Translater

21 جنوری 2017

وجود بچانے کیلئے اترے گی بہوجن سماج پارٹی

اترپردیش اسمبلی چناؤ میں بہوجن سماج پارٹی اپنا وجود بچانے کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ بہن جی اپنی سیاسی زندگی کے شاید سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ 2007ء سے2012ء تک بھرپور اکثریت کی سرکار چلانے کے باوجود وہ اقتدار سے باہر ہوگئیں جبکہ اس دور میں بھی کئی دیگر ریاستوں کی سرکاریں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ 2014ء کے عام چاؤ میں تو پارٹی نے سبھی سیٹوں پر چناؤ لڑا تھا لیکن اپنا کھاتہ نہیں کھول سکی۔ اس چناؤ کے لئے مایاوتی نے اپنے خاص سپہ سالاروں کو بھٹکے ووٹروں کو اپنی طرف کرنے کی مہم چلا رکھی ہے اور انہیں اس کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔ اگر ہم پچھلے اسمبلی چناؤ کو چھوڑ دیں تو پہلے کے سبھی انتخابات میں بسپا کا ووٹ فیصد مسلسل بڑھ رہا تھا لیکن 2012ء کے چناؤ میں پانچ فیصدی سے زیادہ ووٹ کم ہونے سے وہ اوقتدار سے باہر ہوگئی تھی۔ بسپا اس بار ایسا نہیں ہونے دینا چاہتی۔ اسی وجہ سے بہن جی نے اپنے روایتی دلت اور مسلم ووٹ بینک پر اس مرتبہ زیادہ توجہ دینا شروع کردی ہے۔ سپا ۔ کانگریس کے امکانی اتحاد نے مایاوتی کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ بسپا کے بھروسے چند ذرائع کی مانیں تو مایاوتی نے اپنے قریبی عہدے داروں کو صاف کہہ دیا ہے کہ اس بار ایسی کوئی غلطی نہ ہو جس کا اثر ان کے ووٹ بینک پر پڑے۔ چناؤ کمیشن کی طرف سے چناؤ کی تاریخوں کو اعلان کرنے سے پہلے دہلی ۔ لکھنؤ میں ہوئی آدھا درجن سے زیادہ میٹنگوں میں بہن جی اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ 2012ء میں پارٹی کی جو ہار ہوئی وہ ان کے پیچھے مسلم ووٹ بینک کے سماج وادی پارٹی کھاتے میں ٹرانسفر ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ مسلمانوں کا متحدہ ووٹ کسی بھی سیاسی پارٹی کے تجزیئے کو بنا اور بگاڑ سکتا ہے اس لئے مایاوتی نے اس مرتبہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دئے ہیں۔ مایاوتی تقریباً ہر پریس کانفرنس میں خود کووزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا کے واحد ایک مضبوط حریف کے طور پر پیش کرتی آ رہی ہیں اور وہ مسلمانوں سے کہتی ہیں کہ فرقہ وارانہ طاقتوں کو روکنے کے لئے مسلم قوم سپا اور کانگریس کو ووٹ دے کر اسے بیکار کرنے کی بجائے بسپا کو متحد ہوکر ووٹ کرے۔ بسپا نے اس بار سبھی 403 سیٹوں پر چناوی امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ ان میں سے87 ٹکٹ دلتوں کو ،97 مسلمانوں کو اور 106 دیگر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو دئے ہیں لیکن کچھ مہینوں پہلے سے پارٹی کے نیتاؤں و ممبران اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے یا نکالنے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ ابھی تک بند نہیں ہوا ہے۔ ایسے حالات میں بسپا اقتدار کی ماسٹر چابی پانے کی لڑائی لڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

جودھپور کیس میں سلمان بری راحت کی سانس لی

سلمان خان آخرکار 18 سال بعد جودھپور میں چل رہے کالے ہرن کے شکار کے کیس میں بری ہوگئے۔ سلمان کے لئے بدھوار جودھپور کی عدالت سے بڑی راحت دینے والا ثابت ہوا ہے۔ بتادیں کہ 18 سال پہلے راجستھان میں اپنی فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوٹنگ کے دوران کالے ہرن کے شکار کے معاملے میں سلمان کے خلاف درج ہوئے ہتھیار ایکٹ کے ایک معاملے میں انہیں شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔سرکاری وکیل یہ ثابت نہیں کرسکا کہ سلمان کے پاس ہتھیار تھے۔چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ دلپت سنگھ راج پروہت نے کہا کہ معاملہ ہتھیار ایکٹ کی جن دفعات میں درج کیا گیا تھا ان میں یہ بنتا ہی نہیں۔ 18 سال سے غلط دفعات میں مقدمہ چلا۔ عدالت نے کہا کہ اس وقت کے کلکٹر رجت کمار مشر نے بغیر دماغ لگائے صرف سرکاری وکیلوں کی رائے پر مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی تھی۔ مجسٹریٹ نے 102 صفحات کے اپنے فیصلے میں سلمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے چارج شیٹ داخل کرنے تک کی خامیوں کو گناتے ہوئے بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ سلمان کو صبح ساڑھے دس بجے کورٹ میں پہنچنا تھا لیکن وہ 11 بجے تک ہیں آئے تو جج نے کہا آدھے گھنٹے میں پیش کیجئے نہیں تو لنچ کے بعد فیصلہ دوں گا۔ اس کے بعد ساڑھے گیارہ بجے سلمان کورٹ پہنچ گئے اور محض 7 منٹ کورٹ میں رہے۔ جج نے نام پوچھا اور دو منٹ میں ہی بری کرنے کا حکم سنا دیا۔ کورٹ میں سلمان کی بہن الویرا بھی تھیں۔ 
عدالت سے باہر نکلتے ہوئے سلمان کچھ لوگوں کو آٹوگراف بھی دیتے دیکھے گئے۔ دوپہر بعد 3 بجے چارٹرڈ پلین سے سلمان ممبئی چلے گئے۔ سلمان اب تک چار مقدموں میں بری ہوچکے ہیں لیکن اب بھی ایک معاملہ زیر سماعت ہے۔ پہلا کیس جس میں وہ بری ہوئے تھے وہ مواڑ گاؤں میں27 ستمبر 1998ء کی رات ہرن کا شکار کیا، عدالت نے قصوروار مانا اور ایک سال کی سزا سنائی تھی ہائی کورٹ نے انہیں بری کردیا، معاملہ اب سپریم کورٹ میں التوا میں ہے۔ 28 ستمبر 1998ء کی رات دو ہرن کا شکار کیا گیا عدالت نے پانچ سال کی سزا سنائی ، ہائی کورٹ نے بری کردیا۔ 2002ء میں ممبئی میں سڑک کے کنارے سو رہے لوگوں پر گاڑی چڑھائی ، پانچ سال کی سزا ہوئی ،ہائی کورٹ نے بری کردیا۔ مہاراشٹر سرکار فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی اور معاملہ زیر سماعت ہے۔ عدالت نے سلمان کو ہتھیار ایکٹ میں بری کردیا ہے ،سلمان خان کے اس کیس میں بری ہونے سے ان کے کروڑوں پرستاروں نے راحت کی سانس لی ہے۔ سلمان بہت سے غریب اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ غلطیاں بڑے بڑوں سے ہوتی ہیں لیکن سلمان کو راحت ان کے اچھے کرموں کی وجہ سے ملتی رہتی ہے۔
(انل نریندر)

