Translater

07 مارچ 2020

کملناتھ کی سرکار پر خطرے کے بادل

مدھیہ پردیش کی سیاست میں منگل کی صبح سے آدھی رات تک بھلے ہی سیاسی ڈرامے کے بعد کملناتھ کی کانگریس سرکار کی کرسی پر خطرہ مڈرانے لگا ۔لیکن وزیر اعلیٰ نے دعوی کیا کہ ان کی سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔اور نہ ہی کسی کو اس بارے میں کوئی فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ان کا یہ بیان سینئر کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ کے ان الزامات کے ایک دن بعد آیا کہ بھاجپا نیتا پردیش سرکار کو گرانے کے لئے کانگریس کے ممبران اسمبلی کو بھاری رقم دینے کی پیش کش کر رہے ہیں ۔کملناتھ کا کہنا تھا کہ کانگریس ممبران اسمبلی کے بھاجپا نیتاﺅں کے پیسہ دینے کی پیش کش کی معلومات انہیں بتائی گئی ہے ۔میں نے ممبران سے کہا کہ اگر مفت میں پیسہ مل رہا ہے تو وہ اسے لے لیں 2018میں کانگریس کی کملناتھ سرکار بن جانے کے بعد سے ہی ریاست میں ممبران اسمبلی کے پالا بدلنے کی خبریں آتی رہی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی تعداد کے درمیان بہت کم فاصلہ ہے بی ایس پی اور سپا اور آزاد ممبران کے دم پر کملناتھ سرکار چل رہی ہے ۔اور بی جے پی ان کی حمایت کو کملناتھ سرکار کے لئے کمزور کڑی کی شکل میں دیکھتی ہے ۔2018کے اسمبلی چناﺅ میں بی جے پی اپنے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کی رہنمائی میں مسلسل چوتھی مرتبہ سرکار بنانے کی امید کر رہی تھی چناﺅ کمپین کے دوران کچھ چیزیں ایسی ہوئیں کہ پارٹی محض107سیٹیں جیت پائی کانگریس نے 114سیٹیں جیتی تھیں ۔اور سرکار بنانے کے لئے نمبر116تھا جس وجہ سے تینوں پارٹیوں اور آزاد کی مدد سے سرکار بنا لی پہلے ہی دن سے بی جے پی کی کملناتھ سرکار پر نظر ہے اور کانگریس کو انہیں سنبھال کر رکھنے میں بار بار مشقت کرنا پڑتی ہے ۔کانگریس کے وزیراعلیٰ کملناتھ کو کافی تجربہ اور ان میں چالاکی ہے ۔جو یہ ممبران سرکار کے ساتھ کھڑے ہیں ۔کئی بار پہلے بھی ریاست میں اقتدار کے الٹ پلٹ کی خبریں آتی رہی ہیں ۔بی جے پی کے نیتا کہتے ہیں کہ یہ سنکٹ کانگریس اور اس کے اپنے ساتھی پارٹیوں کی اپنی کمزوری ہے اور غلطیاںبھی ہیں ۔بھاجپا کا اس میں کوئی رول نہیں ہے ۔اور دگ وجے سنگھ پھر سے ایوان بالا میں آنا چاہ رہے ہیں ۔ان کے منصوبوں پر پانی پھیرنے کی کوشش بی جے پی میں نہیں ہے ۔کانگریس میں بھی لگ رہا ہے کہ جوتر آدتیہ سندھیا کے علاوہ اندرونی طور پر کچھ کانگریسی نیتا بھی دگ وجے سنگھ اور کملناتھ کے ساتھ اندرونی طور پر نہیں مانے جا رہے ہیں ۔بھوپا ل سے 8ممبر بی جے پی کی طرف جانے کے لئے باہر گئے ہیں گرو گرام میں رات کو ہوئے ڈرامے کے بعد کانگریس پھر سے چار ممبران کو اپنی طرف لے آئی ہے ۔لیکن چار ابھی بھی دور ہیں ۔کانگریس انہیں بھی جلد ساتھ لے آنے کی امید کر رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کملناتھ بی جے پی کے تازہ کوشش کا درکار جواب دے پائیں گے ؟

(انل نریندر)

