Translater

26 اپریل 2014

ایک داماد ہیں رابرٹ واڈرا اورایک داماد تھے فیروز جہانگیر گاندھی!

کانگریس صدر اور اپنی ماں سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی میں چناؤ کمپین کے دوران پرینکا گاندھی نے شاید پہلی بار اپنے شوہر رابرٹ واڈرا پر لگ رہے الزامات کا بچاؤ کیا۔ انہوں نے ایک نکڑ ریلی میں کہا میرے خاندان (واڈرا پریوار) کو ذلیل کیا جارہا ہے لیکن میں نے دادی اندرا گاندھی سے سیکھا ہے کہ جب دل سے سچائی نکلتی ہے ارادے مضبوط ہوتے ہیں تو وہ ڈھال بن جاتے ہیں۔ مجھے جتنا ذلیل کیا جائے گا اتنی مضبوطی سے لڑوں گی۔ یہ صرف ایک بیوی کاجذباتی درد نہیں ہوسکتا بلکہ ایک سیاسی جوابدہی بھی لگتی ہے۔ ووٹ بینک کی خاطر ہر مخالف پارٹی ایک دوسرے پر الزام درالزام لگاتی ہے لیکن قطعی فیصلہ تو عوام کی عدالت میں ہوتا ہے۔ پرینکا جنتا کی عدالت میں اپنے شوہر کو پاک صاف بتانے کی جو کوشش کررہی ہیں اس کے پیچھے ان منشا صاف ہے کہ وہ اب نہ تو اس اشو پر خاموش بیٹھیں گی اور نہ ہی اسے برداشت کریں گی۔ ہم پرینکا کا دکھ سمجھ سکتے ہیں اورمحسوس بھی کرتے ہیں۔پرینکا کس سے شادی کرتی ہیں یہ ان کا سونیا گاندھی خاندان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس میں کسی کو کچھ کہنے کا یا انگلی اٹھانے کا حق نہیں ہے لیکن جب ان کے شوہر اور سونیا گاندھی کے داماد پر الزام لگیں کہ انہوں نے اپنے سیاسی دبدبے کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد بنا لی ہے تو معاملہ سنگین ہوجاتا ہے اور کرپشن کا ہوجاتا ہے۔ یہ الزام ہم نہیں لگا رہے ہیں دنیا کی نامور اور بھروسے مند مانی جانے والے امریکہ کے ایک روز نامہ ’دی وال اسٹریٹ امپائر‘ نے اپنی شائع ایک رپورٹ میں لگائے ہیں۔ اس کے مطابق 2012ء میں واڈ را کے پاس قریب 252 کروڑ روپے کی زمین جائیدادتھی اسی سال واڈرا نے 72 کروڑ روپے کی زمین بیچی تھی یعنی واڈرا کے پاس قریب324 کروڑ روپے کی جائیداد تھی۔ اخبار نے کمپنی کی اکاؤنٹ رپورٹ اور دیگردستاویزات اور پراپرٹی کے واقف کاروں کے حوالے سے رابرٹ واڈرا کی املاک کی پوری تفصیل شائع کی ہے۔ رپورٹ میں واڈرا کے زمین سودے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ انہوں نے اتنی ترقی اپنے روابط سے کی ہے۔ ایک داماد فیروز جہانگیر گاندھی بھی تھے(راجیو گاندھی کے والد) اس دور میں ترقی پذیر ملکوں کے ایک لیڈر اور بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے داماد تھے۔ فیروز گاندھی کانگریس کے ایم پی تھے اور اپنی سرکار کو پریشان کیا۔ اپوزیشن کو اشو دے دیا لیکن ان پر کبھی انگلی نہیں اٹھ سکی۔ فیروز جہانگیر گاندھی نے بھائی بھتیجوں کو سیاست میں لانے کا کام کبھی نہیں کیا۔ زمینوں کی انہیں نہ تو بھوک تھی اور نہ ہی کروڑوں اربوں روپے کے مالک بننے کی چاہ۔ فیروز گاندھی نے تمام کام کئے۔رائے بریلی کے کالج سے لیکر دہلی میں پریس کلب آف انڈیا تک ان کی دین ہے لیکن ایک داماد ہیں کاروباری رابرٹ واڈرا۔ اس اکیلے شخص نے کانگریس جیسی پارٹی کو جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ راہل گاندھی کو ایک دہائی کی سیاست اور کارناموں، سونیا گاندھی کی قربانی سے کہیں زیادہ ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے اس معاملے پر اپنے اپنے طریقے پر رائے زنی کی ہے۔ امرتسر سے ارون جیٹلی نے پرینکا اور کانگریس نیتاؤں کے مودی پر ذاتی حملے پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی ازدواجی زندگی کے بارے میں کیوں بحث جاری ہے؟ بغیر کسی ثبوت کے گجرات کی لڑکی کی جاسوسی کرانے کے الزام کیوں لگائے جارہے ہیں؟ رابرٹ واڈ را کے خلاف مقدمے درج کرائے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جیٹلی نے کہا یہ بھی ہوگا16 مئی کو آنے دو ۔ ابھی تو کانگریس پارٹی نے جانچ ایجنسیوں کو ان معاملوں میں روکاہوا ہے۔16 مئی کے بعد قانون آزاد ہوکر اپنا کام کرے گا۔ ادھر ان سب تنازعات کے بیچ ایک سرکاری وکیل ایم ایل شرما نے دہلی ہائیکورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ اسے ہائی کورٹ نے سماعت کے لئے منظور بھی کرلیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا سمیت دیگرریئل اسٹریٹ ڈولپرس کو ہریانہ میں قواعد کی خلاف ورزی کر لائسنس دینے کے لئے دائر عرضی پر سماعت کی تاریخ 30 اپریل مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس پردیپ نندرا جوگی کی بنچ اس پر غور کرے گی۔مسٹر شرما نے اپنی عرضی میں دلیل دی کہ ہریانہ میں21366 ایکڑ زرعی زمین پر رہائشی کالونی بنانے اور عمارتیں کھڑی کرنے کے لئے مختلف بلڈروں کو آئینی تقاضوں کی تعمیل کئے بغیر ہی لائسنس دے دیا گیا۔اس فیصلے سے ریاست کو 3.9 لاکھ کروڑ کا خسارہ ہوا ہے۔ شرما کا الزام یہ ہے کہ کالونیاں بنانے کے لئے لائسنس کا الاٹمنٹ ہریانہ وکاس و شہری حلقوں کے لئے مقرر قواعد 1975 کی خلاف ورزی کر منظوری دی گئی ہے۔ عرضی میں آڈیٹر کمپٹرولر جنرل( کیگ) ششی کانت شرما کے ذریعے 3 جون 2013 ء کو سونپے گئے خط کو بھی مسترد کرنے کی مانگ کی گئی ہے جس میں واڈرا سے متعلق اسکائی لائٹ ہاسپٹلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کو دئے گئے لائسنس کی جان چ کو واپس لینے کا الزام ہے۔ ہم امید کرتے ہیں ہائی کورٹ اس معاملے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی سامنے لائے گی۔ جو لوگ الزام لگا رہے ہیں انہیں عدالت میں کرپشن کو ثابت کرنا ہوگا۔ دوسری طرف رابرٹ واڈرا کو بھی اپنی صفائی دینے کے لئے پورا موقعہ ملے گا اور شایدپرینکا کا درددور ہوجائے؟
  1. (انل نریندر)

اے ۔ کے 47 رائفل معاملے میں گھرے کانگریسی امیدوار اجے رائے!

