Translater

21 نومبر 2015

کینسر و دل کے مرض کی دواؤں کو سستا کرنے کا فیصلہ لائق خیر مقدم

مرکزی وزارت صحت کے ذریعے کینسر اور امراض قلب کی دواؤں کو سستی دستیاب کرانے کے منصوبے کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ کینسر اور دل کی بیماریوں کی دوائیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب آدمی تو ان کے استعمال کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ غریب اور مزدوروں کو یہ خطرناک بیماری ہوجائے تو اس کے علاج میں کام آنے والی دواؤں کی خریدنہ پانے کی وجہ سے اس کیلئے یہ مرض موت کا سامان بن جاتا ہے۔ ایتوار کو مرکزی وزیر صحت جے ۔پی نڈا نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ اینڈ میڈیکل سائنسز میں امرت فارمیسی کا افتتاح کرتے وقت کہا کہ اس فارمیسی سے کینسر اور امراض قلب کے مریض 50 سے90 فیصدی تک سستی دوا خرید سکتیں گے۔اس فارمیسی سے صرف ایمس میں بھرتی مریضوں کو ہی نہیں بلکہ باہر کے مریضوں کو بھی جائز نسخے پر سستی دوا ملے گی۔
مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی پہل پر ہندوستان لیٹکس لمیٹڈ(ایچ ایل ایل) کے اشتراک سے شروع ہوئے اس اسٹور سے کینسر کے مریضوں اور دل سے متعلق بیماری کے ایسے مریضوں کو جن کو اسٹنڈلگا ہو، ہارڈ وال لگا ہو، اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہو یا کسی دوسری طرح کا امپلانٹ ہوا ہو انہیں بھی 50 سے90 فیصدی تک سستی دوا دستیاب کرائی جائے گی۔ مسٹر نڈا نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اس کی شروعات کی گئی ہے۔ اس کی کامیابی کے بعد آنے والے دنوں میں سبھی مرکزی ہسپتالوں میں اس طرح کے اسٹور شروع کئے جائیں گے۔ جہاں کینسر اور دل کے مریضوں کے علاج کی دوائیں دستیاب ہوں گی۔ وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق ہر برس بھارت میں کینسر سرے 70 ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں اور ہر وقت بھارت میں کینسر کے28 لاکھ مریض ہوجاتے ہیں۔ یہی نہیں عالمی صحت تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ہر سال بھارت میں قریب 1 لاکھ45 ہزار چھاتی کے کینسر کے مریض سامنے آتے ہیں۔ وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق کینسر کے 50فیصدی مریض کیمیو تھیریپی کے دو تین سائیکل کے بعد ہسپتال آنے چھوڑدیتے ہیں۔ مہنگی دوا اور علاج کی وجہ سے مریض کینسر کا علاج جاری نہیں رکھ پاتے۔ کچھ چھاتی کے کینسر کے مریضو ں میں ٹائیگریڈ تھیریپی دینی ہوتی ہے، جس میں ایک سائیکل میں قریب75 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے جبکہ مریض کو ٹائیگریٹڈ تھیریپی کی قریب17 سائیکل کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی بخش دواؤں کی اونچی قیمتوں کو لیکر فارما کمپنیوں کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے میں کمپنیاں ایسا فائننشل ماڈل تیار کرنے میں لگی ہیں جس سے انہیں اس چنوتی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ مہنگی دواؤں کے لئے فارمیسی جلد ای ایس آئی اسکیم لانے پر بھی سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ ہم مسٹر نڈا کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ زندگی بخش دوائیں و ہسپتالوں سے بھی سبھی طرح کے ٹیکس ہٹا کر انہیں ٹیکس سے مستثنیٰ کردینا چاہئے۔
(انل نریندر)

روسی جہاز گرانے والوں کا سراغ دینے پر 325 کروڑ کا انعام

میں کئی دن پہلے اسی کالم میں لکھ چکا تھا کہ روسی ایئر لائنر کو آئی ایس نے مصر کے سینائی علاقے میں گرایا ہے جس میں سبھی مسافر (224لوگ) مارے گئے تھے۔ اب اس کی سرکاری طور پر تصدیق بھی ہوگئی ہے۔ آخر کار روس نے بھی مان لیا کہ اس کا جہاز آتنکی حملے کا شکار ہوا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جہاز میں دھماکہ کرنے والوں کو ڈھونڈ کر سزا دینے کا عہد کیا ہے۔ روس نے حملہ آوروں کو پکڑے والوں کا سراغ دینے والوں کو 5 کروڑ ڈالر قریب325 کروڑ روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی روس نے شام میں آئی ایس کے خلاف ہوائی حملے اور تیز کردئے ہیں۔ اسی درمیان مصر پولیس نے روسی جہاز میں بم نصب کرنے والوں کی مدد کرنے کے الزام میں شرم الشیخ ہوائی اڈے کے دو ملازمین کو گرفتار کیا ہے۔ پوتن نے سکیورٹی کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ میں کہا یہ پہلی بار نہیں ہے کہ روس پر ایسا بربریت آمیز حملہ ہوا ہے۔ لیکن سینائی میں ہوا حملہ سب سے خطرناک ہے۔ ہم بدلہ لینے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ہم انہیں کہیں سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے اور سزا دیں گے۔ اس سے پہلے روس میں سال2004ء میں نارتھ کاکرس کے بیلسان اسکول میں خوفناک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔ قابل ذکر ہے ایئر بس طیارہ مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ سے سیاحوں کو واپس لا رہا تھا اور پرواز کرنے کے کچھ دیر بعد ہی اس پر نشانہ لگایاگیا۔ ماہرین کے مطابق بم کے سبب آسمان میں ہی آگ کے گولے میں یہ طیارہ تبدیل ہوگیا۔ یہ بم قریب 1 کلو ٹی این ٹی کا تھا جسے کسی مسافر یا ہوائی اڈے کے کسی سکیورٹی ملازم نے شرم الشیخ میں جہاز میں رکھا تھا۔ اسلامک اسٹیٹ کے گروپ نے اس روسی جہاز کو مزائل حملے میں مارگرانے کی ذمہ داری لی تھی۔ لیکن جانچ سے پتہ چلا ہے کہ طیارہ کسی میزائل سے نہیں گرایا گیا بلکہ بم سے یہ حادثہ ہوا۔ اسلامک اسٹیٹ گروپ نے کہا کہ اس نے مصر کے ہوائی اڈے پر سکیورٹی کو دھوکہ دینے کا طریقہ تلاش کر اس بدنصیب روسی جہاز پر ایک بم چوری چھپے پہنچایا تھا۔ گروپ نے ان دھماکوں کی تصویریں بھی شائع کیں جس کے بارے میں اس نے یہ دعوی کیا ہے ۔ اس دعوے میں بتایا گیا ہے کہ بم درپردہ طور پر ایک سوڈا کین میں نصب کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس نے ان پاسپورٹوں کی بھی تصویریں شائع کی ہیں جو ان متوفی مسافروں کی تھیں جو سینائی جزیرے میں حادثے کی جگہ سے ملے تھے۔ اس کی آن لائن میگزین ’دابک‘ کے تازہ شمارے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس نے روسی جہاز کو نشانہ بنانے کا تبھی فیصلہ کرلیا تھا جب روس نے شام میں ان پر بم گرانے کا فیصلہ کیا تھا۔
(انل نریندر)

20 نومبر 2015

بھارت مسلمانوں کیلئے بہترین دیش ہے!

