Translater
28 نومبر 2020
اقتدار سونپنے کےلئے ٹرمپ تیار ہوگئے !
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مشی گن ریاست سے جو بائیڈن کی جیت کو سرٹیفائی نہ ہونے دینے کی کوشسوں کے جھٹکا لگنے کے بعد آخر کار اس ریاست نے ڈیموکریٹک کے امیدوار کے کامیاب ہونے کی سرکاری طور پرتصدیق کر دی ہے اس کے علاوہ پین سیلوا ریاست کی ایک عدالت کے ذریعے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ سنائے جانے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے آخر کار مان لیا ہے اور وہ بائیڈن کو اقتدار سونپنے کی کاروائی شروع ہوجانی چاہئے پین سیلوا میں عدالتی فیصلے کے بعد ٹرمپ کے پاس اقتدار سونپنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا ۔ ٹرمپ نے ٹویٹ کرکے کہا کہ اقتدار منتقلی کی نگرانی کرنے والی ایجنسی جنرل سروس ایڈمینسٹریشن چیف ایم ایل ای مارچی کو وہ خانہ پوری کرنی چاہئے جو ضروری ہے ۔ جی ایس اے نے جو بائیڈن کوکامیاب تسلیم کر لیا ہے اور وہ 20جنوری 2021نئی ذمہ داری سنبھالیںگے حالانکہ ٹرمپ نے اپنی لڑائی جاری رکھنے کی بات کہی ہے اسی کڑی کے طور پر انہوں نے نا تو ہار تسلیم کی اور نہ بائیڈن کو مبارک باد دی لیکن اقتدار تبدیلی کے لئے تیار ہونے کا سیدھا اشارہ ہے کہ ٹرمپ کو وایٹ ہاو¿س چھوڑنا پڑے گا امریکی خفیہ ایجنسی بھی اب نامزد صدر کو سیدھے طور پر اہم ترین اور حساس نوعیت کی اطلاعات دے سکیں گی ۔
(انل نریندر)
شادی تقاریب پر نئے حکم سے شش پنج پیدا!
شادیوں کا سیزن شروع ہوگیا ہے دیش کی راجدھانی دہلی میں بڑھتے کورونا کے مریضوں کو دیکھتے ہوئے حکومت دہلی نے شادی تقاریب میں مہمانوں کی زیادہ تعداد دو سو سے گھٹا کر شادی کے گھروں میں سنسنی مچا دی ہے اس سے شادی کرنے والے کنبوں میں ،ٹینٹ وشادی گھر وشادی کے کارڈ چھاپنے والوں کو مشکل حالات میں ڈال دیا ہے کئی کنبوں نے دو سو کارڈ بھی بانٹ دیئے ہیں اب ان کے لئے پریشانی کھڑی ہوئی ہے کہ وہ کیا کریں کیسے لوگوں کو منع کریں گے ۔یہ سب مسئلے ہیں دہلی ویڈینگ اینڈ گریٹنگ کارڈ مینو فیکچر ایشوسیشن کے صدر ویمل جین نے کہا کہ نومبر کی شادیوں کے کارڈ تو دیوالی سے پہلے ہی گراہکوں کو دے دیئے گئے لیکن دسمبر کے شادیوں کے کارڈ ابھی بھی پڑے ہیں اب ان کے گاہک کارڈ لینے نہیں آرہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ کثیر تعداد میں کارڈ نہ لیکر پچاس ہی لے جائیں گے اس کا نقصان کارڈ سیلروں پر ہوگیا ہے ۔ جب سے دہلی سرکار کا یہ حکم آیا ہے تبھی سے شادی کارڈ بنانے والوں کو صدمہ بنا ہوا ہے کہ وہ کیا کریں ؟ یہی حال کھانا بنانے والوں کا بھی ہے کچھ لوگوں نے تو تھوڑا ایڈوانس دیے رکھا ہے جسے لوٹانے کا دباو¿ بڑھ رہا ہے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے آنن فانن مین یہ افیصلہ لیا ہے جس سے بہت سارے ٹھیکے دار اور کارڈ بنانے والوں کی مشکل کھڑی ہوگئی ہے ویسے کورونا او ر لاک ڈاو¿ن کی مار سے ابھی تک نہیں نکلے تھے اب کام تھوڑا اٹھنا شروع ہوا تھا اور امید بندھی تھی کی تجارت میں تیزی آئے گی لیکن اب شادی میں پچاس لوگوں سے زیادہ پابندی لگنے سے سارا معاملہ گڑ بڑ ہوگیا ہے ۔ شادی تقاریب میں پچاس آدمیوں کو بلانے کا مطلب یہ ہے کہ دولہا دولہن کی طرف سے پچیس پچیس لوگوں کے لئے ضروری ہوگا ۔اس صورت میں گھر پریوار کے ہی لوگ شامل ہو سکتے ہیں لیکن دو سو کی تعداد گھٹانے سے لوگوں کو نہ صرف بھاری نقصان ہوا ہے بلکہ ان کو ایک نئی پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔
(انل نریندر)
ہم اسے ہند و مسلم نہیں دیکھتے :ہائی کورٹ
لو جہاد لفظ کا استعمال ہندو گروپوں کا ایک طبقہ ان مسلم لڑکوں کے لئے کرتا ہے جو پیار اور شادی کی آ ڑ میں عورتوں کو مبینہ طور سے تبدیلی مذہب کے لئے مظبور کرتے ہیں ۔ سال دو ہزار نو میں کیرل اور کرناٹک کے کیتھولیک اور ہندو گروپوں نے الزام لگایا تھا کہ ان کے فرقے کی عورتوں سے زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کرکے ان کا مذہب بدلا جا رہا ہے اس کے بعد لو جہا د لفظ کا پہلی بار استعمال کیا گیا ۔ لیکن 2019میں اتر پردیش کے ضمنی چناو¿ کے دوران یہ لفظ رائج ہو ا جب بھاجپا نے اسے وسیع طور پر اٹھایا اپنے مذہب سے باہر شادی کرنے والے جوڑوں کے لئے حالات کافی مشکل بھرے رہے ہیں انہیں اپنی شادی کو سماجی طور پر تسلیم کرانے اور خوش رہنے کے لئے کافی پریشانی کا سامنہ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسے جوڑوں کو لو جہاد لفظ کے بڑھتے چلن سے اب بے چینی ہورہی ہے کئی جوڑوں نے کہا ہے اور کئی ریاستی حکومتوں نے لو جہاد کے خلاف قانون بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس میں الگ الگ مذہب کے ماننے والے جوڑوں کے لئے چیلینج بڑھ رہے ہیں ۔ دہلی میں رہنے والی اور ہندو شخص سے شادی کرنے والی مینا شاہ العمید نے کہا کہ لو جہاد اپنے آپ میں مذاق ہے ۔کوئی کیسے کسی رشتے میں جہا د لا سکتا ہے ؟ ازداجی معاملوں میں مذہب کی بنیاد پر کیسے پابندی لگائی جا سکتی ہے ؟ اگر قانون لایا جاتاہے تو ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ اسے دیکھے گا اور لفظ کے بارے میں صاف کرے گا اگر ہم عدالت اور قانو ن کی بات کریں تو الہٰ آباد ہا ئی کورٹ نے دو الگ الگ مذہب کے بالغ لڑکے اور لڑکی کے لو شادی کے معاملے میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے ہائی کورٹ نے کہا ہے دو اپنے پسند کی زندگی کا ساتھی چننے کا حق ہے قانون دو بالغ اشخاص کو ایک ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے چاہے وہ ہم جنس یا اپوزیٹ سیکس کے ہی کیوں نہ ہوں عدالت نے صاف کیا کہ ان کی پر امن زندگی میں کوئی شخص یا خاندان دخل نہیں دے سکتا یہاں تک کہ ریاست بھی دو بالغ لوگوں کے رشتوں کو لیکر اعتراض نہیں کر سکتی ۔ کشی نگر وشنو پورہ کے باسندے سلامت انصاری اور دیگر تین کی طرف سے داخل عرضیوں پر جسٹس پنکج اور جسٹس ویویک اگروال کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ پرینکا کھروار عرف عالیہ کے والد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شادی کے لئے تبدیلی مذہب ممنو ع ہے۔ ایسی شادی قانون کی نظر میں جائز نہیں ہے ۔لیکن عدالت نے کہا شخص کی پسند کا خیال اور پسند کی آزادی کے حق کے خلاف ہے ۔پرینکا کھروار اور سلامت کو عدالت ہندو مسلم کے طور سے نہیں دیکھتی ہے بلکہ وہ دو نوجوانوں کی شکل میں دیکھتی ہے آئین کی آرٹیکل 21اپنی خواہش سے کسی شخص کے ساتھ رہنے کی آزادی دیتا ہے اس لئے اس میں مداخلت نہیں کرسکتے ۔عدالت نے کہا اس معاملے میں پاسکو ایکٹ بھی لاگو نہیں ہوتا عدالت نے عرضی گزاروں کے خلاف درج ایف آئی آر بھی خارج کردی سرکار کی طرف سے یہ اعترا ض ظاہر کیا گیا تھا کہ اس کے سابق نور جہاں اور پریانچھی عرف سامرین کے معاملے میں شادی کے لئے مذہب تبدیل کرنے کو ناجائز مانا ہے جس پر عدالت نے نا اتفاقی ظاہر کی وہیں یہ بھی امید جتائی کی بیٹی گھر والوں کے لئے سبھی مناسب عزت و احترام کا رویہ اپنائے گی ۔
(انل نریندر)
27 نومبر 2020
سرنگوں سے گھستے پاکستانی دہشت گرد !
