Translater

18 جون 2011

انا کے لوک پال بل کو جوک پال بل بنانے کی کوشش

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
18 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 لگتا ہے کہ انا ہزارے کے لوک پال بل پر صدی کے سب سے بڑے چاند گرہن کا اثر ہوگیا ہے۔ لوک پال بل جوک پال بل بن کر رہ گیا ہے۔ دیش کو بہت امید تھی کہ سول سوسائٹی کے نمائندے اورحکومت کے درمیان شاید کوئی رضامندی ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔انا اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ سرکار ہماری دلیلیں سننے کوتیار نہیں تھی اور محض اپنی بات کرتی رہی۔ سرکار یہ ہی چاہتی ہے کہ لوک پال کے نام پر11 نفری ایک باڈی بنے جو اعلی سطح کے کچھ معاملوں میں بدعنوانی کی جانچ کرے۔ اس کے پاس اپنی کوئی جانچ ایجنسی نہیں ہے جبکہ سول سوسائٹی چاہتی ہے کہ اس باڈی کو سبھی سطح پر کرپشن کی جانچ اور سزا طے کرنے کا حق ملے۔اس کے پاس جانچ کی اپنی مشینری ہو تاکہ وہ حکومت سے آزاد رہے۔ وزیر اعظم اور جج صاحبان کو جانچ کے دائرے میں لانے پر اتفاق رائے نہیں ہوپایا۔ دونوں ہی فریقین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 15 جون کی اس میٹنگ میں وزیر اعظم اور بڑی عدلیہ اور پارلیمنٹ کے اندر ممبران کے برتاؤ کو مجوزہ لوک پال کی جانچ کے دائرے میں لانے کے مسئلے پر کچھ بات چیت نہیں ہوئی۔ بات چیت کے بعد کپل سبل نے اخبار نویسوں سے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے 20 اور21 جون کو ہونے والی اگلی میٹنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی تجاویز غور کے لئے رکھیں گے پھربھی دونوں تجویزوں پر اتفاق رائے نہیں بنی تو کیبنٹ کے سامنے دونوں کا ایک مشترکہ پرستاؤ بھیجا جائے گا۔اس میں رضامندی اور غیر رضامندی کے نکات پر واضح طور سے نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا دونوں تجاویز جنتا کے سامنے لائی جائیں گی۔ اس عمل میں حکومت سیاست پارٹیوں کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔ کمیٹی کے ممبر اروند کیجریوال نے کہا کہ غیر رضامندی کے باوجود 20 اور 21 جون کو میٹنگ میں شامل ہوں گے اور اپنا موقف رکھیں گے۔ تاکہ جنتا دیکھ سکے کے کونسا مسودہ موزوں ہے۔ اس اہم میٹنگ سے مایوس انا ہزارے نے جمعرات کو کہا کہ لوک پال مسودہ بل کو دو ایڈیشن کے کیبنٹ کو بھیجنے کے سرکار کے فیصلے پر تعجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی سخت لوک پال قانون بنانے کی کوئی منشا نہیں ہے اور اگر کمزور قانون بنا تو وہ 16 اگست سے پھر انشن کریں گے۔ انہوں نے کہا جب اپریل میں میں نے انشن کیا تھا تو سرکار نے ہماری سبھی تجاویز ماننے کا وعدہ کیا تھا۔ اب حکومت اپنے وعدے سے مکر رہی ہے۔ بابا رام دیو کی تحریک کو جس طرح توڑنے اور مروڑنے کی کوشش کی گئی تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ لاٹھی کھانے اور گولیاں کھانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ہزارے کے ساتھی اروند کیجریوال نے کہا سرکار ایک سخت قانون بنانے اور اس کا سہرہ لینے کا موقعہ کھو رہی ہے۔ اب سرکار لوک پال نہیں بلکہ جوک پال(مذاقیہ) بل لانا چاہتی ہے۔کیا سماج کے ممبر سرکار کو بلیک میل کررہے ہیں۔ اس پر انا ہزارے نے کہا کہ اگر قومی مفاد اور سماج کے مفاد میں کوئی بات اٹھانا ’’بلیک میل ‘‘ کرنا ہے تو ہمیں یہ بھی الزام قبول ہے۔
یہ جتنا اعتراض آمیز ہے اتنا ہی مایوس کن کہ کانگریس پارٹی اور مرکزی حکومت بابا رام دیو کے بعد اب انا ہزارے کی تحریک کو ٹائیں ٹائیں فش کرنے میں لگی ہے۔ پہلے تو کانگریس کے ترجمانوں نے ، پھر خود وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے جس طرح انا ہزارے کے رویئے کے بہانے ان کے مطالبات کو مسترد کیا اس سے اس خدشے کی توثیق ہوتی ہے کہ سرکار نے بدعنوانی کے مسئلے پر دیش کی توجہ ہٹانے کیلئے ہر ہتھکنڈہ اپنایا ہے۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ کانگریس انا ہزارے کو بدنام کرنے کےئے کبھی تو آر ایس ایس کا مکھوٹا بتانے کی حماقت کرتی ہے تو کبھی یہ کہتی ہے کہ مٹھی بھر سول سوسائٹی کے لوگ کیا جنتا کے چنے ہوئے نمائندوں سے اوپر ہیں؟ ہم سرکار سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر انا ہزارے یہ چاہ رہے ہیں کہ ایک مضبوط لوک پال بنایا جائے تو آخر اس میں نامناسب ، غیر آئینی کیا ہے؟ اگر کانگریس کی نظر میں اپوزیشن اور خاص طور سے بھاجپابدعنوانی کے معاملے میں ایماندار نہیں تو پھر انا اور ان کے ساتھیوں اور حمایتیوں کو کیا فیل کئے جانے کی کوشش ہورہی ہے؟ اگر انا کی حمایت میں صرف مٹھی بھر لوگ ہیں توپھر یہ بکھیڑا کیوں پھیلایا جارہا ہے؟ اگر مرکزی اقتدار بدعنوانی سے لڑنے کے لئے پرعزم ہے تو اس کا اظہار کیوں نہیں کرتی؟
ہم سرکار اور کانگریس پارٹی سے براہ راست سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ایک بار منتخب ہونے سے ہی کسی حکومت اور منتخب ممبران پارلیمنٹ ، نمائندوں کو اگلے پانچ سال کے لئے بدعنوانی، قتل، غبن یا آبروریزی کی اجازت ملی ہوئی ہے؟ سرکار کا نظریہ تو صاف ہے ۔ ہم پانچ سال کے لئے چنے گئے ہیں۔ہمیں راج کرنے کیلئے بس پارلیمنٹ کے اندر اپنا حساب کتاب ٹھیک رکھنا ہے۔ نمبرو ں کا حساب جٹانا ہے۔جنتا چیختی ہے تو چیختی رہے۔ آخر کتنے دن چلائے گی، تحریک انشن کرے گی ؟ اصل میں یہ حکومت جب پریشر بنتا ہے تو بوکھلا جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال 4 جون کو رام لیلا میدان میں دیکھنے کو ملی کہ گھبراہٹ میں پہلے تو سرکار ساری باتیں مان جاتی ہے اور بعد میں سب سے آہستہ آہستہ مکر جاتی ہے اور تحریک چلانے والے لیڈروں کو ڈرانے ، دھمکانے کا کام کرنے لگتی ہے۔ ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ جب یہ خبر آئی کہ لوک پال بل بنانے کی مہم کی رہنمائی کررہے انا ہزارے کے ٹرسٹ کے کھاتوں پر انکم ٹیکس کی نظر ٹیڑھی ہو گئی ہے۔ لوک پال پر مسودہ کمیٹی کی میٹنگ سے عین پہلے انکم ٹیکس محکمے کے افسروں نے انا کے دفتر پر دستک دے دی۔ ذرائع کے مطابق محکمے کے حکام نے ٹرسٹ کے دفتر جاکر جانچ کی اور قریب پانچ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔ سرکار ہر حالت میں بابا رام دیو اور انا ہزارے کی کوشش کو ناکام کرے گی۔ اس کے لئے ضرورت کے مطابق وہ سام ، دام، ڈھنڈ بھید سبھی ہتھکنڈو ں و ہتھیاروں کا استعمال کرے گی لیکن انا و بابا دونوں ہی ڈرنے والے نہیں ہیں اور وہ جنتا کی امیدوں پر کھرا اتریں گے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اب بھارت کی عوام بیدار ہوچکی ہے اور سارے دیش میں جو آندھی شروع ہوئی ہے وہ رکنے والی نہیں۔ سرکار چاہے جتنی کوشش کرے۔ لوک پال بل کو جوک پال بل بنانے کی کوشش کرے ۔ حساب تو اسے ہی جنتا کو دینا ہوگا۔
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Kapil Sibal, Kejriwal, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Vir Arjun