جمعیت علمائے ہند کے سکریٹری جنرل و نامور اسلامی پیشوا مولانا محمود مدنی نے ہمیشہ صحیح بات کہی ہے۔ ہم ان کا احترام کرتے ہیں اس لئے نہیں کہ وہ کسی کی حمایت کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہیں جو صحیح لگتا ہے وہ بے دھڑک کہہ دیتے ہیں، بیشک کسی کو اچھا لگے یا برا۔ عدم بداشت پر چھڑی بحث کے درمیان منگلوار کو مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے بھارت سے بہتر کوئی دیش نہیں ہے۔ 
مدنی نے پیرس میں آتنکی وادی حملے کے سلسلے میں یوپی کے وزیر اعظم خاں کے تبصرے پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جہاد کا وقت ہے۔ آتنکی حملوں کو کسی بھی صورت میں جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت ہونی چاہئے۔ بقول مدنی صاحب آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف دہلی سمیت ملک کے 75 شہروں میں مسلم تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے دیش میں غریبی ،تعلیم کا نہ ملنا جیسے مسائل ہیں۔ وقتاً فوقتاً کشیدگی بھی پھیلتی ہے لیکن کچھ ہی وقت کیلئے ہوتی ہے۔ لوگ آپس میں پھرسے مل جاتے ہیں۔ یہاں کی مٹی ہی کچھ الگ قسم کی ہے جس میں سب کیلئے پیار بسا ہوا ہے۔ مدنی نے کہا مسلمانوں کیلئے دنیا میں بھارت سے بہتر کوئی دوسرا دیش نہیں ہے۔ اس دیش میں مختلف مذاہب کے درمیان آپسی بھائی چارہ پوری دنیا کو راغب کرتا ہے۔ انہوں نے پیرس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے نام پر معصوموں کا قتل کرنا اسلام کا بیجا استعمال ہے۔جانے انجانے میں ہوئے ان واقعات کو اسلام سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے، جو مناسب نہیں ہے۔ دہشت گرد دنیا بھر میں مسلمانوں کے لئے تکلیف دہ حالات پیدا کررہے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کو اسلام پر حملہ کرنے کا بہانہ بنا لیا گیا ہے۔ 
وقتاً فوقتاً مولانا مدنی اپنی بات اٹھاتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے بجنور کے قصبے کرتپور میں ایک مذہبی پروگرام میں مولانا مدنی نے کہا کہ کسی دشمن نے اسلام کو بدنام نہیں کیا بلکہ اس کے گناہگار ہم خود ہیں۔ انہوں نے کہا اسلام کی دہشت گردی کی ساکھ بنانے کے قصوروار مسلمان ہی ہیں۔ مسلمان اگر 20 سال کی تعلیم کا ایجنڈا طے کرلیں اور یہ سوچ ہیں کہ بھوکے پیٹ سو کر بھی بچوں کو تعلیم یافتہ بنائیں گے، تو یقیناًجن کے دلوں میں مسلمان کے لئے نفرت ہے وہ بھی محبت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا راستہ صحیح نہیں ہے۔ سماج میں ہماری ساکھ بگاڑنے والا کوئی دشمن نہیں، بلکہ دہشت گردی کی یہ ساکھ ہم نے خود بنائی ہے۔ ہم مولانا محمود مدنی کے خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی ان کی باتوں پر غورکر کے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ 
(انل نریندر)

منی شنکر جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی ضرورت نہیں

جس پارٹی میں منی شنکرایئر جیسے دوست ہوں اسے دشمنوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا منی شنکر ایئر کانگریس پارٹی کو بدنام کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پارٹی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف زبردست ناراضگی ہے اور انہیں ان کی تنقید کرنے کا بھی پورا حق ہے لیکن اشوز پر ۔ مگر دیش کے اندر میچوں پر نکتہ چینی کرنا اور بات ہے لیکن جس ڈھنگ سے منی شنکر ایئر نے پاکستان میں مودی سرکار کے خلاف الٹے سیدھے لفظوں کا استعمال کیا اور تبصرہ کیا، وہ ہمیں کیا خود کانگریس پارٹی کو منظور نہ ہو۔منی شنکر ایئر نے ایک پاکستانی ٹی وی چینل ’’دنیا‘‘ پر ایک مباحثے میں کہا کہ بھارت پاکستان کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہٹانا ضروری ہے۔ صرف اس کے بعد ہی بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔ 
ٹی وی اینکر نے منی شنکر سے پوچھا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں میں جاری تعطل ختم کرنے کے لئے کیا قدم اٹھائے جانے چاہئیں۔منی شنکر نے کہا کہ بھارت ۔پاک کے رشتوں میں بہتری کیلئے سب سے پہلے جن تین چیزوں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ان میں سب سے پہلے کام ہے مودی کو ہٹاؤں ورنہ بات چیت آگے نہیں بڑھے گی۔ ایئر کے ایسے کہنے پر اینکر معین پریزادہ نے ان سے ہنستے ہوئے پوچھا کہ آپ یہ بات کس سے کہہ رہے ہیں؟ کیا آپ مودی کو ہٹانے کیلئے کہہ رہے ہیں؟ منی شنکر صاحب نے جواب دیا نہیں نہیں ہمیں اس کیلئے چار سال انتظارکرنا پڑے گا ۔یہ لوگ مودی کے تئیں بہت امید لگائے ہوئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ مودی کی موجودگی سے دونوں ملکوں میں بات چیت بڑھے گی لیکن میں ایسا نہیں سوچتا۔ دونوں دیشوں میں بہتر رشتوں کے لئے مودی کو ہٹانا ضروری ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہم ایئر کے بیانوں سے کانگریس پارٹی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے لیکن جب بھی کوئی بھاجپا یا ان کی حمایتی پارٹی الٹا سیدھا بیان دیتی ہے تو اپوزیشن وزیر اعظم سے سیدھا جواب مانگتی ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ کانگریس صدر کو اس معاملے میں اپنی پارٹی کی پالیسی صاف کرنی چاہئے اور بتانا چاہئے کہ کیا وہ ایئر کے بیان سے متفق ہے؟ ایئر کے اس بیان نے بھاجپا کو کانگریس کی گھیرا بندی کرنے کا موقعہ دے دیا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے منی شنکر ایئر اور سلمان خورشید آئی ایس آئی، آئی ایس اور طالبان کے کمپینروں کی طرح برتاؤ کررہے ہیں۔ جب دنیا دہشت گردی کی مذمت کررہی ہے تب انہیں غلط طاقتوں کے ساتھ کھڑے ہونے میں کوئی شرم نہیں ہے۔ منی شنکر صاحب بھارت پاکستان کے رشتوں کے درمیان مودی نہیں پاک اسپانسر دہشت گردی ہے۔ آئے دن اس کا خمیازہ بھارت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پاک اپنی سرزمیں سے ان دہشت گردوں کی مدد کرنا بند کردے تو رشتوں میں بہتری آئے گی۔
(انل نریندر)

