Translater

14 جنوری 2012

پاک سرکار بنام فوج بنام عدلیہ بنام عمران جم کر لڑائی جاری ہے


Published On 14th January 2012
انل نریندر
پچھلے 15 روز میں میں نے اسی کالم میں پاکستان کو لیکر دو آرٹیکل لکھے تھے۔ پہلا تھا اگر زرداری دوبئی سے واپس پاکستان لوٹے تو ایک نہایت خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے'۔ یہ آرٹیکل تب لکھا تھا جب آصف علی زرداری اچانک دوبئی بھاگ گئے تھے۔ دوسرا آرٹیکل 4 جنوری کو لکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا ''چوراہے پر کھڑا پاکستان''۔ میری دونوں باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی ماحول اتنی تیزی سے بدل رہا ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ دراصل اندر ہی اندر کھیل کیا ہورہا ہے؟ کچھ باتیں طے ہیں۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اب آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو ایک منٹ بھی برداشت کرنا نہیں چاہتی۔ زرداری اور گیلانی ایک طرف تو کیانی اور پاشا ایک طرف دونوں ہی ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں۔ الزام تراشیوں کا دور جاری ہے۔ بیچ میں کھڑے ہیں تحریک انصاف پارٹی کے چیف و سابق کرکٹر عمران خاں۔ عمران خاں کی مقبولیت کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ انہیں فوج اور آئی ایس آئی کی بھی حمایت اندر خانے مل رہی ہے۔ فوج چاہے گی عمران کے ہاتھوں میں پاکستان کی باگ ڈور سونپ دی جائے۔ ایک بہت بڑا فیکٹر پاکستانی عدلیہ کا ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری لگتا ہے فوج کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کو ہرانے میں بھی جسٹس چودھری نے فوج کے کہنے پر قابل قدر کردار نبھایا تھا۔ فوج نے پاکستانی عدلیہ کے ذریعے سے مشرف کو مقدموں میں ایسا پھنسایا کے وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ فوج سامنے بھی نہیں آئی اور اس کا کام ہوگیا۔ ابھی بھی آصف علی زرداری کو اسی جال میں پھنسایا جارہا ہے۔ قابل غور ہے کہ میمو گیٹ معاملے میں دو دن پہلے ہی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ کوئی ایماندار شخص نہیں ہیں۔ اس سے سرکار اور عدلیہ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ زرداری کے لئے سپریم کورٹ ایک بڑا درد سر بن گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے گیلانی سے صاف کہا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملے پھر سے کھولنے کا آخری موقعہ ہے۔
منگل کو پاکستان سپریم کورٹ نے وزیر اعظم اور صدر کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہائی پروفائل ''کرپشن'' روکنے میں وہ ناکام رہے تو ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ اشارہ صاف تھا زداری اگر پاکستان میں ڈٹے رہے تو وہ جیل بھی جاسکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں امریکہ کی۔ امریکہ ۔ پاکستان کے درمیان رشتے نہایت خراب ہوگئے ہیں۔ اسامہ کے معاملے کے بعد سے ہی آپسی تلخی شروع ہوئی جو بڑھتی ہی گئی۔ ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ ۔ پاکستان میں فوجی حکومت اب برداشت نہیں کرے گا۔ وہ فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن وہ زرداری سے بھی خوش نہیں ہے۔ چناؤ میں ابھی دیر ہے اس لئے اسے بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کرے۔ جنرل پرویز مشرف بھی اسی مہینے لندن سے لوٹنے کی بات کررہے ہیں۔ انہیں وارننگ دے دی گئی ہے کہ اگر وہ پاکستان لوٹیں گے تو انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ مشرف نے کہا کہ وہ پاکستان ہر حالت میں لوٹیں گے۔ پاک فوج کا ایک طبقہ یہ بھی چاہتا ہے فوج کی کمان ایک بار پھر مشرف کو سونپ دی جائے یہ ہیں پاکستانی عوام ۔ بدقسمتی سے شطرنج کے اس سیاسی کھیل میں کہیں بھی شامل نہیں ہیں جبکہ سب سے اہم ہے کہ پاکستانی عوام کیا چاہتی ہے کیا ہونا چاہئے۔ اتنا طے ہے وہ آصف علی زرداری اور گیلانی حکومت سے بیحد پریشان ہے۔ کرپشن اتنا بڑھ گیا ہے کہ مسٹر ٹین پرسنٹ اب مسٹر سینٹ پرسنٹ بن چکے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سرکار نے دیش کو لوٹ لیا ہے اور سرکاری خزانہ خالی ہوگیا ہے۔ کل ملاکر پاکستان کے حالات دھماکہ خیز ہیں۔ وہ بڑی تیزی سے ایک ناکام ملک کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک مستحکم پاکستان نہ صرف پاکستانی عوام کے حق میں ہے بلکہ بھارت سمیت باقی دنیا کے لئے بھی۔ ہم امیدکرتے ہیں پاکستان جلد مستحکم کی طرف لوٹے گا اور آخری کامیابی پاکستانی عوام کی ہی ہوگی۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Geelani, General Kayani, Imran Khan, Pakistan, Vir Arjun

دگوجے جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی ضرورت نہیں


Published On 14th January 2012
انل نریندر
اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور کانگریس لیڈر دگوجے سنگھ نے ایک بار پھر ایسا بیان دے دیا ہے جس سے ان کی اپنی پارٹی اور حکومت ہی کٹہرے میں کھڑی ہوگئی ہے۔ اترپردیش چناؤ میں مسلم ووٹوں کے پولارائزیشن کی کانگریسی جدوجہد میں آخرکار جنوبی دہلی کا بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کا جن بوتل سے باہر نکل ہی آیا ہے۔ دگوجے سنگھ کا پروجیکٹ اعظم گڑھ بدھوار کو اس وقت خلاف ہوگیا جب مسلم لڑکوں کی زبردست مخالفت کے بعد انہیں بغیر ریلی کئے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اس واقعے سے پریشان دگوجے سنگھ نے کہا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر فرضی تھا لیکن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا خیال ہے کہ انکاؤنٹر صحیح تھا اس وجہ سے ہم نے اس بات کو آگے نہیں بڑھایا۔ دگوجے سنگھ نے یہ بھی بیان اسی اعظم گڑھ میں دیا جو اس انکاؤنٹرکے بعد آتنکی نرسری کی شکل میں دکھایاجانے لگاتھا اس دورے میں مسلم ووٹوں کے پولارائزیشن کی کوشش کررہی کانگریس کے اسٹار کمپینر راہل گاندھی کو اعظم گڑھ کے شبلی کالج سے بغیر ریلی کے واپس جانا پڑا۔ علماء کونسل کے ورکروں نے سال2008ء میں دہلی میں ہوئے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کانڈ کی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے شبلی کالج کے دروازے پر نعرے بازی کی اور راہل گاندھی کا پتلا تک جلایا۔ راہل شبلی کالج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کونسل کے صدر عامرارشادی نے اس بارے میں بتایا کہ انہوں نے راہل کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ اگر راہل بٹلہ ہاؤس کی جانچ ہوئے بغیر اعظم گڑھ آئے تو انہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔دگوجے سنگھ نے پھر دوہرایا کہ میں مانتا ہوں بٹلہ ہاؤس مڈبھیڑ فرضی تھی لیکن پردھان منتری و وزیر داخلہ اسے جائز مانتے ہیں اس لئے ہمیں اپنی جانچ کی مانگ کو چھوڑنا پڑا۔
سیدھے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو کٹہرے میں کھڑا کر اترپردیش میں بھلے ہی دگوجے سنگھ نے اپنے جائزے محسوس کرلئے ہوں لیکن مرکز میں کانگریس اس سے تھوڑا ضرور بے چین ہوگی۔ وہیں مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے اقلیتی ریزرویشن کو دوگنا کرنے کا اعلان کر خود کو اور حکومت دونوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ اعظم گڑھ میں مسلمانوں نے دگوجے سنگھ کی اس صفائی کوکتنا سچ مانا یہ تو نہیں پتہ لیکن انہوں نے اپنی ہی سرکار کے دونوں بڑے لیڈروں کو ضرور کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ یوپی چناؤ کے چلتے مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے دگوجے سنگھ نے منموہن سنگھ اور پی چدمبرم کو کیوں نشانہ بنایا؟ اس پر کانگریس نے کچھ بھی بولنے سے منع کردیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ کانگریس پہلے ہی اس مڈ بھیڑ پر اپنی رائے دے چکی ہے۔ نئے معاملے پر اسے کچھ نہیں کہنا۔ دراصل کانگریس پارٹی دگوجے سنگھ کے اس بیان سے بری طرح پھنس گئی ہے۔ ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔ نہ تو وہ دگوجے سنگھ کی مخالف کرسکتی ہے کیونکہ ان کے سر پر راہل گاندھی کا ہاتھ ہے اور نہ ہی اپنے منموہن سنگھ ، چدمبرم جیسے سینئر لیڈروں کی مخالفت میں جاسکتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے وزیر قانون سلمان خورشید کا بیان بھی تنازعات میں گھر گیا ہے۔ انہیں چناؤ کمیشن کا نوٹس بھی مل گیا ہے لیکن سیاسی نقصان یہی ہے کہ پسماندہ طبقات پر داؤ لگا رہی کانگریس کے خلاف یہ بات جاسکتی ہے کیونکہ اگر اقلیتوں کا ریزرویشن کوٹہ دوگنا ہوتا ہے تو اس سے پسماندہ طبقے کا حق مارا جائے گا لہٰذا پارٹی کے لئے ان کا بیان بھی گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Digvijay Singh, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

