Translater

02 مئی 2015

چین کو چبھ رہا ہے نیپال میں ٹیم مودی کا آپریشن میتری

نیپال کی ٹریجڈی سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے قدرتی آفات مینجمنٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ٹیم کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ٹریجڈی کے 6 گھنٹے کے اندر ہی راحتی سامان اور بچاؤ ٹیم کے ساتھ کاٹھمنڈو میں پہلا جنگی جہاز اتار کر وزیر اعظم نریندر مودی نے دکھا دیا کہ ان کے فیصلے کو یہ ٹیم فوری عملی جامہ پہنانے میں نہ صرف اہل ہی ہے بلکہ ماہر بھی ہے۔ اس کے پہلے پچھلے سال ستمبر میں کشمیر وادی میں آئے تباہ کن سیلاب سے پیدا ٹریجڈی سے نمٹنے میں یہ ٹیم اپنا کمال دکھا چکی ہے۔ ٹیم مودی کومستعدی اور شدت سے کام کرنے کی تلقین بھی خودمودی ہی دیتے ہیں۔ سنیچر کو آئے زلزلے کے ایک گھنٹے کے اندر وزیر اعظم واقعے سے بھارت میں متاثرہ بہار اور سکم کے وزرائے اعلی بھوٹان میں ہندوستانی سفارتخانے اور نیپال کے صدر سے بات کر چکے تھے۔یہی نہیں تین گھنٹے بعد ہی حالات کا جائزہ لینے کے لئے اعلی سطحی میٹنگ بلا لی تھی۔ زلزلے کے دو گھنٹے بعد ہی کیبنٹ سکریٹری اجیت سیٹھ قومی قدرتی آفات کمیٹی (این ڈی ایم سی) کی میٹنگ کررہے تھے۔اس دوران 3 بجے تک راحت سامان اور بچاؤ ٹیم کے ساتھ پہلے جہاز کو ہنڈن ہوائی اڈے پر تیار ہونے کا حکم دیا جا چکاتھا۔ نرپیند مشر، اجیت ڈوبل ایک طرف وزیر اعظم کی ہدایت کو متعلقہ افسران تک پہنچا رہے تھے وہیں دوسری طرف مختلف ایجنسیوں سے ملی معلومات کووزیر اعظم تک پہنچا رہے تھے۔ وزیر اعظم کی طرف سے اتنا تیز اور اچھا رد عمل شاید اس لئے بھی ملا کیونکہ جب گجرات میں زلزلہ آیا تھا تو اسی رفتار سے بچاؤ و راحت کا کام کیا گیا تھا۔ شری نریندر مودی کو قدرتی آفات مینجمنٹ کا اچھا تجربہ ہے اس لئے انہوں نے اتنی جلدی راحت اور بچاؤ کا آپریشن ’’میتری‘‘ لانچ کردیا۔ نیپال میں زلزلہ متاثرین کیلئے بھارت کی جانب سے فوری بھیجی گئی انسانی مدد کے تئیں نیپال کی عوام نے مودی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ تمام دقتوں سے مقابلے کے باوجود نیپالی باشندوں سے مشکل کی گھڑی میں بھارت کی طرف سے پہنچائی گئی مد د کو لیکر خوشی اور تشفی دکھائی دے رہی ہے۔ اس مدد کے لئے ہر کسی کی زباں پر مودی کا نام ہے۔ جنتا ہی نہیں بلکہ نیپال سرکارنے بھی ہندوستان کے تئیں شکریہ ظاہر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون نے بیان میں بھارت کا نام لئے بغیر کہا کہ جن لوگوں نے سب سے پہلے نیپال کی مدد کیلئے ہاتھ بڑھایا ہے وہ مبارکباد اور احترام کے مستحق ہیں۔ ہاں ایک دیش ہے جو بھارت کی مستعدی اور راحت رسانی کے آپریشن میتری سے خوش نہیں ہے ، وہ ہے چین۔ نیپال کے اخباروں میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے نیپال سرکار سے بھارت کے راحت و بچاؤ مہم پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بھارت پر الزام لگایا ہے کہ ہندوستانی ہیلی کاپٹر میتری آپریشن کے بہانے چینی خطے میں تاک جھانک کررہے ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ بھارت کے ’’میتری‘‘ آپریشن کو بند کرنے تک کی بھی مانگ کر ڈالی ہے۔
(انل نریندر)

کیا واقعی آئی ایس سرغنہ بغدادی مارا گیا ہے

خبر آئی ہے کہ عراق اور شام کی خطرناک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کا سرغنہ ابو بکر البغدادی کا کھیل آخر کار ختم ہوگیا ہے۔ مارچ میں امریکہ کی رہنمائی والے ہوائی حملوں میں بری طرح زخمی ہو چکے بغدادی کی موت ہوگئی ہے۔ان حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے ہی اس کے بچنے کی امید بہت کم بتائی جارہی تھی۔ اب ریڈیو ایران نے بھی بغدادی کی موت کی تصدیق کردی ہے۔ ابوبکر البغدادی نے عراق اور شام میں وسیع پیمانے پر قتل عام مچا کر بڑے پیمانے پر قبضہ کرلیا تھا۔ وہاں خلیفہ راج قائم کر خود کو خلیفہ اعلان کردیا تھا۔ امریکہ نے اس پر 1 کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ البغدادی کے مارے جانے کا دعوی ریڈیو ایران نے پیر کے روز کیا۔ کچھ دن پہلے خبر آئی تھی کہ 18 مارچ کو امریکی ڈرون حملے میں بغدادی بری طرح زخمی ہوگیا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں نے اس خبر کو غلط بتایا تھا کہ ایران ریڈیو کے مطابق بغدادی 18 مارچ کو ڈرون حملے میں بری طرح زخمی ہوگیا تھااسے شام کی گولان پہاڑیوں میں ایک ہسپتال میں بھرتی کروایا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق اب اسلامک اسٹیٹ اپنے جانشین کی تلاش میں سرگرم ہوگیا ہے۔ ویسے یہ پہلی بار نہیں ہے جب بغدادی کی موت کی خبریں آئی ہیں۔ اس سے پہلے پچھلے سال بھی آئی ایس سرغنہ کے امریکی قیادت والے ہوائی حملے میں سنگین زخمی ہونے کی اطلاع ملی تھی لیکن اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔حالانکہ ابھی اس خبر کی امریکہ نے تصدیق نہیں کی ہے۔حال ہی میں برطانوی اخبار گارجن کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ18 مارچ کو بغدادی امریکی ہوائی حملے کا نشانہ بن گیا تھا۔ بغدادی شامی سرحد کے پاس ضلع الباز میں بری طرح زخمی ہوگیا تھا۔ الباز سنی اکثریتی علاقہ ہے جہاں حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ یہ علاقہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ مانا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس کی حالت میں بہتری نہیں آرہی ہے۔
اس کے زخمی ہونے کی تصدیق ایک عراقی مشیر اور مغربی سفارتکار نے بھی کی تھی۔ امریکہ نے بغدادی کو زندہ یا مردہ پکڑنے پر 60 کروڑ روپے کا انعام رکھا تھا۔ موجودہ وقت میں آئی ایس کو دنیا کی سب سے امیر ترین دہشت گرد تنظیم مانا جارہا ہے۔ بتاتے ہیں کہ عراق کے علاوہ اس تنظیم کا دائرہ کسی نہ کسی شکل میں جارڈن ، اسرائیل، فلسطین، کویت، لبنان، شام اور جنوبی ترکی تک پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کے دو درجن سے زیادہ ملکوں کی کٹر پسند جماعت اسے تعاون دیتے ہے۔ یہ القاعدہ کو پیچھے چھوڑ چکی ہے اور بڑے پیمانے پر القاعدہ کے لوگ بھی آئی ایس سے جڑ گئے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ اس تنظیم کا بجٹ قریب سوا دو ارب ڈالر کا ہے اور تیل کی بکری اس کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ آئی ایس نے تیل اکثریتی ملک عراق اور شام کے کئی بڑے تیل کارخانوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ بغدادی زندہ ہے یا مر گیا ہے یہ معمہ ابھی بنا ہوا ہے۔ جلد سچائی سامنے آجائے گی۔
(انل نریندر)

