Translater

18 اکتوبر 2014

اگر ایگزٹ پول صحیح ہیں تو پھر چل گیا مودی کا جادو!


اگر مہاراشٹر اور ہریانہ میں چناؤ کے ایگزٹ پول پر یقین کیا جائے تو دونوں ہی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار بننے جارہی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان پولس پر بھروسہ کتنا کیا جائے۔ پیشگوئی کتنی پختہ ہے؟ تاریخ بتاتی ہے یہ کئی بار غلط بھی ثابت ہوئے ہیں لیکن کچھ نشانے پر کھرے بھی اترے ہیں۔ مختلف چینلوں کے ذریعے کرائے گئے ایگزٹ پول کا تجزیہ کریں تو ہریانہ میں بھاجپا کو 35 سے52 سیٹیں ملنے کا اندازہ دکھایا گیا ہے جبکہ کانگریس کو10 سے15 سیٹیں اور انڈین نیشنل لوکدل کو22 سے30 اور دیگر کو 4 سے10 سیٹوں کا اندازہ دکھایاگیا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر میں بھاجپا کو127 سے132 سیٹیں ملنے کا اندازہ دکھایا گیا ہے۔ شیو سینا کو53 سے77 ، کانگریس کو30سے44 ، این سی پی کو29 سے39 ، دیگر کو8 سے20 سیٹیں ملنے کا اندازہ پیش کیا گیا ہے۔ دونوں ہی ریاستوں میں ایسا لگتا ہے کانگریس کو بھاری نقصان ہونے جارہا ہے۔ مہاراشٹر ہریانہ میں بھاری پولنگ سے دونوں ریاستوں میں حکمراں کانگریس کی رہی سہی امیدوں پر پانی پھرتا دکھائی پڑ رہا ہے۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز مان کر چل رہے تھے کہ اگر ان دونوں ریاستوں میں پولنگ اوسطاً یا اس سے کم ہوتی ہے تو کئی رخی اور تکونے مقابلے میں اس کے لئے کچھ اچھے امکانات بن سکتے ہیں۔ لیکن ہریانہ میں73 فیصدی سے زیادہ کی پولنگ کی خبر لگتے ہی کانگریس نے اپنی ہار مان لی ہے۔ اس سے ایک بات صاف ہے کہ کانگریس کو امید سے زیادہ بڑی ہار دیکھنے کو مل سکتی ہے اور بھاری ووٹنگ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کانگریس کو چھوڑ کر کسی پارٹی کو اکثریت ملنے کا بھی قوی امکان ہے۔ہریانہ میں بدھوار کو ہوئی پولنگ میں پچھلے47 برسوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ یہاں 75 فیصدی پولنگ ہوئی ہے۔ لوک سبھا چناؤ کی طرح ان دونوں ریاستوں میں نوجوانوں نے بڑی تعداد میں نریندر مودی کے نام پر ووٹ دیا ہے۔ دونوں ریاستوں میں ریکارڈ ووٹنگ کے پیچھے نوجوانوں کا بڑا رول مانا جارہا ہے۔ ہریانہ میں ووٹروں میں سے20 سے29 سال کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ مہاراشٹر میں کل ووٹروں میں قریب50 فیصد نوجوان ووٹر ہیں اور انہوں نے جم کر مودی کے نام پر ووٹنگ مشین بٹن دبائے ہیں۔ ایسا بی جے پی کے حکمت عملی سازوں کے بیچ نہیں بلکہ دوسری پارٹیوں کے اندر بھی مانا جارہا ہے کہ نوجوانوں کے علاوہ عورتوں کے ووٹ بھی بڑی تعداد میں پڑے ہیں۔ ٹوائلٹ کیلئے عورتوں کا کھلے میں جانا اور اسے روکنے کے لئے ہر گاؤں میں ٹوائلٹ بنانے کے پی ایم مودی کے اعلان کا ان پر بڑا اثر ہوا ہے۔ سبھی لڑکیوں کے اسکول میں ان کے لئے الگ سے ٹوائلٹ بنانے کا بھی اثر ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے بھاجپا کے چانکیہ مانے جانے والے امت شاہ بدھوار کو پہلی بار اخبار نویسوں سے روبرو ہوئے اور انہوں نے کہا کہ بھاجپا دونوں ریاستوں میں بھرپور اکثریت سے جیت رہی ہے۔ ان کے اس اعتماد کو شام کو ایگزٹ پولس نے تقویت دی۔ دراصل جس طرح ضمنی چناؤ میں ہار کا منہ بھاجپا کو دیکھنا پڑا تھا اس سے بحث شروع ہوگئی تھی کہ مودی۔ شاہ کا جادو اترنے لگا ہے ۔ اس لئے ان دونوں ریاستوں کے چناؤ پر نہ صرف مودی کی بلکہ امت شاہ کی ساکھ بھی داؤ پر لگی تھی۔ ان دونوں ریاستوں کے چناؤ میں مودی نہ صرف اپنے دم پر کمپین کی کمان سنبھالے ہوئے تھے مودی نے اپنے نام پر ووٹ مانگا اس لئے جنتا بھی انہیں آگے پرکھنے کے موڈ میں دکھائی دی۔ ایگزٹ پول کے نتیجوں سے صاف اشارے مل رہے ہیں کہ مہاراشٹر میں شیو سینا کا ساتھ چھوڑنے کے باوجود بھاجپا کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔15 سال پہلے ریاست میں بھاجپا ۔شیو سینا اتحاد کی سرکار تھی لیکن ایگز ٹ پول اگر صحیح ثابت ہوتے ہیں تو پہلی بار بھاجپا مہاراشٹر میں اپنے بوتے پر حکومت بنائے گی۔ نتیجوں کیلئے 19 اکتوبر یعنی ایتوار تک انتظار کرنا ہوگا۔ اگر نتیجے بھاجپا کے حق میں رہے تو اس سے پارٹی کو اپنے دم پر آل انڈیا سطح تک پہنچ بنانے کی حکمت عملی کو طاقت ملے گی۔ کانگریس مکت بھارت مہم کو بھی نئی طاقت ملے گی۔ اس کا اثر پنجاب جیسے صوبے میں دکھائی پڑ سکتا ہے جہاں بھاجپا اکالی دل کے ساتھ اقتدار میں ہے۔ کیونکہ ہریانہ میں اکالی دل۔ انڈین نیشنل لوکدل کے ساتھ دکھائی دیا ہے۔ ایسے میں نتیجے برعکس رہنے پر بھاجپا پنجاب میں اکیلے چلو کی راہ اختیار کر سکتی ہے۔ اگر دونوں ریاستوں میں بھاجپا اکثریت میں آتی ہے تو اس کا اثر راجیہ سبھا میں آنے والے دنوں میں بھی دکھائی دے گا جہاں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے مودی سرکار کو نئے قانون بنانے میں دقتیں آرہی ہیں۔ کانگریس کیلئے اگر یہ نتیجے لوک سبھا کے برابر ملے تو اس کی سینئر لیڈر شپ کی مشکلیں بڑھ جائیں گی۔
(انل نریندر)

آئی ایس ایل سے بھارتیہ فٹبال کے نئے دور کا آغاز ہوگا!

