Translater

23 فروری 2013

شندے کی معافی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مجبوری کا بیان

کہاوت ہے کہ ’دیر آید درست آید‘وزیر داخلہ سشیل کمار شندے پرفٹ بیٹھتی ہے۔ ہندو آتنک واد سے متعلق اپنے بیان پر آخری بار مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کو جھکنا پڑا۔ بجٹ اجلاس سے پہلے این ڈی اے کوبھیجے خط میں شندے نے لکھا ہے کہ کسی مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنے کا ان کا ارادہ نہیں تھا۔ اتنا ہی نہیں شندے نے یہ بھی صاف کیا کہ بھاجپا اور آر ایس ایس کوئی آتنکی کیمپ نہیں چلاتے۔ بھاجپانے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے شندے کا یہ بیان ان لوگوں کے لئے سبق ہے جو بھاجپا اور آر ایس ایس پر غلط الزام لگاتے رہتے ہیں۔ شندے کے بیان سے لوگوں میں بھاری غصہ تھا۔ بھاجپا نے لوک سبھا سپیکر میرا کمار کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ اور دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران شندے کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنا بیان ثابت کریں یا معافی مانگیں۔ یوپی اے سرکار کو خبردار کرتے ہوئے پارٹی لیڈورں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس اور بھاجپا پر پابندی لگا کر دکھائیں۔ دراصل یوپی اے سرکار اور کانگریس کی مجبوری بن گئی تھی کہ وہ شندے سے معافی منگوائیں۔ مجبوری کہیں یا حکمت عملی کہیں کانگریس نے یہ معافی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت منگوائی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کانگریس صدر سونیا گاندھی، پی چدمبرم، احمد پٹیل کی میٹنگ ہوئی اور کئی مرحلوں میں بیان تیار ہوئے۔ کانگریس کے چنتن شور میں بھگوا آتنک واد ،آر ایس ایس اور بھاجپا کے کیمپوں میں آتنکی ٹریننگ کیمپ سے متعلق بیان پر پورا بھگوا بریگیڈ نے یوپی اے پر حملہ بول دیا۔ کانگریس کی مجبوری تھی ماحول کو خاموش کرنا اور بجٹ پیش کرنا اور پاس کرانا۔ سسٹم کو ہلا دینے والے معاملہ اب طول پکڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹر گھوٹالے کا سامنا کرنا، آتنک واد سے متعلق بیان کا کورٹ میں سامنا کر پانا، ان سب اشوز پر غور نے وزیر داخلہ کا معافی نامہ تیار کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کانگریس کا صحیح قدم تھا کیونکہ یہ سیشن اس کے اور سرکار کے لئے ویسے بھی بہت مشکل ہے۔ ایک اور اشو ختم ہوتا ہے تو بہتر رہے گا۔ بھاجپا نے بھی شندے کی معافی قبول کرکے کم سے کم اس معاملے کو سستے میں نمٹادیا۔ بھاجپا کے پاس اور بھی بہت سے اشو ہیں جس پر وہ حکومت اور کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔یہ خوشی کی بات ہے کہ پارلیمنٹ کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلنے میں ایک تعطل تو دور ہوا۔ جب ہم شندے کی معافی کی بات کررہے ہیں تو شندے نے معافی مانگ لی لیکن پارٹی کے جن سینئر لیڈروں نے اس بیان کی سخت حمایت کی تھی کیا وہ بھی معافی مانگیں گے؟ قابل ذکر ہے کہ پچھلے مہینے 20 جنوری کو جے پور کانگریس چنتن شور میں وزیر داخلہ نے بیان دیا تھا کہ بھاجپا اور سنگھ کے ٹریننگ کیمپوں میں ہندو آتنک واد کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس تبصرے کو لیکر پچھلے ایک مہینے سے کانگریس اور سنگھ پریوار کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت رہی ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ شندے کے بیان کی زوردار حمایت کانگریس کے کئی نیتاؤں نے کی تھی۔ خاص طور پر پارٹی کے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ اور سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر نے کہا کہ انہیں بہت پہلے سے پتہ تھا کہ سنگھ کی رہنمائی میں ہندو آتنک واد کا کاروبار کررہے ہیں۔ ممبئی دنگوں کے بعد ایسے کئی موقعے آئے جب بڑبولے دگوجے سنگھ نے ہندوتو کو کسی نہ کسی شکل میں نشانہ بنایا۔ منی شنکر ایئر نے کہا کہ شندے نے بھلے ہی کوئی صفائی دی ہو لیکن وہ آج بھی پرانے نظریئے پر قائم ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس ایسے تمام حقائق ہیں جن سے ثابت کیا جاسکتا ہے پورا سنگھ پریوار سالوں سے فرقہ وارانہ زہر پھیلانے کے لئے کام کرتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ، آر ایس ایس اور دیگر ہندو وادی تنظیموں کو وزیر داخلہ شندے کے تازہ بیان سے بہت خوش نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں نکالنا چاہئے کہ انہوں نے سرکار اور حکمراں کانگریس پارٹی کو جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ یہ صرف ایک مرکزی وزیر داخلہ کا حکمت عملی والا بیان ہے جو محض بجٹ اجلاس کو ٹھیک ٹھاک چلانے کے لئے ان کی مجبوری تھی۔ حالانکہ اس سے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ بجٹ سیشن ٹھیک ٹھاک سے چلے گا۔
(انل نریندر)

