Translater
06 جولائی 2023
فیصلہ 7جولائی کو!
دہلی کی ایک عدالت اس مسئلے پر فیصلہ 7جولائی کوکرنے والی ہے کہ لیڈیز پہلوانوں کا مبینہ طور پر جنسی استحصال کرنے کے معاملے میں انڈین کشتی فیڈریشن کے موجودہ صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف دہلی پولیس کے ذریعے دائر چارج شیٹ کا نوٹس لینا ہے یا نہیں ؟ برج بھوشن شرن سنگھ بھاجپا کے ایم پی ہیں ۔ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ہرجیت سنگھ جیسپال نے دہلی پولیس کی اس دلیل پر غور کیا کہ اس کی جانچ اب بھی جاری ہے اور ایک مکمل چارج شیٹ داخل کئے جانے کا مکان ہے ۔ عدالت کو اس مسئلے پر فیصلہ سنیچر کو سنا رہی تھی۔ جسٹس نے کہا کہ چوںکہ ایف ایس ایل رپورٹ اور سی ڈی آر کا نتظار ہے ۔ اس میں وقت لگنے کا امکان ہے۔ اس لئے مسئلے کو 7جولائی کو غور کیلئے کاروائی لسٹ میں شامل کریں۔ دہلی پولیس نے چھ بار کے ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف 15جون کو آئی پی سی کی دفعہ 354(یعنی کسی عورت کی عزت کو تار تار کرنے کے ارادے سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) اور 354A(جنسی اذیت رسانی) ،354D(پیچھا کرنا )اور 306(مجرمانہ دھمکی ) جیسی دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی۔ چارج شیٹ میں ڈبلیو ایف آئی کی معطلی اور معاون سیکریٹری ونود تومر کو بھی آر پی سی کی دفعہ 109(کسی جرم کیلئے اکسانا)،(اس کے کیلئے سزا کا کوئی واضح سہولت نہیں ہونا)354،354Aاور 506کے تحت کرائم کیلئے نامزد کیا گیا تھا۔ تازہ معاملے کے علاوہ نابالغ پہلوان کے ذریعے لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی جرائم سے بچوں کا تحفظ (پاکسو) ایکٹ کے تحت ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ نابالغ پہلوان ان 7خاتون پہلوانوںمیں شامل تھی جنہوںنے برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی اذیت رسانی کے الزام لگائے تھے ۔ دونوں ایف آئی آر میں ایک دہائی کے دوران الگ الگ وقت اور مقامات پر برج بھوشن شرن سنگھ کے ذریعے لیڈیز پہلوانوںکو نامناسب طریقے سے چھووا ،پیچھا کرنے اور ڈرانے اور دھمکانے جیسے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ نابالغ پہلوانوں کے معاملے میں دہلی پولیس نے 15جون کو فائنل رپورٹ داخل کی تھی جس میں برج بھوشن شرن سنگھ کے خلا ف جنسی اذیت رسانی کے الزام میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ایسی رپورٹ ان معاملوںمیں دائر کی جاتی ہیں جس میں پولیس مناسب جانچ کے بعد پختہ ثبوت ڈھونڈھنے میں ناکام رہتی ہے ۔ پاکسو عدالت معاملے میں برج بھوشن کے خلاف اس ایف آئی آر کو منسوخ کرنے والی رپورٹ پر غو کرے گی۔
(انل نریندر)
یو سی سی اور اپوزیشن !
وزیر اعظم نریندر مودی نے نونیفارم سول کوڈ یعنی یو سی سی کا اشو اٹھاکر ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے اس کے بعد سے کچھ سیاسی پارٹیاں یو سی سی کی حمایت میں آگئیں ہیں تو کچھ اس کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ وہیں کچھ پارٹیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یو سی سی کا مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی اپنا نظریہ طے کریںگے۔ یونیفارم سول کوڈ یعنی شادی ،طلاق ،وراثت ،گود لینے سمیت کئی چیزوں پر دیش کے سبھی شہریوں کیلئے ایک ہی قانون ۔پی ایم مودی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوکر 2024کے عام چناو¿ میں بھاجپا کے خلاف اترنے کی کوشش میں لگ گئیںہیں۔ واقف کار مانتے ہیں کہ بی جے پی کی طرف سے اپوزیشن اتحاد میں سیندھ ماری کیلئے یو سی سی کو اگلے چناو¿ کے ایجنڈے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ سیاسی حلقوںمیں یہ بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا یو سی سی کے مسئلے پر الگ الگ رائے رکھنے والی اپوزیشن پارٹیاں تقریباً10مہینے بعد ہونے والے عام چناو¿ میں ایک اسٹیج پر آسکیںگی۔ کانگریس پارٹی پالیمانی پارٹی کی حکمت عملی گروپ نے سنیچر کو ایک اہم میٹنگ بلائی جس میں سونیا گاندھی کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر ہیں ۔میٹنگ کے بعد جے رام رمیش نے کہا کہ کوئی مسودہ آئے گا تو اس پر بحث ہوگی تو ہم حصہ لیںگے ۔ اور جو بھی مجوزہ مسودہ ہوگا اس کا جائزہ لیںگے ۔فی الحال ہمارے پاس آئینی کمیشن کا ایک پبلک نوٹس آیا ہے ۔کچھ بھی نیا نہیں ہوا ہے ۔یہ مہنگائی ،کرپشن اور بے روزگاری کے مسئلے سے توجہ بھٹکانے کیلئے بی جے پی کا ایک نیا طریقہ ہے۔انہوںنے بی جے پی پولرائزیشن کی سیاست کرنے کا الزام لگایا لیکن کیا یو سی سی اپوزیشن اتحاد میں ایک بڑی اڑچن ثابت ہو سکتاہے؟ اس سوال پر این ڈی اے کے ساتھی کونراڈ سنگما نے کہا کہ یوسی سی سے قریب 200سے زیادہ قبائلی فرقوں کے اختیارات اور آزادی کم ہونے کا خطرہ ہے۔ بھارت کی قریب 12فیصدی قبائلی آبادی نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں آباد ہے ۔کونراڈ سنگما میگھالیہ میں نیشنل پیپلز پارٹی اور بی جے پی مل کر سرکار چلا رہے ہیں اور سنگما وزیر اعلیٰ ہیں۔ پر مود تیواری سنگما کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سنگما سے کہہ رہے ہیں کہ یو سی سی آئے گاتو ہم اس کی مخالفت کریںگے۔ ایسے ہی اپوزیشن پارٹیوںمیں بھی سب اپنے نظریات ہوںگے ۔ جب یہ ریزلیشن پارلیمنٹ میں آئے گا تب ہم مل جل کر طے کریںگے کہ کیا کرناہے؟ پٹنہ میں میٹنگ کے دوران لالو یادو کے ساتھ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس نے اس پر اپوزیشن پارٹیوںکے اتحاد پر سوال کھڑے کئے جا رہے ہیںان کا جواب دیا ہے ۔پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی بیرک اوبران نے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ سبھی اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے کی فوٹو کاپی بنے یہ ضروری نہیں کہ جمہوریت اور روزگار پیدا کرنے کیلئے جڑ رہیں اپوزیشن پارٹیوںمیں ہر مسئلے پر ایک ساتھ ہوں۔اور بڑے مسئلوںپر پارٹیوں کا رخ صاف ہے۔
(انل نریندر)
04 جولائی 2023
آدی پورش فلم اسٹوری پر نظر ثانی !
ہائی کورٹ نے تنازعات میں گھیر فلم آدی پورش کی کہانی پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿ بنچ نے مرکزی سرکار کو حکم دیا ہے کہ وہ دوبارہ نظر ثانی کیلئے پانچ ممبری کمیٹی بنائی جائے ۔کمیٹی میں دو ممبر تلسی دال کی تصنیف شدہ شری رام چرتر و مہرشی بالمیکی کی تصنیف رامائن سے جوڑے دانشور ہوںگے اور دوسرے ممبر داھرمک ہوںگے کمیٹی دیکھی گی کہ فلم میں بھگوان رام ،سیتا ماتا ،ہنومان جی و راین چیتا ہنی کو ان دھارمک گرنتھو کے مطابق فلمایاگی اہے کہ یا نہیں ۔کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کی سیتا و ویبھیشن کی پتنی کوغلط طریقے سے تو نہیں پیش کیا گیا ہے ؟ کورٹ نے کہا کہ عرضی کے ساتھ داخل کئے گئے مناظر میں ویبھیشن کے پتنی کے کچھ سین فحاشی لگ رہے ہیں۔ جسٹس راجیش سنگھ چوہان اور جسٹس شری پر کاس سنگھ پر مشتمل بنچ نے دو عرضیون پر یہ حکم دیا ۔ کورٹ نے کہ کہ ہفتے بھر میں کمیٹی بنائی جائے ۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری ذاتی حلف نامے کے ساتھ 15دن یعنی 27جولائی تک کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں ۔ کورٹ نے سینسر بورڈ کے چیئرمین کو بھی حکم دیا ہے کہ متعلقہ دستاویزات کے ساتھ حلف نامہ پیش کریں کہ فلم آدی پرش کو دکھانے کا سر ٹیفیکٹ جاری کرتے وقت طے گائڈ لائنز کی تعمیل ہوئی یا نہیں ؟ کورٹ نے سختی سے کہا کہ حلف نامہ داخل نہیں کیا جا تا تو 27جالائی کی سماعت پر ڈپٹی سیکریٹری سطح کے افسر کو کورٹ میں پیش ہونا ہوگا ۔ کورٹ نے فلم کے ڈائریکٹر اوم راو¿ت بھوشن کمار و کہانی مصنف منوج منتشر کو بھی جوابی حلف نامے کے ساتھ اگلی تاریخ تک طلب کیا ہے۔ یوپی سرکار کی طرف سے پیش چیف وکیل شیلیندر کما سنگھ نے اسے ہندو آستھا سے جڑا معاملہ بتایا مرکز کی جانب ڈپٹی سولیسیٹر جنرل ایس بی پانڈے نے دلیلیں رکھیں ۔بنچ ان کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی اور معاملے کو سنگین نوعیت کا بتایا اور فلم کی کہانی پر دوبارہ سے نظر ثانی کا حکم دیا ہے ۔ ہائی کورٹ میں داخل عرضیوںمیں فلم پر مکمل پابندی لگانے کی دوخواست کی گئی ہے۔عرضی کنندگان کی طرف سے پیش وکیل رنجنا اگنی ہوتری و پرنس لینن نے بھی فلم میں دکھائے گئے مناظر کو قابل اعتراض کہہ کر پیش کیا ہے۔ انہوںنے اسے ہندو سناتن آستھا کے ساتھ کھلواڑ قرار دیتے ہوئے سخت کاروائی کی درخواست کی ہے۔
