Translater

17 دسمبر 2011

کیا لوکپال پر سرکار اور انا کا ٹکراؤ ٹلے گا؟


Published On 17th December 2011
انل نریندر
لوکپال کو لیکر شش و پنج کی حالت بنی ہوئی ہے۔ لوکپال بل کیا اس اجلاس میں آئے گا یا نہیں آئے گا، آئے گا تو کب اور کس شکل میں؟ یہ سوال جس کا آج دعوے سے جواب نہیں دیا جاسکتا۔ بدھ کے روز حکومت کی طرف سے اتفاق رائے بنانے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر چار گھنٹے چلی آل پارٹی میٹنگ بے نتیجہ رہی۔ حکومت نے اس میٹنگ میں سبھی پارٹیوں کی رائے تو لی لیکن اپنے پتے نہیں کھولے۔ پھر چاہے وزیر اعظم کا مسئلہ ہو یا سی بی آئی اور گروپ سی کے ملازمین کو لوکپال کے دائرے میں لانے کا۔ ایسے میں کوئی قابل قبول حل نکلتا نہیں نظر آیا۔ اب معاملہ پھر سرکاری پالے میں ہے۔حکومت کی مصیبتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ نااتفاقیوں کی لمبی فہرست کے درمیان سے ہی بل کا مسودہ تیار کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موجودہ اجلاس میں بل کے پاس ہونے کا امکان مشکل دکھائی پڑتا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پون بنسل نے کہا پارٹیوں کی الگ الگ رائے سے مسودے میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ اس سے سرکار کے لئے کام بڑھ گیا ہے پھر بھی اسے بھروسہ ہے کہ وہ موجودہ اجلاس میں بل کو پاس کروا لے گی۔ ذرائع کے مطابق کچھ شرطوں کے ساتھ وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں شامل کرسکتی ہے۔ نچلی افسرشاہی پر اختلافات کو لیکر حکومت لوکپال کے دائرے میں رکھے جانے اور اس کے لئے ایک ضروری اور پختہ مکینزم بنانے پر غور کرہی ہے۔ سی بی آئی پر کوئی اتفاق رائے بنانا مشکل ہے۔ ایتوار کو روس سے لوٹ کر وزیر اعظم کیبنٹ کی میٹنگ بلائیں گے۔ جس میں لوکپال بل کے ترمیم مسودے کو منظوری دی جاسکتی ہے۔ پیر کو سبھی پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کے درمیان بل کے مسودے کی کاپی دی جاسکتی ہے۔ اس کے اگلے دن منگلوار کو اسے پارلیمنٹ کے اندر رکھا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کا جلاس جمعرات کو ختم ہونے والا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اجلاس کو ایک دن کے لئے بڑھایا جاسکتا ہے اور سرکار کے مسودے سے ناراض انا ہزارے نے کہا کہ اس بار وہ انشن پر نہیں بیٹھ رہے ہیں بلکہ سیدھے کانگریس کے سینئر لیڈروں کے خلاف سڑکوں پر اتریں گے۔ اور اگر مضبوط لوکپال نہیں آیا تو یکم جنوری سے یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی اورا ن کے لڑکے کانگری سکریٹری جنرل راہل گاندھی کے سامنے خود دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔انا نے جمعرات کو کہا انہیں امید ہے کہ سرکار پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں پائیدار لوکپال بل پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار ایسا کرتی ہے تو وہ خود اس کا شکریہ ادا کریں گے۔ سرکار کے سینئر لیڈروں کو گلاب پیش کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یوپی اے سرکار کو خبردار کیا کہ سخت لوکپال بل نہیں آیا تو اس بار صرف وہ رام لیلا میدان یا آزاد میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔ 27 دسمبر سے شروع ہونے والے انشن کے علاوہ یکم جنوری سے جیل بھرو آندولن بھی شروع کیا جائے گا۔ لوکپال کی مخالفت کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی مخالفت کی جائے گی۔ ٹیم انا کے اہم سپہ سالار پرشانت بھوشن کا کہنا ہے یوپی اے سرکار بہانے بازے پر اتر آئی ہے۔ دیش کے سبھی لوگوں کو اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ سرکار مضبوط لوکپال قانون بنانا ہی نہیں چاہتی۔بل پارلیمنٹ میں رکھنے سے پہلے ہی سرکار نے ٹال مٹول کا رویہ اپنانا شروع کردیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ سرکار اور انا ہزارے میں ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ ویسے بھی سردی کا موسم ہے سبھی کی کوشش ہونی چاہئے کہ معاملہ نمٹ جائے۔ کچھ سرکار جھکے کچھ لچیلا پن ٹیم انا دکھائے۔آخر جو معاملہ پچھلے 40 سالوں سے لٹکا ہے وہ اتنی آسانی سے سلجھ نہیں پائے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

چوطرفہ گھرتے وزیر داخلہ پی چدمبرم


Published On 17th December 2011
انل نریندر
وزیر داخلہ پی چدمبرم کو گھرینے کے لئے ٹو جی گھوٹالے کے بعداپوزیشن کے ہاتھ ایک بڑا اشو لگ گیا ہے۔ایک ٹی وی چینل آئی بی این 7 نے انکشاف کیا ہے کہ دہلی کے ایک ہوٹل کاروباری کے خلاف تین ایف آئی آر واپس لینے کے معاملے میں اپنے عہدے کا بیجا استعمال کیا۔ الزام یہ ہے کہ ہوٹل کاروباری چدمبرم کا موکل رہ چکا ہے۔ میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق ایس پی گپتا چیئرمین سن ایئر ہوٹل ، نئی دہلی پر الزام ہے کہ انہوں نے وی ایل ایس فائننس کو کروڑوں روپے کا چونا لگایا۔
انہوں نے راجیو گاندھی کے نام پر ایک چیریٹیبل ٹرسٹ بنایا جس کی پیٹنٹ سونیا گاندھی کو بنایا تھا۔ کچھ ممبران کے فرضی لیٹر ہیڈ کا استعمال کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے9 مئی کو یہ ہدایت دینے کا فیصلہ کیا کہ داخلہ سکریٹری کو دی گئی گپتا کی عرضی کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر منسوخ کی جائے۔ سن ایئر ہوٹل کے مالک ایس پی گپتا کے خلاف سابقہ فیصلے کو واپس لینے کا فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر تیجندر کھنہ نے کیا تھا۔ دہلی سرکار کی ریلیز کے مطابق محکمہ قانون کے ڈائریکٹر کی سفارشوں کے مواد میں اس معاملے کو پھر سے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس بھیجا گیا جس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ معاملے کو آگے نہیں بڑھانے سے پہلے فیصلے پر زور نہیں ڈالا جائے گا اور سماعت کے معاملے میں دوش گن کی بنیاد پر فیصلہ لیا جائے گا۔ دہلی سرکار کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے15 دسمبر 2011 کو اس سفارش کو منظوری دے دی۔ سرکار کے ذریعے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطلب صاف ہے،الزام صحیح ہے۔
چدمبرم نے ایس پی گپتا کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا۔ اس طرح انہوں نے اپنے عہدے کا بیجا استعمال کیا۔معاملہ اس لئے بھی زیادہ سنگین بن جاتا ہے جو فرضی ٹرسٹ بنایا گیا تھا وہ سورگیہ راجیو کے نام کا تھا اور سرپرست میں سونیا گاندھی جی کا نام دیا گیا۔ ایسے آدمی کی سفارش کرنے سے پہلے خود چدمبرم کوسوچنا چاہئے تھا وہ کیا کرنے جارہے ہیں۔پی چدمبرم ایک کے بعد ایک تنازعے میں پھنستے جارہے ہیں۔ آخر سرکار اور پارٹی کب تک ان کا بچاؤ کرے گی۔ اگر کسی عدالت نے چدمبرم کے خلاف کوئی تبصرہ کیا تو کیا حالت بنے گی۔ ویسے بھی سرکار بہت کمزور حالت میں ہے چوطرفہ دباؤ میں ہے۔ایسے میں ایک اور سردرد؟ سرکار کو چاہئے کہ چدمبرم کو اپنے آپ خود کو دفاع کرنے دیں۔ سرکار کے اوپر اور بہت پریشانیاں ہیں۔ان پر زیادہ توجہ دیں۔ بہرحال اپوزیشن کے ہاتھ ایک نیا اشو ضرور لگ گیا ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ وہ شری پی چدمبرم کو اب آسانی سے چھوڑے گی۔
2G, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Subramaniam Swamy, Vir Arjun