پولیس پر پستول تاننے والا پوسٹر بوائے گرفتار

دہلی دنگوں کے دوران جعفرآباد میں ہیڈ کانسٹبل دیپک داہیا پر پستول تاننے والا اور تین راﺅنڈ گولی چلانے والے محمد شاہ رخ کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے اترپردیش کے شہر شاملی سے گرفتار کر لیا ہے ۔24فروری کو نارتھ ایسٹ دہلی میں دنگے کے دوران شاہ رخ کی تصویر کافی وائرل ہوئی تھی اسے دہلی تشدد کا پوسٹر بوائے کہا جانے لگا۔شاہ رخ کی تلاش میں ایس آئی ٹی کی ٹیمیں اس کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے ماری کر رہی تھیں اس کے پاس سے پستول برآمد ہوئی ہے ۔ایڈیشنل سی پی کرائم برانچ ڈاکٹر سنگلا نے بتایا کہ شاہ رخ کو یوپی کے شاملی شہر سے گرفتار کیا گیا ہے ۔وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ نارتھ دہلی میں اروند نگر گلی نمبر 5میں رہتا ہے ۔اس کے کنبے میں بھائی ماں باپ ہیں ۔شاہ رخ واردات کے بعد سے گھر والوں کے ساتھ فرار تھا ۔پولیس ذرائع کی مانیں تو شاہ رخ کے والد کا نام شاہ ور پٹھان ہے ۔اس پر ڈرگس سپلائی کے کئی مقدمے درج ہیں دو بار جیل بھی جا چکا ہے ۔ڈاکٹر سنگلا کے مطابق پولیس ملزم شاہ رخ سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے کہ وہ دنگوں میں خود شامل تھا کہ پھر کسی کے کہنے پر پستول لے کر آیا تھا ۔اس کی منشاءکیا تھی ؟اس کے ساتھ او رکون کون لوگ تھے ۔اسے چھپانے کے لئے کس کس نے مدد کی ؟واردات میں استعمال پستول کہاں سے آئی ؟شاہ نے بتایا کہ اس دن وہ اکیلا مظاہرے میں پہنچا تھا اور طیش میں آکر اس نے تین راﺅنڈ فائرنگ کی تھی ۔اس نے کسی سازش کے تحت اس واردات کو انجام دینے کی بات سے انکار کیا ہے ۔ایڈیشنل سی پی کے مطابق جعفرآباد علاقے میں دونوں فرقوں کے لوگ سڑک پر اتر آئے تھے ۔تشدد کے دوران اچانک وہاں پہنچ کر شاہ رخ پٹھان نے گولیاں چلائیں اس دوران للکارنے پر اس نے ہیڈ کانسٹبل دیپک داہیا پر پستول تان دی تھی اور پتھراﺅ اور ہنگامے کے درمیان موقع سے فرار ہو گیا تھا ۔بے خوف ہو کر فائرنگ کر رہا تھا اس سے معاملہ اور سنگین ہوجاتا ہے ۔جس طرح وہ دہلی سے بھاگنے میں کامیاب رہا اس کو لے کر سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس کی فراری میں کن لوگوںنے مدد کی ؟اور اس کی کن کن لوگوںسے بات ہوئی اس کی جانچ ایس آئی ٹی کر رہی ہے ۔اس کے موبائل سے بھی کئی راز کھل سکتے ہیں ۔شاہ رخ نے بتایا کہ اس نے جس پستول سے فائرنگ کی وہ کسی واقف کار کے ذریعہ مونگیر سے خریدی گئی تھی وہ آٹومیٹک ہے ۔ایس آئی ٹی اب شاہ رخ کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین سے اس کے ممکنہ کنکشن کو بھی کھنگال رہی ہے ۔پولیس نے شاہ رخ کے خلاف دفعہ 186,353,اور 307کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے ۔دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے شاہ رخ کو گرفتار کر کے جتا دیا ہے کہ اس سے کوئی مجرم بچ نہیں سکتا ۔بھلے ہی تھوڑا وقت لگے۔

(انل نریندر)

06 مارچ 2020

دہلی میں دنگوں سے ہندوستان کی ساکھ دنیا بھر میں خراب ہوئی ہے

دیش کی راجدھانی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے بھارت کی عالمی برادر ی میں بہت بدنامی ہو رہی ہے اور اس کی ساکھ کو بہت بڑا دھکا پہونچا ہے ۔دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پر بین الاقوامی سطح پر منفی رد عمل سامنے آرہے ہیں ۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر سے دہلی میںہوئے فرقہ وارانہ دنگوں کو جرمنی میں ہٹلر کی رہنمائی میں ہوئے یہودیوں کے قتل عام سے تشبیح دی ہے ان کا کہنا تھا مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو جلا دیا گیا اور جو تصویریں سامنے آرہی ہیں اس میں لگتا ہے مسلمانوں کو مارا پیٹاجانا مساجد اور قبرستانوں کو ناپاک کر دینا ویسا ہی ہے جیسے ماضی جرمنی میں یہودیوں کے اجتماعی قتل عام کی شکل میں ہوا تھا مودی کی فاسسٹ وادی نکسل وادی سرکار کی بربریت کی سچائی کو دنیا کو سمجھنا چاہئے اور اسے روکنا چاہئے ۔عمران نے آگے کہا مودی نے گجرات میں وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ بربریت کا رویہ اپنایا اب ہم دہلی میں وہی ہوتے دیکھا عمران خان کے بعد ترکی کے صدر طیب اردغان نے کہا تھا کہ بھارت اب ایسا دیش بن گیا ہے جہاں وسیع پیمانے پر قتل عام ہو رہا ہے اور یہ قتل عام مسلمانوں کا ہندو کر رہے ہیں ایک ایجنسی اے ایس پی کے مطابق اردوان نے یہ با ت انقرہ میں ایک تقریر کے دوران کہی ان کے بیان پر بھارت کی طرف سے جنیوامیں ہندوستانی خارجہ سروس کے افسر ویمرش آرین نے کہا میں صرف ترکی کو بھارت کے اندرونی معاملے پر رائے زنی سے گریز کرنے اور جمہوری عمل کو بہتر سے سمجھنے کی صلاح دیتا ہوں ۔اس کے بعد امریکہ میں ڈیموکریٹو پارٹی کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرس نے کہا بھار ت میں بیس کروڑ سے زیادہ مسلما ن اس ملک کو اپنا گھر مانتے ہیں اور مسلم مخالف بھیڑ نے کم سے کم 27لوگوں کی جان لے لی ۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارت پر منحصر کرتا ہے کہ وہاں جو کچھ ہوا وہ ہندوستان کی لیڈر شپ کی ناکامی ہے ۔برنی سینڈرس نے ٹرمپ کے دورہ بھارت پر نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت دورے پر ٹرمپ نے ڈیفنس ڈیل کا جو اعلان کیا تھا اسی وقت انہیں تبدیلی ماحولیات سے لڑنے کے لئے بھارت سے ساجھے داری بڑھانی چاہئے ۔اس سے پہلے سینڈرس نے جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے پر بھی پی ایم مودی کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کی تھی ۔کشمیر میں بھار ت کا قدم ناقابل قبول ہے اسلامک دیشوں کی تنظیم او آئی سی نے جاری بیان میں کہا کہ وہ بھار ت سے اپیل کرتی ہے کہ مسلم مخالف تشدد انجام دینے والے لوگوں کوانصاف کے کٹگرے میں کھڑا کرے اور اپنے یہاں مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔

(انل نریندر)

کورونا وائرس کا مقابلہ !

