Translater

30 جنوری 2021

امریکہ میں پہلے سیاہ فام وزیر دفا ع بنے!

امریکی سینیٹ نے وزیر دفاع کے طور پر جنرل ریٹائرڈ لائیڈ آسٹن کے نام پر مہر لگادی صدر جو بائیڈن ایک کے بعد ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں انہوں نے پہلے امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کملا ہیرث انہوںنے ان کے بعد افریقی امریکی نژاد شخص کو دیکھ کر وزیر دفاع بنایا ہے جنرل آسٹن پینٹاگان (محکمہ دفاع) میں اعلیٰ عہدے پر رہ چکے ہیں ۔ سینیٹ میں ان کے حق میں 93وو ٹ پڑے مخالفت میں صرف دو اس کے ساتھ سینیٹ نے وزیر دفاع کے طور پر توثیق کردی ۔ اس کے فوراً بعد انہیں واشنگٹن ہیڈ کوارٹر سروسیز کے اگزیکٹو ڈائرکٹر ٹا م موئٹ نے عہدے کا حلف دلایا پھر ان کو خفیہ اپڈیٹ سے واقف کرایا گیا ۔ نائب صدر کلا ہیرث آسٹن کی ایک تقریب میں ان کو عہدے راز داری کا حلف دلائیں گی ۔صدر جو بائیڈن نے آسٹن کے نام کی توثیق کیلئے سینیٹ کا شکریہ ادا کیا دیش کے نئے وزیر دفاع آسٹن نے ٹویٹ کر کے کہا کہ وزیر دفاع کے طور پر مجھے خدمت سونپنا بڑے اعزاز کی بات ہے اور میں بہت فخر محسوس کرتا ہوں چلئے کام شروع کرتے ہیں آسٹن اپنے ملازمت عہد میں متعدد بڑے عہدوں پر رہے اور نسلی امتیاز کی بندشوں کو پار کرتے ہوئے یہاں تک پہونچے 2016میں فوج کے چار ستارہ جنرل کے شکل میں ریٹائڑ ہوئے تھے آسٹن کو امریکہ کے وزیر دفاع بننے پر ہماری بدھائی ۔ صدر بائیڈن نے دیش کو جوڑنے کیلئے ایک اور اہم ترین قدم اٹھایا ہے ۔ (انل نریندر)

کسان آپ کو ختم کردیں گے ،یہ صرف شروعات ہے !

زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر مظاہرے کر رہے کسانوں کی تحریک کی چمک آہستہ آہستہ پورے دیش میں پھیل رہی ہے دہلی کے بعد مہاراشٹر کے کسانوں کے ایک بڑے جتھے ممبئی کے آزاد میدان میں ہلا بولا ۔ممبئی کے آزاد میدان میں ہزاروں کسانوںنے اکٹھے گروپ میں چل رہی کسان تحریک کو حمایت دی ہے اور مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے کسان ممبئی پہونچ گئے تھے پولس نے ریلی کے پیش نظر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے ساو¿تھ ممبئی کے آزاد دمیدان اور اس کے آس پاس علاقوں کی سیکورٹی کا مخصوص انتظام کیا ۔ ایس آر پی ایف کے جوان تعینات ہیں ساتھ ہی ڈرون کا بھی استعمال کیا ۔آل انڈیا کسان سبھا نے دعویٰ کیا ہے ناست وغیرہ علاقوں سے پندرہ ہزار کسان ممبئی آئے سرکار کی اتحادی جماعت کانگریس کی ریاستی یونٹ کسان ریلی کی پہلے ہی حمایت کرچکی تھی ۔ اور کسانوں نے کٹارا گھاٹ سے نکالے گئے سات کلو میٹر لمبے مارچ میں مہیلا کسان بھی شامل ہوئیں اس کی قیادت اے آئی کے ایس کے قومی صدر اشوک دھاولے اور کسان گوجر کے جنرل سیکریٹری اجیت نوالے نے کی اس کے علاوہ سی ٹو سے وابستہ مزدوروں نے بھی کسانوں پر پھول برسا کر خیر مقدم کیا اور اس کو این سی پی کے صدر شرد پوار اور مہن وکاش اگاڑی کے کچھ بڑے لیڈروں نے بھی خطاب کیا پردیش کانگریس کے نیتا و مہاراشٹر کے وزیر محصول بالا صاحب کوہاٹ اور وزیر سیاحات آدتیہ ٹھاکرے نے بھی ریلی سے خطاب کیا ۔ انہوں نے مظاہرین راج بھون گئے اور گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو میمورینڈم دیا اور مظاہرین نے 26جنوری پر آزاد میدان پر ترنگا پھیرانے کا فیصلہ لیا سابق مرکزی وزیر این سی پی چیف شردپوار سمیت مہاراشٹر کے دیگر نیتا بھی اس پروگرام میں شامل ہوئے اور شرد پوار نے اپنی تقریر میں گورنر کوشیاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج دیش بھر میں پر امن طریقے سے کسانوں کی تحریک جاری ہے گورنر کے پاس کنگنا رنو ت سے ملنے کا وقت ہے لیکن آندولن کررہے کسانوںسے ملنے کا وقت نہیں ہے اور شردپوارنے کہا مرکز ی سرکار نے بغیر کسی بات چیت کے زرعی قوانین کو پاس کرالیا جو آئین کے ساتھ مذاق ہے اگر صرف اکثریت کی بنیاد پر قانون پاس کریںگے تو کسان آپ کو ختم کردیں گے یہ صرف شروعات ہے مہاراشٹر میں کبھی ایسا گورنر نہیں آیا جس کے پاس کسانوں سے ملنے کا وقت نہیں ہے مہاراشٹر کے کسانوں کا مارچ سات کلو میٹر لمبا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین بھی تھیں اگر ریاستی حکومتیں پابندی نہیں لگاتی تو دہلی میں لاکھو ں اور کسان تحریک میں شامل ہوچکے ہوتے۔ (انل نریندر)