17 جون 2011

سوامی نگم آنند کی موت کیلئے ذمہ دار کون؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
17 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
جس وقت دیش کے تمام الیکٹرانک چینلوں پر و پرنٹ میڈیا کی توجہ بابا رام دیو کی طرف لگی ہوئی تھی اور بابا اپنے 9 دن پرانے انشن کو توڑ رہے تھے اسی وقت اسی ہسپتال میں ایک نوجوان سنیاسی سوامی نگم آنند تقریباً چار مہینے کے انشن کی وجہ سے اپنی زندگی کے آخری لمحے گن رہے تھے۔ سوامی نگم آنندعمر صرف34 سال تھی۔ وہ گنگا میں غیر قانونی کھدائی کے احتجاج میں 19 فروری سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ ادھر بابا رام دیو نے انشن توڑا ادھر نگم آنند دنیا سے چلے گئے۔ یہ خبر لوگوں تک دیر سے پہنچی تو اس لئے نہیں کہ سوامی کچھ دنوں سے انشن پر تھے یا ان کے انشن کا اشو کمزور تھا۔ تعجب ہے کہ اطلاعات کے تیزی سے بہاؤ والے اس دور میں بھی ایک موت کی خبر محض اس لئے ہم سے چھوٹ گئی کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ڈرامہ نہیں تھا۔ سوامی جی گنگا میں آلودگی اور اس کی پاکیزگی کو بحال کرنے کو لیکر بھوک ہڑتال پر تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ گنگا علاقے میں کھدائی پر پوری طرح روک لگے اور ہمالین اسٹرون کریچر کو کمبھ علاقے سے ہٹایا جائے۔ ان کی یہ مانگ تقریباً ویسے ہی تھی جس پر سرکار اپنے طریقے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کروڑوں روپے برباد کردیتی ہے اور نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ سوامی نے اپنی مانگوں کو لیکر19 فروری کو انشن شروع کیا تھا اور انشن کے 68 ویں دن27 اپریل کو ان کی طبیعت خراب ہوئی تھی ، تو انہیں ضلع انتظامیہ نے ہسپتال میں بھرتی کرادیا۔30 اپریل کو خبر اڑی کے سوامی کو نرس نے زہر دے کر مارنے کی کوشش کی ہے۔ 2 مئی کو وہ نزعے میں چلے گئے تو انہیں علاج کے لئے دہرہ دون کے اسی ہمالین انسٹیٹیوٹ جولی گرانٹ ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا جہاں بابا رام دیو بھرتی تھے۔ پچھلے ایتوار کو محض 34 برس کی عمر کے توانا اور ایماندار اس نوجوان سنت کی موت ہوگئی۔ یہ واقع یہ بتاتا ہے کہ کسی سچے مقصد سے اگر کوئی انشن بغیرڈھول باجوں کے کرے تو اس پر میڈیا و پرنٹ میڈیا خبریں دینے میں کتنا سنجیدہ ہوتا ہے۔ بھاجپا نے سوامی رام دیو کے انشن کو لیکر آسمان اٹھا لیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج دہرہ دون جاکر ان کی حمایت میں پریس کانفرنس بھی کر آئیں۔ لیکن اسی ہسپتال میں بھرتی سوامی نگم آنند کی خبر کسی نے نہ لی۔ کانگریس نے بھی اس پر اپنی سیاست چمکانی شروع کردی اور اتراکھنڈ کی بھاجپا سرکار پر طعنے مارنے شروع کردئے۔ دراصل گنگا کی پاکیزگی ان سیاسی پارٹیوں کے لئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔ گنگا کی پاکیزگی کی قسم کھانے والی تمام سیاسی پارٹیوں کا رویہ بنیادی طور پر ایک جیسا ہے۔ اتراکھنڈ میں ناجائز کھدائی مافیا کو ملنے والی سیاسی سرپرستی ہو یا پھر بھانپ بجلی پروجیکٹوں کا استعمال ، اس میں کسی ایک پارٹی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔کورٹ کا بھی نظریہ حوصلہ افزاء نہیں رہا۔ گنگا کی آلودگی کے لئے جو عناصر ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ اس لئے بھی یہ ممکن لگتا ہے کیونکہ ان سے حکمرانوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ تقریباً 20 برس بعد اور 2 ہزار کروڑ روپے خرچ کرکے یہ معلوم ہوا کہ اسکیم کی شروعات میں گنگا جتنی آلودہ تھی آج اس سے کہیں زیادہ آلودہ ہوچکی ہے۔ اب تک 7 ہزار کروڑ کی ایک وسیع اسکیم لانچ کرنے جارہی ہے۔ سوامی جی کے دیہانت پر بیحد افسوس بھی ہے اور شرمندگی بھی۔

