Translater

‏Supreme Court لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Supreme Court لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

12 مئی 2012

غریب بھوکے ہیں، کسان خودکشی کو مجبوراور اناج سڑ رہا ہے



Published On 12 May 2012
انل نریندر
بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوگیا ہے۔ خبر آئی ہے کہ اس سال دیش میں اناج کی ریکارڈ پیداوار 25 کروڑ ٹن ہوئی ہے۔ یہ خبر جتنی راحت دینے والی ہے اتنی ہی راحت سے کہیں زیادہ شرمناک اور جی جلانے والی ہے کیونکہ دیش میں دستیاب اناج گوداموں میں زیادہ سے زیادہ 11 کروڑ ٹن ہی رکھنے کی صلاحیت ہے۔ مرکز اور ریاستی سرکاروں کی سست روی کے سبب کسانوں کو زیادہ اناج پیدا کرنے کی الٹی سزا ملنے کے آثار بنتے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ خون پسینہ بہا کر پیدا کیا اناج اب کسان اپنی آنکھوں کے سامنے سڑتے ہوئے دیکھیں گے۔ یہ ہی نہیں ساڑھے آٹھ کروڑ ٹن سے زیادہ ریکارڈ توڑ فصل پیدا ہونے کے بعد بھی کسانوں کی جیب خالی رہے گی اور غریبوں کے پیٹ پہلے کی طرح بھوکے رہیں گے۔چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کی موج آجائے گی کیونکہ کھولے آسمان کے نیچے سڑتا اناج وہ پہلے کر پھینکیں گے اور اس کے بعد چاندی ہوگی شراب بنانے والوں کی کیونکہ کسانوں کے نام پر قسمیں کھانے والی حکومتوں پر اس کی فصل رکھنے کے انتظام نہیں ہے۔ اس کے سبب کئی ٹن گیہوں برباد ہونا طے ہے۔ دیش میں دستیاب گوداموں میں محض11 کروڑ ٹن اناج رکھنے کی سہولت بڑھانے کے لئے کوئی ٹھوس متبادل نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح اناج کے مناسب رکھ رکھاؤ کی کمی میں یہ پھر برباد ہوگا اور پھر کسانوں کو خودکشی کرنے ، بھکمری سے لوگوں کے مرنے کی روزانہ خبریں دیش کے مختلف علاقوں سے آنا شروع ہوجائیں گی۔ بین الاقوامی غذائی پالیسی رکھ رکھاؤ ادارے کے مطابق دنیا کے بھوکے لوگوں میں ہر پانچواں شخص ہندوستانی ہے۔ دیش کی بڑی منڈیوں میں لاکھوں ٹن اناج کھلے آسمان کے نیچے جمع ہوچکا ہے اسے ترپال سے ڈھکنے کی بھی سہولت نہیں ہے۔ اندیشہ ہے کہ مانسون کی پہلی بوچھار کے ساتھ زبردست بربادی کی شروعات ہوجائے گی۔ جن ریاستوں نے جتنا بڑھ چڑھ کر اناج کی پیداوار کی اتنا ہی زیادہ اناج اب سڑے گا۔ریاستی سرکاریں بھی مرکز کے پالے میں گیند ڈال رہی ہیں۔ پنجاب ،ہریانہ اورمدھیہ پردیش کے وزراء اعلی نے پچھلے دنوں وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر زراعت اور وزیر خوراک سے ملاقات کر منڈیوں میں کھلے میں رکھے اناج کو اٹھانے ،گوداموں میں جمع پرانے اناج کو دوسری ریاستوں میں منتقل کرنے کی اپیل کی لیکن مرکز الٹے انہی سے انتظام کرنے کو کہہ رہا ہے۔ لہٰذا جہاں یہ فخر اور تسلی کی بات ہے کہ غذائی پیداوار کے سیکٹر میں ہماری خودکفالت ریکارڈ توڑ کامیابی کا اعدادو شمار درج کرانے جارہی ہے اب یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ریکارڈ پیداوار کو سمیٹنے کے لئے اس کیلئے اسٹور کا مناسب انتظام کرے اور اسے عام آدمی تک پہنچانے کیلئے عوامی تقسیم نظام کو چست درست بنائے۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پچھلے سال سپریم کورٹ نے سڑ رہے اناج کو غریبوں میں مفت بانٹنے کی ہدایت بھی دی تھی جس پر کئی طرح کی اگر مگر کرتے ہوئے مرکز نے اسے نظر انداز کردیا۔ سرکار کو عدالت کا یہ حکم پسند نہیں آیا اور اس کو عدلیہ کی نا مناسب مداخلت نظر آئی تھی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Farmers Suicide, Food Security Bill, Supreme Court, Vir Arjun

11 مئی 2012

ایمائکس کیوری کی نریندر مودی پر مقدمہ چلانے کی سفارش



Published On 11 May 2012
انل نریندر

2002ء کے گجرات فسادات وزیر اعلی نریندر مودی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے کلین چٹ ملے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ ان کے سامنے نئی پریشانی کھڑی ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر ایمائکس کیوری (عدالت کے دوست) نے کہا ہے کہ 2002ء کے دوران مختلف طبقوں کے خلاف دشمنی بھڑکانے کے لئے آئی پی سی کے مختلف دفعات کے تحت نریندر مودی پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ زکیہ جعفری کی شکایت پر راجو رامچندر کی رپورٹ عدالت کے ذریعے مقرر اسپیشل تفتیشی ٹیم ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے ایک دم برعکس ہے۔ ایس آئی ٹی نے اس سے پہلے مودی اور دیگر کو کلین چٹ دے دی تھی۔ ایمائکس کیوری رامچندر نے رپورٹ میں کہا کہ ''میری رائے میں مودی کے خلاف ایک نظر میں جو کرائم کا معاملہ بنتا ہے وہ آئی پی سی کی دفعہ 153(A)(1)(B) کے تحت آتا ہے۔جس کے معنی نے مذہب کی بنیاد پر مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی بھڑکانا۔ اسی طرح 153B(1) قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔ مودی پر دفعہ 166 کے تحت بھی مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں معطل آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف غصہ نکالنے اور انہیں سبق سکھانے دیا جائے۔ بھٹ نے سپریم کورٹ کے سامنے اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے گلبرگ سوسائٹی فسادات پر اپنی رپورٹ ذکیہ جعفری کو سونپی تھی۔ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے فسادات میں ذکیہ جعفری کے شوہر سابق ایم پی احسان جعفری سمیت 69 لوگ مارے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے وکیل ڈی کے گرگ کے مطابق ایمائکس کیوری کی رپورٹ کو ذکیہ ہائی کورٹ میں بنیاد بنا سکتی ہیں۔ نچلی عدالت کی جانب سے انکار کے بعد یہ رپورٹ ان کے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے کافی ہے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ مودی اس سچائی سے نہیں بھاگ سکتے کہ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے قتل عام کے لئے وہ ذمہ دار ہیں۔ دوسری طرف بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا ماننا ہے کہ مجرمانہ سزا عمل دفعہ یا شہادتی قانون کے تحت کسی وکیل یا ایمائکس کیوری کے نظریئے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جانچ پولیس کا کام ہے، کسی وکیل کا نہیں۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر بھاجپا پیر کو نریندر مودی کی حمایت میں کھل کر کھڑی ہوگئی۔ بھاجپا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ گجرات اور نریندر مودی کے خلاف کانگریس اور کچھ خودساختہ سماجی تنظیموں نے بدنامی کرنے کی مہم چلائی تھی۔ آخر سچائی کی جیت ہوئی ہے۔'' بھاجپا ترجمان جاویڈکر نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس کی تشکیل سپریم کورٹ نے کی تھی اور اس میں گجرات سرکار کا کوئی بھی افسر نہیں تھا۔جاویڈکر کا کہنا ہے گجرات دنگوں پر سوال اٹھانے والی کانگریس پچھلے وقت کے دنگوں میں ملوث فسادیوں کو اب تک کیوں سزا نہیں دلا سکی جبکہ گجرات دنگوں کے قصورواروں کو سزا ملی ہے اور مل رہی ہے۔ کانگریس بلا وجہ گجرات کو دنیا میں بدنام کررہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Narender Modi, Supreme Court, Vir Arjun

06 مئی 2012

اگر گھر نہیں چلا سکتے تو شادی کیوں کرتے ہو؟



Published On 6 May 2012
انل نریندر

یہ فیصلہ ممبئی ہائی کورٹ نے ایک کیس میں دیا ہے ممبئی ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بیوی کا خرچ نہیں اٹھا سکتے تو شادی ہی نہ کریں۔غور طلب ہے کہ 28فروری 2011کو فیملی کورٹ نے بھلاڈ نواسی 30سالہ دیپک کو اپنی بیوی دیپا (دونوں تبدیل شدہ نام)کو 6ہزار روپے فی ماہ گذارہ بھتہ دینے کا حکم دیا تھا۔ٹی وی سیریلوں میں اور ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے دیپک نے اسی فیصلوں کو ممبئی ہائی کورٹ میں چنوتی دی تھی۔دیپک کے وکیل نے جسٹس پی مجوم دار اور جسٹس انوپ مہتہ کی بنچ کو بدھوار کو شنوائی کے دوران مطلع کیا کہ2.76لاکھ روپے کا بقایا بھگتان ادا کرنے کے حکم کے بعد بھی چار سیریلوں میں کام کر رہے ہیں۔دیپک نے ان کے موکل کو پیسے نہیں دئیے۔ اس پر دیپک کے وکیل نے کہا کہ ان کا موکل صرف اسسٹنٹ آرٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ایک چینل بند ہونے اور ایک سیریل ختم ہونے کی وجہ سے ان پہلے کی طرح انکم نہیں ہو رہی۔اس پر عدالت نے کہا کہ شادی کے بعد شوہر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اب بیوی کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ اگلے سال 4مئی کو دیپا نے سسرال چھوڑ دیا۔ اپنی پٹیشن میں دیپک نے کہا کہ کئی کوششوں کے بعد بھی دیپا نے واپس آنے سے منع کر دیا۔2008میں دیپک نے فیملی کورٹ میں طلاق کی عرضی دی۔دیپک کے وکیل نے بتایا کہ دیپا معاملے کو نپٹانے کیلئے دس لاکھ روپے چاہتی ہے۔اس پر کورٹ نے کہا کہ وہ تو شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے،لیکن آپ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے۔اس لئے آپ کو اسے بھگتان کرنا چاہئے۔بنچ نے دیپک کوبقایا بھگتان کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی شنوائی ٹال دی۔ہم کورٹ کے اس فیصلے سے متفق ہیں۔اگر آدمی یا نوجوان شادی کرتا ہے تو اسے طے کرنا چاہئے جب وہ بیوی کا خرچ اٹھا سکے۔آج کل نوجوانوں میں بغیر سوچے سمجھے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے شادی کرنے کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے۔طلاق کی صورت میں شوہر کو اتنا بھتہ تو دینا ہی چاہئے کہ وہ اپنا گذر کر سکے۔چھ ہزار روپے فی ماہ ایک عورت کے گذر کیلئے ویسے بھی کافی نہیں لیکن اگر شوہر اتنا بھی ادا نہیں کر سکتا تو بہتر ہوتا کہ وہ شادی ہی نہ کرتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi High Court, Divorce, Hindu Marriage Act. Hindu Succession Act, Supreme Court, Vir Arjun