19 نومبر 2015

پہلی بار کیجریوال نے بڑھایا دوستی کا ہاتھ

کئی ماہ تک ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولے رکھنے کے بعد آخر کار دہلی کی عام آدمی پارٹی (آپ) حکومت اور بی جے پی حکومت میونسپل نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر شہر کی صفائی کا مشترکہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے. کل میں ریڈ ایف ایم ریڈیو سن رہا تھا اچانک اس وزیر اعلی اروند کیجریوال کا پیغام آ گیا. کیجریوال نے جب یہ کہا کہ ہم مرکز اور میونسپل کے ساتھ مل کر دہلی کو صاف کریں گے تو میں تھوڑا سا حیرت میں ضرور پڑا. شاید یہ پہلا موقع تھا جب کیجریوال اور ان کی پارٹی کی حکومت نے مرکزی حکومت اور دہلی میونسپل کارپوریشن سے کسی مشترکہ مہم کی بات کی ہو. چاہے اس کے پیچھے اروند کجریوال کا جو بھی پوشیدہ مقصد ہو پر اس فیصلے کا خیر مقدم ہونا چاہئے. دہلی کی ترقی اس لڑائی اور ضد کی وجہ سے ٹھپ پڑا ہوا ہے. اروند کیجریوال کو اب یہ بات سمجھ آنے لگی ہے کہ مرکز سے بگاڑ کر، جھگڑا اور ضد کرنے سے ان کی دال گلنے والی نہیں. اس جنگ کا خمیازہ نہ تو مرکزی حکومت بھگت رہی ہے اور نہ ہی کیجریوال حکومت. خمیازہ تو دہلی کے عوام بھگت رہی ہے. گزشتہ نو ماہ کی مدت میں یہ پہلا موقع ہے جب صفائی کے مسئلے پر دہلی حکومت اور تینوں میونسپل ایک پلیٹ فارم پر دہلی سیکرٹریٹ میں پیر کو نظر آئے. موقع تھا دہلی صاف مہم کے بارے میں معلومات دینا. اس موقع پر وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کو ایک خصوصی ایپ لانچ کیا. اس ایپ کے ذریعے حکومت عام لوگوں کو بھی اس مہم سے جوڑے گی۔عام لوگوں کا کام کسی بھی جگہ پر پڑے کوڑے فضلہ کو دور کرنے کے لئے وہاں کی تصویر کھینچ کر حکومت کو اس ایپ کے ذریعے بھیجنی ہوگی. اس سے پہلے مرکز اور دہلی حکومت کسی نہ کسی مسئلے کو لے کر ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے چوکتے نہیں تھے لیکن دارالحکومت کی صفائی کے بہانے پہلی بار تعاون کی بات ہو رہی ہے. مرکزی شہری ترقی کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو 22 نومبر کو صاف دہلی مہم کی شروعات کرے گے. کیچڑے کی صفائی کا کام میونسپل طرف ہی ہو جائے گا لیکن اس کام میں پی ڈبلیو ڈی بھی شامل ہوگا. فضلہ کی مقدار کو دیکھتے ہوئے کام کی ترجیح طے کی جائے گی اور متاثرہ علاقوں کو سب سے پہلے توجہ دی جائے گی. امید ہے کہ میونسپل صفائی ملازمین کی اس مہم میں مکمل شرکت ہوگی کیونکہ تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان بھاری عدم اطمینان ہے. اب جب دہلی حکومت اور دہلی میونسپل کارپوریشن آپس میں تعاون کر رہی ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ دہلی کی صفائی مناسب طریقے سے ہوگی. کیجریوال کی سمجھ میں آگیا ہے کیجریوال نے جب یہ کہا ہے کہ جب مرکزی حکومت میں میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر دہلی کو صاف کرے گے میں تعجب میں پڑگیا یہ شاید پہلا موقع ہے کہ کیجریوال اور ان کی پارٹی کی سرکار اور مرکزی سرکار نے دہلی میونسپل کارپوریشن سے ساجھہ مہم کی بات کہی ہے شاید اس کے پیچھے کوئی بھی پوشیدہ مقصد ہو لیکن اس فیصلہ کا خیرمقدم ہوناچاہئے۔ دہلی کی ترقی اس لڑائی اور ضد کی وجہ سے ٹھپ پڑی ہوئی ہے۔ اروند کیجریوال کو اب یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ مرکز سے بگاڑ کر جھگڑا اور ضد کرنے سے دال گلنے والی نہیں ہے اس لڑائی کا خمیازہ نہ تو مرکزی سرکار بھگت رہی ہے اور نہ کیجریوال سرکار خمیازہ تو دہلی کی جنتا بھگت رہی ہے۔ پچھلے نو مہینہ کے عہد میں یہ پہلی بار ہے کہ جب صفائی کے مسئلے پر دہلی سرکار اور تینوں میونسپل کارپوریشن ایک اسٹیج پر دہلی سیکریٹریٹ میں دکھائی دیئے دہلی سوچھ مہم کے بارے میں جانکاری دینا تھا۔وزیر اعلی نے ایک خصوصی ایپ لانچ کیا ہے۔اس سے پہلے مرکزی اور دہلی سرکار میں کسی اشو کو لے کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے سے نہیں چوکتے تھے لیکن راجدھانی کی صفائی کے بہانے پہلی بار دونوں ایک ساتھ اکٹھے ہوئے ہیں۔ دہلی میں کچرے کی بہتات کو دیکھتے ہوئے کام کی ترجیح طے ہوگی اورمتاثرہ کو سب سے پہلے توجہ دی جائے گی امید ہے کہ میونسپل کارپوریشن صفائی ملازمین کی اس مہم میں پوری ساجھے داری ہوگی۔ کیونکہ ان کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان ملازمین میں کافی ناراضگی ہے اب جب دہلی سرکار اور دہلی کی تینوں کارپوریشنیں آپس میں تعاون دے رہی ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ دہلی کی صفائی ٹھیک طرح سے ہوں پائے گی۔
(انل نریندر)

