Translater

25 جون 2011

ٹیم اناّ کو آخر میں پھرتحریک شروع کرنے کا ہی متبادل رہے گا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
25جون 2011 کو شائع
انل نریندر
منموہن سنگھ حکومت گاندھی وادی لیڈر انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف مہم کی ہوا نکالنے اور اسے ناکام کرنے کیلئے سبھی طرح کے ہتھکنڈے اپنانے لگی ہے۔ سام دام ،ڈنڈ بھید سبھی طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ آج کل دونوں حکومت اور کانگریس پارٹی کے ترجمان بنے دگوجے سنگھ کہتے ہیں کہ انا ہزارے نے اگر انشن کیا تو ان کا حشر بھی بابا رام دیو جیسا ہی ہوگا۔ یعنی ان کی تحریک کو ہر حال میں کچل دیا جائے گا۔ بدھوار کو دگوجے سنگھ نے کہا کہ انا ہزارے کے خلاف بھی ویسا ہی رویہ اپنایا جاسکتا ہے جیسا رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کی ریلی کے ساتھ ہوا۔ حالانکہ یہ موقعے کی نزاکت پر منحصر کرے گا۔ نئے نئے انکشافات اور بیانوں کو دے کر اپنا موازنہ وکی لکس سے کئے جانے پر انہوں نے کہا کہ وکی لکس تو لاجواب ہے ہی لیکن اس سے بھی زیادہ زبردست ہے دگوجے کے انکشافات ہیں۔اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے وکی لکس کا کہنا ہے کہ انا تو بزرگ لیڈر ہیں اور ان کے حمایتی انہیں چنے کے جھاڑ پر چڑھا کر انشن پر بٹھا دیتے ہیں جبکہ عمر کو دیکھتے ہوئے ان کا انشن پر بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی جوابدہی انا اور ان کی ٹیم کے تئیں نہیں بلکہ جنتا کے تئیں ہے۔ دیش میں پارلیمانی نظام بالاتر ہے اور اس کے عمل پر تعمیل ہوگی۔
انا نے وکی لکس کو اسی کی زبان میں جواب دیا ہے۔ لوک پال بل کے مسودے پر رضامندی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد انا ہزارے نے بدھوار کو کہا بدعنوانی پر نیتاؤں اور افسروں کی ملی بھگت پاکستان سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے 16 اگست سے پھر انشن کرنے کے فیصلے کو دوہراتے ہوئے کہا کہ سرکار اور ان کی ایجنسیاں ان کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ اس لئے سرکار کی جانب سے جن لوک پال کے بارے میں طرح طرح کے گمراہ کن بیان دئے جارہے ہیں۔ اپریل میں جنتر منتر پر پانچ دن اور 8 جون کو راج گھاٹ پر انشن دیکھنے کے بعد سرکار سمجھ گئی ہے کہ16 اگست سے شروع ہونے والی تحریک پہلے کی بہ نسبت زیادہ بڑی ہوگی۔ اس لئے طرح طرح سے جنتا کو گمراہ کرنے میں سرکار لگی ہوئی ہے۔ انا نے کہا کہ 16 اگست سے دوبارہ انشن شروع کرنے سے پہلے وہ دیش کے الگ الگ حصوں میں بیداری یاترا پر جانا چاہتے ہیں لیکن اس پروگرام میں انہیں دقت آرہی ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں انہیں کئی بار عدالتوں کے چکر لگانے ہوں گے۔ اگلے مہینے سے پہلے ان کے خلاف مہاراشٹر کے کچھ لیڈروں کی طرف سے دائر کردہ مقدموں کی تاریخوں میں پیش ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا یہ معاملے صرف مجھے پریشان کرنے کیلئے دائر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکارنے انہیں پریشان کرنے کے لئے ان کے ہندسووراج ٹرسٹ جانچ پڑتال شروع کردی ہے۔ یہ سب میری توجہ بٹانے اور تحریک کمزور کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انا نے یہ بھی کہا کہ وہ گاندھی جی کے ماننے والے ہیں۔ انہیں ستیہ گرہ سے کوئی روک نہیں سکتا۔ میں پھکڑ ہوں، مجھے جیل میں ڈال دو، گولیوں نے بھون دو، میں پیچھے ہٹنے والا نہیں۔
تازہ صورتحال اب یہ ہے کہ حکومت نے تمام سیاسی پارٹیوں پر ساری بات کو منتقل کردیا ہے۔ لوک پال بل پر سرکار نے3 جولائی کو کل جماعتی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد لوک پال بل کا مسودہ کیبنٹ میں جائے گا۔ وہاں سے مسودہ فائنل ہونے پر اسے پارلیمنٹ کے اندر یاکم اگست سے شروع ہورہے مانسون اجلاس میں پیش کردیا جائے گا۔ سرکار کے ذرائع نے بتایا کہ کل جماعتی میٹنگ میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے مسودے کے ساتھ ہزارے فریق کی طرف سے بنایا گیا مسودہ بھی رکھا جائے گا۔ سرکار اور انا کے درمیان لوک پال بل پر پچھلے دو مہینوں میں قریب 9میٹنگیں ہوئی ہیں لیکن عام اتفاق رائے نہیں بن پایا۔ سرکار کے مسودے سے غیر متفق انا نے 16 اگست سے پھر انشن پر جانے کا اعلان کیا ہے۔ اب دیکھیں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں کوئی حل نکلتا ہے۔ ان کے سامنے دو مسودے ہوں گے ایک جو انا ہزارے ٹیم نے تیار کیا ہے اور دوسرا سرکار نے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ یوپی اے سرکار انا ہزارے کی مانگوں کو کسی بھی صورت میں تسلیم کرے گی۔ انا کے پاس دوبارہ تحریک شروع کرنے کے علاوہ شاید کوئی اور متبادل نہیں بچے گا۔
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Congress, Corruption, Daily Pratap, Jantar Mantar, Maharashtra, Rajghat, UPA, Vir Arjun

