21 ستمبر 2019

8 شہیدجوانوں کے کنبوں کو ایک ایک کروڑ روپئے

بہادری سے اپنی سیوا کے دوران شہید ہوئے دہلی پولس کے آٹھ جوانوں کے کنبوں کو دہلی حکومت ایک ایک کروڑروپئے کی اعزازی مدد دئے گی اس اعلان کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔بے شک حکومت ان شہیدوں کے کنبوں کو کئی طرح سے مدد دیتی ہے لیکن ایک ایک کروڑروپئے کی رقم کافی بڑی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو اس سے کافی مدد ہوگی یہ فیصلہ دہلی سچیوالیہ میں منگل کے روز نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی سربراہی میں ہوئی وزراءکی میٹنگ میں لیا گیا ۔اس میٹنگ کے بعد وزیر شہر ترقی ستیندر جین اور وزیر محصول کیلاش گہلوت موجود تھے جن آٹھ پولس ملازمین کے خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپئے کی اعزازی رقم دینے کی منظوری دی گئی ان میں اے ایس آئی وجے سنگھ،اے ایس آئی جتیندر سنگھ،اے ایس آئی مہاویر سنگھ،ہیڈ کانسٹبل گلزاری لال،دوسرے ہیڈ کانسٹبل راج پال سنگھ کسانا ،ایس آئی خزان سنگھ ،اے ایس آئی سابق (دھرم ویر سنگھ)کانسٹبل امرپال کا کنبہ شامل ہے ۔نائب وزیر اعلیٰ سسودیا نے میٹنگ میں حکام کو ہدایت دی کہ ان غم زدہ کنبوں کو فوراََ یہ رقم دی جائے دیش کی سیوا کرتے ہوئے جان نچھوار کرنے والوں کی قربانی کا کوئی مول نہیں ہوتا ۔یہ بات وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کہی انہوںنے ٹوئٹ میں لکھا کہ دہلی سرکار ہر اُس شہید جوان کے پریوار کو ایک کروڑ کی اعزازی رقم دیتی ہے جو دیش کی سیوا میں خود کو وقف کر دیتا ہے ۔قربانی کا کوئی مول نہیں لیکن سرکار ان کے خاندان کی ذمہ داری تو لے سکتی ہے ۔شہید پولس جوانوں کی بہادری ایک مثال ہے جب اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے ڈیوٹی کو ہر قیمت پر نبھائی ۔کوئی موٹر سایکل سوار بد معاشوں کو روکنے پر گولی کا شکار ہوا تو کوئی ٹریفک قانون توڑ رہے ٹیمپو ڈرائیور کو روکنے کی کوشش میں گاڑی کے نیچے آگیا ایسا ہی اے ایس آئی شراب پی کر گاڑی چلانے والوں جانچ کرتے ہوئے ڈرائیور کے بیری گیڈ توڑتے ہوئے اے ایس آئی کو زد میں لے لیا ۔جس سے سنگین زخمی ہو گئے اور ان کی جان چلی گئی ۔ہر شہید کی دردناک کہانی ہے ۔پیسے کی اپنی اہمیت ہوتی ہے لیکن بہادری کا اعزاز کرنا الگ بات ہے دہلی سرکار کے اس قدم سے دہلی پولس کی تمام فورس کا حوصلہ بڑھے گا ہم دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کے اس فیصلے کا خیر مقدم اور تعریف کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

کیاسعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ایران کا ہاتھ ہے؟

سعودی عرب کی تیل کمپنی ارامکو کی کی اب کیک میں واقع آئل پروسیسنگ فیصیلٹی اور خوریش میں واقع بڑی تیل فیلڈ کو سنیچر کے روز ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا ۔ان کی ذمہ داری ایران نواز یمن کے حوثی باغیوں نے لی ہے ۔حالانکہ امریکہ اس کے لئے سیدھے ایران کو ذمہ دار مان رہا ہے ۔سیٹیے لائٹ سے ملی تصاویر کے بنیاد پر امریکہ کا کہنا ہے کہ حملے جس سمت سے ہوئے وہ یمن نہیں بلکہ ایران کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حملے یمن کی طرف سے ہوئے حملے کی ذد میں پروسیسنگ پلانٹ کا نارتھ مغربی حصہ آیا ہے ۔یمن سے اس طرف حملہ کرنا مشکل ہے اس سمت میں حملہ ایران یا عراق کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔افسر نے یہ دلیل دی کہ حملے میں کل 19جگہوں کو نشانہ بنایا گیا باغیوں نے دس ڈرون کاا ستعمال کرنے کا دعوی کیا ہے ۔لیکن صرف دس ڈرون سے اس طرح 19تنصیبات کونشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔نیویارک ٹائمس نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ ممکہ طور پر ڈرون اور کروز میزائلوں کی مدد سے حملے کئے گئے حالانکہ کچھ میزائلیں نشانوں سے چوک گئیں ۔حملے کی جانچ میں لگی اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی الملکی نے بتایا کہ جانچ کے ابتدائی نتیجے بتاتے ہیں کہ حملے میں ایران کے ہتھیار استعمال ہوئے ہیں ۔اسی وجہ سے حملہ یمن سے نہیں ہوا جیسا کہ حوثی باغی دعوی کر رہے ہیں ۔واضح ہو کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں اور حملوں کی وارنگ دیتے ہوئے غیر ملکیوں سے کہا ہے کہ وہاں سے دور رہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی تیل سپلائی پر حملہ کیا گیا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ ملزم کون ہے ؟بس اس کی تصدیق کا انتظار ہے ہم سعودی عرب کی طرف سے یہ سننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ حملے کے لئے کسے ذمہ دار مانتے ہیں ہمیں اس معاملے میں کس طرح سے قدم بڑھانا ہے ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرائم کے نام کی تصدیق ہوتے ہی اس پر کارروائی کی جائے گی ۔انہوںنے اپنے ٹوئٹ میں سیدھے طور پر ایران کا نام نہیں لیا ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹ کیا کہ زیادہ دباﺅ کے بعد بھی ایران کو جھکانے کے باوجود ایران نہیں جھک سکا امریکہ اب جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے ۔امریکہ اور اس کے ساتھی یمن میں اس خواب کے ساتھ بنے ہوئے ہیں کہ ہتھیاروں کے دم پر جیت مل جائے گی ۔ایسے میں ایران کو ذمہ دار ٹھہرانے سے بحران ختم نہیں ہو جائے ہمارا خیال ہے کہ اس طرح سے بحران بڑھے گا امید کی جاتی ہے کہ مشرق اوسطا میں جنگ نہیں چھڑ جائے گی ۔

(انل نریندر)

20 ستمبر 2019

نوٹ بندی جی ایس ٹی کے اثر سے بیٹھ گئی معیشت!

