Translater

13 اپریل 2019

میں قید میں ہوں،میرے نظریات نہیں

چارہ گھوٹالے میں سزا کاٹ رہے راشٹریہ جنتا دل کے چیف لالو پرساد یادو کے لوک سبھا چناﺅ میں جیل سے باہر آنے کے منسوبوں پر پانی پھر گیا ہے ۔سپریم کورٹ نے کروڑوں روپئے کے چارہ گھوٹالے معاملے میں لالو جی کی ضمانت عرضی بدھوار کو مسترد کر دی ہے ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی ایک بنچ نے کہا کہ وہ لالو کو ضمانت پر رہا کرنے کی خواہش مند نہیں ہے چونکہ وہ سزا یافتہ شخص ہیں ۔بنچ نے لالو کے چوبیس مہینوں سے جیل میں ہونے کی دلیلوں کو خارج کر دیا ۔خیال رہے کہ 14سال کی جیل کا موازنے میں 24مہینے کچھ بھی نہیں ہے ۔بہا رمیں چناﺅ کمپین کے دوران خاص کر چناﺅ ی ریلیوں میں ووٹروں کو نیتاﺅں کا چٹکی بھرا انداز نہیں مل پا رہا ہے ۔جو لالو پرساد کی دیہا تی بولی میں ملتا تھا ان کو گاﺅں اور شہر کے لوگ اب بھی یاد کرتے ہیں ۔بغیر لالو پرساد کے وہ عجب سا محسوس کرتے ہیں ۔تیجسوی ہر ایک ریلی میں ووٹروں کو یہ بتانے سے نہیں چوکتے کہ والد لالو پرساد یادو کو پھنسایا گیا ہے ۔وہ جیل سے باہر رہتے تو ایس ٹی ایس سی ایکٹ میں ترمیم کرنے کی مجال نہیں تھی۔یہ الگ بات ہے کہ دیہاتیوں کے ذہن میں اس کا کتنا اثر ہوگا صحیح تصویر تو پولنگ کے دن اور ووٹوں کی گنتی سے پتہ چلے گا مگر اتنا ضرور ہے کہ ووٹ دینا تو الگ لالو کی کمی انہیں ضرور کھل رہی ہے ۔گاﺅں کے ووٹروں کو لبھانے کے لئے آر جے ڈی نے نعرہ گھڑا ہے کرئے کے بن ...لڑے کے با ....جیتے کے بنا۔یہ نعرہ بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے لفظوں سے ملتا جلتا ہے ۔وہیں لالو نے سپریم کورٹ میں ضمانت عرضی خارج ہونے کے بعد بدھوار کو ہی جیل سے جنتا کے نام کھلا خط لکھا ہے رانچی کے رسم میں بھرتی لالو پرساد یادو نے خط میں لکھا ہے کہ جب جمہوریت کا اتسو چل رہا ہے وہ رانچی کے اسپتال میں بیٹھ کر سوچ رہے ہیں کہ تباہ کن طاقتیں کیا انہیں قید کروا کر بہار میں سازش کی کہانی لکھنے میں کامیاب ہوں گے وہ آگے لکھتے ہیں کہ وہ قید میں ہیں ان کے نظریات نہیں ۔آر جے ڈی کے فیس بک وٹوئٹر پروفائل پر لالو کا خط شیر کیا گیا ہے ۔آگے لکھا ہے کہ لڑائی آر پار کی ہے ان کے گلے میں سرکار اور چالبازوں کا پھندا کسا ہوا ہے عمر کے ساتھ جسم ساتھ نہیں دے رہا ہے آن بان کی لڑائی میں ہمیشہ جیت ہوگی ۔لالو آگے لکھتے ہیں لڑائی آئین میں دی گئی حفاظت کی لڑائی ہے ریزرویشن اور آئین مخالف سرکار کو باہر کرنے کے لئے کرو یا مرو والے جزبے کی ضرورت ہے لالو نے لکھا کہ دیش و سماج کے لئے ان کی جنگ جاری رہے گی ۔گرو گووند سنگھ کے بچوں کی طرح انہیں بھی دیوار میں چنوا دیا جائے گا تو بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ہمارے غریب غربالوگ جو منڈل برادری کشوا کی یادو جی اور پاسوان،مانجھی جی کے بہانے کہنے لگے تھے کہ وہ ذاتی علامت نام سے بلائے جائیں گے ۔دشمن آپ کی طاقت کو تول رہا ہے ۔
لالو پچھلے کچھ مہینوں سے رانچی کے راجیندر میڈیل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج ہیں۔

(انل نریندر)

ای وی ایم-وی وی پیٹ ملان پر اعتراض؟

سپریم کورٹ نے ہر ایک لوک سبھا حلقہ کے تحت آنے والے ہر اسمبلی حلقہ میں پانچ ای وی ایم سے وی وی پیٹ پرچیوں کا ملان کرنے کا حکم دیا ہے ،جس سے الیکشن کمیشن کی غیر جانب دارانہ کارروائی اور مضبوط ہوگی ساتھ ساتھ یہ حکم اس لئے بھی اہم ہے کہ 11اپریل سے شروع ہوئے لوک سبھا چناﺅ کے پہلے یہ سسٹم نافذ کر دیا گیا ۔ابھی تک چناﺅ کمشین ہر ایک اسمبلی حلقہ میں ایک پولنگ مرکز سے وی وی پیٹ پرچیوں کا ملان کیا کرتا تھا ۔اب اسے ہر ایک اسمبلی حلقہ کے پانچ پولنگ مراکز میں پرچیوں کا ملان کرنا ہوگا ۔آخر وی وی پیٹ سے ملان کا مقصد کیا ہے ؟اس سے یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ ای وی ایم کا نمبر وی وی پیٹ میں ہی ہو بہو مل جاتا ہے ۔اگر ملان صحیح ہوتا تو پھر شک کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے 21اپوزیشن پارٹیوں نے وی وی پیٹ سے کم سے کم 50فیصد ای وی ایم کے ملان کرنے کا الیکشن کمیشن کو حکم دینے کی اپیل کی تھی عدالت عظمی نے الیکشن کمیشن کا موقوف جانا اور ہر اس سوال کا جواب دیا جو اپوزیشن پارٹیاں اُٹھا رہی تھیں چناﺅ کمیشن نے عدالت کو صاف صاف بتایا کہ ای وی ایم بالکل محفوظ سسٹم ہے اور اس میں کسی چھیڑ چھاڑ کا امکان پیدا نہیں ہوتا باوجود اس کے اپوزیشن ابھی بھی پوری طرح مطمئن نہیں نظر آتی ۔آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے پچھلے منگل کو کہا تھا کہ وہ وی وی پیٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں اور الیکشن کمیشن کو یہ یقینی کرنا ہوگا کہ وی وی پیٹ پرچیوں کے ای وی ایم سے ملان میں کوئی فرق نہ ہو انہوںنے تجویز رکھی کہ کسی طرح کیے فرق آنے پر چناﺅ کمیشن کو دیش میں سبھی وی وی پیٹ کی گنتی یقینی کرنی چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ میں پوری طرح سے مطمئن تو نہیں ہوں لیکن کچھ نہیں سے بہتر ہے ۔بتا دیں پہلی مرتبہ کسی لوک سبھا چناﺅ میں وی وی پیٹ مشینوں کا استعمال ہو رہا ہے ۔حالانکہ کچھ پارلیمانی اور اسمبلی نشستوں پر ضمنی چناﺅ میں ان کا استعمال کیا جا چکا ہے ۔کسی بھی جمہوری ملک کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا چناﺅ عمل شفاف اور غیر جانبدارانہ ہو اور اس معاملہ میں بھارت دنیا میں ایک مثال ہے ۔ای وی ایم کی آمد کے بعد سے چناﺅی دھاندھلیوں پر روک لگی ہے اس کے باوجود تما م سیاسی پارٹیاں ای وی ایم کو لے کر سوال اُٹھاتی رہی ہیں اور ان کے شبہے کے سبب سپریم کورٹ نے بھی 2013میں چناﺅ کمیشن کو ای وی ایم کو ووی وی پیٹ سے جوڑنے کے احکامات دیئے تھے ۔پہلی بار چناﺅ میں ایسا ہو رہا ہے اس میں اپوزیشن پارٹیوں کے کاونٹنگ ایجنٹ جس بھی ای وی ایم کا چاہیں وی وی پیٹ سے ملان کرا سکتے ہیں ۔امر واقعہ یہ ہے کہ چناﺅ کمیشن کا اعتراض تھا کہ پچاس فیصد ملان کے پولنگ بوتھ کا بہت زیادہ بڑھانا ہوگا گنتی ملازمین کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوگا اور اس سے گنتی میں کئی دنوں کا وقت لگ جائے گا ۔جس سے نتیجہ آنے میں چار سے پانچ دن کا وقت لگنے والی بات چناﺅ کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتائی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ 2019کا لوک سبھا چناﺅ منصفانہ اور شفاف ہوگا ۔