چین کے ووہان شہر سے شروع ہوا کورونا وائرس وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ڈھائی سال پہلے ووہان وائرس کی ضد میں آیا کادائرہ بڑھتا ہی جا رہاہے اس کی وجہ سے اب تک 34سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں یہ بڑے دکھ کی بات کے ساتھ ساتھ اتنی ہی تشویش کی بات ہے ۔دنیا میں تین ہزار سے زیادہ اس بیماری کی ضدمیں آچکے ہیں دہلی،جے پور او رتلنگانہ میں ایک ایک مریض کے وائرس ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے ۔دہلی میں متاثرہ شخص دبئی سے لوٹا تھا جبکہ جے پور میں ملا شخص اٹلی کا سیاح ہے ۔صاف ہے وائرس صرف چین سے ہی نہیں بلکہ دوسرے دیشوں کے ذریعے بھی بھارت آنے لگاہے ۔یہ اب دنیا بھر کی تشویش کا معاملہ بن چکا ہے اس کے پھیلنے کے خطرے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچاو ¿ کے تمام قدموں کے باوجود اکیلے چین میں 80ہزار سے زیادہ لوگ اس وائرس سے زیادہ متاثرہو چکے ہیں ۔اور اب تک تین ہزارسے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کم سے کم بیس دیشوں تک یہ وائرس پھیل چکاہے خاص طور سے پانچ ملکوں کی پوزیشن زیادہ تشویش ناک ہے چین،ایران ،اٹلی ،کوریا اور سنگاپور شامل ہیں ۔ان پانچ ملکوں سے آنے والوں کی جانچ کا فیصلہ حکومت نے کیا ہے اس کا خیر مقدم ہے مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے بتایا کورونا وائرس اب تک 66ملکوں میں پھیل چکا ہے لیکن ابھی تک دس ملکوں میں ہی اس وائرس سے مرنے والوں کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ چین میں لوگ مرے ہیں۔چین کے علاوہ جو چار دیگر ملک ہیں جہاں کورونا وائرس سب سے زیادہ پھیلا ہے ان میں ساو ¿تھ کوریا،اٹلی ،ایران اور جاپان ہیں ۔غور طلب ہے کہ حال ہی میں جاپان سے ڈائمنڈ پرنسز کروف سے بھار ت کے 119شہریوں کو بچایا گیا تھا ۔ان سبھی لوگوں کو لانے کے بعد سیدھے مانےسر سینٹر لے جایا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا آپ کو بتادیں کہ تمام احتیاطی اقدامات کے چلتے بھارت میں ابھی تک کسی کی اس بیماری سے کوئی جان نہیں گئی ہے ۔کورونا وائرس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس کے پھیلنے کا اندیشہ پہلے ہی ظاہر کیا جارہاتھا اب جیسے جیسے دنیا بھر سے اس کی خبریں آنے لگی ہیں اس سے یہی لگ رہا ہے کہ اس کاخطرہ اندازہ سے کہیں زیادہ ہے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ابھی تک جس طرح اس پر قابو پانے کے قدم نہیں نظر آرہے ہیں اس کے علاج کے لئے کوئی دوا تیار نہیں ہو پائی فی الحال سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے بین الاقوامی سطح پر قائم اختلافات کو بھلا کر دنیا کے تمام ملک کورونا وائرس کی کاٹ نکالیں کیونکہ سیاسی اور جغرافیائی سرحدیں اس وائرس کے انفکشن کے دائرے سے محدود نہیں رہ سکتیں ۔

(انل نریندر)

05 مارچ 2020

کنہیا کمار پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ

جے این یو میں ملک مخالف نعرے لگانے کے معاملے میں دہلی حکومت نے پچھلے جمعہ کو دہلی پولیس کو سبھی ملزمان کے خلاف ملک سے بغاوت اور مجرمانہ سازش جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے ۔دہلی سرکار کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے لمبے عرصے سے عدالت میں کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی ۔اسے لے کر بی جے پی مسلسل دہلی کی عام آدمی پارٹی سرکار پر نکتہ چینی کر رہی تھی دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے سینئر افسران نے بتایا کہ دہلی سرکار کے ہوم ڈیپارٹمینٹ کی طرف سے جمعہ کو ہی مقدمہ چلانے کی اجازت دینے والاخط پولیس کو ملا اور قواعد کے تحت ملک سے بغاوت کے دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے ریاستی سرکار سے اجازت لینا ضروری ہے ۔اسی کے چلتے ایک سال سے معاملہ لٹکا ہوا تھا ۔اس معاملے میں جے این یو اسٹوڈینٹ یونین کے نیتا کنہیا کمار ،انر بن بھٹا چاریہ اورعمر خالد سمیت دس لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124اے اور 120بی سمیت جھگڑوں اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا کنہیا نے ٹوئٹ کر کہا کہ دہلی سرکار کو بغاوت کا کیس کی اجازت دینے کے لئے شکریہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کنہیا کمار و دیگر کچھ لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے کے لئے دہلی کی اروند کجریوال سرکار پر نکتہ چینی کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ ملک کی بغاوت قانون کے بارے میں دہلی سرکار کی سمجھ غلط ہے ۔چدمبرم نے ٹوئٹ کیا کہ اس قانون کو لے کر دہلی سرکار کی سمجھ مرکز سے کچھ کم غلط نہیں ہے ۔اور جس طرح سے مقدمہ چلانے کی اجازت دئے جانے کے طریقے کو میں خارج کرتا ہوں وہیں بھارتیہ کمونسٹ پارٹی نے کہا کہ وہ اپنے نیتا کنہیا کمار کے خلاف ملک سے بغاوت معاملے میں قانونی اور سیاسی دونوں طرح کی لڑائی لڑیں گے پارٹی نے الزام لگایا کہ قومی راجدھانی میں عآپ سرکار نے سیاسی دباﺅ میں گھٹنے ٹیک دیے ہیں ۔اور چار سال پرانے معاملے میں منظوری دنیا سیاسی دباﺅ کا نتیجہ ہے ۔اِدھر مرکزی وزیر ماحولیات و موسمیات پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ دہلی کی کجریوال سرکار کو لوگوں کے دباﺅ کے سبب آخر کار جے این یو معاملے میں مقدمہ چلانے کی اجازت دینی پڑی ۔وزیر اعلیٰ اجازت دینے کے معاملے کو ٹالتے رہے لیکن آخر کار انہیں جنتا کے سامنے جھکنا پڑا ۔جے این یو میں بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے انشاءاللہ انشاءاللہ ۔بھارت کی بربادی کی جنگ چلے گی ایک افضل کو مارو گے تو ہر گھر سے افضل نکلے گا ۔افضل ہم شرمنا ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں ۔جیسے کئی نعرے ملک سے بغاوت ہے اب انصاف ہوگا ۔