01 مئی 2012

سپریم کورٹ کا دور رس فیصلہ پرموشن میں ریزرویشن نہیں




Published On 1 May 2012
انل نریندر


اترپردیش کی سابق وزیراعلی مایاوتی سرکار کے ایک بڑے فیصلے کو زبردست جھٹکا لگا ہے جب جمعہ کو سپریم کورٹ نے اترپردیش کے سرکاری ملازمین کو پرموشن اور سینیرٹی میں ریزرویشن کا فائدہ دینے کیلئے سرکار کی جانب سے بنائی گئی دو تجاویز کو غیرآئینی قراردے دیا۔ اس فیصلے کا اثر دیگر ریاستوں میں بھی سرکار کو طرف سے اپنے ملازمین کو دئے جانے والے ریزرویشن کے قواعد پر بھی پڑے گا۔ اگر مانیں اعدادوشمار پر کسی ریاستی حکومت نے ریزرویشن لاگو کیا ہوگا تو اسے چنوتی دینے کے لئے بڑی عدالت کا یہ فیصلہ میل کا پتھر ثابت ہوگا۔ مایاوتی نے پرموشن میں ریزرویشن لاگو کیا تھا جس کے چلتے اترپردیش میں ہزاروں ملازمین اور افسران کو ترقی ملی تھی۔ پرموشن پانے والے سارے لوگ ریزرو طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے چلتے برسوں سے جونیئر لوگ اپنے سینئروں سے بھی سینئر ہوگئے تھے۔ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو غلط قراردیا تھا جس پر اس وقت کی مایاوتی سرکار سپریم کورٹ چلی گئی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو خارج کردیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ان سبھی لوگوں کا پرموشن واپس لے لیا جائے گا اور یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ لوگوں کی ترقی ،سینیرٹی لسٹ کے مطابق ہی ہوگی اور جن کا پرموشن ہوچکا ہے ان کی سینیرٹی لسٹ میں وہی جگہ ہوجائے گی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ غور طلب ہے کہ مایاوتی سرکار نے ریاستی ملازمین کی ترقی میں دلتوں کے لئے ریزرویشن کی سہولیت نکالی تھی۔ ریاستی ملازمین کا ایک بڑا طبقہ اس کے سخت خلاف تھا اور انہوں نے اس پالیسی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مانا کے پرموشن میں ریزرویشن نہیں ہونا چاہئے۔ 
مایاوتی سرکار نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ عدالت نے یوپی اسٹیٹ سروس درجہ فہرست ذاتوں و قبائلیوں و انتہائی پسماندہ طبقہ ریزرویشن ایکٹ 3(7) و9 سروس سینیرٹی ایکٹ 8(a) کے معاملے میں ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے فیصلے کو جاری رکھا ہے۔ جبکہ الہ آباد بنچ کے حکم کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ سینئر عدالت نے فیصلے میں صاف کہہ دیا ہے کہ جن ملازمین و افسران کو ان سہولتوں کا فائدہ دیا جاچکا ہے ان پر یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ اترپردیش کی سپا سرکار بھی پرموشن کوٹے کو ختم کرنے کے حق میں ہے۔ سماجوادی پارٹی نے اپنے چناؤ مینی فیسٹو میں باقاعدہ اس کا ذکر کیا تھا کہ سرکار بننے پر پرموشن میں ریزرویشن ختم کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا اثر راجستھان سمیت کئی دیگر ریاستوں پر بھی پڑے گا۔ ویسے بھی سپریم کورٹ میں راجستھان سرکار کی طرف سے نافذ ریزرویشن کو چیلنج کرنے کا معاملہ زیر التوا ہے۔ مختلف ریاستی سرکاریں اگر چاہیں تو سپریم کورٹ کے اس دور رس فیصلے کا فائدہ لے سکتی ہیں لیکن یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی ہے۔ ووٹ بینک پالیٹکس کے چلتے اس طرح کا کوٹا سسٹم لاگو کیا جاتا ہے۔ پرموشن میں ریزرویشن دیش کے مفاد میں کبھی نہیں ہوسکتا۔ داخلوں میں ریزرویشن پھر بھی سمجھ میں آتا ہے۔ پرموشن کو میرٹ و سینیرٹی کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Quota in Promotion, Supreme Court, Vir Arjun, Uttar Pradesh, Mayawati, 

01 مارچ 2012

ہم جنس رشتوں کے آئینی جواز پر گرمایا معاملہ



Published On 1 March 2012
انل نریندر
ہم جنس رشتوں کو نہایت غیر اخلاقی قرار دے کر انہیں جرائم کے زمرے سے باہر رکھنے پر نامنظوری ظاہر کرنے کے بعد حکومت ہند نے اپنا موقف پلٹ لیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی پی ملہوترہ نے سپریم کورٹ میں دلیل پیش کی کہ سیملنگ تعلقات سماجی نظام کے منافی ہیں اور ہندوستانی سماج بیرونی ممالک میں رائج روایتوں کو نہیں اپنا سکتا۔ ملہوترہ نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا ہم جنس رشتوں سے بیماریاں پھیلنے کے کافی امکانات ہیں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ بدھ کو اس سلسلے میں ہم جنس حق مخالف گروپوں سے سوال جواب کئے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے سیملنگ حق مخالف گروپ سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے طے میعاد کا دائرہ بڑھانے اور اپنی دلیلوں کو صرف جسمانی رشتوں تک محدود نہ رکھنے کو کہا تھا کیونکہ اشو پر قطعی فیصلے میں وسیع پیچیدگیاں کھڑی ہوں گی۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ دیش میں ہم جنس لوگوں کے خلاف اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لئے درج معاملوں کی تعداد کتنی ہے؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دو بالغوں کے درمیان رضامندی کی بنیاد پر سیملنگ تعلق کو کرائم کے زمرے سے الگ کرنے کا دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ دور رس اثر ڈالنے والا ہے۔ اس کے سبھی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ بنچ نے جاننا چاہا مرد ہم جنس (گے سیکس) کو کون کون سے دیشوں میں جرائم مانا گیا ہے۔ سیملنگ کمیونٹی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی اجازت ہے۔ سیملنگ کمیونٹی دفعہ 377 کو غلط مانتی ہے۔کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے انہیں بے وجہ پریشان کیا جاتا ہے۔ بنچ کی رائے تھی کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا اثر دیگر قوانین پر بھی پڑے گا۔ قابل ذکر ہے کہ 2009ء میں سیملنگ رشتوں کو جب جائز مان لیا گیا تھا جب دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایسے رشتوں کو جرائم کے زمرے سے باہر کردیاتھا۔ دیش کی کئی سماجی ،سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف آدھا درجن اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے وقت اور نظریئے کے دائرے کو بڑھانے کو کہا تھا۔ اس سے پہلے بنچ نے کہا تھا کہ ہم جنسی کو بدلتے سماج کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ بنچ نے 'لو ان ریلیشن شپ' سنگل پیرنٹ اور سروگیسی کا حوالہ دیا تھا۔ اطفال تحفظ کمیشن کی جانب سے کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں دلیل دی تھی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر ملکی عدالتوں کے فیصلے پر منحصر کرتا ہے۔ بھارت کی تہذیب بیرونی ممالک سے الگ ہے۔ اسے ہندوستانی معاشرے سے دیکھا جانا چاہئے۔ سماعت کی پچھلی تاریخ پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ غیر معمولی اور غیر فطری ہم جنس پرستی میں فرق ہے۔ قدرت کے برعکس جنسی خواہشات کو غیر فطری طریقے سے کہا جاسکتا ہے لیکن اسے غیر فطری کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ سیملنگ کو بدلتے ہوئے سماجی پس منظر کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج سے 20-25 سال پہلے تک ان چیزوں کو غیر اخلاقی مانا جاتا تھا اب یہ قابل قبول ہیں۔ ہائی کورٹ کے 2 جولائی 2009ء کے فیصلے پر دیش بھر میں سخت منفی رد عمل سامنے آیا تھا۔ عدالت نے رضامندی کی بنیاد پر دو مردوں کے درمیان ہم جنسی کو منظوری دے دی تھی۔ راضی بالغوں کے پس منظر میں دفعہ377 کے تحت اسے غیر قانونی قرار دینے کی سہولت کو ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gay, Sex, Supreme Court, Vir Arjun

26 فروری 2012

4 جون کی رات رام لیلا میدان میں ہوا تھا ظلم

ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ عزت مآب سپریم کورٹ نے بابا رام دیو حمایتیوں پر4 جون 2011ء کو ہوئے لاٹھی چارج پر سرکار کو کڑی پھٹکار لگائی اور مانا کہ اس رات پولیس کارروائی غلط تھی۔ کالی کمائی اور کرپشن کے اشو پر رام لیلا میدان میں ستیہ گرہ کررہے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو رام لیلا میدان سے طاقت کے بل پر نکال باہر کرنے کی دہلی پولیس کی کارروائی کو سپریم کورٹ نے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے قصوروار پولیس افسران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ رام لیلا میدان میں رات میں سو رہے احتجاجیوں پر دہلی پولیس کی بربریت آمیز کارروائی اور جنتا اور سرکار کے درمیان کم ہورہے اعتماد کی تازہ مثال ہے۔ جسٹس بلبیر سنگھ چوہان اور سوتنتر کمار کی ڈویژن بنچ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے دہلی پولیس نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا ۔ سرکار کو قصوروار پولیس افسران کے ساتھ ہی پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ حکومت کو کارروائی کے بارے میں تین مہینے کے اندر عدالت میں رپورٹ دینی ہے۔ جج صاحبان نے کہا کہ4 جون کی رات میں ہوئے واقعہ کو ٹالا جاسکتا تھا لیکن پولیس اور انتظامیہ نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسائیں، جس سے ایک خاتون کی موت ہوگئی اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ عدالت نے سخت الفاظ میں کہا پولیس کا کام امن بنائے رکھنا ہے لیکن رام لیلا میدان میں اس نے شانتی بھنگ کرنے کا کام ہی نہیں کیا بلکہ سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسا کر شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی کی ہے ۔
ججوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں دہلی پولیس نے احتجاجیوں کو رام لیلا میدان سے نکال باہر کرنے کے لئے بیحد تشدد آمیز طریقہ اپنایا۔ لیکن دوسری طرف بابا رام دیو کے حمایتیوں نے بھی پولیس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پتھراؤ کیا جس سے حالات بگڑ گئے۔ عدالت نے جان گنوانے والی راج بالا کے رشتے داروں کو پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے اور معمولی چوٹ والے افراد کو 25-25 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاوضے کی اس رقم کا 25 فیصدی حصے کی ادائیگی بابا رام دیو ٹرسٹ کرے گا۔
ہم ہمیشہ کہتے آرہے ہیں کہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور کچھ دیگر وزرا کے اشاروں پر دہلی پولیس نے 4 جون کو سوتے ہوئے لوگوں پر لاٹھی برسائی سرکار اور پولیس بھلے ہی کہتی رہے کہ کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا ، نہ کوئی جبراً کارروائی ہوئی سپریم کورٹ کے فیصلے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ دہلی پولیس نے اس رات جو بھی کیا وہ وزارت داخلہ کے احکامات پر کیا۔ اصل قصوروار تو احکامات دینے والے ہیں۔ دہلی پولیس نے کارروائی کی مخالفت بھی کی تھی۔ پولیس نے کہا تھا کہ ہم صبح ہوتے ہی پرامن طریقے سے رام لیلا میدان خالی کروا لیں گے لیکن منموہن سرکار کے کچھ وزرا نے تو ٹھان لی تھی کہ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو ایسی مار مارنی ہے جو دوبارہ ایسا کرنے کی جرأت نہ کریں۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

