Translater

05 مئی 2018

انسداد قبضہ مہم کا خوفناک منظر

قبضہ مخالف مہم کی جم کر مخالفت ہورہی ہے لیکن یہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے یہ اندازہ نہیں تھا۔ ہماچل پردیش کے کسولی میں منگلوار کو جو کچھ ہوا اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔اسسٹنٹ ٹاؤن پلانر شیل بالا شرما کی رہنمائی میں جب حکام اور ملازمین کی ٹیم قبضہ ہٹانے کیلئے وہاں پہنچی تو ایک ہوٹل مالک نے گولی مار کر شیل بالا شرما کو مار ڈالا اور ایک ملازم اور ایک مزدور بھی زخمی ہوگئے۔ گولیاں چلا کر جنگلوں میں بھاگ گیا۔ یہ قبضہ مخالف مہم سپریم کورٹ کے حکم پر چلائی جارہی تھی۔ سپریم کورٹ نے 15 دن کے اندر کسولی کے 13 ہوٹلوں کا قبضہ ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ یہ میعاد پوری ہونے والی تھی اس لئے توڑ پھوڑ ہونا تقریباً طے تھا۔ ان ہوٹلوں کو حساس ترین پہاڑی جگہ پر ہونے کے سبب دو منزل تک بنانے کی اجازت ملی تھی لیکن کچھ نے تو چھ منزل تک تعمیر کر لی تھیں ۔ شیل بالا کے قتل کی خبر اخباروں اور میڈیا میں ہر جگہ چھا گئی۔ اس لئے بدھوار کو سپریم کورٹ نے نہ صرف معاملہ کا خود نوٹس دیا بلکہ تلخی میں یہ بھی کہا کہ اگر اسی طرح حکام کے قتل ہوتے رہے تو اسے حکم پاس کرنا بند کرنا ہی ہوگا کیونکہ یہ ایک افسر کے قتل کا معاملہ ہے اس لئے ریاست پہلے ہی جرائم پیشہ کو پکڑنے کے لئے سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ جمعرات کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے جوائنٹ کمشنر آلوک کمار نے شیل بالا کے قتل کے ملزم ہوٹل مالک کو گرفتار کرلیا۔
دہلی اور ہماچل پولیس نے اسے ورنداون سے پکڑا۔ آلوک کمار نے بتایا کہ ہماچل پولیس نے ملزم کی لوکیشن دہلی میں ملنے کے بعد گرفتاری کو لیکر مدد مانگی تھی لیکن جب تک کرائم برانچ کی ٹیم ملزم تک پہنچتی وہ فرار ہوگیا۔ اس کے بعد اس کی لوکیش متھرا میں ریفائنری کے پاس آئی، ٹیم نے پیچھا کیا تو وہ ورنداون پہنچ گا۔ اسے بانکے بہاری مندر کے پاس سے گرفتار کرلیا۔ ہوٹل مالک کا نام وجے ہے۔ یہ معاملہ تو ایک طرح سے سلجھ گیا لیکن قبضے کو لیکر وہ سوال تو ابھی بنے ہی رہیں گے جو ایسے موقعہ پر اٹھائے جاتے ہیں۔ کیا ان حکام پر کبھی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی تعمیرات نہ صرف ہوتی ہیں بلکہ برسوں برسوں چلتی رہتی ہیں؟ ناجائز قبضہ مہم کے سبب دوکانداروں و دیگر لوگوں میں بہت غصہ بھی ہے۔ حکام کو پوری حفاظت ملنی چاہئے۔
(انل نریندر)

دیش میں بڑھتا گن کلچر

ہم اکثر امریکہ میں گن کلچر کی بات کرتے ہیں۔ بات بات میں بندوق چلانا ، قتل کرنا یہ اب امریکہ تک محدود نہیں رہا، ہمارے دیش میں بھی یہ مسئلہ بہت تیزی سے بڑ ھ رہا ہے۔ آئے دن ہم سنتے ہیں ، پڑھتے ہیں کہ فلاں تنازع کو لیکر گولیاں چلائی گئیں۔ کل ہی دوارکا (دہلی کے سیکٹر23) تھانہ علاقہ میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب نقاب پوش بدمعاشوں نے قریب 40 راؤنڈ گولیاں چلائیں اور خطرناک بدمعاش سندیپ عرف مینٹل و اس کے ساتھی پون کو بھون ڈالا۔ کچھ دن پہلے دہلی کے حوض خاص میں واقع اپنے کلینک سے گھر جانے کے لئے ڈاکٹر ہنسراج ناگر پر تاک لگائے بیٹھے تین چار حملہ آوروں نے تابڑ توڑ فائرننگ کی جواب میں 71 سالہ ڈاکٹرناگر نے بھی اپنے لائسنسی پستول سے گولی چلائی۔ دونوں طرف سے قریب25 راؤنڈ گولیاں چلیں۔ واردات کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ تین گولیاں لگنے سے زخمی ڈاکٹر ناگر کو پرائیویٹ ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا۔ سواری بٹھانے کو لیکر ہوئے جھگڑے کے بعد ایتوار کی رات جڑودا کلاں گاؤں گولیوں کی گونج سے دہل گیا۔ اس میں ایک آر ٹی وی ڈرائیور کی موت ہوگئی جسے 6 گولیاں ماری گئیں۔ ا
یڈیشنل ڈی سی پی سنتوش مینا کے مطابق متوفی 27 سال کے جتیندر عرف جیتو گوڑ گاؤں بہادر گڑھ میں آر ٹی وی چلاتا تھا۔ ملزم ڈرائیور سدھیر کیب چلاتا ہے جو اسی روٹ کی سواریاں بٹھاتاتھا۔ ان دونوں کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے مسافر بٹھانے کو لیکر تنازع چل رہا تھا۔ ایتوار کی رات 11:30 بجے ہریانہ بارڈر پر واقعہ جڑوداکلاں گاؤں میں جیتو اپنی ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد گھر کی طرف جارہا تھا تبھی ملزم سدھیر اور اس کے دو ساتھیوں نے 8 گولیاں داغ دیں جس میں 6 گولیاں جیتو کو لگیں اور ان کی موقعہ پر موت ہوگئی۔ دہلی کے دوارکا نے کچھ نامعلوم لوگوں نے بدھوار کو کار سوار دو لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ پولیس نے بتایا متوفی کی پہچان سندیپ اور پون عرف پائن کے طور پر ہوئی۔ قاتل فرار ہے۔ ایک بہت عجیب و غریب قصہ اترپردیش کے لکھیم پور کھیری سیتا پور میں رونما ہوا۔ شادی تقریب کے دوران خوشی میں فائرنگ کرنے سے دولہا کی ہی موت ہوگئی۔ گولی چلانے والا اور کوئی نہیں بلکہ دولہا کا دوست ہی تھا۔ تھانہ بھیم گاؤں کے باشندہ روندر کمار ورما کے گھر بارات پہنچی لوگ خوشی سے ناچتے گاتے جھومتے ،دولہن روبی ورما کے دروازے پر پہنچے، دروازہ پوجا کے لئے سنیل کو بٹھایا گیا تبھی دولہے کے دوست رام چندر نے ریوالور سے فائرنگ کر اس کو مار ڈالا۔
(انل نریندر)