معیشت کو لے کر روزانہ جس طرح سے نئی نئی خبریں اور تفصیلات سامنے آرہی ہیں وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ بھارت میں مندی کا جو ماحول جاری ہے وہ معمولی بات نہیں بھلے ہی حکومت یا کچھ ماہر اقتصادیات اسے عالمی مندی کا اثر بتا رہے ہوں یا ریزرو بینک جیسے مالی ادارے اسے تھوڑے وقت کا بحران مان کر چل رہے ہوں لیکن صنعتی دنیا کس طرح سے ڈھمگاتی نظر آرہی ہے وہ ہماری اقتصادی نظام کے لئے کسی بھی طرح سے اچھا نہیں مانا سکتا خاص طور پر جب وزیر اعظم نے اگلے پانچ سال میں پانچ لاکھ کروڑ کی معیشت بنانے کا نشانہ طے کیا ہے جمعرات کو جھارکھنڈ میں ایک ریلی سے خطاب میں پی ایم مودی نے کہا کہ چناﺅ کے وقت میں نے وعدہ کیا تھا کہ لوگوں کو کامدار دمدار،سرکار دیں گے ۔ایک ایسی سرکار جو پہلے سے زیادہ رفتار سے کام کرئے گی سو دن میں دیش نے اس کا ٹریلر دیکھ لیا ہے ۔پانچ سال میں پکچر ابھی باقی ہے ۔وزیر اعظم کے دوسرے عہد میں دیش کی معیشت بگڑنے کی سب سے بڑی چنوتی بن کر ابھری ہے ۔اور پہلے سو دن میں تو اس کی پکچر بہت خراب ہوئی ہے ۔سابق وزیر اعظم اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ دیش اس وقت سنگین اقتصادی سست روی کا سامنا کر رہا ہے ۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ سرکار کو اس کا احساس تک نہیں ہے یہ اقتصادی سستی ہے ۔منموہن سنگھ نے معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے پانچ منتر بھی بتائے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں ہوئی پارٹی لیڈروں کی میٹنگ میں منموہن سنگھ نے کہا اگر یہی حالات رہے تو 2024-25تک پانچ ہزار ارب ڈالر کی معیشت بنانے کے پی ایم مودی کا نشانہ پورا ہونے کی امید نہیں ہے ۔سستی کا یہ دور نوٹ بندی ،اور غلط طریقہ سے جی ایس ٹی نافذ کرنے سے آیا ہے ۔سرکار سنجیدگی دکھائے توبھی اس سے نمٹنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں ۔سستی سے نمٹنے کے پانچ منموہنی قدم پہلا :جی ایس ٹی کی شرحوں با دلیل بنانا ہوگا دو:زراعت سیکٹر پر توجہ :تیسرا:ماکیٹ میں پیسے کا چلن بڑھانے کے لئے قرض کی کمی دور کریں :چوتھا:زیادہ روزگار دینے والے سیکٹروں پر مخصوص توجہ پانچواں :نئے ایکسپورٹ مارکیٹ دیکھی جائے ۔بتادیں اقتصادی سستی کی خبروں کے درمیان جولائی میں صنعتی پیداوار گروتھ ریٹ 4.3فیصدی ہو گئی جو جون میں 2فیصدی تھی حالانکہ پچھلے سال بھی اسی مہینے کے 6.5فیصدی سے کم رہی تھی ۔حالانکہ پچھلے دنوں معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایک کے بعد ایک کئی اقدامات کا اعلان کیا لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ معیشت کی ڈاما ڈول حالت سے سرمایہ کاروں سے لے کر عوام تک کے اندر ایک طرح کا خوف پیدا ہو گیا ہے ۔اور ان میں بے چینی بڑھی ہے ۔لوگ خرچ کے لئے جیب سے پیسہ نکالنے سے بچ رہے ہیں ۔پتہ نہیں کب تک اس بحران اورکس نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ جائے۔یہی وجہ ہے کہ بازار میں پیسے کی ریل پیل نہیں ہو پار ہی ہے ۔اور نقدی کی مشکل ہے ۔جب تک یہ سلسہ نہیں ٹوٹے گا تب تک ملک کی معیشت کو پٹری پر لانا ممکن نہیں ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ اقتصادی اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں میں بھروسہ پیدا کیا جائے ۔

(انل نریندر)

دفعہ371:کچھ ریاستوں کو ملے محصوص اختیارات

جموں و کشمیر میں دفعہ370ہٹنے کے بعد اچانک آرٹیکل 371اب سرخیوں میں آگیا ہے دراصل اس دفعہ کے تحت بھی کئی ریاستوں کو کچھ مخصوص اختیارات ملے ہوئے ہیں ۔370کو ہٹانے کے بعد ایسی افواہیں پھیلائی گئیں کہ مرکزی سرکار اب آرٹیکل 371کو بھی ختم کر سکتی ہے ۔اس کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے پچھلے دنوں شمال مشرقی ریاستوں کے اپنے دورے میں سبھی ریاستوں کو صاف پیغام دینے کی کوشش کی کہ مودی سرکار کا 371ہٹانے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔ان سبھی ریاستوں کو یہ یقنین دہانی کرائی گئی ہے سرکار کسی بھی صورت میں اس دفعہ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرئے گی ریاستوں کو اس کے تحت مخصوص اختیارات اور تحفظ ملا ہوا ہے ۔وہ برقرار رہے گاان ریاستوں کی خاص آبادی کی برادریاں اور کلچرل تحفظ دیش کی اہم وجہ بتائی گئی ہے ۔ابھی 371دس الگ ریاستوں کو وہاں کی خاص ضرورتوں کے حساب سے مخصوص اختیارات حاصل ہے ۔اس میں سہولت ہے ضرورت پڑنے پر کسی بھی ریاست و علاقہ کو آئین کے تحت الگ سے اختیارات دئے جا سکتے ہیں ۔سرکار مسلسل کہہ رہی ہے ۔دفعہ 370و 371کو ایک آئینے سے دیکھنا صحیح نہیں ہے ۔دونوں میں بنیادی فرق ہے دونوں دفعات 26جنوری 1950سے آئین کا حصہ ہیں۔دفعہ 371کے تحت جو مخصوص اختیارات ملے ہوئے ہیں سرکار کہ دلیل ہے کہ دفعہ 370عارضی ہے ۔اور جب کہ دفعہ 371مخصوص سہولت ہے ۔لیکن اپوزیشن سرکار کے اس دعوی اور نیت پر سوال اُٹھا رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی مضبوطی سے اُن ضلعوں میں جا کر خاص پیغام دینے کے لئے مہم چلا رہی ہے ۔دفعہ371:کچھ ریاستوں کو ملے مخصوص اختیاراتایسا کرنا اس کے ایجنڈے میں نہیں ہے دفعہ 371کے ذریعہ سے آئین میں کچھ ریاستوں کو کئی اختیارات دیئے گئے ہیں ۔لیکن نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں یہ اختیارات کچھ زیادہ ہیں ۔ناگا لینڈ میں اس کے تحت کئی خاص رعایتیں ہیں اسی وجہ سے اس دفعہ کو لے کر زیادہ تذکرہ رہتا ہے ۔مہاراشٹر تک کو بھی اس دفعہ کے تحت سہولت حاصل ہے ۔جہاں باہر سے کوئی زمین خرید نہیں سکتا اور پارلیمنٹ سے پاس کوئی قانون اب بھی نہیں لاگو ہوتے اسی طرح سکم میں زمین پر نہ صرف پوری طرح سے مقامی لوگوں کو بالا دستی ملی ہوئی ہے بلکہ اس سے جڑے مسئلے سکم سے باہر کی عدالت میں بھی نہیں جا سکتے ۔اسی طرح مہاراشٹرا ور کرناٹک کے چھ ضلعوں کو مخصوص اختیارات ملے ہوئے ہیں اس کے تحت ان کے لئے الگ سے بورڈ بنا ہوا ہے ۔سرکاری نوکریوں میں بھی ترجیح ملتی ہے ۔

