21 ستمبر 2013

سی بی آئی کی عجیب و غریب دلیل:افسرشاہی سے آزاد کرو؟

گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی ہماری سب سے پرانی تفتیش رساں ایجنسی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے اب عجیب وغریب اپیل سپریم کورٹ میں کی ہے۔ یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔کوئلہ گھوٹالہ الاٹمنٹ کے معاملے کی سماعت کے دوران سی بی آئی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے افسر شاہی کے چنگل سے آزاد کیا جائے۔ سی بی آئی کے مطابق اس کی وجہ سے اسے کئی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جسٹس آر این لودھا کے سربراہی والی بنچ نے پوچھا کہ سی بی آئی افسر شاہی کی اتنی مخالفت کیوں کررہی ہے؟ اس پر سی بی آئی کے وکیل امریندر شرن نے بتایا کے وہ جو بھی تجویز بھیجتے ہیں اسے واپس کردیا جاتا ہے۔ ہر تجویز ہیڈ کلرک سطح سے ہوکر گزرتی ہے کیا یہ پہیلی نہیں کے دیش کی بڑی جانچ ایجنسی افسر شاہی سے آزا د ہونا چاہتی ہے لیکن اسے سرکار کی نگرانی میں کام کرنے اور یہاں تک اس کا حصہ بنے رہنے میں کوئی پریشانی نہیں ؟ سی بی آئی سرکار کے ماتحت رہتے ہوئے کچھ مخصوص اختیارات کیوں مانگ رہی ہے؟ سی بی آئی جس طرح سے حکمراں پارٹی سے الگ نہیں رہنا چاہتی لیکن اس کی افسر شاہی سے خود کو دور رکھنا چاہتی ہے اس سے تو کئی سوال کھڑے ہوں گے اور اس دلیل سے اس شبے کو بھی تقویت ملتی ہے کہ وہ خود پورے طور پر آزاد ہونے کو تیار نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ طوطی پنجرے سے باہر نکلنے کا خواہشمند نہیں ہے۔ حیرانگی تو اس بات کی ہے کہ ادھر سپریم کورٹ سی بی آئی کو سرکاری چنگل سے آزادہونے کا موقعہ دے رہا ہے اور ادھر سی بی آئی صرف افسرشاہی سے آزاد ہونے کی اپیل کررہی ہے۔ الٹا یہ دلیل دے رہی ہے کہ اس سے تو اس کا بھروسہ بڑھ جائے گا۔ اس سلسلے میں اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کوئلہ الاٹمنٹ کی جانچ کے سلسلے میں اس نے کس طرح یہ دلیل دی تھی کہ اسے سرکار سے اپنی جانچ شیئر کرنے کی اجازت دی جائے اور یہ بھی تب جب سپریم کورٹ نے اسے صاف طور سے ایسا کرنے سے منع کیاتھا۔ بیشک سی بی آئی ممکنہ طور پر ایک واحد ایسی ایجنسی ہے جو خود کو ثابت کرنے اور اپنے وقار کی حفاظت کرنے کے لئے چوکس اور سرگرم نہیں ہے۔ بدقسمتی سے یہ تب ہے کہ جب عام جنتا محسوس کررہی ہے کہ پچھلے گھوٹالے و دیگر معاملوں کی جانچ کے لئے دیش میں حقیقت میں ایک آزاد اور بھروسے مند جانچ ایجنسی کی ضرورت ہے۔سی بی آئی امریکہ کی بڑی اہم ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی طرز پر بنائی گئی تھی۔ ایف بی آئی بالکل آزاد جانچ ایجنسی ہے ۔ وہ جانچ کے لئے ہر طرح سے آزاد ہے چاہے جانچ امریکی صدر تک کیوں نہ کی جاتی ہو؟ سی بی آئی کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ تب تک خود کو بھروسے مند نہیں بنا سکتی جب تک سرکار کے سائے میں کام کرتے رہنے کے اپنے طریقے میں احتیاط نہیں برتتی۔ سی بی آئی کے اس ٹال مٹول کے رویئے سے سپریم کورٹ بھی غیر یقینی حالت میں ہوگی۔ اس رویئے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ بھی اب سپریم کورٹ کو ہی کرنا پڑے گا کہ سی بی آئی کی مختاری کے مسئلے پر وہ آگے کیسے بڑھے؟
(انل نریندر)

پہلے سے ہی مہنگائی کی مار سے پریشان عوام اور پسے گی!

اگر یوپی اے سرکار کو لگتا ہے کہ لاکھوں مزدور، نوکری پیشہ روزانہ کمانے والے لوگوں کی کوئی پریشانی نہیں ہے تو وہ دو وقت کی روزی روٹی کیسے جٹا پارہا ہے اس کا شاید انہیں نہ تو کوئی احساس ہے اور نہ ہی پرواہ۔ پیاز، سبزیوں ،ایندھن، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ سب کچھ مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ پہلے سے ہی مہنگائی سے پریشان حال جنتا کے لئے یہ خبر اور ڈرانے والی ہے کہ افراط زر شرح 6 ماہ میں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے اور غذائی اجناس کی مہنگائی 18 فیصدی کو پار کرگئی ہے۔پچھلے اگست میں کھانے پینے کی اشیاء تین سال میں سب سے زیادہ18.18 فیصدی بڑھی ہے۔تھوک انڈیکس پر مبنی مہنگائی شرح بڑھ کر 6.10 فیصدی پہنچ گئی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے اس سال اگست میں پیاز 245فیصدی تقریباً ڈھائی گنا مہنگی ہوئی جبکہ سبزیوں کے دام78فیصدی بڑھ گئے ہیں۔ ڈیزل پر 27 فیصدی ، ایل پی جی پر قریب8 فیصدی مہنگائی بڑھی ہے۔ وزارت کامرس کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق کارخانوں میں بننے والے سامان کی مہنگائی گذشتہ اگست میں صرف1.9 فیصد بڑھی لیکن تھوک مہنگائی پر قریب14 فیصدی اہمیت رکھنے والی کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی18فیصدی بڑھنے سے پچھلے 6 مہینے میں سب سے زیادہ مہنگائی نے بلندی چھوئی ہے۔ اگر یہ ہی حالت رہی تو عام جنتا کی مصیبتیں زیادہ بڑھنا طے ہے۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ موجودہ حالات میں جنتا کسی بھی طرح کی راحت کی امید بالکل نہیں رکھ سکتی کیونکہ سر اٹھاتی مہنگائی کے چلتے اس کے امکانات مدھم ہوگئے ہیں۔ ریزرو بینک سود شرحوں میں کٹوتی پر غور کرسکتا ہے۔ مہنگائی پر تازہ اضافے کے سبب پیاز 80-100 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے جس سے عام آدمی کی خوراک پر لاگت بڑھی ہے اس کے علاوہ سبزیوں اور گوشت ،مچھلی کے داموں میں بھی تیزی آئی ہے۔ مایوسی کی بات یہ ہے کہ تمام یقین دہانیوں کے باوجود مرکزی سرکار و ریاستی سرکاریں ایسا کچھ نہیں کرسکیں جس سے مہنگائی پر قابو ہو پائے۔ سچ تو یہ ہے اس بارے میں سبھی نے اپنے اپنے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کے اسی کے ساتھ بڑھی مہنگائی کی پرواہ کرنا بھی چھوڑدیا گیا ہے۔ ایسا احساس اس لئے ہورہا ہے کیونکہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے نہ تو فوری قدم اٹھائے جارہے ہیں اور نہ ہی قلیل المدتی قدم۔ تہواروں کے موسم میں بڑھتی مہنگائی دیوالی کے جوش میں کمی کرے گی۔ کار یا کوئی سامان خریدنے کا پلان بنانے والوں کو بھی دھکا لگ سکتا ہے۔ بڑھتی مہنگائی ،گرتا روپیہ اور دھیمی اقتصادی ترقی شرح نے مرکزی سرکار کی تشویشات کو بڑھادیا ہوگا۔ چناوی برس میں مہنگائی کے بڑھتے حکمراں پارٹی کے ووٹروں پر بھی سیدھا اثر پڑنے والا ہے۔ آج زیادہ تر جنتا کے لئے مہنگائی سب سے بڑا اشو ہے۔ اس سال کے آخر تک کئی ریاستوں کے چناؤ ہونے ہیں ۔ دراصل آٹھ مہینے میں لوک سبھا چناؤ آرہے ہیں۔ خود سرکاری اعدادو شمار بتا رہے ہیں کہ بھارت میں ہر سال ہزاروں کروڑ روپے کے پھل، سبزیاں، اناج کے رکھ رکھاؤ میں کمی اور ڈھلائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے سبب برباد ہوجاتے ہیں۔ پھل، سبزیوں اور اناج کے اتنے بڑے پیمانے پر بربادی کے جاری رہتے مہنگائی پر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔پہلے سے ہی ڈرے غریب آدمی کی کمر اور ٹوٹے گی۔
(انل نریندر)

