Translater

18 اپریل 2015

آخرکار پرگیہ ٹھاکر کو انصاف ! ضمانت کا راستہ صاف

آخرکار مالیگاؤں دھماکے کے معاملے میں گرفتار سادھوی پرگیہ ٹھاکر سمیت دیگر کو تھوڑی راحت ملنے کا امکان ہے۔ دیش کی بڑی عدالت نے سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل سری کانت پروہت سمیت کل11 لوگوں کی ضمانت کی عرضی پر نچلی عدالت سے ایک مہینے کے اندر فیصلہ کرنے کا بدھوار کے روز حکم دیا۔۔پچھلے ساڑھے چھ سال سے جیل میں بندملزمان کی ضمانت عرضی بمبئی ہائی کورٹ نے خارج کردی تھی لیکن سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ ثبوت کی بنیاد پر ان کے خلاف مکوکا ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔ جسٹس ایف ایم آئی کھلی پھلا اور جسٹس شیو کیرتی سنگھ کی ڈویژن بنچ نے یہ بھی کہا کہ ملزمان کی ضمانت عرضیوں سے نمٹنے کے دوران مکوکا کی سخت دفعات پر غور نہیں کیا جائے۔ ملزمان نے ضمانت دینے سے انکار کرنے کے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی درخواست کی تھی کہ سخت مکوکا قانون کے تحت الزامات کا تعین بحال رکھنے کے لئے ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ مالیگاؤں بم دھماکے کانڈ میں پرگیہ ٹھاکر اور دیگر 10 ملزمان کو مکوکا کے تحت سماعت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہائی کورٹ نے اسپیشل عدالت کے اس فیصلے کو بھی مسترد کردیا تھا جس نے اس خصوصی قانون کے تحت الزام منسوخ کردئے تھے۔ مالیگاؤں علاقے میں 29 ستمبر2008ء کو بم دھماکہ ہوا تھا اس میں 7 لوگ مارے گئے تھے۔ بنیادی سازشوں کی شکل میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل ایس پروہت اور سوامی دیانند پانڈے ملزم بنائے گئے۔ جولائی 2014ء میں اسپیشل مکوکا کورٹ نے کہا کہ اینٹی ٹیرر اسکوائڈ نے غلط طریقے سے پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت دیگر 9 پر مکوکا لگایا۔ 4 ہزار صفحات کی چارج شیٹ میں کہا گیا کہ مالیگاؤں کو دھماکے کے لئے اس لئے چنا گیا کیونکہ یہ مسلم اکثریتی علاقہ تھا۔ حملے میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل پرگیہ کی تھی۔ ہائی کورٹ نے اسپیشل کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مکوکا لگائے جانے کو صحیح ٹھہرایا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سادھوی پرگیہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف جو ثبوت پیش کئے گئے ہیں اس میں پہلی نظر میں مکوکا کا معاملہ بنتا ہی نہیں دکھائی دیتا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے موجودہ ثبوت کی بنیاد پر ان کے خلاف مکوکا کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا اس لئے ملزمان کا ایک سے زائد منظم جرائم میں ہاتھ ثابت ہونا ضروری ہے۔ لیکن ایجنسی این آئی اے صرف ایک ملزم راکیش چھاوڑے کو چھوڑ کر دیگر کسی معاملے میں ایسا کچھ ثابت نہیں کرپائی ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت کررہی خصوصی عدالت ان حالات میں چھاوڑے کو چھوڑ کر باقی سبھی کو ضمانت پر رہا کرسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے آخر کار سادھوی پرگیہ وکرنل پروہت سے انصاف کیا ہے۔ اب ان کی ضمانت کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ راحت اس بات کی بھی ہے کہ جو مقدمہ چلے گا وہ مکوکا کے تحت نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

محض آدھے گھنٹے میں کٹ جاتی ہیں چوری کی گاڑیاں

حالیہ وقت میں گاڑیوں کی چوری بڑھ گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ کار چور ہائی ٹیک ہوگئے ہیں۔ وہ صرف پرانی گاڑیاں ہی نہیں چراتے بلکہ اب ان کے نشانے پر وہ گاڑیاں بھی ہیں جو مہنگی ہیں اور لوگوں کے بیچ سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ ان میں ایس یو وی (اسپیشل یوٹیلٹی وہیکل) اور ایم یو وی (ملٹی یوٹیلٹی وہیکل) سب سے زیادہ ہیں۔ حالانکہ چور ان گاڑیوں کو چرانے سے بچتے ہیں جو کہ سیٹلائٹ لاک سسٹم سے آراستہ ہیں۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق گاڑی چور گاڑی چرانے کے بعد اس کو محض آدھے گھنٹے میں کاٹ دیتے ہیں اور اس کا ایک ایک پرزہ بیچ دیتے ہیں۔ آسام سے کانگریس کی ممبر اسمبلی رومی ناتھ کی گرفتاری معاملے میں آٹو چور انل چوہان کا نام آیا ہے اور اسے پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ گاڑی چوروں کا کاروبار مانگ اور سپلائی کے اصول پر کام کرتا ہے جس گاڑی کی سب سے زیادہ مانگ ہوتی ہے اسی کو سب سے زیادہ چوری کیا جاتا ہے۔ دہلی پولیس کے پچھلے دو برسوں میں گاڑی چوری کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 2013ء میں جہاں13895 گاڑیاں چوری ہوئیں وہیں 2014ء میں یہ تعداد بڑھ کر 22223 ہوگئی تھی۔ پولیس کی سالانہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ گاڑی چوری کا حصہ دہلی میں کل ہوئی جرائم کا 15 فیصد ہے اس کی ایک وجہ پارکنگ کی کمی، سڑک کے کنارے گاڑی کھڑی ہونا بھی ہے۔ پولیس ذرائع کی مانیں تو پچھلے ایک سال میں گاڑی چوروں نے فورچونر، ہونڈاسٹی، اسکارپیو اور ویگن آر وغیرہ گاڑیوں کی تلاش کرتے ہیں۔اس طرح کی گاڑی نہ ملنے پر ہی وہ چھوٹی گاڑیوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں بھی سینٹرو آئی 10 ، ویگن آر گاڑی کو گاڑی چور پہلے نشانہ بناتے ہیں۔ پولیس کے مطابق دہلی میں گاڑی چور مایا پوری کے بازار میں بیچتے ہیں۔ کئی بار پولیس نے ایسے کئی چور پکڑے ہیں جو مایا پوری میں جاکر گاڑی بیچ رہے تھے لیکن پچھلے کچھ برسوں میں یوپی کے میرٹھ کے کچھ علاقوں اور جامع مسجد اور مشرقی ریاستوں میں بھی کاریں بیچنے کا دھندہ بڑھا ہے۔ 
شمال مشرقی ریاستوں میں دہلی سے گاڑیاں چوری ہوکر جاتی ہیں ۔ ان کے کاغذات بھی بن جاتے ہیں اور یہیں سے دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ پڑوسی دیش نیپال، بنگلہ دیش میں بھی بیچا جاتا ہے۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ اگر راجدھانی سے کوئی گاڑی چوری ہوجائے تو پولیس کے پاس ایسی کوئی مشینری نہیں ہے کے چوری ہوئی گاڑی کے بارے میں پڑوسی ریاستوں کو مطلع کرسکیں۔ اکثر گاڑی چور گاڑی چرا کر نکلتے ہیں وہ کئی ریاستوں میں سفر کرتے ہوئے گاڑی کو کباڑی بازار میں جاکر بیچ دیتے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ریاستوں کی سرحد پر بھی اس طرح کا کوئی سسٹم کام نہیں کرتا کہ اگر کوئی چوری کی گاڑی جا رہی ہے تو اسے پکڑا جاسکے۔ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ گاڑی چوری کے معاملے میں پولیس ایف آئی آر بھی دیری سے درج کرتی ہے۔ اگر ایف آئی آر کو دوسری ریاستوں کی پولیس سے تال میل بٹھا کر ، ان کے کمپیوٹر یا موبائل سے جوڑ کر الگ سسٹم لایا جائے تو چوری کی وارداتوں پر لگام لگ سکتی ہے۔ سفید کاروں والوں کے لئے وارننگ۔ کار چوری کی سب سے زیادہ وارداتیں سفید کاروں کی ہوتی ہیں۔
(انل نریندر)

17 اپریل 2015

Was Netaji murdered, his family spied upon?