(انل نریندر)

19 ستمبر 2019

پاک فوج کی حفاظت میں مارا گیا لادین کا بیٹا ہمزہ

سنیچر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطرناک دہشتگرد تنظیم القاعدہ کا سرغنہ رہے اُسامہ بن لادین کے بیٹے ہمزہ کے ایک کارروائی میں مارے جانے کا اعلان کیا ان کا کہنا تھا کہ اس ہائی پروفائل القاعدہ دہشتگرد مخالف کارروائی کے دوران مار گریا گیا ہمزہ پر دس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا حالانکہ ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس کی موت کب اور کہاں ہوئی وائٹ ہاﺅ س کی طرف سے بیان کے مطابق ہمزہ بن لادین کے مارے جانے سے القاعدہ میں نہ صرف لیڈر شپ کی کمی ہوئی ہے بلکہ اس کی اہم ترین کارروائیوں کو کمزور کر دیا گیا ۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمزہ آتنکی تنظیمو ں کے ساتھ منصوبہ بنانے اور سمجھوتہ کرنے کے لئے ذمہ دار تھا قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے جولائی کے آخر میں امریکی افسر نے بتایا تھا کہ ہمزہ کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی تھی لیکن اب ٹرمپ کے بیان سے اس کی تصدیق ہو گئی ہے ۔امریکہ نے جہاد کے شہزادہ کے نام سے جانے جانے والے ہمزہ کا پتہ بتانے والے کو دس لاکھ ڈالر کا انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ہمزہ نے اپنے والدکی موت کا بدلہ لینے کے لئے امریکہ پر سازش رچ رہا تھا اسی کو دیکھتے ہوے اتنا بڑا نعام رکھا تھا ۔اسامہ جب پاکستان میں مارے جانے سے پہلے رہ رہا تھا تو اس نے اپنے بیٹے ہمزہ کو کئی خط لکھے تھے جس میں وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ اس کو کس طرح کی چیزوں کا مطالعہ کرنا چاہیے ماہرین کا خیال ہے کہ 2010سے القاعدہ ہمزہ بن لادین کو تنظیم کا بوس بنانے کے لئے تیار کر رہا تھا کیا اسامہ بن لادین کی طرح ہمزہ بھی پاکستانی فوج کی حفاظت میں رہ رہا تھا ؟ہندوستانی دفعہ ماہر ایس پی سنہا نے کہا کہ ہو سکتا ہے ہمزہ پاکستانی فوج کی سرپرستی میں رہ رہا ہو اگر ایسا ہے تو ایک بار پھر امریکہ نے اسامہ کی طرح اس کے بیٹے کا خاتمہ کر دیا ہے ۔

(انل نریندر)

