Translater

07 جولائی 2018

تاریخی فیصلہ کے بعد ٹکراؤ جاری رہنے کے آثار

مرکز اور دہلی حکومت کے بیچ اختیارات کو لیکر پچھلے چار سال سے جاری لڑائی بدھوار کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے لکشمن ریکھائیں دکھا دی ہیں۔ عدالت نے اس تاریخی فیصلہ میں موٹی موٹی کچھ باتیں طے کردی ہیں۔ اگر اس میں لیفٹیننٹ گورنر کو ان کے حقوق کی حد بتائی گئی تو یہ بھی صاف کردیا کہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ نہیں مل سکتا۔ دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان اختیارات کی جنگ پر پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے کہا کہ اصل طاقت چنی ہوئی سرکار کی کیبنٹ کے پاس ہے اور لیفٹیننٹ گورنر کیبنٹ کی صلاح کو مانیں گے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کیبنٹ بھی اپنے سبھی فیصلوں کی جانکاری ایل جی کو ضرور دے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں فیصلوں میں لیفٹیننٹ گورنر کی رضامندی ضروری ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کو آزادانہ اختیار نہیں سونپے گئے۔ ایسے میں ایل جی کا رول خلل ڈالنے والا نہیں ہونا چاہئے۔ اسے مشینی طریقے سے کیبنٹ کے فیصلوں کو روکنا نہیں چاہئے۔ کیبنٹ کی کوئی رائے اگر ایل جی سے میل نہیں کھاتی تو اسے صدر کو بھیجا جاسکتا ہے۔ عدالت نے صاف کہا کہ یہاں ANY کا مطلب EVERY (ہر ایک) نہیں ہے۔ یعنی ایل جی ہر معاملہ صدر کے پاس نہیں بھیج سکتے۔ صدر جو فیصلہ لیں گے ایل جی اس پر عمل کریں گے لیکن ایل جی خود سے کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے۔ کورٹ نے کہا کہ ایل جی کو سمجھنا ہوگا کہ یہ کیبنٹ جنتا کو جوابدہ ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگست2016 کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دہلی مرکزی زیرانتظام ریاست ہے اور آئین کی دفعہ 239AA کے تحت اس کے لئے خاص تقاضے طے کئے گئے ہیں۔ ایسے میں راجدھانی میں ایل جی چیف منتظم کے رول میں ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ ان کی منظوری کے بغیر نا لیا جائے۔ اس کے بعد دہلی سرکار نے کئی عرضیاں داخل کر فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ چیف جسٹس کے رہنمائی والی آئینی بنچ نے مانا کہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ دہلی میں پولیس و لا اینڈ آرڈر اور زمین کے معاملہ میں سبھی اختیارات ایل جی کے پاس ہی رہیں گے۔ بیشک کئی معنوں میں یہ فیصلہ تاریخی تھا اس فیصلہ سے دونوں فریق اپنی اپنی جیت کا دعوی کرسکتے ہیں۔ دہلی سرکار اپنے حق میں کہہ سکتی ہے لیکن کورٹ نے صاف کیا ہے کہ جنتا کے تئیں لیفٹیننٹ گورنر نہیں بلکہ چنی ہوئی سرکار جوابدہ ہے۔ وزیر اعلی اور ان کی کیبنٹ کو ہی دہلی چلانے کا حق ہے۔ سرکار کو ہمیشہ ایل جی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اختیارات میں آپسی تال میل ہو، پاور ایک جگہ ایل جی کے پاس مرکوز نہیں رہ سکتی۔ سرکار ہی سپریم ہے،کیبنٹ کے پاس ہی اصل طاقت ہے۔ ایل جی کو کیبنٹ کی صلاح پر فیصلے لینے ہوں گے اور چنی ہوئی سرکار کے کام میں ایل جی دخل نہیں دے سکتے اور وہ سرکار کے فیصلہ کو ماننے کے لئے مجبور ہیں۔ جنتا کے چنے ہوئے نمائندوں والی اسمبلی اپنا قانون بنا سکتی ہے اور ایل جی اسے روک نہیں سکتے کیونکہ ایل جی کے پاس خود سے فیصلے لینے کا اختیار نہیں ہے۔ کیبنٹ اور آئینی پاور ایل جی نظر انداز نہیں کرسکتے۔ انہیں سی ایم کے فیصلے کو روکنے کا حق نہیں ہے۔ بدامنی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ دوسری طرف جو باتیں ایل جی کے حق میں کہی گئی ہیں اس میں کہا گیا ہے دہلی مرکزی حکمراں ریاست ہے اور ریاستی سرکار کو زیاہ اختیار نہیں دئے جاسکتے۔ عدالت نے یہ بھی مانا کہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ ملنا ممکن نہیں ہے۔ ایل جی دہلی کے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ دہلی کیبنٹ کو کوئی قانون بنانے سے پہلے اور بعد میں اسے ہر حال میں ایل جی کو دکھانا ہوگا۔ دہلی کیبنٹ اور لیفٹیننٹ گورنر میں اگر کسی اشو پر اختلاف ہے تو وہ معاملہ اب بھی صدر کے پاس بھیجا جائے گا۔ کیونکہ صدر مرکزی وزارت داخلہ کی صلاح لیتے ہیں اور اس طرح مرکزی سرکار کا دبدبہ پہلے ہی طرح بنا رہے گا۔
تین اشو زمین، قانون، لا اینڈ آرڈر اور پولیس اب بھی گورنر کے ذریعے مرکزی سرکار کے ماتحت رہیں گے۔ انہی معاملوں پر دہلی حکومت قانونی لڑائی لڑتی رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر دہلی اور مرکزی سرکار کے قانون میں کوئی تضاد ہے تو اس معاملہ میں پارلیمنٹ کا قانون ہے سپریم ہوگا۔ سپریم کورٹ نے بھلے ہی دہلی سرکار اور ایل جی کے اختیارات کی تشریح کردی ہو لیکن ہمیں شبہ ہے کہ دہلی سرکار اور ایل جی کی لڑائی رکنے والی نہیں ہے کیونکہ اب اصل مسئلہ اختیارات اورفرائض نہ ہوکر آپسی تال میل کی کمی ہے۔ بیشک سپریم کورٹ نے کچھ ایشوز کا فیصلہ کردیا ہو لیکن ابھی بھی دونوں میں اختلافات کی گنجائش باقی ہے۔ وزارت داخلہ نے 21 مئی کو نوٹی فکیشن کے تحت ایل جی کے نو ریڈیکشن کے تحت سروسز سینٹر پبلک آرڈر اور پولیس اور لینڈ سے متعلق معاملہ کو رکھا گیا ہے۔ اس میں افسر شاہی کی ملازمت سے متعلق معاملہ بھی شامل ہے۔
اس نوٹیفکیشن کے تحت دہلی سرکار کے ایگزیکیٹو پاور کو محدود کیا گیا ہے اور دہلی سرکار کے اینٹی کرپشن برانچ کا دائرہ اختیار دہلی سرکار کے اختیارات تک محدود کیا گیا۔ اس جانچ کے بعد مرکزی اختیارات کو باہر کردیا گیا ہے۔ پچھلے تین سال سے اسی لڑائی کے سبب دہلی کی ترقی متاثر ہوئی ہے۔ اب جب سپریم کورٹ نے سرکار اور ایل جی کے اختیارات کی نشاندہی کردی ہے تو اب دہلی سرکار کو اپنی وکاس یوجناؤں کو لاگو کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہئے۔ اب تو کوئی بہانا نہیں بچا۔ اس فیصلہ میں آئین اور دہلی کے لوگوں دونوں کی جیت ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

