Translater
21 فروری 2026
اجیت پوار طیارہ حادثہ!
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت دادا پوار کے طیارہ حادثہ کے قریب 20 دن بعد ان کے بیٹےنے چُپّی توڑی ۔چھوٹے بیٹےجے پوار نے ایک بے حد جذباتی پوسٹ کے ذریعے جانچ پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔انہوں نے سیدھے طور پر کہا کہ طیارہ کا بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے ۔بتادیں کہ کسی بھی طیارہ حادثہ میں جب سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے تو اس کے اندر بلیک باکس نہ تو آگ سے اور نہ پانی سے زمین پر گرنے سے ،دھماکہ سے ضائع نہیںہوتا ۔20 برسوں تک وہ محفوظ رہتا ہے ۔جے پوار نے صاف طور پر کہا ہے کہ بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ دعویٰ کیاجارہا ہے ۔جنتا کو سچ جاننے کاحق ہے ۔جے پوار نے سسٹم کو کٹھ گھرے میں کھڑا کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ طیارہ حادثہ میں بلیک باکس آسانی سے ضائع نہیں ہوسکتے۔مہاراشٹر کی عوام کو اس دل دہلا دینے والے حادثہ کا پورا اور صاف ستھرا اور بلا تنازعہ سچائی جاننے کا حق ہے ۔جے پوار نے جہاز کی کمپنی وی ایس آر کے خلاف فوراً سخت قدم اٹھانے کی مانگ کی ہے ۔اس کمپنی کے اڑانے اور کنٹرول کرنے پر فوری پابندی لگائی جانی چاہیے ۔اگر جہازوں کے دیکھ بھال میں ہوئی متعلقہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے ۔پوسٹ کے آخر میں انہوں نے بے حد جذباتی ہو کر لکھا : مس یو ڈیڈ ۔ادھر اجیت پوار کے بھتیجے اور ممبر اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ اجیت دادا پوار کی اچانک موت میں سازش کا اندیشہ ہے ۔روہت پوار نے ممبئی میں دعویٰ کیا کہ کئی ذرائع سے مفصل معلومات اکٹھی کرنے کے بعد وہ پریس کانفرنس کررہے ہیں اس میں روہت پوار نے کہا کہ انہیں ایئر لائنس کمپنی وی ایس آر بکنگ سنبھالنے والی کمپنی ایرو اور پائلٹ سمت کپور پر شبہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں جانکاری اس لئے اکٹھی کرنی پڑی کیوں کہ جانچ ایجنسیاں بہت دھیمی رفتار سے کام کررہی ہیں ۔اجیت دادا پوار کے پریوار اور این سی پی نے اب اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ تیزکر دی ہے نائب وزیراعلیٰ سمترا پوار نے وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس سے مل کر اس معاملے میں اعلیٰ سطحی جانچ کی درخواست دی ہے ۔پرفل پٹیل، سنل تٹکرے اور پارتھ پوار جیسی ہستیوں کی موجودگی میں سرکار سے مانگ کی ہے ۔اس حادثہ کے پیچھے کی ہر سازش یا لاپرواہی کا پردہ فاش ہونا چاہیے ۔ان کا سیدھا نشانہ اس جہاز رانی کمپنی پر ہے جس کا طیارہ اس حادثہ کا شکار ہوا ۔الزام لگ رہا ہے کہ کیا جہاز کی سروسنگ او ر سیکورٹی پیمانوں میں کوئی کمی برتی گئی تھی ؟ 28 جنوری کو ہوئے اس حادثہ میں اجیت پوار سمیت پانچ لوگوں نے اپنی جان گنوائی ۔اس واقعہ کے بعد سے ہی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ عام ایک حادثہ یا کوئی گہری سازش ؟ محترم اجیت دادا پوار کی اچانک موت سے پورے مہاراشٹر کو گہرا دھکا لگا ہے یہ کہنا ہے ایم پی سپریہ سلے کا این سی پی گروپ نے مانگ کی ہے کہ اس حادثہ کی جانچ پوری ہونے تک وزیر جہاز رانی کے رام موہن نائیڈو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے ۔ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ ا س معاملے کی منصفانہ آزادانہ جانچ ضروری ہے تاکہ حادثہ کے اسباب کا صاف پتہ چلے لیکن ایسا ہوگا کیا ؟
(انل نریندر)
19 فروری 2026
نکھل گپتا کو ہوسکتی ہے 40 سال کی جیل!