13 جنوری 2012

سلمان رشدی کی یاترا کو لیکر یوپی کی سیاست میں بھونچال


Published On 13th January 2012
انل نریندر
اسلامی دنیا میں بدنام سیٹنک ورسس جیسی بیہودہ کتاب لکھنے والے سلمان رشدی کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ یوپی کے چناؤ کے ٹھیک پہلے وہ بھارت آنا چاہ رہے ہیں۔ رشدی کے دورے کو لیکر مسلمانوں میں اچانک بے چینی پیدا ہونا فطری ہی ہے۔ مسلم جماعتوں نے حکومت ہند کو اس مسئلے پر گھیرنا شروع کردیا ہے۔ مسلم لیڈروں کا کہنا ہے پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز رائے زنی کرنے والے رشدی کو بھارت آنے کی اجازت دینے سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ حالانکہ یہ پہلا موقعہ نہیں جب سلمان رشدی بھارت آرہے ہیں۔ لیکن ان کے آنے کے وقت پر ضرور تھوڑا تعجب ہورہا ہے۔ رشدی کے ناول 'دی سیٹنک ورسس' پر تنازعے کے بعد حکومت ہند نے ان کے دورۂ بھارت پر پابندی لگانے کے ساتھ ہی کتاب کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی تھی اور طویل عرصے کے بعد این ڈی اے حکومت نے پہلی بار رشدی کو بھارت آنے کی اجازت دی تھی لیکن کتاب پر پابندی جاری رکھی تھی۔ اب جے پور میں 21 جنوری کو ہونے والے ساہتیہ سمیلن میں رشدی کے ممکنہ دورہ کو لیکر احتجاج کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ علماچاہتے ہیں کہ حکومت ہند سلمان رشدی کو ہندوستان آنے کی اجازت نہ دے۔ اسلامک سینٹر آف انڈیا کی جانب سے منگلوار کو اس سلسلے میں وزیر اعظم کو خط بھی لکھا گیا ہے۔ اس مرکز کے سربراہ مولانا خالد رشید پھرنگی محلی نے کہا کہ سلمان رشدی کو بھارت آنے کی اجازت دینے سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے بھی سلمان رشدی کو لیکر اپنا احتجاج درج کیا ہے۔بھارت میں پیدا برطانوی شہری رشدی کے پاس دراصل پی آئی او کارڈ ہے جو انہیں بغیر ویزا بھارت آنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایسے میں حکومت اگر انہیں روکنا بھی چاہے تو اسے سب سے پہلے تو رشدی کو دیا گیا اوور سیز انڈین سٹی زن کارڈ یعنی پی آئی او واپس لینا ہوگا۔ اس درمیان اپنے مخالفین کو چڑانے کیلئے رشدی نے سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ ٹیوٹر پر پیغام لکھا ہے کہ بھارت آنے کے لئے انہیں کسی ویزا کی ضرورت نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے ایشیا کی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے سب سے پہلے رشدی کے مجوزہ دورہ کو منسوخ کرنے کی مانگ کی تھی۔ حکومت ہند نے فی الحال اپنی طرف سے براہ راست کسی مداخلت سے تو ہاتھ کھڑے کردئے ہیں لیکن اتنا سندیش ضرور دیا ہے جسے بھی شکایت ہے کہ وہ قانون و انتظام کے سامنے اپنی بات رکھے۔ مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا قانون میں اگر ان کے دورہ پر روک لگانے کا سسٹم ہے تو روک لگانی چاہئے لیکن ہم قانون و انتظام سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا انہیں فکر ہے اور جو سمجھتے ہیں کہ کارروائی ہونی چاہئے ، وہ قانون کا سہارا لیں۔ وہیں وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا سرکار مخصوص حالات میں پی آئی او کارڈ یافتہ کو ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگا سکتی ہے۔کیونکہ ان کے دورہ سے قانون و انتظام کے حالات بگڑنے کا خطرہ ہو، دیش کی اندرونی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے معاملوں میں حکومت اس طرح کا فیصلہ لے سکتی ہے۔
سلمان رشدی جیسے بیہودہ مصنف پر ہر مذہبی شخص کو ناراضگی ہونی چاہئے۔ سستی مقبولیت اور چاندی کے چند سکوں کے لئے آپ کسی مذہب یا عالم کا مذاق نہیں اڑا سکتے۔ چاہے وہ سلمان رشدی ہو یا ایم ایف حسین ہوں ہماری نظروں میں تو دونوں نے ایسا کام کیا ہے جس سے انہیں معاف نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے انہیں ایسا کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہئے تھا۔ حسین جیسے مشہور مصور کو بھلا کیا ضرورت پڑی تھی کہ ماں سرسوتی کی بیہودہ تصویریں بنائے؟ کیا رشدی نے یہ کام پیسہ کمانے کے لئے کیا یا پھر سستی شہرت پانے کے لئے۔ رشدی کے مجوزہ دورہ کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ رشدی کے آنے کی آنچ مسلم اداروں تک محدود نہیں ہے یوپی کے چناؤ کی فضا میں بھی اس کی تپش بخوبی محسوس کی جارہی ہے۔عرصے بعد بمشکل مسلم سماج میں جگہ بنا پا رہی کانگریس چناوی ثمر کے دوران نہیں چاہتی کہ ایسا کچھ ہو۔ مسلم ووٹ بدک جائیں گے۔ پردیش کے کانگریسی مسلم لیڈروں نے اس سلسلے میں دہلی دربار میں دستک دے کر رشدی کا دورہ رکوانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ وہیں کانگریس مخالف پارٹی رشدی کے بہانے ایک بار پھر کانگریس کو مسلم مخالف قرار دینے میں لگ گئی ہے۔ مسلمانوں کے سخت احتجاج کے سبب 'دی سیٹنک ورسیس' کو اکتوبر 1988 میں ہی ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے تو14 فروری1989 ء کو ان کی موت کا فتوی جاری کیا تھا۔ جیسا کہ ایک شاعر نے کہا نفرت پھیلانے والے کالے پیلے اکھڑ ادیب نہیں ہو سکتے۔ میں رشدی کو مصنف نہیں مانتا۔ رشدی 'دی سیٹنک ورسیس' بدنیتی ذہنیت سے لکھی ہے اور ان کی بنیادی منشا فوری شہرت پانا تھا۔ مصنف کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہوسکتا۔ پتہ نہیں کس نے انہیں بلایا خاص طور سے چناؤ کے وقت ایسے انعقاد سے پرہیز برتا جانا چاہئے۔ ہوسکتا ہے چناؤ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی نیت رکھنے والے ایسے پروگراموں کے انعقاد کے پیچھے ہوں۔ چناؤ کمیشن کی ذمہ داری ہے وہ اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد پر روک لگائے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Salman Rushdi, Satanic Verses, Vir Arjun

