Translater

24 جنوری 2015

کول بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے میں منموہن سنگھ سے پوچھ تاچھ!

کول بلاک الاٹمنٹ گھوٹالہ سامنے آنے کے بعد یوپی اے سرکار کے چلے جانے کے بعد سی بی آئی نے ا س معاملے میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ ان سے’’ ہنڈالکو‘‘ کمپنی کو کول بلاک الاٹمنٹ کئے جانے کے بارے میں معلومات کی گئیں۔16 دسمبر کو سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سی بی آئی کی ایک ٹیم نے منموہن سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر پوچھ تاچھ کی۔ سی بی آئی کو اس معاملے میں27 جنوری کو خصوصی عدالت میں اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنی ہے۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کوئلہ گھوٹالے اجاگر ہونے کے بعد ’ہزاروں جوابوں سے اچھی ہے میری خاموشی‘ جیسا جملہ کہہ کر بچ نکلنے والے منموہن سنگھ اب سی بی آئی کے سوالوں کے دائرے میں آگئے ہیں۔ حالانکہ اس خبر کی تصدیق نہ تو ان کی طرف سے اور نہ ہی سی بی آئی کی طرف سے ہوئی ہے لیکن اس معاملے میں کسی طرح کی تردید نہ آنے سے اس معاملے کو تقویت ملتی ہے کہ ان سے پوچھ تاچھ ہوئی ہے یہ مبینہ جانچ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی عوامی زندگی پر داغ لگانے والی ہے۔ کوئلہ وزیر کی شکل میں ان کے کردار کو لیکر پوچھ تاچھ کی گئی تھی جس میں آدتیہ برلا کی کمپنی ’ہنڈالکو‘ کو کول بلاک الاٹمنٹ میں گڑ بڑی کے معاملے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حالانکہ منموہن سنگھ کی ساکھ صاف ستھری اور شریف لیڈر کی رہی ہے لیکن ان کی قیادت میں یوپی اے کے عہد اور خاص کر ان کا دوسرا ٹرم گھوٹالوں کے نام سے جانا جاتا رہا جس پر گھوٹالے کی سیاہی نہ لگی ہو، کوئلہ گھوٹالوں میں یہ عجب اتفاق ہے کہ اس کے کئی معاملے اس وقت کے ہیں جب منموہن سنگھ ہی کوئلہ وزارت کے انچارج ہوا کرتے تھے۔ اس طرح منموہن سنگھ دوسرے سابق وزیر اعظم ہیں جن سے گھوٹالے کی پوچھ تاچھ ہوئی ہے۔یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس شرمندگی سے گزرنے والے سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ بھی تھے جو منموہن سنگھ کے سیاسی گورو مانے جاتے ہیں اب یہ انکشاف ہونے کی امید ہے کہ جس وقت منموہن سنگھ کوئلہ وزارت کے انچارج تھے کیسے دیش کے بیش قیمتی وسائل کی بندر بانٹ ہوتی رہی ہے اور اسے روکنے کیلئے منموہن سنگھ جی نے کوئی مداخلت کیوں نہیں دی؟ ویسے تو یہ سوال تبھی اٹھنے لگے تھے جب یوپی اے اقتدار میں تھی لیکن تب سرکاری طوطے سی بی آئی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے اس وقت کے آقاؤں سے آسانی سے سوال جواب کر پاتی۔ الٹے معاملے کو بند کرانے کی اس کی جلد بازی پر سپریم کورٹ نے تلخ تبصرہ کرڈالا۔ منموہن سنگھ کے پورے عہد میں جس طرح فیصلوں پر کانگریس لیڈر شپ کا کنٹرول تھا اس میں منموہن سنگھ کا رول تو بہت ہی برائے نام رہا ہوگا۔ شاید اس لئے منموہن سنگھ نے اپنے عہد کا زیادہ تر حصہ خاموش رہ کر ہی کاٹا۔ بہرحال اب سی بی آئی ان سے پوچھ تاچھ کر چکی ہے تو امید ہے کہ کئی سوالوں کا تشفی بخش جواب آنے والے دنوں میں دیش کو ملے گا۔ مستقبل میں ایسے گھوٹالے نہ ہوں اس کیلئے بھی پیغام دینا ضروری ہے کہ جوابدہی کے دائرے سے کوئی باہر نہیں ہے یہاں تک کہ پردھان منتری بھی نہیں۔
(انل نریندر)

ٹائیگروں کا بڑھتا کنبہ اچھی خبر!