16 دسمبر 2011

ہم پارلیمنٹ کے شہیدوں کے ورثا کا دکھ سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں



Published On 16th December 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ پر حملے کی دسویں برسی پر شہید ہوئے جوانوں کے ورثا نے کہا کہ جب تک حملے کے قصوروار افضل کو پھانسی نہیں دی جاتی تب تک وہ کسی بھی سرکاری پروگرام میں شریک نہیں ہوں گے۔ یہ ہی نہیں انہوں نے پارلیمنٹ میں شردھانجلی دینے کیلئے منعقدہ تعزیتی پروگرام میں بھی شرکت سے انکارکردیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے صدر کو بھی ایک میمورنڈم سونپا۔ وہیں اے آئی ٹی ایف کی جانب سے امر جوان جوتی پر ہوئی ایک شردھانجلی سبھا میں شہیدوں کو یاد کیا گیا۔ حملے میں شہید ہوئے دہلی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل کے والد سرکار سنگھ ، شہید جے پی یادو کی بیوی پریم یادو ، شہید حولدار وجیندر سنگھ کے سسر کیپٹن جگموہن سنگھ ، سی آر پی ایف کی شہید مہلا کانسٹیبل کملیش یادو کے پتے اودھیش کمار سمیت دیگر شہیدوں کے متاثرہ رشتے دار موجود تھے انہوں نے ایک آواز میں کہا جب تک افضل کو پھانسی نہیں دی جاتی تب تک وہ کسی سرکاری پروگرام میں حصہ نہیں لیں گے۔ ہم مصیبت زدہ خاندانوں سے نہ صرف ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ ان کے مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ آخر آتنکی افضل کو سزا کب ملے گی؟ اس سوال سے دیش کے حکمرانوں کو شاید کوئی فرق نہ پڑتا ہو لیکن عام شہری کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ آخر جس آدمی نے دیش کی عزت پر حملہ کیا ہو ہماری آن بان شان مٹی میں ملا دی ہو اس آدمی کو یوپی اے سرکار بطور سرکاری مہمان بنا کر کیوں پال رہی ہے؟کیا صرف ووٹ بینک کا تقاضہ ہی ایسے اہم فیصلے کے لئے بنیاد ہوگا؟ کیا یہ سرکار اتنی سی بات نہیں سمجھ پاتی کہ اس کی موجودگی کا ہماری سکیورٹی فورس کے حوصلے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے پچھلے سات سالوں سے افضل کا معاملہ فضول کے بہانوں کے سبب لٹکا ہوا ہے۔
ہماری رائے میں یہ نہ صرف آتنکیوں کو حوصلہ افزائی کے برابر ہے بلکہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے جیسا ہے۔ جنتا میں یہ سوال آج کھلے عام پوچھا جارہا ہے کہ اس طرح کے آتنک واد سے لڑنے کی قوت ارادی ہے بھی یا نہیں۔ سرکار اپنے ووٹ بینک کی سیاست کو اوپر رکھ کر دیش کی سلامتی سے سمجھوتہ کرتی ہے وہ دیش واسیوں کی سلامتی کتنی کر پائے گی؟ افضل کی رحم کی اپیل سے متعلق فائل پچھلے سات سالوں سے جس طرح وزارت داخلہ، دہلی سرکار اور راشٹرپتی بھون کے دوچار کلو میٹر کے دائرے میں گھوم رہی ہے ، اسے دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے افضل کی سزا پر عمل میں ابھی کئی اور برس لگ جائیں گے۔ سرکار بے شرموں کی طرح جواب دے دیتی ہے کہ افضل گورو کی رحم کی اپیل کی فائل صدر کے پاس ہے اور راشٹرپتی بھون کو ہی اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ وزارت داخلہ نے افضل گورو کا معاملہ راشٹرپتی کے سکریٹریٹ کو 27 جولائی 2011 کو بھیجا تھا اور سفارش کی تھی کہ اسکی رحم کی اپیل کو نا منظور کیا جانا چاہئے۔ اگر مرکزی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ کا یہ کہنا صحیح ہے تو پھر افضل کی پھانسی میں اڑچن کہاں ہے؟ دہلی سرکار، وزارت داخلہ دونوں نے ہی اپنی منظوری دے دی ہے اب تو صدر کو بس اپنی مہر لگانی ہے۔ رحم کی اپیل کو مسترد کرنا ہے۔ اس میں کتنا اوروقت لگے گا؟
Afzal Guru, Anil Narendra, Daily Pratap, delhi Police, Martyres, Parliament, Vir Arjun

وینا ملک کا بھارت میں کیا کام ہے؟



Published On 16th December 2011
انل نریندر
اپنے کیریئر کو بڑھاوا دینے کے لئے کچھ اداکارائیں کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی ہیں۔ وہ ہر وقت تنازعوں میں بنے رہنا چاہتی ہیں تاکہ پروڈیوسر ان کو دیکھتے رہیں اور ان کا کام بڑھتا رہے۔ ایسی ہی ایک اداکارہ ہیں پاکستانی ایکٹریس وینا ملک عرف زاہدہ۔ وینا ملک پچھلے دنوں ایک میگزین میں برہنہ فوٹو دینے کے تنازعے میں پھنس گئی ہیں۔ اس برہنہ تصویر کے واویلے کی وجہ سے وینا شاید زیادہ مشکل میں پڑ گئی ہیں۔ ان کا دیش کے اندر یعنی بھارت میں تو احتجاج ہورہی رہا ہے لیکن اب ان کے ملک پاکستان میں بھی انہیں جم کر گالیاں پڑ رہی ہیں۔ ایک طرف تو وینا کے والد نہ اس سے فون پربات کررہے ہیں اور نہ ہی اس کے میل کا کوئی جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان کی ایک عدالت نے تو وینا کے خلاف مجرمانہ معاملہ تک درج کئے جانے کی اپیل کو بھی سماعت کیلئے قبول کرلیا ہے۔ اس نے پولیس کو نوٹس جاری کر اس معاملے میں جواب مانگا ہے۔ معاملے کی سماعت آج یعنی16 دسمبر کو ہونی ہے۔ وکیل چودھری اشتیاق نے پیر کو صبح لاہور کی ایک عدالت میں عرضی دائر کر وینا کے خلاف دیش اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کا معاملہ درج کرنے کی مانگ کی تھی۔ پچھلے دنوں ایک ہندوستانی میگزین ایف ایچ ایم انڈیا کے کور پیج پر وینا کی ایک برہنہ تصویر چھپی تھی۔ اس میں اس کے بائیں بازو پر آئی ایس آئی کا ٹیٹو بھی بنا ہوا تھا۔ وینا نے تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کئے جانے کا دعوی کرتے ہوئے میگزین پر10 کروڑ روپے کا مقدمہ تھونپا ہے۔ پاکستان کی کچھ کٹر پسند تنظیموں نے وینا کو پاکستان میں نہ گھسنے دینے تک کی وارننگ دے ڈالی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ پاکستان آئے گی تو ان سے ٹھیک ڈھنگ سے نمٹا جائے گا۔ بھارت میں بھی وینا کی جم کر مخالفت ہورہی ہے۔ کمال راشد خان کو وینا کی حرکتوں پر اتنا غصہ ہے کہ انہوں نے بہت تلخی بھرے لہجے میں وینا کی تنقید کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ لوگوں کو وینا ملک کی پٹائی کردینی چاہئے۔ ٹویٹر میں یہ بھی لکھا ہے جو لوگ انڈیا سے پیار کرتے ہیں وہی وینا ملک کو پیٹیں اور سرکار کو چاہئے انہیں (وینا ملک کو) ملک سے فوراً بھاگے۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس پہلے ہی سے پونم پانڈے، شارلن چوپڑہ، راکھی ساونت ہیں تو ہمیں وینا ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے یہ وہی کمال راشد خان ہیں جو بگ بگ5 میں پورن اسٹار سنی لیون سے شادی کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ ہم ان فضول کے پاکستانیوں کو بھارت میں کیوں آنے دیتے ہیں؟ جب ہمارے یہاں ایسے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے تو ان پاکستانی بیہودہ، فالتو ایکٹریس کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تب بھی سمجھ سکتے تھے جب پاکستان ہمارے اداکاروں کی عزت کرتا۔ آج تک پاکستان نے ایک بار بھی لتا منگیشکر یا امیتابھ بچن کو اپنے ملک میں مدعو نہیں کیا اور ہم ہیں ہر ایرے غیرے کو اپنے گھر میں نہ صرف بلا لیتے ہیں بلکہ انہیں بیہودہ حرکتوں کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔
Amitabh Bachchan, Anil Narendra, Daily Pratap, Nude Photo, Pakistan, Sexy Photo, Veena Malik, Vir Arjun

