Translater

31 جولائی 2021

سرکار گرانے کےلئے تین ممبران اسمبلی سے سودے بازی !

جھارکھنڈ میں سرکار گرانے کی سازش میں گرفتار ملزمان نے کئی انکشاف کئے ہیں ۔ پولس پوچھ تاچھ میں ملزمان نے بتایا کہ سازش میں جھارکھنڈ کے تین ممبران اسمبلی دو بچولئے شامل تھے ۔ دہلی میں تینوں ممبران اسمبلی سے لین دین کی سودے بازی ہوئی تھی ایک کروڑ روپئے ایڈوانس دینے کا وعدہ ہوا تھا نہ دینے پر ممبر اسمبلی رانچی لوٹ گئے تھے ڈیل سے مہاراشٹر کے دو نیتا چندر شیکھر راو¿ بابن گلے اور چرن سنگھ شامل تھے گرفتار ابھیشیک، امت و نروارن نے دونوں کو مہاراشٹر کے بھاجپا ممبر اسمبلی کو بتایا تھالیکن وہاں کہ فہرست میں ان کا نام نہیں ہے ابھیشیک نے بتایا کہ کہ اسی معاملے میں امت نے پندرہ جولائی کو انڈیگو سے ٹکٹ بھیجا مہاراشٹر کے ایک نیتا جے کمار وانکھڑے نے اس کی بکنگ کر امت سنگھ کو بھیجا تھا ابھیشیک نے بتایا کہ پندرہ جولائی کو دہلی پہونچنے پر وہاں ایئر پورٹ پر دو کاریں لگی ہوئیں تھیں ایک کار سے تینوں ممبران اسمبلی ہوٹل میں گئے باقی تینوں کو جے کمار کا گارڈ ابھیشیک دوبے کو لیکر ہوٹل پہونچا یہاں چند ر شیکھر راو¿ اور چرن سنگھ موجود تھے وہ یہاں سے تینیوں مقامی ممبران اسمبلی کو لیکر ایک گاڑی میں جبکہ دوسرے لوگ دوسری گاڑی سے کئی بڑے نیتاو¿ں کے گھر گئے یہاں کے بعد وہ یہ تینوں ممبران جھارکھنڈ بھون لوٹ آئے ابھیشیک نے بتایا کہ 16جولائی کو بھی تینیوں مقامی ممبر اسمبلی کچھ لیڈروں سے ملے تھے انہیں ایک کروڑ ایڈوانس دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایڈوانس نہ ملنے سے وہ ناراض ہوگئے اسی دن وہ فلائٹ سے رانچی لوٹ گئے ۔

سٹنگ ایم پی کو جیل کی سزاممکنہ:پہلی بار ہے!

کسی موجودہ ممبر پارلیمنٹ کو جیل اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کا ممکنہ طور پر یہ پہلا کیس ہے ۔ تلنگانہ کی ایم پی کویتا بھلود اور ان کے ساتھی شوکت علی کورائے دہندگان کو رشوت دینے کا قصور وار پایا گیا ہے اسپیشل عدالت نے ایم پی کویتا اور علی کو چھ مہینے کی جیل اور دس ہزار روپئے کا جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی ہے اسپیشل عدالت نے حکمراں جماعت ٹی آر ایس محبوب آباد سے ممبر پارلیمنٹ کویتا بھلود کو 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں ووٹوں کو رشوت دینے کا قصور وار قرار دیا ہے ۔ جج وی آر آر پرساد نے انہیں رشوت دینے یعنی آئی پی سی کی دفعہ 171Eکے تحت سزا سنائی ہے حالانکہ عدالت نے اپیل کے لئے دونوں کو ضمانت کے لئے اجازت بھی دے دی ہے ایم پی کے ساتھی شوکت علی کو چناو¿ کمیشن کے اڑن دستے نے ووٹوں کو پیسہ بانٹتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا اس نے اعتراف کیا ہے کہ ایم پی صاحبہ کے کہنے پر پیسہ بانٹے تھے اس معاملے میں پولس تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی تھی یہ معاملے حیدرآباد کی اسپیشل عدالت کے دائرہ اختیار میں ہوا تھا عوام کے نمائندوں کے جرائم کے معاملوں میں سماعت میں تیزی لانے کے لئے مارچ 2018میں اسپیشل عدالت بنی تھی اس سے پہلے حید رآباد کے بھاجپا ممبر اسمبلی راجا سنگھ کو پولس افسر کو پیٹنے اور ٹی آر ایس ممبر اسمبلی دامن نگیندر کو اپنے حمایتیوں کوسرکاری افسر پر حملے کے لئے اکسانے کے معاملے میں سزا سنا چکی ہے یہ اچھا ہے کہ ان عوام کے نمائندوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ وہ قانون سے اوپر نہیں ہے انہیں بھی قانون توڑنے پر سزاہوسکتی ہے سیاست میں صاف ستھرپن لانے کے لئے ضروری ہے ۔

سبھی کو اپنی سرکار میں رائے رکھنے کا حق ہے !

امریکی وزیر خارجہ اینٹو نی بلنکن نے بدھ کو کہا کہ سفیر لوگوں کو ان کی سرکار میں رائے رکھنے کا حق ہے وہ جو چاہیں ان کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کیا جانا چاہئے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہندوستانی اور امریکی انسانی وقار اور موقعوں میں یکسانیت اور آئین کی حکمرانی ، مذہبی آزادی سمیت آزادیوں میں یقین رکھتے ہیں یہاں پہونچنے کے بعد بھارتی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں سے پہلے پبلک پروگراموں میں شہری انجمنوں کے ممبران کو خطاب کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ بھارت امریکہ دونوں جمہوری اقدار کے لئے عہد بند کو شیئر کرتے ہیں یہ عزم جمہوری بنیاد کا ایک حصہ ہے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کامیا ب جمہوری ملکوں میں قائم سول انجمنیں شامل ہوتی ہیں اور کہا کہ جمہوریتوں کو زیادہ کھلا اور زیادہ خیر شگالی اور زیادہ لچیلا پن اور زیادہ برابر بنانے کے لئے ان کی ضرورت ہوتی ہے بلنکن نے کاروباری اشتراک ، تعلیمی پروگرام ، مذہبی یا روہانی رشتوں اور لاکھوں کنبوں کے درمیان رشتوں کو پورے تعلق کو ایک اہم ستون بتایا ممکنہ طور یہ سب سے اہم کہ ہم تہذیبی اقدار اور توقعات سے جڑے ہوئے جو ہمارے لوگوں کے درمیان یکساں ہے ۔ بھارت کے لوگ انسانی وقار اور مواقعوں میں یکسان قانون کی حکمرانی مذہبی روایات کی آزادی سمیت بنیادی آزادیوں میں بھروسہ رکھتے ہیں ہم مانتے ہیں کہ سبھی لوگ اپنی سرکار میں آواز اٹھانے کے حق دار ہیں اور ان کے ساتھ عزت کے ساتھ رویہ اپنانا چاہئے چاہے وہ کوئی بھی ہوں ہمار ا مقصد ان الفا ظ کو اصلی تقویت دینا اور ان اصولوں کو تئیں ہمارا عزم کو لگاتار بڑھاتے رہنا ہے امریکہ کے نئے صدر کے جو بائیڈن کی حکوم بننے کے بعد بلنکن کا بھار ت کا پہلا دورہ ہے دبے الفاظ میں ہندوستانی حکومت کو کئی نصیحتیں بھی دیں ہیں بھارت میںجو چل رہا ہے اس کی اپنے ڈھنگ سے تشریح کی اور نصیحت بھی دی امریکی وزیر خارجہ نے دورہ بھارت کے درمیان دونوں ملکوں کے دوران جو نیا باغ دینے کے اشارے دیئے ہیں وہ حوصلہ افزا ءہیں پہلی اور سب سے بڑی بات تو یہی ہے کہ امریکہ نے بھارت کو اپنا اہم ترین ساتھی مانا ہے اسے بھارت کے لئے بھی کسی سفارتی کارنامے سے کم نہیں مانا جانا چاہئے بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت ایسے نازک دور میں پہونچے ہیں جب امریکہ نہ صرف گھریلو محاذ بلکہ بین الاقوامی سطح کے چیلنجوں کا سامنہ کر رہا ہے امریکہ کورونا سے تو لڑہی رہا ہے بلکہ وہ چین اور افغانستان جیسے بحرانوں سے بھی بھارت بھی انہیں مصیبتوں کا شکار ہے بلنکن کے دورہ بھارت کا اصل مقصد افغانستان اور چین کے مسئلوں پر بھارت کو اپنے ساتھ کھڑ ا کرنا چاہتا ہے افغانستان میں جس رفتار سے طالبان اپنے پاو¿ پھیلا رہا ہے وہ امریکہ اور بھارت کے لئے تشویش کا باعث ہے بھارت نے کروڑوں روپئے کی ترقیاتی اسکیمیں چلا رکھیں ہیں بھار ت کے لئے ایک بڑا بحران یہ بھی ہے کہ کہیں طالبان اپنے لڑاکوں کو کشمیر میں نہ بھیجنے لگے اس لئے بلنکن نے سیکورٹی چیلنجوں پر قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال سے لمبی بات چیت کی ہے ۔