بھارتیہ فٹبال کے گڑھ کہے جانے والے میٹرو شہر کولکاتہ کا بڑا اسٹیڈیم اپنے30 برسوں کی تاریخ میں بہت سے فٹبال میچوں کے ساتھ بڑی بڑی تقریبوں کا گواہ رہا ہے لیکن ایتوار کی شام کولکاتہ کی باشندوں کیلئے یادگار رہے گی۔ موقعہ تھا انڈین فٹبال میں ایک نئے دور کی شروعات۔ ستاروں سے سجی دھجی اور چمک دھمک کے ساتھ شاندار تقریب کے ساتھ انڈین سپر لیگ کے پہلے سیزن کا رنگا رنگ آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب میں سابق حسینائے عالم و بالی ووڈ کی میریکام پرینکا چوپڑہ نے اپنی پیشکش کی۔ وہیں بھارت رتن سچن تندولکر اور بنگال ٹائیگر سورو گانگولی ، صنعت کار مکیش امبانی، انوملک، ہربھجن سنگھ و دیگر بڑی ہستیوں کو دیکھ کر ناظرین جوش کے ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ تالیوں کی گڑ گڑاہٹ کے درمیان موجود وزیر اعلی ممتا بنرجی نے آئی ایس ایل کے افتتاح کیلئے کولکاتہ کو چننے کیلئے دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعلی نے کہا کولکاتہ فٹبال کو بہت پسند کرتا ہے اور اسی میں جیتا ہے۔ پرینکا چوپڑہ نے پروگرام کی میزبانی کی۔ انہوں نے ایک ایک کرکے سبھی آٹھوں ٹیموں کے مالکان اور کھلاڑیوں کو اسٹیج پر بلایا۔ گھریلو ٹیم ایتھلیٹکا ڈی کولکاتہ کے معاون مالک سوروگانگولی کا نام لیا تو پورا اسٹیڈیم تالیوں سے گونج گیا۔ کہنے کو تو ان کھیلوں کی طرح فٹبال بھی ایک کھیل ہے لیکن اگر مقبولیت اور رتبے کی بات کی جائے توباقی سارے کھیل ایک طرف اور فٹبال ایک طرف۔ اس کا ثبوت ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ہر چار سال میں فٹبال ورلڈ کپ ہوتا ہے۔ اس میں شائقین اور ناظرین میں پسندیدہ کھلاڑیوں کو لیکر جیسا جوش اور جنون اور دیوانگی دیکھنے کو ملتی ہے ویسی دوسرے کھیل میں نہیں دکھائی پڑتی۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ ورلڈ کپ فٹبال میں بھارت کہاں کھڑا ہے؟ دراصل فٹبال کی دنیا میں ہم کہیں نہیں ہیں۔ ورلڈ کپ کی تازہ فیفا رینکنگ میں بھارت کا مقام158 واں ہے۔ اب انڈین سپر لیگ کے آغاز سے امید ہے کہ ہندوستانی فٹبال کے بھی اچھے دن آنے والے ہیں۔ اس لیگ کا فارمیٹ کافی حد تک کرکٹ کے آئی پی ایل جیسا ہے۔ اس میں8 ٹیمیں ہیں اور ہر ایک ٹیم کو غیر ملکی اور ملکی کھلاڑیوں کو جہاں تہاں سمائے ہوئے میدان میں اتارا ہے۔ آئی پی ایل کی طرح جتنے بھی غیر ملکی کھلاڑی اس میں شامل ہو رہے ہیں ان میں سے تقریباً سبھی سینئر سطح پر اپنی پاری کھیل چکے ہیں لیکن یہ بھی صحیح ہے چاہے ڈیلپیورو ہوں یانکولس ان کے جادوئی کھیل کا جلوہ فٹبال کھلاڑیوں کے دماغ میں آج بھی تازہ ہے۔ فٹبال کی دنیا میں بھارت کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ ہمارا کھیل کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ ہم مالدیپ اور نیپال جیسی ٹیموں سے بھی جیتنا کئی بار ہمارے لئے مشکل ہوتا ہے۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے سے شاید ہندوستانی فٹبال کھلاڑیوں کا کھیل کا معیار بلند ہو۔ بہرحال آئی ایس ایل کو کارپوریٹ بالی ووڈ ستاروں اور نامور کرکٹ کھلاڑیوں کی جیسی حمایت مل رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے امید کی جانی چاہئے کہ ہندوستانی فٹبال میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2014

دہلی میں بدمعاشوں کے بڑھتے حوصلے !

راجدھانی میں بدمعاشوں کے حوصلے کتنے بلند ہیں اس کا پتہ اسی سے چلتا ہے کہ تین مہینے میں تین پولیس والوں کو بے رحمی سے مار ڈالا گیا۔ ہائی سکیورٹی والے کناٹ پلیس میں دو پولیس والوں پر فائرننگ تو دوسرے دن باہری دہلی کے وجے وہار علاقے میں ایک کانسٹیبل کو چھاتی میں گولی مار دی گئی۔ تازہ واقعہ ایتوار کی دیر رات دو بجے کانسٹیبل آٹو میں سوار چار بدمعاشوں کو تھانے لے جارہے تھے تبھی انہیں گولی مار دی گئی۔ کانسٹیبل جگبیر سنگھ (42 سال) نے موقعہ پر ہی دم توڑدیا جبکہ کانسٹیبل نریندر کمار زخمی ہوگیا۔ ایک بدمعاش دونوں کی ریوالور بھی لیکر بھاگ گیا۔ یہ واقعہ رات ڈیڑھ بجے وجے وہار علاقے میں بائیک سے گشت کررہے کانسٹیبل جگبیر سنگھ اور نریندر سنگھ کو ایل بلاک کی گلی نمبر ایک میں ایک مشتبہ آٹو دکھائی دیا۔ آٹو کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے چاروں لوگوں پر شبہ ہوا تو جگبیر سنگھ اور نریندر انہیں تھانے لے جانے کیلئے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گئے۔ آٹو چلا تبھی ایک بدمعاش نے پیچھے سے ڈرائیور کو لات مار دی۔ آٹو رکتے ہی بدمعاش بھاگے۔ کانسٹیبل جگبیر نے پکڑنے کی کوشش کی تو انہیں گولی مار دی گئی۔ کانسٹیبل نریندر کی پیٹھ میں گولی لگی۔ ہریانہ کے بھیوانی کے گاؤں تھنہیرا میں 7 اکتوبر1972ء کو پیدا ہوئے جگبیر سنگھ بہت بہادر تھا۔ دہلی پولیس میں آنے سے پہلے15 سال تک ہندوستانی فوج میں دیش کی سیوا کر چکا تھا۔ فوج سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد25 مئی2008ء کو دہلی پولیس میں بطور کانسٹیبل ملازمت شروع کی۔ وہ ڈیڑھ سال سے وجے وہار تھانے میں تعینات تھا۔ جگبیر سنگھ کو سب سے اچھا بیٹ افسر کا ایوارڈ ملا تھا۔ حکام کے مطابق گولی لگنے کے بعد جگبیر نے ہار نہیں مانی اس نے دو بدمعاشوں کو اپنے بازوؤں میں دبوچ لیا تھا۔ اس درمیان دوسرے بدمعاشوں نے ہتھیار کی بٹ سے اس کے سر پر کئی حملے کئے۔ اتنا ہی نہیں اس کے چہرے پر بھی بدمعاشوں نے مکے مارے اور پھر اسے آٹو سے پھینک کر فرار ہوگئے۔ ناردن رینج کے جوائنٹ سٹی اے سی پی آر۔ ایس کرشنیا کے مطابق جگبیر دہلی پولیس کے جانباز اور ہونہار کانسٹیبل مانے جاتے تھے۔ ظاہر ہے ایسے جانباز اور ہونہار کانسٹیبل کا جانا ایک بڑا نقصان ہے۔ پتہ چلا ہے پولیس نے جگبیر پر گولی چلانے والے ملزمان کو پکڑ لیا ہے۔ آٹو ڈرائیور سمیت دو لڑکوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس قتل کانڈ کو سلجھانے کا دعوی کیا۔ ملزمان کی پہچان 23 سالہ سنتوش عرف لکی،22 سالہ وید رام پال کے طور پر کی گئی۔ پولیس نے ملزمان سے سپاہی جگبیر سے لوٹی گئی ریوالور کے علاوہ دو کٹے اور واردات میں استعمال آٹو برآمد کرلیا ہے۔ واردات کو ایک نقد زن نے انجام دیا۔ شاہ آباد ڈیری کے باشندے وید رام پال آٹو چالک ہے۔ وہ دسویں کلاس تک پڑھا ہے۔ وہ اس نقب زن گروہ کو رات کے وقت لے کر آٹو میں گھومتا تھا۔ اس کے بدلے میں اسے روزانہ500 روپے ملتے تھے۔ واردات کیلئے نکلتے وقت اسے بدمعاش بلا لیتے تھے۔ شاہ آباد ڈیری علاقے میں رہنے والا سنتوش بیحد شاطر نقب زن ہے۔ وہ محض پانچویں کلاس تک پڑھا ہے۔ اس کے خلاف قتل ،لوٹ مار اور ہتھیار ایکٹ کے تحت معاملے درج ہیں۔ وہ ڈیڑھ ماہ پہلے جیل سے ضمانت پر چھٹ کر آیا تھا۔ اس واردات میں زخمی کانسٹیبل نریندر کی حالت تو ٹھیک ہے۔ سر گنگا رام ہسپتال میں اس کا علاج چل رہا ہے۔ جلد ہی وہ صحتیاب ہوجائے گا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ دہلی میں جرائم پیشہ لوگوں کے اتنے حوصلے بلند ہوگئے ہیں کہ اب وہ خاکی وردی والوں کو بھی مسلسل نشانہ بنا نے لگے ہیں۔ 
جعفر آباد ، سیلم پور، وجے وہار، دوارکا میں بدمعاشوں کی گولیوں کا شکار بنے پولیس والے ڈیوٹی پر تھے اور امریکہ یوروپ میں پولیس والے کسی بھی شخص کی تلاشی لینے سے پہلے چوکسی برتتے ہیں۔ امریکہ میں پولیس ٹریننگ مشتبہ شخص کو روکنے کے لئے پہلے بھر پور احتیاط کی دی جاتی ہے جس سے مشتبہ پولیس پر حملہ نہ کرپائے اور اس کو روکنے کے بعد مشتبہ پر پستول تان کر اور اس کو ہاتھ کھڑے کر کے دکھانے کیلئے اور بٹھانے کیلئے کہتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ یا سر کے اوپر رکھوادیتے ہیں۔ وہ مشتبہ کی تلاشی لیتے ہیں وہاں کوئی ہتھیار تو نہیں چھپایا ہوا ہے؟ یہاں یہ نہیں کیا جاتا۔ پولیس والوں پر ہر حملے میں دیکھا گیا ہے مشتبہ کو پکڑنے کے بعد پولیس ملازمین نے انہیں کور نہیں کیا۔ دہلی پولیس کی ٹریننگ میں ایسے اقدامات کرنے کیلئے بیٹ افسروں کو حکم دینے ہوں گے تاکہ جگبیر جیسے ہونہار بہادر کانسٹیبل کی طرح کوئی قتل نہ ہوسکے۔ ہم جگبیر کو شردھانجلی دیتے ہیں اور ان کے پریوار کے اس بھاری نقصان کے وقت ان کے ساتھ ہیں۔
(انل نریندر)

