Translater

04 جون 2011

با با رام دیو بنام انا ہزارے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

4 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بابا رام دیو اپنا جن آندولن 4 جون سے کرنے پر اڑیل ہیں۔ حالانکہ حکومت ہند نے ہمت نہیں ہاری ہے اور بابا کے سامنے سرنڈر کر کے پرنام کرلیا ہے لیکن بابا ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔ ایک نہیں کئی وزیر بابا کو منانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن بابا کی تیاریاں زور شور سے چل رہی ہیں جو آج پوری کر لی جائیں گی۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے جارہے بابا کے ستیہ گرہ کی تیاریوں کو سن کر میں حیران رہ گیا۔ بابا کے لئے اسپیشل ٹینٹ لگا ہے۔جس میں صوفہ، کولر، ایل سی ڈی، ڈی ٹی ایم کنکشن کی سہولت ہے۔ ستیہ گرہ کیلئے پنڈال ساؤنڈ اور اسٹیج کیلئے کاریگر ہری دوار اور رشی کیش سے بلائے گئے ہیں۔ بابا جس اسٹیج پر بیٹھیں گے اس پر ایک بار میں 250 لوگ بیٹھ سکیں گے۔ تحریک کے دوران دیش بھر میں قریب ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ لوگوں کے آنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔ اس کے لئے خصوصی پنڈال بنایاگیا ہے۔ پنڈال میں قریب 800 پنکھے،100 کولر لگے ہوں گے۔ پورے پنڈال میں 750 لاؤ اسپیکر لگے ہوں گے۔ ایک طرف بابا کے حمایتیوں میں زبردست جوش ہے تو دوسری طرف انا ہزارے نے بھی اعلان کردیا ہے کہ وہ بھی بابا رام دیو کے ساتھ ہیں۔ بیرونی ممالک میں جمع کالی کمائی دیش میں لانے اور اسے قوم کی املاک اعلان کروانے والے بابا رام دیو کو انا ہزارے نے کہا کہ وہ سرکار کے جھانسے میں نہ آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ5 جون کو بابا سے ملنے جائیں گے۔ انا نے ممبئی سے بھیجے پیغا م میں کہا کہ سرکار وعدے تو کرتی ہے لیکن اسے پورا نہیں کرتی۔ سرکارنے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ جب بابا سے ملیں گے تو ان سے کرپشن کے خلاف ایک ساتھ لڑائی لڑنے کی بات کریں گے۔ انا کا کہنا ہے کہ جب وہ مرن برت پر بیٹھے تھے تو سرکار نے ان کو منانے کے لئے پہلے تو سارے وعدے مان لئے لیکن بعد میں سب سے پلٹ گئی۔ ویسے بھی انا اور بابا کی شخصیت میں فرق ہے۔
منموہن سرکار بابا کے آگے سرخم کیوں ہورہی ہے؟ جہاں تک ہم سمجھ پائے ہیں بابا کے تو اشو انا کے مقابلے سرکار کے لئے آسان ہیں، انا کا لوک پال بل بدعنوانی مٹانے کیلئے انتہائی سخت قدم اٹھانے کے لئے تھا جبکہ بابا تو کالی کمائی دیش میں واپس لانے کی مانگ کررہے ہیں۔ سرکار اس لئے بھی بابا کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ بابا کے پیچھے آر ایس ایس اور بھاجپا ہیں۔ اگر انہیں ایک اور بھاجپا سے توڑنا ہے تو تھوڑا دکھاوا تو کرنا ہی پڑے گا تبھی تو بھارت سرکار کے چار چار وزیر بابا کو منانے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ بابا کی تحریک سے بھارت سرکار زیادہ خوفزدہ ہے ۔ دہلی کے رام لیلا میدان کے علاوہ بابا کی تحریک دیش کے 624 ضلعوں میں ایک ساتھ چلے گی۔سرکار کو ڈر ہے کہ اس میں کروڑوں لوگ شامل ہوسکتے ہیں اور ان کو اپنی حمایت دے سکتے ہیں۔ کہیں یہ 1974 کی جے پی تحریک کی طرح تحریک نہ بن جائے؟ سرکار اچھی طرح جانتی ہے کہ دیش میں بدعنوانی، مہنگائی، بیروزگاری، بڑھتی قیمتوں سے لوگ بری طرح پریشان ہیں اور وہ اپنا غصہ نکالنے کا بہانا تلاش ہرے ہیں۔ کہیں جنتا کو بابا کی تحریک وہ موقعہ نہ دے دے۔ اس لئے مرکزی سرکار دن رات یہ کوشش کررہی ہے کہ بابا اپنی تحریک ٹال دیں۔ بابا کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ انہوں نے انا ہزارے کا ڈرامہ دیکھا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح ان کی سرکار نے ہوا نکال دی ہے۔ بابا اور ان کے حمایتیوں کی یہ کوشش ہوگی کہ 4 جون سے رام لیلا میدان میں ’اپ ٹانگ یوگ کیمپ‘‘ ہی نہ لگنے دیا جائے بلکہ بھارت سرکار کو جھکانے کیلئے سارا دباؤ یہیں سے پڑے۔ باقی دیکھیں بابا کی ریلی میں کیا ہوتا ہے؟
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, Vir Arjun

کنی موجھی ،اے راجا کے بعد دیا ندھی مارن کا نمبرآئے گا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

