Translater

13 جون 2015

دو ریاستوں کے درمیان ایسی سرپھٹول پہلی باردیکھنے کو ملی!

حکمرانوں کے درمیان ایسی سرپھٹول دیش نے پہلے شاید کبھی دیکھی ہو۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی حکومتوں کے درمیان ایسا گھمسان مچا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کے وزرائے اعلی کے خلاف تھانے میں معاملے درج ہورہے ہیں۔ وزیر اعلی کی ساکھ امتحان کی شکل لے رہی ہے تو آندھرا و تلنگانہ اس کشیدگی کی چنگاریاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جو تقسیم کے دھکے سے پیدا ہوئی ہیں۔ ووٹ کے بدلے نوٹ معاملے میں آندھرا پولیس نے تلنگانہ کے وزیر اعلی چندر شیکھر راؤ کے خلاف اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کا فون ٹیپ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ وہیں نائیڈو اور نامزد ممبر اسمبلی کے درمیان ووٹ کو لیکر مبینہ بات چیت کے آڈیو ٹیپ مقامی الیکٹرانک میڈیا میں ٹیلی کاسٹ ہوئے ہیں۔ وشاکھاپٹنم کی شری ڈاؤن پولیس تھانے میں سی ایم راؤ کے خلاف مقامی وکیل این ۔ وی ۔ وی پرساد کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ تلنگانہ کے وزیر اعلی آندھرا پردیش میں اپنے ہم منصب چندرابابو نائیڈو کے خلاف جاسوسی کرا رہے ہیں۔ راؤ کے خلاف دفعہ464، 674، 471، 166، 167 و120B کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس درمیان نائیڈو اور نامزد ممبر اسمبلی ایلیوس اٹیفنسن کے درمیان مبینہ بات چیت کا آڈیو ٹیپ مقامی چینل پر ٹیلی کاسٹ ہوا ہے۔ آندھرا حکومت کے مشیر (کمیونی کیشن) پی پربھاکر نے بتایا کہ یہ ٹیم گھڑے گئے ہیں اور آندھرا کے وزیر اعلی کی ساکھ خراب کرنے کی گھٹیا کوشش ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ آندھرا اور تلنگانہ صدی کے سب سے گرم موسم کی مار جھیل رہے ہیں۔ گرم ہواؤں کے تھپیڑوں سے وہاں ہزاروں اموات ہو چکی ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی پر ضرورت تو یہ ہے کہ عام آدمی کی مدد ہونی چاہئے اور ہو یہ رہا ہے کہ دونوں ریاستی حکومتیں جس طرح اڑیل اور ووٹ بینک کی سیاست میں الجھی ہوئی ہیں وہ واقعی شرمناک ہے۔ تلنگانہ کی حکمراں پارٹی نے بیشک بڑے جوش سے آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کا وہ آڈیو ٹیپ عام کردیا ہے جس میں وہ رشوت کا اشارہ کرتے سنائی پڑ رہے ہیں لیکن اس کے پیچھے سیاست کو صاف ستھری بنانے کا پوتر مقصد ہے یا ووڈ بینک پختہ کرنے کی چال؟ یہ طے کرنا مشکل ہورہا ہے۔ تلخ سچائی تو یہ ہے کہ حیدر آباد کو دونوں ریاستوں کی عارضی راجدھانی اعلان کرنے کے بعد سے دونوں سرکاروں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی ہے۔ جس میں وہاں کی پولیس خفیہ ایجنسیاں اور سرکاری ملازمین کا جم کر استعمال ہورہا ہے۔ حالات یہاں تک بگڑ چکے ہیں ایک ہی عمارت میں کام کرنے والی دونوں ریاستوں کی خفیہ ایجنسیوں کے بیچ ایک دوسرے کی جاسوسی کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ چندر بابو کی پارٹی کی طرف سے حالانکہ فوری طور پر یہ آڈیو ریکارڈنگ فرضی ہونے کا دعوی سامنے آگیا ہے لیکن اپوزیشن کو تنقید کرنے کا موقعہ ضرور مل گیا ہے۔ کرپشن انسداد بیورو کی جانچ کا نتیجہ کب آئے گا؟ اس کے کیا نتیجے نکلیں گے یہ تو دور کی بات ہے جس طرح کی تلخی دونوں ریاستوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے وہ عجب ہے اور الزام در الزام سے شری چندرابابو نائیڈو، پردھان منتری سے ملے ہیں۔ ہوسکتا ہے مرکزی سرکار کو دونوں ریاستی حکومتوں کے بیچ صلاح کرانی پڑے۔
(انل نریندر)

منیش سسودیا کی رضا کار تنظیم کے غیر ملکی پیسے پر لگام

مرکزی سرکار نے مشتبہ طور پر سرکاری انجمنوں (این جی او) کے خلاف اپنی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کی رضاکار تنظیم ’’کبیر‘‘ سمیت 5470 انجمنوں کے لائسنس منسوخ کردئے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کے غیر ملکی عطیہ قواعد ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت کی گئی کارروائی کے بعد یہ این جی او اب غیر ملکوں سے پیسہ حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ ان این جی او میں سب سے بڑی یونیورسٹیاں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسکاٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ شامل ہے۔ وزارت داخلہ نے ایف سی آر اے کے تحت ان این جی او کی سرگرمیوں کی جانچ کے بعد ان کے رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔این جی او نے مبینہ طور سے اپنی سالانہ ریٹرن نہیں داخل کی تھی اور ان کی دیگر سرگرمیوں میں بھی بے قاعدگی پائی گئی تھی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سبھی این جی او کو وزارت داخلہ کے شعبہ خارجہ کے ذریعے نوٹس بھیجا گیا تھا اور لائسنس منسوخ کئے جانے سے پہلے سبھی کو جواب دینے کے لئے اچھا خاصہ وقت بھی دیا گیا تھا۔ جن اہم تنظیموں کے لائسنس منسوخ کئے گئے ہیں ان میں پنجاب یونیورسٹی ، چنڈی گڑھ، گجرات نیشنل لاء یونیورسٹی ،گارگی کالج دہلی، لیڈی ارون کالج دہلی، وکرم سارا بھائی فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔ اپریل میں قریب9 ہزار این جی او پر بیرونی ممالک سے چندہ لینے پر روک لگائی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اسی برس جنوری میں گرین پیس انڈیا کی رضاکار پریا پلے کو نئی دہلی ہوائی اڈے سے لندن جانے والی فلائٹ میں سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ وہ برطانوی پارلیمنٹ کو خطاب کرنے جارہی تھیں۔ حالانکہ وزارت داخلہ کے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ نے بعد میں بدل دیا تھا۔ اس کے بعد مرکزی سرکار نے اپریل میں امریکی انجمن فورڈ فاؤنڈیشن کی رقم سے چل رہی گرین پیس کے ہندوستان کے سبھی کھاتوں کو سیل بند کردیا تھا۔ اسی ماحولیاتی انجمن کو انترم راحت عدالت سے ہی ملی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے گرین پیس انڈیا کو راحت دیتے ہوئے اسے روزانہ کے کاموں کے لئے ڈومیسٹک ڈونیشن لینے کی اجازت دی ہے۔ اس کے لئے گرین پیس کے دو کھاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ این جی او گھریلو چندے کے لئے ان دونوں کھاتوں کا استعمال کرسکتا ہے۔ عدالت نے سرکار سے کہا کہ این جی او کے فنڈ کے لئے ان کا گلا نہیں گھوٹا جاسکتا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس راجیو شکدھر کی بنچ نے این جی او گرین پیس کو اس بات کی بھی اجازت دی کہ وہ اپنے میعادی ڈپوزٹ کا استعمال کرسکتی ہے۔ عدالت نے سرکار سے کہا ہے کہ وہ ایف سی آر اے قاعدے کے تحت 8 ہفتے میں فیصلہ لیں۔ رقم کے 25 فیصدی حصے کا استعمال سرکار کی منظوری سے کیا جاسکتا ہے۔ کئی این جی او پر الزام لگتا ہے کہ وہ غیر ملکوں سے آئے پیسوں کا بیجا استعمال کرتی ہیں۔سماجی کام نہ کرکے رقابتی سیاست کے کاموں میں استعمال ہوتا ہے اسے روکنے کے لئے ہی سرکار نے یہ سخت قدم اٹھائے ہیں۔
(انل نریندر)

