرا ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس مرتبہ سارے الزام ایک سرکاری دستاویز کی بنیاد پر لگ رہے ہیں۔ اس لئے اس سرکار کے لئے اس سے نکلنا آسان نہ ہوگا ۔ رہا سوال پی چدمبرم کا وہ تو اب سرکار اور کانگریس پارٹی کیلئے ایک لائبلٹی بنتے جارہے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Salman Khursheed, UPA, Vir Arjun,

23 ستمبر 2011

اگر آپ 25 روپے روز خرچ کرتے ہیں تو آپ غریب نہیں ہیں



Published On 23rd September 2011
انل نریندر
منگلوار کو بھارت کی پلاننگ کمیشن نے ایک حلف نامہ دائر کیا ہے۔ مجھے اس کو پڑھ کر دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔ پتہ نہیں یہ پلاننگ کمیشن والے کون سی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اگر ان کی سوچ اس طرح کی ہی ہے تو اوپر والا ہی بچائے اس دیش کو۔ حلف نامے میں پلاننگ کمیشن فرماتا ہے کہ غریبی ریکھا سے نیچے (BPL) کا درجہ پانے کے لئے ایک عام شرط یہ ہے کہ ایک پریوار کی کم سے کم انکم 125 روپے روزانہ ہو۔عام طور پر ایک پریوار میں اوسطاً پانچ لوگ مانے جاتے ہیں اس طرح فی شخص کی روزانہ انکم25 روپے ہے۔ غور طلب ہے کہ زیادہ تر سرکاری یوجناؤں کا فائدہ صرف غریبی ریکھا سے نیچے کے لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔ کمیشن نے یہ حلف نامہ عدالت کے کئی بار کہنے کے بعد دائر کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق پردھان منتری دفتر بھی اس حلف نامے پر غور کرچکا ہے۔ حلف نامہ سریش تندولکر سمیتی کی رپورٹ پر منحصر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ غریبی کھانا، تعلیم اور صحت پر فی شخص خرچ کے حقیقی آنکڑے پر زندگی گذارنے پر منحصر ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق گرامین حلقے میں 26 روپے اور شہری حلقے میں 32 روپے کمانے والا اب غریب نہیں مانا جائے گا اور اتنے روپے میں صرف کھانے کا خرچہ نہیں بلکہ کرایہ، کپڑا، صحت، تعلیم،تفریح وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔یعنی مہینے میں شہروں میں965 روپے اور گاؤں میں 781 روپے خرچ کرنے والا سرکار کی نظر میں غریب نہیں ہے۔ سرکار اسے اپنی فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں دے گی۔ ظاہرہے کہ غریبی کے نئے پیمانے کو مضحکہ خیز کہا جارہا ہے لیکن ان سب سے بے فکر عام آدمی کی اس یوپی اے سرکار کے پلاننگ کمیشن کے اس نئے پیمانے پر غریبی ریکھا سے اوپر رہنے والا شہری اناج پر پانچ روپے، سبزیوں پر 1.80 پیسے، دال پر 1 روپیہ اور دودھ پر 2.30 پیسے خرچ کرتا ہے۔ تیل اور رسوئی گیس ملا کر مہینے میں112 روپے خرچ کرنے والا بھی غریب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں پانچ روپے میں آپ 136 گرام چاول یا 166 گرام گیہوں ہی خرید سکتے ہیں۔ 1.80 پیسے میں 180 گرام آلو یا 90 گرام پیاز،90 گرام ٹماٹر یا پھر 180 گرام لوکی خرید سکتے ہیں۔ ایسے ہی 1 روپے میں 20 گرام دال ہی مل پائے گی۔ڈھائی روپے سے کم میں دودھ ملے گا صرف85 ملی لیٹر اور 112 روپے میں آپ ڈیڑھ کلو رسوئی گیس سے زیادہ نہیں خرید سکتے۔ ظاہر ہے اتنے راشن میں ایک وقت کا بھر پیٹ کھانا بھی نہیں ہوسکتا۔
عام آدمی سرکار کے اس آنکڑے سے شاید دکھی ہولیکن حیرانی بالکل نہیں ہوئی، یہ سرکار غریب آدمی سے کتنی کٹ چکی ہے اسی حلف نامے سے پتہ چلتا ہے۔ اقتصادی ماہر پردھان منتری منموہن سنگھ ان کے سپہ سالار مونٹیک سنگھ آہلووالیہ، پرنب مکھرجی، پی چدمبرم جیسے لوگوں سے آپ کیا امید کرسکتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی کھلے بازار میں سبزی ، آٹا، دال ، چاول، تیل، دودھ، دوائی ، ڈاکٹر کی فیس، اسکول کی فیس، میٹرو یا بس کے کرائے کا پتہ کیا ہے،یا تجربہ کیا ہو تو زمینی حقیقت کا پتہ چلے۔ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اپنے کمپیوٹر میں انگریزی زبان میں گوگل پرسرچ کرکے یہ حلف نامہ تیار ہو تو ہوجاتا ہے لیکن زمینی حقیقت سے یہ کوسوں دور ہوتا ہے۔ اتنا دور کے عام آدمی کو غصہ اور دکھ ہوتا ہے۔
Anil Narendra, daily, Inflation, Manmohan Singh, Montek Singh Ahluwalia, P. Chidambaram, Planning Commission, Poverty, Pranab Mukherjee, Vir Arjun,