04 مئی 2018

کابل میں خود کش حملے میں 10 صحافی شہید

صحافیوں کے لئے کام کرنابہت خطرناک اور غیر محفوظ ہے. اس جگہ پر کوریج کرنااپنی زندگی کو داؤ پر لگانا ہے. افغانستان کی راجدھانی کابل میں خودکش حملہ میں 10 صحافیوں سمیت کم سے کم 37 افرادہلاک ہوئے، مرنے والوں میں اے ایف پی فوٹوگرافر سمیت، کم سے کم آٹھ دیگر صحافیوں ہیں. اے ایف پی کے فوٹو گرافر شاہ مٹھی کی موت کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے لی گئی، جس نے اس پر حملہ کیا تھا. چاہے میڈیا کا اہلکارشروع سے ہی چاہے طالبان یا دیگر دہشت گردی تنظیم کے نشانے پر رہے ہیں ، گزشتہ دہائی میں، صحافیوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے. کابل میں تعنات نیوز ایجنسی نے اے اف پی کے چیف فوٹو گرافر کے طور پر پیر کو اسی طرح کام کر رہے تھے، جسے وہ گزشتہ 22 سال سے کر رہے تھے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کی ظرف سے، صبح 8:00 ایک موٹر سائیکل خودکش حملہ آور نے خود کو نیشنل ڈائریکٹرییٹ سیکورٹی (این ڈی اس) محکمہ کے باہر دھماکے سے اڑا دیا. شاہ میرائی نے فوری طور پر تباہی کے منظر کی طرف رخ کیا. ان کے صحافیوں میں سے ایک ویڈیوجرنلسٹ ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے. شاہ نے اسے واٹسن پر ایک پیغام بھیجا، فکر مت کرو، میں سامنے ہوں، میں تصاویر کے ساتھ بھی ویڈیو بناؤں گا. شاہ میرائی نہیں جانتی تھی کہ یہ الفاظ اس دنیا میں آخری ہو ن گے. این ڈی ایس کے قریب واقع واقعہ کو کو ریج کرنے والے صحافیوں میں، ایک اور حملہ آور اسلامک ا سٹیٹ سے آیا. انہوں نے صحافیوں کے درمیان اپنے آپ کو ایک صحافی سے بتایا اور دیکھتے دیکھتے ہی خود کو اڑالیا. اس واقعہ میں شاہ میرائی کی وفات ہوئی. اس کے ساتھ آٹھ صحافی ہلاک ہو گئے. بعد میں، بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے صحافی 29 سالہ احمد شاہ کوپاکستان کے سرحدی علاقے میں مشرقی خوست صوبے میں ایک علیحدہ حملے میں ہلاک کیا تھا. رپورٹوں میں بتا یا گیا کہ کابل میں حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے، ریڈیو فری یورپ اور افغان نشر کنندگان نے ہالی نیوز، دیگر میڈیا تنظیموں کے صحافیوں سمیت ایک ٹی وی صحافی بھی شامل ہیں. پیرسے پہلے حالیہ برسوں میں میڈیا پر خود کش حملے میں2016 میں ہواتھا. اس وقت طالبان خودکش حملہ میں تین ٹولی ٹی وی چینل کے 7 ملازم کو ہلاک ہوئے تھے. صحافی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر رپورٹنگ کرتے ہیں، اور اس وجہ سے وہ نشانہ پر رہے ہیں. ہم ان صحافیوں کے شہیدہونے پر غصہ ظاہر کرتے ہیں ،اور بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے اور انکے خاندانوں کو صبر دے ۔

 (انل نریندر)

