Translater

22 ستمبر 2017

یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے پہلے 6 ماہ

اترپردیش کے وزیر اعلی کی حیثیت سے 6 مہینے کا عہدپورا کرنے پر یوگی آدتیہ ناتھ نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت نے بیتے 15 برس سے جاری پریوار واد اور ذات پرستی کی سیاست کو ختم کرکے نوجوان و کسان مرکوز سیاست کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس چھ مہینے میں جہاں پردیش میں صنعتوں میں سرمایہ کاری کا دوستانہ ماحول بنایا ہے وہیں جنگل راج کے خاتمے کے ساتھ ہی قانون کا راج قائم ہوا ہے۔ پچھلے چھ مہینے میں پردیش میں ایک بھی دنگا نہ ہونا ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا ان کے حلف لینے سے پہلے ریاست میں ہر ماہ اوسطاً دو دنگے ہوتے تھے۔ حالات یہ تھے کہ 2012-2017 کے درمیان جہاں دو بڑے دنگے ہوئے وہاں ہر ہفتے دو دنگوں کا ریکارڈ بنا رہا۔ ایک بار تو فسادیوں کو مکھیہ منتری رہائش پر سمانت کیاگیا لیکن ان کی سرکار نے چھ ماہ کے اندر جہاں قانون و انتظام بہتر بنایا وہیں عام جنتا میں سلامتی کا جذبہ جاگا ہے۔ چھ مہینے کا عہد پورا ہونے پر وزیراعلی نے پولیس کے ڈائریکٹرجنرل سلکھان سنگھ کی موجودگی میں پولیس کی جم کر پیٹھ تھپتھپائی۔ انہوں نے کہا چھ ماہ میں شاطر بدمعاشوں کے ساتھ ہوئی 431 مڈ بھیڑوں میں 17 خطرناک بدمعاش ڈھیر کئے گئے اور 1106 افراد گرفتار ہوئے، جن میں سے 668 پر انعام اعلان کیا ہوا تھا۔ ان مڈ بھیڑوں میں 88 جوان بھی زخمی ہوئے جبکہ ایک سب انسپکٹر جے پرکاش سنگھ کی موت ہوگئی۔ وہیں اپنے مجرمانہ اسٹیٹ کا فروغ دے کر پراپرٹی بنانے والے 69 بدمعاش گینگسٹر ایکٹ کے تحت اپنی پراپرٹی ضبط کروا بیٹھے ہیں۔ حقیقت میں دکھ سے کہنا پڑتا ہے تمام دعوؤں کے باوجود ترقی کی مد میں صرف تین فیصدی رقم ہی خرچ ہو پائی اور سرکاری خسارہ 3.5 فیصد رہ گیا۔ یہ ہی نہیں صوبے کے پبلک سیکٹر اداروں کا گھاٹا بڑھ کر 91 ہزار کروڑ روپے ہوگیا۔ کسانوں کی کے مسائل اور روزگار کے اشو پر کافی کچھ کہنے کے ساتھ ہی بتایا گیا تھا کہ یوگی سرکار کو وراثت میں بدامنی، غنڈہ گردی ، جرائم پیشہ اور کرپشن اور خوف کا ماحول ملا تھا۔ حقیقت میں اترپردیش اقتصادی ترقی اور جی ڈی پی انڈیکس کے معاملہ میں آج بھی پھسڈی ہے۔1980 کی دہائی میں اترپردیش و بہار، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ساتھ بیمارو ریاست کی تشبیہ دی گئی تھی۔ یہ تشبیہ اس کے لئے مستقل طور سے ایک علامت بن گئی۔ کل ملا کر اب بھی ترقی کے سوالوں کے جواب اترپردیش تلاش رہا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے 19 مارچ کو اقتدار سنبھالنے کے ساتھ بھاری چارہ اور شفافیت کو ترجیح دی جس کا اثر اب نظر آنے لگا ہے لیکن یوگی جی کو ابھی لمبا راستہ طے کرنا ہے۔ شروعات اچھی ہے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