ونڈے کی گھٹتی مقبولیت کو روکنے کے لئے سچن کا سجھاؤ



Published On 23rd September 2011
انل نریندر
میرا کرکٹ سے تھوڑا من کھٹا ہوگیا ہے۔ٹیم انڈیا کے انگلینڈ دورے نے کم سے کم میرا تو کرکٹ کے تئیں تھوڑا موہ بھنگ ضرور کیا ہے۔ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے ٹیم انڈیا نے انگلینڈ دورے میں مظاہرہ کیا وہ مایوس کن شرمناک تھا۔ ایک بھی میچ میں وہ ٹکر دینے نہیں آئے۔ یہ کھلاڑی صرف پیسوں کے لئے کھیلتے ہیں،دیش کے جھنڈے کے لئے نہیں۔اور پیسہ ان کو اتنا مل گیا ہے کہ ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔ سچ بتاؤں تو میں اب ہاکی یا فٹبال کا میچ دیکھنا زیادہ پسند کررہا ہوں۔ آج کل چمپئن لیگ میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی مقابلہ چل رہا ہے لیکن میرا اسے دیکھنے کا بھی دل نہیں کرتا۔ ورلڈ چمپئن بننے کے صرف پانچ مہینے بعد ٹیم انڈیا کا ایسا حشر ہوگا یہ کسی نے سپنے میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ انگلینڈ دورہ میں مہیندر سنگھ دھونی اور ان کے دھرندروں کا گھمنڈ چکنا چور ہوگیا۔پہنچی توانگلینڈ ورلڈ کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم اور ورلڈ چمپئن کا رتبہ لیکر تھی،جب دورہ ختم ہوا تو بھارت ٹیم ٹیسٹ ریکنگ میں تیسرے اور ونڈے ریکنگ میں پانچویں نمبر پر گرچکی تھی۔یہ ایک ایسا شرمناک مظاہرہ تھا جو گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ وقت میں کسی غیر ملکی دورہ میں سننے میں نہیں آیا ہو۔
بہرحال ہندوستان کے مہان کرکٹر سچن تندولکر نے ون ڈے کرکٹ کی گھٹتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی کو ایک خط لکھ کر کرکٹ کے اس فارمیٹ کی مقبولیت واپس حاصل کرنے کے لئے کئی اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ونڈے کرکٹ کے بادشاہ سچن نے اس سلسلے میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگاڈ کو تجویز پیش کی ہے کہ 25-20 اوور کے میچ کو 25-25 اوورکی پاریوں والے میچ میں تبدیل کردیا جائے۔ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھنے والے ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر پہلے بھی ونڈے میں تبدیلی کی بات اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے ہر پاری میں اووروں کی تعداد گھٹانے کے علاوہ کئی اور تبدیلیاں پیش کی ہیں۔ سچن نے کہا کہ 25 اوور کی پاری کے میچ میں توازن آئے گا اور پہلے ٹاس جیتنے والی ٹیم کا ایڈوانٹیج ختم ہوجائے گا۔ میچ میں پاری میں بلے بازی کرنے والی ٹیم کی جانب سے ہی دو پاور پلے ہونے چاہئیں لیکن اس کے ساتھ چار گیند بازوں کو12-12 اوور پھینکنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ موجودہ قواعد میں ایک گیند باز10 اوور پھینک سکتا ہے۔ سچن کا خیال ہے پچ اور موسم کے حالات میں میدان کردار کے معنی رکھتا ہے اور سکے کے اچھال سے ہی میچ کا کچھ حد تک فیصلہ ہوجاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ برطانیہ میں جلٹ کپ میں دو بٹی ہوئی پاریوں کی تجویز آئی تھی جبکہ آسٹریلیا میں انٹر اسٹیٹ کرکٹ ٹورنامنٹ میں 45 اووروں کے میچ کو 20-20 اوور اور 25-25 اووروں کے میچ میں بانٹا گیا تھا۔ آسٹریلیا کرکٹ کے مطابق یہ فارمیٹ کافی کامیاب رہا تھا۔ بھارت میں سبھی کرکٹ کمنٹیٹر ہیں ۔ آپ سب کی سچن کی تجاویز پر کیا رائے ہے۔ میرے خیال میں تجاویز پر غور کرنا چاہئے۔ ہر تجاویز میں دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایسے بھی کرکٹ پریمی ہوں گے جو سچن کی تجاویز سے متفق نہ ہو۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, IPL, T20, Vir Arjun,

