Translater
29 فروری 2024
روسی فوج میں ہندوستانی یوتھ !
کچھ ہندوستانی نوجوان یہ سوچ کر مشکل میں پھنس گئے کہ روس جاکر وہ لاکھوں روپے کما سکیں گے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ ایجنٹوں نے انہیں نوکری کے نام پر بلایا اور پھر ان کی بھرتی فوج میں کروا دی ۔حالیہ دنوں میں کرناٹک ،گجرات ،مہاراشٹر ،جموں وکشمیر اور تلنگانہ سے 16 لوگ روس گئے ہیں ۔حالیہ دنوں میں خبریں آئیں کہ روس یوکرین جنگ میں روسی فوجیوں کیساتھ ہندوستانی شہری بھی ہیں جو ان کے ساتھ جنگ کے میدان میں تعینات ہیں ۔روس میں پھنسے لوگوں کے مطابق ایجنٹوں نے ان سے کہا تھا کہ انہیں روس میں ہیلپر اور سیکورٹی سے جڑی نوکریاں دی جائیں گی ۔فوج میں نہیں اس نیٹورک میں دو ایجنٹ روس میں تھے اور دو بھارت میں ۔فیصل خان نامی ایک اور ایجنٹ دوبئی میں تھا جو ان چاروں ایجنٹوں کے کنوینر کے طور پر کام کررہے تھے ۔فیصل خان بابابلاک نام سے ایک یوٹیوب چلاتا ہے ۔وہ جو ویڈیو پوسٹ کررہے ہیں ان میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس میں ہیلپر کے طور پر کام کراچھی کمائی کی جاسکتی ہے ۔اس طرح وہ لڑکوں کو ان نوکریوں کی طرف راغب کرتے ہیں ۔نوکری کی تلاش رہے لڑکوں کیلئے ویڈیو میں فون نمبر دئیے گئے ہیں جہاں وہ ان سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں ۔ا ن ایجنٹوں نے کل 35 لوگوں کو روس بھیجنے کی یوجنا بنائی تھی ۔پہلے بیچ میں تین لوگوں کو 9 نومبر 2023 کو چنئی سے شارجا بھیجا گیا ۔12 نومبر کو روس کی راجدھانی ماسکو لے جایا گیا ۔16 نومبر کو فیصل خان نے 6 ہندوستانیوں کو اور پھر 7 ہندوستانیوں کو روس پہونچایا ۔ان سے کہا گیا تھا کہ انہیں ہیلپر کے طور پر کام کرنا ہوگا ۔فوجیوں کے طور پر نہیں ۔کچھ دنوں کی ٹریننگ دی گئی جس کے بعد انہیں 24 دسمبر 2023 کو فوج میں شامل کر لیا گیا ۔یہ معاملہ تب سامنے آیا جب روس گئے لڑکوں کا لمبے عرصے تک اپنے گھر والوں سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا ۔اور حالیہ دنوں میں ان کے کچھ ویڈیو سامنے آئے جن میں یہ لڑکے مایوسی میں مدد مانگتے نظر آئے ۔دو ویڈیو وائرل بھی ہوئے ۔ایک ویڈیو میں تلنگانہ کے سفیان اور کرناٹک کے سید الیا س حسین ،محمد ثمیر احمد کا کہنا ہے کہ ہمیں کہ سیکورٹی ہیلپر کے طور پر نوکری دی گئی تھی لیکن یہاں روسی فوج میں شامل کر لیا گیا ۔روسی اکثر ہمیں فرنٹ لائن تک لے کر آئے ۔ہمیں یہاں جنگ کے میدان میں تعینات کر دیاگیا ۔