نتن گڈکری کو دھول چٹانے میں جٹے انہیں کہ پارٹی لیڈر


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
25جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ایک ہفتے کے ڈرامے کے بعد آخر بھاجپا نیتا شری گوپی ناتھ منڈے مان ہی گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج سے ملنے کے بعد مہاراشٹر میں بھاجپا کے چہرے اور لوک سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر گوپی ناتھ منڈے نے اپنے تیور نرم کرلئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی صدر نتن گڈکری کے خلاف منڈے کی بغاوت سے پیدا بحران فی الحال ٹلنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ بھاجپا جو ایک وقت میں اپنے آپ کو ’پارٹی ود دی ڈفرنس ‘کہا کرتی تھی وہ کتنی نیچے آگئی ہے اور دوسری پارٹیوں کی طرح بن کر رہ گئی ہے۔ گوپی ناتھ منڈے اتنے اہم نہیں جتنا اہم ہے پارٹی میں ڈسپلن بنائے رکھنا۔ گوپی ناتھ منڈے نے کیا کیا نہیں کیا؟ انہوں نے کھل کر پارٹی صدر نتن گڈکری کو گالی دے ڈالی۔ پہلے شیو سینا میں جانے کی کوشش کی وہاں سے ان کے دروازے بند کردئے گئے۔ پھر کانگریس میں گھسنے کی کوشش کی۔ منڈے ہیں تو پرمود مہاجن کے بہنوئی اس لئے سودے بازی میں تو اپنے آپ کو ماہر سمجھتے ہیں۔ کانگریس سے انہوں نے اپنے آنے کی شرط رکھی۔ مجھے کیبنٹ کا درجہ چاہئے۔ رپورٹوں کے مطابق وہ سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر و سکریٹری احمد پٹیل سے اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان سے بھی ملے۔ کانگریس نے الٹا شرط رکھی کہ آپ پہلے بھاجپا کی ٹکٹ پر بیڈ لوک سبھا سیٹ سے استعفیٰ دیں اور بطور کانگریس امیدوار وہاں سے ضمنی چناؤ جیتیں پھر آپ کو وزیر بنانے کی بات سوچی جائے گی۔ گوپی ناتھ منڈے اس کے لئے شاید تیار نہیں تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں پرتھوی راج چوہان کی خالی ہوئی راجیہ سبھا کی سیٹ دے دی جائے۔ جب کانگریس سے لات پڑی تو منہ بچانے کے لئے منڈے نے واپس آنے کا راستہ تلاش کرنا شروع کردیا۔ یہاں سشما سوراج کام آگئیں۔ کیونکہ منڈے نے نتن گڈکری کو کھلی چنوتی دی تھی اس لئے بھاجپا کا ایک گروپ کی انہیں خفیہ حمایت مل رہی تھی۔ اس گروپ کے صدر نتن گڈکری کو نیچا دکھانے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے۔بھاجپا کا آج ہائی کمان کیا ہے؟ کون ہے ہائی کمان؟ کانگریس میں تو سونیا گاندھی جو پارٹی صدر ہیں وہی ہائی کمان ہیں۔ ان کے فیصلے کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ اچھے اچھوں کو آنکھیں دکھانے پر پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے لیکن بھاجپا میں حساب الٹا ہی ہے۔ صدر کو گالی نکالو اور ہیرو بنو۔ بھاجپا کو مضبوط کرنے میں لگے گڈکری کو پارٹی کے اندر ہی ایک گروپ روکنا چاہتا ہے تاکہ وہ پارٹی میں اپنی پکڑ مضبوط نہ کر پائیں۔ مہاراشٹر کی سیاست میں الجھا کر بھاجپا کی یہ لابی گڈکری کو کمزور صدر ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جس سے وہ بڑے فیصلے نہ لے سکیں۔ منڈے نے بھاجپا میں بنے رہنے کا کوئی شکھانند نہیں کیا بلکہ گڈکری کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے لئے ایک چال چلی۔ بھاجپا میں یہ لابی سرگرم ہے۔ گڈکری کے بھاجپا میں پرانے لوگوں کو لانا انہیں راس نہیں آرہا ہے۔ گڈکری نے حال ہی میں اپنے کئی انٹرویو میں جو سخت سندیش دیا اس سے بھاجپا کی دوسری لائن کے لیڈر پریشان ہیں۔ گڈکری نے صاف کہا کہ وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے اپنے ایجنڈے پر قائم رہیں گے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ پرانے جمے لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے۔ گڈکری کے ساتھ ساتھ سنگھ پوری طرح کھڑا ہے۔ سنگھ چاہتا ہے کہ بھاجپا کی کھوئی ہوئی ساکھ واپس آجائے۔ گوپی ناتھ منڈے کی لڑائی اشوز پر نہیں ہے دراصل اشو ان کے لئے یہ ہے کہ ان سے جونیئر نتن گڈکری دسمبر2009 ء میں صدر بننے کے بعد ان سے اوپر کیسے پہنچ گئے۔ وہ آج بھی اپنے آپ کو گڈکری سے اوپر مانتے ہیں۔ وہ خود کو نظرانداز محسوس کررہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پارٹی کے اندر لیڈروں کے آپسی ٹکراؤ بڑھ رہے ہیں جو خود کو دوسروں سے الگ بتاتی آئی ہے۔ زیادہ دن نہیں ہوئے جب کرناٹک کے ریڈی بھائیوں کو لیکر سشما سوراج اور ارون جیٹلی کی تکرار سرخیوں میں چھائی ہوئی تھی۔ ایسا لگتا ہے پارٹی اٹل جی کے سرگرم سیاست سے الگ ہونے اور اڈوانی جی کی سرپرستی کے کردار میں آنے کے بعد سے لیڈر شپ بحران کا شکار ہے۔اصل میں پانچ سات برس پہلے تک جو لیڈر دوسری اور تیسری لائن میں گنے جاتے تھے وہ اب پہلی لائن میں شمار کئے جانے لگے ہیں اور ان میں آگے بڑھنے کی دوڑ لگ گئی ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ ایسے وقت جب دیش گھوٹالوں کے غیر متوقع دور سے گذر رہا ہے ، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی شباب پر ہے اور مرکزی سرکار کی مقبولیت سب سے نچلے پائیدان پر آگئی ہے۔ بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپا کا ان سب سے لڑنے کیلئے نہ تو کوئی ٹھوس پروگرام ہے اور نہ ہی طاقتور لیڈر شپ۔ کل کو جنتا پوچھ سکتی ہے اگر جنتا آپ کو متبادل کی طرح چنے تو آپ کا پردھان منتری کا امیدوار کون ہوگا؟ آپ کی لیڈر شپ کیا ہے؟ ہماری رائے میں تو شری گوپی ناتھ منڈے کو نکال کر باہر کرنا چاہئے تھا تاکہ دوسروں کو بھی سبق ملے۔ اپنے آپ کو ’پارٹی ود دی ڈفرنس‘ کہلانے والی پارٹی سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس طرح کے سمجھوتے کرتی پھرے گی۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gopinath Munde, L K Advani, Maharashtra, Nitin Gadkari, Parmod Mahajan, Prithvi Raj Chavan, Sushma Swaraj, Vir Arjun

24 جون 2011