پچھلے کافی عرصے سے شیروں کی گھٹتی تعداد باعث تشویش بنی ہوئی تھی۔ دیش میں سمٹتے جنگلوں کے درمیان ٹائیگروں کی دھاڑ بہت ہی کم سنائی پڑتی تھی۔ خاص کر2008 میں جب بھارت میں صرف 1400 شیر یعنی ٹائیگر بچے تھے تب ان کے وجود پر ہی بحران منڈرانے لگا تھا۔ ٹائیگروں کے تحفظ کے لئے 1973 میں بھارت حکومت نے پروجیکٹ ٹائیگر نام سے پروگرام شروع کیا تھا اس کے تحت دیش کی 18 ریاستوں میں اس وقت 47 ٹائیگر ریزرو ہیں۔ یہ دیش کی کل جغرافیائی حدود اربعہ کا 2.08 فیصدی حصہ ہے۔ دنیا کے70 فیصد ٹائیگر اکیلے بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ پچھلی صدی کے آغاز میں دنیا بھر میں تقریباً1 لاکھ ٹائیگر ہوا کرتے تھے اس آبادی کا 97 فیصد حصہ ختم ہوگیا ہے اب یہ تعداد تین چار ہزار کے درمیان ہی رہ گئی ہے۔ جنگلاتی جانوروں کے شائقین کے لئے 2015ء بڑی خوشخبری لیکر آیا ہے۔ 2010 سے2014 تک دیش بھر میں ٹائیگر کی تعداد میں 30.5فیصد اضافہ ہوا ہے۔2010 میں ٹائیگروں کی تعداد 1706 تھی جو 2014 میں بڑھ کر 2226 ہوگئی ہے۔ 2006 میں یہ اعدادو شمار محض1411 ہوا کرتے تھے۔ منگل کے روز نئی دہلی میں مرکزی وزیر جنگلات ماحولیات پرکاش جاوڑیکر نے ایک پروگرام میں قومی ٹائیگر تحفظ اتھارٹی کی اسٹیٹس آف ٹائیگرز ان انڈیا رپورٹ 2014ء جاری کی تھی۔ اس کے مطابق دیش کی 18 ریاستوں میں ٹائیگر ہیں ان میں کرناٹک، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، تاملناڈو اور کیرل میں ٹائیگروں کی تعداد بڑھی ہے۔ سال2010ء میں 300 ٹائیگروں کے ساتھ کرناٹک پہلے مقام پر تھا۔ ان کی بڑھتی تعدادسے جس طرح کی تفصیل سامنے آئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں ٹائیگروں کے تحفظ کے لئے چلائے گئے پروگراموں یا مہموں کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ دراصل گزری دو تین دہائی کے دوران ٹائیگر کی گنتی مسلسل کم ہوتی چلی گئی تھی اور شکار کے ساتھ ساتھ جنگل بھی گھٹتے چلے گئے۔ کئی اسباب سے جنگل کے راجا کی زندگی پر بحران کھڑا ہورہا تھا۔ خاص طور سے سرسکا، رنتھمبور وغیرہ ٹائیگر ریزرو سے ٹائیگر کے غائب ہونے کی خبریں آرہیں تھیں۔ تشویشناک حالات کے سامنے آنے کے بعد حکومت کی طرف سے ٹائیگر تحفظ کیلئے ایک ٹاسک فورس بنانے پڑی جس نے کئی قدم اٹھائے اور ٹائیگر بچانے کی تمام کوششیں اور پروگراموں کے درمیان دیش میں محفوظ گلیاروں اور جنگلاتی علاقوں پر منڈراتے خطرے پر اور بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تازہ کارنامہ ماحولیات و جنگلاتی جانور اور ٹائیگروں کی زندگی پر کام کرنے والے لوگوں کیلئے اس لئے بھی راحت والی خبر ہے کہ جب دنیا بھر میں اس جانور کی تعداد تیزی سے گھٹی ہے وہیں بھارت میں یہ تعداد بڑھی ہے۔ اس کامیابی کا سہرہ جنگلاتی حکام اور ملازمین اور فرقہ وارانہ سانجھے داری اور آئینی نظریئے کے مطابق اس مسئلے پر کام کرنے والے تمام لوگوں اور ایجنسیوں کو دینا ہوگا۔ ساتھ ساتھ یہ بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان اقدامات پر عمل کرکے یہ کارنامہ قائم رکھا جائے اور ٹائیگروں کی تعداد بڑھتی رہے۔
(انل نریندر)