400 سال پہلے ہوئی تھی رام لیلاؤں کی شروعات

دیش بھر میں اور راجدھانی دہلی میں رام لیلاؤں کی روایت بہت پرانی ہے۔ کانشی کی رام لیلا کا آغاز بنیادی طور پر دیش بھکتی کا جذبہ ہے۔ سمبت1800 میں سنت تلسی داس نے مغلوں کے خلاف اتحاد کے لئے رام لیلا کو ذریعہ بنایا تو 19 ویں صدی کی شروعات میں انگریزوں کے خلاف مورچہ بندی کے لئے 6 سے زیادہ رام لیلاؤں کا وجود عمل میں آیا۔ اس بار دہلی میں 500 سے زیادہ چھوٹی بڑی رام لیلاؤں کا انعقاد ہورہا ہے۔ راجدھانی کے تاریخی دسہرہ تہوار پر صدر اور وزیر اعظم سمیت غیر ملکی سفیر لیلاؤں کو دیکھنے آتے ہیں۔ دہلی شہر میں چار رام لیلائیں ایسی ہیں جو 400 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔ ان کے یہاں لیلا شری رام کے ون گمن سے شروع ہوتی ہے۔ سب سے پرانی رام لیلا شری چترکوٹ رام لیلا کمیٹی ہے جو اس بار 474 ویں رام لیلا منا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بابا کی رام لیلا ، راٹھ بھیرو اور 80 کی رام لیلا کی تاریخ 400 برسوں سے زیادہ پرانی ہے۔ سنت تلسی داس کے دوست میدھا بھگت نے سمبت 1600 میں شری چتر کوٹ رام لیلا کمیٹی بنائی تھی۔ تقریباً اسی وقت سنت تلسی داس نے 80 کے میدان میں رام لیلا کی شروعات کی۔ لیلاؤں کے شروع کرنے کے پیچھے تلسی داس کا مقصد عوام میں یہ جذبہ پیدا کرنا تھا کہ جس طرح رام کے عہد میں راون کا خاتمہ ہوا اسی طرح اتیاچاری مغل حکومت کا بھی خاتمہ ہوگا۔ دہلی کو گنگا جمنی تہذیب کا سنگم بھی کہا جاتا ہے جو یہاں نہ صرف بولی ،کھانے پینے اور پہناوے میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ یہیں نہیں رکتا ایک طر ف جہاں ذات پات اور مذہب کو لیکر لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں وہیں دہلی کی رام لیلاؤں میں ہندو ۔ مسلم اداکار بھائی بہن بن کر بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، یہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ لال قلعہ پر ہورہی نوشری دھارمک لیلا کمیٹی میں کمبھ کرن کا کردار نبھانے والے مجیب الرحمن کا کہنا ہے کہ اداکار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ جب جس شخصیت کا کردار کی ادا کاری کرتا ہے تب اسی کے مطابق وہ اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے۔ وہ ایک پیشہ ور ایکٹر ہیں اور حال ہی میں گوڑ گاؤں میں واقعہ کنگڈم آف تھیٹر میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے یہ صرف انہی کی نہیں بلکہ ان کی ماں کی بھی خواہش تھی کہ وہ پربھو شری رام کا کردار نبھائیں۔ اس کردار کو سمجھنے کے لئے وہ مندر بھی جاتے ہیں۔ لیلا کے دوران سارے قواعد کی تعمیل کرتے ہیں اور جن جن کے دل میں رام کی جتنی خوبیاں سمائے ہیں ، ان کی لیلا کا خاکہ اتنا ہی وراثتی ہے۔ راجدھانی دہلی کی سنسکرتی جس روایتی اقدار سے آج اتنی دھنی بنی ہے ان میں رام لیلا کا انعقاد سب سے اول ہے۔ تلسی کی لکھی رام چرت مانس سے نکلی ہر اننت آنے والے دنوں میں منچن پر کھیلی اور دکھائی جاتی ہے۔ رام لیلا منچن کا آغاز 21 ستمبر سے ہوگیا ہے۔ لال قلعہ کی مشہور لو کش رام لیلا میں منچن کے لئے بالی ووڈ ایکٹروں کا شامل ہونا خاص ہے۔ اس مرتبہ یہاں اسپیشل عمدہ تکنیک کا بھی استعمال ہوگا۔ بالی ووڈ ایکٹروں کے علاوہ اسپیشل اسٹنٹ اور منچ پر ہی ندی و جھرنے کے علاوہ سیدھے مناظر دکھائے جائیں گے۔ نو شری دھارمک رام لیلا میں سیٹ ڈیزائن کے ساتھ اس بار کرداروں کا لباس بھی خاص ہوگا۔ اس درمیان دہلی پولیس کے اعلی افسر بھی سیکورٹی انتظامات ہو لیکر پوری چوکسی برت رہے ہیں۔ بڑے بجٹ کی زیادہ بھیڑ والی رام لیلائیں آتنک وادیوں کے نشانے پر رہتی ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ اس برس رام لیلاؤں میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں آئے گی جو بھاری بھیڑ دیکھنے آئے گی وہ بلا خوف مزہ لے سکے گی۔
(انل نریندر)