پیر س میں حملے کابدلہ لینے کی کارروائی شروع

پیرس حملے سے پہلے تو فرانس آئی ایس پر فوجی کارروائی تو کر رہا تھا پر حملے کے بعد تو فرانس نے زبردست جوابی کارروائی شروع کر دی ہے. حملے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی فرانسیسی جیٹ طیاروں نے آئی ایس کے ٹھکانوں میں زبردست بمباری کرنی شروع کر دی. فرانس نے آئی ایس کو نیست و نابود کرنے کے مشن پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے. فرانسیسی وزارت دفاع نے بتایا کہ اتوار کی رات اس لڑاکا طیاروں نے شام میں آئی ایس کے گڑھ رقہ کے کئی ٹھکانوں پر حملے کر کے انہیں تباہ کر دیا. دہشت گردانہ حملے کو انجام دینے والے آٹھ دہشت گردوں میں سے اتوار کو ایک کی شناخت عجیب و غریب طریقے سے ہوئی. ادھر اسماعیل مستعفی کی دھماکے کی جگہ کٹی ہوئی انگلی سے اس کی شناخت ہوئی. پیر کے ڈی این اے ٹیسٹ سے اس کی شناخت کی گئی. دہشت گردانہ حملے کی گتھی سلجھانے میں لگی پولیس نے تین حملہ آوروں کی شناخت کر لی ہے. جمعہ کی رات پیرس میں قتل عام کو انجام دینے والے یہ تینوں خود کش حملہ آور فرانس کے ہی شہری تھے. بیتاکلا تھیٹر کے کنسرٹ میں درجنوں افراد کو موت کی نیند سلانے والے حملہ آور کی شناخت عمر اسماعیل مستتفی کی شکل میں کی گئی یہ وہی ہے جس کی انگلی کٹی ہوئی ملی تھیں۔ یہ وہی ہے جس کی کٹی پیر سے شناخت ہوئی. 20 اور 31 سال کے دونوں دہشت گرد گزشتہ کچھ وقت سے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں رہ رہے تھے. اسی درمیان حملے کے سلسلے میں برسلز سے سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے. پیرس حملوں کے مشتبہ ماسٹر مائنڈ کی بھی شناخت ہو چکی ہے. اس کی شناخت برسلز رہائشی عبد الحمید عباد کی شکل میں طور پر کی گئی ہے. بیلجیم نیوز چینل RTL کی کے مطابق عباد شام میں آئی ایس کا سب سے زیادہ فعال دہشت گرد ہے. ذرائع کے مطابق عباد نے ہی پیرس حملے کی منصوبہ بندی اور دولت کا اہتمام کیا. ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پیرس حملوں کی منصوبہ بندی شام کے رقہ شہر میں رچی گئی تھی. رقہ آئی ایس کے مقبوضہ علاقے میں واقع ہے اور علاقے کی غیر اعلانیہ دارالحکومت ہے. رقہ ا اور عراق کی حد کے درمیان واقع دقہ ججور شہر کے رہنے والے ٹم رادان نے کہا کہ اس اس سال کے آغاز میں انٹرنیٹ کیفے سے کچھ اشارہ ملے تھے. رقہ ادان نے کہا کہ اس نے سال کے آغاز میں انٹرنیٹ مذاکرات سنی تھی جس اشارہ ملا کہ کچھ غیر ملکی جنگجو پیرس پر بڑے حملے کا منصوبہ کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ جنگجو اس مشن کے لئے `ابو ابراہیم القاعدہ بیلجی نام کا استعمال کر رہے تھے. حملے میں استعمال کی گئی گاڑی بھی بیلجیم میں رجسٹرڈ تھی، جسے ایک فرانسیسی شہری نے کرائے پر لیا تھا. یونان حکومت نے حملے میں ملوث ایک دہشت گرد یونان کے لوریس جزیرے پر پناہ گزین کے طور پر اکتوبر میں رجسٹرڈ ہوا تھا اور بیتے لا کنسرٹ حال حملے میں شامل تھا.
(انل نریندر)

18 نومبر 2015

It's war -Francois Hollande

-        Anil Narendra

The fashion and glamour capital of the world, Paris was ensanguined by a terrorist strike on Friday evening (for us on Saturday early morning).  Armed with AK-47’s and suicide belts eight terrorists of the world’s most dreaded terrorist setup Islamic State (IS) attacked at six places in which 129 people were killed and more than 200 people injured. We remind you that this is being termed as the second biggest attack on Paris after the world war.

The attack on 13th November 2015 was similar to the terrorist attack on Mumbai on 26th November 2008. The terrorists attacked people eating in the restaurant, enjoying in the bar and outside the stadium. Emergency has been promulgated in France after the incident. An eye witness said that an attacker was talking about the French army attacks against the terrorists of Islamic State in Syria. The spot is just 200 meters away from the office of Charlie Hebdo magazine, where the jihadist had attacked in January this year.

At the time of the bomb blast, the French President Francois Hollande was watching the France versus Germany football match in the stadium. Eye witnesses said the attackers were shouting Allahu Akbar near the stadium.  An eye witness who was present at the rock concert in Bataclan said they were killing them one by one. They were talking about taking revenge of Syria. Four terrorists armed with AK-47 entered the stadium shouting Allahu Akbar and went on firing recklessly and killed 89 people there.

The question arises why terrorists are attacking on France time and again? In fact France is the target of the terrorists as it is involved in the alliance army in the war against the IS. It is striking aerial attacks since last September against the terrorist setup active in Syria and Iraq. French President Francois Hollande had announced some days earlier that it will send its biggest warship ‘Charles de Gaulle’ to fight with the IS. 

IS has made five attacks on France in 2015 itself. 20 people were killed in the terrorist attack on the office of a cartoon magazine ‘Charlie Hebdos’ in Paris on 7th January 2015. Some masked people entered the magazine’s office and began to fire recklessly.  Four chief cartoonists and the chief editor were killed in this attack. A month did not pass, there was an attack on three soldiers watching a Jew Community Centre in Nice, but fortunately there was no casualty in this attack. On 19th April an Algerian Jew attacked on two churches in which a woman was killed. On 26th June suspected Islamic attackers in a gas factory in Eastern France cut down the throat of a person while wounded two others in blasts. On 21st August a terrorist armed with heavy arms fired in Amsterdam bound high speed train in which four people were wounded.

French President Francois Hollande responded as a warning that the army of IS terrorists have declared a war on France. Now we will respond, there will be no mercy. Indian Prime Minister Narendra Modi said that this attack is not only on France, but on the entire humanity. Everyone must unite against such powers. US President described it a coward attack while the British PM Cameron said the attack has made clear that threat from Islamic State terrorism is rising. Muslim world is also seen with France against the massacre in Paris. Though the Muslims in the western countries fear they are not targeted once again as happened after 9/11 attacks in the US. Attack on Saturday has the same importance for France as was of the 9/11 New York attacks for US. IS had brought down a Russian passenger plane in Sinai some days ago and now this attack on Paris. There are full chances of an emerging war. The US will have to change its strategy due to this attack. Now it should associate with the Russia and Asad. IS has become the most dreaded, dangerous setup and all the nations will have to collectively respond against it. Paris attack is a lesson for India also. Whenever there is a terrorist incident, the role of the media becomes important. The French media has shown that how media performs responsibly at such time. There was no blood-shed photo in the press nor the TV channels showed such pictures. The only aim and the focus of all coverage was — show unity, defeat terrorism. Be it Le Parisien or Le Figaro with a centre-left trend, all described the attack as a war against the nation. They said whatever action is taken by France takes against the IS, the entire nation is with it.

Terrorists hit three blasts to create stampede in the stadium. There were 80 thousand people including the French President present in the stadium. All of them watched the match in full, returned to the stadium and recited the national anthem and came out in controlled queues. Injured were helped by converting the city restaurants and hotels into hospitals. The opposition fully supported French President Hollande for starting campaign against the IS. Leader of the opposition Ringo Bert said that the entire nation is with the president. This unity was shown at such a time when France is going on provincial elections after 50 years. Neither there was any statement, nor the president was asked to resign and not even the intelligence lapse or failure was discussed or no statement was recorded in protest. At this tragic juncture we are with France and in the grief of the deceased families.

دہشت گردی کی تشریح طے ہو مودی کی اقوام متحدہ میں اپیل!