بابا بلا ک کے ایجنٹ نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ہندوستانیوں کو جھانسا دے کر روس لے جایا گیا ہے پھر انہیں جنگ لڑنے کیلئے مجبور کیاجا رہا ہے ۔سیکورٹی اسسٹنٹ اسامیوں پر بھرتی کرائے جانے کی بات کہہ کر ہندوستانیوں کو یوکرین روس سرحد پر تعینات کرنے کی دھوکہ دھڑی میں کئی ہندوستانی ایجنٹ شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق یوکرین کے ساتھ جنگ میں روس کی جانب سے قریب 100 ہندوستانی لڑکے لڑ رہے ہیں ۔بابا بلاک کے مطابق ان یجنٹوں نے ان سے فی امیدوار ڈھائی لاکھ روپے لئے ۔اور جسے معین الدین کے کھاتہ میں ٹرانسفر کئے گئے ۔یوکرینی فوج کے ڈرون حملے میں پہلی بار ایک ہندوستانی لڑکے کی موت ہوئی ہے ۔گجرات کے سورت کے 28 سالہ حیات منگا کو سیکورٹی اسسٹنٹ میں پھنسا دیا گیا تھا ۔ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس کے سر میں کئی چوٹیں آئیں۔پتہ چلا ہے روس یوکرین سرحد کے ڈونسٹک علاقہ میں تھے ۔جہاں بدھوار کو ڈرون حملہ ہوا تھا اس حملے میں ہیمل کے سر میں چوٹیں آئیں جس سے ان کی موت ہو گئی ۔روس میں پھنسے کرناٹک کے باشندے ثمیر احمد نے بتایا جب ڈرون حملہ ہوا تب میں بھی وہاں تھا ۔ہم کھدائی کررہے تھے اسی وقت حملہ ہوا ۔میں بھارت سرکار سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمیں جلد سے جلد بچائیں اور ان ایجنٹوں کے خلاف کاروائی کریں جنہوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے ۔
(انل نریندر)
دہلی کی سیٹوں پر رضامندی تو بن گئی ہے لیکن ۔۔؟
لوک سبھا چناو¿ میں ووٹ تقسیم کو روکنے مقصد سے کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے دہلی کی ساتوں سیٹوں پر ہاتھ ملا لیا ہے لیکن چناو¿ جیتنے کیلئے دونوں ہی پارٹیوں کو ابھی کئی اور چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔دونوں پارٹیوں نے جیت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ راہ آسان دکھائی نہیں پڑتی ۔چونکہ 2019 کے اعداد شمار بتاتے ہیں کہ بھاجپا کو کل جتنے ووٹ ملے وہ عآپ اور کانگریس کو ملے ووٹوں سے 16.3 فیصدی زیادہ ہیں ۔اتحاد کے تحت دہلی میں کانگریس کو نارتھ ایسٹ ،چاندنی چوک اور شمال مغربی سیٹ ملی ہے ۔جبکہ کانگریس کو تین میں سے دو سیٹوں میں مسلم اکثریتی سیٹ کا خیال رکھا گیا ہے ۔اعداد شمار بتاتے ہیں کہ یہ ووٹ بینک 2019 کے لوک سبھا اور 2020 کے اسمبلی اور پھر 2022 کے ایم سی ڈی چناو¿ میں کانگریس کے ساتھ جڑا رہا ۔نارتھ ایسٹ سیٹ پر مصطفیٰ آباد ،سیلم پور اور بابر پور مسلم اکثریتی اسمبلی بیش قیمتی سیٹیں ہیں اس پارلیمانی سیٹ پر 23 فیصدی اور چاندنی چوک میں 16 فیصدی سے زیادہ ووٹ ہیں ۔