ماہر معاشیات منموہن سنگھ کے رہتے مہنگائی کم ہونے والی نہیں

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
17 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
یہ اس دیش کی بدقسمتی ہی سمجھا جائے کہ کوئی بھی اس مسئلے کی بات نہیں کرتا جو ہندوستان کی90 فیصدی عوام کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔نہ تو انا ہزارے اس کی بات کرتے ہیں اور نہ ہی بابا رام دیو۔ ایک لوک پال بل کو لیکر اڑے ہوئے ہیں۔ دوسرے کالی کمائی کو واپس لانے پر۔ دونوں ہی اشو پر موثر طور پر عمل ہونے میں برسوں لگ جائیں گے لیکن جو اشو جنتا کو کھا رہا ہے اس پر کوئی اپوزیشن پارٹی بھی کھل کر نہیں بولتی، یہ اشو ہے مہنگائی کا۔ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کی ناک میں دم کردیا ہے۔ پیٹرول اور کئی ضرورت کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے چلتے ماہ مئی میں مہنگائی شرح بڑھ کر 9فیصدی سے اوپر چلی گئی ہے لیکن عام جنتا کو مہنگائی کی چوطرفہ مار کے لئے ابھی اور کمر کسنی ہوگی۔ آنے والے دنوں میں ڈیزل، رسوئی گیس جیسی چیزوں کے داموں میں بھی اضافہ ہونے کے آثار ہیں۔ وہیں ریزروبینک آف انڈیا کو بھی 16 جون کو اپنی ریپوریٹ میں اضافہ کرنے اور شرح سود کو بڑھانے پر غور کرنا پڑا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سود کی شرح میں 1 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ جس سے بینکوں کا قرض اور مہنگا ہو سکتا ہے۔ تیل کمپنیوں کو ہورہے خسارے سے فکر مند پیٹرولیم وزیر جے پال ریڈی نے منگلوار کو وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کرکے ڈیزل اور رسوئی گیس سیلنڈر کے دام بڑھانے پر جلد فیصلہ کرنے کی گذارش کی تھی۔ ذرائع کے مطابق وزارت تیل اور ڈیزل کے داموں میں 3 سے4 روپے فی لیٹر اور رسوئی گیس سلنڈر پر 25 سے35 روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی جزوی طور پر اضافہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ منموہن سرکار میں کوئی ایسا وزیر نہیں جسے جنتا کی تھوڑی بہت فکر ہو۔ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلوالیہ نے منگلوار کو آگاہ کیا کہ اگر پیٹرولیم کی لاگت بڑھتی ہے تو اس کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا گیا تو اس سے پیٹرول سیکٹر میں سنگین کرائسس کھڑا ہوجائے گا۔ کچھ اسی طرح کے نظریات وزیر اعظم کی اقتصادی مشیر کونسل کے چیئرمین سی رنگا راجن نے بھی ظاہر کئے ہیں۔ رنگا راجن کا کہنا ہے او ایم سی ایس تیل کمپنیوں کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ اگر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا توبجٹ پر بھی برا اثر پڑے گا۔ افراط زر شرح فی الحال 9 فیصد کے قریب ہے اور اس کے لئے بنیادی طور پر پیٹرول کے داموں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب سے منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے ان کی اقتصادی پالیسیوں نے غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کے ارد گرد ایسے لوگ ہیں جو نمبروں کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن بنیادی طور پر عام آدمی پر کیا گذر رہی ہے اس کی کسی کو پرواہ نہیں۔ اسی اصلاحات میں اربوں روپے کے گھوٹالے ہورہے ہیں۔ ان تیل کمپنیوں کی کیوں جانچ نہیں کی جاتی؟ ان میں اتنے گھپلے ہیں اور الٹے سیدھے خرچوں پر کسی کا دھیان کیوں نہیں جاتا؟ سرکاری کھپت کو کم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ منموہن سنگھ اب نہ صرف اپنی پارٹی کے لئے ہی بوجھ بنتے جارہے ہیں بلکہ غریب جنتا کے دشمن نمبر ون بن گئے ہیں۔ یہ کوئی گھوٹالہ روک نہیں پاتے اور جتنے گھوٹالے ان کے عہد میں ہوئے ہیں کسی وزیر اعظم کے دور میں نہیں ہوئے۔ کانگریس کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ منموہن سنگھ انہیں اگلا چناؤ نہیں جتا سکتے۔ اس لئے اگر کانگریس اگلے چناؤ میں پھر سے اقتدار میں آنے کی سوچ رہی ہے تو بہتر ہے کہ نیا وزیر اعظم چن لیں۔ منموہن سنگھ کی پالیسیوں نے عام جنتا کو تباہ کردیا ہے۔ ان کے عہد میں صنعت کاروں کی پراپرٹی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ افسر شاہی کا بول بالا ہے۔ کانگریس میں اور بھی تو لیڈر ہیں مثال کے طور پر وزیر دفاع اے کے انٹونی کو ہی لے لیجئے، وہ ایک ایماندار لیڈر ہیں پھر وزیر اعلی بھی رہے ہیں لیکن ان کے دامن پر کبھی کوئی داغ نہیں لگا۔ اس دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت تمام گھوٹالوں کے گھیرے میں تار تار ہوگئی ہے۔ کانگریس کے اعلی کمان کو2014 کے لوک سبھا چناؤ کی فکر ہورہی ہے اور اب منموہن سنگھ کے چہرے کو لیکر تیسری مرتبہ اقتدار پانے کیلئے داؤ لگانا ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ مخالفین نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ منموہن سنگھ آج تک کے سب سے بدعنوان حکومت کے ایماندار وزیر اعظم ہیں۔ کچھ تنقید کار تو کئی طریقے سے تیرچلانے لگے ہیں۔ اے کے انٹونی نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ اقتدار کے آس پاس تمام طاقتوں کا جھمگٹ لگا ہوا ہے جو کام کاج میں شفافیت کی مانگ کی مخالفت کرتے ہیں وہ لوگ اس کے سوتردھار ہیں اور امید کرتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں ۔ اس موقعے پر ایک تبصرے کے خاص معنی سمجھے جارہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ تیاری اگلے دور کے لئے ہے۔ اس وقت کانگریس کے’’ منموہن‘‘ اے کے انٹونی ہوں گے۔ ویسے بھی 10 جن پتھ کے بھروسے مند ہیں۔ ان کے خلاف اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ وہ عیسائی ہیں لیکن کانگریس کے جو لوگ کہتے ہیں کے انٹونی کسی ہندو لیڈر کے مقابلے پر زیادہ اشوز کے نکتے کو ماننے والے ہیں آپ کیا سمجھے؟ اتنا طے ہے کہ منموہن سنگھ جس افسرشاہ لابی کے ہیں اس میں عام جنتا کا بھلا ہونے والا نہیں۔ یہ مہنگائی یوں ہی بڑھتی رہے گی اور امیر اور امیر ہوتا جائے گا ،غریب اور غریب۔ جنتا کو بھارتیہ جنتا پارٹی سے مایوسی ہے کیوں نہیں وہ پیٹرول ، ڈیزل وغیرہ کی مجوزہ اضافے کی کھل کر مخالفت کرتی، کیوں مہنگائی کو لیکر دھرنے اور مظاہرے نہیں کئے جاتے؟ سرکار کو بعد میں ایک پروٹسٹ لیٹر دینا یا بیان دینا کافی نہیں ہے۔ اسے ایسا کرنے سے روکنا ، اور مہنگائی کم کرنے کے ٹھوس قدم اٹھانے پر مجبور کرنا بھاجپا کا پہلا ایجنڈا ہونا چاہئے۔