25 فروری 2012

رحم کی اپیلوں کے نپٹارے میں اتنی تاخیر کیوں؟

موت کی سزا کا سامنا کررہے قصورواروں کی رحم کی عرضیوں پر فیصلہ کرنے میں مرکز اور ریاستی حکومت کی جانب سے ہورہی تاخیر پر سپریم کورٹ سخت ہوگئی ہے۔جسٹس جی ۔ایس سنگھوی اور جسٹس ایس۔جے مکھ اپادھیائے کی ایک ڈویژن بنچ نے کہا کہ سبھی ریاستوں کے داخلہ سکریٹری اپنی اپنی ریاستوں کی سبھی رحم کی عرضیوں کے معاملے میں مرکز کو تین دن کے اندر رپورٹ بھیجیں جس کے بعد مرکز اسے اس کے سامنے پیش کرے گا۔ عدالت ہذا نے یہ بھی صاف کردیا کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے ریکارڈ نہیں بھیجے جاتے تو جو کچھ بھی ہوگا اس کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ رحم کی عرضیاں 11 سال بعد نپٹائی جاتی ہیں جو بہت طویل عرصہ ہے۔ بنچ نے مرکزی حکومت کی اس دلیل کو سرے سے مسترد کردیا کہ قصوروار قیدیوں کی جانب سے بار بار عرضیاں داخل کرنے کے چلتے فیصلے میں تاخیر ہوئی ہے۔ حالانکہ بنچ نے کہا دوبارہ عرضی دائر کرنے پر کوئی روک نہیں ہے۔ عدالت پنجاب کے آتنک وادی دویندر پال سنگھ کھلر کی جانب سے دائر ایک عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ تہاڑ جیل کی ویب سائٹ پر31 دسمبر2011ء تک کے اعدادو شمار کے مطابق جیل میں فی الحال 24 سزا یافتہ قیدی ہیں جنہیں پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ ان میں23 مرد ، ایک خاتون ہے۔ ان میں خاص ہیں تندور کانڈ، لاجپت نگر بم دھماکہ، پارلیمنٹ پر حملہ، رائے سینا بلاسٹ، لال قلعہ پر حملہ وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت28 مجرموں نے صدر کے پاس معافی کی اپیل کررکھی ہے۔
صدر کے پاس 19 معاملوں میں رحم کی عرضیاں زیر التوا ہیں انہیں سپریم کورٹ سے پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے جس کے بعد صدر کے پاس آئین کی دفعہ 72 کے تحت ان مجرموں نے رحم کی عرضی داخل کررکھی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ یوپی کے معاملے ہیں۔ اترپردیش کے چھ معاملے زیر التوا ہیں جبکہ کرناٹک کے چارمعاملوں میں فیصلہ آنا ہے۔ ایک تو ایسا معاملہ ہے جس میں رحم کی عرضی 1999ء سے زیر التوا ہے۔ ہریانہ سے متعلق اس معاملے میں دھرم پال نامی مجرم پر پانچ لوگوں کے قتل کا مقدمہ ثابت ہوچکا ہے۔ دھرمپال جب ریپ کیس میں ضمانت پر تھا جب اس نے پانچ لوگوں کو قتل کردیا تھا۔ تاملناڈو کی عدالت میں بم دھماکہ کر ایک شخص کو مارنے کے معاملے میں پھانسی کی سزا پائے شیخ میرن، سیلوم رادھا کرشن کا مقدمہ 2000ء سے زیر التوا ہے۔ التوا کے معاملوں میں سرخیوں میں چھایا رہا سونیا اور انجیو کا بھی معاملہ شامل ہے۔ سونیا نے اپنے سوتیلے بھائی اور اس کے پورے خاندان کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ مرنے والوں میں 45 دن ، ڈھائی سال اور چار سال کے بچے بھی شامل تھے۔ اتنا ہی نہیں سونیا نے اپنے ماں ، باپ، بہن کو بھی مار دیا تھا۔ بھارت کے آئین کی دفعہ72 میں دی گئی قانونی سہولت کے تحت دیش کے صدر کو کسی بھی قصوروار کو سپریم کورٹ کے ذریعے دی گئی موت کی سزا کو معاف کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا مخصوص اختیار ہے۔ دفعہ161 کے تحت ایسا ہی اختیار کسی بھی ریاست کے گورنر کو بھی ملا ہوا ہے۔ سیاسی اسباب سے رحم کی عرضیوں کے نپٹارے کی بات تو پھر بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن عام مجرم سونیا وغیرہ کی عرضی کے نپٹارے میں اتنا وقت لگا جو سمجھ سے باہر ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mercy Petitione, Supreme Court, Vir Arjun

09 فروری 2012

کیا جنرل سنگھ کے خلاف حکمت عملی کے تحت سازش رچی گئی؟



Published On 9th February 2012
انل نریندر
بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازعے کے پیچھے کیا اقتدار میں بیٹھے کچھ لوگوں نے سازش رچی تھی؟ کم سے کم آر ایس ایس کے مطابق تو یہ سارا تنازعہ ایک حکمت عملی کے تحت کھڑا کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس نے اپنے اخبار آرگنائزر میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق اقتدار میں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے جنرل وجے کمار سنگھ کو وقت سے پہلے ریٹائرڈ کرنے کی سازش پچھلے سال ہی تیار کرلی تھی۔ سنگھ نے اخبار آرگنائزر کے ذریعے سے فوج کے سربراہ کی کھل کر حمایت کی ہے اور ان کے خلاف سرکار کے سخت رخ کو جنرل سنگھ کی ایمانداری کا نتیجہ بتایا ہے اور کہا کہ کانگریس پارٹی کے لئے وہ ڈیفنس سودے میں آڑے آرہے ہیں۔ فوج کے سربراہ کے خلاف سرکار کے اندر اور باہر خاص طور سے کانگریس پارٹی کے اندر بیٹھے لوگوں کی سازش کا یہ دعوی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے عمر کے تنازعے پر ان کی عرضی پر سرکار کو اپنا حکم واپس لینے کو کہا ہے۔ قانونی ماہرین اور واقف کار ذرائع نے اس بات کاپختہ امکان ظاہر کیا ہے کہ سرکار اپنا 30 دسمبر کا وہ حکم واپس لے لے گی جس کے ذریعے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے فوج کے سربراہ کی آئینی عرضی کو مسترد کردیا تھا۔ وزیر دفاع کے ذریعے اپنی شکایت خارج ہونے پر ہی جنرل سنگھ نے 16 فروری کو سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس کی سماعت ہورہی ہے۔ سازش کے پہلو کی بنیاد کو گناتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اقتدار میں سینئر عہدے پر بیٹھے لوگوں نے طے کیا کہ جنرل سنگھ کی جگہ اپنا آدمی معمور کرنا چاہئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یوپی اے محاذ حکومت کے عہد میں بڑی تعداد میں ہوئے ڈیفنس سودوں کو اس تنازعے سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی ایمانداری سرکار کے اندر اور باہر اور کانگریس پارٹی کے ڈیفنس سودے کرنے والوں کو راس نہیں آرہی تھیں۔ 'واٹ اے شیم ڈاکٹر سنگھ 'کے عنوان سے اداریہ میں سنگھ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی خاموشی بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سنگھ نے صدر اور دیش کے سپریم کمانڈر سے درخواست کی ہے کہ انہیں مشکل کے اس دور میں وزیر اعظم کے سامنے اپنے من کی بات رکھنی چاہئے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ جب عزت پر کیچڑ اچھالی جارہی ہو تو چپ رہنا ٹھیک نہیں ہوتا۔ جنرل وی کے سنگھ نے آواز اٹھا کر ٹھیک ہی کیا ہے۔ جس طرح کا رد عمل ان کے قدم پر سامنے آیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ،سارا دیش ان کے ساتھ ہے۔ پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ ہماری تشویش سرکار کے فیصلے کو لیکر نہیں ہے بلکہ تشویش فیصلے لینے کے عمل کو لیکر ہے جو غلط ارادے سے لیا گیا لگتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ کی شکایت کو سرکار نے غور کے لائق نہیں مانا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس سپریم کورٹ جانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ سنگھ کے الزامات میں کتنا سچ ہے یہ تو سرکار ہی بہتر جانتی ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ معاملہ بڑی آسانی سے سلجھ سکتا تھا۔ جنرل سنگھ کی پیدائش آرمی ہسپتال میں اگر ہوئی تھی تو اس ہسپتال سے تاریخ پیدائش کیوں نہیں پوچھ سکتے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, RSS, Supreme Court, Vir Arjun

05 فروری 2012

جھٹکوں پر جھٹکے جھیلنے کے عادی منموہن سنگھ اور ان کی حکومت



Published On 5th February 2012
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار کو سپریم کورٹ سے مسلسل جھٹکے لگتے جارہے ہیں۔ سینئر عدالت کا یوپی اے II- کو یہ تیسرے جھٹکے کو ملا کر پانچواں جھٹکا ہے۔ جمعرات کا جھٹکا اس لئے زیادہ بے چین کرنے والا ہے کیونکہ سی اے جی نے 1.67 لاکھ کروڑ روپے کے ٹوجی گھوٹالے کو اجاگر کر سنسنی پھیلائی تھی۔ وزیر اعظم خود اے راجہ کے بچاؤ میں آئے تھے اور پوری سرکار پہلے سی اے جی پھر پی اے سی کے پیچھے پڑگئی تھی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یوپی اے سرکار نے بیش قیمتی اسپیکٹرم (کرنیں)کو ریوڑیوں کی طرح بانٹ دیا۔ سپریم کورٹ کا جمعرات کے روز سرکار کوتیسرا جھٹکا تھا۔ اس سے پہلے چیف ویجی لنس کمشنر پی جے تھامس کی تقرری کو سپریم کورٹ منسوخ کردیا تھا تب بھی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی تنقید ہوئی تھی کیونکہ سی وی سی سلیکشن کمیٹی میں لیڈر اپوزیشن سشما سوراج کے اعتراض کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ یہ سیدھے طور پر وزیر اعظم کے لئے جھٹکا تھا۔ سپریم کورنے ٹو جی معاملے میں ہیں قصورواروں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دینے میں دیر لگانے کو غلط قراردیا تھا اور اس میعاد کو زیادہ سے زیادہ چار مہینے طے کردیا تھا۔ اس مسئلے میں بھی پی ایم کی کرکری ہوئی تھی۔ اس مرتبہ پی ایم او کٹہرے میں ہے۔ تیسرا اور تاریخی فیصلہ جمعرات کو آیاجو سب سے بڑا جھٹکا تھا۔ اس بار بھی وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر مالیات کٹہرے میں ہیں کیونکہ جب سی اے جی نے یہ معاملہ اٹھایا تھا اور میڈیا نے اسے اچھالا تو پردھان منتری نے راجہ کو ہدایت دی تھی اور بار بار انہیں بچانے کی کوشش کی تھی۔ جب بات زیادہ بڑھی تو وہ جیل بھیج دئے گئے۔ تب منموہن سنگھ نے بچاؤمیں یہ دلیل دی کہ اتحادی حکومت کے سامنے ایسی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ تازہ فیصلے میں ٹو جی اسپیکٹرم کے عمل کو غلط قراردیا ہے یعنی وہ غلط اور طرفداری والا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم نے اس غیر قانونی اور غلط عمل کو ڈیفنس کس بنیاد پر کیا؟ کیا انہیں اخلاقی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینا چاہئے؟ وزیر اعظم اور کتنے مخالفانہتنقیدوں کو جھیلیں گے۔ اس سے پہلے بھی جب یو پی اے I- کی حکومت تھی تب بھی سپریم کورٹ نے منموہن سرکار کو دو بار زبردست جھٹکے دئے تھے۔ ایک بار جب بہار میں این ڈی اے کی سرکار بنانے کا موقعہ نہ دیکر وہاں صدر راج لگایا تھا تب کورٹ نے گورنر کے برتاؤ کو غیر آئینی قراردیا تھا۔ دوسری مرتبہ جھارکھنڈ میں بھی یہی حالت رہی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد شیبو سورین کو استعفیٰ دینا پڑا اور این ڈی اے کی سرکار بن گئی تھی۔ کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار کے لئے ایک ساتھ نہیں بلکہ تین مورچے کھل گئے ہیں۔ سب سے پہلے اترپردیش چناؤ، دوسرے چدمبرم کا مستقبل اور تیسرے دونوں کو بچانے میں یوپی اے محاذ کی تشویش۔ اترپردیش چناؤ سے ٹھیک پہلے 122 ٹیلی کام لائسنس منسوخ ہونے کے بعد کانگریس پوری طاقت سے اپنے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا بچاؤ کررہی ہے لیکن اس کے سیاسی اثر کو لیکر اس کی جان حلق میں ضرور اٹکی ہوئی ہوگی۔ کانگریس اور سرکار دونوں نے مان لیا ہے کہ اب ان کے پاس اس مسئلے پر جارحانہ رخ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہیں سب پہلوؤں پر بحث کرنے کیلئے کانگریس کے بڑے نیتاؤں کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کانگریس لیڈر شپ مان رہا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے سے اپوزیشن کو چناؤ سے پہلے کرپشن کے اشو پر ایک ہتھیار تو مل گیا ہے۔ جس طرح سے کپل سبل نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی ایم کے کوٹے کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہے اے ۔ راجہ پر ٹھیکرا پھوڑا ہے اور اس سے کہیں ایک اور نیا مورچہ نہ کھل جائے۔ ممتا اور شرد پوار نے پہلے ہی ناک میں دم کررکھا ہے۔ اب پورے گھوٹالے کے لئے راجہ کو اکیلے ذمہ دار ٹھہرانا پہلے سے ناراض ڈی ایم کے کو اور اکسانا ہے، کہیں پہلے سے لگی آگ اور نہ بھڑک جائے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Supreme Court, UPA, Vir Arjun