بھاجپا کے قومی سکریٹری جنرل و اترپردیش کے انچارج امت شاہ نے بنارس سے نریندر مودی کے خلاف کانگریس کے امیدوار و ممبر اسمبلی اجے رائے پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ لکھنؤ میں بھاجپا کے پردیش ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں امت شاہ نے کہا کانگریس کے پاس صاف ساکھ والے امیدواروں کی کمی ہے۔ رائے پر اے۔ کے47 رائفل سودے میں شامل ہونے کا بھی الزام لگاتے ہوئے شاہ کا کہنا ہے کہ الزامات پر راہل اور سونیا گاندھی خاموش کیوں ہیں؟ سابق ایم پی شہاب الدین اور اجے رائے کے ذریعے دہشت گردوں سے اے ۔کے47 جیسے خود کار چلنے والے ہتھیاروں کی خرید معاملے میں 11 برس پہلے بہار کے اس وقت کے سینئر آئی پی ایس افسر ڈی پی اوجھا نے87 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ اس وقت کے ہوم سکریٹری کو سونپی تھی۔ وارانسی میں مودی کے خلاف چناؤ لڑ رہے کانگریسی امیدوار اجے رائے ناجائز ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہے ہیں۔ بہار کے کئی خطرناک لوگوں سے تعلق رکھنے والے اجے رائے کی ایک زمانے میں انڈر ورلڈ میں دہشت ہوا کرتی تھی۔ کشمیر آنے والی ہتھیاروں کی کھیپ میں چار اے ۔کے47 رائفلیں اجے رائے نے لی تھیں۔اس کا خلاصہ ڈیڑھ دہائی پہلے 50 ہزار روپے کے انعامی بدمعاش فوجی عرف نند گوپال پانڈے نے کیا تھا۔جس میں اہم بات یہ بھی ہے کہ سیوان کے دبنگی سابق ایم پی شہاب الدین اور آرا سے سنیل پانڈے اور رانچی سے انل شرمااور اجے رائے کے درمیان رشتے تھے۔سرینگر سے آنے والے جدید ترین ہتھیاروں کی کھیپ میں سب کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے بنارس لوک سبھا سیٹ سے پارٹی نیتااروند کیجریوال کے خلاف کانگریسی امیدوار اجے رائے پر ہتھیاروں کے کاروبار میں شامل ہونے کی جانچ کی مانگ کی ہے۔’آپ‘ کے ترجمان سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی نیتا امت شاہ نے رائے پر اے ۔ کے47 رائفل کے ناجائز کاروبار میں شامل ہونے کا الزام لگایا ہے اگر اس میں ذرا سی بھی سچائی ہے تو اس کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے۔ بھاجپا کے قومی ترجمان نلن کوہلی نے اس سارے معاملے پر کہا کہ اجے رائے معاملے کو پورا دیش جان چکا ہے یہ تعجب کی بات ہے کہ اس پر مرکزی حکومت نے ابھی تک کوئی نوٹس نہیں لیااور اب تک راہل گاندھی، سونیا گاندھی سمیت کانگریس کے اعلی نیتاؤں نے اس معاملے میں خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔ اس معاملے میں انہیں صفائی دینی چاہئے۔ اجے رائیکا کہنا ہے کہ بی جے پی نیتا اور یو پی کے انچارج امت شاہ کے بے تکے الزام پر وہ چناؤ کمیشن جائیں گے۔ انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ شاہ کے ذریعے ان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ بھاجپا کی بوکھلاہٹ کا اشارہ ہے اور کوئی بھی سکیورٹی ایجنسی میرے خلاف لگے الزامات کو ثابت کرے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ہی اجے رائے بھاجپا میں بھی رہ چکے ہیں تب بھاجپا نے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟ نلنی کوہلی نے صاف جواب نہ دے کر کہا کہ اس معاملے سے متعلق رپورٹ مرکزی حکومت کے پاس ہے اس لئے جوابدہی اس کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایسی خبروں کا وارانسی کے چناؤ میں ووٹ پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟ چناؤ کے دوران اکثر ایسے الزام درج الزام کا دورچلتا ہی رہتا ہے۔
(انل نریندر)

25 اپریل 2014

مودی کے مشن 272 میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تین دیویاں!

پچھلی ایک دہائی سے زیادہ وقت بھاجپا مرکز میں اپوزیشن کا کردار نبھاتی رہی ہے۔ ان 10 برسوں میں پہلی بار بھاجپا کو امید کی کرن دکھائی دے رہی ہے اور یہ امید کی کرن نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے ستمبر2013ء سے ہی چناؤ کمپین شروع کردی تھی اور وہ اب تک 500 سے زیادہ ریلیوں سے خطاب کرچکے ہیں۔ اگر بھاجپا2014 کے لوک سبھا چناؤ میں کامیاب نہیں ہوتی ہے تو کئی برسوں کے لئے پھر اپوزیشن میں ہی بیٹھنا پڑے گا۔ ’نریندر مودی از دی بیسٹ بیٹ فار بھاجپا‘ (نریندر مودی بھاجپا کے لئے بہترین داؤ ہیں)۔ نریندر مودی نے مرکز میں اقتدارتک پہنچنے کے لئے دن رات ایک کردی ہے۔ لیکن اگلے چار مرحلوں کے انتخابات میں تین دیویوں کی چنوتی پار کرنی ہوگی جو ان کے چناوی رتھ کو روکنے کے لئے کوئی کثر نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ اگلے باقی مرحلوں میں جن میں ایک مرحلہ کل پورا ہوچکا ہے ، میں اترپردیش، تاملناڈو اور مغربی بنگال کی کل161 سیٹوں میں سے زیادہ سیٹوں پر پولنگ ہے۔ یہاں سے زیادہ سے زیادہ سیٹیں بھاجپاکی جھولی میں ڈالنے کے لئے مودی کو ممتا بنرجی، جے للتا اور مایاوتی کی چنوتی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اپنے اکھڑ نظریات اور مضبوط قوت ارادی کے لئے مشہور مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ترنمول لیڈر ممتا بنرجی کادبدبہ آج بھی مغربی بنگال میں برقرار ہے لیکن 42 لوک سبھا سیٹوں والی ریاست میں2009ء میں ترنمول کانگریس کو19 سیٹیں، کانگریس کو6 اور لیفٹ پارٹیوں کو16 سیٹیں ملی تھیں۔ اس بار زیادہ تر مقامات پر بھاجپا کو ترنمول کانگریس سے اور لیفٹ پارٹیوں سے اور کانگریس سے سخت چنوتی مل رہی ہے۔ 39 لوک سبھا حلقوں والے تاملناڈو میں پہلی بار کمل کھلانے کے لئے بھاجپا، ڈی ایم کے سمیت پانچ پارٹیوں کے ساتھ تال میل کر چناؤ میدان میں اتری ہے۔پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ڈی ایم کے کو19، انا ڈیایم کے کو 9 اور کانگریس کو8 سیٹیں ملی تھیں۔ سال1991 اور 2001 ،2002، 2011 میں اس ریاست کی وزیر اعلی بنی جے للتا کی پوری کوشش ہے کہ بھاجپا یہاں پیرنہ جما پائے۔ دوسری طرف ساؤتھ میں روایتی طور سے کمزور پارٹی مانی جاتی رہی بھاجپا کو اس بار بہتر کارکردگی کی امید ہے اور وہ ساؤتھ میں اپنی ساتھی پارٹیوں کے ساتھ25-30 سیٹیں جیت لے گی۔ آندھرا پردیش، تاملناڈو اور کرناٹک میں لوگوں نے دیکھا ہے کہ پارٹی کے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے اپنی تقریر میں مقامی زبان کا استعمال کیا۔پچھلے 8 مہینوں میں مودی نے ان ریاستوں میں کئی ریلیاں کی ہیں۔ تینوں ریاستوں کی زبان کا استعمال کیا اور ساتھ ہی پارٹی نے مقامی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔بھاجپا کے سابق پردھان ونکیانائیڈو کا کہنا ہے کہ ہم ساؤتھ انڈیا سے اس بار 50 سیٹیں جیت لیں گے۔80 سیٹوں والے اترپردیش پر تمام بڑی پارٹیوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ بھاجپا نے اس ریاست کو سب سے اہم مانا ہے اور مودی نہ صرف یہاں سے چناؤ لڑ رہے ہیں بلکہ ذات پات کی سیاست کولیکرمشہور یہاں کے لوگوں کو اپنی پارٹی کے حق میں متحد کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت دے رہے ہیں۔ سماج واد ی پارٹی کے قبضے والی اس ریاست میں بڑی اپوزیشن پارٹی بہوجن سماج پارٹی کی چیف مایاوتی نے تقریباً دو سال پہلے ہی لوک سبھا چناؤ کی تیاری شروع کردی تھی۔ اس کے لئے امیدواروں کا انتخاب بھی کرلیا تھا۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں سپا کو یہاں سے23 ، کانگریس کو21، بھاجپا کو10 سیٹیں ملی تھیں، بسپا کے 19 امیدوار کامیاب ہوئے تھے اور 46 حلقوں میں اس کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ بھاجپا کو9 اور سپا کو16 اور کانگریس کو 7 حلقوں میں دوسرا مقام ملا تھا۔ بھاجپا کے یوپی انچارج امت شاہ کو امید ہے کہ 2014 لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کو50 سیٹیں ملیں گی۔ مودی کے مشن 272 میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہی تین دیویاں ہیں۔
(انل نریندر)