20 ستمبر 2013

مظفر نگر فسادات کی اصلیت کو ’آج تک‘ نے کیا بے نقاب!


ہم نے جیسا کے اس کالم میں لکھا تھا اور دور درشن ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا بھی تھا کہ اترپردیش کی اکھلیش یادو حکومت نے مظفر نگر فسادات کو بھڑکایا اور جان بوجھ کر بروقت کارروائی نہیں کی۔ وہ آہستہ آہستہ ثابت ہونے لگا ہے۔ ان فسادات کو لیکر اکھلیش حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ایک طرف عدالتی ڈنڈا دوسری طرف انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ اور رہی سہی کثر پرائیویٹ نیوز چینل ’آج تک‘ کے اسٹنگ آپریشن نے پوری کردی۔ منگل کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے سپا حکومت کے دوران ہوئے سبھی فسادات پر سرکار سے جواب طلب کیا ہے اور دنگا متاثرین کو راحت کو لیکر سپریم کورٹ پہلے سے ہی سماعت کررہا ہے۔ ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے جسٹس امتیاز مرتضیٰ اور جسٹس اروند کمار ترپاٹھی کی بنچ نے سماجی کارکن نوتن ٹھاکر کی عرضی پر سپا حکومت میں ہوئے سبھی فسادات پر دو ہفتے میں جواب مانگا ہے۔ ریاست کے اپر سالیسیٹر جنرل کو سپریم کورٹ اور الہ آباد بنچ نے دنگوں کے سلسلے میں دائر مقدمات کی پوزیشن سے بھی باآور کرانے کوکہا گیا ہے۔ عرضی میں موجودہ حکومت اور اس کے حکام پر ایک فرقے کے تئیں جھکاؤ اور ملزمان کے خلاف کارروائی میں لاپروائی برتنے کا الزام ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ مغربی اترپردیش کے فسادات کی بابت عرضی پر سماعت کرے گا۔ اب بات کرتے ہیں انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بی رپورٹ کی۔ اس نے مظفر نگر فسادات پر ایک رپورٹ دی ہے جس میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ مغربی اترپردیش میں جو فرقہ وارانہ دنگے ہوئے اس کے بارے میں خفیہ نے ماہ اگست میں اترپردیش سرکار کو آگاہ کیا تھا اس کے کچھ دن بعد وزارت داخلہ نے بھی بہار، مدھیہ پردیش کے ساتھ اترپردیش کو بھی ایڈوائزری جاری کرکے کہا تھا کہ گنیش چتوتھی کے دوران فرقہ وارانہ فسادات کا خطرہ ہے۔ دنگوں پر آئی بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مظفر نگر کا دنگا رک سکتا تھا لیکن سرکار نے ہی پولیس انتظامیہ کے ہاتھ باندھ دئے تھے۔ الرٹ کے باوجود متعلقہ علاقوں میں نہ تو فورس بڑھائی گئی اور نہ ہی کوئی ایکشن پلان بنا۔ ذرائع کے مطابق کوال کے تہرے قتل عام کے بعد اگر منصفانہ کارروائی ہوتی تو جھگڑا نہ بڑھتا لیکن سرکار نے نمبر دو کی حیثیت والے ایک وزیر نے پولیس انتظامیہ کو کارروائی نہ کرنے کے احکامات دئے تھے۔ آئی بی نے مغربی اترپردیش میں ہوئے فساد کو طے شدہ بتایا ہے جو زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اس کا اثر پورے دیش میں پڑ سکتا ہے۔ مظفر نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں اگرنظر ڈالیں تو یہ ہوبہو ایسا نظر آتا ہے یعنی اس کی باقاعدہ کہانی لکھی گئی ہو۔ جس چھوٹے واقعے کے بعد یہ بڑا دنگا ہوا ویسے واقعات تو مغربی اترپردیش میں سال میں دو درجن سے زیادہ رونما ہوتے ہیں۔ وہاں اس سے پہلے کسی بھی ایسے چھوٹے واقعہ نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل نہیں اختیار کی۔ اسی وجہ سے سبھی کواور آئی بی کو شبہ ہے کہ یہ تشدد منظم تھا۔ بڑی پنچایتیں بھی شک کے دائرے میں ہیں کیونکہ کشیدگی کے ماحول کے بیچ بھاری بھیڑ اور اس میں اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی چار سال پرانی سی ڈی کو پہلے سوشل میڈیا پر ڈالا گیا اور اس سے افواہ گرم ہوگئی جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ فساد منظم تھا۔ جب اسے سوشل میڈیا پر رکوایا گیا تب یہ بڑی تعداد میں لوگوں کے بیچ میں بٹنے لگی۔ اس سی ڈی کولیکر پولیس چیف کی اپیل ابھی تک اخباروں میں چھپ رہی ہے۔ یہ سی ڈی پاکستان کی ہے اور برسوں پرانی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس بھی محسوس کررہی ہے کہ اس سی ڈی نیزہر پھیلانے میں بڑا رول نبھایا ہے۔ 
اس سی ڈی کا بڑے پیمانے پر آنا اور کئی ضلعوں میں بڑی تعداد میں بانٹنا یہ ایک منظم سازش نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ 80 ہزار لوگوں کی پنچایت کے بعد گھرواپسی کے دوران لوگوں پر گھات لگاکر کئی مقامات پر حملے ہونا کیا اس پورے واقعے کو منظم نہیں مانا جاسکتا؟ موقعے سے اے کے 47- رائفل خالی کھوکے ملنا بھی یہ ہی اشارہ کرتے ہیں کہ سازشی پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے اور دنگے کی جڑ رہے کوال کانڈ کے بعد سپا لیڈروں کے سیاسی دباؤ نے اس طرح پولیس انتظامیہ کے ہاتھ باندھ دئے اس کی تصدیق آج تک کے اسٹنگ آپریشن نے اجاگر کردی اور ثابت کردیا۔
منگلوار اور بدھوار کو آج تک ٹی وی چینل نے یہ آپریشن ٹیلی کاسٹ کیا تو پولیس انتظامیہ اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ خفیہ خیمے میں سی ای او جانسٹھ جگت رام جوشی اور ایس ڈی ایم آر سی ترپاٹھی کے علاوہ ایس پی کرائم کلپنا سکسینہ ، ایس او پھوگانا اور آر ایس گوڑ ،ایس او شاہ پور ستیہ پرکاش سنگھ ،ایس ایچ او بھوپا،رام پال سنگھ۔ تھانیدار میرا پور اے کے گوتم ہٹائے گئے۔ انسپکٹر برہانہ رشی پال سنگھ بھی بولتے نظر آرہے ہیں۔ وہ صاف کہتے دکھائی دے رہے ہیں کوال میں شاہنواز اور ملک پور میں سچن اور گورو کے قتل کے بعد تلاشی کارروائی چلا کر 7 مشتبہ ملزمان کوحراست میں لیا گیا تھا۔ تبھی ایک بڑے قد والے سپا لیڈر نے فون کرکے ساتوں ملزمان کو چھڑوادیا۔ ایف آئی آر بھی فرضی درج کرائی گئی۔ ایس ایچ او میرا پور اسٹنگ آپریشن میں بول رہے ہیں کے سپا نیتا نے ضلع مجسٹریٹ ایس ایس پی کو ہٹوایا جبکہ دونوں افسر اچھا کام کررہے تھے۔ چینل کے سنسنی خیز انکشاف کے بعد اترپردیش سرکار اور خاص طور سے ریاستی وزیر اعظم خاں نے اسٹنگ آپریشن کو ہی فرضی بتادیا۔ اگر یہ سی ڈی فرضی ہے تو اکھلیش ۔اعظم خاں بتائیں گے کے انہوں نے ان پولیس والوں پر کارروائی کیوں نہیں کی جو رپورٹ میں ہیں؟ منگلوار کو کسی کا تبادلہ کردیا گیا تو کسی کو لائن حاضر کرنے کے فرمان جاری کردئے گئے۔ 8 ستمبر کو پھوگانا علاقے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ تھانے کے سیکنڈ افسر آر ایس مگوڑ نے بتایا کم سے کم 16 لوگوں کی موت ہوئی۔ موقعہ پر پولیس فورس بہت کم تھی۔ ان کے پاس اسلحہ بھی نہیں ہے اور جو ہے وہ چلتے ہی نہیں۔جو چل گیا تو مانو اوپر والے کی کرپا ہے۔ اگر اوپر والا غصہ ہوجائے تو وہ بھی نہیں چلے گا۔ اسٹنگ آپریشن سے یہ ثابت ہوگیا کے سپا سرکار نے دنگا بڑھانے میں خاص رول نبھایا۔ دنگا متاثرہ علاقے کے ایک پولیس افسر نے اسٹنگ آپریشن میں بتایا کے لکھنؤسے سپا کے بڑے نیتا اعظم ۔۔۔ کا فون آیا، اس کے بعد سبھی ملزمان کو چھوڑنا پڑا۔ نیتا جی نے کہا ہے جو ہورہا ہے وہ ہونے دیں۔
(انل نریندر)