پرنب مکھرجی کی جاسوسی انتہائی سنگین معاملہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 یوپی اے حکومت پر لگتا ہے گرہن کا سب سے زیادہ اثر ہوا ہے۔ ایک کے بعد دیگر گھوٹالوں میں پھنستی جارہی ہے یہ سرکار۔ ابھی بابا رام دیو کا معاملہ، انا ہزارے سے تنازعہ سلجھا نہیں تھا کہ ایک اور گھوٹالہ سامنے آگیا ہے۔ یہ گھوٹالہ تونہیں لیکن انتہائی سنگین معاملہ ضرور ہے۔ یہ ہے مرکزی وزیر مالیات پرنب مکھرجی کے دفتر میں ٹیپنگ کرنے کا اشو۔ ایک انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس ‘ نے ایک سنسنی خیز رپورٹ شائع کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ایک خط لکھاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے دفترنارتھ بلاک میں ان کی میز کے نیچے اورکم سے کم 15 دیگر میزوں کے نیچے چیونگم لگی پائی گئی تھی۔ وزیر مالیات کے دفتر میں ، ان کے مشیر اچیتا پال کے پرائیویٹ سکریٹری منوج پنت دو کانفرنس کمروں میں ایسی ہی چیونگم میزوں کے نیچے لگی پائی گئی ہیں۔ ان چیونگم کے اوپر ٹرانسمیٹر فٹ کیا جاتا ہے تاکہ جو بھی بات چیت ہو اسے سنا جا سکے۔ اسے ٹیپ کیا جاسکے۔ ان چیونگموں پر حالانکہ کوئی مائک تو نہیں لگا ملا لیکن نشان ضرور پائے گئے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرنب دادا کی کوئی پوری جاسوسی کررہا تھا۔
اب دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ پرنب مکھرجی اس کی شکایت وزارت داخلہ سے نہیں کرتے جو عام طور پر ہونا چاہئے تھا۔ وہ سیدھے وزیر اعظم سے کرتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ وہ معاملے کی جانچ کریں۔ اس واقعے سے کئی باتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کے اندر کوئی گڑ بڑ ضرور ہے اور زبردست رسہ کشی پائی جاتی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ میں نے اسی کالم میں دو دن پہلے لکھاتھا کہ کانگریس پارٹی میں دو خیمے بن چکے ہیں۔ ایک خیمہ سونیا گاندھی و کانگریس پارٹی کا ہے تو دوسرا وزیر اعظم منموہن سنگھ و ان کے وزراء کا ہے جو حکومت کی حمایت لیتے ہیں۔ یعنی پارٹی بنام حکومت ۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کا پرنب دا سے 36 کا آنکڑا ہے اور دونوں الگ الگ خیمے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم سے شکایت کی تھی وزارت داخلہ سے نہیں۔نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک کا علاقہ انتہائی محفوظ زون مانا جاتا ہے مگر وزارت مالیات میں کسی نے ٹیپنگ آلات لگائے تو یہ کون ہوسکتا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے بغیر اندرونی ذرائع کے کوئی باہری طاقت یا شخص ان دفاتر میں پہنچ ہی نہیں سکتا کیونکہ یہاں سکیورٹی اتنی سخت ہے۔ کیا کانگریس نے خود اپنے وزیر مالیات کی جاسوسی کروائی ہے؟ سبرامنیم سوامی کا تو کہنا ہے یہ جاسوسی پی چدمبرم نے کروائی ہے۔ کیا یہ کام کسی باہری دیش کاہے؟ جو چیونگم پائی گئی وہ غیر ملکی معرکہ کی ہے اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر ملکی حکومت یا طاقت نے جاسوسی کروائی۔ یہ بھی امکان ہے کہ کسی صنعتی گھرانے نے یہ جاسوسی اس لئے کرائی ہو تاکہ انہیں پتہ لگ سکے کہ وزارت مالیات میں کیا چل رہا ہے؟
پورے معاملے سے کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ مثلاً جب پرنب مکھرجی کو اس کا پتہ تھا تو انہوں نے آئی بی کو اس کی جانکاری کیوں نہیں دی؟ کیونکہ آئی بی کے دائرہ اختیار میں یہ کام آتا ہے اور سرویلانس اور اینٹی سرویلانس میں وہ مہارت رکھتی ہے۔ پرنب مکھرجی نے سی ٹی بی ٹی کو چھان بین کے لئے کیوں کہا۔ کیونکہ ان کا یہ کام نہیں اور اسے معلوم بھی نہیں کہ ایسے حالات میں کیسے نمٹنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سی ٹی بی ٹی نے کسی پرائیویٹ خفیہ ایجنسی کو بلا کر جانچ کروائی۔ آئی بی کو اس لئے نہیں بلایا گیا کیونکہ وہ وزارت داخلہ کے ماتحت ہے اور پرنب مکھرجی وزارت داخلہ کو ملوث نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بعد میں آئی بی کو بلایا گیا اور آئی بی نے کلین چٹ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ چیونگم تو ملی ہے لیکن مائیکرو فون نہیں ملا۔ آئی بی تو کہے گی ہی؟ سرکار یہ نہیں چاہے گی کہ سچ سامنے آئے اور اس معاملے کودبانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک کے دفاتر کو ہر روز بند کرنے کی ذمہ داری ایک الگ محکمے کی ہے۔ بغیر چابیوں کے یہ دفتر کب اور کیسے کھلے تاکہ بگنگ ڈیوائز فٹ کی جاسکیں؟ کیا کوئی اس محکمے کا آدمی ملا ہوا تھا؟
وزارت مالیات پرنب مکھرجی اور ان کے مشیروں کی وزارت کے اندر جاسوسی کو لیکر جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے الزام لگایا ہے کہ سونیا گاندھی کے کہنے پر پرنب مکھرجی کی جاسوسی کروائی گئی۔ ڈاکٹر سوامی نے کہا کہ سونیا گاندھی کے کہنے پر حسن علی معاملے میں وزیر خزانہ کی جاسوسی کرائی گئی ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے جاسوسی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانکاری کے مطابق سپریم کورٹ کے دباؤ میں پرنب مکھرجی جھکتے نظر آرہے تھے۔کئی بڑے ناموں کا خلاصہ ہوسکتا تھا اس لئے پرنب مکھرجی کی جاسوسی کرائی گئی۔ وہیں سوامی کے الزام کے بعد سیاسی گہما گہمی تیز ہوگئی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور تیز طرار بھاجپا کی نیتا سشما سوراج نے اس جاسوسی کانڈ کو امریکہ کے وارگیٹ اسکینڈل کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مالیات کے دفتر کی جاسوسی کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ وزیر مالیات خود اسے مسترد کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ وہ انہیں کے دباؤ میں ہوسکتے ہیں لیکن دیش اصلیت جاننا چاہتا ہے۔ اپوزیشن کے حملوں کو دیکھتے ہوئے سرکاری مشینری بھی سرگرم ہوگئی ہے اور سرکار کی میڈیا سے متعلق کیبنٹ گروپ نے بھی اس بارے میں غور کیا ہے اور اس کے بعد کانگریس نے صفائی دینے کے بجائے بھاجپا کے الزاموں کو ان کی پانچ ریاستوں میں چناؤ میں ہار کی مایوسی قرار دیا ہے۔ دیش جاننا چاہتا ہے کہ اس میں سچ کیا ہے؟ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ اس معاملے سے کئی طرح کے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ سرکار کو اس معاملے میں لیپا پوتی کرنے کے بجائے وزیروں کی جاسوسی کرنے والوں کا خلاصہ کرنا چاہئے۔ یہ معاملہ دیش کی معیشت سے وابستہ ہونے کے علاوہ دیش کی سلامتی سے بھی جڑا ہوسکتا ہے۔ معاملے کی پوری جانچ ہونی چاہئے اور سچائی جنتا کے سامنے آنی چاہئے۔ پرنب مکھرجی ایک بہت سلجھے ہوئے ، سمجھدار وزیر ہیں۔ اگر انہیں دال میں کچھ کالا نہیں دکھائی دیتا تو وہ جانچ کی مانگ کرتے ہی نہیں؟ اور پھر وزارت داخلہ کو چھوڑ کر براہ راست وزیر اعظم سے شکایت کیوں کی ؟
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Sushma Swaraj, UPA, Vir Arjun