کیمرون کے دورۂ ہند سے برطانیہ کے آپسی رشتے مزید مضبوط ہوں گے

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سہ روزہ دورۂ ہند پر آئے تھے۔ یہ ان کا دوسرا دورہ تھا۔ کاروباری رشتے اور پائیدار کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کیمرون نے بھارت کے تاجروں اور طلبا کے لئے ویزا عمل کو آسان بنانے کے علاوہ برطانیہ میں مقیم طلباکو بھتے بھی دئے جائیں گے۔ بھارت سے بہتر رشتے بنانے کی جو خواہش انہوں نے ظاہرکی ہے وہ ماضی سے نہیں بلکہ آنے والے وقت کے لئے ہے۔ اس سے بھارت میں برطانیہ کی بڑھتی کاروباری دلچسپی بھی ظاہر کرتی ہے۔ پچھلے ہفتے فرانس کے صدر فرنسکوئس ہولاندے کے بھارت آنے کے پیچھے بھی یہ ہی منشا تھی۔ دراصل یوروپ اقتصادی بحران سے گذر رہا ہے۔ ایسے میں ان ملکوں کو بھارت جیسی ابھرتی معیشت والے ملکوں میں اپنے لئے بازار ملنے اور اس طرح اپنی مشکلیں کم ہونے کی امیدیں دکھائی پڑتی ہیں۔یوروپی یونین غیرملکی تجارت میں بھارت کا اہم سانجھیدار ہے۔ پھر برطانیہ سے بھی اس کا لین اور زیادہ رہا ہے۔ بھارت میں برطانیہ سب سے بڑا یوروپی سرمایہ کار ہے اور یوروپ میں ہندوستانی سرمایہ کاری کا قریب آدھا اکیلے برطانیہ میں ہے۔ کیمرون2010ء میں جب یہاں آئے تھے تب برطانیہ کی اقتصادی حالت بہت خراب تھی۔ برطانیہ میں بھارت کی مدد سے زیادہ سے زیادہ روزگار پیدا ہونے کی اپنی خواہش کو کھل کر ظاہر کیا تھا۔ اس دورہ میں بھی بھارت کی اقتصادی ترقی کے تمام قصیدے پڑھے گئے ہیں۔ آج برطانیہ وہ بڑی طاقت نہیں ہے جو 19 ویں اور20 ویں صدی سے پہلے تھا لیکن بھارت کی تاریخ میں اس کی گہری موجودگی ہے۔ وہ ہمارے لئے لمبے وقت تک اہمیت کا حامل بنا رہے گا۔ گریٹ برٹین کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جلیانوالہ باغ گئے اور وہاں واقعہ پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے اس واقعہ کو انگریز کی تاریخ کا بہت شرمناک باب بتایا۔ انہوں نے 94 سال پہلے 13 اپریل 1919 کو جنرل ڈائر کے ذریعے اس قتل عام پر پبلک طور پر معافی نہیں مانگی۔ کیمرون پہلے جمہوری طریقے سے وزیر اعظم چنے گئے۔انہوں نے شہیدوں کو شردھانجلی دی اور جلیانوالہ باغ میں رکھی کتاب میں کیمرون نے لکھا کہ برطانیہ کی تاریخ میں یہ انتہائی شرمناک واقعہ تھا۔ یہاں جو کچھ بھی ہوا وہ ہم بھول نہیں سکتے۔ ہم یہ یقینی کریں گے برطانیہ دنیا بھر میں پرامن مظاہرے کے حق میں کھڑا ہو۔ کچھ تنظیموں نے برطانیہ کے وزیر اعظم سے معافی مانگے جانے پر زوردیا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کل ملا کر ڈیوڈ کیمرون کا دورۂ بھارت اچھا رہا اور امید ہے کہ بھارت اور برطانیہ کے آپسی رشتوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔
(انل نریندر)

22 فروری 2013

ان پرنسپلوں اور ٹیچروں کی ذہنیت کب بدلے گی؟

اسکولوں میں بچوں کے ساتھ بے رحمانہ برتاؤ کے خلاف حالانکہ سخت قانون ہیں۔ ایسے بہت سے معاملوں میں ٹیچروں، پرنسپلوں کو سزا بھی دی جاچکی ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ سدھرنے کو تیار نہیں۔ اسکول کمپلیکس میں پڑھائی لکھائی کا ماحول خوف سے پاک بنانے کے مقصد سے نصابی بحث اور مطالعہ جات معاملے میں نئی پالیسیاں تیار کی گئیں۔ نئے طور طریقے اور تعلیمی سازو سامان پر زور دیا جانے لگا ہے۔ مگر اب بھی کچھ پرنسپل اور ٹیچر پرانے رویئے پر قائم ہیں اور وہ اپنی ہٹ دھرمی اور برتاؤ سے بچوں کی پٹائی کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ کبھی کبھی بچوں کو سبق سکھانے کے چکر میں ایسی جگہ مار دیتے ہیں جس سے بچہ زندگی بھر کے لئے بیکار ہوجاتا ہے ۔ اکثر ہم سنتے اور پڑھتے ہیں کہ اسکول میں پٹائی کی وجہ سے بچے اپنے ذہنی توازن کھو بیٹھے اور کچھ نے تو خودکشی کرلی۔ جب میں نے حال ہی میں یہ خبر پڑھی کے اترپردیش ک ے بلند شہر میں ایک پرنسپل کے ہاتھوں پٹائی سے پہلی جماعت کے ایک بچے کی آنکھ کی روشنی چلی گئی تو مجھے بہت زبردست صدمہ پہنچا۔ بچے کی اس بے رحمانہ پٹائی کی وجہ تھی کہ اس کے ماتا پتا اسکول کی فیس جمع نہیں کرا سکے تھے۔ فیس اگر جمع نہیں ہوئی تھی تو اس میں معصوم بچے کا کیا قصور تھا؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پرنسپل بچے کے ماں باپ کو بلاتے اور ان سے بات کرتے۔ ظاہر سی بات ہے کہ بچہ غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہوگا۔ اخباروں میں شائع خبروں کے مطابق قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس واردات کا خود نوٹس لیتے ہوئے بلند شہر کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سے اس بارے میں رپورٹ مانگی ہے۔ کمیشن نے ضلع افسر سے یہ بھی بتانے کو کہا ہے کہ وہ اسکول غریب طبقے کے بچوں کو مفت تعلیم دینے سے متعلق قواعد کی تعمیل کررہا تھا یا نہیں؟
تعلیم کا حق قانون لاگو ہونے کے بعد پرائیویٹ اسکولوں میں 25 فیصدی سیٹیں غریب بچوں کے لئے محفوظ رکھنا ضروری ہوگیا ہے۔ مگر شاید ہی کسی اسکول نے اس قواعد کو دل سے قبول کیا ہے۔ وہ غریب بچوں کے مفادات اور پریشانی کے بجائے اپنا فائدہ سب سے پہلے سوچتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کسی نہ کسی بہانے اقتصادی طور سے کمزور طبقے کے والدین سے بھی پیسے وصولتے ہیں لیکن بڑے شہروں میں پرائیویٹ اسکولوں کے ذریعے اس طرح کا برتاؤ کرنا پھر بھی سمجھ میں آتا ہے لیکن گاؤں یا قصبے کے اسکولوں کے پرنسپلوں و ٹیچروں کے ذریعے اس طرح کے پرانے دقیانوسی طریقوں کا آج بھی استعمال ہونا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ مرکز اور ریاستی سرکار وں کو اس سمت میں اور سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے معاملوں میں کمی آئے۔
(انل نریندر)