22 ستمبر 2011

رام جیٹھ ملانی کی ’کیش فار ووٹ‘ معاملے میں قلابازی



Published On 22nd September 2011
انل نریندر
نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ میں ملزم امر سنگھ کی پیروی کرتے ہوئے سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی نے کانگریس لیڈر احمد پٹیل کا نام گھسیٹ کر سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس سے پہلے 12 ستمبر کو امر سنگھ کی انترم ضمانت پر بحث کرتے ہوئے جیٹھ ملانی نے پیسے کے ذرائع کا ٹھیکرا بھاجپا کے سر پھوڑنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اسٹنگ آپریشن ان کی اجازت سے کیا گیا اس کا مطلب یہ ہی نکلتا ہے کہ پیسے اسی پارٹی نے دئے ہوں گے۔ عدالت میں جیٹھ ملانی کا کہنا تھا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ کا مقصد اس وقت کی منموہن سنگھ سرکار کو بچانا تھا۔ ایسی حالت میں اشارے ملتے ہیں کہ سرکار کے حق میں ووٹ دینے کے لئے احمد پٹیل نے اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کو مبینہ طور سے لالچ دیا۔ جیٹھ ملانی نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں اس ثبوت کی بنیاد پر احمد پٹیل کو قصوروار ٹھہرایا جائے لیکن جب آپ اپنی پارٹی کے مفاد کے لئے ممبران کو متاثر کررہے ہیں تو رشوت دینے والے ہی کہلائیں گے۔ ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران پہلے رام جیٹھ ملانی کانگریس لیڈر احمد پٹیل کا نام دیا تو دوپہر بعد دوسرے وکیل این ہری ہرن نے سماج وادی پارٹی ایم پی ریوتی رمن سنگھ کا نام لے لیا۔ انہوں نے کہا کیش فار ووٹ کانڈ میں امر سنگھ سے زیادہ ثبوت ریوتی رمن سنگھ کے خلاف موجود ہیں۔ باوجود جانچ ایجنسی نے نہ تو انہیں ملزم بنایا ہے اور نہ ہی معاملے میں گواہوں کی فہرست میں ان کا ذکر کیا ہے۔ چارج شیٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 22 جولائی 2008 کو ریوتی رمن سنگھ نے سہیل کو بتایا کہ امرسنگھ اپنے گھر پر بھاجپا ممبران کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے بعد سہیل بھاجپا ممبران اشوک ارگل اور چھگن سنگھ کلستے کو لیکر امرسنگھ کے گھر گیا تھا۔ جب چارج شیٹ میں ان باتوں کا ذکر ہونے کے بعد انہیں نہ تو ملزم بنایا گیا ہے اور نہ گواہ۔ جس پر سرکاری وکیل راجیو موہن نے عدالت کو بتایا کہ ریوتی رمن سنگھ کو صرف اشوک ارگل کے گھر جاتے دیکھا گیا تھا۔ کوئی بات چیت کی ریکارڈنگ نہیں ہے لہٰذا انہیں محض اس بنیاد پر ملزم نہیں بنایا جاسکتا۔ رام جیٹھ ملانی نے اسپیشل جج سنگیتا ڈھینگرا سہگل کے سامنے یہ بھی کہا کہ رشوت لین دین کی جگہ امرسنگھ کا گھر نہیں تھا بلکہ لی میریڈین ہوٹل تھا۔
شری پٹیل کا نام آنے پر کانگریس میں ہلچل کا مچنا فطری ہی تھا لیکن احمد پٹیل نے جہاں جیٹھ ملانی کی دلیلوں پر اسے بے بنیاد اور دھوکہ بتایا اور کہا کہ میں نے اس بارے میں پہلے ہی وضاحت کردی ہے۔ وہیں کانگریس پارٹی کا تبصرہ چونکانے والا ضرور تھا۔ پارٹی نے سارے تنازعے کو بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کی جانب موڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ بوفورس توپ سودے میں سورگیہ راجیو گاندھی کی لٹیا ڈوبانے میں اہم کردار نبھانے والے فلم اداکار امیتابھ بچن ایک بار پھر وہی کہانی دوہرا رہے ہیں اور نشانے پر سورگیہ راجیو گاندھی کی اہلیہ و کانگریس صدر سونیا گاندھی ہیں۔ انہی کو بدنام کرنے کی ایک بار پھر سازش رچی جارہی ہے۔ کانگریس کی ترجمان رینوکا چودھری نے اشاروں میں کہا امیتابھ بچن ، امر سنگھ سے مل کر لوٹے ہیں تبھی سے ان کا (جیٹھ ملانی ) اور امر سنگھ کا موقف بدلا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کا یہ کہہ کر ڈپلومیٹک جواب دیا کہ ’پران جائے پر بچن نہ جائے‘ غور طلب ہے اس وقت امیتابھ بچن گجرات کے برانڈ امبیسڈر ہیں اور وزیراعلی مودی کے قریبی ہیں۔ دو دن پہلے ہی امیتابھ ایمس جاکر امر سنگھ سے ملے تھے۔ قریب دو گھنٹے کی بات چیت کا کانگریس کے حکمت عملی ساز یہ ہی مطلب نکال رہے ہیں کہ بھاجپا کے نمائندے کی شکل میں انہوں نے کام کیا ہے۔ اور اسی ملاقات کے فوراً بعد امر سنگھ کے وکیل نے قلابازی مارتے ہوئے احمد پٹیل کا نام لے ڈالا۔ حالانکہ سیدھے طور پر رینوکا نے یہ ہی کہا کہ ابھی اس معاملے کی اور بھی پرتیں کھلنا باقی ہیں۔ یہ تو صرف ایک ہی قسط ہے آگے دیکھتے جائیے کہ کیا ہوگا۔ بیچارے امیتابھ بچن نہ تین میں نہ تیرا میں۔ اگر وہ امر سنگھ سے نہیں ملنے جاتے تو جیہ پردہ کھلے عام للکارتی ہیں اور دیکھنے جاتے ہیں تو کانگریس انہیں ساری سازش کے پیچھے شاطر دماغ بتا دیتی ہے جبکہ امر سنگھ اور امیتابھ کی بات چیت میں کہیں ’کیش فار ووٹ‘ کیس کا ذکر تک نہیں ہوا ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Amar Singh, Ram Jethmalani, Cash for Vote Scam, Congress, BJP, Amitabh Bachchan,