15 دسمبر 2011

آئی ایس آئی کو دیش کے اندر سے پوری مدد ملتی ہے



Published On 15th December 2011
انل نریندر
پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھارت کے خلاف چھیڑی اپنی مہم کو آگے بڑھانے سے باز نہیں آرہی ہے۔ وہ کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہے لیکن ہماری سکیورٹی ایجنسیاں چست اور تیار رہتی ہیں۔ حال ہی میں انڈین مجاہدین کے7 آتنک وادیوں کو پکڑنے اور ان کے بڑے نیٹورک کا خلاصہ ہونے کے بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ و اسپیشل سیل کی ٹیم کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔اسپیشل ٹیم نے پاک خفیہ ایجنسی کے دو ایجنٹوں کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا ہے ان میں ایک خاتون ہے۔ ان کے پاس پاکستان شناختی کارڈ، پاسپورٹ کے علاوہ ہندوستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی ملے ہیں۔ آئی ایس آئی نے انہیں بھارت میں ٹھکانہ بنانے اور یہاں کی خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کیلئے بھیجا تھا۔دونوں کو تیس ہزاری عدالت کی اے سی جی ایف ونود یادو کی کورٹ میں پیش کیا۔ یہاں سے ان کو 14 دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا۔ ڈی سی پی اشوک چاند کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ دو پاکستانی شہریوں نے نیپال بارڈر سے بھارت میں دراندازی کی ہے اور گورکھپور کے پاس سونولی بارڈر سے ہوتے ہوئے گورکھ دھام ایکسپریس سے دہلی آرہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہیں اسپیشل سیل سرگرم ہوگیا اور دونوں کو دہلی ریلوے اسٹیشن پر دبوچ لیا گیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کے پاس نہ صرف ہندوستانی پاسپورٹ تھے بلکہ ان پر بھارت میں داخل ہونے کی مہر نہیں لگی تھی یہ کیسے ممکن ہوا؟ان کے ساتھ آئی خاتون صوفیہ کے پاس ایک پاکستانی سرکار کے ذریعے جاری شہریت کا ثبوت بھی ملا ہے۔ اس کے پاس سے کچھ متنازعہ دستاویزات بھی ملے ہیں۔ جن میں چپ عمران کے نام سے، گجرات سے جاری ڈرائیونگ لائسنس، ہندوستانی ووٹر کارڈ، عمران یوسف کے نام سے جاری پین کارڈ،یوسف کے نام سے احمد آباد سے 1986ء میں جاری ہندوستانی پاسپورٹ بھی برآمد ہوا ہے۔ عمران نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ وہ بنیادی طور سے احمد آباد کا رہنے والا ہے لیکن1988 ء میں وہ پاکستان چلا گیا تھا اور وہاں کی شہریت حاصل کرلی تھی۔ جب وہ پاکستان میں تھا تو آئی ایس آئی نے اس سے رابطہ قائم کیا اگر وہ بھارت جا کر ان کے لئے کام کرے تو اسے کافی روپے کی مدد ملے گی۔ عمران کے راضی ہونے پر مارچ2011 میں اسے کہا گیا کہ وہ بھارت جاکر ایک خاتون کو وہاں کا ریزینڈنٹ ایجنٹ بنا ئے۔ اسی اسکیم کے تحت وہ بھارت آیا تھا۔ یہاں سے دونوں کو آگرہ جانا تھا۔ عمران اسے آگرہ چھوڑ کر پاکستان لوٹ جاتا۔ خاتون آگرہ میں رہ کر وہاں کے لوگوں کے ساتھ گھل مل کر اپنا ٹھکانہ بنا لیتی۔ لیکن دہلی میں ہی دونوں کو دبوچ لیا گیا۔ یہ حیرانی کی بات ہے کہ نہ صرف بھارت ۔ پاکستان آنا جانا اتنا ان لوگوں کے لئے معمولی بات ہے یہ جب چاہے چلے جائیں جب چاہے واپس آجائیں لیکن بھارتیہ دستاویز ان کے آسانی سے بن جاتے ہیں۔ ہم آئی ایس آئی کو تو دن رات کوستے رہتے ہیں لیکن اپنے گھر کو نہیں دیکھتے جہاں کے لچر سسٹم کے سبب آئی ایس آئی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Terrorist, Vir Arjun

کیا روس میں ہورہے مظاہروں کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے؟