(انل نریندر)

دنگوں میں اسکول ،گھر ،دکان،اسپتال،اور کیمسٹوں کو بھی نہیں بخشا

ایک گھر بنانے میں پوری زندگی کی کمائی کھپ جاتی ہے لیکن بلوائیوں نے پل بھر میں جلا کر راکھ کر دیا ۔تشدد سے متاثرہ علاقوں چاند باغ ،شیو وہار ،موج پور،جعفرآباد،سمیت کئی علاقوں کی دکانوں مکانوں اور جلی گاڑیوں کی بربادی کی تصویر دکھائی پڑتی ہے ۔دکانیں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہیں اور گھر کھنڈر جیسے لگ رہے ہیں لوگوں کے پاس صرف آنسو بچے ہیں ۔دن رات برسوں محنت کر جس آشیانے کو کھڑا کیا تھا اس کی راکھ سے اُڑتی سیاہی سے اندھیرے کے سوا زندگی میں اب کچھ باقی نہیں رہا ۔اب سینکڑوں لوگوں کو نئے سرے سے پھر زندگی شروع کرنی ہوگی شر پسندوںنے سب پھونک ڈالا ۔نارتھ ایسٹ دہلی کے شیو وہار تراہے پر بنے دو پبلک اسکولوں کو بھی فسادیوںنے تشدد کا نشانہ بنایا یہی نہیں شر پسندوںنے پورے اسکول کو آگ کے حوالے کر دیا ۔ڈی آر پی اسکول کے مالگ دھرمیندر نے بتایا کہ فسادیوںنے سب سے پہلے برابر میں بنے راجدھانی اسکول پر قبضہ کیا اورپھر وہ لوگ اسکول کی تیسری منزل پر چڑھ گئے ہمارے اسکول میں بھی پتھر برسانے شروع کر دیے وہیں جب چوکیدار نے گیٹ نہیں کھولا تو فسادی برابر والے اسکول کی دیوار سے رسی ڈال کر اسکو ل میں اتر گئے اور اسکول میں توڑ پھوڑ کی سائنس لیب اور کلاسوں کے شیشے اور کرسیاں آگے کے حوالے کر دی ۔کئی جگہ ایل سی ڈی اسکرین سمیت قیمتی سامان لوٹ لے گئے ۔مالک کا الزام ہے کہ بلوائیوںنے ایک فرقے کو نشانہ بنایا علاقے میں بڑھتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے وہ پریوار سمیت ایک دن پہلے ہی اپنا مکان بند کر کے رشتہ دار کے گھر چلے گئے 37سالہ شخص منصور علی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بہنوئی کے پریوار کے ساتھ موہن پوری علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ان کا رام گلی میں سلائی کڑھائی کا کاروبار ہے یہ علاقہ نو ر الہی سے لگا ہوا ہے پیر کو کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اپنے رشتہ دار کے یہاں چلے گئے ۔اگلے دن قریب بلوائیوںنے گھر کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کی اس کے بعد دروازے کو توڑ کر اور لوگ گھس گئے اور سونا وغیرہ لے گئے ایسے ہی برج پوری روڈ پر واقع ارون گارڈن پبلک اسکول کو بھی نشانہ بنایا اسکول کے مالک اور سابق ممبراسمبلی بھیشم شرما نے بتایا کہ فسادیوںنے اسکول میں کھڑی بسوں کو جلانے کے ساتھ پچھلے تیس سال کا اسکول ریکارڈ سمیت ہزاروں کتابوں کو بھی جلا ڈالا اسکول کو ٹھیک کروایا جا رہا ہے تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔

(انل نریندر)