If we go through the history we find that governmentshave  always been involved in espionage. Intelligence system in India exists from the ancient period. India has at present an Intelligence system and structure, which has been developed by the British as they needed to keep an eye on the nationalists especially after 1857. After independence the control of these intelligence agencies was vested with the Central Government. Allegations were made time and again that government is involved in the espionage to keep vigil on its opponents. Now it's the turn of espionage of Netaji Subhash Chandra Bose. AnujDhar, author of the book 'India's biggest Cover up' written on the death of Netaji has alleged through a letter that the then Prime Minister JawaharLal Nehru himself was monitoring and guiding the espionage of Netaji. He has acquired this letter from two files recently made public. According to the letter Nehru had written to then foreign secretary SubimalDutt on 25th November 1957 seeking information about the Japan tour of Amiya Bose, the nephew of Netaji Subhash Chandra Bose. He wrote in the letter: I am sending some pictures of my tour of Renkozi Temple at Tokyo.  I've come to know after the tour that Amiya Bose, the son of Sharat Chandra Bose (brother of Netaji) had visited Tokyo. So I direct you to write to our diplomats at Tokyo and get the information as to  whydid Amiya gone there? Had he contacted the embassy or visited the Renkozi temple? Responding to the letter, then Indian Ambassador to Japan CS Jhasaid there is no information regarding any suspicious activity of Amiya Bose in Japan. But still  controversy surrounds the end of Netaji. Allegations and counter allegations are on while Jagram, the gunner of Netaji has raised another controversy. Veteran freedom fighter Jagram, the personal gunner of Netaji Subhash Chandra Bose, the hero of the freedom struggle has made a sensational  disclosure that Netaji had not died in air crash,as was commonly believed, he was allegedly  murdered. He says thatif  he died in air crash, how could Colonel Habib-ur-Rahman survive? He accompanied Netaji day and night like a shadow. Colonel had migrated to Pakistan after the independence. It's feared that Netaji had been hung in Russia. It would have done by Russian dictator Stalin at the instance of Nehru. 93 year old Jagram told that four years after the bombing of Hiroshima and Nagasaki four leaders were declared war criminals. These included Tojo of Japan, Mussolini of Italy, Hitler of Germany and Netaji Subhash Chandra Bose of India. Tojo jumped from the roof and died. Mussolini was captured and killed and Hitler committed suicide by shooting himself. Only Netaji had survived. He was sent to Russia by Japan. Jagram, the gunner of Netaji for 13 months says that Pt. Nehru had no role in the nation's freedom as compared to Netaji. Not only Gandhiji, but the other big dictators and rulers of the world looked like dwarfs before Netaji. The news of spying on his relatives confirmed that to what extent Nehru was afraid of Netaji. Nehru always felt if Netaji appeared on the scene he would be completely over shadowed and  no one will pay any attention to  him. Now Congress spokesperson Randeep Singh Surjewala has said that the allegations of espionage of Netaji Subhash Chandra Bose by the  former Prime Minister JawaharLal Nehru are malicious. The existing government is propagatinghalf truths to defame the great leader who made  the country strong and great.It would be in the country’s interest if the truth about Netaji’s end period is revealed.The classified files with the Government of India regarding Netaji must be declassified and the controversy settled once for all.

- Anil Narendra

تین دن میں چار نکسلی حملے کیا ظاہر کرتے ہیں

چھتیس گڑھ کے بستر سمیت تین اضلاع میں تین دن کے اندر تقریباً300 کلو میٹر کے دائرے میں ہوئے چار نکسلی حملے ہماری سلامتی اور خفیہ مشینری کے موازنے میں نکسلیوں کی مضبوط حکمت عملی کی ہی نشاندہی کرتے ہیں۔ جس بے خوف انداز میں نکسلی ان حملوں کو انجام دے رہے ہیں اس سے انسداد نکسل آپریشن کی حکمت عملی پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ ہر حملے کے بعد ہم سبق لینے اور پرانی غلطیوں کو نہ دوہرانی کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان سے کچھ سیکھتے نہیں ہیں۔انہیں نہ دوہرانے کی بات تو دور رہی۔ حیرت کی بات یہ ہے سکیورٹی فورسز نے کچھ دن پہلے ہی بستر میں مسلح ماک ڈرل (دکھاوٹی ریہرسل) بھی کی تھی ۔ اس کے باوجود یہ حملے روکے نہیں جاسکے۔ معمولی وقفے سے نکسلی ایسی وارداتوں کو انجام دینے میں مسلسل کامیاب ہورہے ہیں جس سے سکیورٹی فورس کو بھاری نقصان جھیلنا پڑتا ہے اور نکسلی اپنا خوف قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔خاص بات یہ بھی ہے کہ تازہ حملوں نے ان کئی بہانوں کے لئے گنجائش نہیں چھوڑی ہے جو ایسی وارداتوں کے بعد بنائے جاتے ہیں۔ یہ حملے یہی بیان کررہے ہیں کہ نکسلیوں نے پھر سے طاقت بنالی ہے اور وہ نئے سرے سے ہمت کا ثبوت دینے کو تیار نہیں۔ اسی ہمت کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ پہلے حملے میں شہید جوانوں کی لاشیں برآمد کرنے میں 24 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔ جب سی آر پی ایف پر ایسے حملے ہوتے ہیں تو ایک ہی رائج بہانہ رہتا ہے کیونکہ اس فورس کے جوانوں کو مقامی حالات کی معلومات کم تھی ، لہٰذا نکسلی ان پر بھاری پڑ گئے۔ لیکن تازہ نکسلی وارداتوں میں شکار مقامی فورس بھی متاثر ہوئی ہے اور بی ایس ایف بھی ۔ ایسا ہی ایک عام بہانہ یہ بھی رہا ہے کہ مرکز اور ریاستی سطح پر تال میل میں کمی کا فائدہ اٹھا کر نکسلی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہورہے ہیں لیکن چھتیس گڑھ میں برسوں سے بھاجپا کی حکومت ہے اور اب پچھلے تقریباً11 مہینوں سے مرکز کی باگ ڈور بھی اسی پارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ ایسے میں مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان تال میل کی کمی کا بہانہ اب نہیں چل سکتا۔ اگر اب بھی تال میل میں کوئی کمی ہے تو اس کے لئے ریاستی سرکار اور مرکزی حکومت دیگر کسی کو الزام نہیں دے سکتی۔ یہ مایوس کن ہے ایک بار پھر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ چھتیس گڑھ میں پیراملٹری فورس کی خاصی موجودگی کے باوجود ان کا صحیح طرح سے استعمال نہیں ہورہا ہے۔ اگر پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے جوان اسی طرح نکسلیوں کے ہاتھوں شہید ہوتے رہے تو ان کا حوصلہ بنائے رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ اب ضرورت حکمت عملی، تال میل اور وسائل کے سطح پر ایسی پختہ تیاری کی جائے جس کے ذریعے اس لال خوف کی کمر توڑی جا سکے۔ یہ صاف ہوچکا ہے نکسلی حملوں کا سلسلہ رکنے کا یہ نتیجہ نکالنا بڑی غلطی ہے کہ نکسلی اب کمزور پڑ گئے ہیں اور ان کی مار کی صلاحیت کم ہوگئی ہے۔ دراصل جب وہ سرگرم نہیں ہوتے اور آپریشن ڈھیلا پڑجاتا ہے تو وہ ہتھیار اور رسد اکھٹی کرکے نئے سرے سے حملے کرنے کی تیاری کررہے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے نکسلیوں کے خلاف سخت کارروائی کے لئے ماحول بنایاجائے کیونکہ مڈبھیڑ میں نکسلیوں کو ڈھیر کئے جانے پر تو خوف سوال اٹھتے ہیں لیکن ہمارے جوانوں کے شہید ہونے پر محض خانہ پوری کی آواز ہی بلند سنائی پڑتی ہے۔
(انل نریندر)

