Translater

23 جون 2017

پاک ہمارے ہتھیاروں سے ہی ہمیں ماررہا ہے :امریکہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے امریکہ کے دو سرکردہ ممبران پارلیمنٹ نے پاکستان پر دہشت گردی کو حمایت دینے کا الزام لگاتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ملنے والی فوجی مدد میں کٹوتی کے ساتھ اسے ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کی مانگ کی ہے۔ ان ممبران ڈاناشوہیٹا بائچر اور ٹریٹپی نے جمعہ کو امریکی سینٹ میں کہا کہ ہم (امریکہ) پاکستان کو ہتھیار مہیا کروا رہے ہیں اور وہ ہمارے ہتھیاروں سے امریکی شہریوں کا قتل کررہا ہے۔ ادھر مہاجروں کے ایک گرو پ نے ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی کانگریس سے اپیل کی ہے پاکستان کے ذریعے دہشت گردی کو حمایت دئے جانے کے پیش نظر اسے دی جانے والی فوجی مدد اور فروخت بند کی جائے۔ حال ہی میں تشکیل عالمی مہاجر کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ و امریکی کانگریس کو دئے گئے ایک میمورنڈم میں کہا ہے کہ پاکستانی فوجی ادارے کے قدم صاف طورسے ظاہرکرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے بھروسے مند ساتھی نہیں ہیں۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو دھوکہ دینا اور حقانی نیٹ ورک ،طالبان، کوئٹہ شورا و القاعدہ جیسی فوجی تنظیموں کو خوش کرنے کی آئی ایس آئی کی پالیسی ہے۔ میمورنڈم میں آگے کہا گیا ہے کہ آج پاکستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے پاس دہشت گردوں کو مارنے کیلئے پاکستانی علاقے کے اندر گھس کر یکطرفہ فوجی کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری لڑائی کو تب تک جیتا نہیں جاسکتا جب تک علاقے میں دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والی پاکستانی فوج سے جڑے اہم معاملوں سے نپٹا نہ جائے۔
ایم پی روہیرا باؤچردو ٹوک کہا کہ ہمیں صاف کردینا چاہئے کہ ہم پاکستان جیسے ملکوں کو ہتھیار مہیا نہیں کرانے جارہے ہیں کیونکہ اس سے ہمارے ہی لوگ کو ماریں گے اور ہمیں پتہ ہے کہ وہ دہشت گردی میں شامل ہے۔ ہمیں بخوبی معلوم ہے دہشت گردی کے اشو پر انہوں نے کیا کیا ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن کا ٹھکانا بتانے والے ڈاکٹر آفریدی کو جیل میں ڈال دیا ہے۔وہیں دوسرے ایم پی ٹریٹپو نے اندیشہ ظاہر کیا ہے پاکستان مدد پانے کو لیکرا مریکہ کے ساتھ دوہرا کھیل کھیل رہا ہے۔ پاکستان کی سرپرستی کی وجہ سے پوری دنیا میں دہشت گردی پھیل رہی ہے۔ خبر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر شکنجہ کسنے کے لئے کئی قدموں پر غور کررہا ہے۔ ان میں ڈرون حملوں سے لیکر اقتصادی فوجی مدد کو روکنا شامل ہے۔ امریکہ کو سمجھنا ہوگا کہ پاک ان سے دوہرا کھیل کھیل رہا ہے اور اسے روکنا اس کے مفاد میں ہی ہے۔
(انل نریندر)

لالو خاندان کو محکمہ انکم ٹیکس نے مشکل میں ڈالا

راشٹریہ جنتادل کے چیف اور چارہ گھوٹالہ کے ملزم لالو پرساد یادو کے خاندان کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس نے بے نامی جائیداد قانون کے تحت سخت قدم اٹھاتے ہوئے ایک ہزار کروڑ روپے کی ٹیکس چوری اور زمین سودوں کے معاملوں میں لالو کی بیوی، بیٹے اور بیٹیوں اور داماد کی کروڑوں روپے کی بے نامی جائیداد کو قرق کرنے کا نوٹس دے دیا ہے۔بے نامی قانونی کے تحت قصوروار پائے جانے پر 7 سال کی جیل اور بھاری جرمانہ لگایا جاسکتاہے۔ انہیں یہ نوٹس بے نامی لین دین (انسداد ) قانون کی دفعہ 24(3) کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس نوٹس کے ذریعے دہلی اور پٹنہ میں واقع جو بے نامی جائیدادیں قرق کی جارہی ہیں ان کی قیمت 9.32 کروڑ روپے ہے جبکہ بازار کی قیمت 170 سے 180 کروڑ روپے ہے۔ کاغذوں میں تو یہ جائیداد کسی اور کے نام درج ہے جبکہ ان کے اصلی مالک لالو خاندان کے افراد بتائے جاتے ہیں۔ بتادیں کہ لالو یادو کی بیٹی میسا بھارتی پر ایک ہزار کروڑ روپے کی بینامی سودے کے معاملے میں میسا کی زمین کے لین دین و چوری کا الزام ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 22 مئی کو میسا کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ راجیش اگروال کو گرفتار کیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمہ نے کئی بار میسا کو نوٹس جاری کر پیش ہونے کوکہا تھا لیکن وہ ایک بار بھی پیش نہیں ہوئیں۔ کیا ہے بینامی جائیداد؟ اس جائیداد کا اصلی مالک کوئی اور ہوتا ہے جبکہ کاغذوں میں جائیداد کسی دوسرے شخص کے نام ہوتی ہے۔
یہ قانون 1988 میں بنا تھا، لیکن اسے فی الحال پچھلے سال 1 نومبر سے لاگو کیا گیا۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلی اور بھاجپا نیتا سشیل کمار مودی نے لالو پریوار کی جائیدادوں کو لیکر نیا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹنہ میں 18652 مربع فٹ میں بنے کمپلیکس میں لالو کی بیوی رابڑی دیوی کے 18 فلیٹ ہیں جن کی قیمت 20 کروڑ سے زیادہ ہے۔ یہ کمپلیکس جس زمین پر بنا ہے اسے رابڑی دیوی نے لالو کے ریل منتری رہتے ہوئے لکھوایاتھا۔ کمپلیکس لالو کی ماں سردھیا دیوی کے نام پر ہے۔ سشیل مودی نے کہا کہ انہیں وزیر اعلی نتیش کمار کے ذریعے بینامی جائیداد کو لیکر لالو پریوار پر کارروائی کا بھروسہ نہیں رہا اس لئے محکمہ انکم ٹیکس سمیت سبھی جانچ ایجنسیوں کو وہ 15 جولائی تک اب تک کے خلاصے سے وابستہ ثبوت سونپیں گے۔ ادھر بہار کے نائب وزیر اعلی اور لالو کے صاحبزادے تیجسوی یادو نے کہا کہ سیاسی بدلے کی بنیاد پر یہ غلط باتیں پھیلائی جارہی ہیں، ہم نے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے۔ بلانے پر ہم جواب دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا سیاسی سازش کے تحت میڈیا میں خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔
(انل نریندر)