پاکستانی فوج میں انتہا پسندوں کے حمایتی افسر

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24جون 2011 کو شائع
انل نریندر
حال ہی میں جب کراچی کے مہران ایئر فورس کے بیس پر حملہ ہوا تھا تبھی میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ ضرور پاکستانی فوج کے کچھ آدمی دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں۔ دراصل پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی میں ایک گروپ آتنکیوں کا حمایتی ہے۔ اس کے کئی ثبوت پہلے بھی مل چکے ہیں۔ آئی ایس آئی، پولیس ہیڈ کوارٹر، فوج کے کیمپوں پر حملے یہاں تک کہ سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے یہ سبھی ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسر ان دہشت گرد تنظیموں کے رابطے میں ہیں جو انہیں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ تازہ ثبوت اب خود پاکستانی فوج نے دے دیا ہے۔ فوج کے ایک برگیڈیئر رینک کے سینئر افسر کو آتنکی تنظیم سے تعلق رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ گرفتار برگیڈیئر اب تک کے سب سے سینئر افسر ہیں جنہیں آتنکیوں سے سانٹھ گانٹھ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کئی چھوٹے رینک کے افسروں کو پکڑا جا چکا ہے۔ گرفتار برگیڈیئر علی خان راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھا۔ فوج کے چیف ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے منگلوار کو بتایا کہ برگیڈیئر خان کو ممنوعہ کٹر پسند اسلامی تنظیم حزب التحریر(آزادی کی جماعت) کے ساتھ رابطہ رکھنے کے سبب حراست میں لیا گیا ہے۔ برگیڈیئر خان آتنکیوں سے رابطہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے اب تک کے سب سے بڑے افسر بتائے جاتے ہیں۔ بی بی سی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے فوج کے چیف جنرل اشفاق کیانی نے خود خان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ عباس نے بتایا کہ فی الحال خان سے فوج پوچھ گچھ کررہی ہے حالانکہ ابھی تک خان کے خلاف کوئی باقاعدہ چارج شیٹ تیار نہیں کی گئی ہے لیکن فوج کی اسپیشل برانچ اس معاملے کی تفتیش کررہی ہے۔ غور طلب ہے کہ صحافی سلیم شہزاد نے مہران بحری اڈے پر آتنکی حملے کے بعد انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی فوج میں آتنکی طاقتیں سرگرم ہیں۔ بعد میں شہزاد کا قتل ہوگیا۔
قابل ذکر ہے کہ حزب التحریر نے مسلم دنیا میں خلیفہ شاہی کے قیام کے لئے ایک مہم چلا رکھی ہے۔ وہ پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کی لیڈر شپ والی غیر ملکی فوجوں کی کارروائی کے بھی خلاف ہیں۔ تنظیم کی جانب سے پاکستانی فوج میں دراندازی کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بلوچستان کے امسی ہوائی ٹھکانے پر حملے کے لئے بھی اسی تنظیم کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ پچھلے سال دو افسروں کا کورٹ مارشل اس لئے بھی کیا گیا تھا کیونکہ ان کی اس تنظیم سے وابستگی تھی۔ 2004 ء میں کئی چھوٹے عہدوں کے افسروں کو پرویز مشرف پر حملے میں شامل ہونے کے الزام میں سزا دی گئی تھی۔ برگیڈیئر خان کی گرفتاری سے ثابت ہوتا ہے کہ آتنکیوں نے کس حد تک پاکستانی فوج و آئی ایس آئی میں گھس پیٹھ قائم کرلی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Islamabad, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Parvez Musharraf, Taliban, Terrorist, Vir Arjun