21 ستمبر 2017

روہنگیا دیش کی یکجہتی اورسالمیت کیلئے خطرہ ہیں

دیش میں ناجائز طریقے سے رہ رہے بہت سے روہنگیا مسلموں کا تعلق پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور آتنکی تنظیم آئی ایس آئی ایس سے ہے۔ یہ دیش میں حوالہ اور فرضی دستاویزات کا کاروبار چلا رہے ہیں اور بھارت کی اندرونی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ بات مرکزی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر پیرکے روز سپریم کورٹ میں دائر 16 صفحات کے حلف نامہ میں کہی ہے۔ مرکزی حکومت نے یہ بھی صاف کیا کہ کس پناہ گزیں کو دیش میں رکھا جائے اور کسے نہیں یہ سرکار کا پالیسی میٹر ہے۔ اس اختیار میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ کوئی آتنکی پس منظر سے ہے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکار کے پاس مزید معلومات ہیں جو بہت اہم ہیں لیکن فی الحال انہیں افشا نہیں کیا جاسکتا۔ مگر عدالت کو ضرورت ہوتو سرکار سیل بند لفافے میں یہ جانکاری دے سکتی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ کچھ روہنگیا مسلمان ناجائز اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ حوالہ کے ذریعے ناجائز طور سے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں اور بھارت میں اسمگلنگ بھی کررہے ہیں۔ فرضی پین کارڈ اور آدھار کارڈ بھی بنوا لئے ہیں۔ ان کے یہاں رہنے سے ہندوستانی شہریوں کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوں گے کیونکہ دیش کے وسائل کا استعمال ناجائز طور سے رہ رہے روہنگیا مسلمان بھی کریں گے۔ تازہ بحران اس لئے کھڑا ہوا ہے کیونکہ روہنگیا مسلمانوں کو راکائن روہنگیا سولویشن آرمی کے لڑاکو نے 25 اگست 2017 کو فوج اور بارڈر پولیس کی 25 چوکیوں پر حملہ کردیا تھا اور ایک درجن سیکورٹی جوانوں کو مار ڈالا تھا۔ اس پر فوج نے روہنگیا صفائی مہم شروع کردی۔ اب تک قریب چار لاکھ لوگ میانمار سے بھاگ کر پڑوسی دیش پہنچ چکے ہیں اوپر سے دیکھنے میں یہ مذہب کی بنیاد پر ستائے جانے کا معاملہ لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصلی لڑائی قدرتی وسائل پر قبضے کو لیکر ہے۔ بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر بسے روہنگیا دہائیوں سے روز گار کی تلاش میں سرحد کے آر پار آتے جاتے رہے ہیں لیکن پچھلے 50 سال کی فوجی حکومت نے میانمار میں انہوں نے آہستہ آہستہ شہریت کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کیا جاچکا ہے۔ انہیں وہاں سے بھگا کر ان کی زمینوں کو سرکار اور جاپان، کوریا و چین کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالہ کیا جارہا ہے،ایسا کہنا ہے روہنگیا مسلمانوں کا۔ ان کے بارے میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس کئی سنسنی خیز دستاویزات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے ہی روہنگیا مسلمانوں کو فرقہ وارانہ معاملہ میں استعمال کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ آئی ایس آئی بنگلہ دیش اور نارتھ ویسٹ میانمار کے روہنگیا اکثریتی علاقہ رکھائن کے کٹرپسندوں کو ملا کر ایک الگ مسلم خطہ بنانے کا بلیو پرنٹ تیار کرچکی ہے۔ بھارت ، بنگلہ دیش اور میانمار کے خلاف ان کو استعمال کرنے کے لئے آئی ایس آئی بے قرار ہے۔ دو دن پہلے روہنگیا مسلمانوں کو ٹریننگ دے کرتیار کرنے کی سازش کے لئے بھارت آئے القاعدہ کے آتنکی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے بنگلہ دیشی نژاد اس برطانوی شہری کو ایتوار کی شام دہلی کے شکر پور بس اسٹینڈ کے پاس پکڑا۔ پہلے اس نے اپنا نام احتشام الحق بتایا لیکن اصلیت میں وہ سمیع الرحمان عرف راجو بھائی نکلا۔ روہنگیا مسلم بنیادی طور سے بنگلہ دیشی ہیں اور بنگلہ دیش ہی جانا چاہئے۔ بنگلہ دیش نے ان کے لئے کئی کیمپ لگائے ہیں۔ خبر ہے کہ ترکی نے بنگلہ دیش کو روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے پیسہ دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ بھارت پہلے ہی لاکھوں بنگلہ دیشیوں کی گھس پیٹھ سے پریشان ہے ، بھارت میں ساری دنیا کے پناہ گزینوں کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ہے۔ ہم نے یوروپ کا حال دیکھا ہے وہاں شام اور عراق سے لاکھوں مسلمانوں نے پناہ لی ہے۔ ان میں القاعدہ میں اور آئی ایس آئی ایس نے اپنے قاتل داخل کردئے ہیں۔آئے دن یوروپ کے کسی نہ کسی شہر میں بم دھماکہ ،سوسائڈ بلاسٹ کے معاملہ سامنے آرہے ہیں۔ ہم بھارت سرکار کے موقف سے متفق ہیں۔ دیش کی یکجہتی اور سلامیت کی خاطر ہم کوئی نیا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
(انل نریندر)