مدارس کیلئے سائبر گرام یوجنا!

اترپردیش میں مدارس کے طلبا کو اب مذہبی تعلیم کے ساتھ ہی کمپیوٹر و انٹرنیٹ کا ہنرمند بنایا جائے گا۔ مرکزی سرکار کی سائبر گرام یوجنا کے تحت مدرسوں میں درجہ 6 سے اور10 تک کے طالبعلموں کو یہ ٹریننگ دی جائے گی۔ یہ اسکیم ملٹی سیکٹرل ڈولپمنٹ پروگرام (این ایس ڈی پی)کے سبھی 144 بلاک میں چلائی جائے گی۔ پردیش سرکار مدرسوں و ان میں تعلیم حاصل کررہے طلبا کی فہرست کو قطعی شکل دینے میں لگ گئی ہے۔ اسکیم لاگو کرنے والے ضلعوں میں بلند شہر، غازی آباد، ہاپوڑ، گوتم بودھ نگر شامل ہیں۔ مرکزی سرکار نے اپنی سائبر گرام یوجنا کو اترپردیش میں بھی لاگو کرنے کے احکامات دئے تھے۔ اسی کے بعد ریاستی سرکار اس اسکیم کو عملی شکل دینے میں لگی ہوئی ہے۔ سائبر گرام یوجنا کا اہم مقصد پسماندہ اقلیتی علاقوں کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل طور سے متعارف کرانا ہے جس سے وہ اقتصادی اور سماجی طور سے باروزگار بن سکیں۔ اسکیم کے تحت کمپیوٹر کی اسپیشل ٹریننگ جن سویدھا کیندر کے ذریعے دلائی جائے گی۔ اس کے لئے39 گھنٹے کا اسپیشل تربیتی پروگرام بنایاگیا ہے۔ اس میں کمپیوٹر تعلیم کی سبھی بنیادی معلومات انہیں دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی دنیا سے بھی ان لڑکوں کو روبرو کرایا جائے گا۔ سرکار کی اسکیم ہے کہ مدرسوں میں مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم بھی دلائی جائے تاکہ وہاں سے نکلنے والے لڑکوں کی ترقی ہوسکے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گاؤں کی چوطرفہ ترقی کے بارے میں سنجیدگی سے قدم اٹھائے ہیں۔ مودی جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ لوک نائک جے پرکاش نارائن کی جینتی پر سانسد آدرش گرام یوجنا کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے۔ وہ اپنے چناوی وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔ اس اسکیم کا اعلان یوں تو پی ایم نے لال قلعہ کی سفیل سے ہی اپنی تقریر میں کردیا تھا لیکن اس اعلان کے مطابق اس کی پالیسی حصولوں کو گذشتہ سنیچر کوجاری کیاگیا۔ مہاتما گاندھی سے لیکر جے پی تک گاؤں کی چنتا کتنی تھی اس کا تذکرہ کرتے ہوئے پردھان منتری اس کے ذریعے سے تبدیلی کی سیاست پر آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس میں ہر ایم پی کو ایک گاؤں گود لیکر اپنے ایم پی ڈولپمنٹ اسکیم میں اس کو شامل کرکے اسے ایک مثالی گاؤں بنانا ہے۔
گاؤں کی ترقی کے تئیں مودی کی تشویش سات سمندر پار ان کے امریکی دورہ میں جھلکی تھی جہاں اپنے صنعتی ڈولپمنٹ کا ایجنڈا ’میک اِن انڈیا‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا اگر بھارت کے گاؤں ترقی کی دوڑ میں ساتھ نہ چلے تو ملک کی ترقی بے معنی ہوگی۔ ترقی اوپر سے نہیں گاؤں سے شروع ہونی چاہئے۔ دیش کو ترقی کرنے کیلئے جدید تعلیم بہت اہم ہے۔ بغیر جدید تعلیم جس میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ آج کل ضروری حصہ بن گیا ہے اس کو پڑھنا اور استعمال کرنے کا طریقہ سیکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کو بڑھاوا دینا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ مرکز اور یوپی سرکار نے مدرسوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ بھارت گاؤں میں بستا ہے۔
(انل نریندر)

16 اکتوبر 2014

نریندر مودی اور امت شاہ کی اگنی پریکشا ہیں اسمبلی چناؤ!

ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کیلئے15 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جاچکے ہیں۔ان میں بڑے بڑے سورماؤں کی سیاسی قسمتیں بند ہوچکی ہیں۔ 19 اکتوبر کو جب ووٹوں کی گنتی ہوگی تب پتہ چلے گا ان دونوں انتہائی اہمیت کی حامل ریاستوں میں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے۔ عام چناؤ میں کامیابی کی نئی عبارت لکھنے والی مودی شاہ کی جوڑی کی ساکھ پھر داؤ پر لگی ہے۔ چاہے وہ ہرینہ ہو یا مہاراشٹر۔ لڑائی نریندر مودی بنام باقی پارٹیاں یعنی مودی ورسز بقایا ریسٹ بن گئی ہیں۔ اس کی اہم وجہ ہے کہ بھاجپا نے ان دونوں ریاستوں میں اپنے وزیر اعلی کا دعویدار کون ہے اس کو ظاہر نہیں کیا ہے۔ ریاستی یونٹ کو بھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ ساری کمان خود وزیر اعظم نریندر مودی نے سنبھالی ۔ پہلے بات کرتے ہیں مہاراشٹر کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس ریاست میں تابڑ توڑ 33 ریلیاں کی ہیں۔ مہاراشٹر اسمبلی میں 288 سیٹیں ہیں جبکہ ہریانہ میں90 ہیں۔ مودی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں ان کی کامیابی یوں ہی نہیں تھی۔ وہیں کانگریس ، این سی پی اور علاقائی پارٹیوں کے سامنے اپنی ساکھ اور وجود بچانے کی چنوتی ہے۔ مہاراشٹرمیں پچھلے پانچ سال میں یہ پہلا ایسا چناؤ ہے جب بڑی پارٹی بغیر کسی اتحاد کے میدان میں ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی 257 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے جبکہ اتحادی چھوٹی پارٹیاں31 سیٹوں پر اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔25 سال پرانابھاجپا۔ شیو سینا اتحاد ٹوٹ چکا ہے۔ دراصل سورگیہ گوپی ناتھ منڈے کے جانے کے بعد بھاجپا میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جسے آج تک پر نہیں کیا جاسکا۔ ادھر کانگریس اور این سی پی کا 15 سال پرانا اتحاد بھی ٹوٹ گیا ہے۔ پہلی بار مہاراشٹر میں پانچ رخی مقابلہ ہورہا ہے۔ جہاں تک ہریانہ کی بات ہے یہاں ہمارے مطابق مقابلہ کئی فریقینی ہے۔ بھاجپا۔ کانگریس۔ انڈین نیشنل لوکدل کے درمیان ہے۔ جہاں تک چناؤ کمپین کا سوال ہے سب سے اچھی کمپین موجودہ وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے کی ہے۔ ان کی چناؤ کمپین ٹھیک تھی ۔ ریاست میں ترقی پر مبنی ان کا ایجنڈا تھا جبکہ مودی کی ساری کمپین حکمراں پارٹی کے خلاف تھی۔ دونوں ہی ریاستوں میں مودی نے پچھلی سرکاروں کی خامیاں نکالنے کا کام کیا ہے۔ ہڈا کی شخصیت ساکھ ڈولپمنٹ پرش اور ٹیلنٹ ایڈمنسٹریٹر کی بنی ۔اس کا اثر روہتک، سونی پت، جھجھرو پانی پت بیلٹ میں دیکھنے کو ملا۔ یہ شہر میں کانگریس کو یقینی طور پر ووٹ دلائیں گے۔ اسی طرح نوح میوات میں اقلیتوں کے ووٹ کانگریس کو ملیں گے۔ انڈین نیشنل لوکدل کا اپنا اثر ہے اوم پرکاش چوٹالہ کے جیل جانے سے ان کی پارٹی کو ہمدردی کا ووٹ ملے گا۔ خاص کر جاٹھ بیلٹ میں۔ دونوں ہی ریاستوں میں یہ چناؤ اہم رہے گا۔ نوجوان ووٹ بہت سے تو پہلی بار ڈالیں گے اس میں مودی کی مقبولیت دکھائی پڑتی ہے۔ مودی کی ریلیوں میں بھیڑ میں خاص طور پر نوجوان شامل نظر آئے۔ ہڈا صاحب کو دیش میں نیگیٹو کانگریس ہوا اور پارٹی میں رسہ کشی کا نقصان ہو سکتا ہے۔ شخصی بات کریں تو ان کے حریف مانتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب وزیر اعلی رہے ہیں۔ بھاجپا کے حق میں ڈیرا سچا سودا کے اس اعلان کی بھی اہمیت ہے کہ وہ بھاجپا کو ووٹ دیں گے۔ اس سے فرق پڑ سکتا ہے۔ ڈیرا سچا سودا کے 60 لاکھ سے زیادہ ماننے والے ہیں اور اگر وہ بھاجپا کو ووٹ دیں تو چناؤ کا نتیجہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔ ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی چناؤ نریندر مودی اور امت شاہ کیلئے کسی اگنی پریکشا سے کم نہیں ہیں۔دونوں ہی ریاستوں کے چناؤ کئی لیڈروں اور پارٹیوں کا مستقبل طے کریں گے۔ سنگھ حمایتی پارٹی اور سرکار میں پرانی پیڑھی کو الگ رکھنے اور نئی پیڑھی کو جگہ دینے کے بعد ان چناؤ میں مودی ۔ امت شاہ کی جوڑی کے لئے یہ سخت آزمائشی امتحان مانا جارہا ہے۔ دونوں ریاستوں میں اکیلے چلو کے ساتھ ٹکٹ تقسیم اور سیاست کے معاملے میں صرف اسی جوڑی کی چلی ہے۔ ایسے میں اگر یہ جوڑی کامیاب ہوئی تو پارٹی میں اس کی پکڑ مضبوط ہوجائے گی لیکن اگر نتیجے اچھے نہیں آئے یا امید کے مطابق نہیں آئے تو جوڑی کو تنقید کا سامنا کرنے کیلئے بھی تیار رہنا پڑے گا۔ دونوں لیڈروں کے سامنے مشکل یہ ہے کہ مہاراشٹر کی 288 سیٹوں میں سے جہاں پارٹی اپنے دم پر اب تک 60 سیٹوں کا نمبر نہیں پار کر پائی وہیں ہریانہ میں ہمیشہ علاقائی پارٹیوں کی ٹیم رہی ہے۔ بھاجپا اپنے دم پر پچھلے اسمبلی چناؤ میں 90 میں سے محض4 سیٹیں ہی حاصل کر پائی تھی۔ عام چناؤ میں پارٹی نے ہریانہ میں ہچکا اور مہاراشٹر میں شیو سینا کے ساتھ چناؤ لڑا تھا اور شاندار تاریخی جیت حاصل کی تھی۔ حالانکہ لوک سبھا چناؤ کے قریب پانچ مہینے بعد ہورہے ان دونوں ریاستوں میں اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کا اپنے پرانے ساتھیوں سے ناطہ ٹوٹ گیا ہے۔ چناؤ نتیجے کانگریس کے ساتھ ساتھ این سی پی ، شیو سینا، ایم این ایس، انڈین نیشنل لوکدل کا بھی مستقبل طے کریں گے۔ خراب نتیجے سے ان پارٹیوں میں نئے تنازعے کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ لیڈر شپ کیلئے بھی نئی مصیبت کھڑی ہوسکتی ہے۔ مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی چناؤ کے نتائج کے بعد نئے سیاسی اتحاد بن سکتے ہیں اور حکمراں این ڈی اے اور یوپی اے اتحاد کے ساتھیوں نے ان چناؤ میں پالہ بدلا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اسمبلی چناؤ کے بعد این ڈی اے کے چہرے میں کیا تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔ اگر بھاجپا اودھو ٹھاکرے کے بغیر مہاراشٹر میں اور چوٹالہ کے بغیر ہریانہ میں سرکار بنا لیتی ہے تو یقینی طور پر شیوسینا اور اکالی دل کی حیثیت مودی سرکار میں چھٹ جائے گی۔ یوپی اے بکھر جائے گا۔ اگر این سی پی نے مہاراشٹر میں اچھے نتیجے حاصل کئے تو شاید وہ یوپی اے میں نہ لوٹے۔ دونوں ریاستوں کے اسمبلی چناؤ سے لیفٹ اور علاقائی پارٹیوں میں سپا اور آر جے ڈی ، بسپا، جے ڈی یو، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے بھی کچھ نہ کچھ سبق لیں گے۔ ساری علاقائی پارٹیاں پردھان منتری نریندر مودی کے کانگریس مکت بھارت کے نعرے کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم مودی سبھی ریاستوں میں صرف اور صرف بھاجپا کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے حصول کیلئے وہ صرف اور صرف امت شاہ کی چانکیہ چالوں پر منحصر ہیں۔ دیکھیں کہ مودی۔ شاہ کی شطرنجی چالیں کتنا رنگ لاتی ہیں؟
(انل نریندر)

15 اکتوبر 2014

ISIS, Taliban Nexus, a big threat in the region India should be alert to the danger

