Translater
17 اپریل 2021
گزرنے کی کیا بنیاد ہوگی؟
سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس آئی) کے 10 ویں امتحان کو منسوخ کرنے اور 12 ویں بورڈ کا امتحان ملتوی کرنے کے فیصلے کے بعد والدین اور طلبائ کا ملے جلے رد عمل ہے۔ تاہم ، سب نے صحت اور حفاظت کو ترجیح دی ہے۔ جہاں کلاس 12 کے طلبائ امتحان میں تاخیر کو بہتر سمجھ رہے ہیں ، وہیں کلاس 10 کے طلبا پریشان ہیں کہ انہیں کس بنیاد پر پاس کیا جائے گا؟ جب کوئی امتحان نہیں ہوگا ، تو تشخیص کی بنیاد کیا ہوگی۔ سی بی ایس سی نے اس سلسلے میں کچھ واضح نہیں کیا ہے۔ اسکول بھی سی بی ایس سی کی ہدایتوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ دسویں جماعت کے طالب علموں کو پاس کرنے کی کیا بنیاد ہوگی۔ اس بار تقریباth 21.5 لاکھ طلبائ دسویں اور 12 ویں میں تقریبا 14 لاکھ طلبائ نے داخلہ لیا ہے۔ سی بی اےایک سیسی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس سمت میں ورزش کے بعد چیزیں شیئر کی جائیں گی۔ ایک نجی اسکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ دسویں بورڈ کے طلبائ کو پاس کرنے کی بنیاد بہت ساری ہوسکتی ہے۔ پری بورڈ ، داخلی تشخیص ، عملی۔ بس بورڈ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کے لئے کتنا وزن دیا جائے۔ اسی کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ سینٹ تھامس کی طالبہ ریتیکا شرما کا کہنا ہے کہ مجھے دسویں کا امتحان منسوخ کرنے کا نقصان ہے۔ جب آپ اسے سب کے پاس بھیج دیتے ہیں تو پھر مطالعے کا کیا مطلب ہے؟ تاہم ، انہوں نے کوویڈ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ماو¿نٹ ابو پبلک اسکول کی پرنسپل جیوتی اروڑا نے موجودہ فیصلے کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کو متوازن فیصلہ قرار دیا۔
(انل نریندر)
ڈھابہ کھولتے ہوئے باپ نے کہا بیٹی کھوئی ہے ، ہمت نہیں
کشمیر میں سرگرم جہادیوں کے ایجنڈے کی شکست کی نشاندہی کرتے ہوئے ، کرشنا نے ایک بار پھر بیساکھی کھانوں والی بیساکھی اور ناروتری (کشمیری پنڈتوں کا نیا سال) کے موقع پر لوگوں کو راضی کرنا شروع کیا ہے۔ سیاحوں کو کھانا پیش کرنے میں مصروف ، رمیش کمار کے چہرے پر بیٹے کا غم ہے ، لیکن روح رواں ہیں۔ اس کی مضبوط ارادیت اور عزم کی لکیریں بتا رہی ہیں کہ وہ ہار ماننے والوں میں نہیں ہے ، لیکن ان لوگوں میں جو غم جیتنے کے لئے جنگ جیت جاتے ہیں۔ 17 فروری 2021 کو ، کرشنا ڈھابا اس وقت روشنی میں آیا جب تین مقامی دہشت گردوں نے ڈھابے میں گھس کر فائرنگ کی۔ اس واقعے میں ڈھابا کے مالک رمیش کمار کا بیٹا آکاش مہرہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا ، جہاں چند روز زندگی اور موت کے مابین لڑائی کے بعد آکاش نے 28 فروری کو آخری سانس لیا۔ رمیش ایک ڈوگرہ ہندو ہے ، جو اصل میں جموں کا ہے ، جو برسوں سے کشمیر میں مقیم ہے۔ کچھ دن بعد ، پولیس نے تینوں دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا ، لیکن ڈھابا بند ہی رہا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب یہ کھل نہیں سکے گا اور جہادی اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن منگل کے روز کرشنا واشنو کھانوں کے افتتاح کے بعد ، یہ سیاحوں کی بھیڑ سے بھرا ہوا تھا جو کھانے کے خواہاں تھے۔ اس کنبہ نے ہمت نہیں ہاری اور ایک بار پھر وہ ڈھابا کھولا اور لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ کبھی بھی کشمیر چھوڑنے والا نہیں ہے۔ رمیش کمار نے اس موقع پر کہا کہ آج اس نے ایک بار پھر اپنا کام شروع کردیا ہے۔ وہ یہاں پر سلامت ہے۔ یہیں سے وہ پیدا ہوا تھا۔ وہ یہاں پرورش پا گیا تھا اور وہ کبھی بھی کشمیر چھوڑنے والا نہیں ہے۔ ہم رمیش کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی بہادری نے ان دہشت گردوں کو واضح اشارہ دیا ہے کہ ہمیں آپ کے دہشت گردی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، ہم یہاں رہیں گے۔
(انل نریندر)
ویکسین لینے کے بعد بھی کوروناسے متاثر ہو رہے ہیں
کچھ لوگ ویکسین لینے کے بعد بھی کورونا کو متاثر ہو رہے ہیں۔ آپ کے ذہن میں سوالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں ویکسین لینے سے کیا فائدہ ہے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین سے بچاو¿ صرف ویکسین ہے۔ یہ انفیکشن سے بچاتا ہے اور جب انفیکشن ہوتا ہے تو بیماری کو شدید نہیں ہونے دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے بعد انفیکشن کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ فی الحال وائرس میں اتپریورتنک بہت زیادہ ہورہا ہے۔ ایسی صورتحال میں ، جو ویکسین دی جارہی ہے وہ موجودہ مختلف حالتوں کے خلاف موثر نہیں ہوسکتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مناسب اینٹی باڈیز تیار نہیں کی جارہی ہیں۔ اگر یہ مائپنڈوں کی وجہ سے ہو رہا ہے تو اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کوویڈ ماہر ڈاکٹر انشومن کمار نے بتایا کہ فی الحال جو بھی وائرس کی ویکسین ہے وہ انٹرماسکلر انجیکشن ہے ، جو پٹھوں میں دی جاتی ہے۔ یہ خون میں جاتا ہے اور وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے۔ یہ ویکسین کے جسم میں بنیادی طور پر دو قسم کے اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے۔ پہلا ö امیونوگلوبلین ایم ، طبی لحاظ سے (جی ایم کہا جاتا ہے)۔ دوسرا امیونوگلوبلین جی تشکیل دیتا ہے ، جسے آئی جی جی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر انشومن نے کہا کہ ہمارا جسم پہلے وائرس کے انفیکشن کے خلاف آئی جی ایم بناتا ہے۔ آئی جی ایم جسم میں آہستہ سے تشکیل پاتا ہے اور یہ جسم میں طویل عرصے تک قائم رہتا ہے۔ یہ آئی جی جی کورونا وائرس کی ممکنہ استثنیٰ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اینٹی باڈی ہمارے خون میں موجود ہے اور کسی بھی نئے انفیکشن کے خلاف سرگرم ہوجاتی ہے۔ گنگارام اسپتال کے محکمہ مائکروبیالوجی کے ایچ او ڈی ڈاکٹر چند واٹل نے بتایا کہ ایک اور امیونوگلوبن اے بھی ہے ، جسے آئی جی اے کہا جاتا ہے۔ اس کا ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن یہ اینٹی باڈی میکوزا میں بنی ہے۔ یعنی ناک ، منہ ، لینگ ، آنت کے اندر ایک خاص قسم کا استر ہوتا ہے ، جس پر یہ وائرس کو قائم نہیں رہنے دیتا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ ویکسین میں کتنا آئی جی اے بنایا جارہا ہے جو ابھی دیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر انشومن نے کہا کہ جب کورونا کی ناک کی ویکسین آجائے گی تو شاید یہ زیادہ موثر ہوگی۔ کیونکہ نام سے کورونا وائرس کا اندراج زیادہ ہوتا ہے۔ جب ویکسین وہاں سے گرے گی تو اینٹی باڈی میکوجا کے قریب بن جائے گی اور پھر وہ خون میں جاکر وہاں بھی اینٹی باڈیز بنائے گی۔ اس کے بعد یہ وائرس کے خلاف زیادہ موثر ثابت ہوگا اور ویکسینیشن کے بعد انفیکشن کا امکان کم ہے۔ ڈاکٹر انشومن کا کہنا ہے کہ ناک سے نمونہ لیا گیا ہے تاکہ اس کی نشاندہی کی جاسکے کہ کسی کی کورونا ہے یا نہیں۔ ناک کے قریب میوکوزا میں نہیں۔ لہذا وائرس ناک کے میوکو میں چپک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وائرس میکوزا تک پہنچ جاتا ہے تو نتیجہ مثبت آتا ہے لیکن وہ جسم کے اندر گھس نہیں سکتا۔ کیونکہ خون میں موجود اینٹی باڈیز اس کے خلاف سرگرم ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے انفیکشن ہونے کے بعد بھی ویکسین لی ہے ، وہ بیماری ہلکی یا معتدل رہتی ہے۔ وہ سنجیدہ یا سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ ویکسین کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔
(انل نریندر)
16 اپریل 2021
جج گھر سے ہی کریں گے مقدمات کی سماعت !
سپریم کورٹ کے 44 ملازمین کو کورونا پازیٹو ہونے کے سبب سبھی جج صاحبان اب اپنے گھروں سے ہی عدالتیں لگائیں گے ۔اور سپریم کورٹ کی بنچ اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ کی دیر ی سے سماعت کے لئے بیٹھے گی ۔سپریم کورٹ کے پچاس فیصد ملازمین کے پازیٹو ہونے کو لیکر میڈیا میں آئی خبروں کو لیکر بڑی عدالت کے افسرنے بتایا پچھلے ایک ہفتہ میں 44 ملازم پازیٹو ملے اس وقت کورٹ میں تین ہزار ملازم کام کررہے ہیں ۔اب اپنے اپنے گھروں سے کام کرنے کے لئے بڑی عدالت نے دو اطلاعات جاری کی ہیں جن میں کہاگیا ہے سماعت کے لئے بنچ دس سے گیارہ کے درمیان بیٹھتی ہے اب دیر سے بیٹھے گی اب اپنے گھروں سے ہی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے معاملے سنیں گے دوسری اطلاع میں زیادہ اہم ترین معاملوں پر عدالت نے اگلے حکم تک روک لگا دی ہے ۔ادھر دہلی ہائی کورٹ کے بھی تین جج کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں اور ہو خود گھر میں ہی آئیسولیٹ ہو گئے ہیں ۔
(انل نریندر)
ایران کے نوکلیائی تنصیب پر حملہ!
ایران نے اپنی زیرزمین نیوکلیائی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لئے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اس حملے میں نیوکلیائی مرکز کا سنٹری فیوز تباہ ہو گیا تھا جس کا استعمال یورینیم افزودگی کے لئے کیا جاتا ہے ۔ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس حملے کا بدلا ضرور لے گا ۔وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا یہ بیان اتوار کے واقعہ کے لئے پہلی بار سرکار طور پر اسرائیل پر الزام لگایا گیا ہے اس واردات سے نیوکلیائی سینٹر میں بجلی گل ہو گئی تھی اسرائیل نے حملے کو سیدھے طور پرذمہ داری نہیں لی ہے بہر حال شبہہ ایران پر چلا گیا کیوں کہ میڈیا نے دیش کے ذریعے تباہ کن سائبر حملے کی خبر دی اس کے بعد بجلی چلی گئی اس حملے سے دونون ملکوں میں کشیدگی اور بڑھ جائے گی ۔امریکہ کے وزیر دفاع لائڈ اشٹن سے بات چیت کرنے والے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے عہد کیا ہے کہ ایران اور دنیا کی طاقتوں کے درمیان نیوکلیائی سمجھوتہ کو بحال ہونے کی کوشش کو روکنے کے لئے ان کے بس میں جو ہے وہ کریں گے وہیں خطیب زادہ نے کہا نیتن یاہو سے جواب لینا حالانکہ انہوں نے اس بارے میں تفصیل نہیں بتائی خطیب زادہ نے مانا کہ آئی آر ایس 1 سینٹی فیوز حملے میں تباہ ہوا ہے اس درمیان ایران کے پیرا ملیٹری ریبولوشنری گارڈ کے چیف میجر جنرل محسن ریزائی نے کہا کہ نیوکلیائی ریایکٹر مین ایک سال میں دوسری بار آگ لگانے کی دراندازی کا واقعہ سنگین اشارہ کرتا ہے ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ری ایکٹر کو مزید ڈولپ کیا جائے گا اور یہ نیوکلیائی معاہدہ کو بچانے کے لئے ریانا میں جاری بات چیت کو مشکل میں ڈالنے والا ہے ایران کی خبر رسا ایجنسی ارنا نے ظریف کے حوالہ سے کہا یہودی لوگ پابندی ہٹانے کو لیکر ان کی کامیابی پر ایرانی لوگوں سے بدلا لینا چاہتے ہیں ۔
(انل نریندر)
الزام جانچ والے ملزم کو بری کرنے کی بنیاد نہیں!
دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ الزام کی جانچ کے ملزم کو بری کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی ہے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو لوگوں کو عدلیہ پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا یہ کہتے ہوئے خودکشی کے لئے اکسانے کے معاملے میں ساس نند کو بری کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ۔اور نئے سرے سے جانچ کرانے کا حکم دیا اس نے مانا کہ اس معاملے میں جانچ افسر کا رول مشتبہ رہا ہے اور نچلی عدالت نے بھی حقائق صحیح طریقہ سے نہیں پڑھا ۔جسٹس سبرا منیم پرساد نے پولیس سے متوفی کی ماں سروج بھولا کی ایس ڈی ایم کے سامنے دو جولائی 2015کو دئیے گئے بیانات کی بنیاد پر جانچ کرنے کی ہدایت کی ساتھ ہی کسی دیگر جانچ افسر سے جانچ کرانے کو کہا ہے ۔جو انسپکٹر سطح کے نیچے کا نہ ہو انہوں نے اس حقیقت کی جانچ کرنے کو کہا ہے کہ کیا یہ معاملہ خودکشی کے لئے اکسانے کی نیت اور محض قتل کا معاملہ بنتا ہے یا نہیں جسٹس نے کہا کہ جانچ ایجنسی کی لاپرواہی یا چوک ملزم کے حق میں زیادتی ہے توعدالت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صحیح جانچ کرانے ۔عدالت کو اس حقیقت کے تئیں اپنی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے کہ وہی متاثرہ ہے۔ جو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور انصاف چاہتے ہیں انہوں نے کہا اگر مورد الزام و لاپرواہی سے پہلے جانچ کے سبب ملزم بچ جاتا ہے تو عدالت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے عدالت نے موجودہ معاملے میں بلا امتیاز جانچ ہونے کے امکان ہونے کے باوجود نچلی عدالت میں پھر سے جانچ کے احکامات نہیں لئے معاملے مین پہلی نظر میں ثبوت ہے کہ متوفی کو سسرال میں جہیرزی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ۔سیشن جج نے اپنے فیصلے میں مانا کہ جانچ میں سنگین لاپرواہی ہے ۔اس کے باوجود انہوں نے جہیزی قتل کے جرم پر غور نہیں کیا ۔عدالت نے کہا ہر معاملے میں مجسٹریٹ کی ابتدائی سماعت میں یہ یقینی کرنا چاہیے کہ جانچ ٹھیک طرح سے ہو اور ملزم بچ نہ سکے اس معاملے میں حقائق سے صاف ہے کہ عرضی گزار نے وقتاً فوقتاً جوائنٹ پولیس کمشنر و پولیس کمشنر کو جانچ افسر کے خلاف شکایت کی تھی اور اس حقیقت پر بھی توجہ نہیں دی گئی کہ پولیس نے ایس ڈی ایم کے دوبارہ کہنے کے دس ماہ بعد معاملہ درج کیا ۔عرضی گزار نے الزام لگایا تھا کہ ان کی لڑکی آنچل چھبیس اپریل 2012 کو شادی ہوئی تھی ۔سسرال کے حق میں اسے جہیز کے لئے ٹارچر کیا کرتا تھا اور شادی کے قریب ڈھائی برس بعد چوبیس اکتوبر 2014 کو آنچل کی لاش پنکھے سے لٹکی ملی تھی پولیس نے ان کے بیان ایس ڈی ایم کے سامنے درج نہ ہونے کے باوجود اسے اقدام قتل کا معاملہ بتاتے ہوئے ایف آئی آردرج نہیں کی تھی انہوں نے پھر ایس ڈی ایم کے سامنے شکایت درج کی پولیس نے دس مہینہ کے بعد مقدمہ درج کیا جانچ میں لاپرواہی سے بری ہو گئے ۔
(انل نریندر)
15 اپریل 2021
کمبھ میں 45 لاکھ شردھالوو ¿ں نے ڈبلی لگائی !
ہریدوار میں کمبھ میں سوموتی اماوسیا کے شاہی اسنان میں ہر کی پوڑی سمیت رشی کیش منی کے گھاٹوں پر شردھالو¿ں کی بڑی بھیڑ تھی کمبھ میلہ انتظامیہ کے مطابق 33 لاکھ لوگون نے کمبھ میلہ زون میں دوسرے شاہی اسنان میں گڑھ میں ڈبلی لگائی ۔حلانکہ کمبھ میلہ کو لیکرمرکز اور ریاستی سرکار اور کمبھ میلہ انتظامیہ کے ذریعے کورونا کو لیکر جاری گائڈ لائنس کی شردھالو¿ں اور تیرہ اکھاڑوں کے سادھو سنتوں نے کھلے عام دھجیاںاڑائی اور شوبھا یاترا نکال رہے سادھو سنتوں نے کورونا بچاو¿ کے لئے سماجی دوری کا بالکل خیال نہیں رکھا ۔گنگامیں ڈبلی لگا رہے سادھو سنت مہا منڈلیشور ، اچاریہ مہا منڈلیشور سماجی دوری و ماسک لگانے کی ضروری اپیل لوگوں سے کررہے تھے ۔آل انڈیا اکھاڑا پریسد کے قومی صدر مہنت نریندر گری اور چھ سادھو بھی کورونا متاثر ہوئے تھے ۔اس برس پورے سال میں صرف ایک ہی صوم وتی اماوسیہ ہونے کے سبب پیر کو اسنان کو لیکر شردھالو¿ں میں بھاری رغبت دکھائی دی یہ اسنان کمبھ دور کا پہلا شاہی اسنان تھا ۔
(انل نریندر)
انٹیلیا کے بعد انکاو ¿نٹر کا تھا پلان !