پی ایم تو جوڑنے کا کام کررہے ہیں اور یہ نیتا توڑنے کا

شیو سینا ایم پی اور پارٹی کے ماؤتھ پیس سامنا کے نگراں مدیر سنجے راوت نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم سماج سے ووٹ کا حق چھین لیا جائے۔ ان کی رائے میں مسلم سماج کو ایک ووٹ بینک کی شکل میں استعمال کیا جارہا ہے جو اس فرقے کے مفادات کے لحاذ سے ٹھیک نہیں ہے اس لئے ان کے مطابق خوش آمدی کی اس حکمت عملی کو ختم کرنا ہے تو اس فرقے کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا جانا چاہئے۔ بیشک یہ ٹھیک ہے کہ اقلیتوں کو ایک ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور اس خوشامدی کی پالیسی پر لگام لگنی چاہئے لیکن کسی فرقے کا ووٹ کا حق چھیننے کی بات کرنا سراسر غلط ہے۔ سنجے راوت کو پورا حق ہے کہ وہ اپنے سیاسی حریفوں کی چاہے جتنی تلخ نکتہ چینی کریں لیکن ووٹ کا حق چھیننے کی بات کر انہوں نے بڑی مصیبت مول لے لی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ جن اوویسی بھائیوں سے شیو سینا کا سیاسی مقابلے کے پس منظر میں راوت کا یہ بیان آیا ہے فرقہ وارانہ سیاست کرنا ان کی پہچان رہی ہے۔ راوت کی اس بات سے کچھ حد تک متفق ہوا جاسکتا ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کسی بھی گروپ کے لئے فائدے مند نہیں ہوتی لیکن دیش میں شاید ہی کوئی پارٹی ایسی ہو جسے بڑے یا چھوٹے پیمانے پر ووٹ بینک کی شکل میں استعمال نہیں کیا جارہا ہو۔ اگر کچھ پارٹیاں مسلم سماج کو اپنا ووٹ بینک مانتی ہیں تو کچھ پارٹیاں فخر سے ہندو ووٹ بینک بنانے کی کوشش کرتی ہیں اور چناؤ کے موقعے پر اس ووٹ بینک کا سارا خزانہ اپنے نام پر کوئی موقعہ نہیں چھوڑتیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے بھاجپا اور ہندوتو کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی طرف سے متنازعہ بیانات کی دوڑ سی لگ گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی دیش کی ترقی کے لئے قوموں کو جوڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں وہیں بھاجپا ایم پی سچیدا نند ہری ساکشی جیسے بڑبولے لیڈر الٹے سیدھے بیان دے کر وزیر اعظم کی مشکلیں بڑھا رہے ہیں۔ متنازعہ بیانات کو لیکر اکثر سرخیوں میں رہنے والے ساکشی مہاراج نے ایتوار کو کہا کہ ہم چار بچے پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں تو ہنگامہ کھڑا ہوجاتا ہے لیکن چار بیویاں اور 40 بچے پیدا کرنے والوں سے آگ کیوں نہیں لگتی؟ آبادی میں اضافہ دیش کو کھانے کے لئے منہ کھولے کھڑا ہے۔اس لئے اب دیش میں خاندانی منصوبہ بندی کو لیکر بھی ایک قانون نافذ ہونا چاہئے اور جو اس کی تعمیل نہ کرے اسے ووٹ کے حق سے محروم کردینا چاہئے۔ یہ کہنا کے سارے مسلمان چار شادیاں کرتے ہیں اور ان کے درجنوں بچے ہوتے ہیں صحیح نہیں ہے۔ زیادہ تر مسلمان ایک ہی شادی کرتے ہیں اور اپنی اولادوں کی اچھی پرورش کی خاطر ایک دو بچے ہی پیدا کرتے ہیں۔ ہاں دیہاتی علاقوں میں انپڑھ آج بھی کنبے بڑھاتے ہیں اور ان کو محدود کرنے کی ضرورت ہے لیکن زور زبردستی سے نہیں۔ تعلیم یافتہ کرکے انہیں چھوٹے خاندانوں کے نفع نقصان کو سمجھاکر کرنا چاہئے۔تلخ نکتہ چینی کے بعد شیو سینا سنجے راوت کے بیان پلہ جھاڑتی دکھائی دے رہی ہے تو خود راوت بھی اب صفائی دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو شکایت کرتے ہیں کہ میڈیا اور کچھ دانشور ایک خاص طبقے کو ذرا بھی چبھنے والے بیان آنے پر ہنگامہ مچاتے ہیں لیکن اکثریتی مخالف یا ملک دشمن بیان آنے پر ان کے منہ پر تالا لگ جاتا ہے۔ اس کا تازہ ثبوت کانگریس کے ایک لیڈر نے انڈین مجاہدین کو دہشت گرد گروپ ماننے سے انکار کردیا لیکن اس بیان پر نہ تو کانگریس اور نہ میڈیا اور نہ ہی دانشور طبقے میں کوئی ہلچل دکھائی دی۔ جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہے لیکن انہیں یہ سمجھنا ہوگا جسے ووٹنگ رائٹ پر بے تکے بیان دے رہے ہیں وہ دیش کے شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے جس کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔
(انل نریندر)