دنیا کواچھی اور بری دہشت گردی میں کوئی فرق نہ کرنے کی ہندوستانی کی مسلسل آگاہی پر اب تک کن آنکھیوں سے دیکھ رہے بڑے ملکوں کو پیرس پر حملوں نے ضرور جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی تمام بین الاقوامی اسٹیجز پر دہشت گردی کی عالمی تشریح طے کرکے اس کے خلاف ایک آواز اور طاقت کے ساتھ لڑنے کی بات مسلسل اٹھاتے رہے ہیں۔ اپنے دورۂ برطانیہ کے دوران وہاں کے ممبران پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے بھی صاف طور پر کہا کہ دنیا کے سامنے اس وقت دو بڑے مسائل ہیں دہشت گردی اور گلوبل وارمنگ۔ اس وارننگ کے 24 گھنٹے کے بعد ہی پیرس پر دہشت گردانہ حملہ ہوگیا۔وزیر اعظم نے سنیچر کو اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ دہشت گردی کی تشریح جلد طے کرے، ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔ پاکستان کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا دہشت گردی کی تشریح طے کرنے سے دنیا کو یہ پتہ چل جائے گا کہ کون دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے اور کون اس کے خلاف ہے۔ ممبئی حملے کے طرز پر فرانس میں ہوئے آتنکی حملوں کے بعد دنیا کے لئے مودی اور بھارت کی آواز کو اب لمبے وقت تک نظرانداز کرنا مشکل ہوگا۔ دہشت گردی کی خونخوار شکل نے دیش ہی نہیں بلکہ برصغیر کی حدود کو بھی پارکرلیا ہے۔ایسے میں ذمہ دار ملک دہشت گردی کے خلاف کھل کر سامنے آنے میں اپنا نفع اور نقصان ضرور دیکھیں گے اور اگر ایسا نہیں کیا تو یہ ان کی بھاری بھول ہوگی۔ نریندر مودی کی وارننگ کا اثر بھی ہوتا دکھائی پڑرہا ہے۔ ترکی کے انتالیہ شہر میں ہوئی جی 24- چوٹی کانفرنس میں پیرس حملوں کا اشو چھایا رہا۔ جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر دہشت گردی سے لڑنے کے لئے متحدہ طور پر عالمی سطح پر کوششوں کی اپیل کی ہے وہیں اس دورہ چوٹی کانفرنس کے اختتام پر ایک ریزولوشن پاس کیا گیا جس میں آئی ایس کو نیست و نابود کرنے کا عظم ظاہر کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکیمون نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی اقوام متحدہ کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے ایک وسیع پلان سونپیں گے۔ آئی ایس کے ذریعے بڑی طاقتوں کو نشانہ بنانے کے اس کے حوصلے میں ہی دراصل اس کے خاتمے کا امکان بھی چھپا ہوا ہے۔ آخرطالبان اور القاعدہ جیسی بے رحم تنظیمیں اسی طرح کمزور ہوئی ہیں۔ پیرس حملوں کی دنیا بھر میں جس طرح سے مذمت ہورہی ہے اس سے تو یہ طے کہ آئی ایس کے خلاف کارروائی کے حق میں حمایت بڑھے گی۔امریکہ بھی اب اپنی دوہری چالوں سے پرہیز کرے گا لیکن مشکل یہ بھی ہے کہ چاہے وہ آئی ایس ہو یا دیگر دہشت گرد تنظیمیں ہوں ان کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی میں وہ اتحاد دکھائیں نہیں دے رہا ہے جس کی توقع کی جاتی ہے۔ مثلاً ایران آئی ایس سے تو بیشک لڑ رہا ہے لیکن اس خیمے میں وہ نظر نہیں آنا چاہتا جس میں امریکہ ہو۔ اس جنگ میں روس اور امریکہ کے ایجنڈے میں بھی فرق ہے۔ امریکہ جہاں سارے حقائق کے باوجود اپنے افغان مفادات کے پیش نظر پاکستان کو قصوروار ماننے سے انکارکرتا نظرآرہا ہے وہیں آئی ایس کو ختم کرنے کے ساتھ شام کے صدر بشارالاسد کو بھی ہٹانا چاہتا ہے، وہیں روس کا اسد کے تئیں رویہ نرم ہے۔ اس سے بھی دہشت گردی کے خلاف لڑائی کمزور پڑتی ہے۔ بھارت میں بھلے ہی دہشت گردی پاکستان اسپانسر ہے لیکن اس کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ آئی ایس نے پیرس پر حملہ ٹھیک اسی انداز پر کیا ہے جس طرح لشکر طیبہ نے ممبئی میں کیا تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کے ممبر ممالک سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد بین الاقوامی دہشت گردی پر ایک بڑے معاہدے کا ریزولوشن پاس کرے ۔ وزیر اعظم نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اقوام متحدہ اپنی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر بغیر تاخیر کئے دہشت گردی کی تشریح طے کرے تاکہ ہم جان سکیں کہ کون دہشت گردی کی حمایت میں ہے اور کون دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے اور کون اسے فروغ دے رہا ہے۔یہ بھی کہ دہشت گردی کا نشانہ کون لوگ بن رہے ہیں اور کون دہشت گردی کے خلاف ہیں اور کون انسانیت کیلئے اپنی قربانی دے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

کیا بہا ر کی طرز پر یوپی میں مہاگٹھ بندھن بنے گا؟

بہار کے کامیاب مہا گٹھ بندھن کا فارمولہ اب دوسری ریاستوں میں بھی آزمایا جاسکتا ہے۔ یہ امکان میں نے پہلے بھی ظاہرکیا تھا۔ اب خبر ہے کہ بہار کی طرز پر اترپردیش میں بھی بھاجپا کو حاشیے پر لانے کے لئے غیر بھاجپائی پارٹیوں کے متحد ہونے کے امکان نے زور پکڑ لیا ہے۔ سپا حکومت کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سنت کبیر نگر میں یہ کہہ کر کہ سال2017ء میں ہونے والے چناؤ میں بھاجپا کے خلاف مہا گٹھ بندھن کی تشکیل سے انکار نہیں کیا جاسکتا، اس بحث کو ہوا دے دی ہے۔ وہیں آر جے ڈی چیف اور ملائم سنگھ کے سمدھی لالو پرساد یادو سے اس سلسلے میں جلد ملائم سنگھ سے ملاقات کرنے کیلئے اترپردیش آنے کی بھی خبر ہے۔حالانکہ سپا سرکار میں وزیر شیو پال یادو نے پارٹی کو اپنے بوتے پر چناؤ لڑنے کی بات کہہ کر بھاجپا کو آنے والے چناؤ میں مات دینے کا دعوی کیا ہے۔ جہاں تک سوال کانگریس کا ہے بہار اسمبلی چناؤمیں اس کی کامیابی سے حوصلہ بڑھا ہے وہ ایسے اتحاد میں شامل ہونا چاہے گی یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے۔ وہ اب چاہے گی کہ اپنے بوتے پر چناؤ لڑے اور اپنا کھویا ہوا جن آدھار واپس لانے کی کوشش کرے۔ پھر بہوجن سماج پارٹی کا حوصلہ بھی بڑھا ہوا ہے وہ اس خیمے میں نہیں جاسکتی جس میں ملائم سنگھ ہوں ہاں بھاجپا سے وہ اتحاد یا سیٹوں کی شیئرنگ کر سکتی ہے لیکن بھارت کی سیاست میں کچھ بھی دعوے سے نہیں کہا جاسکتا۔ لالو یا نتیش کااترپردیش میں کوئی جن آدھار نہیں ہے اس لئے اس کو کچھ کھونے کے لئے نہیں ہے۔ ادھر راشٹریہ لوک دل کے صدر اجت سنگھ نے کہا کہ اترپردیش میں بہار کی طرح سیاسی پارٹیوں میں اتحاد کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے سیاسی حالات بہار سے الگ ہیں اور صوبے میں ملائم سنگھ اور مایاوتی کے ملے بغیر مہا گٹھ بندھن کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور یہ دونوں آپس میں تال میل نہیں کرسکتے۔ ابھی یوپی اسمبلی چناؤ میں وقت ہے سال2017 ء تک سیاسی حالات میں تبدیلی آسکتی ہے۔ دیکھیں بہار میں مہا گٹھ بندھن کیسے چلتا ہے؟ اس پر ہی مہا گٹھ بندھن کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔
(انل نریندر)

17 نومبر 2015

Adcenter Coupon Worth 200 USD

Choicedelhi.in  is offering holiday Bing promotional cpdes its Bing ads customers. Bing is the fastest growing ad network and it shows ads on Bing and yahoo networks both. It is providing $200 Worth
 
Bing Ads Coupon Worth 200 USD to new Bing ads Customers. Price of Coupon is 15$ or 1000 Rupees.
 