روس میں گرے الکاپنڈ ہیروشیما آئٹم بم سے30 گنا طاقتور تھے

ہم لوگ یعنی انسان اپنی روز مرہ کی زندگی یا جدوجہد میں اتنا مصروف ہوجاتے ہیں کہ اوپر والے کا یا قدرت کا کبھی شکریہ ادا نہیں کرتے۔ اس کی کتنی مہربانی ہے کے اس نے ہمیں زندگی بخشی ہے۔ نعمتیں بخشیں ہیں۔ آدمی ہر چیز کو سرسری طور پر لیتا ہے۔ شاید ہی کبھی سوچتا ہے سیکنڈوں میں اس کی ساری دنیا ختم ہوسکتی ہے۔ جب میں نے روس میں الکا پنڈ کی خبر پڑھی تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر کوئی الکاپنڈ بھارت سے ٹکرائے تو کیا ہوگا؟ روس کی یورال پہاڑی کے اوپر جمعہ کی صبح قریب10 ٹن وزنی الکاپنڈ گرا جس سے زبردست دھماکے ہوئے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روسی خطے کے اوپر وایومنڈل کے ساتھ الکا کے ٹکراؤ سے جتنی توانائی نکلی وہ جاپان کے ہیروشیما پر گرے امریکی نیوکلیائی بم سے 30 گنا زیادہ تھی۔ 55 فٹ چوڑا اور10 ہزار ٹن وزنی یہ روس کے اورول پہاڑی زون کے اوپر وایومنڈل کے ساتھ ہوئے ٹکراؤ میں زبردست دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا زبردست تھا کہ ہزاروں آس پاس کی چیزیں تباہ ہوگئیں۔ اس میں قریب1 ہزار لوگ زخمی ہوگئے۔ لوگوں کو اندازہ نہیں تھا آخر ہوا کیا ہے۔ روس کے بسک علاقے میں مقیم ایک شخص سرگائی ہامیتوب نے بتایا کہ ہر آدمی دوسرے کے گھر میں اس کی خیریت جاننے کے لئے دوڑ پڑا۔ یہ جگہ ماسکو سے 1500 کلو میٹر دور چیلیا بسک میں ہی اس کا سب سے بڑا اثر پڑا۔ سرگئی نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ہم نے ایک تیز روشنی دیکھی پھر وہ چمک گئی اور زور سے آواز سنائی دی
۔ کم آبادی والے اس علاقے میں الکاپنڈ گرا ہے جس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور یہ اب ایک نایاب چیز بن گئی ہے۔ لارس نام کی ایک خاتون کو دھماکے کے بعد اپنی چھت کی ٹائلوں میں پھنسا ایک پتھر ملا۔ پیر کو ایک اجنبی ان کے گھر پر آیا اور 3254 روپے میں اسے خریدنے کی پیشکش کی ۔ کہنے لگا تھوڑا مول بھاؤ کرکے سودا 12476 روپے میں طے ہوگیا۔ کچھ گھنٹوں بعد ایک اور شخص آیا اور چھت کے سراخ میں جھانکا اور پتھر کے لئے70500 روپے کی پیشکش کرنے لگا۔ تب تک عورت پتھر کو بیچ چکی تھی۔ لارس کو بہت افسوس ہوا۔ جس دھماکے سے لوگ پہلے ڈرے ہوئے تھے اب اسی سے چاندی ہونے لگی۔ نتیجہ یہ ہوا وہاں برف میں دبے الکا کے ٹکڑوں کے لئے دوڑ لگ گئی۔ بیشک الکا پنڈ جیسی چیزوں کی تجارت غیر قانونی ہے لیکن اس کی وسیع گلوبل مارکیٹ ہے۔ جیسا میں نے شروع میں کہا کہ ہمیں اوپر والے کا ہر وقت شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس کی رحمت سب پر بنی رہے۔
(انل نریندر)

21 فروری 2013

کاٹجو لگتا ہے بولنے سے پہلے اب سوچتے نہیں

شری مارکنڈے کاٹجو جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوا کرتے تھے تو آپ نے کئی لینڈ مارک فیصلے دئے جن کی آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں۔ حالانکہ میڈیا میں بنے رہنے کی عادت تب بھی جسٹس کاٹجو میں تھی لیکن انہوں نے عہدے کی ساکھ کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی اور ان کے برتاؤ پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی لیکن جب سے وہ بھارتیہ پریس کونسل کے چیئرمین بنے ایک کے بعد ایک ایسا متنازعہ بیان دے رہے ہیں کے سمجھ سے باہر کے انہیں کیا ہوگیا ہے؟ کیوں وہ اس طرح کے فضول کے تنازعے کھڑے کرنے کے بیان دے رہے ہیں؟ اب آپ ان کے تازہ معاملے کو ہی لے لیجئے ۔ قابل ذکر ہے پچھلے دنوں مارکنڈے کاٹجو صاحب نے انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ میں ایک آرٹیکل گجرات کی ترقی کے دعوؤں کے بارے میں کچھ سوال اٹھائے تھے۔ مگر یہاں تک بھی بات رکتی تو بات برداشت کرلی جاتی۔ لیکن وہ تو اس سے کہیں آگے بڑھ گئے۔ 2002ء کے گجرات دنگوں کے بارے میں لکھا کہ کوئی سرکار محض وکاس کے نگاڑے بجا کر اتنے بڑے دنگوں کے پاپ نہیں چھپا سکتی۔ کیونکہ ان دنگوں میں جتنی بربریت ہوئی تھی وہ نہ کسی معافی کے لائق ہے اور نہ بھولنے لائق ہے۔ میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ2002ء میں گجرات دنگوں میں مودی کا ہاتھ نہیں تھا۔ کاٹجو نے آگے لکھا کہ ہندوستانیوں کا بڑا طبقہ نریندر مودی کو جدید موسیٰ یا مسیحا کے طور پر پیش کررہا ہے جو دیش کی قیادت کرتے ہوئے لوگوں کو ایسی جگہ لے جائیں گے جہاں دودھ اور شہد کی ندیاں بہتی ہوں۔ مودی کو بھارت کے اگلے وزیر اعظم کے طور پر سب سے بہترین لیڈر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ایسا صرف بھاجپا یا سنگھ ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ پڑھے لکھے نوجوانوں سمیت دیش کا مبینہ تعلیم یافتہ طبقہ بھی یہ ہی راگ الاپ رہا ہے۔ کاٹجو نے لکھا ’’حقیقت میں اس وقت گجرات کے مسلمان ڈرے ہوئے ہیں اگر وہ 2002ء پر کچھ بولیں گے تو ان پر حملہ ہوجائے گا۔ مودی کے حمایتی دعوی کرتے ہیں کہ گودھرا میں 59 ہندوؤں کے قتل کے رد عمل میں گجرات دنگے ہوئے، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ گودھرا کانڈ اب ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ دوسرے گودھرا کے لئے ذمہ دار لوگوں کی پہچان ہونی چاہئے اور انہیں سزا دی جانی چاہئے۔ آخر میں مارکنڈے کاٹجو نے دیش کے لوگوں سے اپیل تک کردی کے دیش کو وہی غلطی نہیں دوہرانی چاہئے جیسے جرمنی نے1933ء میں کی تھی یعنی ہٹلر کو اقتدار میں لاکر ۔کاٹجوکے سوال کا بھاجپا نیتا ارون جیٹلی نے کرارا جواب دیا ہے ۔ میں آج اس پر بحث نہیں کروں گا کیونکہ میرے سوال کاٹجو صاحب سے مختلف ہیں۔ کاٹجو صاحب آج کس عہدے پر ہیں اور کس لئے ہیں یہ یاد کرانا ضروری ہوگیا ہے۔ پریس کونسل آف انڈیا ایکٹ 1978 کی دفعہ7(1) میں صاف لکھا گیا ہے کہ کونسل کا چیئرمین (اس کیس میں ماکنڈے کاٹجو) پورے وقت کے لئے سرکاری ملازم ہوں گے۔ ان کی تنخواہ و دیگر سہولیات حکومت ہند کی طرف سے دی جائیں گی یعنی یہ فل ٹائم سرکاری افسر ہیں۔ کیا ہمیں کاٹجو صاحب کو بتانا پڑے گا کہ سرکاری افسر کیا کرسکتا ہے کیا نہیں۔ ضابطے نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ان کا بنیادی کام میڈیا پر نظر رکھنے کا ہے۔ چینلوں پر کوئی اعتراض آمیز چیز تو نہیں دکھائی جارہی ہے۔ اخبارات میں کوئی اعتراض آمیز آرٹیکل یا تبصرہ تو نہیں شائع ہورہا ہے۔ یہ ہے ان کا کام ، یہ نہیں کہ کبھی کہہ دیں کہ بہار میں نتیش کمار نے میڈیا کا گلا گھونٹ دیا ہے، یا ممتا بنرجی تاناشاہ بن گئی ہیں۔ شریمان جی کے جو منہ میں آتا ہے بغیر سوچے سمجھے بول دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ دیش میں99 فیصد لوگ بیوقوف ہیں تو کبھی کہہ دیتے ہیں کہ کشمیر کا پائیدار حل ہے بھارت۔ پاک کا انضمام۔ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کاٹجو اتنے ناراض ہوگئے کیونکہ ان سے تلخ سوال پوچھے جارہے تھے انہوں نے صحافی کو گیٹ آؤٹ تک کہہ ڈالا۔ کیا کاٹجو یہ سب کانگریس پارٹی کے کہنے پر کررہے ہیں؟ ہمیں نہیں لگتا کہ کانگریس اتنی نا اانصافی سے کام لے گی اور اپنا مذاق بنوائے گی۔ یہ تو کاٹجو صاحب اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کی زبان بول رہے ہیں۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو کی باتیں اتنی ایک طرفہ اور غیر متوازن لگتی ہیں کہ ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ وہ آج ایک ایسے عہدے پر فائض ہیں جس عہدے کا وقار ایسے بیانوں سے بڑھتا نہیں گرتا ہے۔بجٹ سیشن شروع ہونے والا ہے۔ کاٹجو نے کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار کا ایک اور درد سر بڑھا دیا ہے۔
(انل نریندر)