01 مئی 2015

ممتا کی سونامی میں اڑ گئے امت شاہ

مغربی بنگال میں ہوئے بلدیاتی چناؤ میں ممتا کی سونامی کے آگے بھاجپا قومی صدر امت شاہ اڑ گئے لگتے ہیں۔ مغربی بنگال کے بلدیاتی چناؤ نتائج نے مشرقی ریاستوں میں اپنی بنیاد مضبوط ہونے کا لگاتار دعوی کررہے امت شاہ کو زبردست سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی بلدیاتی چناؤ میں حکمراں ترنمول کانگریس کو سخت ٹکر دینا تو دورلیفٹ پارٹیوں اور کانگریس سے بھی پیچھے چھوٹ گئی ہے۔ ریاست کی دو میونسپل کارپوریشنوں میں سے بھاجپا ایک پر بھی قابض ہونے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری طرف شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے سمیت کرپشن کے کئی محاذ پر لڑ رہی ٹی ایم سی نے ریاست کی قریب 80 فیصد میونسپلٹیوں میں قبضہ کرکے صوبے کے ووٹروں میں اپنا جادو برقرار رکھنے کا صاف اشارہ دے دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بلدیاتی چناؤ سے پہلے بھاجپا صدر امت شاہ نے ریاست کا طوفانی دورہ کیا تھا۔ لوک سبھا چناؤ میں تاریخی جیت کے بعد بھاجپا نے مشرقی ریاستوں میں بھی مستقبل میں کامیابی حاصل کرنے کے بڑے بڑے دعوے کئے تھے۔ ان دعوؤں کی پول مغربی بنگال کے بلدیاتی چناؤ نتائج نے پوری طرح کھول دی ہے۔ حالانکہ بھاجپا کو کولکتہ میونسپل کارپوریشن میں سال2010ء کے مقابلے اس بار4 سیٹیں ہی زیادہ ملی ہیں اس کے باوجود پارٹی سب سے اہم کارپوریشن میں چوتھے مقام پر رہی ہے۔ چناؤ میں بھاری تشدد اور دھاندلی کے الزامات کے باوجود ترنمول کانگریس نے کولکتہ میونسپل کارپوریشن کی 144 میں سے 114 سیٹوں پر اپنا قبضہ بنائے رکھا ہے۔ یہاں سی پی ایم کی رہنمائی والے لیفٹ فرنٹ کو 15 ، کانگریس کو5 اور بھاجپا کو7 سیٹوں پر ہی تشفی کرنی پڑی۔ باقی 3 سیٹیں دیگر پارٹیوں کو ملی ہیں۔ کولکتہ میونسپل کارپوریشن کیلئے18 اپریل کو ووٹ پڑے تھے۔ پچھلے سال عام چناؤ میں کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے قریب23 وارڈوں پر بھاجپا نے ترنمول کانگریس کو پچھاڑ دیا تھا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کے اسمبلی حلقے بھوانی پور میں بھی بھاجپا نے بڑھت بنائی تھی۔ کولکتہ میونسپل کارپویشن میں ترنمول کانگریس نے بھلے ہی شاندار کامیابی حاصل کی ہو لیکن اس کے کئی سرکردہ لیڈر اس بار ہار گئے۔ مرکزی سیاست میں آنے کے دو برس بعد ہی بھاجپا کے سب سے کامیاب پردھانوں میں شمار ہوئے امت شاہ ہر اس حصے پر بھاجپا کی چھاپ چھوڑنا چاہتے ہیں جو اچھوتا رہا ہے۔ شمال مشرقی ریاست ان کی ترجیحاتی فہرست میں ہے۔ 10 کروڑ سے زیادہ ممبروں کے ساتھ بھاجپا دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کا دعوی کررہی ہے۔ امت شاہ کی اہم اسکیموں پر کولکتہ کے یہ چناؤ ضرور تھوڑا جھٹکا لگائیں گے بیشک امت شاہ نئے نئے شہروں ، ریاستوں میں پارٹی کی بنیاد بنائیں لیکن یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ وہ کامیاب ہوئی ریاستوں میں زیادہ توجہ دیں۔مغربی بنگال کی اس ہار کا امت شاہ کو پوسٹ مارٹم کرنا ہوگا۔ سارے الزامات کے باوجود ممتا کا جادو آج بھی برقرار ہے۔
(انل نریندر)

