21 فروری 2020

خواتین کسی سے کم نہیں ،حکومت اپنا دقیانوسی نظریہ بدلے

آج کے دور میں عورتوں نے ہر سطح پر ہر میدان میں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ گھر سے لے کر باہر تک کسی بھی محاظ پر پیچیدہ سے پیچیدہ حالات میں کام کرنے میں اہل ہیں ۔ان کی صلاحتیوں کو کٹگھرے میں کھڑا کرنا اپنے آپ میں بے حد افسوسناک ہے اب وہ بھی فوج میں کسی فوجی ٹکڑی کی کمان سنبھال سکیں گی ۔پیر کے روز یہ دور رس تاریخی فیصلہ سپریم کورٹ نے دیا ہے ۔مرکزی سرکار کو فٹکار لگاتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ عورتوں کو لے کر مرکز کی دقیانوسی ذہنیت کو بدلنا ہوگا ۔فوجی کمان میں تقرریوں میں خواتین کو شامل نہ کرنا غیر قانونی ہے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ و جسٹس اجے رستوگی کی بنچ نے کہا کہ لیڈی افسروں کو فوج کے دس شعبوں میں مستقل کمیشن دیا جائے ۔عدالت نے اسے لے کر مرکز کی پچھلی 25فروری کو مستقل کمیشن پالیسی کو منظوری دی تھی ۔حالانکہ بنچ نے صاف کیا کیونکہ جنگی ذمہ داری کے لئے خاتون افسروں کی تعیناتی ایک پالیسی ساز معاملہ ہے ۔اسے سرکار طے کرے سپریم کورٹ نے کہا کہ 2دسمبر 2011کو ہم نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک نہیں لگائی پھر بھی مرکز نے فیصلے کو لاگو نہیں کیا ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ یا جواز نہیں ہے ۔عورتوں کی جسمانی قوتوںپر مرکز کے نظریات کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ستر سال بعد بھی سرکار نے اپنے نظریے اور ذہنیت میں تبدیلی نہیں کی ۔فوج میں سچی یکسانیت لانی ہوگی ۔اصل میں تیس فیصدی خواتین جنگی علاقوں میں تعینات ہیں اور مستقل کمیشن سے انکار کرنے سے پہلے ہی پریشان ہیں عورتیں خواتین کے برابر ہیں ان کی وہ معاون نہیں سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا عورتیں اپنے مرد افسران کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھا سے کندھا ملا کر کام کرتیں ہیں اور لیڈی افسر اپنے ذمہ داری کے معاملے میں کسی بھی طرح کم نہیں ہیں ۔عدالت نے کہا کہ عورتوں کو جسمانی بنیاد پر پرمانینٹ کمیشن نہ دینا آئینی تقاضوں کے خلاف ہے ۔مستقل ذمہ داری سے لے کر یونٹ اور کمان کی قیادت یعنی کمانڈ پوسٹنگ کو لے کر سرکار کا رخ بے حد منفی تھا ۔عدالت میں جس طرح کی دلیلیں دی گئیں وہ نہ صرف بے حد کھوکھلی تھیں بلکہ برابری کے تقاضوں پر مبنی تھیں ۔ایک جدید سماج میں پختگی کے خلاف بھی جہاں خود سرکار کو سماج میں پہلی عورتوں کے تئیں پسماندہ اور سامنتی خیالات کو ٹوٹ کر جنسی برابری کی سمت میں آگے بڑھنے دینا چاہیے تھا ۔وہاں اُس نے عدالت میں عورتوں کی صلاحیت کو کٹگھرے میں کھڑا کیا ۔یہاں تک کہ عورت کے خلا ف اوسطا مردوں کی ذہنیت کو اپنی دلیل میں پیش کیا 51خواتین کو یہ جنگ جیتنے کا یہ سہرا جاتا ہے جو اپنے حق کے لئے لڑتی آرہی ہیں ۔بتا دیں کہ فیصلہ ان افسروں کی عرضی پر ہی آیا ہے اس وقت فوج میں 1653خاتون افسر ہیں جو افسروں کی تعداد کا 3.9فیصد ہے اور 30فیصد خواتین جنگی میدانوں میں تعینات ہیں ۔

(انل نریندر)

شاہین باغ کو لے کر اگلے سات دن اہم ترین

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شاہین باغ کو لے کر اگلے کچھ دن اہم ترین ہیں ۔شاہین باغ میں شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف دو مہینے سے شاہین باغ میں چل رہے دھرنے سے متعلق ایک عرضی پر سپریم کورٹ نے جمہوریت میں احتجاج کے حق اور مظاہروں کے ذریعہ عام زندگی ٹھپ کر دینے کے فرق کو بھی مناسب طریقے سے رکھا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ جمہوریت نظریات رکھنے کی تو اجازت دیتی ہے لیکن ان کی حدود اور لائن بھی ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ شاہین باغ میں مظاہرین نے وہ سڑک بند کر رکھی ہے جو دہلی اور نوئیڈا کو جوڑتی ہے اس سے دہلی اور نوئیڈا کے درمیان سفر کرنے والوں کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے اس لئے سپریم کورٹ کو کہنا پڑا کہ یہ اشو عام زندگی ٹھپ کرنے سے پریشانی سے جڑا ہے اس نے کہا تھا کہ ایک عام شاہراہ پر طویل مدت کے لئے مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا ۔عدالت کی تشویش یہ ہے کہ شاہین باغ کی طرز پر لوگ اگر سماج اور سرکار تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے پبلک مقامات پر مظاہرہ کرنے لگیں تو بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ مظاہرے کرنے کے لئے جنتر منتر متعین ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے سڑک خالی کرانے کی کوئی ہدایت دینے کے بجائے مظاہرین سے بات چیت کرنے کے لئے مذاکرات کار مقرر کر دئے ۔وہ شاہین باغ گئے تھے وہاں دھرنا دے رہی عورتوں کا کہنا ہے کہ اگلی تاریخ پر سپریم کورٹ نے راستہ خالی کرنے کی ہدایت دی تو سبھی مظاہرین اسے تسلیم کریں گے ۔عورتوں نے سپریم کورٹ کے ذریعہ مذکرات مقرر کرنے کا خیر مقدم کیا ۔سپریم کورٹ میں سماعت پیر کو صبح ہے ۔جس وجہ سے شاہین باغ کے مسئلے پر نگاہیں لگی ہوئی تھیں ۔عدالت نے کہا کہ دہلی پولیس اور دہلی سرکار کو مظاہرین سے بات کرنی چاہیے ۔اور عدالت کی طرف سے بات چیت کے لئے وکیل سنجے ہیگڑے ،سادھنا رام چندرن اور سابق انفورمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ ثالثی مقرر کرنےکے لئے دھرنے پر بیٹھی عورتو ں نے خیر مقدم کیا ۔دھرنے پر بیٹھی دادی بلقیس نے اسٹیج سے دوسری عورتوں کو اس کی جانکاری دی دادیوں کا کہنا تھا کہ وہ ثالثیوں کے سامنے اپنی بات مفصل رکھیں گی ۔لیکن پولیس کے کسی بھی افسر سے بات نہیں ہوگی ۔اس معاملے میں پولیس کا رول شروع سے ہی مشتبہ رہا ہے ۔اُدھر سپریم کورٹ میں سماعت سے پہلے شاہین باغ میں معمولی بھیڑ تھی لیکن اس کے بعد وہاں کافی لوگ جمع ہو گئے ۔کچھ لوگ سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط بتا رہے تھے ۔یہ دکھ کی بات ہے کہ راستہ کھلوانے کا بھی کام سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے ۔یہ کام سرکار کا ہے ۔اگر سرکار کے سطح پر مظاہرین سے بات چیت کی پہل ہوتی تو ممکن ہے کہ حل نکل سکتا تھا لیکن اس سے الٹا کیا گیا ۔مگر اب بھی موقع ہے کہ سرکار چاہے تو بات چیت سے حل نکل سکتا ہے ۔لیکن بات چیت تو شروع کی جاے؟

(انل نریندر)

20 فروری 2020

عدم اتفاق جمہوریت کا محفوظ والو ہے !

سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے سنیچر کو ایک اہم ترین بیان دیا اور ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب شہریت ترمیم قانون او راین آر سی کے احتجاج میں دیش بھر کے کئی حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں جسٹس موصوف نے سنیچر کو کہا کہ عدم اتفاق کو جمہوریت کی حفاظت کے والو کی طرح دیکھنا چاہیے اور عدم اتفاق کو سرے سے ملک مخالف اور جمہوریت مخالف بتا دینا آئینی اقدار کے تحفظ کے بنیادی نظریے پر چوٹ کرتا ہے ۔اور اس پر لگام لگانے کے لئے سرکاری مشینری کاا ستعمال ڈر کا احساس پیدا کرتا ہے ۔جو قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔انہوںنے منفی رائے کی سرپرستی کی یہ یاد دلائی کہ جمہوری طور سے ایک منتخب سرکار ہمیں ترقی اور سماجی تال میل کے لئے ایک با قاعدہ موقع فراہم کرتی ہے وہ ان اصولوں و شناختوں پر بھی کبھی ایک طرفہ اختیار کا دعوی نہیں کر سکتی جو ہماری کثیر سماج کو تشریح کرتی ہے ۔جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ رائے زنی والے مذاکرہ کی سرپرستی کرنے کا عزم ہر جمہوریت کا ایک ستون ہے ۔اور کامیاب جمہوریت کا ایک ضروری پہلو بھی ہے ۔جمہوریت کا اصلی امتحان ان گنجائشوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ہے جہاں ہر شخص بغیر کسی خوف کے اپنے خیال رکھ سکے آئین میں آزاد خیالی نظریہ رکھنے کا عہد ہے ۔او ر بات چیت کے لئے ایک عہد بند ایک جائز حکومت سیاسی حریف پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ اس کے خیالات کا خیر مقدم کرئے گی ۔غور طلب ہے کہ جسٹس چندر چوڑ اس بنچ کے حصہ تھے جس نے یوپی میں سی اے اے خلاف مظاہروں کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے اس کا ہرجانہ وصولنے کے لئے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے نوٹس پر جنوری میں ریاستی سرکار سے جواب مانگا تھا ۔انہوںنے کہا کہ نظریات کو رکھنا دیش کے سمان کو بڑھاتا ہے ۔یہ بھی کہا کہ کوئی شخص یا ادارہ بھارت کے تصور پر ایک طرفہ حق رکھنے کا دعوی نہیں کر سکتا انہوںنے کہا کہ آئین کے معیاماروں نے ہندو بھارت یا مسلم بھارت کے نظریے کو مسترد کر دیا تھا ۔انہوںنے صرف جمہوری مملکت کو منظوری دی تھی ۔

(انل نریندر)

پی ایم مودی پوچھیں گے -کیم چھو ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مہینے کی 24,25تاریخ کو اپنے دو روزہ دورے پر بھارت تشریف لا رہے ہیں ۔ٹرمپ کے خیر مقدم میں کوئی کمی نہ رہ جائے اس لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اپنے بھارت دورے پر ٹرمپ محض تین گھنٹے کے لئے احمد آباد آئیں گے مگران کے یہ تین گھنٹے گجرات انتظامیہ کو کافی مہنگے پڑ رہے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق تین گھنٹے کے ٹرمپ دورے کے لئے گجرات انتظامیہ کو 100کروڑ روپئے تک کی رقم خرچ کرنی پڑ رہی ہے یعنی ایک منٹ میں قریب 55لاکھ روپئے ۔کرکٹ اسٹیڈیم سے لوٹنے کے لئے ائیر پورٹ تک خاص طور سے بنائی جا رہی ڈیڑھ کلو میٹر لمبی سڑک پر ہی قریب ساٹھ کروڑ روپئے خرچ ہوئے ہیں اس روٹ اور جگہ کو خوبصورت بنانے کے لئے آٹھ کروڑ روپئے کا بجٹ رکھا گیا ہے ۔راستے میں جتنی جھگیاں آرہی ہیں ان کے ساتھ ساتھ اونچی دیوایں بنائی جا رہی ہیں تاکہ ٹرمپ بھارت کی یہ تصویر نہ دیکھ سکیں یہ دورہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی دونوں کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے ۔امریکی کانگریس کے ایوان بالا سنٹ کے ذریعہ مقدمہ چلانے کی کارروائی سے بچنے میں کامیاب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو اس برس صدارتی چناﺅ کا سامنا کرنا ہے امریکہ کی اب تک کی جمہوری تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ مقدمہ کے کارروائی سے بچنے کے بعد کوئی بھی صدر دوبارہ اس عہدے کے لئے چناﺅ لڑنے جا رہا ہے ۔ظاہر ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹرمپ کے خلاف کرپشن کے جو ثبوت اکھٹے کئے ہیں وہ سبھی چناﺅ مہم کے دوران اُٹھاے جائیں گے جن کا سامنا ٹرمپ کو کرنا پڑئے گا امریکہ میں ہندوستانی نژاد امریکیوں کی تعداد کافی ہے ۔اس دورے سے وہ اپنی راغب کرنا چاہیں گے ۔خیال رہے کہ نریند مودی جب حال ہی میں امریکہ گئے تھے تو اپنی ایک عظیم الشان ریلی میں انہوںنے بھی ٹرمپ کے لے ہندوستانیوں سے ووٹ کی اپیل کی تھی وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے حالیہ وقت زیادہ بہتر نہیں رہا ۔سی اے اے اور این آر سی کے خلاف بنا ماحول انہیں ضرور ستا رہا ہوگا ۔رہی سہی کسر دہلی اسمبلی چناﺅ نتائج نے پوری کر دی جہاں ساری طاقت لگانے کے باوجود بھاجپا کیجرویوال کی عام آدمی پارٹی سے ہار گئی بھاجپا میں چناﺅ وزیر اعظم مودی کے چہرے پر لڑا گیا تھا ۔اس بات کا امکان کم ہی نظر آرہا ہے کہ ٹرمپ کے دورہ بھارت سے سی اے اے تحریک مدھم پڑ جائے گی ۔اس بات سے بھی انکا ر نہیں کیا جا سکتا کہ ٹرمپ کے دورے کے دوران تمام دنیا کی توجہ ان کے بھارت دورے پر لگی ہوگی اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تحریک اور تیز ہو جائے اس لئے ٹرمپ اور مودی دونوں اس دورے کو ایک موقعہ میں بدلنے کی بھر پور کوشش کریں گے وزیر اعظم مودی پچھلے برس امریکہ کے شہر ہوسٹن میں ہوئے ہاﺅڈی مودی کے کجرات ایڈیشن کیم چھو مسٹر پرسیڈینٹ پیش کرنے کی کوشش میں ہیں ۔پچھلے چھ مہینے بھارت میں سفارتی سطح پر اتھل پتھل ہو رہی ہے ۔پہلے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کو بے اثر کا کرنے کا معاملہ ہو یا بعد میں شہریت ترمیم قانون ،پاکستان سمیت کچھ دیشوں نے اس کو بین الا اقوامی رنگ دینے کی کوشش کی زیادہ تر دیشوں نے جہاں دونوں ہی مسئلوں کو بھارت کا اندرونی معاملہ بتایا وہیں ٹرمپ کا رخ الجھن بھرا رہا ۔ٹرمپ کئی بار ثالثی کی تجویز رکھ چکے ہیں ایسے میں بھارت میں ٹرمپ کے دورے سے اس معاملے کا مستقل حل نکالنا چاہے گا ساتھ ہی ٹرمپ اگر پاکستان نہیں جاتے ہیں تو یہ بھی بڑا پیغام ہوگا ٹرمپ کے دورے کے درمیان دونوں ملکوں کے ٹریڈ معاہدے پر مہر لگنے کا امکان جتایا گیا تھا لیکن تازہ اطلاع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا ہے کہ ان کے دورے میں کوئی ٹریڈ سمجھوتہ نہیں ہوگا۔اس سے بھارت کے معاشیاتی حلقوں میں مایوسی ضرور چھا گئی ہے ۔چونکہ مندی کے دور سے گزر رہی ہندوستانی معیشت کو تجارتی سمجھوتے سے سنجیونی مل سکتی تھی ۔دراصل بھارت اس ڈیل میں امریکہ کا کچھ خاص رعایتوں کی مانگ کر رہا ہے ۔بھارت نے میک ان انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔اس کے علاوہ بھارت امریکہ سے دوبارہ سے خصوصی درجہ بحال کرنے کی بھی مانگ کر رہا ہے کیونکہ دورہ بھارت پر پاکستان کی نگاہیں بھی لگی ہیں کشمیر کو لے کر وہ پہلے سے ہی پریشان ہے ۔ٹرمپ کشمیر میں ثالثی اور مدد کے شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں جو بھارت کا اکثر ناگوار گزرے ہیں ایسے میںیہ دیکھنے کی بات ہے کہ ٹرمپ کے اس دورے سے بھارت کو کتنا اور کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے ؟

(انل نریندر)

18 فروری 2020

رائے دہندگان نے نفرت کی سیاست کو مسترد کیا

غیر ملکی میڈیا میں عام آدمی پارٹی کی جیت اور بھاجپا کی ہار کی خبریں چھائی رہیں اور انہوںنے مانا کہ رائے دہندگان نے نفرت کی سیاست کو مسترد کیا ہے ۔وہیں وزیر اعظم نریندر مودی کو اشارہ کیا ہے کہ انہیں پارٹی پر اپنا اثر بڑھانے اور ورکروں کو خود قابو کرنے کی کوشش کرنی چاہیے دوسرے الفاظ میں وہ پارٹی اور ورکروں کو امت شاہ کے بھروسے اب نہیں چھوڑ سکتے ۔دی نیویارک ٹائمس نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ نریندر مودی کی راشٹروادی پارٹی کو ایک علاقائی سیاسی پارٹی نے ذبردست شکست دے دی ہے اسے مودی کی پالیسیوں پر فیصلے کی منفی کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ان پارلیسیوں میں ملک کے اندر مسلم مخالف سی اے اے بھی شامل ہے ۔دراصل مودی کے کئی پالیسیوں کو لے کر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اپنی ناراضگی جتا چکے ہیں ۔دہلی کی عآپ سرکار کی تعلیم اور صحت اور بجلی پانی کی پالیسیوں کو لوگوں میں زبردست حمایت دی ہے بھاپا نیتاﺅں کا قومی اشوز پر دہلی چناﺅ لڑنے کی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے اور عوام نے دکھایا ہے ک ریاست کے چناﺅ میں اسے مقامی اشوز میں دلچسپی ہے ۔ناکہ قومی مسئلوں پر یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا چناﺅ میں مودی نے دہلی کی ساتوں سیٹیں جیتی تھیں لیکن پارٹی اب اسمبلی چناﺅ ہار گئی ۔پاکستان کے دو اخباروں نے دہلی اسمبلی چناﺅ پر رائے زنی کی ہے ۔انگریزی اخبار ایکسپریس ٹری بیون نے لکھا ہے کہ شہری ترمیم قانون مودی کو لے ڈوبا یہ عنوان لگایا گیا ہے اخبار لکھتا ہے کہ دہلی اسمبلی چناﺅ میں عام آدمی پارٹی نے مودی کی بھاجپا کو تیسری مرتبہ شرمناک شکست دی ہے ۔انگریزی اخبار ڈان نے لکھا کہ سی اے اے کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے کے بعد مودی کے لے دہلی چناﺅ پہلی چنوتی تھی اور اس کو بھنانے کے لئے پارٹی نے جارحانہ چناﺅ پرچار بھی کیا لیکن لوگوںنے اس پر توجہ نہ دی ۔ہار بھاجپا کے لئے پچھلے دو برسوں میں کئی ریاستوں کے چناﺅ سے مل رہی ہے ۔شکست کی تازہ کڑی ہے دہلی چناﺅمیں ہار ۔وہیں خلیج ٹائمس نے لکھا کہ حکمراں بھاجپا نے دہلی چناﺅ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور اس کی جھولی میں صرف آٹھ سیٹیں آئی ہیں ۔دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے چناﺅ کی کمان سنبھالی اور انہوںنے دہلی میں ہندو وٹروں کو لبھانے کی کوشش کی مگر تمام کوششوں کے باوجود دہلی کے ووٹروںنے مودی سرکاری کی پالیسی کو مسترد کر دیا اور دھول چٹا دی ایک دوسرے غیر ملکی اخبار نے لکھا ہے کہ دہلی کے چناﺅ بھارت کے لئے سیاسی طور سے اہم ہیں ۔ایک طرف تو اس نے دکھایا کہ لوگوںنے نفرت کی سیاست کو قبول نہیں کیا وہیں ووٹر سیاسی پارٹیوں کی وکاس کے نعروں کو کوئی سنجیدگی سے لیتے ہیں اروند کجریوال کی بھاری جیت اس بات کا اشارہ ہے کہ دہلی کی جنتا نے نفرت کو مسترد کیا اور وکاس کو چنا ہے ۔