04 مارچ 2020

یہ سیریا نہیں ،شیو وہار ہے

اکثر آپ ٹی وی چینلوں یا ویو ٹیوب پر وسطی مشرق ایشیاءکے اسلامی ملک سیریا میں ہوئے آتنکی حملوں کے بعد کے نظارے دیکھتے ہوں گے لیکن ہم آپ کو دہلی کے حصے کا کچھ منظر بیان کرنے جا رہے ہیں جو سیریا (شام)سے ملتا جلتا ہے جن کے بارے میں جان کر آپ بھی حیرت میں پڑ جائیں گے ۔یہاں شام جیسے حالات ہیں ۔شیو وہار کے دراصل نارتھ ایسٹ دہلی کے الگ الگ حصوں میں ہوئے دنگوں کے بعد جب ماحول تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو شیو وہار کا جائز لیا گیا ۔میڈیا کے لوگ اس علاقے کی ہر گلی میں گئے جہاں بلوایوں نے انسانیت کی ساری حدیں پار کر دیں تھیں وہاں تباہی کے بعد کا وہ خوفناک منظر دیکھنے کو ملا جسے دیکھ کر کسی بھی روح کانپ جائے دنگے کی آگ نے شیو وہار کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔علاقے کے مکانوں سے لے کر دکانوں تک تباہی کا وہ خوفناک منظر دیکھنے کوملا جسے دیکھ کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جائیں ۔شیو وہار شمشان گھاٹ کے قریب ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں ابھی تک انتظامیہ نہیں پہنچ پایا ۔وہاں لوگوں کوا ب کوئی راحت نہیں ملی آگ سے کالی پڑ چکی یہاں کی کثیر منزلہ عمارتوں کی دیواریں منظر کو بیاں کر رہی ہیں ۔پچاس سے زیادہ گھروں میں کچھ بھی نہیں بچا یہاں سے متاثرین گھر چھوڑ گئے ہیں سنیچر کی دوپہر تک یہ پورا علاقہ سیل تھا ۔بعد میں پولیس نے اسے کھولا یہاں جم کر لوٹ مار ہوئی ہے ۔اور آگ لگائی گئی ۔یہاں ملی جلی آبادی والا علاقہ ہے ۔آج دنگے سے پورے علاوے میں سناٹا ہے ۔اور پچاس سے زیادہ کثیر منزلہ عمارتیں ایسی ہیں جو جل کر خاک ہو چکی ہیں ۔عمارتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ زیادہ تر گراونڈ فلور کاروبار کے لئے استعمال کرتے تھے اور اوپری منزل پر رہا کرتے تھے ۔اور سب سے زیادہ نقصان شیو وہار کے فیس چھ اور سات میں ہوا ۔گنجان گلیوں میں موٹر سائکلیں اور کاریں جلی پڑیں ہیں ۔چشم دید گاہوں کا کہنا تھا کہ 24فروری کی شام اچانک بھیڑ شیو وہار کی طرف آئی اور سی اے اے اور این آر سی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نکل گئی تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ آئے اور مذہبی نعرے بازی کر رہے تھے بھیڑ کو دیکھ کر کچھ لوگوںنے چھتوں سے پتھراﺅ شروع کر دیا ۔اور اس سے لڑائی بھڑک گئی اور چاروں طرف آگ کا منظر دکھائی دینے لگا ۔یہاں کے مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ لگانے والے مقامی لوگ نہیں تھے ۔یہ باہر سے آئے ہوئے تھے بہر حال شیو وہار سے اجڑے پریشان لوگوں کو بلا تاخیر مدد پہنچانی ہوگی اور شانتی قائم کرنی ہوگی ۔جو لوگ چلے گئے ہیں ان کے گھروں کو سرکار اور انتظامیہ کو پھر سے منانا ہوگا ۔اور متاثرین کو مناسب معاوضہ ملنا چاہیے دہلی کی تاریخ میں شیو وہار کو جو زخم ملا ہے اس کو بھرنے میں وقت لگے گا ہماری وہاں کے متاثرین کے ساتھ پوری ہمدردی ہے ۔

(انل نریندر)

شہر جل رہا ہے ،آخر ایف آئی آر کا صحیح وقت کب آئےگا؟

دہلی ہائی کورٹ کے تیسرے سب سے سینئر جج جسٹس مرلی دھر کا آدھی رات کو تبادلہ کر دیا گیا انہیں پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ بھیجا گیا ہے کیونکہ انہوںنے 24گھنٹے پہلے ہی دہلی دنگوں کو لے کر مرکزی سرکار اور دہلی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے دہلی پولیس کو بھاجپا نیتاﺅں کے اشتعال انگیزی والے بیانات پر کارروائی نہ کرنے کے لئے پھٹکار لگائی تھی ۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ تشدد بھڑکنے پر پولیس نے کارروائی کیوں نہیں کی ؟جسٹس مرلی دھر کے تبادلے کو لے کر سیاست شروع ہو گئی ہے ۔کانگریس نے دہلی تشدد معاملے میں سماعت کرنے والے جج کے تبادلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ قدم بھاجپا کے کچھ نیتاﺅں کو بچانے کے لئے اُٹھایا گیا ہے جس سے عدلیہ کے خلاف بدلے کی کارروائی کرنے کا مودی سرکار کا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے ۔پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی اور جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے تبادلے پر سوال کرتے ہوئے دعوی کیا کہ حکومت نے انصاف کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے یہ بھی دعوی کیا کہ کپل مشرا اور کچھ دیگر بھاجپا نیتاﺅں کو بچانے کی سازش ہے ۔لیکن مودی شاہ سرکار کامیاب نہیں ہوگی ۔راہل گاندھی نے سورگیہ جسٹس لویا معاملے کا بھی تذکرہ کیا اور سرکار پر طنز کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ بہادر جسٹس لویا کویاد کر رہا ہوں جن کا تبادلہ نہیں کیا گیا تھا پرینکا نے ٹوئٹ میں کہا کہ جسٹس مرلی دھر درمیانی رات میں تبادلہ موجودہ انتظامیہ کو دیکھتے ہوئے کوئی چونکانے والا نہیں ہے ۔وہیں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کانگریس کے الزمات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس مرلی دھر کا تبادلہ سپریم کورٹ کی کالیجیم کی سفارش کے بعد کیا گیا ۔ساتھ ہی انہوںنے کانگریس پر معمولاتی رائے زنی پر سیاست کرنے کا بھی الزام لگایا ۔وزیر موصوف نے کہا کہ محترم جسٹس ایس مرلی دھر کا تبادلہ بارہ فروری کو بھارت کے چیف جسٹس کی قیادت میں سپریم کورٹ کی کالیجم کے ذریعہ کی گئی سفارش پر کیا گیا ہے ۔واضح ہو کہ جسٹس مرلی دھر کی بنچ نے بھاجپا نیتاﺅں پر جو سختی دکھائی تھی وہ ان کے تبادلے کے بعد نئی بنچ نے آسانی سے معاملے کی سماعت کے لئے چار ہفتے کا وقت دے دیا ایک ہی معاملے پر ایک بنچ 24گھنٹے کے اندر ایف آئی آر چاہتی تھی جبکہ دوسری بنچ نے وقت دے دیا ۔بدھ کو سماعت کے دوران سوال اُٹھا کہ مناسب وقت کیا ہوتا ہے ؟چیف جسٹس ڈی این پٹیل کی بنچ کے سامنے فہرست رکھی جسٹس پٹیل چھٹی پر تھے ایسے میں جسٹس مرلی دھر اور جسٹس تلونت سنگھ کی بنچ نے ہی معاملے کی سماعت کی مرلی دھر معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے عرضی پر سماعت کی جا رہی ہے ۔سوالی شیٹر جنرل تسار مہتا :معاملہ یکجا کر دیا جائے کورٹ کیا یہ معاملہ ضروری نہیں ہے ؟پولیس حکام اور ایس جی نے اشتعال انگیزی کے بیانوں کے ویڈیو دیکھنے کی بات کہی تو جسٹس مرلی دھر نے کورٹ میں یہ ویڈیو چلوا دیا ،مہتا:ایف آئی آر کے لے حالا ت ٹھیک نہیں ہیں ۔کورٹ:شہر جل رہا ہے مناسب وقت کیا ہوتا ہے ؟چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے سماعت کی بنچ اشتعال انگیز بیانوں سے انجان تھی سیشن جج نے اس کا ذکر کیا چیف جسٹس :کسی تقریریں:سیشن جج :جن دلیلوں کو جسٹس مرلی دھر نے خارج کیا انہیں دلیلوں کو اس بنچ نے منظور کر لیا ۔سیشن جج:پولیس نے بھی ویڈیو دیکھے ہیں اور مناسب کارروائی کے لئے زیاد ہ وقت چاہیے جج:جوابی حلف نامے کے لئے چار ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے ۔