یہ دیپ سدھو کون ہے ؟

26جنوری کو دہلی کے تاریخی لال قلعے پر نشان صاحب (سکھوں کا دھارمک کیسری جھنڈہ)اور کسانوں کے ہرے لال پیلے جھنڈوں کا پھیرایانے والا دیپ سدھو آج کل سرخیوں میں چھایا ہوا ہے ۔ بی بی سی نے تفصیل سے بتایاہے کہ دیپ سندھو کون ہے ؟جب لال قلعے پر جھنڈہپھیرایا جا رہا تھا تب یہ وہاں موجود تھا اور جھنڈ ہ پھیرایایا جارہا تھا تب وہ ویڈیو بنا رہا تھا اس کے بعد سے وہ سرخیوں میں چھایا ہوا ہے آئیے، کسان آندولن میں دیپ سدھو کی شرکت اور سیاستدانوں اور فلم دنیا کے لوگوں کے ساتھ ان رشتوں پر ایک نظر ڈالیں ۔دیپ سدھو ستمبر2020میں کسان آندولن میں شامل ہوا اور جلد ہی سوشل میڈیا پر توجہ مرکوز کرانے میں کامیاب رہے دیپ کا انگریزی میں پولس حکام کے ساتھ بحث کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا تھا جس میں اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے یہ ایک انقلاب ہے وہ مسئلے کو سنجیدگی کو نہیں سمجھتے تو یہ کرانتی اس دیش اور ساو¿تھ ایشا کی زمینی سیاست کو تشریح کرے گی ۔ اس ویڈیو کے بعد اس نے قومی سطح پر سرخیاں بٹوری ۔ جب کسان انجمنوں نے دیپ سدھو کو تو دور کردیا تو سوشل میڈیا پر اس بارے میں خوب بحث ہوئی سماجی کار کن اور پیسے سے وکیل سمرجیت کور گل نے کسان انجمنوں کے رخ کی حمایت کی اور ان اشوز پر روشنی ڈالی جنہوں نے ایسا کرنے کیلئے فیصلہ لیا تھا۔ جب کسان آندولن شروع ہوا تو دیپ سمیت سبھی یہ کہہ رہے تھے وہ کسانوں کیلئے کسان نیتاو¿ں کی قیاد ت میں اس تحریک میں شامل ہیں لیکن کچھ وقت کے بعد دیپ نے کسان لیڈروں کے فیصلے پر سوال اٹھانا شروع کردیئے اور سنگھو بارڈر پر اپنا خود کا اسٹیج بنا لیا ۔زرعی قانون کے بارے میں بات نہیں کرنے کیلئے کسان انجمنوںنے انہیں اپنے منچ سے بولنے پر پابندی لگادی ۔ان کسان یونینوں میں شامل ایک استعال پسند گروپ نے واضح طور سے کہا کہ وہ کسان آندولن کی سمت بدل رہے ہیں ۔دیپ سدھو اپنے سوشل میڈیا پر جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کے بارے میں اکثر باتیں کرتے رہتے ہیں جنکی وجہ سے کسان انجمنوںنے ان سے خود کنارہ کر لیا اور جب کسان انجمنوںنے دہلی کی سرحدوں کی طرف بڑھنے کی اپیل کی تو دیپ سدھو نے لوگوں سے واپس جانے کو کہا کیونکہ ان کے مطابق کسان انجمنیں اپنے مفاد کیلئے ان کا استعمال کر رہی تھیں 26کی ٹریکٹر مارچ کے اعلان کے بعد دیپ سدھو پھر سے سر گرم ہوگئے اور انہوں نے اس مارچ کیلئے الگ سے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کردیا وہ باہری رنگ روڈ پر مارچ کیلئے لوگوں کو جمع کر رہے تھے۔ اس درمیان کسان مزدور سنگھرش سمیتی کے ذریعے پولس کے ساتھ اتفاق رائے سے طے کردہ راستے سے دوسرے راستے جانے کا موقع دیا پیر کے روز دیپ سدھو اور لکھاسگھانا نے سنگھو بارڈر کے اہم اسٹیج کہا کہ وہ دہلی کے اند جائیں گے پولس اور انجمنوں کی جانب سے طے راستے کے علاوہ دوسرے راستے سے مارچ کریں گے اس کے بعد منگلوار کو مظاہرہ کر رہے کسانوں کی ایک ٹیم لال قلعہ پہونچی اوردیپ سدھو کو وہاں دیکھا گیا وہ اس جگہ موجود تھے جہاں لال قلعہ پر لوگوںنے جھنڈہ پھیرایا تھا انہوں نے اسی جگہ اپنا ایک ویڈیو بھی بنایا اور کہا کہ یہ بھی میڈیا میں جا رہا ہے کہ لا ل قلعہ پر جھنڈ ہ پھیرانے والا دیپ سدھو ہی تھا دیپ سدھو کے دیول خاندان کے ساتھ رشتوں کو لیکر سدھو اور اور سنی دیول کے الگ الگ دعوے ہیں وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دیپ سدھو کی تصویروں کی بنیاد پر سدھو اور بھاجپا اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے بھی الزام لگائے گئے ہیں ۔سینئر وکیل پرسانت بھوشن نے بھی دیپ سدھو کی ان تصاویر کو ٹویٹ کیا جن میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں دھرمیندر اور سنی دیول کے ساتھ فلموںمیں بھی کام کیا ہے ۔سال 2020میں امر دیپ سنگھ گل کی ہدایت میں جوٹا فلم کا دوسرا حصہ جوٹا سیکینڈ مینٹر ریلیز ہوئی اس مین دھرمیندر پہلے کی طرح سدھو کے ساتھ اور جوٹا نامی دونوںفلموں میں اب تک دیپ سدھو ایک گینگ اسٹر کے رول میں دکھائی دیئے ہیں ۔ (انل نریندر)