Published On 15th December 2011
انل نریندر
روس میں موجودہ وزیر اعظم ولادیمیر پوتن کے چھ سالہ عہد اور حال ہی میں ڈوما کے لئے ہوئے انتخابات میں ہوئی دھاندلیوں کو لیکر جنتا میں ناراضگی رکتی نہیں دکھائی پڑ رہی ہے اور اپوزیشن پارٹیوں نے ایتوار کو بھی احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ غور طلب ہے کہ روس میں 4 دسمبر کو منعقد ہوئے ڈوما چناؤ میں کل ملاکر سات پارٹیوں نے حصہ لیا تھا۔ چناؤ نتائج کے اعلان ہونے کے بعد پوتن کی سربراہی والی یونائیٹڈ رشیا والی پارٹی کو سب سے زیادہ تقریباً50 فیصدی ووٹ اور ڈوما میں 238 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ ان انتخابات میں روسی کمیونسٹ پارٹی 20 فیصدی ووٹ اور 92 سیٹوں کے ساتھ بڑی اپوزیشن پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ روس کے صدر دمیتری میدوف نے حالیہ چناؤ میں ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کے الزامات پر ہزاروں لوگوں کے مظاہرے کے بعد ایتوار کو معاملے کی جانچ کے احکامات دے دئے ہیں۔ میدوف نے فیس بک پر لکھا ہے''میں نہ تو ان ریلیوں میں لگائے جانے والے نعروں سے متفق ہوں اور نہ ہی بیانوں سے حالانکہ میں نے پولنگ مراکز پر چناوی قانون کی تعمیل سے متعلق سبھی اطلاعات کی جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پچھلے ہفتے ہوئے پارلیمانی چناؤ میں وزیر اعظم پوتن کے حلاف 50 ہزار سے زیادہ شہری سڑکوں پر اتر آئے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے اور منصفانہ چناؤ کرانے کی مانگ کررہے ہیں۔ اس پر میدوف نے لکھا ہے '' لوگوں کے پاس اپنے نظریات رکھنے کا پورا حق ہے جو انہوں نے کیا یہ اچھا ہے کہ سب قانون کے دائرے میں ہو''۔
سوال یہ ہے کہ کیا عوام کا غصہ جائز ہے اور واقعی چناؤ میں دھاندلی ہوئی ہے یا پھر کوئی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پوتن کے خلاف بنے ماحول کو ہوا دینے میں لگے ہیں۔ وزیر اعظم ولادیمیر پوتن نے ملک میں ہورہے وسیع مظاہروں کے لئے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کوذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ پوتن نے الزام لگا یا کہ مغربی ممالک دیش میں چناؤ کو متاثر کرنے کیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔پوتن نے کہا یوروپی مبصرین آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن کی رپورٹ دیکھنے سے پہلے ہی ہلیری نے چناؤ کے منصفانہ ہونے پر سوالیہ نشان لگادئے ہیں۔ انہوں نے کہا امریکی وزیر خارجہ نے اپوزیشن ورکروں کے سر میں سر ملایا اور ان کی پیٹھ پر امریکی محکمہ خارجہ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کو روس کا نیوکلیائی طاقت ہوناپچ نہیں رہا ہے اس لئے وہ گھریلو سیاست میں مداخلت کررہے ہیں۔ انہوں نے خبردار بھرے لہجے میں کہا ''ہم اپنی گھریلو کارروائی کو متاثر کرنے نہیں دے سکتے اور اپنی سرداری کی حفاظت کے لئے پر عزم ہیں''۔ پوتن کے الزامات میں کتنا دم ہے یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن ہاں امریکہ کا یہ اسٹائل رہا ہے گذشتہ مہینوں میں مشرقی وسطی میں ایسے مظاہرے ہی ہوئے تھے اور کہا یہ ہی جاتا ہے کہ امریکہ کا ان کے پیچھے ہاتھ ہے۔ اور حمایت دے رہا ہے امریکہ کا مقصد اور روس کا مقصد یکساں ہے۔ امریکی حکمرانی کی آزادانہ پالیسی پسند نہیں تھی۔ موجودہ عہد کا وہ تختہ پلٹنا چاہتے تھے۔روس بھی پوتن کے کچھ اشوز پر لئے گئے موقف سے امریکی محکمہ خارجہ خوش نہیں ہے۔ ویسے روس میں سرکار نواز ایک ویب سائٹ نے امریکی سرکار اور آزاد چناؤ مبصر ''گالوسے'' کے درمیان ای میل کے تبادلے کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ لاؤ نیوز کی ویب سائٹ پر گلوس کو ملنے والی امریکی مدد کا تبصرہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پوتن نے جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ پر روس میں مخالف مظاہروں کو ہوا دینے کے الزام کے بعد یہ انکشاف کیا ہے۔ ویب سائٹ نے لکھا ہے پہلے صرف یہ کہا جاتا تھا گلوس کو مدد ملتی ہے اور اب ہمارے پاس ثبوت ہیں۔ ادھر ایک ماہر سیاسیات میکسس گوناچاروف نے کہا کہ مائیکرو بلاننگ ویب سائٹ ٹیوٹر پر حملہ روسی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سوویت روس کے ٹوٹنے کے بعد کمزور روس کو ایک متحدہ روس بنانے میں اہم کردار نبھانے والے پوتن کے خلاف لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں؟ سوویت روس کے زمانے میں جب ریڈیو یا ٹیلی ویژن اور مقامی لوک سنگیت کے علاوہ کچھ اور نہیں چلتا تھا تو اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا تھا کہ دیش میں کوئی سیاسی بحران آنے والا ہے۔ اس کا موازنہ آج کے اس حالات سے کیا جاسکتا ہے کہ اگر روس میں جب بھی کوئی انٹر نیٹ کھولتا تو ویب برائزر ڈینیل آف سروس بتلاتا ہے۔ یہاں کہا جاسکتا ہے کہ ایک بار پھر روس میں سیاسی بحران کے اشارے مل رہے ہیں۔ حالانکہ مظاہرین میں 100 سے زیادہ لوگ گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ماسکو سمیت دیش کے 50 شہروں میں وسیع مظاہرے پوتن اور میدوف کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ پچھلے12 برسوں میں روس میں جب بھی مظاہرے ہوئے ان میں لوگ شامل نہیں ہوا کرتے تھے۔ لوگ سیاست کو کم اہمیت دیا کرتے تھے۔ ان کا واحد مقصد اپنی زندگی میں پائیداری لانا ہوتا تھا۔روسی عوام سوویت روس کی تقسیم سے پہلے علاقے کو کنٹرول کرنے والی سرکار اور 90 کی دہائی میں کڑوی یادوں کو بھلا دینا چاہتی ہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جب اس بار چناؤ ہوئے تو لوگوں کو لگا کہ حکمراں طبقہ ان کی حالت کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور چناؤ میں واقعی دھاندلی ہوئی ہے یا یہ امریکہ کا پوتن کے خلاف ہتھیار ہے کہنا مشکل ہے لیکن اتنا طے ہے کہ روس میں ایک بار پھر عدم استحکام کے دور کا آغاز ہوچکا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ولادیمیر پوتن اور میدوف اس کو کنٹرول میں لا سکیں گے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun

14 دسمبر 2011

پاکستان کے راہل گاندھی : بلاول بھٹو زرداری


Published On 14th December 2011
انل نریندر
مرحومہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے صاحبزادے بلاول آج تک پاکستان کی سیاست میں کافی سرگرم ہوگئے ہیں۔ صدر زرداری کے دوبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہونے کے ساتھ ہی بلاول کو پاکستان کی حکمراں پارٹی پی پی پی کی جانب سے اہم میٹنگوں میں بلایا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ بلاول کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے پارٹی کو آئندہ کے امیدوار کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم گیلانی بھی کہہ چکے ہیں بلاول پاکستان کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ رنگین مزاج طالبعلم رہ چکے 23 سالہ بلاول بھٹو کی پاکستانی سیاست میں اچانک سرگرمیاں بڑھنے سے ملک کی اپوزیشن پارٹیوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد والد زرداری کے صدر بننے اور بلاول پی پی پی کے چیئرمین مقرر کئے گئے تھے۔ اب جس طرح سے وزیر اعظم گیلانی کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین رضاربانی نے انہیں قومی سکیورٹی حالات سے متعارف کرا رہے ہیں اس سے پارٹی کی اس حکمت عملی کی تصدیق ہوتی ہے کہ بلاول کو نہ صرف حکمراں پارٹی بلکہ پاکستان کی حکومت میں بھی بڑی ذمہ داری لینے کیلئے تیار کیا جارہا ہے۔ حالانکہ بلاول ستمبر2013ء میں 25 سال کے ہونے کے بعد ہی پاکستانی اسمبلی کے لئے بھی چناؤلڑسکیں گے۔ اس لئے تب تک ان کے وزیر اعظم بننے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ کیونکہ پاکستانی اسمبلی کے چناؤ 2013ء میں ہی طے ہیں اس لئے مانا جارہا ہے کہ تب تک بلاول کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر ایک مکمل سیاستداں کی شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ بلاول نے جنتا کے درمیان جانے کا پروگرام بنایا ہے اور ان کے موجودہ تیور کو دیکھتے ہوئے ان کا کچھ پاکستانی بھارت کے راہل گاندھی سے موازنہ کررہے ہیں لیکن یہ بھی کہہ رہے ہیں اگر بلاول کو سیاسی دنیا میں آنا ہے اور پاکستانی عوام کے درمیان اپنی ساکھ بنانی ہے تو انہیں اپنی رنگین مزاجی کی عادت کو بدلنا ہوگا۔ بلاول کو نہ صرف جہاد اور کٹر پنتھیوں کی بڑھتی طاقت پر و امریکہ کے ساتھ بگڑتے پاکستانی فوج کے رشتوں پر بھی اپنی بیباک رائے دینی ہوگی۔ کچھ پاکستانی مبصرین کا خیال ہے بلاول کو سرگرم کرنے کے پیچھے بھی پاکستانی فوج کا ہاتھ ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستانی سیاست میں سابق کرکٹر عمران خان کافی ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔ ان کی پارٹی تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔
پاکستانی فوج عمران کو زیادہ پسند نہیں کرتی اور وہ اس کے بڑھتے قدموں کو ہر حال میں روکنا چاہتی ہے۔ اگر جنرل کیانی ایسا نہ کر سکے تو وہ کم سے کم یہ چاہتے ہیں کہ عمران ان کی پکڑ میں رہے اور ضرورت سے زیادہ آزاد نہ ہوں۔ بلاول کو آگے کرکے جنرل پرویز کیانی کا یہ مقصد پورا ہوجاتا ہے کہ ملک میں کٹھ پتلی وزیر اعظم ہو اور پردے کے پیچھے اصل طاقت پاکستانی فوج کے پاس رہے۔ ادھر امریکہ سے پاکستان کی کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان کی وزارت دفاع نے ایتوار کو شمسی ہوائی اڈے کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ جی او نیوز نے خبردی ہے کہ پاکستان کے وزارت ہوائی بازی اور ڈیفنس وزارت اور اندرونی امور کی وزارت کے اعلی افسر اس موقعہ پر بلوچستان میں واقع شمسی ہوائی اڈے پر موجود تھے۔
ایک پاکستانی افسر نے بتایا کہ امریکی فوجیوں نے شمسی ہوائی اڈے کو چھوڑنے سے پہلے وہاں لگے اپنے سارے آلات کو ضائع کردیا تاکہ وہ پاکستان کے ہاتھ نہ لگ پائیں۔ اسی اڈے سے امریکہ ڈرون جہازوں سے حملہ کرتا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک نئی ڈیفنس پالیسی کے تحت اب پاکستانی فوج دیش کے ہوائی زون میں کسی بھی امریکی ڈرون کو گرا سکتی ہے۔ اسے اب یہ اختیارات دے دئے گئے ہیں۔ این بی سی نیوز نے پاکستانی فوج کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ڈرون سمیت ہمارے ہوائی زون میں داخل ہونے والے کسی بھی باہری عناصر کے ساتھ دشمن کی طرح برتاؤ کیا جائے گا اور اسے گرادیا جائے گا۔ سینئر فوجی افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ 26 نومبر کو ہوئے ناٹو کے حملے کے بعد جس میں28 پاک فوجیوں کی موت ہوگئی تھی، جنرل کیانی نے امریکی ڈرون کو گرانے کے احکامات سمیت کئی ہدایات جاری کیں پاکستان نے ناٹو کی سپلائی شاہراؤں کو بھی بند کردیا۔ کل ملاکر پاکستان کی اندرونی سیاست اور غیر ملکی سیاست دونوں میں ہی ہلچل بڑھ گئی ہے۔
America, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Bilawal Bhutto, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

سوبرسوں میں دہلی کی تصویر، تاریخ اور جغرافیہ سب بدلا ہے


Published On 14th December 2011
انل نریندر
12 دسمبر 1911ء کو جارج پنچم کا کرونیشن پارک میں ہندوستان کے نئے سمراٹ کی شکل میں راج تلک ہوا تھا۔ تقریب کے اختتام کے بعد ہی جارج نے اس اعلان سے سبھی موجود تجربہ کار شخصیتوں کو چونکا دیا۔''ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کی راجدھانی کولکتہ سے دہلی منتقل کی جائے۔ دیش کو بہتر طریقے سے چلانے کے لئے برطانوی حکومت ہندوستان کی راجدھانی کو کولکتہ سے دہلی منتقل کررہی ہے۔'' شاید انگریز ایک نیا شہر بنانا چاہتے تھے۔ دہلی کے انتخاب کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ تاریخی طور سے دیش کی راجدھانی رہی ہے۔ مغلوں نے دہلی کو ایک نئی پہچان دی تھی۔ انگریز دراصل مغلوں سے بہت متاثر تھے ۔ وہ بھی انہی کی طرح اور طویل عرصے تک راج کرنا چاہتے تھے جس کی جھلک ان کے ذریعے اس وقت بنائی گئی عمارتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ دہلی کو راجدھانی بنے 100 سال ہوگئے ہیں۔ جب انگریزوں نے نئی دہلی کو راجدھانی بنایا تھا تو دہلی کو لٹین کی دہلی کہا جاتا تھا۔ کیونکہ پورا علاقہ رائے سینا پہاڑی کے ارد گرد نئے سرے سے بنایاگیا تھا۔ اسے ڈیزائن اڈون لٹین اور ہاربرٹ بیکر نے کیا تھا۔انگریز راجدھانی بنانے کے بعد زیادہ دن نہیں ٹک سکے اور 15 اگست1947 ء کو ہی انہیں یہاں سے جانا پڑا۔ 1911 میں دہلی ایک گرتا ہوا پراناشہر تھا۔ چار دیواری سے گھرے شہر کے باہر محض گاؤں اور قطب اور نظام الدین کی درگاہ کے پاس کچھ بستیاں تھیں۔ لٹین اور بیکر نے انڈیا گیٹ ،راشٹرپتی بھون سمیت دہلی کو جدید شکل دی۔ دہلی کل 8 شہروں کو ملا کر بنی ہے لیکن دہلی کی تاریخ تین ہزار سال پرانی ہے۔مانا جاتا ہے کہ پانڈو نے اندر پرستھ کا قلعہ جمنا کے کنارے بنایا تھا۔ تقریباً اسی جگہ آج مغل زمانے میں بنا پرانا قلعہ ہے۔ ہر حکمراں نے دہلی کوراجدھانی کے طور پر الگ الگ پہچان دی۔ کئی بار دہلی برباد ہوئی اور کئی بار بنی۔
ہر سلطان نے اپنی دیرینا چھاپ چھوڑی، اپنا بنایا۔ دہلی کی تاریخ پر کئی کتابیں لکھنے والی سعدیہ دہلوی کہتی ہیں کہ 1930 کے بعد راجدھانی کی شکل تیزی سے بدلی ہے کیونکہ1911 ء سے1931 کے درمیان نئی راجدھانی نے وجود اختیار کیا۔ آزادی کے بعد قومی راجدھانی سے مغربی تہذیب کارنگ تیزی سے چڑھا۔ آج حالت یہ ہے کہ یہ قدرتی طور سے تین حصوں میں بٹ گئی ہے۔ یمنا ے میدان کی زمین دو ندیوں کے بیچ میں واقع ہے اور میدانی حصہ ۔دہلی کی آبادی 3850507 ہے اور ہر سال یہاں پانچ لاکھ لوگوں کی آبادی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ دہلی والے اپنی فراخ دلی کے لئے جانے جاتے ہیں اور ان کا مہمان کے طور پرخیر مقدم کرتے ہیں۔ دہلی آج فلائی اووروں کا شہر بن گیا ہے۔ میٹرو سے دہلی کی ایک الگ پہچان بنی ہے۔ دہلی بہت تیزی سے پھیلی ہے ۔ آج دہلی میں تین ریلوے اسٹیشن ہیں۔ دلی جنکشن، نئی دہلی ریلوے اسٹیشن اور نظام الدین ریلوے اسٹیشن۔ ریاست میں تین بس اڈے ہیں۔ دو ہوائی اڈے ہیں۔
دہلی کا کل رقبہ 1483 مربع کلو میٹر ہے۔ ان 100 سالوں میں دہلی نے ہر معنی میں ترقی کی ہے اوردنیا کے شہروں میں نئی دہلی کا نام شمار ہونے لگا ہے۔ یوں کسی شہر کے لئے 100 سال کا وقت بہت زیادہ نہیں ہوتا لیکن پچھلے 100 سال میں دہلی کی تاریخ اور جغرافیہ بہت بدل چکا ہے۔
100 years of Delhi, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun

13 دسمبر 2011

کولکتہ کے بدقسمت صحت یاب ہونے آئے تھے لیکن ملی موت


Published On 13th December 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ عرصے سے کولکتہ کے ہسپتالوں کی اخباروں میں سرخیاں بنتی رہی ہیں اور دنیا کو مغربی بنگال میں مریضوں کی خستہ حالت کا پتہ چلا ہے۔ جمعہ کی صبح کولکتہ کے ایڈوانس میڈیکیئر اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ اے ایم آر آئی میں خوفناک آگ لگ گئی۔ کولکتہ کے اس پرائیویٹ ہسپتال میں آگ لگنے سے تقریباً90 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ان میں سے زیادہ تر مریض تھے جو آئے تو تھے ہسپتال میں ٹھیک ہونے کے لئے لیکن ہسپتال سے ان کی جلی ہوئی لاش نکلی۔ کیا اس سے زیادہ بدقسمتی اورکچھ ہوسکتی ہے کہ لوگ جہاں زندگی کی سلامتی کی امید میں آئے وہیں انہیں قیامت کا شکار ہونا پڑا۔ مرنے والوں میں نوزائدہ بچے بھی شامل تھے۔ جمعہ کی صبح سویرے آگ سانحہ پیسے اور رسوخ کے دم پر سرکار کی مشینری کے ساتھ ملی بھگت کر قاعدے قانون کی دھجیاں اڑانے کی تازہ مثال ہے۔ یہ واقعہ ہمارے اس لچر سسٹم کی پول کھولتا ہے جس میں حساسیت مسلسل ختم ہوتی جارہی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال کمائی کرنے کا گارنٹی شدہ ذریعہ بن گئے ہیں۔
اس کثیر منزلہ پرائیویٹ ہسپتال میں جب آگ لگی تب وہاں اس سے بچنے کے لئے احتیاطی وسائل تک موجود نہیں تھے۔ زیادہ تر لوگوں کی موت دم گھٹنے سے ہوئی کیونکہ شیشوں کے پینلوں کے سبب کاربن مونوآکسائیڈ اور امونیا کا زہریلا دھنواں باہر نہیں نکل پایا اور وہاں آکسیجن کی کمی ہوگئی۔ اس حادثے کے لئے ہسپتال کے ملازمین تو ذمہ دار ہیں ہی مگر انتظامیہ کوبھی جوابدہ ہونا چاہئے۔ لائسنس دینے والے اور اجازت دینے والے جوابدہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ آخر محض چار پانچ سال پہلے بنی اس ایئر کنڈیشن ہسپتال کی عمارت میں اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوگیا؟ اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے سانحہ کی اعلی سطحی جانچ کے حکم دینے کے ساتھ ہی ہسپتال کا لائسنس بھی منسوخ کردیا ہے اور مینجمنٹ کے لوگوں کو لاپرواہی اور غیر ارادتاً قتل کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ انتظامیہ اور مقامی سسٹم کو اس سوال کا بھی جواب دینا ہوگا آخر اس بدقسمت ہسپتال میں سلامتی کے موزوں انتظام کیوں نہیں تھے؟ ہسپتال کے جس تہہ خانے کا استعمال پارکنگ کے لئے ہونا چاہئے تھا وہاں زندگی بخش سامان کیوں نہیں تھا۔ کیا وجہ رہی ہسپتال انتظامیہ نے فائر برگیڈ اور پولیس کی اس وارننگ کو کیوں نظر انداز کردیا جس میں تہہ خانے کے بیجا استعمال کو لیکر خبردار کیا گیا تھا؟ کیا یہ لاپرواہی کی ایک صریحاً مثال نہیں ہے کہ آگ کا شکار ہوا سات منزلہ ہسپتال ویسے تو ایئر کنڈیشن تھا لیکن آگ کے بچاؤ کے اس میں وسائل ندارد تھے۔ مغربی بنگال کی حکومت اس حادثے کے بعد یہ دلیل دے کر اپنا پلہ نہیں جھاڑ سکتی۔ لیفٹ پارٹیوں کے لمبے عہد نے سب کچھ تباہ برباد کردیا۔
ممتا بنرجی کو اقتدار سنبھالے ابھی چھ مہینے ہورہے ہیں اصلاحات کی سمت میں کام آگے بڑھانے کے لئے انہیں فرصت نہیں ہے۔ پچھلے کچھ وقت سے ہسپتالوں کی دردشاکے معاملے بھی سرخیاں بنتے رہے ہیں۔ اب بھی ریاستی سرکار کی آنکھیں نہیں کھلیں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دیگر شہروں میں بھی زیادتر یہی حالت ہے۔ امید کی جاتی ہے ریاستوں کی حکومتیں اس آگ سے سبق لیں گی اور اپنے اپنے راجیوں میں ہسپتالوں میں سختی سے آگ کے واقعات سے نمٹنے کیلئے موزوں اقدامات پر خاص توجہ دیں گی۔
AMRI Hospital, Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