23 جون 2011

ابھی کنی موجھی تہاڑ میں ہی رہیں گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
23جون 2011 کو شائع
انل نریندر
’’سوری میڈم وی ہیو ٹرائڈ اوور بیسٹ‘‘ سوموار کو سپریم کورٹ میں کنی موجھی کے وکیلوں نے جو یہ الفاظ کہے تو دو ماہ پہلے تک تاملناڈو کی انتہائی اہم شخصیت کا درجہ رکھنے والی کنی موجھی کی ماں رجاتی امل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ انہیں بہت امید تھی کہ سپریم کورٹ سے کنی موجھی کو ضمانت مل جائے گی۔ چہرے پر ہوائیاں اور آنسو ٹپکاتی کنی موجھی کی ماں رجاتی نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا بس ہاتھ جوڑ کر سر ہلایا اور آگے بڑھ گئیں۔ دوسرے مقدمے میں بالو بھی ان کے پیچھے چل دئے۔ بالو نے ڈھائی گھنٹے چلی پوری کارروائی کھڑے ہوکر سنی تھی۔ رجاتی سابق وزیر اعلی ایم کروناندھی کی تیسری بیوی ہیں۔ 43 سالہ کنی موجھی ان کی اکلوتی بیٹی ہیں۔پہلی بیوی کی موت کے بعد کروناندھی نے دیالو امل سے شادی کی تھی۔ دیالو کلیگنر ٹی وی میں 60 فیصدی حصص کی مالک ہیں۔ رجاتی کافی دنوں تک کروناندھی کے ساتھ ایسے ہی رہتی رہیں۔ کروناندھی نے ان کے ساتھ کبھی باقاعدہ شادی نہیں کی۔ انہیں بیوی بھی 10-12 سال پہلے ہی اس وقت مانا تھا جب چناؤ میں انہوں نے اپنی آمدنی کا حلف نامہ دائر کیا تھا۔اس میں امل کے نام کچھ پراپرٹی دکھائی گئی تھی۔ لوگوں نے جب پوچھا کہ رجاتی کون ہیں؟ تب انہوں نے کہا کہ وہ ان کی بیوی ہیں۔
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ملزم ڈی ایم کے ایم پی کنی موجھی کو سپریم کورٹ آنا مہنگا پڑا۔ سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت عرضی ہی خارج نہیں کی بلکہ مستقبل میں ضمانت دینے پر بھی پابندی لگادی۔ کنی موجھی اب ضمانت کے لئے تبھی درخواست دے پائیں گی جب ان کے خلاف نچلی عدالت میں الزامات طے ہوجائیں گے۔ الزامات طے ہونے میں تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے لیکن سماعت عدالت صرف اس کیس کے لئے بنی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ یہ میعاد کچھ دن گھٹ جائے۔ سپریم کورٹ نے کنی موجھی کی اس دلیل کو نا منظور کردیا کہ انہیں دفعہ437 کے تحت ضمانت دے دی جائے۔ کورٹ کا کہنا ہے کہ آپ میں کیا خاص بات ہے۔ آپ کی طرح سینکڑوں زیر سماعت خاتون قیدی جیل میں ہیں، اور اپنے بچوں سے دور ہیں۔ کنی موجھی 20 مئی سے دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس بی ایس چوہان کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ ضمانت کی مخالفت کررہی سی بی آئی اور کنی موجھی کے وکیلوں کی ڈیڑھ گھنٹہ بحث سننے کے بعد دیا۔ضمانت خارج کرنے کا دو لائن کا فیصلہ سن کر کنی موجھی کے وکیلوں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ کنی موجھی کے وکیلوں نے بہت کوشش کی کہ ضمانت کسی حالت میں ہوجائے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کورٹ کی سخت سے سخت شرط ماننے کو تیار ہیں۔ مگر سی بی آئی کو ڈر ہے کہ اپنے سیاسی رسوخ سے گواہوں اور جانچ کو وہ متاثر کرسکتی ہیں تو انہیں ان کے گھر میں نظر بند بھی رکھا جاسکتا ہے۔ کنی موجھی کے وکیلوں کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ امریکہ کی طرح یہاں پیروں میں ریڈیو بیڑیاں تو نہیں لگائی جاسکتیں لیکن ان کے گھر میں 24 گھنٹے پہرے داری اور الیکٹرانک نگرانی کیمرے اور وائرلیس لگائے جاسکتے ہیں۔ لیکن عدالت نے ان کی کوئی دلیل نہیں مانی۔ بس اتنی چھوٹ ضرور دی کہ عدالت نے کہا کہ کنی موجھی الزامات طے ہونے کے بعد معاملے کی سماعت کررہی کورٹ سے پیرول ضمانت مانگ سکتی ہیں۔ وہاں معاملے نئے سرے سے سنا جائے گا۔
Tags: 2G, A Raja, CBI, DMK, kani Mozhi, Karunanidhi, Supreme Court, Tamil Nadu, Tihar Jail

یوپی میں خراب ہوتا قانون و نظم 72 گھنٹوں میں11 وارداتیں

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
23جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 اس سال ماہ مئی میں حکمراں بہوجن سماج پارٹی کے دو ممبران اسمبلی کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تو بسپا نے اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی کہ اس نے ریاست میں کرمنل جسٹس کا ریکارڈ درست کرلیا ہے لیکن یہ مثبت ساکھ پچھلے11 دن میں ملیا میٹ ہوگئی۔ 72 گھنٹوں میں گھناؤنے الزامات کی 11 وارداتوں نے بہن جی کی سرکار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لکھیم پور کھیری ، بارہ بنکی، کنوج میں لڑکیوں کے ساتھ ہوئی آبروریزی و قتل زیاتیوں کے بعد ریاست میں آبروریزی کی چار اور وارداتیں ہوگئیں۔ تازہ واردات میں ایٹہ میں جہاں ایک35 سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کا واقعہ رونما ہوا تو وہیں گونڈا، فیروز آباد اور کانپور میں بھی لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ ایٹہ میں دبنگوں نے اپنی ہوس کا شکار بنی بیوہ کو جلا کر مار ڈالا۔ گونڈا میں تین لڑکوں نے آبروریزی کے بعد نابالغ لڑکی کو مار ڈالا۔ فیروز آباد میں منچلوں نے ایسی ہی ایک نابالغ لڑکی کو نشانہ بنایا۔ کانپور میں نشیلی چیز کھلاکر لڑکی سے دو دن تک ہوٹل میں آبروریزی کرتا رہا ۔بدفعلی اور فروق نگر میں چھیڑ چھاڑ کی مخالفت کرنے پر عورت کو گولی ماردی گئی۔ علیگڑھ میں پولیس حراست میں خاتون سے بد تمیزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ علیگڑھ میں تو اکبر آباد علاقے میں ایک عورت نے پولیس کانسٹیبل اور اس کے ساتھیوں پر آبروریزی کا الزام لگایا۔ چوری کے الزام میں زیر حراست خاتون نے بتایا کہ پوچھ تاچھ کے بہانے ایتوار کی رات اسے کسی دوسری چوکی لے جاکر اس سے بدفعلی کی گئی۔
بہن جی نے ان معاملوں کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے دو سب سے بھروسے مند افسران کو ڈیمیج کنٹرول میں لگا دیا ہے۔ انفارمیشن سکریٹری پرشانت دویدی اور اسپیشل ڈائریکٹر جنرل پولیس برج لال ہیں۔ دویدی نے بتایا کہ قنوج واردات کے پیچھے سماجوادی پارٹی کے ایک ورکر ہیں۔ قابل ذکر ہے قنوج اکھلیش یادو کے پارلیمانی حلقے میں پڑتا ہے۔ ایٹہ آبروریزی کیس میں برج لال نے ایک ملزم کا نام ملائم سنگھ یادو بتایا ہے۔ دونوں سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے اکھلیش یادو نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ برج لال پر جان بوجھ کر انہیں بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔برج لال نے کہا کہ میں کیا کروں اگر ایک ملزم کا نام ملائم سنگھ یادو ہے۔ اپوزیشن نے قانون و نظم کی بگڑتی صورتحال پر ہنگامہ مچایا۔ چاہے وہ سپا ہو یا کانگریس ہو، چاہے بھاجپا ہو، سبھی نے بسپا سرکار کی ناک میں دم کردیا ہے۔ ریاست میں ہورہی آبروریزی اور عورتوں سے زیادتیوں کے واقعات کو لیکر چوطرفہ گھری یوپی کی وزیر اعلی مایاوتی نے سخت رویہ اختیارکرلیا ہے اور صوبے میں حال میں ہوئے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے بہن جی نے منگلوار کو اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ایسے واقعات پر موثر طریقے سے لگام لگانے کے لئے سی آر پی سی میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ ضلعوں میں عورتوں اور نابالغ لڑکیوں سے ہوئے آبروریزی اور قتل کے واقعات سے دکھی مایا سرکار نے مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لئے سی آرپی سی کی دفعہ437 اور439 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس سیکشن کی ضمانتی دفعہ 354 کو بھی غیر ضمانتی بنانے کا آرڈیننس گورنر کو بھیج دیا ہے۔ قانونی واقف کارو ں کا خیال ہے ریاستی حکومت کو سی آر پی سی میں تبدیلی کا پورا حق ہے کیونکہ اس میں ترمیم کا اختیار مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کو بھی ہے۔ اس ریاست سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ اسی قانون کے تحت سماعت کرتا ہے۔ ترمیم میں ایسی سہولت ہے کہ ملزم کو تب تک ضمانت نہیں مل پائے گی جب تک وہ بے قصور ثابت نہیں ہوجاتا۔ وزیر اعلی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کیلئے انہوں نے 27 جون کو ریاستوں کے ضلع مجسٹریٹ، ایس پی، کمشنر ، ڈی آئی جی، آئی جی کی میٹنگ بلائی ہے۔ میٹنگ میں وہ ہدایت دیں گی کہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ اس کے لئے ہر تھانہ علاقے میں بد کردار مطلوب لوگوں کی فہرست تیار کرکے انہیں سدھارنے کا موقعہ دیا جائے گا۔ وزیر اعلی یہ اچھی طرح سمجھ رہی ہیں چناؤ جلد ہونے والے ہیں اور انہیں قانون و نظم درست کرنا ہوگا۔ اپوزیشن ہر موقعہ کا فائدہ اٹھائے گی، چھوٹے سے چھوٹے معاملے کو اچھالا جائے گا۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ بہن جی اپنا گھر درست کریں اور اچانک آئی جرائم کی لہر کو ہر حالت میں روکنا ہوگا۔
Tags: Anil Narendra, Crime, Daily Pratap, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

