Translater

19 اکتوبر 2024

جھارکھنڈ میں دونوں جے ایم ایم اور بھاجپا کیلئے چنوتی!

جھارکھنڈ اسمبلی چناو¿ کا سرکاری طور پر اعلان بھلے ہی ہو گیا ہو لیکن چناوی بساط پر شہ مات کا کھیل پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے ۔ای ڈی کی کاروائی کے سبب ہیمنت سورین کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور وہ تقریباً پانچ ماہ جیل میں رہے ۔واپسی کے بعد انہیں اپنی پارٹی میں اتھل پتھل کا احساس ہوا ۔وقت رہتے ہی انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ۔کچھ وقت بعدبھاجپا نے ان کے بھروسہ مند سابق وزیراعلیٰ چمپائی سورین کو توڑ لیا ۔ہیمنت پر فی الحال پورے اتحاد کی قیادت کا دارومدار ہے ۔سہولیت کے حساب سے وہ ساتھی کانگریس آر جے ڈی اور لیفٹ پارٹیوں کے ساتھ مل کر چناو¿ لڑرہے ہیں ۔ہیمنت کی چنوتی پھر اقتدار میں واپسی کی ہے ۔منفی حالات میں جیت دلانے کے ماہر مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان اور آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت وسوا شرما کو ریاست میں پارٹی کے چناو¿ کی کمان سونپنے سے ہی یہ صاف ہو جاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاستی سطح پر اقتدار حاصل کرنے کو لے کرکافی سنجیدہ ہے ۔ویسے بھاجپا کے لئے آسان نہیں ہے جیت حاصل کرنا اور اقتدار میں واپسی کے لئے پوری طاقت لگا رہی بھاجپا کے سامنے دونوں جے ایم ایم سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے جیل جانے اور باہر آنے کے دوران ان کی بیوی کلپنا سورین نے ریاست کی سیاست میں اپنی گہری پکڑ بنائی ہے ۔ان کے پروگرامون میں کافی بھیڑ اکٹھی ہوئی ۔عورتوں کی حمایت جے ایم ایم کے لئے فائدہ مند سودہ ہوسکتا ہے ۔وہیں بھاجپا کو آجسو اور جے ڈی یو کے ساتھ اپنے اتحاد کے سبب اقتدار میں لوٹنے کا بھروسہ ہے ۔ساتھ ہی وہ آدی واسی فرقہ میں بھی حمایت حاصل کررہی ہیں ۔جھارکھنڈ اسمبلی چناو¿ میں اس بار بھاجپا اتحادی پارٹیوں جے ڈی یو اور آجسو کے ساتھ مل کر میدان میں اتری ہیں ۔پارٹی کو پچھلی بار کے مقابلے میں زیادہ فائدہ کی امید ہے کیوں کہ تب سب الگ الگ لڑے تھے اس بار بھاجپا کو نقصان ہوا تھا اور اس وقت کے وزیراعلیٰ رگھور داس کی غیر آدی واسی سیاست پر زور دینے سے بھی بھاجپا کو نقصان ہوا تھا ۔یہ نقصان بھاجپا کو حال کے عام چناو¿ میں اٹھانا پڑا ۔اس بار بھاجپا کے لئے زیادہ آسان ہوگا ۔ہریانہ میں بھاجپا کو ملی جیت کا اثر جھارکھنڈ میں بھی پڑسکتا ہے او مخالف خیمے میں بھروسہ کم ہوا ہے اور جے ایم ایم کے رہنمائی والے حکمراں اتحاد کی امید وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے کرشمہ پر ٹکی ہے ۔ضمانت پر باہر آنے کے بعد پھر سے وہ سرکار کی باغڈور سنبھالنے کے بعد سے ہیمنت نے تمام برادری کے ووٹ بینک کو ساتھ لینے کی پہلی کی تھی وہیں بھاجپا نے او بی سی ووٹ بینک کو اپنے پالے میں اور جے ایم ایم کے آدی ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کی سیاست بنائی ہے ۔وہیں جے ایم ایم کی سیاست میں آدی واسی ووٹ بینک کو شیشہ میں اتارنے کی بھاجپا کوشش کررہی ہے اور ووٹ بینک میں سیندھ لگانے پر کام کررہی ہے ۔پارٹی کو لگتا ہے کہ اس میں کانگریس اور آر جے ڈی مددگار ثابت ہوں گے ۔ (انل نریندر)

مہایوتی بنام مہاوکاس اگھاڑی !