30 جولائی 2021

چین ، پاک اور ترکی تیزی سے افغانستان میں سر گرم!

امریکی فوج کی افغانستان سے ہور ہی واپسی کے درمیان یہاں اپنے مفادات کے لئے چین ، پاکستان اور ترکی کی ٹکڑی تیزی سے سر گرم ہونے لگی ہے اور طالبان کے تیزی سے قابض ہونے کے بعد پاکستان نے بھی رنگ بدلنا شروع کر دیا ہے وہ امریکہ مغربی ملکوں کا اتحادی دیش بن کر امن کوششوں کا ڈرامہ کر رہا تھا اب اس کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے یہ رپورٹ ٹائمس عرب اسرائیل میں شائع ہوئی ہے جس میں حال ہی میں پاکستان کی خراب مالی حالت میں امریکی سیکورٹی سہارے کی ضرورت ہے ایسی حالت میں وہ چین اور ترکی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اس رپورٹ میں غیر ملکی معاملوں کے واقف کار کیبین برساٹ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے پالیسی میں تبدیلی اس سال جون سے ہی شروع کر دی تھی وہ امریکہ کے فوجی اڈے کے لئے اپنی زمین نہیں دیگا حال ہی میں طالبان نے چین کی پریشانیوں کو بھی کم کر دیا ہے اس کاخیال ہے کہ طالبان انتظامیہ نے افغانستان اویغروں کی تنظیم مشرقی ترکمنستان اسلامک مومنٹ کا مرکز بن جائے گا یہ تنظیم جنجیانگ میں سر گرم ہے ترکی بھی اس تکڑی میں شامل ہو کر اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے اسے لگتا ہے کہ وہ مسلم ممالک کی قیادت کر سکے گا ۔ ترکی پہلے سے ہی اپنے دیش میں اویغر مسلمانوں کو نشانہ بنا کر چین کا نور نذر بن گیا ہے چین بھی امریکی فوج کے جانے سے آئے خلا کو اپنی موجودگی سے پر کرنا چاہتا ہے ان تینوں بھی ملکوں کی افغانستان کی معادنیاتی وراثت پر بھی نظر ہے ۔

ایک فون کال اور آپ کا فون ہیک !

پیگاسس اسپائی ویئر کوئی میسج یا لنک بھیجے بنا ہی کسی بھی اسمارٹ فون یا دیگر اسمارٹ ڈیوائس کو آسانی سے ہیک کر لیتا ہے۔ اس کی تیزی اس بات سے لگائی جا سکتی ہے بس کسی ویڈیو کال کے ذریعے یا ایک سیکینڈ کے دسویں حصے میں ہی ڈیوائس ہیک کر لیتا ہے ہیکنگ کی اس جدید تکنیک کو زیروکلک اکسپلائٹ کہتے ہیں اسرائیل کمپنی کے ذریعے بنائے دنیا کے اس سب سے خطرناک اسپائی ویئر کی کئی خاصیتیں اسے دنیا کا نمبر ون جاسوس بناتی ہیں ۔ پیگاسس اسپائی ویئر ایک طرح کا سا اسپائی ویئر پروگرام ہے جس کا استعمال نگرانی کے لئے کیا جاتا ہے یہ پہلی بار 2019میں سامنے آیا اور آج دنیا میں سب سے زیادہ جاسوسی ہتھیار میں سے ایک ہے اسے اسرائیل کی سیکورٹی فرم این ایس او گروپ نے نگرانی کے لئے بنایا تھا جسے صرف سرکاروں کو ہی بیچا گیا لیکن میڈیا رپورٹ کے مطابق اس طرح کا اسپائی ویئر کئی ہیکر گروپوں کے پاس بھی موجود ہے کہا تو یہی جاتا ہے کئی رئیس لوگ اور گروپوں نے بھی اسے استعمال کر لیا یہ تین کام انظام دیتا ہے پہلا یہ اسمارٹ فون کے کیمرے اور اسپیکر کو آن کر پرانے ڈاٹا چراتا ہے دوسرا یہ فون کیور کئے گئے ڈاٹا کو فوراً تھرڈ پارٹی کو بھیج دیتا ہے ان میں پرانے میسیج اور چیٹ ویڈیو ریکارڈنگ دستاویز وغیرہ شامل ہیں تیسرا جب چاہے تب آپ کی کال یہ چیٹ کو ریکارڈ کر سکتا ہے یہ یوں سمجھئے کہ میں آپ کے موبائیل کی جڑ میں جا کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کا مالک بن جاتا ہے ۔ پیگاسس دنیا میں سب سے زیادہ اسپائی ویئر میں سے ایک ہے لیکن اکلوتا نہیں ایسے دیگر اسپائی ویئر میں اٹلی کے ہیکنگ گروپ اور و انڈروائڈ اور امریکہ کے قومی سیکورٹی ایجنسی کا سافٹ ویئر بھی شامل ہے ۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے پاس اسی طرح کا اسپائی ویئر ہے جس کا نام ہے لیو اسٹرانگ ایک دوسری اسرائیلی کمپنی کے سافٹ ویئر کا نام ہے کے ڈی این ہے ٹورنٹو یونیورسٹی کی سٹیزن لیب نے الزام لگایا تھا کہ ڈنس کے ذریعے دس ملکوں میں سو رضا کاروں صحافیوں و سرکار کے نقطہ چینی کرنے والوں کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا گیا تھا این ایس او گروپ صرف اتھوررائز سرکار کے ساتھ کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے پیگاسس کو کھلے طور سے میکسکو پینامہ حکومتوں کے ذریعے استعمال کئے جانے کے لئے جانا جاتا ہے ۔ چالیس ملکوں میں اس کے ساٹھ گراہک ہیں کمپنی کے نے کہا اس کے 37فیصد یوزرس انٹیلی جنس ایجنسیاں ، 38فیصد قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ، اور گیارہ فیصد فوج سے ہیں کمپنی کی ویب سائٹ بتاتی ہے کہ این ایس اے گروپ نے سرکاری ایجنسیوں کو مقامی اور عالمی خطرات کا پتہ لگانے اور روکنے میں مدد کرنے کے لئے اسے تیار کیا ہے پیگاسس اسپائی ویئر لائسنس کے طور پر بیچا جاتا ہے اور اس کی قیمت ٹھیکے پر منحصر کرتی ہے ایک لائسنس کی قیمت 70لاکھ روپئے ہو سکتی ہے اور ایک لائسنس سے کئی اسمارٹ فون کو ٹریک کیا جا سکتا ہے 2016کے پچھلے اندازوں کے مطابق پیگاسس کا استعمال کرنے والے صرف دس لوگوں کی جاسوسی کرنے کے لئے این ایس اے گروپ کم سے کم قریب نو کروڑ روپئے فیس لیتا ہے ۔

ممتا کا مشن دہلی :نو ووٹ بی جے پی!