Anil Narendra

In a new video on Internet, an Islamic State's fundamentalist is shown beheading a British hostage, Alan Henning. This is the fourth murder by the extremist organization in recent times. Before this British journalist James Foley, American-Israeli reporter Steven Sotlof and British helper David Hans were killed the same brutal manner cruel way.
In the latest video a masked militant says: Obama, you targeted our people in Syria and bombarded them by your planes so this is the best way to continue the attack on your people.
The spokesperson of America's National Security Council, Catlin Hayden confirmed and said that there is no point of having any doubt on the credibility of this video. In spite of American led air attacks, the killing of British hostage by ISIS shows the danger posed by this extremist organization.
At the same time the expansion of this terror organization is also a matter of grave concern for several countries including India.  According to a latest report, Pakistani Taliban has extended its full support to IS.  Taliban is already associated with another terror organization Al-Qaeda.
To make its presence felt in the subcontinent the Al-Qaeda recently issued a video threatening to launch Jehad in India. The video is shown to keep up Al-Qaeda’s superiority in the subcontinent. In his Speech Al Javahri was shown allegiance with Taliban leader Mulla Umar.
But the joint appeal made by Pak Taliban and ISIS to launch Jehad in the region has created a deep crack between Pak Taliban and Afghan Taliban. It also shows the bad intention of terror groups to control the region in the aftermath of the withdrawal of foreign troops from Afghanistan.
While America along with other countries is trying to destroy ISIS camps by bombarding in Iraq and Syria, at the same time ISIS is also expanding its wings across the world with different extremist organization to make its foothold stronger.
ISIS has already joined hands with Abu Samaf (Somalia and the Philippines), Boko Haram (Nigeria), Bangsamaro Islamic Freedom Fighter (Philippines), Jemah Islamia (Thailand, Malaysia and Indonesia) Majlis Shura Al Mujahidin (Egypt and the Gaza strip) and now Pak Taliban.
Actually, the large area of Pakistan and Afghanistan is against America and people are ready to take pledge for Jehad. While it is shocking to see immense growth of ISIS in a short period, its act of violence is more horrible.
A few weeks ago the flag of ISIS was seen in Kashmir, and the latest bomb blast in Burdwan, West Bengal is also linked to Al-Qaeda. Now, it is time for India to be highly alert from the growing terror threats to the country.

دہلی میں سرکاریا چناؤ کا آخری موقعہ!

دہلی میں سرکار کی تشکیل کے بارے میں دہلی کے شہریوں کو مرکزی سرکار کے نقطہ نظر کیلئے ابھی کچھ اور وقت انتظار کرنا پڑے گا۔ مرکز نے10 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں بتایا ہے کہ صدر کے ذریعے ابھی فیصلہ لیا جانا ہے۔ دہلی میں سرکار بنانے کے لئے سب سے بڑی پارٹی کو بلایا جائے یا چناؤ کرائے جائیں اس پر غور چل رہا ہے اور جلد ہی فیصلہ ہوجائے گا۔ 28 اکتوبر تک کا ملا وقت آخری موقعہ مانا جارہا ہے۔ تب تک اگر حکومت نہیں بنی تو مرکزی حکومت یعنی لیفٹیننٹ گورنر کو اسمبلی بھنگ کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہیں تین اسمبلی سیٹوں کرشنا نگر، تغلق آباد اور مہرولی کے ضمنی چناؤ کی بھی سفارش کرنی ہوگی۔ ان تینوں سیٹوں سے کامیاب ممبر اسمبلی ، ممبر پارلیمنٹ بن جانے کے بعد ان سیٹوں سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے استعفے کے 6 مہینے کے اندر یعنی اسمبلی بھنگ نہ ہونے پر 30 نومبر تک ضمنی چناؤ کرانا ضروری ہے۔ اس درمیان بدھ کو صدر کے ذریعے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی طرف سے سرکار کو بھیجی گئی رپورٹ وزارت داخلہ کو لوٹائے جانے کے بعد بحث تیز ہوگئی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مرکزی سرکار کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ راجدھانی میں بھاجپا سب سے بڑی پارٹی ہے ایسے میں اگر صدر محترم اجازت دیں تو سرکار بنانے کے لئے اسے مدعو کیا جاسکتا ہے۔ دہلی میں سرکار بنانے کے معاملے میں اب فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو ہی لینا ہوگا۔ سیاسی پنڈتوں کا اندازہ ہے کہ جب اتنے دنوں تک بھاجپا نے کوئی سرکار بنانے کی پہل نہیں کی تو اب صاف ہے کہ آنے والی 15 اکتوبرکو ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی چناؤ کے بعد ہی دہلی میں چناؤ کے بارے میں کوئی فیصلہ ہو۔بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے مخالفین کو یہ کہنے کا موقعہ نہیں دینا چاہتی کہ اس نے دہلی میں اپنی سرکار بنانے کے لئے دوسری پارٹیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ کہا یہ بھی جارہا ہے پارٹی کی نظر مہاراشٹر اور اسمبلی چناؤ نتائج پر ہے۔ اگر نتیجے اس کی توقع کو مطابق آئے تو وہ چاہے گی دہلی اسمبلی کو بھنگ کر اس کے چناؤ بھی جارکھنڈ اور جموں و کشمیر کے ساتھ کرا لئے جائیں۔ اگرنتیجے برعکس آئے تو وہ کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر سرکار بنانے کی پہل کر سکتی ہے۔اس صورت میں سرکار بھاجپا کی بننی ہے اور بغاوت کی چنگاری کانگریس میں سلگنی فطری ہے جس بھاجپا کو سرکار بنانی ہے وہ آج تک اپنا وزیر اعلی امید وار تک نہیں چل پائی لیکن کانگریس کے کم سے کم پانچ ممبران اسمبلی نے اپنا طرف سے بھاجپا کو حمایت دینے کے بارے میں ذہن بھی بنا لیا ہے اور حمایت دینے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ جسے حمایت دیکر وزیر اعلی بنوانا چاہتی ہے اسے بھاجپا لیڈرشپ راج کاج سونپنے میں گذشتہ چار مہینے سے آناکانی کررہی ہے۔ پارٹی کے 8 میں سے6 ممبر اسمبلی نے بھاجپا ممبر اسمبلی رام ویر سنگھ ودوڑی کو وزیر اعلی بنانے کی شرط کے ساتھ بھاجپا کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ بھاجپا کے ایک بڑے لیڈر کے سامنے اس تجویزکو پیش کیا گیا جب بھاجپا کے نیتاؤں و آر ایس ایس کے سامنے یہ تجویز لائی گئی تو اس نے منع کردیا۔ کانگریس ممبر اسمبلی پروفیسر جگدیپ مکھی کو حمایت دینے کو راضی ہوجائے اور دوسرے نمبر پر ودوڑی رہیں۔ بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ بھاجپا دیوالی منائے گی یا پھرصوبے کی گدی ابھی یوں ہی خالی پڑی رہتی ہے؟
(انل نریندر)

آن لائن مہا ڈسکاؤنٹ آفر کتنا سچ کتنا جھوٹ!

