21 دسمبر 2019

!ایل او سی پر کسی بھی وقت حالات بگڑ سکتے ہیں

ایل او سی پر حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں فوج کے سربراہ جنرل راوت نے بھی کہا ہے ایل او سی پر کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔پاکستان سے ملحق ایل اوسی پر دونوں طرف سے گھماسان کبھی بھی ہوسکتاہے یہ اندیشات اس لئے ہیںکیونکہ ہندوستانی فوج نے اپنے فیلڈ کمانڈروں کو پاک فوج کے ذریعے جنگ بندی کا منھ توڑ جواب دینے کی خاطر اپنی سطح پر فیصلہ لینے کو کہا ہے اس میں فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کا یہ بیان بھی تڑکا لگا رہا ہے کہ حالا ت صحیح نہیں ہیں نتیجتاً ایل او سی کے ساتھ لگے علاقوں میں مقیم سرحدی باشندوں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے ہندوستانی فوج نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا منھ توڑ جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ایک بریگیڈ ہید کوارٹر کو اڑا دیا ہے اس میں پاک فوج کے درجن بھر فوجی بھی مارے گئے لیکن ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن ملی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ا س نقصا ن سے پاک فوج تلملا اٹھی ہے اور وہ کسی بھی وقت ایل اوسی پر دیگر سیکٹروں میں مورچہ کھول سکتی ہے ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن سے ملحق علاقے تنگ دھار میں پاکستان کی بلا اشتعال گولا باری کے جواب میں ہندوستانی فوج نے پاکستانی فوج کو زبردشت نقصان پہونچایا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے راجیوری ضلع کے سندر بن سیکٹر میں بیٹھ حملے اور کنٹرول لائن کے ساتھ لگے علاقوں میں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے پیش نظر فوجی انتظامیہ نے سبھی فیلڈ کمانڈروں کو دشمن کو منھ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے گزشتہ ایک ماہ میں سمانگ کے پونچھ و راجیوری میں ہر تیسرے دن ایل اوسی پر پاکستانی فوج کی طر ف سے گولا باری کی جارہی ہے ۔فوجی حکام نے بتایا کہ فوجی انتظامیہ اور وزارت دفاع مسلسل ایل او سی پر حالات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔پاکستانی فوج کے ذریعے بیٹھ حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی رپورٹیں ہیں اس وقت پاکستانی فوج کا پورا وقت ایل اوسی پر کسی طرح جنگ کے حالات پیدا کرکے خود بخود ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کو جموں کشمیر میں ڈھکیلنے پر امادہ ہے انہوں نے بتایا ان دونوں سرحدی علاقوں میں مسلسل کہرہ پڑنے سے حالات اور خراب ہو رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

