Translater
13 جولائی 2023
گولوالکر پر متنازعہ پوسٹر !
جیسے جیسے چناو¿ قریب آ رہے ہیں الٹے سیدھے پوسٹر وغیر نظر آنے لگے ہیں ۔تازہ مثال مدھیہ پر دیش کی ہے ،آر ایس ایس سابق چیف ایم ایس گولولکرکو لیکر سوشل میڈیا پر متنازعہ پورسٹر شیئر کر نفرت پھیلانے کے الزام میں کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی دگ وجے سنگ کے خلاف اندور میں کرائم کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔پولیس کے ایک افسر نے بتا یا کہ شہر کے پولیس کمشنر مکرچنددیوسکر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ہمیں یہ شکایت ملی تھی کہ وی کے سنگھ نے ان باتوں کو گولکر کا بتاتے ہوئے انٹر نیٹ پر ڈالا ۔جو انہوںنے (سابق آر ایس ایس چیف سے متعلق نہیں تھا) اس شکایت پر دگوجے سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ دیوسکر نے بتایا کہ دگوجے سنگھ کے الزامات کی جانچ کے بعد ہی آئندہ قدم اٹھائے جائیںگے ۔توکنج پولیس تھانے کے افسر نے بتایا کہ مقامی وکیل آر ایس ایس ورکر راجیش جوشی کی شکایت پر دگوجے سنگھ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153(a)،دفعہ 469ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ارادے سے جعلسازی )دفعہ500(ہتک عزت )اور دفعہ 505(امن عامہ کو بھنگ کرنے کے ارادے سے اشتعال نگیز مواد جاری کرنا )کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ جوشی نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ دگوجے سنگھ نے سنیچر کو ٹویٹر اور فیسبک پر گروجی (سنگھ گولکر کا مقبول نام )اور تصویر والا متنازعہ پوسٹر شیئر کیا ،تاکہ دلتوں پسماندہ ،طبقات ،مسلمانوں،ہندوو¿ںمیں بے چینی پیدا کر انہیں طبقاتی جھگڑے کیلئے اکسایا جا سکے ۔ شکایت میں کہا گیاہے کہ گولکر کے بارے میں دگوجے سنگھ کے فیسبک پوسٹ سے سنگھ ورکروں اور سبھی ہندو فرقے کے دھارمک آستھا کو مبینہ طور پر چوٹ پہنچی ہے ۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سنگھ ورکر جوشی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے ذریعے شیئر کئے گئے پوسٹر میں دلتوں سپماندہ طبقات اور مسلمانوں کے بارے میں گروجی کے نام اور تصویر کا بیجا استعمال سے ایک دم فرضی باتیں شائع ہوئی ہیں۔ ادھر کانگریس نے دگوجے سنگھ کے خلاف درج ایف آئی آر کے بعد صوبے میں حکمراں بھاجپا پر نکتہ چینی کی ہے ۔کانگریس کی پر دیش یونٹ کے میڈیاسیل کے چیف کے کے مشرا نے کہا کہ مسٹر سنگھ بغیر ثبوت کے انٹر نیٹ پر کچھ بھی شیئر نہیں کرتے ۔گولولکر سے جڑے پوسٹر کو لیکر سنگھ کے خلاف معاملے درج کرنے میں پولیس نے غضب کی پھر تی دکھائی لیکن پولیس ان بھاجپا نیتا و¿ں پر معاملے درج کرنے میں ٹال مٹول کرتے ہے جو وی ڈی ساورکر کے بارے میں حقائق پر مبنی بیانوں کو سوشل میڈیا میں کاٹ چھانٹ کر پیش کرتے ہیں۔
(انل نریندر)
27سال بعد بلاسٹ کے قصورواروں کو عمر قید!