(انل نریندر)

مشکل ہے ڈگر ،بھاجپا کی جموں-اودھم پور چناﺅ میں

ٓآتنکی حملے کی دہشت جھیل رہے جموں کشمیر کی دو سیٹوں پر دوسرے مرحلے میں اٹھارہ اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ جموں و بارہ مولہ کے دو پارلیمانی حلقوں میں قسمت آزما رہے 33امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 33لاکھ ووٹر کریں گے ۔ جموں پارلیمانی حلقے میں 24امیدوار میدان میں ہیں ۔جبکہ بارہ مولہ میں 9امیدوار سیٹ کے لئے چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔ جموں پارلیمانی حلقہ 4ضلعوں میں 20اسمبلی علاقوں میں پھیلا ہو اہے جن میں جموں ،سانبا،پونچھ اور راجوری شامل ہیں ۔ پارلیمانی سیٹ پر کل 2047299ووٹ ہیں۔جموں پونچھ اور اودھم پور کٹھوا کے پارلیمانی حلقوں میں بھاجپا کے لئے اپنا گڑھ بچائے رکھنے چنوتی پیدا ہو گئی ہے ۔ایسا تین اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ درپردہ سمجھوتے کے سبب ہے ۔ایسے میں بھاجپا امیدواروں کو صرف مودی کے نام کا ہی سہارا ہے ۔بھاجپا نے دونوں ہی لوک سبھا سیٹوں پر اپنے پرانے چہروں کو ہی میدان میں اتارا ہے جموں سے موجودہ ایم پی جگل کشور شرما اور اودھم پور سے وزیر و ایم پی جتیندر سنگھ قسمت آزما رہے ہیں ۔حالانکہ دونوں ہی پارلیمانی حلقوں میں اپوزیشن پارٹیوں کے امیدوار دم خم میں تو نہیں ہیں ۔تشویش کی بات یہ ہے کہ کانگریس امیدوار کو اگر براہ راست طور پر نیشنل کانفرنس اور غیر بالواسطہ طور پر پی ڈی پی کی بھی حمایت حاصل ہے ۔جموں سے کانگریس کی طرف سے رمن بھلہ کو اتارا گیا ہے ۔وہ ریاستی حکومت میں ترقی کی لو کے نام سے جانے جاتے رہے ہیں ۔جبکہ اودھم پور سے کانگریس امیدوار ڈکٹر کرن سنگھ کے صاحبزادے وکرم اتےو راج گھرانے سے ہیں ان کے والد ڈاکٹر کرن سنگھ اس پارلیمانی حلقہ سے چار بار کامیاب ہو چکے ہیں واضح رہے کہ پچھلے چناﺅ میں بھی دونوں پارلیمانی حلقوں سے نیشنل کانفرنس بغیر سمجھوتے سے ان لوک سبھا حلقوں میں امیدوار میدان میں نہیں اتارے تھے لیکن اس مرتبہ دونوں پارٹیوں میں باقاعدہ سمجھوتہ ہوا ہے اور پی ڈی پی نے فرقہ وارانہ ووٹوں کو بٹنے سے روکنے کے خاطر پارلیمانی حلقوں میں اپنے امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اپوزیشن کے ساجھا امیدوار کے علاوہ بھاجپا کو اپنے ہی باغی اور دبنگ لیڈر چودہر لال سنگھ سے بھی نمٹنا ہوگا ۔بھاجپا کو چھوڑ کر ڈوگرا لوگوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے بنائی گئی تنظیم ڈوگر ا سوابھیان کے بینر تلے دونوں ہی پارلیمانی حلقوں سے قسمت آزما رہے ہیں ۔بھاجپا کو پی ڈی پی سرکار بنانے کا بھی خمیازہ بھگتنا پڑئے گا ۔جموں حلقہ کونظر انداز کیا گیا اور اتنا وکاس نہیں ہوا جس کی بھاجپا سے امید تھی ۔پچھلے پانچ سالوں میں جموں حلقہ میں دہشتگردی بھی بڑھی ہے اور آتنکی حملے بھی زیادہ ہوئے ہیں ۔جموں علاقہ کے یہ چناﺅ قومی اہمیت رکھتے ہیں ہندو اکثریتی علاقہ میں اگر بھاجپا پچھڑ جاتی ہے تو وادی میں اس کا صفایا ہونا طے ہے بھاجپا قیادت کو محاسبہ کرنا ہوگا کہ جب ان کی حکومت بنی تھی تو انہوںنے جموں علاقہ کو کیوں نظر انداز کیا ؟اہم مقابلہ بھاجپا بنام اپوزیشن ساجھا امیدوار سے درمیان ہوگا کوئی بھی ہارے جیتے آخر جیت تو ہندوستانی جمہوریت کی ہی ہوگی ۔

(انل نریندر)