28 جنوری 2021

لالو یادوکا گردہ صرف25فیصدکام کررہا ہے !

چارہ گھٹالے میں سزا کاٹ رہے آر جے دی چیف لالو پرساد یادو دہلی کے ایمس اسپتال میں زیرعلاج ہیں ڈاکٹروں کے مطابق ان کا گردہ 25فیصدی کام کررہا ہے ان کا کریٹی نائن بڑھا ہوا ہے ۔امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر راکیش یاد واور دیگر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے ان کو نمونیا بھی ہے لیکن ان کی طبیعت بقدر بہتر ہے ۔ساتھ ہی ان ٹی ایل سی بھی بڑھا ہوا ہے چھاتی میں انفیکشن ہے لالو جی کو 20سال سے شوگر و دل کی بیماری ہے جن کا علاج چل رہا ہے ۔اور ان کی صحتیابی کے لئے ڈاکٹر سبھی ٹیسٹ کررہے ہیں ۔پروٹولول کے تحت ان سے ملنے والوں پر روک ہے صرف خاندان کے لوگ ہی ان سے ملنے یا ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں ۔بتادیں طبیعت بگڑنے پر انہیں رانچی سے دہلی لایا گیا تھا یہاں ایمس کے کارڈیو تھیرپی سینٹر کے آئی سی یو میں داخل ہیں ۔وہیں لالو کے ایمس آنے پر بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جلد صحتیابی کی نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کہا وے ان سے اس لئے فون پر بات نہیں کرتے کیوں کہ ان کی طبیعت کے بارے میں معلومات ملتی رہتی ہیں ۔ (انل نریندر)

بات تو دور ،نظریں بھی نہ ملائیں!

وزیراعظم نریندر مودی سنیچر کے روز مغربی بنگال کے دورے پر گئے تھے اور پروٹوکول کے مطابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی ان کے ساتھ موجود تھیں ۔دونوں لیڈروں کے بیچ سے مشکل سے قریب 5فٹ کا فاصلہ تھا لیکن سیاسی آئیڈیا لوجی کی دوری اور بات چیت کی کمی کیمرے کے سامنے آخر کار دکھائی دے گئی ۔دراصل پی ایم مودی نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جینتی پر کولکاتہ نیشنل لائبریری گئے تھے یہاں ان کے ساتھ ریاست کے گورنر جگدیپ دھنکڑ اور وزیراعلیٰ ممتا بنرجی بھی موجود رہیں ۔اور لائبریری میں ریاست کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔نیتا جی کو شردھانجلی سے لے کر باہر آنے تک وزیراعظم نریندر مودی ممتا بنرجی کے درمیان کوئی بات چیت ہوتی نہیں دکھائی دی ۔وزیراعظم وہاں موجود افسران سے لائبریری اور نیتا جی سبھا ش چندر بوس سے جڑی معلومات لیتے دکھائی دئیے لیکن ممتا نے ان سے کوئی بات نہیں کی ۔حالانکہ دونوں لیڈروں کے درمیان زیادہ دوری نہیں تھی اس کے باوجودی ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملائیں ۔اس دوران دونوں نیتا ہی ایک دوسرے سے برعکس سمت میں دیکھتے نظر آئے یہ بات ضروری ہے کہ لائبریری سے باہر آنے سے پہلے ممتا بنرجی اور اور گورنر دھنکڑ کے درمیان کسی اشو پر بات ہوتی دکھائی پڑی ۔خاص بات یہ ہے آنے والے کچھ مہینوں میں مغربی بنگال میں اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں اس لئے وزیراعظم مودی کے بنغال دورے کو کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔واضح ہو کہ گزرے کچھ مہینوں میں مغربی بنگال میں سیاسی اتھل پتھل اور بیان بازی تیز ہوئی ہے اس ریلی میں ممتا بنرجی سخت ناراض ہو گئیں جب وزیراعظم کی موجودگی میں وہاں جے شری رام کے نعرے گونجے ۔سرکردہ مجاہد آزادی نیتاجی کی 125ویں جینتی منانے کے لئے منعقد پروگرام میں ممتا بنرجی نے اپنی تقریر شروع بھی نہیں کی تھی اس وقت بھیڑ سے کچھ لوگوں کے ذریعے جے شری رام کا نعرہ لگایا گیا اس پر بنرجی نے کہا ایسی بے عزتی ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا یہ ایک سرکاری پروگرام ہے کوئی سیاسی نہیں ہے ۔اور ایک گریما ہونی چاہیے کسی کو لوگوں کو بلا کر بے عزت کرنا زیب نہیں دیتا میں نہیں بولوں گی اور جے بنگلہ کہہ کر سرکاری پروگرام میں مدعو کرنے کے لئے وزیراعظم وزارت کلچر کو شکریہ ادا کیا ۔جے شری رام کے نعرے لگانے سے صاف طور سے ممتا ناراض ہو گئیں اس واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے ترمول کانگریس کی لوک سبھا ایم پی نصرت جہاں نے سرکاری پروگراموں میں سیاسی اور دھارمک نعروں کی مذمت کی اور ٹوئیٹ کیا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جینتی پروگرام میں جو نعرے لگائے گئے ان کی مذمت کرتی ہوں ۔حالت مغربی بنگال میں یہ ہو گئی ہے جنتا کی حمایت حاصل کرنے کے لئے آزمائے جانے والے طور طریقوں کے درمیان ترمول اور بھاجپا کے درمیان جس طرح سے ٹکراو¿ سامنے آرہا ہے اس سے چناو¿ مہم کے پرامن گزرنے کو لیکر خدشات پیدا ہو رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جمہوری ماحول میں چناو¿ کے حالات اگر کمزور ہوں گے اس سے کس کو فائدہ ملے گا ؟ (انل نریندر)