ضروری ہوا تو میں خود سری نگر جاﺅں گا:چیف جسٹس

دفعہ 370ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر میں بنے حالات کو لے کر سپریم کور ٹ پیر کو آٹھ الگ الگ عرضیوں کی سماعت کی سماجی رضاکار اناکشی گانگولی کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے حراست میں لئے گئے نابالغ بچوں کے ماں باپ ہائی کورٹ نہیں جا پا رہے ہیں گانگولی جانب سے پیش ہوئے سینر وکیل حسین احمدی نے کہا کہ کشمیر میں حالات خراب ہیں اس لئے ہمیں سپریم کورٹ آنا پڑا چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو یہ بے حد سنگین اشو ہے ۔جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دو ہفتے میں جواب دیں کیا واقعی ہی ایسا ہے ؟ضروری ہوا تو میں خود سری نگر جاﺅں گا اگر یہ الزام غلط ثابت ہوا تو عرضی گزار کو نتیجے بھگتنے ہوں گے سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کشمیر وادی میں لگائی گئیں پابندیوں کے پیچھے ٹھوس وجہ ہے کہ کشمیر کے حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں عدالت نے قومی مفاد اور اندرونی سلامتی کو ذہن میں رکھتے ہوئے مرکز اور جموں و کشمیر سرکار کو وادی میں حالات بہتر بنانے کےلئے ضروری قدم اُٹھانے کے لئے بھی کہا ہے سی جے آئی رنجن گگوئی ،جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی بنچ نے یہ مختصر حکم حکومت کے پیش کردہ تفصیلات پر غور کرنے کے بعد دیا ۔مرکزی حکومت کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کورٹ کو بتایا کہ ریاست تین طرح کے حملوں سے لڑ رہی ہے ۔پہلا علیحدگی پسندوں کے ذریعہ پیسے دے کر سیکورٹی فورس پر پتھر بازی دوسرا پڑوسی ملک کے ذریعہ دہشتگردوں کو یہاں بھیجنا تیسرا کچھ کارو بارویوں کے ذریعہ دہشتگردوں کو ہمایت دینا اے ڈی ایم کے چیف وائی کو کے جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہمیں پتہ نہیں نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ کہاں ہیں ؟کیا وہ نظر بند یا حراست میں ہیں ؟اس پر عدالت نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا کیا فاروق حراست میں ہیں ؟مہتا کا کہنا تھا کہ اس کا جواب حکومت کی ہدایت لینے کے بعد ہی دے پاﺅں گا عدالت نے تیس ستمبر تک جواب دینے کو کہا ہے ۔معاملہ عدالت میں آنے کے بعد سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر ملی ہے کہ فاروق عبداللہ پبلک سیکورٹ ایکٹ نظر بند ہیں یہ قانون لکڑی اسمگلروں پر سختی کرنے کےلئے ہے ۔لیکن ان کے والد شیخ عبداللہ نے ہی وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اس قانون کو 48سال پہلے بنایا تھا ۔بد قسمتی یہ ہے کہ آج باپ کے ذریعہ بنائے گئے بیٹا اس قانو ن کے تحت آج نظر بند ہے ۔راجیہ سبھا ممبر کانگریس نیتا غلام نبی آزاد کو سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کے چارضلعوں سری نگر،بارامولہ ،اننت ناگ،اور جموں جانے کی اجازت دی ہے ۔لیکن وہ سیاسی پروگرام میں نہیںجائیں گے ۔آزاد نے کہا تھا کہ وہ لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں ۔اور حالات دیکھنا چاہتے ہیں لیکن مرکزی سرکار انہیں وہاں جانے نہیں دے رہی ہے انہیں تین مرتبہ سری نگر ائیر پورٹ سے لوٹا دیا گیا جواب میں تشار مہتا نے کہا کہ آزاد کے کشمیر جانے سے وہاں ماحول خراب ہو سکتا ہے ۔اس لئے انہیں جانے کی اجازت نہ دیں ۔اس پر عدالت نے کہا کہ آزاد کو کشمیر سے لوٹ کر عدالت کو رپورٹ دینی ہوگی ۔کہ وہاں حالات کیسے ہیں ؟سماعت کے دوران بہرحال کچھ چیزیں ضرور سامنے آئیں ہیں ۔سرکار نے دعوی کیا کہ وادی میں اخبار چھپ رہے ہیں دور درشن سمیت سارے چینل وہاں کام کر رہے ہیں کشمیر میں 88فیصد تھانے کے دائرے اختیار میں آنے والے علاقوں میں پابندی نہیں ہے ۔اپنے جوانوں اور عام شہریوں کی مرکزی سرکار کو فکر ہے اس نے عدالت کو یہ بھی یاد دلایا کہ سال 2016میں بھی ایک خطرناک آتنکوادی کی موت کے بعد جموں و کشمیر میں تین مہینے فون اور انٹر نیٹ ٹھپ پڑا تھا عرضی گزار کی ایک بڑی شکایت یہ تھی کہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ تک پہنچنا آسان نہیں ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے کافی سنجیدگی دکھاتے ہوئے جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے رپورٹ مانگی ہے ۔لیکن سرکار کا یہی کہنا تھا کہ کشمیر میں سبھی عدالتیں اور لوک عدالتیں کام کر رہی ہیں ۔سپریم کورٹ کی سرگرمی مرکزی حکومت کے لئے ایک راہ عمل ثابت ہونی چاہیے وہاں جلد سے جلد عام زندگی بحال ہو آئین کے تحت عدالت نے کی گئی ایسی کوششوں سے ہماری ہندوستانی جمہوریت مضبوط ہوگی ۔سپریم کورٹ بھی حکومت کے دعوﺅں اور مجبوریوں کو سمجھے گی ۔احتیاط وقت کی مانگ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وادی میں پابندیوں میں نرمی سے تشدد کا دور پھر نہ شروع ہو جائے کشمیری عوام کا ایک بڑا حصہ مرکزی حکومت کے اُٹھائے گئے قدموں کی تعریف بھی کر رہا ہے فاروق عبداللہ ،عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی کی نظربندی کوئی بہت بڑا اشو نہیں بن رہا ہے ۔حکومت کو ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی کہ کشمیر عوام قومی دھارا سے جڑیں اور صوبے میں ترقی دیکھیں ۔مرکزی حکومت کو شش کرنی ہوگی کہ کشمیر عوام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں انہیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مٹھی بھر علیحدگی پسند لیڈروں کی کٹھ پتلی بن کر نہیں جینا ہے اور پڑوسیوں کے ذریعہ پھیلائی جا رہی دہشتگردی سے بھلا نہیں ہونے والا ۔انہیں و مقامی فورسیز کو اپنا محافظ سمجھیں ۔پتھر بازی وغیرہ بند کرنی ہوگی ۔کسی بھی اپنی بات رکھنے کے لئے پتھروں اور بندوقوں کی کوئی قطعی ضرورت نہی پڑے اور ہندوستانی آئین تحت ہی امن اور ترقی آئے۔

(انل نریندر)

18 ستمبر 2019

شمالی ہندوستانیوں کی اہلیت پر سوال

مرکزی وزیر محنت سنتوش گنگوار نے یہ کیا کہہ دیا؟مودی سرکار کے سو پورے ہونے پر سنیچر کو وزیر موصوف نے ایک پریس کانفرنس میں مندی اور نوکری نہ ہونے کے سوال پر کہا کہ دیش میں روزگار کی کمی نہیں ہے شمالی بھارت میں بھرتی کے لئے آنے والی کمپنیوں کے کچھ نمائندے سوال کر دیتے ہیں جو ورکنگ عملہ ہمیں چاہیے اُس مطابق یہاں کوالٹی نہیں ہے ہم اس میں بہتری پر کام کر رہے ہیں ۔روزگار دفاتر میں بے روزگاروں کی لمبی فہرست کے بارے میں گنگوار نے دلیل دی کہ بڑی تعداد میں رجسٹرڈ نوجوان اچھی نوکری حاصل کر چکے ہیں ا س سے بھی بہتر موقع پانے کی تلاش میں وہ اپنا رجسٹریشن منسوخ نہیں کراتے اسی لیے بے روزگاروں کی فہرست لمبی ہے ہمارے شمالی ہندوستان میں جو کمپنیو ں کے افسربھرتی کرنے آتے ہیں وہ اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ جس عہدے کے لئے رکھ رہے ہیں اُس کی اہلیت کا شخص ہمیں کم ملتا ہے ان کے اس بیان میں منتری جی اپوزیشن کے نشانے پر آنا فطری ہی تھا کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا واڈرا نے ٹوئٹ کیا کہ منتری جی پانچ سال سے زیادہ وقت سے آپ کی سرکار ہے نوکریاں پیدا نہیں ہوئیں جو نوکریاں تھیں وہ سرکار کی طرف سے پیدا اقتصادی مندی کے چلتے جارہی ہیں آپ شمالی ہندوستانیوں کی بے عزتی کر کے بچ نکلنا چاہتے ہیں ۔یہ نہیں چلے گا ۔سپا چیف مایا وتی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ دیش میں چھائی اقتصادی مندی وغیرہ کے سنگین مسئلے کے سلسلے میں وزراءکے مضحکہ خیز بیان کے بعد اب شمالی ہندوستانیوں کی بے روزگاری دور کرنے کے بجائے کہ روزگار کی کمی نہیں بلکہ اہلیت کی کمی ہے انتہائی شرمناک ہے ۔وزیر کو معافی مانگی چاہیے ۔وہیں سپا صدر اکھلیش یادو نے بھی ٹوئٹ کیا کہ بھاجپا کے وزیر نے یہ کہہ کر نوجوانوں کا حوصلہ توڑا ہے اگر ایک لمہ کے لئے یہ جھوٹی بات مان بھی لیں تو کیا نوجوانوں کو قابل بنانے کی ذمہ داری سرکار کی نہیں ہے ؟درا صل کمی قابل نوجوانوں کی نہیں دیش پردیش میں قابل سرکار کی ہے ۔سرکار روزگار تو نہیں دے پار ہی ہے اور ناکامی چھپانے کو شمالی ہندوستانیوں کو بدنام کر رہی ہے ۔منتری جی کا بیان دیش کے نوجوانوں کی بے عزتی ہے ۔اس طرح کے بیان سے انہیں بچنا چاہیے ۔