ممبئی کی تلوجہ جیل میں بند اے پی آئی سچن واجے کو لیکر روز نئے انکشاف ہورہے ہیں قومی جانچ ایجنسی این آئی اے کی سخت پوچھ گچھ میں یہ سامنے آیا ہے کہ واجے جلیٹن کیس کے بعد وہاں بڑا کچھ کرنے والا تھا اس کی تفصیل این آئی اے کی ٹیم جلد سامنے لا سکتی ہے ۔اسکارپیو کانڈ کے بعد واجے ایک انکاو¿نٹر کی پلاننگ کررہا تھا اس میں وہ کچھ لوگوں کا انکاو¿نٹر کرکے ان کے پورے معاملے کو ان کے سرمنڈنے والا تھا ۔این آئی اے کوشبہہ ہے اس انکاو¿نٹر میں منسخ کو بھی شکار بنایا جاسکتا تھاجانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس انکاو¿نٹر میں دہلی کے ایک بدمعاش کو بھی مارنے کی پلاننگ تھی ۔اس سے پہلے ہی این آئی اے کی کیس میں انٹری ہو گئی اور واجے کی پلاننگ فیل ہو گئی این آئی نے کورٹ میں کہا کہ اب اور پوچھ تاچھ کی ضرورت نہیں اس سے پہلے این آئی اے نے کہا کہ جلیٹن کیس کی جانچ تقریباً پوری ہو گئی ہے اور جلد ہی دونوں معاملوں کا انکشاف ہو سکتا ہے ۔این آئی اے جبراً وصولی ریکٹ کی گہرائی سے جانچ میںلگی ہے اس درمیان سامنے آئے تازہ ثبوتوں سے پتہ چلا ہے کہ معطل افسر سچن واجے اور ان کے باس رہ چکے انکاو¿نٹرکنگ پردیپ شرما کے درمیان کافی گہرے رشتے رہے ہیں ایک بڑے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر اسمبلی نے بتایا شرما نے 2016 میں اپنے قریبی واجے کو بچانے کے لئے مبینہ طور پر بھاجپا کی سرکار سے رابطہ قائم کیا تھا ۔بھاجپا ممبر کے نام سے ایک میٹنگ ہوٹل میں ہوئی تھی ۔ممبئی کرایم برانچ کے ایک جانے مانے شخص جو بہت سی پولیس مڈبھیڑوں کو انجام دینے کے لئے جانے جاتے تھے شخصی طور سے میٹنگ کے لئے ہوٹل آئے تھے ۔انہوں نے ایک بھاجپا نیتا سے پولیس محکمہ میں اپنے سابق ماتحت واجے کو بحال کرنے کی درخواست کی تھی لیکن بھاجپا سرکار نے درخواست کو نامنظور کر دیا شرما کی کوشش ناکام رہنے کے بعد سیو سینا کی بڑی قیادت میں پولیس محکمہ میں واجے کو بحال کرنے کے لئے بھاجپاسے رابطہ قائم کیا تھا واجے 14 دنوں کے لئے عدالتی حراست میں تلوجا جیل بھیج دیا سماعت کے دوران این آئی اے نے بتایا واجے کے پاس کئی لاکھ روپے نقد اور کافی کارتوس اور بینک کھاتہ میں ڈیڑھ کروڑ کی رقم ملی ہے ایجنسی نے دعویٰ کیا انٹیلیا سے جڑی سازش میں ہیرین بھی شامل تھا ۔جس کے چلتے اس کی جان چلی گئی ۔
(انل نریندر)
قرآنی 26آیات کو ہٹانے والی مانگ کی عرضی خارج
دیش کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے کسی بھی مذہبی گرنتھ میں دخل دینے سے صاف انکار کر دیا ہے قرآن کی 26آیات کو دہشت گردی کو فروغ دینے والی بتا کر عرضی سپریم کورٹ نے خارج کر دی ہے ۔جسٹس روہنگٹن فلی نریمن کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ عرضی بے سود ہے اور بالکل فضول ہے اس طرح کی عرضیاں عدالت کا وقت برباد کرتی ہیں اس لئے ہم عرضی گذار پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی لگا رہے ہین پیر کے روز سماعت کے دوران وسیم رضوی کے وکیل آر کے رائے زادہ کی تمام دلیلیں سپریم کورٹ نے مسترد کر دیں اس معاملے میں یوپی شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمیں وسیم رضوی نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قرآن کی 26 آیتوں کو بہت بعد میں قرآن شریف میں جوڑا گیاتھا ان آیات میں غیر مسلموں کے خلاف تشدد کے لئے اکسانے والی باتیں ہیں ۔جس سے دہشت گردی کو بڑھاوا ملتا ہے یہ آیتیں دیش کی ایکتا اور سالمیت اور بھائی چارہ کے لئے خطرہ ہیں قرآن کی 26 آیات کی ان دنوں غلط طریقہ سے تشریح کی جارہی ہے اس کا حوالہ دے کر انسانیت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز اور مذہب کے نام پر نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔و خون خرابہ کا خطرہ ہو رہا ہے مدرسوں میں ان آیتوں کی تعلیم دینے پر روک لگائے جانے کے احکامات جاری کئے جانے چاہیے اس کے علاوہ رضوی کی عرضی میں قرآن پاک سے ان کو ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی ۔سماعت کے دوران جسٹس نریمن نے رضوی کے وکیل سے پوچھا کہ کیا آپ اس عرضی کے تئیں سنجیدہ ہیں ؟ اس پر رائے زادہ نے کہا کہ وہ مدرسہ تعلیم کی ریگولیشن اوردعا کو محدود کررہے ہیں انہوں نے کہا کچھ آیتوں کی الفاظی تشریح نے غیر اعتمادیوں کے خلاف تشدد کا پروپیگنڈہ کیا بچوں کو مدرسوں میں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے انہیں جو تبلیغ دی جاتی ہے ان نظریات کا عام زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہوسکتی میں نے مرکز کو کاروائی کے لئے لکھا ہے لیکن کچھ نہیں ہوا اس پر مرکزی سرکار اور مدرسہ بورڈ کو یہ یقینی کرنے کے لئے بلایا جا سکتا ہے کہ تشدد کی وکالت کرنے والے کچھ آیات کو الفاظی تعلیم سے بچنے کے لئے کیا قدم اٹھائے گئے ہیں ؟ حالانکہ جسٹس کی بنچ نے معاملے پر غور کرنے کی خواہشمند نہیں تھی اور اس لئے بالکل اس کو لفاظی قرار دیتے ہوئے پچاس ہزار روپے کا جرمانہ لگاتے ہوئے اسے خارج کر دیا عرضی دائر کرنے کے بعد سے رضوی کے خلاف سخت زبردست احتجاج ہو رہا ہے ۔قومی اقلیتی کمیشن نے اسے فرقہ وارانہ بھائی چارہ کو بگاڑنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔وہیں شیعہ سنی دونوں ہی فرقہ رضوی کو مسلم فرقہ سے نکالے جانے کا اعلان کر چکے ہیں ۔بریلی میںتو ان کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھینس پہونچانے کا مقدمہ بھی درج ہو گیا ہے ۔ مراد آبادکے ایک وکیل نے تو رضوی کا سرکاٹنے پر گیارہ لاکھ روپے کا انعام بھی اعلان کردیا تھا ۔
(انل نریندر)
14 اپریل 2021
بینک نے غریبوں کے کھاتے سے 300 کروڑ روپے کٹوائے
