Translater

14 نومبر 2020

دیوالی منائیںلیکن کچھ باتوں کا دھیان رکھیں !

دیوالی اور روشنی کے اس تہوار کے دن سبھی لوگ دیئے،مومبتی ،اور مصنوعی قمقمے،لائٹیں جلا کر روشنی کرتے ہیں یہ تہوار پربھو رام اور سیتا کے 14برس کے بنواس کے بعد ایودھیا میں ان کی آمد پر منایا جاتا ہے ۔ اس تہوار پر لوگ اپنے گھروں کی صفائی و روشن کرتے ہیں یہ تہوارشرد ریتو کی سنگھ کی آمد کا علامت ہے لیکن اس مرتبہ اس تہوار پر کورونا کی کالی چھایا رہے گی جس رفتار سے کورونا بڑھ رہا ہے اس سے تبھی بچا جا سکتا ہے جب احتیاط برتا جائے ساتھ ہے اس دیوالی پر آلودگی سے بھی بچناہوگا کیونکہ پٹاخوں بموں سے آواز آلودگی بڑھتی ہے بلکہ ہوا میں بھی زہر پھیلتا ہے ۔ دہلی سمیت کئی حصوں میں آلودگی انتہا پر ہے اس لئے ہمیں اس بار خاص توجہ دینی ہوگی ۔ آپ دیوالی ضرور منائیں جو کم سے کم آلودہ کرے آپ سب کو دیوالی کے اس نیک موقع پر بدھائی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں تہوار مناتے وقت دھیان رکھیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آلودگی اس کورونا دور میں خطرناک ہوسکتی ہے۔ (انل نریندر)

ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی ہار سے 25سال کا ریکارڈ توڑا!

ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی ہار میں بھی ایک ریکارڈ بنایا ہے ہار کے ساتھ ہی امریکہ میں 28سال پہلے کی اس واقع کی یاد تازہ کردی ہے ۔ جب سینئر بوس چناو¿ ہار گئے تھے ٹرمپ سے پہلے آخری بار 1992میں جارج ڈبلیو بس دوبارہ صدر بننے کے لئے چناو¿ ہارے تھے وہیں اگر ہم امریکہ میں پچھلے سو سال پرانی بات کریں توصرف چار صدر ایسے رہے ہیں جنہوں نے صدر کے طور پر دوسری میعاد میں کامیابی جیتنے میں ناکام رہے ۔ امریکہ میں عام طور پر یہ بہت کم ہوا ہے کہ کوئی صدر دوسری میعاد کے لئے چناو¿ میدان میں اترا اور اسے ہار کا سامنہ کرنا پڑاہو ۔ واضح ہو کہ 1992میں آخری بار ہوا چناو¿ جب جارج بس سینئر ،بل کرینٹن سے ہارے تھے تب بھی کامیاب ہونے والا امیدوار ڈیموکریٹک پارٹی کا ہی تھا اور ریپبلکن پارٹی کو ہار ہوئی تھی ۔ سال 1992کے صدارتی چناو¿ میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار رہے بس کی چناو¿ سے پہلے منظور ریٹنگ 89فیصد تھی اور ان کا دوبارہ صدر بننا تقریباً طے مانا جارہا تھا لیکن بل کرینٹن نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور 43فیصد پاپولرووٹ کے ساتھ 370الکٹرول ووٹ جیتنے میں کامیاب رہے ۔ بس کے کھاتے میں37.3ووٹ اور 168الکٹرول ووٹ آئے پچھلے سوسال میں دوبارہ صدر بننے کی دوڑ ہارنے والے دیگر تین صدور کی بات کریں تو بس سے پہلے 1980میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جیمی کارٹر وائٹ ہاو¿س پہونچے میں ناکام رہے تھے ایسے ہی ریپبلکن پارٹی کے رونالڈ ریگن 50.7ووٹ لیکر صدارتی چناو¿ جیتا تھا ۔ ان کے ریکارڈ کو ڈونالڈ ٹرمپ نے توڑا تھا 1980میں خود ریگن کے ہاتھوں ہارنے سے پہلے کارٹر نے 1976میں ریپبلکن پارٹی کے جیرلڈ فورٹ کے دوبارہ صدر بننے کے خواب کو توڑا تھا ۔ وہ پہلی بار اسکینڈل میں ریچرڈ نیکشن کے استعفیٰ کے بعد صدر بنے تھے کیونکہ انہوں 1974میںواٹر گیٹ اسکینڈل کے بعد استعفی دے دیا تھا اور اسے بعد اس وقت کے نائب صدر فورڈ صدر بنے تھے ۔ ریپبلکن پارٹی کے ہیبرٹ ٹور پچھلے سو سال میں صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے دوبارہ چناو¿ جیتنے میں ناکام رہے وہ چوتھے اور آخری صدر ہیں انہیں 1932میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار فرینکلن روز ویلٹ نے ریکارڈ جیت درج کی تھی ۔ اس کے بعد 1936اور 1940میں بھی وہ صدر بنے تھے اور تین مرتبہ صدر بننے والے وہ واحد امریکی ہیں ۔ (انل نریندر)

بہار کا مینڈیٹ کس کو ملا ؟

بہار کا چناو¿ اس مرتبہ کسی گتھی کی طرح ریا دوپہر سے ہی این ڈی اے لگاتار آگے چل رہا تھا لیکن مہا گٹھ بندھن بھی بس دو قدم ہی پیچھے پیچھے دکھائی دیتا رہا آخر رات بارہ بجے تقریبا ً صاف ہوگیا کہ نتیش کی قیادت والے این ڈی اے حکومت بنانے کے لائق نمبر حاصل ہوگئے ہیں اس چناو¿ سے یہ بھی صاف ہوگیا کورونا دور میں ہجرت کا سب سے زیادہ درد جھیلنے والے بہار کے لوگوں نے این ڈی اے پر ہی بھروسہ ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ نتیش کمار کی پارٹی پچھڑ کر تیسرے نمبر پر آگئی مگر اس کے باوجود یہ صاف ہوگیا کہ بیشک وہ وزیر اعلی بنیں گے لیکن سرکار نے بھاجپا بگ برادر کے رول میں رہے گی بدلے ہوئے حالات میں بھاجپا کے مقامی لیڈروں نے یہ بھی مانگ کر ڈالی کہ اب وزیر اعلی بھی بھاجپا سے ہی ہونا چاہئے حالانکہ بھاجپا کے قومی لیڈروں نے کہا کہ بہار میں نتیش کمار ہی این ڈی اے کے نیتا رہیں گے ۔ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو سیٹیں گھٹنے کا سب سے بڑا فیکٹر چراغ پاسوان رہے انہوں نے 30سیٹوں پر جے ڈی یو کو نقصان پہونچایا ۔حالانکہ لوگ جن شکتی پارٹی کا چراغ روشن ہونے سے پہلے ہی بہار اسمبلی چناو¿ میں گھس گیا این ڈی اے سے بغاوت کرکے چراغ پاسوان نے بھلے ہی جنتا دل یو کو بہت نقصان پہونچایا ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ اکیلے چناو¿ لڑ کر وہ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے یہ نتیجا ایل جے پی کے لئے بڑا جھٹکا تو ثابت ہوا ہی ہے وہ چراغ کو بڑا سیاسی سبق دے گئے ۔گنتی میں کچھ سیٹوں پر چونکانے والے نتیجے آئے چناو¿ میں مہا گٹھ بندھن کے بینر تلے چناو¿ لڑ رہی لیفٹ پارٹیوں نے ایک بار پھر سے ریاست کی سیاست میں نہ صرف اپنی جڑوں کو جمایا بلکہ اس مرتبہ 16سیٹیں جیت کر زبردست واپسی کی ہے ۔ مغربی بنگال ، کیرل ،و تامل ناڈومیں اگلے سال ہونے والے چناو¿ میں بہار میں لیفٹ پارٹیوں کی اچھی پرفارمینس اس کے لئے سنجیونی کا کام کرے گی ۔ وہیں کانگریس کی پرفاومینس توقع کے مطابق نہیں رہی اسے صرف 19سیٹیں ہی ملیں پہلی بار اویسی کی جماعت نے 5سیٹوں پر قبضہ جما کر حیران کر دیا ہے ۔ بہار چناو¿ میں اگر اس بار کسی نے گیم چینجر کا رول نبھایا ہے ، ووٹ کاٹنے کی پالیسی بنائی تو وہ ہے اویسی کی پارٹی 17میں سے صرف 5سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہے ۔ ایک درجن سیٹوں پر گٹھ بندھن کا کھیل بگاڑا اور سیمانچل میں ان کی پارٹی مسلمانوں کی پسند بن کر ابھری اس مرتبہ بھی ریاست میں نوٹا فیکٹر نے اپنا کردار نبھایا پوری ریاست میں 6لاکھ سے زیادہ نوٹا پر ووٹ پڑے اس سے تقریباًدو درجن سیٹوں پر اثر پڑنے کا دعوہ کیا جارہا ہے۔ تیجسوی یادو نے یہ چناو¿ بہت طاقت سے لڑا وہ اپنے والد لالو پرساد یادو کی پرچھائی سے بہت حد تک دور رہنے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے اپنے آپ کو آر جے ڈی کا لیڈر ثابت کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہوگاکہ سرکار بنانے کے بعد این ڈی اے اپنے وعدوں جس میں روزگار کا بڑا وعدہ ہے اس کو کیسے پورا کرتی ہے ؟ نتیش بابو کے گڈ گورنیگ بابو اس مرتبہ پوری طرح سے مسترد کردیئے گئے اگر انہیں وزیر اعلی بنایا جاتا ہے تو وہ بہار کے مینڈیٹ کے خلاف ہوگا۔ (انل نریندر)

