Translater

30 دسمبر 2012

13 دن۔رات جدوجہد کے بعد بدقسمت طالبہ نے دم توڑا

دہلی گینگ ریپ کی بدقسمت طالبہ نے 13 دن کی زندگی اور موت کی لڑائی لڑنے کے بعد سنیچر کی صبح آخر کار اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ سنگاپور کے مشہور ایلزبتھ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود اس بیچاری کو بچایا نہیں جاسکا۔ جمعہ سے ہی اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی تھی۔ سنیچر کی رات کو اس کے ضروری اعضاء فیل ہونے کے اشارے ملنے لگے تھے۔ ماؤنٹ ایلزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو چیئرمین کیلوین لوہ نے ایک بیان میں کہا کہ رات کو 9 بجے ،ہندوستانی وقت کے مطابق شام6.30 بجے مریضہ کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور اس کے اہم ترین اعضا معمول کے مطابق نازک دور میں تھے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس بیچاری کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ تکنیکی نقطہ نظر سے تو اس بیچاری کی موت تو صفدرجنگ ہسپتال میں ہی ہوگئی تھی۔ یہ سارا ڈرامہ تو حکومت نے غصے کو کنٹرول کرنے کی غرض سے رچا تھا۔ اب جب اس طالبہ کی موت ہوگئی ہے تویکا یک سنگاپور بھیجنے کے سرکار کے فیصلے پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ خود ڈاکٹروں نے سرکار کے اس فیصلے پر انگلی اٹھانی شروع کردی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق صفدرجنگ ہسپتال میں بھرتی23 سالہ متاثرہ لڑکی کو علاج کے لئے سنگاپور بھیجنے کے پیچھے طبی وجوہات کم سیاسی وجوہات زیادہ نظر آرہی تھیں۔ اخبار کے مطابق جب اجتماعی آبروریزی کی شکار متاثرہ کو سنگاپور منتقل کرنے کا فیصلہ لیا تو علاج کررہے ڈاکٹروں سے بس اتنا پوچھا گیا کیا متاثرہ لڑکی سنگاپور لے جانے کی حالت میں ہے؟ حکومت نے علاج کررہے ڈاکٹروں کی اسپیشل ٹیم سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ سنگاپور شفٹ کیا جائے یا نہیں؟ یا پھر سنگاپور میں علاج ہوگا جو بھارت میں نہیں ہوسکتا۔ ڈاکٹروں کی ماہرین کی ٹیم میں ایمس ، جی بی پنت ہاسپٹل اور صفدرجنگ ہسپتال کے ڈاکٹر شامل تھے۔ڈاکٹروں نے الزام لگایا کہ سرکار فیصلہ لے چکی تھی۔ متاثرہ کو سنگاپور بھیجا جائے؟ ڈاکٹروں کا دعوی ہے کہ ہم پچھلے 11 دنوں سے مریض کو بہتر طبی مدد دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ کو سنگاپور بھیجنے کا فیصلہ ڈاکٹروں کا نہیں تھا بلکہ سرکار کی طرف سے لیا گیا فیصلہ تھا۔ دہلی کے سرگنگارام ہسپتال نے تو آنت کے ٹرانسپلانٹ کی بھی پیشکش کی تھی۔
بھارت کے ڈاکٹردنیا بھر میں مشہور ہیں اور ہزاروں غیر ملکی بھارت آکر اپنا علاج کراتے ہیں۔ سنگاپور منتقل کرنے کا فیصلہ سیاسی تھا۔ سرکار احتجاجوں سے بری طرح ڈر گئی تھی۔ اگر متاثرہ نے صفدر جنگ ہسپتال میں دم توڑا تو جنتا کے غصے کو قابو کرنا مشکل ہوجائے گا اور اس کا ردعمل اب بھی ہوگا۔ ہاں ایک فرق ضرور آگیا ہے کہ اب جب طالبہ کی موت ہوچکی ہے اس نکمی اور غیر ذمہ دار حکومت کو ملزمان کو پھانسی پر نہ لٹکانے کا کوئی بہانہ نہیں بچا۔ ہم متاثرہ لڑکی کے کنبے کو بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ آج آپ کے دکھ میں سارا دیش شریک ہے اور ہم بھی پرارتھنا کرتے ہیں کہ متاثرہ لڑکی کی آتما کو شانتی ملے۔
(انل نریندر)

خواتین کے تئیں غیر سنجیدہ ہوتا سیاسی طبقہ

خواتین کے خلاف بھدے تبصرے کرنا سیاستدانوں کی عادت بن گئی ہے۔ آئے دن یہ نیتا کچھ نہ کچھ بکواس کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس طویل سیریز میں تازہ نام صدر پرنب مکھرجی کے بیٹے و کانگریس ایم پی ابھیجیت مکھرجی کا جڑ گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھدا تبصرہ ایسے وقت کیا جب پورا دیش دہلی میں ایک متاثرہ لڑکی کے واقعے کے خلاف ناراضگی سے بھرا ہوا ہے۔ سنئے ابھیجیت صاحب کیا فرماتے ہیں ’’دہلی میں گینگ ریپ کے خلاف مظاہرہ کررہیں عورتیں میک اپ سے رنگی پتی ہوتی ہیں، وہ پہلے کینڈل مارچ نکالتی ہیں اور رات میں ڈسکو میں پہنچ جاتی ہیں، وہ کہیں سے بھی لڑکیاں نظر نہیں آتیں۔‘‘ حالانکہ ابھیجیت کی بہن شرمشٹھا نے ان کے بیان کے لئے معافی مانگ لی ہے اور خود ابھیجیت نے بھی اپنی رائے زنی پر افسوس ظاہر کیا۔ لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور پورے دیش میں اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ خواتین کی انجمنوں نے ان کے اس تبصرے پر سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ابھیجیت نے ایک ٹی وی چینل پر کہا تھا کہ دہلی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مصر یا دوسری جگہوں پر ہوئے واقعات کی طرح ہے جسے ارب بسنت کہا گیا ہے لیکن بھارت کے بنیادی حالات کچھ اور ہیں ۔ کینڈل مارچ اور ڈسکو میں جانا ایک ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ہم نے بھی طالبعلمی کی زندگی میں ایسا کیا ہے۔ لیکن فی الحال تو ڈینٹڈ پینٹڈ عورتیں ٹی وی انٹرویو دیتی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی دکھانے کے لئے ساتھ لاتی ہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ یہ طالبہ ہوں گی کیونکہ اس عمر کی عورتیں سڑکوں پر نہیں آتیں۔ اس پر مارکسوادی لیڈر برندا کرات نے فوراً کہا کہ ایسے بیان دینے والے ممبران اور ممبر اسمبلی کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس سے ان کے دماغ اور گندی ذہنیت کا پتا چلتا ہے۔ بھاجپا کے شاہنواز حسین اور اسمرتی ایرانی نے کہا کہ بیان دینے سے پہلے کیوں نہیں سوچا سمجھا جاتا؟ اس طرح کے بیان دینے کی کوئی ہمت کیسے کرسکتا ہے۔ صدر کی بیٹی ابھیجیت کی بہن شرمشٹھامکھر جی نے کہا کہ میں بہت حیران ہوں کہ ایک بہن ہونے کے ناطے ساری عورتوں سے شرمندہ محسوس کررہی ہوگی اتنا طے ہے کہ وہ اس سے قطعی متفق نہیں ہوسکتے۔ ہمارا خاندان ایسا نہیں ہے۔ وہ سیاسی طبقے میں عورتوں کے تئیں غیر سنجیدہ بیانوں کاسلسلہ بھی نیا نہیں ہے۔ 
نریندر مودی ، سری پرکاش جیسوال، سنجے نروپم، ملائم سنگھ یادو وغیرہ جیسے لوگوں کی ایسے بیان دینے والوں کی فہرست لمبی ہے۔ مودی نے تو انسانی وسائل وزیر مملکت ششی تھرور کی بیوی سنندہ کو50 کروڑ روپے کی گرل فرینڈ کہہ ڈالا تھا۔ حال ہی میں کانگریس ایم پی سنجے نروپم نے ایک ٹی وی مباحثے میں بھاجپا نیتا اسمرتی ایرانی کو کہہ دیا تھا کل تک ٹی وی پر ٹھمکے لگا تھی تھی آج چناؤ مبصر بن گئی ہے۔ مہلا ریزرویشن بل کی مخالفت کرتے ہوئے ملائم سنگھ یادو نے ایک ریلی میں کہہ ڈالا تھا کہ بڑے بڑے گھروں کی لڑکیاں اور عورتیں صرف اوپر جاسکتی ہیں۔ یاد رکھنا آپ کو موقعہ نہیں ملے گا۔ ہمارے گاؤں کی عورتوں کی کشش اتنی نہیں ہے۔ کوئلہ وزیر سری پرکاش جیسوال نے کانپور کی ایک ریلی میں کہا تھا پرانی جیت پرانی بیوی کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کشش کھو بیٹھتی ہے۔ تو کیا سیاسی طبقہ عورتوں کے تئیں مسلسل غیر سنجیدہ ہوتا جارہا ہے یا پھر وہ اپنا اصلی رنگ دکھا رہا ہے۔
(انل نریندر)

29 دسمبر 2012

ملازمین کی معطلی کو لیکر دوردرشن اور پی ایم او میں ٹھنی

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سرکار اور ان کا پی ایم او کی ان دنوں بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے واقعے پر دوردرشن کے پانچ ملازمین کے خلاف کارروائی کے احکامات دے دئے گئے ہیں۔ معاملہ کچھ ایسا ہے وزیر اعظم نے گذشتہ پیر کو ٹیلی ویژن پر دیش کی عوام کو خطاب کرنا تھا۔ اس کیلئے پی ایم او ہاؤس پر صبح9.30 بجے ریکارڈنگ کی جانی تھی۔ الزام ہے کہ دوردشن کے کیمرہ مین 9.40 پر جبکہ انجینئرنگ محکمے کے سبھی ملازمین 10 بجے کے بعد پردھان منتری ہاؤس پہنچے۔ اس وجہ سے پی ایم ہاؤس میں پہلے سے موجودہ ٹی وی خبررساں ایجنسی اے این آئی نے پی ایم کی تقریر کی ریکارڈنگ کی بعد میں اسے ایڈٹ کئے بغیر کی نشر کردیا گیا اور پی ایم کے پیغام کے آخر میں’سب ٹھیک ہے‘ کہتے سنا گیا۔ دوردرشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کے خلاف معطلی کی کارروائی کا پی ایم کی تقریر کابنا ایڈٹ ہی نشر ہوجانے کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہیں وزیر اعظم ہاؤس دیر سے پہنچنے کے سبب معطل کیا گیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ 7 ریس کورس روڈ جانے والے راستوں پر ٹریفک پابندی کے چلتے دوردرشن کی ریکارڈنگ ٹیم وقت پر نہیں پہنچ سکی۔ انہیں پی ایم او نے کچھ ہی وقت پہلے ریکارڈنگ کے لئے آنے کے لئے کہا تھا۔ دوردرشن کے پانچ ملازمین کے خلاف کی گئی کارروائی کو لیکر پی ایم او اور دوردرشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دوردرشن کے افسروں کا صاف کہنا ہے جس غلطی کے لئے 5 ملازم معطل کئے گئے ہیں ان کے لئے پی ایم او کے افسر ذمہ دار ہیں۔ دوردرشن کے ان افسروں کا دعوی ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر کی ریکارڈنگ کے لئے مقرر پروٹوکال کی تعمیل ہوتی تو اس طرح کی گڑ بڑی نہیں ہوتی۔ اس کے لئے وہ خاص طور پر وزیر اعظم کے رابطہ مشیر یعنی کمیونی کیشن ایڈوائزر کے رویئے سے ناراض ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ پی ایم او کے ایک افسر کی جلد بازی سے سب کچھ گڑ بڑ ہوگئی۔ مگر دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پی ایم او میں بھی اس طرح کی ریکارڈنگ کے لئے ذمہ دار افسروں کو اس مرتبہ اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ روایت ہے صدر و وزیر اعظم کی تقریر دوردرشن ہی ریکارڈکرتا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اس بار پیغام کی ریکارڈنگ ایک پرائیویٹ ایجنسی سے کیوں کروائی گئی؟ ساتھ ہی یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ اگر پیغام کو ٹھیک سے سن کر و ایڈٹ کرکے دکھایا جاتا تو اس طرح کی گڑ بڑی کی گنجائش نہیں رہتی۔ دوسری جانب پی ایم او کے افسر اس کے لئے دوردرشن ملازمین کی لیٹ لطفی پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ غفلت کہاں ہوئی یہ تو پتہ نہیں اس کا خمیازہ ضرور ان پانچ دوردرشن ملازمین کوبھگتنا پڑ رہا ہے۔ ویسے اس واقعہ سے پی ایم او کی بوکھلاہٹ بھی سامنے آتی ہے۔ دراصل آبروریزی کے معاملے میں یہ سرکار اتنی کنفیوز چل رہی ہے کہ ہمیں تعجب نہیں ہوا کہ یہ بوکھلاہٹ ان پانچ دوردرشن ملازمین پر کیوں دکھائی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

’فاسٹ ٹریک‘ عدالت یعنی جلد انصاف کی زمینی حقیقت

پچھلے دنوں چلتی بس میں آبروریزی کے واقعہ کے بعدحکومت نے آبروریزی کے معاملوں کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کا جہاں ہم خیر مقدم کرتے ہیں وہیں یہ بھی ضرور بتانا چاہیں گے کہ اس کو عمل میں لانا اتنا آسان نہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کی سبھی 6 عدالتوں (ضلع کورٹ) میں ان گینگ ریپ معاملوں کی تفصیل بھی تیار کرلی ہے جس سے ان معاملوں کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں یومیہ بنیاد پر شروع کرائی جاسکے۔اس کی خاص وجہ متاثرین کو جلدی انصاف دلانا ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ سے مراد ایسی کورٹ سے ہے جس میں ایک خاص طرح کے مقدمات کی سماعت ہوگی۔ اس وقت منشیات اسمگلنگ سے جڑے کیسوں کے نپٹارے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی گئی ہے لیکن اب بدقسمتی یہ ہے کہ اب ان سبھی فاسٹ ٹریک عدالتوں میں ان کے علاوہ دوسرے معاملات کی بھی سماعت ہوتی ہے اس سے یہ محض نام کی ہی فاسٹ ٹریک کورٹ رہ گئی ہے۔ ان عدالتوں میں اسپیشل معاملوں کے فیصلے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ آبروریزی کے معاملے کے بعد دیش بھر میں پیدا ناراضگی سے حکومت فاسٹ ٹریک کورٹ بنا کر بدفعلی کے معاملوں کو جلدی سے جلدی نپٹارہ کرنے کی بات کہہ رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کے محض پانچ فاسٹ ٹریک عدالتیں بنا دینے سے بدفعلی کے معاملوں کا نپٹارہ ممکن نہیں ہوگا۔دہلی کی عدالتوں میں ایسے دس ہزار سے بھی زیادہ معاملے زیر التوا ہیں۔ وہیں قائم کی جارہی پانچ فاسٹ ٹریک کورٹ کے پاس کم سے کم دو دو ہزار معاملوں کو نپٹانے کی چنوتی ہوگی جو آسان نہیں ہے۔ اس لئے عدلیہ کی کارروائی سے وابستہ لوگ دہلی میں کم سے کم 20 فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کی بات کررہے ہیں۔ بدفعلی معاملوں کو جلدی نپٹانے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تعداد بڑھانی ہوگی۔ ان عدالتوں کو دہلی کی عدالتوں میں التوا میں پڑے 10 ہزار سے زائد ایسے معاملوں کا نپٹارہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ جائے گا۔ ایک ریٹائرڈ ایڈیشنل سیشن جج پریم کمار کا کہنا ہے کہ بدفعلی کے ہر معاملے کی روز بروز سماعت ممکن نہیں ہے۔ اگر ملزم ایک سے زیادہ ہیں تو ان کے وکیل بھی زیادہ ہوں گے اور جنتا کی ناراضگی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سرکار بھی فاسٹ ٹریک عدالت یا خصوصی عدالت بنانے کی تسلی دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر بیٹھی ہے لیکن اگر حکومت ججوں کے منظور عہدوں کو بھرنے کے ٹھوس قدم اٹھائے تو وہ جلد اپنی آئینی ذمہ داری کو پورا کرسکتی ہے۔ ججوں کی خالی جگہوں اور لمبے پڑے مقدموں کی تعداد دیش کے عدلیہ نظام کی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ نچلی عدالتوں میں ستمبر 2011 تک 2 کروڑ73 لاکھ مقدمے التوا میں تھے۔ ان میں سے 1 کروڑ95 لاکھ کرائم کے کیس تھے۔ دیش بھر میں ضلع عدالتوں میں ججوں کی18 ہزار 123 عہدے منظور ہیں لیکن اس وقت 14 ہزار 287 جج کام کررہے ہیں۔ یعنی 3836 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ضلع عدالتوں میں دو سطح پر جج مقرر کئے جاتے ہیں جوڈیشیل سروس، ہائر جوڈیشیل سروس ۔ جوڈیشیل سروس میں مجسٹریٹ اور سول جج کی بھرتی مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ ایڈیشنل سیشن و ضلع جج ہائر جوڈیشیری کے ممبر ہوتے ہیں۔ ججوں کی بھاری کمی کے سبب عدالتیں مقدموں کے بوجھ سے بھری پڑی ہیں۔ اگر آبروریزی کے معاملوں میں ہمیں ٹھوس فاسٹ ٹریک انصاف دینا ہے تو پہلے موجودہ کمیوں کو پورا کرنا ہوگا تبھی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ صرف اعلان سے کام نہیں ہونے والا۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2012