06 جولائی 2018

جلال آباد میں سکھوں۔ہندوؤں پر بزدلانہ حملہ

افغانستان کے جلال آبادشہر میں پچھلے ایتوار کو سکھوں اور ہندوؤں کو نشانہ بنا کر جو بزدلانہ حملہ ہوا ہے وہ تشویش کا باعث تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ اس کے پیچھے بڑی سازش کا بھی اندیشہ ہے۔ اس حملہ میں سکھ اور ہندو فرقے کے 20 لوگ مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ ایک فدائی حملہ اس وقت ہوا جب ہندوؤں اور سکھوں کا ایک نمائندہ وفد صدر اشرف غنی سے ملنے جارہا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری آتنکی تنظیم داعش نے لی ہے۔ اس حملہ کے پیچھے بیشک آئی ایس نے ذمہ داری لی ہو لیکن اصل دماغ اور پلان میں پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ نظر آرہا ہے۔ آئی ایس آئی اس علاقہ میں اپنے حمایتی طالبان اور آئی ایس آتنکیوں کے ساتھ مل کرہندوستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے پہلے بھی اس طرح کے حملے کروا چکی ہے۔ ہندوستانی خفیہ ذرائع کی مانیں تو بھارت ۔افغانستان سرکار کے ساتھ مل کر جلال آباد کے آس پاس کئی ترقیاتی کام کرنے کا ارادہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ حملہ اسے نقصان پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ بھارت میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر شمشاد محمد ابدالی نے کہا کہ پاکستان کے اشارہ پر طالبان ، آئی ایس افغانستان میں رہ رہے ہندو ۔سکھوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں۔مارے گئے سکھ اور ہندو کسی بھی افغانی سے کم حب الوطن نہیں۔ ابدالی نے آگے کہا ان پرحملہ افغانستان کی دیش بھکتی پر حملہ ہے۔ انہوں نے پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب بھارت اور افغانستان کو ہی نہیں بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی پھیلانے والوں نے مقابلہ کرنا چاہئے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ افغانستان میں جو ہندوستانی بچے ہیں ان کی سیکورٹی کیسے یقینی ہوگی؟ افغانستان میں پہلے بھی اس طرح سے ہندوؤں اور سکھوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تازہ حملہ میں مارے گئے سکھ فرقہ کا ایک شخص تو وہاں اکتوبر میں ہونے والے چناؤ میں حصہ لینے کی تیاری میں تھا۔ ڈھائی تین دہائی پہلے افغانستان میں ایک لاکھ سے زیادہ سکھ ہندو تھے۔ کابل، قندھار اور جلال آباد میں مقامی کاروبار میں ان کی سانجھے داری تھی لیکن طالبان راج کے خواب کے بعد ان کی ہجرت شروع ہوگئی۔ اب وہاں مشکل سے 300 سے بھی کم سکھ کنبے کے لوگ رہ رہے ہیں۔ حملوں میں ان کے گھر تباہ ہوگئے ہیں،کاربار چوپٹ ہوگی اور سب پر موت کی تلوار لٹک رہی ہے ایسے میں ان کی سلامتی کیسے ہوگی یہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ بھارت سرکار کو افغانستان سرکار سے مل کر بچے سکھ۔ ہندو کنبوں کی سلامتی کے لئے فل پروف پلان بنانا ہوگا نہیں تو طالبان آئی ایس آئی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوجائے گا اور افغانستان میں ایک بھی سکھ ہندو پریوار نہیں بچے گا۔
(انل نریندر)

جموں و کشمیر میں نئے جوڑ توڑ سے سرکار بنانے کے داؤ پیچ

ایسے اشارہ مل رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں نئی سرکار کی تشکیل کی قواعد شروع ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے درمیان سرکار بنانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان بھاجپا کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلی رویندر گپتا نے کہا کہ مختلف پارٹیوں کے ناراض ممبران اسمبلی سے ریاستوں میں جلد ایک نئی سرکار تشکیل دی جاسکتی ہے۔ دراصل سب سے زیادہ بے چینی پی ڈی پی نیتا اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو ہے۔ پی ڈی پی پر ٹوٹنے کا خطرہ منڈرا رہا ہے اس لئے نئی سرکار بنانے کے لئے محبوبہ کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی سے ملنے کے لئے بے چین ہے۔ پی ڈی پی لیڈر دہلی میں ہیں اور ان کی پارٹی کے کم سے کم 11 ممبران اسمبلی ان سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔ پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر عمران رضا انصاری نے پی ڈی پی ۔بھاجپا اتحاد ٹوٹنے کے لئے پارٹی صدر اور سابق وزیرا علی محبوبہ مفتی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک لاچار وزیر اعلی ثابت ہوئی ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف سیاست کے لوگوں کو مایوس کیا ہے بلکہ اپنے والد کے خوابوں کو بھی مٹی میں ملا دیا ہے۔ ادھر کانگریس نے جموں و کشمیر کے لئے بنے کور گروپ کی میٹنگ پیر کوسابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے یہاں ہوئی۔ کور گروپ کی میٹنگ کے بعد کانگریس کی جموں و کشمیر انچارج امبیکا سونی اور پردیش صدر غلام محمد میرنے یہ ہی بتایا پارٹی سرکار بنانے کے بجائے جلد چناؤ چاہتی ہے۔ کانگریس نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر سرکار بنانے کی قیاس آرائیوں کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ریاست میں پی ڈی پی کے ساتھ کانگریس سرکار بنانے سے متعلق افواہوں پر منگلوار کو کہا کہ تعجب ہے کانگریس کے سینئر لیڈروں کے انکار کے باوجود کانگریس ۔ پی ڈی پی اتحادی سرکار بنانے کی قیاس آرائیوں پر روک نہیں لگ رہی ہے۔ فی الحال ریاست میں گورنر راج لاگو ہے۔ عبداللہ نے بھاجپا پر اقتدار حاصل کرنے کے لئے ممبران اسمبلی کی خریدو فروخت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسمبلی کو فوراً بھنگ کر نئے چناؤ کرانے کی مانگ کی ہے۔ ہماری رائے میں بھی جموں و کشمیر میں کسی بھی جوڑ توڑ سے بنی سرکار نہ تو زیادہ دن تک چل سکتی ہے اور نہ ہی یہ وہاں کی جنتا کا بھلا کرسکتی ہے۔ ذاتی اغراض پر مبنی گٹھ جوڑ والی نئی سرکار نہ تو ریاست میں امن بحال کر پائے گی اور نہ ہی استحکام دے پائے گی۔ نئے چناؤ ہی آخری متبادل ہیں۔ 2019 کے لوک سبھا چناؤ کے ساتھ جموں وکشمیر اسمبلی چناؤ کرائے جاسکتے ہیں۔ تب تک گورنر راج ہی ٹھیک رہے گا کیونکہ جموں و کشمیر کے جو حالات بن چکے ہیں انہیں ٹھیک کرنے میں بھی ابھی وقت لگے گا۔ جموں و کشمیر ایسی ریاست ہے جہاں کسی طرح کا عدم استحکام ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