کیا بجٹ سیشن ٹھیک سے چل سکے گا؟ذمہ دار کون ہوگا؟

بجٹ اجلاس شروع ہونے والا ہے۔ اشارے تو صاف ہیں کہ یہ اجلاس ہنگامے دار رہے گا۔ اول تو زیادہ دن ٹھیک طور سے نہیں چلے گا اور چلا بھی تو یوپی اے سرکار زیادہ وقت تک کٹہرے میں کھڑی رہے گی۔ اپوزیشن کے پاس بہت بارود ہے۔ ہیلی کاپٹر سودا، بھگوا آتنک واد، پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں اور مہنگائی میں اضافہ ،بگڑتا لا اینڈ آرڈر، کورین معاملہ وغیرہ وغیرہ یہ سب اشو اٹھیں گے۔ بھگوا آتنک واد پر بھاجپا کا موقف صاف ہے جب تک وزیر داخلہ اپنا بیان واپس نہیں لیتے اور معافی نہیں مانگتے ان کا بیان جاری رہے گا۔ کانگریس پارٹی بیشک اس موقف پر اعتراض کرے لیکن تاریخ گواہ ہے کانگریس نے بھی یہ ہی سب کچھ کیا تھا جب وہ اپوزیشن میں ہوا کرتی تھی اور این ڈی اے کا راج تھا۔ تابوت گھوٹالے کو لیکر جارج فرنانڈیزکا بائیکاٹ مہینوں تک چلا، رہی بات پارلیمنٹ کو ٹھپ کرنے کی تو کانگریس یہ کیوں بھول رہی کہ جب اقوام متحدہ سکریٹری جنرل اور بعد میں امریکہ کے صدر جارج بش بھارت آئے تو انہیں سینٹرل ہال میں ممبران کو خطاب کرنا تھا لیکن کانگریس نے نہ صرف بائیکاٹ کیا بلکہ دونوں غیر ملکی مہمانوں کو بولنے سے روک دیا۔ دیش کے بارے میں دنیا کو پتہ نہیں کہ کیا سندیش دینا چاہتے تھے؟ کانگریس کی سب سے بڑی مشکل اب یہ ہے کہ ان کے پاس پرنب مکھرجی جیسا سنکٹ موچک کوئی نہیں بچا۔ پرنب دا جیسے تیسے کرکے اپوزیشن کو منا لیاکرتے تھے اور کام چلاؤ راستہ نکال لیا کرتے تھے لیکن ان کے صدر بننے کے بعد اب کانگریس کی فلور مینجمنٹ زیرو ہوگئی ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے خود کمان سنبھالی ہے لیکن وہ رعوب سے زیادہ کام لیتی ہیں اور چوری اور سینا زوری دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پارلیمنٹ کو چلانے کی ذمہ داری حکمراں فریق کی ہوتی ہے۔ ہم ایک جمہوری دیش ہیں اور جمہوریت میں اپوزیشن کو اپنی بات منوانے کے لئے پارلیمنٹ کو ٹھپ کرنے کا اختیار ہے۔ یہ کانگریس کا فرض بنتا ہے۔ یوپی اے سرکار کا فرض بنتا ہے کہ وہ اول تو اپوزیشن کی مانگوں پر سنجیدگی سے غور کرے اور ہل نکالنے کی کوشش کرے۔ ہوتا کیا ہے پارلیمنٹ ٹھپ کر جب کوئی اور راستہ نہیں نکلتا تو اپوزیشن کی مانگ آخر میں مان لیتے ہیں۔ ہم نے ٹو جی اسپیکٹرم میں اپوزیشن کی جے پی سی بنانے کے معاملے کو دیکھا کہ کس طرح سرکار پہلے نہیں مانی اور جب کام پوری طرح ٹھپ ہوگیا تو جاکر مانیں ۔ اگر وہ پہلے ہی مان جاتی تو شاید پارلیمنٹ ٹھپ نہیں ہوتی۔ حکمراں فریق کو اپوزیشن کو اپنی ایمانداری سے مطمئن کرنا پڑے گا۔ لیپا پوتی سے معاملہ بننے والا نہیں۔ پھر یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہوگا کہ صرف بھاجپا ہی پارلیمنٹ ٹھپ کرنے میں لگی رہتی ہے۔ حکمراں فریق کی ایک پارٹی بھی اپنے اشو اٹھاتی ہے۔ مثال کے طور پر کانگریس ایم پی تلنگانہ اشو اٹھا سکتے ہیں۔ ممتا مغربی بنگال میں کانگریس کی سرگرمیوں پر بھی ہنگامہ کر سکتی ہے۔ اس سب کے باوجود سبھی فریقین کی کوشش ہونی چاہئے کہ پارلیمنٹ ٹھیک ٹھاک چلے۔ آخر غریب جنتا کی کروڑوں روپے کی کمائی یوں ہی برباد ہونے سے روکنا چاہئے۔
(انل نریندر)

