Translater

14 اکتوبر 2017

18 سال سے کم عمر کی بیوی کے ساتھ جسمانی تعلق ریپ مانا جائے گا

نابالغ بیوی کے ساتھ رشتے بنانا اب بدفعلی مانا جائے گا۔ بھلے ہی تعلق بیوی کی رضامندی سے بنائے گئے ہوں۔ ابھی تک ایسے معاملوں میں بدفعلی کے الزام سے بچانے والی آئی پی ایس کی دفعہ 375(2) کے سیکشن کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قراردیا ہے۔ اس سیکشن کے تحت 15 سے18 سال کی بیوی سے رشتے بنانا بدفعلی نہیں مانا جاتا تھا۔ سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ 18 سال کی عمر کی بیوی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنا ریپ مانا جائے گا۔ عدالت کے مطابق نابالغ بیوی اس واقعہ کے ایک سال کے اندر شکایت درج کرا سکتی ہے۔ عدالت نے مانا کہ آبروریزی سے متعلق قوانیا میں سیکشن و دیگر قواعد کے اصولوں کے تئیں تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ بچی کو اپنے جسم پر مکمل اختیار ہے اور اتفاق رائے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس مدن بی لوکر اور دیپک گپتا کی بنچ نے بدھوار کو سرکار کی دلیلیں مسترد کرتے ہوئے کہا رشتے بنانے کے لئے طے 18 سال کی عمر گھٹانا غیر آئینی ہے۔ سرکار کی دلیل تھی کہ اس فیصلے سے سماجی پریشانی کھڑی ہوگی۔ بنچ نے یہ فیصلہ این جی او انڈیپینڈنٹ تھارٹ کی عرضی پر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شادی شدہ نابالغ لڑکی کوئی شے نہیں ہے اسے عزت سے جینے کا حق ہے۔ پارلیمنٹ نے ہی قانون بنایا ہے کہ18 سال سے چھوٹی بچی سے رشتوں کی رضامندی نہیں دی جاسکتی ۔ پارلیمنٹ نے ہی بال ووہا کو بھی جرم مانا ہے۔ اسی بچی کی شادی ہونے پر شوہر رشتہ بنائے تو یہ جرم نہیں ہے؟ یہ بے تکا ہے۔ جے جے ایکٹ ، پاسکو بال ووہا قانون اور آئی پی سی کو ایک جیسا بنائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے سبھی مذاہب پر یہ لاگو ہوگا۔ یہ فیصلہ پرانے معاملوں میں لاگو نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ بال ووہا پر سیدھا اثر ڈالے گا۔ قانون لڑکی کے لئے18 سال اور لڑکے کے لئے21 سال کی عمر میں شادی طے ہے۔ وہیں خاندانی بہبود محکمے کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانونی پابندیوں کے باوجود ابھی بھی 27 فیصدی نابالغ بچیوں کی شادیاں ہورہی ہیں۔ اس فیصلے کا سیدھا اثر یہ ہوگا کہ مقدمے میں اور سزا کے ڈر سے لوگ بچیوں کو اپنی بہو بنانے سے قباحت کریں گے۔ دیش کے کئی علاقوں میں آج بھی بال ووہا کی روایت رائج ہے۔ خاص کر لڑکیوں کی شادی کم عمر میں ہی کردی جاتی ہے۔ 2016 کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق دیش میں تقریباً 27 فیصدی لڑکیوں کی شادی18 سال کی عمر میں ہی ہوجاتی ہے۔ 2005 میں کئے گئے نیشنل ہیلتھ سروے میں یہ تعداد تقریباً 47 فیصدی تھی۔ یعنی صرف 10 برسوں میں 18 سال سے کم عمر والی لڑکیوں کی شادی میں 20 فیصدی گراوٹ آئی ہے اور نئے قانون کے ڈر سے امید کی جاتی ہے کہ اس کارروائی میں اور تیزی آئے گی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت مانتے ہوئے اب ریاستی سرکار وں کو بال وواہ روکنے کے لئے سخت قدم اٹھانے چاہئیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2005 کے مطابق دیش میں 2 کروڑ30 لاکھ بالیکا ودھو موجود ہیں۔
(انل نریندر)

بڑھتی مہنگائی اور پستی جنتا

جب گڈس اینڈ سروسز ٹیکس یعنی جی ایس ٹی لایا گیا تھا تو کہا گیا تھا کہ اس سے چیزوں اور سروسز کی قیمتیں کم ہوں گی۔ مگر اس کے تو ابتدائی مرحلہ میں ہی مہنگائی پچھلے پانچ مہینے میں اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پیاز سمیت سبزیوں و دیگر غذائی اجناس کے داموں میں تیزی کے چلتے ماہ اگست میں تھوک قیمت پر مبنی افراط زر بڑھ کر چار مہینے میں سب سے اونچی سطح 3.24 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حالانکہ بہت سی عام چیزوں پر ٹیکس کی شرح کافی کم رکھی گئی ہے اس کے باوجود خوردہ بازار میں چیزوں کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ جی ایس ٹی کا ابتدائی مرحلہ شروع ہونے کی وجہ سے بہت سارے خوردہ کاروباری مشکل میں ہیں اور وہ اپنے ڈھنگ سے چیزوں کے دام بڑھا رہے ہیں لیکن تھوک قیمت انڈکس میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.36 پہنچ گئی تو یہ محض غلط فہمی کے چلتے نہیں ہوا۔ روز مرہ استعمال ہونے والی گیس ، پھلوں و سبزیوں کے دام بڑھے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں پر ٹیکسوں کی دوہری مار کے چلتے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ سینٹرل ٹیکس سسٹم لاگو ہونے کے بعد بھی مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا ہے تو اس سے نمٹنے کے کیا قدم ہونے چاہئیں؟ دیش میں معیشت کی سستی نے پریشانی اور بڑھا دی ہے۔ بے روزگاری کے بڑھتے اعدادو شمار پریشان کرنے والے ہیں۔ صنعتیں بند ہورہی ہیں، بازار میں گراہک غائب ہیں، تہواروں کا سیزن سر پر ہے اور دوکانیں خالی پڑی ہیں۔ آج یا تو جنتا کے پاس پیسے کی کمی ہے یا پھر ان کو مہینے کے خرچ پورے کرنے کے بعد کچھ پیسہ بچتا ہی نہیں ہے۔ نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد بہت سے کاروبار پہلے ہی متاثر ہوچکے ہیں اس کے بعد جی ایس ٹی نافذ ہونے سے بہت سارے کاروباریوں کے لئے لال فیتاشاہی درد سر بنی ہوئی ہے۔ سرکار تھوک قیمت انڈیکس کی بنیاد پر مہنگائی کا اسٹنڈرڈ ناپتی ہے، جب خوردہ بازار میں چیزوں کی قیمتیں اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ جی ایس ٹی کونسل ٹیکس سسٹم کو بہتر بنانے کی کوشش اگر نہیں ہوگی تو مہنگائی اور ترقی شرح دونوں کو کنٹرول میں رکھنا مشکل بنا رہے گا۔ بڑھتی مہنگائی آج پورے دیش کی جنتا کے سامنے سب سے بڑا سوال بنا ہوا ہے۔ سرکار کو اس طرف جلد توجہ دینی ہوگی کیونکہ کسی بھی جمہوری سسٹم میں روٹی، کپڑا اور مکان آج بھی ترجیح رکھتے ہیں۔
(انل نریندر)