You can save $200 in your bing ad accounts, you can use it in new ad account or less than 30 days old ad accounts.
 
bing coupon 200 Bing Coupon $200 For New Ads.
 
This coupon works worldwide in any country.
 
Terms and conditions to use Bing Ads Coupon $200 :-
 
1- it works in New Accounts and less than 30 days old.
2-It works in postpaid bing ad accounts.
3-You need to add a valid payment method to use these bing coupons.
4-Only one coupon works per accounts.
5-Expiry of Coupon is in 30th November 2015. (new coupons will come after 30 November again so same offer will be available later also)
6-You can not mix this coupon with any other coupon
7-100% guidance for how to use coupon
 
Contact me st skype id speakmeme Email id ceo@speakmeme.com Call +91-8586875020 / +91-9136075049
 

اس مرتبہ یہ جنگ ہے: فرانسیسی صدر فرانسیوااولاندو!

دنیا کی فیشن و گلیمر کی راجدھانی پیرس کی شام جمعہ( ہمارے لئے سنیچرصبح سویرے) آتنکی حملے سے لہو لہان ہوگئی۔ اے۔کے 47 اور فدائی بیلٹ کا سہارا لے کر دنیا کی سب سے خونخوار دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے 18 دہشت گردوں نے 6 مقامات پر حملہ بول کر129 لوگوں کو مار دیا۔ 300 سے زائد کو زخمی کردیا۔ بتادیں کہ اسے عالمی جنگ کے بعد پیرس پر سب سے بڑا حملہ بتایا جارہا ہے۔ 13 نومبر 2015 ء کو ہوا یہ حملہ ممبئی کے 26 نومبر 2008ء کے آتنکی حملے سے ملتا جلتا تھا۔دہشت گردوں نے ریستوراں میں کھانا کھا رہے لوگوں کو، بار میں شوق فرما رہے لوگوں اور اسٹیڈیم کے باہر تابڑ توڑ حملے کئے۔ واردات کے بعد سے فرانس میں ایمرجنسی لگادی گئی ہے۔ واردات کے ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ وہاں ایک حملہ آور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کے خلاف فرانسیسی فوج کے حملوں کا ذکرکررہا تھا۔ واردات کی جگہ شارلی ایبدو میگزین کے دفتر سے محض200 میٹر کی دوری پر ہے، جہاں اسی سال ماہ جنوری میں جہادیوں نے حملہ کیا تھا۔ بم دھماکے کے وقت فرانس کے صدر فرانسیوا اولاندو بھی اسٹیڈیم میں فرانس بنام جرمنی فٹبال میچ دیکھ رہے تھے۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ اسٹیڈیم کے پاس حملہ آور چلا چلا کر اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔ ایک چشم دید جو بٹان لان میں ایک راک کنسرٹ کے وقت موجود تھا ، نے بتایا کہ وہ سبھی کو ایک ایک کر مار رہے تھے۔ شام کا بدلہ لینے کی بات بول رہے تھے۔ سب سے بے رحمانہ حملہ بتاکلا تھیٹر میں ہوا۔ اے ۔ کے47 سے مسلح چار دہشت گرد اللہ اکبر کہتے ہوئے تھیٹر میں گھسے اور اندھا دھند گولیاں چلاتے رہے اور 89 لوگوں کو مار ڈالا۔ فرانس میں پہلی بار اتنا خوفناک حملہ کیا گیا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ فرانس میں ہی کیوں بار بار آتنکی حملے کررہے ہیں؟ دراصل فرانس دہشت گردوں کے نشانے پر اس لئے ہے کیونکہ آئی ایس کے خلاف جنگ میں وہ اتحادی فوج کے ساتھ شامل ہے۔ یہ پچھلے سال ستمبر سے ہی شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم آئی ایس کے خلاف ہوائی حملے کررہا ہے۔ کچھ دن پہلے فرانسیسی صدر اولاندو نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئی ایس سے لڑنے کے لئے اپنے سب سے بڑے جنگی جہاز’’ شارل دیگال‘‘کو بھی بھیجے گا۔ فرانس نے اس برس شام میں بھی کئی ہوائی حملے کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ 2015 میں ہی آئی ایس نے فرانس میں پانچ حملے کئے ہیں۔ 7 جنوری 2015کوپیرس ایک کارٹون میگز ین ’شارلی ایبدو‘ کے دفتر میں ہوئے آتنکی حملے میں20 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ کچھ نقاب پوش میگزین کے دفتر میں گھس کر اندھا دھن گولیاں چلانے لگے تھے۔
حملے میں چار چیف کارٹونسٹ اور چیف ایڈیٹر کی موت ہوگئی تھی۔ ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا کہ 3 فروری کو نیس میں ایک یہودی کمیونٹی سینٹر کی رکھوالے کرتے ہوئے تین فوجیوں پر حملہ ہوا لیکن اس حملے میں کسی کی جان نہیں گئی۔ 19 اپریل کو ایک الجیریائی یہودی نے دو گرجا گھروں پر حملے کئے جس میں ایک خاتون کی موت ہوگئی تھی۔26 جون کو مشرقی فرانس کی ایک گیس فیکٹری میں دن دہاڑے مشتبہ اسلامی حملہ آوروں نے ایک شخص کا گلا کاٹ دیا جبکہ دو دیگر لوگوں کو دھماکوں سے زخمی کردیا۔ 21 اگست کو بھاری ہتیاروں سے مسلح ایک آتنکی نے ایمسڈریم جا رہی ایک ہائی اسپیڈ ٹرین میں فائرننگ کی تھی جس میں چار لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ فرانس کے صدر فرانسیوا الاندو نے خبردار کرتے ہوئے اپنے رد عمل میں کہا کہ آئی ایس کے آتنکیوں کی فوج نے جنگ کا اعلان کیا ہے۔ ہم اب ایسا جواب دیں گے جس میں کسی پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بے رحم طریقے سے بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا یہ فرانس پر نہیں پوری انسانیت پر حملہ ہے۔ ایسی طاقتوں کے خلاف سب کو متحد ہوجانا چاہئے۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے اسے بزدلانہ حملہ بتایا جبکہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا اس حملے سے صاف ہوگیا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے آتنک واد سے خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پیرس میں قتل عام کے خلاف مسلم دنیا بھی فرانس کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے حالانکہ مغربی ملکوں میں مسلمانوں میں ڈر ہے کہ کہیں لوگ پھر سے انہیں نشانہ بنانا نہ شروع کردیں، جیسے امریکہ میں 9/11 حملوں کے بعد بنایا تھا۔سنیچر کو فرانس میں حملہ اتنا ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا نیویارک 9/11 حملے کی امریکہ کے لئے اہمیت تھی۔ کچھ دن پہلے آئی ایس نے ایک روسی مسافر طیارے کو سنائی میں مار گرایا تھا۔ اب پیرس میں یہ حملہ کیا ہے۔ لڑائی بڑھنے کے پورے آثار ہیں اس حملے سے امریکہ کو بھی اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ اب اسے روس و اسد کا ساتھ دینا چاہئے۔ آئی ایس دنیا کی سب سے خونخوار خطرناک تنظیم بن گئی ہے اور سبھی دیشوں کو اس کے خلاف متحدہ ہوکر جواب دینا ہوگا۔
پیرس حملوں سے بھارت کے لئے بھی کچھ سبق ہے۔ جب بھی آتنکی واردات ہوتی ہے میڈیا کا رول اہم ہوجاتا ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے یہ دکھایا ہے کہ میڈیا ایسے موقعوں پر کس ذمہ داری سے کام کرتا ہے۔ اخباروں میں کوئی خونی فوٹو نہیں شائع ہوا اور نہ ہی ٹی وی چینلوں پر ایسی تصویریں دکھائی گئیں۔ سبھی کوریج کا محض ایک مقصد اور توجہ تھی کہ اتحاد دکھاؤں اور دہشت گردی کو ہراؤ۔ اخبار ’لی پیرسمن‘ ہو یا وسطی لیفٹ نظریئے والے اخبارات ہوں سبھی نے دیش کے خلاف حملہ جنگ بتایا گیا ہے۔ آئی ایس کے خلاف فرانس جو بھی کرے اس میں پورا دیش اس کے ساتھ ہے۔ اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچانے کے لئے دہشت گردوں نے تین دھماکے کئے۔ اسٹیڈیم میں اس وقت فرانس کے صدر سمیت80 ہزار لوگ موجود تھے۔ سب نے پورا میچ دیکھا اور پھر اسٹڈیم میں آکر قومی گیت گایا اور ضبط رکھتے ہوئے قطار میں باہر نکلے۔ شہر میں مدد کے لئے ریستوراں ،ہوٹلوں کو ہسپتالوں میں تبدیل کردیا گیا اور زخمیوں کو طبی امداد پہنچائی گئی۔ آئی ایس کے خلاف مہم کی شروعات کرنے والے صدر اولاندو کو اپوزیشن نے بھی پوری حمایت دی۔ اپوزیشن کے لیڈر رگوبرڈ نے کہا کہ پورا دیش صدر کے ساتھ ہے۔ یہ اتحاد ایسے وقت میں دکھائی دیا ہے جب فرانس میں 50 سال بعد صوبائی چناؤ ہورہے ہیں۔ نہ کوئی بیان بازی ہوئی نہ صدر سے استعفیٰ مانگا گیا اور نہ ہی سرکار کی خفیہ ایجنسیوں کی چوک یا خامیوں کا ذکر کیا گیا نہ احتجاج میں کوئی بیان درج کیا گیا۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں فرانس کے ساتھ ہیں اور متوفی لوگوں کے خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
(انل نریندر)