13 نومبر 2020

کورونا ایکشن پلان پر ابھی سے تیاری میں لگ گئے ہیں جوبائیڈن !

امریکہ میں صدارتی عہدے کے نتیجوں کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار منتخب صدر جوبائیڈن کی ٹیم نے وائٹ ہاو¿س کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں بائیڈن کے قریبی شخص نے بتایا کہ بائیڈن کی جیت سے پہلے ہی سرکار کی تشکیل کی قواعد میں لگ گئے تھے ان کے ساتھ کوک نین 2008میں ابامہ سرکار میں تھے سرکار کی تشکیل کرنے والی ٹیم کا حصہ بھی تھے ۔کوپمین بائیڈن کے نائب صدر بننے کے بعد اس سیٹ سے سنیٹر تھے وہیں بائیڈن اور کملا ہیرث اپنی کامیابی کو لیکر پہلے سے ہی مطمئن تھے اس لئے دونوں نے تبھی سے پبلک ہیلتھ اور معیشت پر توجہ دینے کا کام شروع کر دیا ہے ۔بائیڈن کا کہنا ہے میں چاہتا ہوں کہ لوگ جانیں کہ ہم کام کرنے کے لئے انتظار نہیں کرتے ہر کوئی جانے کہ پہلے دن سے ہم کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنی اسکیم نافذ کرنے جارہے ہیں ۔ایک دن پہلے بائیڈن اور ہیرث نے پبلک معیشت کے ماہرین کے ایک گروپ کے ساتھ میٹنگ کی تھی ۔بائیڈن بے روزگاری کے اشو پر بھی کام کررہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا یہ آسان نہیں ہوگا مگر ہمیں کوشش ضرور کرنی چاہیے صدر کے طورپر میری ذمہ داری پورے دیش کی نمائندگی کرنے کی ہوگی میں چاہتا ہوں کہ آپ جانیں میں کتنی محنت سے ان لوگوں کے لئے کام کروں گا جنہوں نے مجھے ووٹ دیا بائیڈن نے ایک ہندوستانی نزاد امریکی کو این ٹی کورونا ٹاسک فورس کا چیرمین بنا دیا ہے وہیں ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے داماد کو اس پر بٹھایا تھا ۔ (انل نریندر )

بہار نتیجے دیگر ریاستوں میں بھی اثر ڈالیں گے !

بہار کے اتار چڑھا و¿ بھرے نتیجوں کے بعد بھاجپا کاراحت بھری سانس لینا ایک فطری ہے ۔کیوں کہ ان چناو¿ پر پارٹی کی آئندہ کی حکمت عملی ٹکی ہوئی تھی کیوں کہ یہ چناو¿ اس کی اتحادی سیاست کے ساتھ اپنے فروغ اپوزیشن کے مقابلے کی تیاری کے بھی تھے اس کی مغربی بنگال آسام سمیت اگلے سال ہونے والے مختلف ریاستی اسمبلیوں کے چناو¿ کے لئے ہمت بڑھے گی ۔بھاجپا کے لئے ان نتیجوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ویر اعظم نریندر مودی کو لیکر لوگوں کی توقعات اور امیدیں کم نہیں ہوئی ہیں ۔نتیش کمار کے خلاف ناراضگی کے بعد آئے اس طرح کے نتیجوں کا فوری طور پر نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا بھاجپا نے ایل جے پی کے الگ ہونے کے بعد اپنے اتحاد کو بہتر کیا ۔سماجی تجزیہ بٹھائے ۔ایل جے پی اگر اپوزیشن خیمے میں جاتی تو دکت بڑھتی لیکن یہ الگ رہی اس سے این ڈی اے کو کچھ نقصان تو ہوا لیکن اپوزیشن خیمے کا زیادہ فائدہ نہیں ہوا ۔بہار اسمبلی چناو¿ کے نتیجے اگلے سال ہونے والے دیگر ریاستوں کے چناو¿ کی سمت طے کرنے میں کافی اہم ثابت ہوں گے ۔بھاجپا کی پرفارمنس خاص طور پر مغربی بنگال کے لئے بڑا ٹانک ثابت ہوگا ۔بنگال سے بہار قریب ہے چناو¿ کے دوران یہ تذکرہ زوروں پر تھا کہ اگر اپوزیشن بھاجپا کو بہار میں چوٹ پہوچانے میں کامیاب رہتی ہے تو مغربی بنگال میں بھاجپا کی حکمت عملی کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے ۔نتیجوں سے اس کا الٹ بھی ہو سکتا ہے واقف کاروں کا کہنا ہے نتیش کے خلاف ماحول بھی گرم تھا اور وزیراعظم مودی کی مقبولیت اور مرکزی سرکار کی فلاحی اسکیمیں مفت گیہوں مکان ،ہیلتھ ،کورونا دور میں بانٹنا کارگر رہا ۔تو دیگر ریاستوں میںبھی بھاجپا اسی فارمولے پر کام کر سکتی ہے بہار کے نتیجے کے بعد مغربی بنگال میں اپوزیشن کی حکمت عملی میں کافی الٹ پھیر دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔بڑا سوال یہ ہوگا کیا ممتا کے ساتھ لیفٹ اور کانگریس آسکتے ہیں ۔سوال یہ بھی ہوگا کہ کیا بہار کے ٹانک کی بنیادپر بھاجپا پولارائزیشن یا فلاحی اسکیموں کے کوپٹیل کے سہارے مغربی بنگال میں ممتا کا قلعہ ڈھا پائے گی ؟ واقف کار مانتے ہیں کہ اشارے سے صاف ہے بنگال کا مقابلہ بیحد سخت ہو نے والا ہے آسام میں بھاجپا کی سرکار ہے ۔یہاں سب سے زیادہ دیہاتی حکمت عملی متاثر کرے گی ۔لیکن اگر پولاریزیشن کافارمولہ کارگر ہوتا ہے تو اس کا اثر بنگال سے لیکر کیرل تک دیکھنے کو ملے گا ۔تملناڈو میں ڈی ایم کے انا ڈی ایم کے دونوں پرانے مضبوط پوزیشن نہیں ہے ایسے میں یہاں نئے متبادل کی سیاست سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔اپوزیشن کے کمبے میں کانگریس کا کمزور ہاتھ اور دیگر پارٹیوں کے لئے مشکل پڑ سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

ضمنی انتخابات نے ثابت کیا بھاجپا کی لہر برقرارہے!