22 جون 2017

2019 جیتنے کیلئے مودی کا بہارو یوپی کا رامناتھ

لال کرشن اڈوانی ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، سمترا مہاجن، سشما سوراج، دروپتی مرموئی، ای سری دھرن۔۔۔ اور ایسے کئی نام صدربننے کیلئے زیر غور تھے۔ شتروگھن سنہا نے تو کھل کر اڈوانی کے نام کو لیکر اگلے صدر کی امید بھی جتادی تھی۔ پھر قیاس آرائیاں اس بات پر لگائی جارہی تھیں کہ شاید گورو دکشنا کے نام پر مودی جی اڈوانی جی کو دیش کا پہلا شہری (راشٹرپتی ) بنادیں گے لیکن جو نام زیر غور رہے مودی اس پرکبھی مہر نہیں لگاتے۔ نواز شریف کو حلف برداری میں بلا کر،اسمرتی ایرانی کا محکمہ بدل کر، گجرات میں آنندی بین اور پھر روپانی کو وزیر اعلی بنا کر بھی وہ ایسے ہی چونکا چکے ہیں۔ ہریانہ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر اور اترپردیش کے وزیر اعلی کے نام کا اعلان بھی ساری قیاس آرائیوں کو جھٹلاتے ہوئے ہی کیاتھا اور اب رامناتھ کووند ۔ لیکن کووند ہی کیوں؟ کیا معنی ہیں اس کے؟ مودی۔ شاہ کا نظریہ کیا ہے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بہارکے موجودہ گورنر رامناتھ کووند کو این ڈی اے کی جانب سے صدارتی امیدوار اعلان کر ساری قیاس آرائیوں پر نہ صرف پردہ ڈال دیا بلکہ اپوزیشن کو شایداپنی حکمت عملی پھرسے بنانے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ سچ تو یہی ہے جس نام کا اب تک کوئی تذکرہ نہیں تھا اس نام کو سامنے لاکربھاجپا لیڈرشپ نے اپنے پرائیوں سبھی کو چاروں خانے چت کردیا ہے۔ پہلی بار وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ صدر بھی اترپردیش سے ہوگا۔ رامناتھ کووند 15 سال بعد دوسرے دلت صدر ہوں گے۔ ان کو صدر کے عہدے کیلئے امیدوار بنانے کے لئے کئی سیاسی معنی بھی ہیں۔ بھاجپا نے مشن 2019 کے لئے بڑا کارڈ کھیلا ہے۔ کووند جیتے تو یہ پہلا موقعہ ہوگا جب دونوں پی ایم اور صدر ایک ہی ریاست سے ہوں گے۔ کووند کے چنے جانے پر وہ دیش کے دوسرے اور نارتھ انڈیاسے آنے والے پہلے دلت صدر ہوں گے۔ کووندکو صدربنا کر بھاجپا اترپردیش اور بہار جیسے سیاسی اور سماجی تجزیوں والی ریاستوں میں دلتوں میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھاجپا کا کبھی کوئی صدر نہیں رہا۔ کلام کو اٹل جی نے راشٹرپتی بنایا تھا لیکن ان کا نام ملائم سنگھ یادو نے آگے بڑھایا تھا۔ بھاجپا نے صرف حمایت د ی تھی، پھر کلام غیر سیاسی شخصیت تھے۔ اب پہلی بار بھاجپا کو یہ موقعہ ملا ہے وہ اسے گنوانا نہیں چاہتی ۔ کووند آر ایس ایس اور بھاجپا سے وابستہ ہیں۔ باوجود ان کی ساکھ کٹرپسندی کی نہیں ہے۔ یہی بات ان کے حق میں گئی ہے۔ جس طرح سے دلتوں کے اشو پر اپوزیشن ایک گروپ میں بن رہی ہے مودی نے اس کا توڑ نکال لیا ہے۔ اب بیک فٹ پر اپوزیشن آگئی ہے اور اس میں بھی کسی دلت کو اپنا امیدوار بنانے پر غور و خوض رہا ہے لیکن یہ دیش کی بدقسمتی ہی کہی جائے گی کہ اب دیش کے اعلی ترین عہدے پر ذات کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے۔ صدر دیش کا پہلا شہری ہوتا ہے اور اس کا بین الاقوامی ویژن اور ساکھ ، پہچان ضروری ہے۔ پتہ نہیں شری کووند ان میعارات پر کتنے کھرے اترتے ہیں۔ رامناتھ کووند کے نام کے اعلان کے ساتھ اپوزیشن ضرب تقسیم کا حساب بھلے ہی نئے سرے سے شروع کرے لیکن اس کی تلخ سچائی تو یہ ہے کہ اس غیرمتوقعہ چہرے کو سامنے لاکر بھاجپا نے اپوزیشن کے تجزیئے کو بگاڑ دیا ہے۔ بھاجپا کے ووٹ اور حمایت کے تجزیئے کے موجودہ حساب میں بڑی ردوبدل نہ ہوئی تو طے ہے کہ اس کے بعد اپوزیشن کی لڑائی شاید محض خانہ پوری تک رہ جائے گی۔ کووند دلتوں میں چھوٹے فرقے سے آتے ہیں جو یوپی میں جاٹو اور پاسی کے بعد سب سے بڑا دلت فرقہ ہے۔ گزشتہ لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ میں بھاجپا نے اترپردیش میں مایاوتی کے دلت ووٹ میں سیند لگا کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اب اس میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھاجپا کی حکمت عملی میں دلت صدر کا پلان پہلے ہی سے تھا اس لئے مدھیہ پردیش سے آنے والے تھاورچند گہلوت کے نام پر غور چل رہا تھا۔ سیاسی سندیش کے لئے مدھیہ پردیش سے زیادہ بہتر اترپردیش اور بہار ہوتا ہے اس لئے بھی کووند کا پلڑا بھاری پڑا۔ ویسے بھی بھاجپا میں بولنے والے سے زیادہ سننے والے کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے یہ پہلو بھی رامناتھ کووند کے حق میں رہا ہے۔
(انل نریندر)