20 فروری 2013

ارون جیٹلی کی جاسوسی کون کررہا ہے اور کیوں؟

پچھلے کئی دنوں سے سیاسی حلقوں میں یہ بحث زوروں پر جاری تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی کا فون ٹیپ ہورہا ہے۔ کیا ارون جیٹلی کی کوئی جاسوسی کررہا ہے؟ یہ سوال جیٹلی کی کال ڈٹیل کی مبینہ جانچ کو لیکر کھڑا ہوا۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاوڑیکراور پارٹی پردھان راجناتھ سنگھ نے معاملے کی سنجیدگی کو بتاتے ہوئے وزیر داخلہ سے سوال کیا ہے کہ ایسا کس کے کہنے پر کیاگیا۔ اب اس معاملے میں پردہ اٹھ چکا ہے۔ اس سے پہلے پرکاش جاوڑیکر نے سرکار نے سوال کیا کہ آخر اس کے راج میں کیا ہورہا ہے؟ یہ جاسوسی کیوں کی جارہی ہے؟ دیش میں جمہوریت ہے یا تاناشاہی لاگو ہوگئی ہے؟ وزیر داخلہ کو صفائی دینی چاہئے۔ ارون جیٹلی کے فون نمبر کی تفصیلات نکلوانے کے معاملے میں آہستہ آہستہ پرتیں کھل رہی ہیں۔ پونٹی چڈھا کے بھائی ہردیپ چڈھا کی کا ل ڈٹیل میں ملے نمبروں کی اناپ شناپ تفصیل ساؤتھ دہلی پولیس نے جانچ کے دوران نکلوائی تھی۔ ان میں جیٹلی کا بھی نمبر آیا۔ ساؤتھ ڈسٹرکٹ پولیس کے آپریشن سیل کے اے سی بی کلونت سنگھ نے اسپیشل سیل کو بتایا کہ 17 نومبر کو چھترپور میں پونٹی چڈھا اور اس کے بھائی ہردیپ چڈھا کے قتل کے بعد ان کی کال ڈٹیل میں ملے فون نمبروں کی ملکیت حاصل کی گئی تھی۔ ہردیپ کی کال ڈٹیل میں ملے نمبروں میں سے ایک نمبر ارون جیٹلی کا بھی تھا۔ ہردیپ کی موت سے ایک دن پہلے ان کی جیٹلی سے بات ہوئی تھی۔ ان کی بات چیت کا تعلق چڈھا بندھوؤں کے قتل کانڈ سے نہ ملنے کی وجہ سے جیٹلی سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی گئی تھی۔ یہ معاملہ نومبر میں ہی ختم ہوگیا تھا۔ پولیس کو اس نمبر کی آنر شپ ملنے کے بعد ہی جانکاری ملی تھی کہ یہ نمبر جیٹلی کا ہے۔ جنوری میں ایئرٹیل کو نئی دہلی ڈسٹرکٹ پولیس کے آپریشن سیل کے اے سی پی کی طرف سے ای میل ملا تھا جس میں ایک نمبر کی کال ڈٹیل ریکارڈ بھیجنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ایئر ٹیل کے افسروں نے وہ نمبر ارون جیٹلی کا ہونے کی وجہ سے اسے اپنے نوڈل افسر کو اے سی پی دھوپ سنگھ شوقین سے تصدیق کرنے کو کہا۔ چانکیہ پوری کے اے سی پی دھوپ سنگھ ہی آپریشن سیل کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے تب یہ راز کھلا کے جیٹلی کی کال ڈٹیل کوئی غیر ضروری طور پر مانگ رہا تھا۔ جانچ کے بعد اسپیشل سیل نے جمعہ کو آئی آئی ٹی ایکٹ کے تحت کانسٹیبل اروند ڈباز کو گرفتار کیا۔ وہ پچھلے سال نئی دہلی کے اسپیشل اسٹاف میں تعینات تھا اس وجہ سے ڈباز اے سی پی کے ای میل کا پاس ورڈ جانتا تھا۔ سینئر افسروں نے بتایا کہ ڈباز پونٹی۔ ہردیپ مرڈر کی وجہ سے جیٹلی کی سی ڈی آر نہیں مانگ رہا تھا اسے اترا کھنڈ کے کسی لیڈر نے یہ ہردیپ مرڈر کیس میں گرفتار سکھدیو سنگھ نامدھاری کے کسی آدمی نے یہ تفصیل نکالنے کے لئے ہائر نہیں کیا تھا۔ ڈباز یہ جعلسازی ذاتی وجہ سے کررہا تھا۔ 
دراصل ڈباز اپنی زمین کے معاوضے میں سے ایک کروڑ روپے دہرہ دون میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے وہاں کے کسی بھاجپا نیتا کو دے چکا تھا۔ وہ نیتا اسے دھوکا دے رہا تھا۔ نوئیڈا کے کسی آدمی نے اس کو جیٹلی کا قریبی بتاتے ہوئے ڈباز کو بھروسہ دلایا کے اگر وہ اسے10 لاکھ روپے دے دے تو دہرہ دون کے بی جے پی نیتا کو وہ جیٹلی سے فون کرادے گا۔ اس نے یقین دلانے کے لئے جیٹلی کا نمبر ڈباز کو دیا تھا۔ ڈباز نے اس نمبر کی اصلیت کا پتہ لگانے کے لئے اس کی آنرشپ ہی نہیں بلکہ سی ڈی آر بھی مانگنے کے لئے ایئر ٹیل کو ای میل کیا تھا۔ اس کہانی میں کتنا دم ہے اس کا پتہ نہیں لیکن یہ صاف ہے کہ جیٹلی کے فون کی تفصیلات لینے کی کوشش ہوئی ہے اور وہ بھی ایک دو نہیں چار چار بار۔ پولیس دفتروں سے ایسے میں سوال ہے کیا کوئی جیٹلی کی جاسوسی کرنے کی کوشش کررہا ہے؟ وزارت داخلہ نے بھی فون ٹیپنگ کے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور اس معاملے میں پولیس سے پوری رپورٹ مانگی ہے۔
(انل نریندر)