ہندوستانی جیلوں میں بدنظمی اور غیر انسانی حالات

ہندوستانی جیلوں میں بدنظمی اور بندشوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عزت مآب سپریم کورٹ نے ایک بار پھر جیلوں میں بہتری لانے پر توجہ دی ہے اور اس سلسلے میں 11 نکاتی گائڈ لائنس بھی جاری کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عزت مآب عدالت نے جیلوں کے ساتھ ساتھ بچہ گھروں میں بھی اچانک اموات کے شکار قیدیوں کے رشتہ داروں کو مناسب معاوضہ دینے کی بھی ہدایت دی ہے۔ یہ سوال اس لئے کیونکہ سپریم کورٹ نے 2006ء میں پولیس اصلاحات کو لیکر جو 7 نکاتی شرائط ہدایت نامہ جاری کئے تھے ان کو کل ملاکر نظر انداز کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ سبھی ہائی کورٹ 2012 سے2015 کے درمیان جیلوں میں ہوئی غیرفطری اموات کا نوٹس لیتے ہوئے خود مفاد عامہ کی عرضی درج کریں اور اس کے لئے معاوضے کا بھی انتظام کریں۔ قیدیوں خاص کر پہلی بار جرم کرنے والوں سے رائے مشورہ کے لئے کونسلر اور معاون ملازمین مقرر کئے جائیں۔ خاتون و اطفال ترقی وزارت کو بھی عدالت نے ہدایت دی ہے کہ حراست یا نگرانی میں رکھے گئے بچوں کی ہوئی غیر فطری اموات کی فہرست تیار کریں اور ان کے لئے متعلقہ ریاستی سرکاروں سے تبادلہ خیال کریں۔ جیل میں پیدا غیر فطری حالات میں بہتری کے قدم کئے اٹھائے جائیں۔ پہلے بھی کئی موقعوں پر جیل اصلاحات کی مانگ ہوتی رہی ہے مگر اس سمت میں قابل قدر قدم ابھی تک نہیں اٹھائے جاسکے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کے تازہ حکم کی کہاں تک تعمیل ہوپائے گی، یہ دیکھنے کی بات ہے۔ سبھی جانتے ہیں جیلوں میں ان کی رکھنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس کے چلتے جیلوں میں نظم بنائے رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ آئے دن قیدیوں میں و مختلف گروپوں میں خونی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ دہلی کی سب سے محفوظ مانی جانے والی تہاڑ جیل میں دو دن پہلے بھی قیدیوں کے دو گروپوں میں جم کر خونی جھڑپیں ہوئیں۔ تعینات پولیس ٹیم کے علاوہ ایڈیشنل پولیس فورس کو بلانا پڑا۔ حالات پر قابو پانے کیلئے جیل حکام اور سکیورٹی عملہ کو کافی مشقت کرنی پڑی۔ لیکن غوصے میں آگ بگولہ قیدیوں نے ان پر حملہ بول دیا۔ اس دوران کئی قیدی بھی زخمی ہوگئے ساتھ ہی جیل کے پولیس والے بھی زخمی ہوگئے۔ جیلوں میں رہائش کی صلاحیت سے زیادہ قیدیوں کی وجہ سے قیدیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو ہوتی ہی ہے ساتھ ساتھ ان کی صحت ،غذا اور طبی سہولت وغیرہ پر کوئی باقاعدہ توجہ نہ دئے جانے یا پھر ان کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کے چلتے اکثر کئی غیر فطری موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان اموات کو عام طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے بڑھتے بوجھ کی ایک بڑی وجہ مقدموں کا لمبے عرصے تک لٹکے رہنا بھی ہے۔ جیلوں میں بند تقریباً آدھے سے زیادہ قیدی ایسے ہیں جن پر بہت معمولی جرائم کے الزام ہیں اوسزا سے زیادہ وقت تک جیلوں میں بطور انڈر ٹرائل وقت بتا دیتے ہیں۔ بہت سارے زیرسماعت قیدی فیصلے کے انتظار میں سلاخوں کے پیچھے رہنے کو مجبور ہیں۔ بہت سے ایسے ہوتے ہیں جنہیں معمولی جرمانہ لگا کر بری کیا جاسکتا ہے لیکن زیر سماعت قیدی کی شکل میں جیل کی سزا بھگتنے کو مجبور ہیں۔ ہندوستانی جیلوں کی حالت یہ ہے کہ جب کسی قیدی کو بیرونی ملک سے حوالگی کرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے وکیل اس دلیلکی آڑ میں کہ ہندوستانی جیلوں میں انتظامات بہت ہی غیرا انسانی ہیں، کیا یہ کسی سے چھپا ہے، کیرل کے مچھیروں کے قتل کے ملزم اٹلی کے بحری فوجیوں کو لیکر وجے مالیا تک کہ وکیل ایسی دلیلیں دے چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ جیلوں میں ضرورت سے زیادہ قیدی تو ہیں لیکن وہاں درکار ملازم نہیں ہیں۔ اچھا ہوگا سپریم کورٹ یہ بھی محسوس کرے کہ جوڈیشیری میں اصلاحات کی طرف بڑھنے اور عدالتوں کو مقدموں کے بوجھ سے بری طرح حاوی عدلیہ کے نظام میں بہتری لانے کا وقت آگیا ہے۔ اگر مقدموں کا نپٹارہ جلد ہوتو زیر سماعت قیدیوں کی تعداد اپنے آپ کم ہوجائے گی اور جب ان کی تعداد کم ہوگی تو جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بھی گھٹ جائے گی۔
(انل نریندر)