بہار اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی کئی ریاستوں کے ہوئے ضمنی انتخابات کے نتیجوں نے بھاجپا کو بڑی راحت دی ہے پارٹی نے مدھیہ پردیش میں اپنے دم پر اکثریت حاصل کر لی ہے اور چین کی سانس لی ہے تو یوپی میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی پکڑ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں ۔وہیں گجرات میں بھی بھاجپا نے اپنی مضبوط پکڑ سے ثابت کیا ہے کہ ضمنی انتخابات میں بھاجپا کو کئی ریاستوں میں سیٹوں کافائدہ ملا ہے ۔58سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناو¿ میں بھاجپا نے 40پر قبضہ کیا ہے ۔ضمنی انتخاب معاملے میں پارٹی کو سب سے بڑی چنتا مدھیہ پردیش کی تھی اقتدار بچانے کے لئے پارٹی کو 28میں سے ہر حال میں 9سیٹوں کی ضرورت تھی کیوں کہ ان میں سے زیادہ تر سیٹیں کانگریس ممبران اسمبلی کے استعفوں کے خالی ہوئی تھیں ایسے میں نتیجوں کو لیکر کئی طرح کی قیاس آرائیاں جاری تھیں نتیجوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ وزیراعلیٰ شیو راج سنگھ کے ساتھ کچھ مہینے پہلے کانگریس چھوڑ کر بھاجپا میں شامل ہوئے جوترآدتیہ سندھیا پر لوگوں نے دوبار ہ سے اعتماد ظاہر کیا ہے۔اور ان کی مضبوط پکڑ نے پارٹی کو بڑی کامیابی دلائی ہے بھاجپا کو یہاں سے 19سیٹوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ کانگریس صرف 9سیٹیں ہی حاصل کر سکی ہے ۔گجرات میں تمام 8سیٹ جیت کر بھاجپا نے ایک بار پھر ریاست میں اپنی مقبولیت کا لوہا منوایا ہے ۔ریاست کی ان آٹھ سیٹوں پر ضمنی چناو¿ ہوئے تھے جو زیادہ تر کانگریس ممبران اسمبلی کے استعفیٰ سے کھالی ہوئی تھیں ۔اب ضمنی چناو¿ میں ملی بڑی کامیابی کے بعد پارٹی کی سیٹوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے جھارکھنڈ میں دو سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناو¿ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور کانگریس نے ایک ایک سیٹ پر اپنا قبضہ بنائے رکھا ہے ۔مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں ہوئے ضمنی چناو¿ میں بھاجپا کی جیت کا جشن ہریانہ میں کمزور پڑ گیا ۔جب برودا اسمبلی ضمنی چناو¿ میں کانگریس امیدوار ہندوراج نروال نے بھاجپا و جے جے پی اتحاد کے امیدوار پیلوان یوگیشور دت کو دس ہزار پانچ سو چھیاسٹھ ووٹوں سے ہرا دیا ۔ضمنی چناو¿ نتیجہ میں صاف کر دیا کہ بھاجپا اتحاد کے وکاس کے نعرے پر ذات پات کے تجزیہ بھاری رہے ۔کانگریس کے نیتا بھوپندر ہڈا کی قیادت میں کانگریس نے نا صرف جیت درج کی بلکہ اپنی سیٹ کو بھی برقرار رکھا ۔بلکہ پچھلے سال 2019کے اسمبلی چناو¿ کے ملے ووٹوں کو بھی بڑھایا ہے اس ضمنی چناو¿ میں کانگریس کاووٹ اور بھاجپا کا ووٹ اور بھاجپا کی ہار کا فرق پڑا ہے اترپردیش میں اسمبلی کی طرح ضمنی چناو¿ میں بھی شاندار پرفارمنس دیتے ہوئے جیت کا پرچم لہرایا ہے ۔اسمبلی کے ضمنی چناو¿ کے لئے سات میں سے چھ سیٹوں پر بھاجپا نے اپنا قبضہ بنائے رکھا ہے ۔وہیں جون پور سیٹ کی ملوی سیٹ پر سپا نے جیت درج کی ہے ۔آنے والے اسمبلی چناو¿ کی سمت بھی انتخابات نے دکھائی ہے ۔بھاجپا 2022میں شاندار پرفارمنس پیش کرے گی ۔کل وزیرا علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا نتائج نے دیا 2022کا اشارہ کل ملا کر بھاجپا نے ان ضمنی انتخابات میں اچھی پرفارمنس دکھائی ہے ۔ (انل نریندر)

12 نومبر 2020

جیلوں میں حد سے 75ہزار زیادہ قیدی!

دیش کی جیلوں کی حالت پر نیشنل کرائم رکارڈ بیورو نے 2019کی رپورٹ حال ہی میں جاری کی ہے تازہ اعداد شمار سے پتہ چلتا ہے 4.0لاکھ قیدیوں کی اصل حد رکھنے والی جیلوں میں 4.78لاکھ قیدی بند ہیں ۔یعنی جیلوں میں قید رکھنے کی صلاحیت سے 75ہزار قیدی زیادہ ہیں ۔مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق 2019میں 4.78لاکھ قیدیوں میں سے 4.58لاکھ مرد 19913عورتیں تھیں ۔یہ ہی نہیں 31دسمبر 2019تک جیلوں 7سو 87ملازم تھے یعنی جیلوں کے لئے منظور 87599ملازمین کی اسامیوں کے مقابلے 26812ملازم کم ہیں ۔دیش کی جیلوں کی کل تعداد 2017,2018اور 2019کے آخر میں 1361,1339 اور 1350تھی ۔اعداد شمار کے مطابق اس میعاد کے دوران جیل میں مرنے کی شرع 115.1فیصدی 117.6اور 118.5فیصدی بڑھی ۔جیل ملازمین کی منظور شدہ تعداد 87599جبکہ 2019کے آخر تک اصل تعداد 60787تھی ۔جیل میں افسران کی منظور تعداد 7239ہے ۔جبکہ 4840اسامی بھری ہوئی ہیں ۔سینٹرل جیلوں میں 2.20لاکھ اور اس کے بعد ضلع جیلوں میں 2.06لاکھ اور سب جیلوں میں 38030تعداد درج کی گئی ہے ۔عورتوں کی جیلوں میں کل قیدیوں کی تعداد 3652تھی ۔سب سے زیادہ جیل شرع ضلع جیلوں میں 129.7فیصد اس کے بعد مرکزی جیلوں میں 123.9فیصد اور 34جیلوں میں 84.4فیصد مہیلا قیدی تھیں ۔ (انل نریندر )

گریما میں ہار نہیں مان رہے ڈونالڈ ٹرمپ !