مغربی بنگال اسمبلی چناو¿ میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مسلسل تیسری بار جیت حاصل کرنے کے بعدپہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اس ملاقات میں پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے نیتاو¿ں ، کاروباریوں کے جاسوسی کے الزامات پر آل پارٹی میٹنگ بلانے کی مانگ کی انہوں نے سپریم کورٹ کی جج کی سر براہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی کا بنانے کا بھی مطالبہ رکھا اس کے علاوہ ریاست کے لئے زیادہ کورونا ویکسین ٹیکے بھی طلب کئے وزیر اعظم نے 45منٹ کی ملاقات کے بعد جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا وزیر اعظم سے ہوئی سبھی باتوں کی تفصیل نہیں بتائی جا سکتی میں پیگاسس معاملے کی پوری جانچ چاہتی ہوں اس لئے میں نے مغربی بنگال میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس مدن لوکر کی سر براہی میں ایک اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی پہلے ہی بنا دی ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے کورونا کی صورتحال اور اپنی ریاست کے لئے آبادی کے حساب سے ویکسین کی مانگ کی وہیں وز یر اعظم نے ممتا بنرجی سے کہا کہ تیسری لہر آنے سے پہلے سب کو ویکسی نیشن ہو جانا چاہئے لگتا ہے ممتا کا ارادہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا کو مغربی بنگال ماڈل سے ٹکر دینے کا ہے وہ اپوزیشن کو متحد کے ذریعے 375سیٹوں پر بھاجپا کو سیدھے ٹکر دینے کی تیاری میں ہے ان میں سے دو سو سیٹوں پر کانگریس کو واک وور پرستاو¿ سے سکتی ہے ذرائع کے مطابق ممتا کا مشن دہلی 2024بھاجپا کو اقتدار سے ہٹانا ہے اس کے لئے سونیا گاندھی سرد پوار اورممتا دیش بھر میں بھاجپا کے خلاف متحد ہونے کا پیغام دیں گی اس کی شروعات اتر پردیش سے ہوگی ۔ مقصد ہے کہ 2022میں سات راجیوں کے چناو¿ میں بھاجپا کو مات دی جائے گی ممتا یہ بھی صاف کرنے آئی ہیں ان کا ارادہ پی ایم کرسی نہیں ہے اس مہم میں کانگریس مرکزی رول میں ہوگی پچھلے دنوں ممتا کے چناوی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے سونیا، راہل سے مل کر اسی ماڈل پر بات کی تھی ۔ دیش بھر میں 375لو ک سبھا سیٹییں ایسی ہے جہاں بھاجپا مقابلے میں ہے اور ان میں سے دو سو سیٹیں ایسی ہے جہاں بھاجپا کانگریس کی سیدھی ٹکر ہے ان سیٹوں پر اپوزیشن کانگریس کو حمایت دے سکتی ہے وہیں کانگریس ایسی ریاستوں میں دخل نہ دے جہاں دوسری پارٹیاں بھاجپا کو سیدھی ٹکر دے رہی ہیں بھاجپا کے مضبوطی والی ریاستوں میں امیدوار کی سیدھی ٹکر اگر بھاجپا حکمراں ریاستوں اگر بھاجپا اتحادی پارٹیوں کو حمایت مشترکہ مہم نو ووٹ ٹو بی جے پی کا نعریٰ ہوگا مقابلے کو مودی بنام گاندھی نہ بننے دینا لیڈر شپ کا فیصلہ چناو¿ بعد کے پس منظر پر ہوگا سر د پوار پتاما کے رول میں اترنا چاہتے ہیں ۔ ممتا کا مقصد بنگال میں ایک چھتری راجیہ قائم رکھنا چاہتی ہے سونیا کانگریس کو پھر زندہ دس جن پد پر اپنی پرانی بالا دستی قائم کرنا چاہیں گی ۔ دھارمک اور جذباتی، قومیت کے اشو کا جواب مہنگائی ، پیگاسس اور کسان آندولن ، بے روزگاری ، کورونا وبا جیسے زمینی اشو اٹھا کر دیا جائے ۔ (انل نریندر)

29 جولائی 2021

ہر برسات میں کیوں ڈوبتی ہے دہلی ؟

اسے بد قسمتی ہی کہیں گے کہ دیش کی راجدھانی ایک دن بھی زور دار بارش سے بارش کو جھیل نہیں پاتی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے سبب سیور لبالب ہونے لگتے ہیں توانڈر پاس اور سڑکوں پر پانی بھر جاتا ہے اس پانی بھرنے نہ صرف حادثوں بلکہ بڑے پیمانے پر دہلی کے شہریوں کی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے با وجود میں اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک دہلی کا ڈرینیج ماسٹر پلان نہیں بن سکا اور ایک دہائی سے زیادہ بھی وقت سے یہ پلان کاغذوں سے زمین پر اترنے کا انتظار کر رہا ہے آئی آئی ٹی دہلی نے راجدھانی کو لیکر ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں دہلی کے ڈڑینج ماسٹر پلان کی شفارش کی گئی تھی 2009میں اس وقت کے لیفٹینٹ گورنر ستیندر خنہ نے بھی مقامی اداروں اور دیگر ایجنسیوں سے دہلی میں پانی بھرنے اور ڈڑینج سسٹم کے لئے ایک ماسٹر پلان تیار کرنے کو کہا تھا اس کے بعد 2012میں اس وقت کی وزیراعلیٰ شیلا دکشت نے بھی کہا کہ پانی نکاسی ماسٹر پلان آخری بار 1976میں بنا تھا جبکہ تیزی سے بدلتی شہر کی ترقی پس منظر کو دھیام میں رکھتے ہوئے نئی اسکیم تیار کی جانی چاہئے لیکن ابھی تک شہر کاماسٹر پلان اٹکا ہوا ہے جبکہ درمیانی سطح کی بارش سے بھی دہلی میں بڑے پیمانے پر پانی بھراو¿ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے نالوں کی انتظام کرنےوای ایجنسیوں کے حکام کا کہنا ہے ہم نے کچھ جزوی قدم اٹھائے تھے لیکن وبا نے ان کے اعمال پر روک لگادی ایسے میں یہ اسکیم کو قطعی شکل دینے میں ایک دھائی لگ گئی ابھی تک یہ پلان یا اسکیم کاغذوں پر اٹکے ہوئے اور ہر برسات میں دہلی کے شہریوں کو جھیلنا پڑتا ہے ۔

آسام -میزورم میں خونی کھیل !