پچھلے پانچ برسوں میں مہاراشٹر کی سیاست میں غیر متوقع اتھل پتھل ہوئی ہے۔ریاست کی عوام نے کئی بار سیاسی جھٹکے دیکھے ہیں لیکن کیا جنتا ان جھٹکوں کو پچا پائی یہ آنے والے ہفتوں میں صاف ہو جائے گا ۔چناو¿کے اعلان کے ساتھ ریاست میں چھ بڑی سیاسی پارٹیوں کا امتحان شروع ہو چکاہے ۔مہاراشٹر میں 288 سیٹوں پر اسمبلی چناو¿ ہونے جارہے ہیں ۔2019 سے 2024 تک پانچ سال کی میعاد مہاراشٹر کی سیاست میں غیر متوقع واقعات کا دور رہا ہے ۔اس بار چناو¿میں دو نئی پارٹیاں نظر اائیں گی ۔دراصل یہ دونوں نئی پارٹیاں پچھلی بار چناو¿ لڑ چکی دو پارٹیوں سے الگ ہو کر بنی ہیں ۔پچھلے پانچ برسوں کے سیاسی واقعات کی وجہ سے ان پارٹیوں کا قیام ہوا ۔مہاراشٹر اسمبلی میں شیو سینا سندھے گروپ کے پاس چالیس ممبر اسمبلی ہیں جبکہ بی جے پی کے پاس 103 ممبران ہیں اور این سی پی اجیت پوار کے پاس 40 ممبر اسمبلی ہیں ۔دوسری جانب مہاوکاس اگھاڑی میں این سی پی (شردپوار) کے پاس 13 ایم ایل اے ہیں ،شیو سینا (ادھو ٹھاکرے کے ساتھ 15 ممبر اسمبلی ہیں اور کانگریس کے 43 ممبران ہیں ۔اس کے علاوہ ریاست میں بہوجن وکاس اگھاڑی کے تین ،سماج وادی پارٹی کے دو اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے دواور جن شکتی کے دو ،ایم این ایس کے ایک کمیونسٹ پارٹی اور باقی چار سیاسی پارٹی سماج وادی پارٹی مہاراشٹر جن شرن شکتی پارٹی کے ایک کرانتی کاری پارٹی کے ایک اور آزاد 13 ممبر اسمبلی ہیں ۔2019 کا اسمبلی چناو¿ شیو سینا اور بھاجپا اتحاد نے مل کر لڑا تھا ۔دوسری جانب کانگریس اور این سی پی اتحاد نے بھی ساتھ مل کر چناو¿ لڑا تھا ۔اسمبلی چناو¿ کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں دونوں اتحادوں ،حکمراں مہایوتی اور مہاوکاس اگھاڑی کی چنوتیاں بڑھ گئی ہیں ۔