12 اپریل 2019

سپرےم کورٹ کے تازہ فےصلے سے مودی کو کرارا جھٹکا

مرکزی حکومت کو چناو ¿ سے پہلے زبردست جھٹکا لگا ہے سپرےم کورٹ نے بدھ کے روز رافےل جنگی جہازوں کے سودے مےںاپنے فےصلہ پر نظر ثانی کےلئے افشا ہوئے دستاوےزوں کو بنےا دبنانے کی اجازت دے دی ہے اور ان پر مخصوص اختےار ہونے کی مرکزکی ابتدائی اعتراضات کو خارج کردےا فےصلہ مےں کہا نظر ثانی عرضی پر سماعت کے دوران نہ صرف جنگی جہازوں کے قےمتوں کے اشوپر بلکہ رافےل بنانے والی کمپنی ڈسالٹ کے ہندوستانی آفسٹ پارٹنر کے انتخاب کے اشو پر بھی جانچ ہوگی ۔چےف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی تےن نفری بےنچ نے اےک رائے سے لئے فےصلہ مےں کہا جو نئے دستاوےزڈومےن مےں آئے ہےں ان بنےا د پر معاملہ مےں نظر ثانی عرضی پر سماعت ہوگی ۔بےنچ مےں چےف جسٹس کے علاوہ جسٹس اےس کے کول اور جسٹس اےم کے جوزف شامل ہےں ۔اس فےصلہ سے بی جے پی کو چناو ¿ سے ٹھےک پہلے زبردست جھٹکا لگنا فطری ہے ۔پچھلے دسمبر مےں رافےل پر پاک صاف ہونے اور راحت پانے کا دعوی کررہی بی جے پی اور مودی سرکار کو اس لئے بھی جھٹکا لگا کےوںکہ اب کانگرےس سمےت تمام اپوزےشن چناو ¿ مےں اسے بڑا اشو بنانے کی کوشش کرے گی ۔سرکار اور بی جے پی کورٹ کے فےصلہ کو بنےاد بناکر خود کو کلےن چٹ ملنے کا دعوی کررہے تھے ۔لےکن اب اپوزےشن خاص کر کانگرےس صدر راہل گاندھی اےک بار پھر زےادہ حملہ آور نظر آئےں گے ۔عدالت نے حکومت کے ذرےعہ چوری کے بتائے کاغذات پر سماعت کےلئے رضامندی جتائی ہے ۔ حکومت نے ان کاغذات کی بنےاد پر سماعت نہ کرنے کی دلےل کے ساتھ کئی باتےں ملک کی سلامتی کے سوالوں پر عدالت نے اپنی بات رکھی تھی ۔پہلے کہا گےاتھا کہ فائل چوری ہوگئی ہے پھر کہا نہےں ہوئی ۔فائل سے کچھ کاغذات چوری ہوگئے ہےں اور ان چوری کے دستاوےزات کا نوٹس نہ لےا جائے ۔حکومت نے کہا تھا جو دستاوےزات پرشانت بھوشن ،ےشونت سنہا ،ارون شوری نے کورٹ مےں پےش کئے ہےں وہ پری ولےجڈ دستاوےز ہےں اور قومی سلامتی سے وابستہ ہےں اور ےہ خفےاں دستاوےز ہےں اور آرٹی آئی مےں حوالہ ہے اس دوران مےں عرضی گذار کی پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ تمام دستاوےزات پبلک ڈومےن مےں ہے جو دستاوےزات لوگوں کے سامنے آئے ہےں ان پر عدالت غور نہ کرےں ۔وکےل کا کہنا تھا کہ ےہ بےکار کی دلےل ہے لےکن سپرےم کورٹ کے تازہ فےصلہ سے جہاں مرکزاور مودی سرکار کو کرارا جھٹکا لگا ہے وہےں اپوزےشن اسے اپنی کامےابی شکل مےں دےکھ رہی ہے ۔کانگرےس نے کہا رافےل جنگی جہاز سودے کا سچ سامنے آگےا ہے ۔اور اس معاملے مےں اب انصاف ہوگا ۔اب سپرےم کورٹ نے صاف کردےا ہے چوکےدار جی نے چورا کرائی ہے ۔۔۔۔راہل کا کہنا ہے کہ مےں کئی مہےنوں سے کہہ رہا ہوں کہ وزےر اعظم نے ائےر فورس کے پےسے انل انبانی کو دئے اور اب سپرےم کورٹ نے بھی منظور کرلےا ہے ۔سپرےم کورٹ نے رافےل معاملہ مےں جانچ سے متعلق اپےل 14دسمبر 2018کو خارج کردی تھی جس کے بعد عدالت نے نظر ثانی عرضی دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے سماعت ہوئی چےف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس اےس کے کول اور جسٹس اےم کو جوزف کی بنچ نے معاملے کی سماعت کی تھی ۔14مارچ کو سپرےم کورٹ نے مرکزی کے اس اعتراض پر حکم محفوظ کرلےا تھا کہ پری ولےجڈ دستاوےز پر سماعت ہوگی ےا نہےں بنچ نے اےک رائے سے فےصلہ لےا تھا کےا ہےں ےہ تےن دستاوےز پہلا :آٹھ صفحات کا دستاوےز جس مےں ہندوستانی مذاکراتی ٹےم کے ممبران کا ذکر ہے ۔دوسرا :وزارت دفاع کے خفےہ دستاوےز ۔تےسرا :ڈےفنس سےکرےٹری کی نوٹنگ ۔کانگرےس پارٹی کے اہم ترجمان رندےپ سرجے والا نے عدالت کے بدھوار کے حکم کو انصاف کی سمت مےں پہلا قدم قرار دےا اور کہا کہ اس معاملہ مےں انصاف جوائنٹ پارلےمانی کمےٹی کی جانچ سے ہوگا ۔انہوں نے اخبار نوےسوں سے کہا کہ رافےل کی موٹی پرتے کھلتی جارہی ہےں اور مودی جی کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگےا ہے ۔لےفٹ پارٹےوں نے بھی عدالت کے فےصلہ کا خےر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے دےش کی سلامتی سے جو سمجھوتے کئے ہےں ان کا سچ اب سامنے آجائے گا ۔سرجے والا کا کہنا تھا کہ مودی جی آپ جھوٹ بول کر جتنا چاہے معاملہ چھپا لےں لےکن جلد سچائی سامنے آجائے گی ۔اب اسے چھپانے کےلئے کوئی سرکاری سےکرےٹ اےکٹ نہےں ہے ۔سپرےم کورٹ نے قانون کے اصول کو برقرار رکھا ہے ۔مودی چنتا مت کرو۔اب جانچ ہونے والی ہے آپ اسے پسند کرےں ےا نہ کرےں ۔دہلی کے وزےر اعلی اروند کجرےوال نے کہا مودی جی ہر جگہ کہہ رہے تھے کہ انہےں سپرےم کورٹ سے رافےل معاملہ کلےن چٹ ملی ہے ۔سپرےم کورٹ کے فےصلہ سے ثابت ہوگےا ہے کہ مودی جی نے رافےل نہ چوری ہے دےش کی افواج سے دھوکہ کےا ہے اور اپنا جرم چھپانے کےلئے عدالت کو گمراہ کےا ہے ۔راہل گاندھی کے ذرےعہ رافےل سودے کو لےکر چوکےدار چورہے کا نعرہ کئی مہےنوں سے گونج رہا ہے جواب مےں پی اےم مودی نے ہم سب چوکےدار ابھےان دےش بھر مےں شروع کردےا ۔لےکن کانگرےس اور راہل گاندھی کے حملے اب زےادہ تلخ ہوسکتے ہےں ۔پہلے مرحلے کی 91سےٹوں پر ووٹ ڈالے جاچکے ہےں لےکن مغربی بنگال کی سےٹوں اور دےش بھر مےں 542سےٹوں پر چناو ¿ کمےپن چل رہی ہے کہےں کہےں ختم ہوچکی ہے ۔واقف کار مانتے ہےں رافےل سودے کا اشو کا اثر شہری علاقوں مےں زےادہ پڑ رہاہے لےکن گاو ¿ں گاو ¿ ں تک نہےں پہنچ پاےا ہے ۔دےہات کے ووٹر وں پر شاےد ہی اش اشو کا اثر پڑے ۔دوسری طرف بالا کوٹ سرجےکل اسٹرائےک سے پےدا قومےت کے جذبہ زےادہ تر مقامات تک پھےل چکا ہے ۔اس صورت مےں سپرےم کورٹ کے فےصلے کے بعد کانگرےس ےہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ رافےل سودے مےں کرپشن ہوا ہے ۔اور اس سےدھے طور پر وزےر اعظم خود شامل ہےں ۔مودی کی سب سے بڑا کارنامہ کرپشن سے پاک بھارت کا نعرہ ہے ۔جہاں کانگرےس رافےل پر چناو ¿ لڑ رہی ہے وہےں بی جے پی کی کوشش ےہی ہوگی پورا چناو ¿ راشٹر واد کے دائرے سے باہر نہ جائے ۔

(انل نرےندر)

11 اپریل 2019

پندرہ لاکھ ہر کھاتے کے وعدے کی حقیقت؟

پندرہ لاکھ ہر کھاتے کے وعدے کی حقیقت؟
پچھلے لوک سبھا چناﺅ کمپین کے دوران کیا وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ کالا دھن واپس لا کر ہر شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپئے جمع کرائے جائیں گے یا نہیں؟بھاجپا کے سینر لیڈر و مرکزی وزیر کلراج مشرا نے چنڈی گڑھ میں اس موضوع پر کہا کہ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے پندرہ لاکھ روپئے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا ۔ان کی پارٹی نے سبھی کے بنیک کھاتوں اس اشو پر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اپوزیشن پر الزام لگایا ہے ۔سات اپریل کو چھتیس گڑھ کے بالود دورے سے پہلے وزیر اعلیٰ دھوپیش بھگیل نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے دیش اور ریاست کی جنتا سے کئے گئے ان کے وعدوں پر بھی سوال پوچھے ان میں ایک سوال پندرہ لاکھ روپئے کھاتے میں ڈالے جانے کے بارے میں بھی تھا ۔بھاجپا ایم پی رام وچار نیتام نے وزیر اعلیٰ سمیت پوری کانگریس کو للکارا تھا کہ اگر وہ مودی کی ایسی کسی تقریر کا ویڈیو لاتے ہیں تو بھاجپا انہیں ایک کروڑ کا انعام دئے گی کانگریس دعوہ کر رہی ہے کہ انہوںنے کنکیر کا وہ ویڈو ڈھونڈ لیا ہے لیکن بھاجپا نے ضرورانعام ٹھکرا دیا ہے ۔بھاجپا کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو میں ہر کھاتے میں پندرہ لاکھ روپئے آنے کی بات ہے جمع کرنے کی بات نہیں ہے ۔بتا دیں کہ کاکور میں 7نومبر 2013کو نریندر مودی کی ایک پبلک ریلی ہوئی تھی جس میں انہوںنے کہا تھا کہ پوری دنیا کہتی ہے بھارت میں سبھی چور لٹریرے اپنا پیسہ بےرونی ممالک کے بینکوں میں جمع کرتے ہیں اور ان میں کالا دھن جمع ہے۔کانکور کے میرے بھائیوں اور بہنوں......مجھے بتاﺅ یہ چوری کا پیسہ واپس آنا چاہیے یا نہیں ؟یہ کالا دھن واپس آنا چاہیے یا نہیں؟کیا ہم ان بدمعاشوں کے ذریعہ جمع کئے گئے ہر پیسے کو واپس لینا چاہیے یا نہیں؟کیا اس پیسے پر جنتا کا اختیار ہے یا نہیں؟کیا اس پیسے کا استعمال جنتا کے فائدے کے لئے نہیں کیا جانا چاہیے اگر ایک باربھی بیرونی ممالک میں بینکوں میں ان چور لوٹیروں کے ذریعہ جمع کیا گیا دھن واپس لاتے ہیں تو غریب ہندوستانی کو پندرہ سے بیس لاکھ روپئے تک یک مشت ملےگا وہاں اتنا پیسہ کہ پچھلے لوک سبھا چناﺅ کے دوران بھی پی ایم مودی نے دیش کے ہر شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپئے ڈالنے سے متعلق اس بیان کے بعد ریاستی اسمبلی چناﺅ میں بھی یہ اشو چھایا رہا۔اس دوران 2016میں آر ٹی آئی رضاکار موہن کمار شرما نے پی ایم او میں آر ٹی آئی لگا کر پوچھا تھا کہ ہر کھاتے میں پندرہ لاکھ روپئے جمع کرنے کا مودی کا وعدہ کب پورا ہوگا؟جواب نہ ملنے پر معاملہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن پہنچا تب وزیر اعظم یعنی پی ایم او نے 26نومبر 2016کو کمیشن کوبھیجے گئے جواب میں کہا تھا کہ ہر کھاتے میں پندرہ لاکھ جمع ہونے کے وعدے کو پورا کرنے کی تاریخ بتانا اطلاع کے حق قانون کے تحت'' اطلاع''کے دائرے میں نہیں آتا۔لہذا اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا ۔