16 اپریل 2015

Pakistan's right decision to stay neutral in Yemen War

Saudi Arabia and its allies are making aerial attacks on Iran supporter Shia rebels in Yemen. Despite aerial attacks Hudi warriors have captured the maximum parts of Yemen. Two weeks have passed yet Saudi Arabia alliance has failed to free the rebel controlled area. Rebels are getting lead and due to their increasing influence, President Abid Rabbu Mansoor Hadi has to decamp out of country. Both Tehran and rebels deny that Iran is helping them with weapons. Uninterrupted attacks on Hudis and other alliance including loyals of former president Ali Abdullah Saleh are even unable to prevent the rebels from marching towards Aden. Meanwhile Saudi Arabia has sought military aid from Pakistan and requested to send its soldiers to fight in Yemen. Saudi Arabia had asked Pakistan to provide military planes and warships for 10 nations’ alliance against Hudi rebels in Yemen. Pakistan’s Prime Minister Nawaz Shareef had sought advice from Pak MPs and Pakistan Army over this request. Joint session of Parliament was summoned on last Monday and discussions were held for four days on Yemen's situation and Saudi request. Subsequently a resolution was passed unanimously that Pakistan should maintain neutrality in this war so that it may play an interactive diplomatic role. The resolution means that Pakistan will no more be a part of war in Yemen. The resolution also stated that Pakistan should stand with Riyadh to safeguard the regional integrity of Saudi Arabia. It also extended full support of Saudi Arabia. To keep Pakistan neutral, neighbouring Iran deputed its Foreign Minister Mohd. Jabbad Jareef .  Jareef visited Nawaz Shareef, Chief of Army Staff General Raheel Shareef. Jareef visited Pakistan at such a time when its parliament was discussing over the Saudi Arabian request to provide miliary fighter planes or warships. Pakistan was put into a fix. It gets million dollars every year from Saudi Arabia, so it can't annoy Saudi, on the other hand Iran is its neighbour, it doesn't want to annoy it either. So Pakistan has adopted a mid way and decided to stay neutral. We think it is right. Pakistan should not send its soldiers in Yemen since neither they know the ground situation there and nor it should be a part of this civil war. Although, there is yet another option that it may send Lashkar-e-Taiba and other jehadi organizations to fight in Yemen with Saudi Alliance.

- Anil Narendra

کیا نیتا جی کو قتل کیا گیا، ان کے خاندان کی جاسوسی کروائی گئی

تاریخپر اگر ہم نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ حکومتیں ہمیشہ جاسوسی کرواتی رہی ہیں۔ ہندوستان میں تو خفیہ نظام دور قدیم سے ہی قائم رہا ہے۔ دیش میںآج جاسوسی کے سسٹم کاباقاعدہ ڈھانچہ ہے۔ یہ انگریزں کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ خاص کر 1857 ء کے بعد قوم پرستوں پر نظر رکھنے کی ضرورت تھی۔آزادی کے بعد ان خفیہ ایجنسیوں کا کنٹرول مرکزی حکومت کے ہاتھ میں آگیا۔وقتاً فوقتاً لیکن یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ سرکار اپنے حریفوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے ان کی جاسوسی کراتی ہے۔ اب نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جاسوسی کروانے کا الزام لگ رہا ہے۔نیتا جی کی موت پر لکھی کتاب ’انڈیاز بگیسٹ کور اپ‘ مصنف انوج دھر نے ایک خط کے حوالے سے الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو خود نیتا جی کی جاسوسی کی نگرانی کررہے تھے اور ہدایت دے رہے تھے۔ یہ خط انہوں نے حال ہی میں افشاں کئے ہیں جو دو فائلوں سے لئے گئے ہیں۔ اس خط کے مطابق 25 نومبر1957 ء کو نہرو نے اس وقت کے خارجہ سکریٹری سبی مل دت کو خط لکھ کرنیتا جی سبھاش چندر بوس کے بھتیجے امت بوس کے جاپان دورہ کے بارے میں جانکاری مانگی تھی۔ خط میں نہرو نے لکھا: میں ٹوکیو میں واقع رین کوزی مندر کے اپنے دورے کے کچھ تصویریں بھیج رہا ہوں، اس دورہ کے بعد مجھے جانکاری ملی ہے کہ شرد چندر بوس (نیتا جی کے بھائی) کے بیٹے امے بوس بھی ٹوکیو گئے تھے۔ اس لئے میں آپ کو ہدایت دیتا ہوں کہ آپ ٹوکیو میں معمور سفیر کو خط لکھ کر یہ جانکاری حاصل کریں کہ امے وہاں کیا کرنے گئے تھے۔ کیا انہوں نے سفاتخانے سے رابطہ قائم کیا تھا، یا رین کوزی مندر گئے تھے؟ اس خط کا جواب دیتے ہوئے جاپان میں اس وقت کے ہندوستانی سفیر سی ایس جھا نے کہا تھا کہ امے بوس کی جاپان میں کوئی مشتبہ سرگرمی کی خبر نہیں ہے۔ ابھی یہ تنازعہ رکا نہیں کہ الزام در الزام کا سلسلہ چل رہا ہے کہ نیتا جی کے بندوقچی رہے جگرام نے ایک اور تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ جنگ آزادی کے مہانائک رہے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ذاتی بندوقچی بزرگ مجادِ آزادی جگرام سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ نیتا جی کی سڑک حادثے سے موت نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کو قتل کرایا گیا ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہوائی حادثے میں ان کی موت ہوتی تو کرنل حبیب الرحمان زندہ کیسے بچتے؟ وہ دن رات سائے کی طرح نیتا جی کی ساتھ رہا کرتے تھے۔ آزادی کے بعد کرنل پاکستان چلا گیا تھا۔ 100 فیصدی اندیشہ ہے کہ نیتا جی کو روس میں پھانسی دی گئی تھی۔ ایسا نہرو کے کہنے پر روس کے ڈکٹیٹر اسٹالن نے کیا ہوگا۔ 93 سالہ جگرام نے بتایا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری کے چار سال بعد چال لیڈروں کو جنگی مجرم قرار دیا گیا تھا۔ ان میں جاپان کے توزو، اٹلی کے مسولن، جرمنی کے ہٹلر اور بھارت کے سبھاش چندر بوس شامل تھے۔ توزو نے چھت سے کود کر اپنی جان دے دی تھی۔ مسولن کو پکڑ کر مار دیا گیا تھا۔ ہٹلر نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ صرف نیتا جی ہی بچ گئے تھے انہیں جاپان نے روس بھیج دیا تھا۔چار سال 13 مہینے تک نیتا جی کے بندوقچی رہے جگرام نے بتایا دیش کی آزادی میں نیتا جی کے مقابلے پنڈت نہرو کا کردار کچھ بھی نہیں تھا۔ گاندھی ہی نہیں بلکہ دنیا کے بڑے بڑے ڈکٹیٹر اور حکمراں نیتا جی کے سامنے بونے دکھائی پڑتے تھے۔ ان کے رشتے داروں کی جاسوسی کی خبر سے اس بات پر مہر لگ گئی کہ نہرو کس قدر نیتا جی سے خوف کھاتے تھے۔ نہرو ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ اگر نیتا جی سامنے آگئے تو پھر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ادھر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو پر نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جاسوسی کرنے کا الزام دشمنی پر مبنی ہے۔ دیش کو مضبوط و عظیم دیش بنانے والی بڑی ہستیوں کو بدنام کرنے کیلئے موجودہ حکومت ادھورے سچ کا پروپگنڈہ کررہی ہے۔
(انل نریندر)