16 جون 2011

لکھیم پور میں آبروریزی کے بعدسونم کے قتل کا معاملہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
16 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
پولیس کی وردی میں چھپے بھیڑیوں کی کالی کرتوت ایک بار پھر سامنے آگئی ہے۔ اترپردیش کے لکھیم پور ندھاسن تھانے میںیہ واردات ہوئی ہے۔ 10 جون کی شام کو تھانے کے پاس رہنے والے مزدور انتظار علی کی 14 سالہ بیٹی سونم کی لاش ایک پیڑ سے لٹکی ملی تھی۔ پولیس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہو پائی۔ ریاست کے اسپیشل ڈی جی پی برج لال نے بتایا کہ پیڑ کی جس شاخ سے لڑکی کی لاش لٹکی پائی گئی وہ زمین سے محض چار فٹ آٹھ انچ کی اونچائی پر ہے جبکہ لڑکی کی لمبائی چار فٹ دس انچ تھی۔ حیوانیت کی شکار لڑکی سونم کا6 سالہ بھائی ارمان علی پورے معاملے کا چشم دید گواہ ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ اور اس کی بہن سونم تھانے کے قریب اپنے جانوروں کو گھانس چرا رہے تھے۔ اتنے میں ایک پولیس والا آیا اور اس نے مجھے رائفل دکھا کر کہا کہ یہاں سے بھاگ جاؤں۔ میں نے دیکھا دو اور پولیس والے میری بہن کو ایک کمرے میں کھینچ کر زبردستی لے گئے۔ پولیس نے سونم کا پوسٹ مارٹم بھی کروا لیا اور رپورٹ میں کہا گیا ،سونم کی موت گلا گھٹنے سے ہوئی لیکن سونم کے والدین انتظارعلی اور ترنم بیگم نے کہا کہ ان کی بیٹی سے آبروریزی کی گئی ہے اور پھر اس کو قتل کردیا گیا۔ ہنگامہ ہونے پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا گیا ۔ قبر سے لاش نکالی گئی۔ پوسٹ مارٹم میں یہ بات پتہ چلی کہ متوفی لڑکی کا گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا حالانکہ آبروریزی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کو خودکشی قرار دینے والے تین ڈاکٹروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ لاپرواہی کے الزام میں لکھیم پور کے ایس پی ڈی کے رائے کو ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ثبوت مٹانے کے الزام میں ایک داروغہ سمیت چار پولیس والوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کانسٹیبل رام چندر کو گرفتار کیا گیا ہے وہیں سی بی سی آئی ڈی کی 10 رکنی ٹیم کی ابتدائی جانچ سے سامنے آیا ہے کہ سونم کے ساتھ بدفعلی کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ افسوسناک ہے کہ ایسے گھناؤنی واردات پر ہمدردی جتانے کی جگہ اوچھی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے کہا کہ ریاست میں قانون و نظام تو ملائم سنگھ یادو کی سرکار میں بھی خراب تھا لیکن مایاوتی سرکار میں تو یہ بدسے بدتر ہوگیا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب تھانے کے اندر قتل ہونے لگا ہے۔ یہ حالات اس لئے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ پولیس افسروں کی تعیناتی اور انہیں ہٹانے میں بسپا لیڈر ورکروں کی براہ راست مداخلت ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ریاستی پولیس معاملے کو دبانے میں لگی ہے جبکہ معاملے میں بڑے عہدوں سے لیکر نیچے تک کے لوگ شامل ہیں اور ان کی آزادانہ جانچ کی ضرورت ہے لہٰذا معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جانی چاہئے۔ بھاجپا کے ترجمان راجیو پرساد روڑی نے کہا مایاوتی سرکار کا پولیس پر کنٹرول نہیں ہے۔ تھانہ کمپلیکس میں لڑکی کا قتل چونکانے والی واردات ہے۔ دراصل پورے اترپردیش میں قانون و نظم کے حالات بری طرح خراب ہوچکے ہیں۔ جنتا تبدیلی چاہتی ہے ۔ بھاجپا آنے والے اسمبلی چناؤ میں موجودہ اقتدار کو بدلنے کے لئے اپیل کے ساتھ جنتا میں جائے گی۔
دوسری جانب بہوجن سماج پارٹی نے کہا ندھاسن کی واردات کو لیکر اپوزیشن پارٹیاں ریاست کی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس کوشش میں قومی انسانی حقوق کمیشن اور قومی خواتین کمیشن بھی اس میں شامل ہے۔ پارٹی ترجمان نے ایک بیان جاری کرکے کہا چناوی سال ہونے کے سبب اپوزیشن پارٹیاں اس واقعے کو بلا وجہ طول دے رہی ہیں۔ وزیراعلی کو جیسے ہی اس واقعہ کی اطلاع ملی انہوں نے سخت کارروائی کی ہدایت دی اور قصورواروں کے خلاف سخت قدم اٹھائے۔ انہوں نے واقعہ کی سی بی سی آئی ڈی سے بھی جانچ کرانے کے احکامات دئے ہیں۔ اور متوفی بچی کی لاش قبر سے نکلواکر پوسٹ مارٹم کروایا، جس سے سچائی اجاگر ہوگئی۔ ڈاکٹروں و پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ہم بسپا کے موقف سے متفق ہیں۔ کوئی بھی حکومت پولیس ملازمین کے ایسے ہتھکنڈوں اور بدفعلوں کو کبھی نہیں روک سکتی۔ کیا دہلی کے تھانوں میں کبھی آبروریزی نہیں ہوئی ہے یا قتل نہیں ہوا ہے؟ اس کا مطلب کیا ہے کہ ریاستی سرکار استعفیٰ دے؟ وزیر اعلی اور انتظامیہ کے ہاتھ میں سخت کارروائی کرنا ہے اور وہ مایاوتی نے کردی ہے۔ کوئی لیپا پوتی کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کو بچانے کی۔ اس گھناؤنے واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہے۔ دیکھیں اس پر پارٹی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔

کہاں گئے رشوت کے200 کروڑ؟ سپریم کورٹ نے کیا سوال

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
16 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
جو کام سیاستداں نہیں کرپائے وہ کام بصد احترام عدالت عظمیٰ نے کردیا ہے۔ حکومت چاہے جتنا بھی معاملے کو دبانے کی کوشش کرے لیکن جب عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ اس کا نوٹس لیتی ہے ،اس دیش کو یقین ہے کہ انصاف ضرور ملے گا۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں اگر سپریم کورٹ نے اتنا سخت رویہ نہ اپنایا ہوتا تو شاید اتنے ملزم تہاڑ جیل کی ہوا نہ کھا رہے ہوتے۔ یہ میں نے اسی کالمم میں کچھ دن پہلے لکھا تھا کہ جیل تو ٹھیک ہے لیکن پیسے کا کیا ہوا؟ کنی موجھی کی ضمانت عرضی کے دوران سپریم کورٹ نے یہ معاملہ اپنے طور پر اٹھا دیا۔ عدالت نے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں سی بی آئی سے یہ بھی پتہ لگانے کے لئے کہا ہے کہ اے راجہ کے عہد میں ٹیلی کام کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے میں سرکاری خزانے کو کتنا نقصان ہوا؟ عدالت عظمیٰ نے یہ سوال بھی پوچھا کہ رشوت کی رقم 200کروڑ روپے کا کیا ہوا اور اس کی پوزیشن کیا ہے؟ جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار کے ڈویژن بنچ نے کنی موجھی اور شرد کمار کی ضمانت کی عرضیوں پر سی بی آئی سے یہ سوال کیا کہ اے راجہ کے عہد میں کمپنیوں کو جاری کئے گئے ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس سے سرکاری خزانے کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ نچلی عدالت میں معاملے کی کیا پوزیشن ہے۔کنی موجھی سے عدالت نے صاف کہا کہ آپ کے حق میں کوئی خاص دلیل نہیں پیش کی گئی ہے۔ بس صرف یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ایک خاتون ہیں اور دفعہ437 کے تحت خاتون ہونے کے ناطے آپ کو ضمانت دینے میں ہمدردی دکھائی جائے۔عدالت نے سی بی آئی سے براہ راست سوال پوچھا کہ جانچ بتاتی ہے کہ 200 کروڑ روپے بطوررشوت دی گئی یا غلط طریقے سے پیسہ دیا گیا ، اس لئے اسے قانونی لین دین نہیں مانا جاسکتا۔ اس صورت میں یہ 200 کروڑ روپے کی پراپرٹی ہے اور اس کے ناطے یہ پیسہ کہاں گیا؟ غور طلب ہے کنی موجھی اور کلیگنر ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر شرد کمار کو ٹو جی گھوٹالے میں کلیگنر ٹی وی کو ملی 200 کروڑ روپے کی رشوت کے معاملے میں 20 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دونوں کو معاملے میں دائر کردہ دوسری چارج شیٹ میں ملزم بنایا گیا تھا۔ دونوں دہلی ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے ذریعے انہیں ضمانت نہ دئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے۔ کلیگنر ٹی وی پرائیویٹ لمیٹڈ میں کنی موجھی اور شرد کمار کی 20-20 فیصد حصے داری ہے۔ کمپنی کو مبینہ طور پر شاہد بلوا کی ڈی بی رئلٹی کے ذریعے200 کروڑ روپے ملے تھے۔ جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار نے سماعت کے دوران سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی و انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سب سے بدنما چہرہ ہے۔
جہاں تک ہم سمجھتے ہیں اس مقدمے میں200کروڑ روپے کو پیدا کرکے عدالت کے سامنے دکھانا بہت ضروری ہے۔ کیس پراپرٹی ہی نہیں ہوگاتو کیس کا کیا ہوگا؟ بغیر اس رقم کو پیش کئے کنی موجھی اور شرد کمار کے خلاف قانونی نقطہ نظر سے کیس کمزور ہوسکتا ہے۔ دیش بھی یہ ہی چاہتا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں 1 کروڑ 70 لاکھ کے گھوٹالے کی رقم کو وصول کیا جائے تبھی جنتا کو تسلی ہوگی۔ دیکھیں سی بی آئی کیا جواب دیتی ہے۔ کنی موجھی کے وکیل نے تو سیدھا کہا ہے کہ شاہد بلوا کی کمپنی ڈی بی رئلٹی سے200 کروڑ روپے کا قرضہ لیا گیا تھا جو بعد میں اسے ادا کردیا گیا۔ اب سی بی آئی کو نہ صرف الزامات کو ثابت کرنا ہے بلکہ کیس پراپرٹی بھی ریکور کرنی ہے۔