13 اکتوبر 2017

مہا بھارت کے کرداروں میں الجھی دیش کی معیشت کی کہانی

بھاجپا کے سینئر لیڈر یشونت سنہا ، ارون شوری اوروزیر اعظم نریندر مودی و وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مہابھارت کے کرداروں میں الجھی دیش کی معیشت کی کہانی کو مزید الجھا دیا ہے۔یشونت سنہا نے مہابھارت کے کردار نریش شلے سے موازنہ کرنے پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہا بھارت کے بھیشم پتاما ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر معیشت کا چیر ہرن نہیں ہونے دیں گے۔ بھاجپا کا کہنا ہے بھیشم پتاما تھے تو کورووں کے ساتھ ہی اور چیر ہرن کے وقت انہوں نے احتجاج نہیں کیا تھا۔ مودی نے’دی انسٹیٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا‘ کی گولڈن جوبلی تقریب میں بغیر کسی کا نام لئے سرکار کی چوطرفہ تنقید کے جواز میں کہا تھا کہ کچھ لوگ شلے ذہنیت کے ہیں، جن کی عادت مایوسی پھیلانے کی ہوتی ہے۔ مہابھارت میں نکل اور سہدیو کے ماما اور چندر نریش شلے کا ذکر ایک ایسے شورویر یودھا کی شکل میں ہے جو پانڈو کے حمایتی تھی، لیکن کرن کے سارتھی بنے تھے۔ وہ ہمیشہ کرن کا حوصلہ گراتے رہتے تھے۔ یشونت سنہا نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں مہا بھارت کے شلے کا ذکر کیا ہے، لیکن انہیں سمجھنا چاہئے کہ مہا بھارت میں ہی ایک اور کردار ہے اور وہ ہے بھیشم پتاما کا۔ انہوں نے کہا ایسا کہا جاتا ہے کہ جب دروپدی کا چیر ہرن ہورہا تھا تو بھیشم پتاما خاموش رہ گئے تھے لیکن اب اگر معیشت کا چیر ہرن ہوگا تو میں بولوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی شلے کی بات نکلی ہے تو بتادوں کہ شلے کورووں کی طرف سے کس طرح شامل ہوئے کہانی سب کو پتہ ہے شلے نکل اور سہدیو کے ماما تھے۔ وہ تو پانڈووں کی طرف سے لڑنا چاہتے تھے مگر ٹھگی کے شکار ہوگئے۔ دراصل بھاجپا اور سرکار سے کنارے کردئے گئے بزرگ نیتاؤں کی لمبی خاموشی کے بعد نئے سرے سے ہو رہے ایک ساتھ حملے سے بھاجپا ہائی کمان چوکس ہو گیا ہے۔ بہار اسمبلی چناؤ میں ملی کراری شکست کے بعد سرکار اور پارٹی لیڈر شپ پر بزرگ فوج نے لمبے عرصے کے بعد معیشت میں آئی سستی کے بہانے دوسرا حملہ کیا ہے۔ پارٹی اور سرکار کو ڈر ہے کہ چناوی برس میں داخل ہونے سے ٹھیک پہلے شروع ہوئے اس حملے سے کہیں اپوزیشن کو منفی ماحول بنانے میں کامیابی نہ مل جائے۔ حالانکہ پارٹی کے لئے راحت کی بات یہ ہے کہ اس باغی خیمے کو پارٹی اور سرکار کی مکھیہ دھارا میں شامل نیتاؤں کا ساتھ نہیں مل رہا ہے۔ مئی2014 میں اقتدار پر قابض ہونے کے بعد پی ایم مودی اور پارٹی صدر امت شاہ تب بزرگ سینا کے نشانے پر آئے تھے جب بہار اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ تب پارٹی کے مارگ درشک منڈل میں شامل لال کرشن اڈوانی ،مرلی منوہر جوشی، شانتا کمار، یشونت سنہا نے خط لکھ کر ہارکی جوابدہی طے کرے کی مانگ کی تھی ۔ حالانکہ پارٹی کے دیگر لیڈروں کی حمایت نہ مل پانے کے سبب بزرگ فوج کا کمپین دھارا شاہی ہوگیا۔ اب معیشت میں آئی سستی کے بہانے شروع ہوئے اس ابھیان سے فی الحال اڈوانی، جوشی اور شانتا کمار دور ہیں مگر باجپئی سرکار میں منتری رہ چکے یشونت سنہا،ارون شوری اور شتروگھن سنہا اور سوامی چنمے آنند حملہ آورہیں۔انہوں نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے سرکار پر تنقید کی ہے۔ چنمے آنند نے پوچھا کہ مودی جی کا شلے کون ہے، کیا ان کی معیشت کی باگ ڈور کسی شلے کے ہاتھ میں ہے؟ یشونت سنہا کے سرکار کی اقتصادی پالیسیوں پر حملہ کو بی جے پی اور سرکار کے تمام سینئرلیڈر یہ کہہ کر مسترد کرنے کے موڈ میں ہیں کہ وہ (سنہا) 2014 سے ہی باغی چل رہے ہیں۔ جب سے انہیں مودی سرکار میں شامل کرنے کے بجائے کنارے لگادیا گیا۔ اس لئے سرکار میں انہیں کچھ اچھا نہیں دکھائی دے رہا ہے اور نہ دکھائی دے گا۔ لیکن سیاسی گلیاروں میں ان دنوں الگ طرح کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ کہا جارہا ہے یشونت سنہا اکیلے نہیں ہیں اس بار جب انہوں نے سرکار پر حملہ بولا تو پارٹی کے ساتھ ساتھ سنگھ کے بھی کچھ نیتاؤں کی حمایت ملی ہے۔ یہ لوگ بھی کافی عرصے سے جیٹلی کے کام کاج سے خوش نہیں چل رہے ہیں۔ کئی موقعوں پر ان کی ناخوشی سامنے بھی آچکی ہے۔ اس بات ان لوگوں نے سنہا کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ دیکھنے والی بات ہوگی کہ انجام کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