لال قلعہ کے وقار پر چوٹ!

پچھلے دو مہینہ سے کسان تحریک بڑے صبر و ڈسپلن سے جاری تھی لیکن یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر پریڈ میں کیسے اپنی سمت سے بھٹک گئی ۔یہ سوال آج سب پوچھ رہے ہیں ؟ کافی تنازعہ اور مشقت کے بعد کسان لیڈروں کو ٹریکٹر پریڈ کی تحریری اجازت ملی اور آپسی اتفاق رائے سے پریڈ کے راسطے طے ہوئے تھے لیکن اندر خانہ کسان لیڈروں کو اس بات کا احساس ہوا تھا کہ شام کچھ باہری عناصر کسانوں کی آڑ میں گڑبڑی کر سکتے ہیں اس لئے کسان لیڈر باربار آندولن کررہے کسانوں سے اپیل کررہے تھے کہ وہ کسی بھی شکل میں تشدد نہ کریں ۔بدامنی نہ پھیلائیں لیکن 26جنوری کو جو ہوا وہ شرمشار ہے ۔زرعی قوانین کے خلاف آندولن کررہے مظاہرین نے ساری مریادائیں بھول کر تشدد برپا کردیا ۔72ویں یوم جمہوریہ کی چمک کو ان بد امن عناصر نے ملیا میٹ کر دیا ۔منگل کو جس طرح سے بلوائیوں نے لال قلعہ پر قبضہ کیا اور دہلی کی سڑکوں پر قہرام مچایا ،اس سے غیر ملکی میڈیا نے بھارت کی ساخ کو خراب ہی کیا ہے ۔پاکستان میں بھی جشن منایا گیا لال قلعہ پر تو تاریخ کو داغ دار کر دیا گیا ۔جس مقام پر اور پول پر وزیرا عظم 15اگست کو ہر سال ترنگا پھیراتے آرہے ہیں وہاں نشان صاحب (گورودواروں پر لہرایا جانے والا جھنڈا )پھیرا دیا ۔لال قلعہ پر نشان صاحب کی تصویریں دنیا بھر میں وائرل ہو گئیں اور بھارت مخالف طاقتوں نے جشن منایا ہوگا ۔پاکستان کے کئی ٹوئیٹر ہنڈلوں نے اس تصویر کو ٹوئیٹ کیا اور بتایا گیا کہ بھارت کا جھنڈا بدل گیا ہے ۔ٹریکٹر پریڈ دن کے 12بجے سے دہلی باہری رنگ روڈ پر شروع ہونی تھی لیکن سنگھو بارڈر کی طرف سے کچھ کسانوں نے صبح 7:30بجے ہی اپنی ہلچل شروع کر دی تھی ۔اور دہلی کے اندر گھسنے کی کوششیں شروع کر دیں ۔انہیں روکنے کے لئے پولیس نے جگہ جگہ بیری کیٹ لگائے لیکن بلوائیوں نے انہیں توڑ دیا ۔اور آگے بڑھنے لگے مجبوراً پولیس کو کئی جگہوں پر طاقت کا استعمال کرنا پڑا آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے ۔حالانکہ کچھ کسان لیڈروں کا الزام ہے کہ پولیس نے طے راستوں پر روکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں روکنے کی کو شش کی تو وہ مشتعل ہو گئے کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آندولن میں بہت سارے ایسے بھی لوگ گھس آئے جو مشترکہ کسان مورچہ کا حصہ نہیں تھے کچھ لیڈروں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ ساری سازش سرکار نے رچی اور اس کے ذریعے بھیجے گئے کسانوں کی شکل میں غنڈوں نے یہ سارا ہنگامہ مچایا کچھ شرارتی عناصر نے بھی اس پریڈ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاکہ جھڑپ ہو اس سے کسان آندولن کو توڑا جا سکے ۔آندولن کو کمزور کیا جا سکے حقیقت کیا ہے اس کا پتہ تو منصفانہ جانچ کے بعد ہی چلے گا ۔مگر دہلی میں جگہ جگہ ہوئے جھگڑے سے کسان آندولن کی کافی بدنامی ہوئی ان اصولوں پر سوال کھڑے ہوئے ہیں جنہیں لے کر یہ آندولن پچھلے 66دنوں سے پر امن اور کنٹرول میں تھا یہ صحیح ہے اتنی بڑی تعداد میں جب آندولن کاری جمع ہو جاتے ہیں تو انہیں ڈسپلن میں رکھ پانا مشکل ہو جاتا ہے ۔مگر اس دلیل پر کسان لیڈر اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتے بے شک اب وہ منھ چھپاتے رہیں لیکن کڑوی سچائی یہ بھی ہے کہ ان کے لئے بھی شرمندگی کا موضوع ہے جو بھی ہوا برا ہوا اس سے بچا جا سکتا تھا اگر سرکار تھوڑ ا سمجھداری سے کام لیتی ۔ویسے بھی کسانوں کو بیٹھے 60دن گزر گئے تھے اتنے دن میں بھی مسئلے کا حل نا نکلنا سرکار کی کمزور ی ہی مانا جا سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