جموںکے سانبہ ضلع میں بین الاقوامی سرحد سے لگے گاو¿ں رینال میں ایک سرنگ کا پتہ لگا کر پاکستانی سازش کا پردہ فاش کیا گیا ہے یہ سرنگ 150کلو میٹر لمبی ہے اسے بی ایس ایف اور جموں کشمیر کی گشتی ٹیم نے پتہ لگایا اور دعوی کیا جا رہا ہے کہ تین دن پہلے اسی سرنگ سے نگروٹا بن ٹول پلاجہ میں موڈ بھیڑ میں مارے گئے جیش محمد کے دہشت گرد آئے تھے ۔آتنکیوں سے ملے اسمارٹ فون سیٹرلائٹ کی جانچ کی گئی تو ان کی لوکیشن کا سہی پتہ چلا ڈی جی پی دل باغ سنگھ نے بتایا کہ چارو دہشت گرد 18نومبر کی رات قریب 8.30ہندوستانی سرحد میں گھسے تھے قریب ساڑھے بارہ بجے جموں پٹھان کوٹ قومی شاہ راہ پر واقع جٹوال پہونچے جو سرحد سے 8کلو میٹر کی دوری پر ہے وہاں سے ٹرک میں سوار ہوئے لو کیشن کی ساری تصویر صا ف ہونے کے بعد پولس نے ڈی ایس کے حکام کو خبر کی جس کے بعد سرحد سے لگے گاو¿ں میں سرچ آپریشن چلایا گیا اور قریب بارہ بجے رینال گاو¿ں پولس کے ایک جوان کو سرنگ کے اند ر بھیجا گیا ۔ دوسرا مہانہ پاکستان کی طر ف ہے سامنے پاکستان کا بھرا بھکو چوکی ہے ۔ سرنگ کے اند ر کی گولائی اس لئے سرنگ کے دونوں طرف لکڑی کے تختے لگائے گئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سرنگ کی تعمیر انجینئروں نے کی ہے تاکہ ہمیشہ اس کا استعمال در اندازی کے لئے کیا جاسکے یہ سرنگ زمینی سطح سے قریب 25فٹ نیچے ہے تاکہ ا س میں برسات کے دنوں میں پانی نہ آئے اس لئے پالیتھین کی چادریں بھی لگائی گئی ہیں بوریوں پر ایگرو اور سبز ایگرو بیگ ہیں جس پے پاکستان اردو میں لکھا ہے کچھ پر قاسم کراچی کیمیل لکھا ہوا ہے۔ زراع کے مطابق بن ٹول پلاجہ میں مارے گئے دہشت گرد کمانڈو ٹرینگ لے چکے تھے ۔ یہ رات میں پید ل ہی بارڈر سے ہیوے تک پہونچے تھے ان کے ساتھ گائیڈ ہونے کے بعد بھی سیکورٹی حکام نے بتائی ہے ۔ 31جنوری کو تڑکے ٹول پلاجہ میں مارے گئے تین دہشت گرد اما وسیہ کی رات کو ہیوے پہونچے تھے جو مسعود اظہر کا بھائی اور جیش کمانڈر رو¿ف لالا سے پل پل کی جانکاری لے رہا تھا ۔ اس وقت اس کے ساتھ قاری زرار اور قاسم جان ا ن کے ہینڈلر کا رول نبھا رہے تھے بتا دیں کی پہلے بھی سرنگیں مل چکی ہیں بہر حال آتنکیوں کی ٹریننگ سے لیکر ان کی حفاظت اور کھانے پینے کا ذمہ پاکستان فوج کے پاس ہے ۔ سرنگ کو لمبے وقت تک دہشت گردوں کے استعمال کے لئے بنایا گیا تاکہ در اندازی کا آسان بنایا جاسکے دل باغ سنگھ ڈی جی پی ۔
(انل نریندر)
تین دھائی سے کانگریس کے چانکیہ رہے احمد پٹیل کا جانا!
کانگریس کو ایک ہفتے میں دو بڑے جھٹکے لگ گئے پہلا ترون گوگوئی کے جانے سے اور اس کے فوراً بعد سینئر لیڈر احمد پٹیل کے جانے سے ۔احمد پٹیل کے بدھ کے روز انتقال ہوگیا وہ 71برس کے تھے اور کچھ ہفتوں سے کورونا سے متا ثر تھے اور میدانتہ ہسپتا ل میں زیر علاج تھے پٹیل کے بیٹے فیصل پٹیل اور لڑکی ممتاز صدیقی نے ٹیوٹر پر ایک بیان جاری کر بتایا کہ والد نے بدھ کو صبح سویرے 3بج کر 30منٹ پر آخری سانس لی دکھ کے ساتھ اپنے والد احمد پٹیل کی تکلیف دہ اور اچانک موت کا اعلان کر رہے ہیں ۔ دونوں بہن بھائی کا کہنا تھا تقریبا ً ایک مہینہ پہلے ان کے والد کورونا انفیکشن کے شکار ہوگئے تھے ۔ جس وجہ سے ان کے کئی اعضاءنے کا م کرنا بند کردیا تھا ان کی موت پر وزیر اعظیم اور دیگر سیاسی لیڈروں نے اظہار تعزیت کیا ہے وہیں ان کی اپنی پارٹی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا سری پٹیل کے جانے سے میں نے ایک ایسا ساتھی خودیا ہے جن کی پوری زندگی کانگریس پارٹی کے لئے وقف تھی۔انہوں نے ایمانداری اور لگن اور فرض کے طئیں عظم رکھا اور مدد کے لئے ہمیشہ کھڑے رہتے تھے اور ان میں نرم گوئی اور سادگی تھی جو دوسروں سے الگ تھیں ۔ میں نے ایسا کامریڈ ایماندار ساتھی اور دوست کھودیا جن کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا میں ان کے انتقال پر دکھ ظاہر کرتی ہوں اور ان کے خاندان کے تئیں اظہار ہمدردی اور دکھ کی گھڑی میں صبر سے کام لینے کی اپیل کرتی ہوں ۔ احمد پٹیل صرف کانگریس کے خزانچی ہی نہیں تھے بلکہ ان کوپارٹی کا سنکٹ موچک اور پارٹی کا چانکیہ مانا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم اند ر گاندھی سے لیکر سونیا گاندی تک کا ان پر پورا بھروسہ تھا ۔ پارٹی میں آئے بڑے سنکٹ کے وقت خود اسے ٹالنے یا سلجھانے میں ہمیشہ اہم رول نبھا تے رہے منموہن سنگھ سرکار میں بھی انہیں دو مرتبہ وزیر کا عہدہ آفر کیا گیا لیکن انہوں نے سرکارمیں رہنے کے بجائے پارٹی کے لئے کام کرنا بہتر سمجھا احمد پٹیل قریب تین دھائی تک کانگریس کے لئے بڑے اور اہم حکمت عملی ساز بنے رہے مئی 1991میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی موت کے بعد پی وی نرسمہا راو¿ سرکار کے دوران بھی کئی اہم موقعوں پر پٹیل کی صلاح کام آئی نرسمہا راو¿ کے پانچ سالہ اقلیت سرکار چلانے میں پٹیل کے جاتی تعلقات کام آئے لیکن پٹیل نے ہمیشہ نازک موقعوں پر پردے کے پیچھے سے انہوں نے کام کرنا بہتر سمجھا وہ پہلی بار اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب 1985میں راجیو گاندھی نے انہیں اور آسکر فرنانڈس اور ارون سنگھ کے ساتھ اپنا پارلیمنٹری سیکریٹری بنایا تھا تب ان کو امر اکبر انتھونی کہا جاتا تھا ۔ احمد پٹیل کے دوست اور حریف اور ساتھی انہیں احمد بھائی کہہ کر پکاراکرتے تھے ۔ لیکن وہ ہمیشہ اقتدار اور پبلیسٹی سے خود کو دور رکھنا ہی پسند کرتے تھے ۔ سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ اور پرنب مخرجی کے بعد یو پی اے 2004سے 2014تک کے دورے حکومت میں احمد پٹیل طاقت ور لیڈر تھے ۔ مہاراشٹر میں مہا وکاش ادھاڑی کی تعمیل میں انہوں نے اہم رول نبھایااور کٹر حریف شیو شینا کو بھی ساتھ لانے میں کامیا ب رہے اب یہ کوئی تعجب کی بات نہیں رہی کہ اب اگست 2017میں احمد پٹیل کانگریس کی طرف پانچویں بار راجیہ سبھا بھیجے جانا اپنے آپ میں انوکھا قدم تھا ۔ کیونکہ کانگریس نے اس سے پہلے کسی بھی نیتا کو پانچ مرتبہ اس سے پہلے کبھی راجیہ سبھا نہیں بھیجا تھا اس کولیکر وہ زیادہ اتاولے نہیں تھے لیکن سونیا گاندھی نے انہیں اس کے لئے بنایا اور کہا تھا وہ اکیلے وہی ہیں جو امت شاہ و پوری بی جے پی کا مقابلہ کرنے میں اہل ہے احمد پٹیل جانے سے کانگریس کو نقصان کو بھاری ہوا ہی ہے اور پارٹی کے تما م حریفوں کو ایسے چانکیہ کے جانے سے بھاری نقصان ہوا ہے ۔