14 جون 2011

ایک اور قلم کا بہادر سپاہی شہید ہوا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
14 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ایک اور قلم کا سپاہی تشدد کا شکار ہوگیا۔ انتہائی مطلوب دہشت گرد داؤدابراہیم کے چھوٹے بھائی اقبال کاسکر کے باڈی گارڈ کے قتل کے بعد داؤد کے مخالف چھوٹا راجن سے بات چیت پر مبنی ایک رپورٹ شائع ہونے کے مہینے بھر بعدکرائم رپورٹر جے ڈی کو سنیچر کے روز ممبئی کے کے ڈی مارڈ کے پاس گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر آئے بدمعاشوں نے جے ڈی کے سرپر گولیاں ماریں۔ انہوں نے ہیرا نند ہسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑدیا۔ جوتر بھے ڈے جنہیں پیار سے جے ڈی کہہ کر پکارا جاتا تھا، کافی مقبول ترین کرائم رپورٹر تھے۔ انڈین ایکسپریس ، ہندوستان ٹائمس میں کام کے دوران تمام چونکانے والی جرائم کی خبریں قلمبند کرنے والے جے ڈے ان دنوں ’مڈ ڈے‘ کے کرائم ایڈیٹر تھے۔ مڈ ڈے میں ان کے ایک ساتھی نے بتایا کہ ویروار کو ہی جے ڈی دفتر کی ایک میٹنگ میں حصہ لیا تھا اور تب تک وہ پوری طرح ٹھیک ٹھاک نظر آرہے تھے۔ انڈر ورلڈ سے انہیں دھمکیاں ملنا عام بات بن چکی تھی۔ جے ڈی کو یہ لگتا رہا کہ تمام ڈان اس سے سیدھا واستہ ہونے کے چلتے شاید ان کا کوئی گرگا ان پر کبھی قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ انڈرورلڈ میں بھی جے ڈے کے قتل کی خبر سے ہلچل مچی ہوئی ہے۔ کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں یہ کام کسی بھائی کا ہوسکتا ہے۔ اپنے خبریوں پر بھروسہ کرنے والے جے ڈے نے پچھلے سال مارچ میں انڈرورلڈ کی ممبئی میں واپسی پر ایک مفصل رپورٹ لکھی تھی۔ اسی رپورٹ کے بعد سے جے ڈے کو دھمکیاں ملنی شروع ہوئی تھیں لیکن اسے اپنے پیشے کا حصہ مان کر ڈے نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی۔ وہ انہی خبریوں پر پچھلے سال لکھی کتاب ’زیرو ڈائل‘ کی ریلیز کے دوران جے ڈے نے بتایا تھا کہ ممبئی میں انڈرورلڈ اب پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگیا ہے۔ کیونکہ اس کی گھس پیٹھ سیاست کے سب سے اونچے پائیدانوں تک پہنچ چکی ہے۔ اب ڈان کے سیدھے کنکشن سیاستدانوں سے قائم ہوچکے ہیں جو انہیں پوری سرپرستی دیتے ہیں۔ جے ڈے کے قتل کے ایک دن بعد اتوار کو پولیس نے کہا یہ کام تیل مافیا کے لوگوں کا بھی ہوسکتا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق جے ڈے نے تیل مافیا کے خلاف کبھی کچھ لیکھا تھا ہوسکتا ہے اسی نے انہیں نشانہ بنایا ہو۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے اتوار کو ایمرجنسی میٹنگ بلائی اور جانچ کا حکم جاری کردیا۔
جے ڈے کے قتل سے پھر یہ سوال اٹھنے لگا ہے کیا ممبئی میں پھر90 کی دہائی کی طرح گینگ وار کا دور لوٹ آیا ہے؟ داؤد کے بھائی پر حملہ ، اب جے ڈے کا قتل تو اس طرف اشارہ دے رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے ممبئی انڈرورلڈ منظر بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ نئے نئے کھلاڑی گیم میں آرہے ہیں۔ گینگ وار بھی شروع ہوگئی ہے۔ جے ڈے کے قتل نے ایک بار پھر ساری دنیا کو یاد دلا دیا ہے کہ صحافی برادری کتنا خطرہ مول لے کر اپنا کام کرتی رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک پاکستانی صحافی کا قتل ہوگیا تھا، ہمیں جے ڈے کے قتل کا بہت دکھ ہے اور اس کے خاندان کو ہم یہ ضرور بتانا چاہیں گے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں وہ اکیلا نہیں ہے ہم بھی ان کے درد میں ساتھ کھڑے ہیں۔ جے ڈے جیسے بہادر اور حوصلہ افزاء صحافی کبھی مرتے نہیں اور ان کی تحریریں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