22 جون 2011

افغانستان میں 10 سال پہلے امریکہ گھسا کیوں تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
افغانستان میں تیزی سے سیاسی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکہ نے اب وہاں سے بھاگنے کے اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کچھ کھیل چل رہا ہے۔ پہلی خبر جو آئی تھی وہ یہ کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی 15 ممبردیشوں میں پابندیوں کے لحاظ سے ایک ایسی فہرست کو منظوری دی ہے جس میں طالبان اور القاعدہ کو الگ الگ نظریئے سے دیکھا جائے گا۔ اس کا مقصد طالبان اور افغانستان میں صلاح کرانے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل نے گذشتہ جمعرات کی رات مکمل اکثریت سے ریزولیشن پاس کئے ہیں۔ ان میں پابندیوں کو لیکر طالبان کے لئے القاعدہ سے الگ فہرست بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس اہم قدم کے بعد القاعدہ اور طالبان آتنکیوں کو الگ الگ پیمانوں میں تولا جائے گا۔ دوسرا واقعہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا کہ امریکہ طالبان سے بات چیت کررہا ہے، اس بارے میں پہلی بار سرکاری طور پر توثیق ہوئی ہے۔ کرزئی نے کابل میں ایک کانفرنس میں کہا طالبان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی فوجیں خاص کر امریکہ خود ہی بات چیت کرارہا ہے۔ امریکہ میں لیڈر شپ میں افغانستان میں جاری جنگ10 ویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں پر لڑائی کے سیاسی حل کی آوازیں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے جو انکشاف کیا ہے وہ افغانستان کے لئے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی امریکہ کے مفاد پرمبنی ہے اور یہ دوہرے پن کا ایک ثبوت بھی ہے۔ افغانستان کے خلاف امریکہ نے آخر جنگ کیوں چھیڑی تھی؟ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں 9/11 حملے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی۔ پچھلے10 برسوں میں پہلے تو امریکہ نے اسی طالبان حکومت کو اقتدار سے معذول کیا تھا اور اب وہی طالبان اسے اچھے لگنے لگے ہیں اور ان سے دوبارہ اقتدار سنبھلوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم صدر براک اوبامہ اور امریکہ کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ 2014 ء ادطعرتتک افغانستان سے امریکی فوج کی پوری واپسی ہونی ہے اس لئے اناً فاناً میں مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی کے تحت طالبان سے بات چیت شروع کی ہے جو حالانکہ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ نے طالبان اور القاعدہ پر اس لئے پرانا سسٹم روکتے ہوئے جو پیغام دیا ہے اس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ اگر القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر طالبان افغانستان کا دوبارہ تعمیر نو میں معاون بنتا ہے تو اسے معافی دے دی جائے گی۔ ہمیں تھوڑا تعجب اس بات پر بھی ہوا ہے کہ آخر بھارت نے کیا سوچ کر سلامتی کونسل کے ریزولیشن پر اپنی مہر لگائی تھی۔ بھارت کی نظروں میں یہ طالبان ایک اچھی تنظیم بن گئی ہے جس سے بھارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ طالبان کیسا ہے، سوال یہ ہے ایک آتنکی تنظیم جس نے اپنا ایجنڈا عام کردیا ہو، ا س سے آپ سمجھوتے کی بات کررہے ہوں وہ بھی بکواس شرطوں پر؟ معاملہ تو یہ ایک آتنکی تنظیم سے بات چیت کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اس کے تمام فیصلوں کے پیچھے صرف اسکا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ اس گھوٹالے کا بھارت، پاکستان، ایران ملکوں پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ نہ ہی اسے اب عالمی آتنک واد سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ اس لئے بات چیت میں افغان سرکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ خود افغانی مانتے ہیں کہ یہ انتہائی خطرناک قدم ہوگا اور ملک پھر2001 ء سے پہلے کے حالات میں چلا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان بھارت کو بھی ہوگا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان میں جاری مختلف تعمیراتی اسکیموں کو جھٹکا لگے گا۔ اس سے کرزئی حکومت کی ساکھ اور طریقہ کار اور مستقبل پر نامناسب اثر پڑے گا۔ لیکن امریکہ کو ان سب سے کیا لینا دینا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک دہائی پہلے جو امریکہ ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ دیکر افغانستان میں اس لئے داخل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو وہ ختم کرسکے، آج وہ اسے نہیں آتنکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ افغانستان سے اسے بھاگنے کا راستہ مل جائے؟
Tag: 9/11, Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, Daily Pratap, India, Iran, Osama Bin Ladin, Pakistan, Security Council, Taliban, UNO, USA, Vir Arjun

کیا ڈاکٹر منموہن سنگھ کا پتاّ کٹنے والا ہے؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
وزیر اعظم منموہن سنگھ کی مخالفت میں اب آوازیں تیزی سے اٹھنے لگی ہیں۔ عوام میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی ساکھ دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ اب تو کانگریس پارٹی میں بھی ان کے خلاف ایک خیمہ کھل کر بولنے لگا ہے۔ حکومت اور کانگریس میں دراڑ پڑ چکی ہے اور پارٹی کے ایک طبقے کو لگنے لگا ہے کہ منموہن سنگھ کانگریس پارٹی کی لٹیا ڈبو دیں گے۔ پچھلے دنوں جنتا دل متحدہ کے قومی صدر شرد یادو نے بھوپال میں اپنی پارٹی کی کانفرنس میں وزیر اعظم کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا۔ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ایسی گائے ہیں جودیکھنے میں سیدھی لگتی ہے لیکن نہ دودھ دیتی ہے نہ گوبر۔ ان کے سامنے ایک کے بعد ایک آزادی کے بعد سے سب سے بڑے گھوٹالے ہوئے ہیں اور وہ آنکھیں ٹکائے دیکھتے رہے۔ انہوں نے گڑ بڑ گھوٹالے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی کوئی پہل نہیں کی تھی۔ کارروائی تب شر وع ہوئی جب کورٹ نے انہیں حکم دیا۔ یادو کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے الزام میں ابھی کئی اور لوگ جیل جائیں گے۔ انہیں کوئی بچا نہیں پائے گا۔ آج دیش میں ہر طرف اوپر سے نیچے تک لوٹ مچی ہوئی ہے لگتا ہے کہ پورے کنوئیں میں افیم پھیل گئی ہے۔ کہیں ووٹ بک رہے ہیں تو کہیں ایمان۔
اگر میڈیا میں شائع خبروں پر یقین کیا جائے تو کانگریس میں بھی منموہن سنگھ کے خلاف اب آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ میں نظریاتی اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔ منموہن سنگھ اب اپنا خیمہ بنا رہے ہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن گھوٹالے اور پھر لوک پال بل کی تحریک کے حوالے ڈاکٹر منموہن سنگھ میں یہ ڈر بٹھا دیا گیا ہے کہ کچھ کرنا ہی ہوگا نہیں تو بدعنوانی کے سیدھے ملزم بنیں گے اور بے عزت ہوکر اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ اور جان لیں آج اسی ڈر سے منموہن سنگھ کام کررہے ہیں۔ اگر لوک پال بل بنا اور لوک پال کی تقرری ہوئی تو سب سے پہلے منموہن سنگھ کے خلاف ہی مواصلات گھوٹالے کی جانچ کی شکایت ہوگی۔ لوک پال ان کے لئے مصیبت ثابت ہوگا اس لئے نوٹ کرلیں کہ لوک پال بل کے دائرے میں وزیر اعظم کے عہدے کا آنا تب تک ممکن نہیں جب تک منموہن سنگھ وزیر اعظم ہیں۔ لگتا ہے کے شریمتی سونیا گاندھی یہ سمجھ چکی ہیں اور وہ پارٹی کو بچانے کیلئے منموہن سنگھ کے متبادل پر غور کررہی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کو ایک بار پھر وزیر اعظم بنانے کی مانگ نے زور پکڑ لیا ہے۔ رام لیلا میدان میں لاٹھی چارج کا فیصلہ بھی پردھان منتری خیمے نے کیا تھا۔ سونیا پورے معاملے سے نمٹنے کے طریقے سے ناراض ہیں۔
وزیر اعظم اور ان کے پی ایم او کو سارے گھوٹالوں کی پوری جانکاری تھی۔ دہلی کامن ویلتھ کھیلوں کے تنازعوں میں گھری آرگنائزنگ کمیٹی کی کارگزاریوں کے بارے میں پی ایم او کو پہلے ہی جانکاری تھی لیکن اس نے اس معاملے میں کوئی کارروائی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ آر ٹی آئی ورکر سبھاش چندر اگروال نے اطلاعات کے حق کے تحت جو جانکاری حاصل کی ہے اس کے تحت وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر کھیل کے درمیان کامن ویلتھ کھیلوں کے بارے میں 52 صفحات کا تبادلہ ہوا تھا۔ سال 2007 ء میں وزیر کھیل رہے منی شنکر ایئر نے کھیلوں کے بارے میں غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے ایک رپورٹ وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجی تھی۔ ایئر نے ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ ان کھیلوں کے تئیں سنجیدہ ہیں لیکن دستاویز ہمیں سوچنے کو مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم اس راستے پر چلیں جس سے دیش کو بھاری نقصان ہوسکتا ہے؟ اس مسئلے پر وزیر اعظم کے دفتر نے اپنی ایک اندرونی رپورٹ منظور کی ہے کہ وزارت کھیل اور آرگنائزنگ کمیٹی کے درمیان گھیرے اختلافات ہیں۔ وزارت کھیل جہاں شفافیت اور جوابدہی پر زور دے رہا ہے وہیں آرگنائزنگ کمیٹی اس کے لئے قطعی تیار نہیں تھی لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کے پی ایم او نے کوئی کارروائی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایسے ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا بھی معاملہ ہے۔ پی ایم او کو سب جانکاری تھی لیکن اس نے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔اسی کے چلتے آج کانگریس پارٹی منموہن سنگھ کو ایک ذمہ داری ماننے لگی ہے اور انہیں ہٹانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔
Tags:2G, Anil Narendra, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Mani Shankar Aiyar, Manmohan Singh, Scams, Sharad Yadav, Sonia Gandhi, Vir Arjun