23 جنوری 2015

اوبامہ کی سکیورٹی پر امریکی ضد بھارت نے ٹھکرائی!

امریکی صدر براک اوبامہ کے دو روزہ دورۂ ہند کی تیاریاں زوروں پر جاری ہیں۔ پچھلے پیر کو اوبامہ کے دورۂ بھارت پر امریکی اورہندوستانی حکام کی ایک خصوصی میٹنگ ہوئی جس میں امریکہ نے اوبامہ کی سکیورٹی اپنے ہاتھوں میں لینے کی تجویز رکھی تھی لیکن بھارت نے منع کردیا۔ ہندوستانی حکام کا کہنا تھا کہ یوم جمہوریہ ہندوستان کا ایک فیسٹیول ہے اس لئے سکیورٹی بھی ہم ہی کریں گے۔ امریکی حکام نے چار مطالبے رکھے تھے جنہیں بھارت نے مسترد کردیا۔پہلا مطالبہ امریکہ کا یہ تھا کہ راج پتھ کے آس پاس چھتوں پر صرف امریکی سونگھنے والا عملہ تعینات ہوگا۔ بھارت نے کہا یہ ممکن نہیں ہے تقریب میں بھارت کے صدر اور وزیر اعظم سمیت کئی اہم شخصیات بھی ہوں گی ایسے میں ہندوستانی اسنائپرس بھی تعینات ہوں گے۔ دوسری تجویز تھی جس راستے سے اوبامہ جائیں وہاں پر کوئی دوسرا نہ چلے۔بھارت نے کہہ دیا یہ ممکن نہیں ہے، مہمان کا راستہ میزبان ہی طے کرتا ہے۔ اب صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم اور باقی اہم شخصیات بھی اسی راستے سے جائیں گی۔ تیسری تجویز صدر پرنب مکھرجی اور اوبامہ الگ الگ جائیں ،بھارت نے بتادیا ہے کہ مہمان خصوصی صدر جمہوریہ کے ساتھ ہی جاتے ہیں۔ ایسے میں پہلی بار امریکی صدر اپنی کار بیسٹ میں سفر نہیں کریں گے۔ چوتھی تجویز تھی تقریب کو نو فلائی زون قراردیا جائے۔ بھارت اگر یہ سب باتیں مان لیتا تو ایئر فورس کی روایتی فلائی پاسٹ کو منسوخ کرنا پڑتا۔ اب تینوں فوجوں کے 33 جہازوں کاراج پتھ پر فلائی پاسٹ ہوگا اور ترنگے کو سلامی دیں گے۔ واشنگٹن نے اسلام آباد کو خبردار کیا ہے کہ اوبامہ کے دورۂ ہند کے دوران کسی بھی طرح کا آتنکی حملہ نہ ہو۔ امریکہ کی یہ وارننگ سمجھ میں آتی ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ نکالا جائے پاک آگے پیچھے بھارت پر حملے کرسکتا ہے صرف اوبامہ کے دورے کے دوران حملے نہ کرے؟ بیشک امریکہ کے لئے صدر براک اوبامہ کی سکیورٹی اہم ہو لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ ہندوستان کے سوا کروڑ شہریوں کی سلامتی اہم نہیں ہے؟ ایسی وارننگ کے ساتھ ہی امریکہ نے پاکستان کو دھمکایا ہے کہ اگر حملے ہوئے تو نتیجہ بھگتنے کو تیار رہیں۔ اس کا مطلب یہ نکالا جائے امریکہ اس حالت میں ہے کہ وہ پاک حملے روک سکتا ہے۔ اگر روک سکتا ہے تو روکتا کیوں نہیں؟ دراصل امریکہ صرف اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اسے بھارت کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ وہی امریکہ ہے جس نے1800 کروڑ ڈالر پاکستانی فوج اور پاکستانی معیشت کیلئے پچھلے دس برسوں میں دئے ہیں۔حالانکہ 2010 ء کے بعد پوری تفصیل سامنے نہیں آپارہی ہے۔ اسی کے بعد اس الزام کو تقویت ملی ہے کہ پاکستانی فوج آئی ایس آئی کی معرفت دہشت گرد تنظیموں کو ٹریننگ دینے میں یہ پیسہ خرچ ہورہا ہے۔ اوبامہ کے27 جنوری کو مجوزہ دورۂ آگرہ کے پیش نظر تاج نگری میں شام ، عراق،ایران کے سیاحوں پر وہاں کے بڑے ہوٹلوں کو وارننگ دے دی گئی ہے کہ وہ تین دنوں کیلئے سیلانیوں کو اوبامہ کے دورے تک یہاں نہ ٹھہرائیں۔
(انل نریندر)