مجبور ماں نے اختیار کیاآخری متبادل

ایم ڈی ایل آر ایئر لائنس کی سابق ایئر ہوسٹس گتیکا شرما کا خاندان اس کے سوسائڈ نوٹ سے ابھی تک صدمے سے نجات نہیں حاصل کرپایا تھا کہ اس کے خاندان میں ایک اورٹریجڈی ہوگئی۔ گتیکا کی ماں انورادھا شرما نے بھی پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ ان کے بعد انورادھا کے شوہر اور ان کا بیٹا انکت بچا ہے۔ پتہ لگا ہے کہ انورادھا نے بھی اسی کمرے میں پھانسی لگائی جس کمرے میں پچھلے سال4 اگست کی رات کو ان کی بیٹی پنکھے سے لٹکی پائی گئی۔ جس وقت انورادھا نے خودکشی کی اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا۔ انورادھا نے اپنے خودکشی نامے میں اپنی موت کی وجہ ایم ڈی ایل آر ایئر لائنس کے مالک گوپال گوئل کانڈا اور ان کی کمپنی کے کبھی ایچ آر منیجر کے طور پر کام کرنے والی افسر ارون چڈھا کو ذمہ دار بتایا ہے۔ سوسائڈ نوٹ میں اور بھی کئی سنگین باتیں لکھی ہیں جن کی پولیس جانچ کررہی ہے۔ متوفی خاتون انورادھا شرما نے اپنے خودکشی نامے میں لکھاہے ’’میں اپنی زندگی اس لئے ختم کررہی ہوں کیونکہ میں اندر ہی اندر کشیدگی سے ٹوٹ چکی ہوں لہٰذا میں آج اپنی زندگی ختم کرنے جارہی ہوں۔ میرا بھروسہ ٹوٹ چکا ہے۔ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ دو شخص میری موت کے لئے ذمہ دار ہیں ارون چڈھا اور گوپال کانڈا۔ دونوں نے میرا بھروسہ توڑا اور اپنے فائدے کے لئے میرا استعمال کیا۔ انہوں نے میری زندگی برباد کردی اور اب میرے خاندان کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ میرا خاندان بہت بھولا ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ گوپال کانڈا تو اس وقت جیل بند ہے۔ دہلی پولیس گوپال کانڈا اور ارون چڈھا کے خلاف چارج شیٹ داخل کرچکی ہے اور روہنی کورٹ میں الزام پر بحث ہونی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے گوپال کانڈا کو بچانے کے لئے اب ان کے با اثر لوگ حرکت میں آگئے ہیں۔ الزام ہے کہ کیس میں سمجھوتہ کرانے کو لگاتار دباؤ ڈالا جارہا تھا جن میں کچھ ایک پولیس افسر بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ کانڈا کی حمایت کرنے والوں میں شامل پولیس افسر ہریانہ کے ہیں۔ ادھر دہلی پولیس کے سینئر افسروں کا کہنا ہے اس طرح کی کوئی شکایت گتیکا کے خاندانوں تک نہیں پہنچائی گئی۔ گتیکا کے بھائی نے دھمکی ملنے کے بعد الزام لگایا تھا کہ اس کو پولیس پروٹیکشن کی پیشکش کی گئی تھی۔ انورادھا کی موت کی وجہ کیا رہی اس بات کی جانچ جاری ہے۔ سوسائڈ نوٹ کی بنیاد پر خودکشی کے لئے اکسانے ، گواہوں پر دباؤ ڈالنے، دھمکانے کا کیس درج کیا جائے گا۔ وہیں خاندان سے جڑے ذرائع کا کہنا ہے گوپال کانڈا کو سزا میں ہورہی دیری کی وجہ بھی گتیکا کی ماں کی خودکشی کا سبب ہے۔ اسے بے چینی کہیں یا قانونی شکنجے کے اور زیادہ کسنے کا ڈر۔ تہاڑ جیل میں بند گوپال کانڈا کو جیسے ہی گتیکا کی ماں انورادھا کی خودکشی کا پتہ چلا تو وہ ہکا بکا رہ گیا اور کچھ دیر ماتھا پکڑے بت بن کر بیٹھا رہا۔ بے چینی کا عالم تب اور بڑھ گیا جب اسے پتہ چلا انورادھا نے مرنے سے پہلے ایک سوسائڈ نوٹ بھی چھوڑا ہے۔ اس تکلیف دہ واقعہ پر سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ پورا خاندان ہی تباہ ہوگیا ہے۔
(انل نریندر)

19 فروری 2013

اور اب جنگ ہوگی شیلا دیکشت بنام وجے گوئل

بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی یونٹ کے صدر کو لیکر کافی عرصے سے جاری کشمکش اب ختم ہوگئی ہے۔ پارٹی کے قومی صدر راجناتھ سنگھ نے تمام مخالفتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سینئر اور وفادار بھاجپا نیتا وجے گوئل کے نام پر مہر لگادی ہے۔ شری وجے گوئل نے وفادارسبکدوش پردھان وجیندر گپتا کی جگہ ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ وجے گوئل طالبعلمی کے زمانے سے ہی بھاجپا کی سیاست میں سرگرم رہے۔ انہوں نے صدر بازار سے کانگریس کے سرکردہ لیڈر جگدیش ٹائٹلر کو چناؤ میں ہراکر پہلا لوک سبھا چناؤ جیتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے چاندنی چوک سے دہلی کانگریس پردھان جے پرکاش اگروال کو لگاتار دوبار چناؤ میں ہرایا۔ وہ اٹل بہاری وجپئی کی حکومت میں مرکزی وزیر رہے۔وہ دہلی بھاجپا کی عہدے کو لیکر چل رہی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ پارٹی کی گروپ بندی سے بچانے کے لئے اسمبلی چناؤ تک وجیندر گپتا کو ہی پردھان بنائے رکھا جائے ،یہ بہت سے لوگوں کی اپنی رائے تھی تاکہ گروپ بندی پر لگام لگی رہے۔ لیکن آخری وقت میں وجے گوئل اور ڈاکٹرہرش وردھن دوڑ میں باقی تھے لیکن پارٹی پردھان راجناتھ سنگھ نے وجے گوئل کو چنا اور ڈاکٹر ہرش وردھن پہلے بھی دہلی بھاجپا کے پردھان رہ چکے ہیں۔ وجے گوئل کے پردھان بننے سے دہلی کے سیاسی تجزیئے بھی ایک جھٹکے میں بدل گئے کیونکہ فی الحال بی جے پی اس بات پر غور کررہی ہے کہ دہلی میں کسی کو بھی وزیر اعلی کے طور پر پروجیکٹ نہ کیا جائے۔ ایسے میں وجے گوئل کے پردھان بننے کے بعد اگلے اسمبلی چناؤ میں لڑائی شیلا دیکشت بنام وجے گوئل ہوسکتی ہے۔ ایسے میں وجے گوئل کے لئے یہ چیلنج ہوگا کہ ایک طرف وہ اپنی پارٹی میں چل رہی رسہ کشی پر قابو کیسے کرتے ہیں دوسری طرف وہ کس طرح سے دہلی سرکار کو بیک فٹ پر ڈھکیلنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
وجیندر گپتا تمام خوبیوں کے باوجود کئی نیتاؤں کو ساتھ لیکر نہیں چل پارہے تھے ایسے میں پارٹی کے لئے سب سے بڑی چنوتی یہ تھی کہ شیلا دیکشت کو چوتھی بار اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے ایسے نیتا کو لایا جائے جو ٹکر دے سکے۔ حالانکہ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ وجے گوئل کے مقابلے میں شیلا دیکشت کسی طرح سے کمزور ہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کے وجے گوئل کے آنے سے کانگریس کی پریشانی ضرور بڑھ جائے گی۔ وجے گوئل کے بارے میں پارٹی لیڈر شپ کا خیال ہے کے ان کی زمین سے جڑی ساکھ اور وفاداری کانگریس کے لئے چنوتی ضرور پیش کرے گی ویسے اس سے پہلے بھی وجے گوئل شیلا دیکشت سرکار کے لئے پریشانی کا سبب بنتے رہے ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز سے لیکر بجلی کے نجلی کرن تک کے معاملوں تک کے لئے وجے گوئل ہی دہلی سرکار کو گھیرتے رہے ہیں جس سے ان کی ساکھ لوگوں میں بڑھی ہے۔ نئے پردھان کی شکل میں ان کی سب سے بڑی چنوتی یہ ہی ہوگی کہ دہلی میں اپنی نئی ٹیم بنائیں کیونکہ اب چناؤ میں 10 مہینے سے بھی کم وقت بچا ہے ایسے میں انہیں اپنی متوازن ٹیم بنانے کے لئے سب سے پہلے کافی غوروخوض کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسری بڑی چنوتی یہ ہے کئی ٹکڑوں میں بٹی پارٹی کو متحد رکھنا، پردھان بننے پر وجے گوئل کو مبارکباد۔
(انل نریندر)