26 جنوری 2021

جب ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ساتھ نیوکلیئر کوڈ بٹن لے گئے !

امریکہ میں جو بائیڈن نے بدھ وار کے روز صدر کے عہدے کا حلف لے لیالیکن اس سے پہلے سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاو¿س سے رخصت ہوگئے اور امریکہ میں پرانے صدر کو عہدے چھوڑنے سے پہلے نئے صدر کہ حلف لینے کے ساتھ ہی نیوکلیئر پاور کی بھی منتقلی ہوتی ہے۔لیکن دیش کی تاریخ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ٹرمپ بغیر نیوکلیئر کویا فٹ بال دیئے بغیر وائٹ ہاو¿س چھوڑ کر چلے گئے جس وجہ سے ٹرمپ کے پاس موجود یہ نیو کلیئر کوڈ بے اثر ہوگیا اور نیا کوڈ بائیڈن کے پا س آگیا، لیکن ٹرمپ کی اس کاروائی کو سبھی نے حیرانی جتائی دراصل نیوکلیئر پاور والے کالے رنگ کے ایک برفکیس میں یہ کوڈ بند ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی صدر کے پاس دو نیوکلیئر کوڈ اور دو سیٹ نیو کلیئر لانچ کوڈ رکھے ہوتے ہیں جسے نیوکلیئر بسکٹ بھی کہا جاتاہے یہ امریکی صدر کے پاس ہمیشہ رہتی ہیں اسکے زریعہ امریکی صدر محکمہ دفاع(پینٹا گن)کو نیوکلائی حملے کا حکم دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ برفکیس بھی ایک دوسرے کے پاس چلا جاتا ہے حالانکہ اس بار ایسا نہیں ہوپایا کیونکہ ٹرمپ نے نئے صدر کے حلف برداری میں شامل نہیں ہوئے ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب کسی پرانے صدر نے نئے صدر کو نیوکلیئر لانچ کوڈ ٹرانسفر نہیں کیا ۔ (انل نریندر)

چلو بلاوا آیا ہے ماتا نے بلایا ہے !