اسپین سے الگ ہونے کیلئے کیٹولونیا میں پبلک ریفرنڈم

حال ہی میں اسپین میں پبلک ریفرنڈم ہوا۔ اسپین سے الگ ہونے کے لئے کیٹولونیا میں کرائے گئے اس ریفرنڈم کی رپورٹ کے مطابق اس میں قریب23 لاکھ (40 فیصدی ووٹر) لوگوں نے حصہ لیا اور 60 فیصدی لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس پبلک ریفرنڈم میں لوگوں کو حصہ لینے سے روکنے کے لئے پولیس فورس تک استعمال کی گئی تھی جس میں 800 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ ان سب کے باوجود کیرولونیا کے حکام کے ارادے اسپین کی آزادی کو لیکر بہت مضبوط ہیں۔ اس قدم کو اسپین کے صدر موریانو راہوئی کی جانب سے روکے جانے کا پورا امکان ہے۔ کیٹولونیاکے صدر نے ایک بیان میں کنگ فلپ ہشتم کی اس تقریر کی تنقید کی جس میں انہوں نے بارسلونیا انتظامیہ پر ملک سے بغاوت کا الزام لگایا تھا۔ ساتھ ہی سابق گورنر نے اس ٹکراؤ کی پوزیشن کو روکنے کیلئے بین الاقوامی مصالحت کی مانگ بھی کی تھی۔ اسپین حکومت نے ایک بیان کے ذریعے کہا کہ وہ بلیک میل کو قبول نہیں کرے گی اور دوہرایا کہ کسی بھی بات چیت سے پہلے کیٹولونیا کو فوری قانونی طور سے منظوری کے راستے پر لوٹنا ہوگا۔ اگر ایک منٹ کے لئے مان لیں کہ کیٹولونیا الگ بھی ہوجائے گا تو کیا یہ خود کو آزاد بنائے رکھنے میں کامیاب ہوگا؟ باہر سے دیکھنے پر یہ لگتا ہے کہ کیٹولونیا میں پہلے سے ہی ایک دیش کے کئی علامت عناصر موجودہیں۔ اس میں ایک جھنڈا ایک پارلیمنٹ اور یہاں تک کہ کالس پوئی گدیمون کی شکل میں ایک نیتا موجود ہے۔ ساتھ ہی اس کے پاس اپنی پولیس بھی ہے۔ کمیونیکیشن کے ذریعے کیٹولونیا کے بعد اپنے ریگولیٹری اور بیرونی ممالک میں نمائندہ دفاتر بھی ہیں جس میں دنیا بھر میں کیٹولونیا کے کاروبار اور سرمائے کو بڑھاوا دیا جاسکے۔ حالانکہ آزاد ہونے کی صورت میں اسے بہت کچھ کرنا ہوگا جس میں سرحدی انتظام ،ایکسائز ٹیکس، ایک سینٹرل بینک ایک ٹیکس اکٹھا کرنے والی ایجنسی بہتر بین الاقوامی رشتوں کا قیام، ایک ایئر کنٹرول آفس اور ڈیفنس سے متعلق سبھی چیزیں اس میں شامل ہیں۔ ابھی ان سبھی چیزوں کا انتظام اسپین کی راجدھانی میڈرڈ سے کیا جاتا ہے۔ کیٹولونیا کی آزادی کے بیچ ایک مقبول نعرہ ہے ’میڈرڈ نو روبا‘ جس کا مطلب ہے ’میڈرڈ ہمیں لوٹ رہا ہے‘ وہاں لوگوں کے درمیان عام تصور ہے کہ اسپین سے جو اسے مل رہا ہے اس کے مقابلے میں کیٹولونیا کہیں زیادہ ادائیگی کررہا ہے۔ اس اسپینی آبادی کا محض 16 فیصدی حصہ ہے ، لیکن اسپین کی جی ڈی پی میں 19 فیصدی اور ایکسپورٹ میں 25 فیصدی کی نمائندگی کرتا ہے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

12 اکتوبر 2017

لوک سبھا اسمبلی چناؤ ایک ساتھ کرانے کی وکالت

ایک دیش ، ایک چناؤ کی مانگ نے ایک بار پھر سے زور پکڑ لیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی تو کئی موقعوں پر اس کی وکالت کرچکے ہیں۔ اب چناؤ کمیشن نے بھی لوک سبھا ریاستی اسمبلیوں کے چناؤ ایک ساتھ کرانے کی وکالت کی ہے۔ دیش کے چناؤ کمشنر او پی راوت کے تازہ بیان سے یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ کیا اگلے عام چناؤ کے ساتھ اسمبلی چناؤ کرائے جائیں گے؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کمیشن کا کام چناوی عمل اور اس کی تیاریاں ہیں۔مرکزی حکومت کی دلچسپی کے سبب الیکشن کمیشن کو بھی اس پر اپنا رخ بتانا پڑا ہے۔ مرکزی حکومت نے جاننا چاہا تھا کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناؤ ایک ساتھ کرانے کی تجویز پراس کی کیا رائے ہے اور کیا ایک ساتھ چناؤ کرانے میں چناؤ کمیشن اہل ہے؟ الیکشن کمیشن نے اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے ساتھ ہی بتایا ہے کہ ایسی صورت میں کتنے مزید وسائل کی ضرورت پڑے گی لیکن ساتھ ساتھ چناؤ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ایک ساتھ چناؤ کرانے کیلئے سبھی سیاسی پارٹیوں کی رضامندی ضروری ہے۔ چناؤ کمیشن سے 2015 میں اس بارے میں رائے مانگی گئی تھی اور تب بھی اس نے یہی کہا تھا۔ دراصل یہ صرف سیاسی یا اخلاقی تقاضہ بھر نہیں ہے۔ اگر لوک سبھا اور ساری اسمبلیوں کے چناؤ ایک ساتھ کرانے ہوں تو عوامی رائے دہندگان قانون میں ترمیم کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ آئینی ترمیم پاس کرانے و ایک ساتھ چناؤ کی مانگ کو بلا تنازعہ بنانے کے لئے سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔ اسے ممکن بنانے کیلئے اس پر وسیع بحث بھی ضروری ہے کہ ایک ساتھ چناؤ کے کیا فائدے نقصان ہوسکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ایک ساتھ چناؤ کرانے کے کئی فائدے ہیں کیونکہ بھارت میں چناؤ سال بھر چلنے والے پروگرام کی طرح ہوتے ہیں اور یہ ایک مشکل قواعد ہے۔ اگر اس کارروائی میں پنچایت چناؤ کو شامل کردیں تو یہ دائرہ اور زیادہ وسیع ہوجاتا ہے اس لئے ان سب سے بچنے کے لئے یہ رائے صحیح ہے۔ ویسے بھی 1968 تک دیش میں لوک سبھا اسمبلی چناؤ ساتھ ساتھ ہوا کرتے تھے۔ جہاں تک بات ہے اس کے فائدے کی تو یقینی طور سے معیشت پر خرچ کا بوجھ کم ہوگا۔ ساتھ ہی چناؤ کے دوران بار بار لگنے والی ضابطہ قواعد کی پالیسی کو معذوریت کی صورتحال سے بچایا جاسکے گا۔ وہیں راجیوں کے لئے لوک لبھاون وعدوں کے اعلان سے چناؤ کو متاثر کرنے کے الزامات سے بھی مرکزی سرکار بچے گی۔ پارٹیوں کو بھی بار بارچناؤ کمپین کے لئے پیسہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ چناؤ کمیشن ایک چناؤ سے نمٹ نہیں پاتاکہ اسے دوسرے چناؤ کی تیاری میں لگ جانا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کی بھی کافی طاقت اور وقت ضائع ہوتا ہے۔ تعلیمی کام پربھی برا اثر پڑتا ہے کیونکہ چناؤ کمیشن میں سب سے زیادہ ٹیچروں کی ہی ڈیوٹی لگاتاہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہو کیسے، یعنی اس کے لئے قانون میں ضروری ترمیم اور توقع کے ساتھ عام رائے کی شرط کیسے پوری ہو؟ ابھی تک اپوزیشن پارٹیوں میں صرف کانگریس نے کھل کر کہا ہے کہ وہ جلدی یا ایک ساتھ چناؤ کرائے جانے کے لئے تیار ہے لیکن لیفٹ پارٹیوں کا رخ اس کے الٹ ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ مرکزی سرکار لوک سبھا چناؤ کے ساتھ اسمبلی چناؤ کرانے کے لئے ریاستوں کو مجبور نہیں کرسکتی۔ اپوزیشن کی کئی پارٹیوں کی نگاہ میں ایک ساتھ چناؤ کرانے کا نظریہ غیر ضروری ہے تو کئی اسے فیڈرل ڈھانچے کو چھوٹ پہنچانے والا اور خطرناک نظریہ بھی مانتے ہیں۔ ویسے ایک ساتھ چناؤ تھوڑی بہت دقتوں کے باوجود دیش کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب سبھی پارٹیاں اس مسئلے پر عام رائے بنائیں۔
(انل نریندر)