لوک سبھا2014ء چناؤ اور مسلم رائے دہندگان؟

عام چناؤ 2014ء میں ایک اہم سوال یہ ہے دیش کے مسلمان کس کو ووٹ دیا ہے اور کس کو نہیں دینا کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ممبئی کے ایک مشہور انگریزی اخبار نے 4 اپریل کو اپنے شمارے میں بھاجپا نیتاکریٹ سمیاکایہ بیان شائع کیا ہے کہ میں نے بہت کوشش کی مگر مسلمانوں کو بھاجپا کو ووٹ دینے کے لئے راضی کرنے میں اب تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ خیال رہے کریٹ سمیا صرف ایک بار 13ویں لوک سبھا کے لئے ممبئی نارتھ ایسٹ سے چنے گئے، کوئی دوسرا موقعہ انہیں نہیں ملا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ مسلم فرقے کی ان سے دوری ہے۔ اس سلسلے میں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جو حال ممبئی نارتھ ایسٹ لوک سبھا حلقے میں کریٹ سمیا کا ہے تقریباً وہی حال دیش بھر کے ان بھاجپا امیدواروں کا ہوگا جو 16ویں لوک سبھا کی ممبر شپ پانے کے لئے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ خود مبصرین کا کہنا ہے نریندر مودی کی نامزدگی اور بھاجپا مسلمان فرقے کی دوری جو پہلے کبھی کم نہیں تھی اور مزید گہری ہوگئی ہے۔ رہی سہی کثر گری راج سنگھ ، پروین توگڑیا جیسے کٹر نیتا پوری کررہے ہیں۔ کٹر نظریات کے مسلمانوں میں آج عمران مسعود جیسے کٹر ذہن لوگ ہیرو بن گئے ہیں۔ مودی کو کوئی تو گاڑھ رہا ہے ،کوئی ان کی بوٹی بوٹی کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اس میں شاید ہی کسی کو شبہ ہو کے مسلم فرقے کے سارے لوگ یا تو پڑھے لکھے ہوںیا تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا جانتے ہوں، امیر ہوں یا غریب، یا ذاتی کاروبار کرتے ہوں یا افسر ہوں سب کانگریس سے ناراض ہیں۔ یہ ناراضگی اتنی زیادہ ہے کوئی بھی شخص بہت آسانی سے کانگریس کے کارناموں کو گنا سکتا ہے۔ حال ہی میں ختم ہوئے مغربی اترپردیش کے مظفر نگر سمیت 10 سیٹوں پر پولنگ ہوئی اس میں مسلم ووٹروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہاں بہت سے لوگ دنگوں کو لیکر ناراض ہیں۔ انہوں نے نہ تو کانگریس کو ووٹ دیا اور نہ ہی سپا کو۔ انہوں نے بسپا ’آپ‘پارٹی کو اپنا ووٹ دینا بہتر سمجھا۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کے ایک طبقے نے نریندر مودی کو بھی ووٹ دیا ہے۔ مسلمانوں کا ایک پڑھا لکھاطبقہ مودی کو ایک موقعہ دینے کے حق میں دکھائی پڑتا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے شیعہ عالم مولانا کلب جواب اور مولانا محمود مدنی کے بیان بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی میں دوسرے فرقے کے لوگوں کی طرح مسلم فرقے کے اندر بھی دلچسپی بڑھی ہے مگر اپنی جلد بازی میں اس نے بہت سے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ اگر’ آپ‘ صبر سے کام لیتی ، دہلی سرکار کو ٹھیک ڈھنگ سے چلاتی اور اچھے انتظامیہ مثال بنتی اور2019ء کے چناؤ دنگل میں پوری طاقت سے اترتی تو وہ بہت اچھی ثابت ہوسکتی تھی لیکن اس نے 70 سیٹوں والی دہلی کو چھوڑ کر 547 سیٹوں والی لوک سبھا کی طرف لڑنے کی اڑان بھری اور یہ نہیں دیکھا جان کتنی چھوٹی ہے، پنکھ کمزور اور چناوی آسمان کتنا وسیع ہے۔ مسلم ووٹر یہ سب دیکھ رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے مسلمان اب بھی شش و پنج میں مبتلا ہے۔ اس کے پاس حکمت عملی کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے یا مسلم ووٹ بسپا ،سپا ،ترنمول کانگریس، ’آپ‘ اور کانگریس (سونیاامام بخاری ملاقات کا سبب نہیں) وغیرہ پارٹیوں میں جائے گا۔اس وقت مسلم تیور صاف دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ اس بار بڑی تعداد میں پولنگ کے لئے اپنے گھروں سے نکلیں گے اورزیادہ سنجیدگی سے ووٹ دینے کی پالیسی اپنائیں گے ۔ زیادہ تر جگہوں پر ان کا نشانہ ایک ہی ہوگی۔۔۔بھاجپا۔
(انل نریندر)

24 اپریل 2014

آج چھٹا مرحلہ: داؤ پر 117 سیٹیں اور راہل ، مودی و ملائم کا مستقبل!