05 جولائی 2018

کیجریوال اور سسودیا کیخلاف کیس درج کرنے کی تیاری

موصولہ اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی حکومت کے چیف سیکریٹری انشو پرکاش کے ساتھ بد سلوکی اور مارپیٹ معاملے میں وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے خلاف کیس درج کرنے کی تیاری ہورہی ہے ۔تیار کی گئی چارج شیٹ میں نارتھ دہلی پولس وزیر اعلی کیجریوال کے اس وقت کے مشیر وی کے جین کوہی اپنا اہم چشم دید گواہ بنایا ہے ۔پولس کے مطابق جین کے ذریعہ سے ہی کیجریوال نے چیف سیکریٹری کو صبح سے ہی دیر رات تک بار بار فون کرواکر میٹنگ کے بہانے اپنے گھر پر بلایا تھا ۔دہلی پولس کے ایک سینئر افسر نے اس کی تصدیق کی ہے اس کے مطابق مار معاملہ میں ثبوتوں کی بنیاد پر جس طر یقے سے مضبوط چار ج شیٹ تیار کی گئی ہے وہ دہلی سرکار کے لئے گلے کی ہڈی بن سکتی ہے ۔ویسی وزیر اعلی کو اس بات کی راحت ضرور ملی ہوگئی کہ ایف ایس ایل رپورٹ میں پتہ چلاہے کہ وزیر اعلی کی رہائش گاہ میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹوں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ۔ کیمروں کا وقت پہلے سے ہی 40منٹ آگے چل رہا تھا ۔ واردات والے دن ان کیمروں سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی ہے ۔پولس کسی بھی دن تیس ہزاری کورٹ میں وزیر اعلی کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے خلا ف چارج شیٹ داخل کرسکتی ہے ۔اس میں کیجریوا ل اور سسودیا کو معاملے میں اہم ملزم بنایا گیا ہے ۔کیجریوال اگر قصور وار ثابت ہوئے تو ان کو تین سال تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے ۔ دوسری طرف رپورٹ آنے کے ساتھ ہی تذکرہ شروع ہوگیا ہے کہ ایف ایس ایل دہلی سرکار کے ماتحت کام کرتی ہے ؟اس معاملے میں پولس مجرمانہ سازش رچنے (120A/B)،سرکاری کام کاج میں رکا وٹ ڈالنے (186)،سرکاری ملازم کو ڈیوٹی پر چوٹ پہنچانے (66)،مار پیٹ کرنے (323 )،کمرے میں یرغمال بنانے (347)اور کئی لوگوں کے ذریعہ جان سے مار نے کی دھمکی دینے (506)جیسی دفعات میں چار ج شیٹ داخل کرے گی ۔ ایسا کرنے والے شخص کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 332کے تحت معاملہ درج کیا جاتا ہے ۔یہ غیر ضمانتی جرم کی زمرے میں آتاہے ۔اس دفعہ کے تحت تین سال کی سزا تجویز ہے ۔میڈیا میں آئی اس خبر سے عام آدمی پارٹی میں بے چینی بڑھنا فطری ہی ہے ۔کیجریوال نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہلی سرکار کے کام کاج کو روکا جارہا ہے ۔چھوٹے مقدمے درج کئے جارہے ہیں انھوں نے ٹیوئٹ کیا پردھان منتری جی ،دہلی کے لوگوں کے ذریعہ چنے نمائندوں کے خلاف اس طرح کے چھوٹے کیس درج کرنا دہلی کے لوگوں کی بے عزتی ہے ۔او رہم لوگ تمام مخالفتوں کے باوجود دہلی کی جنتا کیلئے کام کرتے رہیں گے ۔
(انل نریندر)

پاکستان میں چناؤی آہٹ ،سیاسی درجہ حرارت بڑھا

پاکستان میں عام چنا ؤ کی آہٹ سے سیاسی درجہ حرارت بڑھنے لگاہے ۔پاکستان میں 25جولائی کو عام چناؤ ہونگے ۔پاکستان الیکشن کمیشن 21مئی کو صدر کو بھیجے گئے خط میں نیشنل اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلیوں کے لئے 25سے 27جولائی کے درمیان چناؤ کروانے کی سفارش کی تھی ۔صدر ممنون حسین نے 25جولائی کو چنا ؤ کرانے کی منظوری دیدی ہے موجودہ سرکار کی میعاد 31 مئی کو ختم ہوگئی ہے اور یکم جون سے نئی حکومت کے قیام تک نگراں سرکار نے کام کاج سنبھالا ہوا ہے ۔میاں نواز شریف اپنا سیاسی وجود کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ پنجاب صوبے میں شریف کی پارٹی پی ایم ایل (نواز )کا دبدبہ ہے ۔پاکستانی پارلیمنٹ میں قریب آدھے ممبران اسی صوبے سے ہیں ۔عدالت سے نااہل ٹھہرائے جانے سے شریف خود چناؤ نہیں لڑ سکتے ۔الگے صوبے کی مانگ کو لیکر ساؤتھ پنجاب او ربھاولپور میں ناراضگی چل رہی ہے ۔ آصف زرداری اور بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو کیلئے اپنی موجودگی درج کرانے کیلئے آخری موقع ہے ۔بھٹو خاندان کی وراثت اور سندھ میں پیٹھ ان کی سب سے بڑی طاقت ہے پہلی بار چناؤ میں شامل ہونے سے پاکستانی عوام انھیں ضرور پرکھنا چاہئے گی ۔ان کو چنوتے دے رہے عمران خان کو اس مرتبہ جنتا کی حمایت کی امید ہے ۔شریف کے متبادل کے طور پر خود کو عمران زور وشور سے پیش کررہے ہیں ۔وہ کٹرپسندو ں کے بڑے گروپ کی حمایت کرنے میں بھی کامیاب ہیں ۔ان کی کمزوری خیبرپختون خواہ میں پارٹی کی پکڑ کمزور ہے ۔ سینٹ چناؤ جیتنے کیلئے خریدوفروخت کے الزامات ان پر لگ رہے ہیں ۔ بلاول بھٹو کی دکھتی رگ ان کے والد آصف علی زرداری پر بدعنوانی کے الزام لگے ہوئے ہیں ۔ ان کو مسٹر 10پرسینٹ بھی کہا جاتاہے جہاں تک چناؤی اشو ہیں ان میں کرپشن ،معیشت ،روزگار اور صوبائی امتیاز بڑے اشو ہیں ۔یہ کسی سے چھپا نہیں کہ پاکستان کی سیاسی پر سب سے زیادہ اثر پاک فوج کا ہے ۔چناؤ میں جیت پاک فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیا ں آئی ایس آئی کے اشارہ پر طے ہوگی ۔مانا جاتا ہے کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی نتیجوں کو متاثر کرتی ہیں ۔اور اگلی سرکار ان کی رضامندی سے ہی بن سکتی ہے ۔پاک میڈیا کی آواز دبانے کیلئے پاک فوج پر الزام لگ رہے ہیں ۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان پر بے حد دباؤ ہے اور فوج کی نگرانی میں ایک خاموش تختہ پلٹ ہورہا ہے ۔پاکستان کے کئی میڈیا گھرانوں کا کہنا ہے کہ 25جولائی کو ہونے والے عام چناؤ سے پہلے فوج نے کوریج پر کئی طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں ۔ جو لوگ اس دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کررہے ہیں انھیں نشانہ بنایا جارہا ہے ۔وہیں جنتا میڈیا گھرانوں کے پاس درکار وسائل نہیں ہیں اور خود الٹے ان پر سینسرشپ شروع کردی ہے ۔ ممبئی آتنکی حملے کا سازشی حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃعام چناؤ اللہ اکبر تحریک کے ذریعہ لڑے گی اس گروپ کی ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل )کا سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹریشن ہونا مانا جارہا ہے ۔
(انل نریندر)