(انل نریندر)

سب کوساتھ لینے کی کوشش ہے بھاجپا کا سنکلپ پتر

سب کوساتھ لینے کی کوشش ہے بھاجپا کا سنکلپ پتر
بھارتیہ جنتا پارٹی نے 17لوک سبھا چناﺅ کے پہلے مرحلے کی پولنگ سے تین دن پہلے اپنے منشور میں قومیت کو سب سے اہم تقطہ بتایا ہے کانگریس کی نیائے اسکیم کا مقابلہ کرنے کے لئے بی جے پی نے کسانوں ،غریبوں ،اور چھوٹے دکانداروں کے لئے لوک لبھاون اعلانات کئے ہیں ۔پلوامہ میں سی آر پی ایف پر ہوئے آتنکی حملے اور بالا کوٹ میں انڈین ائر فورس کے ذریعہ آتنکی کیمپ پر کئے گئے سرجیکل اسٹرائک کے بعد بی جے پی قومی سلامتی کے اشو کو چناﺅی اشو بنانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے ۔بی جے پی کے چناﺅ اور منشور میں پاکستان نے ہوائی حملوں کو بھنانے کی کوشش کی ہے قومی سلامتی کو اہم اشو بتایا گیا ہے کہ سرکار نے نہ صرف دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹولیرنس کی پالیسی رکھے گی بلکہ دیش بھر میں شہریت رجسٹر سے دراندازوں کا مسئلہ بھی حل کرئے گی ۔نارتھ ایست کے لوگوں کی زبان کلچر اور سماجی پہچان کی حفاظت کے لئے سٹیزن شپ بل بھی پاس کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔بی جے پی نے اپنے سنکلپ پتر میں سماج کے ہر طبقہ کے لئے کچھ نہ کچھ وعدے ضرور کئے ہیں ۔جب سے قرض معافی کا وعدہ کر کانگریس نے تین ریاستیں جیتی ہیں اور کسان ہیرو ہو گیا ہے اچھی بات ہے کہ پارٹیوں کا آخر کار فوکس انداتا کی طرف لوٹ رہا ہے ۔کانگریس نے پانچ کروڑ غریب خاندانوں کو 6ہزار روپئے مہینے کا وعدہ کیا ہے ۔بھاجپا کے سنکلپ پتر میں کانگریس کے وعدوں کا توڑ کیا گیا ہے ۔چھوٹے کسانوں کے ساتھ دکانداروں کوبھی پینشن دے کر بھاجپا نے شہر اور دیہات دونوں کے ووٹوں کو لبھانے کی کوشش کی ہے ۔سب سے زیادہ اچھا اعلان یہ ہے کہ کسان کریڈیٹ کارڈ پر ایک لاکھ تک قرض بنا سود کے ملے گا ۔تقریبا ہر کسان اس کارڈ کا استعمال کرتا ہے کسان کو سب سے زیادہ فائدہ اسی سے ہوگا ۔فصل خراب ہو گئی تو وہ بغیر سود کے قرض دوسرے اور تیسرے سال بھی لوٹا سکے گا ۔کسانوں کو فصل کا دگنا دام دلانے کا بھاجپا کا وعدہ پرانا ہے لیکن اس پر ابھی کچھ نہیں ہوا پارٹی نے جموں و کشمیر سے 370اور35Aکو ہٹانے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔لیکن مکمل اکثریت کے باوجود سرکار اس سے ہچکچا رہی تھی کہ اس کے پیچھے سیاسی مجبوریوں کو معنی جا سکتا ہے ۔سنکلپ پتر کا حصہ ان دفعات کو بنا کر نئی بحث کا اشو ضرور بنا دیا ہے اس کا تلخ رد عمل کشمیر کے لیڈروں سے دیکھنے کو مل رہا ہے ۔حالانکہ دفعہ 370اپنے نظریے پر صرف قائم رہنے کی بات رہ گئی ہے ۔اس کی وجہ اس دفعہ کو ہٹانے سے متعلق آئینی اور سیاسی پیچیدگیاں ضرور ہیں ۔لیکن جموں و کشمیر کے سلسلے میں کسی طرح کا جذباتی وعدہ اس میں نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر بھاجپا اقتدار میں لوٹتی ہے تو علیحدگی پسندوں و مذہبی کٹر پسندوں کے تئیں سختی اور سیکورٹی فورسیز کی کارروائی اسی طرح جاری رہے گی ۔پارٹی نے شہریت ترمیم بل پھر لانے کی بات کہی ہے جس سے لگتا ہے ان دونوں اشوز کے ذریعہ وہ ان ریاستوں سے زیادہ دیش کو پیغام دینا چاہتی ہے وزیر اعظم مودی نے سرحدی اور چھوٹے کسانوں کی 2022تک آمدنی دوگنی کرنے کی بات پہلے بھی کہی ہے مگر سنکلپ پتر میں اسے وسیع طریقہ سے پیش نہیں کیا گیا ہے ۔جس سے پتہ چلتا ہے جی ڈی پی میں محض17فیصدی کی حصہ داری کرنے والا زریعی سیکٹر میں اس اصلاح کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟رام مندر کو لے کر بھاجپا نے 2014کے چناﺅ منشور میں بھی ذکر کیا تھا لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس بار بھی کوئی ٹھوس وعدہ نہیں کیا گیا ۔بلکہ معاملہ سپریم کورٹ پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔2014کے چناﺅ منشور میں روزگارکو بڑھاوا دینے کی بات کہی گئی تھی صنعتوں پر دھیان دیا جائے گا اور خوردہ سیکٹر کو جدید چہرہ دیا جائے گا ۔اور دو کروڑ نوکریاں دینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا ۔لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ پچھلے پانچ سال میں بے روزگاری ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے نوٹ بندی جی ایس ٹی کے سبب سینکڑوں چھوٹی فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں ہزاروں بے روزگار کالے دھن پر ٹاسک فورس بنائیں گے اوربیرون ملک سے بلیک منی واپس لانے کی کارروائی شروع کی جائے گی ۔ٹیکس شرحوں میں کمی کی جائے گی ٹیکس سسٹم سنگل بنایا جائے گا ۔اقتدار میں آنے کے بعد بے شک ٹاسک فورس بنی تو لیکن بیرون ملک سے کالا دھن دیش میں لانے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔یہی وجہ ہے کہ جنتا پارٹیوں کے چناﺅ منشوروں کو زیادہ اہمیت نہیں دےتی وہ کام دیکھتی ہے پچھلے پانچ برسوں میں بھاجپا کتنے کاموں پر کھری اتری ہے اس پر ووٹ ملیں گے ،وعدوں پر نہیں ۔

(انل نریندر)

10 اپریل 2019

پیسہ کس پر خرچ ہوتا ہے یہ عدالت طے نہیں کر سکتی!