چھوٹاراجن نے جیوتیرمے ڈے کو کیوں مروا گیا

ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے صحافی جے ڈے کے قتل کے معاملے میں اہم ملزم چھوٹا راجن کوقصوروارقرار دیاہے. عدالت نے دوسرے معاملے میں قتل کے دوسرے ملزم صحافی جگنا ووراکوبری کردیا. وورا کے علاوہ، پالسن جوزف کو بھی بری کر دیا ہے. عدالت نے اس معاملے میں راجن سمیت نو افراد کو قصوروار قراردیاہے. ممبئی میں رہنے والے ڈے، مڈ ڈے نیوز میں ایک سینئر جرائم کے رپورٹر کے طور پر کام کرتے تھے. جیوتیرمے، جس نے اخبار کے لئے جے ڈی نام سے مظمون لکھا تھا، پر 11 مئی 2011 کو پردیش کے ممبئی کے مضافات میں گولی مارہلاک کر دیا گیا تھا. وہ ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے اور اپنے گھر کی طرف جارہے تھے، تبھی چاربدمعاشوں نے ان پرگو لیا چلا دی.وہ ممبئی کے بہترین کرائم رپورٹر میں جیوتیرمے کا شمار تھا. پہلے وہ بھی انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز سے وابستہ تھے. جس وقت انھیں ہلاک کیا گیا 56 سال کی عمر تھی. جیوتیرمے ڈے کے قتل کے بعد اور اس معاملے میں ایک اور صحافی جگنا وورا کی گرفتاری کے بعد، پورے ملک کے صحافی برادری سکتے میں ہے. مبینہ انڈرولڈ ڈان راجندر سدا شیو عرف چوٹا راجن اور اس وقت ایشین ایج میں بیورو کے چیف کے طور پر کام کر والے جگنا وورا اس معاملے میں اہم ملزم تھے . چھوٹا راجن اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں ہے. وہ 2015 میں انڈونیشیا میں بالی سے لایا گیا. اس معاملے کے ساتھ، اس پر وہ 17 افراد کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے. اس کے علاوہ، وہ منشیات کی اسمگلنگ، قبضے اور ہتھیاروں کے غیر قانونی استعمال کا بھی الزام ہے. ممبئی پولیس نے شرع آتی جانچ میں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (MCOCA) کے تحت چوٹا راجن کی گرفتاری کے بعد، سی بی آئی نے بھی اس معاملے کی بھی جانچ شروع کر دی ہے . کیس ایک خصوصی MCOCA عدالت میں چل رہا ہے . خصوصی عدالت میں مجموعی 155 گواہوں نے گواہی دی، لیکن اس معاملے میں کوئی چشم دیدگواہ حاضر نہیں ہوا. بے شک، اس معاملے میں سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو کیس کو حل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے لیکن یہ خیال ہے کہ اس معاملے میں بہت سے سوالات موجود ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں ہے. ممبئی پولیس کو یہ بتا نہیں پائی کہ ڈے کو آخری کیو قتل کیا گیا تھا؟ جب اس بارے میں پوچھے جانے پر ، پولیس کمشنر اروپ پٹنایک نے کہا کہ یہ سوال واجب ہیں. ہم نے عدالت سے وقت لیا ہے. یہ کیوں قتل کیا گیا تھا، اس کے پیچھے وجوہات کیا تھی، مقصد کیا تھا. ہم ابھی یہ نہیں پتہ لگا پائے ، تھوڑا وقت مانگا ہے ، یہ سب پتہ چل جائے گا.
 (انل نریندر)

03 مئی 2018

افسپا کا ہٹانا بدلے ماحول کی تصدیق ہے

میگھالیہ میں افسپا (مسلح فورس مخصوص اختیار ایکٹ) کا ہٹایا جانا ایک بڑے واقعہ کے ساتھ ساتھ ایک مثبت قدم ہے۔ خطہ کو مخصوص اختیارات سے مسلح کرنے والے اس بیحد سخت بڑے قانون کو نارتھ ایسٹ کی جنتا نے لمبے وقت تک ایک خطرناک اور کچلنے والے قانون کی شکل میں دیکھا اور جھیلا ہے۔ افسپا کو ہٹانے کا مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تشدد کا لمبا دور دیکھ چکے نارتھ ایسٹ کے راجیوں میں حالات بہتر ہوتے جارہے ہیں۔ یہ قدم وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ نارتھ ایسٹ میں تشدد کے واقعات میں دو دہائی کے دوران تشدد میں کافی کمی آئی ہے بلکہ 1997 کے انتہا پسندی کے کٹر پسندی کے دور کے بعد اس خطہ میں 2017 میں تشدد کے سب سے کم واقعات درج ہوئے ہیں۔ اس سے یقینی طور پر ان ریاستوں کے شہریوں کو راحت ملی ہوگی۔
منی پور کی سماجی کارکن ایروم شرمیلا تو اس قانون کی مخالفت میں 16 سال تک بھوک ہڑتال پر رہیں۔ اب تک میگھالیہ سے لگنے والی آسام کی سرحد پر 40 فیصدی علاقہ میں یہ قانون لاگو تھا، تریپورہ اور میزورم کے بعد میگھالیہ تیسرا راجیہ ہے جہاں افسپا کو پوری طرح سے ہٹا لیا گیا ہے۔ تریپورہ میں 2015 میں ہی افسپا کو ہٹایا جاچکا ہے۔ مگر اب بھی ناگلینڈ، منی پور، آسام اور اروناچل پردیش کے کچھ حصوں کے ساتھ جموں و کشمیر میں لاگو ہے۔ چھ دہائی پہلے جب علیحدگی پسندی اور تشدد کے واقعات نے نارتھ ایسٹ کی ریاستوں کو اپنی زد میں لے لیا تھا تب سیکورٹی فورسز کے بچاؤ میں ستمبر1958 میں یہ قانون وجود میں آیا تھا۔ اس کا مقصد شورش زدہ خطہ میں امن قائم کرنا تھا لیکن اس کے سخت تقاضوں کے سبب یہ تنازعوں میں بھی گھر گیا۔ دراصل اس کے تحت شورش زدہ علاقوں میں تعینات سیکورٹی فورس نے نہ صرف بغیر وارنٹ گرفتاری اور فائرننگ کرنے کا حق مل گیا بلکہ اس میں انہیں سزا سے مستثنیٰ کی بھی سہولیات سے آزاد کیا گیا۔ 
اسی وجہ سے انسانی حقوق تنظیموں کے ساتھ بہت سی سیاسی تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی۔ ڈیڑھ دہائی تک بھوک ہڑتال پر رہنے والی ایروم شرومیلا تو اس قانون کی مخالفت کی علامت بن گئیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ میزورم ، منی پور اور ناگالینڈ میں لاگو محفوظ زون پرمٹ نظام میں بھی ڈھیل دی جارہی ہے جس سے وہاں غیر ملکی سیاحوں کی آمدورفت ہوسکے گی۔ حقیقت میں سرکار کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا باقی حصوں میں جموں و کشمیر کو چھوڑ کر افسپا کو ہٹایا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

