Translater
23 جنوری 2021
سابقہ کے نظریات اسے نا اہل نہیں بناتے !
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بووڑے نے منگلوار کو کہا کہ محض اس لئے کہ ایک شخص نے پہلے پہلے معاملے پر خیالات ظاہر کئے ہیں ۔یہ کسی کمیٹی یا ممبر ہونے کے لئے اہل نہیں بناتا ۔چیف جسٹس نے یہ بات عدالت والی چار ممبروں کی کمیٹی کے بارے میں کہی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ چاروں ممبران نے کسان یونین کی حمایت میں بیان دئیے تھے کسانوں کو ان کے ناموں پر اعتراض ہے ۔انہوں نے چونکہ کسان یونین کی حمایت کی ہے اس لئے ان سے ہمیں انصاف نہیں مل سکتا ۔چیف جسٹس نے کہا کسی کمیٹی کے ممبر جج نہیں ہیں اور وہ اپنی رائے بھی بدل سکتے ہیں اس طرح صرف اس لئے کہ کسی شخص نے کسی معاملے پر کچھ خیالات ظاہر کئے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک کمیٹی میں مقرر نہیں کیا جا سکتا ۔کورٹ کا یہ ریمارکس کسانوں کے احتجاج پر کمیٹی کی تشکیل تنازعہ کے سلسلے میں جائز مانی جارہی ہے ۔مرکزی سرکار اور کسانوں کے درمیان تعطل کو دور کرنے کے لئے بڑی عدالت کے ذریعے قائم ممبری کمیٹی میں وہ ممبر بھی شامل ہیں جنہوں نے زرعی قوانین کے عمل کی حمایت میں کھلے نظریات ظاہر کئے ہیں کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے بعد ایک ممبر کا کہنا ہے کہ ہم کسی فریق سرکار کی طرف سے نہیں ہیں ہم بڑی عدالت کی طرف سے ہیں ۔اس لئے کسان انجمنوں کے لیڈروں سے درخواست کرتے ہیں بات چیت کے لئے آگے آئیں کمیٹی کے ممبر اور و شیت کاری سنگھٹھن کے چیئرمین انل دھنون نے کہا مختلف مفاد کاروں سے زرعی قوانین پر بحث کے دوران ممبر اپنی نجی رائے کو ہاوی نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے 21جنوری کو کسانوں و دوسرے فائدہ اٹھانے والوں سے پہلے مرحلے کی بات چیت کی ہے ۔آندولن کررہے کسان انجمن کے سامنے آنے سے منع کررہے ہیں ۔ ان کو بات چیت کے لئے بلانا ایک بڑی چنوتی ہوگی ۔کمیٹی کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ کسان بات چیت میں شامل ہوں جس میں مسئلے کا حل نکل سکے اس میٹنگ میں دھنول کے علاوہ زرعی اقتصادی ماہر اشوک گلاٹی اور پرمود کمارجوشی بھی شامل ہوئے انل دھنول کا کہنا ہے کہ وہ کمیٹی مرکز و ریاستی حکومتوں کے علاوہ کسانوں و سبھی فیض یافتگان کا زرعی قوانین پر رائے جاننا چاہتی ہے ایک سوال کے جواب میں دھنول نے کہا کہ بھوپندر سنگھ مان کی جگہ پر کسے بنایا جائے گا یہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے ۔کمیٹی کے ممبر اشوک گلاٹی نے مزید کہا کمیٹی میں سبھی ممبر برابر ہیں انہیں کمیٹی کا صدر مقرر کرنے کا امکان کو خارج کر دیا وہیں پرمود کمار جوشی نے کہا کہ ہماری رائے الگ ہو سکتی ہے ،لیکن جب اس طرح کی ذمہ داری دی جاتی ہے تو ہمیں منصفانہ طریقہ سے کام کرنا ہوتا ہے یہ دیکھنا اب یہ ہے کہ کسان سنگھٹھن اب اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہیں یا نہیں ۔
(انل نریندر)
بائیڈن نے صدر بنتے ہی ٹرمپ کے کئی بڑے فیصلے پلٹے!
امریکہ کے 46ویں صدر جو بائیڈن نے عہدے کا حلف لیتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کو پلٹنے والا حکم جاری کرد یا بائیڈن نے حلف برداری تقریب کے بعد کام شروع کرنے سے پہلے وائٹ ہاو¿س کے لئے روانہ ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ’ہمیں ہمارے سامنے موجود بحران سے نمٹنا ہے ،ہمارے پاس برباد کرنے کے لئے وقت نہیں ہے ۔صدر بننے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے ، جن میں کورونا وبا سے نمٹنے میں سرکار کو مدد ملنے سے متعلق آرڈر بھی شامل ہے ۔اس کے علاوہ اس میں آب وہوا سنکٹ اور اپرواسن سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو بدلنے کے لئے نئے آدیش بھی شامل ہیں ۔اس سے پہلے ماول آفس (اپنے دفتر )میں کالا ماسک پہن کر آئے ۔صدر بائیڈن نے اخبار نویسوں سے بات چیت میں کہا ان کی بڑی ترجیحات میں کووڈ بحران ، اقتصادی بحران اور آب و ہوا کرائسس شامل ہیں ۔بدھ کے روز ایک خصوصی تقریب میں جوبائیڈن نے دیش کے 46ویں صدر کے طور پر حلف لیا جس میں کووڈ 19-وبا کے سبب کم ہی لوگ موجود تھے ۔حالانکہ 3سابق صدور ، براک اوبامہ ، بل کلنٹن اور جارج بش ان کی حلف برداری تقریب میں موجود تھے ۔اور سبھی ٹرمپ انتظامیہ میں نائب صدر رہے مائک پینس بھی شامل ہوئے ۔نئے صدر نے صاف کیا نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں سے دیش کو نقصان ہوا ہے انہیںبدلنے کے لئے بلکہ دیش کو آگے بڑھانے کے لئے ہم ایکشن لیں گے ،کوروناوائرس وبا کے پیش نظر انہوں نے سبھی سرکاری دفتروں کے کمپلیکس میں ماسک پہننا اور سوشل ڈسٹنسنگ کی تعمیل ضروری کر دی ہے ۔اب تک کورونا وائرس کے سبب امریکہ میں چار لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔بائیڈن نے فیصلہ لیا ہے کہ وبا پر کاروائی میں تال میل کے لئے ایک نیا آفس قائم کیا جائے گا ۔اس کے ساتھ ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او )سے امریکہ کو الگ کرنے کی جو کاروائی ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی تھی بائیڈن اس فیصلے کو خارج کرنے کے لئے ایکشن لیں گے ۔بائیڈن نے بدھوار کو ایک ساتھ کئی ایگزیکٹو احکامات پر دستخط کئے اس میں جہاں تارکین وطن کو راحت دی گئی ہے ،وہیں کئی مسلم ممالک سے سفر پر لگائی گئی پابندی ہٹالی گئی ہے ،کوونا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے بائیڈن نے دیش بھر میں ماسک کو ضروری کر دیا ہے ۔ساتھ ہی میکسیکو کی سرحد پر بن رہی دیوار کے پیسہ کو بھی روک دیا ہے ۔بائیڈن نے تارکین وطن کو راحت دینے والے ایگزیکٹو فرمان پر بھی دستخط کر دئیے ہیں ۔اس حکم سے 9.1کروڑ ایسے تارکین وطن کو فائدہ ہوگا جن کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں ہے اس میں قریب پانچ لوگ ہندوستانی ہیں بائیڈن نے آبرزن سسٹم کو بھی پوری طرح سے بدلنے کی شروعات کر دی ہے ۔اس کے ساتھ ہی جو بائیڈن نے گھریلو دہشت گردی سیاہ فام کو اہم ماننے والی ذہنیت کو بھی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔بائیڈن نے دونوں چنوتیوں کے خاتمہ کے لئے ہر امریکی سے سات آنے کی اپیل کی ان اقدام کے ذریعے بائیڈن امریکہ کو پھر سے عالمی لیڈر شپ کے رول میں بھلے لائے لیکن اپنے دیش میں منقسم نظریہ کو بدلنے میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں اس پر بھی بہت کچھ منحصر کرے گا ۔جہاں تک بھارت کی بات ہے ۔جوبائیڈن کی قیادت میں دونوں ملکوں کی حکمت عملی رشتوں کو نئی اونچائیوں پر پہونچنے کا امکان ہے ۔جیسا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی انہیں مبارکباد دیتے ہوئے امید جتائی ہے بائیڈن کو امریکہ اور بھارت کے درمیان رشتہ پریشان کن نہیں ہوں گے بائیڈن کو امریکہ کے مفادات کو بالا تر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے لیکن چین اور روس کے ساتھ کو کیسے طاقت کا توازن بنا پاتے ہیں یہ ہی ان کے ٹیلنٹ کا امتحان ہوگا ۔منقسم امریکہ کی ذہنیت کو صحیح کرنا ہوگا ۔
(انل نریندر)
22 جنوری 2021
میڈیا ٹرائل نیا ئے انتظامیہ میں دخل!