پنجاب میں مقابلہ کانگریس بنام اکالی بھاجپا اتحاد


Published On 13th January 2012
انل نریندر
پنجاب اسمبلی چناؤ کی117 سیٹوں پرچناؤ کے لئے جمعرات کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد وہاں امیدواروں کے پرچہ بھرنے کا کام شروع ہوگیا۔ ریاست میں30 جنوری کو چناؤ ہونا ہے۔ ووٹر لسٹوں کے مطابق ووٹروں کی تعداد قریب ایک کروڑ 74 لاکھ ہے۔ پنجاب کا چناوی مہا بھارت کوروکشیتر سے کم نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس لڑائی میں کوئی کرشن نہیں ہے اور نہ ہی اس بار کوئی دھرم یدھ ہے۔ مہابھارت کی طرح اس بار اس یدھ میں بھی ایک ساتھ بچپن گزارنے، کھیلنے ، پڑھنے ، کھانے پینے ،سونے اور نوجواں ہونے والے دو سگے بھائی وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل اور ان کے چھوٹے بھائی گرداس بادل لمبی اسمبلی حلقے کے چناوی دنگل میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ جس طرح آزادی کے بعد کانگریس کی سیاست نہرو ۔گاندھی خاندان کے ارد گرد گھومتی رہی ہے اسی طرح پنجاب کی سیاست میں بھی گنے چنے خاندانوں کی پریکرما چلتی رہتی ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان خاندانوں میں سے ایک آدھ کو چھوڑ کر کوئی ایسا خاندان نہیں جس نے آزادی کے حصول میں کوئی اہم تعاون دیا ہو۔سردار بھگت سنگھ، سکھدیو، لالہ لاجپت رائے، ڈاکٹر کچلو، مدن لال ڈھینگرا جیسے بڑے لیڈروں جن کے خاندانوں نے اپنا سب کچھ دیش پر نچھاور کردیا وہ وقت کی اندھیری گلیوں میں کھو گئے ہیں اور ان کی جگہ ایسے سیاستدانوں نے لے لی جن کا سماجی سروکار کا دائرہ محدود ہی رہا۔ اگر صحیح طور پر دیکھیں تو ریاست کی سیاست پانچ خاندانوں کے ارد گرد گھومتی رہی ہے۔ پرانے راجا مہاراجاؤں کے طرح انہوں نے بھی ایک دوسرے خاندان میں رشتے داری جوڑ کر اقتدار کے قریب رہنے اور ان کا استعمال کرنے کے جگاڑ بنائے ہوئے ہیں۔ اس وقت بادل پریوار کیپٹن امریندر سنگھ پریوار، کیری پریوار، مجیٹھیا پریوار، چہل پریوار، بے انت سنگھ پریوار اور براڑ پریوار کے نام قابل ذکر ہیں۔ اہم مقابلہ بادل پریوار اور کیپٹن امریندر سنگھ پریوار کے درمیان یعنی کانگریس اور اکالی دل میں ہے۔ پرکاش سنگھ بادل ریاست کے وزیر اعلی ہیں ان کے بیٹے سکھبیر بادل نائب وزیر اعلی ہیں۔ پنجاب اسمبلی چناؤ کی ساری حکمت عملی سکھبیر سنگھ سنبھال رہے ہیں۔ ان کی بیوی ہرسمن کور کا تعلق مجیٹھیا خاندان سے ہے وہ اکالی دل کی ایم پی ہیں۔
ادھر کیپٹن امریندر سنگھ وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ اس وقت کانگریس کے پردیش پردھان ہیں ان کی بیوی مہارانی پرمیت کور ایم پی و وزیر مملکت خارجہ ہیں۔ خالصتان حمایتی نیتا سمرت جیت سنگھ مان ان کے ساڑو ہیں۔ کیپٹن کا دعوی ہے کہ کانگریس چناؤ میں قریب70 سیٹوں پر جیت حاصل کرے گی اور پنجاب میں اگلی حکومت بنائے گی۔ کیپٹن کے سگے بھائی راجہ ملوندر سنگھ نے اپنے ساتھیوں سمیت پارٹی چھوڑ کر شرومنی اکالی دل(بادل) میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ حال ہی میں دربار صاحب کے باہر پردھان منتری منموہن سنگھ کو کالے جھنڈے دکھانا اکالی بھاجپا پلان کا حصہ تھا۔ جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اس مذہبی استھل سے باہر نکل رہے تھے۔ پنجاب میں پچھلے چناؤ میں بھاجپا نے19 سیٹیں حاصل کی تھیں لیکن حال کے کچھ مہینوں میں ان کی ساکھ میں کمی آئی ہے کیونکہ کچھ وزیر اکالی بھاجپا اتحاد چھوڑ چکے ہیں اور پارٹی کوئی قابل قدر سدھار نہیں کرپائی۔ کل ملاکر پنجاب میں زبردست ٹکر کانگریس ،اکالی بھاجپا اتحاد کے درمیان ہونا یقینی ہے۔ بسپا اور دیگر پارٹیوں کا کچھ زیادہ کردار نظر نہیں آرہا ہے۔
Akali Dal, Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Punjab, State Elections, Vir Arjun

12 جنوری 2012

بھنوری دیوی کا قتل ہوایہ طے ہو گیا، ثابت کرنا اہم چیلنج


Published On 12th January 2012
انل نریندر
سی بی آئی نے راجستھان ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ بھنوری دیوی اب زندہ نہیں ہے اور اس نے عدالت سے اس کے شوہر امر چند کی جانب سے دائر عرضی کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ عدالت نے حالانکہ عرضی کو منسوخ کرنے سے انکارکردیا اور سی بی آئی سے آخری رپورٹ 21 فروری تک پیش کرنے کو کہا ہے۔ سی بی آئی کی جانب سے سرکاری وکیل آنند پروہت نے عدالت کے سامنے پیش ہوکر کہا کہ اب بھنوری دیوی زندہ نہیں رہیں اس لئے اب عدالت میں اسے پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی مطلع کیا کہ وہ معاملے کے نتیجوں کے قریب پہنچ گئی ہے اور جلد چارج شیٹ داخل کرنے جارہی ہے۔ بھنوری کا قتل ہوا تھا یہ پہلے سے ثابت کرنا سی بی آئی کے لئے ایک بڑی چنوتی ہوگی۔ لاش کو جلایا گیا پھر ہڈیوں کو توڑا گیا ، جتنا ممکن ہوا چورا بھی کیا گیا۔ اس پر بھی قاتل استھیاں چار مہینے سے زیادہ وقت تک نہر میں رہیں۔ ان سب اسباب سے ڈی این اے ٹیسٹ فیل ہوسکتا ہے اس لئے یہ سی بی آئی کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور نہر سے ملی بھنوری کی گھڑی بڑی امید کی کرن بن گئی ہے۔ قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ قریب 200 ملازمین اور غوطہ خوروں کی مدد سے سی بی آئی نے بھنوری کے باقیات اندراگاندھی نہر سے برآمد کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہ بڑی چنوتی بھی ہے کہ پانی میں تین مہینے سے زیادہ وقت استھیوں کے ڈوبے رہنے سے ڈی این اے کے نتیجے امید کے حساب سے صحیح نہیں آتے۔ اس لئے ڈی این اے کے ذریعے یہ ثابت کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ بھنوری کا مرڈر کیا گیا تھا؟ یہ بھی صاف نہیں ہوتا کہ کون مارا گیا تھا۔ یہ بات تو کم معنی رکھتی ہے کیوں مارا گیا تھا اور کس نے مارا یا مروایا تھا؟اب سارا دارومدار گواہوں پر منحصر ہے ۔ سی بی آئی کے مطابق ان کے پاس مقدمے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ثبوت ہیں جس میں گواہیاں اہمیت کی حامل ہیں۔ ویسے ابھی تو جانچ چل رہی ہے۔ دو تین لوگوں کی تلاش جاری ہے۔ اس لئے اگلی چارج شیٹ سے ہی پتہ چلے گا کہ ان سوالوں کے جواب ہمارا تجربہ یہ بھی ہے کہ مقدمے کے دوران بہت سی باتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر گواہ مکرجاتے ہیں یا بدک جاتے ہیں۔
نہر سے بھنوری دیوی کی گھڑی اور ایک جھمکے کا ملنا اہم ثبوت ہوسکتے ہیں بشرطیکہ کے ان کے خاندان کے لوگ کورٹ میں بھی یہ ہی بات کہیں کہ یہ چیزیں بھنوری کی ہی ہیں۔ اگر وہ یہ کہہ بھی دیتے ہیں تو یہ ثابت کرنا اہم ہوگا کہ قتل کی وجہ سے ہی یہ چیزیں نہر میں پھینکی گئیں اور نہر سے ملیں۔کسی کے ذریعے نہیں پھینکی گئیں؟ جودھپور کی اوسیاں کے جالوڑہ گاؤں کے پاس سے گذر رہی اندرا گاندھی نہرسے غوطہ خوروں نے سنیچر کو بھنوری کی گھڑی، دانت کے ٹکڑے ، کھوپڑی کا حصہ،کان کی بالی اور بھنوری کے ہار کے کچھ موتی سی بی آئی کو امید ہے کہ نہر سے ابھی کچھ اور ثبوت مل سکتے ہیں۔ دہلی سے گئی سی ایف ایس ایل کی ٹیم نے دو دن ضلعے کے لوہاوٹ میں بھنوری کی لاش کو نپٹانے کی جگہوں کا معائنہ کیا۔نہر سے ایک بیلٹ پلاسٹک کی تھیلی میں دو دیسی پستول،چوڑیاں، ایک کٹے میں مٹی و راکھ برآمد کی گئی تھی۔ یہ کامیابی سی بی آئی کو ملزم اوم پرکاش اور کیلاش جاکھڑ کی نشاندہی پر ملی۔ یہ ہی دونوں سی بی آئی کو اس گڈھے تک لے گئے تھے جہاں انہوں نے بھنوری کو لاش کو جلا کر لاش نہر میں بہائی تھی۔ ملزموں نے ڈیمو کرکے بتایا کہ انہوں نے چھرے سے لاش کے ٹکڑے کئے ، پھر لکڑیوں اور پیٹرول ڈال کر انہیں صبح تک جلایا، جلی ہوئی ہڈیوں کو بھی بلے سے توڑ کر دوبارہ جلایا، پھر راکھ بلہ اور چھرا نہر میں ڈال کر بھاگ گئے۔ بلہ نہ ڈوبنے پر اسے پتھر باندھ کر پھینکا گیا۔اور لاش کے جلنے کے نشان مٹانے کے لئے مٹی کھود کر اسے نہر میں ڈال دیا۔ ان حالات میں جہاں قتل کے سارے ثبوت مٹانے کی اتنی کوشش ہو یقینی طور سے سی بی آئی کو کیس ثابت کرنے میں بہت مشقت کرنی پڑے گی۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Vir Arjun