12 جون 2015

لالو ۔نتیش ملن سے بڑھی بھاجپا کی پریشانی

آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے چہرے سے صاف دباؤ جھلک رہا تھا۔ وزیر اعلی نتیش کمار کی رہنمائی میں اسمبلی چناؤ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے پیر کو انہوں نے کئی بار چہرے سے پسینہ صاف کیا۔ شاید موجودہ حالت میں ان کے پاس اور کوئی متبادل نہیں تھا کیونکہ اتحاد نہ ہونے پر سیکولر ووٹوں کا بٹوارہ ہوتا اور چناؤ میں اس کا فائدہ بھاجپا کو مل سکتا تھا۔ دراصل راہل گاندھی کے ماسٹر اسٹروک سے لالو چاروں خانے چت ہوگئے۔ وہ چاہ کر بھی یہ الزام اپنے سر لینا نہیں چاہتے تھے کہ وزیر اعلی کے عہدے کے لئے جنتادل (یو) کے ساتھ اتحاد نہیں کیا۔وہ سی ایم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر کانگریس حمایت کے بعد نتیش کا پلڑا کافی بھاری ہوگیا تھا۔ راہل نے نتیش سے مل کر صاف کہہ دیا تھا کہ وہ بہار اسمبلی چناؤ نتیش کمار کی لیڈر شپ میں اتحاد کرنے کے خواہش مند ہیں۔ نتیش کمار کے نام پر لالو پرساد یادو کی رضامندی کے بعد اب بہار کے چناؤ میں بھی دونوں قومی اتحادوں کی سیدھی ٹکر کا ماحول بن گیا ہے۔ اب جنتادل (یو) اور بھاجپا کے ساتھ کانگریس و لیفٹ پارٹیاں بھی مل کر بھاجپا کی لیڈر شپ والے اتحادکو ٹکردیتی نظر آئیں گی۔ اس سے بھاجپا کی سیاسی چنوتیاں بڑھ گئی ہیں۔ بھاجپا کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤ کی طرح کسی کو چہرہ بنا کر چناؤ میدان میں اتارنے کا خطرہ مول لے گی یا پھر بغیر چہرے کے میدان میں اتر کر پھروزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے پر داؤ لگائے گی؟ پارٹی کے سامنے بڑی قوموں کے ووٹ بینک کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ لالو ۔ نتیش کے ملن کے بعد پسماندہ ذاتوں کے ووٹ بینک میں سیند لگانا بڑی چنوتی ہوگی۔ اسی ملائم سنگھ یادو کی ثالثی کا اثر کہیں یا لالو یادو اور نتیش کی مجبوری۔ دونوں پارٹیاں ایک ساتھ مل کر چناؤ لڑنے پر متفق ہوگئی ہیں۔ فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ آر جے ڈی اور جنتا دل (یو) میں سیٹوں کا بٹوارہ کیسے ہوگا لیکن جب تک یہ حل نہ ہوجائے تب تک یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوگا نتیش اور لالو کے درمیان سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوگیا۔ بہار کا چناؤ اگر لالو پرساد یادو اور نتیش کمار کے لئے سیاسی وجود کا معاملہ ہے تو ا س میں یہ بھی طے ہوجائے گا کہ نریندر مودی کے اچھے دنوں کا کتنا بھروسہ یہاں کے لوگوں کو لگ رہا ہے۔ یہ چناؤ یہ اشارہ بھی دیں گے کہ طریقی کی دوڑ میں بری طرح سے پچھڑ چکا یہ راجیہ بدلاؤ کے لئے موزوں ہے یا آج بھی فرقے کی اندرونی کھینچ تان اس کے سیاسی فیصلے کا سبب بن رہی ہیں۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پچھلی تقریباً دو دہائی سے جنتادل (یو ) اور آر جے ڈی الگ الگ خیمے میں بٹے ہوئے تھے اور ورکر بنیادی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف سرگرم رہے۔ ایسے لیڈروں اور ورکروں کے درمیان اچانک خوشگوار پن اور تال میل پیدا ہو بھی نہیں سکتا۔ بہار اسمبلی چناؤ پر سارے دیش کی نگاہیں ہوں گی۔ بلا شبہ بھاجپا کھلے طور پر یہ قبول نہیں کرسکتی کہ جنتا دل (یو) اور آرجے ڈی کے تال میل سے اس کی چنوتیاں بڑھ گئی ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے اور اسی لئے ضروری ہے کہ وہ اس تال میل کو سنجیدگی سے لیں۔
(انل نریندر)