آخرکار پونٹی چڈھا قتل کانڈ میں چارج شیٹ داخل

17 نومبر2012ء کو چھترپور میں واقع پونٹی چڈھا، ہردیپ چڈھا قتل کانڈ نے سبھی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دہلی پولیس نے آخر کار پونٹی اور ہردیپ چڈھا معاملے میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ چارج شیٹ اتراکھنڈ اقلیتی کمیشن کے برخاست ایس ایس نامدھاری اور ان کے پرائیویٹ سکیورٹی افسر سچن تیاگی سمیت22 لوگوں کے خلاف داخل کی گئی ہے۔ قریب ایک ہزار سے زائد صفحات پر مبنی چارج شیٹ میں پولیس نے کل 110 لوگوں کو بطور گواہ بنایا ہے۔ عدالت نے نامدھاری اور10 دیگر ملزمان کو پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اگلی سماعت19 فروری یعنی آج ہوگی۔ 22 ملزمان میں سے پولیس نے نامدھاری اور اس کے پی ایس او سچن تیاگی اور دیگر کو گرفتار کررکھا ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں انہوں نے ایک دوسرے شخص نریندر اہلاوت کو بھی گرفتار کیا ہے اور اس کے خلاف جلد ہی ضمنی چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔ عدالت نے ناراضگی ظاہر کی تھی کہ پولیس نے ابھی تک چارج شیٹ داخل کیوں نہیں کی جبکہ میعاد17 فروری کو پوری ہورہی ہے۔ قتل معاملے میں ملزم کی گرفتاری کے 90 دندوں کے اندر اگر چارج شیٹ داخل نہ کی جائے تو ملزم کو سی آر پی سی کی دفعہ کے تحت ضمانت مل جاتی ہے۔ چارج شیٹ میں19 لوگوں کے خلاف قتل کا الزام نہیں ہے۔ ان کے خلاف اقدام قتل اور سنگین چوٹ پہنچانے ، اغوا و مجرمانہ سازش رچنے اور ثبوت مٹانے، غیر قانونی طریقے سے یرغمال و ہتھیار ایکٹ وغیرہ میں مقدمہ چلانے کی مانگ عدالت سے کی گئی ہے۔پولیس نے ایڈیشنل مجسٹریٹ مکیش کمار کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس میں نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے بنیادی ملزم نامدھاری اور دیگر کو 19 فروری یعنی آج عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نامدھاری کے علاوہ پونٹی چڈھا کو واردات کا بنیادی سازشی کہا گیا ہے۔ فارم ہاؤس نمبر42 پر زبردستی قبضہ کرنے کے لئے سازش رچی گئی تھی۔ چارج شیٹ میں نامدھاری کا پرائیویٹ گارڈ سچن تیاگی اور دیگر لوگوں کے نام شامل ہیں۔ یہ دونوں ہتھیار سے مسلح ہوکر فارم ہاؤس پر قبضہ کرنے گئے تھے۔ کیونکہ پونٹی کی موت ہوچکی ہے اس لئے اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلے گا۔ جب پونٹی کا بھائی ہردیپ فارم ہاؤس میں موقعہ پر پہنچا تب پونٹی کے آدمی فارم ہاؤس گیٹ پر تالا لگا رہے تھے۔ اس دوران ہردیپ نے گیٹ پر تالا لگانے والے شخص پر گولی چلائی اور ساتھ ہی پونٹی پر بھی گولی چلا دی۔ اس دوران نامدھاری اور اس کے پی ایس او تیاگی نے ہردیپ کو گولی ماردی۔ اب کیس چلے گا اور دیکھیں عدالت میں کیا کیا بات سامنے آتی ہے۔ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اس کے پیچھے بہت گہری سازش ہے اور معاملہ اتنا معمولی نہیں ہے جتنا چارج شیٹ میں بتایا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

17 فروری 2013

انشکا شنکر کا1’ بلین رائزنگ‘ ابھیان رنگ لایا

جب میرے پاس بھارت رتن سے سنمانت ستاروادک پنڈت روی شنکر کی بیٹی انشکا شنکر کا ایک ای میل آیا، جس میں اس نے خلاصہ کیا کے برسوں تک ان کا جنسی استحصال ہوتارہا، تو مجھے دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔ انشکا کا پیغام صاف تھا کہ بہت ہوچکا اب اور نہیں۔ انہوں نے مجھے’ 1 بلین رائزنگ‘ نام سے شروع کی مہم میں اپنی منظوری دینے کوکہا، جس کو میں نے بلاتاخیر منظور کرلیا۔ انشکا نے بتایا کے بچپن میں ایک ایسے شخص نے کئی برسوں تک اس سے جسمانی اور ذہنی استحصال کیا جس پر ان کے ماں باپ بیحد بھروسہ کیا کرتے تھے۔ بقول انشکا ایک عام عورت کی طرح مجھے بھی زبردستی چھیڑنے ، فقرے کسنے جیسے کئی طرح کی اذیتوں کا شکار ہونا پڑا۔ اس کا کہنا ہے کہ بچی ہونے کے سبب ان چیزوں سے وہ نمٹنا نہیں جانتی تھی۔31 سالہ ستاروادک نے آبروریزی کے بعد عورتوں کے خلاف جو آن لائن مہم ’1 بلین رائزنگ‘ چلائی،شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوگا کہ وہ اتنی کامیاب ہوگی۔ راجدھانی دہلی میں عورتوں پر بڑھتے مظالم اور استحصال کے خلاف جمعرات کو ایک بار پھر سے بڑی تعداد میں عورتوں نے سڑکوں پر اتر کر ’1 بلین رائزنگ‘ مہم کی حمایت کرنے کے لئے اپنی آواز بلند کی۔ عورتیں ماتھے پر ’’بس عورتوں پر ظلم اب اور نہیں ‘‘ لکھی گلابی پٹی باندھ کر احتجاج کررہی تھیں۔ آبروریزی و تشدد کے لئے اکثر عورتوں کو چھوٹے کپڑے پہننے کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے لوگوں کو دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر الگ الگ علاقے سے ساڑی ،کرتا پائجامہ، سوٹ شلوار، منی اسکرٹ پہنے پہنچی عورتوں کو دیکھنا چاہئے تھا،وہ کہہ رہی تھیں کہ مردوں کی ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کپڑوں کو دکھانے کے پیچھے محض ایک دلیل ہے کہ عورتیں کسی بھی طرح کے کپڑے پہنتی ہیں تب بھی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ عالمی سطح پر منعقدہ ’1 بلین رائزنگ‘ مہم چاہے ہر سال منعقد ہوتی تو لیکن اس بار وہ اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دی۔ساؤتھ ایشیا سطح پر اس کی مہم میں رنگت اور جوش بھی دکھائی دیا۔ قریب 70 تنظیموں نے مل کر کام کیا۔ دہلی میں اسے کامیاب بنانے کے لئے پچھلے چھ مہینوں سے کام چل رہا تھا۔ 200 ملکوں میں ایک ساتھ یہ مہم چلائی گئی۔ یہ مہم 10 ہزار سے زیادہ لوگوں نے13 ہزار تنظیموں نے اور دیش بھر میں اسے کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ ’’جاگو رے دہلی جاگو‘‘ ،’بند کرو، بس کرو عورتوں پر تشدد اور نہیں‘‘، ’تشدد سے آزاد زندگی جینے کا حق ہمارا‘‘ جیسے جوش برے نعروں کے ساتھ شروع ہوئی موسیقی پرمبنی ’1 بلین رائزنگ‘ مہم میں شامل کئی چہرے چاہے ایک دوسرے سے انجان تھے لیکن سبھی کی مانگیں اور کوشش ایک تھی۔ اس مہم کے ذریعے پوری دنیا سے وہ کہنا چاہتی تھیں کہ عورتوں کو برابری اور یکسانیت کے ساتھ تشدد سے پاک زندگی جینے کا حق ہے۔ ویلینٹائن ڈے پر منعقدہ اس مہم کو جو باقی مظاہروں کی طرح صرف احتجاج کا نظریہ نہیں بنایا گیا بلکہ دنیا بھر میں عورتوں کے حق اور سکیورٹی کے ساتھ آئے لوگوں کے اتحاد اور چوکسی کے جشن کے طور پر منایا گیا۔ انشکا بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار وادک پنڈت روی شنکر کی بیٹی ہیں۔ ان کے اس خلاصے سے بیحد اہم اور تمام آئینی پہلوؤں پر روشنی ڈالنی پڑتی ہے۔ پنڈت روی شنکر کسی غریب ناخواندہ اور ایک مشترکہ کنبے کے فرد نہیں تھے ، ان کے بیٹی ایسی خوشحال اور جدید طرز کی زندگی میں پلی بڑھی تھی جن کا ایک پاؤں بھارت میں دوسرا پاؤں بیرونی ممالک میں ہوتا ہے۔ لیکن انشکا کے اس سنسنی خیز انکشاف سے صاف ہوتا ہے کہ بچیوں کے جنسی استحصال کا ٹرینڈ کچھ خاص طرح کے سماج یا ماحول تک محدود نہیں ہے۔ یہ مبینہ اونچی سوسائٹی میں موجود ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس خلاصے سے عام تصور بھی غلط ثابت کرتا ہے کہ آرٹ اور کلچر وغیرہ سے وابستہ لوگ تشدد اور جرائم اور استحصال جیسی ذہنی بیماریوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ حالانکہ انشکا نے اس بے بھروسے شخص کی پہچان ظاہر کرنے سے پرہیز کیا ہے۔ باوجود اس کے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ جنتا کی نظروں میں ہیروئن کا درجہ پاچکے لوگوں میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنی آپ بیتی سماج کے سامنے بیباکی سے رکھی ہے۔ جو ہمت انشکا نے دکھائی ہے امید ہے اس سے دیگر لڑکیاں بھی تلقین لیں گی اور سامنے آئیں گی۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انشکا کی اس مہم کی حمایت کریں اور عورتوں کے خلاف بڑھتے مظالم کو روکنے کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود دہلی آج بھی عورتوں کیلئے محفوظ شہر نہیں ہے اور یہ میں اکیلے نہیں کہہ رہا ہوں۔ دہلی کی وزیراعلی شیلا دیکشت نے وزیراعظم منموہن سنگھ و وزیر داخلہ سشیل کمارشندے کو خط لکھ کر شکایت کی ہے کے دہلی میں قانونی انتظام خاص کر عورتوں کے لئے سلامتی تشفی بخش نہیں ہے۔
(انل نریندر)