کیمرے سے گیا سوال اور بلو ٹوتھ سے آیا جواب


Published On 12th January 2012
انل نریندر
ہر معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور ایک برا۔ مثال کے طور پر جب سچائی کو اجاگر کیا گیا تھا تو اس کا فائدہ قوت پیدا کرنے میں بھی لگا اور ایٹم بم بنانے میں بھی ہوا۔ یہ منحصر کرتا ہے تکنیک کا استعمال کرنے والے پر اور اس کے مقصد پر۔ میں نے کم سے کم یہ تصور نہیں کیا تھا کہ ایک امتحان میں اس کا ایسے بھی استعمال ہوسکتا ہے جیسے راجدھانی دہلی میں ایمس کے آل انڈیا پوسٹ گریجویٹ میڈیکل امتحان میں ہوا۔ پولیس نے ایتوار کو اس ہائی ٹیک چیٹنگ گروہ کو بے نقاب کیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ایک ڈاکٹر( امتحان دینے والا) دو ایم بی بی ایس ، اور ایک ایم بی بی ایس کورس کے سال دوم کے طالبعلم اور ایک ڈگری یافتہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔ اسپیشل سیل کے ڈپٹی کمشنر اشوک چاند کے مطابق محض 30 منٹ میں امتحان کا پرچہ لیک ہوگیا تھا۔ گروہ نے ہر طالبعلم سے 25 سے30 لاکھ روپے لیکر آدھا درجن طلبہ کا پرچہ ہل کرایا تھا۔ چاند کے مطابق دیش کے سرکاری کالجوں میں پوسٹ گریجویٹ کی 50 فیصدی سیٹوں کو بھرنے کیلئے ایمس کی جانب سے پی جی میڈیکل کامن ٹیسٹ 2012ء کا انعقاد ایتوار کو کیا تھا۔ اس کے لئے 15 ریاستوں میں 150 امتحان گاہ بنائی گئی تھیں۔ ان مراکز میں قریب70 ہزار طالبعلم بیٹھے تھے۔ امتحان دینے ایم او ایس انسپکٹر راجیش کمار نے ایک خفیہ اطلاع پر پرگتی میدان کے پاس جال بچھا کر بلند شہر کے 23 سالہ لڑکے موہت چودھری کو گرفتار کرکے 23 صفحات پر مبنی کتابچہ برآمد کیا۔ موہت نے بتایا اس کے دو ساتھیوں نے نوئیڈا سیکٹر28 میں واقع امتحان گاہ سے پرچہ لیک کیا اور اس کے بعد پولیس نے جیور کے ایک لڑکے کپل کمار اور کرشن پرتاپ کو دبوچ لیا۔ ان سے دو ہائی ٹیک موبائل ،بلو ٹوتھ ڈیوائس لگی دو شرٹ اور ایک ایئر فون برآمدہوا۔
ایمس کے پی جی اسٹیٹ امتحان کا پرچہ لیک کرنے والے اس گروہ کا سسٹم اتنا ہائی ٹیک اور فول پروف و تیز تھا کہ پورے پیج کو لیک کرنے میں انہیں محض23 منٹ لگے۔ ایک منٹ میں ایک پیج اسکین ہوکر میل سے آٹومیٹک اس کے پاس کنٹرول روم میں پہنچ جاتا تھا۔بک لیٹ کے ایک صفحہ اسکین اور میل کرنے میں ایک سیکنڈ کا وقت لگتا تھا اس حساب سے23 صفحے ایک ایک بک لیٹ کے لیک ہونے میں محض23 منٹ لگے۔ اس حساب سے آدھے گھنٹے میں پورا پیپر ان کے ہاتھ میں تھا۔ داخلہ امتحان 10 بجے شروع ہوا اور ساڑھے دس بجے پیپر ان کے پاس تھا۔اجین میں واقع میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کررہا موہت چودھری اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ موہت نے کپل کمار اور کرشن پرتاپ کو فرضی ڈاکٹر دکھا کر فرضی کاغذات کے ذریعے امتحان گاہ کا ایڈمٹ کارڈ حاصل کیا تھا اور ان کے ہاتھوں کی کلائی میں ہائی ٹیک کیمرہ لگا ہوا تھا۔ جب سوال نامے کی بک لیٹ ان کے پاس آئی تو انہوں نے اس کیمرے میں اس کے صفحوں کو اسکین کرلیا۔ یہ بلو ٹوتھ تکنیک سے لیس ایسا فون تھا کہ جیسے ہی پیج اسکین ہوتا تھا کنٹرول روم میں بنے میل پر چلا جاتا تھا۔ کنٹرول روم میں بھیشم سنگھ (ایک کمپیوٹر پروگرامر) میل کے پرنٹ نکال لیتا تھا اور پرنٹ نکال کر بھیشم سنگھ کچھ ماہرین کی مدد سے سوالات کو ہل کرکے امتحان گاہ میں بیٹھے ڈاکٹر کے ایئر فون پر جواب بتا دیتے تھے۔ امتحان دینے والے طلبا نے بھی شرٹ کی کالر میں بلو ٹوتھ چھپا کر کالر سلوا رکھا تھا اور سارا پیپر محض 30 منٹ میں ہل ہوجاتے تھے۔ دیکھئے کہاں جاکر ان لوگوں نے دماغ لگایا اور اس جدید وائر لیس تکنیک کا فائدہ اٹھا۔ یہ اپنے آپ میں ایک عجوبہ تجربہ ہے اور اب بھارت میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں امتحان لینے والے افسران کو اس پر توجہ دینی ہوگی اور بلو ٹوتھ جیسے ڈیوائس امتحان گاہ میں لے جانے پر پابندی لگانی ہوگی۔ اسے کہتے ہیں دماغ کی ہوشیاری۔
AIIMS, Anil Narendra, Daily Pratap, delhi Police, Vir Arjun

