Translater

19 اگست 2017

اور اب بہار میں سرجن گھوٹالہ، کروڑوں کا غبن

اور اب بہار میں سرجن گھوٹالہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس گھوٹالہ میں سنیچروار تک 7 ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں۔ جمعہ کواس میں 7 لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔ مہا گھوٹالہ میں محکمہ بہبود کے100 کروڑ روپیہ کے غبن کا پتہ چلا ہے۔اب تک 750 کروڑروپئے کے غبن کے معاملہ سامنے آچکے ہیں۔ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں بھی 50 لاکھ روپئے کے غبن کا معاملہ اجاگر ہوا ہے۔ بھوارجن کے بعد بھاگلپور میں سب سے زیادہ محکمہ بہبود میں رقم کی ہیرا پھیرا کی گئی ہے۔ اس درمیان گرفتار بھاگلپور ڈی ایم کے اسٹینوگرافر پریم کمار سمیت 7 ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ بھاگلپور میں سرکاری رقم کے غبن میں این جی او سرجن اور بینک کی جعلسازی میں اب تک 418 کروڑ روپئے کے غبن کے کاغذات مل چکے ہیں۔ بہار کے چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ نے سنیچر وار کو بتایا کہ اس بات کی جانچ کرائی جائے گی کہ این جی او کے کھاتہ میں بینک نے سرکار کی جو موٹی رقم ٹرانسفر کی وہ کہاں گئی؟ چیف سکریٹری نے کہا پورے معاملہ کی جانچ کافی سوجھ بوجھ سے ہورہی ہے۔ سبھی ضلعوں کو ماضی گذشتہ میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سبھی محکموں سے جڑے بینک کھاتوں کا ویری فکیشن کرائیں۔ بھاگلپور کے سرجن گھوٹالہ پر آر جے ڈی چیف لالو پرسادیادو نے وزیر اعلی نتیش کمار و ڈپٹی وزیراعلی سشیل کمار مودی سمیت بھاجپا کے کئی نیتاؤں پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے پشوپالن سے بھی بڑا گھوٹالہ قراردیا ہے اور سشیل مودی کو گھوٹالہ بازوں کا سرپرست بتایا۔ انہوں نے پوچھا کہ وزیر اعلی کی زیرو ٹالیرینس کی پالیسی کہاں گئی؟ اتنا بڑا گھوٹالہ سرکاری سرپرستی کے بغیر کیسے ہوگیا؟ لالو نے معاملوں کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ کرپشن کے معاملہ میں لگاتار دو مہینے تک پریس کانفرنس کرکے لالو پریوار کو پریشانی میں ڈالنے والے سشیل مودی پر لالو نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ سرجن گھوٹالہ کا نیچر چارہ گھوٹالہ سے ملتا ہے۔ چارہ گھوٹالہ میں مجھے صرف اس لئے ملزم بنادیا گیا کہ محکمہ مالیات کا چارج میرے پاس تھا۔ سرجن گھوٹالہ کے دوران محکمہ مالیات سشیل مودی کے پاس ہے۔
2005ء میں جب نتیش کی سرکاربنی تھی تبھی سے یہ محکمہ سشیل مودی کے پاس رہا ہے۔ سرجن گھوٹالہ میں اب ایک دوسرے پر الزام منڈھنے کا کھیل انتظامی حکام سے شروع ہوگیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹو حکام اپنے دستخط کو جعلی بتا رہے ہیں لیکن بینک حکام انہیں صحیح ٹھہرا رہے ہیں۔ سرکاری رقم گھوٹالہ کی جانچ کی آنچ پٹنہ ، رانچی اور دہلی کے کئی بڑے نیتاؤں تک پہنچ سکتی ہے۔ سرجن کی موجودہ سکریٹری منورما دیوی کی بہو پریہ کمار رانچی کے ایک بڑے کانگریسی نیتا کی بیٹی ہیں۔ یہ نیتا ایک سابق مرکزی وزیر کے بھائی ہیں۔ معاملہ کی جانچ ہورہی ہے۔ دیکھیں گھن کاکیا کیا نکلتا ہے؟
(انل نریندر)

دیش میں آفت کی بارش

دیش بھر میں بھاری بارش سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے۔ بارش نہ ہو تو تب بھی ہائے توبہ اور زیادہ ہوجائے تو تباہی۔ دیش کی چار ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، بہاراور آسام میں بارش سے بھاری تباہی ہوئی ہے۔ اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ میں پیر کو صبح بادل پھٹنے سے 9 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ وہیں اترپردیش اور بہار میں کئی اضلاع زیر آب ہیں۔ آسام میں سیلاب سے بگڑے حالات ہیں اور وہاں جانے والی کئی ٹرینوں کو بدھوار تک منسوخ کردیا گیا۔ اتراکھنڈ میں کیلاش مانسرور مارگ پر ایتوار کی دیر رات مالپا اور بھانگتی نالے سے سارے خطہ میں بادل پھٹنے سے زبردست بارش ہوئی ہے جس میں فوج کے جے سی او سمیت 9 لوگوں کی موت ہوگئی۔ یوپی میں ندیاں طغیانی پر ہیں۔ نیپال کے پہاڑی علاقہ میں لگاتار بھاری بارش کے چلتے نارتھ پروانچل میں بھی ندیوں میں طغیانی ہے اور پردیش کے 40 اضلاع سیلاب سے گھرے ہوئے ہیں۔ کرشی نگر میں رنگ باند پیر کو ٹوٹ گیا۔ اس سے کئی گاؤں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا۔ ہماچل پردیش سمیت ندیوں میں پانی کی سطح بڑھنے سے علاقوں میں ہورہی لگاتار بارش کے سبب ریزروائر کی پانی کی سطح بڑھنے اور ان کا پانی چھوڑے جانے سے پنجاب میں ہزاروں ایکڑ میں کھڑی فصلیں زیر آب ہوگئیں اور سینکڑوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا پینگ ڈیم سے پانی چھوڑے جانے اور دیگر معاون ندیوں کے پانی نے پنجاب کے ترن تارن ضلع میں بیاس ندی کے پانی نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ اروناچل پردیش میں باڑھ کے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں۔ ریاست کے مختلف مقامات پر ٹریفک ٹھپ ہوگیا ہے۔ کئی اضلاع میں وسیع طور پر غذائیت کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ بہاراور نیپال میں ہورہی بارش کے سبب 13 ضلع سیلاب کی زد میں ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں ریل و سڑک رابطہ ٹھپ ہوگیا ہے۔
فوج اور این ڈی آر ایف کی ٹیم کے علاوہ فوج کے دو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جنگی پیمانے پر راحت رسانی اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔ آسام میں 22.5 لاکھ لوگوں کو ریاست کے 21 اضلاع میں آفت آگئی ہے۔ 99 لوگوں کی اب تک موت ہوچکی ہے۔ راحتی کام کے لئے فوج بلائی گئی ہے۔ باڑھ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹ کرکے کہا مرکزی سرکار بہار اور یوپی و آسام میں باڑھ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ راحت کاموں میں مدد کے لئے این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔ بارش سے تباہی کا یہ سلسلہ ہر سال ہوتا ہے۔ دیش کے کچھ حصوں میں پانی کی کمی ہونے سے لوگ مرتے ہیں تو دیگر حصوں میں زیادہ بارش ہونے سے۔ اتنے برسوں میں اس مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نہیں نکل سکا۔ ہمارے پاس سب طرح کے محکمہ ہیں ، اسکیمیں ہیں لیکن حل نہیں۔
(انل نریندر)