پچھلے کچھ وقت سے انٹر نیٹ کے ذریعے آن لائن شاپنگ کا دور دورہ بڑھ گیا ہے۔ اس میں لوگوں کو یہ فائدہ ہے کہ سامان گھر بیٹھے آجاتا ہے نہ تو مارکیٹ جانے کا جھنجھٹ نہ پارکنگ کا جھنجھٹ اور نہ ہی وقت کی بربادی۔ اس انٹرنیٹ شاپنگ میں عام خوردہ دوکانداروں ،کاروباریوں کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے لیکن گذشتہ6 اکتوبر کو آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنی فلپ کارڈ کی ایک اسکیم کے تحت جو ہوا اس سے انٹرنیٹ شاپنگ کے اس دھندے پر شدید سوال اٹھنا فطری ہے۔بڑی کمپنی ای کومرس فلپ کارڈ بمپر سیل کے چلتے تنازعوں میں گھرتی جارہی ہے۔وزیر تجارت و صنعت نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ای کومرس کمپنیوں کے خلاف بہت سی شکایتیں ملی ہیں۔ سرکار پورے معاملے پر غور کرے گی۔ ضروری ہوا تو ای ریٹیل پر الگ سے پالیسی یا گائڈلائنس جاری کی جارسکتی ہیں۔آل انڈیا کاروباری فیڈریشن نے حال ہی میں سیتا رمن کو خط لکھ کر آن لائن شاپنگ سے وابستہ کمپنیوں کے بزنس ماڈل اور کاروبار کے طور طریقوں کی شکایت کی تھی۔ بھاری چھوٹ کے دعوؤں پر فلپ کارٹ کے کھارا نہ اترنے سے گراہکوں میں ناراضگی ہے۔ کمپنی نے پیر کو ’بگ بلین ڈے‘ سیل پر کئی پروڈکٹس پر بھاری چھوٹ کی پیشکش کی۔آفر سیل شروع ہوتے ہی ختم ہوگئی جبکہ بہت سے لوگوں کے آرڈر بعد میں منسوخ کردئے گئے۔ اس بڑی سیل کے دوران فلپ کارڈ کی ویب سائٹ میں تکنیکی خامیوں کے چلتے بھی خریداروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے ناراض خریداروں نے سوشل میڈیا پر فلپ کارڈ کے خلاف جم کر بھڑاس نکالی۔ کچھ سال پہلے ہوئے آن لائن کاروبار میں آج کئی بڑی کمپنیاں شامل ہوچکی ہیں۔ بازار بڑھانے کے لئے فلپ کارڈ نے اچانک ایک بگ بلین ڈے سیل کا اعلان کیا اور کئی پروڈکٹس پر بھاری رعایت کی پیشکش کی جو اب ایک اسکینڈل کی شکل میں بدل گئی ہے۔ ایک طرف فلپ کارڈ نے اپنی ویب سائٹ کو ایک ارب آرڈر ملنے اور 6 ارب کے سامان خریدے جانے کا دعوی کیا وہیں گراہکوں کے درمیان بھاری ناراضگی پھیلی۔ اگر کوئی ڈھائی ہزار کے کسی موبائل کی قیمت 1 یا 14 ہزار روپے کے ٹیبلیٹ 1400 میں ملنے کا اعلان کیا جارہا ہے تو سمجھنے کی بات ہے یہ دھوکے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ اسی طرح دن بھر ٹی وی چینلوں پر سستے شرحوں پر سامان بیچنے کے دعوے والے اشتہارات چلتے رہتے ہیں ان کے جھانسے میں آکر لوگ روز ٹھگے جاتے ہیں۔ کیٹ ریسرچ گروپ کے ذریعے حال ہی میں ایک سروے کرایا گیا۔ پچھلے چھ مہینوں میں کچھ کاروباریوں میں آن لائن کاروبار کے سبب تقریباً20 فیصد سے 35 فیصد کی گراوٹ آئی ہے جس میں خاص طور سے موبائل الیکٹرانک ،کمپیوٹر، ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر وغیرہ اور کاسمیٹکس گفٹ کی چیزیں ہوم کچن کے سامان وغیرہ شامل ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ آن لائن شاپنگ میں صارفین کے مفادات کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ دراصل سرمایہ دار کمپنیاں کم سے کم صفر منافع پر پہلے اپنے حریف کمپنیوں کو کمزور کرتی ہیں ۔ پھر صارفین کے سامنے اس کے برعکس حالات پیدا کرکے من چاہا منافع کمانے لگتی ہیں۔ اس انٹرنیٹ کاروبار پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

14 اکتوبر 2014

ہند۔پاک مشترکہ کارنامہ تو ہے لیکن امن کا پیغام بھی ہے!

جمعہ کا دن بہت اہم تھا۔ نہ صرف بھارت کیلئے بلکہ پورے برصغیر کیلئے۔دنیا کا انتہائی اعزاز کا مانند نوبل پیس ایوارڈ بھارت اور پاکستان میں مل کر آیا ہے۔جب سرحد پر ہند۔ پاکستان کے درمیان تلخی انتہا پر ہے تب کیلاش ستیارتھی اور ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن ایوارڈ کے لئے چنا جانا خوش آئند اور حیرت آمیز تحفہ بھی ہے۔اس سے ان دونوں ملکوں پر امن قائم کرنے کا اخلاقی دباؤ بنتا ہے۔ ان دنوں کو اپنے اپنے علاقوں میں کئے گئے لائق تحسین کاموں کیلئے یہ اعلی ترین اعزاز ملا ہے۔ کیلاش ستیارتھی جہاں دہائیوں سے گاندھی وادی طریقے سے بچہ مزدوری کے خلاف اپنی مہم چھیڑے ہوئے ہیں وہیں ملالہ بچیوں کی تعلیم اور عورتوں کی طاقت کی علامت کے طور پر بین الاقوامی سفیر بن کر ابھری ہے۔ اپنی غیر سرکاری تنظیم ’’بچپن بچاؤ‘‘ کے ذریعے کیلاش ستیارتھی اب تک80 ہزار بچوں کو مزدوری کی لعنت سے نجات دلا چکے ہیں۔ ملالہ کو لڑکیوں کو تعلیم دینے کی پیروی کرنے کی وجہ سے طالبان کے حملے کا شکار ہونا پڑا تھا لیکن اس کے بعد وہ پوری دنیا میں صرف اس جدوجہد کی علامت بن گئی ہے۔ کیلاش ستیارتھی نے اس اعزاز کو دیش کے نام وقف کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو استحصال اور ذیادتی سے بچانے اور ان کی بہبود کے لئے وہ آگے بھی اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ ملالہ کوا یوارڈ ملنے پر پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ 17 سالہ لڑکی ملالہ یوسف زئی یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی سب سے کم عمر کی شخصیت ہے۔ ملالہ کو لڑکیوں کو پڑھانے کیلئے پیروی کرنے پر طالبان کی گولی کا نشانہ بننا پڑا تھا۔ اس کے بعد دنیا نے ملالہ کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا اور اب وہ بچوں کے حقوق کی لڑائی کی علامت بن گئی ہے۔نوبل پیس کمیٹی نے کہا ہے کہ ملالہ ابھی کم عمر ہے لیکن لڑکیوں کو تعلیم دلانے کے لئے لمبی جدوجہد کر چکی ہیں۔ کیلاش ستیارتھی اور ملالہ کو 6.6 کروڑ روپے ملیں گے۔ یہ رقم دونوں میں برابر بانٹی جائے گی۔ نوبل ایوارڈہر سال 10 دسمبر کو الفریڈ نوبل کی یوم پیدائش پر دیا جاتا ہے۔نوبل کمیٹی نے ہندوستانی برصغیر میں بچوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کیلئے چنا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایک ہندو اور ایک مسلمان اور ایک ہندوستانی، ایک پاکستانی کا تعلیم اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں شامل ہونا ایک اہم پہل ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ اسلامی کٹر پسندوں کو چیلنج کرتے ہوئے دنیا میں لڑکیوں کو تعلیم کیلئے آواز بلند کرنے والی17 سالہ پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی کو نوبل کا امن ایوارڈ دینے کا اعلان اس وقت کیاگیا جب اس پر دہشت گردی کا حملہ ہونے کے دو سال پورے ہونے والے ہیں۔ مذہبی کٹر پسندوں کی دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر پڑھائی کا جنون لیکر نکلی ملالہ کو طالبان نے 9 اکتوبر 2012ء کو اسکول جاتے وقت گولی ماری تھی۔ بچپن میں اسکول کے دروازے پر اپنے والد کے ساتھ کام کرتے ایک بچے کی مجبوری کا کیلاش ستیارتھی پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ بعد میں اپنی جمی جمائی نوکری چھوڑ دی اور وہ بچوں کو بندھوا مزدوری سے نجات دلانے کے لئے اپنی کوشش میں لگ گئے۔ ان کی پہل سے جنوبی ایشیا میں ہزاروں بچے اسکول لوٹے ہیں۔ اپنے یہاں بچوں کو تعلیم کا حق کا قانون بنا تو اس کے پیچھے کیلاش ستیارتھی کا ہی اشتراک رہا ہے۔ ملالہ کونوبل ایوارڈ دینے کے پیچھے ایک پیغام یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سرگرم ایسے عناصر کو دنیا برداشت نہیں کرے گا جو ملالہ کی جان ہی نہیں بلکہ اس ذہنیت کے دشمن ہے جو 17 سالہ بچی کو دنیا کے سب سے معزز ترین ایوارڈ کا مستحق بناتی ہے۔ کیلاش آزادی کے بعد کی پیڑھی سے تعلق رکھتے ہیں اور ملالہ محض17 سال کی ہے۔ اس مشترکہ اعزاز کا یہ پیغام بھی مانا جاسکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان آزادی کے دور کی تلخی کو پلنے اور بڑھنے سے روکنے میں نئی پیڑھی کے ذریعے رشتوں کو جانچنے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نے ملالہ کو پاکستان کی شان بتایا ہے لیکن اس سب سے بڑے اعزاز کا وقار تبھی برقرار رہے گا جب ملالہ کی عزت کے ساتھ واپسی ہو۔ اس بار نوبل امن ایوارڈ کمیٹی کا یہ تبصرہ بھی بحث کا موضوع بن سکتا ہے کہ دونوں دیشوں میں تعلیم اور دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد کررہے ہم ہندو اور مسلمان کو یہ ایوارڈ دے رہے ہیں لیکن یہ وقت تو ہند۔ پاک کو ملے مشترکہ کارنامے پر فخر کرنے اور ایوارڈ کے ذریعے ملے پیغام کو سمجھنے کا ہے۔
(انل نریندر)