ہر جمہوریت میں اپنا جنتر منتر ہے

پچھلے قریب ڈھائی دہائی سے جنتر منتر آندولن کاریوں کا مرکز بنا ہوا ہے لیکن نیشنل گرین ٹریبیونل کی تازہ ہدایت کے بعد جنتر منتر پر دھرنے اور مظاہرے پرروک لگ جائے گی۔ این جی ٹی نے جنتر منتر روڈ پر دھرنا ، مظاہرے کرنے پر مستقل روک لگاکر پیغام دیا ہے کہ جمہوریت میں دھاک اور اظہار رائے آزادی مکمل نہیں ہے۔ وہ صاف ستھرے اور خاموش زندگی کے حق سے بڑی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی ایک شاخہ کی شکل میں کام کرنے والا این جی ٹی آلودگی ہٹانے اور ماحولیات کو بچانے اور صاف صفائی قائم رکھنے کے حکم دیتا رہتا ہے۔ سرکاریں کبھی اسے لاگو کرتی ہیں اور کبھی منہ پھیر لیتی ہیں۔ اس کے باوجود این جی ٹی کا 1981 میں ہوائی آلودگی قانون کی خلاف ورزی کی بنیاد پر دیا گیا یہ حکم فوری طور سے لاگو ہوگیا ہے۔ این جی ٹی نے جس سبب جنتر منتر کو مظاہرین سے آزاد کرانے کی ہدایت دی ہے اس سے نااتفاقی نہیں ظاہرکی جاسکتی۔ ہمیں اظہار رائے کی آزادی بھی چاہئے اور صاف ستھری ماحولیات بھی، مسلسل لاؤڈ اسپیکر چلنے کے سبب وہاں آواز آلودگی تو ہے ہی، کھلے میں نہانے ،جانوروں کو باندھ کر رکھناو کوڑا پھینکنے کے سبب مسئلہ پیچیدہ ہوگیا ہے لیکن یہ بھی ماننا تھوڑا مشکل ہے کہ مظاہرے کی جگہ کو رام لیلا میدان منتقل کرنا مسئلے کا حل ہے۔ بورڈ کلب میں مظاہرین کے ذریعے گندگی پھیلانے کے سبب ہی تحریکوں کی جگہ بدل کر جنتر منتر کردیا گیا تھا۔ مسئلہ مظاہرین کا اتنا نہیں ہے جتنا سسٹم کا ہے۔ جن لوگوں پر جنتر منتر کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری تھی انہوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ این جی ٹی کے اس فیصلے کا مختلف انجمنوں اور مظاہرین نے مخالفت کی ہے اور فیصلے کو سپریم کورٹ میں چنوتی دیں گے۔ جنتر منتر پر ڈٹے مظاہرین کا کہنا ہے کہ این جی ٹی نے جگہ چھوڑنے کے لئے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔ اسی دوران وہ اپنی کارروائی کریں گے کیونکہ نئی پیڑھی جنتر منتر کی وید شالہ کے بجائے آندولن کاریوں کے گڑھ کی شکل میں زیادہ جانتی ہے اور انا ہزارے کے کرپشن مخالف تحریک سے لیکرنربھیہ کے ساتھ ہوئے ظلم کے خلاف ناراضگی جیسی کئی تحریکوں کا جنتر منتر گواہ رہا ہے لہٰذا اسے مظاہرین سے آزاد کرانے کا یہ سندیش بھی نہیں جانا چاہئے کہ مخالفت کی آواز کو دبایا جارہاہے اور صرف یہ ہی نہیں پارلیمنٹ کے نزدیک ہونے کے سبب دیش کے کسی بھی حصے میں دہلی میں اپنی آواز لوگوں تک پہنچانے والے لوگ یہاں آتے ہیں، بلکہ اس دوران ہمارے کمزور سسٹم کی علامت بھی بن گیا ہے جس کے ایک کونے میں اگر کوئی برسوں سے شراب کے خلاف آندولن کررہا تھا تو کہیں پولیس مظالم کے خلاف ایک خاتون بیٹھی ہے ہر دیش میں ایسی ایک جگہ ہے جنتر منتر جہاں سے جنتا اپنی آواز اٹھا سکتی ہے۔
(انل نریندر)