04 فروری 2012

سپریم کورٹ نے سنائے دوررس اہم فیصلے



Published On 4th February 2012
انل نریندر
یقیناًجمعرات کا دن سپریم کورٹ کے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ عدالت کو تین معاملوں پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ یہ تینوں ہی بہت اہم تھے جن کے دوررس اثر ہونے والے ہیں۔ جمعرات کو سب سے اہم فیصلہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کا تھا۔ جس پر ملک بیرون ملک کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ اس گھوٹالے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی سی بی آئی جانچ ، ٹیلی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور ٹو جی معاملے کی نگرانی کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل کرنے کے مطالبے پر فیصلہ آنا تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر ایک اور اہم واقعہ تھا اس دن اس جج کے ریٹائر ہونے کا آخری دن تھا جنہوں نے 15 مہینوں میں سپریم کورٹ کی اس بینچ کی شوبھا بڑھائی جس نے ہر اس رسوخ دار کو جیل کی ہوا کھلوائی جس کے بارے میں عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں بات کررہا ہوں جسٹس اے کے گانگولی کی، جن کا اپنے عہد کا آخری دن تھا۔ جمعرات کو جسٹس گانگولی کے بیباک ریمارکس تاریخ میں درج ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تینوں اشوز پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پہلا کمپنیوں کے 122 لائسنس منسوخ کرنا،7 کمپنیوں پر بھاری جرمانہ۔ دوسرا چدمبرم کے معاملے میں فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑنا۔ تیسرا سی بی آئی جانچ کی نگرانی کا کام سی بی آئی کی دیکھ ریکھ میں برقرار رکھنا۔ تینوں فیصلوں کے دور رس اثر ہونا لازمی ہیں۔ بڑی عدالت میں تین کمپنیوں پر پانچ پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ تھونکا ہے۔چار کمپنیوں پر 50-50 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سرکار کی پالیسی عوامی مفاد کے خلاف ہے تو عدالت اسے منسوخ کرسکتی ہے۔ اپنے دائرہ اختیارکا استعمال کر کورٹ کے اس فیصلے کا مقصد ہے کے اس وقت کے وزیر مواصلات اے۔ راجہ کے وقت میں لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیاں متاثر ہوں گی۔ کورٹ نے کہا 10 جنوری2008 ء کو لائسنس منمانے اور غیر آئینی طریقے سے جاری کئے گئے تھے، جنہیں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہیں بڑی عدالت نے پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی جانچ کی مانگ پر فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑدیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس میں واقع اسپیشل عدالت کودودن میں فیصلہ سنانے کوکہا گیا ہے ممکن ہے خصوصی عدالت اپنا فیصلہ سنیچر4 فروری یعنی آج سنادے۔بڑی عدالت نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ٹرائی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ماہ میں ٹوجی لائسنس الاٹ کرنے کے لئے نئی سفارشیں دے۔ جسٹس جی ۔ایس سنگھوی، جسٹس اے۔ کے گانگولی کی بنچ نے سرکار سے ٹرائی کی سفارشوں پر ایک ماہ کے اندر عمل کرنے کوکہا ہے۔ فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے عرضی گذار جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے کہا یہ سرکار کی اجتماعی ناکامی ہے۔ اس نے وارننگ کو نظرانداز کیا۔ بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ یہ ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری یوپی اے سرکار کا فیصلہ تھا۔ٹرائی کے چیئرمین جے ایم شرما نے کہا اس فیصلے سے پانچ فیصدی لیڈروں پر اثر پڑے گا۔ یعنی اب موبائل کالیں مہنگی ہوجائیں گی یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب اترپردیش اسمبلی چناؤ سر پر ہیں۔ یقینی طور سے اپوزیشن اسے بھنانے کی کوشش کرے گی اور اسے ایک ایسا نیا اشو مل گیا ہے جس سے یوپی اے سرکار کی پریشانی بڑھ جائے گی کیونکہ یہ دور رس فیصلے ہیں ان کے اثر کو سمجھنے میں بھی ٹائم لگے گا۔ لیکن فیصلے سے صنعتی دنیا میں زلزلہ آگیا ہے۔ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اتنی بااثر صنعتی کمپنیوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس درمیان ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر سوامی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا ٹو جی معاملے میں60 فیصدی رقم سونیا گاندھی نے لی ہے اور اس کا ثبوت ان کے پاس ہے۔ اب سب کی نظریں 4 فروری کو پٹیالہ ہاؤس میں واقع خصوصی عدالت پر ٹکی ہوئی ہیں جس میں پی چدمبرم کی قسمت کا فیصلہ آئے گا۔ چدمبرم کی نجی سیاست اس فیصلے پر ٹکی ہے کچھ حد تک یوپی اے سرکار کا مستقبل بھی اس پر منحصرہے۔ اگر چدمبرم پر مقدمہ چلتا ہے تو یقینی طور سے اس کا اثر منموہن سرکار پر پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے سرکار کیسے لڑتی ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

03 فروری 2012

کرپٹ جن سیوکوں کے خلاف راستہ کھلا


Published On 3rd February 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ میں صاف کردیا ہے کہ کرپشن کے الزامات سے گھرے وزراء اور ایم پی و ممبراسمبلی واعلی حکام اب کارروائی کی منظوری لمبی ہونے کی آڑ میں زیادہ دن تک بچ نہیں پائیں گے۔ سپریم کورٹ نے اپنے یہ دوررس فیصلہ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی ایک عرضی پر دیا جس میں بتایاگیا تھا کہ کس طرح سے پی ایم او نے اے راجہ کے خلاف کرپشن کامقدمہ مہینوں لٹکا کر رکھا۔ اور کوئی جواب نہیں دیا لوک سیوکوں پر مقدمہ درج کرنے کے لئے میعاد مقرر کرنے سے متعلق ڈاکٹر سوامی کی اس عرضی کو قبول کرلیا اور عدالت نے جہاں مرکزی سرکار کو جھٹکا دیا وہیں اس کے رخ کی دوررس اہمیت یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کو کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف وزیراعظم یا عدالت کے پاس جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔ بڑی عدالت نے صاف صاف کہا ہے کہ کرپشن انسداد قانون کے کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف شکایت درج عام آدمی کا آئینی حق ہے درصل وزیراعظم دفتر نے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ میں کہاتھا کہ سوامی کا خط صحیح نہیں تھا کیونکہ سوامی کو طویل عرصے کے بعد پی ایم او سے ملے جواب پر اعتراض تھا۔ اس لئے عزت مآب عدالت نے یہ بھی کہا تھاکہ اگر چار مہینے کے اندر ملزم شخص کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ملتی تو مان لیا جانا چاہئے کہ متعلقہ اتھارٹی نے اجازت دے دی ہے۔ یہ معاملہ ماہ نومبر 2008کا ہے جب ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں اس وقت کے وزیرمواصلات کے کردار کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے وزیراعظم کو خط لکھ کراے راجہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بارے میں کہاتھا وزیراعظم کے دفتر سے اس کا جواب قریب سولہ مہینے کے بعد مارچ 2010کوملاتھا۔ جس میں کہاگیا تھا کہ ان کی عرضی قبل ازوقت ہے۔ یعنی تب حکومت معاملے کی تہہ میں جانے کی خواہش مند نہیں تھی۔ صرف یہی نہیں ٹوجی گھوٹالے کے متعلق اہم مقدموں کو سوامی عدالت میں لے گئے ہیں۔ یہ بھی کہ سوامی کی پہل کے بعد اے راجہ کو وزارت چھوڑنی پڑی تھی۔ اور ان کی گرفتاری ہوئی سپریم کورٹ اس فیصلے سے وزراء واعلی افسروں کی ایک بڑی سیکورٹی دیوار ضرور ٹوٹ گئی ہے جس کی آڑ میں وہ عام طور پر کرپٹ جن سیوک کرپشن کامعاملہ ہوتے ہوئے بھی بچ نکلتے تھے اب تک ہوتا یہ تھا کہ کسی سرکاری افسر یا عوامی نمائندے کے خلاف کرپشن کا معاملہ درج کرنے سے پہلے سرکار سے اجازت لینی پڑتی ہے اور اکثر ایسی اجازت کی عرضیوں پر یاتو کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا یا اجازت نہیں دی جاتی ہے اگر اجازت نہ ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ نہ ہوتو آسان طریقہ کوئی فیصلہ نہ لیناہوتا تھا۔ تازہ فیصلے نے دوبڑے پیمانے رائج کردیئے ہیں پہلا یہ کرپشن کامعاملہ چلانے کی عرضی کو حکومت یقینی لمبی میعاد تک نہیں ٹال سکتی اور دوسرا ہمارے جمہوریت میں ہر شہری کو یہ حق ہے وہ سرکار پر کرپشن کے معاملوں میں کارروائی کے لئے دباؤ ڈالے یہ ایک دوررس اثر ڈالنے والے اہم فیصلہ ہے۔
 Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