مہایوتی کی جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کی ہے تو ایم وی اے کے سامنے لوک سبھا چناو¿ کی پرفارمنس بنائے رکھتے ہوئے گزشتہ دو چناو¿ سے جاری سوکھا ختم کرنے کی ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھاجپا کے رہنمائی والے مہایوتی مہاراشٹر میں ہریانہ جیسا معجزہ دہرائے گی ۔یا پھر ایم وی اے ہریانہ کی ہار سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار بازی مار جائے گی؟ لوک سبھا چناو¿ کے نظریہ سے دیکھیں تو مہاراشٹر اور ہریانہ میں کئی یکسانیت نظر آئیں گی ۔ہریانہ میں پانچ سیٹیں چھیننے والی کانگریس کو بھاجپا سے محض ڈیڑھ فیصدی زیادہ ووٹ ملے تھے ۔مہاراشٹر میں مہایوتی کو 17 سیٹوں پر محدود کرنے والے ایم وی اے کو محض 0.16 فیصدی ووٹ زیادہ ملے تھے ۔دونوں ہی ریاستوں میں بھاجپا کی رہنمائی والے این ڈی اے کو او بی سی دلت ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کا نقصان اٹھانا پڑا۔حالانکہ ہریانہ اسمبلی چناو¿ میں جیت کی ہیٹ ٹرک لگا کر بھاجپا نے کانگریس سے حساب کتاب برابر کر لیا ۔مہاراشٹر میں لوک سبھا چناو¿ میں لگے جھٹکے سے نکلنے کے لئے مہایوتی کی نگاہیں کھسک چکے چالیس فیصدی او بی سی اور دس فیصدی دلت ووٹ بینک پر ہے ۔جس کی ناراضگی کی قیمت عام چناو¿ میں اٹھانی پڑی تھی ۔دوسری جانب مہا وکاس اگھاڑی ای میں شردپوار جیسے چانکیہ مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں ۔راہل گاندھی نے بھی ہریانہ کی ہار سے سبق سیکھا ہے ۔پارٹی ٹوٹنے کے باوجود چناو¿ نشان چھننے کے بعد جب ادھو ٹھاکرے اپنی جڑیں جمائے ہوئے ہیں اور ان کی مقبولیت بھی سامنے ہے ۔اس چناو¿ میں شکتی پارٹی کا بھی فیصلہ ہوگا ۔لوک سبھا چناو¿ میں این سی پی (اجیت پوار ) کو صرف ایک شیٹ ملی تھی ۔وہیں شردپوار گروپ کو آٹھ سیٹیں ملی تھیں تو شیو سینا 4 اور شیو سینا سندھے نے 7 سیٹیں جیتی تھیں ۔ (انل نریندر)