(انل نریندر)

سرکار بھرتی ہے یوپی کے وزراءکا انکم ٹیکس

ہم اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوںنے ریاست میں ایک بہت غلط روایت کو ختم کرنے کی ہمت دکھائی ہے میں بات کر رہا ہوں ریاست کے وزیر اعلیٰ سمیت سبھی وزراءکے انکم ٹیکس کا جو سرکار ادا کر رہی تھی ۔یوپی کے وزیر مالیات سوریش کمار کھنہ نے بتایا کہ اترپردیش وزراءتنخواہ الاونس و مسلینس ایکٹ 1981کے تحت سبھی وزراءکے انکم ٹیکس کی ادائیگی اب تک ریاستی حکومت کے خزانے سے کی جاتی رہی ہے ۔کھنہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر یہ فیصلہ لیا گیا ہے ۔کہ اب سبھی وزیر اپنے انکم ٹیکس کی ادائیگی خود کریں گے اور سرکار ی خزانے سے یہ ادائیگی نہیں ہوگی وزیر مالیات کا کہنا تھا کہ ایکٹ کی اس سہولت کو ختم کیا جائے گا قابل ذکر کہ اترپردیش کے ویزتنخواہ بھتہ و آئینی قانون 1981میں اُس وقت بنا تھا جب وشنو ناتھ پرتاپ سنگھ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے اس قانون کا اب تک 19وزراءاعلیٰ اور تقریبا ایک ہزار وزیروں کو فائدہ ملا وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کے ساتھی رہے کانگریس کے ایک نیتا نے بتایا کہ قانون پاس ہوتے وقت اُس وقت کے وزیر اعلیٰ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے اسمبلی میں دلیل دی تھی کہ ریاستی سرکار کو انکم ٹیکس کا بوجھ اُٹھانا چاہیے کیونکہ زیادہ تر وزیر غریب پس منظر سے ہیں اور ان کی آمدنی کم ہے ۔اس سسٹم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے ۔کہ اترپردیش میں وزیر اعلیٰ اور سبھی وزراءکا انکم ٹیکس 1981سے ہی سرکاری خزانے سے وصولا جا رہا ہے ۔اس سال یوپی سرکار کے وزراءکا کل انکم ٹیکس 86لاکھ روپئے جمع کیا گیا ہے۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ چناﺅ لڑتے وقت لوگ اپنے حلف نامے میں اپنی جائیداد کو کروڑوں روپئے میں دکھاتے ہیں لیکن انکم ٹیکس اپنی جیب سے بھرنا ان کے ایجنڈے پر نہیں آتا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اترپردیش ایک پسماندہ ریاست ہے اور سرکاری خزانے کا عوامی سہولیت پر خرچ کرنا ترجیح ہے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سرکاری خزانے کو چونا لگانے کو لے کر ریاست کی سبھی پارٹیوں کے درمیان اس پر سمجھوتہ ہے بہرحال امانت میں خیانت کا یہ قصہ کسی ایک ریاست تک محدود نہیں ہے ممبر پارلیمنٹ بھی کئی طرح کے مالی فائدے اُٹھاتے ہیں ۔عوامی نمائندوں کے عہدے سے آزاد ہونے کے بعد بھی سرکاری بنگلے میں ڈٹے رہنا یہ چھوٹی موٹی سہولیات کے لئے لڑنے کی خبریں آئے دن آتی رہتی ہیں ۔یوپی میں ہی کئی سابق وزراءنے برسوں سے سرکاری بنگلوں میں قبضہ جما رکھا ہے پچھلے سال سپریم کورٹ نے سختی دکھائی تو روتے پیٹتے یہ نیتا بنگلے خالی کر پائے عوام کے نمائندے اپنے لئے ساری سہولیات یقینی کر لینا چاہتے ہیں لیکن جنتا کس حال میں جا رہی ہے اُس طرف ان کی توجہ نہیں جاتی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا یہ ہندوستانی سیاست کے کس حد تک زوال کی علامت ہے ۔

(انل نریندر)