4 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
برسوں تک شری رام کو گالی دینے والے ایم کروناندھی اور ان کے خاندان نے تاملناڈو اور مرکز میں مغلوں کی طرح اقتدار کا فائدہ اٹھایا ہے اور اتنا پیسہ بنالیا ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔سر پر جب شری رام کی مار پڑتی ہے تو اچھے اچھے دھرندرچت ہوجاتے ہیں۔ کروناندھی کے خاندان کے بھی برے دن شروع ہوگئے ہیں۔ سابق وزیر مواصلات اے ۔ راجہ کے بعد ان کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی کنی موجھی کے بدعنوانی کے الزامات میں جیل جانے کے بعد ان کے خاندان کا ایک اور فرد مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا اب نمبر آنے والا ہے۔ ان کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پبلک لیٹی گیشن نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ دیاندھی مارن کی جانب سے ملیشیا کے میکسز گروپ کی حمایت لئے جانے سے متعلق دستاویز اسے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس گروپ نے مئی2004 سے مئی 2007 کے درمیان مارن کے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہنے کے دوران چنئی کی ٹیلی کام کمپنی ایئر سیل کو خرید لیا تھا۔ الزام ہے کہ وزیر مواصلات رہتے ہوئے شیوا گروپ کی کمپنی ایئر سیل کو امریکی لائسنس دینے کا معاملہ اٹکا دیا تھا۔ ٹیلی کمیونی کیشن وزارت کے رویئے سے ناراض ہوکر اس کمپنی کے مالک سی شیو شنکر ایئر سیل کو میکسز گروپ کو بیچنے کے لئے مجبور ہوگئے تھے۔ میکسز گروپ کے مالک ملیشیا کے بزنس ٹائیکون ٹی آنند کرشن ہیں۔ الزام ہے کہ میکسز گروپ کے ایئر ٹیل کے بعد مارن خاندان کے زیر کنٹرول سن ٹی وی نے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس کی20 فیصد حصے داری خرید لی۔ مارن کے عہد میں ایئرسیل کو 14 لائسنس دئے گئے۔
ادھر ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے قومی ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں 2001 ء سے ہوئی دھاندلیوں کی پڑتال کے لئے ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس سے اے۔ راجا سے پہلے رہے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر دیا ندھی مارن بھی جانچ کے دائرے میں آگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے تہلکہ میگزین نے اس معاملے کا خلاصہ کیا تھا۔ حالانکہ مارن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے میگزین کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان دھارنی مشر نے کہا کے سی بی آئی نے 2001 سے2007 کے درمیان ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں ہوئی جعلسازیوں کے تعین کے لئے نامعلوم لوگوں کے خلاف یہ جانچ رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ اس کا مقصد اس وقت کی اٹل بہاری واجپئی سرکار کے ذریعے پاس کردہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ اسکیم کی سہولت کا ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں تعمیل ہوئی ہے یا نہیں یہ معلوم کرنا ہے۔
2006 ء میں جب دیا ندھی مارن ٹیلی کمیونی کیشن وزیر ہوا کرتے تھے تب انہوں نے اپنے خاندان کے سن ٹی وی نیٹورک کو فائدہ پہنچانے کیلئے اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں عہدے کا بیجا فائدہ اٹھایا تھا۔ دیا ندھی مارن کے عہد میں ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر میں درپردہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 49 فیصدی سے بڑھا کر74 فیصدی کردی گئی تھی۔ ایئر سیل میں 74 فیصدی شیئر ہولڈر میکسز نے اپنی کمپنی ایسٹرو کے ذریعے مارن بھائیوں کے سن ٹی وی نیٹورک نے600 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کی سرمایہ کاری کی تھی۔مارن نے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ایئر سیل کے لائسنس اور اسپیکٹرم سے متعلق درخواستوں کو منظوری نہیں دی تھی۔ اس کے چلتے ایئر سیل کے مالک شیو شنکر نے مارن خاندان کے قریبی میکسز کو اپنے 74 فیصدی شیئر بیچ دئے تھے۔ سی بی آئی افسران کا ماننا ہے کہ شیو شنکر پر اس سودے کو لیکر بھاری دباؤ تھا۔
Tags: 2G, A Raja, Aircel, Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Sun TV, Vir Arjun

03 جون 2011

ایک اوربہادر قلم کا سپاہی آتنک کی بلی چڑھا

 
Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
3  جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ایک اور قلم کا سپاہی آتنکواد کی بلی چڑھ گیا۔ پاکستان کا ایک بہادر صحافی سید سلیم شہزاد ہفتے بھر سے لا پتہ تھا۔ منگلوار کو پنجاب صوبے سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔ لاش کی حالت دیکھ کر لگ رہا ہے کہ مارنے سے پہلے اسے بری طرح سے پیٹا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے سے دو دن پہلے شہزاد نے ایک مضمون میں پاکستانی بحریہ کے کچھ افسروں اور آتنکی تنظیموں القاعدہ کی سانٹھ گانٹھ کا ذکر کیا تھا۔ سید سلیم شہزاد40 سال کے تھے۔ وہ اپنے پیچھے بیوی عقیلہ، دو لڑکے فحاد14 سال، اورسید8 سال و ایک بیٹی امینہ 12 سال کو چھوڑ کر آتنک واد کی بلی چڑھ گئے۔شہزاد ایشیا ٹائمز( آن لائن) اخبار ہانگ کانگ کے پاکستانی بیورو چیف تھے۔ شہزاد نے دو کتابیں ان سائٹ القاعدہ اینڈ طالبان دی بی آرڈ بن لادن اینڈ 9/11 بھی لکھی تھیں۔ شہزاد نے کچھ وقت کیلئے ٹائمس آف انڈیا کے لئے بھی رپورٹنگ کی تھی۔
سید سلیم شہزاد کی لاش منگلوار صبح لاہور سے قریب200 کلو میٹر اولم قصبے کے سرائے عالمگیر علاقے سے ایک نہر سے ملی۔ پاس ہی میں اس کی کار لاوارث حالت میں کھڑی ملی اور لاش پر اذیتوں کے نشان صاف تھے۔ اطالوی نیوز ایجنسی کے لئے بھی کام کرنے والے شہزاد اکثر اپنی رپورٹنگ میں پاکستان۔ افغانستان کے دہشت گردوں ، پاکستانی اداروں کے ساتھ ان کے روابط کے بارے میں لکھتے رہتے تھے۔ لاپتہ ہونے سے2 دن پہلے شہزاد نے اپنے ایک آرٹیکل میں پاکستانی بحریہ کے کچھ افسروں اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سانٹھ گانٹھ کے بارے میں مفصل طور پر ذکر کیا تھا۔ شہزاد آئی ایس آئی کے نشانے پر کافی وقت سے تھے۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی آئی ایس آئی دے چکی تھی۔ ایک چینل جی او ٹی وی نے ایک کالی سفید تصویر دکھائی جس میں شہزاد کے چہرے پر ٹارچر کئے جانے کے نشان صاف دکھائی دے رہے تھے۔ 27 مئی کو شہزاد نے آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا’’ القاعدہ ہیڈ وانڈ آف پاکستان اسٹرائک سیریا‘‘ ٹائمس آن لائن میں یہ لکھا گیاتھا ۔ اس مضمون میں انہوں نے بتایا تھا کہ پی این ایس مہران بحری اڈے پر 22 مئی کو القاعدہ کا جو حملہ ہوا تھا تب القاعدہ اور بحریہ کے افسروں کے درمیان بات چیت کے ٹوٹنے کے بعد ہوا تھا۔ القاعدہ چاہتا تھا کہ پاکستانی بحری افسر ان کے کچھ حمایتی جو پاکستانی بحریہ کے قبضے میں ہیں انہیں چھوڑا جائے۔ القاعدہ آتنکی روابط کے چلتے گرفتار کئے گئے بحریہ کے ملازمین کی رہائی چاہتا تھا۔ ایتوار کی شام کو اسلام آباد میں واقع اپنے گھر سے نکلنے کے بعد یہ صحافی لا پتہ ہوگیا تھا۔ وہ بحریہ کے مہران بحری اڈے پر آتنکی حملے سے متعلق ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لینے کے لئے ’’دنیا‘‘ نیوز چینل کے دفتر جا رہے تھے۔
پاکستانی میڈیا میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں اغوا کرلیا ہے۔ کئی انٹر نیشنل صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق تنظیموں نے پاک سرکار سے شہزاد کا پتہ لگانے کی اپیل کی تھی۔ شہزاد کے قتل کی ذمہ داری ابھی تک کسی دہشت گرد تنظیم نے نہیں لی ہے۔ شہزاد کی موت سے پتہ چلتا ہے پاکستان میں قلم کے سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر لیکر زندہ ہیں۔ ہم مسٹر سید سلیم شہزاد کو سلام کرتے ہیں اور ان کے کنبے کے افراد کو کہنا چاہتے ہیں کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں تنہا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Islamabad, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Vir Arjun