بھگوڑا سوامی اگنی ویش کب تک بھاگے گا؟



Published On 22nd September 2011
انل نریندر
پیر کے روز ہانسی(حصار) کی سب ڈویژنل ڈنڈ ادھیکاری اشونی کمار مہتہ کی عدالت میں سوامی اگنی ویش کو پیش ہونا تھا۔ پچھلی سماعت میں بھی اگنی ویش حاضر نہیں ہوئے۔ پولیس نے رپورٹ میں بتایا کہ سوامی اگنی ویش تریویندرم گئے ہوئے ہیں اس لئے انہیں پکڑا نہیں جاسکا۔ ڈی ایس پی جے پرکاش نے دلیل دی کہ وہ نئی تقرری پر ہانسی آئے ہیں اس لئے انہیں معاملے کی زیادہ جانکاری نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو کام نہیں آتا تو کیوں نہ آپ کے ایس پی کو اس بارے میں لکھا جائے۔اسی درمیان ڈی ایس پی نے کہا کہ سوامی اگنی ویش کو بھگوڑا قراردے دیا جائے۔ اس پر عدالت نے اگنی ویش کو بھگوڑا قراردینے کی کارروائی شروع کرتے ہوئے 30 ستمبر کی تاریخ طے کردی ہے۔ اسی درمیان سوامی اگنی ویش کے وکیل سریندر گوپال نے کہا ہے کہ وہ انترم ضمانت کے لئے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ پیر کو سوامی اگنی ویش کو گرفتار کرکے یہاں ڈویژنل عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ امرناتھ یاترا پر اعتراض آمیز رائے زنی کرکے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں اگنی ویش کے خلاف ہریانہ میں ہانسی سٹی تھانہ میں یہ معاملہ درج کیا گیا تھا۔
سوامی اگنی ویش کے ستارے لگتا ہے گردش میں چل رہے ہیں۔ انا ہزارے کی تحریک میں انہیں وشواس گھات کرنے کا الزام کھلے عام لگا،سرکاری ایجنٹ تک انہیں قرار دے دیا گیا۔اب ایک اور معاملے میں سوامی شبہ کے دائرے میں آگئے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے کثیر نکسلی متاثرہ بستر عمل میں قائم ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت دیگر بڑی صنعت گروپ بھی شبہ کے دائرے میں آچکے ہیں۔ ایسارکمپنی کے ذریعے نکسلیوں کو چندہ دینے کے معاملے میں انکشاف کے بعد دیگر صنعتوں پر بھی سخت نظر رکھی جارہی ہے۔ اس معاملے میں اگنی ویش پر نکسلیوں کی طرف سے ثالثی کا کردار نبھانے اور صنعتوں سے مل کر رقم کے لین دین کے الزام بھی لگ رہے ہیں۔ دراصل ایسار کمپنی انتظامیہ کی جانب سے نکسلیوں کو چندہ پہنچانے جاتے ہوئے گرفتار کئے گئے لنگارام کو سوامی اگنی ویش سے تعلقات ہونے کی جانکاری سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ سوامی اگنی ویش نے ہی کچھ وقت پہلے ملزم لنگارام کو بستر میں پولیس کی زیادتی کا شکار بتاتے ہوئے دہلی کے میڈیا کے سامنے پیش کردیا تھا۔ سوامی نے دعوی کیا تھا کہ پولیس بے گناہ قبائلیوں کو نکسلی یا ان کا حمایتی بتا کر اذیتیں دے رہی ہے۔ لنگا رام کوڈوپی بھی ایسے ہی آدی واسیوں میں سے ایک ہیں۔ ادھر ایسار مینجمنٹ سے چندے کی رقم لے کر نکسلیوں کو پہنچانے جارہے لنگام رام پولیس کے ذریعے پکڑے گئے ہیں ، ملزم لنگارام کے ذریعے نکسلیوں سے تعلق قبولنے کے بعد سچائی بھی سامنے آگئی ہے۔ نکسلیوں سے رشتوں کے تار جڑنے پر اب سوامی اگنی ویش بھی کٹہرے میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Swami Agnivesh, Vir Arjun,