20 ستمبر 2017

لاہورضمنی چناؤ نتائج کا دور رس نتیجہ سامنے آئے گا

پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 120 لاہور ضمنی چناؤ کا بخار چڑھا ہوا تھا۔ اس چناؤ حلقہ سے نواز شریف تین بار چن کر وزیر اعظم کی گدی پر پہنچے تھے۔ اس بار ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز چناؤ لڑ رہی تھیں۔ ایتوار کو اس ضمنی چناؤ کو لندن میں کینسر کا علاج کرا رہی نواز شریف کی بیگم کلثوم نواز نے یہ سیٹ جیت لی ہے۔ جولائی میں نواز شریف کو پی ایم عہدے کے لئے نا اہل قرار دئے جانے کے بعد کلثوم نے ان کی سیٹ پر چناؤ لڑا تھا۔ نواز شریف پر کرپشن کے الزاموں میں پھنسنے کے بعد یہ ضمنی چناؤ ان کا امتحان بھی تھا اور ساکھ بھی۔ اس بار ان کی بیگم کلثوم نواز نے بازی ماری اور تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد کو تقریباً 15 ہزار ووٹوں سے ہرادیا۔ مگر اس ضمنی چناؤ کے نتیجوں سے بھی زیادہ اہم بات جس کی طرف میڈیا کا دھیان کم گیا وہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے بعد تیسرے نمبر پر ایک ایسے آزاد امیدوار نے 5 ہزار ووٹ لئے جسے لشکر طیبہ عرف جماعت الدعوی کے لیڈر حافظ سعید کی حمایت حاصل تھی جبکہ آصف علی زرداری کی پارٹی کو صرف ڈھائی ہزار ووٹ ملے۔ شیخ محمد یعقوب کا چاؤ کمپین جماعت الدعوی کی شاخ سے ڈیڑھ ماہ پہلے قائم ہوئی ملی مسلم لیگ ورکرس نے کی تھی۔ یوں سمجھے جو تعلق بی جے پی۔ آر ایس ایس میں ہے وہی تعلق ملی مسلم لیگ کا حافظ سعید کی جماعت الدعوی سے ہے مگر کیونکہ ملی مسلم لیگ ابھی چناؤ کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہے اس لئے اس کے امیدوار نے آزاد کے طور پر چناؤ لڑا۔ ملی مسلم لیگ نے چناؤ کمپین میں اچھا خاصا پیسہ خرچ کیا۔ ممبئی آتنکی حملہ کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی نئی پارٹی ملی مسلم لیگ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں 2018ء کے عام چناؤ میں ہر سیٹ پر وہ اپنے امیدوار اتارے گی۔ لاہور ضمنی چناؤ میں حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوی حمایتی امیدوار شیخ یعقوب نے تیسرے نمبر پر رہنے کے بعد یہ بات کہی۔ شیخ یعقوب کی ریلیوں میں حافظ سعید کے پوسٹر بھی نظر آئے حالانکہ چناؤ کمیشن نے سختی سے منع کیا تھا کہ جن لوگوں پر کٹر پسندی کا الزام ہے اس کا نام چناؤ کمپین میں استعمال نہیں ہوسکتا۔ خود حافظ سعید جنوری سے اپنے گھر میں نظر بند ہے۔ مسلم لیگ کی اپنی پیدائش کے چند ہفتے بعد ہی چناؤ میں حصہ لینا اور تیسرے نمبر پر آنا اس لئے بھی اہم ترین ہے کیونکہ سب سے زیادہ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بیجنگ میں عیسائی لیڈروں کی میٹنگ کی طرف سے پاکستان کو کہا گیا کہ وہ اپنے یہاں ایسی تنظیموں کو روکے جن پر علاقوں میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام ہے۔ تب سے پاکستانی حکومت میں دو طرح کی بحث جاری ہے۔ سویلین حکومت چاہتی ہے کہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی ہو کیونکہ اب صرف یہ کہنے سے دنیا مطمئن نہیں ہوگی کہ پاکستان کاآتنک وادی تنظیموں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ اگر ان کٹر پسند تنظیموں کو ملک کی قومی دھارا میں شامل کیا جائے تو ہم دنیا سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ان لوگوں کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے جس میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اگر کل کٹر پسند آج کے جمہوری سیاست میں اپنے اسی نظریئے کے ساتھ اترتے ہیں جس سے باقی دنیا فکر مند ہے تو ایسی صورت میں انہیں قومی دھارا میں لانے کا فائدے کی جگہ زیادہ نقصان نہ ہوجائے۔ یہ ممکن ہے کہ اگر حافظ سعید قومی سیاست کا حصہ بنتے ہیں تو ایسا نہیں ہوگا کہ حافظ سعید اپناآتنک وادی نظریہ چھوڑدیں گے۔کیونکہ نواز شریف کی بیوی کلثوم نواز کو گلے کا کینسر ہے، ان کا علاج جاری ہے اس لئے چناؤ کمپین کی ساری ذمہ داری ان کی بیٹی مریم نواز کو دی گئی تھی۔ مریم نواز بہت تیز طرار لیڈر ہیں اور پنجاب میں ان کی کافی مقبولیت ہے۔ ان کا مقابلہ میں مرحوم وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے کیا جاتا ہے۔ اس لئے کلثوم کی غیر موجودگی میں بھی ان کی چناؤ کمپین میں کوئی فرق نہیں پڑا۔جیت اصل میں ہوئی تو مریم شریف اور حافظ سعید کی ہوئی۔
(انل نریندر)