پونٹی چڈھا دوم! دو سگے بھائیوں کی موت

وہ کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی ہے۔ ٹھیک ایسا ہی کچھ راجدھانی دہلی میں ہوا جب چھوٹی سی بات پر دوسگے بھائیوں نے ایک دوسرے کو گولی مار کر موت کی نیند سلادیا۔ آج سے تقریباً 6 سال پہلے 2011 میں دہلی فارم ہاؤس میں شراب کاروباری پونٹی چڈھاپر ان کے چھوٹے بھائی ہردیپ نے گولیاں برسائیں تھیں اور پونٹی کے گرگے نے ہردیپ کو مار گرایا تھا۔ ٹھیک ایسا ہی منظر دہلی کے ماڈل ٹاؤن علاقہ میں دوہرایا گیا۔
اسے پونٹی چڈھا دوم بھی کہا جاسکتا ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں جمعہ کی رات کو ہوئے تہرے قتل کو لیکر کئی سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ پارکنگ کو لیکر تنازعہ میں بڑے بھائی جسپال نے چھوٹے بھائی گرجیت کو کار کو ٹکر ماری اور اس کی ٹانگ توڑ دی۔ جسپال سنگھ انیجا (52 سال) اور ان کے چھوٹے بھائی گرجیت (48 سال) ماڈل ٹاؤن پارٹ 2 کی کوٹھی میں فیملی کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ چار منزل کوٹھی کا گراؤنڈ فلور جسپال اور فرسٹ فلور گرجیت کے پاس تھا۔باقی دونوں فلور بھی دونوں بھائیوں کے بیچ بٹے ہوئے تھے۔ جمعرات کی دیر رات جسپال اپنے دوست کو اوڈی کار سے چھوڑنے جارہے تھے تبھی گرجیت نے اپنی امبیسڈر کار سامنے لگادی۔ اس پر دونوں بھائیوں میں مار پیٹ ہونے لگی۔
الزام ہے کہ جسپال نے کرپان نکال کر گرجیت کے سینے اور پیٹ میں گھونپ دی۔ بچانے آیا گرجیت کا بیٹا بھی زخمی ہوگیا۔ تب تک جسپال کی بیوی سوئٹی(50 سال) بھی آگئی۔ اسی درمیان گرجیت کے پرائیویٹ باڈی گارڈ نے سوئٹی اور جسپال پر گولیاں چلا دیں۔ زخمی جسپال برابر کی کوٹھی میں گھسے لیکن باڈی گارڈ ان پر گولیاں برساتے رہے۔ بعدمیں رشتے دار انہیں اسپتال لے گئے جہاں جسپال، گرجیت اور سوئٹی تینوں کی موت ہوگئی ۔پولیس نے جمعہ کو شام دونوں باڈی گارڈ کو گرفتار کرلیا۔ دونوں بھائیوں کے رشتے اتنے خراب ہوچکے تھے کہ آدھا درجن بار کراس ایف آئی آر تک ہوچکی ہے۔ جسپال پراپرٹی کا برا بزنس کیا کرتے تھے اور گرجیت کا ریسٹورینٹ ، بار کے علاوہ کئی اور بزنس بھی تھے۔ پراپرٹی کی رنجش، پیسوں کا دم خم اور پارکنگ تنازعہ آخرکار ماڈل ٹاؤن کے ان رسوخ دار خاندان کے تین قتل کی سب سے بڑی واردات کی وجہ بنا۔کچھ ہی لمحوں میں دو کنبے تباہ ہوگئے۔
(انل نریندر)

02 مئی 2018

مودی سے موہ بھنگ، اب ہم جیتیں گے

کانگریس پارٹی کی ایتوار کو رام لیلا میدان میں جن آکروش ریلی نے دہلی کے نیتاؤں کے چہرے پر رونق لا دی ہے۔ وہ اب محسوس کررہے ہیں کہ ان کا کھویا ہوا مینڈیڈ واپس لوٹنے لگا ہے۔ جن آکروش ریلی نے پردیش نے پوری طاقت جھونک دی تھی۔ اس ریلی کی کامیابی اور ناکامی پارٹی کے مستقبل سے جڑی ہوئی تھی۔ یہ ریلی اپنے آپ میں اس لئے بھی زیادہ اہمیت رکھتی تھی کیونکہ راہل گاندھی کے پارٹی صدر بننے کے بعد دہلی میں یہ ان کی پہلی عظیم الشان ریلی تھی اس لئے پوری کانگریس نے ریلی کوکامیاب بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا۔ اسٹیج کنٹرول کرنے سے لیکر ہر طرف گہری نگاہ رکھی جارہی تھی۔ بیشک ریلی کی کامیابی اور بہتر انتظامات نے دہلی پردیش پارٹی اعلی کمان کا کافی سکہ جما دیا۔ پچھلے دنوں راج گھاٹ پر منعقدہ ان شن ریلی کے دوران ہوئی کرکری کے بعد کانگریس اعلی کمان کے سامنے ’جن آکروش ‘ ریلی ایک چنوتی تھی جسے بخوبی اہل لیڈرشپ کے ساتھ پردیش کانگریس صدر اجے ماکن نے کامیاب بنایا۔ مہینے بھر سے ریلی کے انعقاد کو لیکر تیاریوں میں لگے اجے ماکن خود دیر رات تک رک کر ریلی کی تیاریوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس ریلی کی کامیابی سے اجے ماکن کا قد بڑھے گا۔اس نے ثابت کردیا ہے کہ کانگریس کے پاس اب بھی زمین سے جڑے نیتاؤں اور ورکروں کی کمی نہیں ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی اپنے ساتھ کانگریس کے بزرگ نیتاؤں کو لیکر چلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایتوار کو ریلی میں 47 سالہ راہل کے ساتھ 54 سال کے اجے ماکن کے علاوہ زیادہ تر سینئرکانگریسی 65 سال کے اوپر کی عمر کے تھے۔ اپنے نوجوان صدر کی تقریر سن کر اسٹیج پر اگلی قطار میں بیٹھے بزرگ کانگریسی بھی جوش سے لبریز دکھائی دئے اور صدر راہل گاندھی نے بھی رام لیلا میدان میں بڑی تعداد میں موجود کانگریسی لیڈروں اور ورکروں کو مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مودی سرکار پر جم کر نکتہ چینی کی۔ ویسے تو کانگریس کے سبھی نیتاؤں کے نشانہ پر وزیر اعظم مودی رہے ، راہل گاندھی نے تو اپنی تقریر کا بڑا حصہ وزیر اعظم کی خامیاں گنانے اور جھوٹ بولنے پر مرکوز رکھا۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، سونیا گاندھی نے بھی یہ کہا کہ پی ایم جھوٹ بولتے ہیں، اب راہل ہی دیش کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں آر ایس ایس اور بھاجپا پر نفرت پھیلانے کا الزام لگایا اور آپس میں جھگڑنے والے پارٹی کے نیتاؤں کو نصیحت دی کہ جب ان سے لڑا جارہا ہو تو تب اتحاد ضروری ہے۔ مسلسل ہار کی وجہ سے مایوس ورکروں کو راہل نے یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ ان کی لیڈر شپ میں کانگریس اس سال سارے اسمبلی چناؤ اور 2019کا لوک سبھا چناؤ جیتے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیش میں جتنا خراب ماحول اب ہے اتنا پہلے کبھی نہیں رہا۔ ہر طبقہ سرکار سے مایوس ہے کیونکہ دیش میں خوف اور دہشت ، تشدد کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی نے چار سال میں دیش کو کچھ نہیں دیا بلکہ دیش کی گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کو فروغ دیا۔انہوں نے کہا کہ بولنے کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی، سوائے جھوٹ بولنے کے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ کسانوں کے تئیں سرکار بے پرواہ ہے وہ قرض سے دبے ہیں لیکن ان کا قرض معاف نہیں کرتی۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا بہت جلد (12 مئی کو) کرناٹک اسمبلی چناؤ ہونے جا رہے ہیں جس میں پتہ چل جائے گا کہ کانگریس کی اصل پوزیشن کیا ہے؟ وہ مودی کو ہٹانے کا کتنا دم رکھتی ہے۔ کل ملا کر یہ’ جن آکروش‘ ریلی کامیاب مانی جاسکتی ہے۔
(انل نریندر)