04 جولائی 2018

اجتماعی قتل یا اجتماعی خودکشی

سوالوں میں الجھی براڑی کے بھاٹیہ خاندان کی انتہائی تکلیف دہ واردات جس میں 11 لوگوں کی مشتبہ حالات میں موت نے دل کو دہلا دیا ہے اور یہ واقعہ افسوسناک تو ہے ہی ساتھ ساتھ چونکانے والا بھی ہے ۔ براڑی کے سنت نگر میں واقع ایک گھر سے ایتوار کی صبح مشتبہ حالت میں 11 لاشوں کے ملنے سے کھلبلی مچنا فطری ہی تھا۔ ان میں 7 عورتیں ،4 مردوں کی لاشیں ہیں۔ کچھ کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے تو کچھ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق دو خاندانوں کے 10 لوگ پھانسی کے پھندے پر لٹکے ملے۔ دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ قریب سوا سو گز کے مکان میں گراؤنڈ فلور پر پرچون اور دودھ کی دوکان چلاتا تھا جبکہ برابر میں ہی للت فرنیچر کی دوکان کرتا تھا۔دہلی میں نارائن دیوی کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھونیش بھاٹیہ عرف یووی(50 سال) ، للت بھاٹیہ (45 سال) اور ایک ودھوا بیٹی پرتیما بھاٹیہ(57 سال) اپنے اپنے خاندان کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ پولیس پتہ کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ معاملہ اجتماعی قتل کا ہے یا ان سبھی نے خودکشی کی ہے؟ شبہ ہے کہ ان لوگوں نے روحانی طریقے سے موت پانے کے لئے اجتماعی طور سے خودکشی کی ہے حالانکہ پولیس نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے کیونکہ کچھ سوالات پر اب بھی غور وخوض جاری ہے۔ اگر یہ خودکشی ہے تو سبھی 11 لوگ کیسے تیار ہوگئے؟ آس پڑوس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس لڑکی کی اسی مہینے سگائی ہوئی ہو اور اس کی شادی طے ہوچکی ہو ،بھائیوں کی مالی حالت اچھی ہو ، وہ خودکشی کیوں کریں گے اور سبھی اس کے لئے راضی کیسے ہوجائیں گے؟ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پورا معاملہ قتل سے وابستہ ہے اور ہاتھ پیروں کا بندھا ہونا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دونوں بھائیوں کے بیچ بہت اچھے تعلقات اور تال میل تھا۔ اسی مہینے انہوں نے پورے مکان کی مرمت کا کام کروایا تھا۔ بیٹی کی شادی طے ہوچکی تھی تو اس اجتماعی خودکشی میں اسے شامل کرنے کا کیا مطلب تھا؟ یہ خاندان کافی دھارمک نظریئے کا تھا ممکن ہے کہ یہ پورا واقعہ اندھوشواس کے جال میں پھنس کر رونما ہوا ہو جس میں خاندان کے کسی فرد کا رول ہو۔ یہ امکان بھی جتایا جارہا ہے کہ کسی تانترک بابا نے ان کا برین واش کرکے نجات پانے کے لئے ایسا کرنے کو کہا ہو؟ پھر پورے خاندان نے منظم ڈھنگ سے یہ خودکشی والا قدم اٹھایا اس لئے رات میں ہلچل ہونے کے امکان کو دیکھتے ہوئے خاندان نے منہ پر ٹیپ او ر کان میں روئی ٹھونسی ہوگی۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ رات11 بجے تک اس پریوار کے کچھ افراد کو گھر کے باہر ٹہلتے دیکھا گیا تھا۔ رات میں کوئی شور یا ہلچل بھی محسوس نہیں ہوئی۔ پھر بزرگ عورت کی لاش دوسرے کمرے میں بیڈ کے نیچے پڑی ملی۔ عورت کا وزن بہت زیادہ تھا اس لئے وہ پھندہ نہیں لگا سکی۔ یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ خاندان کے کسی شخص نے پہلے ان کا قتل کیا ہو اس کے بعد دوسرے کمرے میں باقی افراد کے ساتھ خودکشی کرلی ہو۔ جانچ سے جڑے ایک افسر کا کہنا ہے کہ پھندہ لگانے کی وجہ سے ان سب کا ٹوائلٹ نکلا ہوا تھا۔ زہر کھانے یا کھلائے جانے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے پھر بھی پولیس نے تمام ثبوتوں کو محفوظ رکھوالیا ہے تاکہ پتہ چلے کہ موت سے پہلے انہیں کوئی زہریلی چیز تو نہیں کھلائی گئی یا دی گئی؟ تازہ رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم میں مردہ پائے گئے 11 لوگوں میں سے کسی میں کوئی لڑائی جھگڑے کے اشارہ نہیں ملے۔ سبھی کی موت پھانسی لگانے سے ہوئی۔ واردات سے ملے ہاتھ سے لکھے کچھ پرچوں کو دیکھتے ہوئے پولیس کو شبہ ہے یہ معاملہ سوچ سمجھ کر کیا گیا خودکشی کا ہے جو کسی مذہبی انشٹھان کے لئے کیا گیا ظاہر ہوتا ہے۔ ابھی تک کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ یہ اجتماعی خودکشی ہے یا اجتماعی قتل؟ ابھی صرف اندیشات ہیں ، ان اندیشات نے ہر کسی کے ذہن میں کئی سوال کھڑے ہردئے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ اگر یہ کسی تانترک کے بہکاوے میں اٹھایا گیا قدم ہے تو پولیس حراست میں لئے گئے ایک تانترک سے پوچھ تاچھ کررہی ہے اور معاملہ کا پتہ نکال لے گی۔خیر جو بھی ہو یہ انتہائی تکلیف دہ ، چونکانے والی واردات ہے۔
(انل نریندر)