18 اگست 2017

کشمیر وادی میں دہشت گردوں پر گھر اور باہر دونوں سے دباؤ

جموں و کشمیر میں جس طرح ہماری سکیورٹی فورس اور جانچ ایجنسیوں نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائی چھیڑی ہوئی ہے اس کے مثبت نتیجے سامنے آنے لگے ہیں۔ ایک طرف این آئی اے کی کارروائی دوسری طرف سکیورٹی فورسز کا نامی آتنکی سرغناؤں کو چن چن کر مارنے سے کہا جاسکتا ہے کہ وادی میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی آہستہ آہستہ فیصلہ کن موڑ پر پہنچتی جارہی ہے۔ ایتوار کی رات ساؤتھ کشمیر کے شوپیاں ضلع میں فوج ، سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس نے دہشت گردوں کی موجودگی کا سراغ پا کر اونیرا گاؤں کی گھیرا بندی کردی اور تلاشی کے دوران جب دہشت گردوں نے گولہ باری شروع کردی تب سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں تین آتنکی مارے گئے اور دو فوجی شہید ہوگئے۔ پوری رات چلی اس مڈ بھیڑ کا کارنامہ یہ رہا کہ اس علاقہ میں حزب المجاہدین کا اہم کمانڈریاسین اٹو عرف غزنوی مارا گیا۔یاسین کا نام فوج کی طرف سے جاری ٹاپ بڑے دہشت گردوں کی فہرست میں بھی تھا۔ یاسین 1996 میں تنظیم میں شامل ہوا تھا اور 2007ء میں گرفتار ہونے کے بعد 2014ء میں چھٹا تھا۔ 2015ء میں حزب المجاہدین کا چیف آپریشن کمانڈر بن گیا۔ وہ 2016ء میں لمبے عرصے تک چلی شورش کو زندہ رکھنے کیلئے ذمہ دار تھا۔ یاسین اٹو کا مارا جانا اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ پچھلے کچھ وقت سے آتنکی گروپوں کا سامنا کرنے کے معاملہ میں فوج اور جموں و کشمیرپولیس کے درمیان تال میل بڑھا ہے اور شاید خفیہ مشینری کو بھی اطلاعات حاصل کرنے میں پہلے سے زیادہ کامیابی ملنے لگی۔ دراصل کچھ وقت پہلے جس طرح مقامی لوگوں کے اکساوے میں آکر پولیس افسر کوپیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا اس کے بعد پولیس محکمہ میں بھی آتنکی تنظیموں کے خلاف ناراضگی پیدا ہوئی اور اس نے اپنی اطلاعاتی مکینزم سے ملی جانکاری کو فوج کے ساتھ شیئرکرنا شروع کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ایک مہینے کے دوران لشکر طیبہ کے سینئر کمانڈر ابو دوجانہ سمیت اے پلس پلان کیٹگری میں رکھے گئے کئی دہشت گردوں کو مار گرانے میں کامیابی ملی۔ امریکہ نے بدھوار کو حزب المجاہدین پر پابندی لگاتے ہوئے انٹر نیشنل آتنک وادی تنظیم قراردیا۔ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اسٹیج پر پاکستان کو بے نقاب کرنے کی بھارت کی کوششوں کے لئے اسے بڑی کامیابی مانا جائے گا۔ کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے میں جٹے پاکستان کے لئے امریکہ کا یہ فیصلہ کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے۔ وادی میں دہشت گردوں پر گھر اور باہر دونوں جگہ سے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