اب شوگر کی بیماری صرف امیروں کی بیماری نہیں رہی

مانا جاتارہا ہے شوگر یعنی ڈائبٹزامیروں کی بیماری ہے لیکن جانی مانی میڈیکل میگزین لین سیٹ میں شائع ڈائبٹیز اینڈرو کرائنولوجی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ بھارت میں یہ بیماری اب تیزی سے غریبوں میں پھیل رہی ہے۔ اس اسٹڈی میں دعوی کیا گیا ہے کہ غریب لوگوں کا تیزی سے شوگر کی زد میں آنا خبردارکرنے والا ہے کیونکہ یہ لوگ اس طبقے سے آتے ہیں جو بہترعلاج نہیں کرواپاتے اور اناج کے لئے پی ڈی ایس سسٹم کے لئے ملنے والے راشن کی دوکانوں پر منحصر رہتے ہیں۔ زیادہ تر راشن کی دوکانیں چاول اور گیہوں تقسیم کررہی ہیں۔ عمدہ کاروبو ہائیڈرڈ والے یہ اناج دیش بھر میں شوگر کی ایک نئی اور بیحد تشویشناک لہر پیدا کررہے ہیں۔ سبز انقلاب اور غیر تندرستی کی اپیل کے درمیان تعلق کی ابھی شروعات ہے۔ بھارت کو دنیا میں شوگر کی راجدھانی مانا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً 7 کروڑ لوگ اس بیماری سے متاثر ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ابھی تک شوگر کو امیروں کی بیماری مانا جاتا تھا لیکن نئی اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں شوگر کی وبا منتقل ہورہی ہے اور یہ اقتصادی طور سے کمزور لوگوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ تحقیق رساں کا کہنا ہے کہ ان نتیجوں سے بھارت جیسے دیش میں بے چینی پیدا ہونی چاہئے کیونکہ وہاں علاج کا خرچ مریضوں کی جیب سے جاتا تھا۔ آگے اس کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے بچنے کیلئے روک تھام کے موثر اقدامات کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مدراس ڈائبٹیز ریسرچ فاؤنڈیشن کی وائس چیئرمین اس اسٹڈی کی اہم مصنفہ آر ایم انجنا کہتی ہیں کہ یہ چلن زبردست تشویش کا موضوع ہے کیونکہ یہ اسٹڈی کہتی ہے کہ شوگر کی وبا ان لوگوں تک پھیل رہی ہے جو اس کے مینجمنٹ کیلئے پیسہ خرچ کرنے کی بہت کم حیثیت رکھتے ہیں۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ ۔ انڈیا ڈائبٹیز کی اسٹڈی بھارت میں شوگر کی اسٹڈی کا قومی طور پر سب سے بڑی نمائندہ اسٹڈی ہے۔ اس میں دیش کی 15 ریاستوں میں سے 57 ہزار لوگوں کا ڈاٹا ہے۔ اس اسٹڈی میں شامل آدھے لوگ ایسے تھے جنہیں تجربہ سے پہلے تک یہ پتہ نہیں تھا کہ انہیں شوگر ہے۔ ہندوستانیوں کا بدلتا رہن سہن انہیں روایتی صحت افزا غذا سے دور لے کر جارہا ہے۔ جنک فوڈ کی آسان دستیابی ، ان کا کفایتی ہونا بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت کو اس بڑھتے مسئلے پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ اب تو چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس کے شکار ہورہے ہیں۔ جنک فوڈ سے پرہیز، جنتا میں شوگر کے تئیں بیداری لانا ،شوگر کی دوائیں سستی کرنا یہ کچھ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