’آپ‘ پارٹی میں بڑھتی بغاوت اور مقبولیت کا گرتا گراف!

عام آدمی پارٹی کی مقبولیت کا گراف تو گر ہی رہا ہے ساتھ ہی ساتھ پارٹی میں مخالفت کی آوازیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے بانیوں میں سے ایک شانتی بھوشن کے بعد اب روہنی سے ایم ایل اے راجیش گرگ نے ہی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال پر سیدھے طور پر حملہ کیا ہے۔پارٹی پہلے ہی الزامات سے باہر نہیں نکل پا رہی تھی کہ اب گرگ نے کیجریوال پر تنقید کرکے پارٹی کو بیک فٹ پر کھڑا کردیا ہے۔ پارٹی میں بغاوت کے سر پارٹی کی ریاستی یونٹوں میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ہریانہ اسمبلی چناؤ نہ لڑنے اور پچھلے لوک سبھا چناؤ میں کراری ہار پر پارٹی کے اندر گھمسان مچا ہوا تھا۔ مہاراشٹر میں تو پارٹی کے سینئر لیڈر مینک گاندھی پر سنگین الزام لگے ہیں۔ ممبر اسمبلی راجیش گرگ نے اپنے کیجریوال کو لکھے خط میں نہ صرف اسمبلی کو بھنگ کرنے کی ان کی مانگ پر سوال اٹھایا ہے بلکہ ان پر اربوں روپے کی زمین گھوٹالوں پر خاموشی اختیار کرنے اور پارٹی میں کرپٹ لوگوں کو بڑھاوا دینے کا بھی الزام لگایا ہے۔ ان کا الزام ہے گھوٹالوں کی جانکاری دینے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ کیجریوال کے سرکار چھوڑنے کے فیصلے کو غلط مانتے ہوئے اسمبلی بھنگ کرنے کی مانگ کرنے سے پہلے جنتا کے بیچ رائے شماری کرانے کی بھی نصیحت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پھر سے چناؤ کرانے کی بجائے جنتا پر 1 ہزار کروڑ روپے کا بوجھ نہ پڑے اس بارے میں انہیں سوچنا چاہئے۔ پارٹی کے ایم ایل اے اور ورکر چناؤ نہیں چاہتے۔ ان کے اس خط سے صاف ہوگیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ کئی بڑے لیڈروں کی طرح ایم ایل اے بھی بغاوت کی راہ پر ہیں۔ آنے والے دنوں میں کچھ اور ممبروں کے بغاوت کے سر سننے کو مل سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس سمیت عام آدمی پارٹی کے کچھ ممبران کی حمایت سے پچھلے دنوں دہلی میں بھاجپا نے سرکار بنانے کی کوشش شروع کی تھی۔ اس مسئلے پر عام آدمی پارٹی کا کہنا تھا کہ ان کے سبھی ممبر اسمبلی متحد ہیں۔ بھاجپا سرکار بنانے کے لئے ممبران اسمبلی کی خریدو فروخت کی کوشش کررہی ہے۔ ان کی حمایت میں انہوں نے بھاجپا کے شیرسنگھ ڈاگر کا اسٹنگ آپریشن بھی دکھایا۔ راجیش گرگ کے کیجریوال کے نام لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کو دوبارہ اسمبلی چناؤ کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ پارٹی کو سبھی کے ساتھ عزت دینے والا برتاؤ کیا جانا چاہئے۔خط میں پہلی بار بغیر کوئی نام لئے پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خط میں آگے کہا گیا ہے کیجریوال کو کرپٹ اور پیسے والے لوگوں کی بات نہیں سننی چاہئے۔ گرگ نے لکھا ہے کہ کرپشن کے بارے میں پارٹی الگ الگ پیمانے کیوں اپنا رہی ہے۔ امیر لیڈروں کو ترجیح دی جارہی ہے جبکہ غریب لیڈروں کو درکنارکیا جارہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے گرتے گراف کا ایک ثبوت ملا ہے جب ای رکشا معاملے پر بدھوار کو جنتر منتر پر ایک ریلی ہوئی جو بہت ہی کمزور رہی۔ عالم یہ رہا کہ اس بار پانچ ہزار سے بھی کم لوگ آئے جبکہ پہلے پارٹی کی ریلی میں ہزاروں لوگ شامل ہوا کرتے تھے۔ اس سے کیجریوال سے لوگوں پر بھروسہ بھی ختم سا ہونے لگا ہے۔
(انل نریندر)

12 اکتوبر 2014

بھارتیہ سینا کو کھلی چھٹ دیکر مودی سرکار نے دلیرانہ کام کیا ہے!