پانچویں مرحلے کی طرح چھٹے مرحلے میں بھی راہل گاندھی اور نریندر مودی کے بیچ سخت مقابلہ ہے۔آج 24 اپریل کو ہونے والے چناؤ میں117 سیٹیں داؤ پر لگی ہیں۔ ان میں زیادہ تر ان ریاستوں میں ہیں جہاں کانگریس اور بھاجپا کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔پچھلے مرحلے کی طرح یہ مرحلہ بھی مستقبل کی سیاست کے لحاظ سے بیحد اہم ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس مرحلے میں بھی حملے اور تلخ ہوگئے ہیں۔ چھٹے مرحلے کی اہمیت کی بات کریں تو اس میں اترپردیش (10) سیٹیں مہاراشٹر (19)، مدھیہ پردیش (10)، بہار(7)، چھتیس گڑھ(6)، راجستھان (5)، جھارکھنڈ میں(4) شامل ہیں، میں کانگریس اور بھاجپا کا سیدھا مقابلہ ہے۔پہلے بات کرتے ہیں اترپردیش کی کچھ سیٹوں کی۔ آگرہ میں 2 لوک سبھا سیٹیں ہیں جن میں سے فتحپور سیکری جو ان دنوں ہاٹ سیٹ بنی ہوئی ہے، اس پر سپا نے مرکزی وزیر کی بیوی کو بسپا نے سابق وزیر توانائی کی بیوی کو، بھاجپا نے سابق وزیر کو اور آر ایل ڈی نے راجیہ سبھا ایم پی امرسنگھ پر داؤ لگایا ہے۔فلمی ستاروں کی کمپین میں شامل ہونے سے یہ سیٹ کافی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ان دنوں تاج نگری پہنچے ملائم سنگھ یادو کو بھی کہنا پڑا کہ ستاروں کا غلط استعمال کیا جارہا ہے جن پر پلٹ حملہ کرتے ہوئے امرسنگھ نے کہا سپا چیف کے ذریعے فلمی ستاروں کی بے عزتی کی جارہی ہے۔ستارے روپے لیکر نہیں ذاتی تعلقات کے لئے ان کی کمپین کررہے ہیں۔اسمبلی میں سیٹوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو فتحپور سیکری سیٹ پر جاٹ، ٹھاکر و دلت ووٹروں کا پولارائزیشن طے ہے۔ اب تک اس سیٹ پر پسماندہ طبقہ فیصلہ کن رول نبھاتا رہاہے۔ مقابلہ کانٹے کا ہے۔ متھرا پارلیمانی حلقے میں سخت مقابلے کا سامنا کررہے موجودہ ایم پی جے انت چودھری نے قبول کیا ہے کہ ان کی حریف و گزرے زمانے کی بالی ووڈ اداکارہ ڈریم گرل ہیما مالنی کا گلیمر لوگوں اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ راشٹریہ لوک دل کے لیڈر اور پارٹی کے چیف اجی سنگھ بے اپنے اہم حریف بھاجپا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ سیاست کو سنجیدہ لوگوں کی ضرورت ہے نہ کے چہروں کی۔یہ آسان نہیں ہے کہ کسی فلم میں رول نبھانے جیسا نہیں ہے۔ آپ کو اپنا دل کھولنا ہوتا ہے اور اپنے لوگوں کے درمیان رہنا ہوتا ہے۔ متھرا کے 7 لاکھ ووٹر اور2300 گاؤں ہیں۔ ہیما جے انت چودھری کو کتنا چیلنج دے سکتی ہیں یہ پتہ چل جائے گا۔ اترپردیش کی سنبھل، مین پوری، ایٹہ، ہاتھرس، آگرہ، فیروز آباد، ہرودئی، فروخ آباد، ایٹاوا، قنوج و اکبر پور میں بھاجپا کو سخت محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ سپا اور بسپا کا گڑھ ہے۔ نریندر مودی فیکٹر کتنا اثر دکھا پائے گا دیکھنا ہوگا۔مودی کا مشن272+ کے لئے ان سیٹوں پر جیتنا ضروری ہے۔ لوک سبھا چناؤ کو لیکر راجستھان میں لڑائی اب محض پانچ سیٹوں پر سمٹ گئی ہے۔ حال ہی میں ان میں سے ایک بھی سیٹ پر بھاجپا کا ایم پی نہیں ہے۔ وہیں کانگریس کو یہاں سے چار ایم پی ملے ہوئے ہیں اور ایک سیٹ پر آزاد ایم پی کروڑی لال مینا تھے لیکن اب وہ اسمبلی چناؤ میں جیت کر پارلیمانی سیٹ خا لی کرچکے ہیں۔ کانگریس اپنے اثر والی سیٹوں کو قبضے میں رکھنے کے لئے جوڑ توڑ کی کوشش میں لگی ہے تو بھاجپا ان سبھی سیٹوں کو اپنی جھولی میں ڈالنا چاہ رہی ہے۔ سوائے مادھوپور، الو ر،بھرتپور، پھولپور، کرولی سیٹیں کانگریس کے قبضے میں ہیں۔ وزیر اعلی وسندھرا راجے دعوی کررہی ہیں کہ بھاجپا راجستھان کی ساری سیٹیں جیتے گی۔ ان 25 سیٹوں میں یہ پانچ سیٹیں بھی شامل ہیں۔ انہیں اپنے کام و مودی لہر پر پورابھروسہ ہے۔ مدھیہ پردیش کے ودھیشا سیٹ پر بھاجپا کی سرکردہ لیڈر سشما سوراج کی راہ اس بار آسان نہیں ہے۔ یہ چناؤ سشما کے لئے واک اوور نہیں لگتا۔ مقابلہ دگوجے سنگھ کے بھائی لکشمن سنگھ کے ساتھ ہے جو پڑوس کی راج گڑھ سیٹ سے پانچ بار ایم پی رہ چکے ہیں۔ سشما اپنے ووٹروں کوٹارگیٹ دیتی ہیں ۔ اس بار مجھے چار لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب بنانا۔ حالانکہ یہ بھاجپا کا گڑھ ہے یہاں سے اٹل بہاری واجپئی جیتے اور پھر پانچ بار شیو راج سنگھ چوہان جیتے اور اس کے بعد سشما جی جیتیں۔ سشما کی جیت یقینی ہے، دیکھنا بس اتنا ہے کہ کتنی اکثریت سے جیتتی ہیں۔ جھارکھنڈ کی دمکا پارلیمانی سیٹ پراس بار سورماؤں کی ٹکر ہے۔ دو پارلیمانی حلقے چھترب ،جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے چیف شیبو سورین و چھبیا چیف بابو لال مرانڈی کے لئے یہ سیٹ آن کی لڑائی بن گئی ہے۔ صوبے کے وزیر اعلی ہیمنت سورین بھی والد کی جیت کے لئے یہاں سب سے زیادہ وقت دے رہے ہیں۔ 1998ء کے بعد یہ پہلا موقعہ ہوگا جب شیبو سورین کے سامنے بابو لال مرانڈی ہیں۔مغربی بنگال کی رام گنج لوک سبھا سیٹ پر ایک دلچسپ مقابلہ ہورہا ہے۔ یہاں دیو بھابی کے درمیان چناوی لڑائی ہے۔ کانگریس نے جہاں سابق مرکزی وزیر پریہ رنجن داس منشی کی بیوی دیپا منشی کو پھر سے میدان میں اتارا ہے تو وہیں ترنمول کانگریس نے پریہ رنجن کے بھائی ستیہ رنجن داس منشی کو ٹکٹ دیا ہے۔پریہ رنجن کی سیاسی وراثت پانے کے لئے دیور۔ بھابی آمنے سامنے ہیں جبکہ بھاجپا نے ایک اداکار کو اتاراہے ۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے یہاں سے سابق ایم پی محمد سلیم کو میدان میں اتارا ہے۔ممتا کی ساکھ اگر داؤ پر ہے تو کانگریس کے لئے بھی اس سیٹ کی اہم کم نہیں ہے۔ مغربی بنگال میں مودی کی لہر پر ٹکی ہیں بھاجپا کی امیدیں۔ آج 24 اپریل کو اترپردیش میں تیسرے مرحلے کے چناؤ میں برج اور وسطی یوپی میں جن 12 سیٹوں پر مقابلہ ہونا ہے اس میں سب سے بڑی چنوتی سماجوادی پارٹی اور بھاجپا کے سامنے ہے۔ اس مرحلے میں خود سپا چیف ملائم سنگھ یادو میدان میں ہیں جبکہ ان کے کنبے کے دو افراد کی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہے۔ سپا چیف کے سامنے قنوج سے ڈمپل یادو، فیروز آباد سے بھتیجے اکشے یادو کو جتانے کی چنوتی ہے۔ اس مرحلے میں سب سے زیادہ سیٹوں والے اپنے گڑھ کو بھی بچانے کی ذمہ داری ان پر ہے۔ تیسرے مرحلے میں یہ 12 سیٹیں سپا کا گڑھ مانی جاتی ہیں چونکہ ملائم سنگھ جس صیفئی گاؤں کے ہیں وہ بھی اسی علاقے میں آتا ہے۔ پچھلے چناؤ میں سب سے زیادہ چار سیٹیں یہیں سے سپا کو ملی تھیں۔دوسری طرف بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کا نشانہ ہے کہ اترپردیش میں80 سے50 سیٹیں مل جائیں بھلے ہی ٹکٹ دینے میں غلطی ہوگئی یا ذات پات کے حساب پر توجہ نہیں دی گئی لیکن پارٹی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بھاجپا نے شروعات میں 1998ء والا ٹارگیٹ یوپی کے لئے رکھا تھا جب پارٹی کو 85 میں سے58 سیٹیں ملی تھیں۔ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ امت شاہ نے چھ مہینے پہلے یوپی کی ذمہ داری لینے کے ساتھ مشن یوپی پر کام شروع کردیا تھا۔ان کے قریبی نے کہا کہ یوپی میں بی جے پی ہمیشہ ووٹوں کے58 فیصدی میں لڑائی لڑتی آرہی ہے کیونکہ 42 فیصدی نے ہمیں کبھی روایتی طور سے ووٹ نہیں دیا۔ اس میں مسلمان، یادو، دلت شامل ہیں۔ ان میں 58 فیصد میں سب سے بڑا حصہ پسماندہ ذاتوں کا ہے اس لئے ہم نے28 ٹکٹ او بی سی کو دئے ہیں۔ پارٹی نے 17 ٹھاکروں کے مقابلے19 براہمنوں کو دئے ہیں۔ مودی مشن272 کے لئے 24 اپریل یعنی آج ہونے والے چناؤ میک اوور کی طرح ہیں۔ اگر بھاجپا کو اس مرحلے میں کامیابی ملتی ہے تو مشن 272+ تک پہنچنا آسان ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

23 اپریل 2014

10 سال بعد آئیں سونیا گاندھی امیٹھی میں راہل کی نیا بچانے!