شاہجہاں پور کاصحافی قلم کی جنگ میں زندگی سے ہار گیا

شاہجہاں پور میں ایک صحافی کو زندہ جلا کر مارنے کے الزام میں ریاستی حکومت میں وزیر رام مورتی ورما اور دیگر پانچ کے خلاف منگل کے روز مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ ورما فیس بک پر یوگیندر کے خلاف کئے گئے تبصروں سے ناراض تھے۔ ورما کے علاوہ شاہجہاں پور صدر کوتوالی کے اس وقت کے انچارج سری پرکاش رائے سمیت پانچ لوگوں کے خلاف بھی قتل ، سازش رچنے، گالی گلوچ اور جان سے مارنے کی دھمکی دفعات میں رپورٹ درج کی گئی ہے۔ کیس درج ہونے کے بعدہی رشتے داروں نے یوگیندر سنگھ کا انتم سنسکار کیا۔ یوگیندر 1 جون کو اپنے آواس وکاس میں واقع گھر میں پولیس دبش کے دوران جل گئے تھے۔ پولیس انہیں اغوا اور قتل کی کوشش کے معاملے میں گرفتار کرنے گئی تھی۔یوگیندر نے پولیس پر زندہ جلانے کا الزام لگایا تھا جبکہ پولیس کا کہنا تھا یوگیندر نے دبش کے دوران دروازہ نہیں کھولا اور بند مکان میں خود کو آگ لگائی تھی۔ بنیادی طور سے خونخوار رہنے والے پترکار یوگیندر سنگھ شاہجہاں پور میں پرانی آواس وکاس کالونی میں ایک مکان میں رہا کرتے تھے۔1 جون کو وہ اپنے مکان میں شدید طور پر جھلسے ہوئے پائے گئے تھے۔ بہتر علاج کے لئے انہیں لکھنؤ بھیج دیا گیا تھا جہاں 8 جون کو دوپہر ان کا دیہانت ہوگیا۔پیر کی دیر رات ان کی لاش گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ ہنگامے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے پی اے سی کے ساتھ ہی کئی تھانوں کی فورس کھوٹار میں تعینات کردی تھی۔ سی او اور ایس ڈی ایم بھی رات میں کئی بار یوگیندر کے گھر گئے اور خاندان کے لوگوں سے بات چیت کی۔ صحافی یوگیند سنگھ قلم کی جنگ میں زندگی ہار گئے۔ سپا سرکار میں وزیر مملکت رام مورتی سنگھ ورما کے بڑھتے اثاثے اور غنڈہ گردی پر قلم چلانا ان کی موت کا سبب بن گیا۔ ان پر بار بار حملے ہوئے لیکن پولیس خاموش رہی۔ یوگیند ان حملوں سے گھبرائے نہیں اور ان کی قلم چلتی رہی۔ انہیں خاموش کرنے کے لئے جلا دیا گیا زندہ۔۔۔ ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان لڑتے یوگیندر کی سانسوں کی ڈور پیر کو ٹوٹ گئی۔ یوگیندر پر پہلے28 اپریل کو حملہ کیا گیا جس میں ان کے پیر کے پنجے کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ پولیس خاموش رہی، قلم کا یہ بہادر سپاہی مورچہ لیتا رہا۔ فیس بک پر درجنوں پوسٹ میں رام مورتی کولیکر کئی خلاصے سامنے آئے۔ وزیر کے ذریعے کئی دیہاتیوں سے زبردستی زمین چھینے جانے کا اشو بھی اٹھایاگیا۔ زمین کی لوٹ اور اس کے لئے ہو رہی غنڈہ گردی سے سپا کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کی بات بھی کہی تھی لیکن کسی نے نہیں سنا۔ ایک اور بہادر قلم کا سپاہی اپنا فرض نبھاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ اترپردیش کی سپا سرکار سے امید کی جاتی ہے کہ وہ معاملے کی غیرجانبدارانہ جانچ کرائے اور قصوروار کو سزا دلائیں۔ اگر وزیر، پولیس و انتظامیہ یوگیندر کی موت کی سازش میں شامل ہے تو انہیں بچانے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ اترپردیش کے نوجوان وزیر اعلی سے ہم یہی امید کرتے ہیں کہ وہ معاملے کی سچائی تک پہنچیں گے اور معاملے کو دبائیں گے نہیں۔
(انل نریندر)

11 جون 2015

منہ توڑ جواب :میانمار میں داخل ہوکر دہشت گردوں کو مارا

منی پور میں فوج کے قافلے پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو ہندوستانی فوج نے انہی کی زبان میں سخت جواب دیا ہے۔ ہندوستانی فوج نے منگل کی صبح میانمار کی سرحد میں داخل ہوکر منی پور حملے کے ذمہ دار تقریباً 20 دہشت گردوں کو مار گرایا۔ فوج کی خصوصی فورس نے میانمار کی سرحد میں گھس کر دہشت گردوں کے دو اڈے تباہ کردئے۔ میانمار حکومت کے تال میل سے فوج کی اس کارروائی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب ہندوستان میں کراس باڈر آپریشن کے ذریعے ایسی کارروائی کی ہو۔ فوج کے کمانڈو نے یہ کارروائی فوج کے خاص افسروں کی اطلاع کی بنیاد پر تال میل کرکے کی۔ دہشت گردوں کو سبق سکھانے والی اس کارروائی کے لئے فوج اور حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ فوجیوں اور دیش واسیوں کے حوصلے کو اونچا بنائے رکھنے کے لئے ایسی کارروائی ضروری ہی نہیں،بلکہ انتہائی ضروری تھی۔ اس کارروائی کے معاملے میں قابل ذکر یہ بھی ہے کہ ہندوستانی فوج کو میانمار حکومت کا پورا تعاون ملا۔ایڈیشنل فوجی آپریشن ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل رنویر سنگھ نے بتایا کہ ناگالینڈ اور منی پور سرحد کے قریب صبح سویرے فوج نے اپنی کارروائی چلائی۔ فوج کو پکی اطلاع ملی تھی کہ یہ دہشت گرد ہندوستانی علاقے میں پھر سے حملے کی سازش رچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے شہریوں اور سکیورٹی فورس کو خطرہ ٹل گیا ہے۔ آپریشن میں فوج کا کوئی جوان زخمی نہیں ہوا ہے۔ قابل غور ہے کہ شمال مشرق میں دو درجن انتہا پسند تنظیمیں سرگرم ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نے میانمار کے کاچین صوبے میں ٹریننگ کیمپ اور اڈہ بنا رکھا ہے۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خاص پالیسی کی کامیابی ہی ہے کہ پڑوسی دیش انتہا پسندوں کو ختم کرنے میں وہیں کی حکومتیں ہماری مدد کررہی ہیں۔ 
دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو یہ سخت پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ وہ بندوق کے زور پر اپنی مانگ کو نہیں منوا سکتے اور مسائل کے حل کا راستہ بات چیت ہی ہے۔ دہشت گردوں کے صفائے کے معاملے میں بنگلہ دیش اور میانمار تو بھارت کو تعاون کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن چین کا رویہ تشویش پیدا کرنے والا ہے۔ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کے تئیں تو ضرورت سے زیادہ حساس ہے لیکن ہندوستانی مفادات کی حفاظت کے سوال پر اس کی طرف سے کم از کم سنجیدگی کے مظاہرہ کا ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔ یہ اچھا ہوا کہ مودی نے بنگلہ دیش کے دورہ میں اس کا نام لیکر کھری کھری سنائیں۔ ایسی ہی کارروائی پاکستانی سرحد پر بھی کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ یہ صاف اشارہ دینا ہوگا کہ بھارت اس طرح کی چھاپہ مار فوجی کارروائی کو برداشت نہیں کرے گا۔ جب فوج میانمار میں جاکر دہشت گردوں کے دو اڈوں کو اڑا سکتی ہے تو پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قائم کیمپوں کو تہس نہس کیوں نہیں کرسکتی؟ فوج کواس کارروائی کے لئے مبارکباد۔
(انل نریندر)