پردھان منتری نریندر مودی نے جس پر اعتمادی کے ساتھ کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے چل رہی مسلسل گولہ باری کا آتنک جلد ہی ختم ہوجائے گا، رنگ لانے لگا ہے۔ بھارت کے کڑے رخ سے پاکستان بیک فٹ پر آگیا ہے۔ بی ایس ایف نے جس موثر طریقے سے پاک رینجرس کی گولہ باری کا جواب دیا ہے اس سے پاک فوج پیچھے ہٹنے لگی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف پر سرحد پر جاری جھڑپ کو جلد سے جلد ختم کرنے کا زبردست دباؤ ہے۔پاکستانی رینجرس کو یہ امید ہی نہیں تھی کہ اس کی طرف سے توڑے گئے سیز فائر کا بی ایس ایف جوانوں کے ذریعے اتنا کڑا جواب دیا جائے گا۔اب بھی سرحد پر بھارت کے جوانوں کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ اس کے مد نظر نواز شریف نے اپنے افسران کی ایک بیٹھک بلائی اور بارڈر پر فائرننگ روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تب ممکن ہوا جب پردھان منتری نریندر مودی نے بی ایس ایف اور بھارتیہ سینا کے کمانڈروں سے صاف کہا کہ آپ جوابی کارروائی کرنے کیلئے آزادہیں اور سرکار آپ کو کھلی چھوٹ دیتی ہے۔آپ نہ تو پیچھے ہٹیں اورنہ ہی دیش کا سر جھکنے دیں۔ میرا خیال ہے کہ 1971ء کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتیہ لیڈر شپ نے فوج ونیم فوجی دستوں کو سخت سے سخت جوابی کارروائی کرنے کی چھوٹ دی ہے۔ ہم نے یوپی اے سرکار کے وقت دیکھا کہ منموہن سنگھ سرکار اینڈ کمپنی میں اتنی ہمت نہیں ہو سکی کہ وہ پاکستان کو معقول جواب دینے کی قوت رکھیں۔ پاکستانی ہمارے جوانوں کے سر کاٹ کر لے گئے، ان سے فٹبال کھیلا، ہم شانت رہے اور دوستی کا پیغام دیتے رہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اس سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسیز نے پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کی قوت تو تھی پر سیاستدانوں نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔ جھوٹ بولنا پاکستان کی فطرت میں ہے یہ ان کی پرانی عادت ہے۔ جھوٹ بول کر ہمدردی بٹورنے کی کوشش میں پاکستان آدھے ادھورے حقائق اپنے عوام کے سامنے پیش کررہا ہے۔ سرحد پر گولہ باری میں منگلوار کے تئیں بھارتیہ فوج کے جواب میں پاکستان کے 15 لوگ مارے گئے۔ ان میں پاک رینجرس بھی شامل تھے۔پاک ریڈیو نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اکسانے کی کارروائی کرتے ہوئے کی گئی گولہ باری میں کل 9 لوگ مارے گئے اور قریب33 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستانی سرکاری مشینری یہ بھی دعوی کررہی ہے کہ بھارت نے اس وقت فائرننگ کی جب وہاں عید کی نماز ہورہی تھی۔یہی نہیں کہ سرحد کی جنگ میں پاکستان کو منہ کی کھانی پڑی بلکہ اس کے ذریعے کشمیر مسئلے کو بین الاقوامی بنانے میں بھی اسے منہ کی کھانی پڑی۔ سرحد پر گولہ باری کرکے ان کے اقوام متحدہ پہنچے پاکستان کو وہاں بھی منہ کی کھانی پڑی ہے۔ پاک کی جانب سے یہ مدعا اٹھانے پر بھارت نے دو ٹوک کہا کہ ان کی سینا اکساوے کی ہر کارروائی کا کرارا جواب دے گی۔پاکستان کے منصوبوں پر پانی پھیرتے ہوئے اقوام متحدہ نے بھی کہہ دیا کہ دونوں دیشوں کو التوا میں پڑے مسئلے آپس میں بات چیت سے سلجھانے ہوں گے۔یہ آپسی معاملہ ہے جس میں اقوام متحدہ دخل نہیں دے گا۔ مودی سرکار نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان سے تب تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی جب تک وہ سرحد پر اپنی فوجی سرگرمیوں کو بالکل نہیں روکتا۔اب بھارت پاکستان سے کوئی بھی بات چیت اپنی شرطوں پر ہی کرے گا اور کشمیر کو بین الاقوامی مدعہ نہیں بننے دے گا۔ بیشک بھارتیہ فوج کی جوابی کارروائی کا خمیازہ پاکستان میں بھی وہاں کے بے گناہ شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہوگا لیکن سوچئے کہ اس کیلئے اصل میں ذمہ دار کون ہے؟ ہم لمبے وقت سے بارڈر پر تناؤ بھرے حالات سے گزر رہے ہیں اور پاکستان بنا بات کے جب بھی چاہے تناؤ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اب بھارت کی بڑی آبادی بھی یہی چاہتی ہے کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے اور مودی سرکار سے بھارت کے عوام کو کچھ امیدیں بھی ہیں۔ آخرکار مودی نے بنا دیر کئے فوج کو پاک حرکتوں کے خلاف کڑے قدم اٹھانے کے لئے کھلی چھوٹ دے کر پاکستان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی اکساوے والی حرکتوں سے باز آئے نہیں تو نتیجے بھگتنے کے لئے تیار رہے۔ مودی سرکار نے بھارتیہ فوجیوں کو چھوٹ دے کر پاکستان کو معقول جواب دینے کی چھوٹ دے کر ایک با ہمت قدم اٹھایا ہے اور اس کا خمیازہ بھی پاکستان کو بھگتنا پڑا ہے۔
(انل نریندر)

چینی پٹاخوں کی وجہ سے 10 لاکھ لوگوں کا مستقبل خلا میں!

دیوالی کے دن دیش بھر کے گھروں میں خوشیاں بانٹنے کا کام کرنے والے تاملناڈو کے شیوکاسی قصبے کے 5 لاکھ خاندان کے گھروں میں اس سال دیوالی میں خوشیاں ندارد ہوں گی۔ وجہ ہے چین سے آنے والے سستے پٹاخے ،جنہوں نے ان کی خوشیوں پر گرہن لگادیا ہے۔ تاملناڈو فائر ورکس مینو فیکچرر ایسوسی ایشن شیو کاسی کے صدر جی ادھونی نے کہا کہ دو سال پہلے چینی پٹاخوں کی غیر قانونی طور پر درآمد ہورہی تھی۔لیکن اس سال یہ بہت بڑے پیمانے پر ہوئی ہے جس کی وجہ سے دیش کی پٹاخہ صنعت پر سنکٹ کے بادل گہرا گئے ہیں۔ سا سال لگ بھگ 35 فیصدی پٹاخے بک نہیں پائے کیونکہ ان کی جگہ پر غیر قانونی طور سے بھارت پہنچے چینی پٹاخوں نے لے لی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 6 ہزار کروڑ روپے کی بھارتیہ پٹاخہ صنعت ان چینی پٹاخوں کی وجہ سے سنکٹ کے دور سے گزرنے پر مجبور ہے۔ صنعت کے افسران نے شکایت کی ہے کہ مرکزی سرکار نے پہلے تو کہا تھا کہ غیر قانونی طور پر چینی پٹاخے بھارت میں لانے والوں کے خلاف انتباہ کے طور پر اخبارات میں اشتہارات چھپوائے جائیں گے لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ چینی پٹاخوں کی اسمگلنگ کی شکایت پر سرکار نے کہا ہے کہ غیر ملکی پٹاخے بھارت لانا غیر قانونی ہے۔ انہیں بیچنا یا انہیں اپنے پاس رکھنا جرم ہے۔ اس کے لئے بھی سزا ہوسکتی ہے۔ اس سے کچھ دن پہلے ہی مدراس ہائی کورٹ نے دیش میں چینی پٹاخوں کی اسمگلنگ اور فروخت کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کے احکام دئے تھے۔ تاملناڈو فائر ورکس مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن نے چینی پٹاخوں کی تسکری کا مدعہ فائننس منسٹر نرملا سیتا رمن کے سامنے اٹھایا تھا۔ ایسوسی ایشن کا دعوی ہے کہ غیرملک میں بن رہے پٹاخے بڑی تعداد میں اسمگلنگ کے ذریعے بھارت پہنچ گئے ہیں۔ اس کا اثر بھارتیہ پٹاخہ صنعت میں لگے 10 لاکھ کامگاروں پر پڑ رہا ہے۔کاروبار بھی 35 فیصد تک گھٹا ہے۔ ادھر لکھنؤ شہر کے قاضی اور پیش امام عید گاہ مولانا خالدرشید فرنگی محلی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چین میں بنے سامان کا بائیکاٹ کریں اور سوشل میڈیا سے اس بائیکاٹ کا پرچارکریں۔ عید الاضحی کی نماز سے پہلے مولانا فرنگی محلی نے سبھی بھارتیوں خاص کر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ چین کی مصنوعات سے بچیں۔ چین کو معاشی جھٹکا دے کر اسے سبق سکھائیں۔ مولانا نے کہا کہ کھلونے اور چین کی دوسری مصنوعات دیش کی چھوٹی اور گھریلوصنعتوں کے لئے خطرہ بن گئی ہیں۔ اس وجہ سے کئی چھوٹی اور گھریلو صنعتی بند ہوچکی ہیں۔ چین کی مصنوعات نے ہماری چھوٹی اور گھریلو صنعتوں میں کام کررہے کئی بھارتیوں کی روزی روٹی کے لئے سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے۔ایسی حالت میں چین کو سبق سکھانے کے لئے ضروری ہے کہ اسے معاشی جھٹکا دیا جائے کیونکہ بھارت دنیا میں سب سے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے۔ پٹاخے تو الگ ہیں اب تو چین بھارتیہ بھگوانوں کی مورتیاں تک بنا کر بھارت کے بازاروں میں بیچ رہا ہے۔ امید ہے کہ مرکزی سرکار اسے روکنے کے لئے موثر قدم اٹھائے گی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...