بھلر تو بہانہ ہے اصل نشانہ اسمبلی انتخابات ہیں


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
3 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے دیش میں سلامتی اور قانون و نظم سبھی کا ووٹ بینک پالیٹکس کباڑہ کررہی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک آتنک وادی صرف آتنک وادی ہوتا ہے جس کا واحد مقصد ہوتا ہے اپنے مقصد کی تکمیل۔ اس کے لئے وہ نہ تو سامنے والے کے مذہب کو دیکھتا ہے اور نہ ہی شخصیت کو۔ایک دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان کا مذہب ہے تو بندوق یا بارود۔ تازہ تنازعہ دویندر سنگھ بھلر کو لیکر ہے۔ صدر کی جانب سے دویندر پال سنگھ بھلر کی رحم کی عرضی خارج کئے جانے کے بعد کچھ سیاسی پارٹیوں کو آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی اپنی سیاست چمکانے کا موقعہ مل گیا ہے۔ پنجاب میں اگلے سال فروری میں چناؤ ہونے ہیں۔ حالانکہ پچھلی ڈیڑھ دہائی میں پنجاب میں کوئی بڑی دہشت گردانہ واردات نہیں ہوئی ہے لیکن علیحدگی پسندی اور 1984ء کے دنگوں سے وابستہ اشو چناؤ کے دوران ہمیشہ سر اٹھا لیتے ہیں۔ خاص کر کچھ یوروپی ملکوں اور امریکہ میں بسے خالصتانی نظریات کے حمایتی ہمیشہ ایسے مسئلوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے پنجاب میں پھر علیحدگی پسندی کا دور شروع کیا جاسکے۔ ان کی مدد کو ہمیشہ آئی ایس آئی جیسی تنظیم تیار بیٹھی رہتی ہے۔ بیشک پنجاب کی جنتا نے علیحدگی پسندی کو سرے سے مسترد کردیا ہے اور امن چین خراب ہونے نہیں دیا لیکن پھر بھی کچھ مذہبی مسئلے پنجابیوں کے طبقے کے لئے ایک دکھتی رگ کی طرح ضرور رہے ہیں۔ بھلر پر ہوئے فیصلے نے جو برسوں بعد اچانک آگیا ہے نے پھر سے بحث چھیڑ دی ہے جس کا اثر آگے دکھائی دے سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں یہ مسئلہ مزید گرما سکتا ہے کیونکہ کچھ سیاسی پارٹیاں چناؤ مہم کیلئے اسے بھنانے کے لئے لگی ہوئی ہیں۔
پھانسی کی سزا کا انتظار کررہے بھلر کی رحم کی عرضی کو خارج ہونے کے بعد سکھوں کے مختلف پنتھک گروپ بھی ساتھ ہوگئے ہیں۔ اس طرح کی درجن بھر تنظیموں نے میٹنگ کرکے رحم کی اپیل خارج کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو سنگین نتائج بھگتنے تک کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ ان انجمنوں کا کہنا ہے کہ پیشے سے الیکٹرانک انجینئر اور گورو نانک دیو انجینئرنگ کالج کا سابق پروفیسر بھلر سے خالصتانی نظریات کے تھے۔ اس نے سرگرم طور سے کسی بھی آتنکی واردات میں حصہ نہیں لیا۔ دہلی بم کانڈ میں بھی اس کے خلاف کوئی گواہ نہیں تھا بعد میں عدالت میں وہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ دہلی بم کانڈ کے فوراً بعد بھلر جرمنی بھاگ گیا تھا لیکن وہاں پناہ نہیں ملی اور اس کی حوالگی کرکے بھارت لایاگیا اور اس کی سزا بدلنے کے حق میں یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے کو قائم رکھنے کے وقت سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ یا عدالت متفق نہیں تھی۔ تین ججوں میں سے ایک نے اسے الزام سے بری الزماں قراردیا اور آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کیلئے یہ آئینی شق وجہ بن سکتی ہے۔
بم دھماکے کے قصوروار خالصتان لبریشن فورس کے آتنکی دویندر سنگھ بھلر کی رحم کی عرضی خارج ہونے کے بعد ویسے اب اس کے لئے آئین میں کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ صدر کی جانب سے رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد ہندوستانی آئین میں قصوروار ثابت ہونے والے شخص کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے اختیارات ختم ہوجاتے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ مرکزی سرکار اس پیچیدہ مسئلے پر کیا قدم اٹھاتی ہے؟
Tags: Anil Narendra, Bhullar, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Khalistan, Punjab, Sikh Terrorist, Terrorist, Vir Arjun