21 جون 2017

ہمیں پاک سے شرمناک ہار سے نکلنا ہوگا، دوسرے کھیلوں پر توجہ دیں

پچھلے ایتوار کو بین الاقوامی کھیلوں میں تین ایوینٹ ہوئے لیکن کرکٹ کا بھارت میں اتنا جنون ہے کہ لندن میں ہو رہی چمپئن ٹرافی کے فائنل میں بھارت۔ پاک سے کیا ہارا سارے دیش میں ماتم چھاگیا۔ لوگوں کو ٹیم انڈیا کی اس شرمناک ہار کا اتنا دکھ تھا کہ وہ دیگر کھیلوں میں بھی ہندوستانی کھلاڑیوں کی کامیابی کو بھول گئے۔ ایتوار کو ہی لندن میں ہاکی اور کرکٹ میچ ہوئے۔ جتنی بڑی جیت ہمیں ہاکی میں ملی، اتنی ہی بڑی ہار کرکٹ میں ۔ چمپئن ٹرافی میں پاکستان سے ہار اس لئے بھی زیادہ بری لگی کیونکہ ہم بہت خراب کھیلے اور اس ایک طرفہ مقابلے میں پاکستان نے بھارت کو کھیل کے ہر سیکٹر میں بہترین کھیل کر روند ڈالا۔ چمپئن ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کے سامنے ہمیں 39 سال کی سب سے بڑی ہار ملی 180 رن سے۔ دونوں دیش 1978 سے آپس میں ون ڈے کھیلتے آرہے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کے سامنے 339 رنوں کا ٹارگیٹ رکھاتھا لیکن پوری ٹیم 50 اوور بھی نہیں کھیل سکی اور 30 اوور میں 158 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ ادھر ہاکی ورلڈ لیگ میں بھارت نے پاکستان کو 7-1 سے روند ڈالا۔ یہ 61 سال کی سب سے بڑی جیت ہے۔ پاک کے خلاف اس مقابلہ میں کپتان منپریت سنگھ کی قیادت میں ہندوستانی ہاکی ٹیم اور سپورٹ اسٹاف نے وہاں پر کالی پٹی باندھ کر حال ہی میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملوں پر بھی احتجاج ظاہر کیا۔ اس کے ساتھ ہی کھلاڑیوں نے شہیدوں کو شردھانجلی دی۔ ہاکی ٹیم ہمیشہ ہی ہندوستانی فوجیوں کی حمایت میں کھڑی رہی ہے۔ ادھر انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ میں ہندوستانی شٹلر کدامبی شری کانت نے تاریخ رقم کرتے ہوئے انڈونیشیا اوپن سپر سریز کا خطاب جیت لیا۔ یہ ٹائٹل جیتنے والے وہ پہلے ہندوستانی ہیں۔ انڈین مین بیڈمنٹ کھلاڑی ہیں وہ محض 37 منٹ میں ورلڈ چمپئن بن گئے۔ اگر ہم ایتوار کو بھارت ۔ پاک کرکٹ کی بات کریں تو پاکستان کے کپتان نے صحیح کہا کہ ان کے پاس کچھ کھونے کو نہیں تھا۔ جیت کے بعد پاک کپتان سرفراز احمد نے اپنے گیند بازوں کو جیت کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا لہٰذا وہ کھل کر کھیلے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے پہلا میچ ہارنے کے بعد میں نے ٹیم سے کہا کہ ٹورنامنٹ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ہم اس ہار سے نکل کر اچھا کھیلے اور خطاب جیتا۔ ہندوستانی کپان وراٹ کوہلی نے پاکستان ٹیم کے جنون اور جذبے کو سلام کیا لیکن انہیں ٹاس جیت کا پہلے گیند بازی کے فیصلے کا بچاؤ کیا اور کہا یہ ایک دم صحیح تھا ۔ ہار پر انہیں اس کے لئے سخت تنقید جھیلنی پڑی۔ کوہلی نے مانا کہ ان کی ٹیم نے فائنل میں چھوٹی چھوٹی غلطیاں کیں جو کہ آخر میں انہیں بھاری پڑیں۔ مگر ہم نے اس بار ہندوستانی بلے بازی کی بات کریں تو اتنی خراب کارکردگی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ بڑے ٹارگیٹ کے سامنے ہندوستانی بالی بازوں نے جم کر کھیلنے کے بجائے شروعات میں ہی پاکستان کے سب سے خطرناک گیند باز محمدعامر کے سامنے اپنے بلے کھول دئے اور تیسری گیند پر روہت شرما جو سنچری بنا کر ہی میچ میں اترے تھے ،بنا رن بنائے ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ تیسرے اوور کی تیسری گیند پر سلپ میں اظہر علی نے وراٹ کوہلی کا کیچ چھوڑا لیکن یہ تب بھی نہیں سنبھلے بڑے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے اگلی ہی گیند پر ہٹ کرنے کے چکر میں پوائنٹ پر کیچ دے بیٹھے۔ کم سے کم کپتان جن پر رن چیز کرنے کا سارا دارومدار تھا تھوڑی تو ذمہ داری سے کھیلنا چاہئے تھا اور اس طریقے سے اپنا وکٹ تھرو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس کے بعد عامر کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا۔ بھارت نے 5 رن کے کل اسکور پر ہی اپنے دو بہترین بلے باز گنوا دئے۔ محمد آقر اور حسن کی بہترین گیند بازی نے بھارت کی بلے بازی کی کمر توڑدی۔ اب بات کرتے ہیں بھارت کی گیند بازی کی۔ تیز تیند باز جسپریت بومرا کی نو بال پھینکنے کی عادت ایک بار پھر ٹیم انڈیا پر بھاری پڑی۔ پاکستان کی پاری کے دوسران چوتھے اوور کی پہلی ہی گیند میں بومرا نے سلامی بلے باز فخر الزماں کو وکٹ کے پیچھے دھونی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کردیا۔ فخر باؤنڈری لائن کے پاس بھی پہنچ گئے تھے لیکن امپائر نے ری پلے دیکھا تو اس میں بومرا کا کریز کے باہر تھا۔ اتنے اہم میچ میں بومرا نے نو بال کرکے صرف فخر کو واپسی کا موقعہ نہیں دیا بلکہ میچ گنوا دیا۔ فخر نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیریئر کی پہلی ونڈے سنچری بنائی۔ کل ملا کر ہندوستانی گیند بازوں کا کھیل بہت خراب رہا۔ اشون نے اپنے 10 اووروں میں 78 رن دئے جبکہ رویندر جڈیجہ نے 8 اوور میں 67 رن دئے۔ کیا رویندر ، اشون کا انتخاب غلط تھا؟ اسپنروں کا ریکارڈ پاک کے خلاف اچھا نہیں رہا۔ ایسے میں اشون کو آخری 11 میں جگہ دینے کا فیصلہ بیحد غلط ثابت ہوا۔ ان کی جگہ پر تیز گیند باز امیش یادو یا محمد سمیع کو موقعہ دیا جاتا تو شاید بہتر رہتا۔ کھیل میں ہار جیت تو ملتی رہتی ہے ہمیں یہ تشفی کرنی ہوگی کہ پاکستان ہر سیکٹر میں بہتر کھیلا۔ آپ ہر وقت اچھا مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ پیسے اور شہرت کا غرور بھی ٹوٹنا ضروری تھا۔ بھارت کے کھیل شائقین کو بھارت کے دیگر کھیلوں ہاکی ،کبڈی، فٹبال، تیر اندازی، باکسنگ وغیرہ پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ بیڈ منٹن میں ہم بہت اچھا کھیل رہے ہیں کرکٹ کو چھوڑیئے ہار جیت تو ایک سلسلہ ہے پاکستان کی اس شاندار جیت پر بدھائی۔
(انل نریندر)