قانون منتری کو قانون توڑنے میں گرفتار کیا گیا

ایسا شاید ہی کبھی پہلے ہوا ہو کہ کسی حکومت کے وزیر قانون کو کسی جعلسازی کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہو۔ راجدھانی دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار میں وزیر قانون جتیندر سنگھ تومر کو منگلوار کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ان پر دو یونیورسٹیوں سے لی گئی سائنس گریجویشن اور قانون کی مارک شیٹ اور مائیگریشن میں جعلسازی ،دھوکہ دھڑی کا الزام ہے۔ شام کو عدالت نے تومر کو 4 دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔دیررات تومر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے منظور کرلیا گیا۔ تومر کے وکیل اب سیشن کورٹ میں چلے گئے ہیں۔ تومر پر آئی پی سی کی دفعہ 420، 467، 468 ،471 ،120(B) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جعلسازی ، دھوکہ دھڑی ، مجرمانہ سازش سے وابستہ ان دفعات میں غیر ضمانتی بھی شامل ہے۔ ان میں سے کچھ میں توعمر قید تک کی سزا ہے۔ عدالت میں تومر کے وکیلوں نے الزام لگایا کہ دفعہ160 کا نوٹس گرفتاری کے بعد دیا گیا۔ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نونیت بدھی راجہ نے پولیس سے پوچھا کہ آپ نے آج ہی نوٹس دیا تھا ،ایسے میں آج ہی گرفتاری کی کیا ضرورت تھی؟ پولیس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تومر بااثر شخص ہیں اور ثبوتوں کو خلد ملد کر سکتے ہیں ۔ مجسٹریٹ نے کہا یہ نوٹس مذاق لگتا ہے۔ عدالت نے پوچھا کیا گرفتاری میں سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس کی تعمیل کی گئی تھی؟ پولیس نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ پارٹی نے اپنے رد عمل میں کہا کہ تومر کو بغیر کوئی نوٹس اور پہلے سے اطلاع دئے بنا گرفتار کیا گیا۔ ایسی کیا ایمرجنسی تھی کہ تومر کو اس طرح گرفتار کیا گیا؟ معاملہ جب ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے تب اس طرح کی کارروائی کیوں؟ تومر کے کالج کے حلف نامے میں صاف لکھا ہے کہ انہوں نے قانون کی ڈگری پاس کی ہے جبکہ پولیس کا رد عمل کچھ یوں تھا۔ گرفتاری سے پہلے نوٹس بھیجا گیا تھا۔ جانچ 11 مئی سے چل رہی تھی، سوموار کی رات ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کی گئی۔ گرفتاری سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس اور قانونی ضابطے کے تحت کی گئی ہے۔ تومر نے جتنی بھی یونیورسٹی تھی ڈگری لینے کا دعوی کیا تھا ، جانچ میں وہ سبھی فرضی نکلیں۔ جتیندر سنگھ تومر کی گرفتاری چار مہینے پرانی دہلی سرکار کے سامنے ایک بڑی چنوتی ہے۔ بھلے ہی پختہ ثبوتوں کی بنیاد پر قانون کے دائرے میں وزیر کی گرفتاری کی ہے لیکن اس میں کوئی دورائے نہیں اس واقعے سے صوبے میں جاری سیاسی جنگ اور طول پکڑے گی۔ جب سے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار بنی ہے تبھی سے مرکز اور ریاستی سرکار کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے دہلی میں ڈھنگ سے انتظامیہ نہیں چل پا رہا ہے۔ اسی جنگ کی ایک کڑی ہے تومر کی گرفتاری۔ 
دہلی میں سرکار چلا رہی عام آدمی پارٹی کے لیڈروں نے تومر کی گرفتاری کے بعد کہا کہ دہلی میں ایمرجنسی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فرضی ڈگری کی بنیاد پر تومر کی گرفتاری بھلے ہی قانونی معاملے ہے لیکن اس کے سیاسی معنی نکالے جانا بھی لازمی ہیں۔ جب سے یہ سرکار بنی ہے تبھی سے لیفٹیننٹ گورنر، وزارت داخلہ سے اس کا ٹکراؤ چل رہا ہے۔ کیجریوال اسمبلی میں کھڑے ہوکر یہ الزام لگاتے ہیں کہ کیندر سرکار لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی پولیس کے ذریعے سے دہلی میں اپنا راج چلانا چاہتی ہے۔ حالانکہ مرکز کی طرف سے بار بار یہ صفائی دی گئی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور آئین دہلی کے معاملے میں صاف ہے۔ ایسے حالات پیدا کرنے میں آپ کا بھی کردار ہے۔ جس وقت تومر پر فرضی ڈگری رکھنے کا الزام لگا تھا ہائی کورٹ نے اس کی جانچ کے احکامات دئے تھے تبھی ان کا استعفیٰ لیا جانا چاہئے تھا۔ تومر کی گرفتاری سے دہلی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر، وزارت داخلہ کے درمیان ٹکراؤ بڑھنے والا ہے۔ پورے معاملے میں پس رہی ہے دہلی کی جنتا۔ دہلی میں بہتری کا راستہ تب تک ہموار نہیں ہوگا جب تک دونوں سرکاروں کے درمیان بہتر تال میل نہ ہو۔ اس کا امکان مشکل نظر آرہا ہے۔ کم سے کم مستقبل قریب میں نہیں۔
(انل نریندر)