02 جون 2011

غریب کو ہی مار دو، غریبی اپنے آپ ختم ہوجائے گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
2جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ہمیں لگتا ہے کہ یوپی اے کی منموہن سنگھ سرکار نے یہ پالیسی بنائی ہے کہ غریب کو ہی مار دو،غریبی اپنے آپ ہی دور ہوجائے گی۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کمر توڑ مہنگائی پر کچھ تو قابو پانے کی کوشش یہ سرکار کرتی؟ الٹا اب پھر پیٹرول و ڈیزل کے دام اور مٹی کے تیل کے دام بڑھانے کی تیاری چل رہی ہے۔ یہ حال تب ہے جب عالمی بازار میں کچے تیل کی قیمت فی بیرل گھٹی ہے۔ وزیر پیٹرول جے پال ریڈی نے منگلوار کو دہرہ دون میں کہا کہ غیر ملکی خام تیل کے مقابلے گھریلو بازار میں پیٹرول کی قیمتیں ابھی بھی کم ہیں اور تیل بیچنے والی کمپنیوں کو ابھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور یہ فی لیٹر 4 روپے سے اوپر کا بتا رہے ہیں۔ جے پال ریڈی اسی دن انڈین آئل کمپنی کے چیئرمین آر ایس بوٹالا نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ کم قیمت پر پروڈکس بیچنے کی وجہ سے کمپنی کا حقیقی منافع 2009-10 کی بہ نسبت گھٹا ہے۔ کمپنی کو 2009-10 میں 10221 کروڑ روپے کا منافع ہوا تھا جو گھٹ کر اختتام پذیر مالی سال کی آخری سہ ماہی میں 3905 کروڑ16 لاکھ روپے رہا۔ یعنی یہ حقیقی منافع کی بات کرہرے ہیں جبکہ وزیر موصوف کمپنی میں گھاٹے کی بات کررہے ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں دیگر کرنسیوں کی بہ نسبت ڈالر کی قیمت مضبوطی کی وجہ سے خام تیل کے دام99 ڈالر فی بیرل آگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے ماہ کے آغاز میں خام تیل کی قیمتیں 34 ماہ میں سب سے اونچے پائیدان 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ قارئین کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں اس وقت پیٹرول کے دام صرف17 روپے فی لیٹر ہیں جبکہ انڈونیشیا جیسے ملکوں میں پیٹرول کی قیمت اس سے بھی کم ہے۔
ان تیل کمپنیوں نے دیش کے غریب درمیانے طبقے اور ملازمین طبقے کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان بڑی بڑی تیل کمپنیوں کی مالی جانچ کرائی جائے؟ آخر ان کے خرچوں کا حساب کیا ہے؟ان کی عیاشی کی وجہ سے جنتا کیوں پس رہی ہے؟ دراصل یہ نورتن کمپنیاں ہی دیش کو لوٹ رہی ہیں۔ آج تک سرکار نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ پرائیویٹ فیکٹر میں پیٹرول ، ڈیزل کی کتنی کھپت ہوتی ہے۔ ہمارا اندازہ ہے تیل کی کھلی کھپت میں سرکاری و ان نو رتن کمپنیاں ریلوے ، ایئر لائنس ان میں 70 سے80 فیصدتیل کی کھپت ہوتی ہے۔ حکومت اپنے کوٹے میں 10 فیصد کمی کیوں نہیں کرتی۔ بار بار قیمتیں بڑھا کر مہنگائی بڑھانے سے باز آئے۔ جنتا کو یہ بھی سرکاری طور سے بتایا جائیکہ آج کل بک رہے پیٹرول دہلی میں 63.37 پیسے فی لیٹر ہے اس میں سرکاری ٹیکس کتنے ہیں؟ سرکار کی لاگت کیا آتی ہے جسے وہ 62 روپے پر فروخت کرتی ہے؟
ماہر اقتصادیات ڈاکٹر منموہن سنگھ سے دیش کو بہت امیدیں تھیں لیکن انہوں نے سب پر پانی پھیر دیا ہے۔ وزیر اعظم سے تو زیادہ حساس ہمارا سپریم کورٹ ہے جس نے حال ہی میں ایک فیصلے میں کہا کہ فری مارکیٹ مسائل کا حل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے جدید معیشت کی پالیسیوں اور اصلاحات اور نجی کرن اور عالمی کرن کی زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فری مارکیٹ کی فارن سسٹم پر دوبارہ نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جسٹس سدرشن ریڈی اور جسٹس ایس این نجر کی ڈویژن بنچ نے صاف کہا سرکار فری مارکیٹ کے نام پر اپنی اس آئینی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی جس کے تحت اس نے عوامی بہبود کے لئے کام کرنا ضروری ہے۔ بغیر ریگولیٹری والہ مستثنیٰ سسٹم میں بازار وسیع طور پر ناکامی کی طرف بڑھ جائیں گے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, India, Manmohan Singh, Petrol Price, Poor, Poverty, Vir Arjun

ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے 14 ویں ملزم کریم مورانی بھی تہاڑ پہنچے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
2جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بالی ووڈ فلموں کے پروڈیوسر اور کنگ خان عرف شاہ رخ خان کے دوست کریم مورانی بھی آخر کار شکنجے میں آہی گئے۔ سی بی آئی کی سپیشل عدالت کے جج او پی سونی نے مورانی کی ضمانت درخواست کو خارج کردیا ہے اور انہیں جیل بھیجنے کا فرمان سنا دیا۔ ضمانت کے لئے سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے ایک مہینے سے بھی کم وقت میں 7 عرضیاں لگائے جانے پر عدالت نے سخت رویہ اپنایا ہے۔ جج موصوف نے کہا ایسا لگتا ہے جان بوجھ کر قانونی ٹال مٹول کا راستہ اپنایا گیا۔ مورانی 6 مئی سے لیکر23 مئی تک میڈیکل کے نام پر عدالت میں حاضر نہیں ہوئے جبکہ11 مئی کو سونپی گئی رپورٹ میں ان کی طبیعت بہتر بتائی گئی تھی۔ مورانی کو جیل بھیجنے کے ساتھ ہی چارج شیٹ میں شامل سبھی 14 ملزمان تہاڑ جیل پہنچ چکے ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے 14 ملزم یہ ہیں اے راجہ، سدھارتھ بوہرا، سابق ٹیلی کمیونی کیشن سکریٹری، آر کے چندولیہ۔ پرائیویٹ سکریٹری اے راجہ، ونود گوئنکا،سوان ٹیلی کام پرموٹر، ڈی بی گروپ کے شاہد عثمان بلوا، سریندر تیپارہ اور ریلائنس کے گوتم دوشی، راجیو اگروال وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
الزام کے مطابق ڈی بی ریلٹی لمیٹڈ سے 200 کروڑ روپے کسے گاؤں فروٹس اینڈ ویجیٹیبل پرائیویٹ لمیٹڈ اور وہاں سے سنے یگ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے کلیگنر ٹیوی پرائیویٹ لمیٹڈ کو ملے۔ پیسہ سوان ٹیلی کام کو اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے بدلے دیا گیا تھا۔ سی بی آئی کے مطابق سودے بازی میں سب سے بڑا کردار کریم مورانی کا ہی رہا جنہوں نے 6 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا۔ سماعت کے دوران سی بی آئی نے کہا کہ مورانی کو معلومات تھی یہ پیسہ رشوت کا ہے۔ انہوں نے قرض لیکر کلیگنر کو قرضہ دیا جبکہ سنے یگ غیر مالیاتی کمپنی بھی نہیں ہے۔ ڈی بی ریلٹی کے اکاؤنٹینٹ ستیش اگروال نے بتایا کہ کسے گاؤں کو200 کروڑ روپے23 دسمبر 2000 ء سے لیکر 11 اگست2009ء کے درمیان بغیر کسی سمجھوتے کے ہی دے دئے گئے۔ اس کے بعد یہ پیسہ وہاں سے سنیگ میں چلا گیا۔
سی بی آئی عدالت میں ایک طرف مورانی کی ضمانت پر بحث ہورہی تھی تو دوسری طرف فلمی ہیروئنوں کی موجودگی سے عدالت میں ہلچل مچ گئی۔ آنے والی فلم ’آل ویز۔کبھی کبھی‘ کی اداکارہ زویا مورانی اس وقت جذباتی ہوگئیں جب اس کے والد کو جیل بھیج دینے کا فرمان سنا دیا گیا۔ کورٹ روم میں وہ کبھی اپنی ماں کو تاکتی رہیں تو کبھی اپنی بہن کو تو کبھی اپنے والد کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی رہیں۔ جب پولیس مورانی کو حوالات میں لے جانے لگی تو زویا زمین پر بیٹھ کر بہت دیر تک روتی رہی۔ آخر کار ایک خاتون نے آکر اس کو تسلی دلائی تب جاکر وہ اپنے آپ کو سنبھال سکی۔ عدالت میں ایک اور اداکارہ بھی آئی ہوئی تھی وہ تھی خوشبو۔ خوشبو کنی موجھی اور اے راجہ سے ملنے آئی تھیں۔ اب سب ملزمان کی تہاڑ میں محفل لگے گی۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, DB Reality, Karim Morani, Reliance Telecom, Shah Rukh Khan, Swan Telecom, Vir Arjun