11 جنوری 2012

میری دلی مہان میں نقلی سامان کا دھندہ زوروں پر ہے



Published On 11th January 2012
انل نریندر
بلا شبہ بھارت نے بہت ترقی کی ہے ہر سیکٹر میں ہم نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ نقلی سامان بنانے کے میدان میں تو ہم سب کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ راجدھانی دہلی جو شائننگ انڈیا کا شو پیس ہونا چاہئے تھا آج نقلی سامان بیچنے کے لئے مشہور ہورہی ہے۔ دلی پولیس نے سنیچر کے روز نقلی کیڑے مار دوائی پکڑی تو ایک فرضی افسر بھی پکڑا۔ اس چھاپے ماری میں لوگوں کو حیرانی میں ڈال دیا ہے۔ راجدھانی میں خریداری کرتے وقت ذرا بچ کے رہی۔ برانڈڈ سامان سے لیکر نقلی طاقت کی دوائیں تک سب کچھ ملتا ہے۔ دلی کے بازاروں میں غیر ملکی شراب کے شوقینوں کو لگتا ہوگا کہ اسکاچ، وہسکی سستی مل گئی لیکن انہیں یہ نہیں پتہ ہوگا کہ بوتل اصلی ہے یا مال نقلی۔ نقلی نوٹ تو آئے دن ملتے ہی رہتے ہیں۔ دلی پولیس کے کرائم برانچ نے سال2011 میں ایسے گروہ کو بے نقاب کیا جو اس نقلی دھندے میں اصلی نوٹ کمانے میں لگے ہوئے تھے۔ پولیس نے ایسی پانچ یونٹ پکڑیں جو فرضی اسٹیکر بنا کر نامی گرامی اسکاچ کی بوتلوں پر لگائے جارہے تھے۔ 285 اسکاچ کی بوتلیں برآمد ہوئیں جن میں دیسی مال بھرا ہوا تھا۔ بوتل اصلی تھی اور اسٹیکر اتنے پائیدار تھے کہ کوئی دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ نمبر دو کا مال ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں نقلی دوائیں، نقلی دودھ جیسا سامان بکے لیکن میری دلی مہان میں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ راجدھانی کے باشندے دودھ کے نام پر زہر پی رہے ہیں۔ منافع خوروں کی منمانی سے دلی کے 70 فیصدی لوگ ملاوٹی دودھ پینے پر مجبور ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ جانچ کے دوران کئی نمونوں میں صابن کے پاؤڈر کی ملاوٹ پائی گئی۔ کچھ میں اس کا گھول زیادہ ملا تو کئی میں پانی کی مقدار زیادہ بڑھائی گئی۔ یہ سنسنی خیز انکشاف راجدھانی کے مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے دودھ کے نمونے کی جانچ رپورٹ سے ہوا ہے۔بھارتیہ غذائی اسٹینڈرڈ اور تحفظ اتھارٹی کے ذریعے لئے گئے 71 نمونوں میں سے50 نمونوں میں ملاوٹ پائی گئی۔راجدھانی دہلی میں دودھ کی یومیہ کھپت 60 لاکھ لیٹر کے آس پاس ہے جس میں سب سے زیادہ 24 سے25 لاکھ لیڈر دودھ کی سپلائی مدر ڈیری سے کی جاتی ہے۔ چھ ساڑھے چھ لاکھ لیٹر کے آس پاس امول کے ذریعے اور چار چار لاکھ لیٹر دودھ گوپال جی اور دلی ڈیری یوجنا یعنی ڈی ایم ایس کے ذریعے کی جاتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر یعنی دودھیوں اور دوسری کئی ڈیریوں کے ذریعے بھی روزانہ 18 سے20 لاکھ لیٹر دودھ دیا جاتا ہے۔تجارتی ماہرین کی مانیں تو دودھ کی مانگ و سپلائی کے فرق میں کئی کمپنیاں اور منافع خور ملاوٹی دودھ سے پورا کررہے ہیں۔ پورے دیش میں کل 1791 نمونے جانچ کے لئے سرکاری لیباریٹری میں بھیجے گئے تھے ۔69 فیصدی نمونے پیمانوں پر کھرے نہیں اترے۔ دنیا کے کسی مہذب دیش میں دودھ میں ملاوٹ ایسی نہیں ہوتی جتنی ہمارے دیش و دہلی میں ہوتی ہے۔ دہلی میں تو دوا بھی نقلی بک رہی ہے۔
نقلی دواؤں سے مریضوں کی حالت بہتر کے بجائے خراب ہو رہی ہے۔یہاں تک کہ قوت بخش دوائیں بھی نقلی بیچی جارہی ہیں۔ ان میں دھنیا پاؤڈر ملایا جارہا ہے۔ حال ہی میں فرید آباد اور بریلی میں ایسی نقلی دوا بنانے والی فیکٹریاں پکڑی گئی ہیں۔ ان معاملوں میں 20 لوگوں کو گرفتار کرکے 64 لاکھ روپے مالیات کی دوائیں اور چار مشینیں بھی ضبط کی گئیں۔ تیل میں ملاوٹ کرکے فرضی واڑہ جعلسازی کرنے والے بھی شکنجے میں آگئے ہیں۔ پولیس نے بھنڈولی کے دو ایسے کارخانوں میں 12 ہزار لیٹر بلومٹی کا تیل ،10 ہزار لیٹر سے زیادہ کالا تیل اور 33 ہزار لیٹر نقلی ایل ڈی او و 10 ہزار سے زیادہ آر پی او برآمد کیا ہے۔اتنا ہی نہیں فرضی فرینڈ شپ کلب و مساج پارلر بھی لوگوں کو چونا لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے تین گروہ کو بے نقاب کر 45 لوگوں کو پکڑا گیا ہے۔ ان میں 36 عورتیں 9 مرد ہیں۔ ان سے ایک کار ،2 لیپ ٹاپ، 62 موبائل برآمد کئے گئے ہیں۔ لوگوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر نقلی تقرر نامہ تک دیا جارہا ہے۔ایسے تین گروہ کو کرائم برانچ نے پکڑا ہے۔ ان میں 345 نقلی تقرر نامے اور درخواستیں برآمد ہوئی ہیں۔انٹر نیٹ پر نقلی لاٹری نکالنے کا جھانسہ دینے والے و غیر ملکی بھی پکڑے گئے ہیں ان لوگوں نے قریب 2 کروڑ کی دھوکہ دھڑی کی تھی۔ کریڈٹ کارڈ کی جعلسازی کا دھندہ بھی پکڑا گیا ہے۔ نقلی اسٹامپ پیپروں کا بھی دھندہ زوروں پر ہے چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں 1779 نقلی اسٹامپ پیپر برآمد کئے گئے ہیں۔ میری دلی مہان میں پتہ نہیں اصلی مال کتنا بکتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Food Adultration, Vir Arjun