01 فروری 2012

نوئیڈا میں بینکوں، نرسنگ ہوم ، کلینکوں پر گاج گری



Published On 1st February 2012
انل نریندر
رہائشی سیکٹر میں چل رہے کاروباری اداروں کو بند کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کا اثر یومیہ جمہوریہ سے نوئیڈا میں دکھائی دینے لگا ہے۔ کچھ سیکٹروں میں لوگوں نے جھنڈا لہرانے کے بعد عدالت کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اجتماعی طور پر اپنی دکانیں بند کرنا شروع کردی ہیں۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کارروائی کا آغاز بینکوں سے ہوگا۔ نوئیڈا کے رہائشی علاقوں میں چل رہے 104 بینک شاخیں سیلنگ کے تحت آجائیں گی۔ پہلے مرحلے میں سیکٹر19 میں چل رہے 21 بینکوں کو سیل کیا جائے گا۔ اتھارٹی نے رہائشی بلڈنگوں میں چل رہے کاروبار کے خلاف لوگوں کو نوٹس بھیجنا شروع کردیا ہے۔عدالت نے 5 دسمبر2011 ء کو بینکوں کی عمارت مالکوں کی طرف سے دائر عرضی کی سماعت کرتے ہوئے نوئیڈا سیکٹر میں ماسٹر پلان کے برعکس چل رہیں سبھی کمرشیل سرگرمیوں کو دو ماہ کے اندر بند کرنے کے احکامات دئے تھے۔ عدالت کے اس حکم سے رہائشی علاقوں میں چل رہے بینکوں ،نرسنگ ہوم، دکانوں پر سیلنگ کی تلوار لٹک گئی ہے۔ اس فیصلے سے رعایت کی مانگ کرتے ہوئے بینکوں اور بینکوں کی عمارتوں کے مالکوں و نوئیڈا میڈیکل ایسوسی ایشن9 جنوری کو عدالت گئی تھی۔ عدالت نے اتھارٹی کو23 جنوری کو طلب کیا۔ اتھارٹی کے ذریعے کی جارہی کارروائی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے تیزی سے کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ رہائشی علاقوں کے 104 بینکوں کو رعایت دیتے ہوئے ان کے لئے پلاٹ کی اسکیم پیش کرکے الاٹ کرنے کے احکامات دئے۔ نرسنگ ہوم کو بھی پلاٹ کو دستیاب کرانے کے احکامات عدالت نے دئے۔ ایسے ہی کلینکوں کو ایف اے آر کے 25 فیصد استعمال کلینک کے طور پر کرنے کا حکم دیا۔
پورے معاملے کا ایک پریٹیکل اور انسانی پہلو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ بینک ، نرسنگ ہوم، ڈاکٹروں کی کلینک سبھی جنتا کی سیوا کے لئے ہے۔ بیشک یہ غور وفکر بھی جاری ہے کہ پبلک کے لئے نرسنگ ہوم کا فائدہ کالونی میں رہنے والے اور آس پاس کے لوگوں کو ہوتا ہے۔ سرکار اتنے اسپتال تو نہیں بنا سکتی بڑھتی آبادی کی دیکھ بھال کرسکتے۔ ان چھوٹے چھوٹے کلینکوں کو بند کرنے سے آپ مریضوں بڑے اور مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ ان بڑے ہسپتالوں میں جانا چھوٹے اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے، وہ اس صورت میں کیا کریں؟ بینکوں کا جہاں تک سوال ہے ان کے سیلنگ سے اربوں روپے کے ہیر پھیر کا سلسلہ تھم جائے گا۔ اس خبر کی بھنک ملنے کے بعدسے بینک تو پریشان ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ لوگ بھی گھبرا گئے ہیں۔ حالانکہ اتھارٹی نے بینکوں کو شفٹ کرنے کی غرض سے 74 پلاٹ دینے کی اسکیم نکالی ہے ۔ مگر جب تک بینکوں کو دوسری جگہ پر شفٹ کیا جائے گا تب تک گراہکوں کو کافی پریشانی ہوگی۔ بینک برانچ ہی نہیں بلکہ اس حکم کے دائرے میں اے ٹی ایم بھی آرہے ہیں۔ زیادہ تر شاخوں میں اے ٹی ایم بینکوں کے اندر لگے ہیں۔ ان کی تعداد100 سے زیادہ ہے ایسے میں عام نوکری پیشہ افراد کی ایمرجنسی کا سہارا (اے ٹی ایم) بند ہوجائے گا۔ معاملے معمولی نہیں۔ بیشک رہائشی علاقوں میں بینک نہ چلیں لیکن نرسنگ ہوم اور ڈاکٹروں کی کلینک تو عام جنتا کی ضرورت ہے۔سرکار کو چاہئے سپریم کورٹ سے متاثرہ کمرشل اداروں کو منتقل کرنے کیلئے میعاد طلب کرے تاکہ وہ ان کو آباد کرکے باقاعدہ شفٹ کرنے کیلئے راہ ہموار کرسکے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Greater Noida, Supreme Court, Uttar Pradesh, Vir Arjun

28 جنوری 2012

سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹکڑاؤ پیدا کرسکتا ہے


Published On 28th January 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے پاکستان اپنے ایک فیصلے میں آئین سازیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی ایک نئی بحث شروع کردی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ پارلیمنٹ و اسمبلی ممبران کی اہلیت کے بارے میں اسپیکر کے احکامات کاعدلیہ جائزہ لے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں اسپیکر کا فیصلہ آخری نہیں مانا جائے گا۔ جسٹس التمش کبیر اور جسٹس سلیک جوزف کی بنچ نے کرناٹک کے بھاجپا و آزاد ممبران اسمبلی کو نا اہل ٹھہرانے والے اسمبلی اسپیکر کے احکامات کو غلط قراردیتے ہوئے بدھ کے روز اس کے اسباب بیان کئے ہیں۔ حالانکہ عدالت گذشتہ برس 13 مئی کو ہی اس سلسلے میں فیصلہ سنا چکی تھی اور مفصل سے جاری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ اسپیکر آئین کی دسویں شق میں ممبران کی نا اہلیت کے بارے میں نیم جوڈیشیری اتھارٹی کی طرح فیصلہ کرتا ہے۔ ایسے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس کے آخری حکم کا جوڈیشری جائزہ لے سکتی ہے۔ اب یہ قانون بن چکا ہے کہ اسپیکر کا آخری حکم آئین میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو ملے اختیارات پر روک نہیں لگاتا۔ سپریم کورٹ سیکشن 32 اے اور 136 و ہائی کورٹ کی سیکشن 226 کے تحت اسپیکر کے حکم کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ معلوم ہو کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو ان سیکشنوں میں خاص طور پر نشان زدہ اختیارات ملے ہوئے ہیں۔ کورٹ نے کہا کہ آزاد ممبران اسمبلی کو سرکار کی حمایت واپس لینے اور کسی اور کو حمایت دینے کی بنیاد پر دل بدل قانون کے تحت نااہل نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ قانون میں ان کی حمایت دینے یا واپس لینے پر کوئی روک نہیں ہے۔ حکمراں پارٹی کو حمایت دینے یا اس کی میٹنگوں یا ریلیوں میں آزاد ممبران کے حصہ لینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اس سیاسی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس لئے ان کے محض سرکار کے شامل ہونے یا وزیر بننے سے ان کی سیاسی پارٹی جوائن کر ثابت نہیں کرتا۔ عدالت نے فریقین کی ان دلیلوں کو بھی مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ کسی ممبر کی نااہلیت کے بارے میں اسپیکر کا فیصلہ آئینی تقاضوں میں آخری فیصلہ مانا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ کرناٹک کے اسپیکر کا ممبران کو نااہل ٹھہرانے کا فیصلہ غلط نیت کا عکاس تھا۔ حقائق کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اسپیکر صرف فلور ٹیسٹ سے پہلے ممبران کو نا اہل ٹھہرانا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے اتنی جلد بازی میں کارروائی کی جس سے ممبران کو اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ یقینی طور پر اسپیکر کے اختیارات پر ٹکڑاؤ پیدا کرے گا۔ بیشک اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسپیکر حکمراں پارٹی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے تئیں اس کی ہمدردی بھی ہوتی ہے اور اکثر فلور ٹیسٹ سے پہلے وہ حکمراں پارٹی کی مصیبت کم کرنے کے لئے کچھ ممبران کو نا اہل قراردے کر ووٹ دینے سے محروم رکھتے ہیں لیکن وہیں اسپیکر کہیں گے کہ ایوان کے اندر کی کارروائی اور اس سے متعلقہ سبھی معاملوں میں وہ قطعی طور پر با اختیار ہے۔آئین سازیہ اور عدلیہ کا اس مسئلے پر ٹکڑاؤ ہونا فطری ہی ہے کیونکہ معاملہ عدالت اور اسپیکر کے درمیان ہے اس لئے اس پر اور تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Speaker, Supreme Court, Vir Arjun

26 نومبر 2011

ٹوجی گھوٹالے میں کارپوریٹ افسروں کو ملی ضمانت



Published On 26th November 2011
انل نریندر
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے معاملے میں پہلی مرتبہ کسی کو ضمانت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھوار کو پانچ کارپوریٹ کمپنیوں کے ملزم افسرو ں کو ضمانت دے دی ہے۔ ضمانت پانے والے ہیں سنجے چندرا ، ونود گوئنکا، ہری نائر، گوتم دوشی اور سریندر تپارا۔ ملزمان نے نچلی عدالت اور ہائیکورٹ میں ضمانت عرضی خارج ہونے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا معاملے میں ملزمان کے خلاف اقتصادی جرائم کا الزام ہے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے اس سے دیش کی معیشت کو خطرہ ہوسکتا ہے لیکن سی بی آئی نے یہ نہیں کہا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ملزم ثبوتوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ہم ایسی کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ جس سے ملزم کو حراست میں رکھا جائے اور وہ بھی تب تک جب اس معاملے میں چھان بین پوری ہوچکی ہے اور چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔ ملزمان چھ مہینے سے زیادہ جیل میں رہ چکے ہیں اس معاملے میں انہیں حراست میں رکھنے کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا۔ ایسے میں ملزمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے بونڈ پر ضمانت دینے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ عدالت نے ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ کچھ شرطیں بھی لگائی ہیں۔ انہیں ضمانت دئے جانے کے بعد کنی موجھی سمیت چھ ملزمان کو ضمانت ملنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ ٹوجی گھوٹالے میں ابھی بھی2 فروری سے اے راجہ بند ہیں۔کنی موجھی20 مئی سے تہاڑ جیل میں ہیں ۔ شرد کمار ( ایم ڈی کلیگنر ٹی وی) بھی 20 مئی سے بند ہیں۔ آر کے چندولیا 2 فروری کو جیل میں گئے تھے۔ سدھارتھ بہورہ جو سابق ٹیلی کام سکریٹری بھی ہیں 2 فروری سے جیل میں ہیں۔ شاہد عثمان بلوا سوان کے پرموٹر 2 فروری سے تہاڑ جیل میں ہیں۔ آصف بلوا (شاہد کا بھائی) 29 مارچ سے جیل میں ہیں۔ راجیو اگروال ڈائریکٹر کسے گاؤں فوڈس اینڈ ویجی ٹیبل پرائیویٹ لمیٹڈ29 مارچ کو جیل گئے تھے۔ کریم نورانی جو ایک فلم پروڈیوسر ہیں اور شاہ رخ خان کے دوست بھی ہیں 20 مارچ سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
کسی مجرمانہ معاملے میں ملزم کو کتنی میعاد تک جوڈیشیل حراست یعنی جیل میں رکھا جائے اور کب اسے ضمانت ملنی چاہئے یہ سوال اکثر اٹھتا ہے۔ ان دنوں بھی یہ سوال زیر بحث ہے۔ کچھ دن پہلے دگوجے سنگھ نے بھی ایسے ہی سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کسی ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اسے جیل میں رکھنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا اس لئے اسے ضمانت ملنی چاہئے۔ حالانکہ ان کے اس بیان کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ عدالتوں کو ہدایت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ دگوجے سنگھ کیونکہ ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہیں اس لئے ان کے بیان پر رائے زنی ہونا فطری بات ہے لیکن کچھ عرصے پہلے خود سپریم کورٹ کی ایک تین نفری بنچ نے کہا تھا کہ وہ زیر بحث معاملوں میں ملزمان کو ضمانت نہ دینے کی عدالتوں کی مبینہ نئے ٹرینڈ کی پڑتال کریں گے کیونکہ یہ ٹرینڈ اس کے ذریعے قائم عدلیہ اصول کے خلاف ہے جو کہتا ہے کہ ضمانت ایک قاعدہ ہے اور جیل ایک مصیبت ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ پہل یقینی ہی لائق تحسین ہے لیکن سوال اٹھتا ہے کہ صرف ہائی پروفائل معاملوں پر ہی کیوں چھوٹے موٹے معاملوں میں بھی ملزمان کو عدالت کے برسوں تک چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جب انہیں ضمانت ملتی ہے یا مقدمے کا فیصلہ آتا ہے اس وقت تک وہ سزا سے زیادہ وقت تو جیل میں گذار دیتے ہیں۔ تہاڑ جیل میں زیر سماعت قیدیوں کی تعداد دیکھی جائے تو نچلی عدالتوں کے ضمانت نہ دینے کی وجہ سے بہت سے ملزمان جیل میں بند پڑے رہتے ہیں۔ جہاں تک ٹو جی اسپیکٹرم مقدمے کا تعلق ہے جیل بھیجنا تو ٹھیک ہے لیکن اس سے زیادہ اہم ہے پیسوں کی برآمدگی ۔ اور اس سمت میں نہ تو حکومت اور نہ ہی سی بی آئی کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے۔ ایک لاکھ 60-70 ہزار کروڑ کے اس گھوٹالے میں آپ نے درجنوں لوگوں کو اندر تو کردیا لیکن جو پیسہ انہوں نے لوٹا وہ دیش کا ورثہ ہے اس کا کیا ہوا؟ کنی موجھی اور دیگر کی اب ضمانت ہوجائے گی۔ مقدمہ برسوں تک چلتا رہے گا۔آخر میں کچھ کو سزا بھی ہوسکتی ہے لیکن بنیادی سوال وہی اٹھتا ہے کہ لوٹے دھن کی برآمدگی کیسے ہوگی؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Karim Morani, Reliance Telecom, Shahid Balwa, Supreme Court, Swan Telecom, Unitech Wireless, Vir Arjun