خون سے لت پت بچے مانگ رہے تھے مدد

بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے دیش کے اسکولی بچوں کی پڑھائی لکھائی خطرے کے درمیان ہورہی ہے۔ جس دن اترپردیش کے کرشی نگر میں اسکولی بچوں کو لے جایا جارہا تھا وہاں گاڑی بے پہریدار ریلوے کراسنگ پر ایک ٹرین کی زد میں آگئی اور 13 بچوں کی موت ہوگئی اس دن دہلی کے کیشو پور علاقہ میں بھی اسی سے ملتا جلتا ایک حادثہ ہوا۔ فرق یہ تھا کہ بچوں کو لے جارہی گاڑی کی ٹکر ایک ٹینکر سے ہوگئی جس میں ایک سال کی بچی کی جان چلی گئی اور 17 بچے زخمی ہوگئے۔ ڈرائیور کا کان میں ایئرفون لگائے رکھنا اور ریڈ لائٹ پر غلط سائڈ سے یو ٹرن کرنا حادثے کی وجہ بن گیا۔ کیشو پورکے سینٹرل اسکول اور سروودیا کنیا ودیالیہ کے 18 بچوں کو ڈرائیور وجے جمعرات کی صبح اسکول لے جارہا تھا پرائیویٹ وین کنہیا نگر میٹرو اسٹیشن کے نزدیک پہنچی تبھی تیز رفتارسے آئے دودھ کے ٹینکر نے اسے ٹکر ماردی۔ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ وین نے تین بار پلٹی کھائی اور ٹکر کے بعد ایک زور دار آواز ہوئی اور کچھ دیر بعد بچوں کے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں۔ لوگوں کی بھیڑ نے دبے ہوئے بچوں کو نکالا اور بعد میں کچھ لوگوں نے وین کو سیدھا کیا۔ ایک ایک کرکے بچوں کو نکال کر سڑک پر بٹھا دیا۔ آٹو ڈرائیور اقبال فوراً اپنے آٹو سے کچھ بچوں کو اسپتال لے گئے اور دیگر بچوں کو بھی الگ الگ گاڑی میں سوار کر اسپتال پہنچایا گیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق خون سے لت پت بچے تڑپ رہے تھے لیکن بھیڑ میں کچھ لوگ موبائل سے ویڈیو بنانے میں لگے تھے۔ بچوں کو لے جا رہی گاڑی 16 سال پرانی تھی اور پہلے ہی خستہ حالت میں تھی اس کے باوجود اس میں 18 بچوں کو بھر کر لے جایا جارہا تھا۔ اسکولی بچوں کو لے جانے والی پرائیویٹ وین کے ڈرائیور عام طور پر ٹریفک قواعد کی تعمیل نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ ایسی گاڑی حادثوں کا شکار ہوتی ہے۔ سال2016 میں باہری دہلی کے ہی براڑی علاقہ میں اسکولی بچوں کو لے جار ہی وین ڈرائیور کے ذریعے تیز رفتار میں موڑنے کے سبب گہرے نالے میں جا گری۔ یہ غنیمت رہا کے بچوں کی چیخ و پکار سن کر مقامی لوگوں نے سبھی کو محفوظ نکال لیا۔ اسکولی بچوں کو لے جانے والی پرائیویٹ وین صحیح بھی ہے یہ ذمہ داری اسکول انتظامیہ کی بنتی ہے۔ اس میں کتنے بچے جانے ہیں یہ بھی انہیں طے کرنا ہے۔ ماں باپ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ جس وین میں بچے جارہے ہیں وہ کسی طرح سے فٹ ہے یا نہیں؟ اس میں کتنے بچے جا سکتے ہیں؟ اور پرائیویٹ وین ڈرائیور ٹریفک قواعد کی تعمیل کرے یہ ذمہ داری ٹریفک پولیس کی بنتی ہے۔ ٹریفک پولیس کو چاہئے کہ وہ وقتاً فوقتاً اسکولی وین کو چیک کرے اور بچوں کے ماں باپ کو بھی بیدار کرے۔ بہرحال حادثہ سے انتہائی دکھ ہوا۔
(انل نریندر)