’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھانمتی نے کنبہ جوڑا‘‘

ایک مرتبہ پھر پرانے جنتا کنبے کو جوڑنے کی بحث زوروں پر ہے۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے پٹنہ میں ہوئے اس سمیلن میں انضمام کا ذکر کرکے نئے سرے سے معاملے کو بحث میں لا دیا ہے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بھی کہا ہے کہ جنتا پریوار پر سب کی رائے بن گئی ہے۔ جس دن بھی سپا چیف ملائم سنگھ یادو میٹنگ بلائیں گے، انضمام کاباقاعدہ طور پر اعلان ہوجائے گا۔ سب کچھ طے ہوچکا ہے۔ انہوں نے انضمام اور نئی پارٹی کو لیکر تمام اشوز کو قطعی شکل دے دی ہے۔ پارٹی کا جھنڈا، چناؤ نشان اور مینی فیسٹو کو لیکر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نتیش نے کہا دہلی میں ملائم سنگھ یادو اور شرد یادو کے ساتھ انضمام پر بات ہوئی ہے۔ آر جے ڈی نے انضمام کو منظوری دے دی ہے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ جنتا پریوار کے انضمام میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ملائم سنگھ یادو ثابت ہورہے ہیں۔ ان کے رویئے کے سبب ہی بار بار نئی پارٹی کی تشکیل کی خانہ پوری کو ٹالا جارہا ہے۔ پچھلے سال 4 دسمبر کو نتیش کمار کے جنتا پریوار میں6 پارٹیوں کے ساتھ آنے و ملائم سنگھ یادو کو نئی پارٹی کا صدر اعلان کردئے جانے کے بعد بھی اس کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوسکا۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز صورتحال اور کیا ہوگی کہ نئی پارٹی کا نام ، صدر اور چناؤ نشان سب کچھ اعلان ہونے کے بعد بھی یہ وجود میں نہیں آپارہی ہے۔ دراصل سپا کے لیڈروں کا خیال ہے کہ اگر پارٹی کا انضمام کردیا گیا تو ان کے سامنے اترپردیش میں ہی پہچان کا بحران کھڑا ہوجائے گا۔ ملائم سنگھ یادو کے کنبے والے ہی اس مجوزہ انضمام کی مخالفت میں آگئے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ سیاست کے ان پٹے ہوئے مہروں کو ساتھ لینے سے کیا ہوگا؟ نہ ان کی اترپردیش میں کوئی بنیاد ہے اور نہ ہی سپا کی اترپردیش سے باہر۔ ایسے میں انضمام سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ساتھیوں کو کچھ اسمبلی سیٹیں الٹی دینی پڑیں گی۔ اس لئے انضمام کے مسئلے کو وہ مسلسل یہ کہہ کر ٹالتے آرہے ہیں کہ جلدی ہی کیا ہے؟ جبکہ دوسری پارٹیوں کو لگتا ہے کہ جلدی ہے۔ اگر ایک رائے نہیں بنی تو 6 مہینے بعد ہونے والے بہار اسمبلی چناؤ میں سیدھا فائدہ بھاجپا کو ملے گا۔ سپا فی الحال سائیکل چناؤ نشان کو ہی پارٹی کا سمبل بنائے رکھنے کے حق میں ہے لیکن ابھی یہ صاف نہیں کہ بہار اسمبلی کے چناؤ میں پارٹی کا چناؤ نشان کیا ہوگا۔ آر جے ڈی کا چناؤ نشان لال ٹین ہے لیکن جنتا دل (یو) اسے لیکر چناؤ میدان میں جانے سے کترا رہی ہے۔ اندرونی ناراضگی اور اتھل پتھل کے درمیان ایک ہونے کی کوشش کررہے سماج وادیوں کا ملن فلموں کی طرح کئی حصوں میں ہوسکتا ہے۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ کبھی ٹوٹا جنتا پریوار ٹکڑوں میں جڑے گا۔ یعنی جنتا پریوار مضبوطی کے چلتے ایک ہونے کا ڈرامہ کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بہار میں جنتا پریوار کے انضمام پر طنز کرتے ہوئے سنیچروار کو کہا تھا کہ جنتا پریوار کے اس انضمام میں جنتا تو غائب ہے صرف پریوار ہی باقی ہے۔جیسا میں نے کہا ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھانمتی نے کنبہ جوڑا‘‘۔
(انل نریندر)

15 اپریل 2015

یمن جنگ میں پاکستان کا غیر جانبدار رہنے کا صحیح فیصلہ

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملک میں ایران حمایتی شیعہ باغیوں پر ہوائی حملے کررہے ہیں۔بیشک ہوائی حملے ہورہے ہیں لیکن حوثی لڑاکو نے یمن کے زیادہ تر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔دو ہفتے گزر گئے ہیں لیکن سعودی عرب کی رہنمائی والا اتحاد حوثی باغیوں کے کنٹرول والے علاقے کو آزاد کرانے میں ناکام رہا ہے۔ باغیوں کا اثر بڑھتا چلا جارہا ہے اور ان کے بڑھتے اثر کے سبب صدر ابدربو منصور حادی کو دیش چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے۔ اس معاملے میں تہران اور باغی دونوں انکار کرتے ہیں کہ ایران انہیں ہتھیار دے رہا ہے۔ حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں سمیت دیگر اتحادیوں پر مسلسل ہورہے حملے بھی باغیوں کو ادن کی طرف بڑھنے سے نہیں روک پا رہے ہیں۔ اس درمیان سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد مانگی ہے اور اپنے فوجیوں کو یمن میں لڑنے کے لئے اپیل کی ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف 10 ملکوں کی طرف سے چلائی جارہی مہم کیلئے فوجی و جہاز اور جنگی بیڑے مہیا کرائے۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس درخواست پر پاکستانی ممبران پارلیمنٹ و پاک فوج کی رائے مانگی تھی۔ گزشتہ پیر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا اور یمن کے حالات و سعودی عرب کی اپیل پر چار دنوں تک بحث چلی ۔ اس کے بعد جمعہ کو اتفاق رائے سے ریزولوشن پاس کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اس لڑائی میں غیر جانبداری برتنی چاہئے تاکہ وہ اس بحران کو ختم کرنے میں زیادہ سرگرم سفارتی رول نبھا سکے۔پارلیمنٹ میں پاس ہوئے ریزولوشن کا مطلب ہے کہ پاکستان اب یمن کے اندر جنگ میں حصہ نہیں بنے گا۔ ریزولوشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کیلئے ریاض کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہنا چاہئے۔ اس میں سعودی عرب کے تئیں پوری حمایت ظاہر کی گئی۔ پاکستان کو غیر جانبدار رکھنے کیلئے پڑوسی ایران نے اپنے وزیر محمد جواد ظریف کو اسلام آباد بھیجا۔ ظریف نے نواز شریف ، کل فوج کے سربراہ راہل شریف سے ملاقات کی۔
ظریف ایسے وقت میں پاکستان گئے جب دیش کی پارلیمنٹ فوجی لڑاکے یا جنگی جہاز مہیا کرانے کے سعودی عرب کی درخواست پر غور کررہی تھی۔ پاکستان بری طرح سے پھنس گیا ہے ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔ سعودی عرب سے اسے اربوں ڈالرہر برس ملتے ہیں، اسے وہ کسی حالات میں ناراض نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف ایران ان کا پڑوسی ہے اسے بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لئے پاکستان نے بیچ کا راستہ اپنایا ہے اور غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ صحیح بھی ہے پاکستان کو اپنے فوجی یمن میں نہیں بھیجنے چاہئیں۔ کیونکہ نہ تو انہیں وہاں کے زمینی حالات پتہ ہیں اور نہ ہی اسے اس خانہ جنگی کا حصہ بننا چاہئے۔ ہاں ایک اور راستہ ہو سکتا ہے کہ وہ لشکرطیبہ و دیگر جہادی تنظیموں کو یمن میں سعودی اتحاد کے ساتھ لڑنے کو بھیج سکتا ہے۔
(انل نریندر)