نریندر مودی کی چوتھی پاری شروع

گجرات میں تیسری بار جیت کا پرچم لہرا کر بدھ کے روز نریندر مودی کھچا کھچ بھرے احمد آباد کے سردار پٹیل اسٹیڈیم میں پھر سے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لینے پہنچے تو پوری بھاجپا ہی نہیں بلکہ پورا این ڈی اے بھی ان کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ حلف لینے سے پہلے نرمی سے انہوں نے مختلف مذاہب کے پیشواؤں ،مولوی، مہاتما و عیسائی پادریوں سے آشیرواد لیا اور اپنی ماں ہیرا بین کے پاؤں چھوئے۔ حلفب برداری تقریب میں یوں تو لیڈروں کا آنا ایک خانہ پوری ہوتی ہے لیکن مودی کے اس گرانڈ شو کے سیاسی مطلب نکالے جاسکتے ہیں۔ ایک دو لیڈروں کو چھوڑدیا جائے تو بھاجپا کے سبھی سرکردہ لیڈروں کے ساتھ دوسری لائن کے لیڈر وہاں موجود تھے۔ وہیں این ڈی اے میں جنتا دل (یو ) کو چھوڑ کر دوسرے ساتھی ہی نہیں بلکہ پرانے اتحادی بھی ایک ساتھ نظر آئے۔ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا ،انڈین نیشنل لوک دل کے صدر اوم پرکاش چوٹالہ کی موجودگی کو بھی خاص دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے۔ قابل غور ہے کہ ہریانہ میں بھاجپا نے مفاد عامہ کی خاطر کانگریس کا ہاتھ تھاما ہے۔ پھر بھی چوٹالہ مودی کا جوش بڑھانے پہنچے تھے۔ اتنا ہی نہیں ساتھی پارٹی شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے آئے تو تقریب میں ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے بھی موجود تھے۔ بھاجپا کے سارے وزرائے اعلی موجود تھے۔ 
بھاجپا سے لال کرشن اڈوانی، پارٹی صدر نتن گڈکری، سشما سوراج، ارون جیٹلی، راجناتھ سنگھ سمیت شاہنواز حسین، مختار عباس نقوی وغیرہ وغیرہ سبھی موجود تھے۔ سیاسی پارٹیوں کا یہ مجموعہ اس لئے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پچھلے دنوں مودی کے وزیر اعظم امیدواری کی دعویداری کی بات اٹھتی رہی ہے۔ عام طور پر مودی کی ساکھ کٹر ہندوتو نیتا کی رہی ہے۔ ایسے میں کسی مسلم دانشور سے مودی کی تعریف ہو، کوئی نئی بات ضرور ہے۔ دارالعلوم دیو بند کی مجلس شورہ کے ممبر اور سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی نے کہا کہ گجرات میں مسلم حمایت کے سبب بھاجپا کو 20 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ گجرات کے سورت میں پیدا اور دینی جدید تعلیمی ادارے چلانے والے 61 سالہ دیو بندی عالم غلام محمد وستانوی نے کہا کہ نریندر مودی کی جیت سے گجرات کے مسلمانوں میں کوئی عدم سلامتی کا احساس نہیں ہے۔ گجرات کے مسلمان پچھلے10 سالوں سے سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں اور اپنے کاروبار چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایک دہائی کے دوران گجرات فساد سے پاک رہا۔ اس دوران مسلمانوں کی حق تلفی نہیں ہوئی، اس کا سہرہ وزیر اعلی نریندر مودی کو جاتا ہے۔ مودی کو وزیر اعظم کی شکل میں پروجیکٹ کئے جانے کے سوال کوانہوں نے یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ ابھی اس کا جواب دینے کا وقت نہیں آیا۔ بھاجپامیں اس عہدے کے لئے بڑے نیتاؤں کی طویل فہرست ہے۔ ہم مسٹر مودی کو گجرات کا تیسری بار وزیر اعلی بننے پر مبارکباددیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس جیت سے مغرور نہیں ہوں گے اور عوام کی سبھی طرح کی سیوا کرتے رہیں گے اور ترقی کا راستہ آگے بڑھاتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

سپاہی سبھاش تومر کی موت لوگوں کی پٹائی سے یا ہارٹ اٹیک سے ؟

پچھلے دو دنوں سے ایک نیا تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ دہلی پولیس کے بدقسمت کانسٹیبل سبھاش چندر تومر کی موت کیسے ہوئی؟ قابل ذکر ہے کہ ایتوار کو اجتماعی بدفعلی کے معاملے کے خلاف جاری مظاہرے کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں زخمی ہوئے سبھاش تومر نے منگلوار کی صبح ہسپتال میں دم توڑدیا۔ پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد اس کا پورے سنمان کے ساتھ انتم سنسکار کیا گیا۔ کانسٹیبل سبھاش چندر تومر کی موت بھیڑ کی پٹائی سے ہوئی یا دھوئیں یا لاٹھی چارج سے یا بھگدڑ سے لگے صدمے سے؟ دہلی پولیس کمشنر نیرج کمار فرماتے ہیں کہ چھاتی اور گردن میں چوٹ کے نشان پائے گئے۔ وہ ایتوار کو انڈیا گیٹ پر بھیڑ کار شکارہوئے۔ دوسری طرف رام منوہر لوہیا ہسپتال جہاں سپاہی کی موت ہوئی وہاں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ٹی ۔ ایس سدھو کہتے ہیں کہ صدمے سے سپاہی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ جسم پر کوئی سنگین چوٹ کے نشان نہیں تھے۔
اس درمیان 47 سالہ سپاہی تومر کی پوسٹ مارٹم کے بعد آئی رپورٹ میں ان کی موت کی ایک وجہ نہیں بتائی گئی۔ رام منوہر لوہیا ہسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے جب تومر کو لایا گیا تھا اس وقت وہ مرنے حال تھا اور ہمارے ڈاکٹر اسے ہوش میں لائے۔ کیونکہ اس کی حالت بہت خراب تھی اس لئے ہم نے اسے آئی سی یو میں شفٹ کردیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت کسی چیز کے سینے اور گردن پر لگنے سے آئی چوٹوں کے سبب دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ڈاکٹر سدھو کے اس بیان کے برعکس ہے کچھ معمولی چوٹوں کے علاوہ تومر کو ئی بڑی چوٹ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی گہرے زخم تھے۔
ادھر تومر کے لڑکے ادتیہ کا کہنا ہے میرے والد کی موت انڈیا گیٹ پر مظاہروں کے دوران مچی بھگدڑ کے سبب ہوئی۔ مظاہرین نے انہیں دھکا دیا۔ انہیں کچل دیا۔ انہیں اندرونی چوٹیں آئیں، انہیں دل سے متعلق کوئی بیماری نہیں تھی۔ اس پورے واقعے میں ایک نیا موڑ تب آیا جب واردات کے دو چشم دید گواہوں نے دعوی کیا کہ تومر کو چوٹ نہیں تھی۔ جرنلزم کے طالبعلم و چشم دید گواہ جوگیندر نے دعوی کیا ’’میں اپنی ایک مہلا دوست کے ساتھ انڈیا گیٹ پر تھا جو زخمی ہوگئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ مظاہرین کے پیچھے ایک پولیس والا بھاگ رہا ہے اور وہ اچانک گر گیا، اس کے بعد قریب میں پڑی پی سی آر وین اسے ہسپتال لے گئی۔ میں بھی اسی گاڑی میں گیا تھا، میں نے اسے ہسپتال میں دیکھا اور اس کے جسم پر چوٹ کا کوئی نشان نہیں تھا، وہ بھیڑ کے ذریعے کچلا نہیں گیا اور نہ ہی اسے کوئی چوٹ آئی تھی۔‘ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کونسی بات اور واردات کو سچ مانا جائے؟ حالانکہ اس سے جانے والے کو فرق نہیں پڑے گا وجہ کوئی بھی رہی ہو وہ اپنی ڈیوٹی پر شہید ہوا ہے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2012

اور شندے صاحب پوچھتے ہیں کہ اب لوگ کونسا انصاف چاہتے ہیں؟

مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کہتے ہیں کہ آبروریزی کے خلاف عوام کیوں آندولن کررہی ہے۔ان لوگوں کی زیادہ تر مانگیں مانی جاچکی ہیں۔ ضروری کارروائی کی جارہی ہے۔ قانون میں ترمیم کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ اب لوگ کونسا انصاف چاہتے ہیں؟ ہم بصد احترام وزیر داخلہ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے کونسا انصاف کردیا؟ سارا دیش آبروریزی کرنے والوں کو موت کی سزا کی مانگ کررہا ہے، کیا آپ نے ایک بار بھی یہ صاف کہا ہے کہ متاثرہ لڑکی سے غیر انسانی برتاؤ کرنے والوں کو پھانسی دینے کا انتظام کیا جارہا ہے؟ نہیں؟ آپ تو اصل اشو کو دبانے و عوام کی آواز کو کچلنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے آپ کی وزارت کی گمراہی کی وجہ سے ایک بہادر پولیس جوان کی موت ہوگئی۔ اجتماعی آبروریزی کے خلاف انڈیا گیٹ پر ایتوار کو تشدد پر مبنی مظاہروں کے دوران بری طرح زخمی دہلی پولیس کے 47 سالہ کانسٹیبل سبھاش چندر کی موت ہوگئی۔ اس حکومت کا حالات سے غلط طریقے سے نمٹنے کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ دہلی پولیس بنام دہلی حکومت تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ طالبہ سے آبروریزی کے معاملے کو لیکر دہلی پولیس اور شیلا سرکار کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ وزیر اعلی شیلا دیکشت نے الزام لگایا ہے کہ متاثرہ لڑکی کا بیان درج کرنے گئی ایس ڈی ایم کو دہلی کے پولیس افسروں نے دباؤ میں لیا ہے جبکہ دہلی پولیس کمشنر کہتے ہیں کہ الزام لگانے والی ایس ڈی ایم پہلے بھی ایسی مشکلیں کھڑی کرچکی ہے۔ دراصل معاملہ متاثرہ لڑکی کے بیان درج کرنے والی سب ڈویژنل مجسٹریٹ اوشا چترویدی سے جڑا ہوا ہے۔ ایس ڈی ایم نے الزام لگایا کہ متاثرہ لڑکی کا بیان درج کرنے کے دوران پولیس نے دباؤ بنا کر اپنی سہولیت کے حساب سے بیان درج کرنے پر مجھ سے برا برتاؤ کیا۔ ویڈیو گرافی کرنے کو لیکر بھی کافی وقت خراب ہوا کیونکہ پولیس ایسا کرنے سے روک رہی تھی۔ پولیس، دہلی حکومت اور وزارت داخلہ کے درمیان کون صحیح کہہ رہا ہے اس میں طالبہ کو انصاف دلانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ خاص اشو تو آج بھی وہی ہے جو ایتوار کو تھا۔ قصورواروں کو سزا کب اور کیا ملے گی؟ انتہائی دکھ کا موضوع ہے کہ سرکار سبھی تحریکوں کے ساتھ ایسے ہی برتاؤ کرتی آرہی ہے کہ مانو وہ اپوزیشن پارٹیوں کے مفاد سے متاثر ہے اور کچھ کرائے کے لوگوں کے ذریعے کی گئی آندولن تحریکوں ایتوار سے لیکر اب تک پولیس نے انڈیا گیٹ اور دیگر مقامات پر لڑکوں سے جس طرح برتاؤ کیا ویسا عام طور پر کرائے کے مظاہرین کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا سرکار کو ناراض طالبہ سے بات کرنی چاہئے تھی اور انہیں خاموش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی لیکن یہ سرکار اتنی شش و پنج میں رہی کہ اسے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ مظاہرین سے کیسے نپٹے؟ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ حکومت نے تحریک کے کریکٹر کو سمجھنے میں بھول کی ہے۔ابھی بھی تحریک میں آدھے سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو کسی بھی تنظیم کے ذریعے لائے گئے کرائے کے لوگ نہیں ہیں۔ سرکار ایسا سمجھ رہی ہے کہ یہ پوری تحریک دہلی میں ہوئی ایک آبروریزی کے بارے میں ہے جبکہ یہ ایک جوالہ مکھی ہے جو اس معاملے سے بھڑکی ہے۔ کئی برسوں سے لوگوں کے دل میں آبروریزی کو لیکر ناراضگی ہے اس دیش میں عورتیں چاہے غریب ہوں یا امیر خود کو غیر محفوظ مانتی ہیں۔ دہلی کا واقعہ دیش کی ناراضگی کی علامت بن گیا ہے۔ سرکار اس مسئلے کو 7-8 پولیس ملازمین کو معطل کرکے سلجھا لینا چاہتی ہے۔ سوال یہاں اہم ہے کہ کیا دہلی پولیس ہی دیش میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ دار ہے؟ کیا مرکزی سرکار، دہلی حکومت یا ریاستی حکومتیں و افسران ،عدلیہ ذمہ دار نہیں ہیں؟ عام جنتا کی حفاظت کے لئے بنائی گئی دہلی پولیس کا ایک بڑا حصہ سیاستدانوں ،رسوخ دار لوگوں کی سکیورٹی میں کیوں تعینات رہتا ہے، خاص کر ان لوگوں کی سکیورٹی میں کیوں لگایا گیا ہے جو خود داغ دار ہیں اور جن کے اپنے مجرمانہ بیک گراؤنڈ ہیں؟ آج بھی فورنسک لیب میں کئی عہدوں کی کمی ہے۔ جس سے کرائم کی ریسرچ میں دیری ہوتی ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کا مسئلہ بھی برسوں سے زیر بحث تھا لیکن اس پر کبھی بھی مضبوطی سے فیصلہ پہلے کیوں نہیں لیا گیا؟ عدالتوں میں بھی ججوں کی تقرری کے معاملے مناسب تناسب کے حساب سے نہیں نپٹائے جاتے۔ اس سب کا اثر قانون و نظم پر پڑ رہا ہے۔ ان خامیوں کے لئے پولیس کمشنر نہیں سرکار میں بیٹھے ہوئے سیاستداں اور افسران ذمہ دار ہیں۔ کیا سرکار تب ہلے گی جب بیچاری لاچار بے سہارا لڑکی کو مردہ اعلان کردیا جائے گا؟ اس کو اتنا مارا پیٹا گیا ہے کہ وہ بیچاری بچ تو گئی ہے لیکن اس کی زندگی جہنم ہوجائے گی۔ پچھلے30 برسوں میں آبروریزی اور قتل کے گھناؤنے معاملوں میں محض تین لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔ پھانسی دینے کا قانون بنا دینے بھر سے مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ سخت سے سخت سزا ضروری ہے۔ ایسے معاملوں میں پختہ قوت ارادی دکھانے کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک حکمراں طبقے میں بیٹھے عوام کے آقاؤں کے ذریعے قوت ارادی نہیں جاگے گی تو پھانسی کی سزا کیا کر لے گی؟ سڑکوں پراترے لڑکوں کی یہ ناراضگی حکمراں طبقے کی اس لیپا پوتی کا ہی نتیجہ ہے۔ معافی دینے میں ریکارڈ قائم کرنے والی ہندوستان کی سابق صدر پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل تو رحم کی عرضیوں پر اپنی دریا دلی دکھاتے وقت بھول گئیں کہ جن لوگوں کی پھانسی کی سزا وہ معاف کررہی ہیں ان میں 7 ایسے درندے ہیں جنہوں نے نابالغ بچیوں کے ساتھ نہ صرف بدفعلی کی بلکہ ان کو بے رحمی سے قتل بھی کیا۔ ان سبھی رحم کی عرضیوں پر صدر کے پاس سفارش وزیر داخلہ شندے صاحب کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہ 7 وہ درندے ہیں جن پر ملامت آمیز حرکت کی سزا پھانسی بھی کم مانی جائے گی۔ بدفعلیوں کو سزا دینے پر پورا دیش ایک رائے ہے۔ اس بڑی مہم کے ذریعے ایک اخبار نے رائے جانی ہے تو 11 ریاستوں کے وزرائے اعلی ، یہاں کے اپوزیشن و حکمراں لیڈر 143 ایم پی، ایم ایل اے پھانسی کے حق میں ہیں۔ یہ ہی نہیں لوک سبھا اسپیکٹر دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے لیڈر کئی مرکزی وزیر بھی اپنی رضامندی ظاہر کررہے ہیں تو آخر پھانسی کے قانون پر مرکزی سرکار اسپیشل اجلاس بلانے سے کیوں ڈر رہی ہے؟اگر سرکار ججوں کی بات کرتی ہے تو وہ ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے بہوگنا ساکن بٹھیل چوپڑا کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ اس طرح کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ جسٹس پرتاپ ہرداس اور ارون چودھری کی بنچ نے کہا عورتوں کے خلاف سنگین جرائم کے لئے سزائے موت دی جانی چاہئے۔ رہی بات دنیا کے رد عمل کی ،پہلی بات تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے، دوسری بات دنیا کے دوسرے ممالک میں پھانسی دی جارہی ہے۔ عرب ممالک میں تو اس طرح کے گھناؤنے جرائم کے لئے پھانسی سے بھی زیادہ سخت سزا دی جاتی ہے۔ ایران میں اگر ایسا معاملہ آتا ہے تو وہاں عام معاملوں میں کوڑے مارنے کی سزا اور گھناؤنے معاملوں میں موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ایسی ہی کچھ حالت عراق میں بھی ہے۔ یہاں کے شرعی قانون کی بنیاد پر چوراہے پر مجرم کو پتھر مار کر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ فلپائن میں بھی آبروریز کی سزا موت ہے۔ سعودی عرب میں سب سے بڑا قانون ہے وہاں کوڑے مارنے سے لیکر کھلے عام پھانسی تک کی سزا ہے اور پھانسی بھی ایسے دی جاتی ہے کہ اگر عام آدمی پہلی بار اس منظر کو دیکھے تو بیہوش ہوجائے۔ سری لنکا اور پاکستان میں بھی آبروریزی کے گھناؤنے معاملوں میں موت کی سزا ہے۔ چین میں تو آبروریزکو ڈنڈے مارنے کی سزا و گلا گھونٹ کر مارا جاتا ہے۔ امریکہ میں بھی آبروریزی کی سزا میں الیکٹرانک بجلی کے شاک دئے جاتے ہیں اور ہمارے شندے صاحب پوچھتے ہیں کہ جنتا اب کیا چاہتی ہے؟ یہ ہی نہیں شندے صاحب نے تو مظاہرین طلبا کو ماؤوادی تک کہہ دیا؟
(انل نریندر)