19 ستمبر 2013

ہندوؤں کی آستھا کی علامت رام سیتو کو توڑنے پر تلی یہ حکومت

لاکھوں کروڑوں ہندوستانیوں کے جذبات اور اختلاف کو درکنار کرتے ہوئے راون ونشی ڈی ایم کے پارٹی اوراس ہندو مخالف یوپی اے سرکار نے ایک بار پھر متنازعہ سیتو سمندرم پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کی خواہش ظاہرکی ہے۔ بتاتے چلیں کے یہ حکومت وہ سیتو توڑنا چاہتی ہے جو بھگوان رام کی سینا کو لنکا تک پہنچانے کیلئے ہنومان جی نے بنایا تھا۔ مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ سے یہ کہہ کر کے 25 ہزار کروڑ روپے کے لاگت والے سیتو سمندرم پروجیکٹ کے سلسلے میں تاملناڈو حکومت کے اعتراضات کو درکنار کردیا ہے اور اس کے پروجیکٹ پر آگے بڑھانے کا ارادہ ہے کیونکہ آر کے پچوری کی سربراہی والی ماہرین کمیٹی نے دلیلوں اور آئینی جواز کے ساتھ رپورٹ نہیں آئی ہے۔ تاملناڈو سرکار کا سپریم کورٹ میں موقف تھا کے متنازعہ پروجیکٹ کو منسوخ کردیا جائے اور مرکز کو کمیٹی کی رپورٹ قبول کرلینا چاہئے جس میں پایا ہے کہ پورا پروجیکٹ اقتصادی اور حالات کے دونوں مورچوں کے حساب سے ٹھیک نہیں ہے۔ پروجیکٹ سے سمندری ماحولیاتی اثرات اور مرکز کو رام سیتو کو قومی یاد گار اعلان کرنے کا حکم دئے جانے کی ریاستی حکومت کی دلیل کے جواب میں مرکز نے کہا اس سلسلے میں ماحولیاتی اجازت سبھی دلائل اور حالات پرکھنے کے بعد ہی دی گئی تھی اور پروجیکٹ عوامی اور اقتصادی معاملے میں فائدے مند ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں پیسے کی بھوکی اس یوپی اے سرکار کے سامنے کاروباری فائدے کے لئے ہندوؤں کی عقیدت کی علامت اور ماحولیات کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ فوجی طاقت کے طور پر بھی انتہائی اہمیت کے حامل رام سیتو کو توڑنے کے لئے بضد ہے۔ ترقی اور کاروبار کے سینکڑوں،لاکھوں کروڑوں راستے ہیں لیکن اس سرکار کو نہ تو ہندوؤں کے جذبات اور روایت کی پرواہ ہے اور نہ ہی اس بات کا احساس ہے کہ جس پل کو سونامی تک نہیں توڑ سکی اسے یہ بھٹکے انسان کیسے توڑیں گے۔ ہزاروں سال سے یہ سیتو ہندوؤں کی عقیدت اور بھروسے اور پوجا کی علامت رہا ہے۔ ساری دنیا میں جہاں بھی ہندوؤں کی سب شری رام اور رام بھکت ہنومان کی پوجا ارچنا کرتے ہیں لیکن بھوکی ننگی ہندومخالف سرکار کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ڈی ایم کے پارٹی کا انہیں مرکز میں حمایت چاہئے اور موٹے پیسوں کا کھیل ہے اس لئے اسے توڑنے پر آمادہ ہے۔جے للتا سرکار نے رام سیتو کو قومی وراثت اعلان کرنے کی مانگ کی ہے۔ یہ بالکل صحیح ہے رام سیتو توڑنے کی جگہ مرکزی سرکار کو رام سیتو کو مذہبی ٹورازم کی شکل میں پیش کرنے کیلئے اسکیم بنانی چاہئے۔ سیتو سمندرم پروجیکٹ سے کئی لاکھ گنا آمدنی رام سیتو کو دھارمک ٹورازم کی شکل میں پیش کرنے سے ہوگی۔ اگر ہم سبھی آستھا اور وقار کی علامت کو ترقی اور کاروباری نقطہ نظر سے دیکھیں گے تو دیش کے اندر آستھا رکھنے یافخر کرنے کے لئے کیا بچے گا؟ کل کوئی سرکار رام سیتو کی طرح مہاتما گاندھی کے سمادھی استھل راج گھاٹ، سنسد بھون، انڈیا گیٹ، لال قلعہ، جامعہ مسجد، ہمالیہ وغیرہ کو توڑ کر طرح طرح کے کاروباری ادارے یا ترقیاتی اسکیموں کی بات بھی کر سکتی ہے۔ ہمیں ایک بار پھر سرکار سے اپیل کرنی چاہئے کے وہ کروڑوں ہندوؤں کے جذبات اور بھروسے کا احترام کرے اور اس پروجیکٹ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑدے۔ سیاسی نقطہ نظر سے بھی یہ اشو یوپی اے سرکار کے لئے نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ مرکزی سرکار اور کانگریس کی یہ گھناؤنی پالیسی بھاجپا کی جڑوں میں آکسیجن کا کام کرے گی؟ جنوبی ہندوستان میں بھاجپا اور نریندر مودی کو نئی زمین تیار کرنے کا موقعہ مل رہا ہے۔ شری مودی کو اس اشو کو اٹھانا ہوگا۔ اس سے انہیں مضبوطی ملے گی۔ بھگوان کا آشیرواد ملے گا اور جنوبی ہندوستان میں پاؤں جمانے کا موقعہ بھی۔ کروڑوں ہندوؤں کی حمایت ملے گی۔ بلا تاخیر اس اشو کو اٹھانا ہوگا اور اس ہندو مخالف سرکار کے ارادوں کو ناکام کرنا ہوگا۔ جے شری رام ۔جے شری ہنومان۔
(انل نریندر)