10 جون 2015

جام و آلودگی سے نجات دلائے گی آئی ٹی او میٹرو

راجدھانی کے مصروف ترین مقامات میں شمار آئی ٹی اوتک میٹروٹرین لمبے انتظام کے بعد منڈی ہاؤس سے آئی ٹی او تک میٹرو سروس پیر کی شام شروع ہوگئی ہے اور منگلوار سے روزانہ صبح 6 بجے سے آئی ٹی او سے پہلی ٹرین چلی اور روزانہ رات 11.35 بجے تک آخری ٹرین روانہ ہوگی۔ پیر کی شام 4 بجے مرکزی وزیر شہری ترقی ایم وینکیانائیڈواور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اجتماعی طور پر آئی ٹی او اسٹیشن سے ہری جھنڈی دکھا کر پہلی ٹرین کو روانہ کیا اور اس کے بعد شام 6 بجے سے ہی جنتا کے لئے بھی اسٹیشن کے اندر داخلہ کھول دیا گیا۔منڈی ہاؤس سے آئی ٹی او تک میٹرو چالو ہونے سے یہ لائن بدر پور سے سیدھی جڑ گئی ہے یعنی میٹرو اسٹیشن کے ذریعے بدرپور سے سیدھے آئی ٹی او تک پہنچ سکیں گے۔ اس کے علاوہ نوئیڈا، ویشالی، دوارکا ،سیکٹر21 میٹرو لائن پر بھی سفر کرنے والے مسافروں کو آئی ٹی او پہنچنے کے لئے پرگتی میدان اسٹیشن پر اترکر آئی ٹی او تک پیدل چلنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آئی ٹی ا و میٹرو اسٹیشن دہلی کے تمام میٹرو اسٹیشنوں میں سب سے شاندار اسٹیشن شمار کیا جارہا ہے۔ دہلی کے کارناموں میں دہلی میٹرو ایک شاندار کارنامہ ہے۔نئے بنے آئی ٹی او میٹرو اسٹیشن پر پیر کو میٹرو سفر کے ساتھ ایک نمائش کا بھی آغاز ہوگیا۔اس نمائش میں سپریم کورٹ سے لیٹر فیروز شاہ کوٹلہ کی یادگاریں اور آئی ٹی او علاقے کی تاریخی جھلک دیکھنے کو ملی۔ اسی کے ساتھ دہلی میٹرو اپنے ہیریٹیج کوریڈور کی توسیع منڈی ہاؤس سے آئی ٹی او تک کرے گی جو آزادی کے بعد بھارت کی معمار کا گواہ ہے۔ روزنامہ ویر ارجن، روزنامہ پرتاپ اور سندھیہ ویر ارجن سمیت دیگر اخباروں کے لوگوں و بلڈنگ کی تصاویریں بھی لگائی گئی ہیں۔ آئی ٹی او پر بنائے گئے اسٹیشن میں 6 باہر نکلنے کے گیٹ بنائے گئے ہیں جبکہ 12 اے ایف سی گیٹ لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 6 ٹکٹ بورڈنگ مشینیں لگائی گئی ہیں ار 6 ٹکٹ آپریٹنگ مشینیں بھی لگی ہیں۔ اس اسٹیشن میں 5 لفٹ ،8 اسکلیٹر اور سیڑھیوں سے آنے جانے کے لئے8 راستے بنائے گئے ہیں۔
آس پاس کے سبھی علاقوں سے لوگ آ جا سکیں گے۔ اس کے لئے چاروں طرف قریب 600 میٹر لمبے سب وے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس اسٹیشن پر ایک سولر پاور پلان بھی لگایا گیا ہے جس سے بننے والی بجلی کا استعمال اسٹیشن کی بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے میں کیا جائے گا۔ ڈی ایم آر سی کے منیجنگ ڈائریکٹر منگو سنگھ نے صاف کردیا ہے کہ آئی ٹی او سے آگے اب اس کوریڈور کو تبھی کھولا جائے گا جب کشمیری گیٹ تک نیا اسٹیشن بن کر تیار ہوجائے گا۔ ہم شری منگو سنگھ اور تمام میٹرو ملازمین کو اس ایک اور یادگار شاندار کارنامے پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ بغیر ایک دن بھی ٹریفک روکے اتنا شاندار کارنامہ میٹرو ہی کر سکتا ہے۔
(انل نریندر)

دیش کی سب سے ہائی ٹیک پولیس کی خستہ حالت

دیش کی سب سے ہائی ٹیک پولیس میں شمار دہلی پولیس اب اسرائیل کی خفیہ سکیورٹی ایجنسی موساد سے بم انسداد دستہ فورنسک سائنس لیباریٹری کی ٹریننگ لے گی۔8 جون سے شروع ٹریننگ کیمپ 21 جون تک چلے گا۔ فی الحال 25 افسران کوٹریننگ دینے کی تیاری ہے اور اس میں اسپیشل سیل کے افسران کی تعداد زیادہ ہے۔ غور طلب ہے کہ موساد کو دہشت گردوں سے نمٹنے کے معاملے میں بیحد جارحانہ مانا جاتا ہے۔ موساد کی چار نفری ٹیم دہلی آ چکی ہے۔ ٹریننگ کے دوران پولیس ملازمین کو بتایا جائے گا کہ کسی بھی دہشت گردی کے واقع کے بعد موقعہ پر پہنچ کر کرائم سین کو کیسے کیپچر کیا جائے اور کن کن ثبوتوں کو اکٹھا کیا جائے اور کس طرح جانچ شروع کی جائے۔ ٹریننگ پروگرام کا نام پاسٹ لائٹر انویسٹی گیشن اینڈ مینجمنٹ رکھا گیا ہے۔مانا جارہا ہے ٹریننگ سے اسپیشل سیل کو کافی فائدہ مل سکے گا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی بھارت میں پولیس ملازمین کو ٹریننگ دے گی۔ یہ خوشی کی بات ہے دیش کی شاندار پولیس فورس میں شمار دہلی پولیس اور زیادہ تکنیک سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ لیکن ہمیں دکھ سے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی دیش کی سب سے ہائی ٹیک پولیس میں شمار دہلی پولیس کے تھانے اب بھی تمبو اور پورٹا کیبن میں چل رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ایسے تھانوں کی تعداد ایک دو نہیں ہے بلکہ مستقل طور پر متبادل سسٹم کے تحت 15 تھانوں کو چلایا جارہا ہے۔ کچھ تھانے تو ایسے بھی ہیں جنہیں رہائشی کمپلیکس میں چلایا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ برسوں سے چلائے جارہے کئی تھانوں کے لئے پولیس اب تک زمین کا انتظام نہیں کرپائی ہے۔ دوسری طرف ایسے تھانے بھی ہیں جن کے پاس تمبو اور رہائشی جگہ بھی نہیں ہے۔ ان کا کام دوسرے تھانوں کی عمارتوں کے کچھ حصوں میں چل رہا ہے۔
درجن بھر سے زیادہ تھانوں کا کام کاج کرائے کی عمارتوں میں چل رہا ہے۔ کئی تھانوں کی عمارت اتنی چھوٹی ہے کہ وہاں کام کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ وہیں کسی بھی روز مرہ کے کام کیلئے ضروری انتظام بھی کم ہیں۔ دہلی پولیس میں ایسے بھی کئی تھانے ہیں جو پولیس چوکی کی عمارتوں میں چلائے جارہے ہیں۔ یہ حال تب ہے جب دہلی پولیس سائبر ہائی ٹیک جیسی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کی بات کررہی ہے۔ تھانوں کو پوری طرح کمپیوٹرائزڈ آن لائن گمشدگی معاملے اور ایف آئی آر درج کرنے کا دعوی کررہی ہے لیکن بنیادی حالات کیسے ہیں یہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ سب دہلی پولیس سے معجزاتی قدموں کی امید تو کرتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ پولیس ملازم کس خستہ حالت میں اپنا کام کررہے ہیں۔دہلی پولیس کو شاندار کمشنر ملا ہے ہم بسی صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ کم سے کم ان عارضی تھانوں کو تو ریگولر تھانوں میں تبدیل کریں۔ بنیادی سہولیات تو دلائیں۔
(انل نریندر)