19 نومبر 2011

ایک غلطی کی اتنی بڑی قیمت؟



Published On 19th November 2011
انل نریندر
ٹائمس ناؤ ٹی وی چینل کو کبھی یہ اندازہ نہ رہا ہوگا ایک چھوٹی سی غلطی کا اتنا بڑا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔ ہوا یوں کہ ٹی وی چینل ٹائمس ناؤ نے ایک خبر کے ساتھ غلطی سے کسی دوسرے جسٹس کے نام کے ساتھ پریس کونسل کے سابق چیئرمین پی بی ساونت کی فوٹو دکھا دی۔ لہٰذاپی بی ساونت نے چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے چینل کو ہدایت دی کہ وہ100 کروڑ کا ہرجانہ ادا کرے۔ 20 کروڑ روپے نقد جمع کرانے اور 80 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی دینے کو کہا گیا ہے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کردیا۔ممبئی ہائی کورٹ کے حالیہ حکم میں ٹائمس ناؤ چینل سے کہا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس پی بی ساونت کو100 کروڑ روپے کا ہرجانہ دئے جانے کے نچلی عدالت پر سماعت سے پہلے 20 کروڑ روپے نقد اور 80 کروڑ روپے بینک گارنٹی جمع کرے۔ پریس کونسل کے چیئرمین مارکنڈے کاٹجو نے ٹائمس ناؤ چینل کے معاملے میں ہائی کورٹ اور ممبئی ہائی کورٹ کے احکامات کوسخت قراردیا اور ان پر پھر سے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ قومی پریس دوس پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ٹائمس ناؤ چینل کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کے سلسلے میں میرا ایک بیان ہے ان احکامات کے تئیں پورے احترام کے ساتھ میرا خیال ہے کہ وہ غلط ہے اور اس پر دوبارہ غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ چینل کی غلطی کو بھول اور انسانی غلطی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا اس میں کوئی غلط نیت ظاہر نہیں ہوتی اور غلطی تکنیکی گڑ بڑی کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’ہم سبھی انسان ہیں‘‘ اور ہم سب غلطی کرتے ہیں۔ میرے خیال میں مناسب حکم یہ ہوتا کہ ٹی وی چینل کو مستقبل میں ہوشیار رہنے کی سخت وارننگ دے دی جاتی۔ کاٹجو نے کہا ان کا بااحترام نظریہ یہ ہے کہ 100 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا جانا غلطی کے حساب سے بہت زیادہ ہے۔ قانونی کتاب میں تناسب کے اصول اچھی طرح سے واضح ہیں۔ کوی رحیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ایک بار بھگوان وشنو سو رہے تھے تو رشی بھرگو وہاں آئے اور انہوں نے وشنو کے سینے پر زور سے لات ماردی۔ وہ (بھگوان) جاگے اور اس کا جواب دینے کے بجائے انہوں نے بھرگو سے پیار سے پوچھا کہ کہیں ان کے پیر میں چوٹ تو نہیں لگ گئی۔ کاٹجو نے کہا ’’بھگوان وشنو سرو شکتی مان تھے پھر بھی انہوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ میں بھارت میں سبھی ججوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مہان کوی کے دوہے کو یاد رکھیں‘‘۔
ہم جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے نظریات سے متفق ہیں اور ان کی رائے کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ ٹائمس ناؤ سے غلطی ہوئی ہے جان بوجھ کر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں ہونی چاہئے تاکہ ادارہ ہی بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ٹائمس ناؤ تو شاید اس جھٹکے کو جھیل جائے لیکن درجنوں چینل ایسے ہوں گے جو اتنا بھاری بھرکم جرمانہ نہیں سہہ پائیں گے۔ کل کواخباروں کا بھی نمبر آسکتا ہے۔ کیا ایک طریقے سے یہ پریس کا گلا گھونٹا تو نہیں ہے؟
Anil Narendra, Bombay High Court, Daily Pratap, Justice Katju, Supreme Court, Times Now, Vir Arjun

15 نومبر 2011

قصاب کو پھانسی کی پیروی کرنے والا پاکستان




Published On 15th November 2011
انل نریندر
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ممبئی حملوں کے قصوروار اجمل عامر قصاب کو گذشتہ جمعرات آتنکی مانتے ہوئیاسے پھانسی پر چڑھائے جانے کی وکالت کی۔17 ویں سارک کانفرنس کے دوران قصاب سے پلہ جھاڑتے ہوئے رحمان ملک نے کہا اس کی سرگرمیوں سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہے اس لئے اسے پھانسی ملنی چاہئے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں دھماکے پر بھی رائے زنی کرتے ہوئے ممبئی حملے جیسے آتنکی واقعات دونوں ملکوں کے رشتوں کو خراب کررہے ہیں ۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ رحمان ملک نے ایسی بات کیوں کی؟ پاکستان کے قول اور فعل میں ہمیشہ فرق رہا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ممبئی حملے کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا یہ بات امریکہ اور اب برطانیہ جیسے ممالک نے بھی مانی ہے۔ ممبئی حملے کی سازش رچنے والے جماعت الدعوی کو پاکستان نے آتنکی تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
مالدیپ میں ہوئی سارک کانفرنس کے دوران پاکستان نے دہشت گردی سے لڑنے کے لئے چاہے کتنی ہی بڑی باتیں کیوں نہ کہی ہوں ، ہمیں اسے سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق سارک کانفرنس کے کچھ ہی دن پہلے پاکستان کے وزارت داخلہ نے جو 31 ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست جاری کی تھی اس میں جماعت الدعوی کا نام ندارد تھا۔ یہ تنظیم بیحد خطرناک ہے۔ جنوبی ایشیا کی سب سے خطرناک آتنکی تنظیم لشکرطیبہ کا سرپرست مانے جانی والی جماعت الدعوی کو امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دباؤ میں ممنوع قراردیا گیا تھا۔26 نومبر2008 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے میں اس تنظیم کا ہاتھ مانے جانے کی یہ بات بھارت اور امریکہ دونوں نے ہی اس تنظیم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنے ریزولوشن1267 کے ذریعے اس پر پابندی لگادی تھی۔ اس چوطرفہ دباؤ کے چلتے پاکستان نے 7 دسمبر2008 کو اسے ممنوع قراردیا تھا۔ اہم بات یہ رہی ہے کہ پاکستان نے اس تنظیم کے چیف حافظ محمد سعید کے خلاف کبھی بھی سنجیدگی سے کوئی کارروائی نہیں کی۔ دکھاوے کے لئے سعید کو نظربند کردیا گیا اور عدالت نے ثبوتوں کی کمی کے سبب اسے چھوڑدیا۔ کیونکہ ممبئی حملے میں بڑی تعداد میں امریکی شہری مارے گئے تھے اس لئے ایف بی آئی نے بھی اس کی پڑتال میں اہم کردار نبھایا تھا۔ بھارت اور امریکہ دونوں نے ہی پاکستان کو اس کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کئے تھے۔ اب رحمان ملک صاحب کہہ رہے ہیں کہ حافظ سعید کو حکومت نے نہیں بلکہ دیش کی بڑی عدالت نے چھوڑا ہے۔ آئی ایس آئی نے اس مقدمے میں بھی اپنی نیت کا مظاہرہ کردیا ہے۔ سرکاری فریق نے مقدمے کے دوران آتنکی حملوں میں شامل ہونے کی اطلاعات دیں ثبوت نہیں۔ عدالت ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے، اطلاعات کی بنیاد پر نہیں۔ یہ دلیل مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے۔ بھارت نے اس کے خلاف پاکستان کو پختہ ثبوت فراہم کرائے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ آج تک پاک سرکار یا اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کسی بھی غیر ملکی جانچ ایجنسی کو حافظ محمد سعید سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
26/11 ممبئی حملے کے پیچھے آئی ایس آئی اور لشکر کا ہاتھ تھا یہ بات اب سبھی مانتے ہیں ۔میں نے پچھلے دنوں اسی کالم میں بی بی سی کے ایک پروگرام کا ذکر کیا تھا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک ک یاد داشت تازہ کرنے کے لئے پھر سے ذکر کررہا ہوں۔ بی بی سی تو ایک غیر جانبدار آزاد ایجنسی ہے۔ جس کے بھروسے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ بی بی سی نے دو حصوں م میں ایک پروگرام نشر کیا جسے 'سیکٹریٹ پاکستان' کا نام دیا گیا تھا۔پروگرام کے پہلے حصے میں امریکی صدر براک اوبامہ کے مشیر رائے سی آئی اے افسر برسرڈیل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پاکستان سے آئے آتنکیوں نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کے کئی اہم مقامات پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اوبامہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے حالانکہ انہوں نے حلف نہیں لیا تھا ۔ رڈیل نے کہا میں نے پاکستانی صدر سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنا بند کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان برسوں سے امریکی اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے۔ اس کے آگے بھی ایسا ہی کرتے رہنے کا اندیشہ ہے۔ رڈیل کا کہنا ہے کہ حملوں میں ہر جگہ لشکرطیبہ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ حملوں کی شروعات سے ہی لگنے لگا تھا کہ لشکر کی کرتوت ہیں۔ آگے کہتے ہیں کہ ایک بار جب آپ لشکر سے ان حملوں کو جوڑتے ہیں تو آپ اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی جوڑیں گے۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے سی آئی اے کو یہ جانکاری ملی تھی ۔ممبئی کے حملے میں آئی ایس آئی براہ راست طور پر شامل تھی۔
پاکستان کے وزیر داخلہ کے اس بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا کہ قصاب کو پھانسی پر چڑھا دو۔ ممکن ہے کہ رحمان ملک نے سوچا ہو کہ ایسا بیان دینے سے وہ دنیا اور بھارت کو خاص طور پر گمراہ کرسکتے ہیں، بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ ایسے بیان دینے سے پاکستان دودھ کا دھلا نہیں ہوجاتا۔ سب کو معلوم ہے کہ کس طرح سے ان تنظیموں پھولنے پھلنے کا پورا موقع اور ہر ممکن مدد آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج کررہی ہے۔ اس کی نیت کا اندازہ تو اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے تو پاکستان نے اجمل قصاب نام کے کسی شخص کو اپنا شہری ماننے سے ہی انکار کردیا تھا۔ آج تک اس حملے میں مارے گئے اپنے دیش کے آتنک وادیوں کی لاشیں تک نہیں لیں۔ اتنا ہی نہیں اس نے تو کارگل جنگ کے دوران درانداز بن کر اپنے فوجیوں تک کی لاشیں نہیں لیں۔ بھارت کو ہی ان کی آخری رسوم ادا کرنی پڑیں تھیں۔ رحمان ملک نے یہ بھی کہا ہے اگر پاکستان کو یہ پتہ نہیں چل پایا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا تو اس میں تعجب کیسا؟ ٹریننگ یافتہ آتنک سرغنہ لادن کو پتہ تھا کیسے اور کہاں چھپا جائے۔ ذرائع کا خیال ہے یہاں تو خود پاکستان ہی جنوبی ایشیا کی اس سب سے خطرناک آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے رہنما حافظ سعید کو سرپرستی دے رہا ہے۔ بھارت اب رحمان ملک یا ان کے آقاؤں کی چال بازیوں میں نہیں پھنسے گا۔ بہت ہوچکا ہے۔
Anil Narendra, Bhullar, Daily Pratap, Human Rights Commission, Martyres, Sikh Terrorist, Supreme Court, Terrorist, Vir Arjun