بھوجن سماج پارٹی کی چیف مایاوتی نے اپنے دور عہد میں مورتیاں بنوانے کو صحیح قدم مانتے ہوئے سپریم کورٹ کو بھیجے جواب میں صاف کہا ہے کہ پیسہ ،تعلیم،کے ساتھ اسپتال یا پھر مورتیوں پر خرچ ہو یہ عدالت طے نہیں کر سکتی ۔عدالت نے داخل حلف نامہ میں دلت لیڈر نے کہا کہ سبھی سیاسی پارٹیوں نے مجسموں پر پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے ،لیکن صرف میرے مجسموں و مورتیوں پر اعتراض جتا یا جا رہا ہے ۔بھاجپا حکومت نے مرکز اور ریاستی حکومت اور پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو سی ایس آر اینڈ سے گجرات میں سردار پٹیل کی 182میٹر اونچی مورتی لگائی جس پر 3ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے یوپی حکومت نے لکھنو کے لوک بھون میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی 25فٹ اونچے مجسمے لگائے یہ سرکاری پیسے سے بنائے گئے لکھنو میں ہی سوامی وویک آنند اور گورکھپور میں مہنت اوید ناتھ اور دگ وجے ناتھ کے بارہ فٹ سے زیادہ کے مجسمے سرکاری پیسہ سے بنائے جانے ہیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور پیٹھ کے چیف ہیں مایاوتی نے اترپردیش میں اپنے قد آدم مجسمے بنوائے جانے کے قدم پر سپریم کورٹ میں ان کا بچاﺅ کرتے ہوئے کہا کہ لکھنو اور نوئیڈا کے پارکوں میں میں لگے ان کے مجسمے لوگوں کی خواہش ظاہر کرتے ہیں یہ عوامی جذبہ کی علامت ہے ۔ان کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے اور خاتون دلت نیتا ہونے کے ناطے احترام کرتے ہوئے ان کی مورتیاں لگائی گئی ہیں ۔مایاوتی نے اپنے حلف نامہ میں مورتیوں کی تعمیر پر کروڑوں روپئے خرچ کئے جانے کو لے کر وکیل روی کانت نے عرضی نے ان مورتیوں کی تعمیر سرکاری خرچ کو مایاوتی اور بسپا چیف سے وصولے جانے کی عرضی دائر کی ہے کیونکہ مورتیوں پر خرچ سرکاری پیسے کا بے جا استعمال ہے اس لئے اسے مایاوتی اور ان کی پارٹی بھوجن سماج پارٹی سے وصولہ جائے اس پر مایاوتی نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو پریرنا دلانے کے لئے اسمارک بنوائے تھے ۔ان میں ہاتھیوں کی مورتیاں صرف ایک فنکاری ہے اور بسپا کے چناﺅ نشان کی علامت کی نمائندگی نہیں کرتی سپریم کورٹ نے آٹھ فروری کو رائے ظاہر کی تھی کہ مایاوتی کو اترپردیش میں پبلک مقامات پر اپنی پارٹی کے چناﺅ نشان کی مورتیاں لگانے کے لئے استعمال کی گئی سرکاری خزانے میں رقم کو جمع کرانا چاہیے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ مایاوتی سارا پیسہ واپس کیجئے ہمار خیال ہے کہ مایاوتی کو خرچ کیا گیا سارا پیسہ ادا کرنا چاہیے اب دیکھیں سپریم کورٹ مایاوتی کے حلف نامے پر کیا ریمارکس اور کیا فیصلہ کرتی ہے ؟

(انل نریندر)

اپوزیشن لیڈروں پر ہی ای ڈی ،انکم ٹکیس چھاپے کیوں؟

یہ عجب اتفاق ہے کہ 2019کے لوک سبھا چناﺅ میں ووٹ پڑنے سے کچھ ہی وقت پہلے اپوزیشن لیڈروں پر انکم ٹکیس کے چھاپے پڑنے لگے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں لوک سبھا چناﺅ کے پہلے مرحلے میں 11اپریل سے ووٹ ڈلنے شروع ہوں گے ریاست میں چوتھے مرحلے میں 23اپریل کو چھ سیٹوں پر چناﺅ ہونا ہے ۔ٹھیک 15,16دن پہلے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کملناتھ کے قریبیوں پر انکم ٹیکس محکمے نے چھاپے مارے ہیں یہ اتوار کو مدھیہ پردیش ،دہلی اور گوا میں ان کے پچاس گھروں اور دفتروں پر چھاپے ماری کی گئی ۔ اس کارروائی میں 500انکم ٹیکس افسر شامل تھے ۔نشانے پر تھے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کملناتھ کے پرائیویٹ سیکریٹری پروین ککڑ ،بھانجے رتلپوری اور مشیر آر کے نگلانی ۔ ککڑ کے قریبی پرتیک جوشی اور اشون شرما کے ٹھکانے پر تلاشی لی گئی اب تک 16کروڑ روپئے ملنے کی بات کہی جا رہی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈھاوس رنپور کے بعد مدھیہ پردیش کے بھوپال ،اندور،گوا،اور دہلی میں ایک ساتھ رات تین بجے کارروائی شروع کی گئی جو اگلے دن بھی چلی ۔پچھلے ایک سال میں آٹھ موقعہ ایسے رہے ہیں جب کسی ریاست میں چناﺅ کے آس پاس ای ڈی و انکم ٹیکس کے چھاپے پڑے ہیں ان میں آندھرا پردیش ،راجستھان،دہلی،یوپی،چھتیس گڑھ، مغربی بنگال،گجرات،و کرناٹک شامل ہیں۔24جنوری کو ای ڈی نے سپا سرکار کے ذریعہ شروع کئے گئے گومتی ریور فرنٹ ڈبلپمینٹ پروجکٹ معاملے میں چھاپے مارے ۔سات دسمبر 2018کو رابرٹ واڈرا کی کمپنی کے دفتروں میں چھاپے ماری ہوئی تھی۔ 14دسمبر 2018کو کولکاتہ میں ایک ساتھ نو جگہوں پر چھاپے مارے گئے اور 1.65کروڑ روپئے کی غیر ملکی کرنسی پکڑنے کا دعوی کیا چھاپہ کے دوران ایک موقعہ ایسا آیا جب سی آر پی ایف اور مقامی پولس کے درمیان ٹکراو کے حالات بھی پیدا ہو گئے ۔اشونی شرما کے گھر کے باہر سی آر پی ایف اور پولس کے درمیان گالی گلوج کی نوبت آگئی وہیں پولس نے الزام لگایا کہ سی آر پی ایف عام لوگوں کو پریشان کر رہی تھی ان چھاپے ماری سے سیاست تیز ہونا فطری ہی تھا ایم پی کے وزیر اعلیٰ کملناتھ نے کہا کہ پورا دیش جانتا ہے کہ آئینی اداروں کے استعمال یہ لوگ پچھلے پانچ برسوں سے کر رہے ہیں جب ان کے پاس وکاس،اور اپنے کام پر کچھ کہنے کو نہیں بچتا تو یہ سیاسی حریفوں کے خلاف ہتھکنڈے اپناتے ہیں ۔بھاجپا کو اپنی ہار سامنے نظر آرہی ہے ۔اس لئے چناﺅ میں فائدہ لینے کے لئے اس طرح کی کارروائی کی جا رہی ہے ۔اور آئینی اداروں کا استعمال کر انہیں ڈرانے کا کام کرتے ہیں ۔بی جے پی لیڈر کیلاش وجے ورگیہ نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ صرف چوروں کو ہی چوکیدار سے شکایت ہے وہیں کانگریس لیڈر شوبھا اوجھا نے بی جے پی پر نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی سیاسی بدلہ لینے کے لئے کی گئی ہے کانگریس کی ساکھ خراب کرنے کی بی جے پی کی بے کار کوشش ہے ویز خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ چناﺅ کمیشن اور محکمہ انکم ٹیکس کی ایجنسیاں چناﺅ کے دوران کالے دھن پر نظر رکھتی ہیں یہ کام ان کا ہے اس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔جو لوگ بے ایمانی کرنے کے بعد رو رہے ہیں انہیں بتانا چاہیے کہ ان کے گھروں سے کروڑوں روپئے کیسے برآمد ہوئے۔ہمارا خیال ہے کہ چناﺅ کے دوران سبھی پارٹیاں کالے دھن کا استعمال کرتی ہیں اس میں کوئی پیچھے نہیں ہے ۔حریف نیتاﺅں کو نشانہ بنایا جائے اس کا ایسے اچھا پیغام نہیں جاتا کیا حکمراں پارٹیوں کے لیڈروں کے پاس کالا دھن نہیں ہے ؟کیا وہ کالے دھن کا استعمال کرنے سے انکار کر سکتے ہیں ۔کیا وجہ ہے ان پر تو کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟اپوزیشن لیڈروں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے ؟ویسے اس سے فرق بھی زیادہ نہیں پڑتا کیونکہ عام جنتا جانتی ہے کہ چناﺅ کے وقت کیا کیا ہتھ کنڈے اپنائے جاتے ہیں جب اپوزیشن پارٹی سرکار میں ہوگی وہ تب بھی یہی کرئے گی جنتا نے اپنا من اب تک بنا لیا ہے اور ان ہتھکنڈوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

(انل نریندر)