دہلی کے وزیر قانون جتندر سنگھ تومر کی فرضی ڈگری کامعاملہ

عام آدمی پارٹی کی سرکار میں وزیر قانون جتندر سنگھ تومر کی فرضی ڈگری کا معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔بہار کی یونیورسٹی نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے تومر کی جانب سے داخل ایل ایل بی کا پروویجنل سرٹیفکیٹ فرضی ہے اور ان کے ریکارڈ میں جتندر تومر نام سے ایسا کوئی سرٹیفکیٹ جاری ہی نہیں کیا گیا۔جسٹس راجیو مکڑ کے سامنے بہار کی تلک مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی کے سالیسیٹر منندر کمار سنگھ نے حلف نامے کے ذریعے جواب میں کہا کہ جانچ سے پتہ چلا ہے تومر نے 18 مئی 2001ء کو رجسٹرار راجندر پرساد سنگھ کے دستخط سے جاری جو پروویجنل سرٹیفکیٹ نمبر3687 کو اپنا دکھایا ہے اس میں تومر سیکنڈ کلاس پاس دکھایا گیا ہے۔ دراصل عام آدمی پارٹی اپنے ہی ورکروں اور وزرا کی کرتوت سے جگ ہنسائی کی علامت بنتی جارہی ہے۔ ایک تنازعہ ختم نہیں ہوتا کے دوسرا سامنے آجاتا ہے۔ ہائی کورٹ میں معاملے کی سماعت کے دوران تومر کی ڈگری کو فرضی بتایا لیکن ابھی کورٹ نے اپنا فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ بھاجپا نے اسمبلی چناؤ کے دوران بھی اس فرضی ڈگری کا معاملہ اٹھایا تھا لیکن پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے اسے بھاجپا کا گمراہ کن پروپگنڈہ قرار دیتے ہوئے اسمبلی چناؤ میں جیت حاصل کرنے کے بعد تومر کو وزیر بھی بنایا۔ اس تنازعہ میں نیا موڑ اس وقت آیا جب چناؤ میں نامزدگی کے دوران حلف نامے میں جتندر سنگھ تومر نے خود کو بھاگلپور یونیورسٹی سے ایل ایل بی پاس ہونے کا ذکر کیا تھاجبکہ یونیورسٹی کے رجسٹرار نے پیر کے روز ہائی کورٹ میں راجیو شنکر کی عدالت میں بتایا تومر کی قانون کی ڈگری فرضی ہے۔ڈگری کو فرضی بتائے جانے کے بعد تومر نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے اس مسئلے پر اپنی صفائی دی۔ انہوں نے کہا بھارتیہ جنتا پارٹی سازش رچ رہی ہے اور انہیں بدنام کررہی ہے جبکہ ان کے پاس کوئی ڈگری فرضی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جس آر ٹی آئی کے ذریعے غیر قانونی یونیورسٹی سے ان کی ڈگری کی جانکاری لی گئی تھی اس آر ٹی آئی میں غلط نمبر ڈالا گیا ہے جو ڈگری پر درج نہیں ہے۔ جب ان سے تلک مانجھی یونیورسٹی بھاگلپور سے ملی ڈگری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میرے پاس سبھی دستاویز ہیں جنہیں عدالت میں دکھایا جائے گا۔ انہوں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کردیا۔ دہلی پردیش بھاجپا کے صدر ستیش اپادھیائے و سابق ممبر اسمبلی ڈاکٹر نند کشور گرگ نے مانگ کی ہے پہلے ابد یونیورسٹی اور اب بھاگلپور یونیورسٹی کے ذریعے شری جتندر سنگھ تومر کی تعلیمی ڈگریوں کو فرضی بتائے جانے پر ان کے چناؤ کو ناجائز اعلان کیا جائے اور وہ بلا تاخیر استعفیٰ دیں۔ تقریباً یہی مانگ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے ماکن نے بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کیجریوال کو سب کچھ پتہ ہوتے ہوئے بھی ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہ کئے جانا حیرت انگیز ہے۔ ماکن نے کہا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شری کیجریوال کو اس دھاندلی کا پتہ لگتے ہی فوراً قانون منتری کو برخاست کردینا چاہئے تھا۔ دیکھیں معاملہ آگے کیا کرونٹ لیتا ہے۔
(انل نریندر) 

30 اپریل 2015

گرین پیس کے بعد فورڈ فاؤنڈیشن پر حکومت کا شکنجہ!

وزارت داخلہ نے رضاکارانہ اداروں کو پیسہ مہیا کرانے والی دنیا کی سب سے بڑی مالی ایجنسی فورڈ فاؤنڈیشن پر لگام لگاتے ہوئے اسے مانیٹرنگ فہرست میں ڈال دیا ہے۔ اس سے پہلے ماحولیات کیلئے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کا لائسنس منسوخ کرکے بھارت میں اس کے سبھی کھاتے سیل بند کردئے تھے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق بیرونی ممالک سے اقتصادی مدد یافتہ غیر سرکاری انجمنوں میں سے 10 ہزار سے زیادہ نے 2009ء سے اب تک کے آمدنی و خرچ کا حساب نہیں دیا تو یہ انجمنیں منی لانڈرنگ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتی ہیں۔ فروری میں وزارت داخلہ کی خفیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ انجمنیں غیر ملکی پیسے کی طاقت پر ماحول بنانے میں سرگرم ہیں جس سے ترقی کے کئی منصوبوں میں رکاوٹ ہورہی ہے۔وزارت داخلہ نے اسی مہینے کی9 تاریخ کو بین الاقوامی این جی او گرین پیس انڈیا کو غیر ملکی فنڈنگ پر یہ کہتے ہوئے روک لگادی تھی کہ وہ بھارت کی اقتصادی ترقی کے خلاف کام کررہی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس فیصلے کے بعد بھارت میں کسی بھی ایجنسی کو فورڈ فاؤنڈیشن سے پیسہ لینے سے پہلے سرکار کی اجازت لینا ہوگا۔ دراصل گجرات سرکار نے وزارت داخلہ سے شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکی انجمن فورڈ فاؤنڈیشن اندرونی معاملوں میں مداخلت کررہی ہے اور اس کی سماجی رضاکارتیستا سیتل واڑ کے این جی او کے ذریعے ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ وزارت داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ سرکاری ادارے اقتصادی معاملوں کے محکمے کی منظوری کے بعد ہی فورڈ سے پیسہ حاصل کرسکتے ہیں۔ وزارت کی ہدایت پر ریزرو بینک کے سبھی سرکاری اور پرائیویٹ بینکوں سے کہا ہے کہ اگر کسی ادارے کے پاس وزارت کی اجازت نہیں ہے تو اس کے کھاتے میں پیسہ ٹرانسفر نہ کیا جائے۔ فورڈ فاؤنڈیشن کے پیسے پر خفیہ ایجنسیاں کئی ماہ سے نظر رکھ رہی ہیں۔ اسی کوشش میں اس کی 30 کروڑ کی فنڈنگ پر روک لگائی گئی ہے۔ فاؤنڈیشن جن انجمنوں کو پیسہ مہیا کرا رہی تھیں انہوں نے قاعدے کے تحت وزارت کی سالانہ رپورٹ اور بیلنس شیٹ نہیں دی ہے۔ سرکار کے فیصلے کے خلاف کچھ انجمنوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے انہیں اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو سرکار کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔حالانکہ سرکار کے علاوہ دیش کے کئی دانشوروں نے بھی ان انجمنوں کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ غیر ملکی چندہ حاصل کررہی غیر سرکاری انجمنوں( این جی او) پر کارروائی کرتے ہوئے سرکار نے تقریباً9 ہزار این جی او کا لائسنس غیر ملکی چندہ قواعد قانون کی خلاف ورزی کرنے کے سلسلے میں منسوخ کردیا ہے۔ ایک دوسرے حکم میں وزارت داخلہ نے کہا کہ سال2009-10 ،2010-11 ، 2011-12 کے لئے سالانہ ریٹرن نہیں داخل کرن کے لئے 10343 این جی او کو نوٹس جاری کئے گئے تھے۔ ان این جی او س کہا گیا ہے کہ وہ بتائیں کہ انہیں کتنا چندہ ملا ہے بیرونی ممالک سے۔ اس چندے کا ذریعہ کیا ہے، کس مقصد سے لیا گیا اور کہاں خرچ کیا گیا؟ یہ تنازعہ لمبا چلے گا اور کئی حقائق سامنے آئیں گے۔
(انل نریندر)