01 جون 2011

پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

1جون 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا ہے کیونکہ طالبان نے خبردار کردیا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر حملے کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں ہے ان کا تو مقصد پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں سمیت ملک پر قبضہ کرنے کا ہے۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان میں تشدد پر مبنی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ طالبان کا اب مقصد پاکستان اور اس کے ہتھیاروں پر قبضہ کرنا ہے۔ کراچی کے بحریہ کے بڑے اڈے پر طالبان نے پورے تال میل کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ ایک انگریزی جریدے ’دی وال اسٹریٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جب اس مسئلے پر میگزین کے نمائندے نیطالبان کے ترجمان سے ٹیلی فون پر بات کی تو احسان نے کہا پاکستان نیوکلیائی اہلیت رکھنے والا واحد مسلم ملک ہے اور طالبان کا ارادہ ہتھیاروں کو تباہ کرنے کا نہیں بلکہ پورے ملک اور نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کا ہے۔
طالبان کی دھمکی کو معمولی طریقے سے نہیں لیا جاسکتا۔ پچھلے دنوں کراچی کے بحری اڈے مہران پر مٹھی بھر آتنک وادیوں کو کامیابی اس لئے ملی کیونکہ پاکستانی فوج میں طالبان نواز افسران بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے ساتھ غیر فوجی مبصر عائشہ صدیقی نے ڈان اخبار کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ بحریہ کا یہ اڈہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بحریہ اور ایئر فورس دونوں میں انتہا پسندوں کی پوری طرح گھس پیٹھ ہے۔ وہ کہتی ہیں بحریہ میں آتنک وادیوں کی گھس پیٹھ ایک پرانی داستان ہے۔ عائشہ کا یہ تبصرہ ایسے وقت آیا جب ڈیفنس ماہرین کا تجزیہ ہے کہ پاکستانی بحریہ و ایئر فورس اور بری فوج تینوں میں طالبان داخل ہوچکے ہیں تو مہران ہوائی اڈے پر ان کی مدد سے ہی طالبان کویہ حملہ کرنے میں مدد ملی۔ جس جگہ حملہ ہوا تھا اس سے مشکل سے 24 کلو میٹر دور نیوکلیائی ہتھیاروں کا ڈپو تھا۔ پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے اہم بحری ایئر بیس میں سے ایک ہے۔ بغیر اندرونی شخص کی مدد کے آتنک وادیوں کو اس اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں لگ سکتا تھا۔ جس طرح سے وہ دو گھنٹے ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ آئے تھے۔
آج جب پاکستان خانہ جنگی جیسے حالات سے لڑ رہا ہے تو طالبان کی دھمکی ایک ڈراؤنی حقیقت میں نہ بدل جائے؟ پردے کے پیچھے پاکستان میں اصل اقتدار چل رہا ہے۔ پاک فوج آتنکیوں کے مقابلے پست نظر آرہی ہے۔ عام پاکستانی نہ توفوج پر اب یقین رکھتا ہے اور نہ ہی پاکستانی سیاستدانوں پر۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرکاراسلام آباد سمیت مٹھی بھر بڑے شہروں تک محدود رہ گئی ہے۔حالات اتنے خراب ہیں اس کا اندازہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وارننگ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ہمیشہ بات چیت سے مسائل کو سلجھانے کی پہل کرنے والے منموہن سنگھ کو پڑوسی دیش کو سنبھل کر چلنے کی وارننگ دینی پڑی۔ پاکستان کو طالبانی ہاتھوں میں جانے سے فی الحال صرف امریکہ ہی روک سکتا ہے۔ امریکہ کی دونوں پاکستان اور افغانستان میں موجودگی ہے اس سے پہلے کے طالبان کے ہاتھ پاکستانی ایٹمی ہتھیار لگیں امریکہ کو بلا تاخیر ان ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے لینا چاہئے۔ ایسا کرنے کے بعد کم سے کم ایک بہت بڑا خطرہ تو ٹلے گا اور بعد میں دیکھا جائے گا۔
Tags: Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, ISI, Manmohan Singh, Nuclear Arms, Osama Bin Ladin, Pakistan, Taliban, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

آئی پی ایل کی وجہ سے چھڑی کلب بنام دیش بحث


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

1جون 2011 کو شائع
انل نریندر
آئی پی ایل نے کرکٹ کی شکل کو ہی بدل دیا۔ اس کا اتنا تفریحانا خاکہ بنا دیا ہے کہ ساری دنیا میں یہ کھیل جتنا مقبول ہوا ہے شاید ہی کوئی اور کھیل اتنی تیزی سے مقبول ہوا ہو۔ اس فارمیٹ میں سبھی کچھ ہے۔ کھیل بھی ہے، تفریح بھی ہے، گلیمر بھی ہے اور پیسہ بھی۔ اس نے تو کھلاڑیوں کی ذہنیت تک بدل دی ہے۔ اب ایک نیا تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔’ کلب بنام دیش‘۔ اب کئی کھلاڑی آئی پی ایل کھیلنا زیادہ پسند کرتے ہیں بہ نسبت دیش کے لئے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کہ کس طرح 27 سال کی عمر میں سری لنکا کے تیز گیند باز ملنگا نے اعلان کردیا کہ وہ اب ٹیسٹ میچوں سے رخصتی لے رہے ہیں۔ وہ صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ہی کھیلیں گے۔ ٹیسٹ سے ہٹنے کا سبب انہوں نے دائیں گھٹنے کی چوٹ بتایا ہے۔ لیکن خیال کیا جارہا ہے کہ آئی پی ایل کو اہمیت دیتے ہوئے انہوں نے اپنے دیش کے لئے کھیلنے سے منع کردیا۔ اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کے ایک کھلاڑی کرس گیل نے بھی ویسٹ انڈیز کے لئے کھیلنے سے منع کردیا تھا اور رائل چیلنجرز بینگلورو کا رخ کیا اور اپنے دمدار مظاہرے سے آئی پی ایل کے گولڈن پلیر کا خطاب جیتا۔ گیل نے کہا کہ انہیں ملال ہے کہ انہیں اپنے دیش سے زیادہ پیار اور عزت نہیں ملی۔ گیل نے کہا انہیں ٹی ۔ٹوئنٹی مقابلے میں جو پیار اور عزت ملی وہ ان کے وطن میں نہیں ملی۔ اصل وجہ یہ ہے کہ پیسہ۔ آئی پی ایل میں اتنا پیسہ آگیا ہے کہ کھلاڑی اب اپنے دیش کی بجائے آئی پی ایل میں کھیلنا پسند کرنے لگے ہیں۔
آئی پی ایل کے دوران کلب۔ بنام دیش پر شروع ہوئی بحث میں سابق کپتان کپل دیو اور سنیل گواسکر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سابق آل راؤنڈر کپل کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں آخری فیصلہ کرنے کا حق کھلاڑی کو ہونا چاہئے کیونکہ وہ اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہے۔ وہیں سنیل گواسکر فرماتے ہیں کہ بھلے ہی کھلاڑیوں کا حق ہو لیکن اگر کوئی کھلاڑی دیش پر کلب کو زیادہ ترجیح دیتا ہے تو اسے مستقبل میں بھی قومی ٹیم میں نہ چنا جانا چاہئے۔ اگر کھلاڑی کو انتخاب کرنے کا حق ہے تو ہمیں بھی اختیار ہے کہ ٹیم سلیکشن میں اس کے نام پر غور نہ کریں۔ دوسری جانب 1983 کے ورلڈ کپ ونر ٹیم کے کپتان کپل دیو کا کہنا ہے کوئی بھی شخص دیش کے لئے کھیلنا چاہتا ہے تویہ طے کرنے کا اسے اختیار ہونا چاہئے۔ مجھے اپنے دیش کے لئے کھیلنا پسند تھا اور میں کھیلا بھی لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ آپ ان دنوں کی زندگی کو پابند نہیں کرسکتے۔ کوئی بھی شخص جو کرنا چاہتا ہے اسے کرنے کی آزادی ملنی چاہئے۔
کلب بنام دیش کی بحث سری لنکائی کھلاڑی لست ملنگا کے ٹیسٹ سے سنیاس لینے کے ساتھ شروع ہوئی لیکن اس نے زور اس وقت پکڑا گوتم گمبھیر کی چوٹ کے بعد۔دراصل گمبھیر ، سہواگ، سچن ، دھونی اور ظہیر نے آئی پی ایل میں تقریباً سبھی میچ کھیلے لیکن اگلے مہینے جب قومی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر جائے گی تب یہ آرام کریں گے۔ دھونی ، ظہیر ٹیسٹ کھیلنے جائیں گے۔ سابق کرکٹروں سے لیکر کرکٹ شائقین میں تب سے یہ بحث جاری ہے کہ آرام کا صحیح وقت کیا ہے؟
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Dhoni, Gail, IPL, Malinga, Sri Lanka, Vir Arjun, West Indies, Zahir