!آئی سی یو میں بھارت کی معیشت

سابق چیف اقتصادی مشیر اروندسبرا منیم نے بدھ کو رائے زنی کی ہے کہ بھارت گہری اقتصادی سست روی میں ہے اور بینکو ں اور کمپنیوں کے حساب کتا ب کے جڑوا بحران کی دوسری لہرکے سبب معیشت آئی سی یو میں جا رہی ہے سپرم منیم نے مودی سرکار کے پہلے عہد میں چیف اقتصادی مشیر رہے ہیں انہوں نے پچھلی سات اگست کو استعفیٰ دے دیا تھا انہوں نے بین الاقوامی کرنسی ذخیرے کے بھارت آفس کے سابق چیف جوئے فیلمن کے ساتھ لکھے گئے ایک نئی تحقیقی دستاویز میں کہا کہ بھارت اس وقت بینک،بنیادی ڈھانچہ اور غیر بینکنگ مالی کمپنیاں اور ریل اسٹیٹ ان چاروں سیکٹروں کی کمپنیوں کے حساب و کتاب کے بحران کاسامنا کر رہا ہے اس کے علاوہ بھارت کی معیشت سرا سود اور اضافے کے منفی فرق میں پھنس گئی ہے جس میں خطرے سے بچنے کے ٹرینڈ کے سبب بیاض شرا بڑھتی جاتی ہے اس کے سبب ترقی شرح گھٹتی ہے اور اس کے سبب خطرے سے بچنے کے جذبہ اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ معیشت میں یہ کوئی عام سستی نہیں ہے ۔یہ بھارت کیلئے بہت بڑھا سلو ڈاو ¿ن ہے سبرا منیم نے کہا کہ معیشت کو پہلے جھٹکا دوہری بیلن شیٹ کے مسئلے سے الگ اس سے بینک اور ڈھانچہ بند کمپنیاںشامل تھیں یہ جھٹکاتب لگا جب سال 2000کے بعد کی دہائی کے وسط میں انوسٹمنٹ بون کے دوران شروع کی گئی ڈھانچہ بند اسکیمیں ڈیفالٹ کرنے لگیں اس کے بعد این بی سی کی رہنمائی میں زیادہ قرض دئے جانے سے غیر ضروری طور سے ریل اسٹیٹ پروجیکٹ کی باڑ آگئی یہ غبارہ 2019میں پھٹا اس کیوجہ سے کھپت بھی گھٹی اور ترقی شرح میں گراوٹ آگئی ان سب اسباب سے بھارت اب چار بیلن شیٹ چنوتیوں کا سامنا کر رہا ہے شروع میں دو طرح کی بیلن شیٹ کے مسئلے تھے جن میں این بی ایف سی اور ریل اشٹیٹ بھی شامل ہو گئے مسئلے کے حل پر سبرا منیم اور شیل مین نے کہا کہ کوئی ایک سیدھا قدم دکھائی نہیں پڑتا 2010کے بعد کے برسوںمیںترقی کا پیٹرن دیکھنے کے بعد معیشت میںطویل سستی اور اس کے بعد ا چانک گراوٹ کی کوئی ایک تشریع نہیںکی جا سکتی ہمارے تزیہ میں ڈھانچہ بند اور بے یقینی دونوں وجوہات دکھائی پڑتی ہیں ان دونوں میں مالیات کا اشو یکساںطور سے موجود ہے کرنسی پالیسی بہت کارگر نہیں ہے کیونکہ بینکوں کی سود شرعوں میں اس کی پورعی منتقلی نہیں ہو پا رہی ہے اگر بڑی مالی راحت دی جاتی ہے تو اس سے پہلے ہی اونچی سود شرعوں میں اور اضافہ ہوگا جس کے سبب ترقی کو تیز کرنے والے پہلوو ¿ں پر برااثرپڑے گا ۔اور معیشت میں استحکام میں تیزی لانے کیلئے بیلنس شیٹ مسئلے کا حل کرنا ضروری ہے ۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2019