20 جنوری 2017

امریکہ میں 8 سال بعد بدلتا اقتدارکا سسٹم

70 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے عمر رسیدہ صدر 20 جنوری کو حلف لیں گے۔ امریکہ میں 8 سال بعد اقتدار کا سسٹم بدلے گا۔ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی کمان ڈیموکریٹک صدر براک اوبامہ سے ریپبلکن پارٹی کے لیڈر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھوں میں آجائے گی۔ امریکی پالیسی کے ساتھ پوری دنیا میں طاقت کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی ساتھی نے دو دن پہلے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے پہلے ہی د ن ٹرمپ موجودہ صدر اوبامہ کے ان کئی ایگزیکٹیو فیصلوں کو پلٹ دیں گے جن کے بارے میں ان کو لگتا ہے کہ ان سے اقتصادی ترقی اور روزگار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ یہ اعلان ٹرمپ کے ہونے والے وائٹ ہاؤس کے ترجمان سین اسپائسر نے ایک ٹی وی پروگرام میں کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ فوراً ان کئی قدموں کو منسوخ کریں گے جنہیں اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ8 مہینے میں اٹھایاگیا۔ جس کی وجہ سے امریکہ کی اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے میں رکاوٹ آئی ہے۔ بہرحال یہ واضح نہیں کیا کہ اوبامہ کے کن کن ایگزیکٹیو قدموں کو ٹرمپ مسترد کریں گے۔ گھریلو امور کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بھی نظڑیں لگی ہوئی ہیں۔ یوکرین کے اشو پر روس ۔ امریکہ میں شروع ہوئے جھگڑے 2016 ء میں شام اور امریکہ چناؤ میں مداخلت کو لیکر اور بڑھے لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن کے تئیں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوستان رویئے سے دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہونے کی آثار ہیں۔ شام میں صدر بشر الاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز باغیوں کے درمیان برسوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی امید کی جارہی ہے۔ دونوں فریقین جنگ بندی کا اعلان پر بات چیت کے لئے راضی ہوگئے ہیں۔ نیوکلیائی سپلائر گروپ (این ایس جی ) میں شامل ہونے کی ہندوستان کی کوششیں رنگ لا سکتی ہیں۔ سکیورٹی کونسل میں اصلاحات اور دہشت گردی کے بارے میں تشریح کو لیکر اس کی مہم بھی کامیاب ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ کو امریکہ کی مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کو صحیح طریقے سے تال میل بٹھانا ان کے لئے سخت چیلنج ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے چیف جان بینن نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ انہیں اپنی باتوں پر کنٹرول رکھنا ہوگا اور روس کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کو ہٹانے کے تئیں چوکس رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جس طرح دنیاکو پیغام دیا ہے اس سے لگتا ہے کہ انہیں اپنے دیش کی خفیہ ایجنسی پر بھروسہ نہیں ہے۔ چناؤ کمپین کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت سی باتیں کیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ان پر عمل کریں۔ اب جب وہ صدر بن جائیں گے توسنجیدہ ہوجائیں گے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ نپی تلی باتیں ہی کریں گے۔ مسٹر ٹرمپ کو امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد۔
(انل نریندر)