17 ستمبر 2019

سعودی کی سب سے بڑی تیل کمپنی ارامکو پر ڈرون حملہ

دنیا کی سب سے امیر تیل کمپنیوں میں شامل تیل کی ارامکو تیل کمپنی کی دو تیل ریفاینریوں کے پلانٹ پر سنیچر کی صبح تباہ ہو گئے سعودی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ڈرون حملوں سے پلانٹ میں لگی آگ پر گھنٹوں بعد قابو پایا جا سکا جس وجہ سے سعودیہ عرب کی پوری دنیا کو تیل سپلائی آدھی رہ گئی ہے اور پچاس لاکھ بیرل تیل کی پیداوار بند ہوگئی ہے ۔یمن میں ایران حمایتی باغی تنظیم حوثی نے ان حملوں کی ذمہ داری لی ہے ۔تنظیم کے ایک ترجمان یحیٰ نے بتایا کہ حملے کے لئے دس ڈرون بھیجے گئے تھے انہوںنے دھمکی دی تھی کہ سعودی عرب پر مستقبل میں ایسے حملے ہو سکتے ہیں ۔بتا دیں کہ ڈرون 15سو کلو میٹر دور جا کر حملہ کرنے میں اہل ہیں ۔ارامکو کے دو بڑے کارخانوں پر حملوں کے بعد لگی آگ سے آسمان میں دھوئیں گے بادل چھا گئے ایران کے ساتھ چل رہی علاقائی کشیدگی کے درمیان یہ حملہ ہوا ہے ۔حملوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران سے وابسطہ حوثی باغی سعودی عرب میں تیل کارخانوں کےلئے کیسے سنگین خطرہ بن گئے ہیں ۔سعودی عرب دنیا میں کچے تیل کا سب سے بڑا برآمد کرنے والا ملک ہے ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ حملوں میں کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں اور نہ ہی تیل پر پیداوار کا اثر کا پتہ چلا ہے ۔حالایہ مہینوں میں حوثی باغیو ں نے سرحد پار سعودی عرب کے اڈوں اور دیگر اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں ۔جسے وہ یمن میں کی جارہی بمباری کا بدلہ بتاتے ہیں ارامکو کے فہران ہیڈ کوارٹر سے ساٹھ کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ابکیک پلانٹ کمپنی کے سب سے بڑے تیل ریفائنری کا گڑھ ہے ۔پہلے بھی آتنکوادی اسے نشانہ بناتے رہے ہیں القاعدہ کے فدائی دھماکوں نے فروری 2006میں اس تیل کمپنی پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے تھے ۔اس حملے سے دنیا کی طاقت کے ساتھ نیوکلیائی سمجھوتے کو لے کر امریکہ اور ایران کے آمنے سامنے ہونے سے کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے ۔امریکہ ،سعودی عرب خلیج میں ٹینکروں پر حملوں کے لئے ایران کو بھی ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔یہ تازہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب سعودی عرب نے ارامکو کو شیر بازار میں اتارنے کی تیاری تیز رکر دی ہے ۔مشرقی وسطہ میں اس حملے سے کشیدگی اور بڑھے گی ۔

(انل نریندر)

مہا مرتیو جے منتر دھن سواستھ پر اثر جاننے کی رسرچ

دیش میں مہا مرتیو جے منتر کا استعمال ہوتا آرہا ہے بہت سے لوگ سنگین بیماریوں میں زندگی بچانے کے لئے بھی اس منتر کا جاپ کرتے ہیں اسے لوگوں کی عقیدت سے جوڑ کر دیکھا جاتا رہا ہے ۔مہا مرتیو جے منتر یجر وید کے رودر یامی کے چھٹے باپ سے لیا گیا ہے۔اس منتر کا لب لباب مطلب یہ ہے موت کے وقت انسان کو ہونے والی تکلیف سے نجات ۔جس طرح پکا پھل خود بخود ہی اپنی ڈال کو چھوڑ دیتا ہے اُسی طرح انسان بھی زندگی کے بندھن کو ایک وقت بعد چھوڑ دیتا ہے ۔موت پر کبھی کسی کی جیت نہیں ہوئی ہے ۔لیکن اس منتر کے ذریعہ بھگوان شیو کی اُپاسنہ سے تکلیفوں کا اژالہ ضرور ہوتا ہے ۔بھلے ہی میڈیکل سائنس اس پر اب ریسرچ کر رہی ہے لیکن ویدوں میں اس کا اثر دورے قدیم سے ہی ذکر ہے اس منتر کا سوا لاکھ بار اُچارن انسان کو سبھی تکلیفوں سے نجات دلاتا ہے ۔ایک شخص کو سوا لاکھ منتر کا جاپ کرنے میں قریب چالیس دن کا وقت لگتا ہے ۔دیش میں پہلی بار مہا مرتیو جے منتر کا مریضوں پر اثر کا پتہ لگانے کے لئے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال کے ڈاکٹر ریسرچ کر رہے ہیں ۔اس کے لئے سر میں چوٹ کی وجہ سے آئی سی یو میں بھرتی مریضوں کے پہلے اسپتال میں سنسکرت ودیہ پیٹ سے آئے پنڈتوں نے عہد کیا ہے اس کے بعد اُن مریضوں کو ودیہ پیٹ میں لے جا کر منتر سنائے گئے فی الحال یہ ریسرچ آخری مرحلے میں ہے ۔ریسرچ چالیس مریضوں پر کی جا رہی ہے ۔قطب انسٹی ٹیوشنل ایئر یا میں موجود سنسکرت ودیہ پیٹ میں منتر کو سنانے کے بعد فی الحال ڈاکٹر اس ریسرچ کے نتائج کو قطعی شکل دینے میں لگے ہوئے ہیں ۔آئینی نکتہ نظر سے یہ منتر صحت کے لئے کتنا اثر دار ہے اس کا پتہ لگانے کے لئے مرکزی سرکار کے آر ایم ایل اسپتال میں قریب چار سال سے ریسرچ چل رہی ہے ۔اور اس کے اب تک کے نتیجوں سے ڈاکٹر حوصلہ افزا ہیں ۔ان کا کہنا ہے ڈاٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایک دو ماہ میں رپورٹ تیار ہوگی ۔جسے بین الاقوامی میگزین میں شائع کیا جاے گا۔امریکہ کی فلوریڈا یونیورسٹی میں بھی یہاں کے ڈاکٹروں سے رابطہ قائم کر ریسرچ سے جڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔یہ ریسرچ سنگین برین چوٹ والے مریضوں پر کی گئی ہے اور یہ 2016میں شروع ہوئی تھی ۔ڈاکٹر اجے چودھری جو نیورو سرجن ہیں کہ رہنمائی میں یہ ریسرچ جاری ہے ۔ڈاکٹر پورے دھارمک روایتوں کے مطابق اسے پورا کرنا چاہتے ہیں ۔بتایا جا رہا ہے کہ اب تک کی ریسرچ میں کافی تشفی بخش نتیجے دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس ریسرچ میں مہا مرتیو جے منتر کا اثر سائنسی طور پر ثابت ہوتا ہے تو یہ دنیا بھر کے میڈیل سیکٹر میں تاریخ بدل سکتی ہے ۔اس کے پیچھے ایک وجہ جاپان کے ڈاکٹر بھی ہیں ۔جنہوںنے ہندوستانیوں میں ہارٹ پر ریسرچ کی تھی ۔اور ثابت کیا تھا کہ اس سے کئی مرض کم ہونے کے امکانات ہوتے ہیں یہاں تک کہ جسم میں کینسر کے جراثیم تک نہیں پھیلنے دیتی ۔