16 نومبر 2015

What if Pakistan's nuclear arsenal falls into wrong hands?

ANIL NARENDRA

Pakistan is probably the most dangerous country for the world as it is a failed state, a failing economy with the faster growing nuclear arsenal. A day after Pakistan’s Foreign Secretary Aizaz Chaudhry acknowledged that the country is developing, “battlefield nukes”,  the latest Nuclear Notebook report by Bulletin of Atomic Scientists reported that Pakistan has now a stock pile of 110-130 war heads against 90-110 in 2011. At this rate Pakistan could be the fifth largest nuclear power by 2025.

The Nuclear Notebook, one of the most authoritative source of information on Pakistan’s N-Capabilities says it is rapidly expanding its stock pile and also confirms India’s fears that it is also developing mini missiles to use against Indian troops if required. This has also been confirmed by acclaimed nuclear expert Hans Kristensen and Robert Norris. They say that Pakistan is developing short range nuclear capable missiles to repel any invasion by Indian troops. These bombs could be useful to dominate any low intensity conflict with India.

“Pakistan is probably the most dangerous country in the world, and as such, a serious case for close and continued US engagement with Pakistan should be made”, Kevin Hulbert, a former top intelligence officer who retired in June 2014, wrote in an op-ed in the Cipher Brief. The ex-CIA official Claimed that the spectre of the sixth largest country in the world being a failed state is a hypothetical catastrophe that would unleash a world of unintended consequences.

Pakistan finds itself in a very complicated security situation today where there is little differentiation among radical groups. Terrorist groups such as Lashkar-a-Taiba are suddenly allied with Al-Qaeda. While Lashkar-e-Jhangvi, the Pakistan Taliban, the Afghan Taliban, and other assorted so called Jihadist groups and non-state actors are intent on bringing down the elected government of Pakistan.

The big question here is can the world trust Pakistan with this huge nuclear arsenal?  Certainly Pakistan’s track record is not very encouraging. Data analysis by British intelligence agency MI-6 helped to unmask Pakistan’s nuclear scientist Abdul Qadeer Khan, who sold nuclear secrets to Iran, Libya and North Korea, according to information released to The Times. Khan was placed under house arrest in Pakistan for five years until 2009 for this part in the world’s biggest nuclear proliferation scandal. Khan claimed that he was made a scapegoat and all his activities were sanctioned by successive political bosses of Pakistan. 

This has in a way been supported by an ex-President of Pakistan, General Pervez Musharraf very recently.  Former President Musharraf has acknowledged that his country supported and trained terror groups like the Lashkar-e-Taiba (LeT) for fanning militancy in Kashmir. In an interview with Duniya News, a local T.V. news channel, the 72 year old former military ruler also asserted that terror leaders like Osama bin Laden and Ayman al-Zawahiri were ‘heroes’ but later became villain’s.

Former president of Iran, Akbar Hashemi Rafsanjani has finally lifted the lid on Pakistan’s role in the development of Iran’s nuclear programme, saying Pakistan provided designs and technology including 4000 used centrifuges for enriching uranium. He did not disclose whether the transfer of the technology and designs had the sanction of the Pakistani government or whether the work of proliferation ring was run by scientist A. Q. Khan. 

Surely Khan could not have sold top level, closely guarded state secrets without the tacit approval of the Pakistani leadership?  Which brings us to the question can the world trust an unstable Pakistani political establishment with this nuclear stock pile? It is not only a worry for India, but the world cannot remain unaffected should these nukes fall in wrong hands? 

India’s Ex-Defence Minister Mr. A. K. Antony said, our only worry about Pakistan’s nuclear arsenal is that there is always a danger and threat of (the weapons) going into the hands of terrorists. While the issue has always been a cause of concern in the west, especially in the United States, anxiety levels have increased all around after the terror attack on Pakistan’s military establishments like the Naval Base in Karachi.

The same fear was expressed by Ex US Defence Secretary Leon Panetta. Panetta told reporters at a Pentagon news conference that the U.S. fears that there is a real danger of Pakistan’s nuclear weapons falling into the hands of terrorists if terrorism is not controlled in the country. It is high time that the world woke up to this grave possibility. It is the duty of the United States to ensure that there is a tight lid on Pakistani nukes. It is not only India’s worry but the world will be a safer place if US takes control over Pakistan’s nuclear arsenal.

15 نومبر 2015

بہار نتائج کانگریس کیلئے آب حیات بنا!