(انل نریندر)
26 نومبر 2020
قبرستان میں مردوں کو دفنانے کی جگہ کیا کم پڑنے لگی ہے ؟
دہلی میں پچھلے دس دنوں کے درمیا ن کورونا کی زد میں آئے ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے اس کا اثر اب فیروز شاہ کوٹلا دہلی گیٹ میں واقع دہلی کے سب سے بڑے جدید قبرستان میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ کیونکہ کورونا سے مرنے والوں کی لاشیں دفنانے کے لئے کثیر تعداد میں آنے سے قبرستان میں جگہ کم پڑتی جارہی ہے ۔ قبرستان کے نگہبان کا دعوہ ہے کہ اگر مرنے والوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی تو اگلے دس پندرہ دنوں میں دفنانے کے لئے قبرستان میں رکھی گئی جگہ پوری طرح بھر جائے گی ۔ اور مردے دفنانے کے لئے جگہ نہیں بچے گی اسے دیکھتے ہوئے کیر ٹیکرس نے قبرستان کی انتظامیہ کمیٹی کے ممبران کو بھی اس سے مطلع کر دیا تھا جس کے بعد کمیٹی کی میٹنگ ہوئی اور مسئلے پر غور کیا گیا یہ دہلی کا سب سے بڑا قبرستان مانا جاتا ہے اور یہ 45ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کی لاشیں دفنانے کےلئے قبرستان کے اندر قریب 6بگہہ زمین کو کورونا اموات کےلئے خاص کردیا گیا ۔ مارچ کے آخر سے لیکر جون جو لائی تک کافی لاشیں دفنائی گئیں ۔اس وقت دہلی میں کورونا کی تیسری لہر میں جس تیزی سے موتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے قبرستان میں زمین کم پڑتی دکھائی دے رہی ہے قبرستان کے کیر ٹیکر محمد شمیم بتاتے ہیں کہ لاشیں دفنانے کے لئے زمین کا جتنا حصہ مقرر کیا تھا وہ بھر چکا ہے ۔ اب صرف یہاں پچاس سے ساٹھ لاشوں کی جگہ بچی ہیں اسی کو دیکھتے ہوئے قبرستان انتظامیہ کمیٹی کے سیکریٹری فیاض اور حاجی شمیم کو بتادیا گیا ہے تاکہ وہ وقت رہتے انتظا م کر سکیں کہ قبرستاب بھر جانے کے بعد کہاں دفنایا جائے ؟ شمیم نے بتایا قبرستان میں اب تک سات سو سے زیادہ لاشیں دفنائی جا چکی ہیں لیکن ایک دوسرے کمیٹی کے ممبر منصور حسن کا کہنا ہے کہ جدید قبرستان میں جگہ کی کمی نہیں ہے لوگ گمراہ کر رہے ہیں ۔ انتظامیہ کے ذریعے بہت سے احتیاطی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ لاش کو بارہ سے پندر ہ سے گہرے گڈھے میں دفنایا جاتا ہے اس کے لئے یہاں جے سی بھی لگائی ہے ۔ ان کا کہنا ہے قبرستان میں ابھی تین سو لاشیں ہر ماہ دفنانے کی جگہ ہے اور ہمارے پاس زمین کی کمی نہیں ہے جدید قبرستان میں اگر جگہ بھر گئی تو چار ایکڑ زمین اندرپرستھ پارک میں ہے وہاں لاوارث لاشوں کو دفنایا جاتا ہے تو اگر جگہ کم پڑتی ہے تو کووڈ سے مرنے والوں کے لاشیں دفنا دیا جائے گا۔
(انل نریندر)
اسرائیلی وزیرا عظم کا خفیہ دورہ سعودی عرب !
مشرق وسطیٰ میں بحالی امن کی امریکی کوششیں رنگ لا رہی ہیں اسرائیل سے ملی خبروں میں دعوہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کو سعودی عرب کا خفیہ طریقے سے دورہ کیا ان کے ہم راہ خفیہ ایجنسی موساد کے چیف بھی موجود تھے نیتن یاہو سعودی راجدھانی ریاض گئے تھے اور ان کے خیر مقدم کے لئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان پہلے سے موجود تھے واضح رہے کسی اسرائیلی لیڈر کا پہلا سعودی دورہ ہے ۔ اس ملاقات سے علاقائی حالات میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے یہ کوشش ایران کو گھیر نے کے لئے ہورہی ہے وہیں ترکی کے بڑھتے قدم سے بھی سعودی عرب میں تسویش ہے ترکی مشرق وسطیٰ میں لیڈر کو رول نبھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔اب تک سعودی عرب واحدلیڈر تھا اس لئے بھی سعودی عرب نے اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے حالانکہ سعودی فلسطین مفادات کا ہمایتی رہا ہے اور اسے لیکر اسرائیل سے اپنے سبھی سفارتی و سرکاری رشتے توڑ رکھے ہیں لیکن اس خلیجی دیش نے اس وقت رشتہ بہال کرنے کے اشارے دیئے تھے جب اگست میںاسرائیلی جہازوں کو اپنی ہوائی پٹی سے گزرنے کی اجازت دی تھی ۔اسرائیل کے وزیر تعلیم اور وسیکورٹی امور کیبینٹ کمیٹی کے ممبر چویف گیلینٹ نے پیر کو نیتن یا ہو کے دورے سعودی عرب کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے اس سے پہلے اسرائیلی فوج ریڈیو اور کین ریڈیو نے نیتن یاہو کے خفیہ دورے کے جانکاری دی تھی ۔ اسرائیلی میڈیا میں نیتن یاہو نے سعودی عرب دورے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان رشتے بہتر ہونے کی راہ ہوسکتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ میٹنگ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کرائی ہے حالانکہ وہ خود چناو¿ ہار گئے ہیں دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے نئے صدر بائیڈن کیا پالیسی و رخ اپناتے ہیں ۔
(انل نریندر)
اظہار رائے کی آزادی ہمارے آئین کا بنیادی جز ہے !
xانسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی لیفٹ فریم کی کیرل حکومت نے پچھلے مہینے پولس ایکٹ کو اور زیادہ موثر بنانے کے لئے اس میں دفع 118جوڑنے کے فیصلے نے سب کو چونکا دیا اس کے تحت اگر کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے کسی شخص کی توہین یا بے عزت کرنے والا کوئی میٹر ڈالتا ہے یا اسے شائع کرتا ہے یا اسے نشر کرتا ہے تو اس پر 10ہزار کا جرمانہ یا پانچ سال کی قید یا دونوں ہوسکتے ہیں ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سوشل میڈیامیں عورتوں اور بچوں کو اذیت پہونچانے کے واقعات جس طرح سے بڑھے ہیں انہیں کنٹرول کرنے کے لئے کیرل پولس کے ایکٹ 118Aدفعہ جوڑی جارہی ہے جس میں قصور وار شخص کو پانچ سال یا سزا رکھی گئی ہے اس آرڈیننس کو گورنر نے منظوری دے دی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آرڈیننس میں سوشل میڈیا کا دیش کو خاص طور سے تصریح نہیں کی گئی ہے اور اس میں صرف میڈیا لفظ لکھا گیا ہے ایسے میں میڈیا سمیت مختلف طبقوں کے لئے تسویش کی بات فطری ہے اس کا ارادہ قومی دھارا کے میڈیا سمیت ریاستی حکومت کے حریفوں کی آواز دبانا ہے۔جبکہ عورتوں بچوں کے خلاف جرم کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے آئی پی سی اور پاس کو ایکٹ کے تحت کافی سہولیات ہیں ۔ بیشک لیفٹ کی کیرل سرکار نے بھاری احتجاج کے بعد متنازع مجوزہ آرڈیننس کو واپس ضرور لے لیا ہے لیکن اس میں جس طرح سے بیان عام آدمی کے سوشل میڈیا کے پوسٹ کولیکر کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے کا پولس کو من مانا اختیار دیا گیا ،اس کی منشا پر سوال اٹھنا فطری تھا اب سرکار کے اس فیصلے نے الگ الگ طبقوں نے نقطہ چینی کی تو کیرل سرکار نے متنازع ترمیم پر روک لگا دی ہے وزیر اعلیٰ پی وجین نے کہا کہ ان کی سرکار کا ارادہ ابھی اس ترمیم قانون کو نافذ کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اے ڈی ایف کے حمایتوں اور جمہوریت کی حفاظت کے لئے کھڑے لوگوں نے اس ترمیم کو لیکر تسویش ظاہر کی تھی ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارا ارادہ ترمیم شدہ کیر ل پولس ایکٹ کو لاگو کرنے کا نہیں ہے اس سلسلے میں اسمبلی میں مفصل غور خوص ہوگا اور مختلف لوگوں کی رائے سننے کے بعد آگے قدم اٹھائیںگے اپوزیشن پارٹیوں نے بھی آرڈیننس کے ذریعے لائے گئے ترمیم کی نقطہ چینی تھی اور کہا تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی اور پریس کی آزادی کے خلاف ہے اس سے پہلے بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری نے کہا کہ کیرل پولس ایکٹ ترمیم آرڈیننس پر دوبارہ غور کیاجائے گا سیاسی طوفان کے درمیان یچوری نے ڈیمیج کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے در اصل یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ہمارے آئین کا بنیادی جز ہے بیشک اس کے ساتھ کچھ بندشیں ہیں لیکن اس سے سرکاروں کو اس من مانی تشریح کا حق نہیں مل جاتا۔
(انل نریندر)
25 نومبر 2020
سبرت رائے 62ہزار کروڑ لوٹائیں یا ان کی پیرول منسوخ کریں !
سکورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سےبی)میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں اس نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے اور ان کی دو کمپنیوں کو 8.4بلین ڈالر یعنی قریب 62ہزار کروڑ روپے جمع کرانے کا حکم دیں ۔سیبی کا کہنا تھا کہ حکم کی عدولی کنندہ اگر پیسہ واپس نہیں کرتا تو ان کی پیرول منسوخ کر پھر سے حراست میں لیا جائے سہارا اپنے سرمایہ کاروں سے لی گئی رقم کو 15فیصد سود کے ساتھ جمع کرنے کے 2012اور 2005کے حکم پر تعمیل کرنے میں ناکام رہے ہیں رائے کو مارچ 2014میں توہین عدالت کے معاملے میں گرفتار کیا گیاتھا اور و ہ 2016سے ضمانت پر چل رہے ہیں سیبی نے کہا کہ سہارا نے احکامات پر تعمیل کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی ہے دوسری جانب دینداری یومیہ بڑھ رہی ہے اور وہ حراست سے باہر رہ کر زندگی کا مزا لے رہے ہیں سیبی نے اپیل کی ہے کہ 30کے مطابق واجب 62,602.90کروڑروپے کی رقم سےبی -سہارا فنڈ کھاتے میں فوراً جمع کرانے کی ہدایت دی جائے وہیں سہارا گروپ کا کہنا ہے کہ ہم نے سیبی کو 22ہزار کروڑ روپے دے دئیے ہیں لیکن سیبی نے سرمایہ کاروں کو صرف 106.10کروڑ روپے ہی دئیے ہیں ہم سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کررہے ہیں انہوں نے کہا سبرت رائے کیخلاف صرف ایک الزام ہے کہ وہ سرمایہ کاروں پیسہ ادا کرنے میں وقت لے رہا ہے ۔ہم اس کاسو دبھی چکا رہے ہیں ۔
(انل نریندر )
پرائیویٹ اسپتالوں نے کووڈ علاج کیلئے من مانی فیس وصولی !
ایک پارلیمانی کمیٹی نے سنیچر کو کہا کہ کووڈ 19-کے بڑھتے مریضوں کے درمیان سرکار ی اسپتالوں میں بستروں کی کمی اور اس وبا کے علاج کے لئے مخصوص گائڈ لائنس کی کمی کے چلتے پرائیویٹ اسپتالوں نے کافی بڑھا چڑھا کر پیسہ لئے کمیٹی نے مزید زور دیا کہ طے قیمت کی وجہ سے علاج سستہ ہونے سے موتوں کو ٹالا جاسکتا ہے ۔ہیلتھ سے متعلق پارلیمانی اسٹنڈنگ کمیٹی کے چئیرمین رام گوپال یادو نے راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو کو رپورٹ سونپی سرکار کے ذریعے کووڈ 19-وبا کے سلسلے میں یہ کسی بھی آئینی کمیٹی کی پہلی رپورٹ ہے جس میں کہاگیا ہے کہ مخصوص گائڈ لائنس کی کمی کے سبب مریضوں کو زیادہ فیس دینی پڑی اور اس کے علاوہ سرکاری ہیلتھ سہولت کی بھی کمی رہی ہے ۔اور پرائیویٹ اسپتالوں اور سرکاری اسپتالوں کے درمیان علاج کے لئے بہتر تال میل کی ضرورت ہے ۔کمیٹی نے کہا کہ جن ڈاکٹروں نے کورونا سے لڑائی لڑی اور اپنی جان دے دی انہیں شہید کا درجہ دیا جانا چاہیے ۔اور ساتھ ہی ان کے خاندان کو مناسب معاوضہ ملنا چاہیے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس لئے کمیٹی سرکار سے پبلک ہیلتھ سسٹم میں اپنے سرمایہ کاری کو بڑھانے کی اجازت دیتی ہے کمیٹی نے سرکار سے کہا کہ وہ دو سال کے اندر جی ڈی پی کے 2.5فیصد تک کے خرچ کو نیشنل ہیلتھ پالیسی کے نشانوں کو حاصل کرنے کے لئے مسلسل کوشش کریں کیوں کہ سال 2025کے طے وقت ابھی دور ہے اور اس وقت تک ہیلتھ سسٹم کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا ۔نیشنل ہیلتھ کمیٹی 2017میں 2025تک جی ڈی وی کا 2.5فیصد ہیلتھ سروس پر سرکاری خرچ کا نشانہ طے کیا تھا اور یہ محسوس کیا تھا دیش کے سرکاری اسپتالوں میں بیڈ کی تعداد اور وکوڈ اور غیر کووڈ مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے کافی نہیں تھی ۔
(انل نریندر )
بالی ووڈ میں ڈرگس لینا عام ہے !
نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی )نے بالی ووڈ کی کمیڈین بھارتی سنگھ کو ڈرگس کیس میں گرفتار کیا اس سے پہلے ان کے شوہر ہرش کے گھر پر اور دفتر میں باقاعدہ چھاپہ ماری کی ۔پچھلے مہینے این سی بی نے ایک ٹی وی ایکٹریس پریتیکا چوہان کو بھی ڈرگس لینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔ستمبر کے مہینے میں اداکار سنم جوہر اور اے بی گیل پانڈے کے خلاف ڈرگس لینے کے لئے ایف آئی آر درج کی گئی تھی ان کے گھر چھاپہ میں ڈرگس ملی تھی مگر پچھلے کچھ برسوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ڈرگس کو لیکر بالی ووڈ میں ایک قتل بھی ہو چکا ہے ۔اور وہ ہے فلم اداکار کریتکا دیسائی الزام ہے کہ انہوں نے کچھ ڈرگس سپلائروں کو پیسہ نہیں دیا تھا اس لئے ان کا قتل کردیاگیا یہ کیس باندرہ کرائم برانچ کے سینئر انسپکٹر گوپال نے پتہ لگایا تھا ۔جس دن این سی بی فلم اداکارہ دیپیکا پاڈووکون سے پوچھ تاچھ کررہی تھی اس دن گوپال نے عثمان شیخ نام کے ڈرگس سپلائر کو گرفتار کیا تھا اس نے پوچھ تاچھ میں کچھ سنسنی خیز انکشاف کئے تھے کہ بالی ووڈ میں ڈرگس اتنی کیوں لی جاتی ہے ؟عثمان کے مطابق بالی ووڈ میں یہ ایک روایت ہے کہ ڈرگس کے استعمال سے ہمیشہ پتلا بنا رہتا ہے ۔کیوں کہ ہٹ فلمیں دینے یالمبے عرصہ تک ٹیلی سیریل و دیگر شو میں اپنا وجود بنائے رکھنے کے لئے پتلا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔اس لئے بھی یہاں ڈرگس کا استعمال بہت ہوتا ہے پھر جو لائب شو ہوتے ہیں ان میں پرفارم کرنے سے پہلے کچھ نامی گرامی ایکٹر نشہ لیکر ہی شو کرتے ہیں کیوں کہ ان میں ناچنا کودنا پڑتا ہے جس میں کچھ طاقت لگتی ہے ۔عثمان شیخ نے پوچھ تاچھ میں بتایا تھا کہ بالی ووڈ میں ایک یہ رواج ہے کہ ڈرگس لینے سے سیکس کی خواہش بڑھتی ہے اس لئے بھی یہاں نشہ آور چیزیں لی جاتی ہیں یہ ساری کاروائی اس کیس میں ہورہی ہے جس میں ریااور اس کے بھائی شووک چکرورتی کو گرفتار کیا گیا تھا اب تک قریب 30لوگ گرفتا ر ہو چکے ہیں جس میں صرف ایک ہی بڑانام ہے فلم پروڈیوسر ستیش پرساد کا انسپکٹر نند کمار گوپال نے این سی بی کو بتایا کہ بالی ووڈ میں جس کی جتنی بڑی حیثیت ہے وہ اتنی ہی مہنگی ڈرگس لیتا ہے جو بڑے ہیرو ہیں وہ کوکن لینے ہیں جن کی کمائی بہت کم ہے وہ گانجا ،چرس و غیرہ لیتے ہیں کئی معاملوں میں یہ بھی تزاد ہوتا ہے کہ افیم ایک جان لیوا عادت ہے ۔مصنفوں ،فنکاروں نے جم کر اس کا استعمال کیا ۔ادکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے کیس کے بعد بالی ووڈ میں ڈرگس کے معاملوں میں ایک طرح سے سیلاب آگیا ہے ۔کنگنا رنوت نے بھی کئی طرح کے الزام لگائے ہیں ۔ڈرگس لینا تو غلط ہے لیکن سپلائر کا بھی بڑا رول ہے سارے کے سارے راز آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں ابھی دیکھو کس کس کا نام آتا ہے ۔
(انل نریندر)
24 نومبر 2020
سی بی آئی جانچ کےلئے ریاستی حکومت کی رضامندی ضروری!
xسپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے صاف کیا سی بی آئی جانچ کے لئے متعلقہ ریاست کی اجازت ضروری ہے ریاستی سرکار کی رضامندی اس کے دائرے اختیار میں سی بی آئی جانچ کے لئے ضروری ہے اس کی اجازت کے بغیر جانچ نہیں کر سکتی ۔جسٹس اے ایم خان ولکر اور جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے کہا کہ آئین کے فیڈرل کے مطابق ہے جسے اس کی بنیادی حدود میں سے ایک مانا گیا ہے ۔بڑی عدالت نے دہلی اسپیشل پولیس قیام ایکٹ کی دفع پانچ اور چھ کا حوالہ دیا جو مختلف علاقوں کے لئے اسپیشل پولیس ادارے کے اختیارات اور دائرہ اختیار علاقہ کے فروغ اور ریاستی حکومت کے پاور اور حق کے لئے رضامندی دیتے ہیں ۔بنچ نے کہا اسے اس طرح دیکھا جاسکتا ہے جیسے دفع پانچ مرکزی سرکار کو ریاست کے لئے مرکزی حکمراں ریاستوں کے دائرے ڈی ایس پی آئی کے ممبران کے پاور اوردائر اختیار کو بڑھانے میں اہل بناتی ہے ۔اس طرح کے لئے کوئی بھی ریاست اپنی رضامندی نہیں دیتی تب تک یہ جانچ منظور نہیں ہے یہ فیصلہ کچھ ملزمان کی طرف سے دائر کرپشن کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کو چنوتی دی گئی تھی ۔
(انل نریندر )
سانبھلی کی دلیر سیما ڈھاکا!