20 اکتوبر 2011

بھارت کی پہلی ایف ون گران پری ریس



Published On 21st October 2011
انل نریندر
دیش میں رفتار کے جادو کی تاریخ بنانے کے لئے گریٹر نوئیڈا میں واقع بدھ انٹرنیشنل سرکٹ کاٹریک لانچ ہوچکا ہے۔ میڈیا کے سامنے ریڈ بل کی کار دوڑا کر اس کے کرنامے سے روبرو کرایا گیا۔ تقریباً400 ملین ڈالر(تقریباً دو ہزار کروڑ روپے) سے تیار ہوا یہ ٹریک دنیا کے عالیشان ٹریکوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ٹریک 5.4 کلو میٹر لمبا اور10 سے14 میٹر چوڑا ہے جو 875 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں 16 موڑ ہیں اور اس میں ناظرین کی بیٹھنے کی صلاحیت تقریباً1 لاکھ10 ہزار ہے۔ اس میں زیادہ تر رفتار 320 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ جس ایک F-1 کار نارتھ سے ایسٹ کے درمیان 1.4 کلو میٹر کے سیدھے حصے میں حاصل کرسکتی ہے۔ بدھ انٹر نیشنل فارمولہ ون سرکٹ 24 دولہوں کا خیر مقدم کرنے کو تیار ہے۔ یہ دعوی پہلی انڈین گراپری F1 ریس کے انعقاد کرنے والے جے پی گروپ نے کیا ہے۔ لیکن میزبانی کا اصل انتظار 28 اکتوبر کو ریہرسل اور کوالیفائنگ دوڑوں اور پھر 30 اکتوبر کو بڑی دوڑ کے دوران ہوگی۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ سرکٹ بنانے والی کمپنی جے پی گروپ نے بھارت کو دنیا کے F1 نقشے میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ تین سال پہلے کسی نے شاید یہ تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ اتنا خوبصورت ٹریک بھارت میں بھی بن سکتا ہے۔ جب تین سال پہلے جے پی گروپ کو دیش میں فارمولہ ون سرکٹ بنانے کا نشانہ ملا تو یہ ایک بڑا چیلنج مانا جارہا تھا لیکن اس نے اس چیلنج کو قبول کیا اور وقت سے پہلے ٹریک کھڑا کردیا۔ جیسا کہ جے پی گروپ کے چیئرمین منوج گوڑ بتاتے ہیں جب ان کے والد و گروپ کے بانی نے اس کی خواہش ظاہرکی تب یہ کام بہت چیلنج بھرا تھا کیونکہ اس کے لئے وسائل حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ یہ سرکٹ ان لوگوں کی کڑی محنت کا نتیجہ ہے جو پچھلے ڈھائی برسوں سے اسے قطعی شکل دینے میں لگے رہے۔ اس ٹریک کی تعمیر پر تقریباً 5 ہزار لوگوں نے اپنا تعاون دیا جن میں 300 انجینئر تھے۔ ٹریک کا جائزہ لینے 50 مرسڈیز پر سوار ہوکر بھارتیہ اور غیر ملکی میڈیا نے ٹریک کا جائزہ لیا۔ جہاں ہم امید کرتے ہیں کے F1 ریس کی تمام اڑچنیں ریس آنے تک دور ہوجائیں گی ۔جس میں کسانوں کا احتجاج، ٹکٹوں کی بکری و سپریم کورٹ کی طرف سے ٹیکس فری کرنے کا نوٹس شامل ہے، وہیں قارئین کو یہ بھی بتانا چاہیں گے کہ یہ دوڑ یا کھیل دنیا کے خطرناک کھیلوں میں شامل ہے۔ امریکہ کے لاس ویگاس موٹر اسپیڈ وے نامی ایک ریس ایتوار کو ہوئی ۔ انڈیکا300 نامی اس ریس کے 13 ویں لیپ میں 15 کاریں آپس میں ٹکرا گئیں۔ جس وقت یہ کاریں بھڑیں اس وقت ان کی رفتار تقریباً362 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تھی۔ ان میں ایک ڈرائیور ڈین کی کارہوا میں اچھلی اور آگ کا گولہ بن گئی اس کی اس حادثہ میں موت ہوگئی۔ اس لئے اس کارنامے کے ساتھ ساتھ یہ کھیل خطروں بھرا بھی ہے۔ اس کے ڈرائیور بہت قابل اور بہت اچھی ٹریننگ لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بدھ انٹرنیشنل سرکٹ پر F1 ریس دیکھنے کیلئے تین دن تک موٹی رقم خرچ نہ کرریس دیکھنے کی آس لگائے لوگوں کے لئے خوشخبری ہے کچھ اسٹینڈ کے تین دن ٹکٹوں کو ایک دن کے لئے دستیاب کروادیا گیا ہے۔ آئی جی پی کے آخری دن یعنی 30 اکتوبر کو35 ہزار روپے کا مین گران اسٹینڈ کا ٹکٹ15 ہزار روپے میں مل سکتا ہے۔ اسی طرح کلاسک اسٹینڈ کا ٹکٹ6500 روپے کی جگہ 4000 روپے اور پکنک اسٹنڈ کا ٹکٹ 6000 کی جگہ3000 میں ملے گا۔ جے پی ایس آئی کے سی ای او ایم ڈی سمیر گوڑ نے بتایا کہ ہندوستان میں یہ پہلی کار دوڑ ہورہی ہے اس لئے ہر کوئی اسے دیکھنا چاہتا ہے۔ غیر ملکوں سے بھی بہت سے لوگ اس ریس کو دیکھنے آرہے ہیں۔ اسپانسر اور انعقاد کرنے والے یا حصہ لینے والے سبھی کو ہماری نیک خواہشات اور امید کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے گا اور دنیا ٹی وی پر دیکھے گی بھارت گران پری کی پہلی ریس۔
Budh Circuit, Car Race, F1, Greater Noida, JP Group, Supreme Court, Uttar Pradesh, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun,

انا اور ان کی ٹیم پر چوطرفہ حملے



Published On 20th October 2011
انل نریندر
انا ہزارے اور ان کی ٹیم پچھلے کچھ دنوں سے چاروں طرف سے مسائل سے گھرتی جارہی ہے۔ ایک ایک کرکے کئی مسئلے کھڑے ہوگئے ہیں۔ انا نے خود مون برت اختیار کیا ہوا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ سوالوں سے پریشان انا نے جواب نہ دینے کیلئے مون برت کیا ہے۔ان کے سپہ سالاراروند کیجریوال پر لکھنؤ میں ایک شخص نے چپل پھینکی۔ اترپردیش میں انا کا سندیش لے کر دورہ کررہے کیجریوال راجدھانی میں گومتی ندی کے کنارے جھولے لال پارک میں منعقدہ ایک پروگرام میں حصہ لینے کیلئے کار سے اترکر اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے کہ 40 سالہ شخص جتیندر پاٹھک نے ان پر چپل پھینک دی۔ حملہ آور کا الزام ہے کہ کیجریوال لوگوں کو ورغلا رہے ہیں ۔اس لئے ان پر حملہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے علاوہ سیاسی پارٹی سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ فی الحال جتیندر پاٹھک پولیس حراست میں ہے۔
ٹیم انا کے دو بڑے ممبر پی وی راج گوپال اور راجندر سنگھ نے تحریک کے سیاسی رنگ اختیار کرنے پر اعتراض ظاہرکرتے ہوئے کور کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے۔ ادھر منگلوار کو ہی کانگریس سے صلح کرنے کی کوشش پر اس وقت پانی پھر گیا جب انا ہزارے کے گاؤں کے سرپنج اور ان کے ساتھی خاص طور سے دہلی آئے تاکہ راہل گاندھی سے ملاقات ہوسکے لیکن ان کے ہاتھوں مایوسی لگی۔ جب وقت دے کر راہل گاندھی انا کے نمائندوں سے نہیں ملے۔ سوموار کو یوگ گورو بابا رام دیو نے ٹیم انا پر ہی حملہ کردیا اور انہوں نے کہا پرشانت بھوشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ بابا رام دیو نے کہا کہ اظہار آزادی کے نام پر دیش کو توڑنے والی بیان بازی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا سماجی تحریک میں شامل لوگ بھی دیش کو توڑنے والے بیان دیتے ہیں۔ جو دیش اور تحریکوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے انا ہزارے کو پرشانت بھوشن کے بیان پر اپنا موقف واضح کرنے کی صلاح دی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں رام دیو نے کہا کہ پرشانت بھوشن کے خلاف معاملہ درج ہونا چاہئے۔
آخر میں ٹیم انا کے خلاف ایک اور جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے انا ہزارے کے ہند سوراج ٹرسٹ کو ملنے والے سرکاری پیسے کا غلط استعمال معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے لئے منظوری دے دی۔ جسٹس آفتاب عالم ، جسٹس رجنی دیسائی کے بنچ نے سرکاری وکیل منوہر لال شرما کی جانب سے دائرعرضی پر سرکار سے جواب طلب کیا۔ شرما نے الزام لگایا کہ سال 1995 میں ہزارے ٹرسٹ بنا تھا لیکن اسے غیر قانونی بتاتے ہوئے ایک مالی سال پہلے اقتصادی مدد دے دی گئی تھی۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ صاف ہے کہ یہ دھوکہ دھڑی سرکاری خزانے کے بیجا استعمال کا معاملہ ہے جومدعالیہ نمبر چار کی جانب سے کیا گیا۔ ساونت کمیشن کی 2005 میں آئی رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ ان کے کچھ ساتھیوں یا گروپ سیاسی دوستوں نے ایسا کیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ نے غیر قانونی طریقے سے ایک کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی رقم کونسل فار ایڈوانسمینٹ آف پیپلز ایکشن اینڈ رورل ٹیکنالوجی سے حاصل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 1995 میں انا نے کپارٹ سے 75 لاکھ روپے لئے تھے۔ عرضی گذار نے کہا کہ 2001 میں کپارٹ نے 5 کروڑ روپے دیہی ہیلتھ کے نام پر جاری کئے تھے۔ کل کتنی رقم ٹرسٹ کو غیر قانونی طریقے سے دی گئی اس کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرنے پر اپنی حامی بھردی ہے اور مرکز و مہاراشٹر سرکار کو جواب دینے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ ٹیم انا پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ انا خود تو بے داغ ہیں لیکن ان کے ساتھی یقینی طور سے انا کی تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Baba Ram Dev, CBI, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