چلو بلاوا آیا ہے ماتا نے بلایا ہے جو جنگل میں راجا گودی میں بھیا کو لے کے آجا جیسے بھجنوں سے لوگوں کے دل میں راج کرنے والے بھجن سمراٹ نریندر چنچل کا 80سال کی عمر میں ندھن ہوگیا نریندر چنچل پچھلے کافی وقت سے بیمار چل رہے تھے پچھلے تین دنوں سے وہ دہلی کے اپولو اسپتا ل میں زیرعلاج تھے نریندر چنچل نے پچھلے سال اکتوبر کو اپنے کچھ دوستوں کو سر پریا میں وہا میں واقع اپنے گھر میں بلایا تھا اس دن ان کا 80واں جنم دن تھا انہوں نے کچھ دیر بعد ہی مہمانوں کو الوداع کیا ان کی طیبعت خرا ب چل رہی تھی لیکن یہ تب کسی نے نہیں سوچا تھا کہ بیشک مندر۔مسجد توڑیں (باقی میں ،بے نام ہوگیا )باقی کچھ بچا تو مہنگائی مار گئی ۔(روٹی کپڑا مکان)تونے مجھے بلایا (آجا)چلو بلاوا آیا ہے (اوتار)جیسے صد ا بہار گیتوں اور بھجنوں کو گانے والے نریندر چنچل کچھ مہینوں بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے وہ اپنے پیچھے بیوی اور بیٹا اور بیٹی و کروڑوں چاہنے والے کو چھور گئے ہیں۔ گڑکی نگری منڈی علاقے سے تعلق رکھنے والے نریندر چنچل نے فلمی دنیا ممبئی سے دور دہلی میں اپنا آشیانہ بنایا تھا ان کے دل کے قریب دہلی تھی انہوں نے ہزاروں جگ راتیں اور ماتا کے چوکیوں میں بھجن گائے تھے چونکہ دہلی پر پنجابیت کا گہرا اثر رہا ہے اس لئے یہاں پر نریندر چنچل کی گائی ماتا کی میٹھوں کو بہت پسند کیا جاتا رہا ہے ۔ نریندر چنچل کا اصلی نام چنچل کھربندہ تھا ۔ان کے نریندر چنچل بننے کی بھی ایک کہا نی ہے دراصل وہ اسکول میں جب پڑھتے تھے تو وہ بہت شرارتی تھے اس لئے ان کے ہندی کے ٹیچر انہیں نریندر چنچل کہہ کر بلاتے تھے اور انہیں یہ نام پسند آگیا اور انہوں نے اپنا نام یہی رکھ لیا چنچل کی زندگی اس وقت بدلی جب راج کپور نے انہیں ممبئی میں سنا جہاں وہ ایک پروگرام میں شامل ہونے گئے تھے ۔دن تھا13اپریل 1973انہیں راج کپور نے بللے شاہ کی غزلوں کو گاتے سنا تو انہیں بوبی فلم میں مندر مسجد توڑے گیت کو گانے کا موقع دیا اس کے بعد امرتسر کے باشندے چنچل نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا جس نے بھی یہ گیت سنا وہ چنچل کا سیدائی ہوگیا ۔نریندر چنچل مانتے تھے کہ اقتصادی اصلاحات کے بعد صبح 10سے 5بجے والے نوکریاں ختم ہونے لگیں تو وہ جگ راتوں کے پروگرا م منعقد کرنے لگے ان کی کچھ حد تک جگہ لے لی ماتا کی چونکیوں نے ان میں چنچل کے دو فلمی گیت ضرور گائے جاتے ہیں : تونے مجھے بلایا شیرا والی چلو بلاوا آیا ہے مات انے بلایا ہے ۔ نریندر چنچل کہتے ہیں کہ وہ جس جگ راتے میں جاتے تھے ان سے ان گیتوں کو ضرور سنانے کی فرمائش ہونے لگتی تھی چنچل کو اس بات کا فخر تھا کہ جگ راتا کلچر کو جوڑتا ہے لیکن منتظمین کا بھجن منڈلی سے اس طرح کی کوئی درخواست نہیں رہتی کہ وہ جو اونچی ہوجاتی ہو میں بہت اپنے آپ میں صحیح ہوں کی جگ راتا کلچر سے وابستہ لوگ ذات کی پیچیدگیوں سے کوئی واستہ نہیں رکھتے بہر حال نریندر چنچل نے کورونا وبا کے بھارت آنے کے بعد اس پر بھی بھجن گایا تھا افسوس یہی ہے کہ ان کا یہ آکری بھجن تھا ۔نریندر چنچل جی کو ہم اپنی شردھانجلی پیش کرتے بیشک وہ اب دنیا میں نہ ہوں لیکن ان کے گیت ہمیشہ امر بنا دیں گے ۔ (انل نریندر)

کسانوں نے ٹھکرایا سرکاری پرستاو ¿ :آندولن جاری رہے گا!