ایک تانا شاہ کو سزائے موت

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کسی سابق فوج کے سروراہ اور فوجی تانا شاہ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہو حالانکہ سزا کے اعلان دورا ن مشرف وہاںموجود نہیں تھے ان پر دیش کا آئین منسوخ کرنے اور اپنی ڈکری کو آئین اعلان کر سپریم کورٹ کو ججوں کو برخواست کرنے و جنتا کی آواز دبانے کی سزا آخر کار عدالت نے دے دی ۔لمبے عرصے سے ملک کی بغاوت کا سامنا کر رہے پرویز مشرف کو موت کی سزا سنا کر خصوصی عدالت نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ ابھی زندہ ہے اور کوئی قانون سے بڑا نہیں ہے اور یہ فیصلہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تمام دباو ¿ اورمشکلات کے باوجود پاکستان کی عدلیہ آزاد اور منصفانہ طور سے کام کرتی ہے دراصل یہ فیصلہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ کیسے یہ پڑوسی ملک اپنے اندرونی دشواریوں سے لڑ رہا ہے ۔1999میں نواز شریف کا تختہ پلٹ کر پاکستان کی کمان اپنے ہاتھ میںلینے والے مشرف نے 2001سے 2008کے دوران صدر بن گئے تھے خصوصی عدالت نے انہیں 2007کے آئین کو معطل کرنے اور غیر آئینی طریقے سے دیش بھر میں ایمرجنسی لگانے کا قصوروار قرار دیا ۔اس دوران مشرف کی ہدایت پر سپریم سمیت مختلف عدالتوں کے کئی ججوں کو نظربند کر دیاگیاتھا ۔پھانسی کی سزا تو دور مشرف کو سزا بھی نہیں ملے گی اس کو لیکر پاکستان میں شش و پنج کا ماحول بنا ہوا مشرف صرف دیش کے صدر ہی نہیں رہے بلکہ پاکستان کے فوجی سربراہ رہے اور انہوں نے کارگل جنگ کے ہیرو جیسے کئی شکلوں میں میل کے پتھر قائم کئے اسلئے مشرف کو موت کی خبر چوکانے والی ضرور ہے پاکستان کی تاریخ می ںوہ پہلے ایسے فوجی اور صدر رہے ہیں جن کو موت کی سزا سنائی گئی ہو جس ملک می سیاست سے لیکر ہر جگہ فوج کا دبدبہ رہتا ہو اور بغیر کی فوج کی مرضی کے پتہ بھی نہیں ہل سکتا وہاں مشرف کو سزا دیاجانا صاف طور پر اس بات کا پیغام ہے کہ فوج بھی عدلیہ سے بالا تر نہیں ہے اور موجودہ فوجی افسران اور سیاست دانوں کیلئے بھی ایک سخت پیغام ہے کہ جو اپنے آپ کو قانون سے بڑھ کر مانتے ہیں ۔مشرف کوموت کی سزا دلانے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کا اہم رول ہے اور ان کے کئی فیصلوں کو فوج کیلئے چنوتی مانا جارہا ہے ابھی حال میں انہوں نے فوج کے سربراہ قمر جاوید باجو ا کی سروس توثیقوں کو تین سال سے گھٹا کر چھ مہینہ کر دیا تھا فوج نے اس پر ناراضگی جتائی تھی ۔حالانکہ ہائی کورٹ میں عرضیہ دائر کر مقدمہ روکنے کی کئی کوششیں کی گئیں ۔اس پر اپریل میں چیف جسٹس کھوسہ کی تین نفری بنچ نے حکم جاری کیاتھا کہ اگر ملزم پیش نہیں ہوتا تو اس کی غیر موجودگی میں روزانہ سماعت کرکے فیصلہ دیاجائے ۔اسپیشل عدالت نے آٹھ مہینے میں ہی فیصلہ سنا دیا جج صاحب کھوسہ پی ایم عمران کو حد میں رہنے کیلئے ہدایت دیتے ہوئے کہ چکے ہیں کہ وہ عدلیہ پر طنز نہ سکیں یہ 2009کے پہلے کی عدلیہ نہیں ہے مشرف کے خلاف فیصلہ دے کر عدالت نے جتا دیا ہے کہ اس سے طاقتور فوج بھی نہیں ہے۔پاک ہائی کورٹ و اسپیشل عدالت نے مشرف کو کئی مرتبہ طلب کیا وہ ہر بار بیماری کا بہانہ بنا کر دیش لوٹنے سے انکار کرتے رہے ۔اب فیصلہ کے بعد مشر ف کو پاکستان لانا ہی موجودہ سرکار کو بڑی چنوتی ثابت ہو سکتا ہے اس کے علاوہ پاکستان کا دبئی سے کوئی حولگی معاہدہ نہیںہے پھر بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان فوج کا اس فیصلہ پر کیا رخ رہتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

دبنگ کے سیاسی دباو ¿ دھمکیوں سے بھی نہیں جھکی متاثرہ!