09 جون 2015

چین اپنی چالبازیوں سے باز آنے والا نہیں ہے

چین اپنی شرارتو ں سے باز آنے والا نہیں ہے. چین نے اب حقیقی کنٹرول لائن اودھ پر پوزیشن واضح کرنے کے وزیر اعظم نریندر مودی کی تجویز کو قریب قریب مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لئے بھارت کے ساتھ ضابطہ کے تحت ایک معاہدے کو ترجیح دے گا. وزیر اعظم مودی کے تجویز پر چین کا پہلی عوامی رد عمل میں چین کے وزارت خارجہ میں ایشیائی امور کے ڈپٹی ڈائریکٹرہوانگ جلین نے کہا کہ ایل او سی پر باہمی حالات کو واضح کرنے کے پیشرو کی کوششوں کے دوران دقتیں آ چکی ہیں. نریندر مودی نے اپنی چین کے سفر کے دوران چینی رہنماؤں سے یہ کہا تھا کہ دونوں ممالک کو سرحدی تنازعے اور دیگر متنازعہ مسئلے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں رکاوٹ بنے رہیں گے. قابل ذکر ہے کہ چین کا موقف یہ رہا ہے کہ سرحدی تنازعے صرف 2000 کلومیٹر تک محدود ہے جو کہ زیادہ تر اروناچل پردیش میں پڑتا ہے لیکن ہندوستان اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ یہ تنازعہ سرحد کے مغربی حصے میں تقریبا 4000 کلومیٹر تک پھیلا ہے. خاص طور پراکسائچن جس پر چین نے سال 1962 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا. اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے دونوں فریقوں کے درمیان خاص نمائندے سطح کی مذاکرات 18 راؤنڈ منعقد ہو چکے ہیں. چینی رد عمل کا سادہ مطلب یہ ہے کہ چین تجارتی تعلقات اور دیگر مسائل کو الگ الگ رکھ کر دیکھنا چاہتا ہے. چین یہ چاہتا ہے کہ اقتصادی رشتوں میں تیزی سے اضافہ ہو اور تجارتی لین دین بڑھتا رہے. بھارت کے سامنے مشکل یہ ہے کہ چین کے ساتھ اس کا کاروبارغیر متوازن ہے اور یہ عدم توازن بڑھتا جا رہا ہے. چین کو بھارت کی برآمد 15 ارب ڈالر کے قریب ہے. لیکن ہندوستان میں اس برآمد 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے. یہ برابری کی حیثیت نہیں ہے. بھارت کی کوشش ہے کہ اس فرق کو کم کیا جائے. چین کے ساتھ اس کاروبار عدم توازن کو دور کرنے کے ساتھ ہی بھارت کو اس کی طرح خود کو برآمد کی بنیاد پر معیشت کے طور پر ڈھالناہے. اس میں چین مددگار ہو سکتا ہے لیکن بھارت کو یہ احتیاط برتنی ہوگی کہ وہ اس پر حاوی نہ ہونے پائے. چین کے تئیں کسی بھی طرح کے جوش میں بہنے سے پہلے ہمیں اس خطرناک توسیع ارادوں اور بھارت کے خلاف پاکستان کے ساتھ اس دربھ معاہدوں کا خیال رکھنا ہوگا. ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ صدر شی کی ہندوستان کی موجودگی میں ہی چینی فوج نے بھارتی سرحد کی خلاف ورزی کر تین دن تک ہنگامہ ارائی کی تھی اور پاکستان کو سگا بھائی بتا کر لوٹے چین کے صدر پاکستان کے غیر قانونی قبضے والے ہندوستانی علاقے میں اربوں روپے کی بنیادی ڈھانچہ بندمنصوبوں کے لئے معاہدے کرکے آئے ہیں. چین تو یہ چاہتا ہے کہ اقتصادی رشتوں میں تیزی سے اضافہ ہو اور تجارتی لین دین یوں ہی بڑھتا رہے. دیگر دو طرفہ مسائل پر حالات پر قابو پانا بنی رہے اور صرف اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئی تنازعہ ایک حد سے زیادہ نہ بڑھ پائے. چاہے اروناچل اور جموں کشمیر کے شہریوں کو نتھی ویزا دینے کا معاملہ ہو یا پاک مقبوضہ کشمیر میں چین کی طرف سے فوجی اہمیت کی تعمیر کرنے کا سوال ،یہ مسئلہ ایسے ہی بنے رہیں اور سرحد پر ہلکی پھلکی طاقت آزمائی بھی بھی چلتی رہے. ہندوستان میں صرف 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرنے والے جیپنگ نے اپنی پاکستان سفر کے دوران 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور چین پاک اقتصادی کوریڈوور پر کام کرنے کا معاہدہ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے. یہ کورڈور بھارت کے پاک مقبوضہ کشمیر سے ہوکر گجریگا. چین نے ہندوستان کی اعتراض کو درکنار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ پی اوکے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری سے پیچھے ہٹے گا. اسی منشا کے تحت چین نے پی او سے ہوکر گزرنے والے پاک۔چین اقتصادی کوریڈور کی منصوبے کا دفاع کیا ہے. ہمیں چین سے ہوشیار رہنا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ چین اپنی چالبازیوں سے باز آنے والا نہیں.
انل نریندر