امریکہ کے سبق دوش ہونے والے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر جنوری 2021میں نئے انتظامیہ کے عہد سنبھالنے پر اقتدار کی باآسانی منتقلی یقینی کرنے کے لئے دیش کے منتخب صدر جو بائیڈن کی ٹیم کے ساتھ تعاون کرنے کا دباو¿ بڑھ رہا ہے ۔جنرل سروسز ایڈمسٹریشن پر بائیڈن کو منتخب صدر کی شکل میں باقاعدہ طور پر مانیتا دینے کی ذمہ داری ہے اس کے بعد اقتدار کی منتقلی کی کاروائی شروع ہو گی ۔ایجنسی کے پبلیشر ایملی نے ابھی تک یہ کاروائی شروع نہیں کی ہے اور نا ہی یہ بتایا ہے کہ وہ کب ایسا کریں گی ایملی کی تقرری ٹرمپ انتظامیہ نے کی تھی اس معاملے میں واضح نا ہونے کے سبب سوال کھڑے ہونے لگے ہیں کیوں کہ ڈونالڈٹرمپ نے ابھی تک ہار قبول نا کرنے والے اور چناو¿ میں دھاندیوں کا الزام لگا کر نتیجوں کو ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔بائیڈن کو اقتدار منتقلی کی معاون زین تساکی نے اتوا رکو بتایا کہ امریکہ کی قومی سکیورٹی و اقتصادی مفاد اس بات پر منحصر کرتے ہیں کہ فیڈرر سرکار یہ واضح اور فوری اشارہ دے کہ وہ امریکی لوگوں کی خواہشات کا احترام کریں ۔امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کبھی بھی ہار قبول نہیں کرتے لیکن صدر کے عہدے کے چناو¿ میں ڈومیکریٹک امیدوار جوبائیڈن کی جیت کے بعد اب دو ہی متبادل بچے ہیں پہلا وہ دیش کی خاطر باوقار طریقے سے ہار تسلیم کرلیں نہیں تو ایسا نہیں کرنے پر نکالے جائیں ۔4دن کی مشکل گنتی کے بعد بائیڈن کی جیت کے باوجود ٹرمپ اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ ہار چکے ہیں انہوں نے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں کہ چناو¿ منصفانہ نہیں تھا ۔انہوں نے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بات کہی ہے ٹرمپ کے کچھ قریبی ساتھی انہیں باعزت طریقے سے ہارتسلیم کرنے کے لئے راجی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کچھ رپبلکن ساتھی ان کی ہار تسلیم نہیں کر پا رہے ہیں ٹرمپ کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی امید نہیں ٹرمپ باقاعدہ طور سے ہار قبول کر لیں گے ۔لیکن ان کے عہد کے آخر میں وہ وائٹ ہاو¿س کھالی کر دیں گے ۔امریکہ کی خاتون اول میلانیہ ٹرمپ بھی شوہر کے اس انر سرکل کے دیگر افرا د میں شامل ہو گئی ہیں ۔وہ چاہتی ہیں ٹرمپ اپنی ہار قبول کریں گے ذرائع کے ذریعے بتایا گیا ہے ملانیہ نے ٹرمپ کو جوبائیڈن سے ہار تسلیم کرنے کو کہا ہے ۔لیکن ذاتی طور پر چناو¿ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا انہوں نے ٹرمپ کے سامنے صرف اپنی رائے رکھی ہے ۔ٹرمپ کے دوست و مشیر روجر اسٹون سے جب پتہ کیا گیا کہ آپ موجودہ صدر ہار قبول کریں گے تو کہا کہ مجھے اس لیکر شش و پنج ہے ٹرمپ کے بیٹوںڈونل جونیر اور ایرک نے بھی اپنے والد سے لڑتے رہنے کی اپیل کی ہے ۔اور رپبلکن لیڈروں سے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کی اپیل کی ہے ۔امید کی جائے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنی ہار مان لیں اور پرامن باوقار طریقے سے اقتدار منتقل ہو جائے ۔ (انل نریندر)

اس سے تو بہتر دور درشن کا دور تھا !

جمہوریت کے چوتھے ستون پریس کی طاقت کے چلتے لوگ اس سے ڈرے ہوئے ہیں جس طرح کی زبان کا ٹی وی پر استعمال ہوتا ہے اور اس میں حصہ لینے والے نازیب الفاظ کا استعمال کرتے ہیں وہ بے حد تشویشناک ہے آخر میں عدالتوں کو ہی دخل دینا پڑتا ہے لوگ میڈیا سے الگ تھلگ رہنے کی امید کرتے ہیں اس سے تو بہتر بلیک اینڈ وائٹ دور درشن کا دورتھا میڈیا کو تحمل برتنے کی ضرورت ہے یہ رائے زنی دہلی ہائی کورٹ نے رپبلک ٹی وی اور ٹائمس ناو¿ کو لیکر داخل ہوئی عرضیوں پر سماعت کے دوران کی ۔ عدالت نے ان دونوں کو غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز کمنٹس کرنے یا شائع کرنے پر روکنے کی درخواست والی بالی وڈ کے اہم پروڈیوسروں کی عرضی پر متعلقہ میڈیا گھرانوں سے جواب طلب کیا ہے جسٹس راجیو شکدھر نے اے آر جی آو¿ٹ لائنر اور میڈیا اور بینٹ کولمین گروپ سے یہ یقنی کرنے کو بھی کہا کہ ان کے چینلوں یا شوشل میڈیا اسٹیج پر کوئی ہتک عزت میٹر نا ڈالا جائے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سخت رائے زنی کی اورپیچھا کررہے میڈیا سے بچنے کی کوشش کے دوران برطانیہ کی شہزادی ڈائنا کی موت کا ذکر کیا اور کہا کہ آواز کچھ دھیمی کئے جانے کی ضرورت ہےچونکہ لوگ جمہویت کے چوتھے ستون سے اس کے اختیارات کی وجہ سے خوف زدہ ہیں ۔جسٹس راجیو شردھر کی بنچ نے کہا میڈیا رپورٹنگ سے ایسا لگتا ہے کہ پہلے سے ہی ایک رائے بنائی جاتی ہے ،پھر رپورٹنگ کی جاتی ہے اس میں خبر کم خیالات زیادہ ہوتے ہیں کورٹ نے معاملے میں رپبلک ٹی وی ،ٹائمس ناو¿ ،فیس بک ،گوگل اور ٹوئٹر سے بھی جواب مانگا ہے ۔اب سماعت 14دسمبر کو ہوگی ۔عدالت نے کہا رپورٹنگ کرنا میڈیا کا آئینی اختیار ہے مگر یہ غیر جانبدارانہ طریقے سے ہونی چاہیے ٹی وی چینل جانچ کر سکتے ہیں لیکن وہ کسی کے خلاف ایک نفرت بھری مہم نہیں چلا سکتے عدالت نے کہا کچھ معاملوں میں ایف آئی آر بھی نہیں تھی پھر بھی چینلوں نے افراد کو ملزم کہنا شروع کر دیا اس طرح کی لگاتا ر غلط رپورٹنگ سے شائع اور روشن خیال دماغ کی بھی متاثر ہوتے ہیں ۔بنچ نے کہا کہ کیس درج ہونے سے پہلے ناموں کا اعلان کر دیا جاتا ہے ۔وائٹ ایس ایپ چیٹ دکھائے جا رہے ہیں عدالت سمجھ نہیں پارہی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے انہوں نے میڈیا سے کہا کہ آپ خود کنٹرول کی بات تو کرتے ہیں مگر کچھ بھی نہیں کرتے ۔یہ نیوز چینلوں کو خبروں کو کورکرنے سے نہیں روک رہی ہے لیکن صرف انہیں ذمہ دار صحافت کو آگے بڑھانے کے لئے کہہ رہی ہے ۔عدالت نے کہا ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ ایسی خبروں کو کور نہیں کر سکتے لیکن ہم آپ کو ذمہ دارانہ صحافت کرنے کے لئے ہی کہہ رہے ہیں ۔میڈیا اگر پروگرام کورٹ کی تعمیل نہیں کرتا ہے توعدالت اسے لاگو کرائے گی ۔اس پر میڈیا پاو¿سوں کی طرف سے وکیلوں نے کہا ہم تعمیل کریں گے ۔ (انل نریندر )

11 نومبر 2020

تنازع میں گھرا بابا کا ڈھابہ !