17 اکتوبر 2024

اتر پردیش کے ضمنی چناﺅ سبھی کے لئے چنوتی!

لوک سبھا انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد اتر پردیش کی 10 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی چناﺅ ہونے والے ہیں جو سبھی سیاسی پارٹیوں کے لئے چنوتی بھرے ہیں ۔ہریانہ میں غیر متوقع کامیابی سے خوش بھاجپا کے سامنے اب جھارکھنڈ و مہاراشٹر کے اسمبلی چناﺅ کے ساتھ یو پی میں ہونے والے 10 اسمبلی حلقوں میں ضمنی چناﺅ بھی بڑی چنوتی ہیں یاد رہے کے لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا کو اتر پردیش سے ہی بڑا جھٹکا لگا تھا اس کی وجہ سے وہ اپنے دم پر واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی جن 10 اسمبلی سیٹوں پر چناﺅ ہونے ہیں ان میں 9 سیٹیں ممبران اسمبلی کے لوک سبھا ایم پی بن جانے سے خالی ہوئی ہیں۔جبکہ سسماﺅ کی ایک سیٹ پر چناﺅ سپا ایم ایل اے عرفان سولنکی کی ممبر شپ ختم ہونے سے ہو رہا ہے ان 10 سیٹوں میں سپا کے پاس 5 بھاجپا کے پاس 3 اور دو سیٹیں اس کی ساتھی پارٹیوں آر ایل ڈی وی نشاد پارٹی کے پاس ہیں ۔اس میں ایودھیا کی انتہائی اہم سیٹ ملکی پوربھی شامل ہیں بھاجپا کے کے ایک سینئر لیڈر نے کہا اسمبلی چناﺅ میں عام طور پر مقامی مسلوں و و سماجی تجزیوں سے متاثر ہو تا ہے ایسے میں ان کو لوک سبھا چناﺅ کے نتیجوں سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا اب ہریانہ سے نکلا جاٹ بمان غیر جاٹ او بی سی کا یہ نریٹیوآگے بڑھتا تو بھاجپا کی پریشانی بڑھائیگا ۔دراصل بھاجپا کو خاص طور پر یوپی میں اپنی زمین مضبوط بنائے رکھنا وہیں بھاجپا ہریانہ کی طرح یادو بنام دیگر او بی سی نہیں کر سکتی کیوں کے یادو کا قریب قریب ایک مشت ووٹ سپا کے حمایت میں رہتا ہے مگرسپا کانگریس اتحاد جاٹوں کے ساتھ دلت اور مسلم تجزیہ بناتے ہیں تو بھاجپا کی راہ پتھریلی ہو جاتی ہے دیگر او بی سی میں سیند لگاکر سپا نے مشرقی یوپی میں بھی لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا کا نقصان کر دیا ۔ویسے سی ایم یوگی بٹیں گے تو کریں گے والا بیان اس کوشش کا حصہ ہے وہیں بھاجپا او بی سی سیل کے ریاستی صدر و یوگی سرکار کے بیکورڈ بہبود وزیر نریندر کشپ کو یقین ہے کے جاٹ ناراض نہیں ہے بھاجپا کو آر ایل ڈی سے اتحاد کا بھی فائدہ ملے گا ادھر یہ ضمنی چناﺅ انڈیا اور خاص کر سپا اور کانگریس کے لئے بڑی چنوتیاں پیش کریں گے کانگریس نے 10 سیٹوں میں سے 5 پر دعویٰ کیا ہے ادھر اکھلیش یادو نے بھی 6 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کے نام اعلان کر دئے ہیں اب سب کی نگاہیں اس بات پر لگی ہیں کانگریس اور سپا کے درمیان سیٹوں کے بٹوارے پر رضا مندی ہوتی ہے یا نہیں اکھلیش نے تو اعلان کر دیا ہے کے یوپی میں سپا کانگریس اتحاد جاری رہے گا ۔ہریانہ نتیجوں کے بعد کانگریس کی سودے باری کرنے کی پوزیشن اب مضبوط نہیں ہے ہمیں لگتا ہے کے سیٹ بٹوارے میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی لوک سبھا میں غیر متوقع کامیابی کے بعد اکھلیش کے سامنے یہ 10 ضمنی اسمبلی چناﺅ سیٹیں جیتنے کی بھاری چنوتی ہے ۔دوسری طرف وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کا بھی سیاسی مستقبل اس چناﺅ پر ٹکا ہوا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے دہلی ان کو ہٹانا چاہتی ہے وہ دیکھ رہی ہے کے یوپی کے ضمنی چناﺅ کے نتیجے کیا آتے ہیں ۔ان ضمنی چناﺅ میں جہاں مودی شاہ ،یوگی کی عزت داﺅ پر لگی ہے وہیں انڈیا اتحاد ،اکھلیش یادو اور کانگریس کی ساکھ بھی داﺅ پر لگی ہے۔ (انل نریندر)