09 اپریل 2019

کیا چناﺅ کمیشن اگنی پریکشا میں کھرا اترے گا؟

انڈین الیکشن کمیشن اگنی پریکشا کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس کی پہلی ذمہ داری دیش میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ چناﺅ کرانے کی ہے ۔اس میں چناﺅ ضابطے کی سختی سے تعمیل شامل ہے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ 2019عام چناﺅ کے پہلے چناﺅ ضابطہ کی اتنی خلاف ورزیاں ہوئیں جس پر سوال پوچھے جا رہے ہیں کہ آخر چناﺅ کمیشن کہاں ہے اور کیا اس کا حال کسی بے اثر ایسی ادارے یا بغیر دانت کے شیر جیسی تو نہیں جس کی کسی کو بھی نا پرواہ ہے نہ ڈر ہے ؟وکیل پرشانت بھوشن نے ٹوئٹ کر کے پوچھا کہ چناﺅ کمیشن نریندر مودی پر مبینہ پروپگنڈے کی فلم کی اجازت دیتا ہے انہیں دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو پر اینٹی سیٹلائٹ میزائل پر چناﺅ ی تقریر کرنے کی اجازت دیتا ہے انہیں ریلوئے میں پانی کے گلاس پر مودی کی تصویر بنانے کی اجازت دیتا ہے ؟لیکن رافیل پر لکھی کتاب پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور اس کی کاپیاں اپنے قبضے میں لے لی جاتی ہیں ؟کانگریس نے اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو کے قافلے کی ایک کار سے 1.80 کروڑ روپئے کی مبینہ برآمدگی کے معاملے میں دعوی کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی سے پہلے یہ پیسہ ووٹروں کو لبھانے کے لئے استعمال ہونے والا تھا اس کے لئے چناﺅ کمشین کو مودی و کھانڈو اور پردیش بھاجپا صدر تاپر گاﺅ کے خلاف معاملہ درج کرناچاہیے کانگریس نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ اروناچل پردیش کے نوٹ کے بدلے ووٹ لینے کے معاملے میں بھی کمیشن کو سخت کارروائی کرنی چاہیے ۔پارٹی نے بھاجپا صدر امت شاہ کو چناﺅی حلف نامہ کو بھی چناﺅ کمیشن کے سامنے اشو بناتے ہوئے اسے جھوٹا بتایا ہے ۔راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ نے اپنی رہائش گاہ پراترپردیش کے ضلع علیگڑھ میں بیان دے دیا کہ ہم سب بھاجپا کے ورکر ہیں سبھی چاہتے ہیں کہ مودی جی دوبارہ پردھان منتری بنیںبدقسمتی یہ ہے کہ آئینی عہدے پر بیٹھے ایک گورنر کھلے عام بھاجپا کی حمایت کرتا ہے اور اس کے حق میں بیان دیتا ہے اورکمیشن کے پاس گورنر جیسے عہدے پر بیٹھے شخص کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کا چناﺅ کمیشن کو اختیار نہیں ہے ۔اس لئے اس کے لئے راشٹر پتی سے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا کل ملا کر اس معاملے پر کوئی کارروائی صدر رام ناتھ کووند کے فیصلے پر منحصر کرئے گی ۔گورنر بھلے ہی کسی پارٹی سے وابسطہ رہا ہو لیکن آئین کے تحت حلف لینے کے بعد گورنر سے امید کی جاتی ہے کہ وہ تب تک پارٹی سے بالا تر ہو کر غیر جانب دار رہے ۔دلت نیتا اور تین بار کے ایم پی پرکاش امبیڈکر اپنے اس بیان کو لے کر تنازعہ میں پھنس گئے ہیں جس میں انہوںنے کہا تھا کہ پلوامہ میں آتنکوادی حملے پر بات کرنے کے معاملے میں چناﺅی ضابطہ میں اگر پھنس گئے ہیں تو الیکشن کمیشن دو دن کے لئے جیل بھیجیں گے ایسے ہی امبیڈکر کے اس بیان پر الیکشن کمیشن نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی ۔چناﺅ کمیشن نے مہاراشٹر کے چیف الیکٹرول افسر کو پرکاش امبیڈکر کے خلاف معاملہ درج کرنے کو کہا ہے ۔اترپردیش میں ایس پی نیتا اور سابق وزیر اعظم خان نے چناﺅ کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی ،مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے خلاف کیا کاروائی کی جنہوںنے ہندوستانی فوج کو مودی کی سینا کہہ کر مخاطب کیا تھا ؟اعظم خان نے کہا کہ یوگی جی نے کہا تھا کہ مودی جی بھی فوج ہیں اور یہی لفظ مختار عباس نقوی نے بھی کہے ہیں ۔لیکن چناﺅ کمیشن نے ان کے بیانوں پر کوئی نوٹس نہیں لیا ۔اب نہ کوئی کارروائی ہوئی نہ ہی کلیان سنگھ کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا ۔جیسے کہ میں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہم اپنے خون کی ایک ایک بوند بہا دیں گے تو الیکشن کمیشن نے میری آواز کو دبا دیا یہ کون سا انصاف ہے ؟آخر بی جے پی کے نیتاﺅں پر چناﺅ کمیشن کارروائی کیوں نہیں کرتا ؟کہانیاں کئی ہیں ۔اس لئے ان کی پوری بیانی تو نہیں کرتے لیکن کچھ مثال ضرور دیتے ہیں ایسے وقت جب ملک میں چناﺅ ضابطہ لاگو ہو نریندر مودی کی قصیدہ خوانی کرنے والی ایک فلم ریلیز کے لئے تیار ہے 31مارچ کو بھاجپا کی طرف کے پروپگنڈہ ٹی وی چینل" نمو ٹی وی ©"لانچ کیا لیکن چینل کی قانونی پوزیشن اور اس کے لائسنس پر سنیگن سوال کھڑے ہوئے ہیں کیبل آپریٹر ٹاٹا اسکائی نے کہا کہ آپ اس چینل کو اپنے چنے ہوئے چینل گروپ سے ہٹا نہیں سکتے راجستھان کے چرو میں نریندر مودی کی ریلی میں ان کے پیچھے مارے گئے لوگوں کی تصویریں تھیں جس سے شہید فوجیوں کی مبینہ تصویروں کا سیاسی استعما ل کیا گیا چناﺅ ضابطہ خلاف ورزی پر چناﺅ کمیشن امیدوار سے نا پسندیدگی ظاہر کر سکتا ہے اس کی مذمت کر سکتا ہے اور سینسر کر سکتا ہے ۔اور ایسا کرنے سے کسی کو کارروائی پر فرق نہیں پڑ رہا ہے امت شاہ نے شاملی اور بجنور میں مبینہ طور پر فرقہ وارانہ ماحول بھڑکانے والی تقریریں کی تھیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ایک سابق چناﺅ کمشنر کے مطابق ضروری ہے کہ چناﺅ کمیشن ایک یا دو بڑے اہم ترین نیتاﺅں کے خلاف کاروائی کرئے تاکہ اس کا سندیش ہر جگہ جائے سابق چناﺅ کمشنر ٹی ایس دروما مورتی کہتے ہیں کہ ہماری کچھ حدود ہیں ہم نے کئی تبدیلیاں تجویز کی ہیں لیکن کوئی بھی سیاسی پارٹی اس میں ترمیم کے لئے متفق نہیں تھی کسی بھی سیاسی پارٹی نے اپنے چناﺅ منشور میں چناﺅ اصلاحات تک کا ذکر بھی نہیں کیا آپ پوری طرح سے چناﺅ کمیشن کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ اس کی بھی کچھ حدور ہیں ایک سابق قانونی مشیر مانتے ہیں کہ سیاسی پارٹی چناﺅ اصلاحات کو لے کر کچھ کرنے والی نہیں ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کے خرچے پر کوئی حد نہیں ہے امیدوار کے خرچ پر حد مقرر ہے ایک سیاسی پارٹی پانچ سو کروڑ روپئے خرچ کرئے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ چناﺅی بونڈس کی شفافیت میں آجائے تو وہ چناﺅی اصلاحات ضرور ہوگی ۔چناﺅ کمیشن کی اگنی پریکشا ہے ۔دیکھیں کیا وہ اس میں کھرا اترتا ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر)