ہم آئے دن دہلی پولیس کو کوستے رہتے ہیں لیکن جب وہ ہمت اور بہادر کا ثبوت دیتی ہے تو ہم اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتے اب آپ سانبھلی سمیا ڈھاکہ کی ہی مثال لے لیجئے ۔مغربی اتر پردیش کے پردے والے ماحول میں پلی بڑی اس لڑکی نے بہادی کا وہ کام کیا ہے جس کی تعریف کرنی چاہیے ۔سانبھلی کی یہ شرمیلی سائیکل سے پانچ کلو میٹر اکیلے سسولی کے ڈگری کالج آیا جایا کرتی تھی ۔گھر سے آدھے راستے اس کے والد بھی سائیکل سے جاتے تھے تاکہ لڑکی کی نگرانی کر سکیں ۔گریجویشن کے دوران کالج کی لڑکیوں کے درمیان دہلی پولیس کافارم بھرنے کی خواہش جاگی اس شرمیلی لڑکی نے دہلی آو¿ٹنگ کے لئے کانسٹبل کا فارم بھر دیا ۔ماں باپ نے پولیس جوائن کرنے سے روکا لیکن وہ نہیں رکی ....آج سانبھلی کی یہ ہی شرمیلی لڑکی سیما ڈھاکہ (33سال )دہلی کی دلیر بن چکی ہے ۔جو ایک فارمل ہی نہیں بلکہ مرد پولیس والوں کے لئے بھی ایک مثال بن چکی ہے ۔بادلی تھانہ میں تعینات سیما ڈھاکہ بتاتی ہے کہ دہلی پولیس کمشنر ایس این سریواستو نے نابالغ گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے پر زور دیا تو انہیں لگا کہ وہ اس کام کو بخوبی انجام دے سکتی ہے ۔لہذا ایس ایچ او بادلی آشیش دوبے کے سامنے انہوں نے اپنی خواہش رکھی کرائم برانچ کے تیز ترار جانباز افسروں مین شمار رہے دوبے نے اعلیٰ افسروں سے منظوری لے کر سیما کو یہ کام سپرد کر دیا ۔سیما نے دن رات محنت کرکے 75دن میں 76گمشدہ بچوں کو تلاش کر ڈالا اور ان کے رشتہ داروں سے ملا دیا ۔ان میں 56بچے 14سا ل کی عمر کے تھے گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے کے لئے کمشنر کی طرف سے پانچ اگست کو آو¿ٹ آف ٹرن ترقی کی اسکیم آنے کے بعد انہیں خود پرکیسے بھروسہ ہوا کہ وہ اس کام کو بخوبی انجام دے سکتی ہے ۔سیما کا کہنا ہے ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران ایک نابالغ لڑکی کو بھگا کر لے جانے کی کار ملی و ہ اسٹاف کے ساتھ وہاں پہونچی تو لڑکی کے دادا دادی رو رہے تھے ۔ملزم لڑکا اور نابالغ لڑکی الگ الگ مذہب کے تھے اس لئے ماحول خرا ب ہونے کا خطرہ بھی تھا لڑکے کی سی ڈی آر نکالی تو آخر کار ایک آٹو والے کی تھی اس کے ذریعے دوسرا فون نمبر ملا جس کے سہارے وہ لڑکی کے رستہ داروں اور ایک سپاہی کے ساتھ کانپور دیہات پہونچی ۔لڑکے کے گاو¿ں پہونچ کر انہوں نے پوچھ تاچھ کے لئے لڑکے کی ماںکو حراست میں لیا اور لڑکی کو چوبیس گھنٹے کے اندر صحیح سلامت برآمد کیا لڑکے کو بھی گاو¿ں والوں نے بچہ دے کر دہلی لے آئی ۔سیما کہتی ہیں اس کیس کی وجہ سے ان کاخود پر بھروسہ بڑا ۔ان کے شوہر بھی اس سے شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے ۔پولیس مرد پولس ملازم کو لڑکیوں سے تفتیش کرنے میں تھوڑی دکت آتی ہے ۔مہیلا ہونے کے ناطے وہ بے دھڑک کسی سے بھی پوچھ تاچھ کرلیتی ہے اس لئے وہ اپنے ٹارگیٹ کو پورا کرنے میں کامیاب رہی وہ یاد کرتی ہے کہ جب وہ سائیکل سے کالج جاتی تھی تو گاو¿ں کے لوگ کہا کرتے تھے کہ اکیلی لڑکی کو اس کے ماں باپ کہا ں بھیج رہے ہیں ۔اس کے ماں باپ دہلی پولیس جوائن کرنے کے لئے راضی نہیں تھے لیکن ٹریننگ کے لئے خود دہلی چھوڑ کر گئے تھے وہ ان کے اشتراک کو بھی یاد کرتی ہے ۔کمشنر نے آو¿ٹ آف ٹرن پروموشن دے کر اے ایس آئی بنا دیا ہے ۔
(انل نریندر )
ای وی ایم میں گڑبڑی ٹرمپ کا دعویٰ !
ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی چناو¿ میں استعمال کی جانے والی الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے انہیں لاکھوں ووٹوں کا نقصان ہوا ہے یہ ووٹنگ مشینیں ڈومینیشن ووٹنگ سسٹم کے نا م کی کمپنی بناتی ہے ۔ٹرمپ نے اس طرح کے الزام لگائے ہیں کہ جیسے ان مشینوں میں ووٹ ڈیلٹ کر دئیے گئے ۔ان کے حریفوں نے کمپنی پر نامناسب دباو¿ ڈالا ہے ۔ٹرمپ : دو مینین نے دیش بھر میں ہمارے 27لاکھ ووٹ ڈیلٹ کر دئیے اور اپنے حمایتی اورکٹر پسند نیوز نیٹ ورک آو¿ٹ لیٹ ون امریکن یوز نیٹ ورک کی رپورٹ کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں ۔اس میں لکھا ہے کہ دیش بھرمیں صدر ٹرمپ کے لئے ڈالے گئے لاکھوں ووٹوں کو ڈیلٹ کیا ۔رپورٹ میں چناو¿ کی نگرانی کرنے والے ایک گروپ ایڈیشن ریسرچ کا ایک بنا جانچے ہوا ڈاٹا استعمال کیا گیا ہے ۔ٹرمپ اور ان کے حمایتی فاکس نیوز کی ایک رپورٹ کو بھی لیکر شیئر کررہے ہیں جس میں اینکر شان ہےسٹی نے دعویٰ کیا ڈومینین ووٹنگ مشینوں نے کئی اہم ریاستوں میں ٹرمپ کے ووٹوں کو بائیڈن کے ووٹوں میں بدل دیا جس میں مشی گن کی اینٹسٹ ٹرمپ کاو¿نٹی علاقہ میں آئی پریشانیوں کے بارے میں بتایاگیا ہے ۔جہاں ڈومینین مشینیں استعمال کی گئی تھی اسی طرح دوسری کاو¿نٹنگ میں سافٹ وئیر میںدکت ہو سکتی ہے ۔مشیگن کے سٹی آف اسٹیٹ جاویلنگ وینسن نے بتایا کہ یہ مسئلہ انسانی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا ۔اس لئے شروعاتی نتیجہ غلط آئے تھے اور اس میں بائیڈن کو صرف 3ہزار ووٹوں سے کامیابی ملی تھی ۔چناو¿ حکام نے رپبلکن علاقہ میں غیر معمولی نتیجہ دیکھا تو انہوں نے رپورٹنگ فنکشن کو پھر سے چلایا اور پھر سے گنتی ہونے کے بعد ٹرمپ کو ڈھائی ہزار ووٹوں سے جیت ملی ۔ڈومینین ووٹنگ سسٹم نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ووٹ بدلنے یا مٹانے کے جو دعوے کئے جارہے ہیں وہ صد فیصد غلط ہیں ۔ٹرمپ آگے کہتے ہیں ڈومینین سسٹم کمیونسٹ پارٹی حامی ہے جبکہ یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے ۔یہ ان پارٹیوں کا حمایتی نہیں ہے ۔اس کمپنی نے ماضی گزشتہ میں رپبلکن اور ڈیموکرٹس دونوں کوچندہ دیا ہے ۔اور ڈومینین ایک غیر جانب دار امریکی کمپنی ہے اور پلوسی خاندان یا کرنٹن گلوبل انی سیٹیو کے ساتھ کوئی مالکانہ رشتہ نہیں ہے ۔چناو¿ کمیشن نے دو کاو¿نٹی میں ڈالے گئے آٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی صدر ٹرمپ کی درخواست پر پھر سے گنتی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ٹرمپ کے ذریعے پھر سے گنتی کے لئے تیس لاکھ ڈالر کی ادائیگی کرنے کے بعد حکم پر عمل ضروری تھا کاو¿نٹی میں ووٹوں کی پھر سے گنتی جمع سے شروع ہوئی تھی ۔اور یہ ایک دسمبر تک پوری ہو جانی چاہیے جہاں جو بائیڈن نے ٹرمپ کو دو کے مقابلے ایک سے زیادہ کے فرق سے ہرایا تھا ٹرمپ کی ٹیم نے کاو¿نٹی میں دھاندلیو ں کا حوالہ دیا حالانکہ ناجائز سرگرمیوں کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا ۔امریکی ریاست وسکاسنگ کے بڑے چناو¿ افسر میگن کولف نے بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں دنیا کی نظریں اگلے کچھ ہفتوں کے دوران وسکاسنگ کاو¿نٹی پر ہوں گی ۔