اناو ¿ کی بیٹی کو قریب ڈھائی سال کی جد و جہد کے بعد آخر کار انصاف مل گیا حالا نکہ جس نربھیاکی وجہ سے بد فعلی قانون کو بدلا گیا ۔جوڈیشئیری کی سرگرمی بڑھی ،اس کی خود کشی کو 7سال سے اوپر ہونے کے بعد انصاف کا انتظار کر رہی ہے اس کی آتما کئی موقعے ایسے آئے ہیں جب لگا حکمراں پارٹی کا رسوخ دار اور دبنگ ممبر اسمبلی عدلیہ کارروائی کی آڑ میں قانون کو ٹھینگا دکھا سکتا ہے ،لیکن سپریم کورٹ کی مداخلت سے اس کے منصوبے پورے نہیں ہو پائے دہلی کی تیس ہزاری کی عدالت میں بھاجپا سے اخراج ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو اناو ¿ کی نابالغ بیٹی سے آبرو ریزی کا قصور وار قرار دیا ہے حالانکہ معاملے کے معاون ملزم ششی سنگھ کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا عدالت نے کہا کہ طاقتور شخص کے خلاف متاثرہ کی گواہی سچی ثابت ہوئی ۔عدالت نے سینگر کو آئی پی سی او ر پاس کو ایکٹ کے تحت جنسی استحصال کا مجرم قرار دیا ہے ان دفعات کے تحت زیادہ سے زیادہ عمر قیدہوسکتی ہے متاثرہ لڑکی کو انصاف کی لڑائی میں تمام مشکلات اور جد و جہد کا سامنا کرنا پڑا اس دوران اس نے خاندان کے کئی افراد کو بھی ہمیشہ کیلئے کھو دیا والد ،دادی کے بعد چاچی اور موسی کو بھی کھودیا لیکن رائے بریلی میںہوئے سڑک حادثہ میں متاثرہ کی جان تو بچ گئی لیکن ممبر اسمبلی اور اس کے گرگوں کی دھمکیوں کے باوجود انصاف کی لڑائی میں ساتھ دینے والے وکیل ابھی بھی نزعی حالت میں ہیں۔ بتا دیں 4جون 2017کو 16سالہ لڑکی کے ساتھ بدفعلی کا واقعہ ہوا تھا اسکو اغوا کر الگ الگ جگہوں پر رکھاگیا اس کے بعد پولس نے اس کو تلاش لیا ماں نے تھانے میں دی گئی شکایت میں ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سنگر کے ذریعے پڑوس کی ایک عورت ششی سنگھ کے ذریعے سے بہانے سے بلایا تھااور اس سے بدفعلی ہونے کی شکایت کی تھی لیکن پولس نے نہیںسنا 11جون2017کومتاثرہ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور اس پر کیس مقدمہ درج کیاگیا لیکن پولس نے جانب داری میں ممبر اسمبلی اور معاون ملزمہ خاتون کا نام ہٹا دیا اس کے باوجود متاثرہ اپنی چاچی کے ذریعے دئے گئے حوصلے کے سہارے اپنی لڑائی لڑتی رہی ۔اناو ¿ بدفعلی معاملے میں سماعت کے باد فیصلہ سناتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ دھنے شرما نے بیٹی کی ہمت اور جذبہ کی تعریف کی کورٹ نے اس دوران اسے بے وجہ پریشان کئے جانے پر بھی سوال اٹھائے ۔پاسکو ایکٹ کی دفع 24کے تحت خاتون افسر کا ہونا چاہئے تھا لیکن اس معاملے میںاسکو بھی نظر انداز کیاگیا اس پر بھی عدالت نے ناراضگی جتائی اب عدالت اس کیس میں 20دسمبر کو سزا سناسکتی ہے کلدیپ سینگر نے بچنے کیلئے پوری طاقت لگا دی ا س کا سیاسی دبدبہ بھی نہیں بچا سکا ۔
(انل نریندر)