(انل نریندر)

پلوامہ حملے کی برسی پر چھڑی سیاسی جنگ

پلوامہ حملے پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے بیان پر سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے ۔پلوامہ حملے کی پہلی برسی پر جمعہ کو نریندر مودی سرکار پر کانگریس نے جم کر نکتہ چینی کی اور سوال کیا کہ اس واقعہ سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا اس کی جانچ رپورٹ سامنے کیوں نہیں لائی گئی راہل گاندھی نے شہید جوانوں کے جسد خاکی والے تابوت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ آج جب ہم پلوامہ حملے میں شہید ہوئے چالیس جوانوں کو یاد کر رہے ہیں تو ہمیں یہ پوچھنا ہے کہ اس حملے کی جانچ میں کیا نکلا؟حملے سے وابسطہ سیکورٹی میں خامی کے لئے بھاجپا سرکار میں اب تک کس کو جواب دینا ہے ؟پلوامہ حملے کی برسی پر کمسٹ پارٹی نے واقعہ کی جانچ رپورٹ کے بارے میں یہ سوال کیا اور یہ بتانے کو کہا کہ اس کے لئے کسے جواب دہ ٹھہرایا گیا ہے؟کمیونسٹ نیتا سیتا رام یچوری نے کہا کہ ساتھ ہی پارٹی نے اس حملے میں مارے گئے سی آر پی ایف کے جوانوں کے نام پر بھاجپا پر ووٹ مانگنے کا الزام لگایا ۔انہوںنے پوچھا کہ آتنکی حملے کے سال بھر بعد جانچ رپورٹ کہاں ہے ؟اتنی ساری اموات کے لئے اور خفیہ مشینری کی بڑی ناکامی کے لئے کسے جواب دہ و ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے؟انہوںنے سی آر پی ایف کے شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے نام پر ووٹ مانگنے کا بھی الزام لگایا ۔یچوری نے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا نے اس کو سیاسی رنگ دیا ہے ۔کانگریس نے سوال کیا کہ پلوامہ حملے کی جانچ رپورٹ ابھی تک سامنے کیوں نہیں لائی گئی ؟اس حملے سے کئی ایسے سوال وابسطہ ہیں جن کے جواب ملنا باقی ہیں مثلا اس کے لئے کون ذمہ دار ہے ؟350کلو آر ڈی ایکس کون لے کر آیا حملے کے بارے میں خفیہ معلومات کیوں نظر انداز کیا گیا ۔کیا گرفتار ڈی ایس پی دیوندر سنگھ کا اس حملے میں کوئی رول تھا ؟بھاجپا نے راہل گاندھی کے بیان پر تلخ رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ ان پر آتنکی تنظیموں لشکر طیبہ ،جیش محمد سے ہمدردی رکھنے کا الزام لگایا اور یہ بیان ان شہیدوں کی بے عزتی ہے جنہوںنے دیش کے لئے اپنی جان نچھاور کر دی ۔بھاجپا کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ شری متی اندرا گاندھی راجیوگاندھی کے قتل کا کسے فائدہ ملا؟اس سیاسی تنازعہ میں اصل سوال دب رہے ہیں ۔اتنا بڑا حملہ ہوا کہ چالیس جوان شہید ہوئے اور آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ آخر اتنا بڑا حملہ کیسے ہوا کون کون اس کے لئے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں؟

(انل نریندر)

16 فروری 2020

19سال بعد پھر نکلا میچ فکسنگ کا بھوت

بھارت اور ساﺅتھ افریقہ کرکٹ میچ فکسنگ کانڈ کے اہم ملزم سنجیو چاﺅلہ کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ پولیس کا 20سال بعد لندن سے دہلی لے کر آنا اس نظریے سے بھی اہم ہے کہ اس میچ فکسنگ کے کئی راز کھلیں گے ۔وزارت خارجہ نے گذشتہ سال مارچ میں برٹش حکومت کو سنجیو چاﺅلہ کے بارے میں ایک ڈوزیئر دے کر واپسی کا عمل شروع کیا تھا ۔50سالہ سنجیو چاﺅلہ برطانوی شہری ہے ۔دہلی پولیس کی ٹیم نے اسے عدالت میں پیش کیا عدالت نے اسے پوچھ تاچھ کے لئے بارہ دنوں کی پولیس حراست میں بھیج دیا ۔میچ فکسنگ معاملہ میں سنجیو چاﺅلہ کے پاس کئی سابق کرکٹروں کے راز ہیں ۔ساﺅتھ افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونیے سے جڑے میچ فکسنگ معاملے میں ماسٹر مائنڈ رہے چاﺅلہ کے کئی ہندوستانی اور بین الاقوامی کرکٹروں کا آنا جانا تھا ۔میچ فکسنگ میں اس وقت کی افریقی ٹیم کے کپتان ہنسی کرونیے سمیت چھ لوگ شامل تھے ۔پولیس نے سنجیو سے پوچھ تاچھ کے لئے سوالات تیار کئے ہیں ،جس کے ذریعہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کرونیے کے ساتھ ساتھ اس میں کن دیگر کھلاڑیوں سے تعلقات بنایے تھے ؟اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ میچ فکسنگ میں اُس نے کسی بھارتیہ کھلاڑی سے تو رابطہ نہیں کیا تھا ۔پولیس افسران کو یقین ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران سنجیو چاﺅلہ کچھ بڑے کھلاڑیوں کے ناموں کا کھلاسہ کر سکتاہے ۔معاملہ درج ہونے کے دو دہائی بعد اہم ملزم سنجیو چاﺅلہ پولیس کی گرفت میں آیا ہے حالانکہ پہلے بھی اس معاملے میں کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جا چکی ہے لیکن اہم ملزم ہونے کی وجہ سے سنجیو چاﺅلہ سے کئی جانکاریاں ہاتھ لگنے کی امید ہے کیونکہ سنجیو ہی کھلاڑیوں سے رابطے کا اہم ذریعہ تھا ۔اس کے ذریعے ہی میچ فکسنگ کی گئی تھی پولیس کے ڈپٹی کمشنر رام گوپال نائک نے بتایا کہ جب سے معاملہ درج کیا گیا تب ہی سے وہ لندن میں رہ رہا تھا ۔سنجیو چاﺅلہ کو بھارت لانے کے لئے کرائم برانچ کی ٹیم لگی ہوئی تھی ۔جس کے لئے وزارت خارجہ اور بھارتیہ ہائی کمیشن لندن ،وزارت داخلہ،برٹش امبسی اور سنٹرل اتھارٹیوں کی مدد سے لگاتار رابطہ کیا گیا اور قانون کارروائی کی جاتی رہی ۔میچ فکسنگ معاملے کی جانچ کرتے ہوئے دہلی پولیس کی کرائم برانچ تین ملزمان کرشن کمار ،سنیل دارہ،اور راجیش کاٹرا کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے ۔دو ملزمان سنجیو چاﺅلہ اورمن موہن پولیس کی گرفت سے بچ رہے تھے ۔پولیس کے مطابق سنجیو چاﺅلہ لندن میں چھپا ہوا تھا جبکہ من موہن کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ وہ امریکہ میں ہے ۔ہنسی کرونیے کی2002میں ایک ہوائی حادثے میں موت ہو گئی ہے ۔

(انل نریندر)

حافظ سعید کی سزا ،دباﺅ میں اُٹھایا گیا فیصلہ

لاہو ر کی دہشتگردی مخالف کورٹ کے ذریعے جماعت الدعوہ کے سرغنہ حافظ سعید اور اس کے قریبی کو ساڑھے پانچ سال کی دو سزاﺅں سے اتنا تو ثابت ہوہی گیا ہے کہ بین الاقوامی دباﺅ کا اثر پاکستان کی عمران خان سرکار پر ہے ۔نہیں تو اس کا مقدمہ اس سے پہلے کبھی بھی ٹھیک طریقے سے نہیں چلایا گیا ۔پاکستان کی دہشتگردی مخالف عدالت (اے ٹی ایم)نے سعید اور اس کے قریبی اقبال کو دہشتگردی میں مالی مدد کے دو معاملوں میں ساڑھے پانچ سال کی قید کی سزا سنائی ۔دونوں سز ا ایک ساتھ چلیں گی ۔پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے اس معاملہ میں سختی دکھائی ہے ،لیکن اس کے پس منظر پر اگر نگاہ ڈالیں تو فی الحال یہ صرف رسم ہی پورا کرنا دکھائی دیتا ہے ۔اب تک جماعت الدعوہ کے چیف حافظ سعید کی کار گزاریاں جگ ظاہر ہونے کے باوجود پاکستان نے اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کو لے کر جس طرح کا ٹال مٹول والا رویہ دکھایا تھا اس سے تو نہیں لگتا تھا کہ اسے بچانے کی کوشش اعلیٰ سطح سے کی جا رہی تھی ۔لیکن یہ تبھی تب ممکن تھا جب تک کہ پاکستان کے اس رخ کا اثر اُس کے خلاف بننے والے عالمی ماحول اور اُس سے ہونے والے بڑے نقصان کی شکل میں اس کے سامنے نہیں آرہا تھا ۔ظاہر ہے کہ جب اس کی شروعات ہو گئی تب جا کر پاکستان کو شاید اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ ہوا ،چونکہ عدالت نے سعید کی دہشتگردی کے مالی مدد معاملے میں اس کے خلاف چل رہے معاملوں کو ایک ساتھ جوڑنے کی اپیل بھی قبول کر لی اس لئے آنے والے وقت میں اُس کو اور سزا بھی مل سکتی ہے ۔اس کے خلاف دہشتگردی کو مالی مدد کو لے کر کل 23مقدمے درج ہیں ۔دو میں سزا کے بعد اس کے خلاف اب بھی 21معاملہ قائم ہیں ۔ہمارے لئے یہ زیادہ راحت کی بات اس لئے نہیں ہے کہ سنسد حملہ سے لے کر 2006کے ممبئی سبربن ریلوں پر اور پھر 26نومبر2008کو سب سے بھیانک ممبئی حملے کو لے کر پاکستان کی یہی اے ٹی ایس ٹال مٹول کا رویہ اپناتی رہی ہے ۔اسے اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشتگرد قرار دیا جا چکا ہے ۔امریکہ نے اس پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہے ،تو اس کے دہشتگرد ہونے میں دنیا کو کوئی شک نہیں تھا لیکن پاکستان میں اسے پوری عزت اور سرکشا مل رہی تھی ۔لگتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ اسے بلیک لسٹ کئے جانے کے اندیشے میں پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ کچھ کارروائی کر کے دکھائے ۔لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کو جیل بھیجے کا فیصلہ کتنا اثر دار ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا کیونکہ یہ فیصلہ پاکستان کی زمین پر سرگرم آتنکوادی نیٹ ورک کے خلاف اسلام آباد کی کارروائی کو عالمی نگرانی ادارے کے ذریعے جانچ کئے جانے سے محض کچھ دن پہلے آیا ہے ۔یہ فیصلہ پیرس میں ہونے والی بیٹھک سے محض چار دن پہلے آیا ہے ۔

(انل نریندر)

15 فروری 2020

بھارت میں 26سال میں ٹڈیوں کو سب سے بڑا حملہ

بھارت کی تاریخ میں اس وقت زبردست ٹڈی حملے کی آفت آئی ہوئی ہے اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے مغربی ایشیائی ریگستان سے نکلیں ان آسمانی در انداز پرندوں نے گجرات ،راجستھان اور پنجاب میں پھیلے 1.68لاکھ اکیڑ سے زائد کھیتوں کی فصل برباد کر دی ہے ۔یہ بھارت میں 26سال میں سب سے بڑا حملہ ہے اس سے پہلے 1978,1993اور 1962میں یہ حملے دیکھے گئے تھے تب سردیوں کی وجہ سے یہ ختم ہو گئے تھے ۔راجستھان میں 169821گجرات میں 18737ایکڑ کھیتوں کو نقصان پہنچایا پنجاب میں نقصان کا اندازہ نہیں لگ سکا لیکن ایک اندازے کے مطابق سو کروڑ روپئے کا نقصان ہو گیا ہے اور قریب 1.5لاکھ کسان ان ٹڈیوں کی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں ۔پاکستان اور شومالیہ نے ٹڈی دل حملوں کے بعد قومی ایمرجنسی لگا دی ہے ۔ان حملوںنے ٹماٹر،گیہوں اور کپاس کی 40فیصد کھیتی کو نقصان ہوا ہے ۔ٹڈیوں کو ختم کرنے کے لئے راجستھان اور گجرات سرکاروں نے غیر منظم گروپ کے کیمکل کا استعمال کیا ۔اسے ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم کے وقت کیمیائی ہتھیار کے طور پر تیار کروایا تھا ۔اس زہریلی دوا کور اجستھان اور گجرات میں ہزاروں ایکڑ زمین پر چھڑکا گیا ۔یہ کیمکل اب پانی میں گھل کر اسے زہریلا بنائے گا انڈین آلودہ موسمیات سائنس انسٹی ٹیوٹ پونے کے سائنسداں راکسی میتھیو کول کے مطابق مئی و اکتوبر2018میں بحر ہند میں اسے لبان جیسے آفتوں کی وجہ سے یمن ،یو اے ای اور عمان ،سعودی عرب اور دیگر ریگستانوں میں اچھی بارش ہوئی جہاں یہ ٹڈیاں پلی بڑھیں اس سے ناگزیں حالات بننے کی شروعات ہوئی 90دن زندہ رہنے والی ان ٹڈیوں کا بھارت پہنچنے تک خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا لیکن مانسونی مہینوں اور پھر نومبر میں تھار ریگستان اور مغربی راجستھان میں اچھی بارش ہوئی اس کی وجہ سے جو ٹڈی جھنڈ یہاں پہنچے انہوںنے اگلی پیڑھی کو تیار کرنے کے لئے یہاں کم گرمی گھاس اور ہوا جیسے خوشگوار حالات پائے دو گرام کا یہ پرندہ ایک دن میں اپنے وزن کے برابر خوراک کھا جاتا ہے ۔یہ سفر بہت چھوٹا لگتا ہے تو لاکھوں کی تعداد میں آنے والے ان کے کسی جھنڈ کے بارے میں سوچ کر اندازہ لگائیں بھارت اس وقت ان ٹڈیوں کے جھنڈ کے سب سے خطرناک حملے سے گزر رہا ہے ۔عموماََ گرمی میں آنے والے ٹڈیوں کے جھنڈ کے و موسمی حملے نے زراعت اور ماحولیاتی سائنسدانوں کے کان کھڑے کر دئے ہیں ان کی آباد عام طور سے 20ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے اور سردیاں ختم ہونے کے بعد ان کی نئی پیڑھی تیار ہو سکتی ہے ۔تقریبا 40لاکھ ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ایک بار میں دس ہاتھی یا 25اونٹ کے ذریعہ کئے گئے نقصان کے برابر کھیتی کو برباد کر رہے ہیں ۔موٹے طور پر یہ نقصان 25ہزار لوگوں کی غذا کو برباد کرنے کے برابر ہے ۔ٹڈیوں کو ہوا میں مارنے کے لئے ضروری پلین و ڈرون تو مانگے ہی نہیں گئے ۔

(انل نریندر)

سی اے اے و این آر سی و شاہین باغ نے مسلمانوں کو متحد کیا

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے و کام کر دکھایا جو دھائیوں میں انتخابات میں نہیں ہو سکا تھا شہریت قانون کے سہارے بے شک بھاجپا نے ہندو ووٹروں کو اپنی طرف کھینچا لیکن ساتھ ساتھ مسلم ووٹروں کو بھی آپس میں متحد ہونے کا موقع دے دیا منقسم مسلمانوں نے اس مرتبہ دہلی اسمبلی چناﺅ میں آپسی اختلافات بھلا کر بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر ووٹ کیا اور یہ سارا ووٹ عام آدمی پارٹی کو چلا گیا سی اے اے ،این آر سی و شاہین باغ معاملے کا اثر ووٹروں پر بھلے نہیں رہا ہو لیکن مسلم اکثریتی علاقوں میں زبردست پولرائزیشن ہوا شہریت قانون کے خلاف احتجاج کی حمایت کرنے والی عآپ پارٹی کو راجدھانی کے پانچوں مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں میں جیت حاصل ہوئی ہے اور کانگریس کے سرکردہ مسلم چہروں کو مسترد کر دیا ۔جبکہ کانگریس نے بھی مسلم امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیا تھا ۔لیکن کانگریس کا ایک بھی امیدوار ان چناﺅ میں اپنی ضمانت تک نہیں بچا پایا مسلم اکثریتی علاقے کانگریس کے گڑھ مانے جاتے رہے ہیں بھاجپا نے ان سبھی جگہوں پر غیر مسلم امیدوار اتارے تھے اس کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ۔شہریت قانون و این آر سی کو لے کر شروع ہوئی تحریک سے متحد مسلم ووٹروںنے نہ صرف دہلی میں بھاجپا کو کامیابی سے دور رکھا بلکہ قریبی مقابلے والی سیٹ پر ہار کی سب سے وجہ بنی یہ علاقے ہیں جمنا پار کے مصطفی آباد ،شاہدرہ ،کرشنا نگر،اور پڈپڑ گنج میں آگے چل رہے بھاجپا امیدواروں کو مسلم اکثرتی پولنگ بوتھوں نے ہرا دیا ۔مصطفی آباد کے بھاجپا امیدوار جگدیش پردھان اور سنجے گوئل اور انل گوئل نے اعتراف کیا کہ ہماری وکاس کی جیت شاہین باغ اور مسلم ووٹروں نے روکی ہے ۔ووٹوں کی گنتی میں ان ساتوں سیٹوں پر کانٹے کا مقابلہ رہا کانگریس کھاتہ نہیں کھول پانے کو لے کر چاہے جتنی دلیلیں پیش کرئے لیکن قومی سطح پر پارٹی کی حکمت عملی بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ پی چدمبرم ،دگ وجے سنگھ،ادھیر رنجن چودھری،جیسے بڑبولے نیتاﺅں نے دہلی میں کانگریس کی ہار پر تشویش جتانے کے بجائے عام آدمی پارٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ۔جبکہ کانگریس ورکروں کو لگا کہ ہم جیت کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انہوںنے اپنا ووٹ ضائع نہ کر کے عام آدمی پارٹی کو منتقل کر دیا ۔اس چناﺅ کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ رہا کہ مسلمانوں کا متحد ہونا اور بھاجپا کو ہر حال میں ہرانا رہا ۔

(انل نریندر)

14 فروری 2020

گارگی کالج میں چھیڑ چھاڑ کا شرمناک واقعہ!