پاکستان کی 70 برس کی آزادی

1947ء کو دونوں بھارت اور پاکستان آزاد ہوئے تھے۔ 70 سال کے اس لمبے سفر میں دونوں دیشوں میں کتنا فرق آگیا ہے ۔ دونوں کی سیاسی تاریخ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان کی سیاست میں 70 سال میں تقریباً ساڑھے تین دہائی تک فوج اقتدار پر قابض رہی ۔ اس دوران پاکستان میں چار فوجی حکومتیں گدی نشیں ہوئیں اور اقتدار کا کنٹرول جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے پاس تھا۔ جنرل ایوب سے لیکر جنرل پرویز مشرف تک ہر دور میں ایک ہی کامن رد عمل سننے کو ملتا رہا جسے چنی ہوئی شہری سرکار کی نااہلی، کرپشن اور دیش کے لئے خطرہ کے دعوے سب سے اوپر تھے۔ دیش کی فوج چاہتی ہے کہ سبھی معاملوں میں اس کی صلاح سے سرکاریں چلائی جائیں۔ ڈیفنس ماہر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ باہری سکیورٹی کا بوجھ ان پر ہے۔ اندرونی سکیورٹی اور دہشت گردی سے مقابلہ بھی فوج کررہی ہے۔شہری حکومت کا رول محدود ہے اس لئے جب صلاح مشورہ کی کارروائی چلتی رہتی ہے تب تک حالات ٹھیک رہتے ہیں۔ حسن عسکری کے مطابق دوسرا اہم اشو بجٹ مسئلوں کا ہے۔ تیسرا ایسا ہوتا ہے کہ خود کو مضبوط بنانے کے لئے کچھ وزیر غیر ضروری طور سے فوج کی تنقید کرتے رہتے ہیں جس سے رشتوں میں کٹھاس آجاتی ہے۔ حال ہی میں نواز شریف کورٹ سے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نااہل قرار دئے جانے کے بعد جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچے۔ اس یاترا کے دوران ان کی تقریروں میں درپردہ طور پر کہیں کہیں براہ راست طور پر بھی فوج اور عدلیہ کو ان کی برخاستگی کے لئے قصوروار ٹھہرایا گیا۔ عدالت کے ذریعے نواز شریف کو ہٹانے کے فیصلے نے دیش کو ایک بار پھر شہری سرکار کی ترجیحات کی بحث کو جنم دیا ہے۔ نواز شریف دو بار بھاری اکثریت سے اقتدرا میں آئے۔ یہ تیسرا موقعہ تھا جب انہیں عہدے سے ہٹنا پڑا لیکن اس بار رشتے بگڑنے کے کیا اسباب رہے؟ ڈیفنس ماہر عائشہ صدیقی کا خیال ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ خارجہ پالیسی تھی۔ نوازشریف خارجہ پالیسی کو آہستہ آہستہ بدلنا چاہ رہے تھے اور قومی سکیورٹی کے سوال کو ایک نیا باب دینے کی کوشش کررہے تھے۔ اس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے سینٹرمیں بھارت نہیں رہتا،یہ فوج کی دکھتی رگ تھا اور اس لئے میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا۔ تاکہ میاں نواز صاحب کو ہٹایا جاسکے۔ ڈیفنس ماہر شجاع نواز کا کہنا ہے کہ فوج اور سول حکومت کے درمیان تضاد کی اہم وجہ بھی قول و فعل میں فرق بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سسٹم صرف باتوں سے نہیں بلکہ اسے کیسے چلاتے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں صرف سول حکومت یا فوج کی غلطی نہیں بلکہ یہ پوری پاکستان کی عوام کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی بنیادی ضرورت گڈ گورننس کی ہے۔ جب سرکار لوگوں کی ضرورت پورا کرے گی اور ایمانداری سے کام کرے گی تو جنتا بھی اس کا ساتھ دے گی۔دوسری کوئی طاقت اسے بے دخل ہیں کرسکتی۔ پاکستان میں جہاں پچھلے 70 برس میں فوج کا سیاسی رسوخ بڑھا ہے وہیں چینی اور کھاد کارخانوں سے لیکر بیکری تک کے کاروبار میں بھی اس کی سانجھے داری میں اضافہ ہوا ہے تو کیا اقتدار کے سبب فوج کے کاروبار میں فروغ یا مضبوطی آئی ہے؟ پاکستان میں تاناشاہی کے دور میں صحافی بھی جمہوریت کی بحالی اور اظہاری آزادی کی لڑائی میں شامل رہے۔ سینئر صحافی راشد رحمان کا کہنا ہے کہ تاناشاہی کا ساتھ دینے والے صحافیوں کو بری نظر سے دیکھا جاتا تھا، لیکن آج کل حالات مایوس کون ہیں۔ ٹی وی چینلوں اور کچھ حد تک اخباروں میں جو خبریں چل رہی ہیں وہ فوج کا رابطہ عامہ شعبہ طے کرتا ہے۔ اسے جان بوجھ کر نہیں تو ڈر یا خوف یا کسی اور وجہ سے صحافیوں میں اپنالیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہ تو صحافت کی ضرورت پوری کررہا ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھا رہے ہیں۔
(انل نریندر)

17 اگست 2017

معصوم بچوں کی موت کا ذمہ دار کون؟(2)