بچوں پر راکھی ساونت، بگ باس جیسے ریئلٹی شو کے برے اثرات



Published On 11th January 2012
انل نریندر
ہم وزیر اطلاعات و نشریات محترمہ امبیکا سونی کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ ٹی وی چینلوں پر دکھائے جارہے فحاشی پروگراموں کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ آج کل ٹی وی ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے کچھ ٹی وی سیریل تو اتنے بیہودہ ہیں جنہیں دکھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ان پروگراموں کا سیدھا اثر گھر کے بچوں اور عورتوں پرپڑتا ہے۔ ہمارے سماجی تانے بانے کو کچھ سیریل تباہ کررہے ہیں۔ لیو ان ریلیشن شپ، جھٹ طلاق اور افیئرز، خاندان میں پیسوں کو لیکر آپسی لڑائی اور نہ جانے کیا کیا دکھایا جاتا ہے۔ انہی کے چلتے میں نے یہ سیریل دیکھنے ہی بند کردئے ہیں۔پر کیا کریں گھر کی عورتیں تو جیسے ہی شام ہوتی ہے ٹی وی پر چپک کر بیٹھ جاتی ہیں اور ہر چینل پر کونسا سیریل آرہا ہے اس کی ان کو پوری جانکاری ہوتی ہے۔ امبیکا سونی نے پہل کرکے ٹیلی کاسٹ مواد شکایت کونسل کی تشکیل دی ہے۔ پچھلے چھ مہینے میں کونسل کو رئلٹی شو بگ باس اور راکھی ساونت کے غضب دیش کے عجب قصے پروگرام کے خلاف سب سے زیادہ شکایتیں ملی ہیں۔ کونسل کو راکھی ساونت کے پروگرام کے خلاف58 شکایتیں ملیں۔ وہیں بگ باس میں سنی لیون کے آنے سے36 لوگوں نے اعتراض جتایا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ لیونی کے آنے کے بعد بچے جاننا چاہتے تھے کہ وہ کیا کرتی ہے۔ ایسے میں لیونی کے بارے میں جانتے ہوئے وہ پوری صنعت کے بارے میں بھی جاننا چاہیں گے۔ اس کے بعد بی سی سی سی نے کلرس چینل کو اگلی مرتبہ اداکاروں کو چنتے وقت احتیاط برتنے کی صلاح دی ہے وہیں غضب دیش کے عجب کہانی ،سیریل کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کی کہانی بچوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ کونسل نے چینل کو شو کے لئے بہتر میٹر چننے کی رائے بھی دی ہے۔ کونسل کو ملی شکایتوں کی کل تعداد 3341 رہی۔ ان میں سے1883 کو اس بنیاد پر خارج کردیا گیا کہ وہ کسی کام کی نہیں تھیں یا پھر محض تجویزوں پر مبنی تھیں جبکہ479 شکایتوں پر کونسل نے بحث کر ان پر کارروائی بھی کی۔ زیادہ تر شکایتیں ٹی وی پروگراموں میں بڑھ رہے جنسی ٹرینڈ کو لیکرتھیں۔ کونسل نے ان شکایتوں پر کارروائی کرتے ہوئے ان کو ایسے پروگرام دیر رات یا پھر نہ دکھانے کی ہدایت دی ہے۔کونسل اب ای میل کے ساتھ ساتھ خط کے ذریعے بھی شکایتیں وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ویسے تو کونسل کا کام ٹی وی پروگراموں سے وابستہ شکایتوں کو ہی دیکھنا ہے لیکن اسے نیوز چینلوں، اشتہاروں، فلموں سے وابستہ شکایتیں بھی ملی ہیں۔ اسی طرح براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن، ایڈورٹائزنگ اسٹنڈرڈ کونسل آف انڈیا اور سینسر بورڈ کو بھیج دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے پریس کی آزادی پر حملہ و مداخلت کہہ سکتے ہیں لیکن یہ سینسر شپ نہیں۔ اگر سینسر شپ ہوتی تو ان کا ٹیلی کاسٹ ہی نہیں ہوتا۔ یہ کنٹرول ضروری ہے چین جیسے ملک میں بہت سی پابندیاں ہیں ۔ سوویت روس کے ٹوٹنے کی ایک وجہ امریکی ٹی وی چینل مانے جاتے ہیں۔ جیسا میں نے کہا کہ ہم امبیکا سونی جی کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس اہم سماجی کام پر توجہ دی۔ اس پر لگام لگانے کی کوشش کی ہے۔
Ambica Soni, Anil Narendra, Daily Pratap, Rakhi Sawant, Reality show, Vir Arjun

10 جنوری 2012

یوپی میں مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟



Published On 10th January 2012
انل نریندر
چناؤ کمیشن نے حکم دیا ہے کہ اترپردیش میں آزادانہ ، منصفانہ چناؤکرانے کے غرض لکھنؤ اور ریاست کے کئی حصوں میں لگی وزیراعلی مایاوتی اور بہوجن سماج کا چناؤ نشان ہاتھی کے مجسموں پر چناؤ تک پردہ ڈال دیا جائے۔ چناؤ کمیشن کا یہ فرمان اندرا گاندھی، راجیوگاندھی اور ایسے دیگرسیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے مجسموں پر بھی لاگو ہوتا ہے جن سے ووٹر متاثر ہوسکتے ہیں۔ چناؤ کمیشن نے کہا کہ چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کی وجہ سے اس حکم کو فوراً نافذ کردیا جائے۔ چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کے سبب نوئیڈا کے قومی دلت پریرنا استھل اور لکھنؤ میں 9 مقامات پر مایاوتی اور ہاتھی کے بت متاثر ہوں گے۔ بسپا میں اس کا سخت احتجاج ہونا فطری تھا۔ چناؤ کمیشن کے اس متنازعہ فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہرکرتے ہوئے بسپا کے سکریٹری جنرل ستیش مشرا نے کہا کہ اگر چناؤ نشان ڈھکنے کی بات ہے تو کیا کمیشن ہر کسی کو اپنے ہاتھ کے پنجے کٹوانے یا ڈھکنے کا حکم دے گا کیونکہ یہ کانگریس کا چناؤ نشان ہے؟ یہ ہی نہیں بھاجپا کا چناؤ نشان کمل کا پھول ہے ،تو کیا کمیشن ہر تالاب سے کمل کے پھول نکلوا لے گا؟ انہوں نے کہا سائیکل سپا کا چناؤ نشان ہے تو کیا چناؤ کمیشن اسے چلانے پر روک لگادے گا۔ مشر کا کہنا ہے کہ مرکز کی حکومت کی قریب 150 اسکیمیں گاندھی ،نہرو پریوار کے نام سے چلتی ہیں تو کیا کمیشن انہیں بھی بند کردے گا؟ یہاں ہم یہ بات قبول کرتے ہیں کہ یہ قدم بھلے ہی سبھی سیاسی پارٹیوں کو یکساں طور پر عمل کرنے کی بنیاد پر اٹھایاگیا ہے لیکن ہم اس کا وقت اور اس کے جواز پر ضرور اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے تھے کہ چناؤ کمیشن کو اگر ایسا کوئی فیصلہ لینا ہی تھا تو اسے قریب15 مہینے پہلے جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا مایاوتی سرکار پبلک خزانے سے مختلف پارکوں میں ہاتھیوں کی مورتیاں لگوا رہی ہے ، تو کیوں نہیں اسے روکا گیا؟ ایک لمحے کے لئے یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ مایاوتی اور ہاتھیوں کی ان مورتیوں کو ڈھک دیا جائے جو سڑکوں اور چوراہوں پر لگائی گئی ہیں لیکن آخر چار دیواری سے گھرے پارکوں میں بنی مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟ پارکوں میں آنے والوں کو ان مورتیوں کے وہاں ہونے کا پتہ ہے اور ڈھکی ہوئی مورتیاں الٹے انہیں زیادہ ہی احساس کرائیں گی۔ اگر چناؤ کمیشن اتنا ہی غیر جانبدار ہے تو اس نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کے اعلان سے پہلے مرکزی سرکار کے ذریعے اقلیتوں کو ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کے فیصلے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ اتنا ہی نہیں کمیشن نے چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کے بعد دلتوں اور پسماندہ طبقوں کی خالی آسامیوں کو بھرنے کے لئے مرکزی حکومت کے اعلان پر بھی خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ اترپردیش کے مختلف اضلاع میں سفید سنگ مرمر کے یہ ہاتھی ''دلت وجے'' کی علامت کی شکل میں کھڑے کئے گئے ہیں۔ اب پردے میں ڈھکے یہ ہی ہاتھی اگر دلتوں کی توہین کی شکل میں ان چناؤ میں پروپگنڈہ کئے جائیں تو مقابلتاً اس کا کیا توڑ نکالیں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ بیشک بسپا اس کی مخالفت کرے گی لیکن اتنا تو ہے کہ ریاست کی نوکرشاہ برادری کو سمجھ میں آجائے گا کہ وہ تھوڑی غیر جانبداری برتے اور حکمراں حکومت کے غلام بن کر کام نہ کرے؟ لیکن اس سے کہیں بڑا مسئلہ چناؤ میں استعمال ہونے والا کالا دھن۔ پچھلے دو تین دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کروڑوں روپے برآمد ہوچکے ہیں جن کا استعمال چناؤ میں ہونا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر وائی ایس قریشی نے مانا کہ اترپردیش ،پنجاب، گوا میں انتخابات کو کالی کمائی سے مستثنیٰ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ خیال رہے کہ جب انا ہزارے انتخابات میں کالی کمائی کے مسئلے پر روشنی ڈالی تھی تو تمام سیاسی پارٹیوں نے انا ہزارے کی جم کر مخالفت کی تھی۔ انا نے بس اتنا کہا تھا کہ ان کے جیسا فقیر چناؤ میں کبھی جیت نہیں سکتا کیونکہ فیصلہ تو دھن اور بل پر ہوتا ہے۔ بیشک چناؤ کمیشن نے اس بار چناؤ میں امیدواروں کے خرچ پر گہری نظر رکھنے کے لئے خصوصی انتظام کئے اور انکم ٹیکس محکمے کو بھی اس میں جھونک دیا لیکن سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ عہدیداران کے خرچ کی حد طے ہے۔ لیکن وہیں سیاسی پارٹیوں پر ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔ ایک اور مسئلے کی طرف ہم الیکشن کمیشن کی توجہ دلانا چاہیں گے وہ پیٹ نیوز کا معاملہ ہے۔ مختلف اخباروں میں ہم سیاسی پارٹیوں کے منعقدہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ بسپا کی مخصوص مہم کئی دنوں سے چل رہی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر عام خبروں کے درمیان ایسا پوشیدہ سندیش ہوتا ہے جو ووٹروں کو متاثر کرتا ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کل ملاکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے شاید کوئی فائدہ ہو؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Elephant, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پاکستان کے اصل سی آئی اے ایجنٹ