ممبئی ہائی کورٹ نے پیر کے روز میڈیا اداروں سے کہا ہے کہ وہ خو کشی کے معاملوں میں خبریں دکھاتے وقت تحمل برتیں چونکہ میڈیا ٹرائل کے سبب انصاف دینے میں مداخلت اور رکاوٹ پیدا ہوتی ہے چیف جسٹس دیپاکردت اور جسٹس جی ایس کلکرنی کی ڈویژن بنچ نے کہا اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ریپبلک ٹی وی اور ٹائمس ناو¿ پر دکھائی گئی کچھ خبروں میں ذہنی حجت تھی بنچ نے کہا کہ حالانکہ اس نے چینلوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی میڈیا ادارے کے ذریعے خبریں دکھا نا عدالت کی توہین کے برابر مانا جائے گا۔ اورمعاملے کی جانچ میں یا اس میں انصاف دینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے بنچ نے کہا میڈیا ٹرائل کے سبب انصاف دینے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ کیبل ٹی وی نیٹورک ریگولیشن قانون کے تحت ضابطے کی خلاف ورزی کرتا ہے عدالت نے کہا کہ کوئی بھی خبر صحافت کے تقاضوں اور ایک اخلاقیات سے متعلق قوائد کے مطابق ہونی چاہئے اور دیگر میڈیا گھرانوں کو ہتک عزت کی کاروائی کا سامنہ کرنا ہوگا ۔عدالت سوشانت راجپوت کی موت کے واقعہ پر سماعت کر رہی تھی اور اسی کے کوریج پر یہ ریماکس دیئے ہیں ۔
(انل نریندر)
ارنب گوسوامی تنازع اور عمران خان!
ریبلک ٹی وی نیٹورک کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی اور بارک کے سابق سی ای او پارتھو کے درمیان ہوئی مبینہ واٹس ایپ چیٹ کے افشا ہونے کے تنازع اب پاکستان تک پہونچ گیا ہے ارنب گوسوامی کے مبینہ چیٹ میں پلوامہ حملے اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کا ذکر کیا گیا ہے ان چیٹ سے کے اسکرین سارٹ وائرل ہونے کے بعد کئی حلقوں میں سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ پلوامہ حملے اور بالا کوٹ پر بھارت کی سرجیکل اسٹرائیک کی جانکاری ارنب گوسوامی کو پہلے سے کیسے پتہ چلی تھی ؟سوشل میڈیا پر انب کے حمایتی اور مخالف دونوں اپنے اپنے خیالات رکھ رہے ہیں ۔ کانگریس نے بھی اس معاملے پر اپنا بیان جاری کیا ہے بحث اس وقت تیز ہوگئی جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس معاملے کو لیکر ایک کے بعد ایک ٹویٹ کئے جس میں انہوں نے لکھا ہے ،2019میں مینے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ کیسے بھارت کی فاسسٹ وادی مودی سرکار نے بالا کوٹ کا استعمال اپنے چناوی فائدوں کے لئے کیا تھا ایک ہندوستانی صحافی جسے جنگ کی بھڑکیلی زبان بولنے کا شوق ہے بات چیت نے مودی سرکار اورہندوستانی میڈیا کے درمیان بنے ہوئے غلط طریقے سے معاملے کو بیان کر دیا ہے اپنے اگلے ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا کہ اس کی وجہ سے ایک خطرناک فوجی ہمت کی حالات پیدا کئے گئے تاکہ عام چناو¿ جیتا جائے اس سے پورے علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے مضر نتائج کو نظر انداز کردیا گیا پاکستان نے بالاکوٹ معاملے میں ایک ذمہ دارانہ اور متوازن رد عمل ظاہر کیا تھا اور اس طرح سے اس نے ایک بڑے بہران کو کھڑا ہونے سے روک دیا عمران نے اپنے اگلے ٹویٹ میں لکھا ہے بھارت کا پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینا ،ہندوستانی قبضے والے جموں کشمیر میں اس کی زیادتیاں اور ہمارے خلاف پندرہ سال سے جاری غلط پرو پیگنڈہ کی مہم میں سب برباد ہوگئے اب بھارت کی خود کی میڈیا اس گٹھ جوڑ کی جانکاری دے رہے ہیں اس سے ہمارا نیکلویئائی کفیل پورا خطہ ایک ایسی جنگ میں پھنس سکتا ہے سجسے برداشت کرپانا ممکن نہیں ہوگا اپنے آخری ٹویٹ میں پاکستان وزیر اعظم نے کہا میں دوہرانا چاہتا ہوں کہ میری سرکار بھارت پاکستان کے خلاف جاری سازشوں اور مودی سرکار فاسی ازم کا پردہ فاش کرنا جاری رکھے گی۔بین الاقوامی برادری کو بھارت کے اس بے ضمیر ،اور فوجی ایجنڈے کو روکنا ہوگا یعنی مودی سرکار اس پورے علاقے کو ایسے تنازع میں جھونک دے گی جہاں سے اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہ جائے گا۔ اتوار کو کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ ممبئی پولس کہ چارج سیٹ میں جو واٹس ایپ چیٹ سامنے آئی ہیں اس سے قومی سلامتی کو لیکر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔کس طرح سے مالی خرد برد ہوئی بڑے عہدے پر بیٹھے کون سے لوگ شامل تھے اور کیسے ججوں کو کھریدنے کی بات ہوئی اور کیبنٹ میں کون سا ایم پی کس سے ملے گا اس کا فیصلہ ایک جنرلسٹ کا ذریعے کیا گیا ساری باتیں ممبئی پولس کی چارج سیٹ ایک ہزار صفحات کی ہے ہم اس کی اسٹڈی کر رہے ہیں ان چیٹس کے افشاں ہونے کے بعد ریپبلک ٹی وی میڈیا نے ایک مفصل بیان جاری کیا جس میں اس نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلک میڈیا نیٹ ورک کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی نے پندرہ سال سے پاکستان اور آئی ایس آئی کی سازشوں کو پردہ فاش کیا ہے تفتیشی رپورٹنگ اسٹنگ آپریشن اور حقیقت پر مبنی جانکاری کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے یہ صاف کردیا تھا کہ پاکستان دہشت گردی گروپوں کو اسپونسر کرتا ہے مدد اور سرپرستی دیتا ہے ۔
(انل نریندر)
36سے شکھر ،کرکٹ کے نئے نائیکوں کا آغاز ہو چکا ہے!