سہارا چیف کی پراپرٹی قرق کرنے کا معاملہ

سہارا گروپ کی مشکلیں کم ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے سخت تبصرے کے بعد شیئر بازار اور سیبی نے گروپ کی دو کمپنیوں اور گروپ کے چیف سبرت رائے اور دیگر تین سرمایہ کاروں کے بینک کھاتے اور ڈپازٹ کھاتے سیل بند کردئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سیبی نے سبرت رائے اور دیگر ترین سرمایہ کاروں کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد بھی قرق کرلی ہے۔ سیبی نے یہ کارروائی عدلیہ کے حکم کے باوجود سرمایہ کاروں کو 24 ہزار کروڑ روپیہ نہیں لوٹانے کے معاملے میں کی ہے۔ اصل میں معاملے کچھ یوں ہیں سہارا گروپ کی دو کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹریٹ کارپوریشن اور سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن پر سیبی کی بغیر منظوری سے بازار سے پیسے اکٹھا کرنے کا مقدمہ چلا۔ گروپ کی دونوں کمپنیوں نے تین کروڑ سرمایہ کاروں سے 17 ہزار500 کروڑ روپے اکٹھے کئے ہیں۔سپریم کورٹ نے15 فیصدی سود کے ساتھ سرمایہ کاروں کورقم لوٹانے کو کہا تھا اور حکم دیا تھا۔ کورٹ نے یہ رقم تین قسطوں میں دینے کوکہا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سہارا نے پرتی بھوتی اپیل ٹریبونل میں اپیل کی۔ سیٹ نے سیبی کا حکم برقرار رکھا۔اس کے خلاف سہارا نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ 1 دسمبر2012ء کو سپریم کورٹ نے سہاراگروپ کو تین قسطوں میں لوٹانے کی مہلت دی تھی۔ اس میں5120 کروڑ روپے فوراً ادا کرنے تھے۔ وہیں 10 ہزار کروڑ کی پہلی قسط اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں دینی تھی، باقی رقم فروری کے پہلے ہفتے میں لوٹانی تھی۔ سیبی نے بدھوار کو کہا کہ گروپ نے باقی دو قسطوں کی ادائیگی نہیں کی اس لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پربینک کھاتوں پر روک اور گروپ کے چیف سبرت رائے کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد قرق کرنے کی کارروائی کرنی پڑی۔ دوسری طرف سہارا گروپ کا دعوی ہے کہ وہ سرمایہ داروں کو19400 کروڑ روپے پہلے ہی ادا کرچکا ہے۔ جہاں تک 5120 کروڑ روپے کی ادائیگی کی بات ہے اس میں 2620 کروڑ روپے ہی سرمایہ کاروں کو واپس دئے جانے ہیں۔ سیبی نے اس کارروائی کی اطلاع آر بی آئی و انفورسمنٹ محکمے کو بھیج دی ہے۔ ساتھ ہی سیبی نے حکم دیا ہے کہ سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے و دیگر تینوں سرمایہ کار اپنے شیئر کسی کو منتقل نہیں کرسکتے۔ سیبی نے سہارا گروپ کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سبرت و تین ڈائریکٹروں وندنا بھارگو، روی شنکر دوبے، اشوک رائے چودھری سمیت گروپ کی دو کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹریٹ کارپوریشن، سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن کے بینک کھاتے و ڈپازٹ کھاتے منجد کردئے گئے ہیں۔ سیبی کی کارروائی کے ردعمل میں سہارا نے جاری بیان میں دوہرایا ہے کہ کمپنی کی کل دینداری 5120 کروڑ روپے سے زیادہ نہیں ہوگی اور کمپنی یہ رقم پہلے ہی سیبی کے پاس جمع کراچکی ہے۔ سہارا نے کہا سپریم کورٹ کے سیبی کے پاس قسطیں جمع کرنے سے متعلق حکم کو لیکر کمپنی نے بڑی عدالت میں ایک انترم درخواست دی ہے جس پر جلد ہی سماعت ہونی ہے۔ سہارا کا کہنا ہے کہ سیبی نے پرانے حقائق اور اعدادو شمار کی بنیاد پر کمپنی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس نے نئے حقاق پر غور نہیں کیا۔ سیبی کا پرائیویٹ اشخاص کی پراپرٹی قرق کرنا صحیح قدم نہیں ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...