ایک ہندوستانی شخص نے جمعہ کو نیویارک میں علیحدگی پسند لیڈر گرو پنتھ سنگھ پنو ںکے 2023 میں قتل کی ناکام سازش رچنے کے الزام میں قصور قبول کر لیا ہے ۔پتہ نہیں پچھلے کچھ دنوں سے بھارت اور امریکہ کے ستارے ٹکرا رہے ہیں ۔ایک کے بعدا یک نئی پریشانی کھڑی ہوتی جارہی ہے ، پہلے گوتم اڈانی کا معاملہ پھنسا پھر بھارت -امریکہ ٹریڈ ڈیل پر تنازعہ کھڑا ہوگیا اور اب پنوں کے قتل کی سازش میں معاملہ پھنس گیا ہے ۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ یہ اس معاملے میں پہلا جرم قبول کیا گیا ہے جسے کنیڈا اور امریکہ کے حکام نے بھارت سرکار کی جانب سے حریفوں کے قتل کی مہم سے جڑابتایا تھا ۔امریکہ میں ہندوستانی نژاد کے نکھل گپتا ، علیحدگی پسند لیڈر گروپنتھ سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش تیار معاملے میں اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت نیویار ک کی ایک عدالت میں ہورہی ہے ۔اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نکھل گپتا نے قتل کے لئے سپاری دینے ،قتل کی سازش تیاری کے ساتھ ہی منی لانڈرنگ کی سازش سے جڑے تینوں الزامات کو بھی قبول کر لیا ہے ۔گپتا کو 26 مئی کو سزا سنائی جائے گی ۔ امریکہ میں ان تینوں الزامات میں ملوث طور پر 40 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ گپتا کو 30 جون 2023 کو چیک رپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا ۔بعد میں اس کی حوالگی کرائی گئی ۔الزام ہے کہ نکھل گپتا نے سازش ہندوستانی سرکاری ملازم رہے وکاس یادو کے کہنے پر رچی تھی اس سلسلے میں وکاس یادو کو سی سی کہہ کر مخاطب کیا گیا ۔اس سلسلے میں مارچ 2025 میں ہی وزارت خارجہ سے کہا تھا کہ وہ( وکاس یادو )اب بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔ چارج شیٹ کے مطابق ، 2023 میں یادو نے گپتا کو قتل کا کام سونپا تھا ۔یادو کے کہنے پر گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ قائم کیا جو اصلیت میں امریکی جانچ ایجنسی سی آئی اے کا ہی انڈر کور ایجنٹ تھا ۔وکاس یادو نے ایک ساتھی کے ذریعے اس ہٹ مین کو ایڈوانس کے طور پر 15 ہزار ڈالر دیے ۔2023 میں ہی وزارت خارجہ نے کہا تھا نکھل گپتا کو تین بار چیک جمہوریہ میں کونسلیٹ مدد دی گئی ۔یوں تو معاملہ امریکہ میں 2023 سے چھایا ہوا ہے، لیکن اس معاملے میں اس حالیہ واردات کی ٹائمنگ کو بھی اہم ماناجارہا ہے ۔جب بھار ت اور امریکہ کے تعلقات بہت صحیح نہیں ہیںاور دونوں دیشوں کے درمیان ٹریڈ ڈیل کو لے کر ایک تجارتی انترم سمجھوتہ کو اگلے مہینے تک قطعی شکل دینے کی امید ہے ۔ایسے میں بھارت کے لئے آگے کی راہ آسان نہیں نظر آتی ۔محکمہ انصاف نے پنوں کے قتل کو سازش اور 18 جولائی کو کنیڈا میں خالصتانی شخص نجر کے قتل سے بیچ میں لنک جوڑے ۔ایف بی آئی کے ڈائرکٹر رومن روز ہارٹ سونی نے کہا کہ امریکی شہری صرف بولنے کی آزادی کا سوال کرنے کے لئے ٹرانس نیشنل ریپریشن نشانہ بنا ۔