10 سال پرانی ڈیزل گاڑیوں پر پابندی کا سوال

دہلی میں خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہوائی آلودگی پر روک لگانے کیلئے نیشنل گرین ٹربونل نے پچھلے دنوں دو بڑے فیصلے سنائے۔ پہلا تو این جی ٹی نے دہلی میں 15 سال پرانی سبھی طرح کی گاڑیوں کے چلنے پر روک لگائی اور دوسرا 10 سال پرانی ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ا ب جن کے پاس ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں ہیں وہ لوگ پس و پیش میں ہیں کہ کیا کریں کیا نہ کریں؟ لوگوں کو ڈر ہے کہیں چیکنگ کے چکر میں ان کی گاڑیاں نہ پکڑ لی جائیں۔ پرائیویٹ کے ساتھ ساتھ ڈیزل سے چلنے والی کمرشل گاڑیوں کا استعمال کرنے والے بھی الجھن میں ہیں۔ ایسی سبھی گاڑیاں جو اپنی میعاد سے اب تک10 سال کا وقت پورا کر چکی ہیں اورجو ڈیزل سے چلتی ہیں ان پر یہ پابندی نافذ ہوگی۔ ان میں کمرشل گاڑیاں جیسے ٹرک ،ٹینکر، کنٹینر، ڈمپر، ٹریکٹر ،ٹرالی، مال ڈھونے والی چھوٹی موٹی گاڑیاں، ٹورسٹ بسیں، منی بسیں کے علاوہ ڈیزل سے چلنے والی پرائیویٹ گاڑیاں جیسے ایس یو وی، جیپ، کار وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ اپنی10 سال پرانی گاڑی میں سی این جی لگوا کر آپ اسے 5 سال اور چلوا لیں گے تو آپ ایسا بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ دہلی سرکار کا محکمہ ٹرانسپورٹ ڈیزل انجن والی گاڑیوں میں لگی سی این جی کٹ کو منظوری نہیں دیتی اور اسے گاڑی کی آر سی پر درج نہیں کرتا۔اگر آپ نے کہیں سے کٹ لگوا بھی لی تو غیر قانونی مانا جائے گا۔ قومی گرین ٹریبونل(این جی ٹی) کے اس فیصلے کی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے پیر کی آدھی رات سے پورے این سی آر میں چکا جام کرنے کی وارننگ دی تھی اور کہا تھا کہ ڈیزل والی گاڑیوں پر پابندی کی وجہ سے مختلف ضروری خدمات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں زد میں آئیں گی۔دہلی جل بورڈ کے کچھ ٹینکر ڈیزل سے چلتے ہیں ان سے ناجائز کالونیوں میں پانی کی سپلائی کی جاتی ہے۔ پابندی سے جل بورڈ پانی کی سپلائی میں دقت آئے گی۔ اسی طرح دہلی میں یومیہ جمع ہونے والے کوڑے کو لینڈفل سائٹ تک پہنچانے کیلئے ایم سی ڈی شہر میں ڈیزل سے چلنے والے ٹرک ہی استعمال کرتا ہے۔ لینڈ فل سائٹ تک کوڑا پہنچانے میں پریشانی ہوگی۔
ایک طرف پولیس اور ٹرانسپورٹ محکمہ طے میعاد پار کرچکی گاڑیوں کی دھڑپکڑ میں لگے ہیں دوسری طرف ٹرانسپورٹر این جی ٹی کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی تیاری میں ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اس حکم پر عمل ہونے سے نجی اور کمرشل گاڑی مالکوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص کر کمرشل گاڑیوں کی جو15 سال کی میعاد کے مطابق چلتی آئی ہیں وہ اس پابندی سے متاثر ہوں گی۔ ان گاڑی مالکوں کی مشکلیں سمجھی جاسکتی ہیں جنہوں نے15 سال کے لئے یکمشت ٹیکس جمع کررکھا ہے۔ ان کی پریشانی یہ بھی ہے کہ نیا ٹرک ابتدائی 10 برس میں بمشکل لاگت نکال پاتا ہے اور اگلے پانچ برسوں میں اس سے ہونے والی کمائی ہی مالکوں کو منافع دیتی ہے۔ اسی طرح مہنگے پیٹرول کی وجہ سے ڈیزل سے چلنے والی پرائیویٹ گاڑیوں کی بکری خوب بڑھی ہے کیونکہ ڈیزل گاڑیوں کی زیادہ قیمت کی وجہ سے ابتدائی برسوں میں ایندھن پر ہورہی بچت کاغذی ہوتی ہے۔ مالک سوچتا ہے کہ بعد کے برسوں میں اس کا فائدہ ملے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ عمر کے بجائے فٹنیس گاڑیوں کو ہٹانے کا پیمانہ ہونا چاہئے۔ اچانک پابندی کے خطرے کا سامنا کررہے ڈیزل مالکوں کو تھوڑی راحت ملی ہے۔ این جی ٹی نے سڑکوں پر چلنے والی 10 سال پرانی ڈیزل گاڑیوں کو ضبط کرنے کے احکامات کو دو ہفتے کے لئے پیر کو ٹال دیا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ خبر ہے کہ ٹرانسپورٹر اب اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانے کی تیاری کررہے ہیں اور عدالت سے این جی ٹی کے حکم پر 6 ماہ کیلئے التوا کا حکم مانگیں گے۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2015

ہند۔ فرانس میں رافیل جنگی جہاز سپلائی سمجھوتہ

ہندوستان کی فضائیہ جدید جنگی جہازوں کی قلت کاسامنا کررہی ہے اب اسکو 18برسوں کے طویل عرصہ کے انتظار کے بعد رافیل جیسے جدید اور اپنے نشانے کو بہتر طریقہ سے نشانہ لگانے کی صلاحیت والے جنگی جہاز فرانس سے ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان 17سمجھوتوں پر دستخط ہوئے۔ فرانس نے ہندوستان میں دو اب ڈالر یورویعنی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کااعلان کیا ہے اس میں ائرس بنائیں گی۔ فرانس میں وزیراعظم نریندر مودی کا جس طرح سے خیرمقدم اور وہاں کے میڈیا میں ان کے دورے کو اہمیت دی گئی ہے اس سے وزیراعظم کے دنیا کے ملکوں میں بڑھتے قد کاپتہ چلتا ہے۔
رافیل جنگی جہازوں کو خریدنے کاسلسلہ پچھلی یوپی اے حکومت نے شروع کیاتھا۔یہ کہنا مشکل ہے جہازوں کے سودے کو کیاقطعی شکل ملے سکے گی۔ لیکن خوش آئین بات یہ ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے بھارت کو دوسال میں ہی جنگی جہاز مل جائیں گے۔ لیکن سودے کی مخالفت بھی شروع ہوگئی ہے یہ کسی پارٹی کی طرف سے نہیں بلکہ خود نریندر مودی کی پارٹی بھاجپا کے لیڈر سبرامنیم کی طرف سے کی گئی ہے انہوں نے تو یہاں تک دھمکی دیدی ہے کہ وہ اس سودے کو عدالت میں چیلنج کریں گے ان کی دلیل ہے لیبیا اور مصر میں رافیل جنگی جہاز کھرے نہیں اترے۔ خراب پرفارمنس کی وجہ سے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے معاہدے ختم ہوچکے ہیں۔ ساتھ ہی ان جہازوں میں ایندھن کی کھپت بھی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس سودے کو ہری جھنڈی دینے کے خلاف ہیں کیونکہ معاملہ ملکی سلامتی سے وابستہ مسئلہ ہے۔ اگر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی دلیل صحیح ہے تو اس پر مودی سرکار کو غور کرناچاہئے۔ ڈاکٹر سوامی کی دلیل میں دم اس لئے بھی لگتا ہے کہ فرانس کے ساتھ طویل عرصہ سے ان جہازوں کی خرید کاسودا نہیں ہوپارہا تھا۔ یوپی اے حکومت میں تمام تکنیکی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعداسے ائر فورس کے بیڑے میں شامل کرنے کافیصلہ لیاگیا تھا۔ اب این ڈی اے حکومت نے ائر فورس کی فوری ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کو جلد سے جلد خریدنے کافیصلہ کیا ہے حالانکہ جہازوں کی آمد میں قریب دوسال لگ سکتے ہیں۔ وہیں ڈیفنس ماہرین نے بھی ان جہازوں کی خرید پر تشفی جتائی ہے او رکہا کہ ان کے ائر فورس کے بیڑے میں شامل ہونے سے ائر فورس کی نئی طاقت ملے گی۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ فرانس کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کے لئے کوئی ایسا سسٹم بنایا جائے تاکہ مختلف ملکوں سے سرکار نے جو معاہدے کئے ہیں ان کے جلد سے جلد نتیجے سامنے آئیں کیونکہ کئی مرتبہ معاہدوں کے عمل میں وقت لگتا ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی کے کام کرنے کے طریقہ سے امید یہی کی جاسکتی ہے فرانس سے جہاز جلدی آئیں گے ہم ڈیفنس طاقت کے اعتبار سے مضبوط ہوں گے۔ وزیراعظم کو جوکامیابی فرانس میں ملی ہے وہ جرمنی اور کینیڈا میں بھی ملے گی۔