آسٹریلیا کی ٹسٹ سریز میں بھارت نے جو واپسی کی ،وہ ایک 144سال کی ٹسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سنہرا باب بن گیا ہے اس سے پہلے آسٹریلیا نے بھی 1902میں 36پر آل آو¿ٹ ہونے کے بعد سریز جیتی تھی لیکن وہ زیادہ سے زیادہ 299رن بنا پائی تھی اور بھارت 329رن بنا کر جیتا ہے اس لحاظ سے یہ اب تک کی سب سے بڑی واپسی جیت ہے ،خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ جیت بڑے کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں نوجوان کھلاڑیوں نے دلائی بھارت اس سریز کو 2-1سے جیتنے میں کامیاب رہا اس جیت پر بی سی سی آئی نے ٹیم کو پانچ کروڑ روپئے دیئے 19دسمبر کو ٹیم انڈیا 36رن پر ٹسٹ کی تاریخ کے اپنے کم سے کم اسکور پرآو¿ٹ ہوئی تھی اب 19جنوری کو 329رن بنا کر چیز کے ساتھ ٹسٹ سریز جیت لی۔یہ کھیل برس بن میدان پر کسی بھی ٹیم کو ملا اب تک کا سب سے بڑا نشانہ تھا اس سے پہلے 1951میں آسٹریلیا نے یہاں 236رن بنا کر میچ جیتا تھا ،یہ جیت اس لئے بھی اہم بنی :آسٹریلیا 32سال بعد برسبن کے گوپا میدان میں ٹسٹ میچ ہاری ہے اس سے پہلے 1988میں ویسٹ انڈیز نے اسے 9وکٹ سے ہرایا تھا ۔بھارت کی اس میدان پر پہلی جیت تھی بھارت کو جیت کیلئے 324رن درکار تھے ٹیم نے آخری دس وور میں ون ڈے کی طرح تیزی سے 64رن بنا کر تاریخی جیت درج کی اس وقت 18گیندیں باقی تھیں ۔پہلی بار کوئی ٹیم 3سو پلس کے ٹارگیٹ کا پیچھا کر تے ہوئے ذاتی جیت اس معنیٰ میں اہم ہے کہ پچھلے ٹسٹ میں بھارت کو قراری ہار ملی تھی ۔ پوری ٹیم 36رن پر آو¿ٹ ہوگئی تھی وراٹ کوہلی پیرا نٹی لیو پر گئے ہوئے تھے ۔چوتھے ٹیسٹ سے پہلے ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی ہوئے تھے ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں کی آمد ،سبھمن گل ،محمد سراج، نودیپ سینی ِ،واشنگٹن ،ٹی نٹراجن ،نے اس دور سے پہلے ٹسٹ نہیں کھیلا تھاشاردل ٹھاکر نے کچھ سال پہلے حیدرآباد میں دس گیندیں ہی پھینکی تھی اس میچ سے پہلے آسٹریلیا کے گیند بازوں کے پاس 1046وکٹ تھے جب کہ ہمارے گیند بازوں کے پاس کیرئیر کے صرف 17وکٹ تھے ۔سراج کے ساتھ ،سہنی کے چار ،روہت کے دو،کرکٹ کے لحاظ سے دیکھیں تو بس اس دورے میں ٹیم انڈیا جہاں 1-2سے ونڈے میچوں کی سریز میں پیچھے تھے ،تو ٹی 20میں آسٹریلیا پر 2-1سے جیت درج کر لی مگر ٹیم ا نڈیا ٹسٹ سریز میں ملی جیت کو اگر اس کی سب سے شاندار کامیابیوں میں سے ایک مانا جارہا ہے تو اس کا کریڈٹ رہانے کی کپتانی کے ساتھ ہی توقع کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کی شاندار کھیل کو بھی جاتا ہے جس طرح اس سریز میں شبھمن گل ،محمد سراج رشبھ پنت ،شاردل ٹھاکر اور نٹراجن نے کھیلا اس شاندار کرکٹ کا مستقبل سنہرا بن گیا ہے یہ ان ہیروز کا کمال ہے کہ ہم پہلا ٹسٹ ایڈلیٹ میں بری طرح ہارنے کے بعد گوا میں تاریخ رقم کی دراصل پھل ٹائم کپتان وراٹ کوہلی نے سریز کے درمیان چھٹی پر جانے اور محمد سمیع اور جسپریت بمراہ ،روندر جڈیجا اور بھونیشیور سمیت بہت سے کھلاڑیوں کے چوٹل ہونے کی وجہ سے پورا دارومدار یوتھ کھلاڑیوں پر آگیا رشبھ پنت شبھمن گل چتیسور پجارہ جیسے نوجوان کھلاڑیوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاکر یہ کر دکھایا دیا کہ شاید جس کا شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو ٹیم کے اس دورے نے دکھادیا ہے کہ نئے نائیکو ں کا آغاز ہوچکا ہے ۔
(انل نریندر)
21 جنوری 2021
ٹیکہ سے کنی کاٹتے دہلی کے شہری !