01 مئی 2018

لال قلعہ کو گود دینے پر سیاسی جنگ

دہلی کے لال قلعہ کو ڈالمیہ بھارتیہ گروپ کے ذریعے پانچ سال کے لئے 25 کروڑ روپے میں گود لینے پر سیاسی جنگ چھڑ گئی ہے۔ اس کی کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ شیو سینا نے بھی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے سرکار تاریخی وراثت کو پرائیوٹائز کررہی ہے۔کانگریس نے پوچھا ہے کہ کیا مودی سرکار کا یہی ’نیو انڈیا‘ ہے؟ کیا وراثت کی دیکھ بھال کے لئے سرکار کے پاس پیسہ نہیں ہے؟ مرکزی سرکار نے اس معاملہ میں صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ لال قلعہ سے کمپنی پیسہ نہیں کمائے گی بلکہ تاریخی جگہ پر لوگوں کے لئے سہولیات ملیں گی۔ ایک معاہدے کے مطابق ڈالمیہ گروپ وراثت اور اس کے چاروں طرف بنیادی ڈھانچہ کا رکھ رکھاؤ کرے گی۔ وزارت سیاحت کے مطابق ڈالمیہ گروپ نے 17 ویں صدی کی اس تاریخی عمارت پر چھ مہینے کے اندر بنیادی سہولیات مہیا کرانے پر رضامندی جتائی ہے۔ اس میں پینے کے پانے کے کھوکھے، سڑکوں پر بیٹھنے کے لئے بینچ لگانا، آنے والوں کو جانکاری دینے کیلئے علامتی بورڈ لگانا شامل ہیں۔ گروپ نے اس کے ساتھ ہی دو نقشہ لگانا ٹوائلٹ اور قلعہ کی سجاوٹ کے کام پر رضامندی جتائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ وہاں سے ایک ہزار مربع فٹ کے علاقہ کے دائرہ میں آنے والوں کو سہولیات سینٹر بنائے گی۔ دراصل اس سال امکانی نگراں متروں کا سلیکشن ہوگا، ان کا کمپلیکس معائنہ و دیکھ بھال کمیٹی کے ذریعے کیا گیا ہے تاکہ 95 یادگاروں پر سہولیت کا ڈولپمنٹ کیا جاسکے۔ ان یادگاروں میں لال قلعہ، قطب مینار، ہمپی (کرناٹک) ، سوریہ مندر (اڑیسہ)، اجنتا گپھا (مہاراشٹر)، چارمینار (تلنگانہ) اور قاضی رنگا نیشنل پارک (آسام) شامل ہیں۔ ترنمول کانگریس کی چیف و مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ٹوئٹ کیا کہ کیا سرکار ہمارے تاریخی لا ل قلعہ کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی۔ لال قلعہ ہماری قوم کی علامت ہے ، یہ ایسی جگہ ہے جہاں یوم آزادی پر بھارت کا قوم پرچم لہرایا جاتا ہے ، اسے کیا پٹے پر دیا جانا چاہئے؟ ہماری تاریخ میں مایوس کن اور کالا دن ہے۔ مارکسوادی پارٹی نے کہا کہ سرکار نے ایک طرح سے لال قلعہ کو ڈالمیہ گروپ کو سونپ دیا ہے۔ ڈالمیہ گروپ نے اپنی پریس نوٹ میں کہا ہے کہ وہ شروعات میں پانچ سال کے لئے اس کے مالک ہوں گے اور سمجھوتہ انہیں ڈالمیہ برانڈ کی پرفارمینس کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ پارٹی نے آگے کہا ہے کہ اس کے پاس جگہ پر منعقدہ پروگراموں کے دوران اور علامتی بورڈ پر سبھی طرح کی پبلسٹی معلومات پر اپنا نام برانڈ کے نام پر استعمال کرنے کا اختیار ہے۔ واقعی اسے خاص طور سے دکھانے والے علامتی بورڈ میں یہ اعلان کرنے کی اجازت ہوگی کہ لال قلعہ کو ڈالمیہ گروپ نے گود لے لیا ہے۔ مارکسوادی پارٹی نے کہا لال قلعہ آزاد بھارت کی علامت ہے اور اسے کارپوریٹ کمپنی کو سونپا جانا توہین مذہب سے کم نہیں ہے۔ وزیر مملکت سیاحت مہیش شرما نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ لال قلعہ سمیت کئی تاریخی عمارتوں کا تحفظ اور سیاحوں کو زیادہ سہولیات دینے کے لئے نجی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔ ان کو منافع کمانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ عمارتوں میں ہونے والے پروگراموں سے کمائے گئے پیسے کا استعمال انہی کے رکھ رکھاؤ پر خرچ کیا جائے گا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا معاہدہ ہوا ہے۔ مرکزی سرکار سے منظوری ملنے کے بعد ہی ڈالمیہ گروپ سیاحوں سے فیس وصولنا شروع کرے گی۔ ویسے دنیا کے کئی ملکوں میں پرائیویٹ کمپنیاں تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں پھر بھی سرکار کے نظریئے پر سوال تو کھڑے ہوتے ہی ہیں۔ کیا سرکار نے مان لیا ہے کہ ان عمارتوں کا مجموعی طور پر رکھ رکھاؤ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔
(انل نریندر)