31 مئی 2011

انا ہزارے کا اب سونیا اور کانگریس لیڈر شپ پر وار

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

31مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
 پچھلے کچھ دنوں سے کانگریس لیڈر شپ پر بھی حملے ہونے لگے ہیں۔ حالانکہ یہ نام لیکر تو نہیں کئے جارہے لیکن اشارے کس کی طرف ہیں ، یہ صاف ہے۔ پہلے تو بات کرتے ہیں انا ہزارے کے تازہ سنسنی خیز حملے کی۔ انہوں نے سنیچروار کو کانگریس صدر سونیا گاندھی پر درپردہ طور سے حملہ کرتے ہوئے کہا ریموٹ کنٹرول کی وجہ سے ’’مسائل‘‘ پیدا ہورہے ہیں۔ انا ہزارے نے حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک اچھا انسان قراردیا۔ ہزارے ایک ریلی کو خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس صدر کا نام لئے بغیر لیکن واضح اشارہ کرتے ہوئے کہا ،پردھان منتری اچھے انسان ہیں لیکن برے نہیں اور مسائل ریموٹ کنٹرول کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم سبھی کو یقین ہوگیا ہے ہر سرکار میں عوامی طاقت سب سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر لوکپال بل 16 اگست تک نہیں لایا گیا تو وہ جنترمنتر پر لوٹ کر پھر مرن برت شروع کردیں گے۔
کانگریس صدر سونیا گاندھی جو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دیش پر حکومت کررہی ہیں،بلا تنازعہ کانگریس کی سپریم لیڈر اور دیش کی سب سے طاقتور خاتون ہیں۔ پہلے پارٹی کے اندر اور باہر موقعہ پرست لوگوں سے گھرے رہنے کی کانا پھوسی ہوتی رہتی ہے لیکن اب کانگریس کے تین سینئر لیڈروں آر کے دھون، وسنت ساٹھے، جعفر شریف کے حالیہ بیانات سے درپردہ طور سے راہل گاندھی کے طریقہ کار پر حملہ بول دیا ہے۔ وہ سونیا کی بیٹی پرینکا جن کی شخصیت کرشمائی ہے، کو راہل گاندھی کے بدلے سرگرم سیاست میں لانے کی اپیل کررہے ہیں۔ ان تینوں کے بیانات میں صاف نظر آرہا ہے کہ باتوں کے علاوہ اور بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ ان تینوں سرکردہ لیڈروں کے ذریعے سونیا گاندھی کے کانگریس تنظیم چلانے کی پالیسی کے خلاف ایک طرح سے ناراضگی کی علامت ہے۔ یہ کانگریس پارٹی کے اندر نئے چیلنج کی شروعات دکھائی دے رہی ہے جو آنے والے وقت میں ایک سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ آندھرا پردیش میں جگن ریڈی جیت کے بعد سونیا اور راہل کو کھلی چنوتی دے رہے ہیں۔ یہ تینوں لیڈر انتہائی تجربہ کار لیڈر ہیں اور جنہیں کسی دوسرے شخص کی بہ نسبت زیادہ سیاسی طور پر ماہر مانا جاتا ہے کیونکہ ان تینوں نے ان دنوں میں اندرا گاندھی کا ساتھ دیا جب وہ اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور سے گذر رہی تھیں۔ ان لیڈروں کے طرز فکر اور کچھ دیگر سینئر پارٹی لیڈروں جو خود کے استعمال ہونے اور پھر اس کے بعد تنہا محسوس کررہے تھے، کے ساتھ غور و خوض کے بعد یہ بیان دیا ہے۔ اس لئے ان تینوں کے بیانوں کو پارٹی کے اندر بہت سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا۔
آر کے دھون یقینی طور سے اندرا گاندھی کے سب سے بڑے قریبی تھے اور راہل کو ہوشیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد راجیو گاندھی کی طرح غلطی کونہ دوہرائیں۔ سیاست میں پاؤں پھونک پھونک کر رکھیں۔ راہل کو سمجھنا ہوگا کہ کون ان کا اپنا ہے، کون ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہا ہے اور اپنی ذاتی سیاست چمکا رہا ہے۔ اپنے والد کی طرح انہیں اپنے رشتہ داروں اور قریبیوں کو ترجیح نہیں دینی چاہئے۔ دھون کے مطابق راجیو کے قریبیوں کو ان کی اچھائیوں اور خامیوں کا بھی پتہ رہتا تھا اس لئے انہوں نے اپنی توقع کو پوری کرنے کے لئے خواہشوں کو مارا ہے۔ دھون نے ارون نہرو، ستیش شرما جیسے لیڈروں کا نام لیا ہے جو کچھ اہم لوگوں کیلئے ایک سبق ہے۔ بیشک سونیا جتنی کوشش کریں راہل شاید ہی اگلے وزیر اعظم کے طور پر فٹ بیٹھیں؟
Tags:

آخر یہ تہور رانا کون ہے اور اس پر کیوں الزام ہے؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