کانپور ریل حادثہ کے پیچھے آئی ایس آئی

کانپور میں پچھلے سال 20 نومبر کو ہوا ریل حادثہ محض ایک حادثہ تھا یا کسی نے منظم سازش کی تھی؟ کانپور سے 57 کلو میٹر دوری پر واقع پکھرائیاں میں صبح سویرے 3 بجے اندور ۔پٹنہ ایکسپریس حادثہ کا شکار ہوئی تھی اس میں 192 افراد کی موت ہوئی اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ویسے تو حادثہ کے اسباب ریلوے کی جانچ رپورٹ ہی بتائے گی لیکن بہار کے موتیہاری میں گرفتار تین بدمعاشوں سے پوچھ تاچھ کے دوران اس حادثہ میں پاکستان کی خطرناک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آرہی ہے۔ ان بدمعاشوں نے اقبال کرلیا ہے کہ انڈین ریلوے کو نشانہ بنانے کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشارے پر کام کررہے تھے۔ آئی ایس آئی کا دوبئی میں بیٹھا گرگا ایک نیپالی کے ذریعے کام کرا رہا تھا۔ تین شاطر بدمعاشوں میں شامل موتی پاسوان نے بتایا کہ اس ٹرین حادثہ میں وہ بھی شامل تھا۔ ان کے ساتھ کانپور میں کئی لوگ بھی تھے اس میں دہلی میں پکڑے گئے بدمعاش زبیر ونظام الحق شامل تھے۔ موتی نے بتایا کہ کانپور سے پہلے مشرقی چمپارن کے چھوڑاسن اسٹیشن کے پاس ریل ٹریک و چلتی ٹرین کو اڑانے کی سازش بھی اسی تنظیم نے کی تھی۔ اس کے لئے نیپال میں گرفتار برج کشور نے آدا پور کے باشندے ارون و دیپم رائے کو تین لاکھ روپے دئے تھے لیکن دونوں نے آئی ڈی لگانے کے بعد بھی ریمورٹ کا بٹن نہیں دبایا ۔ اس وجہ سے دھماکہ نہیں ہوسکا۔ واردات کو انجام نہ دے پانے کے سبب نیپال بلا کربرج کشور نے ارون و دیپم کو قتل کر لاش پھینک دی تھی۔ بہار کے موتیہاری سے گرفتار کئے گئے تین بدمعاشوں کے ذریعے بہار پولیس کو دئے گئے بیان میں زبیر و نظام الحق کا نام بتانے پر دہلی پولیس کا اسپیشل سیل نے دہلی کے جامعہ نگر میں واقعہ بٹلہ ہاؤس علاقے سے انہیں ڈھونڈ نکالا۔ بدمعاشوں نے ان دونوں پر پاکستانی خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرنے کے الزامات لگائے۔ یہ انتہائی سنگین الزام ہے۔ جو بھی قصوروار ہے اس کے سر پر 192 بے قصور لوگوں کے خون کا جرم ہے۔ معاملے کی سنجیدگی سے جانچ ہونی چاہئے۔ محض کچھ بدمعاشوں کے بیانات پر اتنا بڑا الزام لگانا شاید صحیح نہیں ہوگا۔ معاملے کے فورنسک ثبوت و پوری تفصیلات سامنے لانی ہوں گی۔ ہر حادثے میں آئی ایس آئی کا نام لینا فیشن ہوگیا ہے لیکن اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ واقعی ہی اس ٹرین حادثے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا تو یہ ایک طرح سے ایکٹ آف وار ہے جس کا جواب پاکستان کو دینا پڑے گا۔ پاکستان اپنی عادت کے مطابق اس میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکارکردے گا۔ ثابت تو ثبوتوں کے ساتھ ہمیں کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

19 جنوری 2017

کیا یوپی میں وکاس سے زیادہ جاتی واد حاوی رہے گا

یوپی کے بارے میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ یہاں ووٹر نہ تو نیتا کو اور نہ ہی ترقی جیسے اشوپرووٹ دینا ہے یہاں ووٹ ذات کی بنیاد پر دئے جاتے ہیں۔ کم سے کم سابقہ اسمبلی چناؤ میں تو یہی حالت رہی تھی۔ یوپی اسمبلی میں جس پارٹی کو30 فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں گے جیت اس کی تقریباً طے ہوگی۔ لیکن یہ 30 فیصد ووٹ چاری بڑی برادریوں کے درمیان بٹے ہوئے ہیں۔ 23 فیصد اگڑی جاتی کے ہیں تو 41 فیصد پسماندہ جاتی کے۔ 21.1 فیصدی دلت ہیں تو 19.3 فیصدی مسلمان ہیں۔ اب تک تو ملائم یہاں یادو کے رہنما بنے ہوئے تھے اور مایاوتی دلتوں کی۔ پسماندہ طبقات کے لئے بھاجپا نے کیشو موریا کو صدر بنایا ہے تو برہمنوں کے لئے کانگریس نے شیلا دیکشت کو آگے کیا ہے۔ ذات کے اس کھیل کو کھل کر مایاوتی ہی تسلیم کرتی ہیں۔ انہوں نے سبھی امیدواروں کی ذات پر مبنی فہرست جاری کرکے یہ ثابت کردیا ہے۔ ذات کے اس چکرویو کی وجہ سے کانگریس 27 سال سے یوپی میں اقتدار سے باہر ہے وہیں بھاجپا 14 سال سے۔ حالانکہ لوک سبھا چناؤ میں پولارائزیشن میں ساتی ذاتوں کو متحد کردیا تھا یہی وجہ ہے کہ2012ء اسمبلی چناؤ میں 15فیصدی ووٹ پانے والی بھاجپا نے لوک سبھا میں 42.43 فیصد تک ووٹ لاکر 80 میں سے71 سیٹیں جیت لیں تھیں وہیں 21 فیصدی دلت ووٹر ہونے کے باوجود مایاوتی کی پارٹی کا کھاتہ تک نہیں کھل سکا۔ اسمبلی چناؤ کے بگل بجنے کے ساتھ اترپردیش میں چناوی بساط کی گوٹیاں چلنی شروع ہوگئی ہیں۔ ہر ایک سیٹ پر جیت کا نمبر طے کرنے کیلئے ضرب ،تقسیم شروع ہوگئی ہے۔ کچھ پارٹیوں نے امیدواروں کا انتخاب کرلیا ہے تو کچھ پارٹیاں ٹکر کا امیدوار اتارنے کے چکر میں ہیں۔ سیاسی پارٹی ہرسیٹ پر تمام ضرب۔ تقسیم کر امیدواروں کو اتارتی ہیں تاکہ جیت ان کی پارٹی کے کھاتے میں آئے۔ پولنگ کا دور آتے آتے مقابلہ کانٹے کا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ووٹوں کا فاصلہ کم ہوجاتا ہے جس سے سیاسی پارٹیوں کی سیٹوں میں کافی فرق آجاتا ہے۔ آخر کار 4سے5 فیصد ووٹوں کے کم زیادہ ہونے کی صورت میں پچھلے اسمبلی چناؤ میں اسی طرح کے اعدادو شمار سامنے آئے ہیں۔ موجودہ اسمبلی چناؤ میں یہ سین دوہرایا جاتا ہے یا نہیں یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔ یوپی میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہوئے دو اسمبلی چناؤ میں یہ شطرنج دیکھنے کو ملی ہے۔ دونوں ہی اسمبلی چناؤ میں سپا اور بسپا میں کانٹے کا مقابلہ ہوا اور چار پانچ فیصد ووٹ کے فرق سے ایک پارٹی کوسرکار سے باہر اور دوسری کے لئے سرکار بنانے کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ 2007ء کے اسمبلی چناؤ میں سپا کو اپنی سیاسی حریف بہوجن سماج پارٹی کے پانچ فیصد ووٹ کم ملا وہ سرکار بنانے سے بے دخل ہوگئی۔ پارٹی کو 97 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ سپا کو کل ووٹوں کا 25.43 فیصد ووٹ ملا تھا ۔ وہیں بسپا کو 5فیصد زیادہ یعنی 30.43 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ووٹ کے اس فرق سے بسپا کی سیٹوں کی تعداد 206 پر پہنچ گئی۔ سال 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں یہی شطرنج دیکھنے کو ملی۔ اس چناؤ میں بسپا کو25.91 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ سپا کو29.13 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اور دونوں کے درمیان سیٹوں میں 100 سے زیادہ کا فرق آگیا تھا ۔ اس چناؤ میں بسپا 80 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی جبکہ سپا کو224 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔پردیش کے آنے والے اسمبلی چناؤ میں بھی یہی تصویر اگر دوہرائی گئی تو اس بار بھی ووٹ فیصد میں معمولی سا فرق کسی کو جیت تو کسی کی ہارکی وجہ بنا دے گا۔ ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیاں سیٹوں اور امیدواروں کے حساب سے ہی حکمت عملی بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔ موجودہ چناؤ میں اشو، ماحول کتنا اثر انداز ہوتے ہیں کس طرح سے ووٹوں کا بٹوارہ ہوگا ؟ یہ دیکھنے کی بات ہوگی؟ لیکن دو باتیں صاف ہیں یوپی اسمبلی چناؤ میں اشوز سے زیادہ ذات پات حاوی رہی ہے اور کانٹے کے اس مقابلے میں ہار جیت کا فرق بہت کم ہوگا۔
(انل نریندر)