اگنی5- کے کامیاب تجربے سے چین سمیت آدھی دنیا زد میں!

سرحد پر پڑوسی ملکوں کی جارحیت اور اوچھی حرکتوں سے پھیلی مایوسی کو اگنی۔5 کے دوسرے کامیاب تجربے نے ختم کرنے میں مدد ضرور کی ہے نہیں تو آئے دن چین اور پاکستان کچھ نہ کچھ الٹی سیدھی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ بڑے جہازوں کے بعد اب ملکی تکنیک سے تیار5 ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل آئی سی بی این انٹر کاؤنٹینینٹل بیلسٹک میزائل ،اگنی5- کو اڑیسہ کے وہیلر جزیرے سے کامیاب تجربے سے چھوڑا گیا اور اس میں ہماری فوجی طاقت بڑھنے کا مظاہرہ ہے بلکہ ایک بڑا کارنامہ بھی ہے۔ہماری فوج کے گرتے حوصلے کو روکنے میں یہ میزائل مرحم کا کام کرے گی۔ اس میزائل کی مار صلاحیت اچھی ہے جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس سے پورے چین میں کہیں بھی اور یوروپ میں نشانوں کے بارے میں اب ہم ٹہو لے سکتے ہیں۔ آئی بی سی این بنانے کی صلاحیت ابھی صرف اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے پانچ ممبروں کے پاس تھی۔ یہ ہیں چین ، فرانس، روس، امریکہ اور برطانیہ۔ اب ہم اس میں شامل ہونے والے چھٹا ملک ہیں۔ اگنی5- کی صلاحیت یہ بھی ہے کہ اس میں ایک ہی بار میں کئی نیوکلیائی اسلحوں کو داغا جاسکتا ہے۔یہ ایم آئی آر وی تکنیک سے آراستہ ہے۔ ایم آئی آر وی کی وی پلوڈ اسے کہتے ہیں جس میں کسی میزائل سے ایک ہی بار میں کئی نیوکلیائی ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ان نیوکلیائی ہتھیاروں سے الگ الگ نشانوں پر مار کیا جاسکتا ہے۔ کیسسٹر لانچنگ سسٹم اس کی ایک اور خاصیت ہے۔ اس کے چلتے فوج اپنی سہولت کے مطابق اسے سڑک کے راستے پر لے جاکر بھی کہیں بھی تعینات کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے اگنی سیریز کی میزائلوں میں یہ سہولت نہیں تھی۔ پچھلے سال اس میزائل کا پہلا تجربہ کیا گیا تھا۔ اگنی 5- سے پہلے فوج کے سازو سامان میں اگنی کی چار میزائل شامل ہوچکی ہیں۔ اگر ہم اپنے دو پڑوسیوں سے اپنی میزائل طاقت کا موازنہ کریں تو چین ہم سے بھی آگے ہے۔ 
چین وی ڈی ایف 31 میزائل7250 کلو میٹر تک مار کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا ڈی ایف 51A 11270- کلو میٹر تک کی مار کرسکتا ہے۔ پاکستان سے اب ہم آگے ہیں۔ پاکستان کے غوری ۔2 میزائل2300 کلو میٹر تک مار کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ شاہین 2- میزائل2500 کلو میٹر تک مار کرسکتا ہے۔ اگنی5- میزائل20 منٹ میں 5 ہزار کلومیٹر تک دوری طے کرسکتا ہے اور ڈیڑھ میٹر تک کے نشانے پر لگایا جاسکتا ہے۔ ڈیفنس ریسرچ ڈولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے کہا کہ اگنی 5- میزائل اپنے پیمانوں پر کھرا اترا ہے۔80 فیصد سے زیادہ کل پرزوں سے بنایا گیا ہے۔ میزائلیں بھارت کو نیوکلیائی بم کے ساتھ اور مناسب نشانے پر ٹھیک مار کرنے والی جدید تکنیک کے ساتھ حکمت عملی کا بھی اس میں سسٹم ہے اس کے ذریعے بھارت اپنے کسی حملہ آور کو بھروسے مند طریقے پر منہ توڑ جواب دے سکے گا۔ اس میزائل سے بھارت ضرورت پڑنے پر چین کے کسی بھی علاقے میں حملہ کرسکے گا۔ زمین سے زمین تک مار کرنے والی یہ میزائل پورے ایشیا زیادہ تر افریقہ اور آدھے سے زیادہ یوروپ اور انڈومان سے چھوڑنے پر آسٹریلیا تک مار کرسکتا ہے۔ ہم ڈی آر ڈی او اور تمام ہندوستانی سائنسدانوں کو اس اہم کارنامے پر مبارکباد دیتے ہیں اور امیدکرتے ہیں اس کامیاب تجربے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پڑوسی بھی ہماری فوجی صلاحیت کو سمجھیں گے۔
(انل نریندر)

18 ستمبر 2013

17 دن بعد6 گھنٹوں کیلئے اکھلیشکا فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ!