کورنا کو مات دینے کے لئے سنیچر وار سے شروع ہوئی کورونا ویکسین کا ٹیکہ لگانے میں دہلی کے ہیلتھ ملازمین نے آخری وقت میں ٹیکہ لگوانے سے کنی کاٹ لی ۔جس وجہ سے دہلی میں پہلے دن طے تعداد میں صرف پچاس فیصد لوگوں نے ہی ٹیکہ لگوایا اس کی جانکاری دیتے ہوئے دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے اتوا ر کو کہا کورونا انفیکشن ٹیکہ کے لئے کچھ لوگ آخری وقت تک نہیں پہونچے سرکار اس کو لگوانے کو ضروری نہیں کرسکتی ۔دہلی میں ویکسی نیشن مراکز کی تعداد81سے بڑھا کر جلد 175ہو جائے گی ۔دہلی میں سنیچر کے دن 4319ہیلتھ ملازمین نے ٹیکہ لگوایا اور ٹیکہ لگوانے کے لئے رجسٹریشن تقریباً 53.3فیصد ہے ۔سرکار نے اب فیصلہ لیا ہے کہ ٹیکہ لگانے سے پہلے ہیلتھ ملازمین کیلئے کونسلنگ شیشن کیا جائے گا یہ یا تو اسی استپال میں ہوگا جہاں وہ نوکری پر ہیں یا پھر فون کے ذریعے کونسلنگ کی جائے گی ٹیکہ لگنے سے ایک دن پہلے انہیں فون کرکے پوچھا جائے گا کہ وہ ٹیکہ لگوانے آرہے ہین یانہیں ۔پہلے دن تقریباآدے لوگ ہی ٹیکہ لگوانے نہیں آئے جس وجہ سے سرکار نے یہ فیصلہ لیا ہے اور بات چیت کے ذریعے ان سے پوچھا جائے گا کہ ان کے دل میں تیکہ کو لیکر کیا خدشات ہیں اور کیا سوال ہیں ؟ اسے دور کرکے انہیں ٹیکہ کے لئے راضی کیا جائے گا۔
(انل نریندر)
تانڈو ویب سریز پر مچا گھماسان !
تانڈوویب سریز پر پورے دیش میں تانڈو مچ گیا ہے ۔سیف علی خاں کی اس ویب سریز پر بھاجپا نیتا کپل مشرا نے ایمازون پرائم کو قانونی نوٹس بھیجا ہے جس میں پرائم ویڈیو سے یہ ہٹانے کی مانگ کی ہے ۔کہا ہے کہ تانڈو کو اپنے پلیٹ فام سے ہٹائیں اور یہ ہی نہیں ہندو دیوی دیوتاو¿ں کی بے عزتی کو لیکر تنازعات میں گھرے سیف علی خان کے لیڈرول والی ویب سریز تانڈو کو لیکر مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں ۔لکھنو¿ کے حضرت گنج کوتوالی میں امیزون پرائم انڈیا کی اوریجنل کنٹینٹ ہیڈ ارونا پروہت اور سریز کے ڈائرکٹر علی عباس ظفر ،پروڈوشر ہمانشو کرشن مشرا رائٹر گور سولنکی کے خلاف اتوار کی رات ایف آئی آر درج کی گئی ۔ایک پولیس ملازم کی شکایت پر یہ کیس درج ہوا ہے ۔سینٹر زون کے ڈپٹی کمشنر سومن ورما نے کہا کوتوالی کی ایک ٹیم ان لوگوں سے پوچھ تا چھ کرے گی جن کے نام ایف آئی آر میں ہیں ۔واضح رہے تانڈو 16جنوری کو ریلیز ہوئی لوگ ویب سریز کے مواد کو لیکر شوشل میڈیا پر غصہ کررہے ہیں ۔سریز دیکھنے کے بعد یہ پایا گیا کہ پہل قسط کو 17منٹ میں ہندو دیوی دیوتاو¿ں کا رول کر رہے کرداروں کو عجیب ڈھنگ سے اور توڑ مروڑ کر زبان کا استعمال کرتے دکھایاگیا اس سے مذہبی جذبات بھڑک سکتے ہیں ۔اسی طرح ایپی سوڈ کے 22ویں منٹ میں شخصی جھگڑوں کو اکسانے کی کوشش کی گئی ہے ۔تنازعہ کو بڑھتے دیکھ ڈائرکٹر علی عباس ظفر سمیت پورے عملے نے مشروط معافی مانگ لی ہے اور کہا کہ یہ ویب سریز پوری طرح تصوراتی ہے اس میں کام کرنے والے ایکٹر و پروڈوسر کا کسی شخص ذات فرقہ مذہب مذہبی عقیدتوں کو ٹھینس پہوچانے یا کسی ادارے ،سیاسی پارٹی یا شخص کی بے عزتی کرنے کا کوئی منشہ نہیں تھی ۔ناراضگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر کسی شخص کے جذبات کو ٹھینس پہونچی ہے تو ہم بنا شرط معافی مانگتے ہیں ۔خبر ہے کہ اس سریز کو پروڈیوسروں نے سریز میں سے قابل اعتراض منظر کو ہٹانے کی بھی بات کہی ہے ۔
(انل نریندر)
کسان آندولن کو توڑنے کی کوششیں !
مرکزی سرکار کی جانب سے پاس تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کررہے کسانوں کی تحریک کو تقریباً دو مہینے ہونے لگے ہیں ۔پنجاب ،ہریانہ ،اترپردیش اور راجستھان اور دیگر ریاستوں کے کسان آندولن سے جڑنے سے اب ملک گیر شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔کسان بھی تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے اور ایم ایس پی کو قانونی حق دئیے جانے کی مانگ پر اڑیل ہیں ۔کئی دور کی بات چیت بھی ناکام رہی ہے ۔تحریک کے لیڈروں کا الزام ہے کہ سرکار کے حکام نے غیر وابسطہ عناصر سے ہماری تحریک کو کمزور کرنے کی تمام کوششیں جاری ہیں لیکن مانگ مانے بغیر کسان پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔مشترکہ کسان مورچہ کے لیڈر ڈاکٹر درشن پال نے بتایا کہ جے پور دہلی ہائی وے پر دھرنے پر بیٹھے کسانوں کو پولیس مسلسل پریشان کررہی ہے ادھر قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے سک فار جسٹس معاملے میں ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو گواہ کی شکل میں پوچھ گچھ کے لئے بلایا ہے ۔حکام نے یہ جانکاری دی ہے۔ لوگ بھلائی انصاف ویلفئر سوسائٹی کے چیئرمین اور کسان لیڈر ولدیب سنگھ سرسہ کے علاوہ سریندر سنگھ ، پلوندر سنگھ ،پردیپ سنگھ ،نوجیت سنگھ اور کرنیل سنگھ کو بھی 17اور 18جنوری کو ایجنسی نے بلایا تھا ۔این آئی اے کی جانب سے معاملے میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ،برطانیہ ،کنیڈا ،جرمنی اور دیگر دیشوں میں زمینی سطح پر مہم تیز کرنے اور کمپین کے لئے بھاری تعداد میں فنڈ بھی اکٹھا کیا جارہا ہے اس سازش میں شامل ایس ایف جے اور دیگر خالصتانی حمایتی عناصر مسلسل شوشل میڈیا کمپین اور دیگر ذرائع سے بھارت میں علیحدگی پسندی کے بیج بونا چاہتے ہیں ۔یہ گروپ آتنک آبادی کاروائی کرنے کے لئے نوجوانوں کو انتہا پسند اور کٹر پسندی کی طرف لے جارہے ہیں ۔اور اس کے لئے ان کی بھرتی بھی کررہے ہیں ادھر کسان نیتا سرسہ نے کہا انہیں کم وقت میں واٹس ایپ پر نوٹس ملا تھا اور سافٹ وئیر انہیں طلب کئے جانے سے متعلق کوئی باقاعدہ اطلاع تک نہیں بھیجی ۔انہوں نے کہا سرکار لوگوں اور سیاست دانوں اور پھر سپریم کورٹ کے ذریعے سے ہم پر دباو¿ بنانے کی کوشش کے لئے اب وہ این آئی اے کا استعمال کررہے ہیں ۔ہم اس طرح کی حکمت عملی سے نا تو ڈرنے والے ہیں اور نا جھکنے والے ہیں ۔ادھر بھارتی کسان یونین لوک سکتی نے حلف نامہ میں تنظیم نے مرکزی سرکار کی ایک عرضی کو بھی خارج کرنے کی مانگ کی جس میں مرکزی سرکار نے دہلی پولیس کے ذریعے 26جنوری کو یوم جمہویت کے دن مجوزہ ٹریکٹر مارچ کسی دیگر مظاہرے پر روک لگانے کی مانگ کی لیکن چیف جسٹس ایس اے بووڑے کی سربراہی والی بنچ نے اس پر 18مارچ تک سماعت کے لئے رضامند ہو گئی تھی ۔
(انل نریندر)
20 جنوری 2021
سی بی آئی بنام سی بی آئی !