کیا نئی تکنیک سے سرحد پار سے دراندازی پر کنٹرول ہوگا

پاکستان دراندازوں کو بھارت میں دھکیلنے کا سلسلہ بند نہیں کررہا ہے۔ ساؤتھ کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے پہلگام کے پاس ابورا گاؤں میں دیر شام (ایتوار سے) جاری مڈ بھیڑ ختم ہوگئی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق مڈ بھیڑ میں سکیورٹی فورس نے 3 دہشت گردوں کو مار گرایا ہے۔ دہشت گردوں کے پاس سے تین اے کے۔47 رائفلز برآمد ہوئیں ہیں۔ بھارت کو ان دراندازوں کو روکنے کیلئے اور سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت سرحد پار اور کنٹرول لائن سے گھس پیٹھ روکنے کے لئے 20 انٹرنیشنل کمپنیوں کی مدد سے نئی تکنیک تیار کررہا ہے۔ بھارت ۔ اسرائیل جوائنٹ ورکنگ گروپ نے اس بارے میں حکمت عملی تیار کی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ورکنگ پلان کے تحت اس سال کے آخر تک بارڈر کو ہائی ٹیک بنانے کا کام پورا کرلیا جائے گا۔ اس کے لئے مفصل یونیفائڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم بنایا جارہا ہے۔ اس کے نفاذ ہونے سے پورے بارڈر پر گشت کے لئے زیادہ جوانوں کی تعیناتی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ راڈار دراندازی کی معلومات دے گا اور اطلاع کے بعد فوراً کارروائی کر دراندازوں کے پاکستانی منصوبے پر پانی پھیر دیا جائے گا۔ جموں و کشمیر کے سانبا اور کٹھوا کے بارڈر پر سب سے پہلے اس اعلی تکنیک کے آلات قائم کئے جائیں گے۔ جموں و کشمیر سے لگنے والے پاکستان بارڈر اور کنٹرول لائن سے دہشت گردوں کے ذریعے پورے سال دراندازی کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ بارڈر پر بی ایس ایف اور ایل او سی پر فوج کے جوان گھس پیٹھ روکنے کے لئے محاذی چوکیوں سے نظر رکھ کر کارروائی کرتے ہیں اور 24 گھنٹے گشت کی جاتی ہے۔ فوج کے ذرائع کے مطابق ہائی ٹیک سسٹم چالو ہونے کے بعد بارڈر پر حالات تکنیکی مرکز پر دراندازی کی کوشش ہوتے ہیں فوراً معلومات آجائے گی اور موقعہ پر ہی دہشت گردوں کو ڈھیر کیا جاسکے گا۔ حال ہی میں فوج اور بی ایس ایف کی لگاتار گشت کے باوجود ہر سال اوسطاً 100 دہشت گرد دراندازی میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کے ذریعے جنگ بندی توڑنے سے دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کو پاک فوج کے ذریعے کورنگ فائر ملتی ہے۔ سرجیکل اسٹرائک کے بعد دراندازی کی کوششوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایک سال میں پاکستان کی جانب سے 150 دہشت گرد گھس پیٹھ کر جموں وکشمیر کے علاقوں میں داخل ہوئے۔ وادی کشمیر میں پتھر بازی وسیع تشدد کے واقعات میں بیشک کمی آئی ہے لیکن سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی میں اضافہ ہورہا ہے۔ امید ہے کہ نئی جدید تکنیک سے دراندازی پر قابو پایا جاسکے گا۔ ذرائع کے مطابق تکنیکی سازو سامان کیلئے 20 انٹر نیشنل کمپنیوں کو آرڈر دے دئے گئے ہیں۔
(انل نریندر)