15 دسمبر 2019

پانی پت پر سنگرام:کٹر مخالف ساتھ آئے

فلم پانی پت -دی گریٹ بیٹریل میں بھرت پور کے مہاراجہ سورج مل کو غلط طریقہ سے فلمانے پر پورے راجستھان میں ہنگامہ مچا ہوا ہے سیاست میں کٹر مخالف مانے جانے والے بڑے نیتا ایک آواز میں فلم کی مخالفت کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ اشوک گہولت ،سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے ،ناگورایم پی ہنومان بینی وال،مہاراجہ سورج مل کے آباءو اجداد و وزیر سیاحات وشیندر سمیت کئی لیڈروں نے فلم پر احتجاج کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے جب چاروں اپوزیشن لیڈر ایک رائے نظر آئے اس درمیان بھرتپور کے کئی قصبے ،بازار احتجاج میں بند رہے وہیں جے پور کے سنیما گھروں کے باہر مظاہرے ہونے کی خبریں مل رہی ہیں واضح ہو کہ جے پور کے 18سنیما ہالوں میں جمع کو یہ فلم ریلیز ہو گئی احتجاج کے چلتے 16سنیما گھروں نے اس کی نمائش روک دی اور آن لائن ٹریلر بھی کینسل کر دئے گئے فلم پر بھرتپور رپواس،بنہیر ،ڈیگ ،نگر میں بھی بازار بند رہے کئی جگہوں پر لوگوں نے جم کر مظاہرہ کیا ،وہاں کے وزیر سیاحات نے بتایا کہ ٹی آر پی کے لئے فلم میں غلط حقائق پیش کئے گئے اور اس کے خلاف عدالت میں فلم کو چیلنج کیا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ فلم میں مہاراجہ پر سین فلمانے پر جو ردعمل سامنے آرہا ہے ایسے حالات پیدا نہیں ہونے چاہیے تھے سینر بورڈ معاملے میں مداخلت کرئے ڈسٹی بیوٹر س کو جاٹ سماج کے لوگوں سے معاملے کوبات چیت سے حل کرنا چاہیے فلم بنانے سے پہلے کسی کی شخصیت کو صحیح پس منظر میں پیش کیا جائے فلم دیکھنے کے بعد راجستھان جاٹ سبھا کے صدر راجہ رام بھیل راجپوت کرنی سینا کے قومی صدر مہپال سنگھ مکرانا وغیرہ انجمنوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے فلم پات پر احتجاج کی آنچ دہلی میں بھی پہنچ گئی ہے منگلوار کو صبح لوک سبھا کمپلیکس میں فلم کا پوسٹر فاڑا گیا فلم پر پابندی لگانے کی مانگ کی گئی بینی وال نے لوک سبھا میں کہا کہ ماضی میں لوگوں کے جذبات اور آستھا کو خراب کرنے والی پندرہ فلموں پرپابندی لگائی گئی تھی ایسے میں پانی پت کو بھی بین کیا جانا چاہیے ۔

(انل نریندر)