عمر نہیں ،مینٹیننس ہو فٹنس کا پیمانہ!

مرکزی سرکار نے پیر کو این جی ٹی کا رخ کر 15 سال پرانے پیٹرول اور 10 سال پرانی ڈیزل گاڑیوں کے دہلی این سی آر میں چلائے جانے پر پابندی لگانے والے اس کے حکم کو التوا میں رکھنے کی مانگ کی ہے۔ اس کے پیچھے یہ بنیاد بتائی ہے کہ یہ عوامی و ضروری خدمات کومتاثر کرے گا۔سرکار نے اپنی عرضی میں ٹریبونل کو اس سلسلے میں اس کی طرف سے اٹھائے جارہے اقدامات کی جانکاری دی اور انہیں لاگو کرنے کیلئے 6 مہینے کا وقت مانگا ہے۔ گرین بینچ نے رپورٹ کو جائزے کیلئے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 1 مئی کو ہوگی اور مرکز کی طرف سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل پنکی آنند نے دلیل دیتے ہوئے این جی ٹی کو بتایا کہ دہلی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی زبردست ضرورت ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ پرائیویٹ گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں اور سرکار پبلک ٹرانسپورٹ کوزیادہ آرام دہ اور یوزر فرینڈلی بنانے کے لئے مسلسل کام کررہی ہے لیکن اس کیلئے ہر سال بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس درمیان لوگوں نے گاڑیاں خریدنے میں اپنا کافی پیسہ لگادیا ہے۔ قرضہ لے لیا ہے اس امید سے کہ ان کی گاڑیاں سالوں سال سڑکوں پر دوڑتی رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی ہے کہ وہ کئی سرکاریں محکموں کی طرف سے لوگوں کو ضروری سیوائیں دی جارہی ہیں جن میں ہسپتال، میونسپل کارپوریشن،پوسٹل ڈپارٹمنٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے پاس موجود گاڑیوں میں زیادہ تر 10سے15 سال پرانے گاڑیاں ہیں۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کیرج میں بھی 10 سے15 سال پرانے گاڑیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ ان کی حالت بھی اچھی ہے۔ مسٹر پنکی آنند نے بتایا کہ 10 سال پرانی صرف7 فیصد گاڑیاں ہیں جبکہ 10 سال سے کم پرانی 92 فیصد گاڑیاں ہیں۔ حکومت کی طرف سے دلیل دی گئی ہے کہ عمر نہیں مینٹیننس ہو فٹنس کا پیمانہ۔ موٹر وہیکل ایکٹ 1998 ء کے تحت گاڑیوں کے لئے کوئی خاص میعاد حد طے نہیں کی گئی ہے۔گاڑی کی عمر تبھی ختم ہوتی ہے یا مانی جاتی ہے جب مینٹیننس کے باوجود فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ملتا۔ لوگوں نے قرضہ لیکر خریدی ہیں گاڑیاں تاکہ وہ کئی سال چلیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے پر ہورہا ہے کام لیکن چاہئے بھاری سرمایہ کاری۔ ماہرین کی ٹیم کی ریسرچ کے مطابق پرانی گاڑیوں سے پھیلنے والی آلودگی کی مقدار کم ہے۔ ایڈوکیٹ بلندوشیکھر اور راجیش رنجن کی جانب سے دائر عرضی میں آئی آئی ٹی دہلی کے پروفیسر دنیش موہن کے 12 اپریل 2015ء کو شائع ریسرچ آرٹیکل اور بینچ میکنگ وہیکل اینڈ پیسنجر ٹریول کریکٹ اسکلزان دلی فار آن روڈ امیشن انالیسس پر آئی آئی ٹی دہلی کے چار فیصد پروفیسرز کے مشترکہ آٹیکل کا ذکر کیاگیا ہے۔ اس کی بنیاد پر مرکز کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عمر کی بنیاد پر گاڑیوں پر پابندی لگانے جیسے سخت قدموں سے آلودگی کے مسئلے کا پوری طرح سے حل نہیں ہوگا۔ آلودگی کے کئی اور اسباب بھی ہیں جن پر توجہ دینی ہوگی۔
(انل نریندر)