گورکھپور کے بابا راگھوداس میڈیکل کالج اسپتال میں آکسیجن کی کمی سے 64 لوگوں کی موت کا سانحہ اپنے آپ میں اس لئے بھی چونکانے والا ہے کیونکہ آکسیجن سپلائی رکنے کی وجہ سے اتنی موتیں ہونے کا یہ دیش میں پہلا معاملہ ہے۔ بیشک اس میں ہم یوگی سرکار کو برا بھلا کہیں اور ان کی تنقید کریں لیکن اصل قصوروار تو وہاں کا انتظامیہ، آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی، وہاں کے سینئر ڈاکٹر و افسر بھی کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں موت سے لڑتے معصوموں کی زندگی آکسیجن کے جس پتلے سے پائپ پر ٹکی تھی ، ڈاکٹروں نے ہی کمیشن کے لالچ میں اس پائپ کو کاٹ دیا۔ بچوں کی موت کے بعد اب میڈیکل کالج کے ملازم بتا رہے ہیں کہ میڈیکل کالج کے پرنسپل راجیو مشرا کی بیوی عام کمیشن سے دو فیصدی زیادہ چاہتی تھی اس لئے انہوں نے آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی کی ادائیگی لٹکائے رکھی تھی۔ ذرائع کے مطابق پرنسپل راجیو مشرا اپنی بیوی کے ذریعے سے آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی پشپا سیلس سے کمیشن کی ڈیمانڈ کرتا تھا۔ ان کی بیوی اسی اسپتال میں آیوش کی ڈاکٹر ہیں۔ الزام ہے کہ بیوی نے پشپا سیلس سے دو لاکھ اور پہلے سلنڈر سپلائی کرنے والی کمپنی سے 50 ہزار روپے کا کمیشن مانگا تھا۔ جسے نہ دینے پر اس کا پیمنٹ روک دیاگیا۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ 9 اگست 2017 اور اس سے ٹھیک ایک مہینے پہلے 9 جولائی کو جب وزیر اعلی آدتیہ ناتھ نے اسپتال کا دورہ کیا تو دونوں بار دو دو گھنٹے کی میٹنگ انتظامیہ سے ہوئی تھی۔ اس میں پرنسپل میں اسپتال کے 400 ملازمین کی پیمنٹ نہ ملنے ، تقرریوں اور تعمیرات سے متعلق مسائل پرتو بات کی لیکن آکسیجن اور پیمنٹ سے متعلق کوئی تذکرہ نہیں ہوا جبکہ جولائی سے ستمبر ماہ کے درمیان گیس کی کھپت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ دماغی بخار کی بیماری اس سیزن میں بڑھ جاتی ہے۔ پھر سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر گورکھپور کے ڈی ایم چوکس ہوتے تو یہ حادثہ ٹالا جاسکتا تھا۔ حالانکہ سرکار نے آکسیجن کی سپلائی میں رکاوٹ ہونے سے بچوں کی موت سے انکار کیا ہے ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ آکسیجن سپلائی کو لیکر سپلائر کمپنی اور میڈیکل کالج کے درمیان کافی دنوں سے خط و کتابت چل رہی تھی۔ کالج کے پرنسپل کے ساتھ ضلع انتظامیہ کو بھی اس کی جانکاری تھی۔ کمپنی نے 1 اگست کو پرنسپل کو لکھے خط کی جانکاری ڈی ایم گورکھپور کو بھی دی تھی۔ مقامی میڈیا کئی دنوں سے آکسیجن کی سپلائی ٹھپ ہونے کا اندیشہ جتا رہا تھا۔ اس کے باوجود ضلع انتظامیہ نے اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنے سطح پر کوئی کوشش نہیں کی۔ کہا جارہا ہے کہ اگر گورکھپور کے ڈی ایم سنجیدہ ہوتے اور میڈیا رپورٹ اور کمپنی کے خط کو سنجیدگی سے لیتے تو شاید موجودہ حالات سے بچا جاسکتا تھا۔ واقف کار بتاتے ہیں کہ راجیو روتیلا کے خلاف ویجی لینس انکوائری میں آگے جانچ کی ضرورت بتائی گئی ہے اس کے باوجود انہیں وزیر اعلی کے آبائی ضلع کا کلکٹر بنا دیا گیا۔ اس حادثہ کے بعد یوگی سرکار نے پردیش کے سبھی اسپتالوں سے آکسیجن سلنڈر کی تفصیل مانگتے ہوئے اسٹیٹس رپورٹ دینے کو کہا ہے۔ انتظامیہ نے سبھی اسپتالوں کو آکسیجن سپلائی کرنے والے ٹھیکیداروں کے بقایا جاتا کی ادائیگی کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ وزیر صحت سدھارتھ سنگھ نے سوائن فلو کے بڑھتے مریضوں کو دیکھتے ہوئے اسپتالوں کو بھی چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی کے ساتھ بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل ، وائس پرنسپل ڈاکٹر کفیل خاں کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اب وہ کسی بھی اہم عہدے پر نہیں رہیں گے۔ یہ کارروائی سی ایم کے دورہ کے بعد کی گئی ہے ڈاکٹر کفیل مریضوں کی مدد کرنے کو لیکر سوشل میڈیا میں سرخیوں میں آئے تھے لیکن ان پر کئی سنگین الزامات لگے ہیں۔ دماغی بخارمحکمہ کے انچارج کے طور پر ڈاکٹر کفیل سیدھے طور پر ذمہ دار بنتے ہیں۔ اس پورے حادثہ کی باریکی سے جانچ ہونی چاہئے اور ان قصورواروں کا پردہ فاش ہو اور انہیں سزا ملے۔ اس کے ساتھ ہی اترپردیش کے تمام سرکاری اسپتالوں ، ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کا بھی پردہ فاش ہونا چاہئے۔ بیشک ریاستی حکومت اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی لیکن اصل قصوروار تو وہاں کے ڈاکٹر ، مقامی انتظامیہ ہی ہے۔ اب تفصیل سے بتاتے ہیں ڈاکٹر کفیل کے بارے میں گورکھپور میڈیکل کالج میں جس ڈاکٹر کفیل احمد خاں کو سوشل میڈیا نے مسیحا بنا دیا اس کے بارے میں نئی نئی جانکاریاں سامنے آرہی ہیں۔ کفیل احمد کی بیوی ڈاکٹر شبستاں خاں گورکھپور میں میڈی اسپرنگ چلڈرن ہاسپٹل چلاتی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ ڈاکٹر کفیل سرکاری اسپتال میں نوکری کرتے ہوئے بھی اپنی بیوی کے اسپتال سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں اور وہاں پریکٹس کرتے ہیں۔ اسپتال سے ملی جانکاری کے مطابق ڈاکٹر کفیل آبروریزی کے مبینہ ملزم بھی ہیں۔ ایک مسلم طبقہ کی عورت نے ان پر اپنے کلنک میں آبروریزی کا الزام لگایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملہ میں کفیل ایک سال تک جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے۔ کفیل گورکھپور میڈیکل کالج میں نوکری کرتا ہے لیکن اس کا خود کا نرسنگ ہوم ہے جس میں وہ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک مریضوں کو دیکھتا ہے ۔اسی بات سے سمجھا جاسکتا ہے کفیل کی کتنی توجہ سرکاری نوکری پر ہے۔کفیل نے لوکل میڈیا کے دوست بنا رکھے ہیں اور انہی کے دم پر اس نے بچوں کی موت کے بعد اپنے حق میں خبریں چھپوا لیں۔ ہمیشہ مسلمان مسیحا کی تلاش میں رہنے والے دہلی کے میڈیا نے اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا اور راتوں رات کفیل کی تاریخ جانے بنا اسے ہیرو بنا دیا۔ بتایا جاتا ہے آبروریزی کے معاملے میں پھنسے کفیل پر متاثرہ نرس کا الزام تھا کہ 15 مارچ 2015ء کو کفیل اور اس کے بھائی کاشف جمیل نے نوکری کے بہانے کلنک بلا کر اس کے ساتھ آبروریزی کی تھی۔ متاثرہ نرس جب شکایت درج کرانے تھانے گئی تو اسے بھگادیا گیا۔ پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب سماجوادی پارٹی کے قریبی ہیں پولیس ان کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتی۔ کسی طرح سفارش لگانے کے بعد 19 اپریل کو پولیس نے کیس تو درج کرلیا لیکن کارروائی نہیں ہوئی۔ متاثرہ نرس نے انصاف کے لئے کئی جگہ چکر لگائے آخر ہارکر وہ ہائی کورٹ گئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج نے تین مہینے کے اندر کارروائی کی ہدایت دی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ 6 مہینے بعد خاتون نے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی عرضی دائر کی اور انصاف کی اپیل کی۔ کورٹ کے حکم پر جیل بھیجا گیاکفیل 30 جنوری 2016 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے دوبارہ سماعت کرتے ہوئے پولیس کو پوری جانچ کرنے کے لئے تین مہینے کا وقت دیا۔ عدالت نے اسے توہین کا معاملہ مانتے ہوئے تب گورکھپور کے ایس پی لو کمار کو حکم دیا کہ وہ قصورواروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائے۔ اس کے بعد ایس ایس پی نے کوتوالی تھانہ کے ایس او کو حکم جاری کیا اور اس کے بعد ڈاکٹر کفیل کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔ کچھ دن بعد ضمانت پر چٹ کر کفیل نے پھر سے اپنا دھندہ شروع کردیا۔ یہ ہے ڈاکٹر کفیل احمد کی اصل کہانی۔ درجنوں بے قصور وں کی موت کے ذمہ داراسپتال انتظامیہ سے لیکر آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی دونوں پر زبردست لاپروائی اور غیر ارادتاً قتل کا معاملہ بنتا۔ کمپنی نوٹس دینے کی آڑ میں بچ نہیں سکتی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ آکسیجن سپلائی روکنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ یہ چونکانے والی جانکاری بھی آئی ہے کہ جب پشپا سیلس کا 68.65 لاکھ روپے کی ادائیگی روکی گئی اس وقت میڈیکل کالج کے کھاتے میں 1 کروڑ 86 لاکھ روپیہ موجود تھا اس کے باوجود اس کا بل ادا نہیں کیا گیا۔ کیونکہ کمیشن پر تنازعہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ پیمنٹ کس کے کہنے پر روکی گئی؟ جیسا کہ میں نے کہا کہ معصوموں کے اس قتل کی غیر جانبدارانہ ، آزادانہ جانچ ہونی چاہئے اور قصوروار کوئی بھی ہو اپنی ذمہ داری سے نہ بچے۔ یہ نہ تو مذہب کا معاملہ ہے اور نہ ذات کا یہ معصوم بچوں کی موت کا معاملہ ہے۔
(انل نریندر)