بابا صدیقی کے قتل کی ٹائیمنگ کا سوال!

مہاراشٹر کے سابق وزیر اور اجیت پوا ر کی پارٹی راشٹر وادی کانگریس کے سینئر لیڈر بابا صدیق کا اتوار کو سرکاری احترام کے ساتھ ممبئی کے بڑا قبرستان میں دفنایا گیا ۔بابا صدیق کے آخری صفر کے پہلے ان کے گھر کے باہر نماز جنازہ پڑھی گئی اور آخری صفر میں ہزراوں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے تھے ان معاملے میں سنیچر کی رات گرفتار ہوئے دو لوگوں میں سے ایک شوبھم لونکر کے بھائی پروین لونکر کو پونے سے گرفتار کیا گیا ۔مانا جاتا ہے پروین نے اپنے بھائی شوبھم لونکر کے ساتھ ملکر شازش رچی تھی ۔لونکر نے ہی دھرم راج کشپ اور شیو کمار گوتم کو اس سازش میں شامل کیا تھا دھرم راج کشپ اور گرمیل سنگھ پولس حراست میں ہے تیسرا ملزم شیو کمار بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور چوتھے ملزم ذیشان اختر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کے وہ باقی تین کو گائد کر رہا تھا ۔بابا صدیقی کو گولی مارکر حلاق کرنے کے بعد مہاراشٹر میں قانون امن کی سورت حال پر سوال کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔ایک پریس کانفرنس میں کرائم برانچ کے پولس کمشنر دتہ نل واڈے نے کہا کے اس معاملے میں لارنس بشنوئی گروہ کے رول کی جانچ جاری ہے وہ اس وقت احمد آباد کی سابر چتی جیل میں ایک سال سے بند ہے ۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کے وہ اتنی دور سے وہ بھی انتہائی سیکورٹی جیل سے لارنس بشنوئی ایسے خطرے بھرے قتل کانڈ کو کیسے انجام دلا سکتا ہے ؟۔ کیا لارنس بشنوئی محض ایک وی آئی پی شخص ہے اور اس کے پیچھے اصل چہرا اور سازش چھپی ہوئی ہے ؟۔ بابا صدیق کے قتل کے بہت بڑے معنی ہیں ۔اور اس کا چوطرفہ اثر ہو سکتا ہے ۔ہریانہ میں بی جے پی کے جیت کے بعد مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی چناﺅ کے لئے بڑے جوش کے ساتھ بی جے پی اور این ڈی اے کو اس قتل نے ڈیفنس کی پوزیشن میں لا دیا ہے ۔دونوں ریاستوں میں اگلے ماہ چناﺅ ہونے ہیں ۔چناﺅ سے ٹھیک پہلے اس قتل کے سیاسی معنی کے علاوہ جرائم کے نظریہ سے بھی بڑا مطلب ہے کیا لارنس بشنوئی ،داﺅد ابراہیم کی راہ پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے ؟ ممبئی میں پھر کیا 90 کی دہائی کی گینگ وار کے حالات پھر سے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔دسہرے کے دم ادھوٹھاکرے اور وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے ممبئی کے دو بڑے میدانوں میں الگ الگ بڑی ریلیاں کی اس کے تھوڑی دیر بعد باندھرا جیسے علاقہ میں بابا صدیقی کے قتل کی واردات ہوتی ہے اس کا اثر دہلی میں بھی محسوس کیا گیا ۔ملکا ارجن کھڑگے ،راہل گاندھی سے لیکر شرد پوار ،ادھوٹھاکرے ،سنجے راوت تک حملہ آور ہو گئے ۔بابا صدیقی 3 مرتبہ کانگریس کے ایم ایل اے رہے تھے اور ریاستی حکومت میں وزیر بھی رہہ چکے تھے 6 ماہ پہلے ہی اجیت پوار گروپ میں شامل ہوئے تھے بابا اور دیگر کچھ نیتاﺅ سے صلاح لیکر اجیت پوار اسمبلی نے کچھ مسلم لیڈروں کو ٹکٹ دینا چاہتے تھے مقصد تھا مسلم فرقہ میں اپنا سندیش دینا لیکن اب الٹا پیغام چلا گیا۔قانون و انتظام پر اپوزیشن کے نشانے پر دیوندرفڑنویس جو وزیر داخلہ ہیں چناﺅ سر پر آ گیا ہے اس واردات پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے ۔کے قتل کی ٹائیمنگ پر غور کریں کے ٹھیک اسمبلی چناﺅ سے پہلے بابا صدیقی کے قتل سے کن طاقتوں کو فائدہ ہوگا؟ سوال مہاراشٹر پولس پر بھی اٹھ رہے ہیں ۔دوسری طرف لارنس بشنوئی جیسے گروہ کی طرف سے مسلسل واردات کرنے سے دیش اور ریاستوں کی خفیہ مشینری کے علاوہ پولس و دیگر ایجنسیوں پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

15 اکتوبر 2024

جیلوں میں ذات بات کا امتیاز !