عام آدمی پارٹی نے جو چار سیٹیں لی ہیں اس کے پیچھے الگ الگ وجوہات ہیں ۔نئی دہلی پارلیمانی سیٹ پر خود وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کا اسمبلی حلقہ ہے ۔دہلی سرکار کے دو وزیر اسی لوک سبھا سیٹ سے نمائندگی کرتے ہیں اسی طرح ساو¿تھ دہلی میں کانگریس کے پاس کوئی مضبوط لیڈر نہیں تھا تو عآپ نے یہ سیٹ اپنے پاس رکھی ۔آتشی ساو¿تھ دہلی کو ٹے کی وزیر ہیں ۔اس کے علاوہ مشرقی دہلی پارلیمانی سیٹ بھی عآپ کے پاس ہے ۔یہاں پر منیش سسودیا کا اسمبلی حلقہ کے علاوہ کونڈلی ، ترلوکپوری جیسی ریزرو سیٹیں بھی ہیں ۔جہاں پر پارٹی مضبوط پوزیشن میں ہے ۔اگر ووٹ فیصد پر نظر ڈالیں تو نئی دہلی لوک سبھا سیٹ پر 2019 میں بھاجپا کی مناکشی لیکھی کو 54.77 فیصدی ووٹ ملا تھا جبکہ کانگریس کے اجے ماکن کو 26.91 فیصد ووٹ ملے تھے ۔اور عآپ کے برجیش گوئل کو 16.33 فیصد ووٹ ملے تھے ۔کانگریس اور عآپ کے ووٹ فیصد کو ملا بھی دیں تو بھاجپا سے کم رہا ۔وہیں ویسٹ دہلی میں بھاجپا کے پرویش ورما کو 60.05 فیصد ووٹ ملے جبکہ کانگریس کے مہا ول مشرا کو 19.92 فیصد ووٹ ملے ۔عآپ کے ولبیر جاکھڑ کو 17.00 فیصد ساو¿تھ دہلی لوک سبھا حلقہ میں بھاجپا کے رمیش بدھوڑی کو 56.57 اور کانگریس کے وجیندر کو 13.5 اور عآپ کے راگھو چڈھا کو 26.34 فیصد ووٹ ملے ۔نارتھ ویسٹ میں بھاجپا کے ہنسراج ہنس 60.48 کانگریس کے راجیش للوٹھیا کو 6.88 اور عآپ کے گنجن سنگھ رانا 21.11 فیصد ووٹ ملے ۔نئی دہلی حلقہ سے بھاجپا کے منوج تیواری 53.90 فیصد ،کانگریس کی شیلا دکشت کو 28.85 فیصد ووٹ ملے ۔عآپ کے نیتا دلیپ پانڈے کو 13.06 فیصد ووٹ ملے ۔مشرقی دہلی سے بھاجپا کے گوتم گمبھیر کو 55.35 کانگریس کو اروندر سنگھ لولی کو 24.24 عآپ کی آتشی کو 17.44 فیصد ووٹ ملے ۔چاندنی چوک میں بھاجپا کے ڈاکٹر ہرش وردھن کو 52.94 فیصد ،کانگریس کے جے پی اگروال کو 29.67 فیصد اور عآپ کے پنکج گپتا کو 14.74 فیصد ۔اتحاد تو ہو گیا ہے لیکن ووٹ فیصد کیسے بڑھائیں گے ۔عآپ پارٹی اور کانگریس اتحاد ؟ کو اس پر خاص توجہ دینی ہوگی ۔اگر یہ اتحاد بھاجپا کو کوئی چنوتی دینا چاہتا ہے تو دونوں پارٹیوں کے ورکروں میں تال میل بنانے کی چنوتی ہوگی ۔یہی نہیں دونوں پارٹیوں کے نیتا ایک دوسرے کے امیدواروں کو کامیاب بنانے میں کس حد تک اپنا رول نبھائیں گے اس پر بھی چناو¿ نتائج متا¿ثر ہوں گے ۔کل ملا کر اتحاد تو ہو گیا ہے لیکن اسے مو¿ثر ڈھنگ سے صحیح معنوں میں زمین پر اتارنے کی چنوتی ضرور ہوگی ۔
(انل نریندر)
27 فروری 2024
جس فیصلے پر منی پور جلا وہ منسوخ !