26 دسمبر 2012

ولادیمیر پوتن ہندوستان آپ کا احترام و خیر مقدم کرتا ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن مختصر دورہ پر بھارت تشریف لائے تھے۔ پیر کو بھارت اور روس نے 42 سخوئی جنگی جہازوں و 71 میڈیم لفٹرہیلی کاپٹروں پر مشتمل چار ارب ڈالر کے ڈیفنس سودے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس کے تحت روس کے جدید ترین سخوئی 30- اے کے آئی جنگی جہازوں کی بھارت میں پروڈکشن ہوگی اور رات میں فوجی کارروائی کرنے میں اہل 71 فوجی ہیلی کاپٹر روس سے خریدے جائیں گے۔ روسی صدرولادیمیر پوتن اور ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موجودگی میں دونوں ملکوں کی 13 ویں چوٹی کانفرنس میں اس پر غور وخوض کیا گیا ۔ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان حکمت عملی اور کاروباری رشتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لئے قریب 10 معاہدوں پر اتفاق رائے ہوا۔ ولادیمیر پوتن ہمارے احترام کے حقدار ہیں۔2000ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے بھارت۔ روس تعلقات کو بورس یلتسن عہد نے باہر نکال کر ایک نئی دوستی کا آغاز کیا تھا۔ یہ صدر پوتن کا پانچواں دورۂ ہند ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ روس بھارت کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اسٹیجک سیکٹر میں روس نے پچھلی دہائیوں میں سب سے زیادہ جدید ترین جہاز ،ٹینک، راکٹ لانچر، کروز میزائل، جنگی بیڑے وغیرہ مہیا کروائے ، جس سے بھارت کو اپنی سکیورٹی میں مضبوطی ملی۔ ولادیمیر پوتن اور ڈاکٹرمنموہن سنگھ کے درمیان اب تک اتنی ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور دونوں لیڈروں میں ذاتی طور پر اتنا گہرا دوستانہ ،بھائی چارہ قائم کرلیا ہے کہ باہمی اشتراک کی کوئی چاہے کتنی مشکل پریشانی کیوں نہ ہو وہ ان کے لئے ایک ٹیڑھی کھیر سے کم نہیں ہوسکتی۔ بھارت اور روس کے درمیان رشتے انتہائی دوستانہ ہیں۔ ماسکو میں بھارت کے سفیر اجے ملہوترہ نے پوتن کے دورۂ ہند سے پہلے ماسکو میں کہا چاہے سرکاری سطح پر ہو یا عوامی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ قابل غور ہے کہ بھارت اور روس کے درمیان فوجی تکنیکی تعاون دونوں ملکوں کی حکمت عملی ساجھیداری کا ایک اہم ترین ستون بن چکا ہے۔ کاروباری اور اقتصادی تعاون کے سیکٹر میں دونوں ملکوں نے 2015ء تک سالانہ کاروبار کر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ اس برس کے آخر تک اسے تقریباً12 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ یکم دسمبر2012ء سے 30نومبر 2013ء تک روس دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے گروپ جی20- کی سربراہی کرے گا۔ جی گروپ کی صدارت سنبھالنے کے بعد روس اور زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گا۔ کچھ لوگوں کاتو یہاں تک کہنا ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی معیشت روس کے ہاتھ میں ہے اور روس عالمی تجارت آرگنائزیشن کا چیئرمین بن جانے کے بعد اس خطے میں بھارت۔ روس اشتراک کے نئے مواقعے پیدا ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے کاروباریوں کے درمیان رابطہ اور اشتراک بڑھانے کی غرض سے ہندوستان نے حال ہی میں ویزا قواعد کو بھی مزید آسان کردیا ہے۔ جو کاروباری پھیلاؤ میں کافی مددگار ثابت ہوگی۔ہم صدر ولادیمیر پوتن کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ روس ہمیشہ سے بھارت کا ایسا دوست رہا ہے جس پر بھارت آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرسکتا ہے۔ بیشک آج کی تاریخ میں امریکہ ایک سپر پاور ہے لیکن روس کی اپنی اہمیت ہے۔ پوتن کی رہنمائی میں روس ہر میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور جلد دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا۔
(انل نریندر)

سچن کے سنیاس کیساتھ ایک دور کا خاتمہ

کرکٹر سچن تندولکر کے ریٹائرمنٹ کی بحث پچھلے کچھ عرصے سے جاری تھی۔ خاص کر ٹیسٹ میچوں میں ان کی خراب کارکردگی کو دیکھتے ہوئے۔ اب جب انہوں نے ون ڈے سے ریٹائرہونے کا فیصلہ لیا تو اس پر سب کو حیرت ہورہی ہے۔ حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی خاص وجہ نہیں دکھائی پڑتی۔ بھارت کی ورلڈ کپ جیت کے بعد سے سچن تندولکر بہت کم ونڈے کھیل رہے تھے ،جو اشارہ تھا کہ وہ اس سے جلد ریٹائر ہونے کا ارادہ بنا رہے ہیں۔ ورلڈ کپ جیت سے سچن کی زندگی کی ایک سب سے بڑی تمنا پوری ہوگئی اور انہیں یہ احساس بھی ہوگیا تھا کہ اگلے ورلڈ کپ میں وہ شاید حصہ نہ لے سکیں۔ دراصل سچن کے چہیتے کبھی اپنے ہیرو اور بھگوان کا سر جھکتے دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ پچھلے کچھ عرصے سے سچن رن تو نہیں پارہے تھے الٹے جس طرح سے وہ کلین بولڈ ہورہے تھے اس سے ان کے شائقین اور پرستاروں کو بھی محسوس ہونے لگا تھا کہ ماسٹر بلاسٹر کو اب سنیاس لے لینا چاہئے۔ پچھلے دنوں آسٹریلیا کے مہان کرکٹر کپتان رکی پونٹنگ نے سنیاس لینے کا اعلان کیا تھا۔اس کا بھی سچن پر ضرور اثر ہوا ہوگا۔ بہرحال سچن کا ونڈے کرکٹ سے سنیاس لینے کا فیصلہ لائق خیر مقدم ہے۔ کرکٹ کے اس مہان کھلاڑی کے نام تقریباً ہر ریکارڈ درج ہے۔ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں 100 سے زیادہ سنچری بنانے والے اکیلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے اب تک463 ونڈے میچوں میں سب سے زیادہ 18426 رن بنائے ہیں۔ کرکٹ پرستاروں کو لگ رہا تھا کہ پچھلے سال ورلڈ کپ جیتنے کا خواب پورا ہونے کے بعد وہ دن دور نہیں جب سچن ونڈے سے سنیاس لینے کا اعلان کردیں گے۔ اب جب انہوں نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو سب ہی چاہتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں کچھ دھماکے دار پاریاں کھیل کر عالمی کرکٹ سے بھی پورے سنمان کے ساتھ رخصت ہوں۔ ویسے تو سچن تندولکر کافی برسوں سے ونڈے میچ اپنی پسند کے حساب سے کھیل رہے تھے۔ انہوں نے آخری ونڈے میچ اس سال مارچ میں ایشیا کپ کے دوران کھیلا تھا جس میں انہوں نے اپنی 100ویں سنچری بنائی تھی۔ سچن بھارتیہ کرکٹ کے صحیح معنوں میں مہا نائک ہیں اور کسی مہا نائک پر جب الزامات کی بوچھار ہو یا کیچڑ اچھالی جائے تو اچھا نہیں لگتا۔ سچن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی تنقیدوں کا جواب خود نہ دیکر اپنے بلے سے دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے 23 سال کے طویل کیریئر میں ایسا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کیا۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ عمر کا اثر ان پر بھاری پڑنے لگا تھا۔ ویسے سبھی چاہتے ہیں کہ وہ جب کرکٹ کو قطعی طور پر الوداع کہیں تو اس وقت دھماکے دار پاری کھیلیں۔ سنیاس ایسی چیز ہے جس سے ہر کسی کو گزرنا پڑتا ہے لیکن ریٹائرمنٹ کا ٹائم صحیح ہو تو آپ الزامات کی بوچھار سے بچ سکتے ہیں ،جیسے سنیل گواسکر، رکی پونٹنگ، ایڈم گلکرسٹ نے کیا ہے۔ ہم سبھی چاہتے ہیں کہ کرکٹ کے مہا نائک کی وداعی پورے اعزاز کے ساتھ ہو۔ آئی پی ایل فرنچائزی ممبئی انڈینز نے سنیاس لے چکے سچن کی 10 نمبر کی جرسی کو بھی ریٹائر کرنے کی مہم چلا دی ہے۔ ٹوئٹر پر سچن کے پرستاروں نے لکھا کہ یہ سندیش ہے کہ نمبر 10 صرف سچن کا ہے۔ جب سچن ہمارے لئے ونڈے میں اتنا کچھ کرسکتے ہیں تو کیا ہم ان کا سنمان10 نمبر کی جرسی کو ریٹائر کرکے نہیں کرسکتے۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2012

آزاد بھارت کی تاریخ میں اتنی مجبور قیادت پہلے کبھی نہیں دیکھی

یہ بڑے ہی دکھ کا موضوع ہے کہ دہلی میں نئی نسل کی ہمت کو جس طرح سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس چھوڑ کر توڑنے کی کوشش کی ہے اس کی جتنی بھی ملامت کی جائے کم ہے۔ اس کارروائی نے سارے دیش کو ہلا دیا ہے۔ آبروریزی کے خلاف نوجوانوں میں پیدا ہوئے غصے کو لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پانی کی بوچھار سے بھی سرکار خاموش نہیں کرپائی۔صبح سے رات تک انڈیا گیٹ پر مظاہروں کا دور جاری رہا۔ پہلی مرتبہ وجے چوک پر اتنے لوگوں کی بھیڑ جمع ہوئی جس کا مطالبہ صرف انصاف اور سکیورٹی ہے۔ ان میں سے کوئی نہ تو کسی پارٹی کا ہے اور نہ ہی کسی ذات کا اور نہ ہی کسی ایک جگہ کا ہے۔ یہ کارروائی صرف ان نوجوانوں کو کچلنے کی نہیں تھی۔ عورتوں کے وقار کے حق میں اٹھ رہی آواز کو دبانے کی بھی تھی۔ سارا دیش جب مرکزی سرکار سے ایسے شاطر ملزمان کو سزائے موت دینے سے متعلق قانونی ترمیم کا انتظار کررہا تھا تب جوڈیشیل کمیشن بنانے جیسا قدم رات کو سامنے آیا۔ قصاب کو پھانسی دینے کا سہرہ لینے والے وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے اتنے دباؤ کے بعد بھی کچھ نہ دے سکے۔ ’’سزائے موت ‘‘ لفظ کہنے تک بچتے رہے۔ حقیقت میں یہ منموہن سرکار خود خوفزدہ ہے۔ کوئی سخت فیصلہ لے سکے یہ ہمت اس میں نہیں ہے۔ اس لئے کسی خاتون کو بھروسہ نہیں کہ کمزور لیڈر شپ اس کی حفاظت کرسکتی ہے۔ عورتوں کے وقار کو اس طرح سے تار تار کیا جانا ،جیسا ایتوار کو طالبہ کے ساتھ کیا گیا، ہماری نظروں میں تو یہ ناقابل معافی جرم ہے اس لئے خاندانی جرائم کو بھی سرکار الگ الگ زمروں میں ڈالنا چاہ رہی ہے۔ قتل پر تو پہلے ہی سزائے موت ہے، یوں ہی سرکار تھوڑے ہی کسی کو پھانسی کی سزا سنا سکتی ہے یہ تو عدالت پر منحصر ہے؟ آپ کو تو صرف قانون میں اتنی ہی ترمیم کرنی ہے اس لئے نئی ترمیم لانے میں آنا کانی کیوں؟ کیا سرکار کو ایسے جرائم پیشہ افراد کی زیادہ فکر ہے ؟ وہ تو اس مسئلے پر بحث سے بھی گھبرا رہی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ بھی ایک ہفتے بعد ہوگی۔ عدالتوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ عدالت وہ سزا نہیں دے سکتی جس کا قانون میں ذکر ہی نہیں ہے۔ آبروریزی کے لئے قانون میں 10 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا کی سہولت ہے۔ جج تک مانتے ہیں کہ جن معاملوں میں متاثرہ کی زندگی موت سے بدتر بن گئی ہو ،جیسا کہ اس معاملے میں ہے، قصورواروں کو موت کی سزا ملنی چاہئے۔ اس کے لئے قانون میں ضروری ترمیم ہونی چاہئے۔1994ء میں بدفعلی اور قتل کے گھناؤنے جرم کے لئے دھننجے چٹرجی کی پھانسی پر مہر لگاتے وقت سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ عورتوں کے تئیں بڑھتے تشدد والے جرائم پر سزا کے بارے میں بڑی پیچیدگیاں ہیں۔ زیادہ تر کو سزا نہیں ہوتی۔ مہاراشٹر کے ایک ٹیچر شیواجی کو بدفعلی اور آبروریزی کے جرم میں موت کی سزا سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے پھر کہا کہ قصوروار کو مناسب سزا دیکر سماج کو انصاف کی پکار کا جواب دینا چاہئے۔ قانون کا مقصدسماج کی حفاظت اور جرائم پیشہ کور خوفزدہ کر جرائم کرنے سے روکنا ہے۔ ہماری رائے میں صدر بھی تھوڑا چوک گئے۔ نوجوانوں سے کھل کر ہی مل لیتے۔ پیپلز پریزینڈنٹ بن جاتے۔ عبدالکلام سے بھی آگے بڑا موقعہ تو کانگریس صدر کے پاس تھا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی چاہتیں تو تاریخی فیصلہ لے بھارت کی سرزمین کو وقار دلا سکتی تھیں۔ گاندھی خاندان کے ممبر کیا یہ بھول گئے کہ جب دہلی کے پہاڑ گنج میں خوفناک آگ لگنے پر راجیو گاندھی خود موقعے پر پہنچ گئے تھے اور لوگوں کی مدد میں لگ گئے تھے۔ دیگر گڑ بڑیوں میں انہوں نے ایک خارجہ سکریٹری اور ایک وزیر اعلی کو برخاست کردیا تھا۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ اب سیاسی اقتدار کی بجائے افسروں کی حکومت ہے۔ پچھلے پانچ دنوں سے ہزاروں لڑکے لڑکیاں سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ وقت رہتے انہیں خاموش کرنے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس، پانی کی بوچھاریں ماری جارہی ہیں۔ اس آبروریزی واقعہ کے ملزمان کی گرفتاری اور پانچ پولیس ملازمین کی معطلی سے محض دہلی پولیس ،دہلی سرکار ، انتظامیہ اور وزارت داخلہ ذمہ دار ی سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتے۔ عام جنتا کی قربانی لینے کی جگہ سیاسی پارٹی ،بدنظمی اور قانون میں فوری تبدیلی کے لئے ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھانے جارہی ہے؟ راجدھانی میں بگڑے حالات کیا پورے سیاسی نظام کے لئے داغ نہیں ہیں؟ آزاد بھارت کی تاریخ میں اتنی مجبور لیڈر شپ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
(انل نریندر)

کیا 2014 ء لوک سبھا چناؤ مودی بنام راہل ہوگا؟

کیا 2014ء کا لوک سبھا چناؤ نریندر مودی بنام راہل گاندھی لڑا جائے گا؟ یہ دعوے سے تو نہیں کہا جاسکتا لیکن محسوس تو ایسا ہی ہورہا ہے۔ سب طرح کی کوشش کرنے کے باوجود بھی گجرات میں نریندر مودی کو تیسری مرتبہ کامیابی پر کانگریس بھلے ہی کچھ کہے یا نہ کہے لیکن چناوی نتائج نے تو کانگریس لیڈر شپ کے سامنے کئی نئی چنوتیوں کی زمین تیار کردی ہے۔ کانگریس نے گجرات میں مودی بنام راہل لڑائی سے بچنے کی جو حکمت عملی بنائی تھی وہ کافی حد تک کامیاب رہی۔ نریندر مودی نے کوشش کی کہ کانگریس گجرات چناؤ کو مودی بنام راہل بنائے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ 2009 کے عام چناؤ میں کانگریس کی پرفارمینس بہتر ہونے کے بعد گذشتہ برسوں میں اترپردیش ، بہار، مغربی بنگال، پنجاب، اتراکھنڈ کے انتخابات میں کانگریس کی چناؤ مہم راہل گاندھی کے ہاتھ میں تھی۔ اس کے باوجود اترپردیش، بہار، مغربی بنگال، پنجاب میں پارٹی کچھ خاص کرشمہ نہیں دکھا سکی، جیسا کہ امید تھی۔ راہل کارڈ فلاپ ثابت ہوئے لیکن ووٹ نہیں گھٹ پائے۔ ان ریاستوں میں کانگریس تنظیم ، گروپ بندی، ٹکٹوں کے بٹوارے میں گڑبڑ یہ بھی کئی اسباب رہے جو کانگریس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوئے۔ پارٹی کو جو امید تھی کہ راہل کا کرشمہ ان سب کمیوں کو ڈھک دے گا، وہ کامیاب نہیں ہوپایا۔ اس ٹریک ریکارڈ کے باوجود کانگریس اگلا لوک سبھا چناؤ راہل کی رہنمائی میں لڑنے کے لئے انہیں بڑی ذمہ داری سونپنے کا خاکہ تیار کرچکی ہے۔ راہل کے سب سے بڑے وفادار دگوجے سنگھ نے تو کہنا بھی شروع کردیا ہے کہ کانگریس2014ء کا چناؤ ان کی لیڈر شپ میں لڑے گی اور راہل کانگریس کے پی ایم امیدوار ہوں گے۔ پارٹی کے کئی دیگر لیڈر و مرکزی وزیر منموہن سنگھ کے رہتے ہی 2014ء چناؤ کے بعد راہل کووزیر اعظم بنانے کا ابھی سے زور لگا رہے ہیں۔ رہی بات خود کے بل پر تیسری بات چناؤ جیت کر گجرات میں بھگوا پرچم لہرانے والے نریندر مودی کو اپنی ماں کے آشیرواد کے علاوہ بھاجپا کے بڑے نیتاؤں کے حصے نے انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے پروجیکٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ نریندر مودی کو سب سے زیادہ دقت این ڈی اے اتحادی پارٹیوں سے ہوگی۔ این ڈی اے کے جنتا دل (یو ) جیسی اتحادی پارٹی کی حمایت کا مسئلہ ہے۔جنتادل (یو) لیڈر اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار فی الحال تو مودی کی کامیابی پر خاموش ہیں لیکن ان کے سپہ سالار یہ کہنے سے نہیں کتراتے کے وزیر اعظم عہدے کی امیدواری کا فیصلہ چناؤ سے پہلے ہی ہوجائے۔ بھاجپا فی الحال اس سے بچ رہی ہے لیکن وہ اس مسئلے کا حل نکالنے میں لگ گئی ہے۔ یہ ممکن ہے بھاجپا لیڈرشپ ابھی تو کئی ریاستوں میں ہونے والے چناؤ میں مودی کو اسٹار کمپینر بنائے۔ پورے دیش میں گھومنے سے پتہ چلے گا کہ مودی گجرات کے باہر کتنے مقبول ہیں۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ بھاجپا کے پاس مودی کا راہل سے مقابلہ کرنے کے لئے اور بھی کئی طریقے ہیں لیکن ان پر قطعی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس وقت دہلی میں لڑکو ں کی ناراضگی ساتویں آسمان پر ہے۔ راہل تو نوجوانوں کے سامنے آنے کی بھی ہمت نہیں کرپا رہے۔ اگر نریندر مودی یہ احساس کریں اور طلبا کو دہلی آکر خطاب کریں تو ان کی مقبولیت اور بھی بڑھے گی۔ بھاجپا کا بھی اس سے تھوڑا بھلا ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2012