آسام -میزورم بارڈر پر آسام کی سیکورٹی فورسیز اور میزورم شہریوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور فائرنگ میں آسام کے پانچ پولس جوانوں کی موت ہوگئی جبکہ دیگر ساٹھ زخمی ہوئے ہیں اس دوران دونوں ریاستوں کے وزیراعلیٰ کے درمیان بھی واک یودھ چھڑ گیا آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ کچھار ضلعے میں میزورم کی طرف بلوائیوں کے ذریعے فائرنگ میں پولس کے چھ جوانوں کی موت ہوگئی ایک دن پہلے وزیرداخلہ امت شاہ نے نارتھ اایسٹ کے وزراءاعلیٰ کے ساتھ ملاقات کی آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت شرم اور میزورم کے وزیر اعلیٰ جوریف تھنگا کے ساتھ ٹیلی فون پر الگ الگ بات چیت کے دوران امت شاہ نے ان سے بین الاقوامی سر حد پر امن بنائے رکھنے کو کہا تھا آسام اور میزورم کی سرحد کاتنازعہ پرانا ہے 2018میں ہوئے تشدد کے بعد پچھلے اگست میں پھر معاملہ اٹھا تھا اس سال فروری میں حالات بگڑے لیکن مرکز کی مداخلت سے حالات سنبھل گئے اس تنازع کی وجہ سے 1875اور 1933میں الگ الگ نوٹی فیکشن ہے ایک رپورٹ کے مطابق میزورم کا کہنا ہے حد بندی سال 1875کے نوٹیفیکشن کے بنیا د پر ہونا جبکہ میزو لیڈر اس دلیل کی بنیاد پر 1935کی حد بندی نوٹیفیکشن کو خارج کرتے ہیں کیونکہ اس میں بھی جو میزو سماج سے بات نہیں کی گئی وہیں آسام حکومت 1933کی حد بندی کو مانتی ہے اور اسی پر جھگڑا ہے میزورم کے تین ضلع 164.6کلو میٹر کی سرحد آسام کے کچھار کریم گنج اور ہیلا کانڈی ضلعوں سے ملتی ہے میزورم کا الزام ہے کہ آسام نے اس کے کیلاسی ضلع کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا ہے وہیں آسام کے افسران کہتے ہیں کہ میزورم نے اس کے ہیلا کانڈی ضلع میں 10کلومیٹر تک تعمیرات بنا لئے ہیں اور کیلے وغیرہ کی کھیتی کا بڑھاوا دیا ہے امید کرتے ہیں کہ دونوں ریاستوں میں جلدکوئی حل نکل آئے گا۔

ساو ¿تھ میں بھاجپا کو اقتدار دلانے والے یدیورپاآخر گئے!

آخر کار ساو¿تھ انڈیا میں بھاجپا کے طاقتور لیڈر 78سالہ بی ایس یدیورپا کو وزیر اعلیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑی ۔آخری وقت تک وہ لیانگت مٹھا دھیشو کے ساتھ میٹنگ کر کے قیادت کو اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کر تے رہے ۔ بھاجپا کو 2008ساو¿تھے کی کسی ریاست میں پہلی بار اقتدار دلانے والے یدیورپا نے 2سال پہلے آپریشن کمل کو کامیاب بناتے ہوئے کانگریس ۔جے ڈی ایس سرکار کو گرا کر اقتدار حاصل کیا تھا بطور ساتھ رہے ساتھیوں نے ایک سال کے لئے وزیر اعلیٰ بھی بنایا گیا تھا لیکن سیاسی طاقت کے دم پر وہ ایک سال اور بنے رہے بھاجپا طے کر چکی تھی کہ وہ کرناٹک میں نئی ٹیم بنائے گی اور چھ نیتا کیبنٹ میں آئیں گے دو ڈپٹی وزیر اعلیٰ بدلے جائیںگے اور ان کے رہتے کیبنٹ میں نئی ٹیم بنانے میں اڑچن آرہی تھی ۔ اس لئے لیانگت فرقے کی ناراضگی کے باوجود کرسی چھوڑنے کو کہا گیا ان کو ہٹانے کی تیار پچھلے مہینے شروع ہوئی تھی لیکن آساڑھ میں ساو¿تھ انڈیا میں یہ شبہ نہیں مانا جاتا اس لئے فیصلہ رکا رہا دوسری طرف لیانگت مٹھوں کے شنتوں نے اس مسئلے کو طول دینا بند کر دیا ہے کیونکہ انہیں بتایا جا رہا ہے گروگیشور اروند بیلاڈ جیسے لیانگت لیڈر کو وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے یدیورپا ابھی نگراں وزیر اعلیٰ بنے رہیں گے ۔ ساو¿تھ میں بھاجپا کو پہلی بار اقتدار دلانے والے یدیورپا کی کرسی آخر کار چلی گئی چار مرتبہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ رہے لیکن وہ ایک مرتبہ بھی اپنی میعاد پوری نہیں کر سکے یعنی چارو عہد کو ملا کر سوا پانچ سال وزیر اعلیٰ رہ پائے یدیورپا کا کہنا ہے میں دکھی نہیں ہوں خوشی کے ساتھ چھوڑ رہا ہوں لیکن کرناٹک نہیں چھوڑ رہا سیاست میں سر گرم رہوں گا 75سال کی عمر میں بھی مجھے موقع دینے کے لئے وزیر اعظم وزیر داخلہ بھاجپا صدر کا شکریہ بی ایس یدیورپا کو کیوں دینا پڑا استعفیٰ؟یدیورپا پر بی جے پی ممبر اسمبلی وی پی پاٹل مدن لال نے کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے نقطہ چینی کی تھی اس کے علاوہ انہوں نے وزیراعلیٰ کو لیکر بد انتظامی کا الزام لگایا تھا پارٹی ہائی کمان جلد ہی لیڈر شپ میں تبدیلی کرے گا ۔ یدیورپا کا نام سب سے پہلے بھی زمینیں اور خدان گھوٹالے میں آچکا ہے لیکن ہائی کورٹ اور سی بی آئی سے انہیں راحت مل چکی ہے لیکن ان کی مخالفت میںآوازیں تیز ہونے کے بعد وہ 16جولائی کو پی ایم نریندر مودی کو دیگر بی جے پی لیڈروں سے ملنے کے لئے دہلی آئے تھے یدیورپا کی ودائی کے پیچھے مرکزی سرکار کو دیئے گئے ان کے اس کارنامے کو بھی ایک وجہ بتایا جا رہا ہے جس میں بی جے پی مرکزی لیڈر شپ نے ان سے وعدہ لیا تھا کہ اقتدا ر میں دوسال پورے ہونے کے بعد وہ عہدہ چھوڑ دیں گے بھاجپا کے بڑے لیڈروں کے سامنے سب سے بڑی چنوتی اب یہی ہے کہ یدیورپا جیسے طاقت ور لیڈر کے جانشین باسو راﺅ چنے گئے ہیں ۔ جیسے بھاجپا نے قریب ایک مہینے کے دوران اتراکھنڈ میں وز یر اعلیٰ بدلے جانے کے بعد کرناٹک میں لیڈر شپ تبدیلی کا فیصلہ کر دیا ہے اور وہ سخت فیصلے لینے سے گریز نہیں کرتی ۔ (انل نریندر)

28 جولائی 2021

بہادر شاہ ظفر مارگ قبرستان میں نا جائز تعمیرات!