11 اکتوبر 2017

پٹاخہ تاجروں کی سپریم کورٹ سے درخواست

دیوالی کے موقعہ پر پٹاخوں کے سبب ہونے والی آلودگی کو دیکھتے ہوئے عزت مآب سپریم کورٹ نے 1 نومبر تک کے لئے دہلی این سی آر میں پٹاخوں کی فروخت پر روک لگادی ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ کچھ شرطوں کے ساتھ پٹاخوں کی فروخت 1 نومبر 2017 یعنی دیوالی گزرنے کے بعد پھر سے شروع کی جاسکے گی۔ اپنے حکم میں عدالت ہذا نے کہا کہ وہ اس پابندی کے ساتھ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ کیا دیوالی سے پہلے پٹاخوں کی بکری پر پابندی سے آلودگی میں کمی آتی ہے یا نہیں۔ پٹاخے چھوڑنے پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ جن لوگوں نے پہلے سے پٹاخوں کی خریداری کر لی ہے وہ انہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ پٹاخوں کی فروخت پر پابندی کی عرضی تین بچوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ ان بچوں کے پھیپھڑے دہلی میں آلودگی کے سبب ٹھیک طرح سے ڈولپ نہیں ہو پائے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہلی میں آلودگی کا مسئلہ کئی برسوں سے اٹھ رہا ہے۔ کافی کوششوں کے بعد بھی اس میں کمی نہیں آئی ہے۔ موجودہ اعدادو شمار کو دیکھیں تو سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق دہلی میں آب و ہوا بھی سانس لینے کے لائق نہیں ہے۔ دوسری طرف پٹاخوں کے سیلرز کے لئے اس آرڈر سے الجھن کی صورتحال بن گئی ہے۔ اپنے پہلے فیصلے میں سپریم کورٹ نے دہلی اور این سی آر میں پٹاخوں کی فروخت پر روک کچھ شرطوں کے ساتھ واپس لے لی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے پچھلے حکم میں کہا تھا کہ دہلی میں پٹاخوں کی فروخت کے لئے پولیس کی نگرانی میں لائنس دئے جائیں۔ زیادہ سے زیادہ 500 عارضی لائسنس دئے جاسکیں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 2016 میں دئے گئے لائسنس میں سے 50 فیصدی کو ہی اس بار لائسنس دئے جائیں گے لیکن دیوالی سے 10 دن پہلے کورٹ کا یہ فیصلہ ان تمام پٹاخہ مرچنٹ کے لئے پریشانی لیکر آیا ہے۔ پٹاخہ لیڈر سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے کافی مایوس ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان کو کافی نقصان ہوگا۔ ایک پٹاخہ بیچنے والے دوکاندار کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کا کاروبار کرنے والے 10 مہینے سے خالی بیٹھے تھے۔ دسمبر میں سپریم کورٹ نے شرطوں کے ساتھ لائسنس تجدید کرنے کی اجازت دی اس کے بعد ہم نے لائسنس رینیو کرایا۔ دیوالی پٹاخوں کا تہوار ہے اس لائن سے وابستہ ہر تاجر سال میں صرف اسی سیزن میں اچھی کمائی کی امید رکھتا ہے ایسے میں دیوالی کے ٹھیک پہلے لگائی گئی اس پابندی سے کاروبار سے جڑے لوگوں کو مشکل دور سے گزرنا پڑے گا۔ پٹاخہ کاروبار سے تقریباً دہلی این سی آر میں 10 لاکھ لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سبھی کے سامنے دھندہ بند ہونے کی نوبت آگئی ہے۔ دیوالی پر برسوں سے پٹاخے چلتے آئے ہیں۔ کچھ برسوں سے لوگ خود پٹاخوں کا کم استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے پٹاخوں سے آلودگی بڑھتی ہے لیکن پٹاخے تو سال میں ایک دن چلائے جاتے ہیں اوران کو جلانے کے پیچھے دھارمک آستھا ہے۔ دوسری طرف پورے برس گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی ہیں۔ گاڑیوں سے نکلنے والی آلودگی زیادہ ہوتی ہے۔ ہم سبھی پٹاخوں کا مزہ لیتے ہیں پھر جن تاجروں نے مہینے پہلے آرڈر دے کر پٹاخوں کی خریداری اسی امید سے کرلی کہ دیوالی میں نکل جائیں گے، ان کا کیا ہوگا؟ پٹاخوں پر پابندی لگے سے تاجروں پر دوہری مار پڑی ہے۔ 12 ستمبر کو سپریم کورٹ نے پٹاخے بیچنے کی اجازت دی، جس کے بعد تاجروں نے مال خریدلیا ، آرڈر بھی دے دئے۔20 دن کا وقت رہا جس میں تاجروں نے دیوالی کے چلتے اسٹاک کرنا شرو ع کردیا۔اسی دوران کچھ لڑکوں کو کام پر رکھا، کچھ نے دوکان کرائے پر لی اور طرح طرح کے انتظامات کئے۔ اس پر کافی پیسہ خرچ ہوا۔ پھرسے بکری پر پابندی لگنے سے پٹاخہ تاجروں کو تو روزی روٹی کے لالے پڑجائیں گے۔ اس لئے سبھی پٹاخہ تاجر سپریم کورٹ سے گزارش کررہے ہیں کہ انہیں صرف دیوالی کے تہوار تک پٹاخہ بکری کی مہلت دی جائے جس سے جو مال خریدا ہے وہ بیچ سکیں۔
(انل نریندر)

لالو پریوار انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے

قریب د و دہائی پہلے لالو پرساد یادو نے بہار کی سیاست میں نعرہ دیا تھا’ جب تک رہے گا سموسے میں آلو تب تک رہے گا بہار میں لالو‘ اسی کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ بہار کی سیاست سے انہیں 20 برس تک کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ یہ دونوں باتیں لالو نے اس وقت کہی تھیں جب چارہ گھوٹالہ کے سبب جیل بھی گئے تھے۔ اس بحران سے تو لالو نے خود کو باہر نکال لیا تھا اور بہار کی سیاست میں ایک مضبوط مرکز بنے رہے لیکن سال2017 میں یہ سوال مضبوطی سے سامنے آیا جب لالو پرساد یادو اور ان کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اب تک کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ جہاں لالو اور ان کا پورا خاندان کرپشن کے الگ الگ معاملوں میں پھنس چکا ہے وہیں سیاسی سطح پر بھی لالو اب نتیش بی جے پی کے اتحاد کے سامنے سماجی تجزیوں کے تانے بانے میں پھنستے دکھائی دے رہے ہیں۔ جانچ ایجنسی سی بی آئی سے ملی اطلاع کے مطابق لالو اور ان کے کنبے کے خلاف جاری جانچ آخری مرحلوں میں ہے۔ریلوے اور چارہ گھوٹالہ سے جڑی جانچ اس سال ہر صورت میں پوری ہوجائے گی اور بہت جلد ان معاملوں میں فائنل چارج شیٹ درج ہونے لگے گی۔ چارہ گھوٹالہ معاملہ میں تو سپریم کورٹ کی جانب سے طے ڈیڈ لائن کے مطابق اسی سال فیصلہ آجائے گا۔ سی بی آئی کا دعوی ہے کہ ان دونوں معاملوں میں لالو کے خلاف پختہ ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے جڑی جانچ بی اگلے مہینے میں آخری مقام پر پہنچنے والی ہے۔ لالو بھلے ہی ریلوے سی ٹی سی کے دو ہوٹلوں کے پٹے پر دینے کے فیصلے کو حکام پر ٹالنے کی کوشش کررہے ہوں، لیکن جانچ ایجنسیوں کے پاس موجود ثبوتوں کے بعد ان کا بچنا آسان نہیں ہوگا۔ سی بی آئی کے ہاتھ ریل وزارت کی نوٹ شیٹ بھی لگی ہے جس سے صاف ہے کہ دونوں ہوٹلوں کے پٹنہ کے چانکیہ ہوٹل کے مالکوں کو پٹے پر دینے کی ہدایت خود لالو نے دی تھی۔ ہوٹل پٹے پر دینے کے فیصلے میں لالو کی شمولیت ہی نہیں بلکہ بدلے میں پٹنہ میں مال کے لئے زمین حاصل کرنے کا ثبوت بھی جانچ ایجنسی کے پاس ہے۔ لالو یادو ہوٹل کے پٹے اور پٹنہ کی زمین کو الگ الگ بتانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن سی بی آئی کا کہنا ہے یہ محض اتفاق ہی نہیں ہے کہ ہوٹل کو پٹے پر دینے کا فیصلہ سستے میں کافی مہنگی زمین کو ان کے ساتھی وزیر پریم چند گپتا کی بیوی کے نام رجسٹری ایک ہی وقت میں ہوئی ہے۔ یہ ہی نہیں ،بعد میں یہ زمین سیدھے ان کے بیٹے تیجسوی اور بیوی رابڑی دیوی کی کمپنی کے پاس آگئی، یہ سیدھے طور پر آپسی ملی بھگت سے کئے گئے لین دین کا معاملہ ہے۔ لاکھ ٹکے کا سوال: کیا لال ٹین کی لو بچا پائیں گے لالو؟
(انل نریندر)