بھاجپا ہاری نریندر مودی جیتے۔۔۔2

ہماچل پردیش کے ووٹروں نے جو روایت 1977ء میں شروع کی تھی کہ کسی بھی پارٹی کو مسلسل دوسری مرتبہ سرکار بنانے نہیں دیں گے ، اس پر قائم رہی ہے اور حکمراں بھاجپا کو ہٹا کر پھر سے کانگریس کو اقتدار کی باگ ڈور سونپ دی ہے۔ حکمراں بھاجپا41 سیٹوں سے سمٹ کر26 سیٹوں پر پہنچ گئی ہے اور کانگریس 23 سے بڑھ کر36 سیٹیں ہی جیت پائی ہے۔ کافی عرصے سے تنازعوں اور کرپشن کے الزامات سے گھری کانگریس کے لئے ہماچل کے نتیجے کافی حد تک نہ صرف تسلی بخش رہے بلکہ نئی طاقت دینے والے ثابت ہوسکتے ہیں۔ اترا کھنڈ کی طرز پر ہماچل میں بھی کانگریس اوربھاجپا کے درمیان ٹکر تھی۔ ایگزٹ پول کانٹے کی ٹکر بتا رہے تھے یہ غلط ثابت ہوا۔ بھاجپا جہاں پنجاب کو دوہرانا چاہتی تھی وہیں کانگریس اتراکھنڈ کی نظیر سامنے رکھ کر چل رہی تھی۔ ایسے میں ہماچل کی روایت اور اینٹی کمبینسی فیکٹر کا سہارا لیتے ہوئے کانگریس اپنے لئے واضح اکثریت پانے میں کامیاب رہی۔ ہماچل میں کانگریس کی جیت کی ایک وجہ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت بھی رہیں۔ شیلا جی نہ صرف ہماچل اسکریننگ کمیٹی کی چیئرمین تھیں بلکہ انہی کی وجہ سے کانگریس کے سابق وزیر اعلی و سینئر لیڈر ویر بھندر سنگھ کی واپسی ہوئی ہے۔ کرپشن کے الزام لگانے کے بعد ویر بھدر سنگھ نے مرکزی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا اس کے بعد انہیں سائڈ لائن کیا جارہا تھا۔ بعد میں انہیں ہماچل کانگریس کا پردھان بنایا گیا اور ہونے والے وزیر اعلی کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کا فائدہ کانگریس کو پہنچا۔ ہماچل میں بھاجپا کی ہار کافی حد تک اس کے اندر جاری رسہ کشی کی وجہ سے ہوئی۔ ٹکٹ بٹوارے میں گروپ بندی کے چلتے صحیح ٹکٹوں کی تقسیم نہیں ہوئی۔ شانتاکمار اور جے پی چڈھا جیسے سرکردہ نیتاؤں کو کنارے کرکر ناراض کردیا گیا۔ چڈھا کے کہنے پر تین سیٹیں دی گئیں ۔ تینوں سیٹیں بھاجپا نے جیت لیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گروپ بندی کے چلتے بڑے نیتاؤں کے اثر کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔ ہماچل میں چناؤ مہم کی کمان خود بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے سنبھال رکھی تھی اور چناؤ مہم کے لئے بھی۔جبکہ خود پردھان کرپشن کے الزامات سے گھرا ہو تو آپ حریف (ویر بھدر سنگھ ) کے کرپشن کے الزامات پر کیا کہہ سکتے ہیں؟ بھاجپا کے وزیراعلی پریم کمار دھومل شروع سے ہی دفاع کی شکل میں چناؤ لڑے انہوں نے اپنی حکومت میں ترقی کی بات کی۔ مرکزی سرکار کے ذریعے مہنگائی کے مسئلے اور وزیر بھدر سنگھ کے کرپشن پر زیادہ توجہ رکھی۔ ہماچل میں ووٹروں میں ایک بہت بڑا طبقہ ریاستی ملازمین کا ہے۔ یہ دھومل سرکار کے خلاف تھا۔ ویسے بھی ویر بھدر سنگھ کی آج بھی ان میں اچھی خاصی پکڑ بنی ہوئی ہے۔ ہماچل میں دھومل کے لڑکے انوراگ ٹھاکر کی غیر مقبولیت بھی ایک اشو بنی۔ ہماچل میں جنتا نے دھومل کو ہرایا۔ اگر وہ کانگریس کو جتاتی تو کانگریس36 سیٹوں سے آگے نہ اٹک سکتی تھی۔ یہ بہت زیادہ ہوتا۔ ہماچل کے نتیجے 2014 ء لوک سبھا چناؤ میں اتنی اہمیت نہیں رکھتے۔ کیا یہاں سے کل ملا کر 4 ایم پی آتے ہیں لیکن ہوا بنانے میں مددگار ضرور ہوتے ہیں اس لئے میں کہتا ہوں کہ بھاجپا ہاری نریندر مودی جیتے۔ گجرات ہماچل کے چناؤ نتیجے کو سال2014ء میں ہونے والے عام چناؤ سے جوڑنا جلد بازی ہوگی۔ مودی کی یہ جیت پارٹی کے لئے اہم ہے۔ان کی وزیر اعظم عہدے کے لئے دعویداری مضبوط کرتی ہے لیکن اس جیت سے یہ اندازہ قطعی نہیں لگایا جاسکتا کہ 2014ء میں بھاجپا اقتدار میں آرہی ہے۔ اگلی9 ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں جس میں ہوسکتا ہے کہ عام چناؤ کی تصویر کچھ صاف ہوجائے۔ موٹے طور پر اگر ہمیں گجرات ، ہماچل کا تجزیہ کرنا ہوتو اقتصادی طور پر خوشحالی والی ان دونوں ریاستوں میں چناؤ میں مرکزی اشو مثلاًمہنگائی، کرپشن، بڑھے گھوٹالے حاوی نہیں تھے۔ گجرات میں مودی اور ہماچل میں ویر بھدر سنگھ کی پہچان بھی چناؤ جیتنے کی خاص وجہ بنی۔ کل ملاکر دونوں ہی قومی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا ان دونوں ریاستوں کے نتیجوں سے خوش ہوں گی اور اپنی اپنی یت بتائیں گی۔ (انل نریندر)

اگر سرکار ،پولیس،عدالت چاہے تو آبروریزی معاملہ 10 دن میں نپٹ سکتا ہے

راجدھانی میں ایتوار کی رات چلتی بس میں آبروریزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کو لیکر آج چھٹے دن بھی بڑی تعداد میں طالبات اور عورتوں نے مظاہرہ، دھرنا اور کینڈل مارچ جاری رکھے۔ نئی دہلی میں راج پتھ، انڈیا گیٹ،صفدر جنگ ہسپتال، جنترمنتر اور پی ایم او اور وزارت داخلہ جیسے اہم مقامات پر دن بھر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سبھی کی ایک ہی مانگ تھی کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ دراصل آج اگر عوام اتنی ناراض ہے تو اس لئے بھی کیونکہ بدمعاشوں کا حوصلہ بڑھنے کی ایک وجہ ہمارا سسٹم بھی ہے۔ بدفعلی کے معاملے میں10-10 سال عدالت میں مقدمہ چلے گا تو ایسے میں اس طرح کے واقعات پر کیسے روک لگ سکتی ہے؟ دہلی کی الگ الگ عدالتوں میں آبروریزی کے10 ہزار سے بھی زیادہ معاملے اس وقت زیر سماعت ہیں اگر پورے دیش کا حساب لگا لیا جائے تو یہ تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ حکومت فاسٹ ٹریک عدالت بنانے کی بات تو کررہی ہے ۔پولیس اگر صحیح طریقے سے چھان بین کرے تو ایسے معاملوں میں 7 سے10 دن میں چھان بین پوری کی جاسکتی ہے۔ قانونی ماہر بتاتے ہیں کہ سب کچھ پولیس کی قوت ارادی پر منحصر کرتا ہے ۔ پولیس چاہے تو سات سے دس دن میں چھان بین پوری کرکے چارج شیٹ داخل کرسکتی ہے اور اس کے بعد روزانہ سماعت کی جائے تو زیادہ وقت نہیں لگنا چاہئے لیکن پولیس کو چھان بین کے دوران کچھ اہم نکات پر ضرور توجہ دینی ہوگی تاکہ چھان بین میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ سپریم کورٹ کے سینئروکیل کے ۔ٹی ۔ایس تلسی نے بتایا کہ پولیس کو اس طرح کے معاملے میں سائنسی ثبوت پر توجہ دینی چاہئے۔بس برآمد کی جا چکی ہے، ملزم گرفتار ہوچکے ہیں، بس سے فنگر پرنٹ سے لیکر خون کا سیمپل اور واردات میں استعمال لوہے کی چھڑ وغیرہ برآمدہوچکی ہیں۔ ان تمام نمونوں کی فورنسک رپورٹ آنی چاہئے۔ اور ایف آئی آر کی بنیاد پر فورنسک لیب سے کہا جائے کہ وہ رپورٹ جلد دے دے۔ سپریم کورٹ کے فوجداری کے وکیل ڈی ۔وی گوسوامی نے بتایا کہ آبروریزی کے واقعات میں لڑکی کا بیان بہت اہم ہوتا ہے۔ جہاں تک موجودہ معاملے کا سوال ہے تو اس معاملے میں لڑکی کا بیان درج ہوچکا ہے۔ساتھ ہی لڑکی کا میڈیکل ٹیسٹ کرنے والے ڈاکٹر کا بیان بھی لیا جائے گا، جس پولیس کانسٹیبل نے ایف آئی آر درج کی ہے اس کا بیان بھی لیا جائے گا، اس کے علاوہ جانچ افسر کا بیان اور فورنسک جانچ کرنے والے افسر کا بیان بھی قلمبند ہونا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اگر چاہے تو100 نمبر ڈائل کرنے والے شخص اور اس کی کال اٹینڈ کرنے والے پولیس کانسٹیبل کو بھی گواہ بنا سکتی ہے۔ لڑکی اور اس کے دوست دونوں کی میڈیکل رپورٹ ملزمان کی میڈیکل رپورٹ کے ساتھ فورنسک رپورٹ اہم ثبوت ہے۔ ان گواہوں کے انتخاب اور ثبوتوں کو اکٹھا کرنے میں پولیس کو 7 سے 10 دن کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد پولیس چارج شیٹ داخل کرے۔ چارج شیٹ فورنسک رپورٹ کے بغیر داخل ہوسکتی ہے اور رپورٹ آنے پر ضمنی چارج شیٹ داخل کی جاسکتی ہے۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ گواہوں کی لمبی لسٹ نہ بنائے اور صرف اہم بیانات پر زیادہ توجہ مرکوز کرے۔ یومیہ سماعت ہونی چاہئے۔ ممکن ہو تو صرف خاتون جج مقدمہ سنیں اور خاتون وکیل ہی پیش ہوں۔ لڑکی سے بیہودہ سوالوں سے بچا جائے۔ صرف ان سوالوں پر توجہ مرکوز کی جائے جو سزا کے لئے ضروری ہیں۔ ایسے معاملوں میں اپیل کے معاملے پر بھی غور کرنا ہوگا۔ یہ تو اس کی میعاد اور کارروائی طے کی جائے یا پھر اپیل یا رحم کی پوزیشن میں نہ رکھی جائے لیکن یہ سب کچھ پولیس ، سرکار ،عدالت و فورنسک اور سائنسی لیب کی رپورٹ پر منحصر ہوگا۔ تکلیف دہ پہلو ایک یہ بھی ہے کہ ہم اس سرکار و عوامی نمائندوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں جن میں کئی ممبر اسمبلی سابق ممبر اسمبلی و ممبر پارلیمنٹ خود بدفعلی کے الزامات میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ ایسے سنگین الزامات کو بھی سیاسی اشو بنا کر معاملے کو آگے بڑھنے سے روک یتے ہیں۔ جنتا بھی ایسے خطرناک ملزم نیتاؤں کو بار بار کیوں چنتی ہے۔ ہماری سمجھ سے تو باہرہے کیونکہ یوپی اے اقتدار میں ہے ہم کانگریس صدر سونیا گاندھی سے بہت امید رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں پہل کرکے ایسا سسٹم بنوادیں تاکہ آبروریزی کے معاملوں کا نپٹارہ شروع سے سزا تک 10 دن میں ختم ہوجائے۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2012

بھاجپا ہاری نریندر مودی جیتے۔۔۔1

لوک سبھا چناؤ کا سیمی فائنل مانا جارہاگجرات کا اسمبلی چناؤ کے مقابلے میں نریندر مودی ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ بیشک گجرات اسمبلی چناؤ میں 2007 کے مقابلے بھاجپا کو دو سیٹیں کم ملی ہوں، لیکن اس سے نریندر مودی کی ساکھ کو کوئی نقصان ہونے والا نہیں۔ شری نریندر مودی کی سیاسی زندگی میں یہ سب سے سخت مقابلہ تھا۔ وہ ساری دنیا کے سوڈو سیکولرسٹ سے تو لڑ رہے تھے لیکن اس مرتبہ ان کی لڑائی پارٹی کے اندر سے بھی تھی۔ کیشو بھائی پٹیل ، آر ایس ایس، کانگریس سبھی نے مل کر مودی کو ٹھکانے لگانے کا جو پلان بنایا وہ اوندھے منہ گرا اور مودی نے سب کو پچھاڑ کر ثابت کردیا ہے کہ ہندوتو اور ترقی یہ دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ مودی پر سب سے بڑا الزام ہندو کٹروادی ہونے کا لگتا تھا اور اقلیت مخالفت بھی۔ اس چناؤ نے اسے بھی غلط ثابت کردیا ہے۔ عالم یہ رہا کہ سیکولرزم کی پیروکار کانگریس کو زیادہ تر مسلم اکثریتی سیٹوں پر ہی مات کھانی پڑی۔ گجرات اسمبلی چناؤ کی تقریباً ڈیڑھ درجن سیٹیں مسلم اکثریتی علاقوں میں ہیں جہاں مسلم آبادی 12 سے 24 فیصد تک ہے۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈر احمد پٹیل کو اپنے آبائی شہر بھروچ کی 5 سیٹیں بھاجپا نے جیت لی ہیں۔ اقلیتوں کا بھروسہ جیتنے کے لئے مودی نے ریاست میں سدبھاؤنا اپواس کے ساتھ کئی یاترائیں کی تھیں۔ ترقی کو اشو بناتے ہوئے انہوں نے انہیں ساتھ چلنے کی بھی دعوت دی تھی۔ حالانکہ انہوں نے کسی مسلم کو چناؤ میں ٹکٹ نہیں دیا۔ کانگریس نے صرف چار اقلیتی ممبروں کو ٹکٹ دیا تھا جس میں سے دو جیتے۔گجرات کے مسلمانوں نے مودی کا ٹریک ریکارڈ بھی دیکھا ہے۔ گودھرا کانڈ کو چھوڑ دیں تو گجرات میں کبھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا اور نہ ہی کسی طالبہ کے ساتھ اس طرح سے آبروریزی ہوئی جیسی دیش کی راجدھانی دہلی میں ہوئی۔ گجرات کے مسلمان دیش کی دیگر ریاستوں کے مقابلے سب سے زیادہ اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہیں انہوں نے سوچا ہوگا کہ ٹھیک ہے نریندر مودی بیشک ہٹلر ہوں ،تاناشاہ ہوں لیکن ہم اس کی چھتر چھایا میں محفوظ تو ہیں۔ ہم نے اپنے خاندان کو پال پوسنا ہے اور اچھی طرح سے رہ سکتے ہیں۔ مودی کی جیت میں عورتوں کا خاص کر اشتراک رہا ہے۔ مودی کے عہد میں13 فیصدی عورتوں کی پولنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں کو مودی اس لئے بھا گئے کیونکہ انہیں ایسا حکمراں چاہئے جو دبنگ ہو دبو نہیں۔ کانگریس کو لگا تھا کہ کیشو بھائی پٹیل کے چناؤ میں کودنے سے لڑائی سہ پارٹی ہوجائے گی اور بھاجپا کا ووٹ کٹے گا۔ ووٹ شیئر تو گھٹا ہے لیکن لڑائی سے مودی کا کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ انہیں دو سیٹیں کم ملی ہیں۔ مودی نے دیگر پچھڑی ذاتوں پر خاص توجہ دی۔ جنوبی گجرات کی قبائلی برادریوں کے لئے اثر دار افسران کے ذریعے سے ترقیاتی پروجیکٹوں کو نافذ کراکر پہلے سے ہی ان میں جگہ بنا لی تھی۔ کانگریس نے اپنے پچھلے چناؤ سے سبق سیکھا ہے۔ مثال کے طور پر اس بار راہل گاندھی کوآگے نہیں لایا گیا۔ بہار۔ اترپردیش کے تلخ تجربے سے اس نے سبق لیا ہے اور لڑائی مودی بنام راہل نہ ہونے دی لیکن ٹکٹ کا بٹوارہ دہلی سے راہل کی منڈلی نے ہی کیا تھا اور نرہری امین، راول اور ساگر جیسے سرکردہ لیڈروں کو ٹکٹ نہ دیکر ناراض کرلیا اور یہ اپنے حمایتیوں کے ساتھ مل کر کانگریس کے امیدواروں کو ہی ہروانے میں لگ گئے۔ ایک غلطی دوہرائی جارہی ہے۔ اس بار بھی کانگریس نے اپنی پارٹی کے کسی ایسے لیڈر کو بطور وزیر اعلی پروجیکٹ نہیں کیا جو بھروسے مند اور عوام کے لئے قابل قبول ہو۔ دوسری طرف بھاجپا کے اعلان امیدوار نہ صرف طاقتور تھے بلکہ وزیر اعظم کی شکل میں پروجیکٹ کئے گئے تھے۔ کانگریس نے نہ تو سکیورٹی معاملے میں اور نہ ہی اقتصادی ترقی پر ووٹروں میں مودی کے خلاف ماحول بنانے میں جارحانہ رخ اختیار کیا۔ لگتا ہے کہ گجرات میں تمام حکمت عملی بنانے کے باوجود کانگریس ہار مان کر چل رہی تھی۔ وہ اس کہاوت پر زیادہ توجہ دے رہی تھی کہ ’ہارا ہوا ووٹ فیصد گنتا ہے ،جیتا ہوا کامیاب سیٹیں گنتا ہے‘ ہماری رائے میں اگر ایک لائن میں اس چناؤ کا نتیجہ نکالا جائے تو ہم کہیں گے کہ بھاجپا ہاری ، نریندر مودی جیتا۔
(انل نریندر)