دیش کی انتہائی الرٹ رہنے والی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے اپنی ہی ایجنسی کے سی بی آئی کے جن افسران کے خلاف کرپشن کے الزام میں کیس درج کئے ہیں وہ جانچ سے سمجھوتا کرنے کیلئے نہ صرف رشوت حاصل کر رہے تھے بلکہ بینکوں سے جنتا کے کروڑوں روپئے کے گھپلے کرنے کی ملزم کمپنیوں سے اپنے ساتھیوں کو رشوت کیلئے ایک بچولئے کی شکل میں کام کر رہے تھے یہ الزام ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں لگائے گئے ہیں آٹھ صفحات پر مبنی ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کو ایجنسی کے ذریعے چھاپہ ماری کاروائی پوری ہونے کے بعد جمعہ کو اس نے پبلک کر دیا جس کے مطابق انسپکٹر کپل چھندا کو اپنے ان سینئر افسران ،پولس ایس پی آر کے سانگوان اور آر کے رشی دیش کے سے کم سے کم دس لاکھ روپئے برآمد ہوئے جو سات سو کروڑ روپئے بینک دھوکہ دھڑی کی ملزم کمپنی شری شیام پنت اور بورڈ ملس اور فراسٹ انٹرنیشل کیلئے مدد حاصل کر رہے تھے جس پر 36سو کروڑ روپئے بینک سازی کا الزام ہے ایف آئی آر کے مطابق سانگوان ،دھنکڑاور اسٹینو گرافر رنبیر کمار سنگھ وکلاءاروند کمار گپتا منوہر ملک اور کچھ دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر معاملوں کی جانچ کو اثر اندا زکرر ہے تھے سی بی آئی کے سینئر افسر نے کہا کہ سی بی آئی کہ کرپش کے طئیں بلکل بھی برداشت نیہں کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے چاہے وہ دیگر محکمے کی ہو یا بڑے اداروں کی ہو۔
(انل نریندر)
واشنگٹن کی قعلے بندی !
امریکی راجدھانی واشنگٹن میں مظاہروں کے اندیشے کے پیش نظر ڈیفنس حکام نے اور فوجیوں کو بھیجنے کی مانگ کی تھی اس کے بعد بڑی تعداد میں فوجی مختلف صوبوں سے بسوں اور جہازوں کے ذریعے واشنگٹن اگئے یہیں اور یہ ایک طرح سے چھاونی میں تبدیل ہوگئی ہے یہ کل جو بائیڈن نئے صدر کا حلف سنبھالیں گے جا بائیڈن کے حلف لینے سے پہلے مظاہروں کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے فوج کے حکام نے ریاست کے گورنروں سے نیشنل گارڈ جوانوں کو بھیجنے کی اپیل کی تھی تاکہ اس شہر کے زیادہ تر حصے میں حلف برداری سے پہلے لاک ڈاو¿ن لگایا جاسکے غور طلب ہے کہ 6جنوری کو امریکی پارلیمنٹ ہاو¿س کیپٹل ہل پر بھیڑنے دھاوہ بول دیا تھا اس واردات کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ شدت پسند گروپ شہر کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں اور مسلہ گھس پیٹھے آسکتے ہیں اور اپنے دھماکو سامان نصب کردیںواشنگٹن میں 25ہزار سے زیادہ فوجیوں کو حلف بردار ی تقریر کی جگہ کے آس پاس کے علاقوں میں تعینات کردیا گیا ہے حکام کے مطابق پارلیمنٹ کے آس پاس بنے گھروں کی چھتوں پر 7ہزار فوجی میری لینڈ میں جوائنٹ بیسڈ انڈروج پر لگائے گئے ہیںاور کئی ہزار فوجی بسوں اور فوج کے ٹرکوں میں تیار رکھے گئے ھیں ایف بی آئی نے بھی حلف بردار ی تقریر کے دوران سبھی ریاستوں کی اسمبلی عمارتوں میں پر تشدد حملوں کا اندیشہ ظاہر کیا ہے اس لئے وہاں کی تمام راجدھانیوںمیں بھی مسلہ فوجیوں کو طینات کیا گیا ہے ۔ واشنگٹن میں پولس نے امریکہ پارلیمنٹ عمارت کیپٹل ہل کے قریب ایک جانچ کے دوران ایک شخص کے پاس ایک دستی بندوق اور پچاس راونڈ گولیاں بر آمد کی ہیں اور اسے گرفتار کرلیا ہے ۔ اس کی گرفتاری سے سیکورٹی ایجنسیاں امکانی تخریب کاری کے اندیشے کے پیش نظر الرٹ پر ہیں اور چپے چپے پر نگرانی کر رہی ہیں ۔
(انل نریندر)
وزیر اعظم کا ریموٹ کنٹرول کچھ سرمایہ داروں کے پاس ہے !