08 اپریل 2019

اترپریش کے مسلمان اس بار کس کے ساتھ جائیں گے

لوک سبھا چناو ¿ کے لئے کمپےن کرنے مےں تما م سےاسی پارٹےاں کوئی کسر نہےں چھوڑ رہی ہےں اور دےش کی سب سے بڑی رےاست جہاں 80لوک سبھا سےٹےں ہےں وہاں آنے والے گےار ہ اپرےل کو پہلے مرحلے مےں آٹھ سےٹوں پر پولنگ مےں کئی سرکردہ ہستےوں کی ساکھ داو ¿ پر ہوگی ۔پہلے مرحلے مےں سہارنپور ،کےرانہ ، مظفر نگر ،بجنور ،مےرٹھ ،باغپت ،غازی آباد اور گوتم بدھ نگر سےٹےوں کےلئے پولنگ ہوگی ان مےں سے زےادہ تر سےٹوں پر اقلےتوں کے ووٹوں کی کافی زےادہ تعداد ہے ۔ان کا ووٹ کافی اہم ترےن ہوگا لگتا ہے کہ اترپرےش کا مسلمان ووٹر ابھی بھی مشکل مےں ہے اپنا ووٹ کس کو دےں سماجوادی پارٹی کا رواےتی ووٹر مانے جانے والی اس برادری کے سامنے پسند کے لئے سپا ،بسپا آر اےل ڈی کا اتحاد ہے ساتھ ہی کانگرےس بھی اس کو اپنے حق مےں کرنے کی پرزور کوشش مےں ہے ۔اےسے مےں وہ اب تک ےہ طے نہےں کرپاےا ہے کہ وہ کس سےاسی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہو ؟16وےں لوک سبھا چناو ¿ مےں اتر پردےش کی 80سٹےوں مےں سے کسی اےک بھی مسلم امےدوار نے کامےابی حاصل نہےں کی تھی جبکہ 15وےں لوک سبھا کے چناو ¿ مےں ےوپی سے سات نمائندے پارلےمنٹ مےں پہنچے تھے اےسے مےں اس بار لوک سبھا چناو ¿ مےں جائےں تو کہاں بسپا نے سپا کے اس رواےتی ووٹ بےنک مےں سےندھ ماری کی کوشش کی تھی ۔اس بار لگتا ہے کہ وہ سپا کے ساتھ کھڑی ہے راشٹرےہ لوک دل بھی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سما ج پارٹی کے اتحاد کا حصہ ہے ۔بسپا کے تئےں مسلم ووٹروں کو وہ امن کی راہ دکھا نے کی وجہ سے اےک ہےں ۔بھاجپا کا بہوجن سماج پارٹی سے بھی ساتھ رہا ہے ۔جس کے بل پر ماےا وتی نے اترپردےش اپنی سرکار بنائی تھی انہےں ڈر ہے کہ کہےں اس بار بھی بہن جی چنا و ¿ کے بعد اسمبلی چناو ¿ مےں بھاجپا کے ساتھ سرکار بنا نے کے چکر مےں نا آجائےں ۔ےوپی کے تقرےبًا 20فےصدی مسلمان سترہ وےں لوک سبھا کی چناو ¿ مےں اپنے رول کو بےحد سنجےدگی سے مان رہے ہےں اب تک سماجوادی پارٹی کے ساتھ مسلم برادری کو کانگرےس لبھانے کی کوشش کررہی ہے ۔کانگرےس کے نتےا اس بات کو بخوبی جانتے ہےں کہ اترپردےش کی 35لوک سبھا سےٹےں اےسی ہےں جہاں مسلمان ہار جےت کا فےصلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہےں ۔مسلم ووٹر 20فےصد ےا زےادہ ہےں ظاہر ہے ےہ کسی پارٹی کے ساتھ کھڑی مڑکر اس کی سےٹوں پر بڑا فرق پےد ا کرسکتے ہےں مسلمانوں کو اےک اور بات ستارہی ہے کہ دےش مےں ہوئے پہلے لوک سبھا چنا و ¿ سے اب تک اترپردےش مےں مسلمانوں کی تعداد کے چلتے مسلم ممبران پارلےمنٹ کی تعداد مےں کوئی تبدےلی نہےں آئی ہے اےک بات ےہ بھی ہے کہ مسلم ووٹ بٹ جاتے ہےں اور کانگرےس سپا اور بسپا تےنوں کو ووٹ جاتے ہےں اس لئے مسلمانوں کو من چاہے نتےجہ نہےں ملتے دوسری بات ےہ ہے کہ مسلمانوں مےں مسلم لےڈروں کی کمی ہے جن کی بات سبھی مسلم برادری مانے اس مےں کوئی شک نہےں تمام مسلمان مودی کے خلاف ہے اور وہ انہےں ہرانا چاہتے ہےں ےہ تبھی ہوسکتا ہے جب مسلم ووٹ نہ بٹے ۔

(انل نریندر)

آخر کار:بھاجپا کے مرد آہن نے خاموشی توڑی

بی جے پی کے بانی اور پارٹی کے بھےشم پتامہ لال کرشن اڈوانی نے کافی عرصہ کے بعد جمعرات کے روز آخر کار اپنی خاموشی توڑ ہی دی تبھی کمل کے پھول والی پارٹی کی روح سمجھے جانے والے بھاجپا کے سےنئر لےڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے سےاسی طور سے نا اتفاق رکھنے والے کو کبھی ملک دشمن نہےں مانا ۔کبھی بی جے پی کے روح رواں اڈوانی نے اپنی بلاگ پر لکھا کے پارٹی نے سےاسی نااتفاق رکھنے والوں کو دشمن ےا غدار نہےں کہا ۔بی جے پی ہمےشہ سے ہر شہری کی شخصی اور سےاسی سطح پر پسند کی آزادی کو لےکر عہد بند رہی ہے ۔گاندھی نگر سے 6بار چناو ¿ جےتنے والے اڈوانی کے ٹکٹ کٹنے کے بعد انہوں نے سب کے سامنے اپنے دل کی بات کہی ہے جو اب تک دبائے بےٹھے تھے ۔پارٹی کے ےوم تاسےس 6اپرےل ےعنی آج کا تذکرہ کرتے ہوئے اڈوانے نے کہا مےری زندگی کا مارگ درشک سدھانت ہے ۔سب سے پہلے دےش ،پھر پارٹی اور آخر مےں، مےں ۔نےشن فرسٹ ،پارٹی اگلی سےلف لاسٹ عنوان سے اپنے بلاگ مےں اڈوانی نے کہا کہ ہندوستانی جمہورےت کا نچوڑ رواداری اور اظہار رائے کی آزادی کے لئے برابر ہے ۔اپنے قےام کے وقت سے بھی بھاجپا نے سےاسی طور سے رائے سے اتفاق نا رکھنے والوں کو کبھی دشمن نہےں مانا او رنہ ہی حرےف مانا ۔اڈوانی نے اپنا ےہ بلاگ اےسے وقت مےں لکھا ہے جب آج 6اپرےل کو بھاجپا اپنا ےوم تاسےس منائے گی ۔اور 11اپرےل کو لوک سبھا چناو ¿ سے پہلے مرحلے کے لئے پولنگ ہوگی لال کرشن اڈوانی کو ٹکٹ کٹنے پر بھاری دکھ پہنچا ہے ۔ےہ آخر ی دور تھا ان کی رواےتی سےٹ گاندھی نگر سے اس بار خود بھاجپا صد ر امت شاہ لڑ رہے ہےں ۔جب کہ انہےں کی پالےسی تھی کہ پردےش صدر اور پارٹی صدر کبھی چناو ¿ نہےں لڑےں گے ۔اپنے آ پ کو امت شاہ اڈوانی کا جانشےں پتہ نہےں کس حےثےت سے بتارہے ہےں ؟بس اڈوانی کا کسی بہانے ٹکٹ کاٹنا تھا تو کاٹ دےا نہےں تو جوشخص 6بار سے سےٹ پر کامےاب ہوتا آرہا ہے اس کا ٹکٹ کٹے ؟سمجھ سے باہر ہے ۔دبے الفاظ مےں جب بھاجپا دےش بھگتی کو اشو بنانے مےں لگی ہے تب اڈوانی کے بلاگ کو سےدھے طور پر وزےر اعظم نرےند رمودی اور پارٹی صدر امت شاہ پر حملہ مانا جائے گا ۔انہوں نے صاف الفاظ مےں مودی اور شاہ جوڑی کے روےہ پر کٹاش کےا ہے ان کا ےہ کہنا کہ پارٹی کے اند ر اور باہر سچ ،اےمانداری اور جمہورےت کے تےن ستون ہمےشہ سے مےری پارٹی کے اہم راہے عمل رہے ہےں کا سےدھا مطلب ہے کہ پارٹی قےادت ان اصولوں سے بھٹکی ہے ۔اسی طرح ان کا ےہ کہنا راشٹرواد کی ہماری دھارنا مےں ہم نے سےاسی طور سے عد م اتفاق ہونےوالوں کو ملک دشمن نہےں مانا ۔ان کا مطلب صاف ہے مودی شاہ جو بھی انکے خلاف پالےسی ساز ی تباہی کے خلاف بولتا ہے اسے ملک دشمن ہونے کا تمغہ لگا دےا جارہا ہے ۔اڈوانی جی کے اس تازہ بےان سے سےاسی ہلچل ہونا فطری ہے بھاجپا مےں مودی شاہ جوڑی کے ہٹلر شاہی انداز سے دکھی ہے اب زےاد ہ بول سکتے ہےں اپوزےشن تو ان کو زور سے اچھالے گی ہی ۔

(انل نریندر)