جاپان میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی اقتدار میں واپسی

جاپان کے امکانی وزیر اعظم شنجو اوبے نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ متنازعہ سینکاکو جزیرے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو ایتوار کو ہوئے چناؤ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ چین نے بھی اوبے کی جیت کو لے کر اپنے لئے وارننگ بتایا ہے۔ پریس کانفرنس میں مسٹر اوبے نے کہا کہ سینکاکو جزیرہ جاپان کا قدرتی خطہ ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق جزیرے پر جاپان کا کنٹرول ہے اسے لیکر سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس جزیرے کو چین میں دیاؤں کہا جاتا ہے۔ ادھر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمہ ہواچنچنگ نے کہا ہم اس بات کو لیکر کافی فکرمند ہیں کہ جاپان کس سمت میں جائے گا۔ اس وقت علاقائی واد کے ٹھیک طرح سے نپٹارے کی ضرورت ہے۔ چین سے جاپانی کشیدگی کے درمیان قریب پانچ دہائی تک مسلسل جاپان میں راج کر چکی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی تین سال بعد پھر اقتدار میں لوٹ آئی ہے۔ عام چناؤ میں اسے پارلیمنٹ کے نچلے ایوان کی 480 نشستوں میں سے294 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کی اتحادی یوکومیتاتو پارٹی کو جوڑلیں تو یہ نمبر دو تہائی اکثریت تک پہنچ جاتا ہے۔ ایل ڈی پی کو ملی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہی رہی کے لوگ یوریہیکونوڈا حکومت اور ان کی ڈیموکریٹ پارٹی آف جاپان سے مایوس ہوچکے تھے۔ ڈی جی پی نے تین سال پہلے اقتدار سنبھالا تو اس نے دو بڑے وعدے کئے تھے۔ ایک یہ کے وہ سیاسی اور کارپوریٹ کو کرپشن کی گٹھ جوڑ کو ختم کرے گی، دوسرے مندی سے لڑ رہے دیش کی معیشت کو پٹری پر لے آئے گی۔ لیکن یہ وعدے ہوا ہی ثابت ہوئے ہیں۔ حکمراں پارٹی کے اندر رسہ کشی اور کئی اس کے لیڈروں پر لگے کرپشن کے الزامات نے پارٹی کی ساکھ کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ پھر معیشت میں بھی کوئی قابل قدر بہتری نہیں دیکھنے کو ملی۔لوگوں کا اس سے بھروسہ اٹھتا گیا اور ایل ڈی پی کو اس کا فائدہ ملا۔ ڈی پی جے محض57 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ بہرحال سابق وزیر اعظم شنگجو اوبے کو ایک بار پھر اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ جاپان کے سب سے منہ پھٹ راشٹروادیوں میں گنے جانے والے شنگجو اوبے نے چناؤ مہم کے دوران ساری توجہ معیشت میں بہتری لانے اور شنکاکو جزیرے پر جاپان کی بالادستی کو برقرار رکھنے پررکھا۔ اس جزیرے کو لیکر چین سے جاپان کی تکرار چل رہی ہے اور دونوں دیشوں کے رشتوں میں اتنی کھٹاس آچکی ہے کہ جتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ معیشت کو مندی سے نکالنے کیلئے اوبے کو کچھ سخت فیصلے لینے پڑ سکتے ہیں جیسے درآمدات کو سنبھالنے کے لئے جاپانی کرنسی کو کچھ توازن میں لانا۔ لیکن اقتصادی چیلنجوں سے پار ہوپانا اس کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ جاپانی آبادی میں بزرگوں کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ پنشن کی مار بھی پڑ رہی ہے۔ چین سے جاپان میں آئے کشیدہ ماحول سے اوبے کیسے نمٹتے ہیں یہ بھی ایک چیلنج ہوگا۔ پچھلے عہد میں شنجو کا رویہ بھارت کے ساتھ قربت بڑھانے کا تھا اس لئے ان کی جیت پر بھارت میں قابل اطمینان ردعمل ہوا ہے۔ اگرچین اور جاپان کے رشتوں میں گراوٹ آتی ہے تو بھارت کس طرف جھکے گا؟ یہ آگے دیکھنے والی بات ہوگی۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2012

جنتا کاغصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے عارضی اورغیرموثر سرکاری قدم

دیش کو ہلاکررکھ دینے والی آبروریزی کی وار دات کے بعد جاگی حکومت نے راجدھانی میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے کچھ اقدامات کو اٹھانے کااعلان کیا ہے لیکن ان کے پیچھے قلیل المدتی فکر کے بجائے عام جنتا کی ناراضگی کو خاموش کرنے کی جلد بازی زیادہ دکھائی پڑتی ہے اس میں پرائیویٹ بسوں میں ڈرائیونگ کو شفاف بنانے سے لے کر دہلی میں پی سی آر کی تعداد بڑھانے اور انہیں جی پی ایس سے آراستہ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کے سینئر افسران کے ساتھ طویل غوروخوض کے بعد وزیرداخلہ سشیل کمار شنڈے نے پارلیمنٹ میں ان اقدامات کااعلان کیا ہے سرکار فائر فائٹنگ زیادہ دکھائی دے رہی ہے بہ نسبت سنجیدگی سے احساس ترین اشو کو لے کر کارگر ڈھنگ سے سلجھانے میں ۔ چونکہ اس واردات میں استعمال بس میں کالے شیشے اور پردے لگے تھے اس لئے دہلی میں پرائیویٹ بسوں اور کمرشیل گاڑیوں میں کالے شیشے اور پردے لگانے پر روک لگادی گئی ہے۔قاعدے کے مطابق واردات کے وقت اس بس کو مالک کے پاس ہونا چاہئے تھا۔ لیکن یہ ڈرائیور کے پاس تھی اس لئے یہ تمام بسوں کااستعمال روکنے کی ذمہ داری اب بس مالکان پر ڈال دی گئی ہے۔ چلتی بس میں ہورہے جرائم کو روکنے میں پی سی آر وین کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے رات میں ایسی بسوں میں لائٹ جلائے رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے فوری اقدامات سے ذرا آگے بڑھتے ہوئے وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے کاکہناہے کہ راجدھانی میں چل رہی سبھی بسوں کے ڈرائیور اورہیلپروں کا دہلی پولیس ویری فکیشن کرے گی۔ اس کے بغیر چلنے والی بسوں کو ضبط کرلیا جائے گا۔ سڑکوں پر دہلی پولیس کی موجودگی بڑھانے کے لئے اس کے بیڑے میں پی سی آر وین کی گاڑیاں بڑھائی جائے گی ۔اس اقدامات سے غیرمطمئن بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیا نائڈو نے کہاہے کہ سرکار نے بے ہودہ کرتوتیوں کو موت کی سزا دلانے کے لئے کیا قدم اٹھائے ہے؟ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں قصور واروں کو موت کی سزا دینے کامطالبہ کیا گیا تھا اس کے جواب میں شندے نے گزشتہ 4 دسمبر کو لوک سبھا میں پیش ہوئے جرائم قانون ترمیم بل کااحوالہ دیا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ لوک سبھا میں پیش مجرمانہ قانون ترمیم بل2012 میں بھی آبروریزی کرنیوالوں کو موت کی سزا دینے کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے اس میں زیادہ تر عمر قید کی سزا ہے اب وہ بھی تیزابی حملہ کیا گیا ہو یا اتوار کی رات والی متاثرہ کی طرح مار مار کر ادھ مرا کردیاگیا ہو اجب جب آبروریزی کاواقعہ ہوتا ہے تو تب تب آبروریزی کرنے والے کو موت کی سزا کی مانگ ہوتی ہے اور سرکار کی طرف سے بیان آتے ہیں کہ حکومت سخت سے سخت قدم اٹھائے گی پیچھے کئی مرتبہ جب بھی مجرمانہ قانون میں ترمیم ہوئی ہے اس کے نٹ بولڈ ہی کسے گئے لیکن انگریزوں کے زمانے کے انڈین بینل کورٹ 1860میں کچھ خاص تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ گزشتہ 4دسمبر کو لوک سبھا میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے ذریعہ کرمنل لاء ترمیمی بل 2012میں جرائم پیشہ کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی تو بات کہی گئیں ہے لیکن موت کی سزا کی ہمت شندے بھی پیدا کرپائے ہمیں دکھ سے کہناپڑتا ہے کہ سرکار فائر فائٹنگ زیادہ کررہی ہے بہ نسبت اس اہم ترین سنگین مسئلہ کا کارگر ڈھنگ سے نپٹانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں دکھارہی ہے۔
(انل نریندر)

یہاں موت کے بعد بھی نعش نصیب نہیں ہوتی

ہمالیہ کے مشرقی کاٹ کوٹم رینج میں حالات سیاچن دنیا کے سب بڑے ان کی مقامات میں سے ہے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برفیلا گلیشئر ہے بھارت پاکستان کے درمیان فوجی نوعیت سے اہم ہے لیکن سیاچین میں تعینات فوجیوں کی زندگی کافی دقتوں بھری ہے۔ کب موت آجائے کوئی نہیں بتا سکتا کہ دشمن کی گلیوں سے کئی زیادہ موسم کی کروٹ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔اتوار کو بھی ایسا ہی ہوا ۔ برفیلی چٹانیں گرنے کی زد میں آکر ہمارے بہادر چھ جوانوں کی برف میں ڈب کر موت ہوگئی۔ایک نوجوان لا پتہ ہے مرے فوجی فرسٹ آسام ریجیمنٹ کے تعلق رکھتے تھے وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جے ایس برار نے بتایا کہ یہ برفیلی چٹانیں صبح سوا چھ بجے کے قریب سیاچین کے جنوبی خطے میں رنیف سب سیکٹر میں گری صبح سویرے اسی علاقے میں برفیلا طوفان بھی آگیا تھا۔ اور طوفان رکنے کے کچھ دیر بعد ہی یہ برفیلی چٹانیں گرناشروع ہوگئی یہ فوجی اسی وقت ا پنی چوکی سے دوسری چوکی کی طرف جارہے تھے۔ اوراس کی زد میں آگئے ۔ خراب موسم کے سبب راحت رسانی میں رکاوٹ آئی اور دوپہر بعد تک برف کے نیچے ڈبے 6جوانوں کی موت ہوچکی تھی۔ ان کو مردہ شکل میں نکالا گیا ہے سیاچین میں اگر موت آجائے تو نعش نصیب نہیں ہوتی۔ ڈیفنس کے ماہر مانتے ہیں کہ سیاچین کے فوجی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہاں بھارتیہ فوج کارہناضروری ہے۔ یہاں سے لداخ لہہ اور چین کے کچھ حصوں پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے 21ہزار فٹ سے زیادہ سمندری سطح سے سیاچین کی اونچائی ہے 70کلو میٹر لمبی سرحد میں 0 صفر سے 40 ڈگری سیلس درجہ حرارت رہتا ہے۔ بھارت ہرسال تقریبا 1500کروڑ روپے خرچ کرتا ہے وہی پاکستان میں سیاچین کے دوسرے محاذ تھوڑا نیچا ہے لیکن وہ بھی 500کروڑ روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے پچھلے 28سال سے بھارت پاک سیاچین میں جنگ لڑرہے ہیں اور دونوں میں سیاچین سے فوج ہٹانے کے لئے کم سے کم بات چیت کے بارہ دور ہوچکے ہیں لیکن پاکستان کے اڑیل رویہ اور موقوف کی وجہ سے بھارت اپنافوجی فائدہ کھونا نہیں چاہتا ہے پاکستان کو بھی سیاچین میں اپنے فوجوں کو قربانی دینی پڑرہی ہے۔7اپریل 2012 (اسی برس) برفیلی چٹان کی زد میں 135پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے سیاچین تنازعہ کو لے کر بھارت پاکستان ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ 1989میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ رضا مندی ہوئی تھی کہ بھارت اپنی پرانی پوزیشن پرواپس لوٹ جائے لیکن پاکستان میں موجودہ پوزیشن کی نشاندہی کرنے سے منع کرتا آرہا ہے اور چاہتا ہے کہ بھارت اپنافوجی فائدہ اور قبضہ ختم کرلے ۔ سیاچین کانارتھ حصہ کراکوٹم بھارت کے پاس ہے مغرب کاکچھ حصہ پاکستان کے پاس ہے اور کچھ حصہ پرچین کاقبضہ ہے لیفٹیننٹ جرنل شنکر پرشاد کاکہنا ہے کہ اس مسئلے پر سمجھوتہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ یہاں پر فوجی کارروائیاں بند کرنا دونوں کے مفاد میں ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ دونوں دیشوں میں آپسی بھروسے کی کمی ہے دونوں کو ڈر لگتا ہے کہ کوئی چوکی چھوڑی جائے گی تو دوسرا قبضہ کرلے گا۔ دونوں دیشوں میں سیاچین کی برف کتنی پگھلتی ہے اس کے لئے وقت کاانتظار کرناہوگا۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2012

الزام درالزام نہیں، ایسے واقعات کو کیسے روکا جائے؟

دیش کی راجدھانی دہلی میں ایک مرتبہ پھر وحشی پن کی سبھی حدیں پارکردی گئی ہیں کیونکہ قریب پانچ درندوں نے چلتی بس میں ایک فیزیوتھیریپسٹ ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی۔ لڑکی اور اس کے دوست کو لوہے کی چھڑوں سے بے رحمی سے پیٹا گیا۔ واردات ایتوار کی رات کی ہے اس دن دہلی کی سڑکوں پر دوڑتی بس میں دو گھنٹے تک یہ درندگی کا تماشہ چلتا رہا۔ نشے میں دھت یہ لوگ بعد میں لڑکی اور لڑکے کو چلتی بس سے پھینک کر فرار ہوگئے۔ لڑکی اس وقت صفدرجنگ ہسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ رہی ہے۔ اس وحشی پن کی واردات نے سبھی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ آخر یہ سلسلہ کبھی رکے گا یا نہیں؟ اس سال 8 واقعات اسی طرح کے سامنے آچکے ہیں۔ زندگی اور موت سے لڑ رہی متاثرہ لڑکی ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد پانچ بار بیہوش ہوچکی ہے۔ اسے وقفے وقفے سے ہوش تو آرہا ہے لیکن اس کے سر میں گہری چوٹ آئی ہے جس وجہ سے اس کو23 ٹانکے لگائے گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہاں آنے کے بعد اس کی تین بار زندگی بچانے سے متعلق سرجری ہوچکی ہے۔ حالت ابھی بھی نازک بنی ہوئی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس واردات کے سلسلے میں چار لوگوں کو گرفتار کر گتھے سلجھا لینے کا دعوی کیا ہے۔ واردات کے دو ملزم ابھی بھی فرار ہیں۔ سفید رنگ کی بس میں پیلے پردے اور لال سیٹ اور بس پر یادو لکھا ہوا تھا۔لڑکی کے دوست کے ذریعے دی گئی جانکاری ہی وحشی درندوں کو پکڑوانے میں مددگار بنی۔ پولیس نے ٹرانسپورٹ آفس سے ایسی بس کے بارے میں پتہ لگانے کو کہا لیکن بس کے مالک تک ابھی پولیس پہنچ نہیں پائی۔ بس ڈرائیور سے فون کروایا گیا۔ مالک نے ڈرائیور سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے ،بتانے پر پولیس وہیں پہنچ گئی اور اسے پکڑ لیا۔ ڈرائیور کا نام رام سنگھ ہے۔ سیکٹر تین آر کے پورم میں روی داس جھگی کیمپ میں رہتا ہے۔ ڈرائیور نے پولیس کو بتایا وہ اور اس کے ساتھی شراب کے نشے میں بس کھڑی کرنے جارہے تھے تبھی بس اسٹاپ پر لڑکے لڑکی کو دیکھ کر ان کی نیت بگڑ گئی۔ اب پولیس کو یہ پتہ چلا ہے آبروریزی کرنے والے ملزم شاطر بدمعاش بھی ہیں اور اجتماعی آبروریزی کے واقعے کو انجام دینے سے پہلے ان لوگوں نے ایک کار پینٹر کو بس میں بٹھایا اور پھر اس سے ہزاروں روپے نقدی لوٹ لئے اور اسے آئی آئی ٹی فلائی اوور پر باہر پھینک دیا۔ اب سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کیا جائے؟ دہلی کی وزیر اعلی و دہلی پولیس کمشنر اعلی افسران سے استعفیٰ مانگنے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ آخر یہ پولیس کے لئے ممکن نہیں کے وہ ہر بس میں اور ہر سڑک پر موجود رہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ اگر میری بات کو برا نہ مانا جائے تو میں کہوں گا آج جو حالات بنے ہیں اس کے لئے سماج اور عدلیہ وکیل رشتے دار سبھی ذمہ دار ہیں۔ ہر طبقے نے کسی نہ کسی طریقے سے حالات کو بگاڑا ہے۔ جرائم کرکے اگر زیادہ تر جرائم پیشہ افراد بچ نکلتے ہیں تو اس کے لئے صرف پولیس ہی نہیں بلکہ جج اور سرکاری وکیل بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کے کام کاج کے طریقے کی وجہ سے ہی آج بہت کم لوگوں کو سزا مل پاتی ہے۔ اس کے علاوہ عدالتوں سے گواہوں کا بھروسہ بھی اٹھ جانا اور نچلی عدالتوں کے احکامات میں پولیس و کورٹ و ہائی کورٹ کے ذریعے نکتہ چینی کرنے بھی ایک خاص وجہ ہے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ذریعے مخصوص اختیارات کا استعمال کر چھوٹے چھوٹے احکاما ت میں دخل اندازی سے آج نچلی عدالتیں اپنا بھروسہ کھوتی جارہی ہیں ، اسے جلد روکنے کی ضرورت ہے۔ عدالتوں میں گواہوں کو تکلیف ہوتی ہے ، ان کے مفادات کا خیال نہیں رکھا جاتا،گواہوں کو بار بار عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے اور اگر مقدمے پر کسی وجہ سے کوئی گواہ پیش نہیں ہو تو جج ان کے خلاف وارنٹ جاری کرتے ہیں لیکن ملزم پیش نہیں ہوتا تو وہی جج کچھ نہیں کرپاتے۔ اتنا ہی نہیں جرح کے دوران ملزم یاان کے وکیل گواہ کے کردار کشی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سزا کم ہونے کے پیچھے جانچ کا غلط طریقہ ، انتہائی لاپروائی سے ثبوت اکٹھا نہ ہونے اور فورنسک لیب کے نمونے کی جانچ میں دیری۔ کئی بار چھ مہینے تک جانچ رپورٹ تک نہیں آتی۔ اس کا ایک صحیح طریقہ ہے فاسٹ ٹریک عدالت شروع کی جائے تاکہ ساری کارروائی چھ مہینے کے اندر پوری ہوجائے۔ عدالت میں محض عورت وکیل پیش ہوں۔ سزا ہونے کے بعد اپیلوں پر بھی پابندی لگنی چاہئے۔ سزاہونے کے بعد اپیلوں میں معاملہ سالوں لٹک جاتا ہے یہ سلسلہ روکنا ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ملزمان میں قانون کا ڈر پیدا کیا جائے۔ اس طرح کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ اگر یہاں قانون کا ڈر لوگوں میں ہو تو شاید ایسے واقعات پر تھوڑی لگام لگ سکے گی۔ آبروریزی کے معاملے میں زیادہ تر ملزمان دیر سویر بری ہوجاتے ہیں اور سزا بھی کافی کم ہوتی ہے۔سرکار کو ایسے لوگوں کو سزا دلانے اور سبق سکھانے کے لئے قانون میں تبدیلی لانی ہوگی۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ خوف کے سبب عورتیں دیر شام یا رات میں گھر سے باہر ضروری کام ہونے پر بھی نکلنے سے کترانے لگی ہیں۔ عورتوں کی سلامتی کا معاملہ کافی حساس ہے۔ اس میں پولیس کے ساتھ ساتھ سماج کو بھی بیدار ہونا پڑے گا۔ تکنیک کا استعمال کرنا چاہئے۔ سبھی گاڑیوں خاص کر بسوں میں جی پی ایس لگوا سکتے ہیں۔ اس سے گاڑیوں کی لوکیشن کا پتہ لگ سکے گا۔ میٹرو کی طرز پر گاڑیوں میں سی سی ٹی وی اور الارم کا سسٹم ہونا چاہئے تاکہ بٹن دبانے پر سیدھے پی سی آر کو خبر لگ جائے۔ راجدھانی کے سبھی بس اسٹاپ بڑی سڑکوں، بازاوں اور عمارتوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ سبھی عمارتوں پر ہائی ریزولیوشن کیمرے بھی لگے ہیں۔ دہلی کے سبھی علاقوں میں لڑکوں اور شہریوں کی سول ڈیفنس فوج تیار کی جائے۔ سرکار کی بھاگیداری یوجنا کے تحت ہزاروں کی تعداد میں ان لڑکوں کو رات میں سڑکو ں پر بسوں اور ٹرانسپورٹ کی نگرانی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کچھ عورتوں کے لئے تجاویز بھی ہیں۔ اپنے موبائل فون سے پولیس ہیلپ لائن کا نمبر سیو کرکے رکھیں، اپنے ساتھ لال مرچ پاؤڈر وغیرہ رکھیں۔کسی طرح کا شبہ ہونے پر فوراً پولیس کو خبر کردیں۔ رات میں آٹو یا ٹیکسی لیتے وقت طے کرلیں کے اس میں پہلے سے کوئی سواری نہ بیٹھی ہو یا اندھیری جگہ سے گزرنے سے پرہیز کریں۔ اجنبی کے ساتھ زیادہ گھلیں ملے نہیں اور نہ ہی ان کے ذریعے دی گئی کھانے پینے کی چیزیں کھائیں۔ ممکن ہو تو رات میں گھر سے اکیلے نکلنے سے بچیں۔ ہو سکتے تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس کا نمبر نوٹ کر لیں۔ نمبر ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے رشتے دار کو بھیج دیں۔
(انل نریندر)