زرعی قوانین اور مرکزی سرکار کے خلاف کانگریس نے بھی مورچہ کھول دیا ہے جمعہ کو جب کسان لیڈروں اور سرکار کے درمیان 9ویں دور کی بات چیت چل رہی تھی (ناکام رہی)اس دوران کانگریس نے اس مسئلے کو لیکر سرکار پر زبردست تنقید کرتے ہوئے پردیس کانگریس کی رہنمائی میں دہلی لیفٹیننٹ گورنر کے رہائش کے باہر مظاہر ہ کرر ہے کانگریس ورکروں کی آواز کو حوصلہ دینے کیلئے راہل گاندھی پرینکا گاندھی اور واڈرا بھی پہونچے اس موقعے پر خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ قانون منسوخ ہوں گے ،نریندر مودی جی کو سمجھ لینا چاہئے کہ کسان پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ یہ ہندوستان ہے پیچھے نہیں ہٹتا لیکن وزیر اعظم تو آج نہیں تو کل پیچھے ہٹنا پڑے گا اگر سمجھدار ہوتے تو آج یہ کر دیتے کانگریس کے ورکروں کے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ مرکزی سرکار کو ان تینوں قوانین کو دیر سویر واپس لینا ہی پڑیگا۔ بی جے پی اور اس کی کور ٹیم نے مرکزی وزیر زراعت قوانین کو لاکر ایک بار پھر کسانوں کے حقوق کی حق تلفی کی ہے مرکزی سرکار نے ان قوانین کو مدد رکرنے کیلئے نہیں بلکہ کسانوں کو ختم کرنے کیلئے بنایا ہے راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ وہ کسانوں کی عزت نہیں کرتے اور بار بار بات چیت کرکے صرف کسانوں کو تھکانہ چاہتے ہیں ۔ انہوں یہ بھی دعویٰ کیا کہ نریندر مودی دیش کے وزیر اعظم ضرور ہیں لیکن ان کا ریموٹ کنٹرول کچھ سرمایہ داروں (امبانی اڈانی )کے پاس ہے ۔راہل گادنھی کانگریس سکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرانے جنتر منتر پہونچ کر پنجاب سے پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی جو پچھلے پچاس دن سے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں دھرنے پر بیٹھے ہیں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبر جسویر گل گرجیت اوجیلااور کچھ دیگر لیڈر اس دھرنے میں شامل ہیں اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ مودی جی نے عراضی تحویل قانون کو منسوخ کرنے کی کوشش کی تھی ہم نے اسے روکا اب اس کے بعد نیا قدم تینوں قوانین کے خلاف اٹھایا ہے اور ان کو ہمنے پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن اکثریت ہونے کہ وجہ سے ہمیں دبا دیا گیا اور انہیں زبردستی پاس کرا لیا گیا ۔ دیش کو آزادی 1947میں ملی لین اس آزادی کوکسانون نے برقرار رکھا جس دن فوڈ سیکریٹری ختم ہوگی اس دن آزادی بھی مل جائے گی ایک طرف ہندوستان ہے اور دوسری طرف مودی جی کے کچھ سرمایہ دار دوست ہیں دیش کے بہت سارے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ آج کسان کا حق چھینا تو اگلا نمبر درمیانی طبقے کو ہوگا سچائی یہ بھی کہ مودی جی اور ان کے دو تین سرمایہ دار دوست آپ سے سب کچھ چھین رہے ہیں یہ کچھ صنعت کار سب کچھ چلا رہے ہیں ۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ مودی جی کسانوں کی بنیادی عزت نہیں کرتے ایک کسان مرے یا سو نریندر مودی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والے وہ سمجھتے ہیں کہ کسان کتنے دن ٹکیں گے اور ایک دن تھک کر بھاگ جائیں گے لیکن کسان بھاگنے والا نہیں اور جھکنے والا نہیں ۔
(انل نریندر)
19 جنوری 2021
ٹیکہ لگانے سے کچھ افراد کو پریشانی ہوئی !
کورنا وائرس کے خلاف ویکسی نیشن کے پہلے دن دہلی میں 52لوگون کو ویکسین کا انجیکشن لگانے کے بعد کچھ بے چینی اور گھبراہٹ محسوس ہوئی ہے ان میں سے ایک شخص کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔جو زیر علاج ہے نئی دہلی میں چار لوگوں کو ویکسین انجیکشن لگنے کے بعد ہلکی سی الرجی کے اثرات سامنے آئے ۔دیش میں دہلی میں پہلی بار 52ہیلتھ ملازمین کو یہ ٹیکہ لگائے گئے تھے ۔ان کی نگرانی گھر پر ہی رکھ کر کی جائے گی ۔صرف ایک ملازم کو ای ایف آئی سنٹر بھیجنے کی نوبت آئی دہلی سرکار کے مطابق راجدھانی کے سبھی گیارہ اضلاع میں 8117لوگون کو ٹیکہ لگایا جاناتھا لیکن 4,319ملازمین کو ہی ٹیکہ لگ سکا ۔ان مین سے 52افراد کو دکتوں کا سامنا ہوا ۔سرکار کا کہنا ہے کہ دہلی کے 11اضلاع میں سے صرف دو ضلعے ایسے ہیں جہاں ویکسین کے مضر اثرات دیکھنے کو نہیں ملے ۔حکومت نے بتایا کہ نارتھ دہلی میں ایک ایسٹ دہلی میں پانچ نارتھ ویسٹ میں چار ایسٹ دہلی میں چھ سینٹرل دہلی میں دو ساو¿تھ دہلی میں گیارہ نئی دہلی میں پانچ ساو¿تھ ویسٹ میں گیارہ اور ویسٹ ضلع میں چھ لوگون کو ٹیکہ لگانے کے بعد دکت آئی ہے ۔کل ملا کر کہا جائے گا کم تعداد میں لوگوں نے ٹیکہ لگانے کا کوئی مضراثر نہیں پڑا ۔جیسے جیسے ویکسی نیشن آگے بڑھے گی ممکن ہے اور زیادہ مضر اثرات سامنے آجائیں ۔
(انل نریندر)
کونسلر -افسرلورڈ کی طرح زندگی جی رہے ہیں ،ملازمین کو تنخواہ تک نہیں !