(انل نریندر)

03 مارچ 2020

بہار میں نہیں مانگا جائے گا کوئی دستاویز

دیش بھر میں شہریت ترمیم قانون اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر )اور این آر سی کو لے کر پھیلی عوامی ناراضگی اور تشدد کے بعد بہار نے راستہ دکھایا ہے دہلی اسمبلی میں اتفاق رائے سے پرستاﺅ پاس کر دیا ہے کہ بہار میں این آر سی نافذ نہیں ہوگا این پی آر 2010کے فارمیٹ کے مطابق ہی ہو گا۔بہار میں این پی آر کے لئے کسی سے بھی نام پتہ اور تاریخ پیدائش وغیرہ کولے کر کوئی بھی دستاویز نہیں مانگا جائے گا۔یہ 2010کے پیٹرن پر صرف جنس کا نئے پیمانے پر مبنی ہوگا وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اسمبلی میں آر جے ڈی کی کام روکو تحریک کی منظوری اور اس پر بحث کے دوران واضح کیا اس سلسلے میں اتفاق رائے سے رزولیشن پاس کر کے مرکزی حکومت کو بھیجنے کی بات کہی ہے اب کسی شخص کے ماں بات کی پیدائش کا سرٹیفکٹ رہائشی ثبوت و اس کی پچھلی رہائشی مقام نہیں پوچھا جائے گا دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد میں 35سے46لوگوں کی قربانی کے بعد مرکزی حکومت کو شاید احساس ہونے لگا ہے کہ اس کو قدم پیچھے ہٹانے پڑ سکتے ہیں لہذا بہار میں اقتدار میں رہتے ہوئے بھی پارٹی کے ممبران اسمبلی نے اس پرستاﺅ پر اپنی رضامندی دی ہے اس وقت پارٹی کے نیتا اور نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی نے اعلان کیا تھا کہ بہار میں 15سے 20کے درمیان این پی آر ان کی کارروائی پوری کی جاے گی اس بارے میں وہ ممبران کی رضامندی کا جائزہ لے رہے تھے پچھلے دنوں ایوان میں اسپیکر نے اس وقت سب کو چونکا دیا جب انہوںنے اردو نے اپنی تقریر پڑھی تو بھاجپا حیرت میں رہ گئی ۔اس وقت وزیر تعلیم کرشن چندن نے تقریر ختم ہونے پر کہا کہ سبحان اللہ ۔تو بھاجپا کے ایک ممبر نے جے شری رام کہا بہر حال سیاسی شطرنج میں بساط دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ موقع کی بنیاد پر ہوتی ہے یہ نتیش کمار نے ثابت کر دیا ہے ۔تیجسوی یادو کی لیڈ ر شپ میں صلاحیت کی پول کھل رہی ہے اور ایسے میں آر جے ڈی کا ایک بڑا طبقہ نتیش سے ہاتھ ملانے کی وکالت کر رہا ہے بہار اسمبلی میں این پی آر اور این آر سی پر اپنے من کے مطابق پرستاﺅ کو اتفاق رائے سے پاس کروا کر وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک مرتبہ پھر خود کو ایک با صلاحیت سیاستداں ثابت کرتے ہوئے جے ڈی یو کے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے ۔بہر حال ایسے پرتشدد ماحول میں بہار میں تھوڑی امید کی کرن ضرور جگائی ہے ۔

(انل نریندر)

نئے پولیس کمشنر کی امن اور آپسی اعتماد بحالی پہلی ترجیح!