آئی ڈی بی آئی کے گھوٹالوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش

جس طرح سے دیش کی سب سے بڑی کمپنی ایل آئی سی نے آئی ڈی بی آئی بینک کی 50 فیصد سے زیادہ سانجھیداری کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اس سے دیش کے بینکنگ سیکٹر میں کھلبلی مچنا فطری ہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سرکار قرض میں ڈوبے بینکوں کو اب اسی طرح اپنی بڑی کمپنیوں میں کھپانے کے پلان کو قطعی شکل دینے میں لگ گئی ہے۔ سرکار یہ بھی چاہتی ہے کہ دیش کے سرکاری بینکوں سے اب تک جن بڑی کمپنیوں نے بھاری قرض لے رکھے ہیں اور لوٹائے نہیں ہیں ایسے بینکوں کو دیش کی بڑی کمپنیوں میں ملانے کے کام کو بھی انجام دیا جارہا ہے۔ زندگی بیمہ کارپوریشن (ایل آئی سی) کو بیمہ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایرڈا) نے قرض میں ڈوبے آئی ڈی بی آئی بینک میں 50 فیصدی حصہ داری لینے کو منظوری دے دی ہے۔ اب اس کے بعد ایل آئی سی کا بینک سیکٹر میں اترنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے جس کے بعد پہلے سے جمے جمائی کئی بینکوں کو سخت ٹکر ملنے کی امید ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ حیدرآباد میں ایرڈا کے سرمایہ زونل کی میٹنگ کے دوران لیا گیا۔حال ہی میں آئی ڈی بی آئی میں ایل آئی سی کی حصہ داری 11فیصدی ہے۔ ایک اعدادو شمار کے مطابق ہر سال ایل آئی سی قریب 20 لاکھ پالیسی جاری کرتی ہے۔ ایل آئی سی کے پاس 250 ملین لوگوں کے مستقبل کی حصے داری ہے جنہوں نے ایل آئی سی سے قریب 300 ملین لائف انشورنس پالیسی لے رکھی ہے۔ ایل آئی سی کے پاس سالانہ تین لاکھ کروڑ روپے کی پریمیم جمع ہوتی ہے۔ ایل آئی سی اپنے پاس جمع سرمائے کے ذریعے آئی ڈی بی آئی بینک میں سرکار کی حصے داری کو خریدے گا۔ آئی ڈی بی آئی بینک میں مرکزی سرکار کی 85 فیصدی حصے داری ہے اور مالیاتی برس 2018 کے دوران بینک کی 10610 کروڑ روپے کی مدد بھی کی تھی۔ کانگریس نے سنیچر کو الزام لگایا کہ موی سرکار ایل آئی سی سے کروڑوں لوگوں کی گاڑھی کمائی کا استعمال اپنے عہد میں ہوئے بینک گھوٹالہ کی بھرپائی کے لئے کرنا چاہتی ہے اور اس لئے قواعد کو طاق پر رکھ کر پبلک سیکٹر کے آئی ڈی بی آئی بینک کے شیئر خریدنے کے لئے اسے مجبور کررہی ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ سرکار بینک گھوٹالوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر کوشش میں لگی ہے اور اسی کے لئے اس نے 38 کروڑوں لوگوں کی ایل آئی سی میں جمع گاڑھی کمائی پر سیند لگانے کا راستہ نکالا ہے۔ ایل آئی سی بہت خراب حالت میں چل رہی ہے۔ آئی ڈی بی آئی بینک کے شیئر خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ مودی سرکار کی پالیسیوں کے سبب دیش کی معیشت پہلے ہی گہرے بحران میں چل رہی ہے۔ اس سرکار نے بغیر سوچے سمجھے آدھا ادھورا گڈ اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) لاگو کردیا اور بغیر ہوم ورک کئے نوٹ بندی کی جس کا خمیازہ دیش کی جنتا کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور اب ایل آئی سی کو مجبور کیا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