لمبے عرصے کے بعد بہار اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی جیت نے پارٹی کیلئے آب حیات کا کام کیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری و پارٹی کا پرچار سنبھال رہے سی پی جوشی نے کہا کہ پردھان منتری نریندر مودی کی لیڈر شپ والے این ڈی اے کے خلاف مہا گٹھ بندھن کی جیت کا اثرراشٹریہ اور انترراشٹریہ سطح پر بھی ہوگا۔ جوشی نے جیت کا سہرہ پارٹی نائب صدر راہل گاندھی کو باندھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکر مانتے ہیں کہ اب راہل کو پارٹی صدر بنا دینا چاہئے۔ انہوں نے جیت کا پورا سہرہ راہل گاندھی کو دیتے ہوئے انہیں مہا گٹھ بندھن کا سوتر دھار بتایا۔ جوشی نے کہا کہ اس اہم چناؤ میں گٹھ بندھن کو لیکر راہل نے اہم کردار ادا کیا تھا لہٰذا اب کانگریس ورکروں کی مانگ ہے کہ راہل کو صدر بنانے کا وقت آگیا ہے۔ ایک دوسرے کانگریس کے جنرل سکریٹری شکیل احمد نے بھی کہا کہ راہل کے پراثر کردار کے بغیر مہا گٹھ بندھن ممکن ہی نہیں ہوتا۔ نتیش اور لالو کو ساتھ لانے میں راہل کا اہم کردار تھا۔ خاص طور سے جب لالو پرساد یادو کو اس گٹھ بندھن کے ساتھ آنے میں کچھ اعتراضات تھے۔گزشتہ بہار چناؤ میں کانگریس نے سبھی 243 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے حالانکہ کل 5 سیٹوں پر ہی جیت درج کرپائی تھی۔ 
بھلے ہی گٹھ بندھن کو ملی اس جیت کے پیچھے وجہ سیٹ شیئرنگ و امیدواروں کا چناؤ کافی سوچ سمجھ کر بتایا جارہا ہو، لیکن دوسری جانب یہ بھی مانا جارہا ہے کہ سیٹ شیئرنگ میں کانگریس کو سب سے مشکل سیٹیں ملیں۔ کانگریس کو وہی سیٹیں دی گئیں جہاں بھاجپا کی خاصی پکڑ تھی۔ زیادہ تر شہری سیٹیں تھیں اس لئے زیادہ تر سیٹوں پر کانگریس کو سیدھی ٹکر بھاجپا سے دیکھنے کو ملی۔کانگریس کی41 سیٹوں میں سے کل 28 سیٹوں پر اس کی سیدھی ٹکر بی جے پی سے تھی۔ کانگریس کو ملی اس جیت سے مانا جارہا ہے کہ کانگریس کو بہار میں زمینی بنیاد بڑھانے میں مدد ملے گی۔
کثرت وجود اور انعامات لوٹانے کی حکمت عملی کا بھی پارٹی کو فائدہ ملا۔اس سے بھاجپا اور مودی سرکار کے خلاف ماحول بنا اور اقلیتوں نے تھوک بھاؤ میں کانگریس کو ووٹ دیا۔ کانگریس کی نظر اب اگلے سال ہونے والے پانچ ریاستوں کے ساتھ ساتھ یوپی ، پنجاب، گجرات کے چناؤ پر بھی رہے گی۔ غور طلب ہے کہ اگلے سال پشچمی بنگال ،آسام، پانڈوچیری، کیرل اور تاملناڈو میں چناؤ ہونے ہیں ۔ جہاں آسام میں کانگریس کی سرکار ہے وہیں بنگال اور پانڈوچیری میں پارٹی اپنا مضبوط جن آدھار بنا چکی ہے۔ بہار چناؤ میں جس طرح سے راہل نے چناوی تال میل کرایا ، 12 ریلیاں ہیں اس سے یہ کہا جارہا ہے کہ راہل کی لیڈر شپ میں بھروسہ جاگا ہے۔
(انل نریندر)

ہوا میں زہر تو گھلا لیکن پچھلے سال سے کم!

راجدھانی دہلی میں دیوالی کے موقع پر لگتا ہے کہ لوگوں میں بیداری آئی ہے اور ان کو یہ سمجھ آئی کہ زیادہ پٹاخے چلانے سے آب و ہوا آلودہ ہوتی ہے جس سے سبھی کو نقصان ہوتا ہے۔بیشک اس بار بھی دیوالی کے موقع پر آتش بازی سے راجدھانی کی ہوا میں خوب زہر گھلا ۔ عالم یہ تھا کہ جمعرات صبح آسمان میں فضائی آلودگی کے چلتے ذرات کی ہلکی چادر دیکھنے کو ملی۔ اس کے باوجود سکون دینے والی بات یہ رہی کہ پچھلے سال کی دیوالی کے مقابلے آلودگی کی سطح کم رہی اور سطح اس بار نیچے رہی۔
اس سال دیوالی پر ہوا کی رفتار پچھلے سالوں کے مقابلے میں کچھ تیز تھی جس کے نتیجے میں حالات کچھ بہتر نظر آئے۔ دہلی سرکار بھی دعوی کررہی ہے کہ پٹاخوں کے خلاف چلائی گئی ہم کی وجہ سے آلودگی میں کمی آئی۔ حالانکہ دہلی سرکار کے اس دعوے کو لیکر مرکزی اور دہلی سرکار کے دعوؤں میں اختلاف بھی دیکھنے کو ملا۔ مرکزی زمینی سائنس وزارت کے ادارے صفرکی رپورٹ کے مطابق دہلی یونیورسٹی کے آس پاس کے علاقے میں دیوالی کی رات آلودگی میں 20 گنا تک اضافہ درج کیا گیا جبکہ دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی نے گزشتہ چھ سالوں میں دیوالی کے موقع پر راجدھانی میں آلودگی کم ہونے کا دعوی کیا ہے۔دہلی سرکار کے دعوے کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ دہلی پر اس بار گزشتہ سال کے مقابلے پٹاخوں کی فروخت میں کمی دیکھی گئی۔ 
یہ قریب 20 فیصدی بتائی جاتی ہے۔ حالانکہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی بتایا گیا کہ اس بار پٹاخوں کی بکری دیوالی کے دنوں اور وہ بھی شام کے بعد ہی ہوئی۔ پٹاخوں کے ایک بڑے ویاپاری نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس بار 20 سے25 فیصدی پٹاخوں کی بکری کم رہی۔
دیوالی سے ایک دن پہلے تک تو دوکاندار اسی بات کو لیکر ڈرے ہوئے تھے کہ جو پٹاخے ان کے پاس ہیں وہ بھی بک پائیں گے یا نہیں؟ لیکن دیوالی کی رات کو پٹاخوں کی بکری کافی ہوئی۔ ویسے بھی اس سال پٹاخوں کی قیمتوں میں لگ بھگ 15فیصدی اضافہ بھی ہوا۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود کچھ لوگ اب بھی زیادہ پٹاخے چلانے سے پرہیز نہیں کرتے اور ان کی غلطی کا خمیازہ پورے سماج کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان سب کے بیچ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس بار بھی ہر سال کی طرح رات 10 بجے کے بعد بھی پٹاخے جلائے گئے۔ سپریم کورٹ نے صاف حکم دے رکھا ہے کہ رات10 بجے کے بعد پٹاخے نہ چلیں ،پر اس پر عمل بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ پھر بھی ہمیں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں اور پٹاخوں کی تعداد گھٹانے کی سمت میں مسلسل کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔ ہوا کو صاف کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...