بابا کا ڈھابہ کے مالک 80سالہ بزرگ کانتہ پرساد اور انہیں شہرت دینے والے یو ٹیوبر گورو واسن کے الزام در الزام اب ورچول دنیا سے آگے نکلتے ہوئے قانونی داو پیچ میں آگیا ہے ۔ بابا اب لاکھ پتی ہوگئے ہیں ان کے کھاتے میں 40 لاکھ روپیے ہوگئے ہیں گوروواسن نے ہی بابا کا بینک کھاتے کو شوشل میڈیا میں شیئر کر دیا تھا جب کہ بابا کا کہنا ہے کہ انہیں پتہ نہیں کہ ان کے کھاتے میں کتنا پیسہ آیا ہے ۔ بابا نے اس رقم سے مکان لے لیا اور وہ ایک نیا ڈھابہ کھولنے کے چکر میں ہیں اور بابا کا ڈھابا یوٹیوبر گوروواسن کے درمیان ہوئے تنازع میں بابا کے وکیل نے اس بارے میں تردید کی ہے بابا کے وکیل پریم جوشی کا کہنا ہے الگ الگ انٹرنیٹ پلیٹ فارم پربابا کے نئے مکان او ر بابا کے نئے ڈھابہ کھولنے کی بات جھوٹی ہے صرف ایک گھر کرایہ پر ہے ۔ بلکہ انہوں نے اپنی آنکھوں کا آپریشن کرایہ ہے جس کے چلتے انہوں نے جنتا سے دوری بنا لی وہیں آفسر کے مطابق پولس گورو اور ان کے بھائی اور بابا کے کھاتوں کی جانچ کر رہی ہے ۔ پولس نے بینک کھاتوں کو سیل کردیا ہے وکیل پریم جوشی کا کہنا ہے کہ بابا کے کھاتے میں کتنے روپئے ہیں یہ تنازع کا موضوع نہیں ہے جبکہ عطیہ میں ملے پورے پیسے تک نہیں آپائے پولس نے معاملہ درج کر لیا ہے ۔ ایسا پریم جوشی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی پولس آزادانہ جانچ کررہی ہے اس لئے کچھ کہنا ٹھیک نہیں ۔ بابا کا ڈھابہ معاملہ میں جمعہ کو مالویا نگر تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی ساو¿تھ دہلی کے ڈی سی پی بتایا کی ڈھابے کے مالک بزرگ کانتہ پرکاش کی شکایت پر پولس نے مقدمہ درج کر لیا ہے پولس گوروواسن ان کی بیوی اور ان کے رشتہ داروں کے کھاتوں کی جانچ کررہی ہے ۔ معاملہ کئی دن کی جانچ کے بعد درج ہوا ہے کانتہ پرشاد نے گوروواسن کے خلاف 31اکتوبر کو پیسے ہڑپنے کی شکایت کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ اکتوبر کے آخیر میں گوروواسن آئے اور ان کا ایک ویڈیو بنایا جس نے بابا کے حال کے بارے میں دکھا یا کہ وہ لوگوں سے اپیل کررہے ہیں گوروواسن نے ویڈیو اپنے اکاو¿نٹ سواد آفیسیل سے شوشل میڈیا پر ڈالا ہے ۔ یہ خوب وائرل ہو ااس نے جان بوجھ کر اس نے اپنے پریوار کے لوگوں کے بینک کے کھاتے وا موبائل نمبر شیئر کئے تھے ان کھاتوں میں کافی پیسہ ڈونیشن کی شکل میں آیا ان کا الزام ہے کہ گوروواشن نے جال سازی کی اور ڈونیشن کا پیسہ بابا کو نہیں دیا ۔ (انل نریندر)

کتنی کار گر رہے گی پٹاخوں پر پابندی ؟

پٹاخوںپر دہلی میں پابندی لگ گئی ہے لیکن لوگوں کو پٹاخے چلانے سے روکنا مشکل ہوگا کیونکہ این سی آر کے کئی شہروں میں پٹاخوں کی بکری اب بھی جاری ہے ۔ ابھی بھی کئی جگہوں پر پٹاخے بک رہے ہیں مغربی دہلی میں پرچون کی دکان پر بھی یہ پٹاخے دستیا ب ہیں ۔ یہاں کئی دوکان دار اپنے روز مرہ کے گراہکوں سے پٹاخے لانے کے لئے پوچھ رہے ہیں اور یہ پٹاخے دکان دار گھر کے اندر سے ہی بیچ رہے ہیں ۔ پٹاخوں کے دام طے قیمت سے 30فیصد بڑھ چکے ہیں حالانکہ اس مرتبہ گرین پٹاخے ہی بک رہے ہیں ۔ 2018سپریم کو رٹ نے دہلی این سی آر میں جنرل پٹاخوں کی بک ری پر روک لگادی گئی تھی لوگوں کو صرف گرین پٹاخوں کو چھوڑنے کا متابادل دیا تھا اس سال بازار میں گرین پٹاخے نہیں تھے 2019کے مطابق پھولجھڑی سمیت کچھ گرین پٹاخے آئے ہیں ۔ لیکن اس مرتبہ بازار میں گرین پٹاخوں کی 25سے 30فیصد ہیں راجدھانی میں کورونا کو دیکھے ہوئے راجدھانی میں 30نومبر تک روک لگادی گئی ہے۔ جس سے دوکانداروں کا مال بلاک ہوگیا ہے ایک پٹاخہ ڈیلر نے بتایا کہ قریب 20دن پہلے پٹاخے لاچکے تھے اچانک پابندی لگنے کی وجہ سے گرین پٹاخے بیچنا اور دوسرے پٹاخے بیچنا مظبوری ہے سال میں ایک دن پٹاخے چلتے ہیں جب کہ آلودگی 365دن رہتی ہے ۔ ایک درمیانی سائز کی تیس سگریٹ کے برابر پٹاخا دھواں چھوڑتا ہے جب کی ایک پھول جھڑی اور دوسری دھماکوں پچاس سگریٹ کے برابر دھواں چھوڑتا ہے تین سو پٹاخوں کی لڑی تیس سگریٹ کے برابر دھواں نکلتا ہے پٹاخوں کے دھویں میں عام دھوں میں کئی طرح کے خطرناک دھویں ہوتے ہیں اور اس طرح کے بارود کا استعمال نہیں ہوتا ۔بہر حال گرین پٹاخوں میں بیریم اور ربب کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہرے رنگ کے پٹاخوں می بیریم اور نائٹریٹ اور لال پیلے رنگ کے لئے سوڈیم اور میگنیشیم کا استعمال ہوتا گن پاوڈر کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بہر حال دہلی میں لوگ خطرناک بارود والے پٹاخوں سے بچیں اور گرین پٹاخوں سے دیوالی منائیں ۔ (انل نریندر)

کملا ہیرس ہندوستانی نژادکے لئے لائق تلقین !