کسان انجمنوں اور سرکار کے سرمیان 11ویں دور کی بات چیت بھی کسی نتیجے پر نہ پہونچنے سے ختم ہوگئی ۔تینوں زرعی بلوں کو واپس لینے کی مانگ پر 58دنوں سے جاری آندولن کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا سرکار اپنے موقف پر اڑی رہی اور کسان انجمنیں اپنے بات پر اٹل ہیں ۔ حکومت نے آندولن کو ختم کرنے کے مقصد سے جھکتے ہوئے کسان انجمنوں کو تجویز دی کہ سرکار ڈیڑھ سال تک پر عمل رک سکتا ہے اگر کسان اپنی تحریک ختم کردیں کسانوں نے سرکار کے اقتصادی بنیاد کو ٹھکر اکر آندولن جاری رکھنے کا فیصلہ لیا کسانوں نے سرکار کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ انہیں زرعی قانون ہی نہیں چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سبھی فائدے کے حامل فصلوں پر ایم ایس پی کا قانون بھی ہر حال میں چاہئے در اصل سرکار کے ڈیڑھ سال تک زرعی قانون نافذ نہ کرنے کی تجویز پر کسان انجمنوں میں الگ الگ رائے تھی ان نیتاو¿ں کی ایک طبقے کی رائے تھی کہ آندولن زرعی قانون منسوخ کرنے کیلئے کیا گیا ہے اور اسے منسوخ کرانے کی مانگ نہیں چھوڑی جاسکتی وہیں کسان نیتاو¿ں کا دوسرا گروپ کا کہنا تھا زرعی قانون ملتوی کئے جانے کی تجویز سرکار کی طرف سے جو دی گئی ہے وہ اب تک سب سے پر کشش تجویز ہے اس کی میعاد دو ڈھائی سال مانگی جاسکتی ہے ۔میٹنگ میں زیادہ تر کسانوں کا خیال تھا کہ سرکار مشکل دباو¿میں آگئی ہے اس لئے اس دباو¿ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔یہی وجہ قانون منسوخ کرنے کی مانگ پر اڈیل کسان نیتا درشن پال نے کہا کسانوں کی قربانی ضائع نہیں جائے گی اور یہ پر امن آندولن اب ملک گیر ہوگیا ہے زرائع کے مطابق میٹنگ میں یہ بھی غور ہوا کہ سرکار کو کسانوں کی طرف سے نئی تجویز بھیجی جائے جس میں قوانین کو کم سے کم تین سال تک روکنے کا حلف نامہ سرکار سپریم کورٹ میں دے فی اور فی ایکڑ ملنے والے تین لاکھ کے زرعی قرض کے لمٹ کو پانچ لاکھ روپئے تک کیا جائے اور شرح سود پرانا ہی رہے ۔متوفی کسانوں کے رشتہ داروں کو معاوضہ ملے ۔سرکار جن فصلوں کی ایم ایس پی پر خرید طے کرتی ہے اس کے بارے میں تحریری یقین دہانی کرائے وہیں سرکار نے زرعی قوانین کی منسوخی کی مانگ کو مسترد کردیا اور کسانوںسے دو ٹوک کہا کہ وہ ڈیڑھ سال قانون ملتوی کرنے سے اچھی تجویز نہیں دے سکتی جمعہ کے روز حکومت اور کسان کے درمیان بات چیت تلخ بھری رہی عام طور پر نرم گو رہنے والے وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں سے صاف کہا کہ کسان انجمنوں نے بات چیت کے اہم اصولوں کی تعمیل نہیں کی ہے اور وہ بار بار آندولن کے آئندہ کے پروگرام اعلان کرتے رہے ۔اب آگے سرکار کسانوں سے کوئی بات نہیں کرے گی۔ وہیں دنیا کے ڈپلومیٹک ماہرین جتنے سمجھدار اور صبر والے ہیں انہوں نے اپنے دلیلوں سے آخر کار سرکار کو جھکا ہی لیا اور وہ مان گئی ہے کہ ڈیڑھ سال تک ان زرعی قوانین کو تاک پر رکھ کر ایک مسترکہ کمیٹی کے تحت ان پر مثبت غور خوض کروائے گی اس نے بنا کہے ہی یہ مان لیا کہ اس نے از خود عدالت کے کندھے پر رکھ کر جو بندوق چلائی تھی اسے کسانوں نے فیل کردیا ماہرین کی کمیٹی اعلان کرکے زبردستی اپنی دال پتلی کروائی اب اپنی عزت بچانے میں لگی ہوئی ہے سرکار کی یہ تجویز اپنے آپ میں ہی یہ ثابت کر رہی ہے کہ ہماری سرکار کوئی بھی بڑا فیصلہ لیتے وقت سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتی اور نہ ہی کیبنٹ میں اور نہ ہی پارلیمنٹ کے اسے زبردستی تھوپنے پر یقین رکھتی ہے یہ کسان آندولن مودی سرکار کے لئے اپنے آپ میں چیتاونی ہے ۔ (انل نریندر)

24 جنوری 2021

پی پی ای کٹ پہن کر 20کروڑ روپے کی چوری !

دہلی کے علاقے کالکاجی میں واقع انجلی جیولری شورام میں 20کروڑ روپے مالیت کے زیورات کی چوری ہوئی تھی شورام کے الیکٹریشین شیخ نور رحمان (25سال نے اس اکیلے اس واردات کو انجام دیا تھا )پولیس نے حرکت میں آتے ہوئے پندرہ گھنٹوں میں ملزم کو کرول باغ علاقہ کے اس کے دوست کے گھر سے اسے گرفتار کرکے سونے و ہیرے سے بنے 25کلو زیورت برآمد کر دکھائے ۔راجدھانی اسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی چوری بتایا جارہا ہے ۔ملزم کی یہ پہلی واردات تھی اس نے پی پی ای کٹ اور دوسرے اوزار وغیرہ آن لائن خریدے تھے واردات کے بعد وہ جیولیری شوروم کے باہر بیٹھے مسلح پانچ سکیورٹی گارڈ کے سامنے سے نکلا تھا ۔جوائنٹ پولیس کمشنر شبھاشیش چودھری نے بتایا کہ ملزم شیخ نوررحمان نے پوری پلاننگ کے ساتھ واردات کو انجام دیا واردات کے ملزم نے پی پی ای کٹ پہنی اور ماسک لگایا اورشوروم کا ملازم ہونے کی وجہ سے اسے پتہ تھا قیمتی جیولری کہا رکھی جاتی ہے شوروم سے وہ صرف مہنگی جیولری ہی چرا کر لے گیا تھا ۔کمشنر نے بتایا منگلوار کی صبح 11:30بجے شوروم کھلنے پر چوری کا پتہ چلا ۔شورام کے منیجر ابھیجیت چکرورتی نے کالکاجی ایس ایچ او کو سندیپ گھئی کو اس کی اطلاع دی ۔وہاں سے اے ایس آئی ونو د کمار و انسپکٹر ایس ایچ او سندیب گھئی موقع پر پہونچے اور کئی تھانہ انچارجوں کو بلا کر الگ الگ ٹیمیں بنائیں تفتیش میں پتہ چلا کہ چھت کی پلاسٹک روڈ و کھڑکی کو توڑ کر ملزم اندر گھسا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج ، چوری کے طریقہ و ہمنگی جیولری کو چرانے سے لگا کہ واردات ایسے آدمی نے کی ہے جسے شوروم کی پوری جانکاری تھی موقع واردات پر شورام کے سبھی ملازم موجود تھے مگر صرف الیکٹریشین نور رحمان چھٹی لے کرمغربی بنگال اپنے گھر گیا تھا جبکہ جانچ میں اس کے موبائل لوکیشن دہلی میں شو کررہی تھی پولیس کو اس پر شک ہوا پولیس نے منگل کی رات قریب ڈھائی بجے اسے کرول باغ سے گرفتار کر لیا اور چرائی گئی جیولری لے کر مغربی بنگال بھاگنے کے فراق میں تھا ملزم پریشر والا کٹر اور دیگر سامان موقع پر چھوڑ کر فرارہو گیا تھا پولیس ملازمین نے کٹر پر لکھے نمبر کا پتہ کیاپوچھ تاچھ میں آن لائن فلپکارٹ سے خریدے جانے کی جانکاری ملی ۔ملزم نے اپنے موبائل سے ہی کٹر کا آرڈر دیا تھا اس سے پولیس کا شک یقین مین بدل گیا ۔ملزم نور رحمان بارہویں پاس ہے ۔لیکن اسے تکنیکی جانکاری اچھی ہے فیس بک سمیت دیگر شوشل پلیٹ فام پر بھی اس نے اپنے کاو¿نٹس بنا رکھے ہیں ملزم نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ وہ ساتھ کام کرنے والے ملازمین کو سبق سکھانا چاہتاتھا کیوں کہ وہ ملازم اس کی بے عزتی کرتے تھے ۔بتایا جارہا ہے کہ مالک نے بھی اس کی بے عزتی کی تھی ان سب کو سبق سکھانے کے لئے اس نے اس واردات کی سازش رچ کر اکیلے چوری کی ملزم نور کا کہنا تھاکہ اپنا بدلا لینے کے لئے اس واردات کو انجام دیا بہرحال اس سب سے بڑی چوری کو دہلی پولیس پندرہ گھنٹہ میں سلجھا لیا اور چوری کا سامان بھی برآمد کر لیا۔ (انل نریندر)