پچھلے کئی چناؤ میں کانگریس کو رائے بریلی اور امیٹھی پارلیمانی حلقوں کی پریشانی کبھی نہیں ستائی اور وہ ان دونوں سیٹوں کو سرسری طور پر لیتی رہی ہیں۔ وجہ تھی کہ ان دونوں سیٹوں پر سونیا۔ راہل گاندھی کا سیاسی جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ہے۔ ایسے میں کانگریس کو ان دونوں سیٹوں کی کبھی فکر نہیں ہوئی لیکن اس بار کے چناؤ میں حالات بدلے بدلے نظر آرہے ہیں۔ بریلی سے تو سونیا کی جیت یقینی مانی جارہی ہے لیکن پڑوس کی سیٹ امیٹھی پر سیاسی ماحول تیزی سے بدل رہا ہے۔ خبر ہے خفیہ ایجنسیوں نے آگاہ کیا ہے کہ راہل گاندھی کی امیٹھی سے پوزیشن تسلی بخش نہیں ہے۔ زی نیوز نے تو ایک سروے کروایا تھاجس کے مطابق بھاجپا کی امیدوار اسمرتی ایرانی راہل سے بہت آگے تھیں۔کمار وشواس (عام آدمی پارٹی)تیسرے نمبر پر تھے۔ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق اسمرتی ایرانی کی چنوتی لگاتار بڑھ رہی ہے اور ان کی چناؤ کمپین بھی تیزی پکڑ رہی ہے۔ اس سے کانگریس بھاری بے چینی میں ہے۔ اتنا ہی نہیں خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کمار وشواس سیاسی ڈرامے بازی کر کانگریس کا ووٹ کاٹیں گے جو پارٹی کے لئے دردِ سر بن سکتا ہے۔ اس سے بھی اسمرتی ایرانی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کانگریس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے راہل کے کندھوں پر قومی چناؤ مہم کا بوجھ ہے اس وجہ سے ان کے پاس اپنے حلقے میں جانے کے لئے وقت نہیں ہے دیگر وجہ سے بھی راہل امیٹھی کو زیادہ وقت دینا نہیں چاہتے کیونکہ اس سے یہ پیغام جاسکتا ہے کہ راہل گاندھی کو مودی کا ڈر ستانے لگا ہے۔ امیٹھی اور رائے بریلی میں بھائی اور ماں کی چناؤ کمپین دیکھ رہی بہن پرینکا گاندھی واڈرا نے بنیادی حالات کو سمجھتے ہوئے دہلی سے سونیا کو ایس او ایس بھیجا ہے۔انہوں نے بتایا کہ امیٹھی میں اور طاقت لگانی پڑے گی کیونکہ عام آدمی پارٹی کا امیدوار یہاں کوئی نہ کوئی ہر روز سیاسی ڈرامے کررہا ہے۔ دہلی سمیت کئی مقامات سے عام آدمی کے پارٹی ورکروں کی کئی ٹولیاں امیٹھی پارلیمانی حلقے میں پہنچ چکی ہیں ۔ دوسری طرف بھاجپانے یہاں اسمرتی ایرانی کو اتارا ہے۔ بیشک ان کے لئے یہ نئی جگہ ہے لیکن وہ بڑے نپے تلے انداز میں راہل گاندھی پرتلخ حملے کررہی ہیں۔ان کی مدد کے لئے سنگھ پریوار کے کئی پردیشوں سے امیٹھی میں پانچ ہزار لوگوں کو بھیجا گیا ہے۔ نریندر مودی کے دھنواں دھار کمپین کا بھی اسمرتی کو سیدھا فائدہ ہورہا ہے۔ اصل لڑائی راہل بنام نریندر مودی بن گئی ہے۔ انہی وجہوں سے سونیا گاندھی لڑکے کی کمپین کے لئے 10 سال بعد امیٹھی پہنچیں۔ دراصل مہنگائی اور کرپشن پر کانگریس کو ہر جگہ عوام کی ناراضگی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ایسے میں سونیا گاندھی کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتیں۔ ووٹ بینک کی حفاظت میں کوئی کثر نہ رہ جائے، کی حکمت عملی کے تحت امیٹھی پہنچیں اور ریلی کی۔ سونیا گاندھی نے امیٹھی کے لوگوں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا برسوں پہلے اندرا جی یہاں آئی تھیں اور اپنے بیٹے راجیو گاندھی کو امیٹھی پریوار کو سونپ گئی تھیں۔ 2004 ء میں میں نے اپنا بیٹا آپ کو دے دیا۔ مجھے وہ دن یاد آرہے ہیں جب میں راجیو گاندھی کے ساتھ یہاں آیا کرتی تھی ۔ ان سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیٹھی میں راہل کے لئے الگ الگ اسباب سے اسمرتی ایرانی اور کمار وشواس ایک چنوتی پیش کررہے ہیں اور سونیا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتیں۔
(انل نریندر)

محبوبہ مفتی، سنجے نروپم، اکشے یادو کی قسمت کا 24 کو فیصلہ!

جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد سرکار سے لوگوں کی دلچسپی ختم ہونا اننت ناگ لوک سبھا حلقے میں دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس میں شامل دونوں پارٹیوں کے ورکر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ پورے صوبے میں اقتدار مخالف لہر ہے۔ ایسے میں نیشنل کانفرنس کے لئے اننت ناگ سیٹ کو بنائے رکھنے کی لڑائی مشکل لگ رہی ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرمین محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کی اس سیٹ سے چناؤ لڑ رہے موجودہ ایم پی ڈاکٹر محبوب بیگ کے خلاف اترکر مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ اننت ناگ سیٹ پر 24 اپریل کو ووٹ پڑیں گے۔ اننت ناگ کو پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ جنوبی کشمیر کے16 ممبران اسمبلی میں سے12 پی ڈی پی کے ہیں۔پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ڈاکٹر بیگ نے کانگریس کی حمایت سے پی ڈی پی کے امیدوار پیر محمد حسین کو 5224 ووٹ معمولی فرق سے ہرایا تھا۔ اس وقت لوک سبھا چناؤ اسمبلی چناؤ سے پہلے ہوئے تھے اور پی ڈی پی اپوزیشن میں تھی لیکن اس بار عمر عبداللہ کے خلاف پیدا لہر کا فائدہ پی ڈی پی اٹھانے کو تیار ہے۔ ساتھ ہی محبوبہ مفتی کے سیدھے میدان میں اترنے سے ان کا پلڑا بھاری ہوگیا ہے۔ محبوبہ کو ہرانا مشکل ہے۔ جموں کشمیر کی وادیوں سے اب آگے چلتے ہیں دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کی طرف۔ یہاں نارتھ ممبئی لوک سبھا سیٹ پر 24 اپریل کو ہی ووٹ پڑنے والے ہیں۔ یہاں کانگریس کے سنجے نروپم جو ایم پی ہیں بھاجپا کے گوپال شیٹی سے زبردست چیلنج مل رہا ہے۔ مقابلہ شیٹی ، آئی آئی ایم سے ڈگری ہولڈر ستیش جین (آپ) اور سپا کے کملیش یادو سے ہے۔ سال2009ء کے چناؤ میں کانگریس مخالف لہر بھاجپا اور ایم این ایس کے درمیان بٹ گئے تھے جس کا فائدہ سنجے نروپم کو پہنچا تھا۔ سنجے نروپم کو355157 ووٹ جبکہ بھاجپا امیدوار کو اور سابق مرکزی وزیر رام نائک کو 249378 اور ایم این ایس امیدوار سریش پارکر کو147502 ووٹ ملے تھے۔’آپ ‘ امیدوار ستیش جین حلقے کی ترقی کے لئے ٹیکسٹ بک مینجمنٹ اصولوں کو لاگو کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ نارتھ ممبئی کی اس اہم سیٹ پر مودی فیکٹر کتنا اثر دکھاتاہے اس کا پتہ تو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اندر بند لوگوں کی رائے سے لگے گا۔ اب ممبئی سے اترپردیش کے چوڑیوں کے لئے مشہور ضلع فیروز آباد یہاں ڈیڑھ سال سے سپا کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو کے بیٹے اکشے یادوجوڑ توڑ اور کافی محنت میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنے والد کے ذریعے سیاسی بساط بچھتی دیکھی ہے لیکن اکشے کو اس سہاگ نگری میں آکر سیاست کی اے بی سی ڈی سیکھنے کو ملی ہے۔ پروفیسر رام گوپال یادو نے اپنے بیٹے اکشے کے لئے ایسی سیٹ چنی ہے جو ضمنی چناؤ میں فلم اداکار راج ببر کے ذریعے سپا کی جھولی سے چھین لی گئی تھی۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں اکھلیش سرکار سے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کی منظوری دلائی گئی۔
وزیر اعلی اکھلیش یادو کے چناؤ جیتنے کے بعد اب ضمنی چناؤ میں ان کی بیوی ڈمپل یادو کو ہار کا سامنا کرنا پڑا تو اس سیٹ پر اترنے کے دوران ضرور خاندان کو کئی بار سوچنا پڑا ہوگا لیکن ضمنی چناؤ میں ڈمپل یادو جیت گئی تھیں اب ڈیڑھ سال میں آہستہ آہستہ حالات پلٹنے کا کام اکشے نے کیا ہے۔ یہاں مقابلہ سابق ایم پی بھاجپا امیدوار پروفیسر ایس پی سنگھ بھگیل سے ہے جو دو بار فیروز آباد سے چناؤ بھی لڑ چکے ہیں۔ کانگریس کے اتل چترویدی اور سپا کے وشودیپ سنگھ اور عام آدمی پارٹی کے راکیش یادو بھی میدان میں ہیں۔ اس بار فلم اداکارہ راج ببر فیروز آباد سیٹ سے نہیں لڑ رہے ہیں۔ ایماندار ساکھ اور نرم گوئی اور مخالفین پر کوئی حملہ نہ کرنا اکشے یادو کی طاقت مانی جارہی ہے اورسنا ہے لوگ ان کو پسند کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