18 جنوری 2017

ٹیپو تو سائیکل چلائیں گے لیکن ملائم اب کیا کریں گے

اترپردیش اسمبلی چناؤ میں پولنگ سے پہلے ہی وزیر اعلی اکھلیش یادو کو ایک بڑی جیت حاصل ہوئی ہے۔ اکھلیش یادو جنہیں ملائم سنگھ یادو پریوار میں ’’ٹیپو‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ، کو چناؤ کمیشن نے چناؤ نشان ’’سائیکل‘‘ سونپ دیا ہے۔ چناؤ کمیشن نے سماجوادی پارٹی کی ایک طرح سے تقسیم کردی ہے۔ چناؤ کمیشن کا یہ فیصلہ ملائم سنگھ یادو کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی ہار کی شکل میں مانا جائے گا۔ جس پارٹی کوانہوں نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے کھڑا کیاوہ ایک جھٹکے میں ہی ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ پیر کو پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو کے تمام دعوؤں کو درکنار کرتے ہوئے اکھلیش گروپ کو ہی اصلی سپا مانا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملائم سنگھ سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ کب کیا داؤ چلنا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں لیکن اس بار وہ مات کھا گئے۔ سیاسی دھرندر ہونے کے باوجود وہ ہوا کا رخ نہیں بھانپ پائے۔ پارٹی بھی گئی اور سائیکل بھی گئی اور لڑکا بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ اب ملائم کے سامنے تین ہی متبادل بچے ہیں۔ پہلا کورٹ جاکر چناؤ کمیشن کے فیصلے پر اسٹے کی اپیل کریں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ اب ایسا کرے گا کیونکہ چناؤ کمیشن نے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر ہی یہ ایسا اہم فیصلہ دیا ہے۔ رام گوپال یادو نے کہا کہ ملائم گروپ کوئی ٹھوس ثبوت کمیشن کے سامنے نہیں رکھ سکا۔ اس میں فائدہ بھی نہیں دکھائی دیتا کیونکہ چناؤ کمیشن یوپی چناؤ کا نوٹیفکیشن جاری کررہا ہے۔ ایک بار نوٹیفکیشن جاری ہوجائے تو معاملے میں عدلیہ کی مداخلت کی گنجائش کم ہوجاتی ہے دوسرا یہ کہ ملائم اب شیو پال اینڈ کمپنی کا ساتھ چھوڑ کر اکھلیش یادو کو قومی صدر تسلیم کرلیں اور سپا کے سرپرست کا کردار منظور کرلیں۔ ان کے سمدھی لالو پرساد یادو نے بھی یہ صلاح دی ہے کہ غصہ تھوک کر فرقہ وارانہ طاقتوں کو ہرانے کے لئے اکھلیش کو آشیرواد دیں۔ لیکن ہمیں شبہ ہے کہ ملائم اس متبادل کو چنیں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملائم سیاسی سنیاس کے لئے تیار ہیں، ایسا شاید ہی وہ کرنے کو تیار ہوں۔ آخری متبادل ملائم سنگھ الگ چناؤ لڑ کار عوام کو اپنا موقف بتائیں ۔ اگر اکھلیش گروپ سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں لے آئے تو انہی ہی اصلی سماجوادی پارٹی مانا جائے گا لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اب جب چناؤ نشان پارٹی کا بھی فیصلہ ہوگیا ہے تو سب کی توجہ چناؤ پر لگ جائے گی۔ اکھلیش گروپ کا ماننا ہے کہ پورے تنازعے میں اکھلیش کو بہت فائدہ ہوا ہے اور ان کا پھر اقتدار میں آنا طے ہے۔ مہا گٹھ بندھن بنانے کا امکان اس فیصلے سے بڑھ گیا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو بھاجپا ،بسپا کے لئے چنوتی بڑھ جائے گی۔
(انل نریندر)

کیا سدھو کی گھر واپسی کانگریس کو جتا پائے گی

آتشی بلے بازی اور جملوں سے بھری کرکٹ کمنٹری میں کبھی نہ رکنے والے قہقہہ لگانے والے نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کا دامن تھام کر ایک طرح سے گھر واپسی کرلی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی سدھو نے مہینوں سے جاری قیاس آرائیوں پر بھی روک لگادی ہے۔ بھاجپا سے نکلنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے جب وہ کانگریس میں باقاعدہ شامل ہوگئے ہیں تو ان کا کہنا ہے کہ ان کی گھر واپسی ہے۔ موقعہ پرستی ہے یا حقیقت؟ بیشک وہ پیدائشی کانگریسی ہو سکتے ہیں لیکن کسی کی گھر واپسی اتنی لمبی نہیں ہوتی جتنی کے نوجوت سنگھ سدھو کی رہی ہے۔ انہوں نے پچھلے18 سال بعد راجیہ سبھا اور بھاجپا سے استعفیٰ دیاتھا اور تبھی سے وہ نیا ٹھکانا تلاش کررہے تھے۔ عام آدمی پارٹی سے کئی دنوں تک ناکام سودے بازی کے بعد سدھو کے لئے سوائے کانگریس کے اور کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ سدھو اور بھاجپا کا بنیادی اختلاف اکالیوں کو لیکر تھا۔ اکالیوں کے وہ کٹر مخالف تھے اور بھاجپا اکالیوں کے ساتھ اپنا گٹھ بندھن توڑنے کو تیار نہیں تھی۔ ممکن ہے بھاجپا کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے۔ سدھو نے پنجاب کی سیاست میں اپنا الگ مقام بنایاہے اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی امرتسر سیٹ جیت کر ثابت کردیا کہ وہ جنتا سے جڑے نیتا ہیں۔ یقینی طور پر نوجوت کا کانگریس میں شامل ہونا پارٹی کے لئے جوش بڑھانے والا واقعہ ہے۔ سدھو کی بیوی جو کہ امرتسر کی سابقہ سیٹ سے ممبر اسمبلی رہیں ، پہلے ہی کانگریس میں شامل ہو چکی ہیں۔ سدھو کو پارٹی میں شامل کرنے اور وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کے خلاف کیپٹن امرندر سنگھ کو امیدوار بنانے کے پیچھے کانگریس کی حکمت عملی جگ ظاہر ہے۔ یہ عام خیال ہے کہ وقتاً فوقتاً ہوئے کئی تجزیوں نے بھی اس کے اشارے دئے ہیں۔ ایک دہائی سے راج کررہے بادل اقتدار مخالف رجحان کا سامنا کررہے ہیں۔ اکالی بھاجپا سرکار سے چھٹکارہ دلانے میں اہل ہونے کا بھروسہ جو جگا سکے گا بازی اسی کے ہاتھ لگے گی۔ اگر عام آدمی پارٹی کا ابھار نہ ہوا ہوتا تو کانگریس کو اس بار زیادہ فکرکرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن عام آدمی کی بھر پور موجودگی نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے۔ اپوزیشن میں نمبر ایک طاقت کون ہے؟ بادل پریوار کو بھی اس مرتبہ اینٹی کمبینسی کا احساس ہوگا، لیکن ان کی امید اس پر ٹکی ہے کہ اقتدار مخالف ووٹوں کا کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان تقریباً برابر کا بٹوارہ ہوجائے۔ نتیجہ کیا ہوگا اس کا پتہ تو شاید مارچ ہی میں چلے گا مگر یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پنجاب میں حکمراں اتحاد کے لئے یہ چناؤ چیلنج سے بھرا ہے۔
(انل نریندر)

