Translater
16 فروری 2023
ایک تیر سے کئی نشانے !
گورنروں کی تازہ تقرری سے کئی ریاستوںمیں مختلف سیاسی تجزیوں کو ذہن میں رکھ کر کئی ہے ۔ اس میں کوئی معمہ نہیں کہ تازہ تقرری آنے والے اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھ کر کی گئی ہے ۔ اسام کے نئی گورنر گولاب چند کٹاریہ ابھی تک راجستھان اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر تھے اور انہیں ریاست کے وزیر ااعلیٰ کے عہسے کے امیدواں میں سے دیکھا جا رہا تھا۔راجستھا ن میں اس سال کے آخر میں چناو¿ ہوںگے راجسھتان بھاجپا یونٹ میں گروپ بندی کو دور کرنے اور چناو¿ میں اتحاد دکھانے و متحد ہ چہرہ سامنے رکھنے کیلئے جد جہد میں لگی قومی لیڈرشپ کے ساتھ کٹاریہ کے سرکا ری عہدے پر ترقی سے اس پر دباہ کچھ کم ہو سکتاہے ۔ ذرایع نے کہا کہ یہ قدم ریاستی یونٹ کا تجزہ بدل سکتا ہے ۔میگالیہ اور ناگالینڈ میں 27فروری کو ہونے جارہے چناو¿ میں پولینگ ہونے کے ساتھ پارٹی دونوں ریاستوںمیں راج بھون میں ایک تجربہ کار گورنر کو بٹھانا چاہتی تھی۔ دونو ں ریاستومیں ساسی عدم استکام اور بار بار تبدیلی کی تاریخ ری ہے۔ ایسے میں گورنر چنا کے بعد کے حالات میں اہم ترین رول نبھاتے ہیں۔ بہار کے موجودہ گورنر سندر پھاگو چچوہان کو میکھالیہ بھیجا گیا ہے ۔ منی پور کے گورنر اور بنگال میں نگراں گورنر رہے ایل گنیشن کو ناگالینڈ کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ سابق لوک سبھی ایم پی اوربھجا کے سنئر لیڈر سی پی رادھا کرشنن کو تمل ناڈو بھاجپا یونٹ سے باہر ہونے سے پردیش صدر ا نا ملئی کی پوزیشن اور مضبوط ہو سکتی ہے۔ رادھاکرشنن کے پریس صدر کے ساتھ اختلافات تھے اور ان کے طریقے کار کو لیکر شکایت تھی ۔ اب بھاجپا لیڈرشپ کافی خوش ہے ۔کرناٹک چناو¿ کیلئے انا ملئی کو معاون انچارج مقرر کرنے کا لیڈرشپ کا قدم اس کا ایک اشارہ ہے۔ رادھا کرشنن نے دو بار 1994اور 1999کوئنبٹور لوک سبھا سیٹ جیتی تھی ۔اور ریاست میں پارٹی تنظیم کو کھڑا کرنے میں اہم رول نبھایا ۔ وہ ریاستی یونٹ کے صدر بھی تھے اور بھاجپا کیلئے کیرل کے انچارج بھی تھے ۔ امکان ہے کہ بھاجپا لیڈرشپ انا ملئی کو کوئنبٹور سے پھر لوک سبھا کا امیدوار بنا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق مرکزی وزیر شیو پرتاپ شکلا کا ہماچل پردیش کے گورنر کی شکل میں تقرری امید کے مطابق ہے۔ ان کا آر ایس ایس میں ایک مضبوط بنیاد رہی ہے۔ اس لئے بھاجپا لیڈرشپ نے ایک تیر سے کئی نشانے تاکنے کی کوشش کی ہے۔یہ داو¿ کتنا صحیح بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)
اقتصادی فروغ کی رفتار بڑھائے گا ایکسپریس وے !