21 ستمبر 2011

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تیسری برسی


Published On 21th September 2011
انل نریندر
تین سال پہلے 19 ستمبر کا وہ دن جب ساؤتھ دہلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں ایک مکان میں روپوش آتنکیوں کے بارے میں خبر کے بعد دہلی پولیس کے تیز طرار انسپکٹر موہن چند شرما نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خطرناک آتنکیوں سے لوہا لیا اور وہ اس کارروائی میں شہید ہوگئے تھے۔ دوسری طرف کچھ کٹر پسند نیتا اور کچھ سیاستداں اس واقعے پر سیاست سے باز نہیں آتے۔ اسے فرضی انکاؤنٹر کہہ کر ہر سال بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو یاد کیا جاتا ہے۔ بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کی تیسری برسی پر پیر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مڈ بھیڑ کی سی بی آئی انکوائری کرائی جائے۔اس مظاہرے میں اعظم گڑھ سے اسپیشل ٹرین میں آئے راشٹریہ علما کونسل کے ممبروں نے حصہ لیا۔ کونسل نے کہا آتنک واد کے نام پر اعظم گڑھ کو بدنام کیا گیا اور کیا جارہا ہے ،جو بند ہونا چاہئے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ علماؤں نے ہزاروں حمایتیوں کے درمیان کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ پر بھی خاص نشانہ لگایا۔ دگوجے سنگھ نے کچھ مہینے پہلے اعظم گڑھ ضلع کے سنجر پور گاؤں کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ پر سوال اٹھائے تھے۔ قابل غور ہے کہ19 ستمبر 2008 ء کو ہوئی مڈ بھیڑ میں مارے گئے دو مشتبہ لڑکوں عتیق امین اور محمد ساجد کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ علما کونسل کے قومی چیئرمین مولانا ذاکررشید مدنی نے کہا کہ یہ کتنی عجب بات ہے کہ دگوجے سنگھ سنجر پور جاکر اس مڈ بھیڑ پر سوال کھڑے کرتے ہیں لیکن دہلی میں ان کی سرکار ہے جو اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ نہیں کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا دگوجے سنگھ نے مجھ سے خود کہا تھا کہ انہوں نے اس مڈ بھیڑ کے فرضی ہونے کی بات کانگریس صدر سونیا گاندھی، وزیر اعظم منموہن سنگھ سے کہی تھی لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔ مجھے لگتا ہے دگوجے سنگھ صرف نوٹنکی کرتے ہیں، انہیں مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل لوگوں نے سونیا، منموہن سنگھ اور راہل گاندھی کے خلاف بھی جم کر نعرے بازی کی۔ حالانکہ لوگوں کے نشانے پر سب سے زیادہ دگوجے سنگھ رہے۔
جنتر منتر میں علماؤں کا مظاہرہ ہو رہا تھا تو دہلی کے دوسرے کونے میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں شہید ہوئے دہلی پولیس کے افسر موہن چند شرما کے گھر پر ان کا کنبہ انہیں اکیلا ہی یاد کررہا تھا۔ ان کے خاندان نے کسی سے بھی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے میڈیا سے بھی دور رہنا ٹھیک سمجھا۔ ان کے گھر پر پولیس ملازمین کا پہرہ تھا۔ ان کے گھر میں گئے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ان کے ماتا پتا کے سامنے آج بھی 2008 کا منظر آتا ہے تو ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ یہ ہمارے دیش کی بدقسمتی ہی ہے کہ اس مڈ بھیڑ کو محض ووٹوں کی خاطر فرضی قراردیا جارہا ہے اور اس پر سیاست ہورہی ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے کئی عدالتوں نے اسے صحیح کارروائی قراردیا ہے لیکن اس کے باوجود اس پر سیاست جاری ہے۔ ان سیاستدانوں اور مذہبی لیڈروں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے ہماری سکیورٹی فورسز پر کیا اثر پڑے گا؟ انسپکٹر موہن چند شرما کی شہادت کے بعد جس طرح نیتاؤں نے منفی سیاست کے چلتے اس انکاؤنٹر پر شبہ کیا اور آتنکیوں کی سرپرستی کی زبان بولی اور جانباز انسپکٹر کی شہادت کو شبے کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، اس سے یقینی طور پر دہلی پولیس کے جانباز جوانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری دیش کی فورسز کا حوصلہ ٹوٹا ہوگا۔ اس کا منفی اثر یہ ضرور ہوا کہ پولیس اور دیگر فورسز کے جوان اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں کہ آتنک کے خلاف چپ بیٹھنا اور سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنا ان کا پہلا فرض ہے آتنکیوں کو پکڑنا نہیں۔ نتیجے کے طور پراب راجدھانی دہلی میں کوئی بھی بم دھماکہ ہو اس میں پولیس کے ہاتھ خالی تھے اور خالی ہیں۔ اور ہوں بھی کیوں نہ اگر وہ اپنی جانبازی سے آتنکی کو پکڑ بھی لیں تو سرکار مقدمے میں لگ جائے گی اور پھانسی کی سزا ہوگی تو اسے لیٹ کرایا جائے گا اور آتنکیوں کو سرکاری مہمان بنا کر ان کی خاطر داری میں لگی ہوگی۔ بہرحال بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تیسری برسی پر دہلی پولیس کے جانباز انسپکٹر چندر موہن شرما کو تمام دیش واسیوں کی طرف سے شت شت نمن:
آج ان کی سمادھی پر ایک دیا بھی نہیں۔ جن کے چراغوں سے جلا کرتے تھے اہل وطن
دئے جلتے ہیں ان کی قبر پر، جو بیچا کرتے ہیں شہیدوں کا کفن
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, delhi Police, Digvijay Singh, Manmohan Singh, Terrorist, Vir Arjun