دہلی والو ہوشیار۔ سبزی ۔ دودھ کی قلت کاخطرہ

دیش کی راجدھانی او رمرکزی زیر انتظام ریاست دہلی کادنیا کے شہروں میں جب شمار ہوتا ہے تو اس کو سب سے زیادہ آلودہ شہر ماناجاتا ہے۔اس آلودگی کی سب سے بڑی وجہ دہلی میں ہریانہ۔ اترپردیش۔ پنجاب۔ ہریانہ۔ ہماچل وغیرہ پڑوس ریاستوں سے تقریبا ایک سے ڈیڑھ لاکھ پیٹرول ۔ ڈیزل سے چلنے والے ٹرک اور بسیں ۔ کاریں آتی جاتی ہیں ان سے نکلنے والے دھویں سے دہلی کی آب وہوا میں آلودگی سطح بڑھی ہے دہلی کی سابقہ شیلا سرکار نے ڈیزل سے چلنے والے ٹرکوں کو دہلی میں آمدروفت کو رات 9 بجے تک روک لگادی تھی۔ لیکن فیصلہ پر ٹرانسپورٹروں کی مخالفت کی وجہ سے نرمی برتی گئی۔ جس سے راجدھانی میں دن بدن آلودگی سطح بڑھتی جارہی ہے۔ اس سے دہلی کے لوگوں میں دمہ۔ سانس اورکینسر کی بیماریوں میں اضافہ کاخطرہ بڑھ گیا ہے۔ عالمی صحت تنظیم(WHO) نے اس بڑھتی آلودگی پر مرکزی حکومت کو پیش کردہ رپورٹ میں اپنی تشویش جتا چکی ہے۔
اب نیشنل گرین ٹریبونل( ) نے دہلی۔ این سی آر آلودگی سطح کو بھانپتے ہوئے پرانی گاڑیوں پر پابندی کا جواہم فیصلہ کیا ہے۔ یہ لائق خیرمقدم ہے اس نے قواعد کی دھجیاں اڑا رہے ٹرانسپورٹروں اور بلڈروں پر 50ہزار روپے تک کے جرمانے لگانے کابھی حکم دیا ہے۔ اب ٹرانسپورٹ انفورسمنٹ ایجنسیوں کو اس فیصلہ پرتعمیل کرانے کی ذمہ داری ہوگی۔ اس فیصلہ سے دن رات میں ٹرکوں۔ پرانی بسوں کے چلنے سے گھنٹوں مسافروں کو جام کاشکار رہنا پڑتا ہے ان کو راحت ملے گی وہیں دہلی میں بڑھتی آلودگی سطح میں بھی کمی آئے گی۔ جس سے غیرملکی سیاحوں کی تعداد بھی بڑھے گی این جی ٹی کے فیصلہ پر ٹرانسپورٹروں نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ان کادعوی ہے کہ وہ دہلی کو سبزی۔ پھل۔ دودھ کو ڈھلائی کرتے ہیں۔ 10 سال پرانی گاڑیوں کے چلنے پر پابندی لگنے سے پیر کی آدھی رات سے چکا جام کرنے کااعلان کیا ہے۔ آل انڈیا موٹرس ٹرانسپورٹ کانگریس کے چیئرمین بھیم وادھوا نے دھمکی ہے کہ کوئی بھی گاڑی مال لیکر دہلی میں نہیں آئے گی۔ جس سے دہلی میں دودھ۔ سبزی۔ پھلوں کی قلت کھڑی ہونے سے دام آسمان چھو سکتے ہیں۔ عام لوگوں میں ہائے توبہ مچ سکتی ہے لوگوں کی امکانی پریشانی کو دیکھتے ہوئے مرکزی اورریاستی سرکاریں مسئلہ کاکوئی ایسا حل نکالیں جس سے قومی راجدھانی میں اشیائے ضروریہ کی قلت نہ ہو ساتھ ہی ان ٹرکوں کے مالکان اورڈرائیوروں کی روزی روٹی کو دھکا نہ لگے۔ ٹرانسپورٹرس کو بھی چاہئے کہ وہ این جی ٹی کے فیصلہ پر تعمیل کیخلاف چکا جام جیسی تحریک نہ چھیڑیں اس سے عام آدمی کے ننھے بچوں کو دودھ جیسی ضرورت سے محروم رہنا پڑسکتا ہے۔ این جی ٹی کافیصلہ عام آدمی کی صحت کے لئے فیصلہ حق بجانب ہے لیکن انسان کی زندگی کے پہلو کو بھی سامنا رکھا جاناچاہئے۔ کیونکہ وہ پہلے ہی مہنگائی کی مار سے دوچارہے اشیائے ضروریہ کی قلت سے اس کو آسمان چھوتی قیمتوں پر سامان لینے پر مجبور ہوناپڑے گا۔ سرکار کو اور ٹرانسپورٹروں کو بلا کر ہڑتال ٹلوانے کے لئے کارگر قدم اٹھائے۔