تشدد سے متاثرہ لوگوں کے زخم پر مرحم لگانے دنگوں کے 17 دن بعد آخر کار ایتوار کو اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو مظفر نگر پہنچے۔ انہیں فساد متاثرین کی طرف سے بھاری احتجاج جھیلنا پڑا۔ ناراض بھیڑ نے جہاں اکھلیش کے خلاف جم کر نعرے بازی کی وہیں کیبنٹ وزیر اعظم خاں زندہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے۔10:50 منٹ پر ایتوار کو اکھلیش یادو کا ہیلی کاپٹر کوال گاؤں پہنچا۔ یہاں انہیں کالے جھنڈے دکھائے گئے اور نعرے بازی ہوئی۔ ہیلی پیڈ سے سیدھے متوفی شاہنواز کے گھر پہنچے اور اس کے والد سے ملے۔ والد سلیم قریشی نے پولیس کے رویئے کے خلاف شکایت کی۔ اس دوران کچھ لوگوں نے فساد کے لئے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ اس کے بعد وزیر اعلی ملک پور گاؤں پہنچے اور سچن ،گورو کے رشتے داروں سے ملے۔ گورو کے والد رویندر نے بتایا کے ان کے بچوں کو بے رحمی سے مار ڈالا گیا اور انہیں بھی فرضی طور پر فساد کے لئے نامزد کیاگیا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعلی کاندلا ہوتے ہوئے بسی کلا گاؤں کے راحت کیمپوں میں پہنچے۔ اس کے بعد 3:47 منٹ پر وزیر اعلی کا ہیلی کاپٹر پولیس لائن میں لینڈ ہوا۔ وزیراعلی جرنلسٹ راجیش شرما کے گھر بھی گئے اور پانچ بجے کے قریب لکھنؤ روانہ ہوگئے۔ اس طرح اکھلیش نے 17 دن بعد 6 گھنٹوں میں متاثرہ علاقوں اور لوگوں سے ملنے کی خانہ پوری کردی۔ وہاں اکھلیش یادو نے یقین دہانیاں بھی ایسی کرائیں جو زیادہ تررسمی تھیں۔ مثال کے طور پر متوفی کے رشتے داروں کو نوکری اور 10 لاکھ کا معاوضہ، بے گھروں کے گھروں کی مرمت ہوگی۔ اکھلیش اپوزیشن پر الزام لگانے سے بھی پیچھے نہیں رہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے فساد کرایا۔ افسروں نے برتی لاپروائی۔ بزرگوں نے نہیں کی مداخلت اور وہ بھی حساس نہیں دکھائی دئے۔ کارروائی کے طورپر وزیر اعلی نے ایس ایس پی کومعطل کردیا۔ فسادیوں پر اسٹیٹ سکیورٹی ایکٹ لگادی اور کئی تھانیداروں کے خلاف کارروائی کی اور کئی مقامی لیڈر بھی گرفتار ہوں گے۔ سرکاری طور سے ان دنگوں میں39 لوگوں کی موت ہوئی۔ وزیر اعلی نے مانا کے اصلی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ یوپی خفیہ ایجنسیوں نے سرکار کو آگاہ کیا ہے اگر جلد بازی میں گرفتاری کی گئی تو تشدد خاموش ہونے کی جگہ بھڑک سکتا ہے ساتھ ہی یوپی ایل آئی یو نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ابھی تک مظفر نگر شہر اور آس پاس کے قریب71 لوگ لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل پایا۔ غائب لوگوں میں سے50 فیصدی کے بچنے کی امیدکم ہے۔ دو دن پہلے غازی آباد میں دھارمک سدبھاونا یاترا نکالی گئی۔ اس کی قیادت قومی جنرل سکریٹری وشوشانتی مرکز کرنل تیجندر پال تیاگی نے سبھی مذاہب کے ایک نمائندہ وفد رشید گیٹ میں واقعہ ایک مدرسے میں پہنچا۔ اس مدرسے میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو مظفر نگر فسادات کے سبب اپنے گھر چھوڑ کر ان مدرسوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور کافی خوفزدہ ہیں۔ یہ کہنے پر کے سرکار ان کی سکیورٹی کی پوری گارنٹی دے تو کیا وہ واپس لوٹ جائیں گے؟ وہ کہتے ہیں بالکل نہیں۔ سرکار کی گارنٹی پر تھوڑا بھی یقین نہیں۔ یقین ہوتا تو ہم کیوں بھاگتے؟ سرکار راتوں کو ہمارے ساتھ نہیں سوئے گی۔ ہماری برسوں پرانی دوستی میں دراڑ ڈالی گئی ہے اور اعتماد ٹوٹ چکا ہے جس اس میں گانٹھ پڑجاتی ہے تو اس کو دور کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انتظامیہ نے مانا کے38 پناہ گزیں کیمپوں میں اس وقت41 ہزار سے زیادہ لوگ پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں صوبے میں عام زندگی لوٹنے میں ابھی وقت لگے گا۔اکھلیش یادو کا فساد متاثرہ علاقے کا دورہ کچھ خاص نہیں کر پایا۔
(انل نریندر)

اے بی وی پی نے دیا نریندر مودی کو پہلا تحفہ!

دہلی اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے نریندر مودی کو اپنا پی ایم امیدوار اعلان کرنے کا کتنا نفع نقصان ہوگا اس کا فیصلہ تو بھلے ہی اگلے برس2014ء میں لوک سبھا چناؤ نتائج کے بعد ہی سامنے آئے گا ۔ فی الحال تو دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین میں اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد (اے بی وی پی ) نے صدر سمیت تین عہدوں پر قبضہ کرلیا۔جمعہ کوہی پردھان منتری کے عہدے کے لئے امیدوار نریندر مودی کو پہلا شاندار تحفہ دیا ہے۔ دہلی کی سیاست کی نرسری مانے جانے والے ڈوسو چناؤ میں اے بی وی پی کی اس دھماکے دار جیت نے نوجوانوں کے رجحان کو بھی ظاہر کردیا ہے۔ کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے اے بی وی پی دھیمی پڑتی جارہی تھی۔ 2011ء سے اے بی وی پی سے صدر کا عہدہ چھنا ہوا تھا اور2012ء میں تو اسے صرف جوائنٹ سکریٹری کا عہدہ ہی مل پایا تھا۔ اے بی وی پی کا صاف کہنا ہے اس بار ڈوسو چناؤ میں نریندر مودی فیکٹر نے بڑا کام کیا ہے۔ اس نے اپنے سبھی امیدواروں کے نام اور سیریل میں مودی کی تصویر استعمال کی تھی۔ چناؤ مہم کے دوران پوسٹر میں بھی نریندر مودی کا چہرہ اہمیت کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔اے بی وی پی کے ترجمان ساکیت بہوگنا کہتے ہیں کہ نریندر مودی نوجوانوں کے مقبول لیڈر ہیں اور دیش کے نوجوانوں کو ان سے لگاؤں ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ دہلی یونیورسٹی کے طلبا کی وہ مدد کریں گے۔ کیا مودی فیکٹر اگلے اسمبلی چناؤمیں دہلی کی شیلا سرکار کو ہرانے میں مدد کرے گا؟ مقابلہ کانٹے کا چل رہا ہے۔ اے بی پی نیوز نیلسن سروے کے مطابق تین بار سے اقتدار میں قابض کانگریس کو اس بار ہار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھاجپا سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھر کر سامنے آئے گی لیکن کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملنے والی۔ بھاجپا کو32، کانگریس کو27،عام آدمی پارٹی کو8 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ 3 سیٹیں دیگر کو ملیں گی۔ سروے کے مطابق بھاجپا کو34 اور کانگریس کو29 اور آپ کو15 فیصدی ووٹ ملنے والے ہیں۔ سروے کے نتیجے 14سے20 اگست کے درمیان راجدھانی کے 7 ہزار سے زیادہ ووٹروں سے پوچھے گئے سوال کے جواب پر مبنی ہے۔ یہ سروے 70 اسمبلی سیٹوں میں سے35 سیٹوں پر کیا گیا تھا۔ سروے میں جو خاص بات سامنے آئی وہ ہے اروند کیجروال اور ان کی عام آدمی پارٹی کا ابھرنا اور دہلی میں اپنے پاؤں جمانے کا رجحان۔ مجھے مختلف الیکٹرانک چینلوں میں جانے کا موقعہ ملتا ہے بات چیت میں یہ ہی فیڈ بیک ملا ہے کہ عام آدمی پارٹی دہلی کے دیہاتی علاقے میں چھوٹے طبقے میں اپنے پاؤں جما رہی ہے۔ چھوٹا اور مزدور طبقہ اور طلبا میں عام آدمی پارٹی کی مقبولیت ہے اور اس کو ضرور ووٹ ملیں گے کیونکہ عام طور پر پسماندہ اور چھوٹا طبقہ و جھگی جھونپڑی کے ووٹ کانگریس کو جاتے ہیں اس لئے یہ بھی کہا جاسکتا ہے ووٹوں کا زیادہ نقصان کانگریس کو ہوسکتا ہے۔ بیشک بھاجپا کے بھی کچھ ووٹ کٹیں گے لیکن زیادہ نقصان کانگریس کو ہونے والا ہے۔ بھاجپا کے اگر کچھ ووٹ کٹیں گے تو پارٹی یہ ہی امید کرتی ہے کے نریندر مودی فیکٹر اس کی بھرپائی کردے گا۔ ابھی چناؤ دور ہیں، تصویر بدلتی رہے گی۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

17 ستمبر 2013

ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ کا ہی فیصلہ نہیں سارے دیش کی یہی مانگ تھی!