29 اپریل 2015

سب کچھ تھم گیانہیں تھمی تو پشوپتی ناتھ کی آرتی

نیپال میں7.9 ریختر اسکیل کا زلزلہ اتنا طاقتور تھا کہ دنیا کی سب سے اونچی پربت چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ ماؤنٹ ایوریسٹ کے آدھار کیمپ پر چٹانیں کھسکنے سے 18 کوہ پیماؤں کی موت ہوگئی اور کئی دیگر لاپتہ ہیں۔نیپال ٹورازم وزارت کے ترجمان گیانندر سریشٹ نے کہا کہ آدھار شیورمیں چٹانیں کھسکنے کے بعد سینکڑوں غیر ملکی کوہ پیماؤں اور گائڈوں کے لاپتہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ زلزلہ کے وقت ماؤنٹ ایوریسٹ آدھار شیور میں قریب 400 غیر ملکیوں سمیت کم سے کم 1 ہزار کوہ پیماں موجود تھے۔ ایوریسٹ کو کافی نقصان پہنچا ہے یہاں تک کہ کوہ پیماؤں کے بیس کیمپ تباہ ہوچکے ہیں۔ انڈین ایئرفورس نے یہاں سے 19 لاشیں نکالی ہیں۔ یہ سبھی غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہیں۔ کل ملاکر ہندوستانی فوج نے ماؤنٹ ایوریسٹ سے 61 کوہ پیماؤں کو بچایا جبکہ 19 لاشوں کو باہر نکالنے میں مددکی۔نیپال میں آئے خوفناک زلزلے سے تاریخی کاٹھمنڈو سمیت کئی قدیم مندر تباہ یا بری طرح سے ٹوٹ گئے ہیں۔کاٹھمنڈو میں لکڑیوں سے بنا16 ویں صدی کا میموریل ہے۔ اس سے ہی راجدھانی کا نام رکھنے کی تلقین ملی۔کاٹھمنڈو کے علادہ جو دیگر قدیم مندر تباہ ہوئے ان میں پنچتلے مندر 9 منزلہ بسنت پور دشااوتار مندر اور کرشنا مندر شامل ہیں۔ مدورے سے آئے سی ایم راما سوامی نے کہا،15 لوگوں کے ساتھ پشوپتی ناتھ کے درشن کرنے اور کاٹھمنڈو گھومنے آئے تھے۔ پشوپتی ناتھ مندرمحفوظ ہے وہاں درشن بھی ہوئے،زلزلے کے بعد زندہ بچے تو لگا بھگوان مل گئے۔ پورے شہر میں سناٹا ہے سب کچھ تھم سا گیا ہے کہیں ہلچل ہے تو پشوپتی ناتھ مندر کے پیچھے بھاگمتی ندی کے ساحلوں پر چتائیں جل رہی ہیں۔ لوگ رشتے داروں کے انتم سنسکار کے انتظار میں شوو لئے گھاٹ پر گھنٹوں بیٹھے ہیں۔ شام کو تیز بارش ہونے لگی تو میں (سی ایم راما سوامی) پشوپتی ناتھ مندر پہنچے تودیکھا کے آرتی کی تیاری ہورہی ہے۔ ہر آنکھ آنسو سے نم تھی ، دل میں اپنوں کو کھونے کا غم تھا لیکن بابا سے کوئی ناراضگی نہیں آرتی ہوئی اسی اعتماد اور شردھا کے ساتھ جیسی صدیوں سے ہوتی آرئی ہے۔ عام طور پر کاٹھمنڈو سے دہلی کا کرایہ 5 ہزار روپے ہونے کے باوجود کمپنیاں مسافروں سے ایک ٹکٹ کا 20 ہزار روپے تک وصول رہی ہیں۔ ہندوستانی جہاز میں آپ اپنی پہچان کا کوئی ثبوت دکھانے پر مفت سفر کررہے ہیں۔ سنیچر کا زلزلہ نیوکلیائی بم سے بھی سینکڑوں گنا طاقتور تھا اس سے نکلی توانائی ہیروشیما میں گرائے گئے نیوکلیائی بم سے 504.4 گنا زیادہ تھی۔زلزلے کا مرکز زمین کے اندر زیادہ گہرائی میں نہ ہوتا تو یہ نیپال ۔بھارت کے ساتھ ساتھ ساؤتھ ایشیا میں اور زیادہ تباہی ثابت ہوتی۔ زیادہ گہرائی میں آئے زلزلے کا دائرہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اس سے نقصان کم ہوتا ہے۔ سنیچر کو آئے زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے قریب12 کلو میٹر نیچے ہونے کی وجہ سے نقصان توقع سے کم ہوا۔
(انل نریندر)

بھاری تباہی کے ڈھیرے پر ہے دہلی

زلزلے کے نظریئے سے دہلی تباہی کے دہانے پر ہے۔ راجدھانی میں زیادہ تر مکانات کو دیکھ کر اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی خوفناک زلزلہ آجائے تو دہلی کا کیا ہوگا؟ جب کبھی دنیا میں زلزلہ آتا ہے یا دہلی کے آس پاس کے علاقے میں زلزلہ آتا ہے تو دہلی کا تذکرہ ہونے لگتا ہے اور جیسے جیسے وقت گزرتا ہے سب بھول جاتے ہیں اور سب کی پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔ مانو سب ٹھیک ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ابھی تک کوئی 6 ریختر اسکیل سے زیادہ کا زلزلہ دہلی میں نہیں آیا۔ورنہ بہت نقصان ہوسکتا ہے۔ سسمک زون چار میں آنے کے چلتے دہلی کی 70 فیصد سے زیادہ تعمیرات زلزلے کے نقطہ نظر سے خطرناک ہیں۔ یہاں کام مسلسل جاری ہے وہیں ووٹ بینک کی سیاست میں سرکار بھی غلط تعمیرات کی منظوری دینے پر تلی ہوئی ہے۔مزید ایف اے آر(فلور ایریا ریشیو) دے کر تعمیرات اور بھی زیادہ خطرناک بنائی جارہی ہیں۔ ایسے میں زلزلے کی تیزی 6 سے زیادہ ہونے پر دہلی کی تباہی ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔ وزیر آباد سے بابر پور تک جمنا بہاؤ خطے میں ہوئی تعمیرات بیحد خطرناک ہیں۔ ماہرین کی مانیں تو زلزلے کا ذرا سا بھی تیز جھٹکا اس پورے علاقے میں رہنے والے قریب50 لاکھ لوگوں کی جان کیلئے آفت بن سکتا ہے۔ پریشانی کا سبب یہ بھی ہے کہ جمنا کنارے ایسے لوگوں کے مکان ہیں جن کی گزشتہ 10 سال میں کوئی مرمت نہیں کرائی گئی۔ ظاہری طور سے ان میں بسے لاکھوں لوگ زبردست دہشت میں ہوں گے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ نیپال میں جس طرح سے زلزلہ آیا ہے اگر دہلی میں آجائے تو دہلی کا70 فیصد صفایا ہوجائے گا۔ وجہ دہلی شہر میں 30 فیصد عمارتیں ہیں زلزلے سے محفوظ ہیں۔ ان عمارتوں کے باقی کے مقابلے قدرتی آفت کی صورت میں بچے رہنے کے زیادہ امکان ہیں۔ مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ پانی کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کیلئے زمینی پانی کی زیادہ کھنچائی ہورہی ہے۔ جس سے علاقہ ریگستان میں تبدیل ہورہا ہے۔
جغرافیائی ماہرین کے مطابق زلزلے کی رفتار کا اثر سخت علاقے کی بہ نسبت ریتیلی زمین پر زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر شہر میں تیز زلزلہ آتا ہے تو زیادہ بربادی ہوگی۔ دوسری طرف قدرتی آفات مینجمنٹ قانون بنے کے 10 سال بعد بھی راجدھانی میں کسی بھی آفت سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس پلان نہیں بن سکا ہے۔ دہلی سرکار ہائی کورٹ میں بھی یہ بات قبول کر چکی ہے۔ چیف جسٹس جی۔ روہنی، جسٹس راجیو سہائے اینڈ لا کی بنچ کی مداخلت کے بعد سرکار نے قدرتی آفات قانون کے تحت اسکیم بنانے کا یقین دلایا ہے۔ ایک عرضی کی سماعت کے دوران بنچ نے کہا تھا قانون کو بنے قریب ایک دہائی گزر چکی ہے۔اب کیا اس میں 100سال لگیں گے۔ قدرتی آفات مینجمنٹ قانون کے تحت نہ صرف فوری راحت و بچاؤبلکہ متاثرین کی بساست کیلئے بھی خصوصی پلان بنانے کی سہولت ہے۔دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ دہلی بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے اور کسی کو اس کی فکر نظر نہیں آتی بس اوپر والے کا ہی سہارا ہے۔
(انل نریندر)