31 مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
امریکہ کے شہر شکاگو کے تاجر تہور رانا کے خلاف مقدمہ شروع ہوگیا ہے۔ اس پر2008ء میں ممبئی حملے کی سازش میں ساجھیدار ہونا کا الزام ہے۔ اس مقدمے پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہیں کیونکہ اس سے آتنک واد کے خلاف لڑائی میں پاکستان کے کردار پر نئی روشنی پڑ رہی ہے۔ قابل ذکر ہے ان دنوں شکاگو کی عدالت میں ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور تہور رانا پر ممبئی میں26/11 حملے کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ڈیوڈ ہیڈلی کے بارے میں تو اب ساری دنیا جان چکی ہے لیکن تہور رانا کون ہے؟ ممبئی حملے میں لشکر طیبہ کی مدد کرنے والے ملزم پاکستانی نژاد اسلحہ تاجر تہور رانا۔ ڈیوڈ ہیڈلی کے لئے صرف ایک مہرہ تھا۔ ہیڈلی سے رانا کے وکیلوں نے کہا کہ ان کا موکل ایک اچھا آدمی ہے لیکن اسے ایک ایسے دوست نے دھوکہ دیا جس پر اس نے بھروسہ کیا تھا۔ رانا کے وکیل چارس سویٹ نے ہیڈلی سے پوچھا کیا رانا آپ کا دوست تھا؟ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔ ہیڈلی نے جواب دیا ۔ ہاں۔ ہیڈلی نے رانا کو ایک ایسا ذہین طالبعلم بتایا جو مذہبی تقاضوں و اصولوں کا پابند ہے اور شراب نہیں پیتا۔ ہیڈلی دوسری طرف ڈرگس کی اسمگلنگ کرتا تھا اور کئی عورتوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا تھا۔
تہور حسین رانا پاکستان میں پڑھے لکھے ،بڑھے ہوئے۔ میڈیکل کی ڈگری لینے کے بعد پاکستانی فوج کی میڈیکل کور میں لگ گئے۔ 50 سالہ رانا اور ان کی بیوی دونوں نے 2001ء میں کینیڈا کی شہریت حاصل کی۔ ان کی بیوی بھی ڈاکٹر ہے۔ 2009 ء میں گرفتاری سے پہلے رانا امریکہ کے شکاگو میں رہتا تھا۔ وہ ٹریول ایجنسی سمیت کئی دھندے چلاتا تھا۔ تین سال پہلے رانا نے بچپن کے اپنے دوست ڈیوڈ ہیڈلی کوممبئی میں اپنی ٹریول ایجنسی کی شاخ کھولنے میں مدد کی تھی۔ الزام ہے کہ اس کاروبار کا خاص مقصد تھا ممبئی حملوں کے لئے نشانوں کا پتہ لگانا۔ ہیڈلی پہلے ہی ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی بات قبول کرچکا ہے امید ہے کہ اب وہ رانا کے خلاف مقدمے کا فریقی گواہ ہوگا۔ ہیڈلی نے تو لشکر طیبہ اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے سیدھے روابط ہونے کی بات قبول کرلی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے وہ عدالت میں 26/11 کے حملے کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔ رانا پر کل ملاکر 12 الزامات عائد کئے گئے ہیں جس میں امریکی شہریوں کے قتل میں معاونت کرنے کا بھی الزام ہے۔ ممبئی حملوں میں مارے گئے160 سے زیادہ لوگوں میں6 امریکی شامل تھے۔ رانا اور ہیڈلی کے اکتوبر 2009 ء میں ڈنمارگ کے اخبار چملین پوسٹن کے دفتروں پر حملے کا منصوبہ بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی اخبار نے پہلی بار پیغمبر ؐ حضرت پر متنازعہ کارٹون کو بھی شائع کیا اور گرفتار کی بعد پوچھ تاچھ کے دوران پتہ چلا کہ دونوں ممبئی حملوں کی سازش میں شامل ہیں۔ شکاگو کی عدالت میں دائر چارج شیٹ میں چار اور لوگوں کے نام ہیں۔ کیپٹن اقبال، ساجد میر، ابو قہوہ اور مظہر اقبال۔ چاروں پاکستانی شہری ہیں لیکن ان میں سے صرف مظہر اقبال ہی کی گرفتاری ہوسکی ہے۔ ہیڈلی کی گواہی سے رانا اور آئی ایس آئی کے رشتے قائم ہوں گے اور پاکستان اور آئی ایس آئی بے نقاب ہوں گے۔
Tags: 26/11, Anil Narendra, Captain Iqbal, Daily Pratap, Headley, Jamat e Islami, Pakistan, Tahawwur Rana, Vir Arjun

29 مئی 2011

بھلر کی عرضی مسترد ہونے سے شاید دیگر قصورواروں کو پھانسی ملے؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
29مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
پنجاب کے دویندر دیال سنگھ بھلر اور اس کے ساتھی ملزم مہندر ناتھ سنگھ کی رحم کی عرضیوں کو صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل نے خارج کردیا ہے۔ اب ہمیں امید ہے کہ برسوں سے لٹکی دیگر قصورواروں کی رحم کی اپیلوں کے نپٹارے کا راستہ کھل گیا ہے۔ اس میں پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گورو اور راجیو گاندھی قتل کے قصورواروں کی عرضیاں بھی شامل ہیں۔ بھلر کو 25 اگست2001 ء کو ایک نچلی عدالت نے 1991ء میں پنجاب کے پولیس افسر سمید سنگھ سینی پر اور 1993 ء میں یوتھ کانگریس کے اس وقت کے پردھان ایم ایس بٹا پردہشت گردانہ حملوں کی سازش رچنے کے معاملے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ صدر نے مہندر ناتھ داس کی بھی رحم کی اپیل کو خارج کردیا ہے جس کو ہرکانت داس نامی شخص کے قتل کا قصوروار پایا گیا تھا۔ سال2004 ء کے بعد پہلی بار صدر کی جانب سے کسی قصوروار کو موت کی سزا پر مہر لگائی گئی ہے۔ 2004ء میں دھننجے چٹرجی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
موت کی سزا پانے والے لوگوں کی رحم کی اپیل پر فیصلہ ہونے میں تاخیر کے معاملے میں سپریم کورٹ نے بھی سرکار سے پوچھا تھا کہ پچھلے 8 برسوں سے لٹکی دویندر پال سنگھ بھلر کی رحم کی اپیل کا نپٹارا اب تک کیوں نہیں کیا گیا۔ بھلر سمیت 28 لوگوں کی رحم کی عرضیاں صدر کے پاس زیر التوا ہیں،جن میں سے دو کا نپٹارا ہوگیا ہے۔ دراصل سپریم کورٹ نے سرکار کو نوٹس جاری کرکے چھ ہفتے میں اس کا جواب مانگا ہے۔ کورٹ نے حیرانی ظاہر کی ہے کہ عرضی آپ کے پاس آٹھ برسوں سے لٹکی پڑی ہے ، اس سے پہلے پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گورو کی رحم کی اپیل کا معاملہ اٹھا تھا، جس پر دہلی حکومت پورے چار سال تک خاموش بیٹھی رہی لیکن ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ بھلر کی جانب سے رحم کی اپیل پر بحث کرتے ہوئے سینئر سرکاری وکیل کے ۔ بی۔ ایس تلسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ1989 کا فیصلہ کہتا ہے کہ رحم کی عرضی پر اگر مناسب وقت پر غور نہ ہو تو ایسے ملزم تو دفعہ 32 کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد موت کو عمر قید میں تبدیل کرواسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2001 ء سے دہلی کی تہاڑ جیل میں 7X9 فٹ کی کال کوٹھری میں 24 گھنٹے رہتا ہے جس سے اس کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ اسے دل گٹھیا کی بیماری ہوگئی ہے۔ تلسی کی اپیل پر جسٹس جی ۔ ایس سنگھوی اور سی ۔ کے پرساد کی ڈویژن بنچ نے تاخیر کے مسئلے پر سرکار کو نوٹس جاری کردیا تھا لیکن موت کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کی اپیل کو خارج کردیا۔
امریکہ نے بھلے ہی پاکستان میں روپوش ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بنیادی ملزم اسامہ بن لادن کو مار گرایا ہو لیکن انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان میں پچھلے20 سالوں میں تین درجن سے زیادہ دہشت گرد حملے اور ان میں 1600 سے زائد لوگوں کی موت کے ذمہ دار ایک بھی دہشت گرد کو سزا نہیں دلا سکا۔ چاہے 1993 کا ممبئی بم دھماکہ ہو، یا پھر2001 ء کا پارلیمنٹ پر حملہ۔ پاکستان میں بیٹھے سازشیوں تک بھی ہندوستانی ایجنسیوں کے ہاتھ نہیں پہنچ سکے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ آتنک کے لئے ذمہ دار کو سزا دئے بغیر اس کے خلاف لڑائی بے معنی ہے۔ آتنک واد سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود بھارت آتنک وادیوں کے خلاف سخت رویہ اپنانے میں ناکام رہا ہے۔
Tags: Bhullar, Supreme Court, Mercy Petitione, President of India, Pratibha Patil, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap,