وسنت وہار گینگ ریپ معاملے میں قصورواروں کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کا فیصلہ کئی معنوں میں تاریخی ہے۔ جہاں ساکیت کی اسپیشل فاسٹ ٹریک عدالت نے پہلی بار کسی معاملے میں پھانسی کی سزا سنائی وہیں یہ ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ کے عہد میں ان کے ذریعے سنائی گئی پہلی پھانسی کی سزا ہے۔ ساکیت عدالت کے ذریعے بھی کسی معاملے میں سنائی گئی یہ پھانسی کی ممکنہ پہلی سزا مانی جائے گی۔ فیصلہ وہی آیا جو دیش چاہتا تھا۔ چاروں درندوں پون گپتا، مکیش سنگھ، ونے کمار اور اکشے سنگھ کو سزائے موت جمعہ کو ڈھائی بجے جج یوگیش کھنہ نے جیسے ہی کہا ’Death to all(سب کوسزائے موت) تو کورٹ روم میں تالیاں بج گئیں۔ پورا دیش ان درندوں کے لئے موت مانگ رہا ہے۔ اس لئے اس سزا سے اس کو انصاف مل گیا۔ جس وقت کورٹ میں فیصلہ سنایا جارہا تھا تو عدالت کے باہر جمع سینکڑوں لوگ قصورواروں کو پھانسی کی سزا کی مانگ کررہے تھے۔ جب خبر باہر آئی تو لوگ خوشی میں جھوم اٹھے۔ اس کے بعد قصورواروں کو فوراً بھاری سکیورٹی انتظام کے درمیان عدالت سے باہر لایاگیا۔ ملزم کی عدالت میں پیشی، سزا سنانے اور واپس جیل بھیجنے کی پوری کارروائی میں محض20 منٹ لگے۔ فیصلہ سنانے ساکیٹ کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ 2.22 منٹ پر عدالت میں داخل ہوئے اور قریب 4منٹ میں یہ تاریخی فیصلہ سنا دیا۔شاید یہ پہلا موقعہ تھا جب یہ فیصلہ آتے ہی عدالت کے باہر جمع لوگ جج کی حمایت میں زندہ باد کے نعرے لگانے لگے اور ان میں خوشی اور جوش اتنا تھا کے مقدمے کی کارروائی ختم ہونے کے بعد باہر نکلے سرکاری وکیل کو بھی لوگوں نے کندھے پر اٹھالیا۔ درندوں کو موت کی سزا سنانے کے بعد جج کھنہ کے برطانوی عہد سے چلی آرہی روایت کے مطابق قلم کی نب توڑ دی۔ کورٹ کے ذرائع کے مطابق لڑکی کے خلاف ہوئے مجرمانہ معاملے کی سماعت کے لئے قائم فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقرر کئے گئے یوگیش کھنہ نے اپنے 20 صفحات کے فیصلے پر دستخط کئے تھے۔ قصورواروں نے اپنی غیرانسانی حرکت سے پورے دیش کو سکتے میں ڈال دیا تھا ان کو دی جانے والی سزا ایک مثال بنے گی۔ اس کا سماج کو اچھا پیغام جائے گا۔قصورواروں کے وکیل اے ۔پی ۔سنگھ نے غصے میں زور سے میز پر ہاتھ مارا۔ جج باہر جانے لگے تو وکیل زور سے چیخا،بولا یہ نا انصافی ہے۔ باہر نکل کر بولا جج صاحب آپ نے ’ستیہ مے جیتے‘ کی جگہ ’مرتیو میں جیتے‘ کو اپ لوڈ کیا ہے۔وکیل صاحب اپنے آپے سے باہر ہوگئے اور اول جلول دلیلیں دینے لگے۔ کہا کہ اگر دہلی این سی آر میں آبروریزی کی وارداتیں بند ہوجائیں تو ہم ہائی کورٹ میں اپیل نہیں کریں گے۔ یہ ہی نہیں یہ دوہرانے سے بھی نہیں چوکے کے سرکاری دباؤ میں یہ فیصلہ آیا ہے۔ جب کے جج صاحب نے ان کی ہر دلیل کا جواب دیا۔ بچاؤ فریق نے دلیل دی سبھی قصوروار کم عمر کے ہیں۔ یوگیش کمار 26، اکشے ٹھاکر28، پون گپتا19، ونے شرما 20 سال کے ہیں۔ جج صاحب نے سپریم کورٹ کے ذریعے دئے گئے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم عمر کے قصورواروں کو پہلے بھی پھانسی دی جاچکی ہے۔ کولکاتہ میں دھننجے چٹرجی اور دہشت گرد اجمل عامر قصاب دونوں ہی ہم عمرتھے۔
دراصل عدالت سبھی حالات پر غور کرتی ہے۔ بچاؤفریق کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ یہ غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان کو دو وقت کی روزی روٹی کے لئے بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے غریب ہونے کی بنیاد پر راحت نہیں دی جاسکتی۔ آخر کس نے انہیں شراب پینے کو کہا تھا۔ شیبو بنام ہریانہ سرکار اور کرشن اپا بنام کرناٹک حکومت معاملے میں عدالت نے ایسی ہی دلیل کو مسترد کیا ہے۔بچاؤ فریق: سپریم کورٹ کے مطابق عمر قید کاقاعدہ ہے جبکہ موت کی سزا ایک ضمنی ہے۔ عدالت:واقعے کو جس طرح پیش کیاگیا گھناؤنی اور بے رحمانہ طریقے سے انجام دیا گیا وہ رونگٹے کھڑے کرنے والا ہے۔ اس سے پورے سماج میں ناراضگی پیدا ہوگئی۔ یہ کسی بھی ظلم کی سب سے گھناؤنی شکل ہے۔ متاثرہ کے جسم پر زخم دئے گئے۔ اس واقعے نے سماج کے تانے بانے کو متاثر کیا۔ بچاؤ فریق: انہیں سازش رچنے کی بنیاد پر قصوروار قرار دیا گیا۔ ایسا نہیں ہے ہر ایک کے رول کی بنیاد پر قصوروار قراردیا جائے؟ عدالت: ہمارے مطابق معاملہ انتہائی حساسیت پر مبنی ہے کیونکہ قصورواروں نے متاثرہ کے جسم پر لوہے کی چھڑ اور ہاتھ ڈالا تھا۔ اس کی آنتیں باہر نکال دی تھیں۔ آنتوں پر زخم کے نشان تھے اور اس سے جس طرح ذہنی اذیت اور حیوانیت کے ساتھ پیش آیا گیا اور اجتماعی آبروریزی کے بعد پچھلے دروازے سے باہر پھینکنے کی کوشش کی لیکن دروازہ جام تھا اس کے بعد اس کے بال پکڑ کر گھسیٹا گیا اگلے دروازے تک لے جاکر باہر پھینک دیاگیا۔ پورے جسم پر اس اذیت کے نشانات تصدیق کرتے ہیں۔ کچھ جرم اس طرح کے ہوتے ہیں جن کے بارے میں سماج کو بتانا ضروری ہوتا ہے اس میں پھانسی کی سزا مل سکتی ہے۔ جج موصوف نے کہا کہ آئے دن عورتوں کے خلاف جس طرح غیر انسانی جرائم بڑھے ہیں عدالت اس کے تئیں اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی۔ ایسے جرائم کو روکنے کے لئے سخت پیغام دیا جانا ضروری ہے۔ اس لئے ان جیسے مجرموں کے تئیں رعایت برتنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ عام لوگوں کے دل میں قانون کے تئیں بھروسہ کم ہوا ہے اس کے لئے یہ سزا ضروری ہے۔ بھگوان سمجھے جانے والے ڈاکٹر بھی ان درندوں کے لئے موت کی دعا کررہے تھے۔ متاثرہ لڑکی کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے کہا کے ہسپتال انتظامیہ اس فیصلے کی پہلے سے ہی دعا مانگ رہا تھا اور آج وہ قبول ہوگئی۔ پہلی بار پورے معاملے پر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بی ۔ڈی اتھانی میڈیا سے مخاطب ہوئے اور بولے یقینی طور سے طلبا کے اندر جینے کی غضب کی خواہش تھی جس کی وجہ سے ہی قانون میں ترمیم ہوئی اور دیش کی جنتا سڑک سے پارلیمنٹ تک پہنچی۔ معاملے بہت آتے ہیں لیکن کبھی نہیں دیکھا ایسی بربریت کا مظاہرہ اور اپیل کے لئے 30 دن کا وقت ہے۔ سارا دیش چاہتا ہے کہ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور صدر ان درندوں کی اپیل پر جلد سے جلد فیصلہ کرے۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ انہیں ایک برس میں پھانسی پر لٹکادیا جائے۔ محترم ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ سارے دیش کی طرف سے مبارکباد کے مستحق بن گئے ہیں اور ان کا اس معاملے میں سزائے موت کا فیصلہ متاثرہ لڑکی کو شردھانجلی اور حیوانوں کے لئے ایک عبرت مانا جائے گا۔
(انل نریندر)