پنامہ پیپرس کا فال آؤٹ بھارت پاک دونوں میں نظر آیا

پنامہ پیپرس لیک معاملہ میں دونوں دیشوں بھارت اور پاکستان میں کارروائی شروع ہوچکی ہے۔بین الاقوامی رپورٹروں کی تفتیشی فیڈریشن نے اپریل 2016 میں ٹیکس چوری میں مددگار پنامہ کی کمپنی فونسیکا کے سوا کروڑ دستاویز لیک کئے تھے۔ اس میں مبینہ طور پر ٹیکس چوری میں ملوث 1 لاکھ20 ہزار سے زیادہ غیر ملکی کمپنیوں کا انکشاف کیا گیا تھا۔ بھارت میں ان لیک ہوئے دستاویزوں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کارروائی شروع کرتے ہوئے جمعرات کو دہلی کے مشہور جیولرس مہرہ سنز کے مختلف کھاتوں میں جمعہ 7 کروڑ روپے ضبط کرلئے ہیں۔ بیرونی ممالک میں کھاتہ کھول کر کالا پیسہ جمع کرنے میں مدد کرنے والی کمپنی پنامہ مونسیکا کے کروڑوں دستاویزات لیک معاملہ میں یہ کارروائی ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ بیرونی ملک میں غیر قانونی طریقے سے پراپرٹی بنانے سے وابستہ قانون کی دفعہ 37A کے تحت انفورسمنٹ نے یہ پہلی کارروائی کی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ ملزمان کا قریب 10.54 کروڑ روپے ابھی بھی دیش کے باہر جمع ہے۔ اشونی کمار مہرہ ، دیپک مہرہ، شالنی مہرہ اور نوین مہرہ کے مختلف بینک کھاتوں کی یہ رقم ضبط کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 1999 سے مہرہ خاندان نے برطانوی ورجن آئی لینڈ میں 7 کمپنیاں رجسٹرڈ کرائیں۔ یہ جگہ ٹیکس چوری کر کے کالا دھن چھپانے کے لئے بدنام ہے۔ پنامہ پیپرس لیک کے شروعاتی جانچ میں نام سامنے آنے کے بعد مہرہ خاندان نے اپنا رد عمل دیا تھا اشونی مہرہ کے بیٹے دیپک مہرہ نے مانا تھا کہ ان کا کنبے والی اسٹونبے اور میک ہل نام سے بیرونی ملک میں دو کمپنیاں ہیں۔ادھر پنامہ پیپرس لیک معاملہ میں پاک وزیر اعظم نواز شریف لندن میں ناجائز پراپرٹی کے معاملے میں جمعرات کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ دو گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد نواز شریف جارحانہ تیور میں باہر آئے اور کہا مخالفین کو بھی جواب دینا ہوگا۔ اپوزیشن لیڈروں کو خبر دار کیا اگلے سال بڑی جے آئی ٹی بنے گی اور کرپٹ لیڈر جانچ کے شکنجے میں ہوں گے۔ پاک وزیر اعظم نے کہا انہوں نے کنبے کی جائیداد سے وابستہ سارے دستاویز تفتیشی ٹیم کو سونپ دئے ہیں وہ ہر طرح کی جانچ پڑتال اور سماعت کے لئے تیار ہیں۔ شریف نے کہا میرے حریفوں نے میرے خلاف کرپشن کے الزام لگائے ہیں لیکن نہ پہلے اور نہ اب ان میں سے ایک بھی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔ کچھ دنوں میں جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئے گی اور عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔ شریف نے صفائی دی کہ ان پر لگے الزامات کا ان کے وزیر اعظم کے موجودہ دفتر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ کرپشن کا معاملہ ہیں ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی و پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اس کو پاکستان سپریم کورٹ نے مقرر کیا ہے۔ نواز شریف عہدہ سنبھالنے کے دوران ایسے پینل کے سامنے پیش ہونے والے ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں۔ پنامہ پیپرس میں کئی اور ہندوستانی سرکردہ ہستیوں کے نام بھی ہیں۔ پنامہ پیپرس میں 500 ہندوستانی ہستیوں کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے ٹیکس چوری، کالا دھن سفید کرنے کو ٹیکس ہیون مانے جانے والے ملکوں میں پیسہ لگایا۔ اس فہرست میں کئی صنعتکار، فلمی ستارے اور کھلاڑیوں کا نام بھی آیا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، لکھنؤ ، پنچکولہ، دہرہ دون، بڑودہ، مندسور کے تاجروں کے نام بھی دستاویزوں میں ہیں۔ پنامہ پیرس میں ہندوستانیوں سے جڑے قریب36 ہزار دستاویزوں کو جانچ کے سلسلے میں 8 ماہ تک کی گئی پڑتال میں 234 ہندوستانیوں کے پاسپورٹ کی جانچ کی گئی۔ 300 لوگوں کے پتوں کی بھی تحقیقات کی گئی۔ پنامہ پیپرس لیک کا فال آؤٹ اب دونوں ہندوستان اور پاکستان میں دکھائی دینے لگا ہے۔ دیکھیں آگے کس کس کا پردہ فاش ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