مودی کے سدبھاونا مشن پر ’’ٹوپی‘‘ پہنانے کی کوشش



Published On 21th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا تین روزہ انشن پیر کو ختم ہوگیا۔ گجرات یونیورسٹی کے کنونشن ہال میں تین دنوں کے لئے سدبھاونا برت پر بیٹھے مودی نے پیر کی شام 6:15 بجے دھرم گوروؤں کے ہاتھوں لیموں پانی پی کر انشن ختم کردیا۔ نریندر مودی کے اپواس کو جس طرح سے پارٹی کے اندر سے لیکر پورے دیش میں حمایت ملی ہے اس سے صاف ہے کہ لال کرشن اڈوانی کے بعد وہ بھاجپا کے سب سے بڑے لیڈربن کر ابھرے ہیں۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے مودی اب بھاجپا کی جانب سے اگلے وزیر اعظم بننے کے سب سے قد آور نیتا بن گئے ہیں اور شری مودی نے اپنی خواہش بھی نہیں چھپائی۔ وزیراعظم بننے کی خواہش کھل کر ظاہر کئے بغیر مودی نے سنیچر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک نیا نعرہ دیا ۔’’سب کا ساتھ ۔سب کا وکاس‘‘ اگلے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی پرچار کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اپنا اپواس توڑنے کے ساتھ ہی نریندر مودی نے گجرات میں چناؤ سے ایک سال پہلے ہی اپنی مہم کا رتھ شروع کردیا ہے۔ تین دن کے اپواس کے بعد گجرات کے سبھی 26 ضلعوں میں باری باری سے سارا دن اپواس پر بیٹھنے کے پلان کے ساتھ نریندر مودی نے اب بڑے مشن کا بھی شری گنیش کردیا ہے۔منفی سیاست کے مقابلے ترقی کے مورچے پر خوشحالی رپورٹ کارڈ کی بدولت آگے بڑھنے کے ایجنڈے کو بھی مودی نے دیش کے سامنے رکھ دیا۔ اتنا ہی نہیں اپواس کے تینوں دنوں میں وزیر اعظم کے عہدے پر اپنی دعویداری کی ہوا بنا کر گجراتیوں کے وقار کی شکل میں بھی خود کو ابھارا ہے۔ ساتھ ہی سدبھاونا مشن کے سہارے ایک پاؤں مسلموں کی طرف بڑھایا لیکن کہیں بھی اپنی بنیادی طاقت ہندوتو کی زمین نہیں چھوٹنے دی۔ احمد آباد شہر کے پاس واقع پیرانا گاؤں میں ایک چھوٹی سی درگاہ کے شاہی امام مولانا سید نے ایتوار کو مودی کے اپواس کی جگہ اسٹیج پر جاکر ان سے ملاقات کی تھی۔ مولانا نے مودی کو ایک ٹوپی پہننے کی پیشکش کی لیکن وزیر اعلی نے بڑی معذوری سے ٹوپی پہننے سے منع کردیا اور اس کے بجائے شال اڑھانے کو کہا۔ امام نے مودی کو شال اڑھایا جسے انہوں نے منظور کرلیا۔ نریندر مودی نے بغیر کسی پر الزام لگائے اور حملے کئے اور خود پر لگنے والے فرقہ وارانہ الزامات کا جواب گجرات میں ترقی اور امن کے ریکارڈ کے ساتھ دیا۔ مودی نے صاف کہا کہ لیڈر شپ کی کسوٹی ایکشن پر منحصر کرتی ہے۔ آج ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ یہ راستہ ہے سب کو جوڑ کر، سب کو ساتھ لیکرچلنے کا۔ جب تک ووٹ بینک کی سیاست سے اٹھ کر ترقی کی سیاست نہیں اپناتے تب تک بھارت اوپر نہیں اٹھ پائے گا۔ اسی کڑی میں گجرات کے وزیر اعلی نے ہی سچر کمیٹی کے ساتھ کچھ سال پہلے ہوئی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری سرکار اقلیتوں یا اکثریتوں کے لئے کچھ نہیں کرتی میری سرکار چھ کروڑ گجراتیوں کے لئے کام کرتی ہے۔ میں ہر چیز کو اکثریتی یا اقلیتی میں نہیں تولتا۔ میرے ساتھ میری ریاست کے شہری سبھی ایک ہیں۔
مودی کے اپواس ختم ہونے کے دن پیر کے روز بھاجپا نے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اب کانگریس کی باری ہے۔ مودی کے اپواس کے خلاف گاندھی آشرم کے سامنے جوابی انشن پر بیٹھے کانگریس لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے منگل کی صبح اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ کانگریس کے مرکزی عہدیدار کی شکل میں گجرات کانگریس کے انچارج موہن پرکاش نے مودی سرکار پر جم کر حملہ بولا۔ گجرات سرکار پر برستے ہوئے موہن پرکاش نے کہا کہ 100 کروڑ روپے قرض لیکر نریندر مودی کونسی سدبھاونا دکھانا چاہتے ہیں۔ موہن پرکاش نے کہا مودی سرکار بدعنوانی میں انتہا تک ڈوبی ہوئی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں گجرات سرکار کا کرپشن پوری طرح اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس مودی سرکار کے بھرشٹاچار کو اجاگر کرنے کیلئے جنتا کی عدالت میں جائے گی۔ واگھیلا نے کہا اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دیکر اپواس نہیں کیا جاتا۔ مودی کا اپواس محض ایک دکھاوا ہے اور ایک سیاسی تکڑم بازی ہے۔ واگھیلا الزام لگایا کہ مودی نے پہلے 72 گھنٹے کے اپواس کا اعلان کیا تھا لیکن 55 گھنٹوں میں ہی انہوں نے انشن توڑدیا۔ کل ملاکر دیکھا جائے تو نریندر مودی کا یہ سیاسی انشن ویسے تو کامیاب رہا۔ جہاں تک اس کے ہندوستانی سیاست میں اثر کا سوال ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Anil Narendra, BJP, CAG, Congress, Corruption, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Vir Arjun