بغیر ڈرائیور کے رفتار بھرنے آ رہی ہے میٹرو

دہلی میٹرو فیزتھری کے منصوبے کے لئے جنوبی کوریا میں تعمیر سب سے پہلے جدید میٹرو ٹرین دہلی پہنچ گئی ہے. فیز تھری کے تحت مجلس پارک،شوہار اور باٹینکل گارڈنج ،۔جنکوپوری ویسٹ لائن کے درمیان رفتار بھرنے کے لئے پہلی بغیر ڈرائیور(ٹرین آ پریٹر) کی ٹرین دہلی لینڈ کر گئی ہے. خاص بات یہ ہے کہ کوریا کے ینگوان میں تیار ٹرین سمندر کے راستے گجرات پہنچ کر سڑک سے دہلی پہنچی. ان دونوں لائنوں پر کل 486 کوچ ٹرینوں میں جڑ کر چلں گے جس 120 کوریا اور 366 بنگلور کی کمپنی بھارت ارتھ مورس لمیٹیڈ(بی ای ایم ایل) تیار کرے گی. دہلی میٹرو کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈ منگو سنگھ نے جمعرات کو مپدپر ڈپو میں پھیج تھری کی پہلی ہائی ٹیک ٹرین سے پردہ نقاب کشائی کی ڈی ایم آر سی مطابق دونوں لائنیں دسمبر 2016 تک مسافروں کو خدمات دینی شروع کر دیں گی. ہنڈئی روٹین کمپنی کی طرف سے تیار ٹرین سمیت کوچ انتہائی ہائی ٹیکنالوجی کے ہیں جس ڈرائیور کی ضرورت نہیں ہوگی. کوچ کے اندر 18.05 انچ کی ا یل سی ڈی لگی ہوگی جس میں آڈیو وڈیوسے معلومات ملیں گی. بھارت کے لئے بغیر ڈرائیور کی ٹرین نئی بات ہوگی. نیویارک سٹی سب وے کو سب سے بڑے ریل ٹرانزٹ سسٹم میں شمار کیا جاتا ہے. 1355 کلومیٹر طویل ٹریک پر آٹھ سے 11 کوچ کی ڈرائیور کے بغیر میٹرو چلائی جا رہی ہے. لندن انڈر وکٹوریہ لائن پر چار کوچ کی میٹروکو 21 کلومیٹر طویل ٹریک پر چلایاجا رہا ہے. ڈینمارپ میں 20.4کلومیٹر لمبی لائن پر کل 34 ٹرینوں کو منظم کیا جا رہا ہے. ہر ٹرین میں تین کوچ جڑے ہوئے ہیں. بینکاک میں 1999 سے چل رہی ہے. 84.5کلومیٹر لمبی چار لائنوں پر 61 اسٹیشنوں سے روزانہ 7770 مسافر سفر کرتے ہیں. ہانگ کانگ میں 80 کی دہائی سے پہلے ہی ریل ٹرانزٹ سسٹم کی شروعات ہو گئی تھی ۔ لیکن 2005 میں شروع ہوئی ڈزنی لینڈریزورٹ لائن پر ڈرائیور کے بغیر میٹروچلائی گئی.فیز ایک اور دو کی مختلف لائنوں میں اکثر سگنل پرابلم رہتی تھی جس کی وجہ سے رفتار کے ساتھ ٹرین پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی. اگرچہ مسافروں کوفیزتھری میں سگنل پرابلم سے راحت ملنے والی ہے کیونکہ فیزتھری میںآٹومیٹک ٹرین کنٹرول سسٹم؛اے ٹی پی نہیں بلکہ کمیونی کیشن ٹرین کنٹرول سسٹم؛(سی بی ٹی سی) لگایا گیا ہے. سی بی ٹی سی اسپیڈ بڑھانے کے ساتھ ساتھ پھ فریکوینسی بڑھانے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہو گی. فیز تھری اے پی ٹی سے کنٹرول ہوگی. اسی کے چلتے ڈرائیور کا کام ختم ہو جائے گا. اس کے علاوہ ان ٹرین لائنوں پر کچھ سگنل پوائنٹ ہی مسافروں کو دیکھنے کو ملیں گے. دہلی میٹرو سے جہاں لاکھوں لوگوں کو انیجانے میں سہولت ہوئی ہے وہیں یہ ملک کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے. ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ جب ہم میٹرو کو اندر سے اتناصاف ستھرا رکھ سکتے ہیں تو دیگر ٹرینوں میں ہم صفائی کا کوئی توجہ کیوں نہیں رکھ سکتے. میٹرو کو تیسرے فیزکیلئے مبارک ہو.
انل نریندر

China is not going to refrain from manipulation

China is not going to refrain from manipulation.  China has, almost rejecting the proposal of Prime Minister Narendra Modi to clear the stand on actual line of control (LAC) now said that it would prefer an agreement of Code of Conduct with India. In the first Chinese public reaction on proposal of Prime Minister, Huang Zilian, Deputy Director General of Asian Affairs in Chinese External Affairs Ministry said that problems have been faced during the preceding efforts to clear the corresponding status on LAC. Narendra Modi during his China visit told Chinese leaders that both the countries should try to resolve the border issue and other controversial matters, as these will continue to be as hindrances. It is noteworthy that China has the stand that border dispute is limited to 2000 kms only, which makes most of Arunachal Pradesh but India asserts that the dispute is stretched to about 4000 kms in the western side of the border. Especially Aksaichin which was annexed by China in the 1962 war. To address this issue, 18 rounds of dialogues have been held at Special Representative level between the two sides. The Chinese response simply means that China wants to see trade relations and other issues separately. China wants rapid rise in economic relationships and business transactions continue to progress. India faces the difficulty that its trade with China is imbalanced, and it is on increase. India's exports to China are close to $ 15 billion, while its exports to India have exceeded $ 50 billion. It’s not an equal status. India tries to reduce this gap. India has to mould herself as export-oriented economy like China besides fixing the trade imbalance with China. China may be helpful in it but India must keep the vigil that it does not dominate. We will have to take care of its dangerous expansionist intentions and its collusion with Pakistan against India before being excited towards it anyway. We must not forget that Chinese forces went on a rampage for three days violating the Indian border during the presence of Chinese president Xi in India and Chinese president has returned after signing an agreement for infrastructure projects of billions of rupees in Indian territory illegally occupied by Pakistan, naming Pakistan as real brother. China wants rapid rise in economic relationships and business transactions continue to progress. Status quo is to be kept on other bilateral issues and the only thing to be taken care of that any dispute does not exceed a limit. May be it the issue of stapled visas to residents of Arunachal Pradesh or Jammu and Kashmir or building of military importance by China in POK, the issues should remain the same extent and light-weight strength-test runs be run on border. We must not forget that Jinping who announced an investment of mere $ 20 billion in India, worked on China-Pakistan Economic Corridor $ 46 billion investment agreement during his visit to Pakistan. This corridor would cross POK of India. China has made it clear, setting aside the objection of India that it would not roll back from investment in POK (Pakistan Occupied Kashmir). Under this intent China has defended the POK-China economic corridor running across the POK. Let us be wary of China and must realize that China is not going to desist from its manipulation.

- Anil Narendra

 