28 اپریل 2015

پارٹی کی ساکھ بدلنے کیلئےراہل بابا کیدار ناتھ کی شرن میں

تقریبا دو مہینے نامعلوم جگہ پر گزارنے کے بعد اپنی امیج اور ساکھ بدلنے کیلئے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی 11کلو میٹرلمبی انتہائی مشکل پیدل یاترا کرکے بابا کیدار ناتھ کے درشن کرنے پہنچے۔ راہل نے گوری کند سے کیدار ناتھ کے لئے پیدل یاترا کی تو ان کے چہرے پر زبردست جوش نظر آیا۔ تین سال پہلے میں بھی کیدار ناتھ گیا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ یاترا کتنی مشکل ہے میں راہل گاندھی کو بابا کیدار کی شرن میں آنے کے لئے مبارک باد دیتا ہوں ۔وجہ جو بھی رہی ہو لیکن ہم اس یاترا کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ راہل نے گوری کند سے کیدارناتھ کے لئے جب پیدل یاترا شروع کی تو ان کی تیز چال دیکھ کر ایسا لگا کہ ان پہاڑیوں کے عجب راستوں پر وہ بے روک ٹوک چلنے کے عادی ہیں 2013کی قدرتی آفات کے بعد اب کیدار ناتھ یاترا ممکن ہوئی ہے۔ پہلے کے مقابلے اس مرتبہ بھی کچھ آسانی ہوئی ہے مسافروں کو اس مرتبہ 22کلو میٹر کے بجائے 16کلو میٹر ہی چلنا پڑے گا۔ جمعہ کی صبح 11کلومیٹر پیدل چل کر راہل کپارٹ کھلنے کے موقعے پر ہی کیدار ناتھ پہنچے تھے۔ کانگریس کے نائب صدر جمعرات کو دوپہر خصوصی جہاز سے جولی گرانٹ ہوائی اڈہ دہرہ دون اترے تو وہاں ان کا خیرمقدم کے لئے وزیراعلی ہریش راوت موجود تھے راہل نے 11کلو میٹر کا سفرسواچار گھنٹے میں طے کرلیا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ کتنے چست ہیں ان کی سیکورٹی میں لگے ایس پی جی جوانوں کو بھی ان کے برابر چلنے میں پسینہ چھوٹ گئے راہل نے بات چیت میں بتایا کہ اتنا اسٹیمنا نہ توہے مجھ میں۔ آخر روز پانچ سے چھ کلو میٹر دوڑتا ہوں۔ جنیس اور ٹی شرٹ پہنے راہل نے پیدل راستے پر کام کررہے مزدوروں کا حوصلہ بڑھایا تو مقامی چھوٹے موٹے دکانداروں سے بھی بات چیت کی۔ انہوں نے تاجروں سے بھی ان کے کاروبار اور حکومت کے ذریعے دی گئی سفر سہولیات پر بھی معلومات حاصل کی۔ راہل و وزیراعلی نے چھوٹے گھچر والوں ومقامی لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ لنک چولی کی گہری چڑھائی پر تیزی سے قدم بڑھا رہے راہل جوش سے لبریز دکھائی دیئے۔ راہل کی کیدارناتھ یاترا کو لے کر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا ہے۔ کانگریس حلقوں میں یہ بحث خاص ہورہی ہے کہ اقلیتی طبقے پر زیادہ مہربان ہونے کی ساکھ کو بدلنے کے لئے کانگریس کے نائب صدر بابا کیدار ناتھ کے دروازے پہنچے ہیں۔ باقی لیڈروں کاکہناہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں اب کانگریس اکثریتی مخالف ساکھ کو سدھارنے کی سمت آگے بڑھ رہی ہے۔ لوک سبھا چناؤ کی ہار کے بعد سے ہی یہ نظریات سامنے آئے ہیں کہ پارٹی اقلیتیوں کی پیرو کار بن گئی ہے جب کہ اکثریت مخالف ساکھ سے پارٹی کو نقصان ہورہا ہے ۔ اے کے انٹونی سمت تمام سینئر لیڈر پارٹی کی اندرونی میٹنگوں میں یہ سوال کھڑا کرچکے ہیں۔ جون 2013 میں قدرتی آفات کے بعد ہریش راوت کی کوششوں سے چار دھام یاترا پھر شروع ہوئی ہیں۔ ہم شری ہریش راوت کو مبارکباد دیناچاہتے ہیں وجہ چاہے کچھ بھی ہو ہم راہل گاندھی کے بابا کیدار ناتھ کے شرن میں آنے کا سواگت کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ بھولے ناتھ ان کو صحیح راستہ دکھائیں گے۔ جے بابا کیدار ناتھ کی۔ ہر ہر مہا دیو۔