03 جولائی 2018

سوئس بینکوں میں بھارت کی دھوم

یقینی طور سے یہ جانکاری حیران و پریشان کرنے والی ہے کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم میں بھار ی اضافہ ہوا ہے۔ کالے دھن میں کمی کرنے والی مودی سرکار کے لئے سوئس نیشنل بینک کی طرف سے جاری تازہ رپورٹ بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے۔ سوئس نیشنل بینک نے 28 جون کو اپنے یہاں غیرملکیوں کی جمع رقم کے بارے میں جو اعدادو شمار جاری کئے ہیں وہ بھارت سرکار کے دعوے کونظر انداز کرنے والے ضرور ہیں اور کرپشن کے خلاف ہونے والی سرکار کی لڑائی کے دعوی کی پول کھولتے ہیں۔ اس کے مطابق سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کا پیسہ 50 فیصد بڑھ کر تقریباً 7 ہزار کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ ہندوستانیوں کے ذریعے سوئس بینک کھاتوں میں سیدھے طور پر رکھا گیا پیسہ بڑھ کر 99.9 کروڑ فرینک (سی ایم ایف) اور دوسروں کے ذریعے سے جمع کرایا گیا پیسہ بھی بڑھ کر 1.6 کروڑ سوئس فرینگ ہوگیا ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے بینک کھاتوں میں غیر ملکی گراہکوں کا کل پیسہ 1460 ارب سوئس فرینک یا 100 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ کالے دھن کے خلاف مہم کے باوجود یہ تشویش کی بات ہے کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کے پیسے میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستانی اپنی کالی کمائی رکھتے رہے ہیں کیونکہ ان بینکوں میں گراہکوں کی اطلاعات کو بیحد خفیہ رکھا جاتا ہے۔ یہاں آپ کے کھاتوں کو اتنا خفیہ رکھا جاتا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ نام سے نہیں ہوتے بلکہ آپ کو ایک نمبر دیا جاتا ہے ، یعنی نمبر سے ہی آپ کا اکاؤنٹ آپریٹ ہوتا ہے۔ کالا دھن رکھنے والے جو اکاؤنٹ کھلواتے ہیں اسے نمبر اکاؤنٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں ٹرانسزیکشن کے وقت کاسٹر کے نام کے بجائے صرف اسے ہی دی گئی آئی ڈی کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے لئے سوئٹزرلینڈ میں فزیکل طور پر جانا ضروری ہوتا ہے۔ خود جاکر بینک سے کیش نکالنا ہوتا ہے۔ اس ڈائریکٹ کیش نکالنے سے پرائیویسی بنی رہتی ہے کیونکہ ٹرانسزیکشن ریکارڈ صرف بینک کے پاس ہوتا ہے۔ ٹریولرچیک کا استعمال کرنا آسان ہے اور یہ ہر جگہ قبول کئے جاتے ہیں لیکن اس چیک کی رقم کے حساب سے بینک کو ایک فیصدی کمیشن دینا پڑتا ہے۔ آپ 68 لاکھ روپے سے کھاتا کھلوا سکے ہیں۔ سوئس بینک میں اکاؤنٹ سوئس بینکوں میں جمع ہونے والی ہندوستانیوں کی رقم میں 2017 میں 50 فیصد کا اضافہ یہ بتاتا ہے کہ کالے دھن کے کاروباری سرکار سے زیادہ چالاک ہیں۔ سرکار اگر ڈال ڈال ہے تو وہ پات پات ہیں ورنہ کیا وجہ ہے 2016 سوئس بینکوں میں جمع ہونے والا ہندوستانیوں کا پیسہ 45 فیصد گرا تھا لیکن اگلے ہی برس اس میں اچھال آگیا۔ پیسے میں تین برسوں تک ہارس کا دور رہا اور ہندوستانی معیشت اور سرکار کو ایک طرح کی خوشی کا تجربہ ہوتا ہے۔ سرکار یہ بھی دعوی کرنے لگی تھی اس کی کوششوں سے اچھے نتیجے آنے لگے ہیں۔ کرپشن مٹانے ،بیرونی ممالک میں جمع کالا دھن دیش میں واپس لانے سے لیکر کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے کے وعدہ کے ساتھ اقتدار میں آئی مودی سرکار نے کالے دھن پر کارروائی کے لئے کئی قدم اٹھانے کا دعوی کیا۔ سپریم کورٹ میں دائر عرضی کے تحت اسپیشل تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) بنائی گئی۔ بیرونی بینکوں نے کئی کھاتہ داروں کے نام بھی بینکوں کو دئے حالانکہ وہ نام کبھی اجاگر نہیں کئے گئے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے جمعہ کو کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں سوئس بینکوں میں جمع کالی کمائی واپس لاؤں گا اور ہر ہندوستانی کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے ڈالوں گا۔ 2016 میں انہوں نے کہا نوٹ بندی سے کالے دھن سے نجات مل جائے گی۔2018 میں وہ (پردھان منتری) کہتے ہیں کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانی شہریوں کے ذریعے جمع کرائے جانے والے پیسے میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ سفید دھن ہے، سوئس بینکوں میں کوئی کالا دھن نہیں ہے۔ اسی مسئلہ پر پارٹی ترجمان سابق مرکزی وزیر آر پی این سنگھ نے اخبار نویسوں سے کہا کہ وزیراعظم کو بتانا چاہئے آخر کیا وجہ ہے کہ اس سے پہلے برس 2004 میں سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم کا نیا ریکارڈ بنا تھا تب بھی مرکز میں بھاجپا کی رہنمائی والی این ڈی اے سرکار تھی اور آج بھی مرکز میں وہ ہی سرکار ہے اور ایک بار پھر سے سوئس بینک میں ہندوستانیوں نے بھاری رقم جمع کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سرکار کے رہتے بھگوڑے دیش کا 70 ہزار کروڑ روپے لے کر بھاگ گئے ہیں۔ سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم میں اچھال کی ان خبروں کے بیچ وزیر مملکت خزانہ پیوش گوئل نے حیرت ظاہر کی کہ سارے دھن کو کیسے کالا دھن مانا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے وقت سے باہر بھیجنے کی یوجنا شروع ہوگئی تھی۔ اس یوجنا سے ہندوستانیوں کی جمع رقم میں اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ سرکار نے کہا ہے کہ اس میں کسی طرح کی گڑ بڑی پائے جانے پر کارروائی کی جائے گی۔ وزیر موصوف گوئل نے کہا کہ بھارت کو ایک باہمی معاہدہ کے تحت سوئٹزر لینڈ سرکار کی طرف سے وہاں کے بینکوں میں ہندوستانیوں کے کھاتوں سے متعلق معلومات اگلے سال سے ملنا شروع ہوجائیں گی۔ ادھر دوسرے وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے جمعہ کو خبر دار کیا کہ سوئس بینکوں میں ناجائز طور سے پیسہ جمع کرانے والے ہندوستانیوں کی پہچان چھپانا اب مشکل ہوجائے گا اور ایسے لوگوں پر کالا دھن انسداد قانون کے تحت سخت سزا دینے والی کارروائی ہوگی۔ یکم جنوری سے وہاں ہندوستانیوں کے کھاتوں کے بارے میں سوئٹزرلینڈ سے اطلاعات ملنی شروع ہوجائیں گی۔ جیٹلی نے کہا سوئٹزرلینڈ ہمیشہ سے معلومات شیئرکرنے کا خواہشمند رہا ہے۔ الپائن ملکوں نے اپنے گھریلو قوانین میں ترمیم کردی ہے جن سے اطلاعات شارے عام کرنے کے قاعدے بھی شامل ہیں۔ 2016 میں نوٹ بندی جیسا سخت اور چونکانے والا قدم بھی بھارت سرکار نے اٹھایا ہے جس کے تلسماتی اثر کے بارے میں کئے گئے دعوی ابھی تک کسوٹی پر کھرے نہیں اترے۔ ریزرو بینک ابھی بھی گھریلو کالے دھن کے بارے میں واضح طور سے کوئی تفصیل نہیں جاری کرسکا ہے۔ اس موقعہ پر سوئس بینکوں کی طرف سے جاری اعدادو شمار یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا نوٹ بندی کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے امیر ہندوستانیوں کی طرف سے اٹھایا گیا یہ قدم تو نہیں ہے کیونکہ جب گھریلو سطح پر کالے دھن کورکھنے اور چلانے کی گنجائش نہیں بچتی تبھی اسے باہر لے جایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگرمعاہدوں میں آنے والا کمیشن بھی بینک میں جمع کیا جاتا ہے۔ حالانکہ تشفی اس بات کی بھی ہے کہ 2017 میں سات ہزار کروڑ روپے کا سوئس بینک میں جمع پیسہ 2006 سے 23 ہزار کروڑ روپے سے کافی کم ہے۔ بہتر یہ ہے جب تک سوئٹزرلینڈ سے درکار جانکاری نہیں ملتی تب تک سرکار یہ دیکھے ، سمجھے کہ سوئس بینک ہندوستانیوں کے پسندیدہ بینک کیوں بنے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2018