جیلوں میں ذات بات کے امتیاز کو ختم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی جتنی تعریف کی جائے اتنی ہی کم ہے اس رپورٹ یا عرضی کی بھی تعریف ہونی چاہئے جس نے سدیوں سے چلی آ رہی امتیاز کی اس لعنت پر حملہ کرنے کی حمت دکھائی ۔سپریم کورٹ نے دیش بھر کی 11 ریاستوں میں جیل مینول میں ذات پر مبنی امتیاز والی تقاضوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کے آزادی کے 75 برس گزر چکے ہیں لیکن ہم ابھی تک ذات بات پر مبنی امتیاز کو جڑ سے ختم نہیں کر پائے ۔تاریخی فیصلے میں جیلوں میں ذات کی بنیاد پر قیدیوں کے درمیان کام کے بٹوارے پر آنے والی پریشانیوں کا نپٹارہ کرتے ہوئے امتیازی قوائد کو ختم کر دیا جائے بڑی عدالت نے جیل مینول کے ان تقاضوں کو منسوخ کرتے ہوئے سبھی ریاستوں کو فیصلے کے مطابق جیل تقاضوں میں تبدیلی کی ہدایت دی ہے۔جیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ،جسٹس پاردی والا و جسٹس منوج مشرا کی بینچ نے کہا امتیاز کرنے والے سبھی قائیدے غیر آئینی ٹھہرائے جاتے ہیں جیل میں ذات بات کا خد نوٹس لیتے ہوئے رجسٹری کو 3 مہینے بعد لسٹ میں اندراج کی ہدایت دی اس فیصلے کو سوناتے ہوئے چیف جسٹس نے لیڈی صحافی سوکنیا شانتا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کی شانتا میڈم آپ کے تحقیقی آرٹیکل کے لئے بہت بہت شکریہ آپ کی آرٹیکل سے ہی معاملے کی سماعت شروع ہوئی پتا نہیں اس آرٹیکل کے بعد حقیقت کتنی بدلی ہوگی لیکن ہمیں امید ہے کے اس فیصلے سے جیلوں میں امتیاز کے حالات ختم ہوں گے ۔جب لوگ آرٹیکل لکھتے ہیں ریسرچ کرتے ہیں اور معاملوں کو عدالت میں لاتے ہیں اس طرح سے سماعت کی اصلیت دکھا سکیں تو ہم اس مسلوں کو نپٹا سکتے ہیں یہ سبھی کارروائیاں قانون کی طاقت کو نشان دیہی کرتی ہیں سوکنیا شانتا دا وائر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لئے کام کرتی ہے انہوںنے بھارت کی مختلف ریاستوں میاں جیلوں میں ذات پات پر امتیاز پر رپورٹنگ کی ایک سیریز دکھائی اس میں انہوںنے قیدیوں کو ذات پات کی بنیاد پر دئے جانے والے کام اور ان کے ساتھ امتیاز جیسے کئی اہم مسلوں کو مکمل طور پر اجاگر کیا اس سیریز کے جاری ہونے کے بعد راجستھان ہائی کورٹ نے بھی از خود نوٹس لیا اس کے بعد سوکنیا نے سپریم کورٹ کا رخ کیا اور فیصلہ آپ کے سامنے ہے سرکاری دستاویزارات میں ذات کا نام لکھنا ضروری ہے قانون میں ترمیم کر اس طرح کے امتیاز کو ختم کرنے میں سرکاریں کتراتی ہیں کیوں کہ ذات پر مبنی سیاست کرنے میں یہ ماہر ہیں اس لئے ان کی ترجیحات میں انگریزوں کے بنائے قوائد کو میں اصلاح نہیں کرتی سیکولر ملک ہونے کے باوجود ہم آج تک ذات پات اور دقیا نوسی کے جال سے نکلنے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں ۔جرائم پیشہ کو سزا بیشک عدالت دیتی ہے لیکن قید کے دوران ان کے ساتھ کئے جانے والا جیل حقام کا برتاﺅ بھی کئی مرتبہ جانب دارانہ ہوتا ہے یہ صلاح صرف جیل قوائد تک ہی محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ ہر طرح کے اصلاحاتی قدم پورے سماج میں لاگو کئے جانے کی ضرورت ہے یہ چھواچھوت یا ذات پر مبنی امتیاز سے سماج کو آزاد کرانے کی ضرورت ہے ۔عدالت نے یہ پہل کر دی ہے۔ (انل نریندر)

ہریانہ چناﺅ کس پر دباﺅ کم ہوا کس پر بڑھا!