20 ستمبر 2011

اتراکھنڈ کے نئے وزیر اعلیکتنے کامیاب ہوں گے؟



Published On 20th September 2011
انل نریندر
بدعنوانی کے الزامات سے گھری رمیش پوکھریال نشنک حکومت کو بدلنا بھاجپا ہائی کمان کی مجبوری ہوگئی تھی۔ قریب سوا دو سال بعد ایک مرتبہ جنرل بھون چندر کھنڈوری نے اتراکھنڈ کی کمان سنبھال لی ہے۔ چھوٹی سی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں سیاست کی لڑائی اور سیاسی اتھل پتھل میں اپنے حریفوں کو چت کرتے ہوئے کھنڈوری ریاست میں سب سے طاقتور لیڈر کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعلی کی دوسری پاری سے بھاجپا ہائی کمان کو بہت سی امیدیں ہیں۔ پہلی پاری میں اپنی وزارتی ساتھی رمیش پوکھریال نشنک کو وزیراعلی بنوانے اوراب انہیں ہٹواکر وزیر اعلی بننے کے لئے ہائی کمان پر دباؤ بنانے میں کامیاب ہوئے کھنڈوری کی سیاسی صلاحیتوں کو دونوں پارٹی کے اندر اور باہر سبھی مانتے ہیں۔ کوئی پانچ ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں جس معجزے کی پارٹی ان سے امید لگائے ہوئے ہیں اس کے پیش نظر جنرل صاحب کے لئے یہ ذمہ داری سخت اگنی پریکشا ثابت ہوگی۔ دیش میں کرپشن مخالف سماں بھلے ہی کانگریس مخالف لگ رہا ہو لیکن اتراکھنڈ سے ملے اشاروں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ فوج سے ریٹائر ہوئے میجر جنرل بھون چندر کھنڈوری کے سامنے سب سے بڑی چنوتی اپنی صاف ستھری ساکھ اور انتظامی صلاحیت کا صحیح استعمال کرنے کی ہوگی۔ کھنڈوری اکھڑ پسند سیاستداں ہیں۔ اور یہ اکڑ انہیں فوجی ڈسپلن سے ملی ہے۔888 دن پہلے جب وہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی کے عہدے سے معزول ہوئے تھے تب ان پر الزام تھا کہ ان کی اکڑ کے سبب ان کا عوام سے تعلق اچھا نہیں رہا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ 2009 کے لوک سبھا چناؤمیں اتراکھنڈ پر راج کرنے والی بی جے پی کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی اور اس کے بعد ان پر گاج گرنا طے تھا۔ اس لئے ان کی چھٹی کردی گئی۔ فوج سے لیکر سیاست تک کھنڈوری نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں لیکن وہ کبھی ہارے نہیں۔ اس مرتبہ بھی وہ کامیاب ہوکر اقتدار کی اونچائیوں پر پہنچے ہیں۔ ان کے برتاؤ میں سیاست کی چالبازی نہیں ہے۔ وہ وقت کے حساب سے پروگرام میں یقین رکھتے ہیں اور ان کا مزاج کڑک ہے لیکن ان کے قریبی کہتے ہیں ان کی شخصیت ناریل کی طرح ہے ۔وہ ابن الوقت سیاستدانوں کو گردانتے نہیں۔سیاست میں بھی وہ اپنے اس رویئے سے باز نہیں آتے۔ بھلے ہی اس کے کئی فائدے یا نقصان ہوں۔ واجپئی سرکار میں وہ کامیاب وزیر ثابت ہوئے انہوں نے سورگیہ چتربھج سڑک پروجیکٹ کو بنوایا ۔ محکمہ ان کا کاجل کی کوٹھری والا تھا باوجود اس کے وہ اس کی سیاہی سے بچتے رہے۔ واجپئی نے ان کے کام سے خوش ہوکر 2003ء میں انہیں وزیر بنا دیا تھا۔
شری کھنڈوری کے لئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہوگی کہ وہ اتنے کم وقت میں ایسا کیا کریں کہ حکمراں مخالف لہر کا رخ موڑ سکیں اور پنپ رہی ناراضگی کو دور کرکے پارٹی کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کرپائیں۔جن کھنڈوری کو ریاست میں لوک سبھا چناؤ کی ہار کیلئے ذمہ دار مان کر ہٹا دیا گیا تھا اب سوا دو سال بعد ایسا کیا ہوا کہ پارٹی کو76 سالہ سابق وزیر اعلی پر چار پانچ مہینے پہلے ہی بازی پلٹ دینے کا بھروسہ ہوگیا؟ خیال کیا جاتا ہے کرپشن جیسے موجودہ وقت میں اہم مسئلے پر پارٹی ان کی ساکھ کو بھنانا چاہے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کھنڈوری کی قیادت میں اتراکھنڈ میں ہونے والے چناؤ میں پارٹی کو کرپشن کو چناوی اشو بنانے میں جو سہولیت ہوگی وہ بدعنوانی کے الزامات سے گھرے نشنک کی قیادت میں چناؤلڑنے میں شاید نہ ہوتی۔ اعلی کمان کی امیدوں کے مطابق نئے وزیر اعلی نے کرپشن کے مسئلے کو ترجیح دینے کے اشارے اپنی پہلی کیبنٹ کی میٹنگ میں دے دئے تھے۔ انہوں نے اپنی کیبنٹ کے سبھی ساتھیوں اور انڈین پولیس سروس کے سبھی افسران سمیت دیگر کچھ افسران کو15 اکتوبر تک اپنی پراپرٹی کے بارے میں تفصیلات سرکار کے پاس جمع کرانے کے احکامات دئے ہیں۔آج بھاجپا کی اتراکھنڈ یونٹ میں زبردست ناراضگی ہے۔ تقریباً بغاوت کی صورتحال ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ شری کھنڈوری ایک طرف تو اپنی پارٹی کو کتناساتھ لے کر چلتے ہیں وہیں دوسری طرف اتراکھنڈ کے انتظامی و قانونی نظام کو چست درست کرنے کے لئے سخت قدم اٹھانے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔ نشنک کے دور میں اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اپنے آپ کو منظم کیا ہے اور انہیں لگ رہا ہے کہ آنے والے اسمبلی چناؤ میں ان کی پارٹی بازی مار لے گی۔ دیکھنا اب یہ ہوگا کہ بھاجپا کا اتراکھنڈ میں صرف چہرہ بدلنے سے کام ہوجائے گا یا نہیں؟
Anil Narendra, BC Khanduri, BJP, Corruption, Daily Pratap, Nishank, Uttara Khand, Vir Arjun