15 اگست 2017

معصوم بچوں کی موت کا ذمہ دار کون؟(1)

گورکھپور میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی سے تقریباً 30 بچوں کی موت نہ صرف تکلیف دہ ، چونکانے والا واقعہ ہے بلکہ یہ لاپروائی کی انتہا ہے۔ یہ اس لئے بھی چونکانے والا واقعہ ہے کیونکہ یہ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ کے گورکھپور میں رونما ہوا۔ بتایا جارہا ہے کہ آکسیجن کی سپلائی ٹھپ ہونے سے اتنی اموات ہوئیں کیونکہ پیمنٹ رکنے کی وجہ سے آکسیجن دینے والی کمپنی نے یہاں سپلائی بند کردی تھی۔ دراصل بی آر ڈی میڈیکل کالج 6 ماہ میں 69 لاکھ روپے کی آکسیجن ادھار لے چکا تھا۔ گجرات کی سپلائر کمپنی پشپا سیلس کا دعوی ہے کہ قریب 100 بار خط لکھنے کے بعدبھی پیمنٹ نہیں ہوئی، پیسہ لینے جاتے تو پرنسپل ملتے ہی نہیں تھے۔ ایسے میں 1 اگست کو وارننگ دی گئی اور 4 سے سپلائی روک دی گئی۔ بدھوار سے آکسیجن ٹینک پھٹنے لگا۔ اس کے چلتے جمعرات اور جمعہ کو سنگین حالات کی وجہ سے 30 مریضوں کی موت ہوگئی۔ بتادیں ایک دن پہلے ہی یعنی بدھوار کو یوگی نے میڈیکل کالج کا دورہ کیا تھا لیکن انہیں کسی نے بھی آکسیجن کے سنگین مسئلہ سے واقف نہیں کرایا۔ یوپی سرکار نے موت کی خبروں کی تردید کی ہے اور کہا موتیں آکسیجن کی کمی سے نہیں ہوئی ہیں۔ آکسیجن سپلائی کی کمی کی جانکاری میڈیکل کالج انتظامیہ اور ضلع کے اعلی افسروں کو تھی لیکن اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے میڈیکل ایجوکیشن وزیر آشوتوش ٹنڈن اور اپر چیف سکریٹری میڈیسن اور ہیلتھ انیتا بھٹناگر جین کے ساتھ 9 اگست کو ہی میڈیکل کالج میں ہیلتھ سروسز کا جائزہ لیا تھا اس کے باوجود آکسیجن سپلائی میں دقت کی بات سی ایم تک نہیں پہنچ سکی۔ آکسیجن کی کمی سے 36 گھروں میں 48 مریضوں کی موت نے ہر عام و خاص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ آخر فارم کو آکسیجن کی سپلائی ٹھپ کرنے کا رخ کیوں اپنانا پڑا؟ کئی بار نوٹس کے بعدبھی ادائیگی کیوں نہیں ہوئی؟ ذرائع کے مطابق کمیشن خوری کی لت کے چلتے یہ حالت بنی، آکسیجن سپلائی کرنے والی فرم کے بقایا کی فائل اسی لئے لٹکائی جاتی رہی۔ میڈیکل ایڈمنسٹریشن کے ایک افسر کی بیوی کو فائدہ پہنچانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو افسر کی بیوی کی رائے فرم کے افسرنے سرے سے اس بات کو مسترد کردیا۔ اس کے بعد فرم کی طرف سے بقایا ادائیگی کیلئے جب بھی ملاقات کی گئی تو بجٹ نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے جلد انتظام کرنے کی تسلی دے دی جاتی تھی۔ ادائیگی نہ ہوئی ۔ اتر پردیش کے سرکاری اسپتالوں میں رام راکھا ہے۔ زیادہ تر ڈاکٹر اپنی پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کے مریضوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے۔ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ کے انتخابی حلقہ گورکھپور کے میڈیکل کالج میں جو انہونی ہوئی اس سے صاف ہے کہ ریاستی سرکار کی تمام سختی کے بعد بھی انتظامی مشینری سدھرنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ مشینری بنا سختی دکھائے اور جان لیوا ثابت ہوئی۔ بد انتظامی کیلئے ذمہ دار افسروں کو حقیقت میں جوابدہ بنائے بغیر بات بننے والی نہیں ہے۔ میڈیکل کالج کے پرنسپل یا اسپتالوں کے چیف میڈیسن افسر اس اہم عہدے کو بھلے ہی ڈاکٹر سنبھالتے ہوں لیکن ایک طرح سے یہ انتظامی عہدہ ہوتا ہے کیونکہ سسٹم درست کرنا ان عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس لئے اس واقعہ کے لئے وہ ہی ذمہ دار ہیں۔ اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ یوگی سرکار آخر ان میڈیکل کالجوں کے ساتھ ساتھ دیگر چھوٹے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بد انتظامی کو کب تک برداشت کرے گی؟ آخر کب تک عام آدمی ایسی لاپروائی کا شکار بنتا رہے گا؟ پورے معاملے کی جانچ ہونی چاہئے اور جو بھی قصوروار ہے اس پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ اگر سرکار کی پالیسی اور انتظامی خامیاں ہیں تو وہ فوراً دور کرنی ہوں گی۔ ان معصوموں کی موت کوئی عام اور معمولی واقعہ نہیں ہے جسے نظر انداز کیا جاسکے۔ (جاری)
(انِل نریندر)

جاتے جاتے بے وجہ تنازعہ کھڑا کر گئے حامد انصاری

نائب صدر کی میعاد پوری کرنے کے موقعہ پر محمدحامد انصاری تنازعہ کھڑا کر گئے۔ راجیہ سبھا ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا دیش کے مسلمانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے اور خوف کا ماحول ہے۔ نائب صدر کے طور پر حامد انصاری کا جمعرات کو آخری دن تھا۔ یعنی دیش کے آئینی عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ حامد انصاری کی بات پر تنازعہ کھڑا ہونے اور اس سے عدم اتفاق جتایا جانا فطری ہے اس لئے اور بھی کیونکہ انہوں نے اتنی بڑی بات اپنا عہدے چھوڑتے وقت کہی۔ جاتے جاتے حامد انصاری ایسا کام کر گئے جس سے نہ صرف نائب صدر کے عہدے کو ٹھیس پہنچے بلکہ مسلم فرقے کا بھی بٹا کر گئے۔یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر وہ مسلم سماج کو مبینہ طور پر غیر محفوظ دیکھ رہے تھے تو ایسا کہنے کے لئے کس بات کا انتظار کررہے تھے؟ کیا اپنے 10 سالہ عہد کے خاتمے کا ؟ یہ بھی سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ آخر وہ اس نتیجہ پر کب اور کیسے پہنچے کہ مسلمان بھارت میں ڈر کے سائے میں جی رہے ہیں؟ بہتر یہی ہوتا کہ وقت رہتے اور موقعہ پر اپنی بات کہتے ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے سابق صدر پرنب مکھرجی نے وقتاً فوقتاً کہی ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو شاید سرکار ان کی بات پر غور کرتی اور سماج بھی ان کے تجزیئے کو صحیح پس منظر میں دیکھتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں جب وہ نائب صدر کے عہدے پر فائض تھے تو نہ تو انہیں مسلمانوں کی یاد آئی اور نہ ہی کسی دیگر اقلیتی فرقے کی؟ 10 سال مزے میں مکھن ،ملائی،حلوہ کھاتے اور غیر ملکی دورہ کرتے رہے تو انہیں مسلمانوں کی یاد نہیں آئی۔ جب گدی چلی گئی تو وہ ایک سیکولر شخص سے فرقہ پرست شخص بن گئے یا پھر ٹی وی اینکر نے کہا کہ عہدہ چھوڑتے وقت وہ ایک مسلمان بن گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انصاری کو عہدہ مار لگ گئی تھی کہ انہوں نے سرکار کے اعلی لیڈروں کو کہلوا بھیجا تھا کہ ذہنی اور جسمانی طور سے ان کی صحت بہت بڑھیا ہے اور وہ اپنی تیسری پاری بھارت کی نیا کو بطور صدربننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ حامد انصاری کو ایسا ہرگز بھی نہیں کہنا چاہئے تھا ۔ کیونکہ بھارت میں مسلمان کے خلاف ایسی کوئی ہائے توبہ نہیں ہوئی ہے کیا انہیں معلوم نہیں کہ مسلمان صرف اللہ کے سوائے کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ حامد انصاری نے یہ نشاندہی کرنے کیلئے کہ مسلمان خوف کے سائے میں ہے، گؤ رکشکوں کے حملوں کا حوالہ دیا اور ساتھ ہی کہا کہ الگ الگ لوگوں سے ایسا سنا ہے کیا کچھ لوگوں سے سنی باتیں یہ طے کرنے کی بنیاد بن جاتی ہیں کہ 18سے20 کروڑ کی وسیع آبادی والی مسلم اکثریت کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے؟ اس سے انکار نہیں کہ بے لگام گؤرکشکوں کی غنڈہ گردی کے کئی معاملہ سامنے آئے ہیں لیکن ان چند واقعات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچنا تل کا تاڑ بنانا ہے کہ مسلمان ڈرے ہوئے ہیں۔ شری حامد انصاری نے عہدے سے ہٹنے کے موقعہ پر بھارت کے سماجی حالات پر جو رائے زنی کی ہے اسے لیکر ایک طبقہ بھاری احتجاج کررہا ہے کہ شری انصاری مسلمانوں کے خوف کے ماحول میں یا عدم تحفظ میں رہنے کا ذکر کرکے مودی سرکار کی پالیسیوں کی تلخ تنقید تب کررہے ہیں جب وہ عہدہ چھوڑنے والے تھے۔ پچھلے 10 سال سے وہ اسی سسٹم کا حصہ بنے ہوئے تھے اور سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ مرکز میں حکمراں ہونے کے بعد مودی سرکار کے عہد میں پورے دیش میں فرقہ وارانہ دنگوں میں کمی آئی ہے۔
(انل نریندر)