رانا کا بری ہونا بھارت کیلئے جھٹکا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
14 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
امریکی شہر شکاگو کی عدالت نے پاکستانی نژاد کینیڈائی شہری تہور حسین رانا کو ممبئی حملوں میں تعاون دینے کے الزام سے بری کردیا ہے۔ اس فیصلے سے بھارت کو دھکا لگا فطری ہو سکتا ہے۔ رانا کے 26/11 میں براہ راست طور پر شامل ہونے کی بات عدالت میں ثابت ہونے سے ہندوستان کا موقف زیادہ مضبوط ہوتا اب لگتا نہیں ۔رانا کے خلاف جو ثبوت تھے وہ اتنے پختہ نہیں تھے کہ جوری کے ممبران کو مطمئن کرسکیں۔ بھارت کا واضح خیال ہے کہ 26/11 سیدھا سیدھا آئی ایس آئی کا آپریشن تھا۔ رانا کو اس حملے کی پوری جانکاری تھی۔ اس نے اس معاملے میں ڈیوڈ کالمین ہیڈلی سے بات چیت کی تھی۔ ہیڈلی نے جو تاج محل ہوٹل و چھترپتی شیواجی اسٹیڈیم کی ویڈیو بنائیں تھیں وہ تک رانا سے برآمد ہوئیں تھیں۔ پاکستان سے آتنک وادی ممبئی کہاں اتریں گے اور شہر میں کیسے گھسیں گے یہ تک صلاح مشورہ ہوا تھا۔ ہیڈلی نے نہ صرف رانا کو 26/11 حملوں کے بارے میں بتایا بلکہ اسے یہ بھی کہا کہ وہ نومبر 2008 میں ممبئی کسی بھی حالت میں نہ جائے۔ بھارت کے لئے اس مقدمے کی خاص اہمیت اس لئے ہے کیونکہ اس سے آئی ایس آئی کا کردار صاف نظر آرہا تھا اور لشکر طیبہ کا خطرہ ابھر کر سامنے آیا۔ اب یہ مانا جارہا ہے کہ القاعدہ انتہاپر پہنچا ہوا ہے۔ لشکر طیبہ اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے کیونکہ9/11 کا آتنک وادی حملہ القاعدہ نے کیا تھا اس لئے وہ امریکہ کے نشانے پر تھا۔ سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ رانا نے لشکر کو حملے کا سازو سامان تو مہیا کروایا لیکن اس حملے کی جانکاری نہیں دی۔ اپنے گلے سے یہ بات نہیں اتر رہی۔ جوری نے رانا کے خلاف جو الزامات یا دعوے پیش کئے تھے انہیں مسترد کردیا ہے۔دعوی تھا کہ ہیڈلی نے رانا کی مدد سے بھارت میں ممکنہ انسانوں کو نشانے کی خفیہ جانکاری اکھٹی کی تھی۔ ہیڈلی نے رانا کی رضامندی سے اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کیلئے فرسٹ امیگریشن سروس کا دفتر ممبئی میں کھولا تھا۔ رانا نے ہیڈلی کو بھارت کا ویزا حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ دونوں نے مل کر اکھٹی کی گئی خفیہ جانکاریوں کا جائزہ بھی لیا۔ رانا نے ہیڈلی سے کہا تھا کہ حملے میں شامل آتنکیوں کو پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ملنا چاہئے۔
یہ تو ثابت ہوچکا ہے کہ ممبئی حملے کو آئی ایس آئی اور پاکستانی بحریہ کی مدد سے انجام دیا گیا تھا۔ ایسے میں رانا کو ممبئی حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے معاملے سے بری کئے جانے سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آئی اور آئی ایس آئی کا کوئی سودہ ہوا ہے۔ شکاگو کی عدالت میں بھارت کو اپنا موقف رکھنا چاہئے تھا۔ یہ وزارت داخلہ کا چوک ہوئی ہے۔ اب بھی موقعہ ہے ممبئی حملوں کے دوران مارے گئے کچھ یہودیوں کے رشتے داروں نے نیویارک کی عدالت میں ایک اور مقدمہ دائر کردیا ہے اور آئی ایس آئی چیف سمن بھیجے گئے ہیں۔ بھارت سرکار کیلئے یہ سنہرہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے کا ہے۔ امریکہ کے اپنے مفادات ہیں فی الحال انہیں لگتا ہے کہ ان کی ہٹ لسٹ میں القاعدہ ہے جبکہ بھارت کیلئے پاکستان کی آئی ایس آئی کو بے نقاب کرنا اولین ترجیح ہے۔ بھارت کو سمجھنا پڑے گا کہ ہمیں آتنک واد کے خلاف اکیلے ہی لڑنا پڑے گا۔ ہم امریکہ پر زیادہ بھروسہ نہیں کرسکتے۔