21 جون 2011

دہلی پولیس کا سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے والا حلف نامہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
21 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
دہلی پولیس نے4 جون کی رات کو رام لیلا میدان سے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو طاقت سے ہٹانے کی کارروائی کو جائز ٹھہراتے ہوئے سپریم کورٹ میں دعوی کیا کہ بابا رام دیو کو یوگ کیمپ کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہ اس کے برعکس وہاں ستیہ گرہ کررہے تھے۔ دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ بابا رام دیو کی جانب سے رام لیلا میدان میں منعقدہ پروگرام کی شرطوں کی خلاف ورزی کئے جانے کے سبب اس کے پاس اجازت واپس لینے کا کوئی اور متبادل نہیں بچا تھا۔ دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں بابا رام دیو کے حمایتیوں پر لاٹھی چارج کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بھگدڑ میں کچھ لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بابا رام دیو پر اپنے حمایتیوں کو بھڑکانے کے لئے اسٹیج کا استعمال کا دعوی کیا گیا ہے کہ ستیہ گرہیوں کے ذریعے پتھراؤ کئے جانے پر پولیس نے آنسو گیس صرف آٹھ گولے داغے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بابا رام دیو کو رام لیلا میدان میں پانچ ہزار افراد کے یوگ کیمپ کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہاں 20 ہزار لوگ موجود تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بابا رام دیو کو یوگ کیمپ کے انعقاد کی اجازت واپس لینے کے بارے میں 4 جون کی رات کو ایک بجے مطلع کیا گیا اور انہیں رام لیلا میدان خالی کرنے کے لئے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔
یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ دہلی پولیس سپریم کورٹ کو گمراہ کررہی ہے۔ پولیس اپنے کالے کارناموں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ مظاہرین اور چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس کے اعلی افسروں نے لوگوں کو رام لیلا میدان سے گھسیٹ گھسیٹ کر باہر کرنے ، لاٹھی چارج کرنے کا حکم دیاتھا۔ پھر وہ سپریم کورٹ کے سامنے جھوٹ کیوں بول رہی ہے؟ انکم ٹیکس کے وکیل لوکیندر آریہ اس رات رام لیلا میدان میں تھے۔ وہ آریہ ویر دہلی پردیش کی جانب سے سیوا دینے اور رام لیلا میدان گئے تھے۔ لا ٹھی چارج میں ان کے بھی چہرے و پیٹ میں چوٹیں آئیں اور انہیں لوک نائک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ لوکیندر آریہ کے مطابق دہلی پولیس کے اعلی افسر امت رائے نے واضح الفاظ میں لاٹھی چارج کا حکم دیا تھا۔ ام رائے کا بلا ان کی وردی میں لگا تھا جس سے ان کا نام مجھے یاد ہے۔ کچھ پولیس والوں نے تو بربریت آمیز رویہ اختیار کرنے سے اپنا بلا ہی چھپا لیاتھا اور احتجاج کرنے پر آر اے ایف اور پولیس کے جوانوں کو لیکر اسٹیج کے پاس پہنچ گئی تھی۔ مارکسوادی پارٹی کے قومی سکریٹری ڈی راجا کا کہنا ہے کہ پولیس جھوٹ بول رہی ہے۔ مظاہرین کو کچلنے کیلئے سرکار و پولیس جب بھی ایسے قدم اٹھاتی ہے تو اس طرح کی بربریت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پولیس کی منشا لاٹھی چارج کرنے کی تھی نہیں تو اتنی تعداد میں وہاں پولیس کیوں گئی؟ اسی سے دہلی پولیس کے جھوٹ کا پتہ چلتا ہے۔
4 جون کی کالی رات یاد کرکے آج بھی زخمی ہرے ہوجاتے ہیں۔ جس طرح سے سوئے ہوئے لوگوں پر پولیس نے لاٹھی چلائی تھی ان کا سوال ہے کہ پھر آج پولیس کیوں مکر رہی ہے۔ اگر لاٹھی نہیں چلی تو لوگوں کے ہاتھ پیر کیسے ٹوٹ گئے؟ میڈیا میں لاٹھی چارج کے فوٹو کہاں سے آئے؟ 70 سالہ راج یوگی کا کہنا ہے ان پر لاٹھی چلائی گئی لیکن انہوں نے پھر بھی ترنگا اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ یہاں تک کہ ہسپتال کے بیڈ پر بھی جھنڈا پکڑے تھے۔ ان کے پیٹ اور پیٹھ میں چوٹیں آئیں تھیں۔ رام گووند گپتا36 سال، بتاتے ہیں کہ پولیس کی لاٹھیاں لگنے سے ان کا دائیاں ہاتھ ہی ٹوٹ گیا تھا جس کا ابھی بھی پلاسٹر نہیں اترا ہے۔ وہ کبھی بھی اس کالی رات کو نہیں بھول پائیں گے۔ کہتے ہیں کہ دہلی پولیس نے جلیانوالا باغ کانڈ کو بھی مات دے دی۔ اس وقت تو دن میں گولیاں برسائی گئیں تھیں لیکن یہاں تو سوتے وقت لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ دہلی پولیس کے ذریعے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولنے پر کہتے ہیں کہ اس سے خود ہی پولیس بے نقاب ہوگئی ہے۔زخمی ہوئے جگدیش بتاتے ہیں کہ اگر لاٹھی نہیں چلی تو میڈیا میں لاٹھی چارج کے فوٹو کہا سے آگئے۔ درجنوں لوگ اس میں زخمی ہوئے۔ کسی کا ہاتھ ٹوٹا، کسی کا پیر۔ پھر اس کالی رات کی سب سے بڑی شکار خاتون راج بالا 17 دن بعد بھی اپنی زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ گوڑ گاؤں کی سابق میونسپل کونسلر راج بالا نزعے سے باہر نکل آئی ہیں لیکن ابھی بھی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اشاروں اشاروں میں وہ بات کو سمجھ رہی ہیں لیکن حالت ابھی بھی ان کی نازک بتائی جاتی ہے۔ جی پی پنتھ ہسپتال کے نیورو سرجری محکمے کے آئی سی یو 17 میں بھرتی راج بالا کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے اس کے جسم اور دماغ کے درمیان تال میل قائم نہیں ہو پارہا ہے۔ گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے دماغ کی نسوں کو نقصان پہنچا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس رپورٹ کو جھوٹا اور گمراہ کن کرنے والی بتایا ہے۔اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کے دہلی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر وجے کمار ملہوترہ نے بتایا کہ پولیس اپنے آپ کو بچانے کے لئے سپریم کورٹ میں جھوٹ بول رہی ہے۔ انہوں نے دہلی پولیس ، مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ سے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی راج بالا سمیت سینکڑوں لوگوں کے ہاتھ پاؤں بھگدڑ کے دوران ٹوٹے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی تو بھگدڑ کیوں مچی؟ ستیہ گرہ 4 جون کی صبح شروع ہوا تھا جو پر امن اور عدم تشدد پر مبنی تھا۔ اس میں ہزاروں کی تعداد میں بچے اور خواتین شامل تھیں۔ وزارت داخلہ اور دہلی پولیس نیمظاہرین کو 4 جون کی درمیانی رات تک دھرنے پر بیٹھنے کی خود اجازت دی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی 4-5 جون کی رات بغیر وارننگ دئے رام لیلا میدان خالی کرانے کابغیر سوچے سمجھے فیصلہ کیاگیا؟ اگر صرف میدان خالی کرانے کا حکم تھا تو پولیس نے بند پنڈال میں آنسو گیس کے گولے کیوں داغے؟ بچوں ، بزرگوں ، خواتین پر بلا وجہ بغیر وارننگ دئے لاٹھی چارج کیوں کیا گیا؟ اگر پولیس نے ظلم نہیں کیا تو جس ٹھیکیدار نے میدان میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے تھے اس کے یہاں دہلی پولیس نے اچانک چھاپا مارکر اس دن کے پولیس مظالم کے ریکارڈ کرنے والی 42 سی ڈی کیوں زبردستی چھین کر غائب کردی ہیں؟ الیکٹرانک میڈیا کے فٹیج بتاتے ہیں کہ 4-5 جون کی رات کو جو بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اس نے جلیانوالاباغ کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ پولیس کو رام لیلا میدان خالی کرانے کی ہدایت تھی تب پولیس نے بے رحمانہ اور لٹیروں جیسا رویہ اپناتے ہوئے مظاہرین کے روپے، زیور کیوں لوٹے؟ کیا وجہ ہے کہ بابا رام دیو جیسے عالمی شہرت یافتہ یوگ گورو کو اپنی جان بچانے کے لئے خواتین کی کپڑے پہن کر عورتوں کے بیچ چھپنا پڑا؟ اگر دہلی پولیس اتنی ہی معصوم ہے تو وہ دن کے وقت رام لیلا میدان خالی کرانے کیوں نہیں آئی؟ رات میں جانے کا کیا مطلب تھا ۔ لوگوں کو کچلنا، ثبوت مٹانا۔ بھارت سوابھیمان ٹرسٹ کے ریاستی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گیان کے مطابق پولیس نے بربریت آمیز طریقے سے لاٹھی چارج کیا اور اب وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ پولیس کا یہ کہنا کہ لوگ پتھر برسا رہے تھے اور واویلا کررہے تھے ، ڈنڈے لیکر آئے تھے، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ رام لیلا میدان میں آنے والے ہر شخص کو پولیس جانچ سے ہوکر وہاں تک پہنچنا تھا۔ اس وقت تو پتھر و ڈنڈے نہیں ملے؟ ثبوت مٹانے اور گواہوں کو تیار رکھنے کیلئے خبرہے کہ پولیس اب زخمیوں کا بیان لینے کیلئے ان کے گھروں پر دستک دے رہی ہے۔ پولیس سرکاری معاوضے کا جھنجھنا تھمانے کے نام پر زخمی ہوئے لوگوں کا بیان درج کررہی ہے۔ پولیس نے ایسے 40 لوگوں کی فہرست تیار کی ہے جنہیں چھوٹیں آئیں تھیں۔ زخمیوں یا ان کے رشتے داروں کے ذریعے خدشتہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے بیان درج کرنے آئے ہیں۔ زخمیوں کے ذریعے بیان میں کسی پولیس افسر کا نام لینے پر انہیں دبی زبان میں دھمکی دی جارہی ہے؟ پیشے سے انکم ٹیکس وکیل لوکیندر آریہ کے مطابق جمعرات 16 جون 2011 کو دو پولیس والے ان کے پاس آئے تھے ایک سب انسپکٹر تھا تو دوسرا حولدار، انہوں نے کہا کہ آپ رام لیلا میدان میں زخمی ہوئے تھے اس لئے آپ کا بیان لینا ہے۔ سوال پوچھنے پر کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے بیان درج کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ ان کی ڈیوٹی سپریم کورٹ کے سکیورٹی کنٹرول روم میں ہے۔ اگر آپ بیان دیں گے تو سرکار آپ کو معاوضہ دے گی۔ لوکیندر آریہ کے مطابق میں نے ان سے کہا مجھے ایسی سرکار سے معاوضہ نہیں چاہئے جو چور اور بد عنوان ہے ۔
 Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Congress, Daily Pratap, delhi Police, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