دہلی میں تشدد کے حالات کے درمیان دہلی پولیس کے نئے کمشنر شری ایس این سریواستو کا خیر مقدم ہے ۔سنیچر کو عہد سنبھالتے ہوئے کمشنر صاحب نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح قومی راجدھانی میں امن بحال کرنا اور فرقہ وارانہ بھائی چارہ یقینی بنانا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر کی روایت رہی ہے کہ یہاں ہر طبقے اور مذہب کے لوگ ایک ساتھ بھائی چارے سے رہتے ہیں اور اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔نارتھ ایسٹ دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات کو لے کر درج معاملوں کی جانچ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے شروع کر دی ہے ۔ایس امید کی جانی چاہیے کہ ان دنگوں کے لئے جو بھی ذمہ دار ہے ان کی پہچان کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔پولیس نے اب تک دنگوں سے وابسطہ 200سے زیادہ مقدمے درج کئے ہیں جن کی جانچ کے لئے کرائم برانچ نے ڈپٹی کمشنر سطح کے حکام کی قیادت میں دو اسپیشل تفتیشی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی بنائی ہے اس ٹیم نے جمع کو مختلف دنگہ زدہ علاقوں میں جا کر ثبوت اکٹھا کئے اور جانچ پڑتال کی اور فساد کا مرکز بن چکے قتل کے ملزم کونسلر طاہر حسین کے گھر پر بھی کرائم برانچ کی ٹیم نے فورنسک ماہرین کے ساتھ ثبوت اکھٹے کئے ساتھ ہی اس کے گھر اس کی گرفتاری کے لئے چھاپہ ماری جاری ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا یہ صحیح ہے کہ فساد میں جو بھی نقصان ہوا ہے اس کی کمی تو پوری نہیں کی جاسکے گی ۔لیکن جن لوگوں نے تشدد کے واقعات کو انجام دیا ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کیاجانا انتہائی ضروری ہے ۔دہلی پولیس کی ان فسادات میں ساکھ خراب ہوئی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ نئے کمشنر سریواستو آزادانہ اور منصفانہ جانچ اور کارروائی کریں گے جس سے دہلی پولیس کی بگڑی ساکھ میں بہتری آسکے اور کسی بھی صورت میں فسادیوں کو بخشا نہیں جا نا چاہیے ۔چاہے وہ بڑے سے بڑا نیتا کیوں نہ ہو دہلی پولیس کو جہاں ایک طرف فسادیوں کی پہچان کرنے کی کوشش کرنی چاہیے وہیں دنگا بھڑکانے والوں کی بھی شناخت ہونی چاہیے اور انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے پولیس کو افواہ پھیلانے والوں کی دھر پکڑ کے لئے بھی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے ۔تاکہ انہیں بھی ان کے کئے کی سزا مل سکے ۔اس کے ساتھ ہی اترپردیش کی طرز پر فسادیوں سے نقصان کی بھرپائی کی جانی چاہیے اور ان کی پراپرٹی قرق کی جائے ۔اب دہلی میں تشدد کے واقعات میں کمی آگئی ہے اور حالات پر سکون ہیں لیکن خوف کا ماحول بدستو برقرار ہے ۔ابھی وقت کے ساتھ سارے دکھ درد بھلائے جا سکتے ہیں لیکن دہلی کے فسا د ات نے جو زخم دیے ہیں انہیں شاید ہی بھلا یا جا سکے گا جس طرح سے 1984میں ہوئے سکھ دنگوں اور 2002میں گجرات کے دنگوں کے زخم آج تک ہرے ہیں اور متاثرہ کی آنکھوں میں آج بھی آنسو ہیں اسی طرح ایک ہفتے پہلے شروع ہوئے نارتھ ایسٹ دہلی کی بستیوں میں دنگوںنے بھی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لے ایک خلش پیدا کر دی ہے ۔اس سے بھی زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ تین دن تک چلے تشدد کے اس قہر کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیاگیا ہے جبکہ تشدد پھیلانے والوں کے بارے میں اب تک یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ شرارتی عناصر کا کام تھا ۔اور کسی کے اشار ے پر انہیں انجام دیا گیا اس بات کے بھی اشارے ملے ہیں کہ یہ کا م کچھ پیشہ ور جرائم گروپ کا تھا ایسے میں سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر کوئی پیشہ ور جرائم گروپ اتنے وسیع پیمانے پر تشدد برپا کرتا ہے تو اس کے پیچھے یقینی طور سے کسی کا ہاتھ ضرور ہوگا اور ساز ش ہوگی دہلی کے دنگا متاثرین خاص طور سے جن لوگوں نے اپنوں کو ہمیشہ کے لے کھو دیا ہے وہ صرف ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جس کی وجہ سے یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں ۔دنگوں کا درد بھلایا نہیں جا سکتا کوئی نہیں جانتا کہ پانچ یا چھ دن سے لوگ اپنوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں اسپتالوں سے لے کر تھانوں تک میں چکر لگا رہے ہیں آس پاس کے نالوں میں تلاش کروا رہے ہیں رہ رہ کر لاشوں کا ملنے کا سلسلہ جاری ہے حالت تو یہ ہے کہ نہ تو اسپتالوں میں زخمیوں کا صحیح علا ج ہو پارہا ہے اور نہ ان کے اپنوں کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے سوال آج بھی یہی ہے کہ فسادی کون تھے کس کے اشارے پر دنگوں کی شروعات ہوئی ؟اور جب دنگے شروع ہوئے تو پولیس تماشائی بن کر کیوں کھڑی رہی ؟

(انل نریندر)