کانگریس اور راشٹریہ لوکدل اتحاد یوپی میں گل کھلا سکتا ہے



Published On 13th December 2011
انل نریندر
اترپردیش کے 2007 ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں اپنے دم خم پر لڑ کر اپنی اپنی سیاسی زمین کو کھسکا چکیں کانگریس اور راشٹریہ لوکدل آخر کار اس مرتبہ 2012ء میں یوپی اسمبلی چناؤ ایک ساتھ مل کر لڑیں گی۔راشٹریہ لوکدل کے پردھان اجیت سنگھ کی کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات سے اب اس اتحاد کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دونوں پارٹیوں میں اتحاد پرباقاعدہ مہر لگ گئی ہے۔ریاست میں اپنا مینڈیڈ واپس لانے کے لئے جٹی کانگریس مغربی اترپردیش کی جاٹ بیلٹ میں اجیت سنگھ کے ساتھ ملنے کے بعد انہیں مرکز میں وزیر بنانے کو بھی تیار ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اتحاد میں آر ایل ڈی 48 سیٹوں پر چناؤ لڑ سکتی ہے۔ پہلے آر ایل ڈی 80 سیٹوں کی مانگ کررہی تھی۔ سمجھوتے کے مطابق پچھلے چناؤ میں جن سیٹوں پر جس پارٹی کے امیدوار جیتے تھے وہ سیٹ اس کے کوٹے میں ہی رہے گی۔ کانگریس، راشٹریہ لوکدل کے چناوی اتحاد ہونے سے مغربی اترپردیش کی سیاست کے تجزیئے بدلنا طے مانا جارہا ہے۔ سرکردہ لیڈروں کے ساتھ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کی موجودگی میں یہ خبر پارٹی ورکروں کے لئے ایک جوش بڑھانے والی تھی۔ اترپردیش کی سیاست میں یہ اتحاد نیا گل کھلا سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سرکردہ لیڈر رشید مسعود کا پالا بدل کر کانگریس کی طرف آنا اس اتحاد کو اور طاقت دے سکتا ہے۔ آر ایل ڈی کا دعوی ہے کہ پارٹی کااثر آگرہ، علی گڑھ، میرٹھ ، سہارنپور اور مراد آباد زون کی 136 سیٹوں پر ہے اس لئے یہ اتحاد آنے والے اسمبلی چناؤ میں کارگر ثابت ہوگا۔ آر ایل ڈی کے ترجمان نے تو کہا کہ کانگریس آر ایل ڈی اتحاد اترپردیش میں سرکار بنائے گا۔ مغربی اتر پردیش میں تو ترجمان کا کہنا ہے سپا بسپا دونوں صاف ہوجائیں گے۔ کہا جارہا ہے کہ جاٹ ووٹ جلدی سے کسی دوسری پارٹی کو منتقل نہیں ہوتا لیکن آر ایل ڈی کی حمایت سے کانگریس کو جاٹ بیلٹ میں کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔مسلم ریزرویشن کے بعد اس میں اور اضافہ ہوگا مگر مسلم اور جاٹ دونوں ہی کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہیں یا یوں کہئے کہ بسپا سپا کے خلاف ووٹ ڈال سکتے ہیں تو یقینی طور سے یہ کانگریس کو فائدہ پہنچائے گا۔ اترپردیش کی دو سمت والی سیاست کو کانگریس نے یہ اتحاد کرکے نیا موڑ دے دیا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں وہ اس بالادستی کو پہلے ہی توڑ چکی ہے جس میں بسپا آدھی ہوگئی تھی اس لئے کانگریس کی نئی حکمت عملی کی بنیاد پر کمزور اب نہیں مانا جاسکتا ۔ ابھی مسلمانوں کو ریزرویشن کا معاملہ کانگریس کے پاس بچا ہے جو جلد سامنے آسکتا ہے۔
کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل اور ایم پی راہل گاندھی نے سنیچر کو لکھنؤ میں کہا کہ پردیش کے ورکرکافی صلاحیت والے اور سرگرم ہیں۔ اگر 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو پورے دم خم سے وہ جٹ جائیں تو اترپردیش میں کانگریس کو سرکار بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پچھلے دو روزہ دورہ پر راجدھانی لکھنؤ پہنچنے پر راہل گاندھی نے پردیش دفتر میں اس کے عہدیداران ضلع و شہری پردھانوں کو خطاب کیا تھا اور کہا تھا کانگریس ورکروں میں پردیش میں کانگریس کی سرکار بنوانے کی بھرپور صلاحیت ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ورکر پورے تن من کیساتھ آنے والے چناؤ میں لگ جائیں۔انہوں نے کہا 1991ء سے 2009ء تک کانگریس نے اترپردیش میں پوری سنجیدگی سے چناؤ نہیں لڑا اس لئے تقریباً دو دہائیوں تک غیر کانگریسی حکومتیں اقتدار پر قابض رہیں۔ صحیح معنی میں ابھی کانگریس پارٹی 2012ء میں چناؤ لڑنے جارہی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں اترپردیش کے اقتدار پر سپا، بسپا اور بھاجپا کی غیر کانگریسی حکومتیں اقتدار پر قابض رہیں۔ ان کے عہد میں اترپردیش بری طرح سے پچھڑ گیا۔ راہل نے کہا کہ غیر کانگریسی حکومتوں سے پردیش کی جنتا بری طرح سے عاجز آچکی ہے اور اب پردیش میں بدلاؤ کا ماحول بھی تیار ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ کانگریس کی سرکار اقتدار میں آئے۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, RLD, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

11 دسمبر 2011

اب نجف گڑھ کے ایک نواب کو لارا کا ریکارڈ توڑنا بچا ہے


Published On 11th December 2011
انل نریندر
چھوٹے نے تو کمال کردیا ۔ چوکے پر چوکے، چھکے پر چھکے مارکر ماہری چھاتی چوڑی کردی ۔ ہم کئی برس تے اس کے اس کمال کا انتظار کررہے تھے۔ اس نے آج وہ کمال کردیا۔ نجف گڑھ کے لوگ جمعرات کو اپنے شیر سہواگ کے بارے میں ایسا کچھ کہتے دکھائی دے رہے تھے۔ آخر ان کے چھوٹے نے اندور کے ہولکر اسٹیڈیم میں کمال کی بلے بازی کی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف نجف گڑھ کے اس نواب نے ون ڈے میں ریکارڈ پاری کھولی۔ 149 گیندوں پر 219 رن بنائے۔ انہوں نے سچن تندولکرکا 24 فروری2010ء کو گوالیارمیں کھیلے گئے میچ میں147 گیندوں پر ناٹ آؤٹ200 رن بنائے تھے۔ سچن کے بعدون ڈے میں ڈبل سنچری جڑنے والے اسٹروک دوسرے بلے باز ہیں۔ ایک اننگ میں 25 چوکے لگانے والے سہواگ دوسرے بلے باز ہیں۔ پہلے یہ کارنامہ سچن نے ڈبل سنچری جڑ کر کیا تھا۔ وریندر سہواگ ایک واحد بلے باز ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹریپل سنچری اور ون ڈے میں ڈبل سنچری بنائی۔ اندور میں ون ڈے میں سہواگ نے تیز ڈبل سنچری بنا کر تاریخ بنائی۔ جب ان کے سامنے کوئی مقصد ہو تو کوئی بھی بالنگ اٹیک ان کے سامنے ہو وہ اسے دھوکر رکھ دیتے ہیں اور چوکوں چھکوں کی جھڑی لگادیتے ہیں۔ موٹیرا میں روی رام پال کی پہلی گیند کا شکار بنے سہواگ نے رنوں کا انبار لگادیا کرثابت کردیا کے اس کھیل میں کبھی کبھی ایسی بھول ہوجاتی ہے۔ اگر سہواگ کی کوئی کمزوری ہے تو وہ ان کی انکنسسٹنسی ہے یعنی کہ وہ اتنی توجہ سے نہیں کھیلتے جتنا ان سے توقع کی جاتی ہے۔ ہر بال کو مارنا چاہتے ہیں اور وہ بھی کھڑے کھڑے۔ اپنی کریز کے اندر سے ان کی لیگ موومنٹ نہ کے برابر ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ریک لیس شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ فضول میں گنوا دیتے ہیں۔ سچن اور ان میں بس یہی فرق ہے۔ سچن دھیان سے کھیلتے ہیں اور اتنی آسانی سے اپنی وکٹ نہیں گنواتے۔ آج لوگ سہواگ کو سچن کے برابر بتا رہے ہیں۔ بیشک سہواگ نے سچن سے تیز سنچری اور ٹریپل سنچری بنائی ہے لیکن میں آج بھی سچن کو ورلڈ کا سب سے مہان بلے باز مانتا ہوں۔ ویریندر سہواگ کا نمبر سچن کے بعد ہی آتا ہے۔ مہان سچن تندولکر نے گوالیار میں ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دوہری سنچری ٹھوکنے کے بعد دعوے سے کہا تھا کہ ان کا یہ ریکارڈ ویریندر سہواگ توڑ ڈالیں گے۔ ویرو نے اندور میں219 رن ٹھوک کر اپنے ماڈل کی بات کو صحیح ثابت کردیا۔ یہ کہنا شاید بہتر ہوگا کہ سچن نے جو ریکارڈ بنایا تھا اسے سہواگ نے توڑا ہی نہیں بلکہ خوبصورتی سے اس میں نئی عبارت جوڑ دی ہے۔ سچن نے یہ بات اتفاقاً نہیں کہی تھی بلکہ اس کے پیچھے ویرو کا طریقہ اور اس کے کھیلنے کا بے جوڑ انداز ہے۔ پاری کی پہلی بال ہو یا بڑا کارنامے کے قریب ہونے کا احساس سہواگ کا بلہ ایک ہی لے تال میں طوفانی سے چمکتا ہے۔ ویرو بلے بازی کررہے ہوں تو ہر کرکٹ شائقین ان کا کھیل دیکھنے کیلئے ضرور ٹھہرتا ہے۔ کشیدگی اور ذہنی بوجھ سے بے پرواہ ویرو کا بیخوف انداز انہیں پیڑھی کے شاہد آفریدی اور رکی پونٹنگ یا کرس گیل جیسے منجھے ہوئے بلے بازوں سے الگ کھڑا کرتا ہے تو بیشک تیز تو کھیلتے ہیں لیکن نایاب پاری نہیں۔ بیخوف کھیل ویرو کو مہان ووین رچرڈ جیسے انوکھے بہترین اینٹرٹینر ثابت کرتا ہے جن کے چوکے چھکوں کو دیکھنے کیلئے کیمرہ مینوں کو بھی گیند کو قید کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تہری سنچری ٹھوکنے والے اکیلے ہندوستانی اور ون ڈے میں سب سے بڑی ذاتی پاری کا ورلڈ ریکارڈ ویرو نے یہ دونوں کارنامے ایک ہی اسٹائل میں دکھائے لیکن اپنے قدرتی گیم کیساتھ حالات کے حساب سے کم ہی سمجھوتہ کرتے ہیں۔ یہ ان کا پلس پوائنٹ بھی ہے اور مائنس بھی ۔ حالات چاہے جو بھی ہوں اسے لیکر ویریندر سہواگ کو کئی بات تنقید بھی جھیلنی پڑی ہیں۔سلیکٹروں اور کوچ سے بھی جھگڑا مول لیا لیکن اپنے انداز کو نہیں بدلا۔ کھیلتے وقت انہیں اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ ٹیم کے کپتان ہیں ۔ اندور میں بطور کپتان انہوں نے یہ کارنامہ دکھایا۔ نہیں تو عام طور پر کپتان تھوڑا سنجیدگی سے کھیلتے ہیں۔ اب سہواگ کی پہنچ سے دور صرف کیریبیائی بلے باز برائن لارا (409 ناٹ آؤٹ) کے بعد ٹیسٹ رنوں کا ریکارڈ ہے اور یقین مانئے ویرو اپنے ہی انداز میں دھوم دھڑاکا کرتے اور گنگناتے ہوئے اسے بھی پورا کرڈالیں گے۔ اس مہینے کے آخر میں ٹیم انڈیا کا آسٹریلیا دورہ شروع ہورہا ہے۔ اصل چنوتی تو اب آئے گی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Virendra Sahwag