امریکہ کی نائب صدر چنی گئی کملا ہیرس کی جیت کئی معنیٰ میں خاص ہے ۔ وہ امریکہ کے اس عہدہ پر منتخب پہلی خاتون ہیں اور پہلی ہندوستانی نژاد سیاہ فارم اور افریقی امریکی نائب صدر ہونگی ۔ ہیرس اس پہلے بھی کئی مثالیں قائم کرچکیں ہیں اور وہ سان فرانسکو کی ضلع اٹارنی بننے والی پہلی خاتون ہیں ۔ کملا کی ماں شیاملا گوپالن 1960میں ہندوستان کے تامل ناڈو ریاست سے اوفنی بیکلے گئیں تھیں وہ بیرس کینسر کی رسرچر تھیں ان کے والد ڈونالڈ جے ہیرس 1961میں جمائیکا سے ایکونمکس کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یوسی برکلے آئے تھے کملا کی پیدائش کیلی فورنیا میں 20 اکتوبر 1964کو ہوئی تھی انہوں نے اپنے چناو¿ کمپین کے دوران اس بات کا ذکر کیا تھا کہ اپنی ماں کی وجہ سے آج وہ اس مقام پر پہونچ پائی ہیں ۔ بارہ سال کی عمر میں کملا اپنی بہن مایا اور ماں کے ساتھ آکلینڈ سے وائٹ مانٹریل چلی گئیں وہ اس درمیان اکثر بھارت آتی رہیں 1972میں کملا کے ماں باپ میں طلاق ہوگئی اس کے بعد کملا اور اس کی چھوٹی بہن کی دیکھ بھا ل ان کی ماں نے ہی کی تھی ۔ کملا ہیرس نے 1986میں ہارورڈ یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا اس کے بعد کیلوفورنیا یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد انہوں نے اسسٹینٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی کی حیثیت سے ایل میڈا کاو¿نٹی آفس میں ملازمت شروع کی یہیں سے کملا کا سیاسی سفر شروع ہوا اس کے بعد 2003میںسان فرانسکو کی ضلع اٹارنی بنیں اس کے بعد وہ 2010میں کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل بن کر پہلی سیاہ فارم شخصیت بن گئیں اس دوران کملا ہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ستارے کے طور پر اپنی شاخ بنائی اور اسی کا استعمال انہوں نے 2017میں کیلیفورنیا سے امریکی سینیت کے لئے چناو¿ لڑا تھا ۔ کملا ہیرس کے چنے جانے پر امریکی سینیٹروں نے اسے تاریخی تبدیلی کا آغاز بتایا امریکی ایم پی پرومیلا جے شوال کا کہنا ہے کملا کا چنا جانا لوگوں کے مستقبل کے لئے اچھا شگن ہے ۔ اور یہاں رہ کر انہوں نے جو سپنے دیکھے ایسے ہی ہندوستانی نژاد امریکی ایم پی راجا کل کرنی نے کہا امریکہ کی سو سالہ تاریخ میں یہ یادگار لمحہ ہے مجھے بہت خوشی ہے اب جو بائڈین کے ساتھ کملا ہے جس وائٹ ہاو¿س کے آفس میں داخل ہونگی وہ ہندوستانی نژاد ایم پی روہت کھنہ نے کہا کہ امریکہ کے وائٹ ہاو¿س پہونچنے کے بعد کملا ایک نئے دور کی طرف بڑھیں گی ادھر بھارت میں پدم بھوشن یافتہ شودیس چترجی نے کہا کہ کملا ہیرس کا چنے جانا ہماری پیڑی اور کے آگے بڑھنے کے لئے یہ ایک بہترین مثال ہے کملا ہیرس کو اس تاریخی جیت پر مبارک باد ۔ (انل نریندر)

10 نومبر 2020

لہرا رہے ہیں ہندوستانی نزاد امریکی خواتین کے جھنڈے !

امریکہ کے صدارتی چناو¿ میں اس مرتبہ ہندوستانی نزاد امریکی ووٹرون اور امیدواروں دونوں میں ہی اپنی طاقت اور اثر کا بہترین مظاہرہ کیا ہے اور ہندوستانی خواتین امیدواروں کی چناو¿ میں اچھی خاصی تعداد رہی اور ڈیڑ ھ درجن سے زائد ہندوستانیوں نے اپنی کامیابی کاپرچم لہرایا ان میں پانچ عورتیں بھی ہیں اور 2 اپنے دم سے لڑنے کے بعد نہیں جیت سکیں سینٹر فار امریکن پروگریس کے مطابق دیش میں 20لاکھ سے زیادہ ہندوستانی امریکن نے اس مرتبہ ووٹ ڈالے ہیں ان میں سے پانچ لاکھ ووٹر تو فلوریڈا پینس لیونیا اور میسی گن میں ہیں ۔واضح ہو چار عورتوں ایم ای بورا ،پرمیلا جے پال اور وغیرہ ممبران کو تو نمائندہ پہلے ہی چنے جانے کا اعلان ہو چکا ہے یہ سبھی ڈیموکریٹک ایم پی ہیں ۔اور تین ایسے امیدوار ہیں جو ابھی جیتنے کی پوزیشن میں ہیں پانچ عورتوں کو صبح ہی ممبر اسمبلی چنا گیا ہے اس کے ساتھ ہی ہنیما کلکرنی اور رام ورموٹ اور پدما کرشن کو مشیگن صوبہ کی ممبر اسمبلی چنا گیا ہے ۔نارتھ کیرولونا میں جے چودھری کو دوبارہ ممبر چنا گیا ہے ہندوستانیوں کا کامیاب ہونے کا سلسلہ دیگر امریکی ریاستوں میں بھی دیکھنے کو ملا ہے ۔آشا کالرا ایسی ہندوستانی ہیں جو لگاتا رتیسری مرتبہ کیلی فورنیا سے چنی گئی ہین اس طرح اور بھی کئی ہندوستانی نزاد کے امریکی چناو¿ میں کامیاب رہے ہیں ۔ہمیں کملا ہیرس کو ہی نہیں بھولنا چاہیے جو پہلی خاتون نائب صدر چنی گئی ہیں سبھی کو تہہ دل سے بدھائی ۔ (انل نریندر )

پاکستان اپنی چالبازیوں سے باز نہیں آتا !

بھارت میں گڑ بڑ پھیلانے کی ہر کوشش میں ناکام رہے پاکستان نے اب ایک بار پھر نفرت بھڑکانے کے ایک بیہودہ چال چلی ہے پڑوسی دیس نے سکھوں کی آستھا کے مرکز تاریخی گورودوارہ کرتا ر صاحب کا نظام و رکھ رکھاو¿ پاکستان سکھ گورودوارہ کمیٹی سے چھین کر ایک سرکاری ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کو سونپ دیا ہے ۔کرتارپور گلیارہ کھلے ابھی ایک سال پورانہیں ہوا تھا پاکستان نے پھر ایسا قدم اٹھایا ہے ۔جو سکھ فرقہ کے جذبات کو ٹھینس پہونچانے اور بھارت کو چڑھانے والا ہے ۔کرتارپور صاحب کی باہری زمین کی دیکھ بھال کا ذمہ پروجیکٹ منجمنٹ یونٹ کریگی ۔یہ ایک پراپرٹی بورڈ کے ماتحت کام کرے گی ۔ظاہر ہے یہ ساری کوشش کے مقصد سے باہری زمین کی دیکھ بھال کی آڑ میں گورودوارے کے انتظام میں دخل دینا ہے اور اسی بہانے اس پر کنٹرول رکھنا ہے ۔سچ ہے کہ آخر پاکستان کو اس طرح کا متنازعہ قدم اٹھانے کی آخر ضرورت کیوں پڑی ؟ کیا وہ اس حقیقت سے انجان ہے کہ کرتارپور صاحب سکھوں کا ایک دھارمک پوتراستھل ہے اور اسے لیکر اٹھایا گیا کوئی بھی متناعہ قدم یہ فرقہ برداشت نہیں کرےگا ؟ اور وہ بھی ایسے موقع پر جب کرتارپور گلیارہ کے کھلنے کا ایک سال ہونے جارہا ہے گورونانک دیو جی کی جنم استھلی گورداس پور ڈیرا بابا صاحب اور اس کے پونیہ استھل گورودوارہ دربار صاحب کرتارپور کو جوڑنے والا گلیارا پچھلے سال 9نومبریعنی آج کے دن سکھ سردھالوو¿ں کے لئے کھولا گیا تھا لیکن کورونا وبا کے چلتے اسے بعد میں بند کر دیا گیا لیکن گورونانک دیو جی کی جینتی کو لیکر اس کو دوبارہ کھولنے پر غور ہو رہا ہے ۔پاکستان نے یہ قدم اٹھا کر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ۔پاکستان نے ویزا فیس میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور مسافروں کی تعداد کو لیکر رکاوٹ تو ڈالی ہی تھی افتتاحی پروگرام میں خالستان حمایتی کی موجودگی نے بھی شک پیدا کر دیا تھا پاکستان نے اب جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک ایسے ادارے کو چنا ہے جس میں ایک سکھ بھی ممبر نہیں ہے ۔جس پروجیکٹ منجمنٹ یونٹ کو کرتارپور گورودوارے کا انتظام کی ذمہ داری سونپی ہے اس کے 9ممبران میں سے ایک بھی سکھ نہیں ہے ۔پاکستان سرکار پہلے بھی کئی ایسے فیصلے کرتی رہی ہے جس سے تنازعہ کھڑے ہوتے رہے ہیں ۔پاکستان سرکار نے کرتارپور جانے والے ہر شردھالو سے ڈیڑ ھ ہزار روپے ویزا فیس لینے کا فیصلہ اچانک کر ڈالا اور اسی طرح شردھالوو¿ں کے پاسپورٹ کے معاملے میں تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا تب وزیرا عظم عمران خان نے کہا تھا کہ کرتارپور آنے والے شردھالوو¿ں کو پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی لیکن اگلے ہی دن پاکستانی فوج نے کہہ دیا تھا پاسپورٹ ضروری ہوگا ۔خیر اسطرح کے تنازعہ ،تلخی اور کشیدگی پیدا کرتے ہیں پاکستان بھارت کا پاکستان کے رخ کو لیکر جورخ ہے اس سے یہی امید کی جاسکتی ہے ۔ (انل نریندر)