10 اکتوبر 2017

معیشت کے دو اہم ترین اشوز : نوکریاں اور مہنگائی

اقتصادی پالیسیوں کو لیکر حکومت کوکٹہرے میں کھڑا کرنے والے سینئر بھاجپا نیتا یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ ابھی لوک سبھا چناؤ میں نوکریوں کی کمی اور بے روزگاری بڑا اشو ہوگا۔ دوسری طرف سابق وزیر اور جرنلسٹ و مصنف ارون شوری نے بھی نوکریوں کے اشو کو لیکر سرکار پر تنقید کی ہے۔ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ سیاستداں اپنے فیصلوں کی وجہ سے پرکھے جاتے ہیں نہ کہ انہوں نے کیا کہا اور کیا کیا۔ شوری نے کہا مدرا یونجنا کے تحت 5.5 کروڑ ملازمتوں کا دعوی کیا گیا تھا لیکن اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی 15 لاکھ نوکریاں چلی گئیں۔ انہوں نے کہا سرکار نے ہر سال 2 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اس کا کیا ہوا؟ بی جے پی کے لئے کیا 2019 لوک سبھا چناؤ مشکل ہوگا، کیا حکمراں پارٹی رام مندر ، یکساں سول کوڈ اور دفعہ 370 جیسے اشوز پر ووٹوں کا پولارائزیشن کرنے کی کوشش کرے گی؟ جواب میں یشونت سنہا کہتے ہیں کہ چناؤ میں 18 مہینے باقی ہیں اور ابھی اس سوال کا جواب دینا جلد بازی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے معیشت میں دو اشو ہیں ایک ہے نوکریاں اور دوسری بڑھتی قیمتیں۔ہندوستانی ووٹروں کو فکر ہے کہ میرے بیٹے کو نوکری ملے گی یا نہیں؟ اس سے بے چینی بڑھتی ہے۔ جہاں تک روزگار کا سوال ہے ،یہ ایک اہم اشو ہوگا۔ گھر گھر بے روزگاری سے متاثر ہوگا۔ سال2013 میں چناؤ کمپین کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئے گی تو 1 کروڑ نوکریوں کے مواقعہ پیدا ہوں گے۔ اس کے ایک سال بعد ہی بھاجپا مرکز میں بھاری اکثریت سے برسر اقتدار آگئی۔ اس سال جنوری میں بھارت کے اقتصادی سروے نے اشارہ دیا تھا کچھ چیزیں ٹھیک نہیں چل رہی ہیں اور روزگار اضافے میں سستی دیکھنے کو ملی ہے۔ نئی سرکار کے اعدادو شمار دکھاتے ہیں بے روزگاری کی شرح 2013-14 میں 4.9 فیصد سے بڑھ کر 5 فیصد تک ہوگئی ہے لیکن یہ تصویر حقیقت میں اور بھی تشویشناک ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں ماہر اقتصادیات بنوچ ابراہم کی ایک اسٹڈی جاری ہوئی ہے۔ اس میں لیبر بیورو کے ذریعے اکٹھا کئے گئے نوکریوں کے اعدادو شمار کو استعمال کیا گیا ہے۔ اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ 2012 اور 2016 کے درمیان بھارت میں روزگار میں بے تحاشہ کمی آئی ہے۔ اس اسٹڈی کے مطابق سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ 2013-14 اور 2015-16 کے درمیان دیش میں موجود روزگار میں بھی بھاری کمی آئی ہے۔آزاد بھارت میں شاید پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ ذرعی سیکٹر میں جہاں بھارت کی آدھی آبادی روزی اور روزگار کے لئے اسی پر منحصر ہے بہت سے لوگ زمین کے چھوٹے چھوٹے حصوں پر فصل پیدا کررہے ہیں وہاں نوکریاں ختم ہورہی ہیں۔ اس پر خوشک سالی اور فصل کی صحیح قیمت نہ مل پانے سے لوگ کھیتی کسانی سے دور جارہے ہیں اور تعمیرات اور دیہی مینوفیکچرنگ میں روزگار تلاش رہے ہیں۔ چیک کنسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ کے ایک مطلع کے مطابق 2011 سے 2015 کے درمیان 2.6 کروڑ نوکریاں ختم ہوگئی ہیں۔ ادھر لگاتار چھٹی سہ ماہی میں گرتی ہوئی جی ڈی پی نے گذشتہ اپریل۔ جون کی سہ ماہی میں نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ پچھلے تین برسوں میں جی ڈی پی میں سب سے کم 5.7 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ پچھلے سال نوٹ بندی اس سال جولائی میں جی ایس ٹی نے جزوی طور سے روزگار مواقعوں کے پیدا ہونے میں گراوٹ میں گھی کا کام کیا ہے۔ اس وجہ سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والے ذرعی اور تعمیراتی اور نجی کاروبار والے سیکٹر بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں اور روزگار کو بھاری جھٹکا لگا ہے۔ فی الحال 2.6 کروڑ ہندوستانی معمولاتی طور پر روزگار کی تلاش میں بیٹھے ہیں۔ یہ تعداد موٹے طور پر آسٹریلیا کی آبادی کے برابر ہے۔ غریبی اور سماجی سلامتی سسٹم نہ ہونے کے چلتے زیادہ تر لوگوں کو زندہ رہنے کے لئے خود کوشش کرنی پڑ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کل لیبر پاور کا 80 فیصد حصہ بکھرا اور غیر منظم صنعتوں میں کام کرتے ہیں جہاں کام کرنے کے حالات بہت ہی خراب ہوتے جارہے ہیں اور ویسے بھی کام کرنے والوں کو بہت کم مزدوری ملتی ہے۔
(انل نریندر)