13 اگست 2017

دیوالیہ جے پی انفراٹیک میں پھنسے 30 ہزار فلیٹ الاٹمنٹ

اپنے گھروں کا خواب سجائے بیٹھے ہزاروں لوگوں کوبڑا جھٹکا لگا ہے۔ مشہور جے پی گروپ کی سب سے بڑی کمپنی جے پی انفراٹیک اور امرپالی گروپ کی تین کمپنیوں کو جمعرات کے روز دیوالیہ اعلان کردیا گیا ہے۔ نیشنل کمپنی لا ٹربیونل (این سی ایل ٹی) نے الگ الگ بینکوں کی عرضی پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔ اس سے تقریباً 47 ہزار زیر تعمیر فلیٹ خریدنے والوں پر سیدھا اثر پڑے گا۔ جے پی انفراٹیک پر قریب 8365 کروڑ روپئے کا قرض ہے۔ ٹریبونل نے بینک کی عرضی منظور کرتے ہوئے انویلسی اینڈ بینک کرپٹی بورڈ کے تحت تجویز تیار کر پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے ان ہزاروں سرمایہ کاروں کے گھر کا خواب پورا ہونے کی امیدوں کو زبردست جھٹکا لگا ہے جنہوں نے بڑی رقم ایڈوانس میں دی ہوئی ہے۔ کمپنی نوئیڈا گرینوں میں 27 ہزار جبکہ جمنا زون میں 3500 فلیٹ بنا رہی ہے۔ حالانکہ اسے مالی حالات بہتر کرنے کیلئے 271 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اس دوران وہ ایسا نہیں کرسکی تو اس کی پراپرٹی ضبط کرلی جائے گی۔ جے پی گروپ نے گرینو میں گولف کورس بنا کر علاقے میں اپنی چھاپ بنائی تھی۔ کام اور کمپنی کی ساکھ کو دیکھتے ہوئے جب اترپردیش میں بسپا کی سرکار بنی تو کمپنی نے نوئیڈا سے لیکر آگرہ تک پیر پسارے اور کامیابی بھی ملی، لیکن نوئیڈا سے لیکر آگرہ تک جمنا ایکسپریس وے اور اسمارٹ سٹی میں کروڑوں روپے کھپ گئے لیکن جب ریٹرن نہیں ملی تو کمپنی کے برے دن شروع ہوگئے۔ ادھر اقتصادی مندی اور نوٹ بندی کے بعد کمپنی کی مصیبت سے باہر نکلنے کا موقعہ بھی جاتا رہا۔ پردیش میں 2007ء میں جب بسپا سرکار آئی تھی تو جمنااتھارٹی کی معرفت پردیش سرکار سے معاہدہ ہوا تھا کہ گرینو سے لیکر آگرہ تک 185 میٹر لمبا اور 100 میٹر چوڑا جمنا ایکسپریس وے بنایا جائے گا۔ جے پی گروپ نے اپنے خرچ پر ایکسپریس وے بنایا تھا۔ اس کے بدل میں گروپ کو اتھارٹی نے 2500 ایکڑ زمین دی تھی۔ ایکسپریس وے بنانے میں گروپ کو قریب 14 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے۔9 اگست2012ء کو جب ایکسپریس وے کا افتتاح ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کیا تھا تو سوچا گیا تھا کہ یہاں پر بڑی تعداد میں مسافر سفر کریں گے اور معاہدے کے مطابق 38 سال تک موٹی کمائی گروپ کو ملے گی۔ اسی وقت دہلی سے متھرا این ایچ۔ 2 اور غازی آباد سے لیکر علیگڑھ این ایچ۔1 بھی چوڑا ہوگیا۔ اس سے مسافروں کی تعداد جمنا ایکسپریس وے پر زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ قریب 20 ہزار گاڑیاں ہر روز ابھی بھی وہاں سے گزرتی ہیں لیکن اس سے گروپ کا خرچہ بھی پورا نہیں نکل پارہا ہے۔ گروپ کو ایک اور جھٹکا تب لگا جب 2011ء میں گروپ نے نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے پر بھی ٹول ٹیکس لگانے کی کوشش کی لیکن لوگوں کے احتجاج کے چلتے یہ کام نہیں ہوسکا جبکہ معاہدے میں تھا کہ گرینو سے متھرا تک ایکسپریس وے چالو ہونے کے بعدنوئیڈا ،گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے بھی جے پی گروپ کو سونپ دیا جائے گا۔ 2007-2017 ء تک سپا ۔بسپا سرکار رہی۔ زیادہ تر پروجیکٹ جے پی گروپ کو اسی کے عہد میں ملے۔ فارمولہ ون ریس ٹریک 18 اکتوبر 2011 ء کے افتتاح کے موقعہ پر جے پی گروپ نے دیش کی نامی گرامی ہستیوں کو بلایا تھا لیکن بسپا چیف کے علاوہ کوئی بڑا لیڈر تقریب میں شامل نہیں ہوا تھا۔ جب پردیش میں سپا کی سرکار بنی تو گروپ پر بسپا کا ٹھپہ لگنے کے سبب سپا نے نزدیکیاں نہیں بڑھائیں۔ ابھی حال میں اترپردیش میں بھاجپا کی سرکار نے دوری بنا رکھی ہے۔ جے پی انفراٹیک کا معاملہ ریزرو بینک کی طرف سے پہچان کئے گئے ان 12 معاملوں میں شامل ہے جن پر بینکوں کو صلاح دی گئی تھی کہ وہ اتھارٹی میں دیوالیہ کارروائی شروع کردیں۔ اس لئے یہ جے پی انفراٹیک کے علاوہ مونٹ اسپات جوتی اسٹکچرس الیکٹریک اسٹیل ، ایم ٹیک، آٹو بھوشن اسٹیل، بھوشن پاور اینڈ اسٹیل، لینکو انفراٹیک، اے بی جی شپ یارڈ، آلوک انڈسٹریزاور ایرا انفراٹیک اینڈ انجینئرنگ جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔
(انل نریندر)