27سال پرانے لاجپت نگر بم بلاسٹ معاملے میں سپریم کورٹ نے چار ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چاروں قصورواروں کو تاعمر جیل کاٹنی ہوگی۔انہیں سزا میں چھوٹ نہیں ملے گی،انہوںنے سنگین جرم کئے ہیں، اور معاملے کی سماعت میں کافی وقت لگا ۔تیزی سے مقدمے وقت کی مانگ ہے ۔ سپریم کورٹ نے محمد نوشاد ،مرزا نثار حسین ، محمد علی بٹ اور جاوید احمد خاں کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ معاملے بیحد سنگین ہے ۔بم بلاسٹ میں بے قصورلوگوں کی جان گئی تھی۔ اس میں ملزمان کا رول تھا۔ سپریم کورٹ نے دو ملزمان کو بھی عمر قید کی سزا سنائی ہے جنہیں ہائی کورٹ نے بری کر دیا تھا۔ جبکہ ان دونوں کو نچلی عدالت نے پھانسی کی سزا دی تھی۔ 1996میں لاجپت نگر بم بلاسٹ معاملے میں اپیل پر سماعت کے بعد دئے فیصلے میں جسٹس وی آر گوئی کی رہنمائی والی بنچ نے محمد نوشاد اور جاوید احمد کی عمر قید کی سزا کو بحال رکھا ہے ۔ان دونوں کو بھی عمر قید کی سزا دی تھی جس کے خلاف ان دونوں نے اپیل داخل کی ہوئی تھی،عمر قید کی سزا دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ سزا کاٹنے کیلئے سرینڈر کریں۔ جسٹس وی آر گوئی ،جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سنجے کو ل پر مشتمل بنچ نے اپنے 190صفحات کے فیصلے میں چاروں قصورواروں محمد نوشاد ،مرزا نثار حسین عرف تانا ،محمد علی بٹ عرف بلا ،جاوید احمد خان کو فیصلے میں ہوئی دیری کی بنیاد پر موت کی سزا نہیں سنائی۔ عدالت نے کہا کہ قصورواروں کی جان لینے والے جرم کی سنگینیت اور ہر ایک ملزم کے رول کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان سبھی ملزمان کو بغیر کسی نرمی تاحیات عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ ملزم اگر ضمانت پر باہر ہے تو اسے فوراً متعلقہ عدالت نے سامنے سریندر کریں اور ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کئے جاتے ہیں۔ لاجپت نگر سینٹرل مارکیٹ میں ہوئے بم بلاسٹ سے دہلی میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ 113لوگوں کی موت ہوئی تھی،جبکہ 38زخمی ہوئے تھے ۔ جے کے آئی ایف نے حملے کی ذمہ داری لی تھی۔ اپریل 2010میں دہلی کی نچلی عدالت نے چھ میں سے تین ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ محمد نوشاد علی بٹ اور مرزا نثار حیسن کو پھانسی کی سزا دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت اور جرائم کی سنگینیت کے پیش نظر انہیں پھانسی کی سزا دی جاتی ہے ۔جاوید خان کو عمر قید کی سزا دی تھی۔ دو دیگر ملزمان فاروق احمد اور فریدا ڈار کو دیگر دفعات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے جیل میں گزارے وقت کو سزا مانا۔
(انل نریندر)
11 جولائی 2023
ان پر کرپشن معاملوں کا اب کیا ہوگا؟
2 جولائی کومہاراشٹر میں ایک سیاسی ڈرامے کی تحت اجیت پوار سمیت این سی پی کے 9ممبر اسمبلی بی جے پی شیو سینا (شندے گروپ ) کی سرکار میں شمولیت ہوگئی ۔ دلچسپ یہ ہے کہ بھاجپا نے اجیت پوار سمیت ان ممبران اسمبلی پر سنگین کرپشن کے الزام لگائے تھے ۔ شرد پوار سے پالا بدل کر شامل ہوئے اجیت پوار پر کرپشن کے سنگین الزام لگانے والے اور اجیت دادا چکی پسنگ جیسے بیان دینے والے دیویندر فڑنویس ا ن کے برابر ہی نائب وزیر اعلیٰ کی کرسی پر تھے ۔ پچھلے سال مارچ میں انکم ٹیکس محکمہ نے اجیت پوا ر کے رشتہ داروں کے گھر چھاپہ مارا تھا۔ اتنا ہی نہیں انکم ٹیکس محکمے نے کچھ اثاثے بھی ضبط کئے تھے۔ اجیت پوار سے متعلق جنیشور چینی مل پر قرقی کی کاروائی کی گئی تھی ۔ بی جے پی نیتا کریٹ سمیا نے الزام لگایا تھا کہ اجیت پوار کا مالی بزنس بڑھا ہے ۔ بلڈروں کے پاس ان کے اور ان کے رشتہ داروں کے کھاتوں میں 100کروڑ سے زیادہ کی بنائی پروپرٹی ہے ۔حالاں کہ ریاست کے کرپشن انسداد بیورو یعنی اے سی بی نے سینچائی گھوٹالے میں اجیت پوار کو کلین چٹ دے دی تھی۔ لیکن مئی 2020میں اسفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ویدربھ سینچائی گھوٹالے کی نئی سرے سے جانچ شروع کی تھی۔ انکم ٹیکس محکمہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اجیت پوار کے رشتہ داروں کے یہاں مارے گئے چھاپوںمیں 184کروڑ روپے کی بینامی پروپرٹی لین دین کا پتا چلا ہے ۔ چھگن بجھبل پر 2014کے بعد سے ہی جانچ ایجنسیوں کو شکنجہ کس رہا تھا۔ مارچ 2016میں نئی دہلی میں مہاراشٹر سدن نرمان کے مبینہ غبن اور بے حساب پروپرٹی بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں آرتھر روڈ جیل رکھا گیا تھا ۔ اور دو سال تک انہیں ضمانت نہیں ملی تھی۔ اس معاملے کے علاوہ جھگن بجھبل اور ان سے جڑے لوگوں کے خلاف الگ الگ معاملے درج ہیں ان کی سماعت لٹکی ہوئی ہے۔ پرفل پٹیل نے 2جولائی کو حلف نہیں لیا تھا۔لیکن وہ حلف برداری تقریب میں موجود تھے۔ یو پی اے کی مرکزی حکومت کے دوران پٹیل مرکزی ہوائی بازی وزیر تھے۔ ان کے وزیر رہنے کے دوران ایویشن لابسٹ دیپک تلوار غیر ملکی ایئر لانز کی مدد کر رہے تھے۔ انہوںنے تین انٹرنیشل ایئر لائنوں کے لئے زیادہ کمائی والے ہوائی روٹ محفوظ کئے تھے جس کیلئے دیپک تلوار کو 272کروڑ روپے ملے تھے۔ اس سے ایئر انڈیا کو کافی نقصان ہوا تھا۔ ای ڈے نے الزام لگایا تھا کہ یہ سبھی لین دین پر فل پٹیل کے وزیر رہتے ہوئے ہی ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 70ہزار کروڑ روپے کے 111جہازوں کی خرید کے معاملے میں ای ڈی نے جون 2019کو پر فل پٹیل کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اور پوچھ تاچھ کیلئے بھی بلایا تھا۔ سوال اٹھتا ہے کہ مہاراشٹر سے جڑے ان مقدموں کو اب کیا ہوگا۔ کیا واشنگ مشین ان سب کو دھوکر پاک صاف کردے گی؟
(انل نریندر)
وزیر اعظم کی تنقید بغاوت نہیں !
کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اسکول انتظامیہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیب اور قابل اعتراض اور غیر ذمہ دارانہ بیان تھے ۔لیکن اسے بغاوت نہیں کہا جا سکتا ۔ ہائی کورٹ کی کلبرگی بنچ کے جسٹس ہیمنت چندن گودر نے کوایک بیدر جو نیوٹاو¿ن پولیس میں ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے بیدر کے اسکول شاہین اسکول کی انتظامیہ کے سبھی ملزمان علاو¿الدین ،عبدالخالق ،محمد بلال ایماندار اور محمد مہتاب کو کلین چیٹ دے دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مختلف دھارمک گروپوں کے درمیان بھائی چارہ بگاڑنے کی دفعہ 153(A) کو اس کیس میں موزوں نہیں پایا گیا ہے۔ جسٹس چندن گودر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیر اعظم کیلئے نازیب بات بولنا نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ غیر ذمہ دارانہ بھی ہے ۔ سرکار کی پالیسوں کی عام تنقید جائز ہے لیکن آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو کسی پالیسی ساز فیصلے کیلئے بے عزت نہیں کیا جا سکتا ۔ خاص کر اس لئے کسی گرو پ خاص کو ان کا فیصلہ پسند نہیں آیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اسکول میں پیش کئے گئے ڈرامہ دنیا کے سامنے اس وقت آیا جب اسکول کے ایک شخص نے اپنے انٹرنیٹ میڈیا پر اس کے ویڈیو کو ڈالا ۔ عدالت نے پایا کہ عرضی گراز نے لوگوں کو سرکار کے خلاف جھگڑے کیلئے اکسانے یا جنتا کو جمع کرنے کے ارادے سے یہ قدم اٹھایا ہے ۔اس لئے کورٹ نے کہا کہ دفعہ 124(A) (بغاوت ) اور دفعہ 505(2) کیلئے درکار حالات کی کمی کے چلتے ان دفعات کو لگانا جائز ہے تو ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں سرکار کو بھی یہ ہدایت دی ہے کہ وہ بچوں کو سرکار کی تنقید سے دور رکھیں۔ قابل غور ہے کہ 21جنوری 2020کو درجہ 4,5,6کے طلبہ نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف اسکول میں ایک ڈرامہ میں کردار نبھایا تھا۔ اے بی وی پی ورکر نلیش رکشلا کی شکایت پر چار لوگوں پر کیس درج ہوا تھا۔ جس میں دفعہ 504یعنی جان بوجھ کر توہین کرنا،505(2)و 124(A) یعنی بغاوت ،153A وغیرہ دفعات ان پر لگائی گئیں تھیں۔ کورٹ نے صاف کہا کہ وزیر اعظم کی تنقید کرنا بغاوت نہیں ۔ حالاںکہ یہ بے عزتی کے مترادف ضرور ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...