اروناچل پردیش میں کیوں ہوتے ہیں اتنے ہیلی کاپٹر حادثے

جمعہ کو صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے انڈین ایئرفورس کا ایک ایم آئی۔17 ہیلی کاپٹر اروناچل پردیش کے علاقے توانگ کے پاس حادثہ کا شکار ہوگیا۔ اس میں سوارساتوں ملازمین کی موت ہوگئی۔ ان میں ایئر فورس کے دو پائلٹ اور دو فوجی بھی شامل تھے۔ ایم آئی۔17 روس میں بنا فوجی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہے۔ جمعہ کا واقعہ جس علاقہ میں ہوا وہ جگہ ہند۔ چین سرحد کے پاس ہے۔ توانگ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں موسم میں یکا یک تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ تیز دھوپ اور کھلے آسمان والے موسم کو گھنے بادلوں اور موسلہ دھار بارش میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اروناچل پردیش میں ماضی میں اس طرح کے حادثات ہوتے رہے ہیں۔ ریاست میں اتنے زیادہ ہیلی کاپٹر حادثے ہوتے ہیں کہ اس کے چلتے اس علاقے کو دنیا کا دوسرا ’برموڈا ٹرائنگل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل یہاں کے پہاڑوں کی اونچائی بہت زیادہ ہے اور اس کے چلتے ہوا کا دباؤ بھی بڑھتا جاتا ہے۔ توانگ اور سلو کے پاس کے ایئر اسپیس کو اڑان کے نظریئے سے سب سے زیادہ خطرناک مانا جاتا ہے۔ سلو پاس کے پاس ہر پانچ منٹ میں موسم بدلتا ہے۔ یہاں پرعموماً گھنے بادل ہوتے ہیں جس کے چلتے یہاں ہیلی کاپٹر کی پرواز کرنا بیحد مشکل مانا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس علاقے میں ہوا کا بہاؤ مغرب سے مشرق کی طرف ہوتا ہے جو اڑان کی سمت کے برعکس ہوتا ہے۔ کئی بار ہوا کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ اس میں ہیلی کاپٹر اپنے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اروناچل ہیلی کاپٹروں کے حادثوں کا پردیش ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اروناچل پردیش میں اسی سال جولائی میں ایئرفورس کا ایک اور ہیلی کاپٹر بھی حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں دو لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ ٹھیک اس حادثے کے وقت وزیر مملکت داخلہ کرن ریججو کا ایم آئی۔17 ہیلی کاپٹر ایٹا نگر میں خراب موسم کے سبب حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچا تھا۔ 2015 میں پون ہنس کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کاشکارہوگیا تھا اس حادثے میں اروناچل کے ترپ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کملیش جوشی اور دو دیگر لوگ مارے گئے تھے۔ اروناچل میں ہیلی کاپٹر حادثوں کی تاریخ رہی ہے۔ ریاست میں سابق وزیر اعلی ڈورجی کھانڈو کی موت 29 اپریل ،2011 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہی ہوئی تھی۔ 16 اپریل ،2011 میں توانگ میں ہی ایک ہیلی کاپٹر لینڈ کرتے وقت کریش ہوگیا تھا۔ واقعہ میں16 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ نومبر 1997 میں وزیر مملکت دفاع این بی این سوچو، میجر جنرل رمیش ناگپال سمیت دو لوگوں کی موت بھی ہیلی کاپٹر کریش میں توانگ کے پاس ہوئی تھی۔ تازہ حادثے میں مرنے والے فوجی حکام میں ونگ کمانڈر وکرم اپادھیائے، اسکوائڈرن لیڈر ایس تیواری و دیگر افرادشامل تھے۔ ہماری انہیں شردھانجلی۔
(انل نریندر)

08 اکتوبر 2017

راہل گاندھی کی تاجپوشی اس لئے کانگریس کیلئے ضروری ہے

پچھلے کچھ عرصے سے راہل گاندھی وزیر اعظم اورمودی سرکار پر تلخ حملہ کررہے ہیں۔ محنت میں بھی جی جان سے لگے ہوئے ہیں۔سہ روزہ امیٹھی دورہ میں راہل گاندھی نے نریندر مودی سرکار کو ہرمحاذ پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اب بہانے بازی بند کریں اور فیصلے لینے میں جو غلطیاں ہوئیں ہیں انہیں قبول کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ بگڑتی معیشت، کسانوں کی خودکشیاں یا بے روزگاری کی بات کرنے پر بہانے بازی شروع کردیں۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا اگر مودی دیش کا بھلا نہیں کرسکتے تو کرسی چھوڑدیں، ہم چھ مہینے کے اندر سب ٹھیک کردیں گے۔ دیہات سے روزانہ 30 ہزار نوجوان روزگار کی تلاش میں شہر آجاتے ہیں لیکن صرف 400 افراد کو ہی کام ملتا ہے۔ مودی جی کی پالیسیوں کے سبب فیکٹریاں بند ہورہی ہیں، نوجوان بے روزگار ہورہے ہیں ان میں غصہ بڑھ رہا ہے۔ لگتا ہے راہل گاندھی اب کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے کوتیار ہیں۔ ایسے میں پارٹی میں راحت اور اندیشات دونوں کا ماحول ہے۔ راحت اس لئے کہ کانگریس نے جب بھی ان کی تاجپوشی کا ماحول بنایا تو انہوں نے اس سے بچنے کی کوشش کی۔ اندیشات کوبھی سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ درپردہ طور سے ان کے کئی تنظیمی اور سیاسی تجربات ناکام رہے ہیں۔اس کے باوجود کانگریس کے زیادہ تر لیڈروں کی رائے ہے کہ پارٹی میں گروپ بندی اور بغاوت سے نمٹنے کیلئے گاندھی ازم کی ضرورت ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا خیال ہے کہ دیر سے ہی صحیح لیکن اب یہ کام ہوجانا چاہئے۔ امریکی یونیورسٹی سمیت حال ہی میں کئی جگہوں پر راہل گاندھی کی پرفارمینس توقع سے کہیں بہتر رہی ہے ایسے میں پارٹی میں اس بات کو لیکر بہتوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ راہل رائٹ ٹریک پر ہیں۔ راہل چاہے پسند کریں یا نہیں پارٹی صدر کے عہدے پر ان کی تاجپوشی سے مودی بنام راہل 2019 لڑائی کا پرومو چلنے لگے گا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک سال پہلے ہی ریزولوشن پاس کر گاندھی سے پارٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کی درخواست کی تھی۔ حالانکہ اس کے بعد چناؤ تک یعنی تاجپوشی کا ماحول تیار کرنے میں ایک سال لگ گیا۔ کانگریس نیتاؤں کا یہ بھی خیال ہے کہ اکنومک سلوڈاؤن، نوٹ بندی کے خراب نتائج، جی ایس ٹی کے سبب ہو رہی دقتیں، ذرعی سیکٹر کی تکالیف ،روزگار میں کمی کو لیکر نوجوانوں میں مایوسی اور مڈل کلاس طبقے کی ناراضگی 2014 لوک سبھا چناؤ میں بھگوا لہر کے بعد پہلی بار ایک ساتھ دکھائی دئے ہیں۔ مودی سرکار کے ذریعے ترقی کا راگ جپنے اور اس مورچے پر بی جے پی کی حالت خراب ہونے کے پیش نظر اپوزیشن کو اگلے لوک سبھا چناؤ وقت سے پہلے ہونے کے امکان نظر آرہے ہیں۔ اگلے لوک سبھا چناؤ میں ویسے تو ابھی 15 مہینے باقی ہیں لیکن کانگریس کو لگ رہا ہے کہیں مودی 2018 میں چناؤ نہ کرالیں اس لئے راہل گاندھی کی تاجپوشی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