ملک کے سب سے بڑے بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے چھوٹے بینک ذخائر اور جان دھن اکاو¿نٹ ہولڈرز سے تقریبا 300 300 کروڑ روپے کی وصولی کی۔ ایک مہینے میں چار سے زیادہ لین دین کے لئے ، غلطی سے یہ رقم 17.70 روپے فی واپسی تک وصول کی جاتی ہے۔ یہ انکشاف آئی ٹی بمبئی کی رپورٹ میں ہوا ہے۔ اس کے مطابق بینک نے ڈیبٹ کارڈ کے استعمال کے لئے یوپیآء، مشن ڈیجیٹل انڈیا کے تحت ہونے والی انٹرنیٹ ٹرانزیکشن سمیت رقم بھی کٹوتی کرلی ہے۔ یہ رقم 2015 سے 2020 کے دوران وصول کی جائے گیجی آئی نے جان دھن اکاو¿نٹس سے 12 کروڑ کٹوتی کی ہے۔ مالی سال 2018-2019 میں 72 کروڑ اور 2019-2020 میں صارفین سے 158 کروڑ۔ پنجاب نیشنل بینک نے 2015 سے 2020 تک تقریبا 9.5 کروڑ روپئے کی وصولی بھی کی ہے۔ زیادہ تر بینک یہ فیس وصول نہیں کرتے ہیں ، جس میں چار بڑے اور سرکاری شعبے کے بینک شامل ہیں۔ کچھ بینکوں نے ان کی بازیابی کو بھی واپس کردیا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک نے پہلے فیس عائد کی لیکن بعد میں اسے واپس کردی۔ ریزرو بینک کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ بینکوں کی غلط بازیابی سے حکومت کے اس مشن کو دھچکا لگا ہے۔ عام لوگوں کی سہولت کے لئے جان دھن اکاو¿نٹ کھولے گئے تھے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کو ایسے صارفین کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے۔ اس رپورٹ کو تیار کرنے والے پروفیسر آشیش داس نے ہندوستان کو بتایا کہ ریزرو بینک کی ہدایت جون 2019 تک بحال نہیں ہوگی۔ ہر مہینے چار لین دین کو مفت میں اجازت دیں ، جس کے بعد بینک اس لین دین کے آپشن کا فیصلہ کرسکتا ہے ، لیکن اس پر کوئی معاوضہ نہیں ہے۔ ریزرو بینک ، فیسیں لگانے والے بینکوں کو حکم دیں کہ وہ کٹوتی کی گئی رقم عوام کو واپس کردیں اور سختی سے کہا جائے کہ آئندہ بھی ایسا نہ کریں۔
انل نریندر
یہ نکسل سرمایہ داروں کے غلام ہیں
ملک میں ہمیشہ جمہوری نظام کی مخالفت کرنے والے نکسلی بڑی تعداد میں مرکزی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک سابق نکسل لیڈر بنوئے کمار داس ہیں۔ بنوائے مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی میں شمالی دنج پور میں رے گنج کی کرنڈیہی اسمبلی سیٹ سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ بنوئے کا کہنا ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے نکسل باشندے جھوٹے اور سرمایہ داروں کے خادم ہیں۔ بنوئے نے کہا ، یہ نکسل سرمایہ داروں کے غلام ہیں ، سب کمیشن کے ساتھ اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ نکسلی حملوں کے بارے میں ، بنوائے نے کہا کہ جو جنگجو آج لوگوں کو مار رہے ہیں ، وہ کیوں نہیں سوچ رہے ہیں کہ یہ فوجی بھی ہمارے اہل خانہ نے تیار کیے ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہے کہ وہ لوگ ایسا کرتے ہیں ، آخرکار وہ ہندوستانی شہری ہیں ، ہندوستانی پرچم تلے کام کرتے ہیں ، پھر وہ اپنے ہی ملک کے شہریوں کو کیوں مار رہے ہیں؟ یہ تمام سرمایہ دار ادا کرتے ہیں۔ اربن نکسلیوں کے بارے میں ، بنوئے کا کہنا ہے کہ یہ لوگ نکسل انقلاب کو نہیں سمجھتے ، وہ نکسلی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد مقامی انتظامیہ ، ریاستی حکومت اور سیاسی جماعتوں کے زیر کنٹرول ہیں۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کا ان پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ ان کے کہنے پر چلتے ہیں۔ شہری نکسلیاں 1969 میں ہوا کرتے تھے۔ وہ لوگ جو اس وقت قومی دھارے میں تھے نکسل انقلاب کی حمایت کرتے تھے۔ ان میں متھن چکرورتی سمیت متعدد افراد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اصل نکسلائی تھا۔ آج دو نمبر ہیں۔ بنوئے کا کہنا ہے کہ اگر عوام نے انہیں یہ موقع فراہم کیا تو وہ پہلے روٹی ، کپڑا اور مکان کی دستیابی پر کام کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تمام سالوں میں بھی لوگ ان بنیادی چیزوں کو حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ پارٹی کے معمولی قائدین اپنا کام کرواتے ہیں اور عام عوام کو 2 کلو چاول کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے۔ اصل میں ، کرنجوش کالیبری کے علاقے میں رہنے والے بنوئے کی آبائی املاک کی مالیت 650 کروڑ 82 لاکھ 57 ہزارروپے ہے۔ معلومات کے مطابق ، اس کے پاس رائگنج ، مالڈا ، جلپائگوری ، ہریانہ ، وارانسی سمیت متعدد مقامات پر 100 ایکڑ سے زیادہ اراضی ، 14 آبائی مکانات ہیں۔ اس کے باوجود ، وہ کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ بنوائے نے 2018 میں رائے گنج ضلع پریشد سے الیکشن لڑا تھا۔ اس کے علاوہ وہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات بھی لڑ چکے ہیں۔ تاہم انہیں دونوں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
(انل نریندر)
پہلی اور دوسری خوراک میں کیا فرق ہونا چاہئے؟