آزادی کے امرت کال میں دہلی -ممبئی ایکسپریس وے کے پہلے مرحلے میں دہلی -دوسہ لال گڑھ سیکشن کے افتتاح سے سڑکوں کے ڈھانچہ مشینری کی ترقی میں نیا باب جڑ گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ہر یانہ کے گروگرام ،پلول و نوح ضلع سے ہوکر گزرنے والے دیش کے سب سے لمبے ایکسپریس وے کے پہلے مرحلے میں 12150کروڑ روپے کی لاگت سے تیار 246کلو میٹر لمبے سیکشن کو آغاز ہوگیا ۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا کہ دہلی -وڈودرا -ممبئی ایکسپریس وے دہلی او ر ممبئی کے علاوہ پانچ ریاستوں کو جوڑنے کا راستہ ہی نہیں بلکہ یہ قومی شاہراہ ہماری اقتصادی پوزیشن کو آگے بڑھانے والی ہے ۔ یہ ہریانہ کی کلچرل پہچان کو ممبئی کے جدیدی کرن کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کے کلچرل کو بھی جوڑے گا۔ وزیر اعلیٰ منو ہر لال ہلال پور میں دہلی وڈودرا -ممبئی ایکسپریس وے کے آغاز پروگرام سے دسیدھے جڑنے کے بعد جنتا سے بات کر رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایکسپریس وے کے نوح سے گزرنے سے یا صنعتیں آئیںگی جس سے علاقے کی ترقی اور یہاں کے لوگوں کو روزگار کے بارے میں بڑا فائدہ ہوگا۔ ڈھانچہ بندی سے ہماری دیش کی اقتصادی ترقی ہوگی۔اور یقینی طور سے وزیر اعظم کا بھارت کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے سپنے کو تعبیر کرنے میں سبھی ریاستیں تعاون دیںگی۔ ہریانہ پہلے سے ہی اس مشن میں خاص تعاون دے رہا ہے ۔ پچھلے 8برسوں سے مرکز ی حکومت نے جتنے پروجیکٹ ہریانہ کو دئے ہیں چاہے ہو قومی شاہراہ ہوں یا ریلوے کے ان سب سے ذریعے سے ہم ہریانہ کی اور زیادہ ترقی دیںگے ۔ انہوںنے کہا کہ ہریانہ ایک لینڈ لاکڈ ریاست ہے اور ہماری ریاست اس ایکسپریس وے کے ذریعے سے سمندی بندرگاہ سے جڑے گاتو ہم یقینی طور سے ریاست کے اکسپورٹ کو بھی بڑھائے گے۔ہریانہ میں بننے والے مصنوعات کو دیش کے بندرگاہوں تک لے کر جانا آسان ہوجائے گا۔ نائب وزیر اعلی ٰ دشینت چوٹالہ نے کہا کہ اس تاریخی ایکسپریس وے کے افتتاح ہونے سے اس علاقے کے لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ ملے گا۔ ڈھانچہ مضبوط ہونے سے ترقی کو رفتار ملے گی۔اور آنے والے وقت میں ای-کامرس تجارت کے بڑھنے سے گروگرام ،نوح اور فریدآباد کو کافی فائدہ ملے گا۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ڈوسا سے تین دیگر شاہراہ پروجیکٹوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا ہے ۔جن سے انبالہ کورٹ پتلی کاریڈور سے ریاست کے کئی اضلاع کی کنیکٹیویٹی بڑھے گی۔سرکار کا ٹارگیٹ آئی جی آئی ایئر پورٹ سے جیور ایئر پورٹ کو جوڑنے کا ہے ۔ وزیر مملکت اور گروگرام کے ایم پی راہ اندرجیت سنگھ نے کہا کہ دہلی وڈودا-ممبئی ایکسپریس وے کے اس پہلے سیکشن کے کھلنے سے نوح ضلع میں ترقی کی نئی لہر بہنے جا رہی ہے۔
(انل نریندر)
14 فروری 2023
کورٹ میں تیندوا !
جنگلوں کے کٹنے سے تیندو¿ں کا آس پا س کے رہائشی علاقو ںمیں گھس آنا کوئی نئی بات نہیں رہی لیکن پچھلے دنوں غازی آباد کی ضلع عدالت کمپلیکس میں ایک تیندوا نے کچھ لوگوں کو جس طرح سے زخمی کیا وہ ضرور چونکانے والا معاملہ اور غیر منظم طریقے سے شہروں کی طرف توجہ مر کوز کراتا ہے ۔ غازی آباد ضلع عدالت میں لگے سی سی ٹی وی فوٹیج سے جانکاری ملی کے تیندوا کورٹ کمپلیکس میں منگلوا ر رات 2:30بجے آگیا تھا۔وہاں پی اے سی کیمپ کی طرف سے سیڑھیوں پر اوپر چڑھتا چلا گیا اور چھت پر جانے کا دروارہ بند ہونے سے واپس تیسری منبرل پر گیلری میں چکر لگانے کے بعد پھر بالائی سیڑھیوں پر جاکر بیٹھ گیا۔ بدھوار کو شام 3:58بجے اپر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت میں کام کرنے والے کلر ک اور کانسٹبل سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئے اس دوران دونوں کو دیکھتے ہی تیندوے نے ان پر جھپٹا اور ان کے سر کے اوپر سے گزر گیا ۔ سیڑھیوں سے نیچے آنے کے ساتھ ہی وہ لوگوں پر حملہ آور ہو گیا۔ کورٹ منتظم منوج کمار مشرا کے مطابق عدالت میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں 2:30بجے عدالت کمپلیکس میں تیندوا آتا ہوا دکھائی دیا۔ پی اے سی کیمپ کے سامنے بنی سیڑھیوںکا شٹر کھلا رہتا ہے چونکہ ہر وقت وہاں پے اے سی کا پہرا رہتا ہے۔ تیندو ا پی اے سی کے جوانوں کی طرف نہیں گیا وہ سیدھے سیڑھیوں کے راستے اوپر چلا گیا ۔ کورٹ انتظامیہ نے بتایا کہ سی سی ٹی وی انچارج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبح عدالت میں آنے کے بعد رات کی پوری سرگرمیوں سے معاملے کی جانچ کریں۔ عدالت میں افراتفری پھیل گئی اور کورٹ سیل کا دروازہ بند کر دئے جانے پر تیندوے نے غصے میں کھڑکی پر حملہ بولا جس کا شیشہ ٹوٹنے سے اس کا پنجہ لہو لہان ہو گیا ۔پچھلے دو تین برسوںمیں غازی آباد اور اس کے آس پاس کے رہائشی علاقوںمیں کئی بار تیندوے دیکھے گئے ہیں جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے دوران سہارنپور رینو سے لونی تک گنجان جنگلی علاقہ ہے ۔غازی آباد میں مادہ تیندوے نے کھس کر یہاں بچے کو جنم دیا ہوگا۔ پچھلے ہی مہینے موج پور میں دہلی -میرٹھ اسکپریس وے پر گاڑی کے نیچے آنے سے تیندوے کی موت ہو گئی تھی۔ جنگلی جانووں کے جنگلوں میں پناگاہ چھننے کے سبب تیندوے شہری علاقوںمیں کھانے کی تلاش میں آجاتے ہیں۔تو لوگ شکار ہوتے ہیں یا خود شکار ہوجاتے ہیں ۔جیسا کہ غازی آباد کی عدالت میں دیکھا گیا۔ یہ بد قسمتی ہے کہ لمبے عرصے سے تیندوے کے انسانی آبادی میں کھس آنے اور آپسی ٹکراو¿ کے باوجود اس کا حل نکالنے کیلئے سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی ہے۔
(انل نریندر)
دیش چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ!