نکیتا قتل کیس میںریکارڈ ٹائم میں فائل ہوئی چارشیٹ!

نکیتا قتل کیس کی چارشیٹ ایس آئی ٹی نے عدالت میں داخل کردی ہے اس کیس نے پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا تھا واضح ہو کہ پچھلے ماہ 26اکتوبر کو اپنی سہیلی سے لوٹ رہی طالبہ نکیتا کو اگروال کالج کے گیٹ کے باہر بنیادی ملزم توصیف نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اس واردات کو انجام دینے میں اس کا ساتھی رہا ریحان بھی شامل تھا ۔دونوں ملزم واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے ۔واردات کی اطلاع ملتے ہی شہر ولبھ گڑھ میں قتل اور اسلحہ ایکٹ کے تحت کیس درج کر دیا ۔محض پانچ گھنٹے میں کرائم برانچ نے بنیاد ی ملزم توصیف کو نوح سے گرفتا ر کیا اور اس کا ساتھی بھی وہیں سے پکڑا گیا ۔ایس آئی ٹی نے جمع کو کورٹ میں داخل چارشیٹ میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ بنیادی ملزم نے قتل واردات سے دو دن پہلے اگروال کالج کے آس پاس ٹوہ لی تھی کہ نکیتا کب کالج سے باہر نکلتی ہے اور کتنے بجے کون اسے لینے آتا ہے ان سب باتوں کو توصیف سے پوچھ تاچھ کے بعد چارشیٹ میں فائل کیا ۔یہ ہی نہیں وارادات کے بعد طالبہ کو نزعی حالت میں اسپتال لے جاتے ہوئے اس کے رشتہ داروں ماں وجے بتی بھائی نویم اور دیگر نے واردات کی تفصیل بتائی تھی پولیس نے ان کے بیان کو بھی چارشیٹ میں شامل کیا ہے اور ایس آئی ٹی نے ذریعے دن رات کی گئی محنت اور اعلیٰ افسران کی رہنمائی میں ایک ریکارڈ وقت میں محض 11دن میں چارشیٹ داخل کر دی گئی ۔ڈیجیٹل و فورنسک سائنس شہادتیں اور چشمدید گواہ اور دیگر اہم ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوائی جائے گی قتل کانڈ میں رستہ داروں کے علاوہ پولیس کرمچاری فوٹو گرافی اور فورنسک ٹیم سی سی ٹی وی فوٹیز واردات میں استعمال کی گئیں کار اور اس کے مالک کے بیان اور نکیتا اور ملزمان کے کپڑوں میں موبائل اور نکیتا کے جسم سے نکلی گولی برآمد طمنچہ اور توصیف کے ہاتھ سے ملے گن پاو¿ڈر کی رپورٹ عدالت میں اہم ثبوت اور گواہ ہوں گے ۔پولیس ذرائع کی مانیں تو پہلی چارشیٹ میں ایس آئی ٹی نے لو جہاد اینگل کو شامل نہیں کیا ۔کیوں کہ ابھی تک توصیف اور نکیتا کے موبائل فون کی جانچ رپورٹ نہیں آپائی پولیس یہ پتہ کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ سال 2018کے بعد توصیف نے کب کب نکیتا سے رابطہ قائم کیا اور دونوں کے بیچ کتنے وقت تک بات چیت ہوئی ؟ لیکن کہا جارہا ہے اگر جانچ میں لو جہاد کی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اسے ضمنی چارشیٹ میں شامل کر کورٹ میں پیش کیا جائے گا ہم فریدآباد پولیس کو اس بات کی بدھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے صرف اس کیس کو کچھ گھنٹوں میں حل کردیا بلکہ ریکارڈ ٹائم میں ایف آئی آر بھی درج کرا دی ۔ (انل نریندر)

08 نومبر 2020

ریستوراں۔کریانے سے سامان خریدنا زیادہ خطر ناک !

کورونا وباءکے دوران باہر سے کھانا خریدنا یا جنرل اسٹور سے کریانے سے سامان سے بھی خریدنا ہوائی سفر سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ ایک اسٹڈی میں سائنسدانوں نے دعوہ کیا کہ اس طرح کی باتوں کا موازنہ بغیر معلومات کے نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر حالت میں ماسک پہننے یا سماجی دوری بنائے رکھنے سے متعلق طے قواعد کی تعمیل ٹھیک سے ہورہی ہے یا نہیں ۔ امریکہ کے ہارورڈ پی ایس یان اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے کہا کہ ایئر لائنس ہوائی اڈوں اور جہاز بنانے والوں کے ذریعے کی گئی اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ فلٹروں سے بنے جہازوں میں وینتی لیشن سسٹم کے ذریعے صاف تازہ ہوا کی سپلائی کی جاتی ہے ۔ اور جو 99فیصد سے زیادہ ان زرات کو چھانتی ہے جو کوڈ انیس کا سبب بن سکتے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ اور سیکورتی مسئلوں پر فلٹر بہت اچھے ہیں لیکن امریکی ایئر لائنس کے مطابق یہ زیادہ اثر دار نہیں ہیں اور نہ ہی پوری طرح اثر دار نہیں ہیں ۔ اور ان فلٹروں کے باوجود انفیکشن کی کئی مثالیں ہیں ۔ ایم آرٹی کے سائنسدانوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا اچھا اندازہ نہیں ہوتا کہ جہاز میں کووڈ 19کے کتنے مریض ہیں ۔ انہوں نے کہا ہم یہ پتہ لگانے کے صحیح طریقے کی جانچ نہیں کررہے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ ریستوراں اور کریا نے کے سامان خریدنا بھی خطرے سے کھالی نہیں ہے ہوائی اڈڈوں پر لوگ آتے جاتے رہتے ہیں آپ کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کتنے انفیکش کے شکار ہیں اور سپر اسپرینڈر بن رہا ہے ؟ بہتر ہے کہ آپ کم سے کم ان مصروف جگہوں پر کم سے کم جائیں ۔ (انل نریندر)

خلیج بنگا ل میںاترے چار بیڑے !