19 جون 2011

کیا اتنے مناسب ماحول کا بھاجپا فائدہ اٹھا پائے گی؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے لئے نہ تو یوپی اے حکومت سے بہتر اور کوئی حکمراں سرکار ہوسکتی تھی اور نہ ہی اتنی خراب ہے سیاسی ماحول جتنا منموہن سنگھ سرکار نے کردیا ہے۔ کوئی بھی اپوزیشن پارٹی ایسے سیاسی ماحول کا انتظار کرتی رہتی ہے جب اتنی متنازعہ مرکزی حکومت ہو جتنی یہ حکومت ہے اس حکومت نے دیش کو کیا نہیں دیا ؟ بڑھتی مہنگائی بڑھتی قیمتیں ایک کے بعدایک گھوٹالہ اور دہشت گردی جیسے برننگ اشو پر ٹال مٹول کی پالیسی، نکسلیوں سے لڑنے کا قوت ارادی، تاناشاہی رویہ وغیرہ وغیرہ۔ کہنا کامطلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی وہ بڑی پارٹی ہے وہ اس سے بہتر سیاسی ماحول کی امید نہیں کرسکتی تھی۔ حود بھاجپا نیتا ارون جیٹیلی فرماتے کہ کانگریس لیڈر شپ والی مرکزی حکومت کو سیاست داں نہیں بلکہ افسر شاہی چلارہی ہے۔ آزادی کے بعد سے اتنی بدعنوان، نکمی اور کٹر حکومت جنتا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ سرکار اپنے پانچ سال پورے نہیں کرپائے گی کیونکہ اب جنتا کانگریس سرکار کو پھوٹی آنکھ میں نہیں بھارہی ہے۔ یہ سخت تذکرہ اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے پردیش بھاجپا کی جانب سے منعقدہ سنگھرش کے ایک سال پروگرام میں حال ہی میں کیا تھا۔ جیٹیلی نے کہا کہ بھاجپا کو تحریک چلانے کا شوق نہیں ہے لیکن منموہن سنگھ سرکار ایک کے بعدایک سنگین غلطیاں کررہی ہے کہ بھاجپا کو سڑک پر اترنے کے علاوہ کوئی راستہ اس کے پاس نہیں تھا۔ دیش کو ایسا وزیراعظم چلارہاہے جو ایک کٹ پتلی ہے ۔ پردہ کے پیچھے اقتدار کی بھاگ دوڑ دوسرے کے ہاتھوں میں ہے ۔تاریخ میں ایسا کئی دیکھنے کو نہیں ملتا جہاں سورہے ہزاروں نہٹے لوگوں پر رات کی تنہائی میں پولیس ٹوٹ پڑتی ہے بچوں اورعورتوں پر لاٹھیاں برسائے جائے۔ آنسو گیس کے گولے چھوڑے جائے۔ ارون جیٹیلی نے اس سرکار کوہیٹ لیس چکن کہاہے کہ اس کا مطلب ہے کہ اس سرکار کا کوئی سر پیر نہیں ہے کوئی وارث نہیں ہے۔
اب منموہن سنگھ سرکار کی جو رپورٹ جیٹیلی صاحب نے پیش کی ہے وہ بہت بڑی حد تک صحیح لگتی ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب منموہن سنگھ سرکار کی بری حالت بن گئی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ بڑی اپوزیشن پارٹی کے ناتے بھاجپااٹھاپارہی ہے۔؟ ہم نے دیکھا بھاجپااپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کاکردار صحیح طریقہ سے نہیں نبھا پائی۔ میں یوپی اے 1- ایک کی بات کررہا ہو۔ جب بھاجپا نہیں لیفٹ پارٹیاں بڑی اپوزیشن کا کردار بہتر طریقہ سے نبھا رہی تھی۔ یوپی اے 2میں کامریٹ موجود نہیں ہے سارا اپوزیشن کادارو مدار بھاجپا پر ہوتا ہے لیکن ایمانداری سے بھاجپانیتاؤں کو سوال کرناہوگا کہ وہ کیوں نہیں حالات کافائدہ اٹھاپارہے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ اتنا مناسب ماحول ہونے کے بعد بھی جنتا میں وہ اتنا بھروسہ پیدا نہیں کرپائی کہ جنتا انہیں مرکز میں دوبارہ سے اقتدار سونپنے کی ہمت دکھائے۔؟ اس میں کوئی شک نہیں ریاستوں میں بھاجپا کی سرکاریں اچھاکام کررہی ہے ان کی ساکھ بھی اچھی ہے اور جنتا سے کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ مرکز میں اچھااقتدار دیے سکتے ہیں۔ ایک بار ہمیں موقعہ ضرور دے ۔ ریاستوں میں اگر بھاجپا سرکاریں اچھاکام کررہی ہے تواس کی بنیادی وجہ ہے ہرریاست میں ایک مضبوط وزیراعلی ہے اور اسی وزیراعلی کے رہتے اس کی وجہ سے ریاست میں اچھی حکومت چل رہی ہے۔ گجرات میں نریندر مودی، مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان، اتراکھنڈ میں رمیش چند پوگھیریال اور ہماچل میں پریم کمار بھومل وغیرہ ان کی شخصیت اور ساکھ اور کارگزاری اوران کے اقتدار کی اہم خوبیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے مرکزی لیڈر شپ ہے۔ مرکز میں تو بھاجپا لیڈر شپ نہ کے برابر ہے۔ دکھ سے کہن اپڑتا ہے کہ یہ دوسری صف کے نوجوان لیڈر آپس میں ہی ایک دوسرے کی کاٹ کرنے سے باز نہیں آتے ان کی نظرو ں میں پارٹی کی کوئی اہمیت ہے اورنہ ہی اس بات کی پرواہ وکر کیا سوچتا ہے۔ جنتا کی بات تو چھوڑوں۔ ان کے اپنے اپنے نجی ایجنڈے پارٹی ایجنڈے سے بالاتر ہے نجی خواہشات ہے اور جو ان کے آڑے آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ اتنااچھا ماحول ہونے کے باوجود جنتا میں بھروسہ نہیں کرپارہی ہے جو انہیں کرناچاہئے۔ اٹل جی اور اڈوانی کی رہنمائی میں بھاجپانے جو سنہرے دور دیکھا ان کے رہتے پارٹی ہوا کرتی تھی۔ اور ان کی اپنی ساکھ تھی ورکروں سے وہ جڑے ہوئے تھے جنتا کی نبض کو سمجھتے تھے لیکن آج کی لیڈر شپ اپنے ایئرکنڈیشنوں کے کمرے میں ہی بیٹھ کر اپنے ہی گن گان کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ لیکن سچائی بھی یہ ہے کہ آج بھارت کی عوام کو سبھی سیاسی پارٹیوں سے نیتاؤں سے بھروسہ اٹھ گیا ہے ان کی نظر میں سبھی برابر ہے یعنی ایک حمام میں سبھی ننگے ہے۔ وہ بھاجپاسے جاننا چاہتے ہیں۔ جو مسائل آج دیش کے سامنے ہے منہ پھاڑ رہے ان سے کیسے نبٹا جائے ۔ وہ جنتا چاہتی ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ کون کونسے ایسے قدم اٹھائے گی۔ جن سے گھوٹالہ رکے۔ قیمتوں پر قابو ہو۔مہنگائی گھٹے۔ بے روزگاری گھٹے، قانون نظم سدھرے، بجلی پانی جیسے پیچیدہ مسائل جیسے حل ہو کیا جنتا ان پر زیادہ بھروسہ کرے۔ ؟یہ ہے کچھ سوال جن کا میری رائے میں بھاجپا لیڈر شپ کوجواب دینا ہوگا۔جنتا کوبتاناہوگا۔ ہمیں اقتدار میں لائے تو ان مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ لیکن اس کے لئے سب سے پہلے بھاجپا کو اپناگھر ٹھیک کرنا ہوگا۔ اسے صحیح لیڈر شپ طے کرنی ہوگی۔ اپنی ترجیحات بتانی ہوگی۔ اب تو بھاجپا یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آر ایس ایس ان کے کام کاج میں دخل اندازی کرتی ہے۔ جب سے آر ایس ایس کی بالا دستی موہن بھاگوت کے ہاتھ میں آئی ہے سیاست کے کچھ حد تک وہ الگ ہوگئی ہے اب سنگ روز مرے کے معاملے میں دخل نہیں دیتا ہوسکتاہے کہ بھاجپاکے کچھ لیڈروں کے میرے نظریات کچھ اچھے نہ لگیں۔ لیکن انہیں سمجھناچاہئے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ ایک طرح سے جنتا کی آواز ہے اور آج بہت سے لوگ یہ ہی چاہتے ہیں کہ بھاجپا اپناگھر ٹھیک کریں۔ تاکہ جلد سے جلد آنے والے موقعہ کاپورا فائدہ اٹھاسکے.
Tags:  Anil Narendra, Arun Jaitli, Congress, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Modi, RSS, Vir Arjun

الظواہری کے آنے سے امریکہ کی مشکلیں بڑھیں گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پتہ نہیں کیا اثربڑے گا؟ اس کے افغانستان اور پاکستان میں اور دنیا کے دیگر حصوں میں مسئلہ کم ہوگا یانہیں۔ اس میں ایک بار پھر اضافہ ہوگا۔ یہ کچھ سوالات ہے جو امریکی حکام کو ضرور پریشان کررہے ہوں گے۔ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوتا جارہا ہے۔ القاعدہ کے نئے چیف کااعلان ہوچکاہے ۔ پیشہ سے آنکھوں کے ڈاکٹر اورمصرکی ’’اسلامی جہاد کی کٹر تنظیم کی تشکیل میں اہم کردار نبھانے والا ابن الظواہری کو اب القاعدہ کاچیف بنادیا گیا ہے۔ اسامہ بن لادن کا داہنہ ہاتھ مانے جانے والے الظواہری لادن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ 9/11 حملوں کے الظواہری کا ہی دماغ کار فرما تھا۔ سال 2001میں جن 22مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست جاری کی گئی تھی۔ اس میں اسامہ بن لادن کے بعد الظواہری کا دوسرانمبر تھا۔ امریکہ نے الظواہری کے سر پر 25ملین ڈالر کا انعام رکھاہوا ہے بتایا جاتا ہے الظواہری آخری مرتبہ اکتوبر 2001میں افغانستان کے شہر قوس میں نظر آیا تھا۔ افغانستان میں طالبان کے خاتمے کے بعد سے وہ روبوش ہے۔ حالیہ برسوں میں الظواہری القاعدہ کا بڑا ترجمان بن کر سامنے آیا۔ ایک خط لکھاہے کہ اور اس نے 1974میں قاہرہ کے میڈیکل کالج سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی اور 4 سال بعد یہی سے سرجری میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسے عرب دنیا کے سب سے خطرناک کٹر تنظیم مسلم بردر ہڈ کے لڑنے کے سبب محض پندرہ سال کی عمر میں پہلی بار گرفتار کیاگیاتھا۔
الظواہری کی تاج پوشی سے پریشان امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کابھی وہی حشر ہوگا جو اس نے اسامہ کے ساتھ کیاہے۔ امریکہ کے جوائنٹ ا سٹاف مائک ملون نے کہا جیسا ہم نے لادن کو پکڑنے اور مارنے کی دونوں کی کوشش ہم الظواہری کے ساتھ بھی یقینی طور پر ایسا ہی طریقہ اپنائے گے۔امریکہ کی مشکل بڑھ سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں حالات دن بہ دن بس سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ اسامہ بن لادن آپریشن سے پاکستان میں حل چل بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانی فوجی چیف اشفاق کیانی آئی ایس آئی کے چیف پاشا پر دباؤ بڑھتا جارہاہے۔ جنرل کیانی کو امریکہ کے تئیں نرم رویہ اپنانے کے الزام میں ہٹانے کی مہم چل رہی ہے۔ آئی ایس آئی نے لادن کے ٹھکانے کے بارے میں امریکی حکام کو ٹھوس جانکاری دینے کے الزام میں پانچ جاسوسوں کو گرفتار کرلیاہے۔ان میں ایک پاکستانی فوج کامیجر بھی شامل ہے۔ ادھر ایک امریکی سیلٹر نے میٹنگ میں سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل مورل کاپوچھا کہ پاکستان امریکہ کو آتنک واد سے لڑنے کے مسئلے پر کتنی حمایت دے رہاہے؟ تو جواب میں مورل نے کہا کہ دس میں تین نمبر کا مطلب امریکہ پاکستان کی سرگرمیوں سے بالکل نہ خوش ہے۔ انگریزی اخبار ڈا نیویارک ٹائم کے مطابق امریکہ میں اس بات کی سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پاک سرکار نے ان لوگوں پر تو کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے اسامہ بن لادن کو چھپانے میں مدد کی تھی۔ لیکن جن لوگوں نے اسامہ بن لادن کو مارنے میں مدد کی تھی۔ انہیں ہی گرفتار کرلیا ہے۔آنے والے دن امریکہ کے لئے اس معاملے میں چنوتی سے بھرے ہوں گے۔
Tags:Afghanistan, Aiman Al Zawahiri, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...