راجدھانی میں میونسپل کارپوریش کے ڈاکٹروں اور نرسوں و دیگر ہیلتھ ملازمین ، ٹیچروں اور صفائی ملازمین کو ریگولیر طور پر تنخواہ نا دئیے جانے پر دہلی ہائی کورٹ نے جمع کو بڑا سخت رخ اپنایا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ میونسپل کونسلر سینئر افسران لورڈ کی طرح زندگی جی رہے ہیں لیکن ڈاکٹروں ، نرسوں ،ہیلتھ ملازمین اور ٹیچروں و صفائی ملازمین کو تنخواہ تک نہیں دی جارہی ہے ۔جسٹس وپن سانگھی ار ریکھا پلی کی بنچ نے کہا ان کی منشاءلورڈ کی طرح جی رہے کونسلروں و سینئر افسران سمیت تینوں کارپوریشنوں مین سبھی غیر ضروری اور فضولی خرچوں پر روک لگانے کی ہے ۔تاکہ کورونا کے علاج میں لگے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکروں کو تنخواہ و پنشن کی ادائیگی کی جا سکے ۔عدالت نے یہ رائے زنی کرتے ہوئے تینوں کارپوریشنوں کو یہ کہتے ہوئے سینئر افسران کے اخراجات کی تفصیل پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔عدالت کا کہنا ہے کہ صفائی کرم چاری اور ہیلتھ ملازمین جو کام کررہے ہیں ان کو دیگر خرچوں کے مقابلے زیادہ ترجیح ملنی چاہیے ۔عدالت نے دہلی سرکار کے ذریعے کارپوریشنوں کو دئیے پیسہ میں سے قرض رقم کٹوتی کرنے کو بھی نامنظور کر دیا ۔اور کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی قرض ادائیگی اور بینکوں اور مالی اداروں کے کھاتوں کو فی الحال چلانے پر روک لگا دی ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ راجاو¿ں جیسی زندگی بسر کررہے لوگوں کو جب تک تکلیف نہیں ہوگی تب تک حالات نہیں بدلیں گے ۔جن ملازمین کو تنخواہ نہیں مل رہی ہے ان کے بھی تو پریوار ہیں جس وجہ سے ان پر کئی ذمہ داریاں ہیں ذرا ان کی تکلیف کو بھی سمجھیں کچھ لوگ موج کریں اور صرف تھرڈ اور فورتھ کلاس کے ملازم تکلیف کیوں اٹھائیں ۔عدالت نے لون کی رقم سے تنخواہ دینے کے دہلی سرکار کے فیصلے پر بھی اعتراض جتایا سرکار نے کہا تھا کہ کارپوریشنیں جو سرکار نے قرض لیا ہے اس سے تنخواہ دے سکتے ہیں کیوں کہ ابھی اس کے پاس بھی تنخواہ دینے کے لئے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور فنڈ کی بھی کمی ہے اس پر بنچ نے کہا کہ فنڈکی کمی تنخواہ نا دینے کا بہانہ نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے 21جنوری تک سرکار سے جواب مانگا ہے اور کہا ہے کہ تنخواہ دینے کے لئے کیا سوچا ہے ؟ بتادیں کہ ہائی کورٹ میں کئی عرضیاں داخل ہیں جن میں تنخواہ کی مانگ کی گئی ہے ۔تینوں ہی کارپوریشنوں میں کئی مہینہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے اور اس کے چلتے کئی بار ہڑتال بھی ہوچکی ہے ۔اور اس بار پھر کچھ ملازمین ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔
(انل نریندر)
ریلائنس نے کرناٹک کے کسانوں سے ایم ایس پی سے زیادہ قیمت پردھان خریدا
زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کے درمیان کرناٹک سے ایک خبر آئی ہے کہ ریلائنس انڈسٹری لمیٹڈ کی معاون کمپنی ریلائنس ریٹیل لمیٹڈ نے سنگھنور میں واقع ایگرو کمپنی کے ذریعے کرناٹک کے1100 کسانوں سے ایم ایس پی سے زیادہ قیمت یعنی 1000روپے فی کنٹل دھان خریدنے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں ۔کمپنی کے ایک افسر نے بتایا کہ کسانوں سے دھان کی 1100روپے فی کنٹل کی خرید پر بڑی راحت دی ہے ۔کرناٹک میں اے پی ایم سی کے بعد کسی بڑی کارپوریٹ کمپنی اور کسانوں کے درمیان پہلی مرتبہ اس طرح کا سودہ ہوا ہے ۔کمپنی نے سونامنسوری دھان کیلئے 1950روپے فی کنٹل قیمت کی پیش کش کی ہے ۔جو سرکار کے تئیں ایم ایس پی ریٹ 1868روپے سے 82روپے زیادہ ہے ۔ہیلتھ فارمرس پروڈوسنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر ملک ارجن نے بتایا کہ سنگھنور میں حال ہی میں ترمیم شدہ کرناٹک ایگری کلچر مارکیٹنگ کمیٹی ایکٹ 2020کے تحت کسانوں سے یہ سودا ہوا ہے اس قانون کے تحت کسانوں کو اپنی پروڈکٹس سرکار منڈیوں کے علاوہ کہیں بھی بیچنے اور ایم ایس پی سے بھی زیادہ قیمت پرفروخت کرنے کی آزادی ملتی ہے کیوں کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے تھے اس لئے کسانوں نے پچھلے اتوار تک ریلائنس ریٹیل کو قریب 100ٹن چاول دے دیا ہے فی 100روپے کے ٹرانجکشن پر ایم ایف پی سی کو 1.5فیصد کا کمیشن ملا ہے ۔اس کے برعکس دیش کے سب سے امیر بجنس مین مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ مین دائر ایک عرضی میں کہا تھا کہ دیش میں ابھی جن تین زرعی قوانین کو لیکر بحث چھڑی ہوئی ہے ان کے ساتھ اس کا (کمپنی کا )کوئی لینا دینا نہیں ہے اس نے یہ بھی کہا اسے اس قانون سے کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں پہونچ رہاہے ریلائنس انڈسٹریز نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان تین قوانین کے ساتھ ریلائنس کا نام جوڑنا صرف اور صرف ہمارے کاروبار کو نقصان پہوچانے اور بدنام کرنے کی ناپاک کوشش ہے ۔کمپنی نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ کارپوریٹ یا ٹھیکہ کی کھیتی نہیں کرتی اس نے کارپوریٹ یا ٹھیکہ پر زرعی اجناس کے لئے پنجاب یا ہریانہ یا دیش کے کسی بھی حصہ میں درپردہ یا غیر بالواسطہ طور پر زرعی زمین کی خرید نہیں کی ہے ۔غذائیت و مسالے ،پھل ،سبزیاں اور روز مرہ کے استعمال کی اجناس کا اپنے اسٹور کے ذریعے فروخت کرنے والی اس ریٹیل یونٹ کسانوں سے سیدھے طور پر غذائیت کی خرید نہیں کرتی ہے ۔کمپنی نے کہا کسانوں سے غیر مناسب فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہم نے کبھی طویل میعاد تک سودا نہیں کیا ہے ہم نے نا ہی کبھی کوئی کوشش کی ہے کہ ہمارے سپلائی کردہ کسانوں سے طے قیمت سے کم خردی کریں ۔ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے تو سوال یہ ہے کہ ریلائنس نے جو موقف پنجاب و ہریانہ کورٹ میں رکھا ہے اس کے برعکس کرناٹک میں کسانوں سے سیدھا سودا کیا ہے ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریلائنس نے ہائی کورٹ میں غلظ حلف نامہ دیا؟ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ریلائنس زراعت سیکٹر میں انٹری کر چکی ہے یہ ہی تو کسانون کو ڈر ہے کہ کارپوریٹ زراعت سیکٹر کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتے ہیں اس لئے سرکار ان تینوں قوانین کو واپس نہیں لے رہی ہے ۔