چین نے اپنی فروغ وادی توقعات کا مظاہر کرتے ہوئے بھارت امریکہ اور آسٹریلیا کو 13سال بعد متحد کردیا ہے ۔ یہ سب ملکر مالا بار میں جنگی مشقیں کر رہے ہیں یہ مشقیں ہر سال ہونے والی مشقیں نہیں ہیں ۔ بلکہ اس کے دو مرحلوں میں 13بعد آسٹریلیا کی شامل ہونے کی خاص وجہ بن گیا ہے یکساں نظریہ کے اور دیش جرمنی نے بھی ہند مہا ساگر خطہ میں گست کے لئے اگلے سال سے ایک جنگی بیڑہ تعینات کرنے کا اعلان کردیا کوارڈدیش چین کے طئیں اپنے ارادے کا واضح حکمت عملی کا اظہارکررہے ہیں اورجنگی مشقوں کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مشرقی لداخ میں بھارت اور چین کے فوجی پچھلے سات مہنیوں سے آمنے سامنے کھرے ہیں چین کے ٹکراو¿ کے درمیان مالا بار میں جنگی مشقیں شروع ہوئیںیہ کثیر ملکی بہری جنگی مشقیں ہیں اس میں بحری فوجیں جنگی جیسے حالات پیدا کرتی ہیں اور آپس میں دکھاوے کی لڑائی پیش کرتی ہیں ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پہلی بار اتنی بڑی جنگی مشق کے لئے بحری افواج پرشانت مہاساگر میں ایک خاص مقصد کے لئے ساتھ اتریں ہیں تاکہ ہند مہا ساگر میں چین کی ناکام حرکتوں کو روکنا ان کا مقصد ہے اور یہی چین کی بے چینی بڑھنے کی وجہ ہے اس سال یہ جنگی مشق دو رمرحلوں میں کی گئی ہے کوارڈ دیش بین الاقوامی سمند میں سب کے لئے آمدورفت بنائے رکھنا چاہتے ہیں لیکن چین اس میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور کہیں نہ کہیں اوہ سمندر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اس کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے چین ہر سال مالا بار جنگی مشقوں کے مقصد کو لیکر چوکس رہا ہے ۔ چین کے وزارات خارجہ نے چار دیشوں کی ایک ساتھ جنگی مشق پر سخت رد عمل ظاہر کیا اس کے ترجمان وانگ وین نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ جنگی مشقوںمیں شامل دیشوں کے علاوہ خطے میں بھی امن اور پائیداری کے لئے ماحول مناسب ہوگا کوارڈ کی طاقت اور چین کی بے چینی کے باوجود اس بار آسٹریلیا کے اس میں شامل ہونے کے بعد بیجنگ ایک تعجب میں ہے ۔ بیجنگ کو امید ظاہر کرنی پڑ رہی ہے کہ یہ مشترکہ جنگی مشق ہے اور امن اور استحکا م کے لئے مناسب ہوگی ۔ (انل نریندر)

آخری ووٹ کی گنتی تک پوری دنیا کی امریکہ پر نظر !

پوسٹل بیلیٹ نے امریکی چناو¿ میں اثر دکھا نا شروع کر دیا ہے جوائے بائڈین نے تقریبا متعدد ریاستوں میں بڑھت بناتے ہوئے ٹرمپ سے آگے نکل گئے ہیں ۔ ایسے میں دنیا کے سب سے طاقتور دیش امریکہ کا اقتدار ڈیمو کریٹک پارٹی کے پاس جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ چناو¿ میں امیدوار کو جیت کے لئے 270الکٹرول کلیگ چاہئے امریکہ کے بڑے ٹی وی نیٹ ورک کے مطابق بائڈن 253اور ٹرمپ 214جیت چکے ہیں ۔ 16ووٹوں والے جارجہ سمیت نواڈا وغیرہ کے آخری نتیجہ کا اعلاب کبھی بھی ہو سکتاہے لیکن باقی بچی پانچ ریاستوں میں ووٹ کا حساب کتاب سمجھا جائے تو بائڈین کے لئے راستہ صاف ہے ۔ اور ٹرمپ کی مشکل حقیقت میں کورونا وباءکے دوران اس چناو¿ میں پوسٹل ووٹوں کی تعدا د بہت زیادہ ہے ان کی گنتی کو لیکر نتیجے کو دیری ہورہی ہے۔ اور نتیجہ لٹک سکتا ہے صدر بننے کے لئے ٹرمپ یا بائیڈن کو پاپولر ووت جیتنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ صدر بننے کے لئے الکٹرول کالج میں جیت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے ہر ایک ریاست سے الکٹرول کالج کی تعداد موٹے طور پر اس ریاست کی آبادی کے تناسب ہوتی ہے امریکہ میں صدارتی چناو¿ کے لئے کل الیکٹرس کی تعداد 538ہے اس لئے کامیابی کے لئے 270ووٹ جو پائے گا وہی صدر بنے گا ۔ اس چناو¿ میں بے حد اہم ترین بات ہے وہ یہ ہے جو نتیجہ فیصلہ کریں گے ان ریاستوں کے سونگ روڈ یا بیٹل گراو¿نڈ اسٹیٹ کہا جاتا ہے امریکہ میں 50صوبے ہیں اور 40سے زیادہ صوبوں کے بارے میں پہلے سے لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کس ریاست میں کون امیدوار کامیاب ہوگا ۔ باقی 8یا 10 ریاستوں میں چناو¿ میں پوزیشن بدل جاتی ہے ۔ کبھی یہ ڈیموکریٹ امیدوار کی حمایت کرتے ہیں تو کبھی ریپبلکن امیدوار کو کامیاب کراتے ہیں اندازہ ہے بائڈین اور ٹرمپ ان ریاستوں کو جیت لیں گے ۔ جہاں ان کے آسانی سے جیتنے کی امید ہے کچھ ریاستوں میں مقابلہ سخت ہے اور اس صورت میں زبردست مقابلہ چل رہا ہے وہاں پوسٹل بیلیٹ کی گنتی اخبار شائع ہونے تک چل رہی تھی جس وجہ سے نتیجے میں دیری ہوسکتی ہے ڈونالڈ ٹرمپ اپنی امید سے اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں بائڈین ان اہم ترین ریاستوں میں جیتنے میں ناکا م رہے جہاں ووٹوں کی گنتی جلد ہوتی ہے اس لئے ابھی بھی غیر یقینی صورت حال بنی ہوئی ہے اور پوری دنیا ان نتیجوں پر نگاہ لگائے ہوئے ہے جو بائڈین نے اپنے ورکروں سے کہا ہم کامیاب ہونے جارہے ہیں ۔اور وہ صبر سے کام لیں کچھ ہی منٹوں بعد ٹرمپ نے ٹویٹ کر بتایا کہ ہم کافی آگے ہیں اور چناو¿ نتیجے ہم سے جلد سامنے آنا چاہتے ہیں ۔ ادھر ٹرمپ کی چناو¿ کمپین کی انچارج نے کہا کہ چناو¿ نتیجوں میں دیری ایک طرح سے سینسر شپ ہورہی ہے اب سارا دارومدار پوسٹل بیلیٹ پر ہے آنے والے وقت میں اس میں وکیل بھی شامل ہوسکتے ہیں ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں اگر وہ چناو¿ نہیں جیتے تو وہ سپریم کورٹ جاسکتے ہیں مطلب صاف ہے اس میں کئی ہفتے یا دن لگ سکتے ہیں ۔ اس دوران امریکہ میں غیر یقینی صور ت حال کا ماحول بنا رہے گا۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...