بلڈر خریداروں سے دھوکہ بازی نہیں کرسکتے

یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ ان دغاباز بلڈروں کے خلاف سخت قدم اٹھا رہی ہے۔ کچھ بلڈروں نے اندھیر مچا رکھا ہے۔ جنتا نے اپنی گاڑھی کمائی سے گھر کا خواب پورا کرنے کے لئے انہیں بھروسے میں پیسہ دے دیا اور بدلے میں فلیٹ کی جگہ در در ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ بلڈر پیسہ بھی کھا گئے اور فلیٹ بھی ابھی تک برسوں گزرنے کے بعد بھی نہیں دئے گئے۔ سپریم کورٹ نے کئی بلڈروں پر سخت کارروائی کے احکامات دئے ہیں۔ جمعہ کو ریئل اسٹریٹ فرم یونیٹیک کے منتظمین سنجے چندرا اوراجے چندرا کو انترم ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔کورٹ نے کہا کہ اپنا پیسہ واپس مانگنے والے خریداروں کی تفصیل دستیاب ہونے کے بعد ان کی عرضی پر غور کیا جائے گا۔ جیل میں بند چندرا بھائیوں نے دہلی ہائی کورٹ میں 2015 میں درج کرمنل کیس میں ان کی عرضی خارج ہونے کے بعدبڑی عدالت سے انترم ضمانت کی درخواست دی۔ یہ معاملہ گورو گرام میں واقع یونیٹیک پروجیکٹ ۔وائلڈ فلاور کنٹری اور سنیتھیا اسکیم کے 158 خریداروں نے دائر کیا تھا۔ جسٹس پون بنسل نے کہا کہ انہیں ابھی تک کمپنی کے 55 پروجیکٹوں کا پتہ چلا ہے۔ 9 پروجیکٹوں میں قریب4 ہزار گھر خریداروں کے کمپنی کو تقریباً 1800 کروڑ روپے ادا کئے جانے کا اندازہ ہے۔ ادھر جے پی گروپ بھی بری طرح پھنس گیا ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے فلیٹ نہ دینے میں دیری کرنے پر جے پی ایسوسی ایٹس کو حکم دیا کہ و ہ 10 خریداروں کو 50 لاکھ روپے کا انترم معاوضہ دیں۔ عدالت نے کہا بلڈر خریداروں سے دھوکہ بازی نہیں کرسکتے۔ عدالت نے یہ بھی کہا گھرخریداروں سے عام سرمایہ داروں جیسا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انہوں نے اپنے سر پر چھت کے لئے اپنی گاڑھی کمائی خرچ کی ہے۔ پیسہ لے کر وقت پر فلیٹ نہ دینے کے الزام میں جے پی گروپ کے چیئرمین منوج گوڑ سمیت 12 افسران کے خلاف کیس بھی درج کیا گیا ہے۔ دنکوٹ کوتوالی میں دہلی شاہدرہ کے باشندے ایک خریدار اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے درج کی گئی شکایت پر جمعہ کو یہ کارروائی کی گئی۔ گپتا کا الزام ہے کہ جے پی انفراٹیک لمیٹڈ اور جے پرکاش ایسوسی ایٹ کے حکام نے انہیں جھانسے میں رکھ کر فلیٹ بک کرائے۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ کمپنی نے 33 لاکھ روپے فلیٹ بک کرتے وقت لئے تھے اور اتنی ہی رقم الاٹمنٹ پر دینا طے ہوئی تھی۔ پچھلی قسط 2015 میں اور اس کے بعد دوسری قسط 2017 میں لی گئی۔ اس کے بعد فلیٹ بھی نہیں ملا تو کمپنی کے حکام سے شکایت کی گئی ، انہوں نے خریداروں سے تین ماہ کا وقت مانگا ، لیکن اس کے بعد بھی قبضہ نہیں دیا گیا۔ امرپالی کے پروجیکٹوں میں فلیٹ خریدنے والے سینکڑوں لوگ سنیچر کو صبح سڑکوں پر اتر آئے۔ دیکھیں کیا عدالت کی کارروائی کا کوئی اثر ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