ریزرویشن اور آئین پر خطرے کو لیکر اپوزیشن کی بنائے شوشے کے سبب لوک سبھا چناﺅ میں پہنچے نقصان کے بعد ہریانہ کے نتیجے نریندر مودی اور بھاجپا کے لئے سنجیونی سے کم نہیں ہیں۔ہریانہ میں جیت کی ہیٹرک اور جموں کشمیر میں پہلے مقابلے بہتر مظاہرے سے نہ صرف مودی پر دباﺅ کم ہوگا بلکہ پارٹی کا بھروسہ بھی بڑھےگا ۔مودی جی پر پچھلے کچھ عرصے سے دباﺅ مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات اور اپوزیشن کے تلخ حملے اور آر ایس ایس کی طرف سے بڑھتی تنقید ۔مودی ان سب کئی محاذ پر ایک ساتھ لڑ رہے تھے ۔ہریانہ کے چناﺅ نتائج اور اگر بھاجپا کے خلاف آتے تو سنگھ کا مودی شاہ جوڑی پر اور دباﺅ پڑتا ۔اور پردیش صدر کی تقرری کو لیکر مودی سرکار کی پالیسیوں کو لیکر جو حملے ہو رہے تھے ان میں تیزی آ جاتی ۔مودی برانڈ پر بھی سوالیہ نشان لگنے شروع ہو گئے تھے پارٹی کے اندر یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا تھا کے اب مودی برانڈ چناﺅ میں ہی چلا ہریانہ کے نتیجوں سے نہ صرف قیاس آرایﺅں اور نقطہ چینیوں پر روک لگی پلے اگلے کچھ مہینوں میں مہاراشٹر اور جھارکھنڈ چناﺅ کے علاوہ یوپی میں اہم مانے جانے والے 10 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی چناﺅ پر بھی اثر پڑیگا ۔وہیں دوسری طرف راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کی ہار کی وجہ سے ان پر دباﺅ پڑیگا ۔راہل گاندھی جیت کے دعوے کر رہے تھے ۔ووٹنگ سے 5 دن پہلے انہوںنے ایکس پر لکھا کے ہریانہ میں درد کی دہائی کا خاتمہ کرنے کے لئے کانگریس پارٹی پوری طرح سے متحد ہے۔اور یہ دعوے کتنے کھوکھلے نکلے نتیجوں نے بتا دیا کئی تجزیہ نگار نے اس ہار کو راہل گاندھی کی اپنی ہار بتایا ہے لیکن ہمارا ایسی رائے نہیں ہے ۔راہل گاندھی نے ایماندری سے پوری طاقت لگائی لیکن نہ تو مقامی لیڈروں نے ساتھ دیا اور نہ ہی تنظیم نے ۔اب راہل ریلی میں آئی بھیڑ کو پولنگ بوتھ تک تو نہیں لے جا سکتے تھے لیکن بھلا ہو راہل اور کانگریس انڈیا اتحاد میں سودے بازی کی پوزیشن میں ضرور آ گئی ہے ۔ہونا بھی یہیں چاہئے تھا ۔کیوں کہ کانگریس کو بہت ذیادہ غرور ہو گیا تھا ۔اسے اب پارٹی اور سپا کو ساتھ ہریانہ میں رکھنا چاہئے تھا اہروال گڑ میں اکھلیش کی ایک دو ریلیاں کرنی چاہئے تھی اس ہار سے راہل پرینکا اور سونیا گاندھی کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہوگی کے پارٹی کے اندر بیٹھے جئے چندوں سے کیسے نپٹا جائے لوک سبھا چناﺅ میں ملی جیت کے بعد جس طرح اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک میں کانگریس کا رتبہ بڑھا تھا ہریانہ کی ہار سے اس پر پانی پھرتا نظر آ رہا ہے۔اس کی اتحادی پارٹی ہی اسے آنکھےں دکھانے لگی ہےں۔ادھر یوپی میں سپا نے ضمنی چناﺅ کے لئے اپنے 6 امیدواروں کے نام کا اعلان کر دیا ہے اس میں 2 سیٹیں وہ بھی ہیں جن پر کانگریس دعوی کر رہی تھی ۔اتحادی الزام لگا رہے ہیں جہاں کانگریس مضبوط پوزیشن میں ہوتی ہے وہاں اس کے ساتھیوں کو اڈجسٹ نہیں کرتی ہے ۔جموں کشمیر اور ہریانہ کے نتیجوں کا راہل کی قیادت پر کیا اثر پڑیگا یہ کہنا چلد بازی ہوگی ۔ابھی 2 ریاستوں کے چناﺅ باقی ہیں جن میں مہاراشٹر اور اور جھارکھنڈ شامل ہیں ان دوں ریاستوں میں راہل گاندھی کے سامنے چنوتی بڑھ گئی ہے اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کے کانگریس کا پلڑا ہلکا ہوا ہے ٹکٹ پٹووارے وغیرہ میں اتحادی پارٹیاں اب کانگریس کے علاوہ دباﺅ ڈال سکتی ہیں ۔کل ملاکر میں نے جیسے کہا نریندر مودی کی ساکھ بڑھی ہے ان پر دباﺅ کم ہوا ہے اور راہل گاندھی کی محنت کو دھکہ لگا ہے اور ان پر دباﺅ بڑھا ہے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...