(انل نریندر)

آج ہریانہ میں صرف کھٹر کی طوطی بول رہی ہے

ہریانہ کے اسمبلی چناﺅ کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے پہلے جس طرح کے اشارے مل رہے تھے اس سے امید کی جارہی تھی کہ پیر کو ریاست میں چناﺅ کا اعلان ہو سکتا ہے لیکن اب امکان جتایا جا رہا ہے کہ چناﺅ ضابطہ 19ستمبر کو نافذ ہو سکتا ہے ۔سینٹرل چناﺅ کمیشن دیوالی سے پہلے پہلے چناﺅ کرانے کی تیاریوں میں لگا ہوا ہے ہریانہ میں پچھلی مرتبہ 26اکتوبر کو حکومت نے کام کاج سنبھالا تھا اس لئے دو نومبر سے پہلے نئی سرکار کی تشکیل ضروری ہے بھاجپا کی چناﺅی تیار تقریبا پوری ہو چکی ہے ۔پارٹی اس مرتبہ ریاستی اسمبلی کی 90سیٹوں میں سے 50ٹکٹ پہلے اعلان کرنے کا پلان بنا رہی ہے ۔بھاجپا سے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کا پڑلہ فی الحال سب سے بھاری دکھائی پڑتا ہے ۔در اصل ہریانہ کی سیاست کے معنی بدلنے والے چوتھے لال وزیر اعلیٰ منوہر لال نے حریفوں کو چاروں خانے چت کر دیا ہے ۔اور اپوزیشن جس منوہر لال کو نہ تجربہ کار بتا کر تبدیلی اقتدار کا خواب لے رہی تھی وہ آج خود ہی حاشیہ پر آگئی ہے ۔پردیش و پارٹی نے اپنی الگ پہچان و ساکھ بنانے والے کھٹر نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہریانہ میں بغیر پرچی و خرچی کے سرکاری نوکریاں مل سکتی ہیں ۔آن لائن سسٹم نے ایسا سسٹم قائم کیا کہ اب اسے مستبقل میں کوئی بھی آنے والا وزیر اعلیٰ چھیڑ چھاڑ کی ہمت نہیں کر پائے گا ۔کھٹر پہلے ایسے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے وزرا اور ممبران اسمبلی کو بھی بھائی بھتیجے واد ،کرپشن ،اور جانب داری سے دور رہنے کا آئینہ دکھایا ہے ۔حال ہی میں جند میں ہوئے ضمنی چناﺅ سے دھواں دھار بیٹنگ کر رہے۔ کھٹر نے اپنے تجربے و کام سے بھاجپا کی سبھی دیگر پارٹیوں سے الگ پہچان دلائی ہے کبھی ایڈین نیشنل لوک دل کا گڑھ رہے جند میں وزیر اعلیٰ نے کانگریس و بھاجپا کے سرکردہ سیاسی خاندانوں کو ایسی پٹخنی دی کہ بھاجپا کی واہ واہ ہو گئی ۔پانچ بلدیاتی اداروں کے چناﺅ میں پہلی بار بھاجپا کی کامیابی کا ڈنکا بجا وہیں ضلع کونسلوں میں بھی زیادہ تر چیر مین بھاجپا کے چنے گئے ۔ٹیلنٹ تنظیمی ورکر رہے کھٹر کے عہد میں ایک یکساں ترقی کی ایسی روایت ڈالی گئی کہ لالوں کے گڑھ(دیوی لال،بنسی لال،بھجن لال)میں بھاجپا کے جھنڈے گھروں اور چھتوں پر لگے نظر آنے لگے ہیں ۔جس جاٹ بیلٹ میں کبھی بھاجپا کا کوئی نام لینے والا نہیں تھا آج اُسی جاٹ بیلٹ میں بھاجپا اور کھٹر کی طوطی بول رہی ہے ۔آج بھاجپا ہریانہ میں سب سے مضبوط پارٹی بن کر اُبھری ہے ۔2014سے پہلے بھاجپا کبھی بھی اپنے بوتے پر سرکار نہیں بنا پائی پارٹی ہمیشہ دوسرے کی بیساکھیوں پر اقتدار کا فائدہ حاصل کرتی رہی تھی ۔1987میں بھاجپا نے چودھری دیوی لال کی پارٹی لوک دل سے اتحاد کیا تھا اُس وقت اُس کے سترہ ممبر چن کر آئے تھے ۔اُس دوران ڈاکٹر منگل سین پارٹی کے لیڈر ہوتے تھے ۔اُسکے بعد 1996میں چودھری بنسی لال کی ہریانہ وکاس پارٹی سے اتحاد کیا تو اُس کے گیارہ ممبر چنے گئے تھے ۔مگر 2014میں پارٹی کے 47ممبر اسمبلی جیتے اور پہلی مرتبہ اپنے دم پر سرکار بنائی ۔اور بھاجپا کو بے ساکھیوں چھٹکارہ دلایا ۔2019چناﺅ میں تو ایسی حالت نظر آرہی ہے ۔پوری اپوزیشن کو بے ساکھیوں کی ضرورت پڑے ۔

(انل نریندر)