امریکہ میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر کے خدشات نے ویکسین کی دو خوراکوں کے مابین فرق پر ماہرین میں ایک بار پھر بحث شروع کردی ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان وقت بڑھانے سے ، پہلی خوراک لینے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ لیکن کچھ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس سے وائرس کی نئی خطرناک شکل آگے بڑھے گی۔ امریکہ میں ، ویکسین کی دو خوراکوں کے درمیان تین سے چار ہفتے کا فاصلہ ہے۔ دوسری خوراک میں برطانیہ میں زیادہ تر لوگوں کو ویکسین جلدی سے لگانے کے لئے 12 ہفتوں کا وقفہ ہوتا ہے۔ کینیڈا میں ایک سرکاری کمیٹی نے دوسری خوراک میں چار ماہ کی توسیع کرنے کی تجویز دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک خوراک سے انفیکشن کے خطرے میں 80 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔ کچھ ماہرین صحت کے خیال میں ، امریکہ کو بھی کینیڈا ، یوکے کے راستے پر چلنا چاہئے۔ یونیورسٹی آف پنسلوینیا میں ہیلتھ کیئر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ، ڈاکٹر حزیزیل ایمانوئل کا کہنا ہے کہ پہلی خوراک اگلے چند ہفتوں کے لئے امریکہ میں ہونی چاہئے۔ یو ایس اے ٹوڈے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ، ڈاکٹر ایمانوئل اور ان کے ساتھیوں نے لکھا ہے کہ ایسا کرنے سے ، مشی گن منیسوٹا جیسی جگہوں پر چوتھی لہر کو روکا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف ، دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بشمول صدر جو بائیڈن کی حکومت کے مشیر صحت بھی شامل ہیں ، خوراک میں تاخیر کی تجویز خراب ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ، فعال وائرس کا ازسر نو ڈیزائن مزید پھیل جائے گا۔ فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن کے سابق سربراہ ، سائنس دان لوسیانا بورو کا کہنا ہے کہ دوسری خوراک کے لئے تاریخ کو آگے بڑھانا خطرناک ہے۔ دسمبر میں اس بحث کا بیج گر ??گیا۔ دو ہفتوں بعد جب فائزر بائینٹیک ویکسین کی دوسری خوراک کی جانچ کی گئی تو رضاکاروں کو بہت زیادہ تحفظ ملا۔ یہ پہلی خوراک سے زیادہ تھا۔ اسی مہینے میں ، فائزر بائینٹیک اور آسٹرا زینیکا کی ویکسین برطانیہ میں منظور کی گئیں۔ دونوں ویکسینوں کی دوسری خوراک 12 ہفتوں کے بعد لگائی گئی۔ کلینیکل آزمائشوں سے معلوم ہوا ہے کہ پہلی خوراک کئی ہفتوں تک بچاو¿ کی اہلیت فراہم کرتی ہے۔ بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) نے اطلاع دی ہے کہ موڈرنا یا فائزر بائیو نوٹ کی پہلی خوراک کے دو ہفتوں بعد ، کسی شخص میں کورونا وائرس کے انفیکشن کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔ برطانیہ میں محققین کا کہنا ہے کہ پہلی خوراک سے حفاظت کا چکر کم از کم بارہ ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ ماہر ڈاکٹر ایمانوئل کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں زیادہ سے زیادہ افراد کو دی جانے والی پہلی خوراک کی وجہ سے انفیکشن میں 95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ وائرس کا مطالعہ کرنے والے سائنس دان ، ڈاکٹر کوے اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین کی ایک خوراک کا استعمال کر کے اس وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنا ممکن ہے لیکن کچھ لوگوں کو زیادہ تحفظ دیا جائے۔
(انل نریندر)
13 اپریل 2021
گیان واپی کمپلیکس میں دیکھیں گے کہ وہاں کوئی مندر تو نہیں تھا!
ایودھیا کے بعد اب کاشی میں گیان واپی مسجد کمپلیکس پر کورٹ کا سب سے بڑا فیصلہ آیا ہے 31سال کے مقدمے کی سماعت تھی 260تاریخو ں کے بعد گیان واپی مسجد کمپلیکس کے آثار قدیمہ کا سروے کرانے کا عدالت نے حکم دیا ہے سروے کےلئے پانچ ممبروں کی کمیٹی بنے گی جس میں اقلیتی فرقے کے بھی دو ممبر ہونگے ۔ وارنسی کی فاسٹ ٹریک کورٹ کے حکم کے مطابق کسی مرکزی یونیورسٹی کے شعبے آثار قدیمہ سے وابستہ شخص کی نگرانی میں کمیٹی کام کرے گی سروے کا خرچ اے ایس آئی اٹھائے گا وہیں مسجد کمیٹی کے ممبران نے کہا کہ ہم اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اس معاملے میں کاشی وشوناتھ کی طرف سے قدیم مورتی خودساختہ جیوتی ہند بھگوان وشو ناتھ و دیگر فریقین متاثرہ سومناتھ ویاس اور دیگر میں گیان واپی میں نئے مندر بنانے اور ہندو¿ں کو پاٹھ پوجا کا اختیار دینے کو لیکر سال 1991میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا ان کی طرف سے کہا گیا تھا کہ مسجد جیوتی لنگ وشوناتھ مندر کا ایک حصہ ہے وہاں ہندو عقیدت مندوں کو پوجا پاٹھ راج بھوج اور درشن اور پوجن وغیرہ کا حق ہے ۔ اس کی تعمیل، مرمت تا تزعین کاری کرنے کا بھی پورہ حق ہے مقدمے میں سنی انجمن انتظامیہ سینٹرل سنی وقف بورڈ وغیرہ فریقین ہیں اس معاملے میں کاشی وشو ناتھ مندر کی طرف سے عرضی دائر کر کے مسجد کمپلیکس کے آثار قدیمہ کے سروے کرانے کی مانگ کی گئی تھی ان کی دلیل ہے بھگوان وشو ناتھ کے تباہ کچھ ٹکڑے گیان واپی کمپلیکس کی دیواروں میں لگے ہوئے ہیں ۔ اور باہری طور پر دکھائی دیتے ہیں انہوں نے مندر کی دیواروں کو توڑ کر مسجد بنائی گئی ہے کورٹ کے حکم ایودیھیا کی طرح اس مسجد کمپلیکس کی کھودائی کرکے اے ایس آئی دیکھے گا کہ کیا وہاں کوئی مندر تو نہیں تھا جسے توڑ کر مسجد یا دوسری عبادت گاہ تو نہیں بنائی گئی ہے سروے یہ بھی دیکھے گا کہ متنازہ جگہ پر 15اگست 1947تک اس کی مذہبی حیثیت کیا تھی ؟ وہاں کس کال کھنڈ میں تبدیلیاں ہوئیں ہیں ابھی جو اسٹریکچر ہے اسے بنانے میں کن چیزوں کا استعمال ہے ؟ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئر مین جعفر احمد فاروقی نے کہا کہ حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کی جائے یہ معاملہ پوجا مقام مخصوص تقاضہ ایکٹ 1991کے دائرے میں آتا ہے سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے پوجا استھل قانون نے صرف ایودھیا معاملہ کو الگ کیا تھا فاروقی سروے کا حکم سوالوں کے دائرے میں ہے ؟ کیونکہ تکنیکی طور سے بنیادہ حقائق سے جوڑ سکتا ہے عدالت کے سامنے ایسا ثبوت نہیں پیش کیا گیا کہ جس سے ثابت ہوسکے کہ پہلے مسجد کی جگہ مندر تھا۔،
(انل نریندر)
وادی کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورس کو کامیابی!