15 ستمبر 2013

جے کیداراودارشنکر بھو بھنکر دکھ ہرم: کیدار دھام میں شروع ہوئی پوجا

86 دن بعد ہر ہر مہادیوسے گونج اٹھا کیدارناتھ دھام۔ 16-17 جون کی آبی قیامت کے بعد کیدارناتھ دھام ایک بار پھر ہر ہر مہادیو کے شلوکوں سے گونج اٹھا۔ بابا کے بھکتوں کے لئے وہاں جانے کا راستہ بھلے ہی ابھی نہیں بن پایا ہو لیکن ہیلی کاپٹر سے پہنچائے گئے تقریباً 900 لوگوں کی موجودگی میں بدھوار کو پوجا شروع ہوگئی۔ 86 دن بعد بھیا دوج کے دن تک کپاٹ بند ہونے تک جاری رہے گی۔ بدھوار کو کیداروادی میں صبح سے ہی ہلکی بارش ہوتی رہی اس کی وجہ سے وزیر اعلی بہوگناپوجا کے موقعے پر دھام نہیں پہنچ سکے۔ مندر کے راول بھیم شنکر لنگ منگلوار کو ہی کیدارناتھ پہنچ گئے تھے۔ پوجا کاعمل صبح 7 بجے شروع ہوا۔ ایک گھنٹے تک بھگوان شنکر کا جل و منتروں نے ابھیشیک اور شدھی کرن یگیہ کیا گیا۔ اس کے بعد صبح ساڑھے آٹھ بجے مندر کے کپاٹ کھلے۔ اس کے بعد تیرتھ پروہتوں اور شاستریوں نے ہون کیا۔ اس دویہ شلاکا بھی پوجن کیا گیا جس نے آبی قہر کے دوران مندر کو بچایا تھا۔ پوجا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک چلی۔ سیلاب کے بعد یہ مندر 86 دن بند رہا۔ اب بھی عام شردھالوؤں کے لئے یہ نہیں کھولا گیا ہے۔ قدرتی آفات پر انسان کا کوئی بس نہیں ہوتا اور اتراکھنڈ میں آئے سیلاب خاص طور سے وسیع تباہی مچانے والے قہر کے بعد عام لوگوں نے اپنی زندگی کو پھر سے بسانا شروع کردیا ہے۔ ویسے ہی ہمالیہ کے باشندے شیو کی شرن میں ہی لوٹے۔ ہمالیہ سے شیو نے کا خاص رشتہ ہے اس لئے ہمالیہ میں واقع اس جوتی لنگم کی خاص اہمیت ہے۔ شیو کا گھر ہمالیہ بھی ان کی ہی طرح ہے۔ وراٹھ بہیڑ اور شانت انتنگ۔ ہمارے پرکھوں نے جب ہمالیہ میں یہ تیرتھ استھان بنائے تب انہیں ہمالیہ کے موسم اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کا ذرا بھی احساس نہیں رہا ہوگا۔ لیکن اس بات کا احساس ہو کے ایک دن ایسا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ16-17 جون کو قیامت خیز تباہی ہوئی۔16-17 جون کے دن آبی سونامی میں کتنی لوگوں کی جان گئی اس کا شاید ابھی ٹھیک پتہ نہیں چل پائے گا؟ اس آفت میں600 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی حالانکہ بحث تو یہ جاری ہے کیدار وادی میں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کم سے کم ایک ہزار لوگ جاں بحق ہوئے۔ ابھی جنگلوں سے لاشوں کا ملنا جاری ہے۔ ریاستی سرکار کے پاس چار ہزار لوگوں کے لاپتہ ہونے کی فہرست موجود ہے۔ ان میں سے کچھ کے ورثہ کو حکومت نے معاوضہ بھی دیا ہے۔ آفت کے ان دنوں میں اتراکھنڈ کے چار پانچ اضلاع میں بڑی تباہی کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ اس کے چلتے کیدارناتھ ،بدری ناتھ ،گوری کنڈ سمیت کئی مقامات پر قریب سوا لاکھ مسافر پھنس گئے تھے۔ خراب موسم کے چلتے راحت رسانی میں بھی بہت مشکل آئی لیکن فوج اور نیم فوجی فورس اور دیگر فورس کے جانبازوں کے چلتے ان مسافروں کوکئی دنوں کی محنت مشقت کے بعد اس تباہ کن حالات سے نکالا گیا۔ کیدار ناتھ میں پوجا شروع ہونے کی اہمیت صرف اتراکھنڈ نہیں بلکہ پورے بھارت کے لئے ہے لیکن ہم چاہیں تو کیدارناتھ وادی اور دیگر مقامات پر ہوئی بھاری تباہی سے کچھ سبق لے سکتے ہیں۔ سب سے پہلے بات تو یہ ہے اگر ہمالیہ کے تیرتھوں پر کچھ شرائط مقرر کی جائیں توتیرتھ کی پوترتا کے لئے بھی اچھا ہوگا ماحولیات کے لئے بھی اور مسافروں کے لئے بھی۔ اگر ہم سبھی ان غلطیوں کو نہ دوہرائیں تو بہتر ہوگا جن غلطیوں کی وجہ سے اتراکھنڈ ٹریجڈی ہوئی۔ ایک وقت تھا جب تیرتھ یاتری کیدارناتھ ،بدری ناتھ اور دیگر تیرتھوں پر سچی شردھا اور جذبہ اور عقیدت سے جاتے تھے وہ لوگ تیرتھ یاترا میں تمام بہتر سہولیات کی امید نہیں کرتے تھے۔ ان میں تکلیف اٹھانے کا جذبہ اور قوت تھی اب لوگ ان تیرتھوں پر پکنک منانے جاتے ہیں اور تمام طرح کے الٹے سیدھے کام کرتے ہیں۔ ان کے لئے طرح طرح کے ہوٹل بن گئے ہیں، دوکانیں کھل گئی ہیں۔ ان سے ہمالیہ کے پوترتا اور ماحولیات دونوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ بجلی پیداوار بڑھانے کے مقصد سے پہاڑوں کو کھوکھلا کردیا گیا ہے۔ بجلی پروجیکٹ کے آگے پراچین مندر دھارا دیوی کو بھی ساری مخالفتوں کے باوجود ہٹا دیا گیا۔ امید کرتے ہیں کہ اب ہم سدھریں گے۔ بہرحال 86 دن بعد بابا کیدار کے مندر میں گھنٹہ بجتا سنائی دے رہا ہے اور یہ دنیا بھر کے تمام شیو بھکتوں کے لئے کافی اہم ہے۔ ابھی بہت کام باقی ہے۔ بڑا دروازہ، گربھ گرہ اور دونوں برآمدوں کی صفائی ہوگئی ہے لیکن چاروں طرف اب بھی ملبہ پڑا ہوا ہے۔ ملبے کو کئی جگہ سے ٹینٹ سے دھک دیا گیا ہے۔ تیرتھ پروہتوں نے ملبے پر ہی مندر آنے جانے کیلئے بڑے راستے کو بھی کام چلاؤ بنایا ہے۔ بھاونا تو ایسی ہو کے پہلے سابق وزیر اعلی رمیش پوکھریال نشنک حمایتیوں کے ساتھ 24 کلومیٹر کی لمبی اور مشکل یاترا کے بعد دیر شام کیدارناتھ پہنچ گئے۔ دھارا میں ٹیم کو انتظامیہ نے روکا لیکن انہوں نے خود اپنی ذمہ داری پر جانے کی بات کہی اور انہیں جانے دیا گیا۔ اوم نوشوائے ۔ہر ہر مہادیو۔
(انل نریندر)