(انل نریندر)
یو سی سی پر کیجریوال کا موقف؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ منگل کو مدھیہ پردیش کے بھوپال میں منعقدہ ایک ریلی کے دوران یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ کا ذکر کرکے ایک طرح سے الگے سال ہونے والے عام چناو¿ کیلئے ایجنڈا طے کر دیا ہے انہوںنے دیش میں یو سی سی کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ ’ایک ہی خاندان میں دو لوگوں کے الگ الگ قاعدے نہیں ہو سکتے ایسا دہرا نظام سے گھر کیسے چلے گا؟ مودی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بار بار کہا ہے کہ انڈو بھارت ہے اور کہتا ہے کہ کومن سول کوڈ لاو¿ لیکن یہ ووٹ بینک کے بھوکے لوگ اس میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ لیکن بھاجپا سب کا ساتھ سب کا وکاس کے جذبے سے کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کی تقریر کے بعد تما ما پارٹیوںنے اس مسئلے پر اپنی رائے رکھی۔ پچھلے ہفتے پٹنہ میں اکٹھے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ںنے اس کی مخالفت کی ۔لیکن عام آدمی پارٹی اس معاملے میں الگ چلتے نظر آئی ۔پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اصولی طور سے یونیفارم سول کوڈ کی حمایت کرتی ہے لیکن ساتھ کہا کہ اس کا طریقہ الگ ہونا چاہئے اور اسے سبھی پارٹیوں کی حمایت سے لاگو کرنا چاہئے ۔ عام آدمی پارٹی کے نیتا سنجیو پاٹھک نے کہا کہ ان کی پارٹی اصولاً یو سی سی کی حمایت کرتی ہے۔ آرٹیکل 44میں اس کی حمایت کی گئی ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ ایسے مسئلے پر عام رائے کے ساتھ ہی آگے بڑھنا چاہئے ۔ ایک طرف عام آدمی پارٹی مرکز کے آرڈیننس پر بی جے پی حملہ آور ہے وہیں یو سی سی پر اس کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے؟ حالاں کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے ،اس سے پہلے کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹانے کا بھی پارٹی نے کھل کر حمایت کی تھی۔ آخر عام آدمی پارٹی اپنی سیاست کو کس طرح لے جا رہی ہے۔ کئی واقف کار مانتے ہیں کہ ایسے مسئلوں پر بی جے پی کی حمایت کر عام آدمی پارٹی راشٹر واد اور ہندتوا کی اپنی ساکھ کو نکھارنا چاہتی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ بی جے پی سے ناراض ووٹ ان کی طرف آجائے ۔ پارٹی کا سیدھا نشانہ آنے والے اسمبلی چناو¿ اور لوک سھبا چناو¿ کیلئے ہندو ووٹروں کو لبھانے کا اگلے کچھ مہینوںمیں مدھیہ پر دیش ،راجستھان ،چھتیش گڑھ میں چناو¿ ہو نے ہیں ۔ اس علاوہ لوک سبھا چنا و¿ کی الٹی گنتی شرو ع ہو گئی ہے جہاں کانگریس کمزور ہو رہی ہے وہاں وہاں عام آدمی پارٹی مضبوط ہو رہی ہے لیکن کیا یو سی سی پر عآپ کا یہ موقف مسلمانوں اور سکھوں کو ان سے دور کرےگا؟ پنجاب میں ان کی سرکار ہے اور اب مستقبل قریب میں وہاں کوئی چناو¿ میں نہیں ہونا ہے ۔رہا سوال مسلمانوں کا تو دہلی میں 2020میں عام آدمی پارٹی نے ان سبھی پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی کہ جہاں مسلم آبادی 40فیصد سے زیاہ ہے ، این سی ڈی چناو¿ میں بھی پارٹی کو اوکھلا اور سیلم پور جیسے مسلم علاقوںمیں جم کر ووٹ ملے تھے پارٹی کو لگتا ہے کہ مسلمانوںمیں اس کا اتنا اثر نہیں اس لئے وہ ہندتوا کی سیاست کر بی جے پی کی بی ٹیم بننا چاہتی ہے ۔کل ملاکر اسے اب مسلمان ووٹروں کی پر واہ نہیں اس کی ساری توجہ ہندو ووٹروںمیں ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...