قریب 11 ماہ قبل منی پور ہائی کورٹ کے جس فیصلے کے بعد منی پور میں دنگا بھڑکا اور 200 سے زائد لوگوں کی جان گئی اور ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ۔50 ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنی جان بچانے کیلئے اپنا گھر چھوڑنا پڑا اسی فیصلے کو ہائی کورٹ نے ترمیم کر دیا ہے ۔جمعرات کو جسٹس گول مئی اور فل شل کی بنچ نے پچھلے حکم سے ایک پیراگراف ہٹا دیا انہوں نے کہا یہ پیراگراف سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے موقف کے خلاف تھا ۔دراصل 27 مارچ 2023 کو اپنے فیصلے میں جسٹس ایم وی مرلی دھرن نے ایک پیراگراف لکھا تھاجس میں انہوں نے منی پور سرکار سے کہا تھا کہ میتئی فرقہ کو ایس ٹی زمرے میںشامل کرنے پر غور کریں ۔اس تجویز کے بعد ریاست میں کوکی فرقہ ناراض ہوا اور 3 مئی سے تشدد بھڑکا جو ابھی تک جاری ہے ۔تشدد کے درمیان ہی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی عرضی لگائی گئی جس پر اب فیصلہ آیا ہے ۔ریاست کی 53 فیصدی میتئی آبادی ہے جو ہندو ہے اور وادی میں رہتے ہیں ۔منی پور کی راجدھانی امپھال میں ہی 57 فیصدی آبادی بستی ہے ۔باقی 43 فیصدی پہاڑی علاقوں میں رہتی ہے ۔غور طلب ہے کہ میتئی کو ایس ٹی کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد کوکی قبائلی والے علاقے یوری چند پور کشیدگی کی شروعات ہو گئی اور ریاست میں پر تشدد تحریک پھیل گئی تھی جو اس فیصلے کی مخالفت کر رہے تھے ۔ان تشدد جھڑپوں میں اب تک 200 سے زیادہ لوگوں کی جان جا چکی ہے ۔ہزاروں بری طرح زخمی ہیں جن میں زیادہ تر کوکی بتائے جاتے ہیں ۔اس درمیان لگاتار تشدد اور بند کے چلتے ریاست میں امن وامان بری طرح متاثر ہوا اب نارتھ ایسٹ کی اس ریاست میں خونی تشدد جاری ہے ۔جسٹس ایفل شل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ حکم قانون کی غلط تشریح کے تحت پاس کیا گیا تھا ۔کیوں کہ عرضی گزار دلیل اور قانون کے بارے میں اپنی غلط فہمی کے سبب ریٹ عرضی کی سماعت کے وقت عدالت کی مناسب مدد کرنے میں ناکام رہے ۔منی پور میں پچھلے سال 3 مئی سے کوکی برادری اور میتئی فرقہ کے درمیان لڑائی جاری ہے ۔قریب 32 لاکھ کی آبادی والے اس چھوٹی سی ریاست میں میتئی فرقہ ایس ٹی کا درجہ مانگ رہا ہے تاکہ وہ ایس ٹی کی اکثریتی علاقو ں میں زمین کا حق حاصل کر سکے اس تشدد کی وجہ سے کوکی برادری اور میتئی فرقہ کے درمیان ایسی خلیج پیدا ہو گئی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بات کو لیکر خدشات کا ماحول پایا جاتا ہے ۔کہ کہیں پردیش میں لگی آگ میں گھی ڈالنے کا کام نہ کردے ۔حالانکہ کورٹ کے اس تازہ حکم کے بعد پردیش میں اب تک کسی طرح کا رد عمل دکھائی نہیں دیا ہے ۔لوک سبھا چناو¿ قریب آنے کے سبب سرکار کو ہوشیار رہنے کی ضرورت پڑی ہے ۔دیکھا جائے تو کورٹ کے غلط فیصلے کا اصل خمیازہ شہریوں کو ہی بھگتنا پڑرہا ہے ۔ریاست کئی مہینوں سے شورش ہے اور احتجاج کرنا جنتا کا حق ہے ۔یہ سرکار کی نیک نیتی پر ہے کہ وہ فوری طور پر فیصلے لیں اور پریشان جنتا و غیر سماجی عناصر کو قابو کرتے ہوئے پر امن طریقہ سے ثالثی کی جانی چاہیے ۔دیر صحیح آخر کار عدالت نے خود کے فیصلے کو پلٹ کر ریاست میں امن بحال کرنے کا اہم ترین قدم اٹھایا ہے ۔
(انل نریندر)
بسپا ممبران پارلیمنٹ میں بے چینی !