22 اپریل 2014

لوک سبھا چناؤ نتائج پر منحصر ہے دہلی اسمبلی کا مستقبل!

دہلی اسمبلی چناؤعنقریب نہ چاہنے والوں کی نظر سپریم کورٹ کی طرف سے عام آدمی پارٹی کی عرضی پر جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے کہاکہ اگر صدر چاہیں تو دہلی میں اسمبلی بھنگ کر نئے سرے سے چناؤ کروا سکتے ہیں لیکن حقیقت تویہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے علاوہ نہ بھاجپا اور نہ کانگریس دہلی میں اسمبلی چناؤ چاہتی ہیں اور کانگریس کے ممبران بھی فی الحال چناؤ کے حق میں نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کا اثر ابھی بھی برقرار ہے اگر تھوڑی کمی آئی ہے تو درمیانے طبقے اور پڑھے لکھے طبقے میں آئی ہے ۔ ایسے ووٹر جن میں عالیشان بستیوں کے ووٹر بھی شامل ہیں، جنہوں نے دہلی اسمبلی چناؤ میں’آپ‘ پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔اروند کیجریوال کے بھگوڑے پن، وعدہ خلافی اور ان کی سیاسی خواہشات کو دیکھتے ہوئے اگلی مرتبہ وہ عام آدمی پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ کیا عام آدمی پارٹی کو اپنے ممبران اسمبلی کی ٹوٹ پھوٹ کا ڈر ستا رہا ہے یا اسے پکا یقین ہوچلا ہے کہ اگر دہلی میں دوبارہ اسمبلی چناؤ کرائے گئے تو کیجریوال کی رہنمائی میں پارٹی مکمل اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی؟ وجہ جو بھی ہو لیکن پارٹی نے دہلی اسمبلی کوالتوا میں رکھے جانے پر ایک بارپھر سے سوال اٹھاتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نپٹارہ جلد سے جلد کرے۔ پچھلے چناؤ میں اپنا راج پاٹھ گنوا چکی کانگریس صوبے میں اسمبلی چناؤ کو لیکر فی الحال اپنے پتتے کھولنا نہیں چاہتی حالانکہ اندر خانے پارٹی کے نیتا یہ ہی چاہتے ہیں کہ چناؤ کروانے میں کوئی ہڑبڑی نہ کی جائے۔کانگریس کے سینئر ممبراسمبلی نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے اگر چناؤ تھوڑا ٹھہر کر ہوں تو ہمارے لئے فائدے مند ہوگا۔ بھاج پا کے ایک سینئر لیڈرکا کہنا ہے کہ اسمبلی چناؤ کا مستقبل بہت کچھ لوک سبھا چناؤ پر منحصر کرے گا۔ پارٹی کے کئی لیڈر دعوی کرتے ہیں کہ اگر لوک سبھا چناؤمیں ’آپ‘ پارٹی کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تو اروند کیجریوال کے لئے اپنے ممبران ہو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔’آپ‘ کے کئی ممبر اسمبلی لکشمی نگر کے ممبر اسمبلی ونود کمار بننی کی راہ پر چل سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھاجپا کے لئے سرکاربنانا آسان ہوجائے گا یعنی سب کچھ لوک سبھا چناؤ نتائج پر منحصر کرے گا۔ پارٹی کے پردیش پردھان ڈاکٹر ہرش وردھن سمیت کئی بڑے لیڈر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی پوزیشن کے لئے تیارہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب جانتے ہیں کہ ان کے لئے ’آپ‘ پارٹی ایک بڑی مصیبت کھڑی کر سکتی ہے اگر وہ چاندنی چوک سے جیت جاتے ہیں تو وہ ایم پی رہیں گے یا ممبر اسمبلی ؟اور اگراوپر والانہ کرے کہ وہ ہارجاتے ہیں تو اخلاقی بنیاد پر انہیں دہلی کے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالنے میں کوئی مشکل تونہیں آئے گی؟ ویسے ہماری رائے میں بھاجپاہائی کمان نے ڈاکٹر ہرش وردھن کو لوک سبھاچناؤ لڑوانے کی غلطی کی ہے خاص کر جب انہیں یہ معلوم تھاکہ دہلی اسمبلی کے چناؤ مستقبل میں ہونے والے ہیں۔ جب چناؤ اورپولنگ کی بات کررہے ہیں تو لیفٹیننٹ گورنرموصوف کو بھی دہلی کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ لینے سے پہلے مرکز میں نئی سرکار کی تشکیل کا انتظار ہے۔ اب مرکز کی نئی کیبنٹ بنے اور دہلی میں صدر راج نافذ رکھنے کے علاوہ نئے سرے سے اسمبلی چناؤ کرانے کو لیکر کوئی فیصلہ لے پائے گی یعنی دہلی اسمبلی کا مستقبل اب16 مئی کو لوک سبھا نتائج آنے اور مرکز میں نئی سرکاربننے کے بعد ہی طے ہوگا۔
(انل نریندر)

تاملناڈو دنگل: جے للتا بنام مودی بنام اے۔راجہ!