Due to GST, Newspaper Forced to Fight for Survival

Prime Minister Narendra Modi described the Goods and Services Tax (GST) as a good example of victory of integrity and cooperative federalism and said that achieving sustainability within a year of our new tax system is a huge success for the country. After completion of one year of GST, the government will focus on making less tax rates relevant to different commodities and services in the second year.
It is believed that taking action in this direction, Government will be reviewing certain goods and services included in GST in the upcoming meeting of the Council on July 19. If this happens, the number of other products involved in this tax may be lower. We expect GST to be withdrawn on newsprint used by newspapers. Everyone knows that the newspapers played a big role in the country's independence movement and became a big weapon for fighting the atrocities of the British. Press today is independent and vocal even though during the struggle of Independence it had to face lot of restrictions. At that time neither the newspapers were a means of entertainment nor were they means of earning to someone or the publisher. The newspapers were a weapon and a medium for the freedom fighters to engage with the masses at a time when they did not have any other means of communication when compared to the various present day communication channels. 
During the Independence struggle there was no one to listen to the public views and minimize their miseries. In such a situation, the introduction of newspapers and journals gave courage to the people by publishing articles, news and stories of the revolutionaries and patriots and thereby inculcated the sense of patriotism among the masses.
Since the day the country became independent in 1947, there was no tax on newsprint used by the newspapers, but the current NDA government has imposed a five per cent GST on newsprint. This has led to a rise in newsprint prices by five percent. The selling cost of newspapers is very low when compared to the production cost.  Newspapers not only contribute views and articles on important national issues and government policies, but also educate the people of the country. It is not advisable to put GST on the newsprint as it increases the cost of production. For the continuation of the expression of freedom and the constitutional values, for more than six decades, there has been a provision of zero or very slight indirect taxes on newspapers. In this regard, the Supreme Court also believes that any tax on newspapers is an attack on dissemination of news, speed of literacy and knowledge. Newspapers do not only build the nation but also play an important role in nation building. The GST cannot be considered equitable in any way on the newsprint. Recently, issuing of advertisements to the newspapers has also been reduced by the government, thereby reducing the income earned by the newspapers.  GST on the newsprint and less volume of advertising by the government organizations has really put a question mark on the existence on the newspapers, specially the small and medium newspapers. This is the reason why many newspapers (whose number is in thousands) have closed down.
GST on newsprint is causing heavy burden on newspapers. The cost of newsprint is high.  Normally, the production cost of a copy of a newspaper is somewhere between Rs. 15-20, whereas the selling price of a copy of newspaper is between Rs. 2 and Rs.5. Therefore, in order to save the national interest, the current GST on newsprint for newspapers should be withdrawn immediately from the scope of GST as newspapers are the conscious keepers of the nation.
When the Modi government came to power in 2014, we had great expectations from this government, but saddest part is that when this government came, the DAVP, under the Information and Broadcasting Ministry made a policy in 2016 as a result of which majority of the small and the medium newspapers were out of the list for awarding advertisement to them by DAVP and were forced to shut down thousands of newspapers. On the other hand, strict rules were made in which many newspapers were excluded from DAVP empanelment. On the other hand, the Press Council of India (PCI) put many restriction on the newspapers. Just last year, on the excuse of Fake News, many newspapers were suspended by PCI.  Now day in day out new Advisory is being issued and if it is not followed, the newspaper is in a way threatened with de-empanelment. Today the newspapers are fighting the battle for their very survival throughout India. Today, the newspapers, the fourth pillar of democracy and a mouth piece of the freedom is in a state of siege. Most of the major newspapers have either shut down several editions or have been forced to cut the number of staff. Small and medium newspapers had already started doing this.
Due to the above, newspapers are either forced to hike the rate per copy or dispense with the staff therefor the unemployment in the newspaper industry is also increasing day by day. With the implementation of the recommendations of the previous UPA-2 government's Majithia Wage Board, there was additional burden on the newspapers when the previous government accepted the report of the board and forced the newspapers to increase salaries by 45 to 50 percent. But the salary of the employees working under the category of four had also increased more than double-tripled by the salary earned from other industries.
Today under what circumstances, one has to serve a newspaper has been explained in details so that the Modi government can help us and save us from drowning. Newspapers played a big role in coming into power of the Modi government and now when they are fighting the battle for their very existence, the government should also come out in their support and consider those fiery problems faced by the newspaper organisations and resolve them.
-Anil Narendra

Due to GST, Newspaper Forced to Fight for Survival

Prime Minister Narendra Modi described the Goods and Services Tax (GST) as a good example of victory of integrity and cooperative federalism and said that achieving sustainability within a year of our new tax system is a huge success for the country. After completion of one year of GST, the government will focus on making less tax rates relevant to different commodities and services in the second year.
It is believed that taking action in this direction, Government will be reviewing certain goods and services included in GST in the upcoming meeting of the Council on July 19. If this happens, the number of other products involved in this tax may be lower. We expect GST to be withdrawn on newsprint used by newspapers. Everyone knows that the newspapers played a big role in the country's independence movement and became a big weapon for fighting the atrocities of the British. Press today is independent and vocal even though during the struggle of Independence it had to face lot of restrictions. At that time neither the newspapers were a means of entertainment nor were they means of earning to someone or the publisher. The newspapers were a weapon and a medium for the freedom fighters to engage with the masses at a time when they did not have any other means of communication when compared to the various present day communication channels.  
During the Independence struggle there was no one to listen to the public views and minimize their miseries. In such a situation, the introduction of newspapers and journals gave courage to the people by publishing articles, news and stories of the revolutionaries and patriots and thereby inculcated the sense of patriotism among the masses.
Since the day the country became independent in 1947, there was no tax on newsprint used by the newspapers, but the current NDA government has imposed a five per cent GST on newsprint. This has led to a rise in newsprint prices by five percent. The selling cost of newspapers is very low when compared to the production cost.  Newspapers not only contribute views and articles on important national issues and government policies, but also educate the people of the country. It is not advisable to put GST on the newsprint as it increases the cost of production. For the continuation of the expression of freedom and the constitutional values, for more than six decades, there has been a provision of zero or very slight indirect taxes on newspapers. In this regard, the Supreme Court also believes that any tax on newspapers is an attack on dissemination of news, speed of literacy and knowledge. Newspapers do not only build the nation but also play an important role in nation building. The GST cannot be considered equitable in any way on the newsprint. Recently, issuing of advertisements to the newspapers has also been reduced by the government, thereby reducing the income earned by the newspapers.  GST on the newsprint and less volume of advertising by the government organizations has really put a question mark on the existence on the newspapers, specially the small and medium newspapers. This is the reason why many newspapers (whose number is in thousands) have closed down.
GST on newsprint is causing heavy burden on newspapers. The cost of newsprint is high.  Normally, the production cost of a copy of a newspaper is somewhere between Rs. 15-20, whereas the selling price of a copy of newspaper is between Rs. 2 and Rs.5. Therefore, in order to save the national interest, the current GST on newsprint for newspapers should be withdrawn immediately from the scope of GST as newspapers are the conscious keepers of the nation.
When the Modi government came to power in 2014, we had great expectations from this government, but saddest part is that when this government came, the DAVP, under the Information and Broadcasting Ministry made a policy in 2016 as a result of which majority of the small and the medium newspapers were out of the list for awarding advertisement to them by DAVP and were forced to shut down thousands of newspapers. On the other hand, strict rules were made in which many newspapers were excluded from DAVP empanelment. On the other hand, the Press Council of India (PCI) put many restriction on the newspapers. Just last year, on the excuse of Fake News, many newspapers were suspended by PCI.  Now day in day out new Advisory is being issued and if it is not followed, the newspaper is in a way threatened with de-empanelment. Today the newspapers are fighting the battle for their very survival throughout India. Today, the newspapers, the fourth pillar of democracy and a mouth piece of the freedom is in a state of siege. Most of the major newspapers have either shut down several editions or have been forced to cut the number of staff. Small and medium newspapers had already started doing this.
Due to the above, newspapers are either forced to hike the rate per copy or dispense with the staff therefor the unemployment in the newspaper industry is also increasing day by day. With the implementation of the recommendations of the previous UPA-2 government's Majithia Wage Board, there was additional burden on the newspapers when the previous government accepted the report of the board and forced the newspapers to increase salaries by 45 to 50 percent. But the salary of the employees working under the category of four had also increased more than double-tripled by the salary earned from other industries.
Today under what circumstances, one has to serve a newspaper has been explained in details so that the Modi government can help us and save us from drowning. Newspapers played a big role in coming into power of the Modi government and now when they are fighting the battle for their very existence, the government should also come out in their support and consider those fiery problems faced by the newspaper organisations and resolve them.
-Anil Narendra