مہنگائی پر بحث میں سشما اور پرنب دا میں نوک جھونک


Published On 11th December 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کے چلتے ہی اپوزیشن نے مہنگائی کے مورچے پر منموہن سرکار پر کرارا حملہ بول دیا ہے۔ اس مسئلے پر اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کی تقریر کافی اہم تھی۔ ان کے اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے درمیان نوک جھونک بھی اہم رہی۔ یہ دیکھ کر اچھا لگاکہ بھارت کی جنتا کی سب سے بڑی پریشانی دونوں اپوزیشن اور سرکار کی بیداری ہے اور جنتا کو اس سے نجات دلانے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ سشما سوراج اور دیگر اپوزیشن لیڈروں نے مہنگائی پر بحث میں سرکار کی پالیسیوں و نیت ، وعدوں اور ارادوں کی دھجیاں اڑادیں۔ بحث کا آغاز مارکسوادی لیڈر گورو داس داس گپتا نے کیا تھا لیکن سرکار پر کرارا حملہ سشما نے بولا۔ جب پرنب مکھرجی نے مہنگائی شرح 11.8 فیصدی سے گھٹ کر6.6فیصدی ہونے کی بات کہی تو سشما نے کہا ریڑی اور بیڑی اور چھابڑی والے فیصدی کی زبان نہیں سمجھتے۔ انہیں بس یہ پتہ ہوتا ہے کہ کتنا پیسہ آتا ہے اور جاتا ہے۔ تلخ تبصرہ کرتے ہوئے سشما نے کہا اس سرکار کا امیروں کا پیمانہ ہے تو پاؤ بھر آٹا ،دو تولہ دال، ایک چمچ تیل اور ایک چٹکی نمک ہے ۔دیش کے 121 کروڑ لوگوں کو تو دو وقت کی روٹی چاہئے۔اس کے لئے ان کے پاس 242 کروڑ ہاتھ ہیں لیکن شرح سود بڑھا کر مہنگائی گھٹائیں گے تو ان ہاتھوں کا کام ضرور چھن جائے گا۔ انہوں نے کہا این ڈی اے کے عہد میں وزیر خزانہ فیصدی میں بجٹ نہیں دیتے تھے۔ ہندوستان کی معیشت کو ہارورڈ اور آکسفورڈ والے نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے سامنے ساکھ بہتر بنانے سے چھٹکارا نہیں ہوتا اس کے لئے غریب آدمی کی آمدنی بہتر ہونی چاہئے۔ قیمتوں میں اضافے کے لئے سرکار کی غلط پالیسیاں، بدعنوانی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سشما نے کہا اگر سرکار جنتا کو راحت دینے کے بجائے مایوسی اور لاچاری کی بات کرتی ہے تو اسے اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے ساتھ ہوئی نوک جھونک میں سشما نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا نمبروں کے کھیل سے دکھی جنتا کا پیٹ نہیں بھرتا۔ جمعہ کو بھی پرنب اور سشما کے درمیان مہنگائی پر نوک جھونک جاری رہی۔ اس وقت سشما نے پرنب سے کہا تھا کہ پیٹ اعداو شمار سے نہیں بھرتا دانوں سے بھرتا ہے۔ اس کے لئے عام آدمی کو جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ پرنب دا نے اپوزیشن خاص کر بھاجپا پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت اب جذباتی باتوں کا نہیں کام کرنے کا ہے۔ اگر مہنگائی کم کرنی ہے تو اپوزیشن کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ وہ مہنگائی گھٹانے کی تجویز کیوں نہیں پیش کرتی؟ اقتصادی معاملوں میں تعاون کیوں نہیں کرتے؟ پرنب دا نے کہا کیا اپوزیشن لیڈر چاہتے ہیں کہ ہم تیل کمپنیوں پر اتنا بوجھ لاد دیں کہ وہ ایک دن میں بند ہوجائیں۔ سشما سے بات کرنے کے لہجے میں پرنب نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ کھل کر بتائیں کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔ وہ چاہتے ہیں سبسڈی بڑھائی جائے یا سبسڈی کچھ سیکٹروں تک محدود رہے۔ سرکار جو کررہی ہے وہ انہیں منظور نہیں ہے۔ اگر منظور نہیں ہے تو وہ حکومت کو بتائیں کیا کرنا ہے؟ بیشک یہ صحیح ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس کچھ ٹھوس تجویزیں ہوں تو وہ سرکار کو ضرور دیں۔ لیکن ہم پرنب دا کو بتانا چاہیں گے کہ سرکار چلانا، پالیسیاں طے کرنا، جنتا کو راحت پہنچا سرکار کا کام ہے، اپوزیشن کا نہیں۔ آپ اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتے۔ اگر سرکار سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے امریکہ نواز اس وزیر اعظم اور ان کے سپہ سالار پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی پالیسیوں کو مسترد کردے۔ ان کی جگہ پرنب دا آپ خود پالیسیاں بنائیں۔ آپ ان دونوں سے کہیں زیادہ بہتر ماہر اقتصادیات ہیں۔ آپ سیاستداں ہیں جو عام آدمی کا دکھ درد بہتر سمجھتے ہیں۔ ماہر اقتصادیات وزیر اعظم نے تو دیش کا اقتصادی سسٹم ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے.
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Pranab Mukherjee, Sushma Swaraj, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...