دہلی یونیورسٹی کے لڑکیوں کے گارگی کالج میں 6فروری کی شام طالبات سے جس طرح سے بد تمیزی چھیڑ خانی اور مار پیٹ کی گئی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہلی میں خواتین کتنی محفوظ ہیں؟بتا دیں کہ یہ واقعہ چھ فروری کو ایک فیسٹ فنکشن کے دن ہوا جس میں دس ہزار طالبات کی بھیڑ تھی اور اس تعداد کے مطابق وہاں حفاظت کے انتظام نہیں تھے ۔زوبن نوٹیال کے پروگرام کی وجہ سے شور شرابہ اتنا تھا کہ متاثرہ طالبات کی آواز کوئی سن نہیں پایا ۔سبھی کو انٹری کے لئے پاس جاری کیا گیا تھا ۔ایسے میں کیمپس میں بھاری بھیڑ اکھٹی ہو گئی جس میں باہری لڑکے بھی آگئے اور وہ طالبات سے قابل اعتراض حرکتیں کرتے رہے لڑکیاں چلائیں احتجاج کیا لیکن شور میں ان کی آواز کسی نے نہیں سنی جو سب سے آگے بیٹھے تھے انہیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ کالج کے اندر ایسا کچھ ہو گیا ہے ۔طالبات نے اس دن کی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سالانہ فنکشن کے دوران کالج کے کمپس میں داخل لوگ تیس سا ل کی عمر کے آس پاس کے تھے اور نشے میں تھے او رطالبات کو زبردستی ان کے جسم کو چھوا اور گھسٹا یہ حرکتیں ایسی تھی جب پولیس اور سیکورٹی ملازم تماشہ دیکھتے رہے اور وہ حرکت میں نہیں آئے ۔ان سے چھیڑ خانی سے صاف ہو گیا ہے کہ ان کی سیکورٹی پوری طرح سے پھیل ہو گئی ہے ۔ایک طالبہ نے بتایا کہ کالج انتظامیہ نے سیکورٹی انتظامات کا دعوی کیا تھا لیکن بھیڑ کا فائد ہ اُٹھا کر کچھ غنڈے گھس گئے دیش کے کسی بھی کالج میں اس طرح کا واقعہ نہیں ہو ا ہوگا اگر طالبات نے اس واقعہ کو اتوار کے روز ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر شیئر نہ کیا ہوتا تو اس کی خبر تک نہیں آپاتی ۔اور نہ ہی معاملہ لوک سبھا میں اُٹھتا ۔اب دہلی مہیلا کمیشن بھی حرکت میں آگیا ہے ۔اس نے بھی بر وقت کارروائی نہ کرنے کے لے پولیس کو نوٹس بھیج دیا ہے دہلی کے کالجوں میں حالانکہ سالانہ فنکشن کے دوران کچھ واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ۔اور ان سے بھی سبق لینا ضروری نہیں سمجھا گیا ۔اس واقعے نے دہلی میں قانون و نظام پر سوالیہ نشان اس لئے بھی لگا دیا ہے کہ دہلی میں کئی حکومتیں موجو د ہیں جس میں مرکزی حکومت دہلی حکومت وغیرہ شامل ہیں ۔چپے چپے پر پولیس کے نگرانی کیمرے لگے ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے اس کے باوجود بھی جرائم پیشہ اگر بے خوف رہتے ہیں تو یہ سوال اُٹھنا فطری ہے کہ انہیں کہاں سے سرپرستی اور شہ مل رہی ہے ؟جرائم پیشہ عناصر جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے اور سی اے اے کی حمایت میں اس وقت ریلی بھی نکل رہی تھی شاید فنکشن کی آواز سن کر اس میں سے کچھ لوگ کالج میں گھس آئے ہوں بہر حال اس واقعہ پر پورے سماج کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ گارگی کالج میں لڑکیوں پر حملہ کرنے والے کون تھے او رکون انہیں سر پرستی دے رہا ہے؟

(انل نریندر)

کجریوال کی تاریخی جیت ہے تو بھاجپا کی ہار اس سے بھی تاریخی

دیش کی راجدھانی دہلی میں 1998سے مسلسل اقتدار سے باہر بھاجپا کو ایک بار پھر اسمبلی چناﺅ میں ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔نئی حکمت عملی اہم قومی اشو اور پوری طاقت جھونکنے کے باوجود بھاجپا کے حصے میں 70میں سے محض 8ہی سیٹیں ملیں ہیں ۔یعنی پچھلی بار محض پانچ زیادہ حالانکہ اس کا ووٹ شیئر 6فیصدی سے زیادہ بڑھا ہے ۔مگر حکمراں عام آدمی پارٹی کے مفت بجلی ،پانی ،عورتوں کو ڈی ٹی سی میں فری سفر محلہ کلینک ،جیسے اشو کا بھاجپا کوئی توڑ نہیں نکال سکی ۔بھاجپا کی قیادت والی این ڈی اے پچھلے دو برسوں میں 7ریاستوں میں اپنا اقتدار گنوا چکی ہے ۔پچھلی مرتبہ اسمبلی چناﺅ میں تین سیٹیں جیتنے والی بھاجپا کو اس مرتبہ اچھی کامیابی کی امید تھی مگر اس کے اندازے غلط ثابت ہوئے ۔اسی کے ساتھ بھاجپا کے لئے دیش کا سیاسی نقشہ بھی نہیں بدلا ۔دہلی سمیت بارہ ریاستوں میں اب بھی بھاجپا مخالف حکومتیں ہیں ۔این ڈی اے کے پاس 16ریاستوں میں سرکاریں ہیں دہلی میں کجریوال کی جیت تاریخی رہی لیکن بھاجپا کی ہار بھی اس سے زیادہ تاریخی ہے ۔دیش کی تاریخ میں بھاجپا پہلی بار اتنی بری طرح ہاری ہے ۔ہو سکتا ہے کہ نمبر اس کی حمایت نہ کرتے ہوں لوگ کہیں کہ بھاجپا 1983میں صرف دو سیٹیں لائی تھی اب ان چناﺅ میں پارٹی کی ایک بار پھر سے سب سے بڑی ہار مانی جا سکتی ہے ۔اور یہ کوئی عام شکست نہیں ہے جو بی جے پی کو 1984میں ہاری وہ مرکز میں اس وقت سرکار بھی نہیں تھی اس کے پاس کافی وسائل تھے دہلی چناﺅ میں پچھلی بار بی جے پی ہاری تو اس نے اتنی بڑی بازی نہیں کھیلی تھی اس بار کا چناﺅ خاص تھا تھوڑا بہت نہیں 350سیٹیں لوک سبھا میں جیتنے کے ماہر ایم پی اس بار دہلی سڑکوں پر انچ بائی انچ سڑکوں پر گھومتے رہے جو کبھی ایسا تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملا بھاجپا کے چانکہ مانے جانے والے ۔امت شاہ اس طرح بڑی محنت اور لگن سے چناﺅ میں کبھی نہیں اترے تھے اور خود انہوںنے گلی گلی گھوم کر ووٹ مانگے تھے اور اپنے ہاتھ سے پرچے تک بانٹے تھے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے زوردار تقریروں سے عام آدمی پارٹی اور کانگریس پر جم کر حملہ بولا تھا ۔امت شاہ نے اپنے انداز میں ہر طرح سے انتظامیہ کو داﺅں پر لگا دیا تھا شاہین باغ میں فائرنگ معاملے میں کپل گوجر نامی لڑکا پکڑا گیا تو کھل کر دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کا نام تک لے لیا بی جے پی کے سارے وزیر اعلیٰ دہلی میں لوگوں کو رجھانے میں لگے تھے کچھ مذہب کے نام پر ووٹ مانگ رہے تھے تو کچھ لوگوں کو قسمیں کھلا رہے تھے ۔یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ریلیاں جان بوجھ کر ایسے علاقے میں رکھی گئیں جہاں مسلم آبادی بہت تھی اور جس وجہ سے کشیدگی کا پورا امکان تھا اور انہوںنے وہاں اشتعال انگیزی پر مبنی تقریریں کیں لیکن پھر بھی بھاجپا ہار گئی ۔اس سے بڑی ہار کیا ہو سکتی تھی ۔اس لئے بھی سب سے بڑی ہار ہے پارٹی نے اپنا ترپ کا پتہ بے کا رپھینکا دھرم کے نام پر ووٹ کمانے کے لے پارٹی کے ایم پی پرویش ورما نے یہاں تک کہہ دیا کہ مسلمان دھرنے سے اُٹھ کر ہندوﺅں کے گھروں میں گھس جائیں گے اس بیان کے لئے چناﺅ کمیشن نے ان پر پابندی لگا دی اور وزیر مملکت خزانہ انوراگ ٹھاکر کے گولی مارو والے بیان کے لے ان پر ایف آئی آر درج ہوئی اور پابندی بھی لگی ۔بی جے پی نے اپنے سب سے خاص مہروں کو بھی داﺅں پر لگا دیا ۔شاہین باغ کو لے کر پارٹی کے ترجمان سنبت پاترا نے فرضی ویڈیو سوشل میڈا پر ڈالے دہلی میں خود وزیر اعظم مودی نے لوگوں سے سیدھے سیدھے ووٹ مانگے اور پارلیمنٹ میں صدر کے ایڈرس پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران وزیر اعظم نے وہی تقریر کی جو ان کی دہلی میں چناﺅ ی تقریر تھی اس مرتبہ بھاجپا نے دہلی کے ستر اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی کمپین کے لے 350سے زیادہ نیتاﺅں کی فوج اتار دی بھاجپا حکمراں ریاستوں کے زیادہ تر وزیر اعلیٰ اور این ڈی اے کے ممبران نے بھاجپا کی چناﺅ مہم کے لئے ہاتھ ملایا لیکن پارٹی پھر بھی ہار گئی اور یہ بی جے پی کی سب سے بڑی ہار مانی جا سکتی ہے ۔

(انل نریندر)

12 فروری 2020

یہ تو گرنا ہی تھا !

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف پارلیمنٹ میں جو مقدمہ چلانے کی کاروائی چل رہی تھی اس کا نتیجہ کسی کو بھی حیرت میں ڈالنے والا نہیں ہے ٹرمپ کے خلاف سینٹ میں مقدمہ چلانے کے الزامات سے بری کر دیا ہے اپوزیشن ڈیموکریٹو پارٹی کے ممبران کی طرف سے لگائے گئے اقتدار کے بے جا استعمال اور مقدمہ چلانے کی کاروائی میں روڑے اٹکانے کے الزامات سے متعلق دونوں پرستاو ¿ گرگئے ہیں۔کرٹ رومنی کو چھوڑ کر حکمراں رپبلکن پارٹی کے سبھی ممبران پارلیمنٹ نے ٹرمپ پر لگائے گئے الزامات کے خلاف ووٹ ڈالا ۔بدھوارکو جب سبھی رپبلکن سینیٹر نے اقتدار کے بے جا استعمال کے الزام سے ٹرمپ کو بری کرنے کا فیصلہ لیا تب سینٹر رومنی نے بہت ہمت کاثبوت دیا ۔دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ صدر کے حق میں ووٹ کریں گی ۔ان کی سیدھی دلیل تھی کہ صدر فطری طور پر قصوروار ہیں اس میں کوئی سوال نہیں کہ صدر نے ایک غیرملکی طاقت سے اپنے سیاسی حریف کی جانچ کے لئے کہا میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اپنے ہاتھوں میں اقتدار رکھنے کے لئے کوئی کسی چناو ¿ کو اس طرح سے کرپٹ بنا کر آئین پر ایسا غرور پر مبنی حملہ کر سکتے ہیں ؟صدر نے یہی کیا اپنے ساتھیوں سے الگ رومنی میں سچائی کو نظر انداز کرنے سے انکار کر دیا میں یہ دیکھ رہا تھا کہ اس نتیجہ پر کیسے پہونچتا ہوں اور ان باتوں کو سچی نامانوں جنہیں میرے دل اور دماغ میں پل رہی ہیں ۔امریکی میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اس الزام کو صحیح بھی مانتا رہا یہ بات مقدمہ کے پرستاو ¿ گرنے کے بعد امریکہ نے جاری رد عمل سے صاف ہے ۔حالانکہ یہ معاملہ صرف مقدمہ چلانے کا نہیں ہے اس سے بھی ایک سیاسی سیاست جڑ ی ہوئی ہے ۔امریکی صدر کا چناو ¿ اب بہت دور نہیں ہے ۔اپوزیشن ڈیموکریٹو پارٹی اس مقدمہ کے بہانے اقتدار میں واپسی کا راستہ تیار کرنا چاہتی ہے شروع سے ہی وہ یہ مان کر چل رہی تھی کہ اس پوری کاروائی سے اسے ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف ماحول بنانے میں مدد ملے گی ۔مانا جاتا ہے اس کام میں کچھ حدتک کامیابی بھی ملی ہے حالانکہ ابھی یہ کہہ پانا مشکل ہے کہ آئندہ صدارتی چناو ¿ پر اس معاملہ کا اثرہوگا یا نہیں وہ بھی تب جب جیت کا سہرہ ڈونالڈ ٹرمپ کے سر پر بندھا ہے ۔ظاہر ہے مقدمہ پرستاو ¿ گرنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی رپبلکن پارٹی اب زبردست جوش سے اپنی چناو ¿ مہم میں اترے گی ۔

(انل نریندر)

عمر عبداللہ اور محبوبہ پر پی ایس اے لگانے کا سوال!

کانگریس نے 6ماہ سے حراست میں چل ہرے جموں کشیمر کے دو سابق وزیر اعلیٰ پر اب پبلک سیفٹی قانون (پی ایس اے )لگانے پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کی مانگ کی ہے ۔جموں کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ دنوں عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس اے لگادیاتھا دونوں نیتا پچھلے 5اگست سے نظر بند ہیں اب دو دیگر نیتاو ¿ں پر بھی پی ایس اے لگایا گیا عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پہلے سے ہی اس قانون کے تحت بند ہیں ۔محبوبہ مفتی اور عمر کی حراست میعاد جمعرات کو ختم ہو رہی تھی ۔جمعرات کو مجسٹریٹ دونوں نیتاو ¿ں کے بنگلہ پر پہونچے اور انہیں حکم کی جانکاری دی کہ انہیں سلامتی اورامن کے لئے خطرہ مانتے ہوئے پھر پی ایس اے برقرار رکھا جاتا ہے 1978میں شیخ عبداللہ نے اس قانون کو نافذ کیا تھا ۔2010میں اس میں ترمیم کی گئی جس کے تحت بغیرمقدمہ کے کم سے کم 6مہینے تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے ۔سرکار چاہے تواسے دو سال تک بڑھا سکتی ہے ۔کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا واڈرا نے عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس اے لگانے کے سرکار کے قدم پر سوال کھڑا کیا ہے ۔سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے مرکز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بغیر الزام کسی کو حراست میں رکھنا نچلی سطح کا کام ہے ۔مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نے بھی کہا سرکار کے اس قدم سے صاف ہے کہ جموں کشمیر میں حالات بہتر ہونے کا سرکار کا دعویٰ غلط ہے ۔پرینکا واڈرا نے ٹوئیٹ کیا ہے جس کس بنیا دپر عمر عبداللہ محبوبہ پر پی ایس اے لگایا گیا ہے ؟انہوں نے ہندوستانی آئین کی تعمیر کی ہے ۔اور جمہوری عمل کے تئیں وفادار رہے ،علیحدگی پسندوںکے خلاف کھڑے ہوئے کبھی تشدد اور تباہ کن پالیسیوں کی حمایت نہیں کی اس لئے بغیر کسی الزام کے قیدمیں رکھنے کی جگہ ان دونوں کو فوری رہائی کے حقدار ہیں ۔چدمبرم کا کہنا تھا جب ناانصافی پر مبنی قانون کا سرکار استعمال کرے گی تو پر امن احتجاج و مظاہروں کے علاوہ اور کیا راستہ ہے ؟پارلیمنٹ میں پاس قانون کی تعمیل کرنے کے وزیر اعظم کے بیان پر تلخ حملہ کرتے ہوئے چدمبرم نے کہا وزیر اعظم تاریخ کی مثال بھول گئے ہیں ۔مہاتما گاندھی ،مارٹل لوتھر کنگ اور نیلسنگ منڈیلا کی مثال دیتے ہوئے کانگریس نیتا نے کہا کہ غیر انصافی قانونوں کے خلاف تحریک عدم احتماط اور ستہ گرہ کے ذریعہ پر امن احتجاج تو ہوگا لوک سبھا میں کانگریسی پارلیمانی کے نیتا ادھی رنجن چودھری نے کہا اس طرح کشمیر پر حکومت نہیں کر سکتے جغرافیائی طور سے کشمیر ہمارے ساتھ ہے لیکن جذباتی طور سے ہمارے ساتھ نہیں ہے ۔مرکزی سرکار لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔

(انل نریندر)