لوک سبھا چناو¿ کو لیکر مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی یعنی بسپا کے ممبران پارلیمنٹ میں بے چینی کی خبریں آرہی ہیں ۔انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اتر پردیش میں بسپا کسی اتحاد کی فی الحال حصہ نہیں ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مایاوتی کی پارٹی کے کئی ایم پی دوسری پارٹیوں کے رابطے میں ہیں ۔2019 لوک سبھا چناو¿ میں بسپا نے یوپی میں 10سیٹیں جیتی تھیں ۔ریاست میں بی جے پی کے بعد دوسری سب سے بڑی پارٹی تھی ۔سپا نے غازی پور سے افضال انصاری کو ٹکٹ دے دیا ہے ۔افضال انصاری 2019 میں بی ایس پی کے ٹکٹ پر لوک سبھا چناو¿ جیتے تھے ۔امروہہ سے ایم پی دانش علی کو پارٹی نے پہلے ہی معطل کر دیا تھا ۔مانا جار ہا ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں ۔دانش علی راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران منی پور میں بھی موجود تھے ۔بسپا ممبران پارلیمنٹ کی مشکل سپا نے بدھوار کو جو سیٹ شیئرنگ کا فارمولہ شیئر کیا ہے اس میں امروہہ سے کانگریس چناو¿ لڑ سکتی ہے ۔دانش علی زمین پر سرگرم بتائے جار ہے ہیں ۔رپورٹ میں لکھا ہے مایاوتی مشکل میں ہیں ۔ایسے میں بسپا کے 8 ایم پی یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ ان کو ٹکٹ ملے گا یا بھی نہیں ۔ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ ممبران پارلیمنٹ سے بسپا نے اب تک چناو¿ تیاریوں کے سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے ۔بسپا کے ایم پی سپا بی جے پی اور کانگریس میں امکانات تلاش رہے ہیں ۔اس بارے میں پوچھے جانے پر پارٹی کے سینٹرل کوآرڈینیٹر رام جی گوتم نے رائے زنی کرنے سے انکار کر دیاہے ۔بسپا کے ایم پی نے کہا کہ مجھے تنظیم کی میٹنگوں میں بھی بلایا نہیں جاتا اس لئے مجھے دوسرے متبادلوں کو بھی دیکھنا ہوگا ۔جونپور سے بسپا ایم پی شیام سنگھ یادو دسمبر ،2022 میں راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوئے تھے ۔حالانکہ بعد میں یادو نے کہا وہ نجی حیثیت سے یاترا میں شامل ہوئے تھے ۔ذرائع کے حوالے سے بتایا جارہا ہے بسپا کا کم سے کم ایک ایم پی راشٹریہ لوک دل یعنی آر ایل ڈی کے رابطے میں ہے ۔مغربی یوپی سے ایک اور بسپا ایم پی بی جے پی کے رابطے میں ہے ۔ایک اور ایم پی کے ساتھیوں نے بتایا کہ وہ بی جے پی کی منظوری کا انتظار کررہے ہیں ۔ساتھیوں نے بتایا کہ اگر بسپا بی جے پی دونوں نے ٹکٹ نہیں دیا تو وہ آزاد امیدوار کے طور پر چناو¿ لڑیں گے ۔لال گنج لوک سبھا سیٹ بسپا ایم پی سنگیتا آزاد کے پتی سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ بولے کہ بہن جی کے قاعدے اصول ہیں وہ اسی کے مطابق کام کرتی ہیں ۔پچھلے سال سنگیتا آزاد اپنے شوہر کے ساتھ پی ایم مودی سے ملی تھیں ۔پھر امبیڈکر نگر سے ایم پی رشتے پانڈے نے کہا کہ ابھی تو میں جہاں ہوں وہیں ہو ں میں اپنے نیتا کے آدیش کا انتظار کررہا ہوں ۔2012 کے بعد سے بسپا پارٹی میں ہوں حالانکہ 2019 میں 10 سیٹیں جیت کر مایاوتی نے اپنی طاقت دکھائی تھی ۔اس چناو¿ میں بسپا سپا کے ساتھ چناوی میدان میں اتری تھی ۔2014 میں بسپا جب اکیلی لڑی تھی جب وہ ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی تھی ۔2019 کے لوک سبھا چناو¿ کے بعد بسپا نے سپا سے اپنی اپنی راہیں الگ کر لی تھیں ۔اور 2022 اسمبلی چناو¿ میں اکیلے میدان میں تھیں ۔اس چناو¿ میں بسپا صرف ایک سیٹ جیت سکی تھی ۔مایاوتی نے ابھی اپنے پتے نہیں کھولے ہیں ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ وہ چناو¿ کی تاریخوں کے اعلان کا انتظار کررہی ہیں ۔ان کا اعلان ہوتے ہیں وہ اپنا پلان بنائیں گی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...