15 ستمبر 2019

جگن موہن کے نشانے پر چندر بابو نائیڈو

تیلگو دیشم پارٹی کے چیف این چندر بابو نائیڈو نے بدھ کو چلو آتمہ کوں کی اپیل کے تحت گنٹور ضلع کے علاقہ اُڈا وللی میں واقعہ اپنے گھر سے نکلنے کی ناکام کوشش کی یہ احتجاجی مظاہرہ کچھ دیہاتیوں کو گاﺅں سے نکالنے کے خلاف احتجاج میں کیا جانا تھا ان کے بیٹے لوکیش کو بھی نظر بند کیا گیا آندھرا پردیش کے ڈائیرکٹر جنرل پولس ڈاکٹر گوتم سمواترا نے سی ایم او کی طرف سے ایک بیان جاری کر کہا کہ نائیڈو کی سرگرمیوں کے سبب گنڈور خطہ میں کشیدگی بڑھ رہی تھی جس سے قانون و نظم خراب ہو رہا تھا ۔اس لئے انہیں احتجاج کے طور پر حراست میں لیا گیا حکمراں اور اپوزیشن سیاسی رقابت کی تلخی میں بدل رہی ہے ۔آندھر اپردیش اس کی تازہ مثال ہے جہاںسیاسی تشدد کے خلاف آواز اُٹھانے سے روکنے کے لئے سرکار نے چندر بابو نائیڈو سمیت اپوزیشن کے کچھ نیتاﺅں کو نظر بند کر دیا تیلگو دیشم پارٹی کا الزام ہے کہ وائی ایس آر کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کے دس ورکروں کا قتل ہو چکا ہے ۔گنڈور ضلع کے آتما کرو گاﺅں درج فہرست برادریوں کے 120کنبے کو جو ان کے رابطے میں ہیں انہیں گاﺅں سے نکالا جا چکا ہے ۔ٹی ڈی پی نے گنڈور شہر میں بنائے گئے ایک کیمپ میں رکھا ہوا ہے ۔پچھلے دنوں ایک کتابہ جاری کر چکے ہیں ۔جس میں اپنے ورکروں کے قتل اور اُن پر زیادتیوں کی تفصیل ہے اور اب وہ گاﺅں سے نکالے گئے پریواروں کو اُس گاﺅں میں بسانے جا رہے تھے کہ اس سے پہلے ہی یہ کارروائی ہو گئی ۔وائی ایس آر کانگریس کا کہنا ہے کہ ٹی ڈی پی کے دفتر میں ان کے ورکروں کے خلاف مار پیٹ ہوئی تھی لہذا ٹی ڈی پی کے مجوزہ پروگرام کے جواب میں اس نے بھی چلو آتما کرو یعنی کرو یاترا کا پلان بنایا تھا پولس کا کہنا ہے کہ ٹی ڈی پی نے اس یاترا کی اجازت نہیں لی تھی اور چندر بابو نائیڈو کے ناجائز کارناموں سے ریاست بھر میں تشدد بھڑکنے کے اندیشات کے پیش نظر اس نے یہ قدم اُٹھایا یہی نہیں اُس نے وائی ایس آر کانگریس کے کچھ نیتاﺅں اورورکروں کو بھی نظر بند کیا ۔اقتدار میں آنے کے بعد جگن موہن نے چندر بابو نائیڈو کی کئی اہم ترین اسکیموں کو پلٹ دیا ہے ۔اگر چندر بابو نائیڈو نے کرپشن کیا ہے جیسا وزیر اعلیٰ جگن موہن کہہ رہے ہیں تو جانچ میں سب سامنے آجائے گا اور قانون اپنا کام کرئے گا ۔لیکن سرکار کو ایسے انتقامی قدم اُٹھانے سے بچنا چاہیے جس سے اپوزیشن کی آواز دبانے کی تصدیق ہوتی ہو ۔

(انل نریندر)

دہلی پولس افسر چھایہ کو ایشیاگیم چینجر ایوارڈ

حال ہی میں میں نے نیٹ فلکس پر دہلی کرائم نامی ایک ٹی وی سیریل دیکھا یہ سال 2012کے خوفناک نربھایہ اجتماعی آبروریزی کے واقعہ کو لے کر بنایا گیا ہے اس میں ایک ایک تفصیل ،دہلی پولس کے افسروں کی اس کیس کو سلجھانے میں دن رات کی سخت محنت کو بہت ہی خوبصورت انداز سے دکھایا گیا ہے چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو بہت ہی پختہ طریقہ سے دکھایا گیا اس میں اہم کردار نبھانے والی ڈپٹی کمشنر آف پولس ساﺅتھ چھایا شرما کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے یہاں تک کہ وہ افسر رات کو ٹریک پینٹ پہنے ہی خبر ملتے ہی تھانے پہنچ گئی اور کئی دنوں تک اسی میں ڈیوٹی دیتی رہیں ایک بار وہ گھر بھی نہیں گئی ں یاہں تک کہ کپڑے بھی نہیں بدلنے کا موقعہ ملا یہ انہیں کی سخت محنت اور جد و جہد کا نتیجہ تھا کہ ان درندوں کو اتنی جلدی پکڑ لیا گیا ۔اس بہادر ڈی سی پی ساﺅتھ چھایہ شرما کے سر اس کارنامے کا سہرا جاتا ہے مجھے اُس وقت بڑی خوشی ہوئی جب یہ خبر پڑھ کر کہ چھایہ شرما کو چھ دیگر لوگوں کے ساتھ 2019کے ایشیا سوسائٹی گیم چینجر ایوارڈ کے لئے چنا گیا ہے۔نیویارک کی ایڈوانس کلچرل تنظیم ایشیا سوسائٹی نے نیو یارک میں بدھ کے روز ایوارڈ کا اعلان کیا یہ ایوارڈ اگلے ماہ ایک مخصوص تقریب میں دیا جائے گا۔ایشیا سوسائٹی عالمی معاملوں میں ایشیا اور امریکہ کے لوگوں لیڈروں،اداروں کے درمیان آپسی تال میل کو فروغ دینے اور ساجھے داری مضبوط کرنے کے میدان میں ایک اہم ترین تنظیم مانی جاتی ہے ۔تنظیم کا کہنا تھا کہ اُس وقت ساﺅتھ دہلی کی ڈپٹی کمشنر نے 16دسمبر 2012کو ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی بد فعلی کے واقعہ کی صبح سویرے خبر ملنے کے بعد فورا کارروائی کی۔ ایشیا سوسائٹی نے کہا کہ چھایہ شرما نے افسران کا متاثرین سے ان کے پس منظر پر غور کئے بغیر پوری عزت کے ساتھ برتاﺅ کرنے کی راہ دکھائی شرما کو ایوارڈ دینے کا اعلان کرتے ہوئے سوسائٹی نے کہا کہ چھایہ شرما نے دہلی اجتماعی بد فعلی معاملے سمیت بھارت کے کئی ہائی پورفائل جرائم کی جانچ کی تھی جیسا میں نے بتایا نربھیا اجتماعی بدفعلی معاملے میں اس سال ایک ٹیلی ویژن سیریل بنا انہوںنے بھارت میں پولس کے کام اور خاتون پولس ملازماﺅں کے رول کو بدل کر کے رکھ دیا افسر نے کہا کہ اس وقت ساﺅتھ دہلی کی پولس ڈپٹی کمشنر 16دسمبر 2012کو 23سالہ میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کی خبر ملتے ہی فورا کارروائی کی تھی ۔ہم چھایہ شرما کو مبارکباد دیتے ہیں ۔اور تمام دہلی پولس کی تعریف کرتے ہیں ہم دہلی پولس کو آئے دن گالی و نکتہ چینی کرتے نہیں تھکتے لیکن ان کے ذریعہ کی جارہی محنت معاملے سلجھانے کی تعریف کم ہی کرتے ہیں ۔چھایہ شرما کی جم کر تعریف ہونی چاہیے ۔

(انل نریندر)