20 جون 2017

چین تو تب ملے گا جب داؤد ابراہیم و ساتھیوں کو سزا ملے گی

24 سال گزر گئے لیکن اس برے دن کو یاد کرکے آج بھی لوگ سہم اٹھتے ہیں جب 12 مارچ 1993ء کودیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں ایک بعد ایک 12 بم دھماکے الگ الگ جگہوں پر ہوئے تھے۔اس آتنکی حملے میں نہ صرف 257 لوگوں کی جان گئی تھی بلکہ713 لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔ جمعہ کو ممبئی کی ٹاڈا عدالت نے ابوسالم اور مصطفی ڈوسا سمیت 6 ملزمان کو قصوروار قراردیا۔ یہ ملزمان کا دوسرا بیچ ہے جس پر اس معاملے میں فیصلہ سنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے 123 ملزمان کا اہم مقدمہ2006ء میں پورا ہوچکا ہے جس میں 100 ملزمان کو قصوروار قراردیا گیا تھا۔ اب اس معاملے میں کوئی ملزم حراست میں نہیں ہے اس لئے فوری طور پر مانا جاسکتا ہے یہ فیصلہ اس معاملے میں آخری فیصلہ ہے لیکن داؤد ابراہیم، انیس ابراہیم، محمد ڈوسا اور ٹائیگر میمن سمیت33 ملزمان آج بھی فرارہیں۔ 24 سال بعد ممبئی میں ہوئے بم دھماکوں میں آیا یہ فیصلہ ان لوگوں کو راس نہیں آرہا ہے جو اس میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں ان کا خیال ہے کہ جب تک انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو سزا نہیں مل جاتی ایسے فیصلے پر خوشی منانا غلط ہے۔ جب تک وہ قانون کے پھندے سے باہر ہے تب تک یہ نہیں مانا جاسکتا کہ یہ معاملہ اپنے دلیل آمیز انجام تک پہنچ چکا ہے۔ جیسا کہ اسپیشل ٹاڈا جج نے کہاہے کہ اس حملے کے قصوروار ایودھیا میں بابری مسجد کی مسماری کا بدلہ لینا چاہتے تھے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ خفیہ مشینری تین مہینے سے جاری سازش اور حملے کی تیاری کا پتہ تک نہیں لگا سکی۔ اس فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ جن 6 لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے ہتھیار اور بارود کی کھیپ ممبئی تک لانے سے لیکر مختلف مقامات تک پہنچانے کی ان کی ذمہ داری کس طرح سے طے تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ حملہ کے دو تین دن بعد جب پولیس افسر شک کی بنیاد پر ٹائیگر میمن کے گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ اس کا سارا خاندان پہلے ہی دیش چھوڑ چکا تھا۔ حالت یہ ہے کہ حملے کے اتنے برس بعد بھی اہم ملزم داؤد ابرہیم، انیس ابراہیم،ٹائیگر میمن اور محمد دوسا سمیت27 ملزم اب بھی فرار ہیں۔ ابو سالم کو پرتگال سے اور مصطفی دوسا کو متحدہ عرب امارات سے لایا گیاتھا۔ اسی طرح سے پھانسی پر لٹکائے جاچکے یعقوب میمن کو نیپال کے راستے بھارت لایاگیا تھا۔ ممبئی میں 1993 میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکے کسی آتنک وادی گروپ یا کسی آتنک وادی تنظیم کی کرتوت نہیں تھے۔ جس جگہ یہ دھماکے کئے گئے وہاں اتنی جلدی اتنی بڑی واردات کے لئے آتنکی نیٹ ورک تیار کرنا اس وقت پاکستان کے لئے بھی آسان نہیں تھا اس لئے اس نے اسمگلنگ ،زرفدیہ اور تمام طرح کے جرائم کرنے والے ممبئی کے انڈرورلڈ نیٹ ورک کا سہارا لیا۔ حالانکہ یہ پہلا موقعہ نہیں جب پاکستان نے ملزمان کا استعمال کیا ہو لیکن ان سلسلہ وار دھماکو ں اور اس کے بعد کی سرگرمی نے پاکستان کا چ پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ قریب8 سال بعد 2001 میں امریکہ میں ہوئے 9/11 حملے کا موازنہ 1993 کے ممبئی حملہ سے کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ اس حملے سے کچھ ویسے ہی پریشان ہوا جیسے تب بھارت ہوا تھا مگر دونوں دیشوں کی کارروائی میں فرق صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکہ نے تب تک دم نہیں لیا جب تک اس نے حملے کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد جاکر مار نہیں گرایا۔ اس لئے ممبئی کے سیریل بم دھماکوں کا پورا انصاف تبھی ہوسکے گا جب ہم نہ صرف داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن اور ان کے فرار ساتھیوں کو ان کے قصور کی سزا نہیں دلوادیتے بلکہ آئی ایس آئی میں بیٹھے اس واردات کے اصلی سازشیوں کو سزا نہیں دے لیتے ۔ جب تک یہ نہیں ہوگا دہشت گردی کا خطرہ بھارت پر ہمیشہ منڈراتا رہے گا۔ سرکاروں کے دعوے ہوتے رہتے ہیں لیکن ان 24 سالوں میں اس نیٹ ورک کو بھی نیست و نابود نہیں کیا جاسکا جو آج بھی دبئی اور کراچی میں سرگرم ہے۔ ہمارے قومی کردار پر اس سے تکلیف دہ تبصرہ اور کیا ہوسکتا ہے؟
(انل نریندر)