Published On 10th January 2012
انل نریندر
گذشتہ ہفتے پاکستان کے کچھ سینئر صحافی ہمارے دفتر میں آئے تھے۔ ہم نے ان کے خیر مقدم کے لئے شاندار پروگرام بنایا تھا۔ ان میں جناب محمود شام، ایاز بادشاہ قابل ذکر تھے۔ دراصل یہ لوگ حیدر آباد میں منعقدہ اردو ایڈیٹرز کا نفرس میں شرکت کے لئے دہلی آئے تھے۔انہوں نے دہلی میں دو دن قیام کیا۔ ان سے کافی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں طرف کی کئی نئی معلومات ملیں۔ میں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں کہا ''پاکستان آج صحافیوں چاہے وہ اخبار کے ہوں یا ٹیلی ویژن کے ہوں ،کیلئے دنیا کا سب سے خطرناک دیش بن گیا ہے۔ پاکستان میں آزادانہ رائے رکھنے والے صحافیوں کے لئے یہ ایک مشکل دور ہے۔ اپنے فرض کی تعمیل کے دوران اس پیشے سے جوڑے 11 لوگوں کو 2011ء میں مار ڈالا گیا۔ ان لوگوں کا قتل یا تو نسلی گروپوں کے درمیان ہونے والی گولہ باری یا کٹر پسندانہ تشدد یا پھر سیاسی نظریات کے چلتے کیاگیا۔ مثال کے طور پر گذشتہ برس سلیم شہزاد کے اغوا اور قتل میں سرکار کی مشینری کا ہاتھ ہونے کا الزام تھا جبکہ اس معاملے کی جانچ کے لئے قائم کمیشن ابھی ہوا میں ہی تیر چلا رہا ہے۔ سلیم شہزاد نے مسلح فورس کے ان لوگوں کا پردہ فاش کیا تھا جن کا القاعدہ یا طالبان کے ساتھ قریبی رشتہ تھا۔ پچھلے دنوں بلوچستان میں راشٹروادی نظریات یا پھر سکیورٹی فورس کے ذریعے کی جارہی ذیاتیوں کو اجاگر کرنے والے کئی صحافیوں کو قتل کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے خوفزدہ صحافیوں کو امریکہ جیسے ملکوں میں پناہ دئے جانے کی درخواست کرنی پڑی۔ کراچی میں کچھ صحافیوں کو نسلی گروپ یا سیاسی پارٹیوں کے ذریعے مل رہی دھمکیوں کے چلتے بیرون ملک میں محفوظ ٹھکانے تلاشنے پڑے۔ اس سلسلے میں میں نے پاکستان کے سینئر صحافی مسٹر نجم سیٹھی کا ایک آرٹیکل مڈ ڈے میں پڑھا انہوں نے بتایا کہ اب سکیورٹی نظام کے کرتا دھرتا لوگوں کی سمجھ پر چبھتے ہوئے سوال اٹھانے کے چلتے کچھ سینئر صحافیوں کے خلاف بربریت آمیز پروپگنڈہ چلایا جارہا ہے۔ ان کو امریکہ کی خفیہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے تک کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان کے موجودہ امریکی مخالف ماحول میں اس طرح کے الزامات لوگوں کو بھڑکانے کے لئے لگائے جارہے ہیں۔ مان لیجئے کہ اگر آپ نے کہہ دیا کہ ایبٹ آباد میں ہوئے امریکی حملے نے فوج کی نا اہلیت کی پول کھول دی ہے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ یا آپ نے کہہ دیا کہ سیاسی مسائل کا کنٹرول فوج پر ہونا چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے یہ کہہ دیا کہ فوج کو طالبان کے ساتھ کسی طرح کی امن بات چیت میں شامل نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اس سے ان کو پاکستانی خطے میں پھر منظم ہونے کا موقعہ مل جائے گا تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ڈرون جہازوں کے حملوں کے چلتے وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے کٹر پسندوں کو ختم کرنے میں بڑی مدد کی تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے کہہ دیا کہ فوج کے لئے مختص بجٹ کا جو ملک کی کل رقم کا ایک چوتھائی ہے، جانچ پارلیمنٹ کی کمیٹی یا پاکستان کے آڈیٹر جنرل کے ذریعے کی جانی چاہئے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کو تجارتی سیکٹر میں انتہائی مطلوب ملک کا درجہ دینا چاہئے جسے بھارت نے پاکستان کو 16 برس پہلے ہی دے دیا تھا۔یا ویزا شرطوں میں ڈھیل دینی چاہئے، یا فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں کو مدد کرنے کے لئے بھارت سے ثقافتی رشتے بڑھانا چاہئیں۔ یا میڈیا گروپ کے ذریعے چلائی جارہی 'امن کی آشا' پروگرام کو سرکارکو حمایت دینی چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سابق امریکی سفیر حسین حقانی اور آئی ایس آئی چیف شجاع پاشا کے معاملے میں ایک اور یکساں استعفے کی پالیسی اپنانے چاہئے ،ایک کے اوپر امریکی سرکار کو پاکستانی فوج کے اوپر سرکار کیلئے کنٹرول کی حمایت مانگنے کا الزام ہے جبکہ دوسرے پر عرب حکمرانوں سے منتخبہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے اپیل کرنے کا الزام ہے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سرکار کو قومی سلامتی سے زیادہ عوام کی حالت بہتر بنانے والی پالیسیاں بنانی چاہئیں تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔
بدقسمتی سب سے بڑی یہ ہے کہ جن لوگوں نے امریکہ کے بڑھتے اثر کو بے نقاب کیا ہے اس کی مخالفت کی ہے انہیں ہی بدنام کرنے کیلئے ان پر سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان میں آج صحافی عوام کے مفاد میں کسی بھی طرح کی آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں صحافیوں کے لئے آج کی تاریخ میں پاکستان سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے۔ اس دنیا میں اور ان حالات میں بھی یہ صحافی اپنے فرائض کو نبھا رہے ہیں ان کو ہمارا سلام۔
Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Vir Arjun