سرکارکی جانب سے جمعرات کو راجیہ سبھا میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال2011سے اب تک 16لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوںنے اپنی ہندوستانی شہریت چھوڑدی ہے۔ان میں زیادہ تر 2,25,620ہندوستانی ایسے ہیں جنہوںنے پچھلے سال ہی ہندوستانی شہریت چھوڑی ہے ۔اس بارے میں ایس جے شنکر نے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی تھی۔ کاروبار، نوکری اور تعلیم اور دیش کے تنک ماحول دیش چھوڑنے کی خاص وجوہات ہیں۔پیسے والا طبقہ ہندوستان میں مالی بڑھتے پابندیوں سے دکھی ہوکر یا تو دوبئی جا بسے یا کسی دوسرے ملک میں شہریت لے لی ۔ یہ طبقہ یہاں گھٹن محسوس کرنے لگا تھا۔ گزشتہ 12سال میں امریکہ کی شہریت لینے والوں کے تعداد سب سے زیا دہ رہی۔ ہندوستانی آئین دوہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ہندوستانی شہریت ایکٹ 1955کے مطابق بھارت کے شہری رہتے ہوئے آپ دوسرے دیش کے شہری نہیں بن سکتے ۔اگر کوئی شخص ہندوستانی شہری رہتے ہوئے دوسرے دیش کی شہریت اختیار کرتا ہے تو ایکٹ کی دفعہ 19کے تحت اس کی شہریت ختم کی جا سکتی ہے ۔ پڑھائی ،نوکری ،کاروبار کیلئے بیرون ملک جانے والوں کی تعداد بڑھی ہے ۔ سال 2011کے بعد سے ہندوستانی شہریت چھوڑنے والے ہندوستانیوں کی کل تعداد1663440ہے وزیر خارجہ نے ان 135ملکوں کی فہرست بھی دستیاب کرائی جن کی شہریت ہندوستانیوں نے حاصل کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2021میں ہندوستانی شہریت چھوڑنے والے ہندوستانیوں کی سب سے زیادہ تعدا د امریکہ کی تھی جو 77284ہے دوسرے نمبر پر آسٹریلیا رہا جہاں 23533ہندوستانیوں نے شہریت اختیار کی اس فہرست میں تیسرا نمبر کینیڈا کا ہے جہاں 21597لوگوں نے شہریت لی۔ چوتھے نمبر پر انگلینڈ رہا جہاں 14637ہندوستانیوں نے شہریت لی ۔ہندوستانیوں کی کم و بیش سب سے کم شہریت لینے والا ملک اٹلی ہے جہاں 5986ہندوستانی ،نیوزی لینڈ 2043،سنگاپور 2516،جرمنی 2381نیدولینڈ 2187،سویڈن 1841اور اسپین 1595لوگوں نے بھارت کی شہریت چھوڑنے والوں کی جو خاص وجوہات رہی ہےں ان میں سب سے زیادہ ایم پڑھائی ،نوکری اور کاروبار سامنے آئے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ حد تک رہن سہن کے معیار کو لیکر بھی لوگوں نے بیرون ممالک کی شہریت حاصل ہے ۔ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سرکار پانبدیاں اور کشیدہ ماحول سے عاجز آکر دیش چھوڑنے پر مجبور رہوئے ۔ امریکہ ،آسٹریلیا ، اور کینیڈا کی طرف رخ کرنے کی وجہ رہن سہن بھی رہا ہے۔ جہاں تک تعلیم کا سوال ہے تو سال2020کے مقابلے 2021میں امریکہ جانے والے طلبہ کی تعدا د میں 10فیصدی سے بھی زیادہ اضافہ ہواہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک جانے والے طلبہ میں سے 60سے زیادہ نوجوان دیش واپس نہیں لوٹتے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...