برف پگھلی 65 سال بعد!اُن اور اِن کا ملن

برسوں سے کٹر دشمن رہے نارتھ اور ساؤتھ کوریا کے لئے جمعہ کا دن تاریخی رہا۔ جنگ کے قریب65 سال بعد پہلی بار نارتھ کوریا کا کوئی بڑا سربراہ ساؤتھ کوریا پہنچا وہ بھی پیدل بارڈر پار کرکے۔ ساتھ ہی کوریا کے چیف کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے دیش کی سرحد میں لیکر آئے کم جانگ ان نے بھی گیسٹ بک میسج میں کہا کہ ایک نئی تاریخ کی شروعات ہے۔ یہ کشیدگی پر ڈپلومیٹک کوششوں کی جیت کا دن تھا۔ پچھلے جمعہ کو جو ہوا اسے ایشیا ہی نہیں پوری دنیا لمبے عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ دو الگ الگ مقامات پر دو سربراہ مملکت نے سرحد پار کی اور رشتوں پر جمی برف پگھلنے لگی۔ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی جب ہمالیہ پہاڑ سیریز کو سر کر کے چین پہنچے تو وہ سارے اندیشات ختم ہونے لگے جو پچھلے کچھ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو اچانک بڑھانے لگے تھے۔ مودی اور جنگ پنگ ملاقات کے مقابلے کم اور اُن کی ملاقات زیادہ سرخیوں میں بنی ہوئی ہے اس لئے یہ مسئلہ اگلے کچھ دنوں میں چھایا رہے گا۔ دونوں ملکوں کے سربراہوں کی ملاقات پرپوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی تھیں۔ اسے اس سیکٹر کے لئے کافی نہیں لیکن پورے سیریا کے لئے اہم ترین مانا جارہا ہے۔ پورے خطہ میں قیام امن کی سمت میں ایک اہم ترین قدم مانا جارہا ہے۔ جلد ہی اُن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملنے والے ہیں۔ جون میں ان کی مجوزہ بات چیت ہے۔ اس بات چیت میں نارتھ کوریا اور امریکہ کے درمیان کوئی مستقل معاہدہ یا کچھ مدعوں پر آپسی رضامندی قائم ہوجائے تو دنیا راحت کی سانس لے۔ اس سے نارتھ کوریا میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔ لیکن امریکہ اور نارتھ کوریا میں سب کچھ ایک جھٹکے میں ٹھیک ہوجائے اس کی امید نہیں ہے۔ کم جانگ ان نے بھلے ہی اپنے نیوکلیئرپروگرام کو بندکرنے کا دعوی کیا ہے لیکن امریکہ اس کا پورا تخفیف اصلاح چاہتا ہے مطلب یہ ہے کہ کم جانگ اپنے اب تک کے بنائے ہوئے سارے ہتھیار تباہ کردے اور اپنی نیوکلیائی بھٹیوں میں ریت بھروادے۔ وائٹ ہاؤس نے صاف کہا ہے کہ جب تک نارتھ کوریا نیوکلیائی تخفیف اصلاح نہیں کرتا تب تک پابندی جاری رہے گی۔ دراصل اس قت دونوں کوریا کے درمیان جو کچھ بھی چل رہا ہے، ٹرمپ اور کم کی ملاقات پر ٹکا ہے۔ جو کچھ جمعہ کو گزرا اس نے بتادیا ہے کہ اسٹیٹ حکمرانی کی عقلمندی بھری گرمجوشی ان تمام مہموں اور کھنچ تان پر بھاری پڑتی ہے، جو دیشوں کے درمیان درجہ حرارت بے وجہ بڑھاتے رہتے ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ان ملاقاتوں کا کیا نتیجہ نکلے گا ،لیکن شروعات تو ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

29 اپریل 2018

موت کے یہ ریلوے پھاٹک

صاف ستھری دھلی یونیفارم پہن کر پیٹھ پر بستہ اور ہاتھ میں پانی کی بوتل لیکر اپنے گھروں سے اسکول کے لئے نکلے یہ نونیہال کچھ ہی دیر میں خون سے لت پت بے جان پڑے تھے۔ بچوں کے ماں باپ پر تو دکھ کا پہاڑ ہی ٹوٹ گیا۔ موقعہ پر پہنچے ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔ 13 اسکولی بچے اسکول کے بجائے موت کے دروازے پر پہنچ گئے جب ایک پسنجر ٹرین اترپردیش کے ہدرواہ میں بغیر پھاٹک والی کراسنگ پر ان بچوں کی اسکول وین کو ٹکر ماری اور معصوموں کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی۔ڈیوائن مشن اسکول میں پڑھنے والے ان بچوں کے اسکول بیگ ،کاپی،کتابیں، پانی کی بوتلیں اور ٹفن ان کے مردہ جسم کے آس پاس بکھرے پڑے تھے۔ ان کی سفید یونیفارم انہی کے خون سے لال ہوچکی تھی۔ صبح قریب 7:15 کا وقت تھا جب یہ حادثہ ہوا۔ اس ٹکر میں ہوئی ان بچوں کی موت مجرمانہ لاپروائی کے ساتھ ہی ادارہ جاتی ناکامی کا بھی معاملہ ہے۔ وین کے ڈرائیور نے کان میں ایئرفون لگا رکھا تھاوہ وہاں موجود چوکیدار کی وارننگ کو نہیں سن پایا۔ اس کے باوجود یہ سچ ہے کہ ایسے حادثوں کے لئے بنا گیٹ مین کے ریلوے پھاٹک کہیں زیادہ ذمہ دار ہے۔ دو سال پہلے جولائی 2016 میں اترپردیش کے ہی بھدوئی میں ایسی ہی ایک اسکول وین بین گیٹ مین کے ریلوے پھاٹک پر ایک ٹرین سے ٹکرا گئی تھی جس میں کئی بچوں کی موت ہوگئی تھی اس وقت بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ اس گاڑی کے ڈرائیور نے بھی گیٹ پہریدار کی وارننگ پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے ریلوے نے جو گیٹ متر تعینات کرنے کا انتظام کیا ہے وہ کارگر ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ یہ بھیانک حادثہ بتاتا ہے کہ ریلوے انتظامیہ اور ریاستی انتظامیہ کس قدر اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ وزیر ریل نے پچھلے دسمبر میں راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ اگلے سال یعنی 2018 میں گنیش چترتھی تک سبھی بغیر گیٹ متر کے پھاٹکوں کو ختم کردیا جائے گا لیکن ان بغیر گیٹ متر ریلوے پھاٹکوں پر آئے دن اس طرح کے حادثے ہورہے ہیں اس سے ریلوے انتظامیہ کے دعوے اور وعدوں پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ سال2012ء میں انل کاکودر کمیٹی نے پانچ سال کے اندر سبھی بغیر گیٹ متر پھاٹوں کو ہٹانے کو کہا تھا۔ دوسری طرف ریلوے کا کہنا ہے وہاں تعینات کراسنگ متر نے اسکول وین کو روکنے کو کہا لیکن اس کا ڈرائیور ایئرفون پر گانا سن رہا تھا اس لئے وین کو نہیں روکا اگر واقعی ایسا ہے تو دیش بھر کے اسکولوں کے لئے یہ حادثہ ایک سبق ہونا چاہئے کہ وہ ڈرائیوروں کو اس کے لئے سخت احکامات دیں کہ گاڑی چلاتے وقت ایئر فون کا استعمال نہ کریں۔ آخر کار ایک لاپرواہی نے اتنے نونیہالوں کو حادثے میں چھین لیا۔ حالانکہ سچائی کا پتہ تو جانچ رپورٹ کے بعد ہی چلے گا۔ ایسے حادثوں سے نمٹنے کے لئے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے سیٹیلائٹ پر مبنی چپ سسٹم بنایا ہے جو ان ریلوے پھاٹکوں پر لوگوں کو آگاہ کرے گا۔ پھاٹک سے قریب 500 میٹر پہلے سائرن بجنے لگے گا اور پھاٹک کے قریب لوگ چوکس ہوجائیں گے لیکن ریلوے اسے کب استعمال کرے گا یہ کوئی نہیں جانتا۔ اس واقعہ نے اسکول و سکیورٹی پیمانوں کو ٹھینگا دکھا دیا ہے ورنہ اسکول کیا ایسے لاپرواہ ڈرائیو کو رکھتا جو گیٹ متر کے منع کرنے کے بعد بھی پھاٹک پارکرنے لگا اور حادثے کو دعوت دے بیٹھا۔ زیادہ تر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں جہاں ریلوے لائنیں گزرتی ہیں وہاں سکیورٹی کے لحاظ سے کوئی انتظام نہیں ہے۔ ریلوے کو جدید بنانے کی بات تو ہورہی ہے۔ بلٹ ٹرین چلانے کی بات ہورہی ہے۔ مسافروں کی سہولتوں کو ٹیکنالوجی سے لیس بھی کیا جارہا ہے لیکن موجودہ ریلوے نیٹ ورک کی سکیورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اگر اتنے بڑے حادثہ سے بھی ریلوے انتظامیہ کی نیند نہیں ٹوٹتی تو بھگوان ہی مسافروں کا مالک ہے۔
(انل نریندر)