19 دسمبر 2012

ایودھیا کے 95فیصدی لوگ شری رام مندر بنانے کے حامی


ایودھیاکے95فیصدی لوگوں کا خیال ہے کہ مندر مسجد تنازعے کا سیاسی کرن ہوا ہے اور42 فیصد لوگوں نے اس کے لئے کانگریس اور26 فیصد لوگوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ 42فیصدی ایودھیا کے باشندے مندر ۔مسجدتنازعے کا حل قانون کے ذریعے نکلوانا چاہتے ہیں جبکہ40فیصد لوگ بات چیت کے ذریعے اس تنازعے کو سلجھانے کے حامی ہیں۔ 18 فیصد لوگ کسی بھی طرح کا حل نہیں چاہتے۔ سب سے اہم حقیقت جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایودھیا میں 95فیصد لوگ رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے حق میں ہیں۔لیکن ساتھ ہی 93فیصد باشندے مندر۔ مسجد اغل بغل بنائے جانے کے خلاف ہیں۔ دلی پترکار سنگھ ،اترپردیش جنرلسٹ ایسوسی ایشن کی (ایودھیا یونٹ) اور میڈیا ایسوسی این فار سوشل سروس اور ایودھیا فاؤنڈیشن نے مل کر دو مرحلوں میں ایودھیا کے باشندوں کی رائے جاننے کے لئے پانچ ہزار لوگوں سے بات کی اور فارم بھروا کر یہ سروے کیا۔ پہلے مرحلے کا سروے پچھلے برس اسمبلی چناؤ کے دوران کیا گیا تھا جبکہ دوسرا مرحلہ پچھلے ماہ نومبر میں منعقد کیا گیا۔ 
دلی پترکار سنگھ کی جانب سے جاری ریلیز کے مطابق مندر۔ مسجد تنازعے کا سیاسی کرن کئے جانے کے لئے 42 فیصدی لوگ کانگریس کو اور26فیصدی لوگ بھاجپا کو 16 فیصدی لوگ سماج وادی پارٹی کو اور8فیصدی لوگ مسلم تنظیموں کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ 5فیصد نے وشوہندو پریشد سمیت ہندوتنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ سروے میں 95 فیصد لوگ چاہتے ہیں جہاں رام للا کی مورتی ہے وہیں رام مندر بنایا جائے جبکہ4فیصد لوگ وہاں سرو دھرم یادگار بنانے کے حق میں ہیں۔ 1فیصدی لوگوں نے اس مقام کو لیکرکوئی رائے ظاہر نہیں کی ہے۔ 98فیصدی لوگ متنازعہ جگہ کو رام جنم بھومی استھل مانتے ہیں اور اتنے ہی اس کو عقیدت کا موضوع مانتے ہیں جبکہ 2فیصدی اسے سیاسی اشو مانتے ہیں۔
ہم ایودھیا کے باشندوں کی خواہش کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں ایک عظیم الشان مندر بنے لیکن اس کے لئے اب اور خون نہ بہایا جائے۔ بہت ہوچکا ہے سیاست بھی بہت ہوچکی ہے۔ بہتر ہے کہ سیاسی پارٹیاں چاہے وہ کانگریس ہو یا بھاجپا یا سپا سبھی اس سے دور رہیں۔ شری رام ہندوستانیوں کے دلوں دماغ میں بسے ہوئے ہیں ۔ یہ نہیں کہ ہمارے مسلم سکھ بھائی بھی شری رام کو نہیں مانتے سبھی مانتے ہیں۔ ہم تمام مسلم پیشواؤں اور تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سب ہندو سادھو سنتوں اور ایودھیا کے باشندوں کے ساتھ مل کر ایک بڑا شری رام مندر بنوائیں۔ رہی بات مسجد کی وہ بھی بنے اور اس میں سبھی ہندو دھرم گورو و تنظیم اور ایودھیا کے باشندے مدد کریں۔ مسجد تھوڑا ہٹ کر بن سکتی ہے کیونکہ مندر کی تعمیر تو اسی مقام پر ہونی چاہئے جو رامن للا کا جنم استھان ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر عدالتیں بھی جلد فیصلہ کریں گی اور یہ اشو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ جے شری رام۔

(انل نریندر)

ہاکی انڈیا کیلئے نئے دور کا آغاز

ایتوار کا دن ہاکی انڈیا کے لئے نئے دور کا آغاز بنا اور بھارتیہ ہاکی کھلاڑیوں کے لئے نئی امیدیں لے کر آیا۔ نئی دہلی کے بارہ کھمبا روڈ پر واقع للت ہوٹل میں ایتوارکو دیش کی ہاکی کی نئی عبارت لکھی گئی۔ مشکل دور سے گذر رہی بھارتیہ ہاکی کے لئے ایک امید کی کرن جاگی ہے۔ آئی پی ایل کی طرز پر ہاکی انڈیا لیگ ٹیم کے سلیکشن کے لئے کھلاڑیوں کی نیلامی ہوئی ہے۔ بھارتیہ ہاکی کا برا حال ہے۔ بین الاقوامی میچ کھیلنے کے لئے کوئی فیس نہیں دی جاتی صرف اسپانسر فیس کے ہی کچھ ہزار ملتے ہیں۔ اب ہاکی انڈیا نے بھی بنائی ہے یکمشت رقم دینے کی اسکیم۔ اس اسکیم کے تحت اب کھلاڑیوں کو 15 لاکھ روپے سالانہ معاہدے کے تحت ملیں گے۔ ہاکی کے مقابلے کرکٹ میں ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کو ہر ٹیسٹ میچ کے لئے7 لاکھ روپے ملتے ہیں اور ونڈے کے لئے بطور فیس4 لاکھ روپے ہے۔ ہر ٹی ٹوئنٹی میچ کے لئے 2 لاکھ روپے کی رقم طے ہے۔ کرکٹ لاکھوں روپے معاہدے میں کما لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں میں نے پڑھا تھا کہ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی سب سے زیادہ رئیس کھلاڑی بن گئے ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی کروڑوں میں ہے۔ سچن تندولکر جو آج کل سرخیوں میں ہیں، کے خلاف ایک الزام لگ رہا ہے کہ وہ کمائی کی وجہ سے کرکٹ سے رٹائرمنٹ نہیں لینا چاہتے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کرکٹ میں بہت پیسہ ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اب لوگوں کا پلان کرکٹ سے ہٹ کر دوسرے کھیلوں کی طرف بھی مڑا ہے۔ کشتی، باکسنگ، شوٹنگ، ٹینس، بیڈ منٹن اور ایتھلیٹ جیسے کئی کھیل ہیں جہاں بھارتیوں نے نام کمایا ہے لیکن ان میں بھی ایسی دھن ورشا نہیں ہوئی جیسی کرکٹ پر ہوئی ہے۔ خیر ! ہم بات کررہے تھے ہاکی انڈیا کی۔ لندن اولمپک میں آخری مقام پررہنے سے ہاکی کھلاڑیوں کی حالت کافی پتلی ہوگئی لیکن اب ان میں سے کچھ ہی قسمت ضرور جاگنے والی ہے۔ کھلاڑیوں کی قسمت پلٹنے کا آغاز ہوگیا ہے۔
دیش میں پہلی بار ہاکی کھلاڑیوں کو جو رقم دی جارہی ہے اس کی انہوں نے امید تک نہیں کی ہوگی۔ پچھلے دنوں چیمپئن ٹرافی میں بھارت کو وقار دلانے والے کپتان سردار سنگھ کو اس کا انعام 78 ہزار ڈالر کی سب سے اونچی بولی میں ملا ہے لیکن سب سے زیادہ رقم پانے والے کھلاڑی ہا لینڈ کے تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور اترپردیش ویزٹس کے ذریعے خریدے گئے ٹین ڈی نوجر رہے۔ انہیں 83 ہزار ڈالر ملیں گے۔ ٹین ڈی نوجر کو سب سے زیادہ رقم دلانے میں سب سے اہم کردار ہندوستانی ڈریگ چلکر وی آر رگھوناتھ کا رہا۔ رگھوناتھ کو لینے کے لئے 76 ہزار ڈالر لگا دئے گئے۔ نوجر اچھے کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ان سے15فیصد زیادہ پاکر 87 ہزار 400 ڈالر پر پہنچ گئے۔ اس نیلامی میں سبھی ٹیموں کو 14 بھارتیہ ،10 غیر ملکی کھلاڑیوں کے طور پر 24 کھلاڑی لینے تھے۔ ہاکی انڈیا کے کپتان سردار سنگھ کی نیلامی پر رد عمل یوں رہا، میں جب تک پہنچا میری بولی لگ چکی تھی۔ سارا دن چلی ہاکی انڈیا لیگ کی بولی کو دیکھ کر بہت مزہ آیا۔ مجھے جو پیسے ملے میں اس سے بہت خوش ہوں۔ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو خاص طور پر اس لیگ سے اپنے کھیل کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2012

امریکہ میں کیوں ہوتا ہے بار بار شوٹ آؤٹ؟

دنیا بھر میں جب بھی باپ اپنے بچوں کواسکول بھیجتے ہیں تو اس بھروسے کے ساتھ کے اسکول میں تو بچہ کم سے کم پوری طرح محفوظ ہے۔ لیکن جب اسکول میں ہی کوئی بڑا حادثہ ہوجائے تو ان کے دکھ کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب امریکہ کے مشرقی صوبے کنیکٹیکر کے ایک پرائمری اسکول میں والدین نے اپنے بچوں کو بھیجا ہوگاتو شاید ہی انہوں نے کبھی سوچا ہوگا کہ اس دن ان کے اوپر قہر ٹوٹ پڑے گا۔ وہ بچے کبھی اسکول سے گھر نہیں لوٹیں گے۔ یہ سوچ کر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بد نصیب دن کنیکٹیکر کے نیو ٹاؤن میں واقع سینڈی کک ایلمنٹری اسکول کے نرسری میں زیر تعلیم بچے صبح 9 بجے ایک نامعلوم حملہ آور نے گھس کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس میں 27 لوگ مارے تئے جن میں 20 بچے بھی شامل تھے۔ امریکہ کی تاریخ میں اسے اب تک کا سب سے بڑا قتل عام مانا جارہا ہے۔ اس واردات سے پورا امریکہ سہما ہوا ہے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ مارے گئے لوگوں کے غم میں امریکی قومی جھنڈا آدھا سرنگوں ہے۔ حملہ آور کے پاس 9 ایم ایم کی دو بندوقیں تھیں۔ اسکول میں اس وقت قریب700 بچے تھے۔ حملہ آور لڑکے کی ماں اسکول میں ٹیچر تھی۔ اس دن سر پھرے نے کلاس روم میں گھس کر پہلے اپنی ماں کو مارا اور پھر18 بچوں کو بھون دیا۔ بعد میں اس نے دیگر7 لوگوں کو مار ڈالا اور پھر خود کو بھی گولی مار لی۔ لڑکا کسی بات سے ماں پرناراض تھا۔ حملہ آور24 سال کا تھا۔ مرنے والوں میں اسکول کی پرنسپل بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوبامہ بھی رو پڑے۔ اس واقعہ سے دیش کو کافی دھکا لگا ہے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لئے قدم اٹھانے ہوں گے۔ ہمارا دل مارے گئے بچوں کے والدین اور ان کے بھائی بہنوں کے لئے پسیج گیا ہے۔ ہم افسوس کا اظہارکرتے ہیں۔ وقت سے پہلے ان کا بچپن چھن گیا ، ان لوگوں کا درد کچھ بھی کہنے سے کم نہیں ہوسکتا۔ بڑا دکھ اور تشویش کا باعث یہ ہے کہ امریکہ میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حملہ آور کا نام ایڈم لانجا بتایا گیا ہے۔ فائرنگ کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر طلبا اور اساتذہ سمیت اسٹاف کی سکیورٹی کے لئے امریکی اسکول کئی طرح کے سخت سکیورٹی پیمانے اپنا رہے ہیں۔ باوجود اس کے اسکولوں کو ایسے واقعات کو روکنے میں ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے۔ پرائمری تعلیم دینے والے قریب 94 فیصد امریکی اسکول پڑھائی کے دنوں میں بڑے دروازے پر تالا لگا دیتے ہیں تاکہ کوئی بغیر اجازت کمپلیکس میں نہ گھس سکے۔ اسکولوں میں نگرانی کے لئے سکیورٹی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ پبلک اسکولوں میں سکیورٹی گارڈوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ یہ ہی نہیں ہتھیاروں کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر دیش میں میٹل ڈٹیکٹر لگادئے گئے ہیں۔ تمام سکیورٹی پیمانے اپنانے کے بعد بھی امریکی اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔10 فروری2012 کو نیو ہیمپشائر کے 14 سالہ لڑکے ہنٹر میک نے بال پول پرائمری اسکول کے کیفٹیریا کی چھت سے کود کر گولی مار لی تھی۔ اس کے دو ہفتے بعد17 سالہ میلین نے بے سہارا لوگوں کے ہائی اسکول میں تابڑ توڑ گولیاں چلائیں جس میں دو کی موت ہوئی۔ 16 اپریل 2007ء کو22 سال کے ایک سر پھرے نے اسٹوڈنٹس جیٹری میں 32 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم متاثرہ والدین کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے دکھ میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں۔
(انل نریندر)

ہندو تیرتھ استھلوں میں بنیادی سہولیات کی کمی

ہم سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ہندو دھارمک استھلوں کی درشا پر نوٹس لیا ہے۔ عدالت کی جسٹس بی ایس چوہان ، جسٹس سوتنتر کمار کی ڈویژن بنچ نے جموں و کشمیر سرکار سے کہا ہے کہ وہ پنچترنی میں واقع امرناتھ کی پوتر گپھا تک سیمنٹ کی بنی ہوئی ٹائل بچھائی جائے تاکہ راستے میں تیرتھ یاتری پھسل نہ سکیں۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ تیرتھ یاتریوں کو پہاڑوں سے نیچے گرنے سے بچانے کے لئے لوہے کی چین پر مبنی کھمبے لگائے جائیں۔ ججوں نے کہا آپ کو ایسا کچھ کرنا ہوگا جس سے لوگ پھسلیں نہیں۔ پنچترنی سے گپھا تک کے راستے کو محفوظ کیا جائے۔ امرناتھ یاتراکے دوران سہولیات کی کمی میں تیرتھ یاتریوں کی موت کی خبروں کا عدالت نے خود ہی نوٹس لیا ہے۔ اس سال امرناتھ یاترا پر قریب 621145 تیرتھ یاتری گئے تھے ۔ اس دوران 93 تیرتھ یاتریوں کی موت ہوگئی تھی۔ امرناتھ بابا کی یاترا میں دوہرا خطرہ ہوتا ہے۔ آتنک وادی حملے کا خطرہ اور دوسرے موسم کی مار لیکن اگر بنیادی سہولیت کی بھی کمی ہوتو یہ انتہائی افسوسناک ہی مانا جائے گا۔ ہر سال امرناتھ یاترا کے دوران کئی لوگوں کے مارے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ حالانکہ سکیورٹی وغیرہ کے پیش نظر اس یاترا میں شامل ہونے والوں کا پہلے ہی رجسٹریشن کرلیا جاتا ہے۔پھر مرحلے وار جتھے روانہ کئے جاتے ہیں۔ شردھالوؤں کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے جموں و کشمیر سرکار اور امرناتھ شرائن بورڈ پورے راستے میں قیام و طعام و طبی سہولت کا انتظام کرتا ہے لیکن پھر بھی ہر سال کچھ تکلیف دہ واقعات ہو ہی جاتے ہیں۔ بلکہ ہر سال مرنے والوں کی تعداد کچھ بڑھ بھی جاتی ہے۔ امرناتھ یاترا پر جانے سے پہلے مقرر ہسپتال سے ہیلتھ سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اس کے لئے اترپردیش ، راجستھان، ہریانہ، پنجاب، چنڈی گڑھ ، ہماچل حکومتوں سے مدد مہیا کرانے کو کہا ہے۔ یہ ریاستیں امرناتھ یاترا کے دوران اپنے ڈاکٹر بھیجیں گی اور مسافروں کو سرٹیفکیٹ مہیا کرانے کے لئے ہسپتال کی نشاندہی کریں گے۔ اس سسٹم سے امرناتھ یاترا کے دوران ہونے والے حادثوں پر لگام لگنے کی امید بندھی ہے۔ دراصل یہ یاترا مشکل اور پیچیدہ راستوں سے ہوکر گزرتی ہے ایسے میں برفیلی آندھی، تیز بارش یا کسی افراتفری کی حالت میں لوگوں کے پھسل کر گہری کھائی میں گھر کر دم توڑ دینے کے واقعات عام ہیں۔ میں اکثر دھارمک یاتراؤں پر جاتا رہتا ہوں۔ ماتا وشنو دیوی میں انتظام اچھا ہے۔ دوسا میں چنڈی پور کے بالا جی مندر میں اس کے سامنے سڑک برسوں سے ٹھیک نہیں بن سکی۔ بارشوں میں یہاں گھٹنوں تک پانی بھر جاتا ہے میں نے وزیر اعلی سے لیکر دونوں متعلقہ ممبران سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن آج تک یہ سڑک نہیں بن پائی۔ دو برس پہلے میں گنگوتری گیا تھا۔ وہاں نہ تو بجلی کا صحیح انتظام تھا اور نہ ہی پانی کا۔ کڑاکے کی سردی میں ہمیں لال ٹین تھمادی گئی۔ آج تک وہاں جرنیٹر تک کا انتظام نہیں ہوسکا۔ تین مہینے پہلے میں کدارناتھ یاترا پر گیا تھا حالانکہ یہ راستہ مشکل اور خطروں بھرا ہے لیکن یہاں راستے میں سہولیات ٹھیک ٹھاک ہیں۔ پہاڑوں میں ایک مشکل ضرور پیش آتی کہ وہاں کافی بارش اور برف پڑتی ہے اور کوئی بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہم کوشش ہی نہ کریں۔ 
(انل نریندر)