(انل نریندر )
22 نومبر 2020
کیا اسدالدین اویسی مسلمانوں کی پہلی پسند؟
بہار کے چناو¿ نتیجے آنے کے بعد اس وقت مہا گٹھ بندھن کی ہار سے بھی زیادہ کسی اشو پر بحث جاری ہے وہ ہے اسدالدین اویسی کی پارٹی” آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین “جسے عام طور پر ایم آئی ایم کہا جاتا ہے ۔بہار چناو¿ میں اسے پانچ سیٹوں پر کامیابی ملی ہے ۔کانگریس جیسی قومی پارٹی نے بھی اپنی ہار کے لئے ایم آئی ایم کو نشانہ پر لیا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ ایم آئی ایم نے بہار چناو¿ کے پورے تجزیہ ہی بدل دئیے ہیں ۔ایم آئی ایم قیادت اس بات سے بہت خوش ہے کہ اگر وہ سارے دعوے خود کرتی تو لوگ یقین نہیں کرتے لیکن اگردعویٰ کوئی اور کر رہا ہے تو اس کا کام تو آپ ہی ہوتا جارہا ہے ویسے سیاست کی سچائی یہ ہوتی ہے کہ یہاں اپنی ہار کی وجہ خود ماننے کو تیار نہیں ہوگا ۔فی الحال بہار میں مہاگٹھ بندھن کو اپنی ہار کا ٹھیکرا پھوڑنے کے لئے اسدالدین اویسی کی پارٹی مل گئی ہے ۔ایم آئی ایم نے بہار کی مسلم اکثریتی 20سیٹوں پراپنے امیدوار اتارے تھے جس وجہ سے وہاں ووٹوں کا بٹوارا ہوا ۔مسلمانوں کی پسند اویسی بن گئے جس وجہ سے بی جے پی جیت گئی ۔اس الزام کو اگرحقائف پرپرکھا جائے تو غلط ثابت ہوگا ۔اگر مسلمانوں کی ایم آئی ایم پسند ہوتی تو سب سے زیادہ ایم آئی ایم کو سیٹیں جیتنی چاہیے تھی ۔لیکن ان بیس سیٹوں میں سب سے زیادہ نو سیٹ مہا گٹھبندھن جیتی اور ایم آئی ایم نے محض پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ۔ایم آئی ایم نے اگر مہا گٹھ بندھن کو نقصان پہونچایا تو سیدھا فائدہ این ڈی اے کو پہونچا اور مسلم ووٹ بٹ گئے ۔اگر وہ سب ووٹ مہا گٹھ بندھن کو دیتے تو این ڈی اے اتنی سیٹوں پر کامیاب نہیں ہوتی ۔کیا اندار خانے بی جے پی اور اویسی کی اندر کھانے کوئی سیٹنگ تھی ۔بہرحال اویسی اب مسلمانوں کے لئے ایک طرح سے لیڈر بن چکے ہیں۔
(انل نریندر )
چین کی دھمکی ،آنکھیں نکال لی جائیں گی !
چین کے ہانگ کانگ میں نئے قواعد کے خلاف اس مہینے جمہوریت حمایتی 15ممبران نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔امریکہ برطانیہ ،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ ،اور کنیڈا نے چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں اپنے مخالفوں کو خاموش کرانے اور ان کی آواز دبانے کے لئے کچلنے کا راستہ اپنا رہا ہے ۔ان کا الزام ہے چین نے ہانگ کانگ میں چنے گئے ممبران پارلیمنٹ کو نا اہل ٹھہرانے کے لئے نئے قواعد بنائے ہیں ۔مغربی ملکوں کے ان الزامات کے بعد بوکھلائے چین نے اس پر تلخ نکتہ چینی کی ہے ۔چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان دیسوں کو چین کے معاملے میں دخل نا دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہوشیاررہیں ورنہ ان کی آنکھیں نکال لی جائیں گی۔فرق نہیں پڑتا کہ پانچ ہو ں یا دس چینی لوگ نا پریشانی کھڑی کرتے ہیں اور نہ کسی سے ڈرتے ہیں ۔پچھلے ہفتہ چین نے ایک پرستاو¿ پاس کیا تھا جس کے تحت ہانگ کانگ کی حکومت سرکار کے ان نیتاو¿ں کو برخواست کر سکتی ہے ان کے مطابق ان سے قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے ہانگ کانگ میں ایک قانون کے خلاف بھاری مظاہروں کے بعد ہانگ کانگ میں چار جمہوریت حامی ممبران پارلیمنٹ کو برخواست کر دیا ۔جبکہ انہوں نے اپنے استعفیٰ کا پہلے ہی اعلان کر دیاتھا ۔1997کے بعد جب سے برطانیہ نے ہانگ کانگ کو چین کو سونپا ہے تب سے پہلی بار ہے پارلیمنٹ میں کوئی مخالف آواز نہیں اٹھی ان چاروں ممبران پارلیمنٹ کو برخواست کرنے کی کاروائی کو ہانگ کانگ کی آزاد ی کو محدود کرنے کے طور پر دکھایا جارہا ہے ۔ان پانچوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اپیل کی ہے وہ ان ممبران پارلیمنٹ کو پھر سے بحال کرے ان کا کہنا ہے یہ قدم ہانگ کانگ کی مختاری اور آزادی کی حفاظت کرنے کی چین کی قانونی عزم کی خلاف ورزی ہے ۔ ہانگ کانگ کے لوگوں کو اپنے نمائندے چننے کا حق ہے جو وہ توڑ رہے ہیں ۔ان پانچوں ملکوں کے گروپ کو پانچ آنکھیں بھی کہا جاتا ہے ۔ہانگ کانگ میں چین کے وزارت خارجہ نے بتایا کہ دوسرے ملکوں کو چین کو ڈرانے یا دبانے کی کوششیں ناکام ہوں گی ۔ہانگ کانگ نے ایک دیش دو سسٹم سے اصول کے تحت چین کے ساتھ آنے کا فیصلہ کیا تھا ۔اس اصول کے تحت 2047تک ہانگ کانگ کو وہ سب حقوق اورآزادی ہوگی ۔جو فی الحال چین میں نہیں ہے اور ایک مخصوص ترقی پسند خطے کے طور پر ہانگ کانگ کے پاس اپنا قانونی سسٹم ہوگا اور مختلف سیاسی پارٹیاں ہوں گی اظہار رائے اور ایک جگہ جمع ہونے کی آزادی ہوگی ۔چین کا کہنا ہے اس قانون سے مضبوطی آئے گی لیکن مغربی ملکوں کی سرکاریں اور انسانی حقوق گروپ کاکہنا ہے یہ قانون اظہار رائے کی آزادی چھیننے اور احتجاج کو روکنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس سکورٹی قانو ن کے جواب میں برطانیہ نے ہانگ کانگ کے ان لوگوںکو شہریت دینے کا پرستاو¿ دیا ہے ۔جن کے پاس وی این او پاسپورٹ ہے یعنی جو لوگ1997سے پہلے پیدا ہوئے ہیں صرف انہیں کو یہ پاسپورٹ رکھنے کا حق ہے ۔قریب 3لاکھ لوگوں کے پاس وی این اوپاسپورٹ ہے اور 29لاکھ جو پیدا ہوئے ہیں وہ اس کے حقدار ہیں ۔
(انل نریندر )
چناو ¿ سے پہلے کشمیرمیں تشدد پھیلانے کے خطرناک ارادے ! تمام سختی ،چوکسی اور گہری تلاشی مہم اور کنٹرول لائن پر سخت گشت کے باوجود پاکستان اسپونسر دہشت گردوں کی گھسپیٹ پر نکیل کسنا ہماری سکورٹی فورسز کے لئے چنوتی بنا ہوا ہے ۔پہاڑوں پر برف باری شروع ہوتے ہی ان کی یہ حرکتیں اور بڑھ جاتی ہیں پلوامہ میں سی آرپی ایف قافلے پر دستی گولہ پھیکنے اور پھر جموں کشمیر قومی ساہراہ پراس کی تازہ مثالیں ہیں تازہ واقعہ میں جموں کے نگروٹہ میں سکورٹی فورسز نے جیش محمد کے چار دہشت گردوں کو مار گرایا ۔یہ مڈبھیڑ صبح سویرے ساڑے چار بجے شروع ہو ئی اور دو گھنٹے میں آتنکی ڈھیر کر دئیے گئے آتنکی چاول کے بوروں سے بھرے ٹرک میں سوار تھے سبھی پاکستانی تھے ۔سکورٹی فورسز نے ناگروٹہ بن ٹول پلازہ پر ٹرک کوروکا اور دہشت گردوں سے خودسپردگی کرنے کو کہا انہوں نے حملہ کردیا ۔اور جوابی کاروائی میں فوج نے ٹرک کو اڑا دیا اور دہشت گرد مار دئیے گئے ۔