01 جولائی 2018

صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی سازش پاکستان میں رچی گئی

جموں و کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ایس پی پانی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے والے رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری اور ان کے دو باڈی گارڈ کے قتل کی سازش پاکستان اور سوشل میڈیا پر رچی گئی تھی۔ شری پانی نے جمعرات کو بتایا کہ قتل کو لشکر طیبہ کے تین آتنکی اور پاکستان سے کشمیر آئے دہشت گردوں نے انجام دیا۔ واضح ہو کہ 14 جون کو سینئرصحافی شجاعت بخاری کو مار ڈالا تھا۔ لشکر طیبہ کے کہنے پر پاکستان میں بیٹھے سرینگر کے ایچ ایم ٹی پریپورہ کے باشندہ شیخ سجاد گل عرف احمد خالد نے سازش کا پورا خاکہ تیار کیا تھا اور اسے کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں نے عمل درآمد کیا۔ پولیس نے قتل میں شامل لشکر کے تینوں دہشت گردوں کی تصویریں جاری کرتے ہوئے کہا سجاد گل کو پکڑنے کے لئے لک آؤٹ نوٹس جاری کرنے و انٹرپول کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جن تین دہشت گردوں نے قتل کو انجام دیا ان میں پاکستانی آتنکی نوید جٹ عرف ابو ہنزلا کے علاوہ سوپور کلگام کا رہنے والا مظفر بٹ عرف طلحہ اور آزاد احمد دادا عرف زید باشندہ اکھنی برج بہارا ،اننت ناگ شامل ہیں۔ آئی جی نے بتایا کہ جانچ کے دوران فیس بک ٹوئٹر ہینڈل اور کشمیر فائٹ ورڈ پریس جیسی دوسری ویب سائٹوں پر لوڈ میٹر کی بھی جانچ کی گئی ۔ کشمیر فائٹ ورڈ پریس ویب سائٹ پر ہی شجاعت بخاری اور کشمیر کے کچھ دیگر لوگوں کے بارے میں گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا تھا۔ کیونکہ شجاعت جموں و کشمیر میں امن شانتی کی کوشش میں لگے ہوئے تھے وہ کشمیر میں جنگ بندی کے حق میں بھی تھے۔ بھارت۔ پاکستان کی ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں بھی شامل تھے۔ یہ بات لشکر کو برداشت نہیں ہوئی اور انہوں نے بخاری کے قتل کی سازش رچ ڈالی۔ شجاعت کے قتل سے پہلے کئی سوشل میڈیا میں ان کے خلاف مہم چلائی گئی۔ اس میں آن لائن پلیٹ فارم کا استعمال بھی کیا گیا جو کئی بار دھمکانے والا تھا۔ آئی جی پانی نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک فیس بک (پیج) اور ایک ٹوئٹر ہینڈل تھا۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں۔ یہ پاکستان سے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سروسز پرووائڈرز نے جو پوزیشن بتائی وہ پاکستان کی ہے اور لشکر طیبہ کی سازش کا حصہ ہیں۔ پانی نے بتایا کہ گل کو اس سے پہلے دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا بعد میں سرینگر پولیس نے دہشت گردی سے متعلق دیگر معاملہ میں بھی 2016 میں گرفتار کیا تھا۔ چوتھا ملزم سجاد گل اس قتل کا ماسٹرمائنڈ بتایا جارہا ہے۔ فی الحال گل ابھی پاکستان میں ہے اور اسی لئے انٹر پول کی مدد لی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

میڈ ان چائنا براستہ نیپال ناجائز ہتھیاروں کا روٹ

نارتھ ایسٹ ڈسٹرکٹ پولیس کی اے ٹی ایس اور اینٹی روبری سیل کی گرفت میں آئے ناجائز ہتھیار ڈیلر سلیم پسٹل کے نام سے یوں ہی نہیں جانا جاتا۔ اس کے نام کے آگے پسٹل لگانے کی کہانی ہی اس کے ناجائز دھندے میں مہارت کا ثبوت ہے۔ وہ دہلی ،ہریانہ، ویسٹرن اترپردیش کے گروہوں کو غیرملکی پسٹل بیچتاتھا۔ ساؤتھ افریقن ایمبیسی کی نمبر پلیٹ والی کار میں نیپال کے راستے میڈ ان چائنا پسٹل لیکر آنے والے سلیم پسٹل کے تار پاکستان سے جڑے ہیں۔ پولیس کسٹڈی میں سلیم پسٹل نے بتایا کہ ناجائز ہتھیاروں کو بیحد چالاکی سے بجلی کے ٹرانسفارمروں میں چھپا کر ایئر کارگو سے نیپال منگوایا جاتا تھا جہاں سے انہیں بھارت لایا جاتا تھا۔ سلیم کی سپلائی کردہ پسٹل کی کوالٹی نے اسے گروہ کی پہلی پسند بنادیا تھا اور پھر جرم کی دنیا میں لوگ اس لئے اسے سلیم پسٹل کے نام سے جاننے لگے۔ پولیس کے مطابق سلیم سے برآمد پسٹل انتہائی جدید ترین ہے۔ جن میں 17 گولیاں ایک ساتھ لوڈ ہوجاتی ہیں، سبھی مڈ ان چائنا ہیں۔ نیپال کے راستے بھارت میں لانے والے سلیم کو انٹرنیشنل بارڈر پارکرنے پرکبھی چیک پوسٹ پر اس کی تلاشی نہیں لی جاتی تھی۔ فی الحال دہلی پولیس اس سلسلے میں بارڈر پر تعینات سکیورٹی فورسز کو لکھنے کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ میں پوری رپورٹ داخل کرنے کی تیاری میں ہے۔ ایک طرف ایک اور اہم انکشاف اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی فارچونر کو لیکر ہوا ۔ ملزمان سے پوچھ تاچھ پر پتہ چلا ہے کہ واردات کے لئے استعمال گاڑی انہوں نے ساؤتھ افریقی کمیشن سے ایک دلال کے ذریعے خریدی تھی۔ دراصل ہائی کمیشن میں پرانی گاڑیوں کی نیلامی کردی جاتی ہے۔ یہ فارچونر بھی اسی طرح قریب 8-9 مہینے پہلے خریدی گئی تھی اور اس پر دہلی کا نمبر لکھا گیا تھا اور ہائی کمیشن کی نمبر پلیٹ بھی انہوں نے اپنے پاس رکھ لی۔ اس پر انٹرنیشنل نمبر ہے۔ ملزم نیپال سرحد کو پار کرنے کے لئے اسی بین الاقوامی نمبر پلیٹ کا استعمال کرتے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سلیم دہلی کے سبھی بڑے گینگ ناصر، چھینو، سونو، دریا پور، نیرج بوریا وغیرہ کو یہ 17 میگزین والی انٹر نیشنل پستولیں سپلائی کرتا رہا ہے۔ ان گروہوں کو سلیم کی پسٹل اس لئے بھی پسند رہی کیونکہ وہ جدید ترین اور 17 گولیوں والی ہوتی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ سلیم بیحد پیشہ ور طریقے سے بھارت کی ڈلیوری کرتا تھا جس سے کسی کو کوئی ٹینشن نہیں ہوتی تھی۔ پولیس کے مطابق ایک پسٹل کی قیمت ڈیڑھ دو لاکھ روپے کے درمیان بتائی جارہی ہے۔ سبھی بیحد فائن کوالٹی کی ہیں۔ دہلی پولیس مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے اتنے بڑے ہتھیار اسمگلر کو پکڑا ہے اور پوری اسکیم کا پردہ فاش کیا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...