17 جنوری 2017

کیا سپا کا چناؤ نشان فریزہوگا؟

سماجوادی پارٹی کی سائیکل کس کی ہوگی؟ ملائم سنگھ گروپ یا اکھلیش گروپ کی؟ چناؤ کمیشن نے دونوں فریقین کی لمبی دلیلیں سننے کے بعدفیصلہ محفوظ رکھ لیاہے۔ توقع ہے وہ کسی بھی وقت اس بارے میں فیصلہ دے سکتا ہے۔ یوپی میں پہلے مرحلہ کے چناؤ کا نوٹیفکیشن 17 جنوری یعنی منگلوار کو جاری ہونا ہے۔ اس سے پہلے یعنی پیر تک سائیکل پر فیصلہ نہیں آیا تو یہ چناؤ نشان خودبخود فریز ہوجائے گا۔اس کے بعد دونوں گروپوں کو الگ الگ چناؤ نشان دیا جائے گا۔ چناؤ کمیشن کے مشیر کار سابق چناؤ کمشنر کے جے راؤ کا کہنا ہے سپا کے تنازعے میں چناؤ کمیشن کے سامنے دو متبادل ہیں۔ اس تنازعہ میں چناؤ کمیشن سب سے پہلے چناؤ کمیشن یہ دیکھا گا کہ پارٹی میں تقسیم ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر کمیشن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ پارٹی میں تقسیم ہوئی ہے تو وہ اس کے بعد چناؤ نشان فرمان ، 1968 کے مطابق چناؤ نشان پرفیصلہ کرے گا۔ راؤ نے کہا کہ ان کی شخصی رائے ہے اور کمیشن کے مشیر ہونے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے چناؤ نشان کے بارے میں کمیشن کے فیصلے کی بنیاد اکثریت ہوگی۔ چناؤ کمیشن جانچ کرے گا کہ کس کے پاس اکثریت ہے۔ اکثریت کی جانچ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ممبران ایم ایل سی، ممبران اسمبلی اور پارٹی کے نمائندوں کی تعداد دیکھی جائے گی۔ یہ تعداد طاقت جس کے حق میں ہوگی کمیشن اسے چناؤ نشان دے دے گا۔ راؤ نے کہا کہ کمیشن کو اس بات کا فیصلہ چناؤ نامزدگی کی تاریخ (17 جنوری) سے پہلے کر لینا چاہئے۔ ادھر چناؤ نشان پر گھمسان مچا ہوا ہے تو ادھر پارٹی کے ورکروں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ادھر جائیں یا ادھر جائیں؟ سپا کے جھگڑے میں پارٹی ورکروں کو شش و پنج میں رکھا ہوا ہے۔ اپنے مستقبل کو سیاسی بھنور میں پھنستے دیکھ ایسے سپا ورکروں نے سائیکل چناؤ نشان ضبط ہونے کی صورت میں موٹر سائیکل کے بجائے دوسری پارٹیوں میں جگت بھڑانا شروع کردی ہے۔ ایسے لیڈروں نے دوسری پارٹیوں کے بڑے لیڈروں سے رابطہ قائم کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ ان کی بس اتنی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح 17 ویں اسمبلی میں اینٹری پا سکیں۔ اس درمیان پارٹی کے قبضے کی لڑائی کے بیچ ایک اور نیا موڑ آگیا ہے ملائم اور اکھلیش گروپ میں رسہ کشی کے درمیان سماجوادی پارٹی کے بینک کھاتے فریز کردئے گئے ہیں۔ دہلی ، لکھنؤ، اٹاوہ میں کئی بینکوں کی شاخوں میں سپا کے تقریباً 500 کروڑ روپیہ جمع ہیں۔ ان بینکوں سے فی الحال کوئی لین دین نہیں ہوسکے گا۔ ذرائع کے مطابق اکھلیش یادو گروپ کے ایک بڑے نیتا کے خط کے بعد بینکوں نے یہ کارروائی کی ہے۔ اسے اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے ملائم سنگھ یادو اور شیو پال یادو کے لئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ 
(انل نریندر)