12 اپریل 2015

ٹیم کیجریوال اور ٹیم یوگیندر یادو میں آر پار کی لڑائی

بٹوارے کے دہانے پر کھڑی عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اور انتظار فی الحال 14 اپریل کی میٹنگ کا ہے۔ آپ کے دونوں گروپوں کی اگلی حکمت عملی میٹنگ اور ملی عوامی حمایت سے طے ہوگی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اینڈ کمپنی کی کوشش ہے کہ میٹنگ میں پارٹی سے وابستہ پرانے لوگوں کی زیادہ سانجھے داری ہو جبکہ ٹیم کیجریوال کا منصوبہ ہے کہ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن سمیت ان کے ساتھیوں کو میٹنگ سے پہلے باہر کردیا جائے۔ غور طلب ہے کہ یادو اور بھوشن نے 14 اپریل کو آپ کی قومی کونسل کی ایک میٹنگ بلائی ہے۔ فون کرکے ایگزیکٹو کونسل کے ممبروں سے جذباتی اپیل کی جارہی ہے کہ اس میٹنگ سے صاف ہوجائے گا پارٹی میں کون کس کے ساتھ ہے۔ اس دوران پارٹی کے ورکروں میں شش و پنج کی صورتحال پائی جاتی ہے۔وہ کنفیوز ہیں آپ کو دئے عطیہ کا سلسلہ الگ سے شروع ہوگیا ہے۔ لندن کے ایک باشندے کندن شرما کی طرف سے ویگن آر کار کو واپس کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ یہ وہی کار ہے جس میں سوار ہوکر کیجریوال نے چناؤ کمپین چلائی تھی اور وہ49 دن کی اپنی حکومت کے دوران اسی نیلی رنگ کی ویگن آر کار سے دفتر آتے جاتے تھے۔ دہلی اسمبلی چناؤ 2013 ء کے دوران آپ حمایتی کندن شرما نے کیجریوال سے متاثر ہوکر انہیں نیلے رنگ کی ویگن آر کار عطیہ میں دے دی تھی کیجریوال نے اسی کار میں چناؤ مہم چلائی تھی۔ عام آدمی پارٹی میں کئی دنوں سے جاری گھماسان سے ناراض ہوکر کندن شرما نے اپنی گاڑی واپس کرنے کی مانگ کی ہے۔ادھر یوپی کے شہر لکھنؤ سے آپ کے ورکر سنیل کمار لال نے پارٹی کے ’’لوگو‘‘پر دعوی کیا ہے۔ کیجریوال کو بھیجے گئے خط میں سنیل نے کہا ہے کہ پارٹی اس ’’لوگو‘‘ کا استعمال بند کردے جسے ڈیزائن انہوں نے کیا تھا۔ ان کا ’’لوگو‘‘ پارٹی کے لیٹر ہیڈ، جھنڈے، بینر سے ہٹا دیا جائے۔ کیجریوال کے مخالف فریق نے اروند کیجریوال کو ہٹلر بتاتے ہوئے دہلی بھر میں پوسٹر چپکا دئے ہیں۔ بھگت کرانتی سینا کے نام سے جگہ جگہ چپکائے گئے پوسٹر میں کیجریوال کا موازنہ ہٹلر سے کیا گیا ہے۔ پوسٹروں میں لکھا ہے کہ عام آدمی پارٹی میں رہنا رہے تو اروند اروند کہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ پوسٹروں میں آپ کی قومی ایگزیکٹو سے نکالے گئے یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن، پروفیسر آننت کمار سمیت سبھی لیڈروں کے تئیں ہمدردی جتائی گئی ہے۔
گذشتہ منگل کو عام آدمی پارٹی کی ویب سائٹ پر عجیب نام سے چندہ آیا۔ چندہ دینے والوں کے پتوں کی جگہ پر ’آپ‘ اور کیجریوال کو بے عزت کرنے والے الفاظ لکھے تھے۔ ایسے ناموں سے ملے چندے کی رقم بھی ایک سے تین روپے کے درمیان تھی۔ ہٹلر کاایڈمنسٹریٹر کیجریوال نام سے 1 روپیہ، دیش دروہی کیجریوال سے 1 روپیہ، بے ایمان کیجریوال 1 روپیہ اور دہلی بھاجپا کو 3 تیر نام سے پارٹی کھاتے میں 3 روپے جمع کرائے گئے ہیں۔ یہ سبھی نام پارٹی کی ویب سائٹ پر دیر رات تک موجود تھے۔ اس بارے میں پارٹی کی طرف سے کوئی رائے زنی نہیں کی گئی۔ ادھر ٹیم یوگیندریادو کی کوشش ہے کہ 14 اپریل کی میٹنگ میں کونسل کے ممبران کی اکثریت رہے۔ اس سے آگے کی حکمت عملی ان کے حق میں ہوگی۔ دوسری طرف ٹیم کیجریوال کی کوشش ہے کہ ڈسپلن شکنی کی کارروائی کرتے ہوئے ٹیم یادو کو پارٹی سے باہر کردیا جائے۔ ذرائع کی مانیں تو14 اپریل سے پہلے اس پر فیصلہ ممکن ہے۔ لگتا ہے اب آر پار کی لڑائی ہے اور کیجریوال ہر حال میں پارٹی پر اپنا قبضہ قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

ان پراکسی سیکولرسٹوں کیلئے ایک اور سبق!

ہندوستان کی پانچ ہزار سال پرانی جسمانی، ذہنی اور روحانی روایات یوگ کی اہمیت پر مہر لگا کر امریکہ کی بڑی عدالت نے ثابت کیا ہے کہ اس کا ہندوتو کے فروغ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔اسکولوں میں اس کے سکھائے جانے سے کسی کی مذہبی آزادی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔امریکہ کی ایک عدالت نے کہا کہ کیلیفورنیا کے پرائمری اسکول میں یوگ سکھائے جانے سے ہندوتو کی حمایت نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی طلبا کی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ سینڈڈیاگو کی تین نفری اپیلیٹ عدالت نے طلبا کے ماں باپ کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمے پر اتفاق رائے سے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے شکایت کی تھی کہ اوٹ پٹانگ یوگ کی تعلیم دے کر انیسیم ضلع کے ایک اسکول میں ہندو اور بودھ مذہب کو فروغ دیا جارہا ہے۔ یوگ کو فروغ دینے والے ایک غیر مفاد کاری گروپ سے تین سال کی گرانڈ ملی ہے اس کے تحت ضلع کے5600 طلبا کو 30 منٹ تک ہفتے میں دو بار یوگ سکھایا جاتا ہے۔ طلبا کے ماں باپ نے دلیل دی تھی کہ اسکول کا یوگ پروگرام روحانیت پر مبنی ہے اور اس لئے غیر آئینی ہے۔ عدالت کے دستاویزات کے مطابق عدالت کو یہ مقرر کرنا ہے کہ اسکول کا یوگ پروگرام جسمانی تعلیمی نصاب کا حصہ ہے یا کیلیفورنیا کے آئین کی خلاف ورزی کرکے مذہب کی نامنظوری کی تصدیق کرتا ہے؟ عدالت نے یوگ کلاسوں کا ویڈیو دیکھا جنہیں روایتی جم کلاسس کے طور پر دکھایا جاتا رہاہے۔ جسٹس سنتھیا ایرون نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ پروگرام کے مقصد میں سیکولرازم ہے اور اس کا مذہب کو آگے بڑھانے یا روکنے پر ابتدائی اثر نہیں ہے۔ اور ضلع اسکول مذہب میں زیادہ نہیں اچھالتا ہے اس لئے ہمارا نتیجہ یہ ہے کہ نچلی عدالت نے صحیح نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ضلع کا یوگ پروگرام ہماری ریاست کے آئین کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ بھارت اپنی جن تمام خوبیوں کے ساتھ پھر دنیا کی لیڈر شپ کرنے کی ڈگر پر گامزن ہے اس میں یوگ کی شکل میں دنیا کو اس کا اشتراک بہت اہم پہلو ہے۔ آج امریکہ اور یوروپ کے کئی ملکوں کے اسکولوں اور سماجوں میں روایتی جمنگ کے زیادہ فائدے مند متبادل کی شکل میں یوگ کی تعلیم اور چلن بڑھ رہا ہے لیکن بھارت کے خود ساختہ سیکولر نظریہ رکھنے والوں کا نقطہ نظر اتنا اوچھا ہے کہ ان کی آنکھ سے فرقہ پرستی کا چشمہ ہٹتا ہی نہیں ہے۔ آج کی میڈیکل سائنس علاج کے ساتھ یوگ کے استعمال کو ویریفائی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک اپیل پر دنیا کے 175 ملکوں نے بین الاقوامی دوس منانے کی رضامندی یوں ہی نہیں دے دی۔ لیکن یہ سب دیکھ اور سمجھ پانے کیلئے منفی نظریئے کا چشمہ اتارنا پہلی شرط ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...