دہشت گردوں کے ارادے خطرناک تھے کیوں کہ ان کے پاس سے 1147رائفل تین پستول 929دستی گولے اور موبائل فون وغیرہ ڈیوائس اور دوسرے بیگ ملے ہیں ۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے ہمارے سکورٹی انتظامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے چوتھی بار جموں ادھم پور ہائی وے پر کئی کلو میٹر کا سفر طے کرکے آسانی سے حملے کرنے میں کامیاب رہے ۔سکورٹی فورسز یا تو صرف سکورٹی کے تئیں دعوے کرتے رہے یا پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ۔اب بھی وہی ہوا بن ٹول پلازہ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے ستر کلو میٹر سے زیادہ کا سفر ان راستوں سے کیا جہاں سکورٹی ناکوں کی بھرمار ہے ۔پہلے بھی تین بار ایسا ہو چکا ہے ۔جب آتنکی 80سے 40اور 50کلو میٹر کا سفر آسانی سے طے کرتے ہوئے حملے کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔سانبھا میں این ایم سے کہیں دوکلو میٹر اور کہیں دس کلو میٹر دور ہے ۔13ستمبر 2018کو جگجر کوٹلی میں ہوئے حملے کے لئے بھی آتنکی 40کلو میٹر کا سفر طے کرکے پہونچے تھے ۔29نومبر 2016کو نگروٹہ میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے 50کلو میٹر کا سفر طے کیا تھا ۔31جنوری اسی سال ون ٹول پلازہ پر حملہ کیا تھا یوں تو سردیوں کے موسم میں پاکستان جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے دہشت گردوں کی دراندازی کرانے کی کوشش کررہا ہے ۔لیکن ایسے وقت جب جموں کشمیر میں 28نومبر کو ڈسٹرکٹ ڈولپمنٹ کونسل کے چناو ¿ ہونے جا رہے ہیں ۔پچھلے کچھ دنوں کے دوران ان کی طرف سے تیز ہوئی دراندازی کی کوششیں ان کے منصوبوں کو بتاتی ہیں ۔سرکار اعداد شمار کے مطابق 2019کے 3168واقعات کے مقابلے اس سال 6اکتوبر تک جنگ بندی توڑنے کے 3589واقعات ہو چکے ہیں ۔بھارت کی سخت وارننگ کے باوجود پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا یہ اتفاق نہیں ہے ۔ایک دن پہلے وزیر اعظم نے برکس کانفرنس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایک اتحاد پر زور دیا تھا ۔چین کو بھی پاکستان کی ان حرکتوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔بھارت جب بھی اپنے یہاں دہشت گردی کے واقعات سے ممکنہ دستاویز پاکستان کو سونپتا ہے تو اسے سرے سے وہ مسترد کردیتا ہے ۔یہاں تک کہ عدالتیں بھی ان دستاویزات کو کوئی ثبوت نہیں مانتی ۔ ممبئی حملے کے حافظ سعید بھی اس کی مثال ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان دکھاوے کے لئے کاروائی کرتا ہے ۔تاکہ بین الاقوامی برادری کے سامنے دھول جھونک سکے ۔پاکستان کی نیت تو صاف ہے لیکن ہماری خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں ۔ (انل نریندر )a
xتمام سختی ،چوکسی اور گہری تلاشی مہم اور کنٹرول لائن پر سخت گشت کے باوجود پاکستان اسپونسر دہشت گردوں کی گھسپیٹ پر نکیل کسنا ہماری سکورٹی فورسز کے لئے چنوتی بنا ہوا ہے ۔پہاڑوں پر برف باری شروع ہوتے ہی ان کی یہ حرکتیں اور بڑھ جاتی ہیں پلوامہ میں سی آرپی ایف قافلے پر دستی گولہ پھیکنے اور پھر جموں کشمیر قومی ساہراہ پراس کی تازہ مثالیں ہیں تازہ واقعہ میں جموں کے نگروٹہ میں سکورٹی فورسز نے جیش محمد کے چار دہشت گردوں کو مار گرایا ۔یہ مڈبھیڑ صبح سویرے ساڑے چار بجے شروع ہو ئی اور دو گھنٹے میں آتنکی ڈھیر کر دئیے گئے آتنکی چاول کے بوروں سے بھرے ٹرک میں سوار تھے سبھی پاکستانی تھے ۔سکورٹی فورسز نے ناگروٹہ بن ٹول پلازہ پر ٹرک کوروکا اور دہشت گردوں سے خودسپردگی کرنے کو کہا انہوں نے حملہ کردیا ۔اور جوابی کاروائی میں فوج نے ٹرک کو اڑا دیا اور دہشت گرد مار دئیے گئے ۔دہشت گردوں کے ارادے خطرناک تھے کیوں کہ ان کے پاس سے 1147رائفل تین پستول 929دستی گولے اور موبائل فون وغیرہ ڈیوائس اور دوسرے بیگ ملے ہیں ۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے ہمارے سکورٹی انتظامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے چوتھی بار جموں ادھم پور ہائی وے پر کئی کلو میٹر کا سفر طے کرکے آسانی سے حملے کرنے میں کامیاب رہے ۔سکورٹی فورسز یا تو صرف سکورٹی کے تئیں دعوے کرتے رہے یا پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ۔اب بھی وہی ہوا بن ٹول پلازہ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے ستر کلو میٹر سے زیادہ کا سفر ان راستوں سے کیا جہاں سکورٹی ناکوں کی بھرمار ہے ۔پہلے بھی تین بار ایسا ہو چکا ہے ۔جب آتنکی 80سے 40اور 50کلو میٹر کا سفر آسانی سے طے کرتے ہوئے حملے کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔سانبھا میں این ایم سے کہیں دوکلو میٹر اور کہیں دس کلو میٹر دور ہے ۔13ستمبر 2018کو جگجر کوٹلی میں ہوئے حملے کے لئے بھی آتنکی 40کلو میٹر کا سفر طے کرکے پہونچے تھے ۔29نومبر 2016کو نگروٹہ میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے 50کلو میٹر کا سفر طے کیا تھا ۔31جنوری اسی سال ون ٹول پلازہ پر حملہ کیا تھا یوں تو سردیوں کے موسم میں پاکستان جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے دہشت گردوں کی دراندازی کرانے کی کوشش کررہا ہے ۔لیکن ایسے وقت جب جموں کشمیر میں 28نومبر کو ڈسٹرکٹ ڈولپمنٹ کونسل کے چناو¿ ہونے جا رہے ہیں ۔پچھلے کچھ دنوں کے دوران ان کی طرف سے تیز ہوئی دراندازی کی کوششیں ان کے منصوبوں کو بتاتی ہیں ۔سرکار اعداد شمار کے مطابق 2019کے 3168واقعات کے مقابلے اس سال 6اکتوبر تک جنگ بندی توڑنے کے 3589واقعات ہو چکے ہیں ۔بھارت کی سخت وارننگ کے باوجود پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا یہ اتفاق نہیں ہے ۔ایک دن پہلے وزیر اعظم نے برکس کانفرنس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایک اتحاد پر زور دیا تھا ۔چین کو بھی پاکستان کی ان حرکتوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔بھارت جب بھی اپنے یہاں دہشت گردی کے واقعات سے ممکنہ دستاویز پاکستان کو سونپتا ہے تو اسے سرے سے وہ مسترد کردیتا ہے ۔یہاں تک کہ عدالتیں بھی ان دستاویزات کو کوئی ثبوت نہیں مانتی ۔ ممبئی حملے کے حافظ سعید بھی اس کی مثال ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان دکھاوے کے لئے کاروائی کرتا ہے ۔تاکہ بین الاقوامی برادری کے سامنے دھول جھونک سکے ۔پاکستان کی نیت تو صاف ہے لیکن ہماری خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں ۔
(انل نریندر )
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...