11 فروری 2020

جج کی بیو ی ،بیٹے کے قاتل بندوقچی کو پھانسی کی سزا

جج کی بیوی اور بیٹے کے قتل میں قصوروار بندوقچی کو آخر کار پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے یہ سزا سناتے ہوئے جج موصوف نے کہا کہ یہ واردات قصدا اردی کے دائرے میں آتی ہے ۔کیونکہ جس بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا تھا اس کے چلتے گنر کو سزائے موت دی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ ثبوت چھپانے کے لئے پانچ سال اصلحہ ایکٹ کے تحت تین سال اور پندرہ ہزار کو جرمانہ بھی لگایا گیا ہے ۔کورٹ کے مطابق بندوقچی کے وکیل پی ایس شرما نے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جانے کی بات کہی ہے ۔دہرے قتل کی یہ واردات 13اکتوبر 2018کو سیکٹر 48گرو گرام کے آر کےڈیا مارکیٹ کے باہر ہوئی ۔اس وقت گروگرام میں بطور ایڈیشن سیشن جج رہے کرشن کانت شرما کی بیوی اور بیٹا دھرو مارکیٹ میں اپنے محافظ بندوقچی کے ساتھ گئے تھے وہاں وہ تصویر پر فریم بنوا کر باہر آئے تو ہنڈا سٹی کار کے پاس جج کا بندوقچی مہپال کھڑا تھا ۔دھر و سے پینٹگ لے کر گنر نے کار میں جیسے ہی رکھی پینٹنگ کے فریم میں چٹخنے سے اسکریچ پڑ گئے اور اس بات کو لے کر دونوں میں بحث مباحثہ اور ہاتھا پائی ہو گئی غصے میں گنر نے ماں بیٹے پر گولی چلا دی عورت کی اسی دن موت ہوگئی جبکہ 23اکتوبر کو دھرو بھی ہاسپیٹل میں چل بسا تھا ۔جمعرات کو گرو گرام کے ضلع میٹرو پولٹن سیشن جج سدھیر پرمار کی عدالت میں سماعت ہوئی دونوں فریقین کے درمیان بحث کے بعد ملزم بندوقچی مہیپال کو قصوروار قرار دیا گیا اور اس پورے معاملے کو تین ججوں نے سنا اور اس کیس میں نو جنوری 2019ملزم پولیس کانسٹبل مہیپال پر اس وقت کے سیشن جج آر کے سوندھی کی عدالت میں پیش کی اس معاملے میں پولیس کی طرف سے آٹھ گواہ بنائے گئے اور پورے معاملے میں چوسنٹھ گواہیاں ہوئیں ۔ان گواہوں میں سے دو چشم دید کے علاوہ تین ججوں نے بھی گواہی دی معاملے کی سماعت پھرتی سے کی گئی اس کے بعد یہ معاملہ ایڈیشنل سیشن جج سدھیر پرمار کی عدالت میں ٹرانفسر کر دیا گیا عدالت نے کہا کہ قصوروار ایک ڈسی پلین پولیس فورس کا ممبر ہے اور بغیر وجہ ایک جوڈیشل افسر کی بیوی اور معصوم بیٹے کا قتل کر دیا اور اس نے پبلک کا بھروسہ توڑا ہے عدالت نے کہا قصوروار نے دن دہاڑے بازار میں اس واردات کو انجام دیا اس سے صاف ہے کہ اسے اپنی اچھی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔اور اس نے اس قتل کانڈ کو ایک سازش کی طرح انجام دیا اور اس نے لڑکے کو گولی مارنے کے بعد اس کے جسم کو گھسیٹا ہی نہیں بلکہ اس کے سر پر لات بھی ماری اس کے اس برتاﺅ سے سبھی حیرت زدہ رہ گئے تھے ۔

(انل نریندر)

رام مندر کی تعمیر اپریل میں شروع ہوگی:نیاسی

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ کے قیام کے ساتھ ہی ایک بڑی خانہ پوری ہو گئی ہے پی ایم مودی نے اس ٹرسٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے تنازعہ سے آزاد کیا زمین کے ساتھ ہی مرکزی سرکار کے ذریعہ 1993میں اکوائر شدہ 67.7ایکڑ زمین بھی سونپنے کا اعلان کر دیا تھا ۔مرکزی کیبنٹ نے بدھ کے روز رام مندر ٹرسٹ بنانے کی منظوری دی جس کا اعلان لوک سبھا کے ایوان میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرسٹ بنانے سے متعلق جانکاری دی ٹرسٹ کا نام شری رام جنم بھومی تیرتھ استھل رکھا گیا ہے ۔ایودھیا میں شری رام مندر تعمیر کے لئے ٹرسٹ کے قیام کے ساتھ ہی سب کی توجہ اس بات کی طرف چلی گئی کہ رام مندر کی تعمیر کب شروع ہوگی ۔15نفری ٹرسٹ کے 9ممبران کے ناموں کا اعلان اور اس میں دلت کی شکل میں شیلا نیاس میں بنیاد کی اینٹ رکھنے والے دلت کامیشور چوپال کو شامل کرنے کا مطلب ہے کہ ناموں پر کافی وقت سے غور چل رہا تھا۔سپریم کورٹ میں شری رام جنم بھومی کے وکیل رہے پارا سن کی رضامندی سے پہلے لی گئی تھی ۔ٹرسٹ کا پتہ و ان کا مکان نہیں ہوتا یوں اس ٹرسٹ میں کچھ 15ممبر ہوں گے جن میں سے چھ کو نامزد کیا جائے گا لہذا کسی خاتون کو شامل کئے جانے کا راستہ نہیں کھل پایا سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی پانچ ججوں کی بنچ نے پچھلے سال 9نومبر کو دھائیوں پرانے رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کا نمٹارا کرتے ہوئے تاریخی فیصلے میں متنازعہ جگہ ہندو فریقین کو دینے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں پانچ ایکٹر زمین دینے کے احکامات دئے تھے کئی دہائیوں تک اس مسئلے نے دیش کی سیاست اور سماجی ڈھانچے اور بھائی چارے کو متاثر کیا ۔اور اس کا آغاز چھ دسمبر 1992کے واقعہ کی شکل میں دیکھنے کو ملا جب ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچے بابری مسجد کو ڈھا دیا گیا تھا ۔دراصل یہ تنازعہ مالکانہ حق تک محدود نہیں تھا اس میں آستھا بھی جڑی رہی سپریم کورٹ نے جب انا فیصلہ سنایا تب کہا تھا کہ اسے کسی کی ہار یا جیت کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔اور واقعی اس بات کی تعریف ہونی چاہیے کہ اس فیصلے کے بعد سبھی فریقین اور فرقوں نے صبر وتحمل کا ثبوت دیا۔شری رام جنم تیرتھ استھل ٹرسٹ کے نیاسی سوامی گوند دیو گری مہاراج نے جمعرات کو کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اپریل میں یا تو رام نومی یا اکشے ترتیا کو شروع ہوگی سوامی جی نے کہا کہ حالانکہ صحیح تاریخ ٹرسٹ کی پہلی میٹنگ میں مقرر ہوگی میں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لے ایک ٹرسٹ بنانے کے لئے مودی سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں کروڑوں لوگوں گی خواہش تھی کہ ایودھیا میں ایک رام مندر تعمیر کیا جائے یہ بھگوان رام کو سمرپت صرف ایک ڈھانچہ نہیں ہوگا بلکہ دیش کا ایک علامت بھی ہوگا ۔جے شری رام

(انل نریندر)

09 فروری 2020

اب پھر لندن میں آتنکی حملہ

ایک بار پھر برطانیہ کی راجدھانی لندن میں ایک آتنکی حملہ ہوا ہے یہ حملہ اسٹریپین علاقے میں ایک بیگ میں بم لئے ایک حملہ آور نے تین لوگوں کو چاقو مار کر زخمی کر دیا اس سے پہلے کہ وہ اور نقصان پہنچاتا اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پولیس کے افسران نے مڈبھیڑ میں اسے مار گرایا لندن پولیس نے اسے دہشتگردی کے حملے سے تعبیر کیا ہے ۔ویسٹن سیکورٹی ذائع نے اسے اسلامک دہشتگردی سے جڑی واردات بتایا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملہ آور ایک دکان میں گھسا اور لوگوں پر چاقو سے حملے کرنے لگا اور ایک خاتون پر بھی حملہ کیا شاید وہ سائکل سے آرہی تھی مڈبھیڑ کی جگہ کام کر رہے ایک طاہر نامی شخص نے اسکائی نیوز چینل کو بتایا کہ حملہ آور کو تین گولیاں ماری گئیں وارادت کی سنسنی کو دیکھتے ہوئے علاقے کو خالی کروا دیا گیا تھا ۔کیونکہ پولیس کا دعوی تھا کہ حملہ آور کی بیگ میں بم رکھا گیا تھا ۔سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی تصویروں میں مصلحہ پولیس کی ٹکڑیاں ایک شخص کا پیچھا کرتی دکھائی دے رہی تھیں اس کے بعد پولیس نے سڑک کو بند کر کے لوگوں سے چوکس رہنے کی صلاح دی تھی کچھ لوگوں نے بتایا کہ وارادت پر ہیلی کاپٹر سے جانچ پڑتال کی جا رہی تھی ۔واردات کے بعد پولیس نے علاقے میں چوکسی بڑھا دی 29نومبر کو بھی لندن میں آتنکی حملہ ہوا تھا اس وقت پاکستانی نژاد شخص 28سالہ عثمان خان نامی سزا یافتہ دہشتگرد نے لندن برج پر دو لوگوں کو مار ڈالا تھا ۔اور بھیڑ میں خود کو بم نے اڑانے کی دھمکی دی تھی اس کے بعد پولیس نے اسے گولی مار دی تھی ۔تفتیش میں پایا گیا کہ ہلاکی آتنکی 2012میں بم دھماکے کی سازش رچنے کا قصور پایا گیا تھا ۔دسمبر 2018میں اسے ضمانت پر چھوڑا گیا تھا برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جونسن نے اس واردات پر ٹوئٹ کیا ہے کہ مقامی پولیس نے فوری کارروائی کر کے بڑی واردات سے بچا لیا اس کے لئے وہ شکر گزا ہیں ۔سبھی زخمیوں کے لئے میری ہمدردی ہے ۔لندن کے مئیر صادق خان نے بیان میں کہا کہ آتنکی ہمیں بانٹنا اور ہمارے تحریک کار زندگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں لندن میں ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے لندن سمیت کئی یورپی دیش ان آتنکیوں کے نشانے پر ہیں ۔لندن جیسی وارداتیں یورپ کے کئی شہروں میں ہو چکی ہیں ۔پورے یورپ کو اب چوکس ہونا پڑے گا اور اپنی نگرانی سسٹم کو مزید چست کرنا ہوگا۔

(انل نریندر)

چھ کروڑ لوگوں کی جان خطرے میں

میوزیشن چارو کی دادی نے دم توڑ دیا وہ کئی دن سے کومہ کی حالت میں تھیں ،اسپتال نے ان کا علاج کرنے سے منع کر دیا تھا ۔جون چین کالج سے کریجویٹ ہیں ان کی والدہ کرونہ وائرس سے متاثرتھیں وہ اتنی کمزور ہو گئیں کہ اسپتال میں علاج کی لائن میں نہیں کھڑی ہو سکتی 30سال کا ایک ڈاکٹر سانسیں گن رہا ہے یہ دہلا دینے والا منظر ہبئی کا ہے ۔چین جس کا ایک صوبہ اس کی آبادی چھ کروڑ ہے چین کی سرکار نے اب اس کی قسمت پر چھوڑ دیا ہے کرونا وائرس سے مرنے والے 97فیصد لوگ اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں ۔میڈیا میں وہان کا ہی چرچا ہے دراصل ہبئی کی راجدھانی وہان ہے پورے دن میں اس متاثر کتنے لوگ ہیں ان کا 67فیصدی ہبئی ہے ۔مرنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے ۔مقامی ہیلتھ سسٹم کی حالت خراب ہو چکی ہے ۔مریض اتنے ہیں کہ اسپتالوں میں پاﺅں رکھنے تک کی جگہ نہیں ہے ۔کرونا وائرس کے پر اثرار مرض نے سب سے پہلے اسی صوبے میں دستک دی 23جنوری کو چین کی حکومت نے پورے ہبئی صوبے کو اتنا الگ تھلگ کر دیا چین کے صدر شی جنگ فنگ نے سخت ہدایات جاری کی ہے ۔اس کے مطابق ہبئی صوبے سے کوئی باہر نہیں جا سکتا ۔اس ہدایت کا مقصد ہے وائرس کو پھیلنے سے روکنا تاکہ پوری دنیا کو بچایا جا سکے وہان کے سابق ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل یوم گانگ ہوئین کہتے ہیں کہ اگر پورے ریاست کی گھیرا بندی نہیں کی گئی ہوتی تو بیمار لوگ علاج کے چکر میں کہیں بھی جا سکتے تھے اس سے پورا چین جان لیوا وائرس کی زد میں آجاتا اس سے لوگوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے ۔لیکن یہ ضرور ی تھا سمجھئے یہ سب ایک جنگ لڑنے جیسا ہے ۔وہان میں 6 کروڑ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں ۔اسے دوسرے درجے کا شہر مانا جاتا ہے ۔ڈیولپمنٹ کے معاملے میں شنگھائی ،پیچگ،گوانگ جھاﺅ سے پسماندہ ہے ۔جب وائرس پھیلنا شروع ہو ا تو کچھ دنوں تک کسی کو اس کا اندازہ نہیں ہو پایا اور اس کا علاج نہیں کرا سکے اسی وجہ سے یہ وائرس پھیلتا چلا گیا سرکاری طور پر چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 711تک پہنچ چکی ہے اور 25ہزار سے زیادہ لوگوں میں اس وائرس کا انفیکشن ملا ہے ۔صرف کچھ دنوں کے اندر وائرس کے مریضوں کی تعداد 35فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے ۔لیکن چین کے ٹینسٹ ٹیکنولوجی کمپنی کے افشاں ہوئے ڈاٹا کو صحیح مانا جائے تو اس وائرس کی وجہ سے 25ہزار لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔جب چین میں کرونا وائرس کو لے کر غلط خبر پھیلانے پر موت کی سزا کا اعلان چین کی سرکار کی طرف سے کر دیا گیا ہے ۔کمپنی کے مطابق دیش میں 1لاکھ54ہزار 023لوگوں میں وائرس انفیکشن پایا گیا ۔جو سرکاری ڈیٹا کے مقابلے 80گنا زیادہ ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکار کی سختی کے بعد کمپنی کے ویب پیج پر یہ رپورٹ اپڈیٹ کر دی گئی ہے ۔چین کی یہ دوسری سب سے بڑی کمپنی ہے ۔اس لئے اس کی رپورٹ سب سے زیادہ اہم مانی 
جا رہی ہے ۔

(انل نریندر)

08 فروری 2020

این آر سی :پورے دیش میں لاگو کرنے کا کوئی پلان نہیں

دیش میں کئی جگہوں پر شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کو لے کر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں این آر سی کے معاملے پر وزارت داخلہ کی جانب سے لوک سبھا میں این آر سی پر وضاحت کی گئی ہے ۔وزیر داخلہ امت شاہ نے سرکاری وضاحت پڑھتے ہوئے کہا کہ اسے ابھی تک دیش بھر میں لاگو کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے ۔شاہین باغ میں جاری دھرنے پر بیٹھی خواتین کے چہرے پر اس خبر کے بعد خوشی کی امید کی کرن نظر آئی ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی این آر سی ،سی اے اے اور این پی آر کو لے کر ہے ۔جب تک مرکزی حکومت ان تینوں کو واپس نہیں لیتی یا سی اے اے میں ترمیم کر سبھی مذہب کے لوگوں کو شامل نہیں کرتی ان کا مظاہرہ جاری رہے گا بہر حال مظاہرے کی جگہ تک جانے والی ہر گلی میں بھاری تعداد میں پولیس فورس اور آر اے ایف کے جوان تعینات ہیں ۔وزیر مملکت داخلہ نتیا آنند رائے نے لوک سبھا میں چندن سنگھ ،ناگیشور راﺅ کے سوالات کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی رائے نے کہا کہ ابھی تک این آر سی کو قومی سطح پر نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ لیا ہی نہیں گیا دونوں ممبران نے سوال پوچھا تھا کہ کیا سرکار کہ پورے دیش میں این آر سی لانے کی کوئی اسکیم ہے ؟لوک سبھا میں ایم پی نواب خاں نے ایک سوال میں سرکار سے جاننا چاہا کہ کیا مسلم پناہ گزینوں کو اب بھارت میں شہریت فراہم کی جائے گی تب مرکزی وزیر نتیا آنند نے تحریری طور پر بتایا کہ شہریت فراہم کرنے کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہاں ضروری شرطوں کو پورا کرنے والے غیر ملکیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی ۔بھلے یہ کسی مذہب کے ہو سکتے ہیں ۔شاہین باغ مظاہرے میں شامل ایک خاتون رخسار بےگم نے کہا صبح جب انہیں یہ خبر ملی کہ این آر سی کو پورے دیش میں نافذ نہ کرنے کا کوئی پلان نہیں ہے تو ان کے اندر تھوڑی سی امید جاگی ۔اور آگے کی باقی لڑائی بھی وہ جلد جیت لیں گی وزیر اعظم کے بیان پر بھی مظاہرین نے ناراضگی دیکھنے کو ملی ایک دوسری خاتون نازیہ نے کہا کہ دہلی چناﺅ کی وجہ سے مرکزی حکومت کی پوری توجہ شاہین باغ پر لگی ہے اگر شاہین باغ تجربہ ہو رہا ہے تو باقی ریاستوں میں سی اے اے این آر سی ،اور این پی آر کو لے کر جو احتجاج ہو رہے ہیں وہ کیا ہیں ؟یہاں پر اتنے دنوں سے عورتیں سڑک پر بیٹھی ہیں وزیر اعظم کو پتہ ہے کہ وہ کس لئے بیٹھی ہیں انہوںنے کہا کہ اگر یہ کسی پارٹی کا پروپگنڈہ ہوتا تو مہلائیں اتنے دن تک سڑک پر نہ بیٹھی ہوتیں ۔الٹا کرپشن ختم کرنے کے نام پر نوٹ بندی ،کے ذریعہ عام لوگوں کو لائن میں کھڑا کیا گیا اسے بھی تجربہ کہتے ہیں جو اپنے پروپگنڈے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے سیاسی پارٹیاں عام لوگوں کو سڑکوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہیں جبکہ شاہین باغ میں جاری احتجاج کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس احتجاج کو کھڑا کرنے میں کسی اپوزیشن پارٹی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