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت، دہلی وقف بورڈ ، اور ساو¿تھ دہلی میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا ہے کہ بہادر شاہ ظفر مارگ پر واقع ایک قبرستان میں قبضے و ناجائز تعمیرات کو فوراً روکنے کے لئے قانون کے تحت مناسب قدم اٹھائیں چیف جسٹس ڈی ایم پٹیل و جسٹس جوتی سنگھ پر مشتمل بنچ نے تینوں فریقین کو کہا کہ قبضے ہٹانے وا تعمیرات کو روکنے کی عرضی کو بطور ضروری لیں اور اسے مقررہ وقت کے اندر قاعدے قانو ن وپالیسی کے تحت نمٹائیں اور کہا کہ اگر قبرستان میں قبضہ پاتا ہے تو قبرستان کے فریق کا موقف سننے کے بعد قانون کے تحت فیصلہ کریں اگر کوئی قبضہ پایا جاتا ہے تو اسے قانون کے مطابق ہٹایا جائے بنچ نے کہا ہم مدیالوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ عرضی گزار کی شکایت کو معاملے کو حقائق کی بنیاد پر قانون و قواعد اور سرکاری پالیسی کی مطابق دیکھیں قبرستان سے قبضہ و نا جائز تعمیرہٹانے کی مانگ کرتے ہوئے ایک انجمن یوتھ سنگھرس سمیتی نے عرضی دائر کی تھی جس نے اسے قبرستان میں سرکاری زمین پر نا جائز تعمیران کی شکل میں ہوئے قبضے کو ہٹانے یا سیل کرنے کی درخواست کی تھی عرضی میں مزید کہا گیا تھا قبرستان کے راستے اور کمپلیکش کے باہر مختلف دفاتر اور کھانے پینے کے اسٹال اور دکانیں کھول کر ناجائز تعمیران کی گئی ہیں الزام لگایا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں دہلی وقف بورڈ ایس ڈی ایم سی و بجلی کنیکشن دینے والی بی ایس ای ایس کی نوٹس میں ہے یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ قبروں کے لئے زیادہ فیس لی جا رہی ہے اورطے جگہ سے زیادہ جگہ لوگوں کو دی جا رہی ہے ۔ (انل نریندر)

پاک مقبوضہ کشمیر میں چناو ¿ !

پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں ہفتوں چلی سیاسی ریلیوں کے بعد اتوار کو اسمبلی انتخابات کے لئے 45سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے ان میں 32لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ووٹرو ں نے اپنے حق کی رائے کا استعمال کیا ان 45سیٹوں میں سے 33چناوی حلقے ایسے ہیں جن میں کچھ رجیسٹرڈ ووٹروں کی تعدا28لاکھ 17ہزار سے اوپر ہے اس کے علاوہ بارہ ایسے حلقے بنائے گئے ہیں جو کشمیر پناہ گزینیوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز ، پاکستان پیوپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ علاقائی پارٹی آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک سمیت دیگر پارٹیوں نے بھی حصہ لیا لیکن اس مرتبہ پاکستان حکمراں کشمیر میں چناو¿ کے دوران جس طرح کی سیاسی سر گرمی دیکھنے کو ملی وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی جبکہ گیارہویں مرتبہ علاقہ میں ووٹ پڑے بھارت میں سب سے پہلے گلگت -بلتستان میں چناو¿ کرانے کو پاکستان کے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ فوجی قبضے والے علاقے کی پوزیشن کو بدلنے کے کا کام کاکوئی قانونی اختیار نہیں ہے سوال یہ بھی کہ یہ چناو¿ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے لئے کیوں اہمیت کی حامل بن گئے اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ کہ مرکز میں سرکار بنانے والی پارٹی یہاں سرکار بناتی ہے کیونکہ یہ ایک مختار علاقہ ہے بلکہ پاکستان کے زیر کنٹرول ہے قاعد اعظم یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر نے بتایا چناو¿ کمپین پہلے بھی ہوتی رہی ہیں لیکن اس مر تبہ نیتاو¿ں کی بیان بازی اور کمپین دونوں ہی مصروف تھے اس کی ایک وجہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی ماحول بھی ہے اگر پاکستان تحریک انصاف پارٹی کو اس علاقے میں کوئی پارٹی ٹکر دے سکتی ہے تو وہ اپوزین پاکستان مسلم لیگ نواز اگر پاکستان مسلم لیگ نواز کسی طرح اپنی سرکار بچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ 2023کے انتخابات کی طرف ان کا پہلا قدم ہوگا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیکھا گیا ہے یہ پارٹیہ سیال کورٹ کی سیٹ پاکستان مسلم نواز سے کراچی میں پاکستان پیوپلز پارٹی سے کچھ سیٹیں ہار گئی تھی ان سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے ایک نظریہ بنا رہی پاکستان تحریک انصاف شاید چناو¿ نہ جیت پائے لیکن واقف کاروں کا کہنا کہ جہاں اس پورے معاملے میں دیگر دو پارٹیاں اپنے موقوف پر قائم ہیں وہیں پاکستان پیوپلز پارٹی اپنے اوپر لگے داغ کو ہٹانا چاہتی ہے کہ پی پی کی سیاست صرف سندھ صوبے تک محدود ہے پی پی پی ایک قومی سطح کی پارٹی ہے جو پچھلے پچاس سال سے سیاست میں ہے اس وقت پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی شخصی حقیقت واضح طور سے اس چناو¿ میں دکھائی دے رہی ہے جس کا کشمیر کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے عام طور پر پاکستان کی عوام اور میڈیا میں کشمیر کی سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی دے رہی ہے حالانکہ چناو¿ کمپین میں بلاول بھٹو ، مریم نوازاور کئی فیڈیرل وزیر شامل ہوئے اگست 2019ہندوستان کی جانب سے ہند حکمراں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد اس علاقے میں پہلی بار چناو¿ ہوئے ہیں ۔ (انل نریندر)

پورن نہیں ایروٹک فلم بناتے ہیں راج کندرا!