07 اپریل 2019

کانگریس صحیح معنی میں قومی پارٹی ہے

اداکار سے نیتا بنے شترو گھن سنہا کا نگریس میں شامل ہو گئے ہیں کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد ان کی بیٹی و اداکارہ سوناکشی سنہا کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو بہت پہلے ہی بھاجپا سے الگ ہو جانا چاہیے تھا اگر آپ کسی جگہ خوش نہیں ہیں جہاں آپ کو پارٹی عزت نہ دے تو آپ یقینی طور سے اس پارٹی سے یا جگہ کو بدلنا اور کنارہ کر لینا چاہیے میں امید کرتی ہوں کہ میرے پاپا شترو گھن سنہا کانگریس کے ساتھ جڑ کر بہت اچھا کام کریں گے اور کوئی دباﺅ بھی محسوس نہیں کریں گے ۔ان کے والد نے بھاجپا چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔سناکشی سنہا ایم وی موسٹ اسٹائلش ایوارڈ فنکشن میں شمولیت کے موقعہ پر میڈیا سے بات کر رہی تھیں ۔سناکشی نے کہا ان کے والد ایک سینر لیڈر اور مفصل معلومات کے ساتھ ہی وہ جے پرکاش نارائن جی اٹل جی اور لال کرشن اڈوانی جی کے وقت سے پارٹی کے ممبر رہے ہیں انہوںنے جب بھاجپا کو جوائن کیا تھا تو فلم صنعت میں ان کا مذاق اُڑایا جاتا تھا فلمی دنیا میں شترو گھن ان پہلے ایکٹروں میں تھے جو بھاجپا میں شامل ہوئے تھے اب سوناکشی نے دعوی کیا ان کے والد پٹنا صاحب سے ہی کانگریس کے ٹکٹ پر چناﺅ لڑیں گے چونکہ کانگریس دیش کی سب سے پرانی اور صحیح معنوں میں قومی پارٹی ہے کانگریس میں شامل ہونے کے فیصلے پر اس فیصلے پر شترو نے کہا کہ انہوںنے یہ فیصلہ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کی تجویز کے بعد لیا ہے انہوںنے یہ بھی دعوی کیا کہ ترنمول کانگریس لیڈر ممتا بنرجی سپا لیڈر اکھلیش یادو ،آپ نیتا اروند کجریوال نے بھی اپنی اپنی پارٹیوں میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی ۔لیکن انہوںنے یہ صاف کر دیا تھا کہ وہ جو بھی حالات ہوں گے اس پر فیصلہ کریں گے اب جب شترو کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں تو انہوںنے اس کی کئی وجہ بتائی ہیں ۔کانگریس میں مہاتما گاندھی ،بلبھ بھائی پٹیل ،جواہر لال نہرو،جیسے عظیم لیڈر رہے ہیں اور اس میں نہرو گاندھی پریوار ہے اور پارٹی کی جنگی آزادی میں اہم رول رہا ہے ۔لالو میرے خاندانی دوست ہیں انہوں نے کہا تھا کہ آپ کے ساتھ ہوں اور سیاسی طور پر بھی رہوں گا اس کے لئے بھاجپا چھوڑنا تکلیف دہ تھا جس کے ساتھ ان کا ایک پرانا ناطہ تھا ۔پارٹی کے سینر لیڈر ایل کے ایڈوانی ،مرلی منوہر جوشی،یشونت سنہا،کے بارے میں جو رویہ اپنایا گیا اس سے وہ دکھی تھے چھ اپریل کو باقاعدہ طور پر کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں ۔شترو نے اس کا الزام بھاجپا قیادت جوڑی مودی شاہ پر مڑ دیا ہے۔ان کی تغلقی شاہی میں کام کرنے کا انداز شترو کو پسند نہیں تھا پالیسیوں پر رائے زنی کرنا ڈسپلین شکنی نہیں ہے ۔شترو سمیت کئی بھاجپا نیتا،ورکر مودی شاہ جوڑی سے پریشان ہیں اڈوانی جی جیسے بھاجپا کے بھیشم پتاما کو جو گاندھی نگر سے چھ بار کامیاب ہوتے آئے ہیں ان کا ٹکٹ کاٹ کر خود امت شاہ نے وہاں سے چناﺅ لڑنے کا یہ کون سا طریقہ اپنایا ہے ؟اب شترو کے کانگریس میں شامل ہونے کے علاوہ ان کے پاس کوئی متابادل نہیں بچا تھا ۔

(انل نریندر)

IPL کا چسکابھاری پڑ رہا ہے چناﺅ کمپین پر

پورا دیش آئی پی ایل کے فیور میں مبتلا ہے ۔شام آٹھ بجے سب اپنے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر میچ کا لطف اُٹھاتے ہیں ۔آئی پی ایل تقریبا دو مہینے چلے گا ۔یہاں تک کہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ آئی پی ایل سے بڑا میچ لوک سبھا چناﺅ کی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے لیکن کرکٹ شایقین کی زیادہ توجہ آئی پی ایل پر لگی ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ انہیں دو مہینوں میں جمہوریت کے سب سے بڑے تہوار یعنی بھار ت میں عام چناﺅ بھی سات مرحلوں میں ختم ہونے ہیں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کو مشکل سے چار دن بچے ہیں 11 اپریل کو پہلا مرحلہ ہوگا آئی پی ایل کی تاریخ میں بھارت میں آئی پی ایل میچ اور چناﺅ دونوں ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں ۔فطری ہے چناﺅ کمپین تیز ہونے کے ساتھ ہی دیش کا درجہ حرارت بھی بڑھے گا ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ جب دہلی کی ساتوں سیٹوں کے لئے ناموں کا اعلان ہوگا اس کے بعد کرکٹ کے طئیں لوگوں کی دیوانگی چناﺅی ماحول کو کس قدر متاثر کریں گی ۔اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں فیروزشاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میچ کے دوران پورا آئی ٹی او جام سے دو چار ہونے کو مجبور ہو جاتا ہے دفاتر آنے جانے والے لوگوں کے لئے میچ بڑی مصیبت بن گئے ہیں خاص طور سے میچوں کے چلتے بہادر شاہ ظفر مارگ پر ٹریفک جا م سے لوگوں کو آنے جانے میں پریشانی اُٹھانی پڑ رہی ہے ۔اور بہادر شاہ ظفر مارگ کی سروس لائن کو دونوں طرف بریکیڈ لگا کر سروس لائن میں گاڑیوں کی آمد رفت بند کر دی جاتی ہے ۔میں خود اس کا شکار ہو چکا ہوں ۔ایک میچ کے دوران مجھے انڈین ایکسپریس بلنڈنگ سے پیدل چل کر اپنے دفتر پرتاپ بھون جانا پڑا۔جام و میچ دیکھنے والوں کی بھیڑ سے ایمبولینس تک کا بھی خطرہ بنا رہتا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ کچھ ہی میٹر کے فاصلے پر دو بڑے اسپتال ہیں میچ کی وجہ سے شام کے وقت نئی دہلی ،انڈیا گیٹ ،اور آئی ٹی او وکاس مارگ ،راج گھاٹ،دہلی گیٹ کے آس پاس ٹریفک ٹھپ رہتا ہے ۔جس وجہ سے بہادر شاہ ظفر مارگ سے آنے جانے والوںکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب سے بھاجپا کا نیا ہیڈ کوارٹر ڈی ڈی یو مارگ پر آیا ہے ۔اسی کے قریب عام آدمی پارٹی اور دہلی کانگریس کمیٹی کا بھی دفتر ہے ۔اس روڈ پر آج کل دن بھر چہل پہل رہتی ہے ڈی ڈی یو مارگ اور اس کے آس پاس راستوں پر اور بھی اثر پڑتا ہے لوگوں کو سب سے زیادہ پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب وزیر اعظم ہیڈ کوارٹر آتے ہیں ان کے آنے جانے سے پہلے دہلی پولس اور ٹریفک پولس کو پورے علاقہ میں حفاظت سے سخت انتظامات کرنے پڑتے ہیں ۔پارٹی ہیڈ کوارٹر میں میٹنگ زیادہ تر شام میں ہوتی ہے جس کے بارے میں پبلک کو کوئی جانکاری نہیں ہوتی اس سے مصروف وقت میں پی ایم کی آمد رفت کے لئے وی آئی پی روٹ لگانے سے کافی ٹریفک کو روکنا پڑتا ہے ۔اگر آپ کو اس راستے پر ضروری جانا پڑے تو آپ کو لمبے عرصے تک انتظار کرنا پڑئے گا ان پولس والوں کے ساتھ ہماری پوری ہمدردی ہے جو گھنٹوں سڑک کے دونوں کونوں پر کھڑے ہونے پر مجبور ہوتے ہیں اور وہ اس راستے پر وی آئی پی شخصیتوں کے آنے جانے پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...