07 جون 2015

مائنس 50پلس 55 ڈگری سیلسیس جھیلتے ہمارے بہادر جوان

ہمیں اپنے سکیورٹی پر فخر ہے کہ وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی ملک کی سلامتی کرتے ہیں. ہمارے سامنے دو تصاویر ہیں. ایک تصویر میں تپتا دن اور جل کر راکھ ہو گئی رات ہے تو دوسری میں برف اور برفیلی ہواؤں میں پگھل کر جم گئے دن اور رات دونوں ہیں. راجستھان کے تھار میدان جنگ میں جون کا مہینہ کسی بھی دشمن سے زیادہ چیلنج دیتا ہے۔ جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے بھی اوپر چلا جاتا ہے. ادھر دنیا کی سب سے اونچی جنگ سر زمین سیاچن میں جون کے مہینے میں بھی درجہ حرارت پوائنٹ یعنی صفر سے 20 ڈگری نیچے ہے. سرحد سے سرحد تک یہ تصاویر بتاتی ہیں کہ دشمن صرف سرحد کے پار نہیں وہ قدرتی بھی ہے جو انسان کے حوصلہ مند کا امتحان لیتی رہتی ہے ۔ ہم آپ اس موسم میں ٹکنا تو دورے سچ کہیں تو زندہ بھی نہیں رہ سکتے ہیں. لیکن موسم ہی نہیں موت سے مقابلہ کرتے یہ جاں باز صرف اس لئے پہرے پر ہیں کہ کوئی دراندازہماری سلامتی ہمارا اتحاد اور سالمیت کی کنٹرول لائن نہ پارکر پائے. اگر آپ ہیرو کو ڈھونڈ رہے ہیں تو اس بات کا یقین مانے کہ یہ ہیں ہمارے فوجی ہمارے ہیرو. راجستھان کے تھارریتیلے میں 24 سے 30 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے لو چلتی ہے. آسمان چھوتا پارا جسم کی سرگرمی سست کر دیتا ہے. ناک سے خون آنا سر گھومنا الٹی دست عام ہے. ریگستان میں سانپ بچھو بھی مہلک ہوتے ہیں. گزشتہ سال 15 لوگوں کو سانپ کاٹ چکے ہیں. دشمن کی گولی سے جلد ریگستان میں جوان ڈھٹائی سے مر سکتے ہیں. پانی کی دستیابی کم ہونے سے کم پانی میں کام چلانا پڑتا ہے. اجاڑ صحرا میں کشیدگی سے منسلک رہے جوانوں کومشکل دور سے بھی کئی بار گزرنا پڑتا ہے. بی ایس ایف کے جانباز دودو کے گروپ میں گشت کرتے ہیں. ایک گروپ کی شفٹ چھ گھنٹے کی ہوتی ہے. دوآبزرویشن پوائنٹ ٹاور کے درمیان گشت کی دوری 1200 میٹر ہوتی ہے. دن میں ریت ایسا تپتا ہے کہ جوانوں کا جسم جھلس جاتا ہے. جوتے کے تلوے الگ ہو جاتے ہیں. گشت پر جوان نمبو۔،پیاز دو بوتل پانی اور اسلاٹ رائفل ہی لے جا سکتا ہے. پیاز لو کا اثر کم کرتی ہے تو نیبو اور پانی ڈی ہائیڈریشن سے بچاتا ہے. سیاچن گلیشیر میں اتنی اونچائی پر جسم کو آکسیجن نہیں مل پاتی. عام شخص دو قدم چلنے میں تھک جایے وہاں گشت کرتے ہیں یہ جوان. سردی سے اعضاء گلنے لگتے ہیں. 15 سیکنڈ بھی بغیر دستانے کے بندوق کا گھوڑا بھی پکڑے رکھا تو پھراسٹباٹ ہو سکتا ہے. ہائپرٹیشن اور ہائی بی پی عام ہے. برف کی آندھی میں پلمونرٹری ایڈما؛ پھیپھڑوں میں پانی ہو سکتا ہے. سردی کی وجہ سے آگ مشکل سے جل پاتی ہے. چاول پکنے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے. انڈے تک سردی سے جم جاتے ہیں. ایسی انتہائی مشکل حالات میں ہمارے نوجوان ملک کی حفاظت میں لگے ہیں. ہم ان جونوں کو سلام کرتے ہیں.
انل نریندر

ابر اور اولا کیب کمپنیوں پر پابندی

آن لائن ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی امریکی کمپنی ابر اور اولا ایک بار پھر تنازعات میں پھنس گئی ہے. ابر کمپنی کیب ڈرائیور پر سیکٹر .10 کی ایک میڈیا کمپنی میں ملازم دہلی کی لڑکی سے بدسلوکی کا معاملہ سامنے آیا ہے. لاجپت نگر سے گزشتہ منگل کی شام لڑکی نے نوئیڈا سیکٹر .10 سے اپنے دفتر جانے کے لئے ابر کمپنی سے کیب مگائی تھی. ڈرائیور رمیش راؤ کیب لے کر آیا. ڈرائیور نے لڑکی کے کہنے کے بعد اے سی تو چلایا لیکن اسے کافی سست رکھا. راستے میں لڑکی کے کہنے کے باوجود ڈرائیور نے اے سی کو تیز نہیں کیا. لڑکی کو دمے کی بیماری ہے. ڈرائیور سے ایسی تیز چلانے کو کہا تو اس نے نازیبا سلوک کیا. دہلی پولیس نے شکایت درج کر لی. پابندی کے باوجود غیر مجاز اولا، ابر اور ٹیکسی انچور کمپنی کے سی ای او کے خلاف ٹریفک پولیس اب قانونی کارروائی کرے گی. ٹریفک پولیس نے 158 ٹیکسی کا انوائس کیا ہے اور 120 گاڑیاں ضبط کر لی ہیں. ادھر دہلی حکومت نے نکل اور اولا کو لائسنس دینے سے انکار کر دیا ہے. گزشتہ سال دسمبر میں ابر کیب ڈرائیور کی طرف سے آبروریزی کے واقعہ کے بعد کیب آپریشن میں خامیاں پائی گئی تھیں. اس پیش نظر نقل و حمل محکمہ نے دہلی میں ابر اور اولا پر نیا حکم جاری ہونے تک پابندی لگا دی تھا. اس کے بعد ان کمپنیوں نے نئی شرائط کے تحت لائسنس حاصل کرنے کے لئے نقل و حمل کے سیکشن میں درخواست کی تھی. ابر کیب ڈرائیوروں کی طرف سے چھیڑ چھاڑ کے دو کیس سامنے آنے پر دہلی حکومت نے ان کے ایپ کو بند کرنے کے لئے مرکز سے سفارش کی تھی. بدھ کو ان کمپنیوں کی درخواست کو منسوخ کرنے کی ہدایت دی. ابر اور اولا کی کیب کے چوری چھپے سڑکوں پر چلنے کی شکایات کو حکومت نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے لائسنس دینے سے انکار کر دیا ہے. ادھر دہلی ہائی کورٹ میں ابر کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے. عدالت نے قومی دارالحکومت میں باقاعدگی کرنے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے. الزام ہے کہ حکومت کی طرف سے کئے گئے موجودہ معیار اور ہدایات کی خلاف ورزی کر چلا رہی ہے. جسٹس یکتا گپتا اور جسٹس وی پی بیرہ کی بینچ نے ابر کی طرف سے پیش وکیل کے اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ دارالحکومت میں چل رہی ابر پر ایک بار پھر پابندی لگا دی گئی ہے. بینچ نے کہا کہ اس مسئلے کو لے کر درخواست چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ کے پاس زیر غور ہے. ایسے میں اس کی درخواست پر فورا سماعت کا کوئی بنیاد نہیں ہے. عدالت نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر واقعہ کے فورا بعد آپ یہاں آ جائیں. بینچ نے ابرکے وکیل کے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ دہلی حکومت کا نقل و حمل محکمہ گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں طے ہدایات پر عمل نہ کرنے پر پابندی لگا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ کیب کو ریگولر کرنے کی ہدایت دی جائے. دراصل پانچ دسمبر 2014 کی رات میں 27 سالہ خاتون سے نک ابر کیب کے ڈرائیور کی طرف سے عصمت دری کئے جانے کی مبینہ واقعہ کے بعد پابندی لگائی گئی تھی.
انل نریندر

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...