راج کندرا کے پورن ایپ کی جانچ کی آنچ اب ان کی بیوی ایکٹریس سلپا سیٹی تک پہونچ چکی ہے جمعہ کی دیر شام ممبئی پولس کی پراپرٹی سیل کی ٹیم نے ایکٹریس سے تقریباً 6گھنٹے کی پوچھ تاچھ کی اس دوران سلپا کی آنکھوں میں کئی بار آنسو آگئے ان کی رہائش پر ہوئی پوچھ تاچھ کو لیکر اب نئی باتیں سامنے آئی ہیں پولس ذرائع کے مطابق ایکٹریس نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا کہ انہوں نے ویان کمپنی پچھلے سال ہی چھوڑ دی تھی اور پولس کو دیئے اپنے بیان میں اداکارہ نے کہا کہ ہاٹ شاٹ ایپ کیا ہے اور کس طرح کام کرتا ہے یہ انہیں نہیں معلوم تھا وہ صرف اتنا جانتی تھیں کی ان کے شوہر کی کمپنی ویب سیریز شارٹ فلمیں بناتے تھے اپنی گرفتاری کو ممبئی ہائی کورٹ میں کندرا نے چیلنج کیا ہے اورکہا کہ ان ویڈیو کا پروف کہا جا سکتا ہے لیکن ان میں پوری طرح جنسی تصاویر نہیں دکھائی گئیں ہیں کندرا نے عرضی میں کہا کہ پولس جس طرح کنٹینٹ کے فحاشی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے ا ن میں سیدھے کال گرل کو جنسی رشتے بناتے ہوئے نہیں دکھایا گیا ہے بلکہ کنٹینٹ کے فوٹوفلم کے شکل میں دکھایا گیا جو صحیح نہیں ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اس لئے انفارمیشن فوٹو گرافی قانون کی دفعہ 63Aکو اس میں نہیں لگایا جاسکتا اس میں زیادہ سے زیادہ دفعہ 67لگائی جا سکتی ہے سلپا نے بھی اپنے بیان میں پولس کو بتایا کہ ایروٹکا پورن سے الگ ہے اور ان کے شوہر بے قصور ہیں ان کے پاٹنر اور کندر ا کے بہنوئی پردیپ بخشی نے ان کے نام کا بیجا استعمال کیا ہے اکاو¿نٹ میں پیسے ٹرانسفر کرنے کے سوال پر انہیں اس بات کا کوئی آئیڈیا نہیں ہے میں خود ایک ایکٹریس ہوں میں کبھی کسی لڑکی پر میوٹ سین کرنے کا دباو¿ نہیں بنا سکتی اور نہ ہی کسی کو بنا دوں گی اگر کسی پر دباو¿ بنایا گیا تھا اسے اسی وقت پولس میں شکایت درج کرانی چاہئے تھی ایکٹریس نے یہ بھی کہا کہ پیسے اینٹھنے کے لئے ان کے شوہر کو اس کیس میں پھنسایا گیا ہے وہیں ایک ایکٹریس شروتی گیرا نے دعویٰ کہ انڈسٹری میں نئی ایکٹریس کو ڈرگس دیکر پہلے میوٹ ویڈیو شوٹ کیئے جاتے ہیں پھر انہیں پورن فلموں میں کام کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے پولس کا دعویٰ ہے کہ راج کندرا کی کمپنی ماڈل اور ایکٹریز سے دیش کو شو کا کنٹینٹ شائن کرواتی تھی جبکہ بعد میں ان پر فحشیت کی حدیں پار کرنے کا دباو¿ بناتی تھیں جمعہ کو پڑے چھاپے کے دوران ممبئی پولس نے کچھ ہارڈسک سلپا کا لیپ ٹاپ ، آئی پیڈ ، اور کچھ دستاویز جانچ کے لئے ضبط کئے ہیں ممبئی پولس سلپا کے فون کی کلوننگ بھی کروائے گی پولس کے سامنے سلپا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر لڑکیوں میں اس کام میں دقت تھی تو انہوں نے پیسے کیوں لئے انہوں نے کہا ہمیں بغیر کسی وجہ سے پھنسایا جا رہا ہے ایکٹریس نے یہ بھی کہا پیسے اینٹھنے کے لئے ان کے شوہر کو اس کام میں پھنسایا جا رہا ہے اتنی بڑی ہستیاں جن کا دھندا چمک دمک اور گلیمر سے بھر پور ہے تو انہیں پورن فلموں کی کیا ضرورت پڑ گئی یہ سوال ہر کوئی پوچھ رہا ہے ہمارا خیال ہے کہ یہ دھندا اکیلے کندرا نہیں چلا رہے تھے بلکہ بالی ووڈ کے کئی بڑے لوگ بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

27 جولائی 2021

انیل امبانی اور الوک ورما بھی جاسوسی معاملے میں ملوث ؟

پیگاسس جاسوس ایپیسوڈ (پیگاسس پروجیکٹ) کا تیسری کڑی اب منظرعام پر آئی ہے۔ کے تحت دنیا کی 17 میڈیا کمپنیوں کو جاری لیک ڈیٹا بیس کی 2018-19 کی فہرست سامنے آگئی ہے۔ میڈیا کمپنیوں کے اس گروپ میں شامل ہندوستانی میڈیا کی طرف سے و دائر کی گئی جانکاری کے مطابق صنعت کار انل امبانی اور ان کے ریلائنس اے ڈی اے گروپ کے کارپوریٹ مواصلات کے سربراہ ٹونی جیسسوداسن اور ان کی اہلیہ کی نگرانی بھی جاری ہے۔ واچ لسٹ میں ، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر آلوک ورما اور اس کے کنبہ کے افراد کے آٹھ فون نمبر پیگاسس کی نگرانی ٹارگیٹ میں شامل کیے گئے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ٹیب لیب نے اس کی تصدیق کی ہے۔ ورما کے حریف افسر راکیش استھانا ، جوائنٹ ڈائریکٹر اے کے شرما کے نام بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارت کورافیل جہاز بیچنے والی کمپنی داسا ایوئیشن کے ہندوستانی نمائندے وینکٹ راو¿ اوسینا اور فرانسیسی اینرجی کمپنی ای ڈی ایف کے ہندوستانی نزاد چیف ہرمن جیت نیگی کے فون نمبر بھی لیک ڈیٹا بیس میں ملے ہیں ۔دفاعی سیکٹر کی کمپنی ساوی انڈیا کے سربراہ رہے اندرجیت سیال ، اور بوئنگ انڈین کے چیف پراچیوش کمار کے نام بھی شامل ہیں۔ دی وائر کے مطابق ، یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی سٹیزن لیب نے اپنی تفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں این ایس او کے کم از کم دوکنزیومر کلائنٹ ہیں۔دی وائر نے تصدیق کی ہے کہ صنعتکار انل امبانی اور ان کی کمپنی کے ریلائنس اے ڈی اے گروپ کے کارپوریٹ ایگزیکٹو جیسسوداسن اور ان کی اہلیہ کے فون نمبرات اس فہرست میں پائے گئے ہیں۔ چاہے ان نمبروں پر جاسوسی کی گئی تھی یا نہیں ، یہ معلومات ان کے استعمال کردہ فون ہینڈسیٹس کے فورنسک جانچ سے پتہ چل سکے گا۔ (انل نریندر)

شاباش چانو آپ نے تاریخ رقم کی !

ٹوکیواولمپکس کے پہلے دن بھارت نے پہلی بار میڈل جیتا۔ ویٹ لفٹنگ کے 49 کلوگرام گروپ میں ، ہندوستان کی میرابائی چانو نے ملک کے لئے چاندی کا تمغہ دلایا۔ اولمپکس میں پہلی بار کسی ہندوستانی نے اس کھیل میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ اس کی کامیابی نے ویٹ لفٹنگ میں 21 سال سے قائم میڈل خشک سالی کا خاتمہ بھی کیا۔ اس سے قبل ، کرنم ملسوری نے سڈنی میں 2000 اولمپکس میں ویٹ لفٹنگ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ منی پور کے امفال کے قریب ایک گاو¿ں سے تعلق رکھنے والی میرابائی چانو نے ، ٹوکیو میں پریس کانفرنس میں سخت تربیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں پانچ سال بعد اپنے گاو¿ں گئی تھی۔ اب میڈل لے کر جاو¿ں گی۔ میرابائی چانو کا بچپن پہاڑ سے لکڑی کے بنڈل لانے میں گزرا تھا۔ اسی طرح وہ بھاری وزن اٹھانے میں ماسٹر بن گئی۔ اگرچہ ابتدا میں وہ تیر انداز بننا چاہتی تھیں ، لیکن آٹھویں جماعت میں ویٹ لفٹنگ کنجورانی دیوی کے بارے میں پڑھنے کے بعد ، اس کا جھکاو¿ ویٹ لفٹنگ کی طرف بڑھ گیا۔ میرابای اولمپک کے چھلوں کی شکل کی بالیاں پہن کر فائنل میں داخل ہوگئیں۔ یہ بالیاں والدہ نے 2016 کے ریو اولمپکس سے پہلے زیورات بیچ کر بطور تحفہ دی تھیں۔ وہ ریو میں کوالیفائی ہوگئی تھی ، لیکن ٹوکیو میں ، اس کی والدہ میرا کے کانوں میں وہی کان کی بالیاں دیکھ کر خوشی سے روپڑیں۔ چانو نے اولمپکس کی ناقص کارکردگی کو سن 2016 میں چھوڑ دیا جس میں وہ ایک بھی درست وزن نہیں اٹھاسکیں۔ اس بار ایک پراعتماد چانو نے کہا ، 'میں نے گولڈ میڈل کی کوشش کی۔ چاندی بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک خواب پورا ہوجائے۔ میں اس تمغے کو قوم کے لئے وقف کرتی ہوں۔شاباش چانو ، آپ نے فخر سے دیش کا سرا ونچا کر دیا ہے ۔ (انل نریندر)

میڈیا پر چھاپے ڈرانے کی کوشش ہے!