آج دہلی میں پولنگ سبھی پارٹیوں نے جھونکی اپنی پوری طاقت

دہلی میں آ ج اسمبلی چناﺅ کے لئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جنتا فیصلہ کرئے گی کہ دہلی کی گدی پر کون سی پارٹی بیٹھے گی ؟واضح ہو کہ جمعرات کو 6فروری کی شام کو چناﺅ مہم کا آخری دن تھا دہلی اسمبلی چناﺅ کے دنگل میں پارٹیاں آخری ٹائم تک کوئی کسر چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں صبح سے ہ تینوں بڑی پارٹیاں عام آدمی پارٹی،بی جے پی،اور کانگریس سمیت آزاد امیدواروں نے بھی چناﺅ مہم کے آخری دن اپنی پوری طاقت جھونک ڈالی ،پارٹیوں کے ورکر صبح سے ہی امیدواروں کے گھر پہنچے اور ان کے ساتھ گھر گھر جا کر لوگوں سے ووٹ مانگنے نکلے کچھ بڑے نیتاﺅں نے روڈ شو کا سہارا لیا ،تو کچھ نے چھوٹی چھوٹی نکڑ سبھائیں کیں اس چناﺅ میں وکاس کے اشو سے زیادہ توجہ شاہین باغ ،سی اے اے مخالف مظاہرہ زیادہ بڑا اشو بن کر ابھرا ،بی جے پی اور عآپ پارٹی نے ایک دوسرے پر زبردست حملے کئے اروند کجریوال ہنومان چالیسا پڑھیں اور خود کو کٹر ہندو دیش بھگت ثابت کرنے میں لگے رہے ۔حالانکہ بی جے پی کا زیادہ زور اس چناﺅ میں دیش بھگتی کا رہا ۔اس معاملے میں کانگریس نیتا ﺅں نے جم کر دونوں عآپ اور بی جے پی پر جم کر نکتہ چینی کی عآپ نے دہلی کے اصل اشو سے بھاجپا پر مفاد عامہ کے جڑے اشوز کے ذریعہ بی جے پی پر الزام لگایا کہ عآپ پارٹی کے امیدوار اپنے سطح پر علاقے کے کمپینگ سے جڑے رہے ۔سنگ رور(پنجاب)سے عآپ کے ایم پی بھگونت سنگھ مان چھ جگہ رریٹھالہ ،روہنی،شیلم پور،گھنڈا،مصطفی آباد،روہتاش نگر میں روڈ شو کیا ۔آخر ی دن بی جے پی پورے دم خم کے ساتھ چناﺅ مہم میں اتری میڈیا کو 46پروگراموں کی جانکاری دی گئی جس میں روڈ شو ،نکڑ سبھائیں قابل ذکر ہیں ۔بی جے پی کی جانب سے قومی صدر جے پی نڈا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ،اسمرتی ایرانی ،منوج تواری ،دی گریٹ کھلی،سنی دیول،یوراج سنگھ چوہان،پویش گوئل،مہیش شرما ،ہردیپ سنگھ پوری ،نتیا آنند رائے ،سنجیو بالیان،انوراک ٹھاکر،ہنس راج ہنس،برج بھوشن،چرن سنگھ،سائنا این سی ،اور منوہر لال کھٹر جیسے سرکردہ دہلی کی گلیوں میں امیدواروں کے ساتھ ووٹروں کو رجھانے میں لگے رہے ۔دہلی میں کانگریس کے امیدوار اپنی سطح پر چناﺅ مہم میں لگے ۔اور اس میں فلم اداکار راج ببر ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیندر سنگھ ہڈا نے چناﺅ مہم میں حصہ لیا اس سے پہلے راجستھان کے نائب وزیر اعلیٰ سچین پائلٹ ،شتر گھن سنہا،پنجاب کے وزیر اعلٰ کیپٹن امریندر سنگھ ،فلم اداکارہ نغمہ بھی کمپین کر چکی ہیں ۔بعد میں کانگریس نیتا راہل گاندھی سمیت کانگریس حکمراں ریاستوں کے وزیر اعلیٰ میدان میں اترے بھاجپا کے اسٹار کمپینر پردھان منتری نریندر مودی نے دو ریلیاں کیں ۔جبکہ ان کی کیبنٹ وزیر اعلیٰ اور ممبران پارلیمنٹ نے قریب سو روڈ شو کئے ۔پد یاتراﺅں سے بھاجپا نے دہلی کی سڑکوں کو گنایا عآپ کی طرف سے سی ایم کجریوال نے 55روڈ شو اور 30ریلیوں کے ذریعہ جنتا سے رابطہ مہم میں حصہ لیا راہل پرینکا سمیت ،کئی سرکردہ نیتا بھی چناﺅ مہم میں اترے کانگریس نے اب تک 450پد یاترایں کیں ایک رپورٹ کے مطابق دہلی اسمبلی چناﺅ میں جہاں ایک طرف جھاڑو کی مانگ بڑھ گئی وہیں کمل کے پھول کی ڈیمانڈ معمول پر رہی کئی مقامات پر عآپ کے ورکروں کے ذریعہ جھاڑو بانٹی گئی تو کہیں جھاڑﺅں کو ہاتھ میں لے کر الگ الگ حلقوں میں ریلیاں نکالتے دکھائی دیے ۔پچھلے دنوں جھاڑو بنانے والوں کو کثیر تعداد میں آرڈر ملے ابھی حال ہی میں گاندھی نگر سے عآپ پارٹی کے کسی ورکر نے 1200جھاڑو بنوائی یوں تو عام طور پر ایک دن میں 300سے 400جھاڑو بنتے ہیں لیکن مانگ کو دیکھتے ہوئے یومیہ 600سے 700جھاڑو بنی ۔بھاجپا کے چناﺅ نشان کمل کی فروخت اس چناﺅ مہم میں معمول کے مطابق رہی اور چناﺅ کا کمل کی سیل پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا لوک سبھا چناﺅ ہو یا اسمبلی پارٹی مہم میں پھولوں کا استعمال کم ہی دیکھا گیا ۔اب یہ دیکھنا ہوگا کہ 11تاریخ کو جب ای وی ایم سے کاﺅنٹنگ ہوگی تب پتہ چلے گا کہ کس پارٹی کا چناﺅ نتائج میں پلڑا بھاری رہتا ہے ۔

(انل نریندر)

07 فروری 2020

سیاچین میں جوانوں کےلئے راشن کی کمی

سی اے جی کی تازہ رپورٹ جو پیر کے روز پارلیمنٹ میں رکھی گئی اس نے ہماری تشویش بڑھا دی ہے بجٹ کی کمی کا سامنا کر رہی ہماری ہندوستانی فوج کو سامان کو سپلائی کا ایک انکشاف ہوا ہے سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سیاچین،لداخ اور دیگر اونچائی والے مقامات میں تعینات جوانوں کو ضروری سازو سامان کے ساتھ ساتھ ان کے لئے راشن کی قلت پڑی ہوئی ہے ۔کیگ نے اپن رپورٹ میں مزید بتایا کہ فوجی دستوں کو یومیہ طاقت کی ضروریات کی سپلاءکے لئے راشن کا پیسہ کم دیا جا رہا ہے یہ فورس کی ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ وہاں کھپت کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے ۔وہاں راشن کی قیمت زیادہ ہے اور مہنگی قیمت کے سبب جوانوں کو کم راشن مل پاتا ہے ۔جس وجہ سے انہیں انرجی کی دسیتابی 82فیصد تک ہی کم ہوئی ہے ۔جوانوں کو ضروری سازو سامان دستیاب کرانے میں دیری ہوئی جس کے چلتے یا تو جوانوں نے پرانے ہتھیاروں سے کام چلایا یا بغیر ہتھیار کے رہے کچھ سازو سامان کے معاملے میں بھی 62سے98فیصد کمی درج کی گئی ۔اونچائی والے علاقوں میں جوانوں کے لئے ضروری کپڑے و سازو سامان کی دستیابی میں چار برس کی تاخیر ہوئی اور بہت سو کو نومبر 2015سے اور ستمبر2016کے دوران کثیر المقاصد جوتے نہیں دئے گئے جس کے چلتے انہیں پرانے جوتوں کو ہی مرمت کر کے کام چلانا پڑا ۔اس کے علاوہ جوانوں کے پاس پرانے قسم کے فیس ماسک ،جیکٹ ،سلیپنگ بیگ،وغیرہ خریدے گئے جبکہ نئے طرز کے سامان بازار میں دستیاب تھے ۔ان نا گزیں حالات میں تعینات جوان جدید طرح کے سامان سے محروم رہے ڈیفنس تجربہ کا لیبوٹری کے ذریعہ ریسرچ ڈیولپمینٹ کے معاملے میں پچھڑنے سے اونچائی پر استعمال ہونے والے سازو سامان کے معاملے میں بیرون ملک سے منگانے پر منحصر رہی ۔جبکہ سیاچین وغیرہ میں جدید سامان بے حد ضروری ہے ۔روپورٹ کے مطابق زیادہ اونچائی والے مقامات پر فوجیوں کے لئے رہائشی سہولت دسیتاب کرانے کے لے پروجکٹ عارضی طور سے لٹکے رہے ۔پائلٹ یوجنا کے تحت تیار رہائشی پلان کو استعمال کنندان کو سونپنے میں دیری کی گئی دراصل پہلے اس کے گرمی پھر سردی کے تجرے کئے گئے اس کے بعد ان کی توثیق کے لئے ایک اور تجربہ ہوا اس میں کافی وقت برباد ہو گیا ۔جس وجہ سے خطرناک آب وہوا کی صورتحال میں کام کر رہے فوجیوں کو اور دقتیں ہوئیں حالانکہ فوج نے ان سب الزامات کی تردید کی ہے لیکن وقتا فوقتا ہمارے فوجی بھی یہ کمیاں سامنے لاتے رہتے ہیں ۔

(انل نریندر)

بھاجپا کا وار،سی ایم کجریوال کو پھر بولی آتنکی

چناﺅ میں اب ایک دن بچا ہے 8تاریخ سنیچر کے روز ووٹ پڑیں گے اور پتہ لگے گا کہ دہلی اسمبلی میں کون کامیاب ہوگا؟یا یوں کہیئے کہ دہلی کی گدی پرکون بیٹھے گا؟سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنے سرکردہ لیڈروں کو چناﺅ میدان میں اُتار دیا تھا وہیں چناﺅی بڑھت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ تیز رہا بھاجپا ایم پرویش ورما کی طرف سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عآپ پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال کو آتنکوادی کہے جانے کے معاملے میں کافی طول پکڑا مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر نے بھی کجریوال کو خود آتنکوادی کہہ ڈالا تھا اور ایک بد امنی پسند و دہشتگردی میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا کجریوال کو دہشتگرد کہنا صحیح نہیں مانا جا سکتا ۔ایک بد امنی پسند دیش کے سسٹم کے خلاف ہوتا ہے جبکہ ایک دہشتگرد دیش کے خلاف ہوتا ہے ۔اور وہ دہشتگردانہ واردات انجام دیتا ہے جو تشدد پر مبنی ہوتی ہے ۔اس لئے کسی بد امنی پسند اور دہشتگرد میں تھوڑا فرق ہوتا ہے اس لئے کجریوال کو دہشتگرد کہنے پر چناﺅ کمیشن نے پرویش ورما کو وجہ بتاﺅ نوٹس جار ی کیا تھا اور ان پر چناوءپرچار میں دو مرتبہ پابندیاں بھی لگائی تھیں ۔بھاجپا کے سینئر لیڈر پرکاش جاویڈکر نے میڈیا سے کہا کہ کجریوال اب معصوم چہرہ پیش کر کے سوال کر رہے ہیں کہ کیا میں آتنکوادی ہوں ؟آپ آتنکوادی ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لئے بہت ثبوت ہیں آپ نے یہ خود ہی کہا تھا کہ عآپ پارٹی بد امنی پسند ہے بد امنی پسندی اور دہشتگردی میں بڑا فرق نہیں ہوتا ۔جاویڈکر نے یہ بیان اسمبلی چناﺅ کے دوران موگہ میں خالستانی کمانڈر گریندر سنگھ کے گھرپر رات رکنے کا اشو بھی اُٹھایا انہوںنے کہا کہ آپ جانتے تھے کہ وہ ایک آتنکوادی تھا پھر بھی آپ ا س کے گھر رکے جاویڈکر کے بیان کے بعد عآپ پارٹی میں ناراضگی کی لہر پیدا ہونا فطری تھی ۔عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے پیر کو کہا کہ اور بھاجپا کو جیل بھیجنے کی چنوتی دے دی جیل میں ڈال کر دکھاﺅ سنجے سنگھ نے کہا کہ چناﺅ میں ہار کے ڈر سے بھاجپا کے نیتا اروند کجریوال کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کر رہے ہیں ۔جن کے لئے ان پر مقدمہ درج کر کارروائی ہونی چاہیے پہلے ایک ایم پی نے کجریوال کو آتنکواد کہا تھا پھر اس کے بعد بھاجپا ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے انہیں بندر کہا اس کے بعد اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگیہ آدتیہ ناتھ نے ان کی بیماری کا مذاق اُڑایا انہوںنے کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ دہلی کی راجدھانی جہاں پارلیمنٹ ہاﺅس ہے اور پوری سرکار ہے چناﺅ کمیشن ہے وہاں اس طرح کے بیان بازی کے واقعات ہو رہے ہیں الٹے سیدھے الفاظ کا استعمال ہو رہا ہے ؟

(انل نریندر)

06 فروری 2020

شرجیل کا اعتراف،سارے ویڈیو میرے ہی ہیں

کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی دیش سے آسام کرنے کا ملک مخالف تقریر کرنے والے شرجیل امام سے پوچھ گچ ہو رہی ہے اور ایس آئی ٹی اس کے موبائل کال کی تفصیلات جا ن رہی ہے اُدھر دہلی پولیس کی اسپیشل سیل یہ جانچ کرنے میں لگی ہے کہ اس کے دماغ میں نفرت کا زہر کیسے آیا ہے؟وہ کسی دہشتگر تنظیم سے تو نہیں رغبت رکھتا ہے ۔اسپیشل سیل کے ڈی سی پی پرمود کشواہا نے اس سے چانکیہ پوری میں واقع کرائم برانچ کے دفتر میں کافی دیر تک پوچھ تاچھ کی یہ ٹیم اسے بہار کے جہاں آباد سے دہلی لائی تھی پوچھ تاچھ کے بعد اسے چار بجے کورٹ میں پیش کیا گیا کرائم برانچ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ شرجیل نے بتایا کہ جامعہ نگر اور یوپی کے علیگڑھ شہر میں اشتعال انگیزی پر مبنی تقریر کرنے کی بات قبولی ہے اس نے پہلے سے کوئی تحریری تقریر نہیں تیار کی تھی اور وہ اسٹیج پر سیدھے آکر دیش مخالف بیان جذبات میں آکر دے گیا کرائم برانچ یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ شرجیل کو ایسا بیان دینے کے لئے کسی نے اُکسایا تو نہیں تھا شرجیل نے بتایا کہ وہ بہار میں اپنے گاﺅں جا رہا تھا اس سے پہلے وہ جامعہ اور علیگڑھ گیا تھا جب اسے پتہ چلا کہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے تو اس نے اپنا موبائل بند کر دیا اور گاﺅں میں وہ امام باڑے میں چھپ کر رہ رہا تھا ایک دو دن وہ گاﺅں کے لوگوں کے گھروں میں چھپا رہا انسپکٹر پی این جھا کی ٹیم نے اس کو گاﺅں میں پہلے اس کے بھائی کو حراست میں لیا تو اس سے شرجیل کا سراغ مل گیا اور بعد میں اس کو گھر کے پاس سے پکڑا گیا ملک کی بغاوت کے الزام میں پھنسا شرجیل امام بھارت کو اسلامی دیش بنانا چاہتا تھا اسے نہ تو آئین پر بھروسہ ہے اور نہ ہی سرکار پر ذرائع کے مطابق کرائم برانچ کی پوچھ تاچھ میں ملزم نے یہ بات مانی ہے کہ پولیس نے دعویٰ کی کہ اس نے اعتراف کیا ہے کہ سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں اشتعال انگیز بیان دینے کے اس کے جتنے بھی ویڈیو وائرل ہوئے ہیں وہ سبھی اصلی ہیں اور ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ شرجیل نے 16جنوری کو اے ایم یو میں قریب ایک گھنٹے تک بھڑکیلی تقریر کی تھی اور اس نے وہاں جوش میں آکر آسام کو دیش سے الگ کرنے کی بات کہہ ڈالی اس کا مقصد دیش سے آسام کا رابطہ کاٹنا تھا نہ کہ دیش سے الگ کرنے کا پولیس کا کہنا ہے کہ شرجیل مذہبی طور پر کٹر ہے اور ہر سوال کے جواب میں دیش مخالف باتیں کرتا ہے کرائم برانچ کو شک ہے کہ شرجیل اسلامی یوتھ فیڈریشن اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے جڑا تو نہیں ہے حالانکہ ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور اس نے پولیس کے ذریعہ لگائے گئے سبھی الزامات کو مستر د کیا ہے ۔

(انل نریندر)

شاہین باغ چکرویوسے کجریوال کو نکلنے کی چنوتی

راجدھانی دہلی میں ساﺅتھ دہلی کے علاقے اوکھلا کی بستی شاہین باغ میں پچھلے قریب پونے دو مہینے سے جاری دھرنا آہستہ آہستہ اسمبلی چناﺅ کا سب سے بڑا اشو بن گیا ہے ۔شہریت ترمیم قانون جب لاگو ہوا تھا اس کے پیچھے شاید یہ ارادہ تھا کہ اس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر حملہ کرنے کا یہ اشو اچھا ہے اور آہستہ آہستہ اس کو لے کر مظاہرہ دووسرے شہروں میں بھی پھیل گیا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا بھاجپا نے اسے ہوا دینی شروع کر دی ہے دراصل بھاجپا نے اس چناﺅ میں شاہین باغ میں ہو رہے سی اے اے مخالف دھرنے کو چناﺅی اشو بنا دیا ہے اور ان کے تمام بڑے نیتا جس میں خود وزیر اعظم بھی شامل ہیں نے دھرنے کو لے کر بیان بازی شروع کی ہوئی ہے چونکہ نوئیڈا کالندی کنج روڈ پر جاری اس دھرنے سے آس پاس کے کئی اسمبلی حلقوں کے لوگوں کی آمد رفت متاثر ہو رہی ہے لہذا بھاجپا کے احتجاج کا اثر ان متاثرہ لوگوں پر ہوتا بھی دیکھائی دے رہا ہے ۔مانا جا رہا ہے کہ آس پاس کی آٹھ سے دس سیٹوں پر اثر پڑے گا شاہین باغ اشو کی بدولت ایک وقت پست نظر آرہی بھاجپا اپنے کور ووٹر (30سے35فیصدی)کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی پڑ رہی ہے ۔پارٹی کا جارحانہ ہندتو اشو کا اثر اب تک ان فلوٹنگ ووٹ قریب 20سے22فیصد ی جس کی بدولت بھاجپا نے لوک سبھا چناﺅ میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی اب نہیں دکھائی دے رہا ہے اس کو اسمبلی چناﺅ میں جیت کے لے بھاری مشقت کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ۔لوک سبھا چناﺅ میں عآپ سے بازی ہارنے والی کانگریس پست ہے ۔کانگریس ابھی بھی پست دکھائی پڑتی ہے بھاجپا اپنے ورکروں اور کور ووٹر کو شاہین باغ کے اشو کے چلتے کافی حد تک اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔کجریوال کے پاس بھاجپا کے اس جارحانہ ہندتو کی کاٹ کرنے والا دانشور چہرہ نہیں ہے ۔اس وقت یوگیندر یادو،پرشانت بھوشن،جسٹس ہیگڑے ،کمار وشواش،کی ٹیم ان کے ساتھ ہوتی تو عآپ کی پوزیشن بہتری میں ہوتی دہلی کا چناﺅ مہابھارت کا شاہین باغ ایک ایسا چکر ویو بن گیا ہے جس سے نکلنا دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کے لئے بڑی چنوتی بن گیا ہے ۔اس کی سیاسی تصویر کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے چناﺅ میں ستر میں 67سیٹیں جیت کر ریکارڈ بنانے والے کجریوال کے اقتدار کی واپسی میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ بن کر آگیا ہے ۔شاہین باغ میں سنیچر کو جب دوسری بار گولی چلی تو عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے شاہین باغ میں دھرنا دینے والوں سے اپیل کی کہ انہیں اپنے دھرنے کو لے کر دو بار ہ غور کرنا چاہیے تاکہ اس کا سیاسی فائدہ نہ اُٹھایا جا سکے عآپ نیتاﺅں کا خیال ہے کہ شاہین باغ اب انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن عآپ پارٹی ایسے چکر یو میں پھنس گئی ہے کہ اِدھر کنواں تک اُدھر کھائی ۔

(انل نریندر)

04 فروری 2020

47سال بعد برطانیہ سے بریگزیٹ سے الگ ہوا!