کملا دیوی ہیرث!

امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر بن کر تاریخ رقم کرنے والی محترمہ کملا دیوی ہیرث نے کہا ہے ان کی والدہ نے مسلسل ان پر اپنا بھروسہ بنائے رکھا اور ان کے اس بھروسہ نے انہیں اس اونچے مقام تک پہونچایا ہے اور اپنی ماںکو اس بات کا کریڈٹ دیا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو یہ بات یاد دلائی کہ بھلے ہی ہم ینتر آکا ر اپنے سپنے تعبیر کرنے والے ہو سکتے ہیں لیکن ہم آخری نہیں ہوں گے ہیرث نے اپنی سورگیہ ماں شاملہ گوتھاتن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے پورے کرئیر کے دوران سین فرانسیکو میں فرسٹ خاتون ڈسٹرک اٹارنی سے لے کر کیلوفونیا کی فرسٹ خاتون اٹارنی جرنل کے طور پر خدمات انجام دینے تک اور امریکی سینٹ میں کیلیفورنیا کی فرسٹ سیاہ فام خاتون کے طور پر نمائندگی کرنے تک ہمیشہ ہی اپنی ماں کی ان باتوں کو یا درکھا ،کملا دیوی ہریث کے عہدے کا حلف لینے کے بعد پہلا تبصرہ تھا : ہم امریکن خواب دیکھتے ہی نہیں بلکہ انہیں پورا بھی کرتے ہیں ۔56سالہ ہیرث نے ایک ساتھ کئی ریکارڈ توڑے ہیں ، وہ پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام وائس پریسیڈنٹ ہیںایک ہندوستانی-امریکی کی شکل میں اس عہدے پر پہونچنے والی پہلی خاتون ہیں ۔کملا دیوی ہرث نے 46ویں صدر جوبائیڈن سے پہلے حلف لیا ۔حلف لینے کے بعد انہوں نے کہا ہم نے چاند کی طرف اڑان بھری اور وہاں امریکہ کا جھنڈا لہرایا ۔ہم باہمت اور زیادہ اہمیت والے ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں ابراہم لنکن مارٹن لوتھر کنگ کے خیالات کو بھی پیش کیا ہیرث نے اس بات پر زور دیا دیش کے صدر جوبائیڈن نے امریکیوں سے مشکل دور سے نکلنے اور متحد ہونے کی کوشش کرنے کی اپیل کی ہے ۔ہندوستانی نزاد ہیرث نے تاریخی حلف برداری تقریب میں امریکہ کی پہلی نائب صدر کی شکل میں حلف لیا ۔انہوں نے لنکن میموریل کے باہر کہا ،کئی معنوں میں یہ لمحہ ایک دیش کی شکل میں ہمارے کردار کو دکھاتا ہے اور یہ بھی دکھاتا ہے کہ مشکل وقت مین بھی ہم کون ہیں ؟ہم صرف خواب نہیں دیکھتے اور ان کو تعبیر بھی کرتے ہیں اور ہم یہ نہیں دیکھتے کیا ہو رہا ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوسکتا ہے ۔ہم کملا دیوی ہیرث کو امریکہ کے نائب صدر بننے پر مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ امریکہ میں ہوئی تقسیم کو کم کرنے میں اور دیش کو آگے بڑھا کر اپنا نام بھی روشن کریں گی اور بھارت کا بھی ہے بھارتیوں کو ان سے بہت امیدیں ہیں ۔ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...