سلیم شہزاد کا قتل جنرل کیانی کے اشارے پر ہوا؟


Published On 20th September 2011
انل نریندر
امریکہ کی مقبول اور تفتیشی میگزین ’’نیویارکر‘‘نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اشارے پر وہاں کے تفتیشی صحافی سلیم شہزاد کا قتل ہوا تھا۔جریدے کے تازہ شمارے میں شہزاد کی موت کے بارے میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی کے اسٹاف کے ایک بڑے افسر نے اپنے آقا کے اشارے پر اس صحافی کو مارنے کا حکم دیا۔میگزین نے امریکہ کے خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی شہزاد کی شائع رپورٹوں سے ناراض تھیں۔جریدے کے مطابق فوج اور آئی ایس آئی کا غصہ اس وقت ساتویں آسمان پر چڑھ گیا جب شہزاد نے ایشیا ٹائمز میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا کہ کراچی کے مہران بحری اڈے پر گذشتہ22 مئی کو آتنک وادی حملے بحریہ اور القاعدہ کے درمیان سانٹھ گانٹھ کا نتیجہ تھا۔ اس میں فوج کے انتہائی جدید جاسوسی جہازوں کو تباہ کردیا گیا تھا۔نیویارکر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شہزاد کو 29 مئی کو اغوا کیا۔ ابتدا میں اغوا کاروں کو اس صحافی کو سبق سکھانے کیلئے ہدایت دی گئی تھی لیکن بعد میں اسی وقت اوپر سے فرمان آیا کہ شہزاد کو موت کی نیند سلا دو۔ شہزاد کی لاش صوبہ پنجاب میں ایک نہر کے کنارے پڑی پائی گئی تھی جس پر شدید اذیتوں کو نشان تھے۔جریدے میں یہ بھی قیاس آرائی کی گئی ہے پاکستانی فوج کو یہ شبہ تھا کہ شہزاد اپنی تفتیشی صحافت کے سلسلے میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 اور بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کے رابطے میں تھا ۔
پولٹ زر انعام یافتہ صحافی ڈیکسٹر فلکنس نے اپنے مضمون میں کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے لکھا ہے کہ الیاسی کشمیری کا قتل شہزاد کے قتل کے بعد ہوا تھا۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آئی ایس آئی نے شہزاد کو ٹارچر کیا اور الیاس کا پتہ بتانے کے لئے مجبور کیا گیا۔ شہزاد سے ملی جانکاری اس نے امریکہ کو دے دی۔ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ شہزاد کے فون سے پتہ چلا کہ اس نے ایک مہینے کے وقفے میں الیاس کشمیری سے 258 بار بات کی تھی۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ شہزاد آئی ایس آئی کے راڈار پر مہینوں سے تھا۔ آئی ایس آئی نے اس پر اس بات کا دباؤ بھی بنایا تھا کہ ان کا تعلق طالبان لیڈروں سے قائم کرائے۔ شہزاد نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ مضمون میں آگے بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال شہزاد نئی دہلی کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے آیا تھا۔ اس وقت ہندوستانی خفیہ ایجنسی نے اسے RAW میں شامل ہونے کی تجویز رکھی تھی لیکن شہزاد اس کے لئے تیار نہیں ہوا تھا۔ اس قصے سے پتہ چلتا کہ آج کی تاریخ میں پاکستانی صحافی کتنے خوفناک ماحول میں اپنا کام کررہے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General Kayani, ISI, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...