یوروپی پارلیمنٹ میں بریگزیٹ معاہدے پر مہر لگنے کے بعد 31جنوری کو برطانیہ یوروپی یونین سے باقاعدہ الگ ہو گیا ہے برطانیہ کے لوگوں کے ذریعے ریفرنڈم کے قریب ساڑھے تین سال بعد برطانیہ جمعہ کو یوروپی یونین سے علیحدہ ہوگیا 23جون 2016کو ریفرنڈم میں 52فیصد ووٹروں نے بریگزیٹ کی حمایت کی جبکہ 48فیصد عوام نے اس کی مخالفت کی تھی اس موقع پر وزیر اعظم بورس جانسن شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے لئے یہ امید کی گھڑی ہے جو انہیں لگا تھاکہ یہ کبھی نہیں آئے گی لیکن بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو پریشان ہیں اور نقصان ہونے جیسا محسوس کر رہے ہیں میں سبھی کے جذبات کو سمجھتا ہوں اور بطور حکومت ہماری ذمہ داری ہے کہ میں دیش کو ساتھ لیکر چلوں اور آگے بڑھاو ¿ں ۔کنزرویٹو پارٹی کے نیتا بورس جانسن نے پچھلے سال ملگزیٹ کی کوشش کو آخری مقام تک پہونچانے کے عہد تک دیش کے وزیر اعظم بنے تھے 2016میں ہوئے ریفرنڈم سے ہوئے اب تک برطانیہ میں دو وزیر اعظم بدل چکے ہیں ۔بریگزیٹ پر آئے عوام کے فیصلے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفی دیا تھا برطانیہ نے بریگزیٹ اس لئے چھوڑا کہ برطانیہ کے لوگ سوچتے ہیں کہ یوروپی یونین بجنس کے لئے بہت ساری شرطیں لگاتا ہے اور کئی بلین پاو ¿نڈ کی سالانہ ممبرشپ فیس لیتا ہے بدلے میں زیادہ فائدہ نہیں ہوتا اس کی وجہ سے برطانیہ پیچھے جارہا ہے۔برطانیہ چاہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی حدود پر کنٹرول پا لے اور ان کے دیش میں کام یا رہنے کے لئے آنے والے باہر ی لوگوں کی تعداد گھٹا دے برطانیہ 1973میں اتحاد کے پیغام کے ساتھ بریگزیٹ میں شامل ہواتھا 47سال بعد برطانیہ اس گروپ کو الوداع کہہ رہا ہے اس طرح اب یوروپی یونین 27ملکوں کاگروپ رہ جائے گا برطانیہ اپنے فیصلے لینے کے لئے مختار ہوگا اور وہ کسی بھی دیش کے ساتھ بغیر یوروپی یونین کی منظوری کے بغیر کاروباری معاہدے کرسکتا ہے لیکن ایسے وقت جب عالمی معیشت مندی کے دور سے گزر رہی ہے بریگزیٹ دو دھار والی تلوار جیسا ہے ایک طرف بریگزیٹ یوروپی یونین کی تجارت سے متعلق شرائط سے باہر نکل جائے گا تو دوسری طرف اس کا ممبرہونے کے ناطے جو رعایت ملتی تھی وہ نہیں ملے گی۔ اس کے بعد وہ یوروپی یونین کے دیگر ممبر ملکوں کے ساتھ بغیر فیس تجارت نہیں کر سکے گا اور فیس سے در آمد کا خرچ بڑھے گا اس لئے اس کی معیشت پر اثر پڑھنا طے ہے ۔بریگزیٹ کے اثر سے بھارت بھی اچھوتا نہیں رہے گا جس کی اسوقت تقریباً سو کمپنیاں برطانیہ میں ہیں اور جیسا کہ ماہرین اندازہ لگارہے ہیں کہ پاو ¿نڈ کی قیمت میں گراوٹ آسکتی ہے ایسے میں ان کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑھ سکتا ہے ۔حقیقت میں بریگزیٹ کے تجزیہ میں تھوڑا وقت لگے گا ۔

(انل نریندر)

کجریوال بنام مودی ،شاہ و تمام بھاجپا نیتا

دہلی اسمبلی انتخابات میں مشکل سے چار یا پانچ دن بچے ہیں بھاجپا نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے بالی ووڈ کی ایک فلم آئی تھی شعلے اس فلم میں ایک طرف سنجیو کمار،دھرمیندر اور امیتابھ بچن جیسے سرکردہ ہیرو تھے تو دوسری طرف اکیلا گبر عرف امجد خان تھے ۔فلم ریلیز ہونے کے بعد امجد اصلی ہیرو بن کر ابھرا کہیں دہلی چناو ¿ میں بھی ایسا ناہو جائے ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی ،وزیر داخلہ ،تمام مرکزی وزیر ،مکھیہ منتری اور دوسری طرف ہے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروندر کیجریوال ۔بھاجپا نے چناو ¿ مہم میں سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں امت شاہ دن رات گلی گلی گھوم کر محنت کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی کڑ کڑ ڈوما سی بی ڈی گراو ¿نڈ میں ریلی تھی جس کو انہوں نے خطاب کیا دہلی اسمبلی چناو ¿ میں کامیابی حاصل کرنے کے مقصد سے بھاجپا کی تابڑ توڑ ریلیاں جاری ہیں 23جنوری سے 31جنوری تک بھاجپا کے تمام نیتاو ¿ں نے دہلی بھر میں 2952چناو ¿ ریلیاں کر لی ہیں ان میں بھاجپا کے قومی صدر سمیت سبھی بڑے نیتا مرکزی وزراءکئی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ اور ایم پی اور عہدے داران نکڑ سبھاو ¿ں میں دہلی کی جنتا سے سیدھا رابطہ کر رہے ہیں دوسری طرف مضبوطی سے ڈٹے اروندر کیجریوال دہلی کے اقتدار پر تیسری مرتبہ قابض ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے وقت کے ساتھ اپنے میں کئی تبدیلیاں کیں ہیں ان کا مزاج ان دنوں بدلہ بدلہ نظر آرہا ہے ۔یہ تبدیلی 2019کے لوک سبھا چناو ¿ میں ہار کے بعد آئی ہے ۔اب وہ مرکز سے بغیر ٹکراو ¿ کے مل جل کر کام کرنے کی بات کرتے نظر آتے ہیں اتنا ہی نہیں کیجریوال نے وزیر اعظم و مرکز سے تعاون ملنے پر شکریہ ادا بھی کیا ہے حال ہی میں جب پاکستان کے ایک وزیر نے مودی کو ہرانے کی بات کہی تھی تو اروندر کیجروال نے ٹوئیٹ کیا کہ نریندر مودی بھارت کے پردھان منتری ہیں اور وہ میرے بھی ہیں ۔دہلی کا چناو ¿ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور ہمیں دہشت گردی کے سب سے بڑے اسپانسروں کی مداخلت برداشت نہیں ہے ۔پاکستان جتنی بھی کوشش کر لے دیش کے اتحاد پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا ۔لوک سبھا چناو ¿ سے پہلے کئی بار مودی اور مرکز میں مرکز کے خلاف کافی مشتعل ہوا کرتے تھے ۔راج نوا س پر دھرنے کے دوران عآپ کے نشانے پر سیدھے وزیر اعظم ہوا کرتے تھے ایک مرتبہ کیجریوال نے بھی ٹیم کو بزدل اور ذہنی بیمار تک کہہ ڈالاتھا ۔لیکن لوک سبھا چناو ¿ میں 7توں سیٹوں پر ہار کے بعد کیجریوال نے اپنی حکمت عملی بدلی ہے ۔پارلیمانی چناو ¿ میں مرکز کو نشانہ بنانے کی مہم ناکام ہونے کے بعد کیجروال نے خود کو جھگڑے والی حکمت عملی سے دور کر لیا اس کی جگہ ان کے رویہ میں نرمی آئی ہے اور اپنی نئی ساخت کے سہارے دہلی چناو ¿ میں اترے ہیں ۔کیجروال کی کوشش عام ووٹروں میں منفی پیغام دینے کی ہے یہ تو 11تاریخ کو پتہ چلے گا کہ کیجرال ہیرو ہیں یا زیرو ۔

(انل نریندر)

02 فروری 2020

پاکستان میں اقلیتوں پر ہوتے جرم

پاکستان میں اقلیتی ہندﺅں پر ظلم کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ہندوﺅں سے زبردستی مذہب تبدیل کے معاملے ہوں یا مندروں کو آئے دن توڑنے یا نقصان پہنچانے کے معاملے ہوں ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے حال ہی میں خبر آئی ہے کہ ایک ہندو دلہن کو شادی سے منڈپ سے اغوا کر لیا گیا ۔اس کے بعد اسے زبردستی اسلام قبول کروایا گیا ۔اور ایک پاکستانی مسلم مرد سے اس کی شادی کروا دی گئی ۔پاک میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق یہ واقعہ صوبہ کے سندھ کے میٹ چاری ضلع کے ہالا شہر کا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ آرتی بائی نامی ہندو لڑکی کو کچھ لوگ اس وقت اغوا کر لے گئے جب ان کی شادی کی رسمیں چل رہی تھیں ۔بھارتی کی بعد میں شاح رخ گل نامی مسلم شخص سے شادی کر ا دی گئی ۔پولس نے شکایت کے باوجود اغوا کاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی الٹے ان لوگوں کی مدد کی جو ہندو دلہن کو اغوا کر لے گئے تھے ۔پاکستان میں اقلتیوں اور ان کے مذہبی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں ہیں گرو دوار نانک صاحب پر پتھراﺅ کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا کہ صوبہ سندھ کے ایک گاﺅں کے مندر پر سنیچر کی رات کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا اور مورتیوں کو توڑنے کے بعد ملزم فرار ہو گئے ۔پولس نے چار نا معلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج لیا ہے ان دونوں واقعات پر اعتراض جتایا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینئر افسر کو طلب کیا اور سخت احتجاج میں اعتراض نامہ پیش کیا ملک میں خاص طور سے ہندو ،سکھ او رعیسائی جیسے اقلتی فرقے کے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔پاکستان میں حالیہ مہینوں میں اقلیتی ہندوﺅں پر مظالم کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں اسی طرح گزشتہ اگست میں جگ جیت کور 19سال کی بھی مسلم شخص سے شادی کرائی گئی تھی اور بندوق کی نوک پر مذہب بدلوایا گیا تھا جہاں تک وہاں پولیس کا سوال ہے یہ متاثرہ خاندان کو تو چھوڑو الٹا اغوا کاروں کی مدد کرتی ہے تھار کے ایک سینئر افسر پر زیادہ دباﺅ پڑنے کے سبب کچھ گرفتاریاں کرنی پڑیں اور الزام میں چار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ان لڑکوں پر مندر توڑنے کے الزم ہیں ۔اس بے قصور لڑکی کا بھی کچھ اتا پتہ نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

کمیڈین کنال کامرا پر ائیر لائنوں نے لگائی پابندی

انڈگو ائیر لائن اور ائیر انڈیا کے بعد اسپائس جٹ اور گو ائیر نے بھی بدھ کے روز کامیڈین کنال کامرا پر ہوائی سفر پر روک لگا دی کامرا نے منگل کے روز انڈگو کی لکھنﺅ ممبئی پرواز میں ری پبلک ٹی وی کے مدیر ارنب گوسوامی کو مبینہ طورپر پریشان کیا تھا ۔ائیر انڈیا کے ترجمان نے کہا تھا کہ ائیر لائن کی انٹرنل کمیٹی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور مناسب کارروائی کرئے گی ایسا ہی بیان وستارا ائیر لائن نے دیا ہے روک لگانے کے بعد کنال نے طنز کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ مودی جی کیا میں چل سکتا ہوں یا اس پر بھی پابندی ہے ؟انہوںنے ٹوئٹ کے ساتھ رونے والی ایموجی بھی لگائی ہے ٹوئٹر پر دئیے گئے بیان میں کامرا نے کہا کہ پرواز (ممبئی ،لکھنﺅ )میں کبھی ایسا نہیں ہوا جب انہوںنے کیبن کے عملے کی ہدایت کی تعمیل نہ کی ہو کامرا نے کہا کہ میں نے کبھی سفر کرتے وقت کس مسافر کی سیکورٹی کو خطرے میں نہیں ڈالا میں نے صرف صحافی ارنب گوسوامی کے غرور کو چوٹ پہنچائی ہے اور ہوائی کرنے پر روک لگانا ان کے لئے حیران کرنے والی بات نہیں ہے ۔دفعہ 19کے تحت اظہار رائے کی آزادی کا حق استعمال کرنے پر مجھے عارضی پابندی لگائی ہے ۔میں نے کبھی نا پسندیدہ برتاﺅ نہیں کیا اور ایساکبھی نہیں ہوا جب میں نے کیبین عملے کے الزامات کی تعمیل نہیں کی ہو وزیر ہوا بازی ہردیپ پوری نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کی دیگر ائیر لائنوں کو اس طرح پابندی لگانے کی صلاح دی انہوںنے کہا کہ قابل اعتراض برتاﺅ جو اکساوئے والا ہو اور جہاز کے اندر بد امنی پیدا کرتا ہو وہ پوری طرح سے نا قابل قبول ہے ہوائی سفر کرنے والے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے والا ہے ۔

(انل نریندر)

نفرت کی سیاست

یہ شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ دہلی میں شہریت ترمیم قانون کو لے کر حمایت اور احتجاج کا سلسلہ اتنا خطرناک ہو جائے گا جہاں گولی چلنے کی نوبت آجائے گی سی اے اے پر جاری نفرت کا یہ سلسلہ اس وقت خطرناک موڑ لے گیا جب مہاتما گاندھی کی شہیدگی دوس پر جامعہ نگر میں سی اے اے مظاہرے میں گھسے ایک لڑکے نے گولی چلا دی ۔وہ چلا رہا تھا یہ لو آزادی ،گولی جامعہ کے طالب علم شاداب عالم کے ہاتھ میں لگی کہا جا رہا ہے کہ گولی چلانے والا حملہ آور نابالغ ہے ۔اور بارہویں کلاس کا طالب علم ہے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے ۔اور اس پر اقدام قتل کا مقدمہ درج ہوا ہے ۔اس واقعہ کے 48گھنٹے کے اندر شاہین باغ میں ایک سرپھرے نے دھرنے کی جگہ سے چند میٹر پہلے بیری کیڈ میں گھس کر گولی چلا دی ۔اس کو پولس نے دبوچ لیا ہے ۔اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ نوئیڈا کے پاس دللو پورہ کا رہنے والا ہے ۔اس واقعہ کے بعد جامعہ اور شاہین باغ میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں ۔وہیں فائرنگ کے واقعات پر کانگریس اور بھارتیہ کمونسٹ پارٹی نے الزام لگایا کہ اس طرح کے فائرنگ کے واقعات بھاجپا نیتاﺅں کے بھڑکانے والے بیانات کا نتیجہ ہیں ۔واضح ہو کہ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے 27جنوری کو ایک ریلی میں نعرے لگوائے تھے کہ دیش کے غداروں کو گولی مارو وہیں بھاجپا کے ایم پی پرویش ورما نے بھی شاہین باغ کے مظاہرین کو لے کر کہا تھا کہ یہ گھروں میں گھس کر بہن بیٹیوں سے بد فعلی کریں گے ۔وزیر داخلہ امت شاہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ای وی ایم کا بٹن اتنے غصے سے دبانا کہ کرنٹ شاہین باغ میں لگے ۔اس واقعہ پر سیاست شروع ہو گئی عآپ کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ ہار کے ڈر سے بھاجپا دہلی اسمبلی چناﺅ ٹلوانے کی سازش میں لگی ہے ۔جامعہ میں فائرنگ کے واقعہ پر دہلی اور دیش بھر میں مچے واویلے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ کو کہنا پڑا کہ اس طرح کے واقعات برداشت نہیں کیئے جائیں گے اور قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا اور اس کے بعد انہوںنے پولس کمشنر سے بات کر سخت کاروائی کا حکم دیا وہیں وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے امت شاہ سے پوچھا کہ دہلی میں یہ کیا ہو رہا ہے ؟برائے کرم دہلی میں لاءاینڈ آرڈر کو سنبھالیں اور یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ احتجاجی طلباءپر گولی چلانے والے کے پیچھے کون ہیں ؟کسی سرکاری فیصلے کا پر امن اور دلائل پر مبنی احتجاج ہر شہری کا حق ہے ۔اسے تشدد کے طریقے سے روکنے کی کوشش کسی بھی طریقے سے جمہوری نہیں کہی جا سکتی ۔کانگریس کے ترجمان نے نریندر مودی سرکار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دیش کے اقتدار پر نفرت قابض ہے ترجمان منیش تواری نے یہ الزام بھی لگایا کہ معیشت کے محاز پر فیل ہونے کے بعد اب یہ سرکار دیش کو بانٹنے کی سیاست کر رہی ہے ۔جامعہ میں اور اب شاہین باغ میں جو کچھ ہوا وہ نفر ت کے ماحول کا پولرائزیشن ہے دل دہاڑے اور سیکنڑوں لوگوں کے سامنے فائرنگ یہ دکھاتی ہے کہ ماحول کتنا زہریلا ہو چکا ہے ۔

(انل نریندر)