15 اکتوبر 2011

شیوانی کا قتل کس نے اور کیوں کروایا؟ ان سوالات کا جواب کیا ہے؟



Published On 15th October 2011
انل نریندر
انڈین ایکسپریس کی نوجواں رپورٹر شیوانی بھٹناگر کو23 جنوری 1999ءکے دن اس کے پٹ پڑ گنج میں واقع گھر میں قتل کردیا گیا ہے۔یہ قتل کس نے کروایا ، کیوں کروایا اور کیا یہ کسی سازش کے تحت کیا گیا قتل تھا؟ یہ سوالات آج بھی برقرار ہیں۔ یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ قتل کرنے والا پردیپ شرما تھا لیکن قتل کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس نے اکیلے اپنے دم پر اس کو انجام دیا؟ اس سوال کا جواب قتل کے11 سال بعد بھی نہیں مل پایا ہے۔ ان سوالوں کو اٹھانے کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ نے سابق آئی پی ایس پولیس افسر آر کے شرما ،شری بھگوان اور ستیہ پرکاش کو بری کردیا ہے۔قانونی ثبوت کی بنیاد پر پردیپ شرما کے قاتل ہونے کی توثیق کردی ہے۔ اسے عمر قید کی ہوئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ چاروں نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ جسٹس بی ڈی احمد اور جسٹس منموہن سنگھ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پردیپ نے شیوانی کے فلیٹ میں داخل ہوکر قتل کو انجام دیا لیکن قتل کا مقصد واضح نہیں ہے۔ اس نے قتل کو اکیلے ہی انجام دیا۔ قتل کرانے کے پیچھے آر کے شرما کی سازش تھی یا نہیں یا کوئی اور اہم شخصیت پیچھے ہے، کے سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں ملے ہیں۔ پردیپ کو قتل کے بدلے 3 لاکھ روپے کی سپاری کی بات بھی ثابت نہیں ہو پائی۔ ڈویژن بنچ نے کہا کہ آر کے شرما ، شری بھگوان، ستیہ پرکاش کی سازش ثابت کرنے کےلئے پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ نہ ہی ان کے آپسی رشتے ثابت ہوتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر داخل ملزمان کی ٹیلی فون کی تفصیلات پراسرار ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے اندیشے کے علاوہ کئی اور پیچیدگیاں ہیں۔ ان کے چلتے ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس رائے زنی سے دہلی پولیس کی جانچ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دہلی پولیس کے سرکاری وکیل پون شرما نے کہا کہ وہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ پردیپ کے قاتل ہونے کی تصدیق پولیس کے لئے اہم بنیاد ہے۔
شیوانی بھٹناگر کا قتل 23 جنوری 1999 ءکو آئی پی ایکسٹینشن میں ہوا تھا مگر معاملے کی گتھی طویل عرصے تک الجھی رہی۔ آخر کار پولیس نے ہریانہ کیڈر کے سینئر آئی پی ایس افسر آر کے شرما، ستیہ پرکاش، شری بھگوان ، وید پرکاش عرف کالو کو گرفتار کرکے گتھی سلجھانے کا دعوی کیا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق شیوانی کا قتل آر کے شرما کی رچی گئی سازش پر ہوا تھا۔ قتل کو انجام پردیپ شرما نے دیا۔ نوکنج اپارٹمنٹ کے داخلہ رجسٹرسے غلط پتہ اور اپنا فرضی نام لکھ کر داخل ہوا تھا۔ شادی کی مٹھائی دینے کے بہانے سے گھر میں گھسا۔ شیوانی چائے بنانے رسوئی میں گئی تو اس کوپیچھے سے توے سے وار کرکے رسوئی میں چاقوﺅں سے حملہ کردیا۔ بعد میں ادھ مری حالت میں بجلی کے تار سے گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔ شیوانی کو ابھی بھی انصاف کا انتظار ہے۔ شیوانی بھٹناگر کی طرح راجدھانی میں اور بھی مقبول ترین کانڈہوئے ہیں جن میں انصاف ملنا باقی ہے۔ماڈل جیسیکا لال کو29 اپریل1999 ءکی رات بینا رمانی کے ٹینس کورٹ میں واقع ریسٹورینٹ میں ہائی پروفائل پارٹی کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ تفتیش میں کانگریس کے با اثر لیڈر ونود شرما کے بیٹے سدھارتھ شرما عرف منو شرما سمیت تین لڑکوں کا نام سامنے آیا۔ منو شرما دسمبر2006 ءسے تہاڑ جیل میں سزا یافتہ قیدی کے طور پر سزا کاٹ رہا ہے۔ فیشن ڈیزائنر کنجم بدھی راجہ کو 20 مارچ 1999 ءکو داﺅد ابراہیم کے نام نہاد غنڈے رمیش شرما کے جنوبی دہلی میں واقع جے ماتا فارم ہاﺅس پر قتل کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے15 دسمبر2009ءکو رمیش شرما کو کنجم کے قتل کے الزام میں بری کردیا۔ تازہ حالت کنجم کے قتل کے چاروں ملزمان سریندر، ہیم چند، سنت رام اور رمیش جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ ان چاروں کی اپیل سپریم کورٹ میں التوا میں ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں ایل ایل بی تھرڈ ایئر کی طالبا پریہ درشنی منٹو 23 جنوری1996ءکو اپنے وسنت کنج میں واقع گھر میں مردہ پائی گئی۔ دہلی ہائیکورٹ نے30 اکتوبر2006ءکو سنتوش کو کالج کی طالبہ کے ساتھ آبروریزی و اس کے بے رحمانہ قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی تھی جس کو سپریم کورٹ نے 6 اکتوبر2010 ءکو پلٹتے ہوئے عمر قید میں بدل دیا تھا۔ سنتوش کمار شرما اکتوبر2006 ءسے ہی تہاڑ جیل میںبند ہے۔ نینا ساہنی یوتھ کانگریسی لیڈر سشیل شرما کی بیوی تھیں،2 جولائی 1995 ءکو سشیل نے نینا کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا اور لاش کو تندور میں ڈال دیا۔ اس معاملے میں 7 نومبر 2003ءکو عدالت نے سشیل کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ دہلی ہائیکورٹ نے سشیل کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ پچھلی ایک دہائی سے زیادہ وقفے سے سشیل شرما تہاڑ جیل میں بند ہے اور اس کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل التوا میں ہے۔
CBI, Delhi High Court, delhi Police, Shivani Bhatnagar Murder Case, Supreme Court

04 اکتوبر 2011

2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں انل امبانی کا کردار؟



Published On 4th October 2011
انل نریندر
سی بی آئی نے دعوی کیا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ریلائنس دھیرو بھائی امبانی گروپ کے مالک انل امبانی کے کردار کی آگے کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں کلین چٹ نہیں دی گئی ہے۔ آئی اے ڈی جی کے چیئرمین انل امبانی کو کلین چٹ دئے جانے سے متعلق خبریںآنے کے بعد سی بی آئی نے ایتوار کو اپنے ترجمان کے ذریعے سے اس بارے میں پوزیشن صاف کردی ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ انل امبانی کے کردار کی جانچ اس لئے بھی کرنا ضروری ہے کیونکہ تہاڑ جیل میں بند ان کے تین بڑے افسران نے کسی بھی طرح کے غلط کام میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ ریلائنس انل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے تین گرفتار سینئر افسر جانچ کے دوران دئے گئے اپنے بیانوں سے مکر گئے ہیں اس لئے حقیقی طور پر فوائد حاصل کرنے والوں کا پتہ لگانے کیلئے آگے کی جانچ کی جارہی ہے۔
سی بی آئی نے کہا کہ آئی اے ڈی اے جی کے تین افسران گوتم دوشی، سریندر تیپارا اور ہری نائر نے مجرمانہ سیکشن کی دفعہ161 کے تحت دئے گئے اپنے بیان میں فیصلے کے لئے پوری ذمہ داری لی تھی لیکن دہلی ہائیکورٹ میں وہ اس سے مکر گئے۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش وکیل کے کے گنگوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا کہ انہوں نے فیصلے کی ساری ذمہ د اری لی تھی لیکن بڑی عدالت میں ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران وہ بولے کہ ہم تو ملازم تھے اور ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا۔ سی بی آئی نے عدالت کو اس گھوٹالے میں امبانی ۔ ٹاٹا گروپ ، ویڈیو کون کی بالادستی والی ڈیٹم اور اٹارنی جنرل جی ای واہنوتی کے خلاف مختلف الزامات میں اپنی جانچ کی مفصل جانکاری دی اور کہا کہ انل امبانی کے خلاف جانچ جاری ہے۔ لیکن اسے اس گھوٹالے میں دیگر کے خلاف مقدمہ چلانے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
جانچ ایجنسی کے ذریعے دو دن پہلے سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوان ٹیلی کام میں9.9 فیصدی شیئر کے معاملے کو لیکر انل امبانی اور دیگر ملازمین کے رول کی جانچ کی جارہی ہے۔ یہ شیئر ماریشس کی کمپنی ڈیلفی کو فروخت کئے گئے تھے۔ سی بی آئی نے جانچ کی پیش رفت کے بارے میں 29 ستمبر کوسپریم کورٹ میں پیش’’ وضاحت خط‘‘ میں کہا کہ جانچ میں ایسا کوئی زبانی یا تحریری ثبوت نہیں ملا ہے جس سے لگتا ہے مختلف کمپنیوں کے دوبارہ زندہ اور پیسے کی منتقلی میں انل امبانی ملوث ہیں۔
سی بی آئی نے یہ جواب اس معاملے میں دائر عرضی گذار وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے عدالت کو دئے گئے ایک خط کے جواب میں دیا گیا۔عدالت میں سی بی آئی نے کہا عرضی گذار نے اس خط کے اس کی جانچ کی غیر جانبداری اور ایمانداری کے بارے میں غلط رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنتا جاننا چاہتی ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں شری انل امبانی کا صحیح کردار کیا تھا؟ اگر سی بی آئی کی جانچ پر شک کیا جارہا ہے تو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ جو بار بار متضاد بیان دے رہی ہے۔ کبھی کلین چٹ دیتی ہے تو کبھی کہتی ہے کہ آگے جانچ کرنا ضروری ہے اور ہم نے انل امبانی کو کوئی کلین چٹ نہیں دی ہے؟
2G, Anil Ambani, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Reliance Telecom, Supreme Court, Swan Telecom, Vir Arjun

برے بھنور میں پھنسے نتن یاہو!

جمہوری حکومت کی بری شکل ہے سوائےان سبھی دیگر شکلوں کے جنہیں پہلے انجام دیا جاچکا ہے۔ یہ بات ونگزٹن چرچل نے1947 میں برطانیہ کے نچلے ہائوس آف...