کیا ہنی پریت سنگھ کے خلاف پولیس کیس مضبوط ہے

گزشتہ بدھ کو دوپہر ڈیرہ چیف کی سب سے اہم راز دار ہنی پریت سنگھ انسا کو سی جے ایم پنچکولہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے عدالت میں پیش رپورٹ میں کہا کہ دنگے بھڑکانے کے الزام میں گرفتار ہوچکے ڈیرہ حمایتیوں سے ہنی پریت کے سازش میں شامل ہونے کے پہلی نظر میں ثبوت ملے ہیں اور ان کی بنیاد پر ہنی پریت کو تفتیش کے دوران ملزم بنایا گیا۔منگل کو پنچکولہ کے پاس سے اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس سے تین بار کئی گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی مگر اس نے تفتیش میں کوئی سراغ نہیں دیا۔اس نے مانا کہ واردات والے دن 25 اگست اور اس کے بعد اس کی کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ ان میں دنگے کے ملزم بھی شامل ہیں۔ پولیس نے پچھلے 22 گھنٹے کی حراست میں اس کی طرف سے تعاون نہ ملنے کی بات کر 14 دنوں کی ریمانڈ مانگی تھی لیکن عدالت نے صرف6 دنوں کی ریمانڈ قبول کی۔ پنچکولہ کی عدالت کے ذریعے پولیس ریمانڈ میں بھیجے جانے کے بعد بھی ہنی پریت پوچھ تاچھ میں پولیس سے کوئی تعاون نہیں کررہی ہے۔ اعلی پولیس افسروں کی ٹیم بدھوار کی رات کو ہنی پریت سے پوچھ تاچھ کرتی رہی لیکن وہ سوالوں کو ٹالتی رہی اس کے چلتے مانا جارہا ہے کہ ہریانہ پولیس ہنی پریت کا ناکو ٹیسٹ کروا سکتی ہے۔ ہنی پریت کو لیکر پنچکولہ پولیس کے ذریعے پیش کردہ تھیوری پنچکولہ کورٹ میں ٹرائل کے دوران پولیس کے گلے کی پھانس بن سکتی ہے۔ پولیس کے ذریعے ہنی پریت کا ریمانڈ لینے کے لئے دو طرح کی تھیوری کورٹ میں پیش کی گئی جس سے پولیس گھرتی نظر آئی۔ حالانکہ پولیس اس بات کے لئے اپنی پیٹھ تھپتھپانے سے پیچھے نہیں ہٹی کے ایک خاتون کے لئے 6 دن کا ریمانڈ ملنا بہت بڑی بات ہے۔ پولیس ہنی پریت کو دنگے بھڑکانے کی سازش میں شامل بتا رہی ہے۔ پولیس نے ایف آئی آر میں لکھا تھا کہ ایک پترکار نے ہنی پریت کو دنگے بھڑکانے کی بات کرتے ہوئے سنا تھا۔ ساتھ ہی ریمانڈ کے دوران بھی کئی ملزمان نے ہنی پریت کا نام لیا ہے۔ اب پولیس کہنے لگی ہے کہ 17 اگست کو ڈیرہ میں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں فیصلہ لیا گیا تھا کہ پنچکولہ میں فیصلے کے بعد کیا کچھ کرنا ہے۔ ہنی پریت اس میٹنگ میں شامل تھی۔ ہنی پریت کے وکیلوں کے ذریعے پنچکولہ پولیس کو کورٹ میں جاکر گھیرا۔ بچاؤ فریق کے وکیلوں کے ذریعے پولیس کی ہر تھیوری پر سخت سوال کھڑے کئے گئے جس کے چلتے پولیس اپنی تھیوری پر ہنی پریت کا 14 دن کا ریمانڈ لینا چاہتی تھی۔ اسے محض6 دن کا ہی ریمانڈ ملا۔ہنی پریت کے وکیل ایس کے گرگ کے مطابق ہنی پریت کے خلاف 25 اگست کو دنگے بھڑکانے کا جو کیس درج کیا گیا ہے اس میں ایک پترکار کو بطور گواہ پیش کیاگیا ہے۔ پولیس کی تھیوری کے مطابق اس پترکار نے ہنی پریت کو ڈیرہ پرمکھ کو قصوروار قرار دینے کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ پنچکولہ میں آگ زنی، توڑ پھوڑ کردی جائے۔ وکیل گرگ نروانا کا کہنا ہے کہ 25 اگست کو ہنی پریت ڈیرہ کمپلیکس میں تھی۔ وہاں پر کوئی پترکار موجود ہیں تھا۔ سبھی کے موبائل فون بند تھے کوئی کسی کوفون نہیں کرسکتا تھا تو ہنی پریت ڈیرہ انویایوں کو کس طرح پنچکولہ میں دنگے پھیلانے کا حکم دے سکتی ہے؟ اس لئے نہ تو ہنی پریت نے اس دن کسی کو فون کیا اور نہ ہی کسی نے ہنی پریت کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ پنچکولہ میں آگ زنی کردی جائے۔ ایسے میں پولیس اگر اور کوئی ٹھوس ثبوت نہیں لائی تو ٹرائل میں یہ الزام ثابت کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اب پولیس نے کیس مضبوط کرنے کے لئے نئی تھیوری تیار کرلی ہے۔ جس میں پولیس دعوی کررہی ہے کہ17 اگست کو جب سی بی آئی کورٹ معاملے کی سماعت پوری کرنے کے بعد حکم سنانے کے لئے 25 اگست کی تاریخ طے کردی گئی ، تو ایک میٹنگ ڈیرہ میں بلائی گئی جس میں رام رحیم کے علاوہ ڈیرہ کے اہم ترین لوگ شامل ہوئے۔ دیکھیں 6 دن کے ریمانڈ کے بعد پولیس عدالت کو کیا کیا بتاتی ہے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...