آخر حافظ سعید پر کس گیا شکنجہ

پاکستان نے بدھوار کو آخری بار ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور جمعتہ الدوہ کے چیف حافظ سعید پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے مالی کاروائی ٹاسک فورس کے دباﺅ کے بعد لاہور کی دہشتگردی انسداد عدالت نے آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی سعید پر دہشتگردی کے خلاف مالی فراہمی کے معاملے میں الزامات طے کر دئے ہیں سعید کے علاوہ اس کے تین ساتھیوں پر بھی الزامات طے کئے گئے ہیں پنجاب پولس کے دہشتگردی انسداد محکمے نے 17جولائی کو سعید اور اس کے ساتھیوں پر ایف آئی آر درج کی تھی اورسعید کو گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ لاہور کی کورٹ لکھ پت جیل میں بند ہے ۔معاملے لاہور ،گجراوالہ اور ملتان میں اس کی مختلف مالی ٹرسٹ کی بھی نگرانی کی گئی اور ان ٹرسٹوں کے ذریعہ سے دہشتگردوں کو پیسہ دینے کے لے عطیات اکھٹے کر نے کے مقدمے درج کئے گئے ہیں پاکستان کی عدالت میں سعید کے خلاف الزامات طے ہوئے ہیں تو اب امکانات یہی ہے کہ اس کے پیچھے وہاں کی حکومت کی قوت ارادی کم اور بین الا اقوامی دباﺅ زیادہ رہا سنیچر کو اسی عدالت میں جس طرح کے حالات بنے اس سے یہ اندیشہ کھڑا ہو گیا تھا کہ حافظ سعید کو رعایت دینے کے لے زمین بنائی جا رہی ہے کیونکہ متعلقہ افسر انتہائی پرفائل معاملے کی سماعت میں بھی ایک معاون ملزم کو پیش کرنے میں ناکام رہے تھے ۔حافظ سعید اور دہشتگردی کے سلسلے میں شاید ہی کوئی ثبوت چھپا رہا خاص طور پر ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں الزام لمبے وقت سے مبینہ طور سے سامنے تھے اس واردات سمیت دوسری آتنکی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو حافظ سعید کی انجمنوں نے پیسے میہا کرائے تھے اور اہم سازشی بھی کہا تھا لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ جس حملے میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے اس کے ذمہ دار ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس پہل نہیں کی جبکہ بھارت کی جانب سے پیش کئے گئے ثبوت اس بات کے صاف گواہ تھے وہ حملہ پاکستان کی آتنی تنظمیوں کی طرف سے کروایا گیا تھا لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ اس کی حد میں آتنکی تنظیموں کو یا آتنکیوں کو پناہ دی جاتی ہے لیکن بڑھتے عالمی دباﺅ میں اس مسئلے پر پاکستان کو دفع میں آنا پڑا دیکھیں اب بھی ایمانداری سے پاک آگے بڑھتا ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر)