اوبامہ عہد کے شاندار8 سال ،الوداع اوبامہ

امریکہ کے صدر براک اوبامہ اپنے عہدہ صدارت کی8 سال میعاد پوری کرکے اپنے عہدے سے وداعی لے رہے ہیں۔ صدر براک اوبامہ ایسے وقت میں جارہے ہیں جب امریکہ نے اپنی جمہوری تاریخ کے سب سے تلخ چناؤ میں اپنا نیا صدر چنا ہے۔ اوبامہ نے 8 نومبر 2008ء کو بطور پہلے افریقی امریکن شخص کے طور پر صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اوبامہ کو سال 2009ء کا نوبل امن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اوبامہ انتظامیہ کا سب سے بڑا کارنامہ رہا 2 مئی 2011ء کو پاکستان کے ایبٹ آباد میں ایک امریکی فوجیوں کے خصوصی دستے نے رات میں کارروائی کرکے خطرناک القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارا۔ لمبے عرصے سے عراق میں پھنسی امریکی فوج کی واپسی کا راستہ اوبامہ نے 15 دسمبر 2011ء کو اس وقت کھولا جب انہوں نے عراقی جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ 9 نومبر 2012ء کو ابامہ نے ری پبلکن امیدوار مٹ رومینو کو ہرا کر دوبارہ چار سال کے لئے صدر بنے۔ 28 دسمبر 2014ء کو انہوں نے افغانستان میں فوج کی کارروائی ختم کی۔ جولائی 2015ء میں امریکہ نے ان کی قیادت میں ایران کو نیوکلیائی پروگراموں کی مرحلہ وار خاتمے کیلئے راضی کرلیا۔ اس پر لگے امریکی پابندیوں کو ہٹانے کا سمجھوتہ کیا۔ اس مہینے کے آخری دنوں میں اوبامہ نے کیوبا کے ساتھ 50 سال پرانے بگڑے رشتوں کو بحال کیا۔ کل ملا کر براک اوبامہ ایک کامیاب صدر رہے۔ جب 2008 ء میں اوبامہ پہلی بار امریکہ کے صدر چنے گئے تھے تو اسے تاریخ کی سب سے بڑی خلیج بھرنے کے واقعہ کے طور پر دیکھا گیا تھا کیونکہ پہلی بار ایک سیاہ فام امریکہ کا صدر بنا تھا اور جب وہ لگاتار دو عہد پورا کر صدر کا عہدہ چھوڑنے جارہے ہیں تو امریکہ میں جمہوری اقدار اور سماجی سروکاروں کو لیکر تشویش چھائی ہوئی ہے۔ اس لئے اوبامہ نے عہدہ چھوڑنے سے کچھ دن پہلے دی اپنی الوداعی تقریر میں مناسب ہی نہیں ان تشویشات کو سامنے رکھا۔ جمہوری اقدار کے تئیں عزم اور سماجی بھائی چارگی کو امریکہ کی پہچان بتایا اور اپنے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ کو نصیحت دی کہ امریکی مسلمانوں سمیت دیش کی سبھی اقلیتوں کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ امریکی مسلم بھی اتنے ہی حب الوطن ہیں جتنے دیگر امریکی۔ براک اوبامہ بھارت کے دوست ہیں۔ ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے اچھی دوستی اور کیمسٹری رہی۔ امریکہ کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ان کے کٹر رویئے کی بحث چھڑی رہی۔ مانا جارہا ہے کہ ان کے صدر بننے پر دنیا میں تشدد کے حالات بنیں گے۔ ان کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی (اوبامہ ) کا انتظامیہ بہتر بتایا گیا تھا۔ لیکن تازہ اعدادو شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اوبامہ انتظامیہ نے امریکہ بیحد جارحانہ رہا2016 میں ان کی حکومت میں مختلف ملکوں میں 26171 بم گرائے گئے۔ یہ اعدادو شمار سابق صدر جارج بش کے عہد سے 130 فیصدی زیادہ ہیں۔ سب سے زیادہ حملہ پاکستان، افغانستان ،لیبیا، یمن ، صومالیہ، عراق اور شام میں کئے گئے۔ ان ملکوں میں تو خانہ جنگی کے حالات ہیں۔ اس وقت138 دیشوں میں امریکی فوجیں موجود ہیں۔ پاکستان ،یمن، لیبیا، صومالیہ میں پچھلے 7 برسوں میں 600 شہری ان امریکی حملوں میں مارے گئے۔ دنیا میں ہتھیار سپلائی میں بھی امریکہ 31 فیصدی کی حصے داری سے اول نمبر پر ہے۔حالیہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کے فرق نے اوبامہ کے عہد کو اور زیادہ سراہنیے بنا دیا ہے ورنہ براک اوبامہ کا عہد ملا جلا ہی مانا جائے گا۔ خیر ! الوداع براک اوبامہ۔
(انل نریندر)

15 جنوری 2017

کسانوں کی خودکشی کا نہ رکتا سلسلہ

مودی سرکار کسانوں کے مفاد میں بھلے ہی ’’کسان کلیان‘‘ جیسی تمام اسکیموں کے اعلان کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے چونکانے والے اعدادو شمار کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے مطابق 2015 میں 2014 سے زیادہ کسانوں اور زرعی مزدوروں نے خودکشی کی تھی۔ کہنے کو مودی سرکار 2014ء میں ہی اقتدار میں آئی تھی لیکن 2015ء میں پوری طرح حکومت میں تھی۔ یہ بتادیں کہ این سی آر بی ایک سال پہلے کے ڈاٹا ہی جاری کرتا ہے۔ غور طلب ہے کہ مودی حکومت نے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے، فصل بیمہ یوجنا جیسی تمام اسکیمیں شروع کی ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے اگر 2014 ء اور 2015 کے اعدادو شمار پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ سال2015ء میں کل 8007 کسانوں نے خودکشی کی تھی جو سال 2014ء میں خودکشی کرنے والے 5650 کسانوں کی تعداد سے 42 فیصدی زیادہ ہے۔ حالانکہ اس دوران زرعی مزدوروں کی خودکشی میں کمی درج کی گئی ہے۔ 2014 کے مقابلے 31 فیصدی کسانوں نے کم خودکشیاں کی ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق2014ء میں جہاں 6710 زرعی مزدوروں نے خودکشی کی تھی وہیں 2015ء میں 4595 ذرعی مزدوروں نے خود کو ختم کرلیا تھا۔این سی آر بی کی رپورٹ ’’حادثاتی اموات اینڈ سوسائڈ ان انڈیا 2015 ‘‘ نام کی اس رپورٹ کے مطابق سال2014 کے مقابلے 2015 میں کسانوں اور ذرعی مزدوروں کی خودکشی میں دو فیصد اضافہ ہوا ہے اور کل 12602 کسانوں اور ذرعی مزدوروں نے موت کو گلے لگایا تھا جبکہ 2014 ء میں کل 12360 کسانوں اور ذرعی مزدوروں نے خودکشی کی تھی ۔ یعنی کسانوں کی 87 فیصدی سے زیادہ سات ریاستوں مہاراشٹر 4291، کرناٹک 1569، تلنگانہ 1400، مدھیہ پردیش 1290، چھتیس گڑھ 954، آندھرا پردیش 916 اور تاملناڈو 606 ہوئیں۔غور طلب ہے کہ سال2014ء اور 2015 میں کم بارش کے چلتے دیش کا بڑا حصہ خوشک سالی کی زد میں آگیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ ان میں 38.7فیصدی کسانوں نے کنگانی ،قرض اور کھیتی میں مشکلات کے چلتے جان لی۔ اس میں بھی 73فیصدی خودکشی کرنے والے کسانوں کے پاس دو ایکڑ یا اس سے کم زمین تھی۔ اعدادو شمار پر نظرڈ الیں تو خودکشی کرنے والی ریاستوں میں سب سے زیادہ مہاراشٹر آگے ہے تو ساؤتھ انڈیا کی ریاستوں کا نام بھی کسانوں کی خودکشی کے معاملوں میں درج ہے۔ ان اعدادو شمار میں اترپردیش جیسی ریاست کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ خودکشی کرنے والے کسانوں کی اعدادو شمار اور بھی زیادہ ہے۔ تمام اقدامات ،سہولیات کے باوجود کسانوں کی خودکشی کو روکنا کسی بھی سرکار کی ترجیح ہونی چاہئے جو نہیں ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