12 جون 2011

اب غیر سیاسی منموہن سرکار وکانگریس پارٹی آمنے سامنے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
12 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
مجھے منموہن سنگھ حکومت پر کبھی رحم آتا ہے ،کبھی مایوسی بھی۔ رحم اس لئے آتا ہے کہ اس حکومت کو جو لوگ چلا رہے ہیں وہ سبھی غیر سیاسی ہیں۔ سب سے اوپر سونیا گاندھی ہیں جو سپر پرائم منسٹر ہیں اور سرکار کا ریموٹ کنٹرول ہیں۔ وہ نان پالیٹیکل ہیں۔ ان کے نیچے ہیں وزیر اعظم سردار منموہن سنگھ۔ جنہوں نے زندگی میں ایک آدھ ہی چناؤ لڑا لیکن اس کے بعد آج تک نہیں لڑا۔سونیا گاندھی کے چیف ایڈوائزر احمد پٹیل جیسے لوگ پردے کے پیچھے سے فیصلہ کرتے ہیں وہ بھی غیر سیاستداں سے ہی ہیں۔ اس لئے یہ حکومت جو بھی فیصلے کرتی ہے اس میں افسرشاہی کی بدبو زیادہ آتی ہے۔سیاستداں کم ہونے سے مایوسی ہوتی ہے۔آپ حال ہی میں اس حکومت کے اہم فیصلے دیکھئے چاہے وہ انا ہزارے کا معاملہ ہو، چاہے بابا رام دیو کا۔ دونوں میں ہی بڑے بچکانے طریقے سے اس منموہن سنگھ سرکار نے معاملے کو رفع دفع کیا۔ میری بات تو چھوڑیئے اب تو کانگریس پارٹی کے اندر بابا معاملے پر گھمسان چھڑ گیا ہے۔
رام لیلا میدان میں لگے بابا رام دیو کے یوگ کیمپ کو پولیس کارروائی کے تحت ہٹانے کے بعد کانگریس میں رسہ کشی چھڑی ہوئی ہے۔ اس معاملے میں اب ایک طریقے سے پارٹی اور سرکار آمنے سامنے آگئے ہیں۔ اس مسئلے پر کانگریس کے کئی سینئر لیڈر اور سرکار میں وزیر کی کرسی سنبھالنے والے لیڈر آپس میں بھڑ گئے ہیں۔ سب سے زیادہ بوکھلائے ہوئے پارٹی کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ ہیں۔ جتنا برا بھلا وہ بابا رام دیو کو کہہ رہے ہیں اس سے زیادہ وہ اپنی حکومت کی خامیوں پر تنقید کررہے ہیں۔ تازہ حملہ انہوں نے وزیر مالیات پرنب مکھرجی پر کیا ہے جبکہ اجتماعی ذمہ داری کو بھول کر وزیر سیاحت سبود کانت سہائے نے کوتاہی کا ہی الزام جڑ دیا ہے۔ دگوجے سنگھ نے پرنب مکھرجی اور مرکز کے تین وزرا کو بابا سے بات کرنے کیلئے ہوائی اڈے جانے پر سخت اعتراض کیا ۔انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ پرنب مکھرجی نے تو بابا کو لیکر اپنا پورا مستقبل ہی داؤ پر لگا دیا۔ سرکار کی تنقید کرتے ہوئے دگوجے سنگھ نے کہا مرکز میں پرنب مکھرجی جب سے وزیر بنے ہیں تب رام دیوپیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ وزرا کوایئر پورٹ جاکر بابا کو منانے کے بارے میں اپنی ناخوشی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ وزیر ہوتے تو کبھی بھی رام دیو کو نہیں مناتے۔لیکن سرکار کی مجبوری کے چلتے وہ پارٹی کی رائے کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ سبود کانت سہائے نے منہ کھولا اور کہا کہ رام لیلا میدان میں بابا کے خلاف پولیس کارروائی پر وضاحت میں سرکار کی طرف سے ٹال مٹول برتا گیا۔ حالانکہ سہائے ان وزراء میں شامل تھے جو سرکار کی طرف سے بابا سے بات چیت کررہے تھے۔ سہائے نے کہا کہ جب پہلے ہی سے سرکار کی طرف سے طے ہوچکا تھا کہ انشن سے بابا اپنے حمایتیوں کے ساتھ نہیں ہٹے تو ان پر پولیس کارروائی کی جائے گی۔ کارروائی ہونے کے بعد وزیر داخلہ پی چدمبرم کی جانب سے چار دن بعد وضاحت آئی جس سے عوام میں غلط پیغام گیا اور اس سے سرکار اور پارٹی دونوں کی ساکھ خراب ہوئی۔
کانگریس کی میگزین ’کانگریس سندیش‘ تک نے چار وزراء کو بابا کو ہوائے اڈے پر لینے پر سخت اعتراض جتایا ہے۔ پارٹی کا پیپر ہوتے ہوئے بھی اس نے اپنی ادارئیے میں لکھا ہے کیا چار سینئر وزرا کا ہوائی اڈے جانا ضروری تھا؟ انل شاستری اس میگزین کے مدیر ہیں۔ اداریئے میں کہا گیا ہے سرکار کا یہ فرض ہے کہ وہ شہری سماج کے مطالبات پر متوازن رویہ اپنائے لیکن یہ کام اس طریقے سے ہونا چاہئے کہ ایک منتخب سرکار اور اس کے اختیارات کی عدولی نہ ہو۔ اداریئے کے مطابق کسی اہم گروپ کو سڑکوں پر آئینی معاملوں میں فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور شہری سماج کے نمائندوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قانون کی تعمیل کی کچھ خاص خانہ پوریاں ہوتی ہیں۔ کانگریس سندیش کے مدیر انل شاستری ہیں اور اس کے ادارتی بورڈ میں سلمان خورشید، سربجیت سنگھ شامل ہیں۔ دوسری جانب دگوجے سنگھ کے بیان سے کانگریس کے کچھ سینئر لیڈر متفق نظر نہیں آرہے۔ ہوائی اڈے کے بارے میں وزرا کی مجبوری گناتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ رام دیو کے دہلی آنے کی اطلاع تھی۔ اس سے پہلے ہی انہیں انشن نہ کرنے کیلئے سرکار منانے میں لگی تھی۔ وزیر انسانی وسائل کپل سبل ، وزیر سیاحت سبود کانت سہائے رام دیو سے فون پر رابطے میں تھے۔ لیکن دہلی آنے سے ٹھیک پہلے رام دیو سے فون پر رابطہ نہیں ہوپارہا تھا۔ جیسے ہی رابطہ قائم ہوا تب تک رام دیو دہلی ہوائی اڈے پر اتر گئے تھے۔ ان سے کئی اشوز پر بات کرنے کے لئے وزراء نے ہوائی اڈے کے وی آئی پی لانچ میں بات کرنا مناسب سمجھا۔
کانگریس میں بڑھ رہا انتشار کا سلسلہ اب پردیشوں تک پہنچ چکا ہے۔ ریاستی لیڈروں نے بھی اب پارٹی کے حکمت عملی سازوں کو خط لکھ کر مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے کہ پارٹی کے جو لیڈر بابا رام دیو سے وابستہ ہیں انہیں تنظیم اور سرکار میں اہمیت نہیں ملنی چاہئے۔ اجین سے کانگریس ایم پی پریم چند گڈو نے ریاست کے انچارج اور پارٹی جنرل سکریٹری ہری پرساد کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر کملناتھ کا نام لئے بغیر کہا کہ جو لوگ بابا رام دیو کے چرن چھوتے ہیں وہ سرکار میں کیوں بیٹھے ہیں؟پارٹی کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ وہیں کانگریس پارٹی کی میگزین ’کانگریس سندیش‘ میں شائع ادارئیے پر پارٹی نے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور میڈیا شعبے کے سربراہ جنارن دویدی نے مدیر کو خبردار کیا ہے کہ یہ میگزین کانگریس ماؤتھ پیس ہے یعنی اس کی زبان ، یہ بات انہیں یاد رکھنی چاہئے اور اس میں اپنے نظریات مدیر کو تھونپنے کا اختیار نہیں ہے۔
مرکزی سرکار کے مسٹر کلین چہرے اے کے انٹونی کی شفافیت پر گول مول بیان، پرنب دا کے اقتصادی مورچے پر گھیرا بندی اور پی چدمبرم کی اچانک رام دیو کے بہانے اپنی ساکھ پیش کرنے کی کوششیں چند مثال ہیں جس سے کانگریس پارٹی میں بھاری ناراضگی پائی جاتی ہے۔ دراصل پارٹی اور حکومت دونوں بابا رام دیو معاملے کو لیکرعجب سی پوزیشن میں پہنچ چکی ہیں۔ بابا رام دیو پر اگلی کارروائی بھی اسی ادھیڑ بن کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ پرنب پر جمعرات کو ایک اخبار میں شائع خبر کو لیکر بھی پارٹی میں اور سرکار میں الگ الگ قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ سرکار کے اندر متضاد نظریات سامنے آرہے ہیں۔ بابا کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ انہیں زبردستی ہسپتال لے جا کر آئی سی یو میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ رام لیلا میدان میں پولیس لاٹھی چارج سے متاثرہ خاتون راج بالا کی حالت تو انتہائی نازک ہے، سرکار کو سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اگلا قدم اٹھائے تو کیا اٹھائے؟ بابا کو اگر کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ آخر میں ممبئی میں شیو سینا لیڈر ادھو ٹھاکرے نے سوال کیا ہے 4 جون کو لاٹھی چارج کے خلاف یووراج راہل گاندھی دھرنے پر کیوں بیٹھے؟ جب بھٹہ پارسول میں پولیس مظالم کے خلاف دھرنا دے سکتے ہیں تو وہ رام لیلا میدان کانڈ پر کیوں نہیں؟

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...