15 منٹ میں ہی 24 منزلہ بلڈنگ جل کر خاک

آگ جنگل میں لگے یا میدان میں، جھونپڑی میں لگے یا شاہی محل میں، اس کا کام ہے بھسم کرنا۔ اس کے سامنے انسان، جانور، لکڑی، پتھر سب برابر ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار گریٹ برٹن کی راجدھانی لندن میں منگلوار کی رات آگ نے وہی کیا جس کے لئے وہ جانی جاتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے 24 منزل ٹاور دھوں دھوں کر جلنے لگا جس میں بہتوں کی موت ہوگئی اور چار درجن سے زائد لوگ زخمی ہوئے جن کا علاج ہسپتال میں جاری ہے۔ لندن کے وقت کے حساب سے آگ رات ڈیڑھ بجے اس وقت لگی جب لوگ سو رہے تھے۔ پوری طرح جل چکی عمارت کبھی بھی ڈھے سکتی ہے۔ موقعہ واردات کے باہر چشم دید کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ ایک فلیٹ میں فرج میں ہونے والا دھماکہ تھا لیکن فائر محکمے نے بتایا کہ ابھی اس بارے میں کچھ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا۔ لندن فائر برگیڈ کے کمشنر ڈین کاٹن نے بتایا 29 سالہ عہد میں اتنے بڑے پیمانے پر میں نے ایسے کبھی آگ لگتی نہیں دیکھی ہے۔ دیواروں کو بارش اور نمی سے بچانے کے لئے اس 24 منزلہ عمارت کی باہری دیواروں پر ایک رین اسکرین شیٹ لگائی گئی تھی۔ مانا جارہا ہے کہ پلاسٹک اور لکڑی کی اس شیٹ کے سبب آگ تیزی سے پھیل گئی اور چند منٹوں میں ہی پوری عمارت آگ کی لپٹوں میں گھر گئی۔ گرین فیل ٹاورمیں زیادہ تر لوگ مسلم فرقے کے ہیں اور رمضان کے سبب کئی لوگ سحری کے لئے صبح جلدی اٹھ گئے تھے۔ 9 ویں منزل میں رہنے والے ایک شخص مجید عباس کو گیس کی بدبو آئی اور پورا خاندان وہاں سے نکل گیا۔ ایک اور خاتون سمیرا عمرانی نے بتایا کہ میں نے نویں منزل کی بالکنی پر ایک عورت کودیکھا اس کے ہاتھ میں ایک بچی تھی وہ مدد کی درخواست کررہی تھی۔ جب آگ سے بچنے کی کوئی امید نہیں بچی تو اس نے کمبل میں لپیٹ کر بچی کو نیچے پھینک دیا۔ وہ چلا رہی تھی میری بچی کو بچا لو۔ وہاں موجود فائر ملازم نے تیزی سے دوڑ کر بچی کو بچا لیا۔ لوگ کھڑکیوں سے ٹارچ لائٹ پھینک کر اپنی پڑوسیوں کو بتا رہے تھے۔ چاروں طرف عمارت کے ٹکڑے گر رہے تھے۔ عمارت میں بہت سارے لوگ تھے لیکن کم ہی لوگ باہر نکل پائے۔ یہ سوال ضرور ایک بار پھر نکل کر سامنے آتا ہے کہ آخر ابھی عمارتیں کتنی محفوظ ہیں؟ اگر اتنے ترقی یافتہ ملک اور شہر میں سکیورٹی معیارات میں ایسی چوک ہوسکتی ہے تو توقع کے مطابق غیر ترقی یافتہ اور پچھڑے ملکوں کی حالت کیا ہوگی؟ کئی سال سے آگ سے حفاظت کے اقدامات کی کمی کی شکایتیں اس 47 سال پرانے گرین فیل ٹاور کی آ رہی تھیں لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایاگیا۔ آگ کی جانکاری بھی لوگوں کے چلانے کے سبب ملی۔ گرین فیل ٹاور کی آگ صرف کسی چوک کا نتیجہ نہیں ہے ترقی کے اصول کو اپنانے میں ہی کہیں کچھ گڑبڑی رہ گئی ہے۔
(انل نریندر)

18 جون 2017

وراٹ بنام سرفراز بنام دھونی: ایڈوانٹیج انڈیا

وہی ہوا جس کا پاکستان کو ڈر تھا۔ چمپئن ٹرافی کے پہلے میچ میں بھارت سے بری طرح پٹنے کے بعد پاکستان کو فائنل میں اب بھارت سے ہی محاذ آرا ہونا پڑے گا۔ ساؤتھ افریقہ کے خلاف بارش کی مہربانی اور سری لنکا کے ذریعے کیچ ٹپکائے جانے کی بدولت جیت درج کرنے والا پاکستان فائنل میں تو پہنچ گیا لیکن اب چمپئن ٹرافی میں پہلی بار ایسا ہوگا جب بھارت اور پاکستان لیگ میچ کے علاوہ فائنل میں ٹکرائیں گے۔ بھارت نے ساتویں بار آئی سی سی ٹورنامنٹ کے فائنل میں چنوتی رکھی ہے۔ دونوں ٹیمیں ہر حالت میں فائنل جیتنا چاہیں گی۔ ایتوار کو ہر شاٹ ہر گیند کے ساتھ ناظرین کی دھڑکیں بڑھیں گی۔ ایسا صرف بھارت ۔ پاکستان کے درمیان میچ میں ہی ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو تاریخ بنانے کا موقعہ ہے۔ چمپئن ٹرافی میں یوں تو پاکستان اپنے دم خم کے ساتھ کئی بار سیمی فائنل تک پہنچا ہے لیکن یہاں سے آگے اسے کبھی موقعہ نہیں ملا۔ پہلی بار پاکستان ٹیم 2017 کے اس ٹورنامنٹ میں فائنل میں پہنچی ہے اس لئے اب کی بار پاکستان کے پاس بھی تاریخ رقم کرنے کا موقعہ ہے۔ نمبروں کی بات کریں تو بھارت کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلوں میں بھارت کا ہی پلڑا بھاری رہا ہے۔دونوں کے درمیان مقابلے کو لیکر دلچسپی بنی ہوئی ہے اور مانا جارہا ہے دباؤجھیلنے والی ٹیم میچ پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے گی۔پچھلے ریکارڈکو بھول کر حوصلے اور تحمل اور صبر اور دوراندیشی کے ساتھ جو ٹیم میدان میں اترے گی اسے جیت کا سہرہ پہننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بنگلہ دیش پرایج بیسٹن میں کھیلے گئے دوسرے سیمی فائنل میچ میں 9 وکٹ کی دوسری بڑی جیت درج کرکے وراٹ کے جان بازوں نے پاکستانی ٹیم کو خبردار کردیا ہے کہ خطاب کا قبضہ ہمارا ہی رہے گا۔ فائنل دی اوول لندن میں کھیلا جائے گا۔ وراٹ کی برگیڈ جہاں تیسرے اور لگاتار دوسرے خطاب کے لئے جاں لڑا دے گی وہیں پاکستان کی ٹیم کو تلاش ہے پہلے خطاب کی۔ کبھی دوست رہے بھارت ۔ پاکستان اب کرکٹ کے میدان میں دشمن ہوگئے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اس کے پرستار اور میڈیا بھارت کو دشمن کی طرح ماننے لگے ہیں۔ پاک ٹیم کے کپتان سرفراز کا مقابلہ نہ صرف وراٹ کوہلی سے ہوگا بلکہ مہندر سنگھ دھونی سے بھی ہوگا۔ خیال رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے سیمی فائنل میچ میں 25 اوور میں 2 وکٹ گنوا کر 150 کے قریب پہنچ چکا بنگلہ دیش اس مقابلے میں مضبوطی کی حالت میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ تمیم اقبال اور مشفق الرحمان کی جوڑی نے کریز پر مضبوطی سے اپنے پاؤں جما لئے تھے اور بھارت کے ریگولر بالر ارنو ان کے سامنے پیچھے دکھائی دینے لگے۔ اس کے بعد ٹیم انڈیا نے یادو کے ہاتھ میں بال دے کر یہاں ماسٹر اسٹاک کھیلا تھا۔ کپتان وراٹ کوہلی اور جادھو اس کا سہرہ سابق کپتان مہیندر دھونی کو دے رہے ہیں۔ میچ کے بعد وراٹ کوہلی نے ٹیم انڈیا کی اس چال کے بارے میں بتایا تو انہوں نے سارا سہرہ دھونی کو دیا۔ کوہلی نے کہا جب ہم نے کیدار یادو کو بال دی تھی تو ہم وکٹ نہیں سوچ رہے تھے کہ ہمارا مقصد مضبوط ہوچکی اس جوڑی کو تھوڑا پریشان کرنے کا تھا لیکن یادو نے ان دونوں بلے بازوں تمیم اور مشفق الرحمان کے وکٹ لے کر پورا کھیل ہی بدل دیا۔ اس کا سارا سہرہ دھونی کو جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے میں نے ایم ایس دھونی سے پوچھا تھا تب ہم نے سوچا تھا کہ کھیل کے اس لمحہ میں یہ اچھا متبادل ہوسکتا ہے۔ باقی تو تاریخ گواہ ہے پاکستان کو اپنے تیز اٹیک پر پورا بھروسہ ہے۔ پاک تیز بالر گیند بھی متوازن کررہے ہیں وہیں بھارت کی ٹیم اچھی متوازن ہے۔ ہمارے بلے باز فارم میں ہیں۔ ٹاس اس لحاظ سے اہم ہوگا کہ جو ٹیم جیتے گی وہ پہلے بالنگ کرنا چاہے گی حالانکہ لندن میں بارش اتنی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی اس کا خطرہ تورہتا ہے۔’ بیسٹ آف لک انڈیا‘ آپ ہی جیتیں گے۔
(انل نریندر)