(انل نریندر)

اور اب کمزور مانسون سے نپٹنے کی چنوتی

یہ خبر بلا شبہ مایوسی پیدا کرنے والی ہے کہ اس سال بھی مانسون عام طور سے کم رہے گا جس وقت زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں پچھلے سال کے خراب مانسون اور بعد میں بے موسم بارش اور ژالہ باری کی مار سے شکار ہورہا اسکی ساری امیدیں آگے کی امکانات پر ٹکی تھی۔ پچھلے سال کی بہ نسبت مانسونی بارش سے جو دقتیں پیدا ہوئی وہ گزشتہ دنوں بے موسم بارش اورژالہ باری سے اور بڑھ گئی ہے اب محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ مانسون توقع سے کم ہونے کا اندیشہ ہے محکمہ موسمیات کا مزید کہناہے کہ ہوسکتا ہے کہ مانسونی بارش 93 فیصد تک ہی رہے اس کی وجہ پرشانت مہاساگر میں النینو اثرات کی موجودگی بتائی جارہی ہے۔النینو کی وجہ سے پرشانت مہاساگر کا پانی عام طور سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے اس سے مانسون کے بادلوں کابننا اور بھارت کی طرف سے اس کی رفتار کی کمزور ہوجاتی ہے۔ اگر دیش میں خشک سالی کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو یہ محض دیش کے کسان کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری معیشت کے لئے تشویش کی وجہ بن رہی ہے۔ اگر کسان کی جیب میں پیسہ نہیں ہوگا تو بازار کی چال کو مندی کی زد میں آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ دوسری طرف جب تک مہنگائی کی مار سے نہیں بچایا جاسکتا بھارت میں موسم کے حالات اس بار زیادہ سنگین ہیں پھر بھی اس طرف جتنی توجہ دینے کی ضرورت ہے اتنی نہیں دی جارہی ہے یہ پہلی بار نہیں جب کسان بے موسم بارش کا شکارہوا ہے قریب قریب ہر برس دیش کے کسی حصے میں یا تو سیلاب آتا ہے یا خشک سالی ہوتی ہے اس بار فصلوں کی تباہی کادائرہ ضرور بڑھا ہے لیکن کسانوں کی خودکشی کے معاملے یہ ہی بتا رہے کہ وہ خود کو زیادہ ہی پریشانی میں گھیرتا پارہے ہیں اس بحران کی ایک بڑی وجہ کسانوں کا وہ قرض بھی ہے جو کسانوں لے رکھا ہے اور اب فصل کی بربادی کے چلتے ان کے لئے اس کا چکانا مشکل ہوگیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو یہ پتہ ہوناچاہئے کہ ایک بڑی تعداد میں کسان اپنی ضرورتوں کے لئے ساہوکار۔ سود خوروں سے قرض لیتے ہیں جن کسانوں نے بینکوں سے قرض لیا ہوا ہے ان کی تعداد محدود ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ان کسانوں کو بینکوں سے کچھ راحت مل جائے لیکن ساہوکاروں اور سود خوروں سے قرض لینے والے کسانوں کو کہیں کوئی راحت نہیں ملنے والی۔ قلیل المدتی طور پر محض 93 فیصد بارش ہونے کا ہی امکان ہے جو گھٹ کر 88 فیصد رہ سکتی ہے۔ مرکزی سائنس وتکنالوجی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے ہندوستانی محکمہ موسمیات کے سائنسدانوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے دیش کے کچھ حصوں میں خشک سالی کا اندیشہ جتایا ہے بھارت جیسے دیش میں جہاں کھیتی کا بڑا حصہ موسمی بارش پر منحصر ہے ایسی قیاس آرائیوں کا اثر سنجیدگی سے سمجھاجاسکتا ہے۔ دراصل مانسون پیش گوئیوں کے ساتھ خاص کر بھارت میں یہ مسئلہ ہے کہ ٹھیک ٹھاک سے یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کم بارش کااثر کن علاقوں میں زیادہ ہوگا جو بارش ہوگی وہ کب ہوگی۔ نتیجتاً کسان بروقت ہنگامی حالات سے مقابلے کے لئے تیار نہیں ہوپاتے۔

(انل نریندر)

26 اپریل 2015

بہار میں کال بیساکھی طوفان نے مچائی بھاری تباہی

بہار میں منگل کی رات آیا طوفان تو بیشک گزر گیا لیکن اپنے پیچھے درد ،آنسوکے کئی منظر چھوڑ گیا۔پورنیا، مدھے پورہ،کٹیہار اضلاع میں طوفان نے بھاری تباہی مچائی اور65 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ ڈھائی ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوگئے۔ رات 10 بجے سے آدھے گھنٹے تک طوفان نے وہ تباہی مچائی کہیں درختوں کے ٹوٹنے اور گرنے کی آوازیں تو کہیں جان بچانے کیلئے جدوجہد کرتے لوگوں کی چیخ پکار۔ کئی گھروں کی چھتیں پیڑوں کی ٹہنیوں میں پھنسی نظر آئیں تو کہیں پھونس اور بانس کی ٹاٹ سے بنے غریبوں کے آشیانے زمین دوس دکھائے دئے۔ پورنیا ضلع کے شمال مغرب سے شروع ہوئے طوفان کی رفتار 200 کلو میٹر فی گھنٹہ بتائی جارہی ہے۔ طوفان پہلے تیز ہوا سے شروع ہوا اور پھر موسلہ دھار بارش کے ساتھ تیزی پکڑ لی۔ کہیں کہیں اولے بھی پڑے۔ اسی رفتار سے یہ طوفان مشرق سے ہوتے ہوئے خلیج بنگال کی طرف بڑھ گیا۔ اس سے بائیسی انوم ڈیل کا ڈگوا زون زیادہ تر متاثر ہوا ہے۔ اس درمیان پورنیا کے مشرق کے علاوہ تباہی بھواسی پور،بہورا اورروپولی زون میں بھی جو مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا ۔ طوفان کی ضد میں آکر 500 مویشی بھی مر گئے۔ مدھوبنی ضلع کے شمال مغربی حصے میں 1800 سے زیادہ کچے مکان و جھونپڑیاں زمین دوس ہوگئیں۔ تجزیئے کے مطابق پورنیا میں طوفان کے سبب1.40 لاکھ ایکڑ فصل برباد ہوگئی ہے اس سے تقریباً15 ارب روپے کے نقصان کا اندازہ ہے۔ ضلع میں 5255 ایکڑ زمین میں کیلے کی کھیتی بری طرح مثاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح 52715 ایکڑ میں لگی مکا کی کھیتی برباد ہوگئی۔ سبزی، آم، لیچی کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ شعبہ زراعت کا کہنا ہے کہ 30 کروڑ روپے کا گیہوں،20 کروڑ روپے کا مکا، 1 کروڑ روپے کی سورج مکھی اور 1 کروڑ کی مسور کی فصل برباد ہوئی ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے راحت رسانی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ بے گھر ہوئے لوگوں کو اناج کپڑے اور برتن کیلئے فوری طور پر 6800 روپے دئے جارہے ہیں۔ فی خاندان ایک کوئنٹل اناج اور بے گھر لوگوں کے لئے پالتھین کی چادریں دی جارہی ہیں۔ قدرتی آفات مینجمنٹ محکمے کے پرنسپل سکریٹری نے بتایا کہ طوفان میں ایک ہزار جانوروں کے مرنے کی خبر ہے۔ قریب 10 ضلعوں میں طوفان کا اثر دکھائی دیا۔ بہار میں آندھی طوفان سے ہوئی بھاری تباہی کو لیکر مرکزی سرکار بھی سرگرم ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سے بات چیت کر نقصان کی جانکاری لی اور مرکز سے ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔ اچانک آئے تیز طوفان اور بارش سے مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کے کچھ علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ لوک سبھا میں جمعرات کو ممبران نے طوفان میں بھاری نقصان پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے قومی آفت اعلان کرنے اور بہار کیلئے خصوصی اقتصادی پیکیج دینے کی مانگ کی ہے۔
(انل نریندر)