نربھیا کے قصورواروں کو پھانسی میں لگیں گے چھ گھنٹے

نربھیا معاملے کے قصورواروں کو پھانسی دینی کی تاریخ ایک بار پھر ٹل گئی ہے کیونکہ دو قصورواروں کے ذریعہ عرضی کی وجہ سے اب درندوں کو پھانسی 18دسمبر کے بعد ہی ممکن ہے سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو دونوں قصورواروں کی عرضیوں نے پھانسی کو لٹکا دیا ہے ۔امید ہے کہ یہ دونوں عرضیاں بھی سپریم کورٹ خارج کر دے گا بے شک ابھی پھانسی کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے لیکن تہاڑ جیل انتظامیہ نے اس کی پوری تیاری کر لی ہے پھانسی کے چار تختے تیار کئے گئے ہیں اور ان کا ٹرائل بھی ہو گیا ہے نربھیا معاملے کے چاروں قصورواروں ونے ،مکیش،پون،اکشے،تہاڑ جیل لائے جا چکے ہیں ۔ڈائرکٹر جنرل جیل سندیپ گوئل کا کہنا ہے کہ پھانسی کے لئے تیاریاں پوری کی جا رہی ہیں ٹرائل کے لئے تہاڑ جیل میں تمام ضروری سامان کا استعمال ہو رہا ہے ۔قصورواروں کی پھانسی کے لئے بکسر جیل سے رسیاں تہاڑ جیل آچکی ہیں جلاد کا نام بھی طے ہو گیا ہے انہوںنے کہا کہ ہم نے دو جلادوں کا انتظام کیا ہے ممکن ہے ایک ہی جلاد دے گا چاروں قصورواروں کی ہر 24گھنٹے صحت کی جانچ کی رہی ہے چھ سی سی ٹی وی کیمروں سے ان کی نگرانی ہو رہی ان کی کس سے اور کیا بات ہو رہی ہے وہ بھی ریکارڈ ہو رہی ہے ۔تہاڑ سے فون آتے ہی پانچ گھنٹے کے اندر جلاد تہاڑ پہنچ جائیں گے اترپردیش جیل سروس کے ڈائرکٹر جنرل آنند کمار نے کہا کہ تہاڑ جیل انتظامیہ نے دو جلاد مانگے ہیں قصورواروں کے لئے اگر ڈیتھ وارنٹ جاری ہوتا ہے تو پھانسی کی کارروائی پوری ہونے میں 6گھنٹے لگیں گے یہ پہلا موقعہ ہوگا جب تہاڑ جیل نمبر تین میں بنا پھانسی گھر اتنی ہی دیر کے لئے کھلا رہے گا اس دوران جیل نمبر تین بند رہے گی ۔قصورواروں کی جس دن پھانسی دی جاتی ہے اس دن صبح پانچ بجے قصوروار کو اُٹھا دیا جاتا ہے نہانے کے بعد قصورار کو پھانسی گھر کے سامنے کھلے احاطے میں لایا جاتا ہے یہاں جیل سپرین ٹینڈینٹ اور ڈپٹی سپرین ٹنیڈینٹ میڈیکل افسر سب ڈویزنل مجسٹریٹ اور سیکورٹی عملہ موجود رہتے ہیں جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجرسٹریٹ قصوروار سے ان کی آخری خواہش کے بارے میں پوچھتے ہیں عام طور پر پراپرٹی ہو وہ کسی کے نام کرنے یا کسی اپنے عزیز کو آخری خط لکھنے کی بات سامنے آتی ہے اس وقت قریب 15منٹ کا وقت قصوروار کو دیا جاتا ہے اس کے بعد جلاد قصوروار کو کالے کپڑے پہناتا ہے اس کے ہاتھ کو پیچھے کر کے رسی یا ہتھ کڑی سے باندھ دیا جاتا ہے یہاں سے قریب سو قدم کی دوری پر بنے پھانسی گھر پر قیدی کو لے جانے کی کارروائی شروع ہوتی ہے وہاں جلاد اس کے منھ پر کالے رنگ کا کپڑا باندھ کر گلے میں پھندا ڈالتا ہے اس کے بعد قصوروار کے پیروں کو رسی سے باندھ جاتا ہے جب جلاد اپنے انتظام سے مطمئن ہو جاتا ہے تب وہ جیل سپرن ٹینڈنیٹ کو آواز دے کر بتاتا ہے کہ اس کے انتظام پورے ہو چکے ہیں آگے کے لے حکم دیں جب جیل سپری ٹینڈینٹ ہاتھ ہلا کر اشارہ کرتے ہیں تو جلاد لیور کھینچ لیتا ہے اس کے دو گھنٹے بعد میڈیکل افسر پھانسی گھر کے اندر جا کر یہ یقینی کرتے ہیں کہ پھندے پر جھول رہے شخص کی موت ہوئی ہے یا نہیں اس کے بعد میڈیکل افسر ڈیتھ سرٹی فیکٹ جاری کرتا ہے تب پھانسی کی کارروائی مکمل ہو جاتی ہے اس خانہ پوری میں تین گھنٹے لگ جاتے ہیں تہاڑ جیل گھرنمبر تین میں جو پھانسی گھر بنا ہے اس میں ایک بار میں ابھی تک دو قصورواروں کو پھانسی پر لٹکانے کی سہولت ہے ذرائع نے بتایا کہ نربھیا کے قصوراروں کے خاص طور پر لمبا تختہ بنایا گیا ہے ۔جس میں چاروں کو ایک ساتھ کھڑا کر کے پھانسی دی جا سکے اس طرح چاروں قصوراروں کو پھانسی دینے میں قریب چھ گھنٹے لگ جائیں گے ۔

(انل نریندر)