15 دسمبر 2012

نہیں رہے بھارت کے انمول رتن پنڈت روی شنکر

بھارتیہ شاستری سنگیت کومغربی ممالک سمیت پوری دنیا میں مقبولیت دلانے والے مہان ستاروادک اور کمپوزر پنڈت روی شنکر نہیں رہے۔ ستار کے اس سرتاج کا امریکہ کے شہر سینڈڈیگو میں ہندوستانی وقت کے مطابق صبح6 بجے دیہانت ہوگیا۔ وہ92 برس کے تھے۔ پنڈت روی شنکر کے سازوں کے جادو کا اثر یہ تھا کہ دی ویلز جارج ہیری سن اور یہودی مینوہن جیسی سرکردہ شخصیات بھی ان سے زبردست متاثر تھیں۔ مغربی ممالک میں ہر گھر میں پہچان بنا چکے پہلے ہندوستانی تھے پنڈت روی شنکر ایک مکمل میوزک ماہر تھے اس لئے انہوں نے سنگیت کو کسی شیلی دھارا یا جغرافیائی حد کے اندر باندھ کر نہیں رکھا۔ سیکھا اور رچا۔ تاعمر مختلف شیلیوں کے انداز سے ملاتے ہوئے اپنے ستار کو زندہ رکھا۔ عالمی سنگیت میں بھارت کے وقار کو بنائے رکھا۔ یوں تو پنڈت روی شنکر نے میہر گھرانے کے استاد الاؤالدین خاں سے باقاعدہ ہندوستانی شاستری سنگیت میں ستار کی تعلیم لی تھی۔ مگر جلد ہی انہوں نے لوک سنگیت اور پاشچتے سنگیت وغیرہ کو جوڑ کر نئے تجربے کئے۔ اس میں انہیں آل انڈیا ریڈیو کی نوکری کرتے وقت زیادہ آسانی ہوئی۔ حالانکہ ان کے سنگیت کا سفر اپنے بھائی اور مشہور ڈانسر ادے شنکر کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ جب وہ 10 سال کے تھے تو انہوں نے مختلف ملکوں کے دوروں پر جانا شروع کردیا تھا۔ اس دوران انہوں نے مختلف واد انسٹومنٹ بجانا سیکھا ۔ ساتھ ہی کئی زبانی اور مختلف ملکوں کا سنگیت بھی سیکھنے کی کوشش کی۔18 سال کی عمر تک روی شنکر اپنے استاد کے ساتھ رہے لیکن نرتیہ کلا میں عالمی پہچان بنانے کا حوصلہ ان میں آگیا اور انہوں نے ستار کے تاروں کو اپنی روح کی آواز بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ کیریئر اور کامیابی کے مقابلہ جاتی دور میں اس فیصلے کے پیچھے شدت کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہے۔ روی شنکر کے لئے یہ فیصلہ محض اپنے راستے اپنی منزل پانے کی دھن بھر نہیں تھا۔ دراصل نرتیہ کا ساتھ چھوڑ کر وادن میدان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی انتھک کوششوں اور تجربوں کو نیا فروغ تھا۔ ستار اور روی شنکر ایک دوسرے کی علامت بن گئے جسے دیش اور دنیا کا سنگیت بھی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ پنڈت روی شنکر نے ہندوستانی شاستری سنگیت میں تنہا اور ایک اجتماعی پروگراموں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنے سنگیت کا جادو بکھیرا ۔ اسی طرح پاشچتے سنگیت کاروں کے ساتھ مل کر آرکیسٹرا کے ذریعے بھی خوب شہرت کمائی۔ حالانکہ ان کے شاستری سنگیت سماروہ میں آرکیسٹرا کے استعمال پر کئی لوگوں نے اعتراض کیا مگر پنڈت روی شنکر نے اس کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ انہوں نے ملک بیرون ملک کئی نامی گرامی سنگیت کاروں کے ساتھ جگل بندیاں کیں اور سرود وادک علی اکبر خاں ، یہودی مینوہن ،جارج ریسن ،جوبن مہتہ وغیرہ کے ساتھ ان کے کام سب سے زیادہ سراہے گئے۔ ستیہ جیت رے کی فلم ’کابلی والا‘ اور رچرڈ اینرو کی ’گاندھی‘ فلم میں دئے ان کے سنگیت آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔’ گاندھی‘ فلم میں بنیادی سنگیت کے لئے انہیں بھاسکر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا کوی گورو رابندناتھ ٹیگور اور پنڈت روی شنکر تک بھارت کی پاسچوی تہذیبی روایت ایک ہی بات دوہراتی ہے کہ ہماری مقامیت اور عالمیت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کی پورک ہے۔ اس کی محافظ ہے۔ ان کے جانے سے سنگیت دنیا کو گہرا جھٹکا پہنچا ہے۔پنڈت روی شنکر کے دیہانت پر نامی گرامی کمپنی گریمی ایوارڈ دینے والی ریکارڈنگ اکیڈمی نے اعلان کیا ہے کہ پنڈت روی شنکر کو بعد از مرگ لائف ٹائم اچیومنٹ گریمی ایوارڈ دیا جائے گا۔ یہ 10 فروری کو لاس اینجلس میں 55 ویں گریمی ایوارڈ تقریب میں دیا جائے گا۔ پنڈت روی شنکر یہ مایاناز ایوارڈ پانے والے پہلے ہندوستانی ہوں گے۔
(انل نریندر)

اور اب آئی سی یو میں گھس کر گولیاں داغیں

گوڑ گاؤں میں ایک ہسپتال میں ہوئی فائرنگ نے چونکادیا ہے۔ ایسے پہلے شاید کبھی ہوا ہے کہ ہسپتال کے آئی سی یو میں گھس کر مریضوں پر گولیاں چلائی گئی ہوں؟ مگر ایسا ہوا ہے گوڑ گاؤں کے سن رائس ہسپتال میں۔ باپ بیٹے آئی سی یو میں بھرتی تھے اس سے پہلے دونوں گروپوں میں مار پیٹ ہوئی۔ مارپیٹ میں ستبیر نامی شخص شدید طور سے زخمی ہوگیا۔ ستبیر کا بیٹا جوگیندر عرف جانی اسے گاؤں کے ہی ہسپتال میں لے گیا۔ اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے آئی سی یو میں منتقل کیا جارہا تھا کہ اسی وقت دوسرے گروپ کے 8-9 لوگوں نے باپ بیٹے پر تابڑ توڑ پانچ گولیاں برسا دیں۔ پولیس کے مطابق جوگیند کے سر اور پیر میں گولیاں لگی ہیں اور ستبیر کے کندھے میں۔ مارپیٹ کے دوران اس کے سر میں شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ ڈی سی پی نے بتایا کھانڈسا گاؤں میں ڈیڑھ سال پہلے جوگیندر اور منوج میں پراپرٹی کو لیکر جھگڑا شروع ہوا تھا۔ اس میں منوج کی شکایت پر جوگیندر اور اس کے چچیرے بھائی کے خلاف اقدام قتل کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ منگل کو سماعت کے دوران دوسرے گروپ کے لوگوں نے ان پر جان لیوا حملہ کردیا۔ زخمی باپ بیٹے اب میدانتا ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت ابھی نازک بتائی جاتی ہے۔ ڈی سی پی کرائم مہیشور دیال نے بتایا کہ ملزمان کی دھڑ پکڑ کے لئے پانچ پولیس ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ دونوں لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حملہ آوروں کو پکڑنے کی کوشش جاری ہے۔ اس معاملے میں پولیس کی لاپرواہی اجاگر ہوئی ہے۔ اگر کورٹ میں سماعت کے دوران دونوں گروپوں میں ہوئے جھگڑے کو پولیس سنجیدگی سے لیتی تو شاید یہ تکلیف دہ حالات نہ پیدا ہوتے۔ وہیں میدانتا ہسپتال میں علاج کے دوران بیٹے کی موت کے بعد باپ کو دہلی ریفر کیا جانا بھی سوالوں کے گھیرے میں بتایا جارہا ہے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ جب شہری اور دیہاتی علاقے کی 90فیصدی آبادی شہر کے انہی ہسپتالوں کے سہارے ہے۔ کئی ہسپتالوں میں میٹل ڈٹیکٹر تک نہیں ہے۔ کچھ بڑے ہسپتالوں میں ضرور خانہ پوری کے طور پر لگے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ہسپتالوں میں فائرنگ کے واقعات ہونے لگے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج گوڑ گاؤں کا پھیلاؤ عالمی سطح کے شہر کی شکل میں ہورہا ہے۔ یہ شہر دنوں دن میڈیکل ہب بنتا جارہا ہے لیکن شہر کا دوسرا حصہ ایسا بھی ہے جس میں پرانے وقت کے کئی قدیمی ہسپتال بہتر علاج کا تو دم بھرتے ہیں لیکن سکیورٹی کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ کئی میں تو گارڈ تک نہیں ہیں۔اگر سرکشا انتظامات صحیح ہوتے تو حملہ آور ہتھیار لے کر ہسپتال میں گھسنے کی جرأت نہیں کرپاتے اور ایک بڑے واقعہ سے بچا جاسکتا تھا۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2012

ہر فتویٰ سب پر نافذ نہیں:اسلامی دانشور

بازو پر ٹیٹو ہے تو نماز جائز نہیں ہے۔مسلم خاتون استقبالیہ میں نہیں بیٹھ سکتیں، موبائل فون پر مقدس قرآن پاک کی آیتیں لوڈ نہیں کی جاسکتیں۔ یہ کچھ ایسی فتوے ہیں جن کو لیکر حالیہ دنوں میں کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ جسم پر گدوائے جانے والے ٹیٹو کو مسلمانوں کے لئے مفتی کرام نے غیر شرعی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ٹیٹو بنوانے سے جسم کی کھال پر خاص سیاہی آجاتی ہے جس پر وضو کا پانی بھی اثر نہیں کرتا۔درالعلوم کے فتوے کے محکمے سے ایک شخص نے یہ سوال پوچھا تھا کیا وہ ٹیٹو گدوا کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے ایک دوسرے فتوے میں مسلم خواتین کو استقبالیہ دفتر میں مقرر کئے جانے کے خلاف ایک فتوی جاری کرتے ہوئے اسے غیرشرعی اور ناجائز قراردیا ہے۔ پاکستان میں واقع ایک کمپنی نے دیوبند سے پوچھا تھا کیا وہ ایک مسلم عورت کو استقبالیہ ملازم مقرر کرسکتی ہے۔ اس کے جواب میں 29 نومبر کو فتویٰ ملا جس میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ادارے یا کسی مفتی کی طرف سے جاری کیا گیا فتوی کیا سبھی مسلمانوں پر نافذ ہوگا؟ دیش کے بڑے مسلم عالموں کی مانیں تو ہر فتوی سبھی پر نافذ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ حوالہ اور حالاتِ خاص پر منحصر کرتا ہے۔ حالانکہ بنیادی عقیدت سے وابستہ فتوے پر کسی مسلمان کے لئے عمل کرنا ضروری ہے۔ جامیہ ملیہ اسلامیہ کے اسلامک اسٹڈیز کے چیف پروفیسر اخترالواسیع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فتوؤں کے ساتھ حالات اور تقاضے جڑے ہوتے ہیں اور ایسے میں وہ سب لاگو نہیں ہوسکتے۔ واسیع صاحب کا کہنا تھا سبھی فتوے سب پر لاگو نہیں ہوتے۔ فتویٰ کسی سوال کا جواب ہوتا ہے۔ ایسے میں قابل غور بات یہ ہے کہ سوال کن حالات اور کن اسباب کے تحت پوچھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مسلم خاتون کے استقبالیہ میں ملازم ہونے سے وابستہ فتوی سب پر نافذ نہیں ہوسکتا۔ دیش کے سب سے بڑے اسلامی ادارے دارالعلوم دیوبند کے شعب�ۂ دارلافتاۂ کی جانب سے حال ہی میں بہت سے فتوے جاری ہوئے جو بحث کا موضوع بنے رہے۔ مثلاً اس نے کہا کے بازو پر ٹیٹو ہونے یا الکوحل ملے عطر کا استعمال کرکے نماز ادانہیں کی جاسکتی۔ دارالعلوم کی طرح سنی مسلمانوں کے ایک دوسرے مذہبی ادارے بریلی مرکزسے بھی کئی بار ایسے فتوے آتے رہے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے اس نے ایک فتویٰ دیا تھا کہ اسلام میں تصوراتی نماز جائز ہے۔ اسلامی مسئلوں پر کئی بین الاقوامی تحقیق سے جڑے پروفیسر جنید حارث صاحب کا کہنا ہے اس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔فتویٰ شرعی حکم ہے جو پوری طرح ہر ایک کے لئے ماننا ضروری ہے لیکن اگر کوئی فتویٰ غیر ضروری لگتا ہے تو اس کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بارے میں کسی بھی عالم یا مفتی سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایک فتویٰ سبھی پر نافذ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں بدلی ہیں۔
(انل نریندر)

اور اب آئی سی یو میں گھس کر گولیاں داغیں

گوڑ گاؤں میں ایک ہسپتال میں ہوئی فائرنگ نے چونکادیا ہے۔ ایسے پہلے شاید کبھی ہوا ہے کہ ہسپتال کے آئی سی یو میں گھس کر مریضوں پر گولیاں چلائی گئی ہوں؟ مگر ایسا ہوا ہے گوڑ گاؤں کے سن رائس ہسپتال میں۔ باپ بیٹے آئی سی یو میں بھرتی تھے اس سے پہلے دونوں گروپوں میں مار پیٹ ہوئی۔ مارپیٹ میں ستبیر نامی شخص شدید طور سے زخمی ہوگیا۔ ستبیر کا بیٹا جوگیندر عرف جانی اسے گاؤں کے ہی ہسپتال میں لے گیا۔ اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے آئی سی یو میں منتقل کیا جارہا تھا کہ اسی وقت دوسرے گروپ کے 8-9 لوگوں نے باپ بیٹے پر تابڑ توڑ پانچ گولیاں برسا دیں۔ پولیس کے مطابق جوگیند کے سر اور پیر میں گولیاں لگی ہیں اور ستبیر کے کندھے میں۔ مارپیٹ کے دوران اس کے سر میں شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ ڈی سی پی نے بتایا کھانڈسا گاؤں میں ڈیڑھ سال پہلے جوگیندر اور منوج میں پراپرٹی کو لیکر جھگڑا شروع ہوا تھا۔ اس میں منوج کی شکایت پر جوگیندر اور اس کے چچیرے بھائی کے خلاف اقدام قتل کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ منگل کو سماعت کے دوران دوسرے گروپ کے لوگوں نے ان پر جان لیوا حملہ کردیا۔ زخمی باپ بیٹے اب میدانتا ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت ابھی نازک بتائی جاتی ہے۔ ڈی سی پی کرائم مہیشور دیال نے بتایا کہ ملزمان کی دھڑ پکڑ کے لئے پانچ پولیس ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ دونوں لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حملہ آوروں کو پکڑنے کی کوشش جاری ہے۔ اس معاملے میں پولیس کی لاپرواہی اجاگر ہوئی ہے۔ اگر کورٹ میں سماعت کے دوران دونوں گروپوں میں ہوئے جھگڑے کو پولیس سنجیدگی سے لیتی تو شاید یہ تکلیف دہ حالات نہ پیدا ہوتے۔ وہیں میدانتا ہسپتال میں علاج کے دوران بیٹے کی موت کے بعد باپ کو دہلی ریفر کیا جانا بھی سوالوں کے گھیرے میں بتایا جارہا ہے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ جب شہری اور دیہاتی علاقے کی 90فیصدی آبادی شہر کے انہی ہسپتالوں کے سہارے ہے۔ کئی ہسپتالوں میں میٹل ڈٹیکٹر تک نہیں ہے۔ کچھ بڑے ہسپتالوں میں ضرور خانہ پوری کے طور پر لگے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ہسپتالوں میں فائرنگ کے واقعات ہونے لگے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج گوڑ گاؤں کا پھیلاؤ عالمی سطح کے شہر کی شکل میں ہورہا ہے۔ یہ شہر دنوں دن میڈیکل ہب بنتا جارہا ہے لیکن شہر کا دوسرا حصہ ایسا بھی ہے جس میں پرانے وقت کے کئی قدیمی ہسپتال بہتر علاج کا تو دم بھرتے ہیں لیکن سکیورٹی کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ کئی میں تو گارڈ تک نہیں ہیں۔اگر سرکشا انتظامات صحیح ہوتے تو حملہ آور ہتھیار لے کر ہسپتال میں گھسنے کی جرأت نہیں کرپاتے اور ایک بڑے واقعہ سے بچا جاسکتا تھا۔
(انل نریندر)