گھناؤنے جرائم میں16 سال کے لڑکے کو بالغ مانا جائے

نربھیا آبروریزی کانڈ کے بعد یہ مطالبہ مسلسل اٹھتا رہا ہے کہ گھناؤنے جرائم کو انجام دینے والے لڑکوں کے ساتھ ان کی عمر کی بنیاد پر کوئی نرمی نہ برتی جائے۔اب مرکزی سرکار نے اس فیصلے کے ذریعے اس طرف اہم قدم بڑھایا ہے۔جرم کی سنگینی کی بنیاد پر طے کیا جائے گا کہ ملزم لڑکے پر مقدمہ جوئینائل جسٹس کورٹ میں چلے گا یا عام عدالت میں۔ مرکزی کیبنٹ نے لڑکا انصاف قانون میں ترمیم کو منظوری دے دی ہے جس کے مطابق قتل اور آبروریزی جیسے گھناؤنے جرائم کے معاملے میں 16 سے18 برس تک کے لڑکے جرائم پیشہ کے خلاف بالغ ملزموں جیسا مقدمہ چلانے کی سہولت ہے۔ دسمبر 2012ء میں دہلی میں ہوئے نربھیا کانڈ کے بعد سے اس قانون کی شقات کو لیکر بحث چل رہی تھی۔ دراصل اس بربریت آمیز جرائم میں ایک 17 سالہ لڑکا بھی تھا جسے چائلڈ اصلاحت گھر بھیجا گیا۔ حالانکہ آبروریزی کے معاملے میں سخت قانون بنانے کے واسطے قائم کردہ جسٹس جے ایس ورما کمیشن چائلڈ جرائم کے معاملے میں عمر میعاد گھٹانے کے حق میں نہیں تھا۔ سورگیہ جسٹس ورما کا کہنا تھا کہ ہمارے سماجی ڈھانچے کی وجہ سے اس کاصحیح سے تعین نہیں کیا جاسکتا لیکن دیش میں بالغ ہونے سے اس کے حق یا مخالفت میں دو رائے رہی ہیں۔یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی تک نے چائلڈ جرائم کی عمر گھٹانے کی مانگ کو مسترد کردیا تھا۔ حقیقت میں اس مسئلے کو بدلتے حالات میں دیکھنے بھی ضرورت ہے۔ جہاں لڑکوں کی پہنچ اس کے ساتھ ہی جرائم کے وسائل تک بھی بڑھی ہے لیکن بنیادی حقیقت بتاتی ہے کہ2013ء میں 2074 لڑکوں نے ریپ کیا اور ان میں 2054 ریپ کرنے والوں کی عمریں16 سے18 سال کے درمیان تھیں۔ موجودہ قانون کے مطابق 18 برس سے کم کے لڑکے کو عام قانون کے تحت سزا نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اسے جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ چائلڈ جسٹس قانون میں زیادہ تر سزا تین برس ہے اور یہ میعاد لڑکے کو بال سدھار گرہ میں گزارنی پڑتی ہے۔ مرکزی کیبنٹ کے ذریعے منظور مجوزہ ایکٹ کے مطابق جوئینائل جسٹس بورڈ ہی طے کرے گا کسی لڑکے کے ذریعے جرائم ایک نابالغ کے طور پر انجام دیا گیا یا بالغ کے طور پر۔بورڈ میں نفسیات کے ماہر اور سماج کے ماہر کی موجودگی یقیناًاس بات کو باآور کرانے میں معاون ہوگی کہ کسی لڑکے کو نا انصافی کا شکار نہ ہونا پڑے۔ اس طرح سرکار نے جوئینائل عمر میعاد میں کمی نہ کرتے ہوئے یہ یقینی کرنے کی کوشش کی ہے کہ لڑکوں کے ذریعے انجام دئے جانے والے گھناؤنے جرائم کے قہر پر لگام لگائی جاسکے۔ سپریم کورٹ نے بھی جس طرح 6 اپریل کو جرائم میں لڑکوں کی بڑھتی شمولیت سے پیدا حالات کو لیکر قانونی نکات میں تبدیلی کی امید کی تھی۔ مجوزہ ایکٹ اسے پورا کرنے کا ارادہ دکھاتا ہے۔ نربھیا کانڈ میں ہم نے دیکھا کہ اس گھناؤنے جرائم کا ماسٹر مائنڈ محض اس لئے بچ گیا کیونکہ وہ کچھ ہی مہینوں کی وجہ سے نابالغ ثابت ہوگیا۔ جب وہ جرم منجھے ہوئے مجرموں کی طرح کرتا ہے تو سزا بھی اسے ایک سنگین جرائم کی طرح ملنا چاہئے۔ ہم سرکار کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...