01 فروری 2020

جے ڈی یو سے پرشانت کشو راور پون ورما کی چھٹی

جنتا دل یو نے اپنے قومی نائب صدر و چناﺅ حکمت عملی ساز پرشانت کشو ر اور قومی سیکریٹری جنرل پون ورما کو پارٹی سے برخواست کر دیا ہے ۔جے ڈی یو کے دوسرے نیشنل جنرل سیکریٹری کے سی تیاگی نے دونوں کی تمام ذمہ داریاں لے کر انہیں جے ڈی یو کی پرائمری ممبر شپ سے ہٹائے جانے کا حکم جاری کر دیا ۔چناﺅی حکمت عملی ساز پرشانت کشو ر جب جے ڈی یو میں شامل ہوئے تھے تو انہیں پارٹی کا نائب صدر کا عہدہ دے کر نوازہ گیا تھا ۔لیکن شہریت ترمیم قانون اور این آر سی پر مسلسل احتجاج کی وجہ سے دونوں کے درمیان خلیج بڑھتی چلی گئی حالیہ دنوں میں کئی اشو کو لے کر نتیش اور پرشانت میں زبانی جنگ بھی ہوئی آخر کار یہ جوڑی ٹوٹ گئی پارٹی کے جنرل سیکریٹری پون ورما کو بھی انہیں وجوہات سے پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا بتا دیں کہ پون ورما نے دہلی میں جے ڈی یو بھاجپا اتحاد پر سوال اُٹھائے تھے ۔اور خط لکھ کر اس فیصلے پر نتیش سے سوال پوچھے تھے انہوںنے خط کو جنتا کے سامنے لا دیا تھا جس کو لے کر نتیش نے ناراضگی جتائی تھی اس سے پہلے بھی پون ورما نے سی اے اے پر وزیر اعلیٰ سے کئی سوال پوچھے تھے پرشانت کشور سی اے اے ،این آر سی ،اور این پی آر کی مخالفت کر رہے ہیں ۔انہوںنے سی اے اے کی مخالفت کرنے کے لئے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو شکریہ کہا تھا ۔کیونکہ انہوںنے کہا تھا کہ بہار میں این آر سی اور سی اے اے لاگو نہیں ہوگا ۔ایک دن پہلے ہی نتیش نے کہا تھا کہ ہم کسی کو پارٹی میں لائے تھے امت شاہ کے کہنے پر پرشانت کشور کو پارٹی میں شامل کیا گیا تھا ۔اب وہ جانا چاہتے ہیں تو جائیں اس پر پرشانت نے ٹوئٹ کیا کہ آپ مجھے پارٹی میں کیوں اور کیسے لائے اس پر اتنا گر ا ہوا جھوٹ بول رہے ہیں پی کے کا جے ڈی یو کے ساتھ سفر پچاس دنوں تک رہا جبکہ پون ورما چھ سال تک جے ڈی یو کے ممبر رہے اگر پرشانت اور ورما کی مخالفت صرف اشوز پر مرکوز ہوتی تو الگ بات تھی لیکن ان دونوں سے سیدھے سیدھے نتیش کمار پر حملہ بولا گیا جو پارٹی کی ڈسی پلن شکنی کے خلاف تھا یہ دونوں نہ تو مائنڈیٹ والے نیتا ہیں اور نہ ہی ان کے جانے سے جے ڈی کو کوئی زیادہ نقصان ہونے والا ہے تب تو اور نہیں جب پرشانت کم وقت میں ہی نمبر دو کی حثیت بن جانے سے پارٹی کے پرانے سینر لیڈر ان سے خار کھائے بیٹھے تھے اس کے باوجود دونوں کو باہر کرنے کا نتیش کمار کے بارے میں یہ تصور مضبوط ہوگا کہ وہ اپنی نکتہ چینی برداشت نہیں کر سکتے ۔نتیش نے سی اے اے کے مخالفوں کو تو خاموش کر دیا لیکن پارلیمنٹ میں سی اے اے کی حمایت کرنے کے باوجود این آر سی این پی آر پر وہ خود بھی بھاجپا سے پوری طرح متفق نہیں ہیں ۔ایسے بھی اگر امت شاہ کے کہنے پر نتیش نے پرشانت کو پارٹی میں شامل کیا اور سیدھے نائب صدر بنا دیا تھا تو یہ خود ان کی سمجھ کا بھی سوال ہے کچھ سال پہلے عآپ میں بھی لیڈر شپ پر سوال کھڑے کرنے والے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کی بھی اسی طرح سے عآپ سے وادی ہوئی تھی یہ پارٹی ڈسی پلین کی خلاف ورزی کی مثال کے ساتھ سیاسی پارٹیوں میں جمہوری اقدار کے مضر اثرات کو ظاہر کرتے ہیں جہاں لیڈ شپ پر سوال کرنا بھاری پڑتا ہے ۔

(انل نریندر)

کیا امت شاہ ووٹوں کی پولرائزیشن کرانے میں کامیاب ہوں گے؟

بی جے پی نے دہلی اسمبلی چناﺅ کو اپنی ساکھ کا سوال بنا لیا ہے پارٹی صدر سے لے کر مرکزی وزراءتمام ایم پی کو چناﺅ پرچار میں لگا دیا ہے ۔وزیر داخلہ امت شاہ نے جس دھواں دھار انداز میں دہلی چناﺅ میں کمپینگ شروع کی ہے اور جس طرح سے انہوںنے پور ی چناﺅ مہم کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اسے دیکھ کر ہر کوئی حیران ہے ۔عام طور پر امت شاہ کسی بھی چناﺅی کمپین میں اتنی جلدی اور اس قدر سرگرم نظر نہیں آتے تھے جتنے ان انتخابات میں نظر آرہے ہیں ۔23جنوری سے چناﺅ میدان میں اترنے کے بعد سے انہوں نے درجنوں پبلک ریلیوں کو خطاب کیا ہے پد یاترا اور روڈ شو کیے جس رفتار سے وہ کمپینگ کر رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ چناﺅ مہم ختم ہونے تک (6فروری کی شام )وہ دہلی کی سبھی اسمبلیوں کو کور کر لیں گے ۔وہ فی الحال ان علاقوں پر زیادہ توجہ دے رہیں جہاں غیر منظور کالونیا اور جھکی بستیاں آباد ہیں ۔شاہ کے دہلی چناﺅ میں اس قدر شامل ہونے کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں بی جے پی کے ذرائع کے مطابق بطور وزیر داخلہ امت شاہ کے لے یہ چناﺅ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ بھاجپا حالیہ ریاستوں کے چناﺅ میں مسلسل ہار رہی ہے دہلی چناﺅ میں کئی اہم ترین واقعات کا اثر ہے ۔مثلاََ شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کو لے کر جس طرح دہلی سمیت دیش بھر میں ہنگامہ مچا ہوا ہے سرکار پر دباﺅ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ایسے میں دہلی اسمبلی چناﺅ امت شاہ کے لے کہیں نہ کہیں اس مسئلے پر اپنا اور سرکار کا موقوف اور ایجنڈا صاف کرنے اور راشٹر واد کا حوالہ دے کر سی اے اے میں لوگوں کو یکجا کرنے کے ایک سنہرے کے موقع کی طرح ہے جہاں تک اپوزیشن پارٹیوں کا سوال ہے انہیں امت شاہ کے ذریعہ دہلی چناﺅ میں شاہین باغ کی مخالفت میں ،جے این یو کے سابق طالب علم شرجیل امام کے دیش مخالف بیان کو بھی اُٹھانے کے بعد اس کی دھار کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کانگریس اور عآپ پارٹی میں شاہ کے وار کے خلاف کارگر حکمت عملی ضروری ہو گئی ہے ۔وہیں بی جے پی کا کہنا ہے کہ شاہ نے پہلے ہی دور میں دونوں پارٹیوں کو گھیر لیا ہے ۔جانکار مانتے ہیں کہ شاہ کے چناﺅ پرچار میں دو فرقوں کے درمیان لڑائی کروانے میں وہ لگے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں تو عآپ اور کانگریس دونوں کو مشکل آ سکتی ہے ۔شاہ کے وار پر اروند کجریوال اور دیگر عآپ نیتا جواب دے رہے ہیں ۔شاہین باغ میں حال میں یوم جمہوریت پر اکٹھی بھیڑ نے بھی اپوزیشن پارٹیوں کا حوصلہ بڑھایا ہے ۔پھر شاہین باغ سے وہ ماحول تیار نہیں ہوا جس کو امت شاہ تیار کرنا چاہتے ہیں ۔وہ ووٹوں کا پولرائزیشن ابھی تک نہیں ہو پایا جو وہ چاہتے تھے ۔

(انل نریندر)

31 جنوری 2020

دہلی چناﺅ بساط پر شہریت ترمیم قانون

شہریت ترمیم قانون (سی اے اے)کو لے کر پیدا تحریک کی آواز دن بدن رکنے کے بجائے الٹی تیز ہو رہی ہے دہلی اسمبلی چناﺅ کے مشکل سے چند دن بچے ہیں اور جس طرح شاہین باغ سرخیوں میں چھایا ہوا ہے اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ اس تحرک کی آنچ دہلی اسمبلی چناﺅ تک نہیں پہنچے گی خاص کر مسلم ووٹر اور دہلی اسمبلی کی مسلم اکثریتی سیٹوں پر اس کا اثر ضرور دکھائی دینے والا ہے ۔حالانکہ سیاسی پارٹیوں کی آغازکے مطابق اپنی حکمت عملی پر چل رہی ہیں۔دہلی کی چناﺅی بساط پر مسلم ووٹروں کی تعداد بارہ فیصد سے زیادہ ہے اور انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے ۔دہلی کی سیاست میں 70اسمبلی سیٹوں میں سے 8سیٹوں کو مسلم اکثریتی مانا جاتا ہے اس میں بلی ماران شیلم پور ،اوکھلا،چاندنی چوک،مصطفی آباد ،مٹیا محل ،بدر پور،اور کراڑی شامل ہیں ۔یہ ایسی سیٹیں ہیں جہاں امیدواروں کا مستقبل طے کرنے میں مسلم ووٹر کا اہم رول ہوتا ہے ۔مسلم ووٹروں کے لحاظ سے ترلوک پوری ،سیما پوری،بھی کم اہم نہیں ہیں ۔یہاں بھی مسلم ووٹر چناﺅ نتیجوں کو متاثر کرنے میں اہل ہیں ۔دہلی اسمبلی بھلے ہی ستر سیٹوں والی ہو یہ لیکن یہ چناﺅ قومی سیاست پر اثر ڈالنے والا ہے ۔سی اے اے کو لے کر شاہین باغ کی سرخیاں جہاں تیزی سے دیگر ریاستوں میں پھیل رہی ہیں ۔اس لحاظ سے دہلی اسمبلی چناﺅ کافی اہم ہو گیا ہے ۔حالانکہ دہلی مسلم ووٹر ایک یقینی طریقے سے ووٹ کرتا آرہا ہے اور اس کا جھکاﺅ جگ ظاہر ہے وہ کدھر جائے گا ۔دوسری طرف شہری ترمیم قانون جیسے اشوز کو لے کر اقلیتوں میں ناراضگی کے پیش نظر دہلی میں بھاجپا مخالف پارٹیوں کو بھاجپا کے حق میں اکثریتی طبقے کے پولرائزیشن ہونے کا بھی ڈر ستا رہا ہے ۔جس طرح سی اے اے کو لے کر مسلم ووٹروں کا پولرائزیشن ہوتا دکھائی دے رہا ہے اس کا تلخ رد عمل ہندو ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں ہونے لگا ہے ۔جس سے اپوزیشن پارٹیاں فکر مند ضرور ہو گئی ہیں ۔چونکہ ووٹروں کا یہ گروپ بھاجپا کے حق میں کھڑا ہوا تو یقینی طور سے چناﺅ میں بھاجپا مخالفین کے لئے مشکل ہو جائے گی دیش کی ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ ہوں یا پھر لوک سبھا کے ،اکثریتی مسلم ووٹوں کا پورائزیشن بھاجپا کی مخالفت میں دکھائی پڑتا ہے ۔چناﺅ میں مسلم ووٹروں کی حمایت اکثر اسی پارٹی و امیدوار کو دکھائی دیتی ہے جو امیدوار بھاجپا کو ہرانے میں اہل ہو دہلی میں 2013کے اسمبلی چناﺅ میں دہلی کے مسلم ووٹروں کو عآپ کی مضبوطی کا اندازہ نہیں تھا اس لئے انہوںنے کانگریس کے حق میں ووٹ دے دیا ۔2015کے اسمبلی چناﺅ میں یہ عام آدمی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوئے تو دونوں کانگریس اور بھاجپا کا صفایا ہو گیا اس مرتبہ مسلم ووٹر عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں بٹتے دکھائی پڑتے ہیں ۔

(انل نریندر)

عدنان سمی کو پدم شری ایوارڈ

پاکستانی نژاد گلو کار عدنان سمی کو پدم ایوارڈ کے لئے چنے جانے کو لے کر سیاسی بحث چھڑی ہوئی ہے سیاسی پارٹیوں میں 2016میں ہندوستانی شہری بنے تھے ۔بھارت میں ان کے یوگدان کو لے کر بحث چھڑنا فطری ہی ہے کانگریس اور این سی پی نے جہاں انہیں یہ اعزاز دینے پر اختلاف کیا ہے وہیں بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں نے کہا کہ عدنان سمی اس اعزاز کے زیادہ حقدار ہیں ۔کانگریس پارٹی کے ترجمان جے ویر شیرگل نے سمی کو پاک فوج کے سابق افسر محمد صنا اللہ کا بیٹا بتایا عدنان کے پائلٹ والد نے 1965میں بھارت کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس جنگ میں سمی کے والد پاکستانی ایئر فورس کے پائلٹ تھے پاکستانی ائیر فورس میوزیم کے سرکاری ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ،پائلٹ لیفننٹ خان نے بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران زیادہ تر جنگی آپریشن میں اڑانیں بھری تھیں انہوںنے پورے راہ عمل او ر مسم ارادے سے جنگی میدان میں ہوائی ٹکڑی کی قیادت کی تھی اور بے جوڑ نتیجے حاصل کئے پاکستان کے فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1965کی جنگ میں ایک شاندار کارکردگی اور ہمت کا ثبوت دینے کے لئے عدنان سمی کے والد کو ستارہ جرت نے نوازہ تھا ۔یہ ایوارڈ کا پاکستان کا تیسرا بڑا ایوارڈ مانا جاتا ہے عدنان کے والد نے بعد میں تین پاکستانی صدور کے معاون کی شکل میں کام کیا اور وہ ڈپلومیٹ بھی بنے عدنان کے والد کا سال 2009میں کینسر کی بیماری سے انتقال ہو گیا تھا۔مہاراشٹر کے اقلیتی ترقی امور اور این سی پی ترجمان نواب ملک نے چٹکی بھرے انداز میں کہا کہ اب کوئی بھی پاکستانی گلو کار بھارت کی شہریت لے سکتا ہے ۔لندن میں پاکستان ائیر فورس کے ایک سابق افسر کے یہاں پیدا عدنان سمی نے 2015میں ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست دی تھی اور وہ منظوری کے بعد جنوری 2016میں ہندوستان کے شہری بن گئے تھے ۔نواب ملک نے کہا کہ بھارت کے بہت سے مسلم اس ایوارڈ کے حقدار ہیں ۔عدنان سمی کو اس وقاری پدم شری ایوارڈ دینا 130کروڑ ہندوستانیوں کے بے عزتی ہے ۔این ڈی اے سرکار سی اے اے ،این آر سی ،اور این پی آر کے اشو پر ہندوستانیوں اور دنیا بھر کے لوگوں کے سوالوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ملک نے کہا کہ اب کوئی بھی پاکستان گلو کار جے مودی کا نعرہ لگا کر بھارت کی شہریت لے سکتا ہے ۔سنیچر کو پدم ایوارڈ کے لئے اعلان کردہ 118لوگوں کی فہرست میں ان کانام بھی ہے ۔وزارت داخلہ کی فہرست میں ان کی آبائی ریاست مہاراشٹر بنائی گئی ہے ۔ملک نے کہا کہ اگر پاکستان سے آکر کوئی جے مودی کوئی بھارت کی شہریت کے ساتھ ساتھ دیش کا اہم ترین اعزاز پدم شری بھی پا سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

30 جنوری 2020

ریاست ایک ،راجدھانیاں تین،تین

آندھرا پردیش کی راجدھانی معاملے میں ایک نیا باب جڑنے جا رہا ہے ۔آندھرا پردیش کی وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت نے اپوزیشن کی بھاری مخالفت کے درمیان ریاست کی تین راجدھانی بنانے سے متلعق سہولیت والا بل پیر یعنی 20جنوری کو اسمبلی میں پیش کیا اور اس کو ہنگامے کے درمیان ایوان میں پاس بھی کر لیا گیا اس بل میں امراوتی کو آئینی ،وشاکھا پٹنم کو ایگزکیٹو اور کرنول کو جوڈیشل راجدھانی بنانے کی سہولیت ہے ۔ریاستی حکومت کے مطابق تین راجدھانی بنانے کا ریاست میں لاءمرکزیت اور سبھی سیکٹروں میں برابر ترقی کو یقینی کرنا ہے ریاست کے وزیر شہری ترقی بی ستیہ نارائن نے اپوزیشن کے بھاری ہنگامے کے بیچ آندھرا پردیش لاءمرکزیت سبھی سیکٹروں کے یکساں ڈبلوپ مینٹ کے لئے ایکٹ 2020پیش کیا ۔قریب چھ سال پہلے ریاست کی تقسیم کے وقت اس ریاست نے اپنی راجدھانی کھو دی تھی موجودہ راجدھانی حیدرآباد کو ریاست سے الگ کر بنائے گئے ریاست تلنگانہ کے حصے میں آگئی تھی اور تقسیم نے آندھرا پردیش کو ایک نئی راجدھانی کے بنانے کی منظوری دے دی تھی اس وقت کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے امراوتی کو ایک جدید میٹرو سٹی کی شکل میں راجدھانی بنانے کا بڑا خواب دیکھا تھا ۔اسے انہوںنے اپنی ساکھ کا اتنا بڑا سوال بنا لیا تھا کہ جب امراوتی پروجکٹ کے لئے مالی مدد دینے کے معاملے میں مودی سرکار نے ہاتھ کھڑے کئے تو نائیڈو نے نہ صر ف این ڈی اے حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی بلکہ بھاجپا سے بھی اپنے پرانے رشتے توڑ لئے تھے لیکن پچھلے اسمبلی چناﺅ میں جب ان کی پارٹی کو اقتدار نہیں ملا تھا تو امراوتی کا مستقبل بھی کھٹائی میں پڑنے لگا ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی نے وہاں چل رہے تمام پروجکٹوں پر روک لگا دی جس سے یہ لگنے لگا کہ امراوتی اب ریاست کی راجدھانی نہیں ہوگی ۔اس سے نہ صرف کئی پروجکٹ پر روک لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا بلکہ ضلع کے وہ کسان بھی ناراض ہو گئے جن سے ان کی زمین کے بدلے اچھی قیمت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا سوال یہ ہے کہ کیا سچ مچ آندھرا پردیش کو تین راجدھانیوں کی ضرورت ہے ایک راجدھانی سے چلے انتظامیہ نے ہی آندھرا پردیش کو دیش کا ایک ایڈوانس راجیہ بنا دیا تھا ۔جس کی وجہ سے خوشحالی اور صنعتوں کے دھندے کے معاملوں میں ریاست نے کافی ترقی کی تھی علاقائی عوام کے جذبات کو دیکھتے ہوئے کئی ریاستوں نے دو راجدھانیوں کے تجربے کئے ہیں ۔اور یہ سب لوگوں کے جذبات کو مطمئن کرنے کے علاوہ ان کے دیگر فائدے کبھی سامنے نہیں آئے لیکن تین راجدھانیوں کے بننے سے خرچہ بھی بڑھے گا جس کا سیدھا اثر ریاست کی ترقی اور جن جاتیوں پر پڑنا لازمی ہے ۔

(انل نریندر)