(انل نریندر)
17 جنوری 2021
امریکہ میں 70سال بعد کسی خاتون کو دی گئی سزائے موت
امریکہ میں تقریباً 70برس کے بعد پہلی مرتبہ کسی خاتون قیدی کو موت کی سزا دی گئی ہے ۔52سالہ لیزا مونڈ گوپی کو سال 2007میں ایک گھناو¿نے جرم کے معاملے میں قصوووار پایا گیا تھا اس معاملے میں فیڈرل عدالت نے سزائے موت سنائی تھی انہیں امریکہ کی ریاست انڈیانہ کی جیل میں زہر کا انجیکشن دیا گیا اس سے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے ان کی سزا پر روک لگانے کی اپیل خارج کر دی تھی اس مقدمہ نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف راغب کی اس لئے بھی راغب کی کیوں کہ لیزا کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ ان کی موت کل کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں رہی ایک چشم دید گواہ کے مطابق سزا سے پہلے جب مجرم مونڈ گوچری کے چہرے سے ماسک اتارا گیا اور اس سے پوچھا گیا کہ کیا مرنے سے پہلے انہیں کچھ کہنا ہے تو انہوں نے نا کے علاوہ کچھ نہیں کہا مجرمہ کے وکیل کیلے ہینری نے ان کی موت کے بعد کہا لیذا کو انصاف نہیں ملا اور سزا دینے میں جو بھی لوگ شامل رہے انہیں شرم آنی چاہیے کہ وہ ایک ٹوٹی ہوئی اور تکلیفوں سے گھری عورت کی سز ا کو روک نہیں پائے محکمہ انصاف کے مطابق لیزا کی سزا کو دوبار ملتوی کیا گیا ۔جس میں کورونا وبا بڑی وجہ رہی ۔لیزا نے 2004میں امریکہ کی مسوٹی ریاست میں ایک حملہ عورت کا گکلا گھوٹ کر مار ڈالا تھا اور اس کے بعد متوفی عورت کا پیٹ چیر کر لیزا نے اس کے بچے کا اغوا کر لیاتھا ۔لیزا نے پہلے امریکی سرکار نے سال 1953میں ایسی سزا دی تھی امریکہ میں موت کی سزا کا ریکارڈ رکھنے والے سینٹر کے مطابق 1953مین مسوٹی ریاست کی بونی ہیڈی کو گیس چیمبر میں رکھ کر موت کی سزا دی گئی تھی آئیے جانیں کون ہے لیزا مانڈ گوچری ؟ دسمبر 2004میں لیزا کی بھابھی جو سٹ نیٹ سے بات ہوئی تھی لیزا ایک پلا خریدنا چاہتی تھی محکمہ انصاف کی خبر کے مطابق اس کے لئے لیزا کینصاص سے مسورٹی گئی جہاں بابی رہتی تھیں بابی کے گھر میں گھسنے کے بعد لیزا نے ان پر حملہ کیا اور گلا گھونٹ کر ان کو مار ڈالا ۔جس وقت یہ واردات ہوئی تب وہ وابی آٹھ مہینہ کی حاملہ تھی اس کے بعد لیزاوابی کے پیٹ کو چاکو سے چاک کیا اوراس کے پیٹ میں پل رہے بچے کو اس سے الگ کر دیا ۔اس کو لے گئی ۔محکمہ انصاف نے بتایا تھا کہ لیزا نے کچھ وقت تک یہ جتانے کی کوشش کی تھی کہ بچہ انہیں کا ہے اور سال 2007میں ایک جیوری نے لیزا کو قتل اور اغوا کا قصوروار پایا تھا اور اتفاق رائے سے انہیں سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی لیکن مجرمہ کے وکیل نے دلیل دی کہ بچپن میں لیزا کو بہت زیادہ پیٹا گیا تھا ان کا ٹارچر ہوا جن سے ان کے دماغ کو نقصان پہونچا جس وجہ سے وہ ذہنی طور سے بیمار ہیں ۔اس لئے انہیں موت کی سزا نہیں دی جانی چاہی امریکہ کے عدلیہ نظام کے تحت ملزمان کے خلاف یا تو قومی سطح پر فیڈرل عدالتوں میں مقدمہ چلائے جا سکتے ہیں یا پھر علاقائی سطح کی عدالت میں جرم ایسے اشو ہیں جو ای میل تھیوری وغیرہ اپنے آپ بھی اسکیپ کی سطح کی عدالتوں کے دائرے می آتے ہیں بیچ میں امریکہ میں موت کی سزا پر روک لگ گئی تھی لیکن 1976میں یہ سزا بحال ہو گئی تھی ۔اس کے بعد لیزا کو پہلی سزائے موت دی گئی ہے ۔
(انل نریندر)
و اٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ اسگنل ایپ نے!
مقبول ترین ایس ایم ایس سروس واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی اسے بھاری پڑنی لگی ہے ۔پرائیویٹ ڈیٹا میں سیندھ ماری سے ناراض یوزرنئے متبادل کی تلاش میں لگ گئے ہیں ۔سب سے زیادہ فائدہ ٹیلی گرام و سگنل ایپ کو مل رہا ہے ۔اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت میں ہی صرف پانچ دن میں 40لاکھ لوگوں نے سگنل اور ٹیلی گرام ڈاو¿ن لوڈ کر لیا ہے ۔بھارت میں سگنل کافی تیزی سے مقبول ہوا ہے ۔نئے سال میں ہی سگنل ڈاو¿ن لوڈ کرنے والوں کی تعدادمیں سو گنا اضافہ ہوا ہے ۔یعنی 94.83فیصد زبردست اضافہ ٹیلی گرام کو بھی 15فیصد زیادہ لوگوں نے ڈاو¿ن لوڈ کر لیا ہے ۔اتنا ہی نہیں واٹس ایپ کوزبردست جھٹکا لگا ہے اسے ڈاو¿ن لوڈ کرنے والوں کی تعداد 35فیصد گھٹی ہے ۔72گھنٹوں میں ڈھائی کروڑ لوگ ٹیلی گرام سے جڑے ہیں تو وہیں سگنل بھی روزانہ قریب دس لاکھ لوگ ڈاو¿ن لوڈ کررہے ہیں یہ سب سے زیادہ تعداد ہے ۔واٹس ایپ کے متبادل کی تلاش دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ٹیلی گرام کی منگل کی شام تک کنزیومر کی تعداد پچاس کروڑ کے پار ہو گئی ہے ۔اس کے بانی پاویل ٹوراوے کے مطابق سب سے زیادہ 38فیصد ممبر ایشیا میں بڑھے ۔اس کے بعد یوروپ میں 27فیصد اور لاطینی امریکہ میں 21فیصد 8فیصد عرب ممالک اور نارتھ امریکہ میں اضافہ ہوا ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ واٹس ایپ کافی پہلے سے ٹیلی گرام اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن دیتا آیا ہے ۔ایپ اسٹور پر اس کی ریٹنگ.5 4اسٹار جبکہ واٹس ایپ کی ریٹنگ 4.2اسٹار ہے ۔سے ہیلی ٹو پرائیویسی مسج کے صاف واٹس ایپ کی کھیچائی کو اپنے لئے موقع تلاشتے ہوئے سگنل نے 11جنوری کو نیا اپ ڈیٹ جاری کیا اس مین واٹس ایپ کو ٹکر دینے کے لئے گروپ کالنگ لانچ کی ایپ کو مفت اینڈ انکریٹریس اور پوری طرح محفوظ بتایا گیا ہے ۔وہی گروپ ایڈمن ، ایڈمنشن ، گروپ ایننگ جیسے فیچر بھی جوڑے گئے ہیں ایپ کی تفصیل میں بتایا ایپ منافع کمانے کے لئے نہیں بنا بلکہ اشتہارات کے استعمال کی ٹریکنگ اور باقی مضحکہ خیز چیزیں نہیں ہوںگی ۔دعویٰ کیا کہ پرائیویسی متبادل نہیں ہے یہ سبھی کو ملنی چاہیے واٹس ایپ نے یوزرس کو دی خبر میں پرائیویسی کو آپشنل بتایا تھا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...