01 مارچ 2020

اعظم خان کو جیل ،بدلے کا جذبہ یا کرموں کا پھل

سماج وادی پارٹی کے تیز ترار لیڈر و ایم پی اعظم خان پر قانونی شکنجہ کس گیا ہے اور بدھوار کو رامپور کی عدالت میں اعظم اور ان کی بیوی و بیٹا پیش ہونے کے لئے پہنچے تو جج نے انہیں دو مارچ تک جوڈیشل حراست میں بھیج دیا گیا ۔عدالت نے اعظم کے خلاف قرق وارنٹ جاری کئے تھے ۔یہ وارنٹ عبداللہ اعظم کے دو پیدائشی سرٹیفکٹ بنوانے سے متعلق مقدمے میں جاری کئے گئے بدھ کو اس معاملے میں ان تینوںنے عدالت میں سرینڈر کر دیا ۔بتا دیں کہ اعظم خان نے 20معاملوں میں ضمانت کی عرضی داخل کی تھی ۔کئی معاملے میں تو ضمانت منظور ہو گئی لیکن بیٹے عبداللہ اعظم کے فرضی پیدائشی سرٹیفکٹ اور پاسپورٹ معاملے میں دفعہ 420کے تحت مقدمے میں ضمانت خارج کر دی گئی اب انہیں ضمانت کے لئے الہٰ آباد ہائی کورٹ جانا پڑے گا۔مقامی پولیس نے اعظم خان کو رامپور جیل سے سیتا پور جیل بھیج دیا ہے ۔کیونکہ اس کو پارٹی کے ورکروں اور نیتاﺅں کی بھیڑ کی وجہ سے لاءاینڈ آرڈر بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا ۔وزیر اعلیٰ یوگی نے اعظم کا نام لئے بغیر کہا کہ ہم گندگی کو صاف کر رہے ہیں چاہے وہ کسی میں ہو یوگی نے اسمبلی میں پیش بجٹ پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تو اب بہت چمک رہی ہے وہاں(رامپور)لیکن بہت تیزی سے چمک رہی ہے ۔جب تیزی سے چمکتی ہے فالتو وائرس پیدا نہیں ہوتے ۔اس پر ایوان میں حکمراں ممبران میں ہنسی کے نظارے دکھائی دیے سپا نے اس واقعے پر حکمراں بھاجپا پر الزام لگاتے ہوئے اسے بدلے کے جذبے سے کی گئی کارروائی قرار دیا ۔پارٹی نے ٹوئٹ میں کہا رقابت کے جذبے سے کسی بھی کارروائی کو سہی نہیں مانتی ۔سپا بھی عدلیہ نظام پر بھروسہ رکھتی ہے ۔انہیں عدالت پر یقین ہے کہ اعظم کو انصاف ملے گا ۔اُدھر بی جے پی کے پردیش ترجمان چندر موہن نے کہا کہ اعظم خان نے صرف اپنے لئے ہی سیاست کی اور یہ غریبوں کی بد دعاﺅں کا پھل ہے ۔ہم انہیں جیل بھیجنے کے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔سپا صدر اکھلیش یادو کو ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ سیاست میں جوڑنے پر صفائی دینی چاہیے ۔بتا دیں کہ پچھلے سال یوپی سرکار نے اعظم خان اور ان کے خاندان کے خلاف کئی مقدمے درج کرائے تھے ۔یہ سیاسی بد نصیبی یا غلط کرنی کی سزا ہے یہ تو عدالت ہی طے کرئے گی اعظم پر ہاتھ ڈالنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اب سماج وادی پارٹی کے نیتا اب نشانے پر آگئے ہیں ۔

(انل نریندر)

انکت شرما کے کنبے نے لگایا طاہر حسین پر قتل کا الزام

چاند باغ پلیا پر بنے نالے سے فائر برگیڈ عملے نے ایک لاش نکالی جس کی پہچان کھجوری خاص کے باشندے انکت شرما 26سال کے طورپر ہوئی میرا تو شروع سے ہی خیال تھا انکت شرما کا قتل نشانہ بنا کر کیا گیا ہے نہ کہ اچانک ۔یعنی دنگے میں مارا جانا انکت شرما انٹلی جنیٹ بیورو میں سیکورٹی اسسٹنٹ تھے ۔قتل کے بعد ان کی لاش کو نالے میں پھینک دیا گیا تھا ۔منگلوار کی شام سے ہی وہ لاپتہ تھے ۔انکت کے پتا نے مقامی کونسلر کے گھر میں چھپے شر پسندوں پر انکت کو کھینچ کر لے جانے اور پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا الزام لگایا ۔انہیں آس پاس کے لوگوں سے معلوم ہو اکہ وہ منگل کی شام پانچ بجے انکت تشدد پر آمادہ لوگوں کو سمجھا رہے تھے اسی دوران طاہر کے گھر سے نکلے شر پسند وں نے گھیر لیا ۔اور گھسیٹ کر گھر میں لے گئے ۔اور پھر اس کے بعد نالے میں لاش پھینک دی ۔لاش کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ قتل کس بے رحمی سے کیا گیا ۔پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ چاقو سے درجنوں بار حملہ کرنے کے بعد ان کے اوپر تیزاب ڈال دیا گیا تھا ۔ان کا پیٹ بری طرح پھٹ گیا تھا جس سے ان کی آنتیں باہر آگئی تھیں تیزاب ڈالنے سے کھال نرم پڑ گئی ۔ان کے قتل کی کہانی کو جس نے بھی سنا وہ یہی کہہ رہا تھا کہ آخر انکت سے کسی کی کیا دشمنی ہو گئی تھی ۔کہ اس کو اتنی بے رحمی سے مار ڈالا گیا ۔قتل کے ان انکشافات کے بعد اندیشہ جتایا جا رہا ہے کہ فسادیوں نے انکت شرما کو قتل کے بعد نالے میں پھینک دیا اور ان کے قتل میں درجن بھر ملزم شامل ہو سکتے ہیں ۔دنگے میں مارے گئے آئی بی افسر کے قتل اور فساد کے معاملے میں عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔دیر رات پارٹی نے جانچ پوری ہونے تک طاہر حسین کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے ۔پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ طاہر حسین کے خلاف انکت کے والد رویندر شرما نے جو خود بھی آئی بی کے ریٹائرڈ افسر رہ چکے ہیں دیال پور تھانے میں شکایت کی تھی ایف آئی آر کے مطابق طاہر پر قتل کے علاوہ دنکا فسا د بھڑکانے کا بھی الزام ہے ۔کونسلر پر الزام سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کہا کہ اگر کوئی بھی ورکر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو اسے دوگنی سزا ملنی چاہیے ۔طاہر حسین نے دعوی کیا تھا کہ ان کا یا ان کے خاندا ن کا انکت شرما کے قتل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اور معاملے کی منصفانہ جانچ ہونی چاہیے انکت شرما کے قاتل کو قتل کا الزام ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سے کم نہیں ہونی چاہیے ۔جس طرح سے انکت شرما کو نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا گیا وہ کوئی جانور ہی کر سکتا ہے اور دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...