شاہین باغ اہم اشو بنتا جا رہا ہے

دہلی کے اقتدار کا بنواس ختم کرنے کی کوشش میں بی جے پی کے لئے شاہین باغ کا اشو سب سے اہم ہو گیا ہے اور پارٹی نیتاﺅں کا سارا زور اسی پر لگا ہوا ہے ۔پچھلے کچھ دنوں سے پارٹی کا چناﺅ پرچار شاہین باغ کے ارد گرد گھوم رہا ہے ۔شہریت ترمیم قانون کو لے کر شاہین باغ میں پچھلے چالیس دنوں سے احتجاجی مظاہرے اور نعرے بازی کر رہے لوگ۔بھاجپا کا سارا زور شاہین باغ کے ذریعہ دیش کی سرکشا اور راشٹرواد کے مسئلے سے جوڑ رہی ہے ۔پیر کے روز وزیر قانون روی شنکر پرساد نے دہلی بھاجپا دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شاہین باغ میں لوگ بھارت کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔شاہین باغ کی شہریت ترمیم قانون کی مخالفت نہیں بلکہ پی ایم مودی کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے ۔دہلی اسمبلی چناﺅ میں کمپین میں چناﺅ ضابطے کو در کنار کر کے بگڑے بول کی اوچھی سیاست شروع ہو گئی ہے ۔مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے پچھلے سوموار کو ریٹھالا میں ایک نکڑ سبھا میں مبینہ طور پر گولی مارو کے لوگوں سے نعرے لگوائے انہوںنے شاہین باغ کا خاص ذکر کرتے ہوئے نعرہ دیا کہ دیش کے غداروں کو ....اور ان کے حمایتوں نے نعرہ شروع کرتے ہوئے کہا گولی مارو...۔کیا ایک مرکزی وزیر اس طرح کی زبان استعمال کرنا زیب دیتا ہے ؟اس بات کو چھوڑئیے کہ چناﺅ کمیشن اس کا نوٹس لے کر کیا کارروائی کرتا ہے معلوم ہوا ہے کہ اس نے مرکزی وزیر کو نوٹس دے کر جواب مانگا اور اگلے ہی دن بھاجپا کو ان کو اسٹار کمپینر کی لسٹ سے ہٹانے کا حکم دیا ۔خیر لیکن کیا ایک وزیر کو ایسے اشتعال انگیز زبان کا استعمال کرنا چاہیے ؟بھاجپا کے نیتا تو آج کل اپنے بیانوں کے ذریعہ ساری حدیں پار کر رہے ہیں ۔چناﺅ تو آتے جاتے ہیں ۔لیکن ہمیں اخلاقیات اور تہذیب کے دائرے میں رہنا چاہیے ۔مغربی دہلی سے بھاجپا کے ایم پی و سابق وزیر اعلیٰ صاحب سنگھ ورما کے بیٹے پرویش ورما نے شاہین باغ کا موازنہ کشمیر سے کر ڈالا اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو ایک گھٹنے کے اندر شاہین باغ کو خالی کرا دیا جائے گا ۔ورما نے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کے متنازعہ بیان گولی مارو کا بھی بچاﺅ کیا اور کہا کہ دیش کی جنتا بھی ایسے غداروں کے ایسا ہی سلوک چاہتی ہے ۔دہلی کی جنتا چاہتی ہے کہ ایک آگ کچھ سال پہلے کشمیر میں لگی تھی وہاں کشمیری پنڈتوں کی بہن بیٹیوں کے ساتھ ریپ ہو اتھا اس کے بعد وہ آگ یوپی ہے حیدرآباد ،کیرل میں لگتی رہی اب وہ آگ دہلی کے ایک کونے میں لگی ہوئی ہے ۔وہاں پر لاکھوں لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں ۔اور وہ آگ دہلی کے گھروں تک پہنچ سکتی ہے دہلی کے لوگوں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہوگا یہ لوگ آپ کے گھروں میں گھسیں گے اور آپکی بہن بیٹیوں کو اُٹھائیں گے ریپ کریں گے اور ان کو ماریں گے اس لئے آج وقت ہے کل مودی اور امت شاہ نہیں آئیں گے بچانے انہوںنے کہا کہ شاہین باغ میں کون لوگ مظاہرہ کر رہے ہیںاور انہیں کون حمایت دے رہا ہے سب کو پتہ ہے اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ہم ایک گھنٹے میں شاہین باغ کو خالی کرا دیں گے اس کے بعد انہوںنے یہ بھی کہا کہ میں کسی بھی صورت میں بیان واپس نہیں لوں گا ۔پرویش ورما کو وزیر ہونے کے ناطے اس طرح کے متنازعہ بیانوں سے بچنا چاہیے کیونکہ وہ ایک ذمہ دار آئینی عہدے پر فائض ہیں ۔

(انل نریندر)

29 جنوری 2020

یہ غدار آئی ایس آئی کے ایجنٹ

حال ہی میں دیش سکتے میں آگیا جب جموں کشمیر پولیس کا ڈی ایس پی دیوندر سنگھ آتنک وادیوں کے ساتھ پکڑا گیا اس کے پلوامہ حملے تک میں تار جڑنے کی بات کہی جارہی ہے ۔وردی والا غدار دیوندر سنگھ کیا پاک خفیہ آئی ایس آئی کے لئے کام کرتا تھا ؟ا ن تمام باتوں کا انکشاف دیوندر سنگھ آین آئی اے کے سامنے کررہا ہے ۔اس کی گرفتاری کے بعد کئی سوال کھڑے ہو گئے مثلاً کیا پہلے سے اس پر کسی کو کسی طرح کا شک نہیں تھا ۔دیوندر سنگھ کے اس راز کا کوئی تو رازدار نہیں ہے جو اسے بار بار بچاتا رہا ہے ۔فی الحال این آئی اے نے برخواست ڈی ایس پی کا پکڑے گئے دہشت گردوں سے آمنا سامنا نہیں کروایا ہے ایک ہندی اخبار دینک بھاشکرکی ایک تفتیشی رپورٹ میں دیوندر جیسے دیگر وردی دھاری غداروں کی پڑتال میں کئی چوکانے والے ثبوت سامنے آئے ہیں ۔پچھلے 9برسوں میں 32دیگر فوجی ملازم اور بی ایس ایف کے جوان پاکستان کیلئے جاسوسی کرتے پکڑے گئے یا پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ہنی ٹریپ میں پھنسے ان میں سے زیادہ تر معاملوں میں یہ جوان اسمارٹ فون اور شوشل میڈیا کے چکر میں ہنی ٹریپ میں پھنسے ہیں جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے ان سروس ملازمین میں پندرہ فوج کے ،7بحریہ کے ،2ائیر فورس کے ہیں۔ان کے علاوہ ڈی آر ڈی او کی ناگپور میں واقع برہموس میزائل یونٹ کا انجینئر سول ڈیفنس کا ایک اور بی ایس ایف کے 4جوان اور3سابق سروس مین شامل ہیں ۔اس بات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوج کے ریٹائرڈ برگیڈئیر روندر کمار بتاتے ہیں بھرتی کے وقت سے ہی دشمنوں کی نظر جوانوں پر رہتی ہے ۔کچھ لوگ پہلے سے ہی آتنک وادیوں و آئی ایس آئی کے رابطوں میں رہتے ہیں ۔فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں جن کا پتہ نہیں چلتا ۔لیکن اب زیادہ تر لوگ ہنی ٹریپ کے ذریعے نشانہ بنائے جاتے ہیں ۔پولیس وپہرہ و ملٹری فورس کے فوج ہی ان کے نشانے پر ہوتی ہے ۔اسلئے زیادہ غدار فورس سے ہی نکلتے ہیں ۔برگیڈئیر ٹوئیٹ کرتے ہیں کشمیر و نکسلی متاثرہ علاقوں پر پولیس پر لوکل سیاست کا زیادہ اثر ہوتا ہے اور وہ پیرا ملیٹری فور س میں ڈیپوٹیشن پر آجاتے ہیں ۔حالانکہ پندرہ لاکھ کی فوج میں غداروں کی یہ تعداد سمندر میں ایک بوند کے برابر ہے لیکن جس طرح سے ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کرتی ہے ۔زہر کی ایک بوند بھی آدمی کو مار ڈالتی ہے ۔فوجی عدالتیں اسلئے بھی سخت مانی جاتی ہے کہ وہاں ایسے جرائم میں 100فیصد سزا ملتی ہے سول کوٹ کی طرح قانونی پینترے بازی ان عدالتوں میں زیادہ نہیں چل پاتی ۔2010سے 2018تک پکڑے گئے دیش کے غداروں میں 12قصورواروں کو سزا ہو چکی ہے ۔باقی بچے 5یا 16قصور وار نوکری سے برخواست ہو چکے ہیں وہ جیلوں میں ہیں ۔

(انل نریندر )

راشٹرپتی نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکتے تھے ؟

جموں کشمیر میں ارٹیکل 370بے اثر کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلہ کےخلاف گذشتہ منگل کو سپریم کورٹ کے 5ججوں کی سماعت آئینی بنچ کے سامنے دن بھر چلی عرضی گزاروں نے دعویٰ کیا کہ جموں کشمیر کو لیکر5اور 6اگشت کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے آئینی اختیار صدر جمہوریہ کے پاس نہیں تھے ۔بھارت کا پورا آئین جموں کشمیر پر نافذ نہیں ہوتا اسی درمیان عرضی گزاروں کے وکیل نے معاملہ بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی مانگ کی وہیں مرکزی سرکار نے اس کی مخالفت کی ۔جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سنجے کشن کال ،جسٹس سبھاش ریڈی اور سوریہ کانت و وی آر گوی پر مشتمل بنچ معاملے کی سماعت کر رہی تھی اس نے بدھ کو صاف کیا کہ آرٹیکل 370کا اشو فی الحال 7نفری بڑی آئینی بنچ کو نہیں بھیجا جائے گا ۔بنچ نے کہا کہ جب تک عرضی گزاروں کی طرف سے آرٹیکل 370سے جڑے عدالت کے دونوں فیصلوں ،1959کا پریم ناتھ قول بنام جموں کشمیر اور 1970کا سنپت پرکاش بنام جموں کشمیر کے درمیان کوئی سیدھا ٹکراو ¿ ثابت نہیں ہوتا ۔وہ اس اشو کو سینئر بنچ کو نہیں بھیجے گی ۔بتادیں کہ دونو ںہی فیصلے پانچ نفری آئینی بنچ نے ہی سنائے تھے ۔بنچ نے عرضی گزاروں کے وکیلوں کو پچھلے دونوں فیصلوں کے درمیان سیدھا ٹکراو ¿ نا ہونے سے جڑے ثبوت داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت کو ملتوی کر دیا اب اگلی سماعت جلد ہوگی ۔سپریم کورٹ میں آٹارنی جنرل کے کے مینو گوپال نے جمعہ کو کہا کہ آرٹیکل 370کو ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینا ممکن بھی ہے ۔بحث کے دوران اٹارنی جنرل نے کورٹ میں اسے ہٹائے جانے کی پوری تفصیل رکھی اس دوران کہا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی میں بتانا چاہتا ہوں کہ جموں کشمیر کی سرداری حقیقت میں عارضی تھی ہم ریاستوں کے ایک فیڈریشن ہیں ۔اس سے پہلے عرضی گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوئے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ پہلی بار بھارت کے آئین کے آرٹیکل 3کا استعمال کرتے ہوئے خود کو ایک مرکزی حکمراں ریاست کا درجہ دیا گیا اگر وہ (مرکز ایک ریاست کے لئے ایسا کرتے ہیں ،یا کرسکتے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں )سپریم کورٹ نے بدھوار کو صاف کہا کہ اس مسئلے کو 7نفری ججوں کی ایک بڑی بنچ کو تبھی سونپا جائے جب سپریم کورٹ کے پہلے 2فیصلوں میں تضاد ثابت ہو ۔بدھوار کو اس سلسلے میں بات سن کر جموں کشمیر بار ایسو سی ایشن کے ذریعے جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں ججوں کی آئینی بنچ کو بتایا گیا کہ پچھلے سال پانچ اگست کو آڑٹیکل 370کو منسوخ کرنے کا مرکز کا فیصلہ ناجائز تھا جسٹس رمنا کی بنچ سماعت کر رہی ہے ۔اب معاملہ اگلی سماعت تک جاری رہے گا ۔

(انل نریندر)

28 جنوری 2020

اسپیکر کے اختیارات پر غور کریں

دیش کے الگ الگ ریاستوں کی اسمبلیوں میں اکثر اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ ممبران کے برتاﺅ یا فیصلوں کو لے کر ایوان کے اسپیکر نے جو فیصلہ لیا وہ کتنا صحیح ہے اور کتنا انصاف پر مبنی ہے ؟ممبران میں ساجھیداری کرنے والی پارٹیوں کی طرف سے ایسے الزام لگتے رہتے ہیں کیونکہ اسمبلی اسپیکر کسی خاص پارٹی کے ممبر کی شکل میں ہے اس لئے ان کا فیصلہ اس سے متاثر ہوتا ہے ۔منی پور کے ایک وزیر کو ڈسکوالی فالی کئے جانے سے متعلقہ کانگریس ممبران اسمبلی کی ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے متعلقہ اسمبلی اسپیکر کو چار ہفتے میں اس پر فیصلہ لینے کے لئے کہا ہی ہے ساتھ ہی عدالت نے دل بدل معاملوں پر فیصلہ لینے کے لے ایک مختار نظام قائم کرنے کا پارلیمنٹ کو جو مشورہ دیا ہے وہ زیادہ اہم ترین ہے عدالت کا کہنا تھا کہ ممبران اسمبلی اور ممبران کو ڈسکوالی فائی کرنے سے متعلق ایوان کے اسپیکر کے پاورس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔صاف طور پر عدالت کا مقصد ہے کہ اسپیکر سے مکمل طور پر منصفانہ حیثیت کی امید نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بھی کسی سیاسی پارٹی کا ممبر ہوتا ہے عدالت کا یہ تبصرہ قابل غور ہے آئین کے دسویں سیکشن کے تحت دل بدل قانون کی حفاظت کرنا جمہوریت کے لئے بے حد اہم ترین ہے ۔دراصل منی پور کے وزیر جنگلات ٹی شیام کمار 2017میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے لیکن وزیر بننے کے لے بھاجپا میں شامل ہو گئے تھے کانگریس نے دل بدل قانون کے تحت انہیں ڈسکوالی فائی کرنے کے لئے اسپیکر کے سامنے کم سے کم دس عرضیاں دی تھیں لیکن کوئی سماعت نہیں ہوئی اسی معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس روہت ٹن پھلی نریمن کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ممبران نے پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو ڈسکوالی فائی کا فیصلہ لینے کے اسپیکر کے اختیارات پر پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیونکہ سیاسی پارٹی سے جڑے ہونے کے سبب اسپیکر کے فیصلے میں جانبدارانہ پہلو اپنانے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ہر نکتہ سے معاملے کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد عدالت نے کچھ اہم تجاویز دی ہیں جس سے ایوان کی اہمیت اور بھروسہ نہ ختم ہو مثلاََ عدالت نے مرکزی سرکار سے غور کرنے کو کہا ہے کہ کیا ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کو ڈسکوالی فائی پر فیصلہ لینے کا حق اسپیکر کے پاس ہے یا اس کے لئے ریٹائرڈ ججوں کا پینل جیسی آزاد اتھارٹی قائم ہو فطری ہے ہندوستانی جمہوریت کے کردار کو بنائے رکھنے میں ایوان کے اسپیکرس کا چہیتا رول ہے لیکن اس عہدے میں آتے ہی بے لوث اور متضادات نے ہمیں شرمندہ کیا ہے بڑی عدالت نے اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے کئی برسوں سے غور و فکر ہو رہا تھا کہ اسپیکر کے عہدے کو کیسے پاک و صاف اور غیر منصفانہ رکھا جائے؟آپ نے جو تجاویز پیش کی ہیں اب مرکزی سرکار کو آگے فیصلہ کرنا ہے جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے لئے اسپیکر کا رول اہم ترین بن جاتا ہے ۔

(انل نریندر)

برانڈ مودی بنام برانڈ کجریوال

حالانکہ بی جے پی نے دہلی کے اسمبلی چناﺅ کو اپنی ساکھ کا سوال بنا لیا ہے ۔لیکن سچ تو یہ ہے پارٹی کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی کاٹ نہیں مل پار ہی ہے پارٹی صدر امت شاہ ایک ایک دن میں درجنوں نکڑ سبھائیں کر رہے ہیں ورکروں کے گھر کھانا کھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عام آدمی پارٹی کو ہرانا مشکل لگ رہا ہے ۔دیش کی سیاست کو ہمیشہ متاثر کرنے والی دیش کی راجدھانی دہلی ساتویں مرتبہ اسمبلی کے چناﺅ کے لے چند دن بچے ہیں سال 2013کے چناﺅ کی طرح یہ چناﺅ بھی بے حد خاص ہے تب اناّ ہزارے کے بھرسٹا چار آندولن کے سبب متبادل سیاست کی ہوا نے کانگریس کی سیاسی صحت خراب کر دی تھی تو اس مرتبہ ایک دو لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا کو دھماکے دار جیت درج کرانے والے برانڈ مودی ہیں ۔دوسری طرف 2014کے لوک سبھا چناﺅ نے کراری ہار کے بعد پچھلے اسمبلی چناﺅ میں عآپ کو 67سیٹیں دلانے والے برانڈ کجریوال کونسہ برانڈ سیاست کے بازار میں کھرا اُترتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا ۔دہلی کے چناﺅ نتائج کو متاثر کرنے والے خاص طور سے تین پہلو ہوں گے پہلا پہلو مودی ہوں گے مثلا کیا دہلی کی جنتا لوک سبھا چناﺅ کی طرح برانڈ مودی پر بھروسہ کریں گے ؟اگر اس کا جواب ہے تو چناﺅ نتیجے کا سارا طلسم یہیں بکھر جاتا ہے ۔پچھلے لو ک سبھا چناﺅ میں بھاجپا کو 57فیصدی ووٹ حاصل ہوئے تھے جو کانگریس اور عام آدمی کے ووٹ فیصد سے 35اور 39فیصد ی زیادہ ہے۔حالانکہ لوک سبھا چناﺅ کے مقابلے بھاجپا کے ووٹوں میں ہریانہ میں 22فیصدی ،جھارکھنڈ میں 17فیصدی ووٹوں کی گراوٹ درج کی گئی ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ میں کلین سوئپ کرنے کے بعد دہلی اسمبلی چناﺅ میں محض 3سیٹوں تک سمٹنا بتاتا ہے کہ محض مودی کے سارے چناﺅی نیا پار کرنا اتنا آسان نہیں ہے دوسرا اہم پہلو کانگریس کی پرفارمینس ہے قریب قریب ایک ہی ووٹ بینک کے سبب آپ کی ساری امیدیں کچھ حد تک اس بار کانگریس کی پرفارمینس پر بھی ٹکی ہیں مضبوط کانگریس بھاجپا کو تو کمزور اور کانگریس عآپ کو ناکام بناتی رہی ہے ۔2014اور2019کے لوک سبھا چناﺅ میں کانگریس کی پرفارمینس میں معمولی بہتری میں ساتوں سیٹوں کو بھاجپا کی جھولی میں ڈال دیا تھا ۔ایسے میں سوال ہے کہ دو سرکردہ ہستیوں شیلا دکشت کے چلے جانے اور اجے ماکن کے غائب ہونے کے سبب بے قیادت کانگریس اس چناﺅ میں اپنی صحت میں کتنی بہتری لائے گی ۔کانگریس نے حالانکہ کئی سرکردہ ہستیوں کو چناﺅ لڑنے پر مجبور کیا ہے ۔ان کی پرفارمینس پر کانگریس کا مستبقل منحصر کرے گا تیسرا اہم پہلو متبادل سیاست ے سہارے سیاست میں کھڑا ہوا برانڈ کجریوال ہے پارٹی کا نظریاتی پہلو رکھنے والے یوگیندر یادو،پرشانت بھوشن،کمار وسواش سمیت تمام سرکردہ نیتاﺅں نے یا تو عآپ سے توبہ کر لی ہے یا انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ۔یہ پہلا عآپ پارٹی کا چناﺅ ہے اب پرانی ٹیم نہیں ہے اس لئے سارا دارومدار برانڈ کجریوال پر ہے ۔

(انل نریندر)