جیل تو ٹھیک ہے لیکن پیسے کا نکلوانا بہت ضروری

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
29مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
دو تین دن پہلے مجھے ایک لیڈر ملا تھا۔ باتوں باتوں میں آج کل سرخیوں میں چھائے مختلف گھوٹالوں کا ذکر ہوا۔ اس نیتا کی باتوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔ اس نے کہا کہ آج کل جتنا بڑا گھوٹالہ کرنا چاہو کرلو، ہاں اگر آپ کچھ دن جیل جانے کو تیار ہیں تو پھر آپ کو کوئی اور ڈر نہیں۔ اس کے مطابق جس دن نیتا جیل گیا اس دن جنتا کا آدھا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ آدھا مقدمہ رہ جاتا ہے۔ وہ کچھ مہینے اندر رہنے کے بعد باہر آتا ہے تو اس کا اسی طرح سے خیر مقدم ہوتا ہے۔پھر چناؤ آجاتے ہیں اور وہ نیتا چناؤ جیت جاتا ہے اور یہ کہنے کی حالت میں ہوجاتا ہے کہ عوام نے اس کی بدعنوانی کو معاف کردیا ہے یا پھر یہ کہتا ہے کہ جمہوریت کی سپریم کورٹ یعنی جنتا کے دربار میں اسے معافی مل گئی ہے۔ ایک آدھ مقدمہ چلتا رہتا ہے اور معاملہ رفع دفع ہوجاتا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ پیسہ کہاں گیا جس کا اس نے گھوٹالہ کیا تھا۔
آپ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کو ہی لے لیجئے۔ یہ گھوٹالہ تقریباً1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کا تھا۔یہ ٹھیک ہے اس گھوٹالے میں اے راجہ، کنی موجھی سمیت آدھا درجن سے زیادہ دیگر جیلوں میں قید ہیں ،لیکن سوال یہ ہے کہ سی بی آئی نے کتنے پیسوں کی اب تک برآمدگی کی ہے؟ سی بی آئی کے بیان سے ابھی تک یہ صاف نہیں ہے کہ ا س نے اس مقدمے میں اب تک کوئی رقم ضبط کی ہے یا نہیں؟ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے اس گھوٹالے میں ابھی تک جو الزامات سی بی آئی کی جانب سے لگائے گئے ہیں وہ راجہ نے 200 کروڑ روپے کلیگنر ٹی وی کو شاہد بلوا کی کمپنی سے دلوائے تھے جو سنے یگ کی جانب سے کلیگنر ٹی وی تک پہنچے تھے۔ اس ٹی وی میں کنی موجھی اور شرد کمار کی 20 فیصد حصہ داری تھی جبکہ دیالو امل کی سانجھیداری 60فیصد ہے۔ کہا جارہا ہے جس راستے سے پیسہ کلیگنر ٹی وی میں آیا تھا اسی راستے سے واپس شاہد بلوا کے پاس چلا گیا۔ مگر سی بی آئی نے ابھی تک یہ بات عام نہیں کی ہے کہ اس نے کسی سے کوئی رقم بھی برآمد کی ہے یا نہیں؟ جب تک چوری کی رقم برآمد نہیں ہوجاتی کوئی بھی مقدمہ پوری طرح ٹھوس نہیں بنتا اور یہ رقم برآمد کرکے عدالت میں جمع کرنا ضروری ہوتی ہے۔ جو مقدمہ پراپرٹی بتاتا ہے اگر آپ کا موبائل بس میں چوری ہوجائے تو پولیس مجرم کو پکڑ کر جب تک عدالت میں تفصیل اور موبائل پیش نہیں کرتی تب تک مقدمہ شروع نہیں مانا جاتا۔
سی بی آئی نے ریلائنس کے منیجنگ ڈائرکٹر گوتم دوشی، سینئر وائس پریزیڈنٹ ہری نایر، سریندرپیارا، سوان ٹیلی کام کے ڈائریکٹر ونود گوئنکا اور یونی ٹیک وائرلیس کے ڈائریکٹر سنجے چندرا کو گرفتار تو کیا ہے مگر اس سے کوئی رقم برآمد ہوئی ہے یا نہیں اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ سی بی آئی یا سرکار گھوٹالے کی رقم کو ریکور کرنے کے لئے کیا قدم اٹھا رہی ہے؟ کیا حکومت ان الزامات کی املاک ضبط کرکے پیسے کی ریکوری کرے گی؟ یہ کرنا اس لئے ضروری ہے کہ پہلی بات تو یہ دیش کی پراپرٹی ہے اور دوسری بات یہ رقم دیش کو لوٹ کھسوٹ کر بنائی گئی ہے اور دیش کی پراپرٹی ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم تو ایک گھوٹالہ ہے ایسے نہ جانے کتنے اور گھوٹالے ہیں۔
Tags: 2G, Anil Narendra, Daily Pratap, Dayalu Ammal, Kalaignar TV, kani Mozhi, Reliance Telecom, Shahid Balwa, Swan Telecom, Unitech Wireless, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...