ساو¿تھ کشمیر کے شوپیاں اور پلوامہ ضلع کے ترال میں 24گھنٹے کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑوں میں سات دہشت گردوں کو مار گرانا اس سے صاف ہے کہ اب پہلے کے مقابلے زیادہ چوکسی برتے جانے کی وجہ سے دہشت گردوں کو روکنے میں کامیابی مل رہی ہے ۔ سیکورٹی فورسیز نے گجوال ہند کے کمانڈرامیتاز شاہ سمیت سات دہشت گردوں کو ڈھیر کردیا مڈ بھیڑ کے فوج کے ایک افسر سمیت چار سیکورٹی جوان زخمی ہوئے ہیں شوپیاں مڈ بھیڑ کے دوران امتیاز بھاگ کر ترال پہونچا تھا جہاں وہ اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ مارا گیا اور پانچ دیگر آتنکی شوپیاں میں مارے گئے شوپیا میں جامع مسجد کے پاس دہشت گردوں کے چھپے ہونے پر سیکورٹی فورسیز نے دوپہر میں سرچ آپریشن چلایا مڈ بھیڑ دوپہر قریب تین بجے شروع ہوئی تھی اپنے تین ساتھیوں کے مارے جانے کے بعد زندہ بچے دو آتنکی جان بچانے کیلئے مسجد میں گھس گئے تھے وہاں ان آتنکیوں کو سیرینڈر کرنے کیلئے منانے کی خاطر سیکورٹی فورسیز نے ہر طریقے کا استعمال کیا ۔ ایک آتنکی کے بھائی اور رشتے دار کی مدد لی گئی ۔امام کو بھی اندر بھیجا گیا لیکن بات نہیں بنی ۔ رات بھر سرچ آپریشن چلتا رہا اس کے بعد سیکورٹی فورسیز نے گولیاں برسا رہے دونوں دہشت گردوں کو مار گرایا ۔ ترال میںگجوال الھند کا کمانڈر امتیاز شاہ بھی شری امرناتھ کی سالانہ تیرتھ یاترا پر حملے کی سازش رچ رہا تھا اس کیلئے اس نے حزبل و لشکر کے دہشت گردوں کے ساتھ بھی تال میل کیا تھا دہشت گرد کمانڈر کے اس ناپاک منصوبے کا پردہ فاش کشمیر پولس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے ہی کیا ہے یقینی طور سے اس واقعے کو سیکورٹی فورس کی ایک بڑی کامیابی کی طرح دیکھا جا رہا ہے لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی چنوتیاں کم نہیں ہوئی ہیں سچ یہ ہے کہ دہشت گرد انجمنوں نے جموں کشمیر کے اندرونی علاقوں میں اپنی پہونچ بنائے رکھی ہے اور موقع دیکھ کر اپنے ارادے کو انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر سیکورٹی فورس پر حملہ بول دیتے ہیں مگر خاص پہلو یہ بھی کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران سیکورٹی فورس کے درمیان بہتر تال میل قائم ہوا ہے اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اگر کوئی مشتبہ آتنکی اپنے ارادے میں عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے پہلے ہی اسے گرفتار کرنے یا حملہ کہ صورت میں مار گرانے میں مدد ملتی ہے اس کے باوجود سرحد پار کے انجمنوں کے تعاون سے چلنے والی آتنکی تنظیموں کو کم سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے ہوشیاری اور چوکسی مسلسل وقت کی ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)
11 اپریل 2021
بارہ مہینے بعد کھل گیا دہلی کا چڑیا گھر!