سارے ریکارڈ توڑتی عامر کی فلم ’’دنگل‘‘

ایکٹر عامر خان کی فلم ’’دنگل‘‘ نے باکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑدئے ہیں۔ یہ فلم ہندوستانی سنیما کی اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی ہے۔ میں نے یہ فلم دیکھی ہے۔ یہ فلم ہر ہندوستانی خاص کر خواتین اور نوجوانوں کے دلوں کو چھوتی ہے۔ یہ فلم لڑکیوں کے تئیں ہمارے سماج کے کچھ لوگوں کے نظریئے پر بھی فلم چوٹ کرتی ہے جو لڑکیوں کو لڑکوں سے ہر زاویہ سے کم سمجھتے ہیں۔ہریانہ کے پہلوان مہاویر سنگھ فوکٹ اور ان کی بیٹیوں گیتا و ببیتا کی زندگی پر مبنی ہے کیونکہ یہ ان کی جدوجہد کی سچی کہانی ہے اس لئے بھی لوگوں کو اتنی پسند آئی ہے۔’دنگل‘ نے عامر خان کی ہی فلم ’پی کے‘ اور سلمان خان کی ’بجرنگی بھائی جان‘ اور ’سلطان‘ کی کمائی کے بھی ریکارڈ توڑدئے ہیں۔اس فلم کے پروڈیوسر کے مطابق ’دنگل‘ نے تیسرے ہفتے میں 30.5 کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ ایسا رہا تو یہ فلم سنیما گھروں سے ہٹنے تک 400 کروڑ کاکاروبار کر سکتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے ’پی کے‘ نے 340 کروڑ کا کل کاروبارکیا جسے ’دنگل‘ تیسرے ہفتے ہی پار کر چکی ہے۔ اب سب سے زیادہ کمائی کے معاملے میں نمبر 1 اور نمبر 2 پر عامر خان کی فلمیں ہی ہیں۔ اس کے بعد آتی ہے سلمان کی ’سلطان‘ جس نے 300 کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور عامر خان نے اپنی فلم ’گجنی‘ سے 114 کروڑ روپے کا کاروبار کر 100 کروڑ کے کلب میں اینٹری کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد ان کی فلم ’تھری ایڈیٹس‘ نے 200 کروڑ روپے کما کر اس کلب کو دوگنا کردیا۔ اتنا ہی نہیں 300 کروڑ ی کلب کی شروعات عامرنے ہی اپنی فلم ’پی کے‘ سیکی تھی۔ اب لگتا ہے کہ400 کروڑ ی کلب کی شروعات بھی عامر ہی کریں گے۔ عامر نے فلم کی کامیابی پر ایک بیان میں کہا ایک آرٹسٹ کے لئے اس سے بڑی حوصلہ افزائی نہیں ہوسکتی، بہت بہت شکریہ۔ اور نتیش سر آپ کا بھی بہت بہت شکریہ، دھنیواد۔ ہریانہ کے پہلوان مہاویر فوکٹ سنگھ کی جدوجہد اور اپنی لڑکیوں کو پہلوان بنانے کی دھن سے متاثر نتیش تیواری نے اس فلم کو ہدایت دی ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ چار بیٹیوں کے والد مہاویر نے کس طرح اپنے جنون کے بوتے گیتا اور ببیتا کو پہلوان بنایا اور ان لڑکیوں نے ثابت کردکھایا کہ کسی بھی معنی میں وہ لڑکوں سے کم نہیں ہیں۔ گیتا فوکٹ نے کامن ویلتھ کھیلوں میں گولڈ میڈل جیت کر تاریخ بنائی تھی۔ ان کی راہ پر چلتی ہوئی ببیتا نے بھی کئی میڈل جیت کر ہریانہ کے دنگل کی روایت کو چمکایا۔ حالانکہ فلم کو لیکر کچھ تنازعہ بھی کھڑا ہوا ۔ فلم میں گیتا کے کوچ کے کردار پر سوال اٹھائے جانے پر ان کے اصلی کوچ سوٹی نے نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی تو فلم میں گوشت خوری کو فروغ دینے کا الزام بھی لگا۔ ان تنازعوں سے دور دنگل اپنی کمائی کی مہم میں سرگرم رہی۔ دنگل سے پہلے عامر کی گجنی، تھری ایڈیٹس اور پی کے کمائی کے جھنڈے گاڑھ چکی ہے۔ حال ہی میں آئی سلمان کی ’سلطان ‘ بھی ’دنگل‘ کو نہیں پچھاڑ سکی حالانکہ کچھ فلم شائقین کا کہنا تھا کہ اسی سبجیکٹ پر ’سلطان‘ آچکی ہے شاید ’دنگل‘ کا کاروبار متاثر ہو لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سلطان اور دنگل بیشک کشتی پر مبنی فلمیں ہوں لیکن دونوں کی کہانی بالکل الگ ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ دونوں الگ الگ فلمی ہیں۔ عامر کے مطابق فوکٹ پریوار سے پہلے ہی واقف ہو چکے تھے۔ اپنے پروگرام ’ستیہ مے جیہ تے‘ میں انہوں نے فوکٹ بہنوں سے بات چیت کی تھی۔ اگر آپ نے ابھی یہ فلم نہیں دیکھی تو اپنے پریوار کے ساتھ دیکھیں یہ صاف ستھری سندیش دینے والی فلم ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...