اس مرتبہ تاملناڈو کے نتیجے چونکانے والے ہوسکتے ہیں۔ ریاست میں اقتدار اب تک بیشک الگ الگ نکتوں پر ہی رہا ہے لیکن اس کا مرکز طویل عرصے سے انا ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے جیسی دراوڑ پارٹیوں کا ہی رہا ہے۔ انا ڈی ایم کے چیف جے للتا ابھی بھی وہاں برسر اقتدار ہیں۔ انہوں نے لیفٹ پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا تھالیکن اس چناؤ میں انہوں نے لیفٹ پارٹیوں کو نظر انداز کردیا ہے جبکہ ڈی ایم کے کے بزرگ لیڈرایم کروناندھی کے بیٹے کے تنازعے کے بعدکمزور پڑیہ ہے ڈی ایم کے ۔ ڈی ایم کے کی اس اندرونی رسہ کشی کا اثر اس کے چناوی نتیجوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ریاست میں ہمیشہ حاشیے پر رہی بھاجپا کے ساتھ جانے کا بھی تذکرہ تھا۔اب این ڈی اے کا کنبہ جے للتا ہی بڑھا سکتی ہیں اور یہ خیال کانگریس کے لئے بھی تشویش کا باعث بناہوا ہے۔ جے للتا اپنی ریلیوں میں کانگریس کے ساتھ ساتھ بھاجپاکو بھی خوب کوس رہی ہیں۔ وہیں نریندر مودی کی ریلیوں میں آرہی بھیڑ کو ووٹوں میں بدلنے میں لگے ہوئے ہیں۔فی الحال لوک سبھا چناؤ میں ڈی ایم کے ۔کانگریس اتحاد پچھلی مرتبہ 18 سیٹیں جیتا تھا۔ یوپی اے محاذ کے کھاتے میں27 سیٹیںآئیں تھیں۔جے للتا نے تیسرا مورچہ بنا کر ڈی ایم کے ، سی پی آئی ،سی پی ایم اور پی ایم کے سے اتحاد کیا تھا۔انا ڈی ایم کے کو9 جبکہ اے ڈی ایم کے اور سی پی آئی اور سی پی ایم کو ایک ایک سیٹ پچھلے چناؤ میں ملی تھی۔بھاجپااور ڈی ایم کے نے الگ الگ چناؤ لڑے اور دونوں کو ایک بھی سیٹ نہ ملی۔ اس بار چناؤ میں زیادہ سے زیادہ سیٹ جیتنے کی غرض سے بھاجپا نے یہاں ڈی ایم کے ۔ انا ڈی ایم کے کے بعد بچی پانچ علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔کانگریس کی رہنمائی والی یوپی اے اتحاد میں شامل ہونے کے لئے کسی پارٹی نے ابھی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ کل ملاکر ریاست کی سبھی لوک سبھا سیٹوں پر ڈی ایم کے، انا ڈی ایم کے، این ڈی اے،عام آدمی پارٹی کے بیچ لڑائی ہے۔ یہاں پولنگ24 اپریل کو ہونی ہے۔ تاملناڈو کی ایک مشہور سیٹ ہے اوٹی لوک سبھا سیٹ۔اوٹی لوک سبھا سیٹ سے2011ء میں ٹو جی گھوٹالے کے اہم ملزم سابق وزیرمواصلات اے۔ راجہ چناؤ لڑرہے ہیں۔40 ڈگری درجہ حرارت میں تپتے تاملناڈو میں کانگریس کے لئے سب سے زیادہ سکون دینے والی جگہ ہے تووہ ہے اوٹی۔ یہاں دیش بھرسے آئے سیاحوں کی پہل سے بنا اوٹی کا سب سے شاندار بلیک ٹھنڈرڈ ریزارٹ کا سوئٹ نمبر1 اے۔ راجہ کے لئے ریزرو ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے اہم ملزم اور ڈی ایم کے کے امیدوار کا چناؤ حلقہ ہے جہاں ٹھنڈ میں ان کے پسینے چھوٹ رہے ہیں راجہ ایک مہینے سے یہیں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ راجہ کا کنبہ ہر گاؤں اور ہر گلی گھوم رہا ہے۔ٹو جی کام بھاری بھرکم بوجھ علاقے میں صاف دکھائی دیتاہے۔ چار رنگین صفحات پر ایک جذباتی اپیل جاری کی گئی ہے۔موٹی الفاظ میں ہے آپ کی عدالت میں میرا فیصلہ کنول پر چھپی تصویر راجہ کی گرفتاری کی ہے۔وہ کہتے ہیں میں بے قصورہوں لوک سبھا کی سب سے بڑی عدالت سے انصاف مانگنے نکلاہوں۔محفوظ سیٹ سے راجہ کو 2009 میں85 ہزار ووٹوں سے کامیابی ملی تھی اب ووٹوں میں سیدھی تقسیم صاف ہے ایک طرف ہے شہری اورپڑھا لکھا علاقہ جہاں پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ کاروباری نوجوان ٹوجی گھوٹالے کو ایک کلنک کی طرح محسوس کرتے ہیں۔یہاں ہر کوئی راجہ کو ہرانے کے لئے کمر کس رہاہے۔ دوسری طرف ہے درمیانے طبقے کے لوگ ۔سبزی،ناریل پانی بیچنے والے آٹو چالک مزدور اور گاؤں کے لوگ اس علاقے کی دریا دلی کے درمیان کئی قصے ہیں۔ درزی روی چندرن کی بیوی اور بچے پہاڑی ندی کے سیلاب میں بہہ گئے تھے۔ لاشیں ملی تھیں وہ دکھڑا رونے کے لئے راجہ کے پاس گئے تھے۔ایک لاکھ کی فوراً مدد ملی۔ ان دنوں سلائی کاکام چھوڑکر راجہ کا جھنڈا اٹھاکر گھوم رہے ہیں۔ ایسے اور کئی قصے سننے کو ملتے ہیں۔ یہاں سے بھاجپا امیدوار ایس گورومورتی کا پرچہ خارج ہوچکاہے۔ انا ڈی ایم کے کے گوپال کرشن اچھی ٹکر دے رہے ہیں۔ مکھیہ منتری جے للتا جن دو سیٹوں پراپنی پارٹی کی مکمل جیت چاہتی ہے اس میں چدمبرم کی شیو گنگاکے علاوہ دوسری طرف کروناندھی نے راجہ کو ووٹ دینے کی اپیل گوڈ گورننس کے ساتھ لوگ چٹخارے لیکر کہہ رہے ہیں کہ ان کی گوڈ گورننس کا ٹوجی سے بڑا کوئی ثبوت ہوتو بتائیے؟
(انل نریندر)

20 اپریل 2014

بہار میں اصل مقابلہ بھاجپا بنام نتیش نہیں بنام لالو ہے!