یعنی اذیت کے لئے کسی دوسرے دیش کی سرزمین کا استعمال کی سازش ہے ۔اس لفظ کا استعمال کنیڈائی حکام نے کنیڈا میں نجر کے قتل پر کیا تھا ۔بھار ت سرکار کے اشارے پر کی گئی بتایا گیاہے ۔جسے بھار ت سرے سے خارج کر چکا ہے۔ بھارت میں پچھلے 7 نومبرمیں امریکہ کی جانب سے اٹھائی گئی سیکورٹی تشویشات پر غور کرنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی جانچ ایجنسی تشکیل دی گئی تھی ۔اکتوبر 2024 میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پنوں کے خلاف ناکام قتل کی سازش سے جڑے محکمہ انصاف کے مقدمہ میں جس شخص (وکاس یادو) کا نام سامنے آیاتھا ۔وہ اب بھارت سرکار کا ملازم نہیں ہے ۔بنیادی طور سے کمیشن میں سرکاری افسر کو سی سی کہا گیا ۔اکتوبر 2024 میں ہی امریکی حکام نے دوسرا ترمیم مقدمہ سامنے پیش کیا ۔جس میں سی سی کی پہچان وکاس یادو کے طور پر کی گئی ۔بعد میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمیں مطلع کیا گیا مقدمہ میں تذکرہ شدہ شخص اب بھارت میں کام نہیں کرتا ہے ۔ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اب وہ بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نکھل گپتا کے خلاف امریکی عدالت میں کیس آگے کیسے بڑھتا ہے ۔یہ دیکھنا ہوگا کہ وکاس یادو کو لے کر امریکہ بھارت پر کتنا دباؤ بناتا ہے اور بھار ت سرکار آگے کیا کرے گی؟
(انل نریندر)
17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین فائلس!
آپ نے تارا کنڈ فائلس ،کیرالہ فائلس ،کشمیر فائلس اور بنگال فائلس کا تو نام سنا ہی ہوگا ۔اور آپ میں سے بہت سوں نے انہیں دیکھا بھی ہوگا لیکن آج میں آپ کو ورلڈ فیمس ایپسٹین فائلس کے بارے میں بتاتا ہوں ۔جیفری ایپسٹین کون تھا؟ ایپسٹین فائلس جی ہاں یہی وہ دو لفظ ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے انتظامیہ کو مہینوں سے پریشان کررہے ہیں ۔جیفری ایپسٹین امریکہ کا ایک امیر فائنانسر تھا اس پر عورتوں اور نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے سنگین الزام لگے تھے ۔وقت کے ساتھ اس نے کافی دولت بنائی اور اس کے بعد اس کے رشتے بڑے کاروباریوں ، سیاستدانوں اور بین الاقوامی ہستیوں سے جڑتے چلے گئے ۔ سال 2019 میں اسے امریکہ کے فلوریڈا اور نیویارک میں نابالغوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔اس سے پہلے وہ 2008 میں بھی ایسے ہی معاملوں میں جیل جاچکے تھے لیکن تب اسے بہت کم سزا ملی تھی ۔اگست 2019 میں جیل میں اس کی پراسرار طریقہ سے موت ہو گئی ۔جسے امریکی سرکار نے خودکشی بتایا۔ ایپسٹین فائلس ان سرکاری دستاویز کا ایک مجموعہ ہے ۔جو ان کے خلاف جانچ سے وابستہ ہیں ۔ان میں پوچھ تاچھ کے ریکارڈ عدالت سے وابستہ کاغذات اور دیگر ثبوت شامل ہیں ۔ایپسٹین کی پر اسرار موت کے بعد سے ہی لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اس کے معاملوں میں کن کن لوگوں کا ہاتھ رہا ہے ۔