13 دسمبر 2012

کیا لابنگ کے نام پررشوت یا دلالی دی گئی ہے؟

خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کے اپنے فیصلے پر پارلیمانی اکثریت کا انتظام کرنے کے لئے یوپی اے حکومت نے کیسی کیسی ترکیبیں اپنائیں اور کچھ پارٹیوں میں ووٹنگ نے وقت کس طرح سے پینترے بدلے۔ اس کی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور تنازعے نے طول پکڑ لیا ہے۔ خبر ہے کہ امریکہ کی بڑی کمپنی والمارٹ نے خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کی اجازت کی خاطر لابنگ کی مد میں پچھلے چار برسوں میں 250 لاکھ ڈالر یعنی قریب سوا سو کروڑ روپے خرچ کئے۔ غور طلب ہے کہ یہ کسی کا الزام نہیں بلکہ یہ حقیقت خود والمارٹ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے جو اس نے امریکی سینیٹ کو سونپی ہے۔ 300 ارب ڈالر سے زائد کے ہندوستانی خوردہ بازار پر نظر رکھنے والی والمارٹ نے اپنے حق میں گول بندی کرنے کے لئے سواسو کروڑ روپے پھونک دئے۔ وہ چاہتی تھی کہ کسی بھی طرح بھارت کا بازار اس کے لئے کھول دیا جائے۔ بیشک یہ اپنے کاروباری مفادات کی تکمیل کے لئے خرچ کی گئی رقم ہے اور امریکہ میں اس طرح کی لابنگ کو اجازت حاصل ہے۔ مگر بھارت میں والمارٹ کی بے تابی اور طور طریقے مشتبہ لگے ہیں۔ لابنگ اور کمیشن ایجنٹ شپ بھارت کو پوری طرح ممنوع ہے۔ یہاں اس کا مطلب سیدھے رشوت خوری سے لگایا جاتا ہے جو کرپشن مخالف قانون کے تحت ایک جرم ہے۔ سابق وزیر قانون اور سینئر وکیل شانتی بھوشن کے مطابق والمارٹ نے ایف ڈی آئی پر لابنگ کی ہے تو یہ معاملہ صاف طور سے رشوت کا ہے۔ کمپنی نے اسی شخص کو پیسہ دیا ہوگا جو دیش میں ایف ڈی آئی کو اجازت دلانے کی طاقت و اہلیت رکھتا ہے۔ بھوشن فرماتے ہیں کہ کچھ برس پہلے دفاعی سامان خرید معاملے میں ایجنٹوں کو اجازت دینے کی تجویز تھی۔ اس میں ایجنٹ کسی کمپنی یا دیش کی جانب سے جو صرف اپنے پروڈکٹس کو بہتر بنانے کے لئے سرکار سے بات کرتے تھے جس کے لئے فیس طے ہوتی ہے۔ یہ اسی طرح سے ہے جیسے ایک وکیل اپنے موکلوں کا موقف کورٹ میں رکھنے کے لئے فیس لیتا ہے، جو پوری طرح سے جائز ہے۔ لیکن بوفورس سودے میں دھاندلی کے پیش نظر اس ریزولیوشن کو نامنظور کردیا گیا۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ نے بھی ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس دلانے کے لئے مبینہ طور پر لابنگ کی تھی۔ یہ ہی نہیں والمارٹ نے بھارت میں ایف ڈی آئی پر جاری بحث کو متاثر کرنے کے لئے بھی رقم خرچ کی ہے۔ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا ملٹی برانڈ خوردہ میں ایف ڈی آئی کا دروازہ کھولنے کے لئے یوپی اے سرکار پر کسی طرح کا دباؤ تھا؟ آخر وہ کونسے لوگ ہیں جنہیں والمارٹ نے متاثر کیا اور پیسہ دیا؟ ان میں کتنے ہندوستانی شامل ہیں۔پچھلے برس ایف ڈی آئی کا فیصلہ ٹالنے کے بعد سے یوپی اے سرکار کو جس طرح سے بین الاقوامی میڈیا اور دوسری ایجنسیوں کی تنقید جھیلنی پڑی تھی کیا وہ اس پر دباؤ بنانے کا ہتھکنڈہ تھا؟ کیونکہ بھارت میں لابنگ غیر قانونی ہے اور کروڑوں روپے کمپنی نے اس مقصد سے خرچ کئے ہیں۔ یہاں اس کی بہتر رہنمائی ہوسکے اس لئے سوال اٹھنے لگے ہیں کہ سرکار پر دباؤ ہوگا کہ وہ شفافیت کے ساتھ یہ بات کہے کہ اس کی پالیسی سازی ترجیحات کا نہ تو کسی کمپنی خاص سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی اس کی سرگرمی سے۔ سرکار کا جواب اس نقطہ نظر سے بھی صاف ہونا چاہئے کہ وہ اس بابت دیش کو واقف کرائے۔ اگر ایف ڈی آئی کا دروازہ تمام اعتراضات کے باوجود بھی کھولا جارہا ہے تو اس میں کسی کا ذاتی مفاد نہیں ہے۔ دراصل صاف تو یہ ہونا چاہئے اگر کوئی ادائیگی ہوئی تو وہ کسے کی گئی اور کس منشا سے؟ 
(انل نریندر)

اور اب سرکاری نوکریوں میں ترقی کا پینچ پھنسا

سرکاری ملازمتوں میں ترقی میں بھی ایس سی ایس ٹی کو ریزرویشن کا اشو سرکار کے لئے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ جہاں بہوجن سماج پارٹی نے دو تین دنوں کے اندر اس کے لئے آئینی (ترمیمی) بل پارلیمنٹ میں پیش نہ کرانے پر سرکار کے خلاف کسی حد تک جانے کی دھمکی دے ڈالی ہے وہیں سماجوادی پارٹی اس بل کو کسی بھی قیمت پر پاس نہ ہونے دینے کی بات کہہ رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی وجہ سے ترقی میں ریزرویشن سے متعلق بل کو حکومت راجیہ سبھا میں پیش نہیں کرپائی۔ وزیر مملکت پرسنل نارائن سوامی نے اس پر بحث شروع کرنے کی کوشش کی لیکن سپا کی زور دار مخالفت کے سبب کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ سرکاری نوکریوں میں درجہ فہرست ذاتوں و قبائلی طبقات کو ترقی پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہونا کوئی غیر متوقعہ بات نہیں ہے۔ اس کے پورے آثار تھے یہ بھی صاف تھا کہ جہاں بہوجن سماج پارٹی اس بل کو ہر حال میں پاس کروانا چاہے گی وہیں سماجوادی پارٹی ایسا نہ ہونے دینے کے لئے پورا زور لگادے گی۔ آخر کار ایسا ہی ہوا اور اسکے چلتے پارلیمنٹ ہنگامے کا شکار ہوگئی۔ لیکن یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس پر زور زبردستی کی سیاست کی جائے یا ووٹ بینک کی سیاست کے حساب سے فیصلہ لیا جائے۔ یہ دیش کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ ایسا ہورہا ہے۔ ہمیں تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سپا بسپا اپنے اپنے ووٹ بینک کو اہمیت دیں لیکن اس کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتیں یہ ایک حساس ترین اشو ہے اور آئینی ترمیم سے جڑا ہوا اشو ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ آئینی ترمیم ترقی میں ریزرویشن پر سپریم کورٹ کے اہم فیصلے کے بعد کیا جارہا ہے۔ اسی سے وابستہ ایک اور مسئلہ سپریم کورٹ میں آیا ہے۔ فوج میں مذہب ،ذات اور علاقے کی بنیاد پر ہونے والی بھرتیوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس کے۔ ایس ۔رادھا کرشن اور جسٹس دیپک مشرا کی بنچ نے ڈاکٹر آئی ایس یادو کی مفاد عامہ کی عرضی کو سماعت کیلئے داخل کرلیا ہے۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل روہٹن نریمن سے پوچھا ہے کہ کیا فوج میں مذہب، ذات اور خطے کی بنیاد پر تقرری مناسب ہے؟ ڈاکٹر یادو کا کہنا ہے کہ ایئرفورس و بحریہ کے برعکس فوج میں مذہب، ذات اور خطے کی بنیاد پر امتیاز ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ آئینی تقاضہ ذات، مذہب یا خطے کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز برتتا۔فوج میں 15 لاکھ لوگ کام کرتے ہیں ان میں سے25 فیصد ہر سال ریٹائرڈ ہوتے ہیں۔ مادرِ وطن کی خدمت کرنے کا حق کسی طبقہ خاص کے لئے نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ نوکریوں میں ترقی جیسے حساس ترین اشو کے حل کا کوئی ایسا فارمولہ نکالے جس سے نہ کوئی درجہ فہرست یا شیڈول قبائل کے مفادات کی خلاف ورزی نہ ہو اور نہ ہی دیگر طبقوں کے سرکاری ملازمین میںیہ احساس پیدا ہو کہ ان کے حقوق میں غیر ضروری کٹوتی کی جارہی ہے۔ آئینی نکتہ نظر سے اس کا جواز نہیں کہ نوکری میں ریزرویشن کا فائدہ پانے والے ترقی میں بھی ریزرویشن کی سہولت حاصل کریں لیکن سماجی ماحول اور امتیاز یا کسی اسباب سے ان ذاتوں کے طبقات کے سرکاری ملازم اعلی عہدوں پر نہیں پہنچ پارہے ہیں تو پھر سرکار کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ترقی کے موجودہ سسٹم میں بہتری لائیں۔ یہ بہتری کچھ اس طرح کی ہونی چاہئے جس سے اہلیت اور جواز نظرانداز نہ ہو پائے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جس خاندان کو ایک بار ریزرویشن کا فائدہ مل چکا ہو اسے پیڑھی در پیڑھی یہ فائدہ ملتے رہنا چاہئے؟ ویسے اگر ہم اترپردیش میں دیکھیں تو یہ طریقہ تو ایک طرح سے گھما پھرا کر لاگو کررہی ہے۔ جب سماجوادی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ایک طبقہ خاص کو ترجیح ملتی ہے اور جب بہوجن سماج پارٹی آتی ہے تو یہ دوسرے طبقہ خاص کو آگے بڑھاتی ہے۔ ہاں سینٹرل سروسز میں ابھی یہ سلسلہ نہیں چل رہا ہے۔
(انل نریندر)


12 دسمبر 2012

کرناٹک میں بری پھنسی بھاجپا ادھر کنواں تو ادھر کھائی

جنوبی ہندوستان میں بھاجپا کو پہلی بار اقتدار دلانے والے دبنگ لیڈر بی ایس یدی یروپا کے آخر کار پارٹی سے بغاوت کر نئی پارٹی کے اعلان کے بعد کرناٹک میں بھاجپا سرکار پر عدم استحکام کے بادل منڈرانے لگے ہیں۔ آج ایک بار پھر کرناٹک میں بھاجپا کو اپنے کو دوراہے پر کھڑا پا رہی ہے۔ آج جب پورے دیش میں ممکنہ سیاسی تصویر کی بات ہورہی ہے اور بھاجپا مرکز میں اقتدار میں آنے کا خواب لے رہی ہے ایسے وقت میں کرناٹک میں اس کی سرکار کے مستقبل کو لیکر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ایتوار کو یدی یروپا کی کرناٹک جنتا پارٹی کی ریلی میں بھاجپا کے 13 ممبران کے شامل ہونے کے بعد کھلبلی مچ گئی ہے۔ 224 نفری اسمبلی میں بھاجپا سے118 ممبر ہیں جبکہ کانگریس کے71 ، جنتا دل (ایس ) کے 26 اور 7 آزاد ممبران ہیں۔ بھاجپا سے 13 ممبران کے نکل جانے کے بعد ان کی تعداد105 رہ جائے گی۔ یہ اکثریت کے نمبر سے کافی کم ہے۔ کرناٹک میں بھاجپا کی مشکل یہ ہے کہ باغی اپنے اوپر کارروائی کرنے کی پارٹی لیڈر شپ کو کھلی چنوتی دے رہے ہیں ،وہیں پارٹی کو یہ بھی پتہ ہے کہ اگر ڈسپلن شکنی کا ڈنڈاچلایا گیا تو سرکار کا گرنا طے ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر کے مطابق کیونکہ کرناٹک اسمبلی کے چناؤ اپریل کے مہینے میں ہوسکتے ہیں ایسے میں ممبران کے خلاف پارٹی کوئی کارروائی کرتی ہے تو یہ آگ میں گھی ڈالنے جیسی ہوگی۔ یہ ہی نہیں ڈسپلن شکنی کی کارروائی کرنے پر باغیوں کی تعداد بھی بڑھے گی اور ان کی طاقت بھی۔ اگرچہ پارٹی کوئی کارروائی نہیں کرتی تو اس کا پیغام نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے دیش میں پارٹی ورکروں کے درمیان غلط پیغام دے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرناٹک ایسی ریاست ہے جس نے جنوبی ہندوستان کی سیاست میں بھاجپا کی مضبوط پیٹ کے امکان کو بنیاد فراہم کی تھی لیکن کرپشن اور اندرونی رسہ کشی نے پارٹی کے اس امکان کو مدھم کرکے رکھ دیا ہے۔ کرناٹک میں بھاجپا ایک طرح سے اسی طرح کی علاقائی واد ساکھ کی سیاست سے لڑ رہی ہے جس طرح آندھرا پردیش میں کانگریس۔ بھاجپا کی مشکل یہ ہے کرناٹک میں یدی یروپا کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اس کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی ہے۔ مرکز میں کرپشن کے اشو پر یوپی اے سرکار کو گھیرنے کو لیکر کرناٹک کی حالت پہلے ہی پارٹی کو کافی نقصان پہنچا چکی ہے اور دوسری طرف یدی یروپا کے بغاوتی تیوروں کے ساتھ وزیر اعلی جگدیش شیٹر کتنے دن اور اپنی سرکار چلا سکتے ہیں۔ اگلے کچھ دن میں کرناٹک کی سیاست میں تبدیلی کافی دلچسپ ہوسکتی ہے۔ اس درمیان ممکن ہے کہ وزیر اعلی جگدیش شیٹر خود ہی اسمبلی توڑنے کی سفارش کردیں کیونکہ ایسی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ یہ اہم فیصلہ کسی بھی وقت آسکتا ہے اگر شیٹر اسمبلی توڑ دیتے ہیں تو ایک طرف پارٹی اور سرکار پوری طرح اگلے چھ مہینے میں ہونے والے چناؤ پر توجہ دے گی وہیں کسی بھی وقت سرکار کے گرنے کا خطرہ بھی ٹک جائے گا۔ اس کے برعکس یدی یروپا کی رہنمائی والی کرناٹک جنتا پارٹی اب سیدھے بھاجپا کے خلاف مورچہ کھول کر ریاست میں حمایت اور تنظیم کی اپنی زمین کو مضبوط کرناچاہیں گے حالانکہ بھاجپا لیڈر شپ اب بھی ڈیمیج کنٹرول کرنا چاہے گی اور اب امید کرے گی کہ کچھ اور وقت نکل جائے۔
  1. (انل نریندر)

زی گروپ پر بھاری پڑتے نوین جندل

زی نیوز بنام نوین جندل معاملے میں جندل بھاری پڑتے نظر آرہے ہیں۔ جہاں سدھیر چودھری اور سمیر اہلووالیہ تہاڑ جیل میں بند ہیں اور دو بار ان کی ضمانت مسترد ہوچکی ہے وہیں مالک سبھاش چندرا اور ان کے بیٹے پنیت گوئنکا کو تھوڑی مشقت کے بعد راحت مل گئی ہے۔ دہلی کی میٹرو پولیٹن عدالت نے والد و بیٹے کو انترم راحت دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر14 دسمبر تک روک لگادی ہے۔ عدالت نے سبھاش چندرا اور زی انٹرٹینمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر گوئنکا کو جانچ میں شامل ہونے اور تعاون کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جانچ کرنے والی دہلی پولیس کو بھی عدالت نے ہدایت دی کہ وہ14 دسمبر کو ایک تازہ رپورٹ دائر کرے۔ عدالت نے چندرا اور گوئنکا کو بھی ہدایت دی کے وہ پولیس کے پاس اپنا پاسپورٹ جمع کرادے۔ ایڈیشنل سیشن جج راج رانی مترا نے کہا میں نے بڑی توجہ سے بحث سنی ہے اور میرے سامنے رکھے گئے دستاویزات کا بھی مطالع کرتے ہوئے معاملے کے حالات اور سنجیدگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ بچاؤ وکیل اس بارے میں کوئی نتیجہ نہیں پہنچا ہے۔ عرضی گذاروں کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ ضروری ہے یا نہیں۔جس طرح سے یہ معاملہ ابھی تک چلا ہے اس میں دو تین باتیں تو ابھر کر سامنے آرہی ہیں ،پہلی کہ نوین جندل نے پوری تیاری کرکے ہی معاملہ درج کرایا ہے اورا ن کے ثبوتوں کی ابھی تک زی والے کاٹ نہیں کرسکے، نہ ہی زی والے ابھی تک اپنے بچاؤ میں کوئی ٹھوس ثبوت لے کر آئے ہیں۔زی چینل ڈفینسنگ موڈ میں دکھائی پڑ رہا ہے۔ تعجب اس بات کا بھی ہے کوئی الیٹرانک میڈیا نیوز چینل اخبار زی نیوز چینل کی حمایت لیتا نظر نہیں آرہا ہے۔ سدھیر چودھری اور سمیر اہلووالیہ کی بیشک دو مرتبہ ضمانت عرضی خارج ہوچکی ہے لیکن اس پر اوپری عدالتوں میں ضمانت لینے کی کوشش کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ موصولہ اشاروں سے پتہ لگتا ہے کہ جندل گروپ سے 100 کروڑ روپے کی مانگ کے معاملے میں زی نیوز چینل کے چیئر مین سبھاش چندرا پر 286 سیکنڈ بھاری پڑ سکتے ہیں۔ زی نیوز کے مدیر سدھیر چودھری اور سمیر اہلووالیہ کی جب حیات ہوٹل میں جندل گروپ کے حکام کے ساتھ میٹنگ ختم ہوئی تو سمیر نے سبھاش چندرا سے فون پر تقریباً5 منٹ بات کی تھی۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ چندرا اور گرفتار مدیروں کو آمنے سامنے بٹھا کر یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ اس دوران کیا بات ہوئی تھی؟ کرائم برانچ نے دعوی کیا ہے پولیس کے پاس چندرا کے خلاف کافی ثبوت ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہوٹل کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد ہوئی یہ بات چیت ہی چندرا کے خلاف ثبوت بنتی جارہی ہے۔ مدیروں کی جندل گروپ کے ساتھ تین ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ مدیر میٹنگ سے پہلے اور بعد میں بھی چندرا سے بات کرتے تھے۔ موبائل کال ریکارڈ سے یہ بات صاف ہوئی ہے۔ دوسری طرف زی گروپ نے جندل سے روپے وصولنے کے لئے جو قانونی کاغذات تیار کئے تھے ان میں100 کروڑ روپے چیک سے دینے کی بات کہی تھی۔ چیک زی گروپ کے نام سے مانگے گئے تھے۔ وصولی کا قانونی لیٹر زی گروپ کے ٹین اسپورٹس کے لا ڈپارٹمنٹ میں تعینات ایڈوائزر وریش دویہار نے بنایا تھا۔ کرائم برانچ نے پوچھ تاچھ کے لئے انہیں بلایا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ ابھی تک تو یہ کہا جائے گا کہ نوین جندل زی گروپ پر بھاری پڑ رہے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...