17 ستمبر 2017

بھاجپا کیلئے ویک اَپ کال

بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسلسل چناؤ میں جھٹکے لگ رہے ہیں ۔ اگر اب بھی پارٹی نہیں سنبھلی تو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے اسٹوڈینٹ یونین چناؤ نتیجوں نے جہاں کانگریس کی بانچھیں کھلا دی ہیں۔ وہیں بی جے پی ہائی کمان کوسوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر دہلی کی جنتا جس نے اسے سر پر بٹھایا وہ اب پارٹی سے کیوں دور ہورہی ہے؟ بوانا اسمبلی کے ضمنی چناؤ اور دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین چناؤ میں بھاجپا کو ملی ہار سے صاف اشارے ہیں کہ دہلی کی جنتا چاہے وہ بوانا کہ ووٹر ہوں، چاہے وہ طلبا ہوں ان کا بی جے پی سے دلچسپ ختم ہورہی ہے۔ پارٹی ہائی کمان کے دہلی بھاجپا کے تئیں زیادہ توجہ نہیں دینے کا نتیجہ ہے۔ بھاجپا نے طلبا کی لابی میں پٹخنی کھائی ہے۔ تشویش کا باعث یہ ہونا چاہئے کہ دہلی کی ساتوں لوک سبھا اور تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں قابض ہونے کے باوجود اسٹوڈینٹ یونین میں بازی کانگریس حمایتی این ایس یو آئی کے پالے میں چلی گئی؟اگرچہ سیکریٹری عہدہ و کچھ کالجوں میں جیت کے سبب اکھل بھارتیہ ودھیارتی پریشد کا پتا صاف ہونے سے بچ گیا لیکن جس جوش اور لاپرواہی کے چلتے دہلی یونٹ نے پتنگ بازی کی اس میں بنا کانٹا پہلے ہی نظر آرہا تھا۔صرف پی ایم مودی کے نام پر پر بار ووٹ ملنے کی اب گنجائش نہیں دکھائی دیتی۔ بھاجپا ہائی کمان و نیتا چاپلوسوں سے گھرے ہوئے ہیں اور مسلسل عوام سے کٹتے جارہے ہیں۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی سے پریشان جنتا کی مشکلیں یا تو کوئی سننے والا نہیں ہے یا پھر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ 
مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ جنتا کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ مشکل جنتا کے سامنے یہ ہے کہ فی الحال انہیں بھاجپا کا کوئی متبادل نظر نہیں آرہا ہے۔ اسی مجبوری کا فائدہ بی جے پی اٹھا رہی ہے۔ کانگریس پچھلے کچھ دنوں سے سرخیوں میں آئی ہے۔ راہل گاندھی بھی اب پورے فارم میں ہیں۔ اگلے مہینے ان کے پارٹی صدر بننے کا تذکرہ زوروں پر ہے۔ بھاجپا کا سب سے بڑا ہتھیار اپوزیشن پارٹیوں کا کمزور اتحاد ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے چناؤ میں بھاجپا اور کانگریس کی سیدھی ٹکر تھی۔ عام آدمی پارٹی بیچ میں نہیں تھی اس لئے بی جے پی حریف ووٹ کٹے نہیں۔ اگر عاپ پارٹی بھی کھڑی ہوتی کانگرسی اور عاپ میں ووٹ بٹ جاتے تو بیچ میں بھاجپا صاف نکل جاتی۔ بی جے پی کے مفاد ہوگا کہ وہ جنتا کے مسائل کے حل کیلئے کام کرے۔ صرف مودی پر پارٹی منحصر نہیں رہ سکتی۔ اقتدار ملنے کے بعد سے بی جے پی نیتا مغرور ہوگئے ہیں۔ کہیں یہ غرور پارٹی کو نہ لے ڈوبے۔
(انل نریندر)

دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ دولتمند گروہ بند داؤد ابراہیم

ممبئی حملہ کا ماسٹر مائنڈ اور خطرناک انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے برطانیہ نے اس کی ہزاروں کروڑ روپے کی پراپرٹی ضبط کرلی ہے۔ برطانیہ نے حکومت ہند کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ممبئی کو 1993ء میں دہلانے والا جو اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے امیر ترین سرغنہ اور انتہائی مطلوب مجرم ہے، ایسا قدم اٹھایا ہے جو بھارت کی ڈپلومیٹک جیت تو ہی ہے لیکن اس کا اثر دیگر دیشوں میں بھی پڑے گا۔ فوربیس میگزین نے 2015ء میں تین برصغیروں کے 16 ملکوں میں اس کی43 ہزار کروڑ روپے کی پراپرٹی کا خلاصہ کیا تھا۔ کولمبیا کا ڈرگ اسمگلر اور گینگسٹر پابلو ایسکوبار ہی داؤد سے زیادہ امیر ہے۔ 2015ء میں بھارت سرکار نے برطانیہ کو داؤد ابراہیم کی پراپرٹیوں کی تفصیلات کا ڈوزیئر سونپا تھا۔ جنوری میں سعودی عرب نے بھی قریب15 ہزار کروڑ کی داؤد کی پراپرٹی کو ضبط کیا تھا۔ داؤد کے خلاف تازہ کارروائی برطانیہ کا سب سے ترقی پذیر ذریعہ مانے جانے والا علاقہ وسطی برطانیہ واقع اس کے ٹھکانوں پر کارروائی ہوئی ہے۔ جس کی بنیاد بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور کئی دیگر جانچ ایجنسیوں کے ثبوت بنے۔ یہ ہمارے پردھان منتری نریندر مودی کی متحدہ عرب امارات اور لندن دورہ کے دوران برطانوی حکام کو سونپے گئے تھے اور اسی وقت داؤد کے خلاف سخت کارروائی کا ارادہ سامنے آگیاتھا۔ برطانیہ میں منگلوار کو ضبط داؤد ابراہیم کے پراپرٹیوں میں ہوٹل، رہائشی عمارتیں اور دکانیں شامل ہیں۔ اخبا برنگھم میل کی رپورٹ کے مطابق بھارت سرکار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ داؤد کی سب سے زیادہ پراپرٹی یو اے ای میں ہے لیکن اس نے اپنی کالی کمائی کا سب سے بڑا حصہ برطانیہ میں لگایا ہوا ہے۔ داؤد کو پکڑنے میں ناکامی کے بعد اس کے اقتصادی سامراجیہ پر حملہ کیا جارہا ہے تاکہ اس کے پناہ دینے والے پاکستان پر دباؤ پڑے۔ پچھلے ماہ برطانوی حکومت نے داؤد کو اقتصادی پابندی فہرست میں شامل کیا تھا جس کے بعد داؤد کے پاکستان کے تین پتے بھی درج کئے گئے۔ اس میں سعودی مسجد کے قریب وائٹ ہاؤس اور کراچی کے کلنٹن روڈ کا گھر شامل ہے۔ داؤد کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کے لئے پاکستان پر دباؤ بنانا ضروری ہے۔ برطانیہ کی تازہ کارروائی سے پاکستان پر دباؤ بڑھنے کے پورے آثار ہیں اور مانا جانا چاہئے کہ اس معاملہ میں جب عالمی آؤٹ اسٹینڈنگ سے نکلی کوئی حکمت عملی سامنے آئے گی برطانوی حکومت کی تازہ کارروائی کے بعد داؤد ابراہیم کی سب سے زیادہ پراپرٹی والے دیش یو اے ای پر بھی دباؤ بڑھے گا جس نے ابھی تک خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دوبئی شہر میں داؤد کے کئی ہوٹل، مال اور رہائشی عمارتیں ہیں۔ پاکستان ویسے بھی پہلے برطانیہ کی اقتصادی پابندیوں کی فہرست اور پھر برکس ملکوں کے ڈیکریشن میں نام آنے سے نشانہ پر ہے۔ جب تک داؤد کو چھپائے گاوہ نشانے پر رہے گا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...