دنیا بھر کی بڑی تنظیموں نے ہندوستان میں میڈیا اداروں پر انکم ٹیکس چھاپوں کی مذمت کی ہے۔غور طلب ہے کہ میڈیا گروپ دینگ بھاسکر اور ٹی وی چینل بھارت سماچار کمپلیکس میں چھاپے مارے گئے تھے۔ رپورٹس وِٹ بارڈرز نامی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ ہندوستان میں میڈیا اداروں پر ایسی کارروائی کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ میڈیا دفاتر کے خلاف آئی ٹی کے چھاپے ان سماچار آو¿ٹ لیٹس کو ڈرانے کے مقصد سے مارے گئے ہیں جو سرکار پر سنجید ہ رپورٹ شائع کرتے ہیں ۔ اور اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ تنظیم نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی دھمکی آمیز کاروائیاں فورا بند کردیں۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا (ای جی آئی) نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آزاد صحات کو دبانے کیلئے سرکاری ایجنسیوں کا استعمال دباو¿ بنانے کے ہتھکنڈے کی شکل میں کیا جا رہاہے ۔ ایڈیٹرز گلڈ نے میڈیا اداروں پر آئی ٹی پر چھاپوں سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ: "چھاپے دینک بھاسکر کی (کوویڈ - 19) وباءپر کی گئی تحقیقی رپورٹنگ کے پشن منظر کے خلاف یہ چھاپے ماری کی گئی ہے جس سے سرکاری حکام کے ذریعے زبردست بد انتظامی اور انسانی زندگی کو ہوئے نقصان کو سامنے لایا گیا تھا ۔انکم ٹیکس کے چھاپوں پر دینک بھاسکر نے اپنی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا جس میں اس نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران اس میں کہا گیا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر کے دوران ملک کے سامنے حکومتی خامیوں کی اصل تصویر رکھنے والے دینک بھاسکر گروپ پر سرکار نے دبش ڈالی۔ اس کے ساتھ ، انہوں نے ان تمام خبروں کے ساتھ لنک بھی ڈالے جو کورونا مدت سے متعلق حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ دینک بھاسکر کے مطابق یہ چھاپے صبح 5.30 بجے ہوئے اور شام تک جاری رہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کی ٹیموں نے دہلی ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر ، گجرات اور راجستھان میں اس کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے۔ اس گروپ نے بتایا کہ اس کے متعدد ملازمین کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ، چھاپہ ماروں نے دفتر میں موجود افراد کے موبائل فون ضبط کرلئے اور انہیں وہاں سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس میں کہا گیا تھا: "چھاپے مارنے والے افسران نے یہ نہیں کہا کہ یہ اس عمل کا حصہ ہے اور تفتیش کی تکمیل کے بعد انہیںچھوڑاگیا۔" میڈیاادارے نے بتایا کہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والی ڈیجیٹل ٹیم کو سہ پہر ساڑھے بارہ بجے چھوڑا گیا۔ یہ بھی کہا کہ انکم ٹیکس ٹیموں میں خواتین کی کوئی ممبر نہیں تھی لیکن جب انہوں نے بھوپال اور احمد آباد ڈیجیٹل برانچ میں اس کے دفاتر پر چھاپہ مارا جہاں خواتین ملازمین موجود تھیں۔ سینئر ایڈیٹرز ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک نے کہا کہ سب سے زیادہ مستند ہندی اخبار بھاسکر پر چھاپوں نے کروڑوں قارئین اور ہزاروں صحافیوں کو حیران کردیا۔ لیڈر اور صحافی جو بی جے پی اور مودی کے عقیدت مند ہیں وہ بھی دنگ رہ گئے ہیں۔ کیا حکومت نے یہ چھاپے مار کر اپنے آپ کو اچھا کام کیا ہے یا اپنا امیج روشن کی ہے؟ نہیں ، الٹا ہوا ہے۔ ایک ، پیگاسس جاسوسی کے معاملے میں حکومت کو پہلے ہی بدنام کیا جارہا ہے اور اب اس جمہوریت کے چوتھے ستون پر حملہ کرکے اس اخبار نے ایک نئی پریشانی اٹھائی ہے۔ ملک کے تمام منصفانہ اخبارات ، صحافی اور ٹی وی چینلز اس حملے سے پریشان ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بھاسکر پر چھاپہ اس لئے مارا ہے کیونکہ اس نے بیرون ملک اپنے بڑے اثاثے چھپا رکھے ہیں تاکہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ انہوں نے صحافت کے علاوہ بھی بہت سے کاروبار چلائے ہیں۔ ان کی ساری بے ضابطگیاں اب غیر واضح طور پر پکڑی جائیں گی۔ اگر ایسا ہے تو یہاں حکومت سے میرے تین سوالات ہیں۔ پہلے یہ چھاپے اب کیوں ڈالے گئے؟ مودی حکومت پچھلے چھ سات سالوں سے کیا سو رہی تھی؟ اب بھی اس کی نیند کیوں کھلی؟ کیا یہی وجہ ہے؟ دوسرا ، یہ چھاپے صرف بھاسکر پر ہی کیوںڈالے گئے؟ کیا ملک کے تمام رہنما ، تاجر اور تاجر مالی قوانین کی مکمل تعمیل کرتے ہیں؟ کیا اس طرح کے چھاپے ملک کے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھی ڈالے جائیں گے؟ تیسرا ، اخباری مالکان کے ساتھ ساتھ مدیروں اور رپوٹروں کے فون کیوں ضبط کیے گئے؟ انہیں طویل عرصے تک دفاتر میں کیوں یرغمال بنایا گیا؟ انہیں ڈرانے اور ذلیل کرنے کا کیا مقصد تھا؟ (انل نریندر)

25 جولائی 2021

سیکسٹارشن گینگ کا پردہ فاش!

دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اسکرین ریکوڈر ایپ کے ذریعے لوگوں سے ویڈیو کال کے دوران ان کے فحاشی ویڈیو بنا کر وصولی (سیکسٹارشن )گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جانچ کے بعد پولیس نے گینگ کے ایک فرد کو گرفتار کیا ہے اس سے پتہ چلا ہے یہ گینگ ابھی تک 100 لوگوں سے قریب 1 کروڑ روپے وصول چکا ہے ۔حالانکہ جانچ میں یہ رقم ابھی بڑھ سکتی ہے ۔فی الحا ل پولیس گروہ کے دو مفرور افراد کی تلاش میں لگی ہے جوائنٹ پولیس کمشنر آلوک کمار نے بتایا کہ کرائم برانچ کو اطلاع مل رہی تھی کہ کوئی گروہ مسلسل سکسٹارشن کے دھندے میں ملوث ہے لیکن وہ لوک لاج کے ڈر سے بلیک میل ہونے والے لوگ اس کی شکایت نہیں کررہے ہیں ۔تفتیش میں لگی سی پی ایس پی رسپال سنگھ کی ٹیم نے ایک اطلاع کی بنیاد پر 15 جولائی کو نوح سے گینگ کے ایک ملزم فخرالدین کو گرفتار کیا اس نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ وہ انسٹاگرام اور فیس بک ٹوئیٹر واٹس ایپ سوشل نیٹورکنگ سائٹ سے شکار کو ڈھونڈتے ہیں دوستی کے بعد ویڈیو کال پر انہیں پھنساتے ہیں اس کے علاوہ وہ کافی تعداد میں موبائل نمبر خرید کر لڑکی کی آواز سے لڑکوں سے بات کرتے تھے پہلے وہ انہیں لڑکیوں کی فحاشی فوٹو اور ویڈیو بھیجتے تھے اور فون پر بات کرتے تھے ۔بھروسہ ہونے پر ملزم کے شکار کو واٹس ایپ ویڈیو کال کرنے کے لئے کہتے تھے اس کے بعد گروہ کا ایک ممبر فحاشی ویڈیو بناتا تھا جسے دیکھ کر سامنے والا شخص بھی اپنے کپڑے اتار دیتا تھا جسے اسکرین ایپ ریکارڈر سے ریکارڈ کر ملزم کو بلیک میل کرتے تھے ۔پولیس افسر نے بتایاگروہ کے ممبر پہلے او ایکس کے ذریعے لوگوں سے ٹھگی کرتے تھے اس میں وہ خریدار یا دیگر بن کر امکانی شکار سے رابطہ قائم کر تے تھے لیکن بعد میں ایکسٹارشن کرنے لگے اس میں کوئی بھی شخص پولیس کے پاس نہیں جاتا تھا ۔فخرالدین ساتویں کلاس تک پڑھائی کرنے کے بعد ٹریکٹر مکینک کا کام کرنے لگاتھا بعد میں اس کی ملاقات منفہد اور سمیع الدین سے ہوئی سیکس اسٹارشن ریکٹ کا دہلی این سی آر ،راجستھان ،پنجاب ،ہریانہ ،یوپی تک پھیلا ہو ا تھا ۔ (انل نریندر)

اب کی بار اولمپک صرف ٹی وی پر !

جاپان میں اولمپک کھیلوں کا آغاز ہو گیا ہے ۔کورونا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے افتتاحی تقریب میں پچاس ہزار ناظرین کی صلاحیت والے ٹوکیو نیشنل اسٹیڈیم میں صرف 950 لوگوں کو انٹری ملی اس میں بھارت سے ساتھ کھیلوں کے صرف بیس کھلاڑی اور چھ افسران شامل ہو پائے ۔دونوں ہاکی ٹیمیں ، نشانہ باز ،تیر انداز ،بیڈ منٹن ،ایتھلڈکس کے کھلاڑی نہیں تھے ۔چھ بار کی ورلڈ چیمپین باکسر ایم سی میریکوم اور ہاکی کپتان منپریت سنگھ جھنڈا سنبھالے تھے ۔بھارت کے 126 کھلاڑی کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں جاپان کے سابق وزیر اعظم شینجو آبے بھی افتتاحی تقریب مین شامل نہیں ہوئے ۔بہر حال جمعہ کو کھیلوں کا آغاز ہوگیا ۔لیکن یہاں کے ماحول کو دیکھ کر ایسا نہیں لگ رہا ۔ایسا اس لئے کیوںکہ جاپان کے لوگ چھٹیاں منانے باہر جارہے ہیں ۔ اور یہاں تک اولمپک میں ناظرین کی انٹری پر پابندی اور کورونا کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بھی اولمپک ایونٹ میں انٹری نہیں ملی ۔ایک دن پہلے ٹوکیو کی سڑکوں پر کافی ٹریفک تھا لیکن اولمپک شائقین نہیں تھے بلکہ یہاں کے لوگ ہوائی اڈے جارہے تھے ۔لوگ گیمس کی شروعات سے پہلے ٹوکیوں چھوڑنا چاہتے ہیں ۔کیوں گیمس کے دوران کورونا کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لئے سخت پابندیاں لگا دی گئیں ۔جاپان کا موسم بھی شہر چھوڑنے کی وجہ ہے ۔ٹوکیومیں گرمی زیادہ اور امس 50 فیصد تک ہے پابندیوں کی وجہ سے ہوٹل اور بار 8 بجے بند ہو جاتے ہیں اس لئے اس بار اولمپک کھیلوں کا مزہ ٹی وی پر لے سکیں گے ۔ (انل نریندر)

فرانس کے صدر بھی اسپائیوئیر کے نشانہ پر !

ایمینسٹی انٹرنیشل نے کہا ہے کہ فرانس کے صدر ایمینول میکرو کا نام بھی آپ موجودہ سابق صدور کی فہرست میں شامل ہیں جنہیں نام نہاد اسرائیلی اسپائیوئیر کمپنی ایم این او گروپ کے گراہکوں نے چھانٹا ہیکنگ کے لئے شاید یہ نشانہ رکھا گیا ہو اسپائیوئیر ایک سافٹ وئیر ہے جو کسی بھی کمپیوٹر میں داخل ہو کر اس کے بارے میں اطلاعات حاصل کرتا ہے اور اسے چوری چھپے تیسرے فریق کو بھیجتا ہے ۔ایمینسٹی انٹرنیشنل کے جنرل سکریٹری ایگنیش کیلایارڈ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس سے کئی دنیا کے لیڈروں کو پریشانی ہو سکتی ہے ۔فہرست میں چل رہے دفتر میں منگلوار کو ایک بیان میں بتایا کہ اس نے خفیہ راز کی خلاف ورزی اور ٹیٹا کے ناجائز استعمال کرنے اور اسے ناجائز طریقہ سے اسپائیوئیر بیچنے سمیت ممکنہ الزامات کی جانچ شروع کر دی ہے ۔فرانسیسی قانون کے تحت جانچ میں مشتبہ ملزم کا نام درج نہیں ہے لیکن اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے اس لئے اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے ۔وہ صحافیوں اور فرانسیسی ویب سائٹ میڈیا پارٹ کی شکایت کے بعد جانچ شروع کی گئی ہے ۔مبینہ متاثرین کے ذریعے این ایس او گروپ کے خلاف کئی مقدمے دائر کئے گئے ہیں ۔اس میں فینس کک بھی شامل ہیں جس نے اسرائیلی کمپنی پر ان کی معاون واٹس ایپ کو ہیک کرنے کا الزام لگایا تھا ۔واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق ایمیونسٹی اور پیرس میں غیر منافعہ صحافتی ادارہ فار بڈن اسٹوریز کو لیک کئے گئے پچاس ہزار فون نمبروں کی فہرست میں پائے جانے والے امکانی ٹارگیٹ لوگوں کے نام میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ساو¿تھ افریقہ کے صدر سرل الفونس اور عراق کے صدر بہرم صالح شامل ہیں ۔تین موجودہ وزیراعظم اور مراکش کے راجہ محمد اس فہرست میں شامل ہیں خبر کے مطابق کوئی سربراہ مملکت اپنے اسمارٹ فون کو فورنسک ٹیسٹ کے لئے پیش نہیں کرے گا ۔جس سے پتہ چل سکے کہ وہ این ایس او کے فوجی گریڈ پیگاسس اسپائیوئیر کی زد میںآیا ہے کہ نہیں ۔جانچ میں 33 فون میں یا تو اسپائیوئیر پایا گیا یا اس میں گھسنے کی کوشش کے ثبوت ملے ہیں ایک عالمی میڈیا فیڈریشن کے 16 افراد کو لیک ہوئی فہرست دی گئی ہے ۔فرانسیسی اخبار روزنامہ لے موڈے نے کہا کہ 2019 میں میکرو کے علاوہ فرانس سرکار کے 15 افراد بھی امکانی طور پر ان کے ٹارگیٹ میں سے ایک ہو سکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...