کاسٹنگ کاؤچ سے پارلیمنٹ بھی اچھوتی نہیں

بھارت کی فلمی دنیا کی یعنی بالی ووڈ میں تو ہم نے کاسٹنگ کاؤچ کے بارے میں سنا ہے لیکن پہلی بار ہم یہ سن رہے ہیں کہ ہماری پارلیمنٹ میں بھی کاسٹنگ کاؤچ ہے اور یہ بات کسی اور نے نہیں کہی بلکہ خودایک کانگریسی نیتا نے کہیں۔ تازہ تنازعہ بالی ووڈ کی نامور کوریو گرافر سروج خان (69 سال) نے ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی میڈیا کے ساتھ ان کی بات چیت کے ویڈیو کے سامنے آنے پر کہا کہ یہ بابا آدم کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔ ہر لڑکی کے اوپر کوئی نہ کوئی ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے، سرکار کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ تم فلم انڈسٹری کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ وہ کم سے کم روٹی تو دیتی ہے، ریپ کرکے چھوڑ تو نہیں دیتے۔ ’ایک دو تین ‘ اور ’چولی کے پیچھے‘ جیسے مشہور گیتوں اور نیشنل ایوارڈ ونر کوریوگرافر نے کہا کہ محفوظ رہنے اور ایسی ہستیوں سے بچنے کی ذمہ داری عورتوں کی ہے۔ فلم صنعت کو نشانہ بنائے جانے پر کہا کہ یہ لڑکی کے اوپر ہے کہ تم کیا کرنا چاہتی ہے، تم اس کے ہاتھ میں آنا چاہتی ہو، یا نہیں آؤگی۔ تمہارے پاس آئی ہے تو تم کیا بیچو گی اپنے آپ کو؟ فلم انڈسٹری کو کچھ مت کہنا، وہ ہمارا مائی باپ ہے۔ اس بیان سے شاید حوصلہ پاکر کانگریسی نیتا رینوکا چودھری بھی اس تنازعہ میں کود گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر جگہ کاسٹنگ کاؤچ ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ بھی اس سے اچھوتی نہیں ہے۔ رینوکا چودھری نے کہا کہ کاسٹنگ کاؤچ کا مسئلہ صرف فلم انڈسٹری میں ہی نہیں ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیکٹر میں ہورہا ہے اور یہ کڑوی سچائی ہے۔ کانگریسی نیتا نے کہا : ایسا مت سمجھئے کہ پارلیمنٹ اس سے اچھوتی ہے یا دیگر کام کی جگہیں اس سے بچی ہوئی ہیں۔ یہ ایسا وقت ہے جب بھارت نے آواز اٹھانی شروع کی ہے اور کہا ’می ٹو‘ یعنی ہم بھارتیہ اب کاسٹنگ کاؤچ کو لیکر کھل کر سامنے آرہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔ رینوکا چودھری کا کہنا تھا پارلیمنٹ میں کاسٹنگ کاؤچ کا میرا الزام غلط نہیں ہے۔ ہمارے عوامی نمائندے اسی سماج سے آتے ہیں اور بعد میں کسی عورت کی توہین کرتے ہیں تو ا س سے مسئلہ کھڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کیسے پی ایم مودی نے راجیہ سبھی میں ان کی ہنسی پر رائے زنی کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہنسی سن کر انہیں رامائن سیریل کی یاد آتی ہے۔ اس کے بعد وزیر مملکت داخلہ کرن ریججو نے ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا جس کا مطلب تھا کہ ان کی ہنسی رامائن کے کردار سروپ لکھا کی طرح بتائی جارہی ہے۔ محترمہ رینوکا چودھری اپنے بولڈ نظریئے اور بچاؤ کے لئے مشہور ہیں۔ پارلیمنٹ میں کاسٹنگ کاؤچ کا مطلب ہم تو سمجھ نہیں سکے،شاید رینوکا جی اور تفصیل سے بتائیں گی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...