ٹکٹوں کو لیکربھاجپا میں مچا گھمسان!

یوں تو بھارتیہ جنتا پارٹی میں باہر سے لیڈروں کے آنے کی بھیڑ سی لگی ہوئی ہے۔ کیرن بیدی کے بعد کانگریس کی تیز طرار خاتون لیڈر کرشنا تیرتھ آئیں، شازیہ علمی آئیں نہ جانے کون کون آیا۔ بھاجپا میں شامل ہونے کی ایک دوڑ سی لگ گئی ہے جہاں بھاجپا ہائی کمان کو لگتا ہے کہ ان باہری لیڈروں کے آنے سے پارٹی مضبوط ہوئی ہے اور7 فروری کے دن جب ووٹ پڑیں گے تو اسے واضح اکثریت ملے گی لیکن ان باہری لیڈروں کے آنے کی پارٹی کے اندر مخالفت ہورہی ہے۔ باہری لیڈروں کے آنے سے وہ ٹکٹ تقسیم میں جانبدرانہ رویئے کو لیکر بھاجپا میں آتے ہی کچھ نہ کچھ زیادہ دکھائی دینے لگا ہے لیکن اندر جم کر گھمسان مچا ہوا ہے۔ ٹکٹ نہ ملنے سے کئی لیڈروں کے حمایتیوں کا غصہ سڑکوں پر آگیا ہے۔ پردیش بھاجپا صدر ستیش اپادھیائے سمیت کئی اور لیڈروں کے حمایتی منگلوار کو ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض دکھائی دئے۔ انہوں نے پردیش بھاجپا دفتر میں جاکر جم کر ہنگامہ برپا کیا۔ ان ورکروں کا کہنا ہے بھاجپا کتنی اصولی پارٹی ہے اس کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ اس کو قائم ہوئے 34 برس گزر گئے ہیں۔ پارٹی کی مرکز میں حکومت ہے لیکن وزیر اعلی کا چہرہ پیراشوٹ سے لانا پڑا اور چار گھنٹے میں ہی پارٹی میں آنے والوں کو ٹکٹ مل گیا اور30 سال سے سیوا کرنے والوں کو ٹکٹ سے محروم رکھا گیا ہے۔ ستیش اپادھیائے کے حمایتیوں نے پردیش دفتر پہنچ کر کیرن بیدی تک کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے نعرہ لگایا کے پیراشوٹ سی ایم امیدوارنہیں چلے گااور اپادھیائے کو مہرولی سے اسمبلی سے پرچہ داخل کرنے کی مانگ کی گئی۔ وہیں اپ پردھان شکھا رائے کے حمایتیوں نے بھی مظاہرہ کیا۔ روہنی سے ٹکٹ کٹنے سے ناراض سابق ممبر اسمبلی جے بھگوان اگروال کے حمایتی بھی سڑک پر اتر آئے۔ کیرن بیدی کو لیکر کئی سینئر لیڈر ناراض ہیں ۔ کچھ نے تو اپنی ناراضگی عام کردی ہے جس میں ایم پی منوج تیواری سب سے آگے ہیں لیکن پھٹکار کے بعد انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ پروفیسر جگدیپ مکھی، ڈاکٹرہرش وردھن ، وجے گوئل ناراض ہیں۔ مکھی نے ہائی کمان پر بھی تنقید کی اور کہا کیرن کے بارے میں فیصلہ لیتے وقت پردیش یونٹ کو بھروسے میں نہیں لیا گیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا جب پردیش پردھان کو ہی ٹکٹ نہیں ملا اور چھوٹے نیتاؤں کا تو کیا حال ہوگا؟ بتاتے ہیں کہ پارٹی کے صدر امت شاہ نے سخت الفاظ میں یہ پیغام دیا ہے کہ بغاوت کے تیور اپنانے والے لیڈروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ اس کے بعد ہی بیدی کے خلاف ناراضگی اور باغیانہ تیور بھی ڈھیلے پڑ گئے۔ باغیانہ تیور اپنانے والے لیڈر بتاتے ہیں کیرن بیدی پر بھی نجی حملے ہوں گے انہوں نے دہلی پولیس کے افسر رہتے وکیلوں پر لاٹھی چارج کرایا تھا۔ بہت پہلے رام لیلا کے منتظمین پر بھی بیدی کے ذریعے لاٹھی چارج کو وہ لوگ آج تک نہیں بھولے ہیں۔ اپوزیشن اس کو مسالہ بنانے سے نہیں چوکے گا۔ بھاجپا میں جس طرح سے دہلی اسمبلی چناؤ کے پیش نظر نئے چہروں کو آگے لانا شروع کیا ہے اس پر کھلے طور پر پارٹی کے اندر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ پہلے بھاجپا کہتی تھی کہ وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار کو آگے کر کے چناؤ لڑنا اس کی پالیسی کے خلاف ہے۔ ہریانہ ،مہاراشٹر چناؤ اسی اصول پر لڑے گئے تھے لیکن دہلی میں اروند کیجریوال سے خوفزدہ بھاجپا کو اپنا اصول بدلنا پڑا۔ بھاجپا کے تنقید کرنے والے اب یہ کہنے سے نہیں ہچکتے کہ کیرن بیدی کو امیدوار بنا کر چت بھی میری اور پٹ بھی میری کا داؤ مودی شاہ نے چل دیا ہے۔ اگر دہلی میں بھاجپا ہاری تو کیرن بیدی ہاری اور جیتی اور نریندر مودی جیتے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پارٹی میں بڑھتی اس ناراضگی کو امت شاہ کتنا کنٹرول کرسکتے ہیں۔ ورکروں کا نکلنا چناؤ مہم چلانا پارٹی میں اتحاد بہت ضروری ہے۔ پارٹی ورکروں کو بندھوا مزدور سمجھنا بھاری بھول ہوگی۔
(انل نریندر)

22 جنوری 2015

صدر کی نیک نصیحت ، آرڈیننس سے بچیں!