بہار میں چناؤ کی دلچسپ نوعیت بنی ہوئی ہے۔مکھیہ منتری نتیش کمار عجیب و غریب حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہیں نریندر مودی کے بوتے پر بلوان ہوئی بھاجپا اور ان کے پرانے مقابل لالو پرساد یادو نتیش کا ووٹ چھیننے کے لئے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ مسلم اکثریتی کشن گنج میں جے ڈی یو امیدوار اخترالاسلام نے منگلوار کو اعلان کیا کہ وہ کانگریس امیدوار کی حمایت میں دوڑ سے نکل رہے ہیں۔ یاد رہے کہ امام کو نتیش نے لالو سے توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیاتھا۔ کشن گنج میں 24 اپریل کو ہونے والے چناوی مرحلے میں ایک اہم سیٹ ہے جو کانگریس کے قبضے میں ہے۔ گذشتہ چناؤ میں یہاں سے جنتادل (یو) کے امیدوار سید محبوب انصاری کو کانگریس کے اسرارالحق نے شکست دی تھی۔ کانگریس نے اسرارالحق کو پھر امیدوار بنایا ہے۔ اس بار حالات بدلے ہوئے ہیں۔ بھاجپا نے دلیپ جیسوال کو میدان میں اتارا ہے۔امام کے چناؤ لڑنے سے انکار کرنے کے بعد یہاں کانگریس اور بھاجپا کی سیدھی ٹکر ہے۔بہار کی بھاگلپور کی سیٹ خاصی چرچہ میں ہے۔ وجہ ہے یہاں سے بھاجپا کے سابق وزیر شاہنواز حسین ہیٹ ٹرک لگانے کی کوشش میں ہیں۔2009 ء کے چناؤ میں انہوں نے راشٹریہ جنتادل کے شکونی چودھری کو لگ بھگ 60 ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا۔ اس بار ان کا مقابلہ راشٹریہ جنتادل کے بولو منڈل اور جنتادل (یو) کے ابو قیصر سے ہے۔ بسپا کی نوشابہ خانم بھی میدان میں ہیں۔ حسین کو بھاجپا کے لوجپا کے ساتھ گٹھ بندھن کا بھی سہارا ہے جس سے انہیں دلتوں کا اہم سمرتھن حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ حسین کو یقین ہے کہ اس بار مودی کی لہرانہیں جیت دلا دے گی۔اوریہ سے سال2009ء کی چناوی جنگ جیتے پردیپ کمار سنگھ نے لوجپا کے ذاکر حسین کو ہرایا تھا۔ 2014ء کی جنگ میں لوجپا نے اس باربھی شری کمار کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس بار ان کا مقابلہ راشٹریہ جنتادل کے تسلیم الدین و جنتا دل(یو) کے وجے کمار منڈل سے ہے۔مرکز کی یوپی اے سرکار میں این سی پی کے منتری طارق انور کٹیہار سے اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ کٹیہار میں ایک بار پھر بھاجپا کے نکھل کمار چودھری کا مقابلہ این سی پی کے طارق انور سے ہے۔ ان کی لڑائی تو جنتا دل (یو) کے رام پرکاش مہتو تکونیہ بنا رہے ہیں۔ سال2009ء کی لڑائی میں بھاجپا کے ہی شری چودھری نے لگ بھگ9 ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔باکا کی پرتھل دیوی نے بھاجپا میں شامل ہوتے ہی یہاں کا لوک سبھا چناؤ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔جنتادل (یو) نے یہ سیٹ اپنے گٹھ بندھن دل بھاکپا کے سنجے کمار کے لئے چھوڑدی ہے۔ راشٹریہ جنتادل نے سابق مرکزی وزیر جے پرکاش یادو کو پھر سے میدان میں اتارا ہے۔ پورے بہار میں مسلم ووٹوں کے لئے جنتادل(یو) اور راشٹریہ جنتادل کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے۔ جاتی متوں کی گول بندی و مسلم ووٹوں پر مرکوز ہورہی بہار کی راجنیتی میں مقامی مسائل کی کوئی بھی بات نہیں کررہا ہے۔جہاں اپنی چناؤ سبھاؤں میں نتیش نے بہار کے مدعوں پر زوردیا ہے وہاں نریندر مودی نے مقامی مسائل کی چرچا کے ساتھ ساتھ قومی مدعوں کا ذکر کیا ہے۔ نتیش کے لئے بری خبر یہ ہے کہ مودی نے انہیں نظرانداز کردیا ہے۔ بھاگلپور اور ارریہ کی اپنی چناؤ سبھاؤ میں مودی نے لالو اور سونیا پر حملہ کرنا پسند کیا۔وہ یادو وووٹوں پر تیزی سے دھیان دے رہے ہیں۔ نوادہ اور بکسر میں یادو طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے مودی نے گائیوں کے رکشک بھگوان کشن کی دوارکاکا ذکر کیا۔ بہار میں نتیش نہیں مودی بنام لالو کے بیچ ہے جنگ۔ لالو۔ کانگریس گٹھ بندھن کو لگ رہا ہے کہ ان کا گٹھ بندھن 15 سیٹیں حاصل کرے گا۔ادھر بھاجپا والوں کو یہ امیدہے کہ وہ بہار میں شاندار پردرشن کریں گے اور 25 سیٹیں جیتیں گے۔
(انل نریندر)

میدھا پاٹکر بنام کریٹ سومیا، کرونا مدگل بنام لکھن ساہو!

اترپورب ممبئی لوک سبھا سیٹ سے کئی دگج میدان میں ہیں۔یہاں سب سے دلچسپ حالت ہے عام آدمی پارٹی کی جانب سے میدھا پاٹکر کا چناؤ میدان میں کودنا۔ ممبئی میں عام آدمی پارٹی سے بڑا برانڈ میدھا پاٹکر ہیں۔ جس علاقے سے آپ چناؤ لڑ رہی ہیں وہاں اس پارٹی کو جاننے والے بہت کم ہیں لیکن پاٹکر ان کے لئے انجان نام نہیں ہے۔حالانکہ اس میں بھی مغالطہ ہے اترپورب لوک سبھا علاقے میں درمیانہ طبقے کی کالونیوں کے لوگ دیش بھر کے لئے ان کے کام کی وجہ سے انہیں جانتے ہیں لیکن جھگی جھونپڑی میں رہنے والوں کوان کے بارے میں اتنا پتہ نہیں ہے۔اس لوک سبھا سیٹ سے ان کا مقابلہ این سی پی (کانگریس سمرتھت) کے موجودہ سانسد سنجے پاٹل اور بھاجپا کے بڑے لیڈر کریٹ سومیا سے ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاٹکر کانگریس کے ووٹوں کو اپنی جانب زیادہ کھینچیں گی بجائے بھاجپا کے ووٹوں کے۔سماجک ورکر کے طور پر لمبی لڑائی لڑنے والی میگھا کی سیاسی طور پر یہ پہلی لڑائی ہے۔ وہیں ان کے مخالف تجربے کار سیاسی کھلاڑی ہیں۔ سنجے پاٹل نے پچھلی بار کریٹ سومیا کو تین ہزرا سے کم ووٹوں سے ہرایاتھا۔ یہ نتیجہ این سی پی کے حق میں اس لئے بھی گیا تھا کیونکہ تب شیوسیناسے ٹوٹ کر الگ ہوئے دل ایم این ایس نے اپنا امیدوار کھڑا کیاتھا۔لہٰذا بھاجپا کے ووٹ بٹ گئے تھے۔سومیا کیچھوی بھی ایک سیاسی سنگھرش کے کرنے والے یودھا کی ہے۔ انہوں نے بھرشٹاچار کے کئی معاملے اٹھائے۔ پاٹکر اور پاٹل کے بیچ ووٹ بٹنے سے سومیا نکل سکتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی بھتیجی سابق بھاجپا ممبر پارلیمنٹ کرونا شکلا بلاسپور سیٹ سے اس بار کانگریس کی امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ کرونا اٹل جی کے بڑے بھائی کی بیٹی ہیں۔ نومبر میں کرونا نے بھاجپا کے ساتھ اپنا قریب 30 سال پرانا تعلق ختم کرکے کانگریس کا ہاتھ تھام لیا تھا اور اب وہاس مدعے کے ساتھ ووٹروں کے روبرو ہیں کہ بھاجپا کے اٹل یگ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ اب وہ زندگی بھر کانگریس سنگٹھن کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گی۔یہ بات بڑی حیرت انگیز ہے کہ کرونا شنکر اور بھاجپا کے رتن ساہو دونوں ہی امیدوار اٹل کا نام جپ کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔کرونا کی تقریر میں اٹل جی کا ذکر ضرور ہوتا ہے جبکہ بھاجپا کے پرچار میں بھی اٹل جی کے ہورڈنگ لگے ہیں۔ بھاجپا میدوار لکھن ساہو خود بھاجپا کے بہت بڑے لیڈر سورگیہ نرنجن کیسروانی کے بیٹے کے خلاف ضلع پنچایت کا چناؤ لڑ چکے ہیں۔کانگریس میں کرونا باہری ہونے کا مدعا تو ہے تو لکھن ساہوایسے امیدوار تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بڑے نیتاؤں کونظر انداز کرکے انہیں ٹکٹ دیا گیا۔ کیونکہ ان کا زیادہ رسوخ نہیں مانا جاتا اور دگجوں کے جھگڑے میں ان کی لاٹری لگ گئی۔ کرونا شنکر کہتی ہیں کہ وہ مائیکے سے سسرال آگئی ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی ان کے چاچا ہیں اس لئے بھاجپا ان کا گھر تھاشادی کے بعد وہ شکل پریوار میں آئیں جو کانگریس سے جڑا ہے۔ اس لئے کانگریس میں آنے کے بعد وہ ان کی سسرال بن گئی ہے۔بھاجپا میں اب اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی کا یگ ختم ہوچکا ہے۔ بھاجپا اب نریندر مودی، راجناتھ سنگھ اور کچھ دیگر خاص لوگوں کے گروپ کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ 17 لاکھ ووٹوں والی بلاسپور لوک سبھا پارلیمانی علاقے میں بھاجپا کا اثر رہا ہے مگر اگلا اثر کس کا ہوگا 24 اپریل کو پتہ چل جائے گا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...