کورونا وبا کے سبب بند پڑا دہلی چڑیا گھر کو تقریباً 380دن کے بعد جمعرات کو سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا لمبے عرصے کے بعد جنگلی پرندوچرندوں اور جانوروں کا دیدار کر بچوں و جنگلی جانوروں کو دیکھنے کا شوک رکھنے والے لوگوں کے چہرے کھل گئے پہلے دن 1645سیاحوں نے آن لائن ٹکٹ کے ذریعے سے چڑیا گھر میں انٹری کی جس سے انتظامیہ کو 1,18,560کی کمائی ہوئی تکنیکی گڑبڑیوں کی وجہ سے سیاحوں کو ٹکٹ بک کرنے میں پریشانی کا کافی سامنہ کرنا پڑا پہلے کے مقابلے چڑیاگھر کا نیا روپ رنگ نظر آیا انٹری گیٹ پر آرٹ پکیچرس نے سیاحوں کا دل جیت لیا کورونا کی وجہ سے پچھلے سال18مارچ کو چڑیا گھر کو بند کردیا گیا تھا اسی درمیان برڈ فلو کے سبب کے چڑیا گھر کو کھولنے کی فائل ایک بار پھر ٹھنڈے بستے میں چلی گئی تھی مسلسل دو بار نمونوں کی رپورٹ نگیٹیو آنے کے بعد چڑیا گھر کو یکم اپریل سے کھولا گیا سیاحوں کا کہنا تھا ٹکٹ بکنگ کے دوران یوپی آئی سرور میں پریشانی کی وجہ سے دکتیں آرہی تھیں اسی وجہ سے کئی سیاحوں کی اکاو¿نٹ سے پیسہ کٹنے کے بعد بھی ٹکٹ بک نہیں ہورہا تھا چڑیا گھر کے ڈائریکٹر رمیش کمار پانڈے نے بتایا کی پہلا دن ہونے کے سبب اور آن لائن سسٹم میں آرہی پریشانیوں کو جلد ٹھیک کر دیا گیا انہوں نے بتایا سیاحوں کی سہولیت کیلئے 10سے زیادہ لوگوں پر کیو آڑ کوڈ لگائے گئے تھے جس سے سیاحوں کو آسانی سے ٹکٹ بک کرسکیں پہلے سفٹ میں صبح 8سے 12بجے تک اور دوسری شفٹ میں دوپہر 1سے 5بجے تک داخلے کی اجازت تھی لیکن ہر ایک شفٹ میں زیادہ سے زیادہ پندرہ سو لوگوں کی بکنگ رکھی گئی اس طرح سے ایک دن میں تین ہزار سیاحوں کو انٹری ملی چڑیا گھر کھلنے کے بعد سے ہی زیادہ بھیڑ مشکور کانڈ سے مشہور ہوئے وجے باگ کے بیڑے کے باہر دیکھنے کو ملی جہاں خاص طور پر بچوں کے چہرے کھلتے نظر آئے اس کے علاوہ ہاتھی شیر بھالو ، بندر ، مگر مچھ، اور تیندوا کا جم کر نظارہ کیا گیا سال 2014میں وجے باغ کے بیڑے میں مقصود نام کا ایک شخص باگ میں گر گیا تھا کیونکہ اسی جنگل میں نہیں رہا کہ مقصود اس کے باڑے میں کر کیا رہا ہے حالانکہ چڑیا گھر ملازمین نے مقصود کو بچانے کیلئے کئی قدم اٹھائے لیکن اسے بچا نہ سکے ۔
(انل نریندر)
ایک ہی چتا پر آٹھ لوگوں کی انتم سنسکار!
کورونا دور میں بری خبروں کے درمیان یہ ایک اور بری خبر مہاراشٹر کے بیڑھ ضلعے سے آئی ہے جہاں کووڈ 19سے جان گنوانے والے 8لوگوں کا انتم سنسکار ایک ہی چتا پر کر دیا گیا اس سلسلے میں ایک افسر نے بدھ کو بتایا کہ ایک عارضی شوودھا گرہ میں جگہ کی کمی کے چلتے ایسا کیا گیا ادھیکاری نے بتایا جگئی نگر میں کورونا سے مرے لوگوں کا انتم سنسکار کئے جانے کا مقامی نواسیوں نے مخالفت کی تھی اسی لئے مقامی حکام کو انتم سنسکار کو دوسری جگہ ڈھونڈنی پڑی جہاں جگہ کم تھی ابا جگئی نگر پریشد کے چیئر مین اشوک ساولے نے بتایا کہ موجودہ وقت میں ہمارے پاس جو سمسان گھاٹ ہے وہاں متعلقہ متوفی کا انتم سنسکار کی مقامی لوگوں نے مخالفت کی اس لئے دو کلو میٹر دورمانڈوا مارگ پر ایک ساتھ دوسری جگہ ڈھونڈنی پڑی انہوں نے کہا اس نئے عارضی انتم سنسکار گرہ میں جگہ کم ہے اور اسی وجہ سے ایک ساتھ 8لاشوں کا انتم سنسکار کردیا انہوں نے کہا چونکہ کورونا وائرس کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے اس لئے مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے اس لئے عارضی شوودھا گرہ بڑھانے اور مانسون شروع ہونے سے پہلے اسے واٹر پروف بنائے جانے کے پلان پر تیاری ہے واضح ہو کہ بیڈ ضلع میں منگلوار کو کورونا وائرس کے 1716نئے مریض سامنے آئے جہاں اب تک یہ تعداد 28491ہوگئی ہے ضلع میں کووڈ 19سے اب تک 672لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔
(انل نریندر)
لاک ڈاو ¿ن کے ڈر سے دہلی سے پھر ہجرت شروع!
راجدھانی دہلی میں نائٹ کرفیو لگنے کے بعد سے ہی یہاں کے مزدوروں کو اب دوبارہ لاک ڈاو¿ ن کا ڈر ستانے لگا ہے ۔ بسوں ٹرینوں اور ریلوے رزرویشن سینٹروں پر اچانک بھیڑ بڑھ گئی ہے ساتھ ہی تعمیراتی کمپنیاں اور سیکورٹی ایجنسیوں میں کام کرنے والے مزدور چھٹیوں کی درخواستیں دے رہے ہیں ایک مزدور کے مطابق جس طرح اچانک دہلی میں نائٹ کرفیو اعلان کر دیا گیا ہے اسی طرح اچانک لاک ڈاو¿ن کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے انہیں اندیشات کے پش نظر ان مزدوروں کیلئے پچھلے سال جیسی پریشانیاں کھڑی ہو جائیںگی اس سے بہتر یہی ہے کہ وہ ابھی سے اپنے گاو¿ں پہونچ جائیں ریلوے رزرویشن کاو¿نٹر پر آئے ایک شخص سریش کمار کے مطابق پچھلے سال انہوں نے قریب 350کلو میٹر کا پیدل راستہ طے کیا تھا کرائے نہ ملنے کے سبب مکان مالک نے ان کا سامان گھر کے باہر رکھ دیا تھا کام ملنا بند ہوگیا تھا کھانے تک کے لالے پڑ گئے تھے اس بار وہ لاک ڈاو¿ن نہیں چاہتے ۔کاپاسہیڑا کے باشندے کئی لوگ اور زیادہ پریشان ہیں اگر لاک ڈاو¿ن نہ بھی لگا اور بارڈر بند ہوگئے تو ان کام کا چھوٹ جائے گا بڑی مشکل سے وہ اپنی پرانی حالات سے باہر آپائے ہیں برے دنوں میں انتظامیہ اور پولس دونوں انہیں ہی ڈنڈے مارتے ہیں اس سے اچھا ہے کہ ابھی ٹرانسپورٹ دستیاب ہے اور وہ اپنے گھر واپس چلے جائیں ایسے ہی اشوک وہار کی ایک سندھ سیکورٹی سروس کے ڈائرکٹر پونم سنگھ نے بتایا کی نائٹ کرفیو کے بعد سے کئی لوگ چھٹیا مانگ رہے ہیں اور ایسا کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے زیادہ تر لوگ پچھلے وقت کو یاد کرکے سہم جاتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...