مودی حکومت کے8 ماہ کے عہد میں ایک کے بعد ایک 9 آرڈیننس لانے کے پیش نظر صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی نصیحت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ صدر نے سرکار کو آرڈیننس راج سے بچنے کیلئے سیدھا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو بھی سخت پیغام دیتے ہوئے کہہ دیا کہ اقلیتی اپوزیشن اکثریت کی آواز کو بے وجہ نہیں دبا سکتی۔ 16ویں لوک سبھا میں حکمرانی اور پائیداری کیلئے اکثریت ملی ہے۔ آئے دن آرڈیننس جاری کرنے سے بچنے کے لئے دونوں کو آپس میں مل بیٹھ کر کوئی باقاعدہ حل نکالنا چاہئے۔ صدر محترم نے بلوں کو پاس کرانے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کو بھی غیرضروری بتایا ہے۔ ایسا کہہ کر انہوں نے مودی سرکار کو چوکس کیا ہے۔ پارلیمانی وقار کو لگاتارٹھیس پہنچنے پر دیش کی بیدار عوام فکر مند ہے۔ میڈیا سمیت کئی اسٹیج پر یہ تشویش ظاہرکی گئی ہے اور اب صدر محترم نے بھی اسے اٹھا لیا ہے۔ ایک سرپرست کی طرح صدر پرنب مکھرجی نے مناسب طور پر دونوں فریقین کو یاد دلایا ہے جب پارلیمنٹ آئین سازیہ میں ناکام ہوتی ہے تو اس پر سے جنتا کا بھروسہ ٹوٹتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کارروائی میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہئے۔ شور شرابہ کرنے والی اقلیتی اپوزیشن کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ ایک تحمل پرست اکثریت کا گلا گھونٹ دیں۔ ظاہر ہے صدر کے ان تبصروں کو اپوزیشن کے حالیہ برتاؤ پر تنقید کی شکل میں دیکھا جائے گا لیکن اپنے دیش کا یہی ایک مشغلہ ہے کہ اپوزیشن میں ہوں یا جو بھی پارٹی اپوزیشن میں ہو وہ آئین سازیہ کو یعنی صدر کے الفاظ میں کہیں تو بھیڑ جٹانا اور سڑک پر مظاہروں کا اسٹیج بنانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس حالت کیلئے صرف اپوزیشن ہی ذمہ دار ہے، حکمراں پارٹی بھی اس کیلئے ذمہ دار ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جیسے ہی پارٹی اقتدار میں آتی ہے وہ بھول جاتی ہے پارلیمنٹ، اسمبلیاں اشتراک اور خیرسگالی اور احترام کے مقصد کے جذبے سے چلیں یہ یقینی کرنا ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ صرف اپوزیشن کو دن رات کوسنے سے کام نہیں چلے گا۔ جب پرنب مکھرجی خود کانگریس میں تھے تو وہ حکمراں ہونے کے باوجود اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کے جانے کے بعدیہ ٹکراؤ شروع ہوا ہے۔ مودی سرکار میں وزیر پارلیمانی امور کو کوشش کرنی ہوگی کہ وہ ایوان کو ٹھیک ٹھاک چلانے کی کوشش کریں۔ جہاں تک ممکن ہو آرڈیننس لانے سے بچیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ برسوں سے حکمراں پارٹی اور اپوزیشن پارٹیوں میں ٹکراؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ایوان ٹھیک ٹھاک نہیں چلتا اور پورا سیشن ملتوی ہوتا رہتا ہے اور آخر میں برسر اقتدار پارٹی کو جب کوئی اور راستہ نہیں ملتا تو وہ آرڈیننس کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ دونوں حکمراں اور اپوزیشن صدر جمہوریہ کی اس نیک نصیحت پر سنجیدگی سے غور کریں گی۔
(انل نریندر)

عیسائیوں کے سپریم پیشوا پوپ فرانسس کے لائق تحسین خیالات!