دہلی میں بڑھتی آلودگی: گاڑیوں کی تعداد 1 کروڑ سے پار

دہلی میں ہوائی آلودگی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ ہر سطح پر لاپرواہی برتی جارہی ہے۔ اب جبکہ پانی سر سے اوپر جاچکا ہے تو ہر سطح پر ہائے توبہ والی پوزیشن بنی ہوئی ہے۔ راجدھانی کے مختلف علاقوں میں گاڑیوں سے نکلنے والے آلودہ دھوئیں کی جانچ کے لئے بنائے گئے سینٹرز میں سے 178 سینٹر ٹھیک کام نہیں کررہے۔ پیر کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے راجدھانی کی آب و ہوا کو آلودگی سے نجات دلانے کے لئے ٹرانسپورٹ کے ذریعے 178 سینٹروں کو نوٹس جاری کرنا اور 14 کا لائسنس معطل کرنا اور 5 کی منظوری منسوخ کرنا لائق تحسین قدم ہے۔ جب تک سخت رویہ نہیں اپنایا جائے گا بہتری مشکل ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ آلودگی جانچ مرکز دھاندلی کا اڈہ بن چکے ہیں۔ ڈھنگ سے جانچ کئے بغیر سرٹیفکیٹ جاری کردئے جاتے ہیں۔ جانچ مرکزوں کی لاپرواہی کا ہی نتیجہ ہے کہ آلودگی جانچ سرٹیفکیٹ ہونے کے باوجود دہلی میں جہاں جہاں گاڑیاں دھواں چھوڑتی دکھائی دیتی ہیں ۔ چونکانے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ تمام طرح سے آلودگی روکنے کی کوششوں پر نئی گاڑیوں کے سڑکوں پر یومیہ بڑھنے والی تعداد نے سب کوششیں بیکار کردی ہیں۔ تمام دعوؤں اور سرکار کی کوششوں کے باوجود راجدھانی میں پرائیویٹ گاڑیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اب یہ تعداد ایک کروڑ کے پار پہنچ گئی ہے یعنی راجدھانی میں اکیلے ایک کروڑ سے زیادہ نجی گاڑیاں ہوگئی ہیں جس کے چلے آلودگی تو ہے ہی لیکن سڑکوں پر زبردست جام بھی لگ رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ محکمے کے اعدادو شمار کو مانیں تو دہلی میں حال ہی میں 1.05 کروڑ سے زیادہ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ راجدھانی میں 31.72 لاکھ کاریں اور 66.48 لاکھ اسکوٹر رجسٹرڈ ہیں جو آلودگی کی سب سے بڑی وجہ مانیں جاتی ہیں۔ آلودگی سے متعلق آئی تمام رپورٹوں میں بھی بڑھتی گاڑیوں پر تشویش جتائی جاچکی ہے۔ ایک طرف پبلک سسٹم کی بہتری کی بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف صنعتی علاقوں اور یونٹوں پر نگرانی کرنے کی ۔ تھرمل پاور پلانٹ بند کرنے کی اسکیم بن رہی ہے۔ ای گاڑیوں کو بڑھاوا دینے کی بھی بات ہورہی ہے۔ بلا شبہ یہ سبھی کوششیں لائق خیر مقدم ہیں لیکن یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آلودگی کی روک تھام کیلئے جب تک اجتماعی سانجھے داری نہیں ہوگی تب تک تمام قدم کاغذی ہی ثابت ہوتے رہیں گے۔ یہ سانجھیداری بھی ایک دم بنیاد سے لیکر اوپری سطح تک ہونا ضروری ہے۔ سبھی محکموں کو آپس میں تال میل بنا کر چلنا ہوگا۔ مرکز اور ریاستی سرکار کو کم سے کم اس برننگ اشو پر مل بیٹھ کر دور رس پالیسی بنانی ہوگی۔ ان گاڑیوں کی بڑھتی تعداد کو کیسے کنٹرول کیا جائے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے پر الزام لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...