ہفتے میں ایک دن شراب کی دوکانیں بند کیوں نہیں کرتے؟

کچھ دن پہلے میرے دفتر میں اندرپرستھ سنجیونی این جی او کی قیادت میں شری سنجیو اروڑہ اور ان کے ساتھی ملنے آئے تھے۔ انہوں نے ایک ضروری سماجی موضوع اٹھایا۔ سنجیو جی اور ان کے ساتھیوں نے ایک مہم چلا رکھی ہے جب بینکوں ، سرکاری دفتروں اور بازاروں میں ہفتے میں ایک دن چھٹی ہوتی ہے تو کیوں نہیں دہلی کے شراب ٹھیکوں اور دوکانوں کو ہفتے میں ایک دن بند کرایا جائے۔ شراب بھارتیہ سماج میں اس طرح سے محبوب مشروب ہوتی جارہی ہے اس کا استعمال جس تیزی سے بڑھ رہا ہے اس پر روک لگانی چاہئے۔ اس کے مضر اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ مہاتما گاندھی بھی شراب کے خلاف تھے۔ آزادی کے بعد جیسے جیسے شراب کی کھپت بڑھتی گئی ویسے ویسے اس کے مضر اثرات بھی سامنے آنے لگے۔ سڑک پرہڑدنگ ،آبروریزی اور خواتین سے بڑھتی چھیڑ خانی، گھریلو جھگڑوں میں اضافہ ان سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں چھوٹے یا بڑی شکل میں شراب کی ہی دین ہے۔ پچھلے دنوں گوڑ گاؤں کے ایک بار میں تقریباً 100 نابالغ بچے شراب کی پارٹی کرتے پکڑے گئے تھے۔ شراب ہماری نوجوان پیڑھی کو تباہ کررہی ہے۔ بھاونا کے اسکول میں فیئر ویل پارٹی تھی۔سبھی بچے بن سنور کر آئے تھے۔ کلچرل پروگراموں کے بعد 11 ویں اور 12 ویں کے بچوں کا ڈانس پروگرام تھا۔ اس ڈانس پارٹی میں بھاونا نے دیکھا کہ کئی لڑکے شراب کے نشے میں دھت تھے۔ ایک دو کی تو لڑائی بھی ہوگئی۔ بھاونا نے جب یہ بات اپنی ممی کو بتائی تو ماں اوربیٹی ایک بار پھر گہری پریشانی میں پڑ گئی کیونکہ بھاونا کا بھائی بھی 12 ویں کلاس میں پڑھتا تھا وہ بھی اکثر شام کے وقت شراب پی کر آتا تھا جس کے سبب کافی لڑائی ہوتی تھی۔ بھاونا کے والد روز شراب پیتے تھے۔ آج کل کمسن لڑکیاں ۔لڑکے اس لت میں پڑتے جارہے ہیں۔ شری سنجیو اروڑہ کی مانگ ہے کہ دہلی میں شراب کی دوکانوں کو ہر منگلوار کو بند رکھا جائے۔ مانگ پر دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کو بھی میمو رنڈم دیا جاچکا ہے۔ اس پر دہلی کے 23 ممبران اسمبلی نے اپنی تحریری حمایت بھی تنظیم کو بھیجی ہے۔ اس موقعہ پر مظاہرے میں شامل لوگوں کو ہنومان چالیسا بانٹی گئی۔ اور ہنومان جی کا بھیس بناکر لوگوں کو شراب پینے کے لئے سمجھایا گیا۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ اس موقعے پر شراب کی دوکان کے منیجر اور ملازمین نے بھی اس مانگ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ساتوں دن کام نہیں کرنا چاہتے اور انہیں دوسرے ملازمین کی طرح ایک دن کی چھٹی دی جانی چاہئے۔ شراب کی دوکانیں صبح 10 بجے سے رات10 بجے تک کھلتی ہیں۔ اس کے لئے وقت متعین ہونا چاہئے تاکہ شراب کی دستیابی محدود ہوسکے۔ شری اروڑہ نے بتایا کے دہلی میں کل 549 شراب کی دوکانیں چلتی ہیں۔ ان میں380 سرکاری اور 169 پرائیویٹ ہیں۔ دہلی سرکار 72 اور دوکانیں کھلنے جارہی ہے۔ دہلی میں بڑھتے جرائم کی ایک بہت بڑی وجہ شراب کی آسانی سے دستیابی بھی ہے۔ پچھلے سال مہلا ہیلپ لائن کو مختلف طرح کی 6733 شکایتوں کی صورت میں کال ملی تھیں جبکہ اس برس ماہ جون تک ہی مہلا ہیلپ لائن کو5725 شکایتیں مل چکی ہیں۔ شراب پر روک لگانا اب ضروری ہوگیا ہے ہماری نوجوان پیڑھی نشے میں ڈوبتی جارہی ہے۔ ہم شری اروڑہ اور ان کے ساتھیوں کی مانگ کی ’دہلی میں ہفتے میں ایک دن شراب کی بکری پر روک ہونی چاہئے‘ کی حمایت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)