کیتھولک عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے اپنے ایشیائی دورے کے دوران سری لنکا اور منیلا میں اپنے خطابات میں کہا سماج میں مذہبی کٹرتا ،کرپشن اور ناانصافی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ اس کی پوری ذمہ داری پالیسی سازوں اور حکمرانوں کی بنتی ہے۔ صحافیوں سے مخاطب پوپ فرانسس نے فرانسیسی میگزین ’’شارلی ہیبدو‘‘ پر ہوئے آتنکی حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا اظہار آزادی ضروری ہے لیکن اس کی آڑ میں دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور انہیں بھڑکانا غلط ہے۔ ایسا ہونے پر اس کیلئے سخت رد عمل جھیلنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا مذہبی آزادی اور اظہار آزادی ہر کسی کا بنیادی حق ہے لیکن اس حق کے ساتھ یہ بھی فرض وابستہ ہے کہ ایسا کچھ بھی کرتے وقت یہ خیال رکھنا جانا چاہئے کہ اس سے کسی کو ٹھیس نہ پہنچے بلکہ اس میں سب کی بھلائی شامل حال ہو۔ پوپ نے یہ کہہ کر بھی صاف اشارہ دے دیا کہ میگزین میں پیغمبر حضرت محمدؐ کا کارٹون چھاپا جانا صحیح نہیں تھا۔ پوپ نے منیلا پہنچ کر یہاں کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو غریبوں کے خلاف ہورہی ناانصافی ،مظالم اور کچلنے والی پالیسیوں کے خلاف آگاہ کرتے ہوئے کہا ان کی وجہ سے ہی سماج میں زبردست نابرابری کا احساس پیدا ہورہا ہے جس کے نتیجے تشدد اور غصے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔پوپ فرانسس نے کہا حکمرانوں اور منتظمین کو پوری سمجھداری اور ایمانداری کے ساتھ عوام ، خاص کر غریب طبقے کے لوگوں کے لئے کام کرنا چاہئے۔ کرپشن کوجڑ سے ختم کیا جانا چاہئے۔ امریکہ نے پوپ کے تبصرے پر نپا تلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان زورش آرنیسٹ نے توجہ دلائی ہے کہ اظہار آزادی کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے اور اظہار آزادی پر نا اتفاقی کو لیکر تشدد کو کسی بھی طرح جائز نہیں مانا جاسکتا۔ ان کا کہنا ہے اظہار آزادی کے سلسلے میں عوامی اظہار آزادی کا کوئی فرض نہیں ہے جو تشدد اور کارروائی کو کسی بھی طرح سے مناسب ٹھہرا سکتا ہو۔ 
جیسا یہ ایک اصول ہے جسے ہم نے کئی موقعوں پر دوہرایا ہے جرمنی کی چانسلر انجیلا مارکل نے فرانس میں ہوئے حملے کے بعد مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کئے جانے کے خلاف مضبوطی کے ساتھ اپنی آواز اٹھائی لیکن ساتھ ہی کہا کہ اسلامی مذہبی پیشواؤں کو اسلام اور دہشت گردی کے بیچ واضح لائن کھینچنی چاہئے۔ مارکل میں آتنک وادی حملے میں مارے گئے17 لوگوں کو جرمن پارلیمنٹ میں خراج عقیدت پیش کئے جانے کے بعد یہ بات کہی۔ ہم پوپ فرانسس کے خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہمارا بھی ہمیشہ خیال رہا ہے کہ آپ کسی بھی مذہب یا مذہبی رسم و رواج و روایات کا مذاق نہیں اڑا سکتے۔ ہم سبھی کو سبھی مذہبوں کا احترام کرنا چاہئے۔ مذہب کبھی بھی تشدد نہیں سکھاتا۔ اگر غلط ہورہا ہے تو مذہب کے ان ٹھیکیداروں کی وجہ سے ہورہا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...