08 جنوری 2012

بری چیف کی عمر کو لیکر غیر ضروری تنازعہ



Published On 8th January 2012
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے بحریہ فوج کے جنرل وی کے سنگھ کی عمرکو لیکر ایک غیر ضروری تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ دراصل ریکارڈ میں ان کی پیدائش کی دو تاریخیں درج ہیں۔ فوج کے سربراہ چاہتے تھے کہ ان کی یوم پیدائش سرکاری دستاویز میں16 مئی 1950ء سے10 مئی 1951ء کی جائے۔ ایسا کرنے سے ان کی ملازمت کی میعاد ایک سال بڑھ جاتی ہے۔ وزارت دفاع نے جنرل سنگھ کی جانب سے ان کے یوم پیدائش بدلنے کی عرضی کو خارج کردیا تھا۔ ان کے یوم پیدائش کو لیکر پیدا ہوئے تنازعے میں سرکار کے آجانے کے بعد اپنے عہدے کے وقار کے مطابق جنرل وی کے سنگھ صبر سے کام لے رہے ہیں لیکن کئی ایسی باتیں ہیں جو جنرل سنگھ کے حق میں جاتی ہیں۔ وزارت قانون کے ایک جوائنٹ سکریٹری کے مطابق وزارت نے یوم پیدائش سے متعلق ان کے دعوے کوصحیح ٹھہرایاتھا۔ ذرائع کے مطابق یوم پیدائش کا تنازعہ بڑھنے پر ڈیفنس وزارت نے قانون وزارت سے اس سلسلے میں رائے مانگی تھی جس پر وزارت قانون نے اپنی یہ صلاح دی تھی۔
اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جے ایس ورما سمیت دیگر تین سابق ججوں نے بھی جنرل وی کے سنگھ کے دعوے کو صحیح مانا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کئی مہینوں میں یہ پہلا معاملہ وزارت کے پاس آیا تھا۔ تب ویرپا موئلی ملک کے وزیر قانون تھے اور اس وقت ایڈیشنل سکریٹری آر ایل کوہلی تھے۔ کوہلی نے اس معاملے میں عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل سنگھ کے میٹرک کے سر ٹیفکیٹ میں درج عمر کو صحیح مانا تھا۔ بتایا جاتا ہے کوہلی کی اس رائے سے جے ایس ورما اور جسٹس چندر بھوڑ اور دو دیگر جج بھی اتفاق رکھتے تھے لیکن بعد میں سرکار نے اس معاملے میں اٹارنی جنرل واہنوتی سے بھی رائے مانگی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے واہنوتی نے قانون و انصاف وزارت کی رائے کو پوری طرح سے پلٹ دیا۔ انہوں نے جنرل کی یوم پیدائش 10 مئی1950ء کو ہی صحیح بتایا تھا۔ واہنوتی کی رائے کو قطعی مانتے ہوئے وزارت دفاع نے اپنا فیصلہ لیا۔ دراصل نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں 1966ء میں داخلے کے بعد جنرل وی کے سنگھ نے سبھی دستاویزات میں اپنی یوم پیدائش1951ء درج کرائی تھی۔ اس میں صدر کی جانب سے 2009ء میں دئے گئے اعزاز پرم وشسٹ سیوا میڈل کا سرٹیفکیٹ بھی شامل ہے۔ ڈیفنس وزارت کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ کے دعوے کو قبول کرنے پر انہیں دو کے بجائے تین برس کی توسیع دینی پڑے گی جو اگلے فوج کے سربراہوں کو جانشینی سونپنے کی اسکیم میں مشکلیں کھڑی کرے گا۔ سرکار کی یہ دلیل بے تکی ہی نہیں بلکہ اس کی قلعی بھی کھولتی ہے۔
آخر اندرا گاندھی نے جنرل کرشنا راؤ کے بعد سینئرٹی میں سب سے اوپر اور بیحد معزز لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا کو نظر انداز کر جنرل وید کو فوج کا چیف بنایا تھا۔ اہلیت اور سخت رویئے کے سبب ہی تب جنرل سنہا کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ اگر جنرل سنگھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے تووہ نہ صرف ایسا کرنے والے پہلے فوج کے سربراہ ہوں گے بلکہ اس طرح ان کا موقف مضبوط ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ سرکار کے لئے شرمندگی کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں بہتر یہ ہی ہوگا کہ سرکار اس کا قابل قبول حل تلاش کرے۔ ویسے بھی سرکار کو اس تنازعے میں نہیں پڑنا چاہئے تھا۔ اس سے جنرل وی کے سنگھ اور بھارتیہ فوج کی ساکھ بھی خراب ہورہی ہے۔ یہ غیر ضروری تنازعہ جتنی جلدی ختم ہو اتنا ہی سب کے لئے اچھا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Indian Army, Vir Arjun

دہلی کے نرسری اسکولوں میں داخلے میں کروڑوں کی کمائی



Published On 8th January 2012
انل نریندر
مجھے معلوم نہیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں نرسری کے داخلوں میں اتنی دھاندلی ہوتی ہے جتنی کہ دہلی میں ہوتی ہے۔ نرسری اور کے جی کے داخلے شروع ہوتے ہی دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں کی پوباراں ہوجاتی ہے۔ ادیوگ منڈل ایسوچیم کے مطابق اس مرتبہ داخلے کے فارم بیچنے سے ہی انہیں 1200 کروڑ روپے کی کمائی ہونے کا امکان ہے۔ یہ تو محض ایک اتفاق ہے دیش بھر کے تمام پبلک اسکولوں کے اعدادو شمار کو جوڑا جائے تویہ رقم بہت بڑی بنے گی۔ ایسوچیم کے مطابق پچھلے برس پرائیویٹ سیکٹر کے ان پبلک اسکولوں میں نرسری کے مہنگے فارم بیچ کر 1 ہزار کروڑ روپے کی کمائی کی تھی لیکن اس سال یہ رقم1200 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق کسی اچھے پبلک اسکول میں نرسری میں بچے کا داخلہ کرنا کوئی بڑی جنگ جیتنے سے کم نہیں ہے۔ والدین کو کئی بڑے اسکولوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور نرسری میں داخلہ مکمل ہونے تک 20 ہزار سے25 ہزار روپے تک خرچ ہو جاتے ہیں۔ ایسوچیم کے سکریٹری جنرل ڈی ایس راوت کے مطابق داخلہ فارم کی فروخت کچھ دنوں کے اندر بند کردی جاتی ہے۔ بہت محدود دن رکھے جاتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نامور اسکول میں بچے کے داخلے کے لئے ماں باپ دن رات ایک کردیتے ہیں۔ ایسوچیم کے سروے کے مطابق دہلی میں چھوٹے بڑے تقریباً تین ہزار پبلک اسکول ہیں جو نرسری کے داخلے کے لئے ایک پورا دستورالعمل (پراسپیکٹس)جاری کرتے ہیں جس میں داخلے کی تمام معلومات ہوتی ہیں۔ دہلی سرکار نے حال ہی میں ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے داخلے میں 25 فیصد سیٹیں اقتصادی طور سے پسماندہ خاندانوں کے بچوں کے لئے مختص کرنے کو کہا ہے۔ اس سے عام زمرے کے بچوں کے لئے داخلے میں سیٹیں محدود رہ جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ والدین کو ایک دو نہیں بلکہ کئی اسکولوں میں داخلے کے فارم پر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ سروے کے مطابق دہلی پبلک اسکولوں میں نرسری اور کے جی داخلے کے فارم کو دہلی یونیورسٹی ،انڈین مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ، چارٹرڈ اکاؤنٹٹنٹ اور دیگر تعلیمی اداروں سے بھی مہنگے ہوگئے ہیں۔
نرسری و پری پرائمری اسکول میں داخلہ فارم کی فیس کی قیمت ہی دیکھ کر پریشان ہونے والے والدین کا درد سر یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ فارم جمع کر کے ہلکا محسوس کررہے ہیں تو آپ سنبھل جائیں کیونکہ ایڈمیشن ہونے کے بعد اب نرسری کی فیس کی مار جیب پر پڑنے والی ہے۔ مہنگائی کی مار، پراسپیکٹس کی قیمت کی مار کے بعد انہیں چوطرفہ مار سے کم نہیں لگ رہی ہے۔ قسطوں میں فیس کی ادائیگی تو تب بھی سمجھ میں آتا ہے لیکن کئی اسکولوں میں یکمشت فیس جمع کرانے کی جو شرط مقرر کی ہے وہ والدین کے گلے کی پھانس بن گئی ہے۔ نرسری کلاس بھلے ہی چھوٹی لگ رہی ہو لیکن اس کے خرچ کسی اعلی تعلیم کے خرچوں سے کم نہیں۔ سالانہ خرچ کی بات کریں تو دہلی میں ایسے اسکولوں کی کمی نہیں جو 70 ہزار سے1 لاکھ روپے تک کی فیس وصولتے ہیں۔ درمیانہ طبقے کے خاندان کے لئے اتنی رقم کا انتظام کرنا بیحد مشکل کام ہوتا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Nursery Admission, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...