ہزاروں کروڑ کی پراپرٹی کا مالک وجیہ پت پائی پائی کو محتاج

کبھی برطانیہ میں اکیلے جہاز اڑا کر بھارت آنے والے دیش کے بڑے امیروں میں شمار 12 ہزار کروڑ روپے کے ریمنڈ گروپ کے مالک وجیہ پت سنگھانیہ کے آج سڑک پر آجانے کی تکلیف دہ خبر پڑھی۔ 78 سالہ وجیہ پت سنگھانیہ آج پائی پائی کو محتاج ہیں ،ایسا ان کا کہنا ہے۔ اور ان کی اس قابل رحم حالت کیلئے بقول ان کے کوئی باہری نہیں بلکہ ان کا بیٹا گوتم سنگھانیہ ذمہ دار ہے۔ مکیش امبانی کے اٹالیہ سے بھی اونچے گھر میں رہنے والے وجیہ پت کو ممبئی کی ایک سوسائٹی کے کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ مالا بار ہلس میں اپنے 36 منزلہ جے کے ہاؤس میں ڈپلکس گھر کے لئے وجیہ پت نے ممبئی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔ ممبئی ہائی کورٹ میں وجیہ پت کے وکیل ونائر مینڈن نے بتایا کہ سنگھانیہ نے کمپنی میں اپنے سارے شیئر بیٹے کو دے دئے تھے۔ ان کی قیمت قریب 1 ہزار کروڑ روپے تھی۔ گوتم نے اب انہیں بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی گاڑی اور ڈرائیور بھی چھین لئے ہیں۔ سب سے رئیس لوگوں میں شمار وجیہ پت کا ایوی ایشن اینڈ فلم صنعت سے بھی رسوخ تھا۔ دنیا بھر میں سوٹنگ اور شٹنگ کے لئے مشہور ریمنڈ کمپنی کی بنیاد 1925ء میں رکھی گئی تھی۔ پہلا ریٹیل شوروم 1958 ء میں ممبئی میں کھلا۔ کمپنی ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور جہاز رانی بزنس میں شامل رہی۔ وجیہ پت نے کمپنی کی کمان 1980ء میں سنبھالی تھی اور اسے جدید صنعت گروپ کی پہچان دی۔ 1986 میں پریمیم برانڈ پارک ایوینیو لانچ کیا۔ فیسیبل ڈریس اور نئی اسٹائل کے چاہنے والے مردوں کیلئے مکمل رینج دستیاب کرائے۔ ہندوستانی ایئرفورس میں کمانڈرکے اعزاز سے نوازا۔1994 ء میں 24 دن میں 34 ہزار کلو میٹر اڑان بھری اور 1998 ء میں برطانیہ سے بھارت تک اکیلے مائیکرو لائٹ جہاز اڑا کر لائے۔ پدم بھوشن سے نوازے گئے۔ دسمبر 2005 سے دسمبر 2006ء تک ممبئی کے شیرف رہے۔ ایسے آدمی کے ساتھ ایسا برتاؤ ہو تشویش اور افسوس دونوں کاباعث ہے اگر وجیہ پت سنگھانیہ کی شکایت صحیح ہے تو یہ ہر ماں باپ کے لئے نصیحت ہے کہ ان کو اپنے ہاتھ پاؤں کبھی نہیں کٹوانے چاہئیں۔ آج کی اولاد کا کچھ پتہ نہیں۔حالانکہ بزرگوں کو حکومت نے پراپرٹی کی سکیورٹی کی ذمہ داری دے دی ہے۔ اگر سینئر سٹی زن کا بیٹا یا بیٹی یا قانونی وارث پراپرٹی اپنے نام رضامندی سے یا ڈرا دھمکا کر کرانے کے بعد ان کی دیکھ بھال یا ان کی پرورش نہیں کرتا تو پراپرٹی خالی کروائی جاسکتی ہے۔ اس سے سینئر سٹی زن اب پراپرٹی معاملے میں بچوں سے پریشان نہ ہوں اور وہ سیدھے عدالت جا سکتے ہیں۔ سنگھانیہ پریوار دیش کے جانے مانے صنعتی پریواروں میں سے ہے میں بھی شخصی طور سے کچھ سنگھانیہ کو جانتا ہوں لیکن وہ تو ایسے نہیں ہیں۔ ویسے بھی وہ مالواڑی اسٹائل سے بھگوان سے ڈرنے والے لوگ ہیں۔ پتہ نہیں کہ گوتم ایسا کیوں کررہا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...