جب یہ فائلیں سامنے آئی تو کئی بڑے ناموں کاذکر ہونے کے سبب بحث اور تیز ہو گئی ۔چلڈرن جنسی استحصال کے قصوروار جیفری ایپسٹین کے جنسی جرائم کو لے کر ٹرمپ انتظامیہ مسلسل بحران سے لڑرہا ہے ۔امریکہ کی ہاؤس اوور سائیڈ کمیٹی نے ایپسٹین سے جڑے لاکھوں دستاویز جاری کئے ہیں۔ان میں ریل ،ویڈیو ،چیٹ وغیرہ شامل ہیں ۔معاملہ ایک نابالغ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے بعد سامنے آیا ۔تب ایک لڑکی (14 سال) کے والدین نے فلوریڈا پولیس کو بتایا کہ جیفری ایپسٹین نے اپنے پاس بیچ پر واقع گھر میں ان کی بیٹی سے چھیڑ چھاڑ کی تھی ۔پورے گھر میں لڑکیوں کی تصویریں ملیں اور اسے ایک نابالغ لڑکی سے جسم فروشی کا قصوروار ٹھہرایا گیا ۔ایپسٹین سے جنسی جرائم کی شکل میں رجسٹرڈ کیا گیا ۔11 سال بعد 2019 میں اس پر پھر الزام لگاکہ وہ نابالغ لڑکیوں کو سیکس ریکٹ نیٹورک چلارہا ہے ۔جیل میں ٹرائل کا انتظار کرتے ہوئے اس کی موت ہوگئی جسے خودکشی بتایاگیا ۔ان دنوں میں بہت سارے دستاویز جمع ہوئے ہیں ۔جیسے متاثرین او ر گواہوں کے بیان ان کے گھروں میں الماری میں ملی چیزیں۔ 2025 کے امریکہ کے محکمہ انصاف کے ایک وزیر کے مطابق معاملے میں ایک دی مائی کے پاس 300 گیگا وائٹ (جی بی) سے زیادہ ڈیٹا اور ثبوت ہیں ۔محکمہ انصاف کہتا ہے کہ اس میں متاثرین کی بہت ساری تصویریں اور ویڈیو ہیں ۔جو بچیوں کے جنسی استحصال سے وابستہ ہیں ۔انہیں سامنے نہیں لایاجاسکتا کیوں کہ نیا قانون ڈسکور پہچان چھپانے کی اجازت دیتا ہے ۔یہی جانکاری ایپسٹین فائلس ہے جو وقتاً فوقتاً جاری ہو رہی ہے ۔ایپسٹین فائلس سے جڑے 30 لاکھ نئے دستاویز جاری کئے گئے ہیں ۔کچھ میٹر پہلے ہی سامنے آچکا ہے ۔جیفری ایپسٹین سے جڑے معاملوں میں ایک انتہائی سنگین اور چونکانے والاالزام سامنے آیا ہے امریکہ کے محکمہ قانون کے ذریعے حال ہی میں جاری کئی فائلوں میں نابالغ لڑکیوں اور عورتوں کی درندگی کا انکشاف ہوا ہے ۔ایک فائل کے مطابق دو غیر ملکی عورتوں کی موت جنسی رشتوں کے دوران گلا پھاڑنےکے سبب ہوئی تھی ۔بعد میں ایپسٹین کے ایک ملازم نے انہیں نیو میکسیکو میں واقع فارم ہاؤس جوٹورینچ میں دفنا دیا ۔اس میں ایپسٹین کی قریبی ساتھی میکسویل بھی شامل تھی ۔یہ میکسویل کون تھی ، اس کے بارے میں پھر بتاؤں گا ۔ایک دیگر فائل کے مطابق ایک نابالغ لڑکی نے خود کو ہیومن اچیور کی طرح استعمال کئے جانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ای میل کے مطابق ، جو ٹو رینچ میں لڑکیوں کو لمبے عرصے تک بند رکھا گیا اور ان سے زبردستی حمل ٹھہروایا گیا ۔بچے پیدا کرائے گئے اور پیدائش کے بعد یہ بچے غائب ہو گئے۔ میں نے جیفری ایپسٹین جو کہ ایک انسان نہیں تھا جانور سے بھی بدتر یا اس کے بارے میں کچھ جانکاری دی ہے کیوں کہ یہ معاملہ ابھی چل رہا ہے اس لئے جو بھی اپڈیٹ ہوگا آپ تک لانے کی کوشش کروں گا ۔اس انسان خور کی پرتیں کھلتی جارہی ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...